Categories
شاعری

جنگل کے پاس ایک عورت

نیند کے پاس ایک رات ہے
میرے پاس ایک کہانی ہے
جنگل کے پاس ایک عورت تھی
عورت بچہ پیدا کرنے کے درد سے مر رہی تھی
ایک شکاری وہاں پہنچ گیا
اور بچے کی آنکھوں کے عوض
عورت کی مدد کرنے پر آمادہ ہو گیا
عورت نے جڑواں بچے جنے
شکاری کے ہاتھ
آنکھوں کی دو جوڑیاں آئیں
اس وقت سکے ایجاد نہیں ہوئے تھے
ایک جوڑی آنکھ کے بدلے
زندگی بھر کا سامان خریدا جا سکتا تھا
جو لوگ دوسروں کی آنکھیں حاصل نہیں کر سکتے
اپنی آنکھوں کا سودا کر لیتے
ہر سودے کی طرح
بیچتے وقت
آنکھوں کی صرف آدھی قیمت حاصل ہوتی تھی
آنکھیں بیچنے والے
صرف آدھی زندگی خرید سکتے تھے
عورت نے شکاری سے جدا ہو کر
اپنے بچوں کو جنگل میں چھوڑ دیا
جیسا کہ اس نے اپنے شوہر کو
سمندر میں چھوڑ دیا تھا
بچے بھیڑیوں میں پل کر بڑے ہوئے
ان میں سے ہر ایک
دوسرے کو
اپنی ماں کی کوکھ کا غاصب
اور اپنی آنکھوں کے سودے کا باعث سمجھنے لگا
جب
بیلوں میں پاؤں ٹوٹنے کی بیماری پھیل جانے کی وجہ سے
اندھے غلاموں کی مانگ بڑھ گئی
ایک بردہ فروش
انہیں بھیڑیوں کی غول سے چرا لے گیا
زمین میں جتے ہوئے اندھے بھائی
ہل لے کر اتنی مخالف سمت میں چلتے کہ
ان کے آقا کو
خدا سے درخواست کر کے
ایک کھڑکھڑانے والا سانپ ان کے پیچھے لگانا پڑا
میں بہت دنوں پہلے
اس شہر کا محاصرہ کرنے آیا تھا
میرے پرچم پر رہنے والا عقاب اڑ گیا
میرے سپاہیوں نے
اپنی تلواریں ٹکسالوں میں بیچ دیں
گھوڑے نے اپنی کھال
مشکیزہ بنانے والے کو ہدیہ کر دی
شہر کی دیواروں میں
شگاف کہاں ہے
یہ اس کے چرواہوں کو بھی معلوم ہے
اور ان کی بھیڑوں کو بھی
مگر یہ جنگ
غداروں اور چوباؤں کو بھی خرید کر نہیں جیتنا چاہتا
میں سمندروں کو کشتیوں سے
اور تلوار کو تلوار سے ناپتا ہوں
میں غلام عورت کی
غلام مرد سے پیدا ہوئی اولاد نہیں
جو ایک غلام شاخ سے کمان
اور دوسری غلام شاخ سے تیر بناتا ہے
میں اس کھڑکھڑانے والے سانپ کو کچل دوں گا
اور جڑواں بھائیوں کے کندھے سے جوتا اتار کر
اسے گہری کھائی میں پھینک دوں گا
میں انہیں لے کر جنگل میں نکل آؤں گا
اور اس شکاری کو تلاش کروں گا
جو بچہ پیدا کرنے کے عوض اس کی آنکھیں طلب کرتا ہے
اور اس ماں کو تلاش کروں گا
جو بغیر آنکھوں کے بچے کو چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے
ایک دن بیچی ہوئی آنکھیں
شکاری سے سودا کردہ شخص کو پہچان لیں گی
اور اندھے بچے
اس آدمی سے اہنی آنکھیں چھین کر
اپنے شکاری کو ڈھونڈ نکالیں گے
اور شکاری سے اس عورت کا پتہ پوچھ کر رہیں گے
جو انہیں جنگل میں چھوڑ کر چلی گئی تھی
چاہے وہ عورت میری بیوی ہی کیوں نہ ہو
Image: Roberto Matta

Categories
شاعری

تتلیوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹیں

(1)
کہیں نہ کہیں
تتلیاں پھڑپھڑارہی ہیں اپنے پر
اوربرپا کررہی ہیں طوفان
مختلف جگہوں پر
بدل دیتی ہیں موسم
تتلیوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹیں
اور ستاروں کی سمت اور رفتار
اور ہماری قسمتیں
سوچنے کا مقام ہے ہرپل
قدم کس طرح اور کس طرف پڑے
اور کیسے بدل جائیں ہماری منزلیں
تتلیاں نادان ہیں
ناواقف ہیں اپنے برپا کیے ہوئے طوفانوں سے
بالکل ہماری طرح
جو نہیں جانتے
اچھا ہے یا برا
ہمارا سانس لینا یاسانس روک لینا

(2)
مڑچکی تھی میں
جب گر گیا ٹوٹ کر درخت سے
ایک سوکھا پتہ
میرے شانے پر
اور دیکھ لیا تم نے
اور رک گئے
جھاڑنے کے لیے
میرے شانے سے
وہ سوکھا پتہ
ایک بار پھر کہا تم نے
سوچ لو ایک بار اور
بات کرلینے میں کیا ہرج ہے
اور بات کرلی ہم نے
اور گزار لی ایک زندگی
ایک دوسرے کے خاندانوں کو جان کر
اپنے بچوں کے ساتھ
اور جب لے جارہے تھے لوگ
تمھیں کاندھوں پر
مجھے یاد آگیا یونہی ایک لمحے کو
اگر نہ گرا ہوتا ٹوٹ کر درخت سے
وہ سوکھا پتہ
میرے شانے پر

(3)
وہ غلط پھینکی گئی تیز گیند تھی
جو لگی پیٹ میں جاکر ایک لڑکے کے
اور پھاڑ دیا اس کا اپینڈکس
اور غم سے پاگل کردیا اس کے بھائی کو
سوسال گزر چکے ہیں
میں ہاتھ مل رہی ہوں
اس تیز گیند پر
آنسوئوں کے درمیان
ایک صدی کے نسل درنسل جاری
پاگل پن کا بوجھ
اپنے سر پر اٹھائے

(4)
رات ڈرامہ دلچسپ تھا
نیند دیر سے آئی
بھول گئی وہ جلدی میں
میز پر پڑا نظر کا چشمہ
اس اہم دن
جب مل گیا اسے وہ
اور ہوگیا پہلی نظر میں
ہمیشہ کے لیے اس کا اپنا
باوجود اس بات کے
کہ بہت نفرت تھی اسے نظر کے چشمے سے
بہت سال بیت گئے
جب اس نے سوچا
کاش اس رات نہ دیکھا ہوتا اس نے
وہ دلچسپ ڈرامہ
یا نہ بھولا ہوتا جلدی میں
میز پر پڑا نظر کا چشمہ

(5)
معمولی زکام تھا مگر
نہیں کرسکی وہ ہمت
بچے کے اسکول کی میٹنگ میں جانے کی
نہیں جاسکا وہ وقت پر دفتر
بچے کے اسکول کی میٹنگ کے باعث
نہیں دے سکا وہ اس کی تنخواہ
صحیح وقت پر
نہیں دے سکی وہ واجب الادا فیس
بچے کے اسکول میں
صحیح وقت پر
نہیں کرسکا وہ برداشت
فیس نہ لانے پر
ماسٹر کی مار
نہیں پڑھ سکا دوسری جماعت کے بعد
کرتے رہ گئے دھوپ میں مزدوری
وہ اور اس کے بچے
کسی اجنبی کے
معمولی زکام کے باعث

(6)
بھول گئی نوکرانی اس رات
پانی کا گلاس سرہانے رکھنا
کھل گئی اس کی آنکھ
آدھی رات کو
روتے روتے سونے کے بعد
شدید پیاس سے
اور بلا لیا اسے
صحن میں رکھے مٹکے کے برابر
کنویں کے اندر سے
اس کے عکس نے
کھل جاتی ہے آنکھ
آدھی رات کو
روتے روتے سونے کے بعد
میرے پیاروں کی
دل کے درد سے
دیرینہ یادوں سے
ڈرائونے خوابوں سے
جو جگائے رکھتے ہیں مجھے دن اور رات
کبھی نہیں بھولتی
میں پانی کا گلاس
ان کے سرہانے رکھنا

(7)
پرندے نے سوچا
ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں
دائیں مڑے یا بائیں
اور مڑ گیا بائیں
اور ٹکرا گیا
شور مچاتے، تیز رفتار
بہت بڑے پرندے سے
جو اسے نگلتے ہی گرا
اور پاش پاش ہوگیا
شہر کے معززین آدھے رہ گئے
بدل گئے خاندانوں کے سربراہ
تباہ ہوگئے کچھ کارو بار
کچھ چھونے لگے آسمانوں کو
الٹ گئیں تقدیریں
ہزاروں موجود لوگوں کی
اور ان کی بھی جو ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے
جب مڑ گیا پرندہ
دائیں جانب کے بجائے
بائیں جانب

(8)
اجنبی ہے وہ
مگر سنا تھا کہیں اس نے میرا نام
ڈھونڈ کر نکال لی ہے اس نے میری فائل
اور فیصلہ کیا ہے
میں اس کام کے لیے مناسب ہوں
اب چھوڑنا ہوگی
مجھے یہ سرزمین
بڑا ہونا ہوگا میرے بچوں کے میرے بغیر
بھول جائیں گے مجھے وہ
جنھیں میں قریب رکھتی ہوں
آجائیں گے قریب
پتا نہیں کون سے اجنبی لوگ
شریک نہ ہو پائوں میں شاید
شادیوں اور اموات میں
اپنے پیاروں کی
نہ جانے کون تھا
جس نے لیا تھا میرا نام
اس کے سامنے
برسبیلِ تذکرہ

(9)
ہوگئی بارش
غیر متوقع
پھیل گئی کیچڑ
پھسل گئے گھوڑے
ہار گیا وہ
ایک اہم جنگ
بن گئی محکوم
اس کی جنگجو قوم
بدل گئی تاریخ
ہمیشہ کے لیے

(10)
جب کھڑا کیا تھا استاد نے
اسے بنچ پر
وہ سب پیدا نہیں ہوئے تھے
جو مارے گئے اس کی شرمندگی کے ہاتھوں
پلتی رہی اک آگ
تیس سال تک
اس کے سینے میں
اور گھس گیا ایک دن
وہ ان کی کلاس میں
اور ایک ایک کرکے ختم کردیں
سب بچوں کی تمسخرانہ مسکراہٹیں
لے لیا اپنی ذلت کا انتقام
بے رحم دنیا سے

(11)
جارہی تھی اس کی بیوی کی دوست
ملک سے باہر
ملنا ضروری تھا
بلائے جارہی تھی کب سے
اسے چلنے کے لیے
بغیر پڑھے دینا پڑے
اسے اوسط نمبر آخری جوابی کاپی کے
اور باندھ دیا اس نے بنڈل
نہیں مل سکا کسی یونیورسٹی میں داخلہ
مستقبل کے عظیم سائنسداں کو
نہیں ہوسکی وہ عظیم ایجاد
جو بدل دیتی ہماری قوم کی تقدیر

(12)
سوچا تو ضرور ہوگا اس نے
کیلے کا چھلکا گلی میں پھینکنے سے پہلے
میری قسمت کے بارے میں
پہنچ گئی میں ہسپتال
کھو بیٹھی اپنی ملازمت
بند ہوگئے ترقی کے دروازے
روٹھ گئی خوشحالی
نہ بن سکے میرے بچے
جو بننا تھا انھیں
اور ان کے بچے
سوچا تو ضرور ہوگا اس نے
کیلے کا چھلکا گلی میں پھینکنے سے پہلے

Categories
شاعری

نظم لکھنے سے پہلے ایک نظم

کون مرے اِس سچ کو سچا جانے
میرا سچ جو اِس اَن حد باغیچے کے اِک گوشے میں کھِلا ہوا معمولی پھول ہے
کون اِس پھول کی خوشبو چننے آئے
کس کو اِتنی فرصت!

کبھی کبھی تو میں اِس باغ کے باترتیب کیاروں میں
کھِلے ہوئے پھولوں سے ڈر جاتا ہوں
جن کے رعب تلے دب جاتی ہیں
میری ننھی خوشیاں
میرے مسکانے کی معصوم سی خواہش
اِن پھولوں کی سچائی کو سچ کرنے کی خاطرہی تو ہے
گل بانوں کا سارا پانی، ساری محنت
ایسے میں میری خود رَو سچائی کو جھوٹے بھی گر جھوٹا جانیں
تو خود انصاف کرو
میں کس کو جھٹلاؤں؟

میں نے تو بس اپنے اثبات کی خاطر
اپنے پہلو میں ایک کلی کو ساتھ کیا
جو نہ شبِ حشر کی ملکہ
نہ روزِ اجر کی رانی
جس نے اپنے اثبات کی خاطر
نہ کوئی کہرام کیا
نہ کوئی ہنگام کیا
بس اتنا سا کام کیا
خاموشی سے مجھ بے نام کا نام لیا
Image: Salavador Dali

Categories
شاعری

عشرہ // بزدلوں کے نگر میں بغاوت کا چراغ

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

عجیب دکھ ہے اذیت ہے بے قراری ہے

‘خبر ملی ہے خدایانِ بحر و بر سے مجھے’
کہ اب زمین پہ اندھیروں کی سلطنت ہو گی

وہ ایک چراغ بغات کے قافلے میں جو تھا
وہ بجھ گیا ہے مگر اس نے سر جھکایا نہیں

اب اس کے بعد بغاوت کا کس کو یارا ہے
یہ بزدلوں کا نگر، بوٹ پالشیے ہم لوگ

زمیں پہ راج وہی ظلم کی ہوا کرے گی

کہ اک چراغ کے بھجنے کے بعد کیا ہو گا
اندھیرے اور بڑھیں گے گھٹن ستائے گی

Categories
شاعری

شہ رگ کی بالکونی سے

خدا جو شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے
اس کو اپنا دکھ سنانے کے لئے
مُردوں کو جنجھوڑنے والا بہت خوش ہے
کہ خدا نے اس کی سن لی
اور وہ بھینس کے تھن کو چھُونے سے پہلے
—- کا نعرہ لگائے گا
مگر بھینسیں زیادہ دودھ دینے سے
اس مرتبہ بھی مُکر گئیں
کہ بھینسا ہل میں جُتا ہوا تھا
اختلاط کو ترسی ہوئی بکریاں
احتجاج لکھنے والا قلم ڈھونڈتی رہیں
مگر بکرے قربان ہو چکے تھے
وہ اب کہیں دور سے اپنی اپنی بکری کو
لَو لیٹر بھیجتے ہیں
مگر بکریوں کے کان
دوسری آواز کے انتظار میں کھڑے ہیں
محبت کے شیِرے میں ڈوبی ہوئی دوسری آواز
خدا شہ رگ کی بالکونی میں براجمان
تماشہ دیکھ رھا ہے
Image: Roberto Matta

Categories
شاعری

البتراء

کتنے سمُندر
کتنے صحرا
جنگل اور بارشیں
بے شمار آئینوں کا خالی پن
لمحے یا صدیاں
عبور کر کے
داخل ہوئی
میری تنہائی
تیری تنہائی میں

اے شہر گلِ سرخ !
اے عظیم خوب صورت پتّھر !
مجھے خزانے سے
کوئی سروکار نہیں
جہاں کھونٹے سے بندھا
لال گھوڑا
تئیس سو برس
کی بے خوابی میں
ایستادہ ہے

مجھے فقط تیری اداس رات کا
ایک کونا درکار ہے
کہ میری خاموشی
تیری خاموشی سے کلام کرے

میرے پاس افسوس کی کہانی ہے
جسے سن کر، قدیم چاند،
ریت کے آنسو بہائے گا
کہ تیرے ماتمی گلاب سیراب ہوں

اڑتے زمانوں کی دھجّیاں
گم شدہ عمروں کی رائگانی
تاریخ کی منافق الماریوں میں
لٹکتے اِستخواں
مجھے امانت دار پائیں گے

برباد دیواروں کی خراشوں سے
جھانکتا انہماک نہیں ٹوٹے گا

اے گلاب شہر !
میں بے زبان قصّہ گو
ایک شب بسری کا سوالی ہوں
تیرے سنگین دروازے پر

میں تجھے تیرے جیسا
اپنا دل ہدیّـہ کروں گا،
پتّھر کا گلاب

تجھے خاموش داستان سناؤں گا
کسی بہت قدیم زمانے کی
گناہ گار خدائوں سے دور
خالص عبادت گذار اندھیرے میں
صبحِ ابد کے آخری قہقہے سے بے نیاز

Categories
شاعری

گواچن سے پرے بھی کچھ ہے؟

ہم نارضامندی کی پیدائش میں
پیدا ہوئے ہی نہیں
اگر ہم پیدا ہوتے
تو ہماری حالت کچھ اور ہوتی
جانے یہ بات کیونکر تاریخ میں
یوں لکھ دی گئی
کہ جاؤ
آج تم پر کوئی گرفت نہیں
تم سب آزاد ہو
لیکن آج تک مَیں
آزادی ایسے شبد کی معنویت سے آشنا نہ ہوسکا
اور نہ ہی اس کی سرشاری کو جی پایا ہوں
محض ایک بوسے کی سکرات میں جینے والے لوگ ہی دیکھ رہا ہوں
جو خود سے بھی یہ سچ کہنے کی حسرت میں
پیدا ہوئے نہیں
اور اس خوف میں ہیں
کہیں کوئی یہ کہہ کرگرفت نہ کرلے
اس بابت یہ نہ کہہ جائے
یہ تم نے کیسے انگلی میں سگریٹ لینے کی چنتا
پال رکھی ہے
اور دھوئیں کے مرغولے میں خود کو
زمان و مکان کی بندش سے پہلے
آنول تلاشنے نکلے ہو
اور کس کے رحم کی اذیت میں دن بھوگ رہے ہو
یہ سب تو ہوناتھا اک دن
کیوں جلدی میں سب کچھ غارت کرنے میں
اپنا گیان لیے پھرتے ہو
جوکہ اب تک
بھیتر سے نکلے نہیں
Image: Angela Northen

Categories
شاعری

رضوان فاخر کے عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ع// سرخ رنگ پر پابندی تھی

بستر پر بہنے والا خون بچا لیا گیا
گلیوں میں خون بہا کے

سرخ پھولوں نے تو کسی کا قتل نہیں کیا
بوسوں سے تو کسی کی جان نہیں گئی
پھر بھی ہم تم دونوں Banned تھے
عام تو بارود تھا، سو اڑادیے گئے

سرخ رنگ فحش ہے اور فحاشی حرام ہے
دھماکے سے بدن کی دیواروں کے پیچھے قید
فحش سرخ رنگ عریاں کیا گیا
بستر پہ بہنے والا خون بچا لیا گیا

ع/ / An Image

دیواروں کے اندر لہکے کھیت سرابوں کے
خشکابوں کے مہکے دل
خوشبوں سے گلابوں کے
مدھم ہوگئے ساز
ویرانوں کے لب پر چہکی
پانی کی آواز
چھلک اٹھے اس من موہنی کے
دودھ بھرے چھاگل
کھڑی سے سر پٹخا ہوا نے
دیپ ہوئے پاگل

Categories
شاعری

رات کے خیمے میں ہے تیرا وجود

رات کے خیمے کے اندر ہم
ہمارے رُوبہ رُو
بیتے دنوں کی یاد میں
روشن سلگتی موم بتی
جس میں جلتے
تار پہ لٹکے ہمارے روزوشب کے خواب بھی

رات کا خیمہ جو روشن ہوگیا
دائروں میں رقص کرتی دودھیا سی خواہشوں کی جوڑیاں
چُونچیں مِنقاروں سے اُلجھی اپنے پٙر پھیلائے
جیسے انگلیوں کے تار پہ الجھے ہے
ریشم سا جہاں

آنکھ میں بہتا ہے
دھیمی لے میں اُڑتا گیت
نیلی آبشاروں کی دھنوں پہ چل رہا تھا

بازووں کے تار پہ لٹکے
ہمارے رُوبہ رُو
دودھیا سی روشنی
میرا بدن، تیرا وجود
اور آسماں کی گود میں ہے پل رہا
وہ خواب جو قوسِ قزح کے تار
پہ ہے کِھل اُٹھا
اور زندگی
ہونٹوں کی نرمی میں پھسلتی تازگی
جو وقت سے تلچھٹ کی دوری پر کھڑی ہے
زندگی
جو چلتے پانی میں دہکتی آگ ہے
روشن آلاو
گرد جس کے دائروں میں رقص کرتا ہے خدا
جو روشنی کی تازگی کا ہے نگہباں
رات کے خیمے کے اندر ہم
ہمارے رُوبہ رُو
تیرا خدا، میرا وجود
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

مجھے نہ کر وداع

(جامعات کی سطح پر درس و تدریس میں ساٹھ برس گذارنے پر میرا حلفیہ بیان)

اس نظم کا فارمیٹ ن م راشد کی نظم کا مرہون منت ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے نہ کر وداع

مجھے نہ کر وداع پھر

 کہ اس سے پیشتر بھی میں

اناتھ، ناتواں، یتیم طفل

 اپنے آپ ہی

 تمہاری انگلی چھوڑ کر

 بچھڑ گیا تھا رونق ِ حیات کی فروش گاہ ِ علم  میں    ٰ؎

میں بے خبر

 اکھڑ گیا تھا سر بسر 

نہ چاہتے ہوئے بھی میں 

بھـٹک گیا تھا

 علم و فن کی جامعات کی اندھیری کھوہ میں 

نکل پڑا تھا

  ہفت خواں مفکروں کے قافلوں کی ٹوہ میں 

میں بے ریا تھا

 بات کا کھرا، مگر 

مجھے وداع کر کے، مجھ کو 

علم کی فسوں گری کی بھٹیوں میں جھونک کر

 مری اُٹھان روک دی

 مجھے نحیف کر دیا  

طبیعی سِن سے پیشتر 

مجھے ضعیف کر دیا!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

کہ سر بہت کھپا چکا

دماغ اپنا کھا چکا

ادب کی درس گاہوں کے

قدیم مرگھٹوں میں لاکھوں بار پہلے جل چکی

پرانی میّتوں کے ساتھ

میں بھی اپنا جسم و جاں جلا چکا

مجھے نہ کر وداع!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

کہ چاہتا ہوں اپنی رہتی عمر تک

میں تم سے منسلک رہوں

تمہارے ساتھ رہ کے میں بھی سُن سکوں

جو ’بے صدائی‘

 ’آنسوئوں کے آئینوں‘ کے آب میں اسیر ہے

جو ’حرف زیر ِ لب‘سی مست اَلست ہے

جو ’دست و پا کی نارسائی‘

عام آدمی کی زندگی کی چیز بست ہے

’سلام ِ روستائی‘ جو پِسے ہوئے ، دبے ہوئے

عوام کے جنم جنم کے دُکھ کی باز گشت ہے!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

کہ ’حرف زیر ِ لب سا‘  میں

دبا دبا، رُکا رُکا

زباں کی بے صدائیوں کے گوش و ہوش کھو چھکا

میں بار بار، بار بار، بار بار رو چکا

مری زبان گُنگ ہے

سماع پردہ گوش ہے

کہ چھند، گائیکی، بھجن

غزل، سلام، مرثیہ

درود، حمد و نعت

مجھ سے ثقل گوش کے لیے

صدا و صوت کی نفی

اصم برائے ہوش ہے!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

’شجر حجر ‘، وہ جانور، وہ طائران ِ خستہ پر

جو میرے حلفیہ بیان کے لیے

کھڑے ہیں نیچے باغ میں

میں کیا مکالمہ کروں گا اُن سے، میری ذات، بول

کہ مجھ سے تو سماع و صوت چھِن گئے

میں ’شہر ِ ہست‘ کی گلی میں

’نیستی کی گرد کی قبا میں سے سے پائوں تک

ڈھکا ہوا

مدام اپنا سر چھکائے

ملزموں سا صم بکم کھڑا ہوا

مجسمّہ ہوں سنگ کا

سماع ہوں نہ صوت ہوں

تواتر ِ حیات میں ہوں منجمد

نہ زندگی، نہ موت ہوں!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

کہ یہ مکالمہ توعدلیہ کے بینچ و بار پر ڈٹے ہوئے

حکومتوں کی انتظامیہ میں حکمتوں کے پختہ کار

ٓآمروں کے حکم ِ خویش کا مطیع ہے

ذرا سمجھ یہ، ذات ِ من

کہ من وعن

مرا کمال صرف شعر و شاعری کے دائو گھات

کرتبوں کے فن کی ساحری نہ تھی

مرا ہنر نہیں تھا

بیچنا دکان ِ علم میں      ؎ٰ

پرائی عقل و فہم مہنگے نرخ پر!

مجھے تو نیچے ’ہال‘  میں

جو لوگ ہیں

انہی کے ساتھ

ہاتھ ہاتھ میں دیے

عَلم اٹھائے بڑھتے رہنا چاہیے تھا

آمروں کے سنگ گوش

عدلیوں، حکومتوں کی اونچی بلڈنگوں

 کے پھاٹکوں تلک!

 

مجھے نہ کر وداع پھر

کہ ایک بار مجھ کو خود سے دور کر کے

تم نے، میری ذات، مجھ کو

 جامعات کی غلام گردشوں میں

ایک چوکیدار سا

’ہمیشہ جاگتے رہو‘   ۲؎کے نا شنیدہ ورد پر لگا دیا

مجھے سبق پڑھا دیا

کہ سحر کار ِ بے نشاں

(جو شرق کا خدا نہ تھا!)

وہ خالق ِ جہاں

جو لازماں ارب کھرب  برس

فضول، بے ثمر حیاتِ خام جی چکا تھا۔۔۔۔

آج اپنی موت مر گیا!

کہ ’در رسالتوں ‘ کے بند ہو گئے

کہ ’مشرقی افق پہ عارفوں کے خواب‘

اپنے بے نمود بیج بو گئے

کہ ’شاعران ِ نو‘ ۔۔۔ ’رسالتوں کا بار‘

اپنے ناتواں ، نحیف کندوں پر لیے ہوئے

تھکے تھکے، قضا کی نیند سو گئے!

مجھے نہ کر وداع!

 

سمجھ تو، میری ذات، میری بات سُن

یہ درس درس ِ حق نہ تھا

خدا کی موت کب ہوئی؟

’شجر شجر، وہ جانور، وہ طائران ِ خستہ پر

عباد ِ آب و گل بشر‘

وبائوں کا شکار، بھُکمری کی مار سے تباہ

یہ بشر

کہ جن کی خستگی کا مستقل سبب

دیار ِ غرب کے خدائوں کی ہوس تو تھی، مگر

یہ خستہ حال لوگ خود تو گہری نیند سو گئے

اور اپنے سربراہ آمروں کے ظلم کا شکار ہو گئے

وہ سر براہ شرق کے

جنہیں کبھی عوام نے الیکشنوں میں اختیار ِ کل دیا

کبھی یہ مطلق العنان

اپنی عسکری کے زور و زعم میں

دیار شرق کی زمیں لتاڑتے پھرے

بلا دریغ سالہا تلک!

بہت غلط خیال تھا

کہ زرق و غرب کی حدود

ٹین کی سلیٹ پر

کھنچی لکیر سی مٹیں کی جلد یا بدیر

آخرش !

 

میں بوچھتا ہوں، ذاتِ من

خدا کو کیوں برا کہیں

یہ سوچ کر کہ اس نے اہلِ غرب کو

عنانِ کل کا اختیار دے دیا

یہ فرض کیوں کریں

کہ نیتشے کی بات عین حسبِ حال تھی  ؎۳

دیار ِ شرق کی رفاہ جس کا  مدّعا نہ تھا

 

مجھے نہ کر وداع

کہ میں تو، میری ذاتِ خاص

منکرِ مسیح تھا

وہ پطرسِ خدا شناس

اس گھمنڈ میں کہ خود کفیل و خود شناس تھا

مچل گیا

رفاہِ خود کے چکنے چُپڑے وعدوں پر پھسل گیا

یہ منقسم، یہ نا تمام

قطع دائرہ سا جزو

لخت لخت، بخت بخت ٹوٹ کر

صلیب اپنی اُلٹے رُخ اُٹھائے

صراطِ مستقیم پر رُکا رہا

کھڑا کھڑا جھکا رہا

 

مجھے اٹھا

مجھے گلے لگا

نہ کر وداع، میری ذات آج

 الٹے رُخ کی یہ صلیب

میں نے اپنے کندھوں سے اتاردی !!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
شاعری

وقت کی بوطیقا

وقت کا اپنا کوئی وزن نہیں ہوتا

لیکن یہ جس کا ہو جائے

اُسے بھاری کر دیتا ہے

اور جس کا نہ ہو

اُسے بے وزن

 

وقت کی اپنی کوئی شکل بھی نہیں ہوتی

ہم ہی اس کا چہرہ ہیں

ہم ہی آنکھیں

اور ہم ہی اس کے پاؤں

لیکن کبھی کبھی یہ ہم سے آگے نکل جاتا ہے

یا ہم اس سے پیچھے رہ جاتے ہیں

متواتر اس کے ساتھ چلنا

دنیا کا مشکل ترین کام ہے

 

بعض لوگ وقت کو پہیے لگا لیتے ہیں یا پَر

اور دوڑنا یا اُڑنا شروع کر دیتے ہیں

یہاں تک کہ وقت کی

یا اُن کی اپنی حد ختم ہو جاتی ہے

وقت سدا دوڑ سکتا ہے نہ اُڑ سکتا ہے

اسے بس چلتے رہنے کے مَوڈ میں رکھا گیا ہے

اس کی اصل سائنس کیا ہے

اسے کب چلنا ہے

اور کب رک کر عظیم دائمی ٹھہراؤ کا حصہ بن جانا ہے

یہ کوئی نہیں جانتا!

Image: duy Huynh

Categories
شاعری

رات کی بے بسی

وہی رات ہے مگر اداس سی

وہی جگہ ہے مگر سونی سی

وہی گھڑی کی ٹک ٹک مگر روئی سی

شام کے 5 بجے تھے

جب روح تن سے جدا ہو کے پلٹی تھی

وہ سیڑھیاں چڑھا

ٹک ٹک سے ٹھوکر لگی

میں الوادعی بوسے کے ساتھ سوئی تھی

نیند کے پاؤں میں الجھتی بھاگی

 

میری گلیوں سے جانے والے کو کوئی موڑ لائے

وہ میری گلیوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر

اپنے گھر کا رستہ بھول جائے

 

ہوا !!!

صحرا سے ریت لاؤ

اسے سراب بناؤ

وہ سرکٹ ہاؤس سے ہوتا

پگڈنڈیوں پہ چلتا

میرے گھر کی دہلیز پہ رکھ دے قدم

 

سنو!!!

میں نے سر شام ہی

ریت کے ہر ذرے میں سورج رکھ دیا ہے

یہ سورج میرا ہے

جب رستہ بھولو

یہ ہر ذرہ میں اگے گا

ذرے سے پھوٹتی کرنیں

گلی کی نکڑ پہ کھڑے

تمھیں رستہ دکھائیں گی

مگر رکو

میں خود تمھیں لینے آتی ہوں

پلٹنا نہ

میں اک پل سے پہلے آتی ہوں

 

یہ کیا۔۔۔؟

رات کا ایک بجا ہے

تم بستر کے سفر میں ہو

اس سے دو راتوں کی دوری کی کہانی سنتے

دو راتوں کے رت جگے کا کاجل

میری آنکھوں سے بہتے دیکھ کر روئے ہو

سونے سے پہلے یاد رکھنا

تم مجھے سرکٹ ہاؤس میں تنہا چھوڑ گئے ہو

Image: Henn Kim

Categories
شاعری

سیدھے لوگ آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے

تم پہاڑیوں اور ڈھلوانوں سے

نشیب میں اتر کر دیکھو

تو تمہیں عجیب نہیں لگے گا

کہ پانی کا بہاؤ ہمیشہ

نشیبی ہموار میدانوں اور راستوں کو کیوں اترتا ہے

 

میدان اور میدانی راستے

اچھے لوگوں کی طرح

سیدھے خستہ اور خنک رہتے ہیں

 

سیدھے لوگوں اور سیدھے میدانوں پر

صرف جنگ کے لیئے پڑاؤ نہیں ڈالا جاتا

ان سے راستے بنائے جا سکتے ہیں

ان پر پودے اگائے اور پھول کھلائے جا سکتے ہیں

ان پر قبضہ بھی کیا جا سکتا ہے

 

مچلھیاں اور سیدھے لوگ

آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے

انہیں کسی بھی وقت

کنڈے سے لٹکایا جا سکتا ہے

Image: Abdullah Murad

Categories
شاعری

مردہ انگلیوں کی وکٹری

قبر کی سیاہ تاریکی نے
 دن کی روشنی کو قتل کر دیا  
چوہے بلوں سے نکل کر 
دستاویز  
کے ساتھ وہ قلم بھی 
کتر گئے 
جن سے کبھی سچائی 
سنہرے لفظ لکھتی تھی 
انصاف کی دیوی نے 
مفاد کی چربی اندھی آنکھوں پر باندھی   
تو مردہ انگلیوں نے وکٹری کا نشان بنایا 
انسانیت کی مسخ لاش  سے 
خوں ٹپکنے لگا  
 ماں اور بہنیں چیختی رہیں 
 قصاص !!!
 جواں لہو کا 
مگر باپ نے 
عصمتوں کی دھجیوں کی سلائی 
 کی خاطر 
اسٹامپ پیپر ماتھے پر سجا لیا 
جس پر سونے کی تاروں سے
صلح لکھا تھا 
آنکھوں سے اب پانی نہیں 
زر انگار سکوں کی تھیلیاں ہر سمت میں   
برستی ہیں
دلوں سے کوئی دعا اوپر نہیں اٹھتی 
مایوسی کی کثیف دلدل کی
لجلجی بانہوں میں لپٹی پڑی ہے 
گلی کے بوڑھے برگد نے سورج کو فریاد بھیجی
ہچکیاں لیتے منتظر ہیں 
شائد کبھی اسے جلال آئے 
اور 
گھور اندھیرے کو جلاوطن کر دے
Categories
شاعری

کایا کلپ کے بعد

ایک روز صبح سویرے شہر جاگا
تو اُس کے وقت پہ سُرخ اور سیاہ کا
قبضہ ہو چکا تھا
اس روز سارا دن شہر کے نتھنوں سے
سُرخی قطرہ قطرہ ٹپکتی رہی
اور ستارے اپنی آنکھیں ملتے رہے
اس دن کے بعد سے مہا بلی
آدھی آنکھ سے شہر کو تکتا ہے
کہ شہر کے حصے میں فقط
آدھی آنکھ کی سیاھی رہ گئی ہے
اب اس شہر پہ دندناتے بونوں کا راج ہے
جو لمبی داڑھیوں پہ قدم جما کے
اپنا قد بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں
اور صبح سے شام تک
اذانیں ایک دوسرے کا پیچھا کرتی کرتی
تھک جاتی ہیں
یُو این او میں بیٹھے درویش کے کان
آج بھی دھواں دیتے ہیں
اور شہر ہٹ دھرمی کے عفریت کے آگے
بھیگی بِلی بن چکا ہے
Image: Gerome Kamrowski