Categories
شاعری

جنم سے چتا تک

’’میں نے پہلی بار یہ منظر تبھی دیکھا تھا جب
جب رتھ بان نے مجھ کو بتایا تھا کہ مُردہ جسم کے
انتم چرَن کی یاترا میں
اُس کو اگنی کے حوالے کر دیا جاتا ہے ۔۔۔
تب اک بار پھر
اس جسم کے تینوں عناصر، مٹّی، پانی اور ہوا
چوتھے سے، یعنی آگ سے مل کر
حقیقی اور ازلی جزو میں تقسیم ہو جاتے ہیں ۔۔۔
۔۔۔ میں انجان تھا اس بات سے تب!‘‘

بات کا آغاز کرنے کے لیے آنند نے تو
بر سبیلِ تذکرہ اتنا ہی پوچھا تھا ’’۔۔۔تتھاگت
یہ بتائیں
راکھ ہی کیا سارے جیووں، جنتووں کی
آخری منزل ہے ۔۔۔؟‘‘

’’۔۔۔بے شک!‘‘ بُدھّ بولے تھے، ’’مگر سوچو تو آنند
جسم کے یہ مرحلے ۔۔۔
پہلے تو بچپن
پھر لڑکپن
پھر جوانی
پھر بڑھاپا
اور پھر ان سب کا حاصل ۔۔۔موت!
اس کے بعد اگنی
بھسم ہو جانا چتا کی راکھ میں!
ترتیب سیدھی ہے
اگر کروٹ بدل کر
یہ الٹ جائے تو پھر
کیسا لگے گا تم کو بھکشو؟‘‘

’’میں نہیں سمجھا، تتھا گت!‘‘
سیدھی سادی بات ہی تو ہے، سُنو آنند، لیکن غور سے
ترتیب کے اُلٹے مساوی رُخ کو اب دیکھو ذرا
۔۔۔ہم آگ میں پہلے جلیں
پھر اپنے مردہ جسم میں داخل ہوں۔۔۔
پھر ارتھی سے واپس
جانکنی کی سب اذیت جھیل کر لوٹیں ۔۔۔
۔۔۔ جہاں ’’سر کانپتے، پگ ڈگمگاتے‘‘ وہ بُڑھاپا ہے، جسے
برداشت کرنا موت سے بد تر ہے ۔۔۔
پھر الہڑ جوانی، پھر لڑکپن
لوٹ کر چلتے ہوئے آغوش ماں کی
شیر خواری کے دنوں تک
اور پھر تولید کا آزار ۔۔۔
کیسا سلسلہ ہے یہ؟ بتاو!‘‘

اپنے سر کو نیوڑھائے
گو مگو کی کیفیت میں
گم رہا آنند کافی دیر تک،
پھر سر اٹھایا
اور کچھ کہنے کو لب کھولے مگر تب تک تتھا گت
لمبے لمبے ڈگ اُٹھاتے جا چکے تھے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انتم چرن: آخری قدم

Categories
شاعری

قتل گاہیں (ایک ٹیلی ڈاکیومنٹری)

کورس : chorus: دو مرد، دو عورتیں
راوی ایک : کیمرہ رولنگCamera rolling
راوی دو : کیمرہ ذوُم Camera zoom
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کورس :
وہ لاشیں جن کو شمال مغرب سے آنے والے
ہلاکوؤں نے
یہیں کہیں، اس زمیں میں دفنا دیا تھا۔۔۔
سوچا تھا، اب قیامت تلک یہ زیر زمیں
رہیں گی ۔۔۔۔۔ وہ پھوٹ نکلی ہیں، لاکھوں لاشوں
کی شکل میں ۔۔۔۔کھیت جھومتے ہیں
کہ مردہ جسموں کی فصل اب لہلہا رہی ہے

راوی ۔۱
بھرے پُرے گھر کی ماں، بہن ، یا کسی کی بیوی
ضعیف عورت، جو اب بھی زندہ ہے، جی رہی ہے
اکیلی نکلی ہے گھر سے باہر
وہ گھر جسے شب گزیدہ صبح کی تیرگی نے
کچھ اور تاریک کر دیا ہے
درون ِ خانہ کوئی نہیں ہے !

راوی ۔۲
۔۔۔۔گلی بھی کیا ہے، پچاس پچپن
سے کچے پکے گھروں کا اک سلسلہ ، جو گاؤں
کی ساری گلیوں کو جوڑتا ہے

راوی۔۱
گلی میں خاموش آہٹیں، اُن پلٹتے قدموں
کی بھولی بھٹکی نشانیاں، جو
گذشتہ شب آنے والے دہشت پسند اپنے
جلو میں لائے تھے ۔۔۔ اب کہیں باز گشت بن کر
سسک رہی ہیں
ہوا بھی چلتی ہے، آہیں بھرتی ہوئی
سسکتی ہوئی کہ اذنِ فغاں نہیں ہے!!

راوی ۔۲
گلی سے کچھ دور کھیت ہیں ۔۔دور دور ، حدِ نظر تلک
بیچوں بیچ پگڈنڈیاں ہیں
پنچائتی کنواں ہے
چبوترے کے قریب چاروں طرف
بچھی ریتلی زمیں پر
پڑے ہیں کچھ لوگ ۔۔۔ایسے لگتا ہے
جیسے تھک ہار کر مسافر
تکان سے گر گئے ہیں رستے میں
سو گئے ہیں !
کنوئیں کے اُس پار اک سگِ نیم جاں
نقاہت سے بھونکتا ہے

راوی ۔۱
کسی طرف زندگی کے آثار تک نہیں ہیں
کہ صبحِ صادق تو اب بھی شاید
گذشتہ شب کے اندھیرے گنبد
میں بند ہے، بیٹھی رو رہی ہے

راوی۔۲
قدم تو اُٹھ ہی نہیں رہے ہیں
کنوئیں کے اُس پار تک پہنچنا
بہت کٹھن ہے

راوی۔۱
یہ راستہ تو ہزاروں برسوں کے فاصلے سے
طویل تر ہے
وہ فاصلہ جو ضعیف مائیں جوان بیٹوں
کی میتوں میں
قدم قدم گِن کے ماپتی ہیں!

راوی ۔۲
ضعیف عورت کی انگلیاں جب بھی کانپتی ہیں
تو لیمپ اپنی اُداس آنکھوں سے صبحِ کاذب
کی دھند کو چیرنے کو کوشش میں
ڈگمگاتا ہے، بجھنے لگتا ہے
نیم جاں سا !
کنوئیں کے اُس پار کیا ہے، دیکھیں ۔۔۔۔
کنوئیں کے اُس پر لوگ اُدھڑے پڑے ہیں جیسے ۔۔۔
ٖٖٖٖ لحاف پھاڑے گئے ہوں ۔۔۔۔
روئی کے گٹھے گٹھے، لہو میں لتھڑے ہوئے پڑے ہوں
راوی۔۲
کٹے پھٹے ہاتھ، پاؤں، ٹانگیں
لہو لہو چاک گردنیں، اُدھڑے اُدھڑے چہرے
سبھی طرف خالی کارتوسوں کے خول ۔۔۔
راوی ۔۱
محشر کی یاد گاریں
راوی۔۲
ضعیف عورت پہنچ گئی ہے
لہو سے لت پت ۔۔۔ یہ ایک چہرہ
جو ہو بہو اس کے چھوٹے بیٹے سا لگ رہا ہے
مگر نہیں ہے!
راوی ۔۱
جھکایا یوں لیمپ کو کہ پہچاننے میں مشکل نہ ہو ۔۔۔
راوی۔۲
کہاں ہیں وہ لال چاروں جو
مامتا کی انمٹ نشانیاں ہیں!

کورس (چار بار)
کہاں ہیں وہ لال چاروں جو
مامتا کی انمٹ نشانیاں ہیں

راوی۔۱
کٹی ہوئی ایک شاخ
ٹوٹا ہوا تناور درخت
؎ کڑیل جوان کی لاش ۔۔۔
کورس
ہائے ، ہائے

راوی ۔۲
جھکی ، خمیدہ کمر سے ، تکلیف سے کراہی
ضعیف عورت!
کسی نصیبوں جلی کے بیٹے کی لاش تھی ۔۔۔
آنکھیں وا تھیں، ہاتھوں سے گال سہلائے ۔۔۔
بند کر دیں!
راوی ۔۱
یہ کون ہے؟
اس کو جانتی ہے، ضعیف عورت؟

راوی۔۲
کٹا پھٹا، گولیوں سے چھلنی
وہ جسم اک مردِ پیر کا ۔۔۔
شکستہ عینک قریب ہی ریت پر پڑی ہے
بزرگ، عزت ماّب ، اسکول کا معلم
راوی۔۱
۔۔۔ ہاں، وہی ہے
ضعیف عورت کا بھائی، ماں جایا، چھوٹا بھائی
راوی۔۲
وہ چیخ ۔۔۔جو رات سے گلے میں پھنسی ہوئی تھی
کچھ ایسے پھوٹی ہے ۔۔۔
راوی۔۱
۔۔۔پھڑ پھڑا کر اُڑا ہے اک رات کا پرندہ
قریب کی سبز جھاڑیوں سے ۔۔۔
راوی ۔۲
یہ میرا ہمشیر ، ہائے، ماں جایا، میرا بھائی!!
راوی ۔۱
کٹی ہوئی چند اور شاخیں ۔۔۔
راوی۔۲
گرے پڑے زندگی کے ٹُکڑے ۔۔۔ کہاں ہیں ، لیکن
وہ اس کے اپنے جگر کے ٹکڑے؟
کہاں ہے اس کا میاں؟ کہاں ہے؟؟
راوی ۔۱
چلو ذرا اور، آگے دیکھو
راوی۔۲
اُٹھی، خمیدہ کمر کو اک ہاتھ سے سنبھالے
کچھ اور آگے
کچھ اور آگے
قدم تو اُٹھ ہی نہیں رہے ہیں
مگر ذرا اور ۔۔۔۔اور آگے!
راوی۔۱
نہیں، یہ اس کا بدن نہیں ہے
نہیں کوئی اور ہے، یقینا
یہ اس کا خاوند نہیں ہے، لیکن
ذرا سے شک کو بھی رفع کرنا
بہت ضروری ہے ۔۔۔
راوی۔۲
ضعیف عورت نے ۔۔۔۔ دیکھو ، دیکھو
وہ لیمپ نیچے کیا، جھکی ، اور جھک کے دیکھا
تو گر گئی وہ۔۔۔
راوی۔۱
ہائے، ہائے
راوی۔۲
وہی ہے یہ تو!
یہ اُس کا سینہ، یہ ُاس کے بازو، یہ ُاس کا چہرہ
یہ پائوں ۔۔۔ سب گولیوں سے چھلنی ہیں ۔۔۔

کورس ۔ ہائے ہائے
ہائے ہائے
ہائے ہائے
ہائے ہائے
راوی ۔۱
لہو جو مٹی میں جذب ہوتا رہا ہے
۔۔۔۔اب جم گیا ہے، سُرخ و سیاہ سا ۔۔۔
راوی ۔۲
ہائے ہائے
راوی۔۱
پلٹ کے پھر لیمپ کو اُٹھایا
یہ ایک منزل تو طے ہوئی، اب
کہاں ہیں اس کے و ہ لال چاروں
وہ چاروں ، کڑیل ، جوان بیٹے؟
راوی۔۱
ہوا سبک کر ذرا چلی، تو
ہری بھری فصل ساتھ کے کھیت میں سسکنے لگی
کہ اُس کو لتاڑ کر جانے والے دہشت پسند خود تو
چلے گئے تھے
مگر جنہیں گولیوں سے چھلنی کیا تھا، وہ سب
مرے پڑے ہیں
کمر کمر اونچی فصل چاروں طرف
نگہبان سنتری کی طرح کھڑی ہے!
راوی۔۲
وہ چار بیٹے۔۔۔
راوی۔۱
کمر کمر فصل ہے، مگر بیچوں بیچ
چاروں کے جسم ۔۔۔۔
راوی ۔۲
ایسے پڑے ہیں جیسے ابھی اُٹھیں گے!
راوی۔۱
کٹی پھٹی چار سُرخ شاخیں
جو گرتے گرتے
الجھ گئی ہیں
لہو کے سب پھول جھڑ گئے ہیں !
راوی۔۱
ضعیف ماں کے جوان بیٹوں کی سرد لاشیں
پڑی ہیں، ہاتھوں میں ہاتھ
اک دوسری سے لپٹی ہوئی
کہ جیسے
حیات میں بھائی بھائی چاروں
الگ نہیں تھے!
راوی۔۲
ضعیف عورت کے ہاتھ سے لیمپ گر گیا
اور ایسے اُلٹا
کہ بجھ گیا، تو پچھاڑ کھا کر گری، وہ ۔۔۔۔
راوی۔۲
وہ بیٹوں کی موت خود مر گئی
کہ ماں تھی!
کورس
ہزاروں لاشیں
جو آج دفنائی جا رہی ہیں
مری نہیں ہیں
کہ وہ تشدد جو آج لاشوں کو بو رہا ہے
کبھی اُگے گا
تو لاکھوں لاشوں کے کھیت کھلیان لہلہائیں گے۔۔
قتل گاہیں ہیں کھیت، کھلیان
قتل گاہیں ہیں گاوں، چوپال اور پنگھٹ
کنوئیں، کنووں کی منڈیریں، کھیتوں کی باڑ
پگڈنڈیاں، چو رستے
یہ قتل گاہیں ہیں!
قتل گاہیں ہیں !!
(فیڈ آوٹ)

Categories
شاعری

طبیب بھنبھنا گیا (ستیہ پال آنند)

فَتَکلّمُواَ تُعرَفُوا
کلام کرو تا کہ پہچانے جاؤ۔۔۔۔۔۔ حٖضرت علی کرم اللہ وجہہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طبیب بھنبھنا گیا

میں سب علاج کر کے تھک گیا ہوں، پر
یہ بچہ بولتا نہیں
زبان اس کی ٹھیک ٹھاک، تندرست ہے
کہیں بھی کوئی رخنہ، کوئی نقص ہو

یہ میں نہیں سمجھ سکا
بدن بھی تندرست ہے

مگر یہ نو نہال چار سال کا
اشاروں سے ہی بات کرنا جانتا ہے، کیا کروں ؟

اسے کسی سپیشلسٹ کے پاس لے کے جایئے

یہ میں تھا چار سال کا

مری زبان بند تھی
کلام مجھ سے جیسے چھن گیا تھا پہلے دن سے ہی
جو دو برس کا مجھ سے چھوٹا بھائی تھا

وہ خوب بولتا تھا، پر
نہ جانے کیسے میری جیبھ گُنگ تھی
میں صم بکم تھا، بے زبان، دم بخود
کہ۔جیسے چُپ کا روزہ رکھ کے جی چکا تھا

چار سال کی یہ عمرِ مختصر

عجیب معجزہ ہوا کہ ایک دن
میں اپنے گھر کی ڈیوڑھی میں صم بکم کھڑا ہوا
تماشہ دیکھتا تھا اک جلوس کا
عَلم اٹھائے جس میں لوگ ’’یا حسین‘‘ ’’یا حسین‘‘ کہتے
سینہ پیٹتے، لہو لہان جا رہے تھے
اور میں ۔۔۔۔۔۔جسے

زبان آوری کا کچھ پتہ نہ تھا
نہ جانے کیسے اس سکوت کے اندھیرے غار سے

نکل کے بول اٹھا۔۔۔
’’حسین! یا حسین! یا حسین‘‘

اور پھر مرا سکوت
نطق میں ، کلام میں ، سخن میں ڈھل گیا۔۔۔۔

میں صاف بولنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(لکھنؤ میں سُنی ہوئی ایک سچی کہانی کی شعری داستان)

Categories
شاعری

جو شیطانچے بند صندوق میں ہیں

[blockquote style=”3″]

اردو نظمیں انگریزی میں
چالیس برس کے اپنے یورپ، کینیڈا اور امریکا کے قیام اور جامعات میں تقابلی ادب کی تعلیم و تد ریس کے دوران میں نے محسوس کیا کہ یہاں کے گورے اور کالے طلبہ کو اردو زبان سے یا اس کی تحریری شناخت سے واقف کروانا نا ممکن ہے۔ صرف ترجمہ شدہ حالت میں ہی اردو شاعری ان تک پہنچ سکتی ہے۔ غزل کے اشعار تو ترجمہ کی زمیں آ ہی نہیں سکتے البتہ نظم کا میدان کشادہ تھا۔ اس لیے میں نے اپنی چھہ سواردو نظموں میں سے دو سو کے قریب ایسی نظموں کا انتخاب کیا جنہیں موضوع، مضمون اور مروجہ زبان کی سطحوں پر یہاں کے طلبہ کے لیے قابل ِ قبول بنایا جا سکتا تھا ۔۔۔ چونکہ یہ نظمیں میری خود نوشت تھیں، اس لیے میں ترجمہ کاری کے عمل میں ان میں رد و بدل کر سکتا تھا۔ اور یہ کام میں نے بخوبی کیا۔ یہ نظمیں یہاں مختلف اخباروں کے ادبی ایڈیشنوں میں بھی شائع ہوئیں۔ ان کو میں نے اپنی پانچ انگریزی شعری مجموعوں میں مرتب کیا ، جو امریکا سے ہی اشاعت پذیر ہوئے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

یہ شیطاں کے بچے
یہ ’شیطانچے‘ ایک صندوق میں بند بیٹھے ہوئے ہیں
یہ صندوق ایسا طلسمات کا میوزیم ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔
…جو .اک شخص کندھے پہ اپنے اُٹھائے ہوئے چل رہاہے
(یہ ’اک شخص‘ میں بھی ہوں، تم بھی ہو، سب آدمی ہیں)
طلسمات کے اس پٹارے کے اندر
’سوِچ بورڈ‘ پر بیٹھے شیطانچے یہ
کسی بھی سوِچ کو لگائیں، اُتاریں
کوئی سا بٹن بھی بھی دبائیں، اٹھائیں
وہی جانتے ہیں کہ ان کا تسّلط ہے اس میوزیم پر
پٹارے سے صادر ہوئے۔۔۔۔ اور نیچے
لگاتار بے تار برقی سے پہنچے ہوئے سارے حکموں
کی تعمیل اس شخص پر لازمی ہے
جو کندھوں پہ اس کو اُٹھائے ہوئے چل رہا ہے
شیاطین کے سارے احکام میں ’’شر‘‘ کی تلقین ۔۔۔۔۔
… اوّل ہدایت ہے ۔۔۔۔ پہلا فریضہ!

یہ شیطانچے کب گھُسے تھے پٹارے کے اندر؟….خدا جانتا ہے!
(اگرجانتا ہے تو کیا اس کی اپنی
رضا اس میں شامل نہیں تھی، بتاؤ؟)
مگر نسل در نسل، لاچار، درماندہ یہ شخص۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے پٹارے میں بیٹھے ہوئے فتنہ گر غاصبوں کے
سبھی نجس و ناپاک احکام کو مانتا ہے!

تو اس شخص کی اب رہائی ہو کیسے؟
کرے کیا؟
کوئی وا گذاری؟
کوئی خوں بہا جو انہیں پیش کر کے
وہ پیچھا چھڑائے

۔۔۔۔۔۔۔۔اس طلسمی پٹارے کو دریا میں پھینکے
پھر اپنے کٹے دھڑ پہ خود اختیاری کی دستار رکھ دے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Imps in a Box

Devil-begotten, Satan’s bastards

The imps that sit in this shuttered box

Hold sway over my body, thought and action.

The box – a rounded sphere, I carry all the time On my shoulders;

connected it is with my neck And the trunk below.

My head, the shuttered box, is imp’s haven

They sit in front of a switch board

Punching, pulling, clicking buttons

All at their own sweet will

No one tells them what to do.

Send urgent messages to the body below

To say this, to do this

Or not to say this and not to do this.

No reasons why these orders can’t be obeyed

The limbs are runners, couriers, servants

Ever ready to do their bidding.

How can I ever get rid of them?

Can I really do something? I ask myself.

The answer comes again from the magical box

No, you can’t do anything.

We are here to safeguard you.

We are your custodians

O the lower and base part of I.

True, what they say is true.

I can’t do anything to thwart their control.

They are all powerful . . . but

Suppose I take a sharp instrument

A machete—And cut my head off?

Then? Where would they be then?

Pat comes the answer from the top.

We wouldn’t let you, man. Try and see.

To Whom It May Concern

I am going to sever my head today, come what may!

Categories
شاعری

گرڑ پُران

[blockquote style=”3″]

ہندوؤں کی قدیم ترین مقدس کتابوں میں جہاں وید اور شاستر ہیں، جنہیں الہامی کتابیں تسلیم کیا گیا ہے، وہاں پُران بھی ہیں۔ پُران رِشیوں کی تصنیف کردہ من گھڑنت کہانیاں ہیں، جو انہوں نے لوگوں کے جیون سُدھار کے لیے اپنی سبھائوں میں سنائیں اور پھررفتہ رفتہ مختلف صدیوں میں انہیں معرض ِ تحریر میں لایا گیا۔ان میں ممتاز ترین ’’گرڑ پُران‘‘ ہے، جس میں ’’موت کے بعد کیا ہوتا ہے!‘‘، یعنی آخری سانس کے بعد برزخ سے ہوتے ہوئے دوزخ یا بہشت تک، یا کسی اور آنے والے جنم تک روح کی برزخ میں ہی بلا مقصد آوارگی کا احوال نامہ قلمبند کیا گیا ہے۔ ’گرڑ پُران‘ کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ موت کے بعد، تیرھویں دن کو مرحوم کے لواحقین اکٹھے ہوتے ہیں، اور اس پُران کا پاٹھ کیا جاتا ہے۔ پاٹھ کے ہونے کے بعد ’چٹائی‘ (پھُوڑی) جھاڑ دی جاتی ہے، کہ اب ماتم کے دن ختم ہوئے اور ایک بار پھر دنیا کے کام کاج میں شامل ہونے کا وقت ہے ۔۔۔۔۔ میں نے گرڑ پُران کے سات آٹھ الگ الگ نسخوں کے مطالعہ کے بعد اس کے کچھ حصص کو اردو، ہندی اور انگریزی نظموں میں ڈھالا، جن میں سر ِ فہرست یہ نظم ہے۔ (ستیہ پال آنند)

[/blockquote]

انگریزی نظم سے ترجمہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصرف، تلخیص اور تلطیف کے ساتھ

برزخ

یہ اک ایسی جگہ ہے، بندے، جس پر تم پہنچو گے آخر
تم یہ مردہ جسم یہیں پر چھوڑ چلو گے
اس میدان میں، جس میں تم پہنچو گے، بندے۔
لاکھوں کی تعداد میںلوگ اکٹھے ہوں گے
سب کی دوڑ لگی ہو گی آگے جانے میں
تم بھی اس افرا تفری میں شامل ہو گے

لیکن تم پر چاروں سمت سے حملے ہوں گے
تم یہ سوچ نہیں پائو گے کون لوگ ہیں حملہ آور
کیا کہتے ہیں
چاہتے کیا ہیں تم سے آخر؟
کتنے کردہ یا نا کردہ پاپ تمہارے
اپنے ہاتھوں میں بچھوئوں کی طرح پکڑ کر
تم پر برسانے کو یہ تیار کھڑے ہیں!

پھر یہ سوچ کے تم بھی گھبرائو گے، بندے
تم سوچو گے
میرے پاپ، مری بد عملی کی سب قِصّے
’اُنگل بیڑے‘
اس میدان میں مجھ تک آخر آ پہنچے ہیں
جب ان سے بچنے کی خاطر
تم اک کھڑی ڈھال کی صورت
دائیں بائیں دیکھ کے اپنا
خود کا احاطہ کر لو گے، تو
پھر سوچو گے
چلوں گا کیسے؟
مجھ کو تو اپنی اُس جنت تک چلنا ہے
جس کا وعدہ مجھے ملا تھا
اپنے اُس گذرے جیون میں!
جس میں مجھ سے کہا گیا تھا۔۔۔۔دیکھو
’’رام نام ہی انت ستیہ ۰ ہے
اپنی مالا پر تم اس کا
ہر دم ورد کرو، تو تم کو سورگ ملے گا
رام نام کا جاپ ہی پاپوں کے داغوں کو دھو ڈالے گا
بندہ تو بس ہاڈ مانس کا پُتلا ہی ہے
پاپ پُن دونوں ہی اس کی مٹھی میں ہیں

تم سوچوگے
میرے پاپ تو رام نام کے جاپ نے اب تک
دھو ہی ڈالے ہوں گے سارے
پھر یہ ڈاکو، یہ ہتیارے، یہ خونی، سب
بچھو، سانپ لیے ہاتھوں میں
مجھ کو ایذا دینے کی خاطر کیوں مجھ تک آ پہنچے ہیں؟

گرڑ پُران کا لیکھک یہ کہتا ہے تم سے
تم نے اپنی لیکھا جوکھا غلط کیا ہے
دیکھو، فقط رام نام کے جاپ سے پاپ نہیں دُھلتے ہیں
پچھلی رات تو رنڈی کے کوٹھے پر کاٹو
صبح سویرے اُٹھ کر گنگا جل سے تم اشنان کرو
پھر بھجن، کیرتن، رام نام کا جاپ کرو
یہ غلط چلن ہے !

کھڑی ڈھال کا ایک احاطہ چاروں سمت بنا کر تم نے
یہ سوچا ہے، اب پاپوں کے حملوں سے تم بچ جائو گے
ٹھیک ہے، لیکن۔۔۔۔۔۔چلو گے کیسے؟
آگے دو رستے ہیں، جنت اور دوزخ کے
دونوں پر اک ساتھ تو چلنا نا ممکن ہے
ایک پہ چل کر
اپنے پاپوں کی پاداش میں کاراواس٭٭٭ کا ڈنڈ بھگت کر
تم اپنی منزل کی جانب چل سکتے ہو
جب تک ان سے نپٹ نہ لو گے
پاپ تمہارا پِنڈ نہیں چھوڑیں گے، سمجھو!
اپنے احاطے میں ان سے یوں
بچ کر کھڑے رہے تو، بندے
یُگ آئیں گے، یُگ گذریں گے
اور تم لاکھوں سال یہیں پر کھڑے رہو گے!
بہتر تھا، تم پاپ نہ کرتے
کرتے بھی تو یہ نہ سمجھتے
رام نام کا جاپ تمہیں ان سے چھٹکارہ دلوائے گا۔

گرڑ پُران کا لیکھک تم کو سمجھاتا ہے
اپنا لیکھا جوکھا اب تم خود ہی کر لو!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭٭The ultimate truth
٭٭٭ کاراواس۔ زنداں۔۔۔۔۔ ڈنڈ۔ سزا

Categories
نان فکشن

نظم کیا ہے؟

ہر نظم، یا فنون لطیفہ میں مشمولہ ہر نئی تخلیق بنیادی طور پر تو تخلیق کار کے ذہن سے ابھری ہوئی ایک ’سچی‘ ، یعنی اس کے ذہن کی ہو بہو عکاسی کرنے والی مصور کاوش (الفاظ، رنگ اور برش، پتھراور تیشہ، کسی بھی میڈیم میں) ’’فنکار کے اپنے لیے ‘‘ہی ہوتی ہے، چاہے وہ تصویر بیچنے کے لیے بنائے، نظم مشاعرے میں پڑھنے کے لیے لکھے یا ہتھوڑے اور چھینی سے مورتی مندر میں استھاپت کرنے کے لیے ہی کیوں نہ بنائے۔ اس میں دو آراء ہو ہی نہیں سکتیں۔ یعنی اگر وہ فنی کاوش true to life(1) ہے، تو اسے true to the life of the mind of the artist (2) ہونا چاہیے۔ اب نمبر ایک (۱)اور نمبر دو (۲)میں فرق یہ ہے، کہ نمبر(۱) فوٹو گرافی کی One-to-One equation پر پوری اترتی ہے، لیکن نمبر دو(۲)میں خدا جانے یا کسی حد تک فرائڈ،ؔ یونگ،ؔ میک ڈوگل اؔور درجنوں دیگرنظریہ ساز سایکالوجسٹ جانیں، کیا کیا کچھ اور ، یعنی فوٹوگرافی والی تصویر سے بعید ، ما قبل اور مابعد، شعوری اور لا شعوری سطحوں پر موجود ہے۔ ان میں سے بہت کچھ تو فنکار کے علم میں بھی نہیں ہے۔

معافی چاہتا ہوں ، میں شاید ایک کلاس روم ٹیچر کی طرح بولنے لگ گیا ہوں جو اپنی ’آرٹ ایپریسی ایشن ‘ کی کلاس پڑھا رہا ہے۔ لیکن یہ مضمون میں نے سالہا سال تک یہاں کی یعنی واشنگٹن ڈی سی کی یونیورسٹی میں پڑھا یا ہے ۔۔۔۔۔ تو میں کہہ رہا تھا، کہ ۔۔۔۔چلیں ایک مثال ہی لے لیں۔ جب پکاسوؔ ایک تصویر بناتا ہے تو کیا وہ اس کو بیچنے کے لیے یا آرٹ گیلری میں آنے والے شائقین کے لیے بناتا ہے؟ جی نہیں! اگر وہ ان کے لیے بناتا بھی ہو، تو بھی جو تصویر بنفس نفیس کینوس پر اترتی ہے، اس کا جامع خاکہ تو شایدوہ خود بھی پہلے سے نہیں جانتا کہ وہ کیا بنائے گا۔ جوں جوں تصویر بنتی چلی جاتی ہے، شعوری، تحت الشعوری اور لا شعوری سطحوں کے اشتراک سے پیدا شدہ یہ مرقع ذہن کی بالائی سطحوں پر اجاگر ہوتا چلا جاتا ہے، تو بھی تصویر کے اختتام تک اس میں تبدیلیاں ممکن ہیں ۔۔۔۔۔۔اس سارے بکھیڑے میں ناظر یا تصویر خریدنے والا یا نقاد یا آرٹ گیلری کا شائق کہیں موجود نہیں ہے! اگر مصور دیکھنے والی ایک آنکھ کو گھٹنے پر فِٹ کر دیتا ہے تو وہ اس بات کو رمز و اشارہ و علامت سے ظاہر کر رہا ہے، کہ اس آنکھ کو گھٹنوں کے بل چل کر اس منظر کو دیکھنا ہے، اگر یہی آنکھ وہ فرضی پکاسو ؔپاؤں کے انگوٹھے پر فِٹ کر دیتا ہے تو اسے یہ دکھانا مقصود ہے کہ اس آنکھ کو پاؤں کے بل چلنا ہے۔ (گھٹنوں کے بل چلنے اور پاؤں کے بل چلنے میں عمر کا جو تضاد ہے، اس کا اندراج یہاں ضروری نہیں ہے!ْ)

یہی صورت ِ حال نظم گو شاعر کی بھی ہے۔ (یہ حالت غزل گو شاعر کی بھی فرداً فرداً ایک یا دو اشعار میں ہو سکتی ہے!)چاہے وہ یہ عزم کر کے ہی کیوں نہ بیٹھے کہ اسے پشاور کے اسکول میں بچوں کے قتل عام پر ایک احتجاجی یا ماتمی نظم لکھنی ہے، (اگر وہ versifier نہ ہو کر سچا اور اچھا شاعر ہے ) تو ذہنی استعاروں کی رقص گاہ میں ناچتے ہوئے ہیولے اسے دم بدم اپنی طرف متوجہ کریں گے۔ ان میں سے کچھ ایک کو وہ منتخب کر کے انہیں الفاظ کے ملبوس سے آراستہ کرے گا اور نظم لکھے گا۔ ۔۔۔۔اور میں یہ بات ایک بار پھر تاکید سے عرض کر رہا ہوں کہ یہ نظم اُس کے ذہن کی صحیح عکاسی کرنے کی وجہ سے، اصلاً اور نسلاً، اس کے اپنے لیے ہو گی۔(چاہے وہ اسے اخبار میں چھپنے کے لیے بھیجتے ہوئے یہ بھی لکھ دے کہ اس نے یہ نظم اس خاص ضمیمے کے لیے لکھی ہے، جو اس قتل عام کے بارے میں ہے)۔۔۔۔ اس نظم کو لکھنے کے بعد وہ اس ہیجان، اتھل پتھل سے نجات حاصل کر لے گا، جسے creative tension کہتے ہیں، جو بچے کی پیدائش کے وقت درد ِ زہ کی سی حالت میں زچہ کو ہوتی ہے۔

تو صاحب، میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اردو میں لکھی جانے والی آج کی سب نظمیں ایسی نہیں ہیں۔ وہ جن میں استعارہ سازی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے، تو یقینا ہیں، لیکن وہ (۱) جن میں بھول بھلیاں کی حد تک (راشدؔ کا نگینہ، انگوٹھی، ڈبیا، صندوق اور سمندر کی مثال پہلے دی جا چکی ہے) استعاراتی عمرو عیا رکی زنبیل میں پوشیدہ تصاویر ہیں، جن کا آپس میں کوئی organicرشتہ نہیں ہے، یا پھر وہ (۲) جو غزل کے استعارہ سازی کے گودام کے شیلفوں سے اٹھائی ہوئی ذہنی تصویروں سے بوجھل ’’منظوم جواب مضمون‘‘ کی طرح تحریر کردہ ہیں ۔۔۔۔دونوں اس ذیل میں نہیں آتیں۔ یہ دونوں قارئین کے لیے لکھی جاتی ہیں یا رسالوں کی زینت اس لیے بنتی ہیں کہ لکھی ہی اس وجہ سے گئی ہیں۔ ان کا genesis مصنوعی تخم کاری کا مرہون ِ منت ہے۔

اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے میں کچھ اور زیادہ تفصیل سے صرف بات کرنا ہی نہیں چاہتا، آپ کو تحلیقی قوت کے کار بیوہار کے عمل سے انگلی پکڑ کر ایسے ہی ساتھ لیے چلتا ہوں جیسے میں آرٹ اپریسییشن کے کمرہ جماعت میں اپنے طلبہ کے سامنے کھڑا ہوں اور وہ مجھے بلیک بورڈ پر لکھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں یا مجھے اوور ہیڈ پروجیکٹر پر گراف بناتے ہوئے میری تحریر یا گراف کو سکرین پر دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ، اور اس خاص مثال کو پوری طرح سمجھنے کے لیے، اس کے پس منظر کا علم ہونا ضروری ہے۔

1994ء میں سعودی عرب میں تین برس کے تدریسی قیام کے بعد لوٹنے پر میں کچھ ایسے نا مساعد حالات سے دو چار ہوا کہ ایک کے بعد ایک سانحے رونما ہوتے گئے جن کی وجہ سے میری جمع شدہ پونجی برباد ہو گئی، مکان بھی ہاتھ سے نکل گیا اور بیوی کی خرابیٔ صحت کے علاوہ میں خود بھی شدید ڈیپریشن کا شکار ہو گیا۔ ان نا مساعد حالات کی آخری کڑی میرا کار ایکسیڈنٹ تھا جس میں میری بائیں ٹانگ کی ہڈی تین جگہوں سے ٹوٹ گئی اور میں ایک لمبے عرصے کے لیے بار ِ بستر ہو گیا۔ہسپتالوں کے بل اور دیگر اخراجات کی وجہ سے مجھے بنکرپسی (دیوالیہ پن) کا سہارا لے کر ان بلوں سے جان چھڑانا پڑی ۔۔۔۔ ڈیپریشن کے دوران میں اکثر اپنی تقدیر کو کوستا ، اس کے بنانے والے پر نفرین بھیجتا۔ لڑکپن میں کہیں سنا ہوا اور سہگل کا گایا ہوا ایک گیت دہراتا : اے کاتب تقدیرمجھے اتنا بتا دے، کیوں مجھ سے خفا ہے تو، کیا میں نے کیا ہے۔۔۔۔اس کے کلیدی الفاظ ’’کاتب تقدیر‘‘ نہ صرف میرے ذہن میں گونجتے رہتے بلکہ بارہا مجھے غالب کے اس شعر کی یاد دلاتے اور میں اسے دہراتا رہتا : ’’پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق : آدمی کوئی ہمارا دم ِ تحریر بھی تھا!‘‘

ایک دن لگ بھگ نیم بیداری کی حالت میں میرے ذہن میں ایک ہیولیٰ سا ابھر آیا کہ پٹواریوں کی طرح ایک تخت پر تقدیر لکھنے والے منشی بیٹھے ہیں اوربہی کھاتوں میں لوگوں کے مقدر لکھتے چلے جاتے ہیں۔ ان میں کچھ بے ہنگم سے ، بڑے بڑے پیٹوں والے، ادھیڑ عمر کے عجیب الجثہ اشخاص ہیں۔ کچھ اپنے قلموں کو سیاہی کی دوات میں ڈبوتے ہیں اور پھر فاضل روشنائی کو دیوار پر جھٹک کر منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہیں، مثلاً ’’یہ لے، یہ تیرے لیے ہے، بد نصیب شخص !‘‘اس کے ساتھ ہی لکھتے ہیں اور پھر اس نوشتے پر مہر ثبت کر کے اسے ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور دوسرا اٹھا لیتے ہیں۔
نیم بیداری کی حالت میں ہی میں نے قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کیا ۔۔۔۔ انگریزی میں ! ۔۔۔۔یعنی اردو میں کیوں نہیں، جبکہ دونوں محرکات، سہگل کا گایا ہوا گیت اور غالب کا شعر اردو میں تھے؟ تب بھی اس کا کوئی جواز نہیں تھااور آ جتک میں اس تضاد کی وجہ نہیں سمجھ پایا کہ انگریزی میں ہی کیوں ؟ بہر حال یہ سوال تو میں نے خود سے بعد میں پوچھا ، اُس وقت تو صرف لکھنا شروع کر دیا۔
اب ایک نگاہ ِ واپسیںذہن کے اس کیمکارڈر کے slide by slide & bloc by bloc تصویری تسلسل پرڈالتا ہوں تو وہ ساری فلم صریحاً آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے جو اُس وقت ذہن کی آنکھوں میں تھی، یعنی پٹواری یا محرر قسم کے لوگ تخت پر بیٹھے ہوئے، بہی کھاتوں میں لکھتے ہوئے، چہرے پر ناراضگی اور خشونت کے نشان، غصے سے روشنائی میں قلم ڈبوتے ہوئے، بے دردی سے فاضل روشنائی جھٹک کر دیوار پر پھینکتے ہوئے اور پھر لکھتے ہوئے بھی بڑبڑا ، بڑبڑا کر دل کا غبار نکالتے ہوئے۔۔۔۔اللہ، کیا منظر تھا میرے بیمار ذہن کے نہاں خانے میں!
انگریزی میں جو نظم خلق ہوئی، وہ نیچے لکھ رہا ہوں۔ یہ میری انگریزی نظموں کے ایک مجموعے، بعنوان
IF WINTER COMESمیں شامل ہے۔
THE FORTUNE FATHEADS
A drip in the right arm vein
Wires and cables, meters and clock faces
Looking at me, on the surgery table
– I can’t move : No, I can’t move
But I can see – and I can hear
I can hear the silence of the operation theatre.
“Here he is”, a voice booms from somewhere above.
“The hot-headed poet, the inconscient babe-babbler
Come, you challenger of God,
Come and have your fortune writ for you!
Yea! Unworthy Sir, no money, no respite from want.”
“Nay, but there’s something”,

ٓanother voice – a sore-throated one says:
Yea, a name and a fame.”
Wrap it around your cuff, man and be happy.
I look up – and see a round , rotund face
A bulging belly hanging to his knees,
Going up and down with every guffaw.
Another chimes in with his rasping, birdlike voice:
O, the sharp-tongued one, isn’t he?
One who challenged everything and everybody –
Including us, the ultimate diviners?
F…..him. Let him swallow his spittle.
I look up and see an emaciated face, almost a scarecrow
A womanish silk-soft sallow-voice sighs
Pity he doesn’t deserve.
Let him rot in the world some years more.
I open my eyes and find myself in the recovery room.

اب آپ غور فرمائیں ۔ کہ ظہورہ کی سطح پر بلا صورت و آشکارائی جو ہیولے ذہن میں تخلیقی کار کردگی کے عمل کے شروع میں محسوسیت کی سطح پر تھے ، جن کی ایک جھلک احاطہ ٔ نظر کی حدود کے اندر جھانکتی دکھائی دیتی تھی، اس عمل کے دوران اخفا و اضمار کی چلمن کے عقب سے نکل کر کیسے اپنی ’’منہ دکھلائی‘‘ کرتے ہیں اور نہ صرف بشرہ، ناک نقشہ، حلیہ، شکل، تیور پیش کرتے ہیں، ( Example: a round , rotund face, A bulging belly, hanging down to his knees, going up and down with every guffaw) , بلکہ لہجہ ، انداز ِ بیان، بھی قابل ِ شناخت بنا دیتے ہیں۔(Example: Booming voice, (and) A rasping chirplike voice. ایک اور مثال یہ ہے:an emaciated face, almost a scarecrow
A womanish silk-soft sallow-voice ۔۔۔۔۔۔

میں اب صرف اتنا کہہ کر اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ سچی تخلیق کا دار و مدار فہم، شعور، عقل و دانش پر نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی کو بھی چِت یا بودھ نہیں چاہیے، قوائے فکر و فطانت کی ضرورت نہیں، صرف خدا داد حسیت پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے اور پھر برافگندہ نقاب کے لیے وہ ’لشکارہ‘ چاہیے جسے چشم تماشا کی دید بافی کہا گیا ہے۔ الفاظ تو سنتری بھی ہیں، تماشبین بھی اور ہمہ بین گواہ بھی۔ ان سے پردہ کرنا غیر قدرتی ہے۔ یہ خود بخود، پرّا جمائے ہوئے دوڑے چلے آتے ہیں، یعنی کہ آپ اگرکلمہ جنبانی کا مذاق رکھتے ہیں اور آپ کو ایک فصیح گویندہ ہونے کا شعور ہے، تو ۔۔۔۔۔ یہ آپ کی خدمت میں ہر وقت کمر بستہ ہیں۔

نظم کے’’معنی کی تحدید‘‘ یا اس کی حد بندی کا نکتہ البتہ رہ گیا تھا۔ اس پہلو کے بارے میں تفصیل سے میں نے اپنے نویں شعری مجموعے ’’بیاض عمر کھولی ہے‘‘ کے دیباچے میں تحریر کیا تھا کہ نظم کا ’معنی‘ اگر کوئی ہے تو اسے منبر کی اونچائی سے خطاب دینے والے مقرر کی طرح سے نہیں بلکہ ان امیجز کی وساطت سے قاری یا سامع تک پہنچایا جانا ضروری ہے تا کہ وہ اسے بجنسہ اپنے ذہن میں اجاگر کر سکے جیسے کہ خلق ہونے کے لمحے میں شاعر کے ذہن میں تھا۔۔۔۔میں نے اس دیباچے میں عرض کیا تھا کہ انگریزی شعرا میں سے ، ایلیٹ ؔ سے بھی کہیں زیادہ میں ایذرا پاؤنڈؔ کا اس لیے مقروض تھا کہ اس نے کچھ اصول ایسے وضع کیے تھے، جنہیں ’شاعر‘ کا اندرونی ’میں‘ اور اس کے personna کابیرونی خطاب کنندہ تو One-to-one-equationمیں سمجھتے ہی ہیں، لیکن اس کے تخاطب کا نشانہ، یعنی اس کا سامع، قاری یا کئی دہائیوں یا صدیوں کے بعد اس کے قارئین اس کے ’چِتروںکے کتھن‘ (یعنی تصویری مفہوم یا جو کچھ تصویری امیجز کی زبان سے کہا گیا) سمجھ کر اپنی یاداشت میں اس کا نعم البدل ’چتر‘ یعنی تصویر تلاش کر سکیں۔ پاؤنڈؔ کا پہلا اصول یہ تھا کہ مفہوم کا پس منظر کچھ بھی کیوں نہ ہو ، قدرتی مظاہر کو ہی علامت کا ’پیش منظر‘ بنایا جائے۔’’ Abstraction سے ڈر ڈر کر، پھونک پھونک کر قدم آتے رکھو ‘‘، اس نے کہا تھا۔ Solid image صرف ایک ارتسام یا مجرد خیال نہیں ہوتا، ایک شجر کے مضبوط تنے کی مانند ہوتاہے، جس کے اوپر جوں جوں نگاہ چڑھتی جاتی ہے، نئی نئی کونپلیں پھوٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔امیجز کا تسلسل ایک مضبوط ترین رسی ہے، جس سے ماضی ، حال اور مستقبل سب بندھے ہوئے ہیں۔ اس نے اسے’’ وورٹیکس‘‘vortexیعنی’ بگولا‘ یا ’گرد باد‘ کہاجو تینوں زمانوں کو اپنی گردش میں باندھتے ہوئے چکر کاٹتا ہی جاتا ہے۔

آگ، پانی، مٹی، ہوا، زمین، آسمان، ستارے ۔۔۔۔اور ان کے Concordant combinationsسینکڑوں، ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ایک ’ابسٹریکٹ امیج‘ یا ’کانسیپٹ‘ (جو ایک مجرد خیال ہے، مثلاً حب الوطنی، غریبی، غرور، طاقت، عزت، ظلم و ستم، ہمدردی، وغیرہ الفاظ) کی جگہ پر ’کانکریٹ امیج‘کا استعمال زمان و مکان کو فتح کر کے دور دراز کے ملکوں اور آنے والی درجنوں نسلوں تک ویسے ہی پہنچتا ہے جیسے کہ تخلیق کار کے ذہن میں نظم کے خلق ہونے کے لمحے میں تھا۔

Categories
شاعری

وندنا (التماس-مناجات)-روی شنکر

[blockquote style=”3″]

موزارت کے سوناتا، ویگنر کے اوپیرا اور روی شنکر کی دھنوں پر مبنی ستیہ پال آنند کی
نظموں کا یہ سلسلہ سات نظموں پر مبنی ہے اور اردو میں اپنی نوعیت کا واحد کام ہے۔ صوتی محاکات سے استوار ایک گیت ہے۔

[/blockquote]

وندنا (التماس-مناجات)-روی شنکر
تِن مِن، تِن مِن، تِن مِن
سیِس جھکاؤں
وِنتی کروں میں، عرض گذاروں
بال مرے، ہاں،بال مرے، ہاں بال مرے، جی
مُکھ کے دونوں سمت ہیں بکھرے
میں جوگنیا
بِرہ کی ماری، میں جوگنیا
سیس جھکاؤں
پلکیں جھپک جھپک کر اپنے اشرُو روکوں
تِن مِن، تِن مِن، تِن مِن
پھر بھی ٹپکے جائیں اشرُو
قابو میں کب آئیں اشرُو
نین ندی میں باڑھ اٹھی ہے
چھلک چھلک چھن
باڑھ کے آگے باندھ نہیں ہے
تِن مِن، تِن مِن، تِن مِن, تن مِن
بہتے جائیں، بہتے جائیں
آپ کے چرنوں کو، سانوریا
دھوتے جائیں، دھوتے جائیں
یہ برکھا رُت تواب میرے
جیون کی ست سنگ سکھی ہے
….. برہ کی ماری میں جوگنیا! ھائے

 

دوسری لہر

 

تا تنن، تا تنن، تا تنن، تاتنن
پگ اٹھاؤں اگر
دھیرے سے بھی، سکھی
سات گھنگھرو بجیں
تا تنن, تا تنن
۔۔۔۔ سات گھنگھرو بجیں
میرے پی کے لیے
میرے پی کے لیے، میرے پی کے لیے
تا تنن، تا تنن، تا تنن، تا تنن
میری جِوہا بھی تالو میں خاموش ہے
میرے مکھ پر ہیں بکھرے ہوئے بال سب
میرے آنسو بھی بہہ بہہ کے اب تھک گئے
تا تنن، تا تنن، تا تنن، تا تنن
اب تو پاؤں مرے (ہاں جی، پاؤں مرے)
گھنگھرؤں کی زباں بولتے ہیں سدا
چھا چھنن چھا چھنن میں پروئی ہوئی
ان کی بولی ہے رس میں سموئی ہوئی
تا تنن، تا تنن، تا تنن، تا تنن

 

تیسری لہر

 

تِن مِن، تِن مِن، تِن مِن، تِن مِن
سانوریا تو روٹھ گئے ہیں، بولت ناہیں
روٹھ گئے ہیں سانوریا تو، بولت ناہیں
کس سوُں پوچھوں؟ کیا منتر ہے
پیا منانے کا کیا گیت ہے، او ری سکھیو
رُدن کروں میں، چھم چھم روؤں
من کے تار پہ ُردن کروں میں
سکھیَن تو سب ہنست کھیلت ہیں
بھاگوں پھوٹی مَیں برہن اب
کس سے حال کہوں میَں اپنا
گھُمر گھیر جمنا کی لہروں کی گودی میں
سو جاؤں
اور دکھ سے ونچِت ہو جاؤں

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

وِنتی: عرض۔ بینتی
بِرہ: ہجر
اشرو: آنسو
پی: پریمی
جِو ہا۔ (ج ِ و ہ ا)۔ جیبھ۔ زبان
رُدن: آہ و زاری
سکھیَن: سکھیاں، سہیلیاں
وَنچِت ہونا: چھٹکارہ پانا

Categories
شاعری

ویگنر کے اوپَیرا سے ماخوذ

[blockquote style=”3″]

موزارت کے سوناتا، ویگنر کے اوپیرا اور روی شنکر کی دھنوں پر مبنی ستیہ پال آنند کی
نظموں کا یہ سلسلہ سات نظموں پر مبنی ہے اور اردو میں اپنی نوعیت کا واحد کام ہے۔ درج ذیل نظم ویگنر کے اوپَیرا “فلائنگ ڈچ مین” سے ماخوذ ہے اور تین الگ الگ ٹکڑوں پر صوتی محاکات سے استوار ایک گیت ہے۔

[/blockquote]

ویگنر کے اوپَیرا سے ماخوذ
(1)

سرگوشی سی ہوا کے کانوں میں ۔۔۔۔۔۔
سر سر سر سر ۔۔۔۔ سر سر
اُٹھ جاؤ، پہلو بدلو، پھر چٹک چٹک کر لہراؤ
اور پھول کھلاؤ
بھور سمے ہے
سونے کا اب سمے نہیں ہے
گُن گُن گاؤ
گیلی گھاس پہ چلتی جاؤ
چپڑ چپڑ پٹ، چھب چھب، چھب چھب
پاؤں بھیگ گئے نا تمرے؟
دیکھا، چھوری؟ اب اپنے پاؤں مت پونچھو
اک ننھی سی دوڑ لگاؤ
اک کلکاری بھرو تو دیکھیں۔۔۔
کتنا اونچا اُڑ سکتی ہو
دور سامنے
!سورج کو اُگتے دیکھو تو
اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر
سر کو جھکانا
پھر دھیرے سے کہنا ۔۔۔ میں اب چلت پھرت ہوں
اب یہ دھرتی آپ کی ہی دولت ہے، سوامی ۔۔۔۔

(۲)

بہت دیر سوئے ہو، سورج، اٹھو اب
تمہارے ہی چمکیلے بالوں سے
کرنوں کی بہتی ہوئی تیز لہراتی ندیاں
اڑا دھم، بھبھک بھوں، کڑک، گڑگڑاہٹ
میں چنگھاڑتی نیچے اتریں گی
کچھ دیر میں جب زمیں پر ۔۔۔۔
تو سب جاگ اُٹھیں گے، ، مانس، مویشی
پرندے، چرندے، مکوڑے
کھٹا کھٹ، دھما چوکڑی، غلغلہ زندگی کا
چکا چاک، بم چخ، گجر، ڈھول، نوبت
یہی کچھ تو ہے زندگی میں تمہاری بدولت
دما دم صدائیں جو “کن” کی شروعات سے
آج تک سارے آفاق میں گونجتی ہیں۔

(۳)

کہاں گئی ہے تڑک بھڑک
دن کی جلتی بھُنتی ہوئی دُپہری کی؟
سہ پہر کی دھمک دھمک دھم گذر گئی ہے
تِکال کی بیلا
سر پہ چھایا کا چھتر لے کر
تنے ہوئے تمبوؤں سی پھیلی ہوئی کھڑی ہے
یہ گٹ، نفیری، یہ بھنبھاہٹ
یہ لقلقہ، ہلکی اور دھیمی سی بانگ، ہچکی سی بلبلاہٹ
کھڑاک سی مُرکیاں، گھُمر گھوں،
یہ اونچی، نیچی طبلچیوں کی تھاپ
ساتھ اس کے
سخن طرازی رباۃ ِ فن کی
صداؤں کا کالا پن بدلتا ہوا اندھیرے میں ۔۔۔
گھُپ، گھٹا ٹوپ
گدلا، مدھم، کثیف، کہریلا
کیسا ہنگام ِ شب ہے جس میں
بجھا بجھا زرد رنگ بھی ہے
پریدہ، بھوسل سی ، نیم گہنائی روشنی بھی تنی ہوئی ہے۔
زمیں پہ اور آسماں پہ کس نے
غلیظ، گدلی سی چھولداری کو تان کر
پردہ دار بیگم بنا دیا ہے؟
دھرا دھرا دھر ۔۔۔ دھرا دھرا، دھر
کوئی نہیں ہے ۔۔۔ کوئی نہیں ہے
کوئی نہیں ہے ۔۔۔۔ فقط اندھیرا،فقط اندھیرا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ تین “سُر لہریں” مندرجہ ذیل بحور میں نظم کی گئیں۔
ایک ۔ ہندوی چھند جسے امیر خسرو نے فعلن فعلن کی تکرار میں ترتیب دیا۔
دو بحر متقارب ۔۔ یعنی فعلون فعولن کی تکرار، جس کی روانی میں دوڑنے کی سی تیزی ہے۔ اور تین ۔۔۔۔ بحر متقارب مقبوض اثلم۔ یعنی فعول فعلن کی تکرار۔

Categories
شاعری

موزارت سوناتا نمبر11

[blockquote style=”3″]

موزارت کے سوناتا، ویگنر کے اوپیرا اور روی شنکر کی دھنوں پر مبنی ستیہ پال آنند کی نظموں کا یہ سلسلہ سات نظموں پر مبنی ہے اور اردو میں اپنی نوعیت کا واحد کام ہے۔

[/blockquote]

موزارت سوناتا نمبر11
(صوتی محاکات پر استوار ایک شعری تاثر)
مدھم مدھم
دھیرے دھیرے
صحرا میں سورج کی آڑی ترچھی کرنیں
نالاں، شاکی
اپنے ترچھے سایوں کے فوجی دستوں کی پسپائی پر
ہچک ہچک کر، سبک سبک کر
روتے روتے
اُلٹے پاؤں چلنے کی آوازوں کے گم ہوتے ہوتے
دور افق میں ڈوب گئی ہیں
ایک نئی ہلکی” سُر لہری”
نرم فضا میں تھر تھر کرتی
جنباں، لرزاں، افتاں، خیزاں
خاموشی کی پرتوں کے نیچے سے اوپر ابھر رہی ہے
مہر بلب ۔۔چپ چاپ
ذرا سی سائیں سائیں سرگوشی سی
مِن مِن کِن کِن، گلو گیر
شیریں ، زہریلی
ناگ پھنی کا رس امرت
کانوں کو ٹپ ٹپ گھول پلاتی
لوری کی لَے میں اک “ٹھاٹ” سا
قطرہ قطرہ ۔۔ صوت کا شربت
زہر سا میٹھا
شہد سا کڑوا
کان گپھا میں ٹپک گیا ہے
سُر کی گت ’اُپ ناس‘ میں الجھی
ناگ پھنی کے کانٹوں سے” ل ب ری ز” پھنوں پر
سرک سرک کر
ناگن کے آگے بڑھنے کے سُر سنگیت سی گونج گئی ہے
مرتے مرتے یہ آلاپ اب
انتم سانس میں
مجھ کو بھی
چُپ چاپ سمادھی کی حالت میں چھوڑ گیا ہے!

Categories
شاعری

آپ کا نام پکارا گیا ہے

آپ کا نام پکارا گیا ہے
دھند ہے چاروں طرف پھیلی ہوئی
میں بھی اس دھند کا کمبل اوڑھے
سر کو نیوڑھائے ہوئے بیٹھا ہوں

میں اکیلا ہی نہیں ہوں کہ یہاں اور بھی ہیں
منتظر اپنے بُلاوے کے لیے
لپٹے لپٹائے ہوئے’خود میں
اکیلے، چپ چاپ…….
جامد و ساکت و بے جان بتوں کی مانند
سر کو نیوڑھائے ہوئے بیٹھے ہیں

کچھ سے برسوں کی شناسائی ہے
میرے ہم عمر ہیں، میں جانتا ہوں
برق رفتار تھے سب بادیہ پیمائی میں
میری ہی طرح قدم زن تھے، سبک رو تھے یہ لوگ!
اپنے قد کاٹھ سے آدھے پونے
آج گم صم سے یہاں
صف بہ صف بیٹھے ہیں آنکھیں موندے
خستہ، درماندہ، تھکے ہارے، نڈھال
سانس پھولے ہوئے، بے دم ، ہلکان
میری ہی طرح جفا کش تھے، جیالے تھے یہ لوگ

کہیں پیچھے سے کوئی کندھا ہلاتا ہے مرا
اور تاکید سے کہتا ہے، “حضور اٹھئے تو
آپ کا نام پکارا گیا ہے!”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(اپنی چھیاسویں سالگرہ پر لکھی گئی نظم)

Image: Jan Hartman

Categories
شاعری

اندھوں کی نگری

اندھوں کی نگری
یہاں کون ہے جس کو پھولوں کے کھلنے کا منظر دکھاؤں
کہ کلیاں چٹخنے کا
خوشبو کا، رنگوں کا
شبنم کی بوندوں سے منہ دھوتی
بچوں کے رخسار سی پنکھڑی کا
دھنک رنگ خوابوں کے گل پوش
تختوں سےاُڑتی ہوئی تتلیوں کا
صبا کے معطر تنفس سے سرشار
بھیگے ہوئے بازووں سی لچکتی
بغلگیر ہوتی ہوئی ٹہنیوں کا
یہاں رہنے والوں کے دل میں کوئی بھی تصور نہیں ہے!

یہاں کون ہے جو کسی “میگھ دوُتم” 1 ؎سے
بارش میں بھیگے ہوئے بِرہا گیتوں میں
بچھڑے ہووں کے سندیسوں کو سمجھے
یاں رہنے والے تو بچھڑے ہووں کے
سندیسوں کی بھاشا سے نا آشنا ہیں

یہاں کون ہے سُن سکے جو
قفس میں مقید پرندوں کی زخمی صدائیں
جسے علم ہو شاہرائوں پہ اُڑتے ہوئے زرد پتے
کبھی سبز شاخوں کی زینت تھے
بچوں کی مانند مسرور تھے ۔۔۔تالیاں پیٹتے تھے!
جسے یہ پتہ ہو کہ قلاش جیبوں کی مجبوریاں
کن گرسنہ قمیضوں سے جیبوں کی مانند لٹکی ہوئی ہیں
جو یہ جانتا ہو
کہ مجبور ہاتھوں کی خالی لکیروں میں
کن بلڈنگوں کا مقدر لکھا ہے
کہ تیشے کے ضربوں سے پتھر تو ٹوٹیں گے
سڑکیں بنیں گی
مگر دودھ کی نہر بہنے کا کوئی بھی امکاں نہیں ہے!

یہاں کون ہے جس کے دل کی بصارت ہمہ دیدنی ہو
یہ اندھوں کی نگری ہے، میرے عزیزو
کہ صحرا کے باسی
یہاں رہنے والے سبھی بے بصر ہیں!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

؎1 ۔ کالیداس کا سنسکرت ناٹک “میگھ دوت”۔ بمعنی پیامبر بادل

یہ نظم سعودی عرب میں قیام کے دوران وہاں بر صغیر کے کامگاروں کی حالت زار پر 1992 میں لکھی گئی

Image: India times

Categories
شاعری

عشائے آخری کا ظرفِ طاہر ڈھونڈتا ہوں میں

عشائے آخری کا ظرفِ طاہر ڈھونڈتا ہوں میں
مسیحائے زماں ہوں، بیس صدیاں پیشتر ہی
اس مسافت پر چلا تھا
آج کے دن اس زمیں پاک سے، جس پر
لہو پیہم برستا آ رہا ہے اس بڑے دن سے!
سموم و ریگ کے طوفان میرا تاج کانٹوں کا
اڑا کر لے گئے ہیں، اور ۔۔۔۔۔
اندھیرے کی سلاخیں مجھ کو اندھا کر گئی ہیں ۔۔۔میں
بھٹکتا ہوں سکوت مرگ میں، طوفانِ ظلمت میں
مرے شاگرد سارے سو گئے ہیں خوابِ غفلت میں
مرا ساتھی نہیں ہے کوئی بھی ان بیس صدیوں میں
مگر میں پا شکستہ، تن دریدہ چلتا جاتا ہوں
مرے کاندھے پر ان سب کی صلیبیں ہیں
جنہیں اس دشت گاہی میں
مرے ہمراہ ہونا تھا، مگر سب مجھ سے پیچھے رہ گئے ہیں

میں اپنے ہاتھ دونوں عرش کی جانب اٹھاتا ہوں
کہ تاریکی میں کوئی اک ستارہ ہی
عشائے آخری کا ظرف طاہر ہو
فلاک پر اُڑ کے جو تاروں کے جھرمٹ میں
کہیں گم ہو گیا تھا بیس صدیاں پیشتر
جب قطرہ قطرہ اس میں میرا خوں
ٹپک کر بھر گیا تھا ایک ہی شب میں

“کہاں وہ شب، کہاں یہ بیس صدیاں بعد کا “اب !
فرق ہے دونوں زمانوں میں
کہ پچھلی بیس صدیاں تو
لہو کے ذائقے سےاس طرح مانوس ہیں جیسے
عشائے آخری کی اس رکابی سے
ابھی تک نسل انساں کی کہانی کے ورق پر
خوں برستا ہو !
Categories
شاعری

اسد بزمِ تماشا میں تغافل پردہ داری ہے

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

غالب کے اشعار پر ستیہ پال آنند کی نظموں پر مشتل سلسلے ‘خامہ بدست غالب‘ میں شامل مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

شعر

 

اسدؔ بزمِ تماشا میں تغافل پردہ داری ہے
اگر ڈھانپے تو آنکھیں، ڈھانپ، ہم تصویرِ عریاں ہیں

 

نظم

 

“اسدؔ” خود سے مخاطب تو نہیں اس شعر میں شاید
یہ کوئی اور ہی ہے جو اسے تلقین کرتاہے!
“اسدؔ” خود سے مخاطب ہو بھی سکتا تھا
مگر اک لفظ “ہم” جو مصرعِ ثانی میں آیا ہے
ہمیں گویندہ یا ناطق کی بابت شک میں رکھتا ہے

 

اگر تم حاضر و موجود ہو ’بزمِ تماشا’ میں
(وہ کہتا ہے)
تو اس سے بے مروّت ہو نہیں سکتے
تغافل کیش رہنا، بے رخی، غفلت برتنا تو
اک ایسی ‘پردہ داری’ ہے، کہ جس میں تم
مری بزمِ تماشا سے
تعلق توڑ کر کچھ بھی نہ پاؤ گے!

 

کہ یہ ‘بزمِ تماشا’ تو
اسی اپنے تماشے میں مگن ہے روزِ اوّل سے
اگر تم ایسے نا اندیش ہو جس نے حقیقت سے
خود اپنے آپ کو یوں سینت کر رکھا ہے
آنکھیں بند کر لی ہیں
کہ اب کچھ بھی نہ دیکھو گے
تو یہ سمجھو، وہ کہتا ہے
“اگر ڈھانپے تو آنکھیں، ڈھانپ۔۔۔۔۔۔ ہم تصویرِ عریاں ہیں”
کہ بند آنکھوں کے پیچھے سے بھی ’ہم‘ کو دیکھ پاؤ گے!

 

تخاطب تو یقناً اپنے شاعر سے ہے، لیکن غور سے دیکھیں
کہ کہنے والا آخر کون ہے، جو “میں” نہ کہہ کر
“ہم” کے اسمِ معرفہ، یعنی۔۔۔۔
ضمیرِ جمع متکلم کی صورت میں ہی اپنا ذکر کرتا ہے؟

 

صریحاً ایک ہے۔۔۔ اللہ
جو اِس شاعرِ غافل کو یہ تلقین کرتا ہے
“اگر ڈھانپے تُو آنکھیں ڈھانپ، ہم تصویرِعریاں ہیں!”
Categories
نان فکشن

نظریات کا گورکھ دھندا؛ اردو ادب کے تناظر میں

یہاں امریکا میں ایک سینیر کورس (لٹریچر ۔۲) کے اپنے طلبہ کو مجھے کسی بھی دقیق مسئلے کو آسان ترین زبان میں سمجھانا پڑتاہے، انگریزی میں تھیسارس کے حوالے سے دیکھیں تو ایک ہی لفظ کی مختلف جہات سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے اس سے بھی زیادہ الفاظ ‘ریڈی میڈ’ مل جاتے ہیں، اس لیے مجھے کلاس روم میں وہ مشکل پیش نہیں آئی جو میں آج صبح یہ صفحہ لکھتے ہوئے محسوس کر رہا ہوں کہ اردو میں مجھے وہ سرمایہ میسر نہیں ہے۔ چاہتا تو ہوں کہ اس مضمون میں ان سب تخلیقی، تدریسی اور تحقیقی کاموں کا ذکر کروں جو اس وقت میرے سامنے ہیں، لیکن صرف دو یا تین کے بارے میں مختصراً لکھنے پر اکتفا کروں گا۔ ایک مقالہ جو میں نے ان دنوں لکھا ہے وہ تخلیقی قوت کی اس کارکردگی کے بارے میں ہے، جو فنکار کے ذہن میں پہلے ایک موہوم سی اور بعد میں ایک بہت شدید “ٹینشن” کی شکل میں وارد ہوتی ہے، اور فن پارہ مکمل ہونے کے بعد کتھارسس سے تحلیل ہو کر ایک قسم کی آسودگی کا احساس چھوڑ جاتی ہے۔

 

انگریزی لفظ tension یونانی لفظtensio اور اس کی اسمِ جامد شکل tensusسے آیا ہے۔ ارسطونے اپنی بوطیقا میں اس ہیجان کی سی کیفیت کے لیے جس کا علاج اس نے کتھارسس catharsis فرض کیا، یہی دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔میں نے جب اس لفظ کے ممکنہ اردو نعم البدل الفاظ، ہیجان، کھچاؤ، تناؤ (ذہنی اور جسمانی) پر ارسطو کی اصطلاح کے حوالے سے غور کیا تو مجھے یہ تینوں نا کافی محسوس ہوئے۔ بہر حال 1964ء میں تحریر کردہ ایک ریسرچ پیپر جو P.E.N. کی کانفرنس کے لیے مجھے لکھنا تھا، میں نے یہ سوچ کر کہ “کتھارسس” پر توہزاروں صفحے لکھے جا چکے ہیں، لیکن “ٹینشن” پرجو ایک آرٹسٹ تخلیق کے عمل سے پہلے محسوس کرتا ہے، بہت کم کام ہوا ہے، اس موضوع کا انتخاب کیا تھااور چونکہ میں انگریزی کے علاوہ سنسکرت میں بھی شد بد رکھتا تھا، سنسکرت کاویہ شاستر کو کھنگالنے سے مجھے جو موتی ملے، انہیں میں نے بقدر ظرف اس مقالے میں استعمال کیا۔

 

یورپ میں تو جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہوتے جدیدیت کی تحاریک شروع ہو چکی تھیں، لیکن ہمارے ہاں قدرے دیر سے پہنچیں۔
یہ درست ہے کہ جذباتی اور نفسیاتی کھینچا تانی سے ہمارے دل و دماغ میں جو ہلچل پیداہوتی ہے اگر اسے بڑھنے دیا جائے اور اس کا سدِباب نہ کیا جائے تو اس کا اخراج فساد، مار پیٹ، قتل اور خود کشی میں نمایاں ہو سکتا ہے۔ اس لیے اگر حیاتاتی اور نفسیاتی علوم کی مدد سے اس کو خارج کیا جا سکے تو ‘مریض’ اپنی نارمل حالت میں واپس آ سکتا ہے۔ یونانی اطباء کو بھی اس کا علم تھا، اس لیے جب ارسطو نے یہ کہا کہ ایک ٹریجڈی اسٹیج پر کھیلے گئے واقعات کی بنا پر تماشائیوں کے ایسے جذبات کو رحم اور خوف سے خارج کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے، اس لیے افلاطون کی ری پبلک میں جہاں دیگر پیشہ وروں کو مناسب جگہ اور رتبہ دیا گیا ہے، وہاں ڈرامہ نویسوں کو بھی دیاجانا ضروری ہے۔ یہاں تک تو طلبہ کو سمجھانا آسان تھا، لیکن میں نے اس مقالے میں مثالوں سے یہ واضح کیا کہ جب تک ہم عصری حوالوں سے، جن میں نسل، قومیت، مذہب اور رنگ کی بنیاد پر فسادات کا ایک لا اختتام سلسلہ جاری ہے، ان حالات کو ارسطو کے نظریے میں کچھ توسیع کر کے نہ بتائیں، ہم طلبہ کو نہیں سمجھا پائیں گے، کہ ارسطو کا نظریہ کس حد تک نا مکمل ہے۔ اسی طرح نصاب کی متنی تدریس سے تجاوز کر کے میں اپنے طلبہ سے جو باتیں کرتا تھا، (اور میں نے جس کے بارے میں اپنے مقالے میں تفصیل سے لکھا)، ان میں یہ باریک نکتہ بھی شامل تھا کہ حقیقت نگاری اور سماجی حقیت نگاری Realism & Social Realismمیں کیا فرق ہے۔ اوّل الذکر صدیوں سے قابل قبول اس چلن سے انحراف تھا جسے ہم رومانی اور تخیلی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن روسی انقلاب سے کچھ قبل اور پھر اس کے بعد شد و مد سے موخر الذکر کا دور شروع ہوا جس میں مقصدیت اور مروجہ جمالیاتی اسلوب سے بغاوت تھی، یہاں تک کہ سیاسی اور سماجی تشکیل نو کے لیے بھی ادب کو آلۂ کار بنا لیا گیا۔ ترقی پسند مصنفین کی تگ و دو بھی دونوں ممالک، یعنی ہندوستان اور پاکستان میں اسی کے زیر اثر شروع ہوئی۔ ان برسوں میں عقیدہ، جاگیردارانہ تکلف، روحانی اقدار کی پابندی، بورژوا اخلاقیات کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ پھر وہ دور آیا، جب روس کی دیکھا دیکھی ہماری زبانوں میں بھی ادیبوں اور قارئین، دونوں نے یہ محسوس کیا کہ وہ بھٹک گئے ہیں۔ یورپ میں تو جنگ عظیم کے ختم ہوتے ہوتے جدیدیت کی تحاریک شروع ہو چکی تھیں، لیکن ہمارے ہاں قدرے دیر سے پہنچیں۔ ہم لوگ بہت پیچھے تھے، یعنی جب بیسویں صدی کی تیسری دہائی میں ژاں پال سارترؔ کے وجودیت کے فلسفے کی بحث زوروں پر تھی ہم ابھی انجمن ترقی پسند مصنفین کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ جیمز جوائس کا ناول “یولیسیِس” انگلینڈ میں 1922ء میں چھپا جب کہ اردو والوں نے اس کے بارے میں بات چیت کرنا تیس چالیس برس بعد شروع کیا۔

 

سارترؔ کے فلسفۂ وجودیت کے حوالے سے یہ بات لکھنا ضروری ہے کہ کہیں کہیں اس میں ادبی روایات سے بغاوت کا چلن مختلف نہیں تھا، تہذیبی بیڑیوں کو کاٹنے کی بات اس میں بھی کہی جاتی تھی، بورژوا اخلاقیات اور مادیت سے بچ کر چلنے کی ہدایت اس میں بھی دی جاتی تھی۔جنسی موضوعات سے پردہ پوشی کی روایت سے انحراف اس میں بھی تھا، لیکن ہوا یہ کہ مایوسی، تکان، مستقبل کے بارے میں بد اعتمادی ، جہد لا حاصل جب ادبی موضوعات میں رواج پا گئے تو انسان کی افضل تریں حیثیت کے بارے میں “ڈی ٹراپ”de-trop یعنی بیکار، فضول کا نظریہ پنپنے لگا۔ اسلوب کی سطح پر علامت کے ابہام، استعارے کی ملفوفیت اور مدوریت کے اجزا در آئے اورشعری تخلیقات تو ایک معّمہ بن کر رہ گئیں۔

 

جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں
جہاں یورپ میں اشتراکی حقیقت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر جدیدت کو اپنا لیا گیا تھا وہاں ہمارے ہاں یہ دونوں تحاریک کچھ برسوں تک ساتھ ساتھ چلتی رہیں، لیکن آخر روایت سے کلیتاً بغاو ت نہ کیے بغیر بھی جدیدیت کے اجزائے ترکیبی ہمارے ادب میں رواج پا گئے۔ حقیقت نگاری کے غیر جمالیاتی اور صحافتی اسلوب کی جگہ پر ما فوق الفطرت اور فطرت کی علامتوں سے مادی اور زمینی حقیقت کی ترجمانی رواج پا گئی۔ اردو ادب کے جزیروں میں ہی سہی، لیکن پاکستان میں کم اور ہندوستان میں زیادہ یہ امور دیکھنے میں آئے کہ de-familiarization یعنی غیر مانوسیت اور anachronism یعنی سہو زمانی کے طریق کار سے جمالیات اور معنویت کہ تہہ داری پیدا کی گئی۔ مجھے یہ کہنے میں تامل نہیں ہے، اور میں اسے hindsight سے دیکھ سکتا ہوں، (کیونکہ ان میں بیشتر قلمکار ذاتی سطح پر میرے واقف تھے!) کہ یہ لوگ غیر منطقی اور ابسرڈ absurd تحریریں ارادتاً لکھ رہے تھے۔ یورپ میں بھی سَرریئلسٹوں Surrealists کے بارے میں یہ بات اب غلط نہیں سمجھی جاتی کہ وہ گراف بنا کر، اسکیچ یا نقشہ بنا کر، اپنی تحریر کو خلط ملط کرنے اور متن کی “آنکھ ناک کان کو اس کے جسم کی کسی بھی جگہ پر ٹرانسپلانٹ کرنے” کی کوشش جان بوجھ کر کیا کرتے تھے۔ ان کی تحریروں میں جنس و جبلت بطور موضوع یا مضمون نہ بھی ہوں تو بھی ان کا ذکر برملا ہوتا تھا۔لیکن گفتگو میں یورپ کے معروف دانشوروں کا نام لینے تک ہی ان کیے مطالعہ کی سد سکندری تھی۔ اگر ان سے پوچھے جائے کہ ییک لاکاں، جس کا نام وہ لے رہے ہیں، کون سے ملک سے یا کس زبان سے یا کس دور سے تعلق رکھتا تھا، تو انہیں کچھ پتہ نہ تھا۔

 

اگر یہ کلید بھی دے دی جائے کہ اس نے نشاۃ ثانیہ Renaissance کی تحریک کو جدید دور اور قرون وسطی کی کڑی بتایا ہے تو بھی انہیں کوئی سراغ نہیں مل سکتا تھا۔ ایک بار میں نے ایسے ہی ایک گروپ میں سوئٹزرلینڈ کے مورخ جیکب برک ہارٹ Jacob Berchart کا ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ جدیدیت سے بہت پہلے اس نے نشاۃ ثانیہ کی اصطلاح کے ساتھ ساتھ ان عوامل کی نشاندہی کر دی تھی جنہیں آج ہم جدیدیت کے بنیادی عناصر کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ اور یہ تھے، فردیت کے نظریہ کا فن پر اطلاق، دنیا اور فرد کی باہمی کشمکش کی نئے سرے سے دریافت، فرد اور حکومت کے تعلق باہمی کا ادب سے اخراج۔۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سب خاموش بیٹھے تھے۔ ان میں وہ بھی تھے جو بزعم خود اپنے آپ کو جدیدیت کے قائد کے بعداس کا سب سے بڑا ideologue سمجھتے تھے۔

 

تنقید نگاری کی تمام تر ہذیہ سرائی اور شغل اندوزی جس کا تعلق اسلوبیات اور ہیئت سے ہو، وہ نیم سائنسی درجہ بندی اور تصنیف یا تخلیق کے تجزیات، نباتیاتی سائینس کی فیشن زدگی کے ساتھ نقل کہلائے گی، جس میں ما سوا لفاظی اور طول بیانی کے اور کچھ نہیں
یہاں ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ بات واضح طور پر کہوں کہ کمرہ جماعت میں پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو پڑھاتے ہوئے ایک اچھا استاد نہ صرف ایک تنقید نگار کے کردار میں ڈھل جاتا ہے، بلکہ اضافی طور پر ایک مفسر اور ترسیل کے جملہ لوازمات سے واقف ایک مقرّر کا رول بھی ادا کرتا ہے۔ اس لحاظ سے اس کی ذمہ داری ایک تنقید نگار سے کہیں زیادہ ہے۔ مجھے بہت جلد اپنی اس ذمہ داری کا احساس ہوگیا تھا اور چہ آنکہ میں نے یہ محسوس کیا تھا، کہ اردو کے نقادوں کے علاوہ انگریزی کے”تدریسی نقاد” بھی technical parlance of literary criticismیعنی تنقید کی سکہ بند اور تکنیکی محاورہ بند زبان پر بھروسہ کرتے ہیں جسے عام قاری تو کیا وہ ادیب بھی نہیں سمجھ سکتے، جن کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ ایک انگریزی نقاد نے صحیح کہا تھا کہ اگر ورجینیا وُولف اپنی قبر سے نکل کر اپنے ناولوں Mrs. Dalloway اور To the Lighthouse کے بارے میں لکھی ہوئی تنقید پڑھے تو وہ چاہے گی کہ اسے پھر قبر میں دفن کر دیا جائے۔ میں نے کمرۂ جماعت میں حتےٰ الوسع ما سوائے technical terms کو بلیک بورڈ پر لکھنے کے اپنے لیکچروں میں ہمیشہ وہ زبان استعمال کی جسے میرے طلبہ باآسانی سمجھ سکیں۔بقول شخصے “تنقید نگاری کی تمام تر ہذیہ سرائی اور شغل اندوزی جس کا تعلق اسلوبیات اور ہیئت سے ہو، وہ نیم سائنسی درجہ بندی اور تصنیف یا تخلیق کے تجزیات، نباتیاتی سائینس کی فیشن زدگی کے ساتھ نقل کہلائے گی، جس میں ما سوا لفاظی اور طول بیانی کے اور کچھ نہیں۔”
Categories
شاعری

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا

[blockquote style=”3″]

Virtual Textual Practical Criticism “قاری اساس تنقید” کی مجموعی تھیوری کے تحت وہ طریقِ کار ہے، جس میں طلبہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ کسی نظم یا نظمیہ فارمیٹ کے متن پر عملی تنقید کیسے لکھی جائے۔ اس کے لیے شاعر کے نام کا علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ (اگر ہو تو کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اس کے نجی حالات، سیاسی یا مذہبی خیالات، ہم عصر شاعری کی نہج یا ہم عصر شعرا کا تتبع یا مخالفت وغیرہم کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جانا ضروری ہے، گویا کہ آپ کو علم ہی نہیں ہے کہ یہ نظم کس شاعر کی ہے)۔صرف سامنے رکھے ہوئے متن پر ہی انحصار کرنے کے لیے یہ طریق ِ کار اختیار کیا جائے۔ متن میں مشمولہ تمام Proper and Common Nouns اسماء کے ہم معنی الفاظ، یعنی homonyms یا ان کے متبادل الفاظ کی فہرست تیار کر لی جائے۔ اب ہر اس اسم (اسم، اسم ِ ضمیر، اسم معرفہ، نکرہ، آلہ، تصغیر، تکبیر، وغیرہ) کے سامنے بنائی گئی فہرست کے ہر ایک لفظ کو استعمال کیے گئے لفظ کی جگہ پر رکھ کر دیکھا جائے کہ کون سا لفظ شاعر کی منشا یا مطلب کو براہ راست یا استعارہ یا علامت کے طور پر زیادہ واضح طور پر پیش کر سکتا ہے۔ اب تنقید لکھتے ہوئے ان الفاظ کو زیر ِ بحث لایا جائے اور آخری پیرا گراف میں اپنی findings تفصیل سے لکھی جائیں۔ اس طریق کار کے تحت تنقید کا مضمون یورپ اور امریکہ میں پڑھایا جا رہا۔ یہ منظوم سلسلہ “خامہ بدست غالب” غالب کے کلام کو Virtual Textual Practical Criticism کے تحت سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ ستیہ پال آنند

[/blockquote]

اس سلسلے کی مزید نظمیں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
شعر

 

دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہا
یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں

 

نظم

 

’دونوں جہان‘ کیا ہیں؟ یہاں کے کہ وہاں کے؟
دنیا و مافیہا ہیں کہ محسوس و لا محسوس؟
فطری ہیں کہ خاکی ہیں؟ کہ ایتھر (ether) ہیں کہ صوری؟

 

کیا زیرِ فلک سمک ہے یعنی کوئی پاتال؟
یہ ’دونوں جہاں‘ ہیں بھی کہاں؟ دیکھنا یہ ہے
شاعر کے تصّور میں کہیں
ان کا مکاں اور زماں
حاضر و موجود بھی
اور مخفی و پنہاں بھی ہے اس اپنے جہاں سے؟

 

‘سمجھے’ سے کیا مقصود ہے؟
اک صاف، سیدھی بات؟
یا صرف ’شُبہ‘؟ صرف ’تاثر‘؟
’وہ‘ کون ہے جو ’جمع‘ کے صیغے میں ہے مرقوم؟
کیا ایک ہے؟
یا ایک سے زائد ہے وہ موصوف؟
(اللہ! مجھے بخش!)
غالب تو سخنور ہے، سمجھتا ہے سخن میں
(خالق کے لیے ’جمع‘ کا صیغہ نہیں ہوتا!)
شاید سمجھنے سے ہی کھلے ’سمجھے‘ کا عقدہ!
دہلی کے گلی کوچوں کی ’ٹکسالی‘ زباں میں
”وہ سمجھے ہے“ شاید ہو یہ جملے کا مخفف
اک گردشِ معکوس ہے ”سمجھے“ کی حقیقت !
کیا واقعی یہ صیغہ واحد میں ہے، اللہ!
“گنجینہِ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے
جو لفظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے!”

 

اب آئیں، ذرا دیکھ لیں دو سادہ سے الفاظ
جانچیں تو ذرا ”شرم“ یا ”تکرار“ کی قیمت!

 

شاعر کہ اک مسکین طبع شخص تھا اور بس
تھا عجز کی اک مورتی یہ بے ریا انسان
یا ضبط و متانت کی تھا تفسیر سرا سر
اللہ سے خیرات کا طالب یہ بھکاری
اس وقت تو خاموش رہا، سِمٹا ہوا سا
ہاں چار عناصر کا دھڑکتا ہوا یہ بُت
اللہ کا ہی روپ تھا یہ بھولتا کیسے!

 

وہ چاہتا تو اپنا سرِ عجز جھکاتا
پھر سجدے میں گرتا
تعظیم سے پھر کہتا، “یہ کافی نہیں، مولا
دونوں جہاں؟ ہاں، مگر یہ خاک بصری تو
مجھ آدمِ خاکی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے
کچھ ”نور“ کا عنصر بھی مجھے دیں، مرے معبود!”

 

لیکن ادائے خاص ہے اک دیکھنے کی چیز
کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات
“یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!”

 

(اس نظم میں دو بحور کا اشتراک و اشتمال روا رکھا گیا)