رائیگانی کی ایک نظم
نیند کی کوئی دکاں نہیں ہے،
اور خواب ارزانی کے باوجود بھی نہیں بکتے،
دن بھر کی تھکن پور پور میں سموئے
مستقبل کے خوابوں کا دھاگہ
کروشئیے پہ چڑھائے تند پہ تند ڈالے جاتا ہوں،
مگر کینوس پہ نقش مکمل ہو نہیں پاتا ہے،
دھاگہ کہیں بیچ میں ہی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔
کہانی لکھتے لکھتے نیند آنے لگتی ہے،
اور نیند میں اٹھ کے کبھی
لکھنے لگتا ہوں سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا،
مگر کہانی بھی مکمل ہو نہیں پاتی ہے،
شبدوں کی کمی پوری ہو نہیں پاتی ہے۔۔۔
خوابوں کا مگر رونا ہے،
دن، مہینے سال،
بچپن جوانی بڑھاپا کسی اور کے خوابوں کی تعبیر
کے ادھیڑ بن میں گزرے،
اور اب آنکھوں میں نیند نہیں اور
خوابوں کی زنبیل ارزانی کے باوجود،
کندھوں کا بوجھ بنی ہوئی ہے،
نیند کی کوئی دکاں نہیں ہے۔ ۔ ۔
غم کی ایک حسابی نظم
خوشی ویری ایبل ہے
اور غم کونسٹینٹ ،
خوشی اور غم کی یہ مساوات ،
الجیبرا سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔۔۔۔
یہ اعداد و شمار کی ایسی كسر لا مختتم ہے ،
کہ جس کا کوئی سِرا دوسرے سرے سے نہیں ملتا ،
اِس مساوات کو متوازن کرتے
عمریں بیت جاتی ہیں۔۔
خوشی ویری ایبل ہے اور غم کونسٹینٹ،
اگر اسے گراف پیپر پر پھیلاؤں ،
تو ‘ایکس’ کا محیط بڑھتا جاتا ہے ،
اور ‘وائے’ کہیں اور ہی اپنی پہچان کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔۔
یہ وہ فارمولا ہے جہاں ‘اسٹیٹس’ کے سارے ‘میڈین’ اور ‘رینج’ ناکام ہو جاتے ہیں ،
جہاں الگورتھم کا جھگڑا پاک ہو جاتا ہے ،
اور جس میں کمپاس اور پروٹیکٹر بھی کام نہیں آتے۔۔
خوشی ویری ایبل ہے اور غم کونسٹینٹ۔۔
اسکیچ۔۔۔۔
ماضی کے جھروکے سے جھانکا
تو دور تلک تیرے ساتھ گزرے لمحوں کی خاک اڑ رہی تھی۔۔۔۔
سگریٹ کے کش نے ہجر کے موسم پر مہر تصدیق ثبت کی،
دھوئیں کے مرغولوں نے کمرے کو بھر دیا،
گویا کسی مقدس اوتار کی آمد ہو۔۔۔۔
میں گم ہو گیا اور تیری یاد
موسم بن کر مجھ پہ بیت گئی۔۔۔۔۔۔
گورنمنٹ گرلز کالج ماڈل ٹاؤن، لاہور میں GAT کا پرچے دیتے ہوئے۔۔۔!!!
امتحان گاہ تھی
یا نازنینوں کی آماجگاہ!
سرخ و سفید، رنگ برنگے
دلکش لباسوں میں
جلوے بکھیرتی، سوال نکالتی،
جواب دیتی نازنینیں،
قلم رواں، سانسیں رکی ہوئی،
کسی سوال کا جواب غلط ہو گیا
تو نمبر کم ہو جائیں گے!
سوچتی، سر ہلاتی نازنینیں،
پرچہ حل کرنے میں مگن!!
اور میں الگ تھلگ سب سے،
پرچے اور مستقبل سے نا آشنا،
رنگ اور نور کے اس میلے میں،
گم رہا، کھویا رہا، دیکھتا رہا۔۔۔۔!
گوگل ارتھ
تمہارے گھر، گلی کوچے سے نکلنے کے بعد
تمہارے محلے کے اس ننھے قاصد سے
رابطہ ٹوٹنے کے بعد،
تمہیں تلاش کرنے کا، دیکھنے کا
ایک یہ ہی ذریعہ بچا ہے۔۔۔۔۔
وچھوڑا
جانے کے وقت آ گیا تھا،
اور میں سامان باندھے کسی بھی لمحے،
کوچ کا منتظر تھا۔
گاڑی کی سیٹی, سینے سے اٹھتی کوئی ہوک محسوس ہوتی تھی۔۔
سامان کی گٹھڑیوں میں گزرے ہوئے پل، لڑائی جھگڑے، روٹھنا منانا،
سبھی کچھ یاد سے باندھ لیا تھا۔
نئے راستوں کا سفر درپیش از ہمیش تھا،
اور اکثر بنا کسی منزل کے سفر کرتے،
اب بے سمتی کی عادت سی ہوگئی تھی۔
تم خود کو سنبھال سکتی تھی، سنبھلنا بھی جانتی تھی،
مگر یہ خلش تھی کہ
روٹی پکاتے، بھاپ سے جلی انگلی کس کو دکھاؤ گی۔۔
جلدی میں پہنے ہوئے کپڑوں کو کون پہچانے گا،
یا تمہاری لپ اسٹک کا شیڈ، ہونٹوں کی سرحدوں سے آگے نکل گیا، یہ کون بتائے گا۔
دوپٹے پر گھی کے داغوں کو کون پہچانے گا۔۔
جانے کا وقت آگیا تھا
اور میں نے سامان باندھ لیا تھا۔۔۔
ایک اور دریا کا سامنا
ابھی پھر، آج سے دوبارہ،
مجھے اس کاروبار دنیا کا حصہ بننا ہے،
اپنے بدن کو خواہشوں کے اس کارخانے میں جوت کر،
چند خواہشیں کمانی ہیں،
ابھی کہاں فرصت کہ میں،
ہمسائے میں ہوئے قتل پر آنسو بہاوں،
یااس جواں سال لڑکی کی عصمت کا نوحہ لکھوں کہ
جس کا جرم،
فطرت کی عطیہ کردہ خوبصورتی تھی
(تو پھر کیوں نہ فطرت کو پھانسی گھاٹ لے جایا جائے),
ابھی پھر آج سے،
اس روشن دن نے گھیرا ہے، جس کی روشنی میرے مقدر سے سیاہ ہے،
ابھی کہاں فرصت کہ میں تیرے ہجر میں،
گریہ کروں، رو رو کے ہلکان ہو جاؤں،
یا تمہیں سوچتے گھنٹوں، بے جان و بے سدھ پڑا ہوں،
ایک اور (روشن) دن کا سامنا ہے درپیش،
ایک اور دن مجھے زندگی بتانی ہے۔۔۔
