Laaltain

لہروں پر جھومتا چاند! (ایچ-بی-بلوچ)

لہروں پر جھومتا چاند رات کے طول کا ایک دیدہ عکس ہے باقی نادیدہ سراپا پانی کی نظر ہو چکے ہیں گزرے لمحات کی قبر میں مدفون اے میری راحت! میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ میں نے تجھے کبھی چوما تھا ! میں اکیلائی کے جسم پر مجوزہ منصوبوں کی وارداتیں لکھتا ہوں […]

بے لفظی کا خوف اور دیگر نظمیں (حسین عابد)

بے لفظی کا خوف لفظ مجھ سے روٹھ گئے ہیں یا وہ معنی کی تلاش میں چلے گئے ہیں روٹھا ہوا لفظ زیادہ دور نہیں جا سکتا معنی کا حمل سنبھالے اس کی سانس پھول سکتی ہے وہ کہیں بھی بیٹھ سکتا ہے کسی نیم تاریک گلی کے موڑ پر دن کے صور سے متوحش […]

ناخن جو اب ہتھیلی پر اگ آئے — (سبین محمود کے لیے) — مدثر عباس

بمارے دل کی تیز دھڑکن کا طبعی معائنہ نہ کریں بلکہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیوں آپ نے ہمارے لوگوں کو چاند کا فریم درست کرنے کے جرم میں ہمارے گھر کی فیملی فوٹو سے پھاڑ کر اپنی بھدی تصویر کے ساتھ جوڑ لیا ہے؟ ہمارا تازہ غیر رجسٹرڈ گیت کیوں آپ کی چلتی ہوئی […]

خاموش موت — محمد حکیم

محمد حکیم: وہ سمجھ بیٹھے کہ
میں مغرور ہوگیا ہوں
لیکن انہیں معلوم نہیں کہ
میری موت واقع ہو گئی ہے

چاند رات (عادل یوسف)

اجسام پلاسٹک کی بوتلوں کی مانند سڑک پر لڑھکتے جاتے ہیں بوتلیں جن میں سماج کا پیشاب بھرا پڑا ہے ہر آنکھ میں مردہ خوابوں کی لاشیں تیرتی رہتی ہیں جو فاتحہ کی امید پہ اکثر آنکھوں سے ٹکراتی رہتی ہیں انہیں ہر دن رشتوں کے گدھوں کی خوراک بننا ہے لڑکیاں جو شادیوں کی […]

ایک گیت گایا نہیں جا سکتا (فیثا غورث)

ایک گیت تمہیں گھیر لیتا ہے ایک گیت جو تم نے سن رکھا ہے ایک گیت جو تم کبھی نہیں سنو گے راستے میں چلتے ہوئے گھیر لیتا ہے ایک گیت تمہیں گلے لگا لیتا ہے ایک گیت جس کے لیے تم زندہ رہ سکتے ہو ایک گیت جس کے لیے تم مر سکتے ہو […]

تمہاری وجہ سے (فیثا غورث)

تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے میرے نام سے کوئی سڑک منسوب نہیں کی گئی میرے کارناموں پر کہیں کوئی مقالہ نہیں لکھا جا سکا اور کوئی قومی دن میرے لیے مختص نہیں کیا گیا تمہاری وجہ سے میں ان عمارتوں کا افتتاح […]