Categories
شاعری

آپ بیتی میں آخر تک زندہ رہنا پڑتا ہے! (ایچ-بی-بلوچ)

یہ داستان ہے
اس میں
صرف ایک سیاہ بوسے پر کہانی گھڑی
اور جنگ کے میدان میں
ایک زرد نغمہ تیار کیا گیا ہے!

یہ ہماری بھٹی میں بنی تلوار ہے
غیر کی دھرتی پر
اس سے اپنی نسیں کاٹو
اور موسیقی سنو!
کپاس کے ڈھیلے میں بند سوت جیسی لڑکیوں کی
اور مت بھولنا
آپ بیتی میں آخر تک زندہ رہنا پڑتا ہے !

یہ ڈھال ہے
اس پر بھنے ہوئے گوشت
اور شراب کی پیالی رکھنے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے
تم اس پر اپنی آنکھیں پھیلا کر جاگو!
اور دوسروں کے خوابوں پر نقب لگاؤ
یہ الگ بات ہے
کہ پرندے اپنی دنیا میں جاکر سوتے ہیں !

یہ آہنی نعل ہیں
بے شک ہم انہیں
تجارت کی فراوانی کے لیے
اپنے دروازوں پر لگا کر رکھیں گے
مگر معاف کرنا
یہ ہماری گلی کا نکڑ ہے !
یہاں گھوڑے باندھنے کی کوئی جگہ نہیں !

Categories
شاعری

ضرور کوئی ستارہ نیچے آ رہا ہے! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

یہ یخ بستہ ہوائیں
اور تمہاری نیم گرم باتیں
ضرور موسم کی تبدیلی کا اشارہ ہیں!

ضرور کوئی ستارہ نیچے آ رہا ہے!
گھاٹیوں کی طرف
تہہ کی طرف رواں
اور بہتے اندھے سیال سے نبرد آزما ہونے
کہکشاں کی رگ
میں نے ہر آتے مہمان کے ہونٹوں سے پھڑکتے دیکھی ہے
منڈیروں پر
فاختاؤں کی چونچ سے کاسنی پھول کے رنگ دمکتے دیکھے ہیں
اب تک ہر دیوار زیر لب مسکرا رہی ہے !

ضرور کوئی پھول
خوشبو کی شدت سے پھٹنے والا ہے
اک تتلی شام سے بے وجہ شرما رہی ہے !
ضرور ہوا کے رخ پر کشتیوں کے رخ بدلنے والے ہیں
گلیوں کی باتیں کرتے گھروں کو لوٹتے ملاح
سمندر کی باتیں کر رہے ہیں!

ضرور عشق میں جادو
اور انتظار میں دلفریبی ہے
سرد موسم میں
پتھر کی بنچ پر بیٹھنے کا خوف بھلا بیٹھا ہوں!
اور پانچویں کپ میں مسلسل
چائے سے بھاپ بننے کے عمل سے گزر رہا ہوں!!

Categories
شاعری

آدرش پہاڑ کی نوک پر رہتا ہے (ایچ-بی- بلوچ)

یہ ایک اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے
جس پر تم ہو

اس اونچائی کے نیچے
بہت سے درخت ہیں انسان ہیں
اور بہت سی چیونٹیاں اور بہت سے کتے ہیں

مگر تم اوپر ہو
اور تمہاری آنکھوں کی پتلیاں مجھے
خالی آسمان کی طرح لگتی ہیں
جس میں خود کو کھڑا ہوا پاتا ہوں

تم زور سے نہ بولو
زور سے ہنسو تو بالکل بھی نہیں
میں گر جاؤں گا!

اچھلنا نہیں
گڑگڑانا نہیں
جھکنا اور لرزنا تو بالکل بھی نہیں
میں خود سو دفعہ گر سکتا ہوں
لیکن تمہیں گرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا

یہ اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے
جس پر تم ہو
جیسے ایک پہاڑ مجھ پر ہو
جیسے ایک پہاڑ ۔۔۔۔ تم پر ہو !
Image: Norman Duenas

Categories
شاعری

میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں صدیوں سے پتھر کے نیچے ہوں
کبھی پانیوں کی
خوفناک گہرائیوں اور وسعتوں میں
کبھی لامحدود اور سوکھے بیابان کے اندر
دم سادھے
چپ چاپ موسموں کو گزرتے دیکھتا ہوں

میں کھلے اور پھیلے ہوئے
برفیلے میدانوں کا ذکر ہرگز نہیں کروں گا
معذرت کے ساتھ
مجھے برفباری اور برف کے ساتھ کھیلنے سے نفرت ہے

دیکھو تم
میرے بارے میں غلط اندازے مت لگانا
اور غلط اندازہ پر اترانا تو بلکل بھی نہیں
چلو میں ہی تمہیں بتائے دیتا ہوں

میرے اوپر
یہ پتھر کسی نے رکھا نہیں ہے
بلکہ میں اس پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں
اور دوسروں کو بھی
اس پتھر کے نیچے دیکھنا چاہتا ہوں.!
Image: Enrico Ferrarini

Categories
شاعری

پورے نو مہینے کا اجالا؛ سات مختصر نظمیں

پہلی نظم

میں چھوٹی عمر کا
نو مولود ستارہ ہوں
میرا راستہ کیسا اور کتنا ہوگا؟

بالکل چھوٹی جمائی کی طرح
میری ٹمٹمانے اور
میرے رینگنے جتنا
مگر یہ پھر بھی آسمان میں تو ہے.

دوسری نظم

ملاح یہ ملاح
گھرے بلدار لہراتے پانی کے اندر
یا بڑبڑاتی اجھلتی غصیلی
عوامی بھیڑ کے اندر
کتنا بھی گائے گنگنائے
مچہلیاں لطف اندوز نہیں ہو سکتیں

تیسری نظم

کون کہتا ہے
چاندنی چار دن کی ہوتی ہے ؟
پورے نو مہینے کا اجالا
لڑکی کو عورت بنا دیتا ہے
مرد بننے کے لیئے تو
ایک چاند گرہن ہی کافی ہے

چوتھی نظم

پہلے دھواں تھا
بھاپ تھی
ایک کوک تھی
کوئی خاص بات نہیں تھی
بس زندگی کو بار اٹھانے کے لائق سمجھا
وہ ٹرین بنتی چلی گئی

پانچویں نظم

بھوک میں:
ربا او ربا او ربا رے
میری تو شہہ رگ جلنے لگی رے
شششش
ناشکرے
خدا ناراض ہو جائے گا

دھوپ میں:
اماں او اماں
شششش
بے صبرے
تمہارا ابا جاگ جائے گا

چھٹی نظم

ضروری ہے
کہ مور جنگل میں ہی ناچے

ضروری ہے کہ
بھڑوں کے چھتوں میں انگل ڈالی جائے
اکیلے مالھی سے
اتنا بڑا چمن چھین لیا جائے

ضروری ہے کہ
کیکر سے بیر مانگے جائیں
ضروری ہے کہ
چمچہ سینک کر
الیکشن سے پہلے
لوہار کے انگھوٹھے پر رکھ دیا جائے.

ساتویں نظم

اتنے پڑھے لکھے ہو
تمہیں ٹھیک سے جلانا
بتی بھی نہیں آتی
میں ہنس دیا

بات شروع
جہاں سے ہوئی تھی
میں نے اسے وہیں ختم کر دیا
آخر بتی جلانے سے تعلیم کا تعلق؟
میں آگے چل دیا

مگر یہ محض بات نہیں تھی
ختم کیسے ہو پاتی

ایک پروفیسر نے بتایا :
ہر فرد اپنے حصے کا کام
خلوصِ دل اور نیتِ ایمان سے کرے
انسان ؟
انسان ہے انسان سے جڑا ہوا
معاشرہ؟
معاشرے کے بگاڑ کا حل
بس اسی میں ہے چھپا ہوا

میں سوچتا ہوں آج تک
نانی بتی جلنے کڑھنے
اور دماغ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟

Image: MARC CHAGALL

Categories
شاعری

سیدھے لوگ آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے

تم پہاڑیوں اور ڈھلوانوں سے

نشیب میں اتر کر دیکھو

تو تمہیں عجیب نہیں لگے گا

کہ پانی کا بہاؤ ہمیشہ

نشیبی ہموار میدانوں اور راستوں کو کیوں اترتا ہے

 

میدان اور میدانی راستے

اچھے لوگوں کی طرح

سیدھے خستہ اور خنک رہتے ہیں

 

سیدھے لوگوں اور سیدھے میدانوں پر

صرف جنگ کے لیئے پڑاؤ نہیں ڈالا جاتا

ان سے راستے بنائے جا سکتے ہیں

ان پر پودے اگائے اور پھول کھلائے جا سکتے ہیں

ان پر قبضہ بھی کیا جا سکتا ہے

 

مچلھیاں اور سیدھے لوگ

آخری دن کی اندیشگی نہیں پالتے

انہیں کسی بھی وقت

کنڈے سے لٹکایا جا سکتا ہے

Image: Abdullah Murad

Categories
شاعری

مجھے ڈوبنا نہیں آتا

مجھے ڈوبنا نہیں آتا
مگر
جانا تو ہے
جانا پڑے گا
پہاڑوں کے پیچھے سورج کے ساتھ
کئی سائے ڈوب جاتے ہیں

مجھے چلنا نہیں آتا
کیا تم نے ٹوٹتے تارے دیکھے ہیں
وہ قدموں پر
اور گھنٹوں میں سفر نہیں کرتے
کیا تم نے کبھی ان کی رفتار ناپی ہے؟
کیا تم نے کبھی ان کا درد بانٹا ہے؟
یا صرف اپنے دل کی امید باندھی ہے

میں بولنا بھی نہیں جانتا
کیا تم نے کبھی خاموش کنویں دیکھے ہیں؟
جن میں سے
کائی اگ آتی ہے
جو شہر بھر کے گند اور گناہوں میں
چپکے سے شریک ہوجاتے ہیں

Image: Ruslan Isinev

Categories
شاعری

بھگتنا ہاتھوں کو پڑتا ہے

درد کا
کوئی فرقہ یا مسلک نہیں ہوتا.
دل کو دل سے راہ ہوتی ہے
تو
پیوند لگی غیر منظوم دعائیں
ہر قوم کا مشترکہ درد بن جاتی ہیں.
یہ کاسہ لیسی سے
کچھ علیحدہ بات ہے کہ
مجسمہ سازی ہو یا تاریخ سازی
بھگتنا ہاتھوں کو پڑتا ہے.

Categories
شاعری

ایک پتھر خواب کا المیہ

ایک پتھر خواب کا المیہ
مٹی کا ذرا
ہمیشہ مٹی کا ہی رہتا ہے

پانی کا قطرہ
لاکھ چاہے اسے گوندھے
اسے پتھر نہیں بنا سکتا

نہ ہی پتھر کی باڑیں
اپنی کوکھ میں
کسی دریا کو ٹھہرا سکتی ہیں

پتھر اور دریا
اپنے طرف میں دو الگ چیزیں ہیں
مگر جانے کیسے
اور کب سے
آنکھ کے دو بوند پانی نے
اک خواب کو پتھر بنایا ہوا ہے
Categories
شاعری

ہم سورج سے زیادہ معصوم ہیں

ہم سورج سے زیادہ معصوم ہیں
یہ سورج جو
جو روشنی کی نوید ہے

یہ ہمیشہ ایسا ہی ہے
مصور کی طرح
جو ہمیشہ خوشگوار منظر نہیں تراشتا
وہ ہر صبح کے بعد
ہر اک تھکی شام کو
حسین بنانے کی کوشش کرتا ہے

جب کہ ہم مختلف کیفیات کے
مختلف ادوار سے گزرتے ہیں

موسموں کی بہ نسبت
کبھی خوشگوار
تو کبھی یہ ناگوار ہے.
کبھی ان کہی باتوں کو سمجھ لیتا ہے
کبھی جانتے ہوئے بہی کچھ تسلیم نہیں کرنا چاہتا

ہمیں پتا ہونا چاہئے
کہ ہر گلی میں ایک قصائی ہوتا ہے
جو گوشت کو کھانے کے قابل بناتا ہے
اور ہمیں
صرف انسانیت کے لیئے محتاط رہنا چاہئے

بڑھاپا کسی چیز کو
اچھا رہنے کے قابل نہیں چھوڑتا
اس لیئے
سورج، مذہب اور انا
جب ہماری ناک جلانے لگیں
تو ہمیں کھڑکی بند کر لینی چاہئے
Categories
شاعری

زہر کا گھونسلا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

زہر کا گھونسلا

[/vc_column_text][vc_column_text]

کانٹوں سے
الجھنے کے بعد
میرے ہاتھوں کے لیے
کوملتا کا
اور کون سا جواز بچتا ہے؟

 

یہ بات الگ ہے کہ
کانٹے اپنی ضد میں
خاموش ہونٹوں اور سانپوں کی طرح
کسی کا راستہ
نہیں دیکھ رہے ہوتے

 

وہ پاؤں ہیں جو
اپنی منزل کا انتقام
خود سے لے لیتے ہیں

 

ورنہ تو
کانٹوں ہونٹوں اور سانپوں
کی خاموشی
میرے ہاتھوں کی کوملتا سے
مماثلت رکھتی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کارواں سے گزارش

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کارواں سے گزارش

[/vc_column_text][vc_column_text]

مجھے لے چلو
جہاں
پانی ندی کی ہولی ہولی گنگناہٹ کے ساتھ
پرندوں کے گیت جذب کرتا ہے

 

میں روسو سے
ملنا چاہتا ہوں
تا کہ میں تمہیں بتاسکوں
کہ دھندوں کی بھیڑ میں
مفلسی کے کرب کی
اخلاقی علامت کیا ہوتی ہے

 

جہاں ہم
نیندوں کی تشریح
خوابوں سے نہ کریں
جہاں عشق مثل آرزو نہیں
وجدان وصل ہو
جہاں بچے
درسگاہوں میں متعدی خارش کا شکار نہیں ہوتے

 

مجھے لے چلو
جہاں
عورت جب دانے چکی میں پیستی ہے
تو آٹے کا رنگ خون میں نہیں مل پاتا

 

مگر
چلنے سے پہلے ذرا ٹھہرو
مجھے سوچنا ہے
کہیں میں
بغیر سلے آٹے سے
بوری بند لاش کی وضاحت تو نہیں کر رہا.

Image: “The Bearer of Burdens” painting by Suleiman Mansour
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]