Categories
شاعری

غم کی ایک حسابی نظم اور دیگر نظمیں (زوہیب یاسر)

رائیگانی کی ایک نظم

نیند کی کوئی دکاں نہیں ہے،
اور خواب ارزانی کے باوجود بھی نہیں بکتے،
دن بھر کی تھکن پور پور میں سموئے
مستقبل کے خوابوں کا دھاگہ
کروشئیے پہ چڑھائے تند پہ تند ڈالے جاتا ہوں،
مگر کینوس پہ نقش مکمل ہو نہیں پاتا ہے،
دھاگہ کہیں بیچ میں ہی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔
کہانی لکھتے لکھتے نیند آنے لگتی ہے،
اور نیند میں اٹھ کے کبھی
لکھنے لگتا ہوں سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا،
مگر کہانی بھی مکمل ہو نہیں پاتی ہے،
شبدوں کی کمی پوری ہو نہیں پاتی ہے۔۔۔
خوابوں کا مگر رونا ہے،
دن، مہینے سال،
بچپن جوانی بڑھاپا کسی اور کے خوابوں کی تعبیر
کے ادھیڑ بن میں گزرے،
اور اب آنکھوں میں نیند نہیں اور
خوابوں کی زنبیل ارزانی کے باوجود،
کندھوں کا بوجھ بنی ہوئی ہے،
نیند کی کوئی دکاں نہیں ہے۔ ۔ ۔

غم کی ایک حسابی نظم

خوشی ویری ایبل ہے
اور غم کونسٹینٹ ،
خوشی اور غم کی یہ مساوات ،
الجیبرا سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔۔۔۔
یہ اعداد و شمار کی ایسی كسر لا مختتم ہے ،
کہ جس کا کوئی سِرا دوسرے سرے سے نہیں ملتا ،
اِس مساوات کو متوازن کرتے
عمریں بیت جاتی ہیں۔۔
خوشی ویری ایبل ہے اور غم کونسٹینٹ،
اگر اسے گراف پیپر پر پھیلاؤں ،
تو ‘ایکس’ کا محیط بڑھتا جاتا ہے ،
اور ‘وائے’ کہیں اور ہی اپنی پہچان کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔۔
یہ وہ فارمولا ہے جہاں ‘اسٹیٹس’ کے سارے ‘میڈین’ اور ‘رینج’ ناکام ہو جاتے ہیں ،
جہاں الگورتھم کا جھگڑا پاک ہو جاتا ہے ،
اور جس میں کمپاس اور پروٹیکٹر بھی کام نہیں آتے۔۔
خوشی ویری ایبل ہے اور غم کونسٹینٹ۔۔

اسکیچ۔۔۔۔

ماضی کے جھروکے سے جھانکا
تو دور تلک تیرے ساتھ گزرے لمحوں کی خاک اڑ رہی تھی۔۔۔۔
سگریٹ کے کش نے ہجر کے موسم پر مہر تصدیق ثبت کی،
دھوئیں کے مرغولوں نے کمرے کو بھر دیا،
گویا کسی مقدس اوتار کی آمد ہو۔۔۔۔
میں گم ہو گیا اور تیری یاد
موسم بن کر مجھ پہ بیت گئی۔۔۔۔۔۔

گورنمنٹ گرلز کالج ماڈل ٹاؤن، لاہور میں GAT کا پرچے دیتے ہوئے۔۔۔!!!

امتحان گاہ تھی
یا نازنینوں کی آماجگاہ!
سرخ و سفید، رنگ برنگے
دلکش لباسوں میں
جلوے بکھیرتی، سوال نکالتی،
جواب دیتی نازنینیں،
قلم رواں، سانسیں رکی ہوئی،
کسی سوال کا جواب غلط ہو گیا
تو نمبر کم ہو جائیں گے!
سوچتی، سر ہلاتی نازنینیں،
پرچہ حل کرنے میں مگن!!
اور میں الگ تھلگ سب سے،
پرچے اور مستقبل سے نا آشنا،
رنگ اور نور کے اس میلے میں،
گم رہا، کھویا رہا، دیکھتا رہا۔۔۔۔!

گوگل ارتھ

تمہارے گھر، گلی کوچے سے نکلنے کے بعد
تمہارے محلے کے اس ننھے قاصد سے
رابطہ ٹوٹنے کے بعد،
تمہیں تلاش کرنے کا، دیکھنے کا
ایک یہ ہی ذریعہ بچا ہے۔۔۔۔۔

وچھوڑا

جانے کے وقت آ گیا تھا،
اور میں سامان باندھے کسی بھی لمحے،
کوچ کا منتظر تھا۔
گاڑی کی سیٹی, سینے سے اٹھتی کوئی ہوک محسوس ہوتی تھی۔۔
سامان کی گٹھڑیوں میں گزرے ہوئے پل، لڑائی جھگڑے، روٹھنا منانا،
سبھی کچھ یاد سے باندھ لیا تھا۔
نئے راستوں کا سفر درپیش از ہمیش تھا،
اور اکثر بنا کسی منزل کے سفر کرتے،
اب بے سمتی کی عادت سی ہوگئی تھی۔
تم خود کو سنبھال سکتی تھی، سنبھلنا بھی جانتی تھی،
مگر یہ خلش تھی کہ
روٹی پکاتے، بھاپ سے جلی انگلی کس کو دکھاؤ گی۔۔
جلدی میں پہنے ہوئے کپڑوں کو کون پہچانے گا،
یا تمہاری لپ اسٹک کا شیڈ، ہونٹوں کی سرحدوں سے آگے نکل گیا، یہ کون بتائے گا۔
دوپٹے پر گھی کے داغوں کو کون پہچانے گا۔۔
جانے کا وقت آگیا تھا
اور میں نے سامان باندھ لیا تھا۔۔۔

ایک اور دریا کا سامنا

ابھی پھر، آج سے دوبارہ،
مجھے اس کاروبار دنیا کا حصہ بننا ہے،
اپنے بدن کو خواہشوں کے اس کارخانے میں جوت کر،
چند خواہشیں کمانی ہیں،
ابھی کہاں فرصت کہ میں،
ہمسائے میں ہوئے قتل پر آنسو بہاوں،
یااس جواں سال لڑکی کی عصمت کا نوحہ لکھوں کہ
جس کا جرم،
فطرت کی عطیہ کردہ خوبصورتی تھی
(تو پھر کیوں نہ فطرت کو پھانسی گھاٹ لے جایا جائے),
ابھی پھر آج سے،
اس روشن دن نے گھیرا ہے، جس کی روشنی میرے مقدر سے سیاہ ہے،
ابھی کہاں فرصت کہ میں تیرے ہجر میں،
گریہ کروں، رو رو کے ہلکان ہو جاؤں،
یا تمہیں سوچتے گھنٹوں، بے جان و بے سدھ پڑا ہوں،
ایک اور (روشن) دن کا سامنا ہے درپیش،
ایک اور دن مجھے زندگی بتانی ہے۔۔۔

Categories
شاعری

اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں
موت کو رشوت دیتے ہیں
اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں
وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں
اور امید رکھتے ہیں
ہم خود کو ہلاک کر لیں گے
وہ چڑیا گھر میں
شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں
اور جب ہم وہاں سیر کرنے جاتے ہیں
اس دن وہ شیر کا راتب بند کر دیتے ہیں
جب چاند ٹوٹا پھوٹا نہیں ہوتا
وہ ہمیں ایک جزیرے کی سیر کو بلاتے ہیں
جہاں نہ مارے جانے کی ضمانت کا کاغذ
وہ کشتی میں ادھر ادھر کر دیتے ہیں
اگر انہیں معلوم ہو جائے
وہ اچھے قاتل نہیں
تو وہ کانپنے لگیں
اور ان کی نوکریاں چھن جائیں
وہ ہمارے مارے جانے کا خواب دیکھتے ہیں
اور تعبیر کی کتابوں کو جلا دیتے ہیں
وہ ہمارے نام کی قبر کھودتے ہیں
اور اس میں لوٹ کا مال چھپا دیتے ہیں
اگر انہیں معلوم بھی ہو جائے
کہ ہمیں کیسے مارا جا سکتا ہے
پھر بھی وہ ہمیں نہیں مار سکتے

Categories
شاعری

دروازوں کی خود کُشی اور دوسری نظمیں (تبسم ضیا)

دروازوں کی خود کُشی

دروازے کیا ہوتے ہیں؟
کیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیں؟
یا صرف اندر آنے کے لیے؟
دروازوں کا درست مصرف سمجھنے سے
فلسفی قاصر رہے

ہم تمام عمر
ان کی حقیقت سے ناآشنا رہے
ہمیں معلوم نہ ہو سکا
اور دروازے ہمارے اندر سے خارج ہو گئے
یا شاید
اپنے ہی اندر داخل ہو گئے

داخل اور خارج ہونے کی بحث جاری تھی
کہ دروازوں کو دوام بخشا جا سکے
لیکن دروازوں کی خود کشی سے
مداومت کی موت واقع ہو گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلم ڈاگ

گرمیوں کے موسم میں
لالٹین کی آگ سینکتے ہیں
تو ٹھنڈابلب مسکراتا ہے
اور ہماری بے بسی پر منہ چڑاتا ہے

بہت سی ہڈیاں
کھال کے تھیلے میں پڑی چبھتی رہتی ہیں
روزانہ کئی کتے
فوڈ سٹریٹ میں
خوراک کی تلاش میں مصروف
کچرے کے ڈھیر پہ
ایک دوسرے پر غراتے ہیں

زمین کے بالوں میں کنگھی کرتی
گرم سرد ہوائیں
خیالوں کی پرانی دیگ میں باس مارتے خواب
کولہوں کی بھٹی کے پاس جلتا سرد خون
آہیں بھرتی پیروں میں بکھری سسکیاں
انجان سڑک پہ اُدھڑاپڑالاوارث پیٹ
جسے اجنبی شعبدہ باز
ہنسی کی ٹھوکریں مار کر گزر جاتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مالوف کی اولادِ بائن

اس کا نام ہم نے پیدائش سے پہلے ہی رکھ لیا تھا
میں جانتا تھا،
پیدائش کے وقت میں اسے مل نہیں سکوں گا کہ کوئی ہماری شکلوں میں مماثلت پیدا نہ کرلے
میں چاہتا تھا،
وہ اپنے ہاتھوں سے مجھے میرا دوسرا جنم تھمائے

میں نے یونہی ایک دن اس سے پوچھاکہ اس کی پیدائش پہ مجھے کیا تحفہ دو گی
کہنے لگی
سونے میں تول دوں گی
میں نے اپنے تھوک والا ہاتھ اس کے پیٹ پر لگایا
اور چل دیا

کوئی چند ماہ مجھے پکارتے رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خود رُسوا

میرے دل میں اُگتی پیار کی فصل کو
جب لو گوں کی نفرت کے فضلے کی کھاد ملی
تو سِٹے چمک کر سونا ہو گئے
پھر وہی فصل کاٹنے کا وقت آیاتو میرے خلوص کی درانتی کُند ہو گئی
اور دل شکم کے آنسووں سے بھر آیا

درانتی خوب چلائی گئی لیکن فصل نہ کٹی
میرے ہاتھوں پر کیچڑ لگا ہوا تھا
سٹے نیلے ہو چکے تھے

محبت نے خلوص کے ساتھ نیّت کو اٹھا کر نفرت کے فضلے پہ پٹخ ڈالا
اور درد نے محبت کے اُپلے ناف پر تھاپنا شروع کر دیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روح سے لپٹا پیاسا کوا

روح سے لپٹے پیاسے کوّے نے پیاس بجھانے کویہاں وہاں دیکھا
ایک مٹکے پہ نظر پڑی تو اس کے کنارے جا بیٹھا
معلوم ہوا۔۔۔ کنارہ ، کنارہ نہیں

پانی بہت دور تھا
قریب لانے کو کنکر ڈالے تو پانی ان میں رستا نظر آیا
گویا موت نظر آئی
کوّے نے شیطان کو دوست کیا
اور اپنے رونگٹے پانی کے مساموں میں اتار دیئے
پانی ان میں چڑھنا شروع ہو ا
نئی زندگی کے پہلے لفظ نے ہاتھ بڑھا کر
موت کے آخری حرف کو تھاما
اور ایک نیا جملہ وجود میں آیا
کائیں کائیں۔۔۔کائیں کائیں۔۔۔

Categories
شاعری

نظم کہانی (نصیر احمد ناصر)

کہانی کار!
تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں
اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں
ہوا کو سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے
میں نے کئی بار کھڑکی سے باہر جھانکا
اداسی بہت دبیز تھی
مگر میں جانتا ہوں
کہ راستے ترتیب دیتے ہوئے
آنکھیں ہمیشہ مصلحت کے غبار میں گم ہو جاتی ہیں
تمہیں دریا بنے بغیر سمندر سے ملنا آتا ہے
تو پھر مان لو
اَن بہے آنسو بھی عظیم ہو سکتے ہیں
دکھ کسی ایک کا نہیں ہوتا
دکھ تو سب کے ہوتے ہیں
لیکن یقین اور اظہار کے درمیان آنکھوں میں
ایک نمی سی تیرتی رہتی ہے
بارشیں پرائی سرزمینوں پر برسنا چاہتی ہوں
تو انہیں کون روک سکتا ہے
اعتراف کے بغیر سب رشتے بے یقین رہتے ہیں
اگر لفظوں کے بغیر کچھ لکھا جا سکتا
تو مَیں تمہارے لیے بھی ایک نظم لکھتا

کہانی کار!
جب تمہاری آنکھوں کے آسمان میں
آنسوؤں کی روشنائی سوکھ جائے
اور بدن کی زمین کا ملبوس بوڑھا ہونے لگے
اور تم کسی اور وجود کا چولا بدلنے کے لیے
اگلی بار آؤ
تو اپنی کہانی لکھتے ہوئے
ایک کردار میرے نام سے ضرور لکھنا
کیونکہ اگلی بار میں نہیں ہوں گا
میں تو پچھلی بار بھی نہیں تھا
اور اِس بار بھی نہیں ہوں
لیکن تمہیں خواب لکھنے کا تجربہ نہیں
تم نے صرف تعبیریں دیکھی ہیں
کہانی کار!
تم نے ابھی نظم نہیں لکھی!!

Categories
شاعری

بہترین/ بدترین وقت (ایچ – بی- بلوچ)

ہمارے
بہترین وقت میں
ہم سے وعدے لیے جاتے ہیں
اور ہمارے
برے دنوں میں
ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے

ہمارے برے دنوں میں
ہمارے بادشاہ بننے کا انتخاب کیا جاتا ہے
اور ہماری
بگیوں میں گھوڑے باندھے جاتے ہیں
ایک شہزادی کو
انتظار میں بوڑھا کر دیا جاتا ہے

ہماری سانسوں میں پتھر باندھ کر
ہمارے قریبی دوستوں سے
ہماری سزا کا امتحان لیا جاتا ہے
ہم برے دنوں میں محبت کرتے
اور اچھے دنوں میں لڑتے ہیں

جبکہ ہمارے
بہترین وقت میں
بڑے تحمل سے
ووٹ کے لیے درست آدمی سے ملایا جاتا ہے

یا بلند آواز میں
ہمیں ہمارے نام سے پکارا جاتا ہے
اور ہم سے
ہماری آخری خواہش پوچھی جاتی ہے.!
Image: Banksy

Categories
شاعری

میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا (ساحر شفیق)

میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو

میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے

۔۔ اور ۔۔

نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں

کیا اُس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں

جو ریاضی میں بمشکل پاس ہوتا رہا ہو؟

میں لکھنا ضرور جانتا ہوں

مگر اپنی تقدیر میں نے نہیں لکھی

تم مجھے حاصل کر سکتی ہو

اس کم سے کم قیمت پر

جو کسی آدمی کی لگائی جاسکتی ہے

زندگی گرمیوں کی دوپہر ہے

خواب دیکھتے ہوئے انسان خدا کے بائیں طرف سو رہا ہوتا ہے

میں نے خود کو ایک کتاب کی طرح پیش کر دیا

یہ سوچے بغیر کہ

کوئی لڑکی کسی مرد کے بارے میں کیا نہیں پڑھنا چاہتی

تم میرے اندر بوڑھی ہو رہی ہو

اس خواب کی طرح___ جسے کچھ دنوں بعد زہر کا انجکشن لگایا جانا ہے

ہر آغاز انجام کی طرف

___ اور___

 ہم انجام سے آغاز کی طرف بڑھ رہے ہیں

میں جانتاہوں

میری عمر کے ایک ارب مردوں میں سے

میرا انتخاب کرنا

تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا

Image: Dolk

Categories
شاعری

آدرش پہاڑ کی نوک پر رہتا ہے (ایچ-بی- بلوچ)

یہ ایک اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے
جس پر تم ہو

اس اونچائی کے نیچے
بہت سے درخت ہیں انسان ہیں
اور بہت سی چیونٹیاں اور بہت سے کتے ہیں

مگر تم اوپر ہو
اور تمہاری آنکھوں کی پتلیاں مجھے
خالی آسمان کی طرح لگتی ہیں
جس میں خود کو کھڑا ہوا پاتا ہوں

تم زور سے نہ بولو
زور سے ہنسو تو بالکل بھی نہیں
میں گر جاؤں گا!

اچھلنا نہیں
گڑگڑانا نہیں
جھکنا اور لرزنا تو بالکل بھی نہیں
میں خود سو دفعہ گر سکتا ہوں
لیکن تمہیں گرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا

یہ اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے
جس پر تم ہو
جیسے ایک پہاڑ مجھ پر ہو
جیسے ایک پہاڑ ۔۔۔۔ تم پر ہو !
Image: Norman Duenas

Categories
شاعری

ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ
اور کسی سبز آنکھ میں
تمہارے چہرے نہ کھل سکیں
تم وہی ہو
جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا
اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے
ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے
منفی اعداد ہیں
تم ہمیں جنگلوں سے ضرب دے کر
اینٹوں کے پیالے بنا رہے ہو
اور ہم اپنے پیٹ پتھروں سے باندھ کر
خوش ہیں
ہمارے بعد مٹی کبھی سونا نہیں ہوسکے گی
اور تمہارے پیتل جیسے پیر
بدعاؤں کی طرح
آسمان پر ڈولتے پھریں گے
مگر خدا ساتویں کھڑکی نہیں کھولے گا
تم اپنی قبریں لے کر کہاں جاؤ گے؟
Image: Alexander Petrovich Botvinov

Categories
شاعری

طبیب بھنبھنا گیا (ستیہ پال آنند)

فَتَکلّمُواَ تُعرَفُوا
کلام کرو تا کہ پہچانے جاؤ۔۔۔۔۔۔ حٖضرت علی کرم اللہ وجہہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طبیب بھنبھنا گیا

میں سب علاج کر کے تھک گیا ہوں، پر
یہ بچہ بولتا نہیں
زبان اس کی ٹھیک ٹھاک، تندرست ہے
کہیں بھی کوئی رخنہ، کوئی نقص ہو

یہ میں نہیں سمجھ سکا
بدن بھی تندرست ہے

مگر یہ نو نہال چار سال کا
اشاروں سے ہی بات کرنا جانتا ہے، کیا کروں ؟

اسے کسی سپیشلسٹ کے پاس لے کے جایئے

یہ میں تھا چار سال کا

مری زبان بند تھی
کلام مجھ سے جیسے چھن گیا تھا پہلے دن سے ہی
جو دو برس کا مجھ سے چھوٹا بھائی تھا

وہ خوب بولتا تھا، پر
نہ جانے کیسے میری جیبھ گُنگ تھی
میں صم بکم تھا، بے زبان، دم بخود
کہ۔جیسے چُپ کا روزہ رکھ کے جی چکا تھا

چار سال کی یہ عمرِ مختصر

عجیب معجزہ ہوا کہ ایک دن
میں اپنے گھر کی ڈیوڑھی میں صم بکم کھڑا ہوا
تماشہ دیکھتا تھا اک جلوس کا
عَلم اٹھائے جس میں لوگ ’’یا حسین‘‘ ’’یا حسین‘‘ کہتے
سینہ پیٹتے، لہو لہان جا رہے تھے
اور میں ۔۔۔۔۔۔جسے

زبان آوری کا کچھ پتہ نہ تھا
نہ جانے کیسے اس سکوت کے اندھیرے غار سے

نکل کے بول اٹھا۔۔۔
’’حسین! یا حسین! یا حسین‘‘

اور پھر مرا سکوت
نطق میں ، کلام میں ، سخن میں ڈھل گیا۔۔۔۔

میں صاف بولنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(لکھنؤ میں سُنی ہوئی ایک سچی کہانی کی شعری داستان)

Categories
شاعری

فریبِ نظر ہے سکون و ثبات

ہاں یوں ہے
کہ ہم تم بظاہر
زمانے کی چھت پر
ثابت کھڑے ہیں!
سو زینو ں کو چڑھ کر
کوئی آ کے دیکھے
تو سمجھے گا یوں کر
کہ ہم تم وہیں ہیں
جہاں کل کھڑے تھے

یہ دوری کے دھوکے
زمانے کی آنکھوں پہ پردے پڑے ہیں!
لگن کی لپٹ ہے
خلاوں کی وسعت
اور ہم دو ستارے ہیں جو جل رہے ہیں
آنکھوں کی باتوں کے بہکائے لوگو
ذرا دل سے دیکھو
کہ ہم چل رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
شاعری

نظم کے لیے غسل واجب نہیں

لندن کے شب خانوں میں
نیم واقف عورتوں کی کمریں گھیرے
برہنہ ٹانگوں ، ادھ کھلے پستانوں پر چھا جانے کی خواہش میں
آدمی خود کو زخمی کر لیتا ہے

آدمی سوچتا ہے
زخم اِنسان کا زیور ہے
یہ تو ایک مکَر ہے
مکَر عورت کا چور دروازہ ہے
اور مرد کے ماتھے کا محراب

منکوحہ عورتیں منافق نکلیں
تو رات نے سوچا
جس کا مرد زیادہ گھائل ہو
اس کی عورت زیادہ گہری ہوتی ہے

لندن لڑکیوں سے بھرا پڑا ہے
لیکن دل کا دالان خالی ہے

مے نوشی کی رات کے بعد
راہ پڑے بنچ پر آنکھیں کھولو
کمرے میں جوتوں سمیت جاگو
یا اجنبی بستر کی رانوں سے طلوع ہو
آدمی تنہائی کو طلاق نہیں دے سکتا

رات کے تین بجے ہوں
یا تیس برس کی زوجیت ہو
خواب ہو یا بستر
عورت اپنا مرد خود چنتی ہے

عمر علی!
لندن ہو یا لائل پور
دنیا ایک سی ہے

منشی محلے کے چکلے کی عورت بھی شاطر نکلی
اُس نے رمضان کے سارے روزے رکھے
اور تیس راتیں کمائیں
ہم بستری کے بعد وہ نماز پڑھنے چلی گئی
میں غسل کیے بغیر نظم لکھنے لگا

Image: Jean-Michel Basquiat

Categories
شاعری

مدثر عظیم کے عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
عشرہ // ڈپریشن

پچھلی رات کے
پاگل پن سے
باہر آ کر
سوچ رہا ہوں

کھڑکی
کھولی
جا سکتی ہے

کمرہ
روشن
ہو سکتا ہے

عشرہ // فرسٹریشن

جی فرمایئں
بلکہ تم تو بھونکو ۔۔۔ کتے!
آدھی رات کو میسج کر کے
تم نے اپنے کتے پن کی
ایک جھلک تو دکھلا دی ہے

میسج چھوڑو ۔۔۔۔۔ کال کرو اب
کال نہیں ۔۔۔۔۔ تم آ ہی جاو
پیچھے والا دروازہ بھی کھول رہی ہوں
جلدی آو ۔۔۔۔ ورنہ میرا شوہر کتا
سات بجے تک آ جاتا ہے

عشرہ // عجیب لڑکی

وہ بات کرتی تھی فلسفے پر،
کہانیوں اور شاعری کی
وہ ایک لڑکی جو روشنی کی تلاش میں تھی
میرے اندھیروں کے ساتھ بھی تھی
وہ مچھلیوں کو دلاسے دیتی ، وہ تتلیوں سے دعایئں لیتی
کبھی وہ دھڑکن کو ساز کہتی ، کبھی وہ خوابوں کے ساتھ بہتی ، سریلی لڑکی
کبھی وہ جنت کو شُوٹ کرتی ، کبھی جہنم کو پینٹ کرتی ، پہیلی لڑکی
وہ اپنے ہونے کی کھوج میں تھی
مگر نا ہونا بھی چاہتی تھی،
عجیب لڑکی!
Image: Saša Auguštanec

Categories
شاعری

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے
وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے گئے
مارنے والوں کے ہاتھ گوشت پوست کے کب تھے
کیا تھے؟
ہاں، لوگ کہتے ہیں
وہ خون پینے والے جنگلی جانوروں کے پنجوں سے ملتے جلتے تھے
یہ آتے کہاں سے
جنگل سے؟
یہ بھوکے ہیں کیا؟
انسانی جانوں کے
ہاں
کسی نہ کسی شکل میں
لیکن کب تک
پتہ نہیں یہ چھوڑ دئیے جاتے ہیں
ہر موسم میں
کون چھوڑتا ہے ان کو
وہ جو زندہ رہنا چاہتے ہیں
انسانی جانوں کے بل بوتے پر
ان کی قبریں ترس رہی ہیں ان کے لئے
کب ان کےپیٹ پھٹیں گے
کب یہ ان کو بھریں گے
اب تو ان کی قبروں پر
کتے بلیوں نے پیشاب کرنا بھی چھوڑ دیا ہے
وہ جاننے لگے ہیں
یہ قبریں ان کی منتظر ہیں
جو انسانوں کا گوشت کھاتے ہیں
ان کے بچوں کا خون پیتے ہیں
موت بھی ان کا پیچھا نہیں کرتی
وہ جانتی ہے
اللہ نے ان کی رسی دراز کی ہوئی ہے
لیکن کب تک
یہ جشن منائیں گے
آخر کب تک
Image: Miream Salameh

Categories
شاعری

سُنو، بلیک ہول جیسے آدمی!

مجھے تم دُور لگتے ہو
افق کی آخری قوسوں کے بیچوں بیچ
اک موہوم سے فلکی جسیمے کی طرح
خاموش اور تاریک
اپنی ہی کشش کے دائمی قیدی
کسی بھی دوسرے ذی روح کے
احساس سے عاری
بہت بھاری ۔۔۔۔!!
Image: Daniel Martin Diasz

Categories
شاعری

پلکوں پر افلاک

پلکوں پر افلاک کا
بھاری بوجھ اُٹھایا
خوابوں کی سر سبز یری
کو ہندسوں کا سُرتال سکھایا
بے حرکت ہی
پچھلے اگلے
سارے زمانے
ایڑی کی نیچے لے آیا
آسماں کی سات تہوں تک
راز زماں کے کھود کے لایا
بے جنبش ہی
بلیک ہول تک
سارے مداروں
اور لہروں کو عقل کی حد میں
کھنیچ کے لایا
ایٹم تک ہر اک مومینٹم
اس کی مایا
دھرتی کی پھر گود سمایا
دھرتی کے جادو کا جایا