Categories
تبصرہ

پس انداز: زوالِ آدم کے بازار میں گمشدہ روایت کی بازیافت

ہمارے عہد کا المیہ یہ نہیں ہے کہ شاعری مر رہی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ شاعری اب ایک “مقدس عمل” کے بجائے ایک “سماجی عادت” بن کر رہ گئی ہے اور جب ادب عادت بن جائے تو اس میں سے وہ خوف، وہ دہشت اور وہ لرزہ خیز تجربہ غائب ہو جاتا ہے جو انسان کو اس کی اپنی حقیقت کے روبرو کھڑا کرتا ہے۔ اسد فاطمی کا مجموعہ “پس انداز” ہمارے سامنے آتا ہے تو پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ شاعر محض قافیہ پیمائی کی مشق کر رہا ہے یا اس کے اندر وہ “قدیم آدمی” زندہ ہے جو لفظ کو اپنے وجود کا حصہ سمجھ کر خرچ کرتا ہے؟ حسن عسکری نے کہا تھا کہ مغرب کی ہوائیں ہمارے گھر کے اندر تک آ گئی ہیں، لیکن اسد فاطمی کے کلام کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس شخص نے اپنے گھر کی کھڑکیاں اب تک شعوری طور پر بند رکھی ہیں، یا شاید یہ ان کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں سے آنے والی ہوا کو بھی اپنے چراغ کی لو کا حصہ بنانے کا ہنر جانتا ہے۔

شاعر کا تعلق اس قبیلے سے معلوم ہوتا ہے جو اب ناپید ہو چکا ہے۔ وہ قبیلہ جو شاعری کو الہام اور کسب کے درمیان ایک پل سمجھتا تھا۔ اسد فاطمی کی غزل میں جو فارسیت اور کلاسیکی تراکیب کا ہجوم ہے، وہ محض لغت دانی کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک ایسے تہذیبی نظام سے وابستگی کا اعلان ہے جسے ہمارا نیا “ترقی پسند” اور “جدید” ذہن رد کر چکا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ “ہنر کے کشکول میں جفا کے ثمر کی اک قاش رکھ گیا ہے” تو یہاں “کشکول” اور “ثمر” محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ ایک پوری روایت کے استعارے بن جاتے ہیں جہاں فنکار بھکاری بھی ہے اور بادشاہ بھی۔

ان کی شاعری کے پس منظر میں “استاد” کا کردار محض ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا استعارہ بن جاتا ہے جس کی “کلکِ بے نیازی” نے شاعر کی ہستی کی لوحِ خالی پر پیش لفظ لکھا تھا۔ ان کی نظم دراصل اسی روایت سے انحراف اور پھر اسی کی طرف واپسی کا ایک بلیغ اعتراف ہے جہاں شاعر یہ مانتا ہے کہ اس نے استاد کی ہر ہدایت کو “قط بہ قط، خط بہ خط غلط لکھا” مگر بالآخر وہ اسی دائرے میں واپس لوٹتا ہے جہاں روایت کا تقدس اسے پناہ دیتا ہے۔ یہ شعور انہیں جدید دور کی “کمرشلائزیشن” اور ادبی “شِٹ” (جیسا کہ انہوں نے “ایک تاریخی وعظ سے پہلے مائیکرو فون ٹیسٹنگ” میں طنزیہ انداز میں استعمال کیا) کے خلاف کھڑا کرتا ہے، جہاں وہ اپنی “بیاضِ غزل” کو دو ٹکے کی شہرت پر قربان کرنے کے بجائے اسے اپنی “آخری بچت” یا “پس انداز” کے طور پر سنبھال کر رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔”پس انداز” کا عنوان ہی جدید انسان کی نفسیات پر ایک گہرا طنز ہے۔ یہ اس “سیونگ” کا نام نہیں جو بنکوں میں رکھی جاتی ہے، بلکہ یہ اس روحانی سرمائے کا اشارہ ہے جو تہذیبی شکست و ریخت کے بعد ایک حساس روح کے تہہ خانے میں بچ رہتا ہے۔

اسد فاطمی کے ہاں “استاد” کا تصور محض ایک سکھانے والے کا نہیں، بلکہ ایک روحانی نسب نامے کا ہے۔ جدیدیت نے انسان کو باپ اور استاد سے محروم کر کے اسے “یتیم” بنا دیا ہے، مگر اسد فاطمی بضد ہیں کہ وہ یتیم نہیں ہیں۔ وہ اپنی نظموں اور غزلوں میں بار بار اس “نسب” کا حوالہ دیتے ہیں جو انہیں ماضی کے ایک غیر منقطع سلسلے سے جوڑتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو ایک خاص قسم کی حزنیہ فضا ہے، وہ ذاتی ناکامی کا نوحہ نہیں بلکہ یہ اس “اجتماعی لاشعور” کی بازگشت ہے جو محسوس کر رہی ہے کہ کچھ بہت اہم کھو گیا ہے۔ وہ “بازارِ زیاں” میں کھڑے ہو کر بھی منافع کی امید نہیں رکھتے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی شاعری ایک “روحانی مزاحمت” بن جاتی ہے۔ ان کا مصرعہ “بیٹھے ہیں اپنے دھیان میں محفل کو چھوڑ چھاڑ کر” اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شاعر ہجوم میں تنہا نہیں ہے، بلکہ ہجوم سے “بیزار” ہے، اور یہ بیزاری ہی اس کے تخلیقی جوہر کو زنگ لگنے سے بچاتی ہے۔

عام طور پر غزل میں جسم یا تو محبوب کا ہوتا ہے یا پھر ایک تجریدی وجود، مگر اسد فاطمی کے ہاں شاعر کا اپنا جسم ایک “کھنڈر” کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ وہ اپنی ذات کے داخلی کرب کو محض روحانی سطح پر نہیں رکھتے بلکہ اسے “جسمانی اذیت” میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ جب وہ “تن تندور الاؤ بھیا” کی بات کرتے ہیں تو یہاں گرمی موسم کی نہیں بلکہ ہڈیوں میں سلگتی ہوئی اس آگ کی ہے جو وجود کو آہستہ آہستہ بھسم کر رہی ہے۔ ان کی شاعری میں گرد اور دھول محض راستے کی نہیں بلکہ ان کے مساموں میں اتری ہوئی ہے۔ یہ “جسمانی ٹوٹ پھوٹ” دراصل اس تہذیبی شکست کا استعارہ ہے جو اب صرف روح تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ہڈی، ماس اور جلد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وہ اپنے ہونے کو ایک ایسے “بوجھ” کی طرح اٹھائے پھرتے ہیں جو اب ان کے کاندھوں کو چھلنی کر رہا ہے۔
اسد فاطمی کے ہاں ایک عجیب قسم کی “بے اعتنائی” اور “ملنگانہ طنز” موجود ہے جو خود ان کی اپنی ذات پر مرکوز ہے۔ وہ اپنے آپ کو “کم بخت”، “آفت” اور “ملغوبہ” کہہ کر پکارتے ہیں، اور یہ خود تضحیکی دراصل ان کا سب سے بڑا دفاع ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا ان پر ہنسے گی، اس لیے دنیا کے ہنسنے سے پہلے وہ خود اپنے اوپر قہقہہ لگا دیتے ہیں تاکہ دنیا کا وار خالی جائے۔ یہ وہ “رندانہ شوخی” ہے جو شدید ترین المیے کو بھی ایک “کامیڈی” میں بدلنے کا ہنر جانتی ہے۔ وہ المیے کو رو رو کر بیان کرنے کے بجائے ایک ایسی تلخ مسکراہٹ کے ساتھ پیش کرتے ہیں جو آنسوؤں سے زیادہ دلدوز ہوتی ہے۔ ان کا یہ انداز انہیں روایتی غزل گو شعراء سے ممتاز کرتا ہے جو صرف “رونا” جانتے ہیں، جبکہ اسد فاطمی “ہنستے ہوئے” مرنے کا ہنر جانتے ہیں۔

پس انداز کی شاعری میں جہاں وہ فارسی کی سنگلاخ زمین سے اتر کر اپنے “مقامی لہجے” میں بات کرتے ہیں، وہاں ان کی تاثیر دوچند ہو جاتی ہے۔ وہ کمرشلائزیشن” اور “ادبی سیاست” پر جب چوٹ کرتے ہیں تو ان کا لہجہ کسی صوفی کا نہیں بلکہ ایک ایسے “چڑچڑے دانشور” کا ہوتا ہے جو جانتا ہے کہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔
“دہقان”، “دریا”، “نہر”، “دوپہر”۔ یہ سب روایتی لفظ اور استعارے لگتے ہیں نا؟ مگر ٹھہریے اسد کا دہقان وہ پریم چند والا سیدھا سادا کسان نہیں ہے، یہ وجودی کرب کا مارا ہوا جدید انسان ہے جو “دریا” (وقت) کے کنارے کھڑا تماشا دیکھ رہا ہے۔ دریا بہہ رہا ہے اور دہقان کی آنکھوں میں ویرانی ہے۔ یہ تصویر کشی کسی مصور کا کام نہیں، ایک حساس شاعر کا کام ہے جس نے زندگی کو بہت قریب سے، شاید بہت قریب سے “چوٹ” کھا کر دیکھا ہے۔
اور یہ “گردِ سفر” کا قصہ کیا ہے؟ پوری کتاب میں شاعر کہیں ٹک کر نہیں بیٹھتا۔ کبھی وہ بازارِ زیاں میں ہے، کبھی رنگپورے کی نہر پر، کبھی چنیوٹ کی گلیوں میں۔ یہ بے چینی، یہ اضطراب، یہی تو وہ ایندھن ہے جس سے شعر کی بھٹی جلتی ہے۔ اگر شاعر مطمئن ہو کر بیٹھ جائے تو سمجھو مر گیا۔ اسد فاطمی زندہ ہے، کیونکہ وہ بے چین ہے۔ وہ اپنے “اندر” کے آدمی سے لڑ رہا ہے، باہر کی دنیا سے الجھ رہا ہے۔

ہمارے نئے لکھنے والوں نے “ذات” کے جس تصور کو مغرب کی اترن سمجھ کر پہن لیا ہے، وہ انہیں اندر سے کھوکھلا کیے جا رہا ہے، مگر اسد فاطمی کے ہاں ایک عجیب قسم کی “ضد” دکھائی دیتی ہے۔اپنی ذات کو بکھرنے سے بچانے کی ضد۔ ان کی شاعری میں جو “میں” ہے، وہ کوئی نرگسیت کا شکار جدید فرد نہیں بلکہ وہ “قدیم انسان” ہے جو جانتا ہے کہ کائنات کے ساتھ اس کا نامیاتی رشتہ ٹوٹ چکا ہے اور اب اسے یہ رشتہ اپنے لہو سے دوبارہ جوڑنا پڑے گا۔ جب وہ غزل کے روایتی ڈھانچے میں اپنے وجودی تجربے کو ڈھالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں پر پلاسٹر چڑھا رہے ہیں۔ یہ عمل تکلیف دہ ضرور ہے اور قاری کو بھی اس تکلیف میں شریک کرتا ہے، مگر اس کے بغیر چارہ بھی نہیں۔ ان کا لفظی نظام اس بات کا گواہ ہے کہ وہ زبان کو محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ “وجود کا گھر” سمجھتے ہیں، اور جب گھر میں آگ لگی ہو تو آدمی کھڑکی سے باہر کے نظارے نہیں کرتا، بلکہ پہلے آگ بجھانے کی فکر کرتا ہے، چاہے اس کوشش میں ہاتھ ہی کیوں نہ جھلس جائیں۔
پھر معاملہ صرف ذات کا نہیں، “عشق” کا بھی ہے جو ہمارے عہدِ زریں میں یا تو جنسی ہیجان کا نام ہو گیا ہے یا پھر سماجی تعلقات کی ایک مسخ شدہ صورت۔ اسد فاطمی کے مجموعے میں عشق ایک “تہذیبی قوت” بن کر ابھرتا ہے، ایک ایسی قوت جو “مارکیٹ” کے اصولوں کو ماننے سے انکاری ہے۔ وہ اپنے محبوب کو کسی اشتہار کا ماڈل نہیں بناتے اور نہ ہی اسے کھپت کی کوئی شے سمجھتے ہیں بلکہ اسے اس “غیب” کا استعارہ بنا دیتے ہیں جس سے مکالمہ کیے بغیر انسانی زندگی بے معنی اور بے رس ہے۔ ان کے ہاں محبت، وصال کی خواہش سے زیادہ “فراق” کے ان آداب کا نام ہے جو انسان کو اندر سے پختہ کرتے ہیں۔ آج کا قاری جو “انسٹنٹ کافی” کی طرح فوری نتیجے اور فوری سرشاری کا عادی ہے، اسے اسد کی یہ “ریاضت” شاید بوجھل لگے، مگر شاعر کو اس کی پروا اس لیے نہیں کہ وہ جانتا ہے کہ سچی شاعری قاری کی خوشنودی کے لیے نہیں بلکہ اپنی روح کی تطہیر اور کائنات سے اپنے تعلق کی بازیافت کے لیے کی جاتی ہے۔

مزید برآں، اسد فاطمی وقت کو جس پیمانے سے ناپتے ہیں وہ گھڑی کی سوئیوں والا حسابی وقت نہیں بلکہ وہ “ازلی وقت” ہے جس میں ماضی، حال اور مستقبل ایک نقطے پر آ کر مل جاتے ہیں۔ مابعد جدید عہد نے ہمیں “لمحہِ موجود” کا اسیر بنا دیا ہے اور ہم تاریخ کے تسلسل سے کٹ گئے ہیں، مگر اسد فاطمی اس لمحے کو پھلانگ کر اس “دائمی سچائی” تک پہنچنا چاہتے ہیں جو روایت کے دامن میں چھپی ہے۔ ان کا یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ “تاریخ” کے جبر کو تسلیم تو کرتے ہیں مگر اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں، وہ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں جو آج کل کے شعری منظرنامے میں نایاب ہے۔

ان کی زبان کا کھردرا پن اور فارسی آمیز لہجہ دراصل اس “چکنی چپڑی” زبان کے خلاف ایک بھرپور احتجاج ہے جس نے ہماری فکر کو مفلوج اور ہمارے احساس کو کند کر دیا ہے۔ وہ جان بوجھ کر ایسے الفاظ اور تراکیب استعمال کرتے ہیں جو قاری کو “ٹھوکر” لگائیں، تاکہ وہ رک کر سوچے کہ یہ لفظ یہاں کیوں ہے؟ یہ “لسانی مزاحمت” ہی ان کا اصل ہتھیار ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اردو شاعری کا مزاج محض محفل میں “واہ واہ” کروانا نہیں تھا بلکہ قاری کے شعور کو ایک ایسی سطح پر لے جانا تھا جہاں اسے اپنی “کم مائیگی” اور کائنات کی ہیبت کا احساس ہو سکے۔ اسد فاطمی کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو جھوٹی تسلی نہیں دیتے بلکہ اسے بے چین کرتے ہیں، اسے اس کے خواب غفلت سے جھنجھوڑتے ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ جس فن سے قاری کا سکون برباد نہ ہو، وہ فن نہیں، محض ایک نشہ ہے جو اتر جائے گا۔

مجموعی طور پر، “پس انداز” ایک ایسے شاعر کی دستاویز ہے جو اپنے عہد کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکاری ہے۔ یہ شاعری ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو ادب میں “تفریح” تلاش کرتے ہیں، بلکہ ان کے لیے ہے جو ادب میں “اپنا چہرہ” دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ چہرہ کتنا ہی مسخ شدہ کیوں نہ ہو۔ اسد فاطمی نے ثابت کیا ہے کہ روایت کی راکھ کریدنے سے صرف ہاتھ کالے نہیں ہوتے، بلکہ کبھی کبھی اس میں سے کوئی چنگاری بھی نکل آتی ہے جو اس ٹھنڈے اور بے حس معاشرے میں آگ لگانے کے کام آ سکتی ہے۔ یہ کتاب ایک اعلان ہے کہ “آدمی” ابھی پوری طرح نہیں مرا، اس کے اندر کا “دکھ” ابھی زندہ ہے، اور جب تک دکھ زندہ ہے، شاعری زندہ رہے گی۔ اسد فاطمی کی کامیابی یہ نہیں کہ انہوں نے کوئی نیا فلسفہ پیش کیا ہے، بلکہ ان کی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ ہم کیا بھول چکے ہیں۔ اور یقین مانیے، آج کے دور میں یاد دہانی سے بڑا کوئی جہاد نہیں۔

Categories
غیر درجہ بندی

یاد آتا رہا

یہ محبوب کی یاد میں کہی گئی ایک مسلسل غزل ہے. اس میں تھوڑی ڈھکی چھپی عریانی بھی ہے، غزل کی اصل روایت سے جو کٹی ہوئی نہیں، یہاں اصل سے مراد لکھنوی دہلوی نہیں بلکہ اوور آل عربی، عجمی اور ہندی ہے، ہندی جس میں سندھ پنجاب خیبر بھی ویسے ہی شامل ہیں جیسے یو پی اور دکن اور اور بنگال سب!

لیکن ، اور اس لیکن ہر زرا ڈرتا ہوا سا زور بھی ہے، گزشتہ صدی کی متشدد منافقت نے تاریخ اور جغرافیہ کو ری رائٹ کرتے کرتے خود ثقافت اور تمدن کو بھی ری رائٹ کرنا شروع کر رکھا ہے۔ تو ایسے میں دیگر سب طبقوں کی طرح شعرا کے ہاں بھی ایسے جعلی صوفی اور سوڈو مذہبی اور فیک فلسفی مقبول مشہور ہو رہے اور کیے جا رہے ہیں جو خود جین زی کو جین ایکس بنا رہے ہیں اور جین وائے والے داد کے ڈونگرے برسا رہے ہیں ، حالانکہ برسانے ڈونگے اور چمٹے چاہئیے تھے۔

یہ شاعری جو میں یعنی کوئی بھی شاعر تو تب سے کر رہا ہے جب سے دل اور دنیا بنے ہیں زبان اور بیان کے سانچے پہلے خواب و خیال میں ڈھلے اور ہھر لوح و قلم پر اترے ہیں۔۔ پھر بھی یہ ہر گز کوئی ٹیبو توڑتی شدید تحریر یا انقلاب برپا فرماتی حدید تقریر نہیں۔ نہ اس غزل کو کسی ما بعدی ما قبلی قسم کا لقوہ لاحق ہے نہ ہی کوئی اشراف یائی امپورٹ ایکسپورٹ شدہ چدہ نالج کا فالج۔ یہ تو گویا گئے زمانوں کی نئے زمانوں والی بات ہے۔ اصل میں اس غریب کو کوئی دعویٰ سرے سے ہے ہی نہیں ، بس یہ خود ہے اور کافی ہے اور شافی ہے۔
ادریس بابر
…………….
بارش کے ہر قطرے میں یاد آتا رہا
آج وہ لمحے لمحے میں یاد آتا رہا

وہ جو میرا دل تھا، میری دنیا تھا
آج تو ذرے ذرے میں یاد آتا رہا

میں ٹھیرا تو میری منزل ٹھیرا وہ
چلنے لگا تو رستے میں یاد آتا رہا

اُس کی آنکھیں ایسا ایک کھُلا چیلینج تھیں
زیست کے بند کٹہرے میں یاد آتا رہا

انگلیاں اُس کے بالوں کو مِس کرتی رہیں
اُس کا کِس ہر قصے میں یاد آتا رہا

اُس کا ڈرتے ڈرتے پہلا سگرٹ پینا
ہر کش میں ہر سُوٹے میں یاد آتا رہا

اُس کا چائے بنا کر دینا، آپ نہ پینا
کبھی کبھی تو غصے سے یاد آتا رہا

گیسو شام اترنے پر اکساتے رہے
چہرا دھوپ نکلنے پہ یاد آتا رہا

پہلے پہل دو چار ہتھیلیوں کا ہونا
سُوپ کے گرم پیالے سے یاد آتا رہا

بیسیوں انگلیوں کا آپس میں رچ بس جانا
گلیوں بھرے محلے سے یاد آتا رہا

جیسے اُس کے لب وَا ، اَن وا ہوتے تھے
کلی گلاب کی کھلنے سے یاد آتا ریا

اُس کی کچی زبان کا کھٹا میٹھا لمس
سُندر خانی خوشے سے یاد آتا رہا

کیسے اُس نے شرٹ اتار کے پھینکی، کیسے!
سینہ ملا تھا سینے سے، یاد آتا رہا

بیلٹ اُس نے کھولی یا مل کے توڑی تھی
آج بھی ایک اچنبھے سے یاد آتا رہا

اُس نے کونسے رنگ کا انڈر وئیر پہنا تھا
آج دھنک کے جھونکے سے یاد آتا رہا

اُس کے شانے اُس کی ران اور کان کا لمس
آم اور سیب اور کیلے سے یاد آتا رہا

اُس کا چیخ کو میرے گال کی ڈھال پہ روکنا
مزے سے اور پچھتاوے سے یاد آتا رہا

لطف کے مارے دانت جہاں تہاں گاڑے تھے
صبح کو دفتر جاتے ہوئے یاد آتا رہا

سارے اُس نے خزانوں کے منہ کھول دیے تھے
پھر کیا ہوا، دھڑلے سے یاد آتا رہا

وہ انعام کا مظہر، یقین کا جانِ جاناں
تاریخ ادب کی پڑھتے ہوئے یاد آتا رہا

میر کی جرات کہاں جہاں ہم چومے چاٹے
ہونٹ نہیں تھے شعلے تھے یاد آتا رہا

کتنا حسین تھا، بالکل الف لیلہ کا سین تھا
ہر ناول افسانے میں یاد آتا رہا

جس پہ ساتھ ہم ہاتھوں ہاتھ نہائے تھے
وہ چوکا ہر چھکے پہ یاد آتا رہا

پیڈل بوٹ میں پاؤں مار رہے تھے دونوں
اس دوران پسینے سے یاد آتا رہا

یہ بھی نہیں کہ ہر ہر منٹ ہر ہر سیکنڈ میں
ہر دن ہفتے مہینے میں یاد آتا رہا

میں نے اُسے بھلانے کی کتنی کوشش کی
وہ چالاک جو دھوکے سے یاد آتا رہا

اُس کے ساتھ سدا خوش رہ سکتا تھا میں
لیکن ۔۔ وقت گزرنے پہ یاد آتا رہا

میں نے کیسے عمر گنوا دی اُس کے بغیر
ہائے! ہائے ہائے سے یاد آتا رہا

آخر وہ کیا چیز تھی، وہ کیا چیز تھا بابر
ہر لڑکی ہر لڑکے میں یاد آتا رہا

بابر اُس سولہ سالہ کا پہلا بوسہ
زیست کے آخری لمحے میں یاد آتا رہا

بابر کیا وہ مجھ سے علاحدہ کوئی شخص تھا
رات مجھے جو نشے میں یاد آتا رہا

Categories
شاعری

معنیٰ کے اثبات میں اور دیگر نظمیں


بات ہوتی ہے کہاں

بات ہوتی ہے کہاں
لفظ و معنی میں خموشی کی جو دیوار ہے گرتی ہی نہیں
بولتے رہتے ہیں ہم بے سر و پا
بولتے رہتے ہیں اور کٹتا چلا جاتا ہے لفظوں کا بدن
کوئی تعبیر نہیں خوابِ گریزاں کی اس آئینے میں
جس میں تم تھی تو وہ تھا
جس میں میں ہوں تو وہ خود گرد ہوا جاتا ہے
گرد سے راہ نمودار تو ہو ۔۔۔ راہ نکلتی ہی نہیں
لفظ و معنی میں جو دیوار ہے اس کا سایہ
ڈھانپ لیتا ہے اشاروں کا بدن
اور ٹھٹھرتے ہوئے موہوم کنایوں کی رگوں میں بہتا
جیسے خوں جم جائے
زخم خوردہ ہے بدن روح میں گھاؤ ہیں بہت
بات کس ڈھب سے بنے
بات ہو بھی تو کہاں
دوپہر شام تک آتی ہے تو اظہار کے پیرائے بھی ڈھل جاتے ہیں
خواب در خواب وہی خوابِ گریزاں کی لپک
دشت در دشت وہی رم خوردہ
تم وہ آہو ہو کہ میں
کوئی تعبیر نہیں کھلتی سو کیسے کہیے
جیسے چھو لیتے ہوں آئینے سی دیوار کو ہم سوتے ہوئے
ایک جھٹکے سے اٹھے، اٹھ کے بہت دیر خموشی میں رہے
پھر بہت دیر بہت لفظ بہت آوازیں
باہر اندر ہیں بہت آوازیں
لفظ اکھڑتے ہیں جگہ سے اپنی
ایسا لگتا ہے کہ دیوار میں روزن سا ہوا، اینٹ اکھڑی
تم ہو اس پار کہ آپ اپنی ہی پرچھائیں کی دہشت میں ہوں میں
درز سے جھانک تو سکتا ہوں مگر ڈرتا ہوں
بات ہوتی ہے کہاں اتنی پریشانی میں
اتنے الجھاؤ میں آوازوں کے
کہتے کہتے کوئی کچھ کہہ نہیں پاتا آخر
یہ “کوئی” تم ہو کہ میں !
آنکھ میں آتے ہوئے آنسو کا معنی کیا ہے
گریہ زن میں تھا کہ تم
تم سے کہتا ہوں : کوئی بات کرو توڑ بھی دو یہ دیوار
تم مگر کانچ کے ٹکڑوں کی چبھن سے ڈرتی
صرف رو دیتی ہو اور میرے لیے صرف یہ آواز ہی رہ جاتی ہے
بات ہوتی ہے کہاں

۔۔۔۔۔


معنیٰ کے اثبات میں

ہم جو لکھتے ہیں معنیٰ کے اثبات میں
بیٹھ کر لفظ کی گھات میں
کیسی معتوب تاریخ کے حاشیے میں وہ اثبات ہے
جس کا جغرافیہ ہم میں دم بھر کو خاموش رہتا نہیں
ہم اسیرانِ کوہ و دمن
جو ہماری لرزتی ہوئی نبض میں نوحہ گر
نغمہ در نغمہ نوحوں کی ترتیل میں لفظ خود کھو گئے
نام گم ہو گئے
کتنا ابہام ہے جبر کے منطقوں میں اترتا ہوا
جیسے معنٰی کے اثبات میں کوئی نغمہ نہ ہو
نوحہ گر کوہ و دامان کی وسعتیں جیسے باہر نہ ہوں
سانس کی لگتی گرہوں میں ہوں
سانس کی آمد و رفت رنجِ فراواں کا وہ سلسلہ
جس کو تھمنا تو ہے پر وہ تھمتا نہیں
خوف برحق ہے جو ہم پہ نازل ہوا
آیتِ خوف پر اس تیقن سے ایمان لائے کہ جینے کا مفہوم ڈر ہو گیا
حرفِ انکار جو رینگتا تھا کبھی اپنے ہونٹوں پہ بھی
ڈر تلے دب کے نامعتبر ہو گیا
حرفِ اقرار ہے اور مسلسل ہے چو سمت میں
شور ہے ان کا جن کی زبانوں پہ “ہم مانتے ہیں” کی آواز ہے
ایک تکرار ہے جس میں لب کھولیے بھی تو معنی سے خالی سخن کی خبر ۔۔۔
کچھ اُنہی پیچ و خم کھائے رستوں کی؟ کوہ و دمن کی خبر ؟
کچھ نہیں تو ہماری زباں پر خموشی کا شعلہ رہے
ہم جو لکھتے ہیں معنی کے اثبات میں
اب بھٹکتے ہوئے تھک گئے ذات میں
شعلگی کھو گئی اور آنکھوں میں اپنے ہی ہونے کا خاکستری وہم سا رہ گیا
اپنا جغرافیہ ہے رگ و پے میں اب بھی دھڑکتا ہوا ؟
کچھ کہو رہ گئے ہم بھی یا کچھ نہیں ؟
ہم جو لکھتے تھے معنی کے اثبات میں ۔۔۔

۔۔۔۔۔


کیا ہم سب گم ہو جائیں گے

لکیر کے اِس طرف ہجومِ سگاں کی شوریدگی کا منظر
عجیب جنگل ہے جس میں کوئی کسی پہ بھی رونما نہیں ہے
درخت بہتات میں ہیں لیکن ہوا نہیں ہے
پرندگاں بے شمار شاخوں پہ اور کوئی بولتا نہیں ہے
لکیر جیسے ہو سانپ سا رینگتا ہوا بے تکان بن میں
لکیر جیسے ہو خوف لرزاں اکیلے پن میں
مہیب پرپیچ شاخساروں کی دھند میں راہ کھو گئی ہے
کہ کھو گئی ہے وہ سمت جس میں رواں دواں تھا ہمارا ہونا
کہ خاک نے اِن برہنہ آنکھوں سے تنگ آ کر
خود اپنے چہرے کو ڈھک لیا ہے!
زمیں پشیمانیوں کی زد میں ہے جیسے پہلے کبھی نہیں تھی
زمین جس پر رواں تھا پانی ہمیشگی کا
نہاں تھا جس میں خمیر رنگوں کی زندگی کا
نہ دھوپ ہی کی کرن کہیں اور نہ رات ہی کا سرا کوئی ہاتھ آ رہا ہے
جو چاندنی کا سراغ لائے
دلوں سے پھولوں کے داغ لائے
ہمارے گم کردہ باغ لائے

لکیر کے اُس طرف صداؤں کی نالگی بین کر رہی ہے
وہاں وہ سناہٹوں کی گردش
کہ ڈولتے ہیں شناسا آواز کے قدم بھی
عجیب ہے نالگی کی بندش کا رنگ اب کے
نہیں سخن زیرِ لب جو ہم بھی
تو روح میں جیسے بے کراں رنج کی ہو لرزش
ہمارے ہاتھوں میں وقت سے پیشتر اترنے لگا ہے رعشہ
سروں پہ چاندی بکھر رہی ہے
اُدھر کی آواز سننے والے تمام کانوں کو رینگتے گم شدہ قدم چاپ بھیجتے ہیں
اور اتنا پیغام : خود ہی معنی کشید کر لو !
وہاں کمانوں سے تیر نکلے تو روح میں سو طرح کے چھیدوں کا گھر ہوا ہے
مکینِ جاں کیسا ڈر ہوا ہے :
لکیر کے پار کچھ نہیں ہے
نہ تم کہیں ہو نہ میں کہیں ہوں !

۔۔۔۔۔


۔۔۔تو اب یہ دھیان آتا ہے

تو اب یہ دھیان آتا ہے
کہ کم لکھتے
ہوائے تیز کی رو میں اڑے جاتے ہوئے لفظو
ہمیں تم سے معافی مانگنا ہے چپ نہ رہنے کی
تمہیں مفہوم و معنی سے تہی کرنے
تمہاری کیفیت کو ملتوی کرنے
تمہیں اتنا برتنے کی
کہ اب ہم بھی گریزاں ہیں
تمہارا سامنا کرنے، تمہیں پہچان لینے سے
خموشی کتنی معنی دار ہو جاتی
اگر ہم صبر کر لیتے
مگر ںے صبر موسم روبرو آئے
تو ہم نے کھو دیا جو کچھ ہمارا تھا
بہت لکھا
بہت کھرچے زمیں کے داغ
اور اب جب لہو رستا ہے داغوں سے
تو ہم کو خوف آتا ہے
شبِ تاریک کے پہلے پہر سے آخری موہوم دستک تک
ہم اپنے گھر کے دروازوں کی لرزش
کھڑکیوں کی کھڑکھڑاہٹ سے بدکتے ہیں
وہی گمبھیرتا شب کی
جو صدیوں سے خموشی میں نہاں آواز کا رستہ دکھاتی تھی
تو ہم تکتے نہیں تھے
اب ذرا بولی تو ہم آواز سے ڈرنے لگے ہیں
رمیدہ خوشبوئیں افسردہ پھولوں میں پلٹ آئیں
تو ہم بھی کنجِ بے معنی سے باہر آ کے کھو جائیں
ہوا کے تند گھیرے میں
شبوں کے سُن اندھیرے میں
مگر اب ایسا لگتا ہے کہ ہم بولے بہت بولے
ہمیں کم بات کرنا تھی
ذرا دھیمی صدا میں لفظ بُننا تھے
اسے معلوم ہے ہم تاشبِ آخر بہت بولے
سو وہ کیوں آج اپنے دھیان کا دروازہ کھولے
جو مقفل ہے زمانوں سے
نہ دن، سورج کی کرنیں اس کے چھیدوں سے گزرتی ہیں
نہ شب، چلتی ہوائیں اس کی دیواروں میں پوشیدہ دیے سے وصل کرتی ہیں
وہ کیوں دیوار و در سے دو گھڑی نکلے
بھلے ہم اپنی چھاتی کے خلا سے چیخ کر اس کو بلاتے ہوں
سو اب یہ دھیان آتا ہے
تو ہم خاموش رہتے ہیں
مگر خاموش رہنے کا ہنر ہم کو نہیں آتا

Categories
شاعری

ہمیں اپنی محبوباؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے اور دیگر نظمیں

آوازوں کے شہر میں

آوازوں کے اس شہر میں
تم مجھ تک پہنچنے کے لیے
ہمیشہ خاموشی کا رستہ اختیار کرتے ہو
تمہیں معلوم ہے میری خاموشی
تمہاری محبت سے زیادہ مضبوط ہے

تم کہتے ہو کہ زندگی
شراب خانے میں پڑی خالی بوتل سے زیادہ اداس لگتی ہے
مگر مجھے تمہارے ہاتھ
تمہاری آنکھوں سے زیادہ افسردہ نظر آتے ہیں

دریائے تھیمز (River Thames)کے کنارے کھڑے ہوکر
میں تمہیں کسی سیاح کی حیرت سے دیکھتا ہوں
اور یاد آتا ہے وہ لمحہ
جب تم نائٹ کلب کے خواب آگیں ماحول میں
میری طرف دیکھ کر پہلی بار مسکرائے تھے

پھر تم میرے دل کی کائنات سے بڑے کیسے ہوگئے؟
اب تمہاری باتوں سے خاموشی
اور کافور کی مہک آتی ہے

آوازوں کے اس شہر میں
جذبے کتنے مہنگے ہیں
مگر جسم کتنے سستے۔۔۔۔۔

ہمیں اپنی محبوباؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے

ہمیں محبوباؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے
جنہوں نے اپنی زندگی کے بہترین دن
ہمارے ساتھ گزار دیے

انہوں نے ستاروں سے بنے دل
ہمارے قدموں میں
اس طرح پھینکے
کہ وہ پھر کبھی نہ جڑ سکے

ہماری محبوباؤں نے معمول کے دنوں کو
ہمارے لیے غیر معمولی بنایا
اور جب کبھی ہم ان کی سالگرہ کا دن بھولے
انہوں نے معافی کے عوض
ایک رات مانگی
جسے ہم نے اپنے بارے میں سوچ کر ضائع کردیا

اور ہمیں محبوباؤں کا شکر گزار ہونا چاہیے
کہ ہماری تمام خوشیاں
ان کے جسموں میں دفن ہیں

بے ترتیب موسموں میں

میرا جسم آنسوؤں سے بھیگ گیا
درخت ماتمی گیت گانے لگے
اور بندوق کے سائے میں
کچھ پھول مرجھا گئے

بے معنی آوازوں کے ہجوم نے
کتنے بدن کچل دیے
اب تنہائی کی زمین پر
صرف موت کا محاصرہ ہے

ہمارے خوابوں کے پیالوں میں
نمکین پانی کے سوا کچھ نہیں بچا
ہم زندگی کے پتھروں سے ٹکراتے رہے
اور تم نے ہماری قسمت کے پھول
اپنی ہتھیلی میں مسل دیے

ہم آسمان کے قیدی
اور مٹی کی خوشبو کو ماننے والے
تمہارے محافظ دستوں سے مدد نہیں مانگ رہے

ہم اپنی یادوں کی تتلیوں کا تعاقب کرتے ہوئے
زندگی کا بادبان پانیوں کی زمین پر کھولنا چاہتے ہیں
کیونکہ دریاؤں کے کناروں پر
زندگی اور موت
بہت آسان ہوتی ہے

Categories
نان فکشن

اختر حسین جعفری: ایک مطالعہ، ایک مشاہدہ

رسالہ فنون کے تاثرات کے گوشے میں محترمہ منصورہ احمد کی نظم بعنوان مجھے رستہ نہیں ملتا پر اپنا تاثر رقم کرتے ہوئے معروف شاعر اور نقاد جناب غافر شہزاد فرماتے ہیں:

“منصورہ احمد اپنی نظم اس سطر سے آغاز کرتی ہیں مجھے رستہ نہیں ملتا منصورہ احمد کے قریب کھڑا دوسرا شخص بھی یہی کہتا کہ مجھے رستہ نہیں ملتا یہی سطر جب ان کے قریب کھڑے تیسرے شخص اختر حسین جعفری تک پہنچتی ہے تو وہ کہتا ہے:

سرشکِ خوں رخِ مضموں پہ چلتا ہے تو اک رستہ نکلتا ہے
ندی دریا پہ تھم جائے
لہو نقطے پہ جم جائے
تو عنوان سفر ٹھہرے
اسی رستے پہ سرکش روشنی تاروں میں ڈھلتی ہے
اسی نقطے کی سولی پر پیمبر بات کرتے ہیں”

یہی وہ نقطہ ہے جس کی سولی پر پیمبر بات کرتے اور یہی وہ نقطہ ہے جو جناب اختر حسین جعفری صاحب کی شاعری میں موجود، بنیادی فکر کی کلید تربیت یافتہ قاری اور صاحب بصیرت نقاد کے ہاتھ میں تھماتا ہے۔

جناب اختر حسین جعفری اپنے اولیں مجموعہ کلام آئینہ خانہ کے پیش لفظ زمیں کا اولیں مکتوب میں اسی نقطے کی شرح اس طرح بیان کرتے ہیں:

بادلوں کے نام زمیں کا یہ مکتوب ان دعاؤں ، التجاؤں ، شکایتوں اور حکایتوں پر مشتمل ہے زمین جسے ہوا ستارے ،پھول ، لمحہ لمحہ سوکھتے ہوئے سمندر ، پھٹے بادبان ،خالی مکان ، پیوند لگی چادر ،طلوع ہوتے ہوئے آفتاب اور گہنائے ہوئے مہتاب سے لکھواتی ہے اور انہی نامہ بروں سے جواب میں تاخیر پر گلہ مند بھی ہوتی ہے۔ ہوا کی ایک اپنی زبان ہوتی ہے۔ ستارہ اپنا استعارہ خود وضع کرتا ہے۔پھول کے سات رنگ اپنی علامتیں خود معین کرتے ہیں تاکہ دھنک کی چھایا کو اظہار میں آسانی رہے اور بہار تازہ اپنی مہکار کو نغمگی پہنا سکے۔ لمحہ لمحہ سوکھتا ہوا سمندر اپنے عدد کی لکیر خود کھینچتا ہے کہ قرن قرن سے تنگ ہوتے زمینی دائرے کو کچھ اور جگہ مل سکے ،کچھ اور مکان تعمیر ہو سکیں وہ مکان جنہیں بالآخر اپنے مکینوں سے محروم اور اپنی مضبوط بنیادوں کے باوجود منہدم ہونا پڑتا ہے۔ پھٹے ہوئے بادبان کا روزن قضا و قدر کا مفہوم خوب سمجھتا ہے اور پیوند لگی چادر نے ہر عہد میں نو بہ نو لغت تخلیق کی ہے جس کے واضح ابلاغ سے
طلوع ہوتے ہوئے آفتاب نے اور گہنائے ہوئے آفتاب نے ہمیشہ پہلو تہی اختیار کی اس لیئے کہ آفتاب اور مہتاب کے آئینے صرف وہی تصویریں وہی اشکال اور وہی چہرے دکھاتے ہیں ، انہی اعداد کی تفہیم کراتے ہیں ،جنہیں کور چشم دیکھنا اور سمجھنا چاہیں۔۔۔ اور زمین پر صلیب کی صورت وہی میزان گڑی ہے جس کے پلڑے ہر راست فکر کی عمودی قوت کے منکر ہیں ۔ اسی میزان کے پلڑے میں انسان ایک یرغمالی کی صورت زندہ اپنی رہائی کی قیمت پوچھ رہا ہے۔ ان کوٹ
اس عمودی فکر کے استرداد کے نتیجے میں جناب اختر حسین جعفری نہ صرف سولی کو علامت بنا کر نوع انسانی کے ازلی استحصال کی شعری تمثیل بیان کرتے ہیں بلکہ اس شعری تمثیل سے قبل مزاحمت کا علم اس طرح بلند کرتے ہیں
“راہبوں نے کہا : لوگو! یہ شخص جس کے ہنر مند ہاتھ شب الزام خالی آسمان کی طناب سے باندھے گئے اس کے اور زمین کے درمیان کوئی بھید تھا اور اب یہ زلزلے نہ رک سکیں گے اور منقسم آفاق سے تازہ ہجرتوں کے چاند پھر طلوع ہوں گے، لوگو! اس نے اتنا ہی تو کہا تھا کہ مناجات کی رات اگر روشن الاوٗ کے گرد سگ آوارہ منڈلانے لگے تو خشک لکڑی آلاوٗ پر پھینکنے کی بجائے بے ادب کتے پر پھینکو۔”

جس نقطے کی سولی پر پیمبر بات کرتے ہیں اس نقطے کی شرح و تعبیر جناب اختر حسین جعفری نظم سولی سے عیسیٰ اترے میں اس انداز سے کرتے ہیں:

سولی سے عیسیٰ اترے تو تیز ہوا کا زور تھمے
قاتل ہاتھوں کا زخم بھرے
عہد ہمارا، عہد ملامت ،عہد خجالت
ایک اپاہج کی بیساکھی کتنے لنگڑوں کے کام آئے گی
ہم سب لنگڑے اور اپاہج ، سب کے جسموں پر ناسور ہیں اور اس کے اعجاز کا مرہم
کم مقدار ہے، صبر طلب ہے اور گراں ہے
مریم جس کے بال کھلے ہیں
کب تک وہ ماں اپنے پسر کے حرف دعا کا پیشِ عدالت ورد کرے گی
سحر ملامت کب ٹوٹے گا
تخت سے عیسیٰ کب اترے گا
سولی سے عیسیٰ اترا تو گردن خم تھی
سولی سے عیسیٰ اترا تو اپنی خبر، اپنے الہام سے شرمندہ تھا”

اور مناجات کی رات الاوٗ کے گرد بیٹھے عبادت گزار سولی سے اترے عیسیٰ کی خبر اور الہام کی شرمندگی کا اظہار نوحہ کی صورت یوں کرتے ہیں کہ

اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب
اب کسی ابجد سے زندان ستم کھلتے نہیں
سبز سجادوں پہ بیٹھی بیبوں نے
جس قدر حرف عبادت یاد تھے پو پھٹے تک انگلیوں پر گن لئے
اور دیکھا۔۔۔ رحل کے نیچے لہو ہے
شیشہ محفوظ کی مٹی ہے سرخ
سطرِ مستحکم کے اندر بست ودر باقی نہیں
یاالہیٰ مرگ یوسف کی خبر سچی نہ ہو
ایلچی کیسے بلاد مصر سے
سوئے کنعاں آئےہیں
اک جلوس بے تماشہ گلیوں بازاروں میں ہے
تعزیہ بردوش انبوہِ ہوا
روزنوں میں سر برہنہ مائیں جس سے مانگتی ہیں منتوں کا اجر خوابوں کی زکوٰۃ
سبز سجادوں پہ بیٹھی بیبو!
اب کسی ابجد سے زندان ستم کھلتے نہیں
اب سمیٹو مشک و عنبر، ڈھانپ دو لوح و قلم
اشک پونچھو اور ردائیں نوکِ پا تک کھینچ لو
کچی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں

بیسویں صدی کے نصف آخر میں شعری افق پر پوری آب و تاب سے نمودار ہونے والی یہ شاعری نہ صرف اپنے متقدمین کی شاعری سے انتہا درجے کی مختلف اور منفرد تھی بلکہ جناب احمد ندیم قاسمی کے مطابق جناب اختر حسین جعفری کی شاعری غالب کے بعد، غالب جیسی شاعری کی واحد مثال ہے کوٹ غالب کی شاعری طرح یہ شاعری بھی بظاہر پیچیدہ مگر بباطن اتی ہی تہہ دار ہے۔یہ ایک ایسی بھرپور شخصیت کی شاعری ہے جو حد درجہ ہنرمند بھی ہے اور اس کا تخلیقی وفور اس کے لفط لفظ سے چھلکا پڑ رہا ہےاس کا وجود فن شاعری کی تجسیم ہے۔ کم سے کم ۱۹۴۷ کے بعد اس پائے کا پیکر ساز اور تمثال ساز اور علامت ساز اور تراکیب ساز شاعر بمشکل ہی دستیاب ہوگا۔ یقیاً اقبال کے بعد راشد اور فیض اور مجید امجد اور ظہور نظر کی شاعری کئی جہات سے مثالی ہے مگر اختر حسین جعفری کا اسلوب اظہار سب سے الگ پہچانا جا سکتا ہے ، یہ ایک ایسے بلند معیار کا اسلوب ہے جسے کوئی بھی دوسرا بڑا شاعر اختیار کرنے کی کوشش کرے گا تو ٹھوکر کھائے گا۔”

فلسفے کے استاد اور صاحب بصیرت نقاد جناب محمد ارشاد کے مطابق ابو المعانی مرزا عبدلقادر بیدل کےبعد اردو اور فارسی شعری روایت میں اختر حسین جعفری کا نام سب سے اہم اور معتبر حوالہ ہے۔ جبکہ جابر علی سید کے مطابق جناب اختر حسین جعفری اس عہد کا سب سے اہم نظم گو شاعر ہے۔

رسالہ فنون اور دیگر رسائل میں چھپنے والی تنقیدی آرا کے مطابق مطابق جناب اختر حسین جعفری، ناظم حکمت محمود درویش ،ٹی ایس ایلیٹ اور پابلو نرودا ایک ہی قبیلے کے افراد ہیں۔

قارئین، یہ تنقیدی آرا جہاں جناب اختر حسین جعفری کی علمی اور شعری عظمت کا اعتراف کرتی ہیں وہاں قارئین شعر و ادب کے ازہان میں کچھ سوالات بھی قائم کرتی ہیں کہ آخر اس شاعری میں ایسا کونسا تخلیقی جوہر ہے جو اسے نہ صرف متقدمین و متاخرین کی شاعری سے ممتاز کرتا ہے بلکہ اس شعری اسلوب کو مستقبل گیر اسلوب بھی قرار دیتا ہے۔ اور اس شاعری کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں جن کے باعث اسے عظیم، بے مثال اور لازوال شاعری قرار دیا جاتا ہے جناب اختر حسین جعفری صاحب کی شاعری کے حوالے سے موجود یہ تنقیدی آرا کیا محض فخر و مباہات کا مزاج رکھتی ہیں یا واقعی یہ شاعری ان آرا کی حقدار بھی ہے؟ ان تمام سوالات کا جواب جناب اختر حسین جعفری کی کتب آئینہ خانہ اور جہاں دریا اترتا ہے کی شاعری کو خود فراہم کرنا ہے البتہ جواب کے متلاشی علم جو اور متجس قاری پر جناب اختر حسین جعفری کی شاعری یہ زمہ داری عاید کرتی ہے کہ اس علمی و تحقیقی مہم میں وہ بالعموم اردو فارسی شعری رو ایت کے سفر سے منزل بہ منزل آگاہ ہو اور بالخصوص اردو نظم کے دستیاب اور دریافت شدہ شعری علاقے اس کی نگاہ میں ہوں اور نئے شعری علاقوں نئی شعری ابعاد و جہات کی شناخت کے لئے درکار اہلیت ، تنقیدی استعداد اور بصارت بھی رکھتا ہو۔

اگر ہم ان قائم کردہ سوالات کی بہتر تفہیم کے لئے اردو نظم کی روایت کو زہن نشین رکھیں تو ہم اس امر سے آگاہ ہوتے ہیں اردو نظم کی روایت مغرب کے تتبع میں شعری اظہار کے لئے نئے شعری پیرہن کی تو آرزو رکھتی ہے مگر اپنی فکری اور تخلیقی عادات کے سبب مغرب کے طرز اظہار و احساس سے کسی حد تک نا آشنا رہتی ہے۔ اردو شعری روایت میں ہمیں قادر الکلامی ، مضمون نگاری ،معنی آفرینی کے خزائن تو دستیاب ہیں مگر اردو شعری روایت سخن کی پرورش کے لئے اشک غم سادہ پر ہی اصرار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایسا نہیں کہ متقدمین معاشی ،سماجی طبقاتی سیاسی ناہمواریوں کے کرب سے آشنا نہیں تھے یا زندگی کے دیگر مسائل ان کی نگاہوں سے اوجھل تھے مگر اردو شعری روایت کے محبوب ترین مضامین گل و بلبل عشق و محبت ہجر و وصال ، تصوف احساس زیاں رائگانی زمانے کی ناقدری احساس ندامت وغیرہم ہی قرار پائے۔ یہی سبب ہے کہ مغرب کی شعری روایت کی تقلید میں اردو شعری روایت قافیے اور ردیف کی پابندی سے تو کسی حد تک آزاد ہوتی دکھائی دیتی ہے مگر موضوعات اور طرز اظہار کی سطح پر اپنی مخصوص فکری اور تخیلقی عادات کی مقید ہی دکھائی دیتی ہے۔ اور مذید کسی مغربی شعری ڈھانچے کی پیروی یا غیر رسمی شاعری کو بدعت شمار کرتی ہے۔ بھلا ہو نظیر اکبر آبادی، مولانا الظاف حسین حالی اور اور ترقی پسند تحریک کا جس نے نہ صرف محبوب کے روایتی تصور کو تبدیل کیا بلکہ زندگی کے دیگر سنجیدہ مسائل سے متقدمین کی بے رخی اور بے اعتنائی کا اظہار بھی کیا اردو شعری اور نثری روایت کو نئے موضوعات، نئے امکانات اور جدید تر طرز اظہار سے آشنا بھی کیا۔ یہ خصوص اور امتیاز صرف ترقی پسند تحریک کو ہی حاصل ہے کہ اس تحریک نہ صرف سماجی ترقی میں معاون شعر و ادب کی تخلیق کا علم بلند کیا بلکہ تمام تر تعصبات سے بلند ہو کر بہتر معاشرے کی تشکیل و تعمیر کے لئے رجعت پسند نطریات و عقائد سے انحراف بھی کیا اور زمین پر صلیب کی صورت گڑی میزان کو اپنی تخلیق اور فکر کا عنوان قرار دیا جس کے پلڑے ہر راست فکر کی عمودی قوت کے منکر ہیں اور اسی میزان کے پلڑے میں انسان ایک یرغمالی کی صورت زندہ اپنی رہائی کی قمت پوچھ رہا ہے۔ جناب اختر حسین جعفری ترقی پسند شاعر تھے۔ یہ اوائل عمری سے شعر وادب سے ان کے فطری رجحان اور منشی میلہ رام کی محنت کا ہی نتیجہ تھا کہ انہوں نے ساتویں جماعت میں ورڈز ورتھ کی شاعری کا کچھ حصہ فارسی زبان میں ترجمہ کیا اور انٹرمیڈیٹ کے سال اول میں انہوں نے جناب ایم ڈی تاثیر اور جناب فیض احمد فیض جیسے شعرا کی اعزازی ادارت میں ایک ادبی مجلے کی اشاعت کا بطور مدیر اہتمام کیا۔ اور اسی زمانے میں بطور کنوینیر ترقی پسند مصنفین انہوں نے تانگہ بانوں اور خاکروبوں کی ہڑتال کے زریعے ان کے حقوق کے لئے آواز بلند کی۔ اسی نوع کی سیاسی سرگرمیوں کی بنیاد پر وہ اکثر مرکزی اور مقامی حکومتوں کے زیر عتاب رہتے ۔ سید سجاد ظہیر کو پناہ دینے کے جرم کی پاداش میں ضلعی حکومت نے انہیں نہ صرف پابند سلاسل کیا بلکہ طلبا کی سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھنے کے لئے انہیں کالج سے ایکسپیل بھی کر دیا گیا ۔ ترقی پسند تحریک اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کے باعث گریجوشن تک وہ مختلف کالجز میں زیر تعلیم رہے۔ قربان طاہر اور بابائے سوشلزم فاضل رشیدی اور منو بھائی اسی زمانے میں ان حلقہ احباب میں داخل ہوئے۔ یہ وہی زمانہ ہے جب جناب شہزاد احمد جناب احمد فراز اور جناب اختر حسین جعفری انٹرکالجییٹ مشاعروں میں شریک ہوتے اوریہ تینوں شعرا پہلے ، دوسرے یا تیسرے انعام کے حقدار قرار پاتے۔

۱۹۵۱ کا سال جناب اختر حسین جعفری کے شعری سفر میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۱۹۵۱ کے ادب لطیف کے شمارے میں جناب اختر حسین جعفری کی نظم کو اس سال کی بہترین نظم کے اعزاز کا حقدار قرار دیا گیا اور شاعرات میں محترمہ زہرا نگاہ صاحبہ کی نظم بہترین قرار پائی ۔ سال ۱۹۵۱ میں شہرت کے نقطہ عروج اور فن شاعری میں منفرد اور معتبر شناخت کے حصول کے بعد انہوں نے شعر گوئی ترک کی اور کم و بیش ۲۴ برس کے بعد ۱۹۷۳ میں شہرۂ آفاق نظم

تجھ کو کس پھول کا کفن ہم دیں
تو جدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی ہیں

کے ساتھ شعری افق پر نمودار ہوئے۔ چوبیس برس پر محیط یہ خود ساختہ خاموشی جناب اختر حسین جعفری کے مطابق یہ دور ان کی unlerning کا دور تھا گویا بطور شاعر یہ اختیاری خاموشی اپنی مسماری کے بعد ایک نئے طرز احساس اور طرز اظہار کے ساتھ فن شاعری کی طرف مراجعت کا عمل تھا ۔ وہ اس امر سے بخوبی آگاہ تھے کہ نظیر اکبر آبادی اقبال فیض ن م راشد ، مجید امجد جیسے متقدمین کی روایت کی علمبرادری ایک مشکل عمل ہے اور اس علمبرداری کا خود کو اہل اور حقدار ثابت کرنےکے لئے نہ صرف ایک نئے poetic idiom کو ایجاد کرنے کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اردو شعری روایت کو اپنی معتبر شناخت کے لئے ایک منفرد حوالے کی بھی ضرورت ہے ایک ایسا حوالہ جو اقوام عالم کی شعری روایت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کی استعداد و صلاحیت بھی رکھتا ہو۔اس منزل کے حصول کے لئے انہوں نے ترقی پسندی کو اپنی فکر کی بنیادی اکائی تو قرار دیا مگر ترقی پسند نطریات کے زیر اثر وجود میں آنے والی شاعری پر ناقدین کے تحفطات اور فن شاعری سے قاری کے مطالبات اور توقعات کو زہن نشین رکھتے ہوئے انہون نے اک نئی طرز سخن کی ایجاد کا رستہ اختیار کیا۔ جناب اختر حسین جعفری اس امر سے آگاہ تھے کہ نظم آزاد نے قوافی کی بندش کی روش سے انحراف تو کیا ہے مگر فکری سطح پر آج بھی وہ رواجی شعری ڈھانچوں کے حصار میں ہے روایتی نظم آزاد کہلانے کے باوجود کہانی افسانے یا عشقیہ داستان کا بیانیہ سا مزاج رکھتی ہے اور موضوعات کی سطح پر بھی اردو شعری روایت کے محوب ترین مضامین کی روداد ہی سناتی ہے۔

یقیناً ترقی پسند تحریک کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس فکر نے greater love جیسے نظریات سے شعر و ادب کے ذریعے سماجی ترقی میں معاونت کا کردار ادا کیا بلکہ اردو شعری و نثری روایت کا دامن بھی مالا مال کر دیا مگر ترقی پسند فکر کے ناقدین اور غیر جانبدار شائقین شعر و ادب نے اس نظریاتی فکری تحریک کے زیر اثر تخلیق ہونے والے ادب کو نہ صرف بائیں بازو کی فکر کا کا ضمیمہ قرار دیا بلکہ اس نوع کی شاعری کو استثنا کے ساتھ سیاسی نعرہ قرار دے دیا ، فیض صاحب اور اور ان کی قبیل کے دیگر شعرا اور افسانہ نگاروں نے یقیناً اس نئی فکری روایت کی آبیاری مگر ہر بنیادی فکری ڈھانچہ اپنی بقا کے لیے سپر سٹرکچر کا مطالبہ کرتا ہے یہی وہ موڑ ہے ہے جہاں سے جناب اختر حسین جعفری نے موجود اور دستیاب شعری روایت کو نہ صرف جدید تر اظہار اور جدید تر طرز احساس سے روشناس کروایا بلکہ ترقی پسند فکر کے زیر اثر تخلیق ہونے والے ادب کی نظریاتی شناخت کا دفاع بھی کیا اس طرز سخن کوفنی ،شعری اور جمالیاتی سطح پر ایک معیار اور اعتبار بھی عطا کیا یہی وہ معیار ہے جس کے سبب جناب اختر حسین جعفری کی شاعری کلاسیک کے درجے پر فائز اور متمکن ہوئی اختر حسین جعفری کی شاعری نعرہ نہیں ہے اور نہ ہی اپنا مافی الضمیر بیان کرنے جزئیات نگاری پر انحصار کرتی ہے یہ شاعری ایک ایسے آگاہ شاعر کی تخلیق ہے جو بیک وقت اردو شعری روایت اور مغربی شاعری کےرجحانات و اثرات سے آگاہ بھی تھی اور نئے امکانات کی دریافت کی آرزو مند بھی تھی یہ شاعری ماڈرن ازم ، سریئلزم امیج‌ازم جیسے mode of expressions کی تاثیر بھی رکھتی ہے اور اردو شعری روایت کا مخصوص گداز بھی رکھتی ہے یقیناً جناب اختر حسین جعفری کے تخلیقی وفور کا نقطہ معراج vortex ہے اور vorticism میں وقت کا تصور ماضی حال اور مستقبل کی شناختوں سے ماورا ہے اور ہم عصریت کے رواجی تصور پر خط تنسیخ کھینچتا بھی دکھائی دیتا ہے جناب اختر حسین جعفری اپنے متقدمین کے تتبع میں بیانیہ انداز میں کرہ ارض پر موجود انسان کو درپیش مسائل نشاندہی کے لئےجزئیات نگاری نہیں کرتے بلکہ مغرب اور مشرقی کی روایت کے نچوڑ سے ان دونوں روایات کو ایک نیا طرز احساس تجویز کرتے ہیں دس بیس پچاس یا سو الفاظ سے نظم کی صورت ایک تصویر بناتے ہیں اور اپنے قاری کو نوع انسانی کو درپیش مسائل کا چثم دید گواہ بنا دیتے ہیں اختر حسین جعفری کی شاعری کسی مخصوص زمانے کے انسان کے سماجی سیاسی طبقاتی اور معاشی مسائل کی نشاندہی تک خود کو محدود نہیں رکھتی بلکہ ہمعصریت کے جدید تر تصور کے ذریعے قاری کی تعلیم و تدریس کا فریضہ بھی انجام دیتی ہے اور اس اس کی جمالیاتی حسیات کی تشفیع کا سامان بھی مہیا کرتی ہے ۔ جناب اختر حسین جعفری کی نظم ایک ایسا طرز اظہار و طرزاحساس ہےجسکی نظیر اردو فارسی شاعری میں ناپید ہے یوں تو جناب اختر حسین جعفری کی شاعری خود اپنی عظمت انفرادیت اور جدید تر حسیت پر گواہ ہے مگر میری رائے میں ان کی نظم عکس اور فاصلے ان کے کرافٹ ، فکر اور طرز اظہار کا در قاری پر واہ کرتی ہے اور یہ در اس ڈائمنمشن اس شعری علاقے میں کھلتا ہے جو صرف اور صرف جناب اختر حسین جعفری کی فکری شعری اور فنی ملکیت ہے نظم عکس اور فاصلے انتہائی منفرد شعری واردات سے یوں آغاز ہوتی ہے:

دیا سلائی جلی تو شعلہ
دیا سلائی جلی تو تند اور تیز شعلہ
کثیف شیشے کی سرحدوں میں ہزار ہا صورتیں دکھا کر
بکھر گیا ہے
کثیف شیشے میں ترے چہرے پہ کرب و ہیجان کا دھواں ہے
وہی دھواں سا
جو میرے تازہ سلگتے سکریٹ سے اٹھ رہا ہے
زبان شعلہ
کہاں سے چل کے کہاں تک آئی
کہاں تھی موجود اور پہنچی کہاں پہ تصویر نارسائی
دھوئیں کے سائے میں تیز رفتار ریل گاڑی
رواں ہے اندھے سفر پہ گویا
سیاہ انجن کے خشک حلقوم سے نکل کر مہیب چیخیں
تیرے لبوں پر بکھر گئی ہیں
رواں دواں ساعتوں کے پہیئے دلوں کے کچے بدن سے گزرے
تو کتنے نیلے نشان ابھرے ہیں
تیرے رخسار پر جبین پر
شکستہ بازو لٹک رہا ہے
ہر ایک سگنل گرا ہوا ہے
کہاں پہ اتریں کہ تیز آندھی ہے اور بادل گھرا ہوا ہے

۱۴۳ الفاظ پر مشتمل یہ تصویر اپنی معنویت یوں بیان کرتی ہے سکریٹ کے سلگانے کے عمل سے یہ شعری منظر آغاز ہوتا ہے اور دیا سلائی کے جلنے سے روشن ہوتا یہ شعلہ کثیف شیشے سطح پر تصویریں دکھا کر بکھر جاتا ہے اور بکھرتے ہوئے نظم کے بنیادی کردار کے چہرے پر کرب و ہیجان کی کیفیت کو بیان کرتا ہے اور ریل گاڑی جو اندھے سفر پر رواں ہے اس کے حلقوم سے نکلنے والی چیخیں اس کے چہرے پر overlap ہوتی ہیں اور یہ مہیب چیخیں نوع انسانی پر گزرنے والے ساعتوں کا ازلی کرب کا احوال بیان کرتے ہوئے بے جہتی بے سمتی کو اس کرب کا باعث قرار دیتی ہے۔

ایک ساعت یعنی سگریٹ سلگانے کے عمل سے آغاز ہونے ہوالی یہ نظم ایک منظر دکھا کر اپنے اختتام کو پہنچتی ہے اور تمثیل کے انداز میں نوع انسانی کی حالت زار کو بیان کرتے ہوئے قاری پر ایک کیفیت طاری کرتی ہے اور یہی کیفیت اس منفرد اور مختلف شاعری کے ابلاغ کا کسی سطح پر فریضہ بھی انجام دیتی ہے۔ اس شاعری کے عدم ابلاغ کا شکوہ وہ قارئین کرتے ہیں جو روایتی شعری زوق رکھتے ہیں اور شاعری سے ان کی رغبت محض pleasure pursuit کے لیے ہےجدید تر شاعری اور بالخصوص جناب اختر حسین جعفری کی شاعری کی تفہیم کے لئے قارئین کو اس امر کو زہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ شاعری فن شاعری کے باب میں ایک نئی جہت کی حیثیت کی حامل ہے اس شاعری کی تفہیم لے لئے قاری کو فن شاعری سے توقعات اور مطالبات بھی تبدیل کرنے ہونگے ۔ جناب اختر حسین جعفری کی شاعری کی تفہیم کے حوالے سے جناب محمد ارشاد کہتے ہیں

“جدید شاعری، آزاد تلازمے کی شاعری، اختر حسین جعفری سے پہلے بھی شاعری ہی تھی لیکن یہ شاعری اس شاعری میں میکانیاتی کل تھی میکانیاتی کل ہونے کی وجہ سے یہ حرکت کناں بھی تھی رواں دواں بھی، لیکن قالب بے جان تھی۔ اختر حسین جعفری نے اس قالب بے جان میں اپنا دم اپنے انفاس پھونک کر اسے میکانیاتی کل سے نامیاتی کل organaic whole بنایا ہے۔ اس کی ہر نظم ایک نامیاتی کل ہے یہی وجہ ہے ہم اسے حصوں بخروں میں تقسیم نہیں کر سکتے۔ اس کی اناٹومی اسے مار ڈالتی ہے اس کی نظموں کی روح ، جان نہ نظم کےشروع میں ہے نہ وسط میں ہے اور نہ آخر میں بلکہ کسی بھی جاندار شے کی طرح ،نامیاتی کل کی طرح، ہر انگ میں ہر عضو میں ہر مصرعے بلکہ ہر لفظ میں ہے ہم اس کی نظموں کی روح ،مرکزی خیال کو کسی ایک جگہ locate کرنا چاہتے ہیں اور نہیں کرپاتے، ہمیں ناکامی اس لئے ہوتی ہے کہ اس کی نظم اس خیال سے جسے مرکزی کہا جاتا ہے، نہ تو اس سے متصف ہے اور نہ اس سے عاری، یہ خیال اس کی نظم کے مرکز میں ہوتا ہے نہ کسی دوسرے ایک انگ میں مرتکز یا مرکوز، بلکہ ساری نظم میں ساری ہوتا ہے۔”

اردو نظم کے قاری کو اس امر کو زہن نشین رکھنا ہو گا کہ جناب اختر حسین جعفری نے نہ صرف ترقی پسند شاعری بلکہ فن شاعری کا نصاب اپنی شاعری کی صورت میں فن شاعری کے باب میں درج کیا ہے اور اس شاعری کی بنیاد انہوں نے انسانی کرب اور درد پہ رکھی ہے ایسا درد جو بظاہر ذاتی ہے مگر اپنی تاثیر اور دانائی کی بنیاد پر کائناتی ہے اور اسی درد کو وہ نظم کی بقا کی ضمانت قرار دیتے ہیں۔ جناب اختر حسین جعفری فرماتے ہیں کہ

نظم پرائے درد پہ زندہ کیسے رہتی
تم سے
آتی جاتی سانس کا ناطہ تھا
سانس کی ویراں راہگزر پر جب لفظوں کی شمعیں
روشن ہو جاتی تھیں
تم آتے تھے
تم آتے تھے اور ادھوری نظم مکمل ہو جاتی تھی
اب پلکوں پر رات ڈھلے تک جاگنے والا باقی کوئی کوئی لفظ نہیں ہے
جھوٹی بارش کے پانی سے بہتی ندی
کب تک بہتی
نظم پرائے درد پہ زندہ کیسے رہتی

جناب اختر حسین جعفری کی شاعری کی کما حقہ تفہیم اور اس شاعری کے مقام و مرتبے کو سمجھنے کے لیے ایک نئی فکر روش اور ایسے رستے کی فکری مسافرت کی ضرورت ہے جو جناب اختر حسین جعفری کے شعری علاقے تک رسائی کو ممکن بنا سکے یہی سبب ہے کہ محفوظ اور شناسا راستوں کے شائقین کو نئی شاعری کی تفہیم کے لئے رستہ نہیں ملتا اور وہ حیرتی نگاہ سے ہمراہیوں سے سوال پوچھتے ہیں کہ مجھے رستہ نہیں ملتا اور یہی سوال جب اختر حسین جعفری تک پہنچتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ

سرشک خون رخ مضموں پہ چلتا ہے تو اک رستہ نکلتا ہے۔

Categories
شاعری

آپ بیتی میں آخر تک زندہ رہنا پڑتا ہے! (ایچ-بی-بلوچ)

یہ داستان ہے
اس میں
صرف ایک سیاہ بوسے پر کہانی گھڑی
اور جنگ کے میدان میں
ایک زرد نغمہ تیار کیا گیا ہے!

یہ ہماری بھٹی میں بنی تلوار ہے
غیر کی دھرتی پر
اس سے اپنی نسیں کاٹو
اور موسیقی سنو!
کپاس کے ڈھیلے میں بند سوت جیسی لڑکیوں کی
اور مت بھولنا
آپ بیتی میں آخر تک زندہ رہنا پڑتا ہے !

یہ ڈھال ہے
اس پر بھنے ہوئے گوشت
اور شراب کی پیالی رکھنے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے
تم اس پر اپنی آنکھیں پھیلا کر جاگو!
اور دوسروں کے خوابوں پر نقب لگاؤ
یہ الگ بات ہے
کہ پرندے اپنی دنیا میں جاکر سوتے ہیں !

یہ آہنی نعل ہیں
بے شک ہم انہیں
تجارت کی فراوانی کے لیے
اپنے دروازوں پر لگا کر رکھیں گے
مگر معاف کرنا
یہ ہماری گلی کا نکڑ ہے !
یہاں گھوڑے باندھنے کی کوئی جگہ نہیں !

Categories
شاعری

سدِ راہ (اسد فاطمی)

دفعہ نمبر 55: “(1) پولیس سٹیشن کا کوئی افسر مجاز ہے کہ اسی طرح گرفتار کرے یا کرائے۔۔۔
۔۔۔(ب) ایسے ہر شخص کو جو ویسے سٹیشن کی حدود کے اندر بظاہر کوئی ذریعۂ معاش نہ رکھتا ہو، یا تسلی بخش وجہ نہ بتا سکتا ہو۔”
دفعہ نمبر 109: “جب کسی [مجسٹریٹ درجہ اوّل] کو یہ اطلاع ملے:۔۔۔
۔۔۔(ب) کہ ویسی حدود کے اندر ایک ایسا شخص ہے جو بظاہر کوئی ذریعۂ معاش نہیں رکھتا یا جو اپنی بابت کوئی معقول وجہ نہیں بتا سکتا۔
تو ایسا مجسٹریٹ مجاز ہوگا کہ بعد ازیں محکوم کردہ طریقہ سے ایسے شخص کو یہ وجہ بیان کرنے کا حکم دے کہ کیوں نہ اسے مچلکہ مع ضامنان برائے نیک چلنی ایسی مدت کیلئے جو ایک سال سے زائد نہ ہو اور جس کو مجسٹریٹ مقرر کرنا مناسب سمجھے، تحریر کرنے کا حکم نہ دیا جائے۔”
(مجموعۂ ضابطۂ فوجداری، 1898)

 

یہ بات اب سب کو کیا بتائیں، کہاں سے یہ عادتیں پڑی تھیں
وہ کیا پراگندہ نقشِ پا تھے، کہ جن سے بس جوتیوں کے تلووں کی ٹھن گئی تھی۔۔۔
گرے پڑے کاغذوں پہ حرفِ سلام پڑھنا، وہیں پہ رک کر جواب دینا
جو بوئے گل راہ میں ملی تو حیات کی ساری تلخ سانسوں کا انگلیوں پر حساب دینا
رخِ نظارہ نے آنکھ جھپکن کی آن بھر دادِ چشم مانگی،
تو تکتی آنکھوں کو طولِ قوسِ مسافتِ آفتاب دینا
جو رک کے چلیے تو ہر ڈگر سے
ہزار راہوں کے ان گنت شاخدار جالے نظر میں آنے
اور ایسے شاخے کہ جن کا ہر موڑ منتظر اور آشنا ہو
ہر ایک کوچے کی آخری حد پہ اور اک در کھلا ہوا ہو،
ہر ایک در پر درُونِ در کی کتھاؤں کا اک معلقہ سا لٹک رہا ہو،
ہر اک کتھا میں کہیں کہیں پہ رعایتِ حاشیہ سے، قوسین سے برابر
کچھ اور بغلی حکایتوں کا لطیف سا رنگدار گُچھا نکل رہا ہو،
ہر ایک گچھا فلک فلک بارشوں کے پانی سے رس بھرا ہو۔۔
مگر نجانے فلک پھرا یا زمین پلٹی،
وہ جھوم کر، لڑکھڑا کے چلنے کے عادیوں کو جو ہوش آیا
تو دیکھتے ہیں کہ آگے بس اپنے ناک کی سِیدھ بچ گئی ہے
یہ راستہ نقدِ جاں کی شہ خرچیوں کی دادِ مآل و عرضِ حساب کا ہے
(مگر عبث کی اجاڑ کھیتی سے پھول پھل کا خراج کیا ہو؟
زیان کے کنکروں کے غوّاص سے گواہر کا باج کیا ہو؟)
یہ ناک کی سیدھ، جس میں کوئی خم و تغیّر،
کوئی دوراہا، نہ دایاں بایاں،
خطِ معیّن سے ہٹ کے کچھ لغزش و تجاوز کی جا نہیں ہے،
نہ درمیاں میں ذرا ٹھہرنے کو کوئی سایہ، کوئی شجر، اور کوئی مہماں سرا نہیں ہے،
نہ حاجتِ مشعلِ مسافت ہے، مرغِ قبلہ نما نہیں ہے،
وہاں پہ بینائی یا عصا کا کسی کو کچھ احتیاج کیا ہو
جہاں پہ نادیدہ راستوں سے گریز ہی سب کا رہنما ہو،
طنینِ خونِ رگِ تحیّر کی موج اب نرم و سادہ تر ہے
قدم اٹھانے کی ساری توفیق جو کبھی سیر تھی، سفر ہے!
رمِ رہِ مستقیم والوں کے جان و تن کی تھکن نہ پوچھو
کہ جب چلے تھے تو جیبِ خواب و خیال پُر تھی
جو لوحِ ظاہر تک آ نہ پائے،
وہ خودنما نقش مٹ رہے ہیں
جو قصۂ بیدلی کا مافی‌الضمیر بنتی
وہ ان کہی بات بے تکی ہے
وہ جس سے ہمسائگی دریچوں کو نیم شب غلغلوں کا کوئی سراغ ملتا
وہ باؤلی چیخ گُھٹ رہی ہے
ہر ایک ٹھوکر پہ سیکھتا، ولولوں کا حیواں سدھر رہا ہے
وقائع لکھنے کا جو قلمرو ہے، اُس کا اعلان ہے کہ اب سے یہاں کوئی واقعہ نہ ہو گا
نپی تلی سرگموں کی جاگیر میں یہ طے ہے، یہاں کوئی کج نوا نہ ہو گا
اور اِس بیاباں میں شاہ زادہ بھٹک گیا تو
یہاں کہانی کے آٹھوں بابوں سے ایک بھی در کھلا نہ ہو گا
وہ چند پرزے جو زر خریدوں کی جاں خلاصی پہ کچھ سبیل و دلیل بنتے
پس ان کو شعلوں میں جھونکتے اور شل ہوئے ہاتھ تاپتے ہیں،
تو ٹھیک ہے، خوب گپ رہی، اب محلِّ طولِ سخن نہیں ہے
یہ دست و بازو ہیں، یہ گلو ہے، رسن کو کھینچو، صلیب اٹھاؤ
کہ صحن و تالار و بام کے بوالعجب نظاروں کو رک کے تکنے کو ٹالتے ہیں،
جہاں سے آگے نکل گئے، اُس ڈگر کو دل سے نکالتے ہیں،
کہا ہے بابا، محلِّ طولِ سخن نہیں ہے،
حکایتِ گمرہی کی بیٹھک کو پھر کسی دن پہ ڈالتے ہیں

Categories
شاعری

تم میری یادوں سے نہیں بچ پاؤ گے! (نصیر احمد ناصر)

دوستو! اب میرے پاس بچا ہی کیا ہے
ایک خواب اور تھوڑی سی تنہائی
تم وہ بھی چھین لینا چاہتے ہو
افسوس کہ تم نہیں جانتے
خود فریبی کا کوئی انت نہیں ہوتا
یہ جہاں سے شروع ہوتی ہے
وہیں پر ختم ہو جاتی ہے
میں نے اپنے ایک خواب اور تھوڑی سی تنہائی کے ساتھ
زندہ رہنا سیکھ لیا ہے
تمھیں پتا ہی نہیں چلے گا
اور میں ایک خواب سے نکل کر
دوسرے خواب میں داخل ہوتا رہوں گا
اور زندہ رہوں گا
ہر زمانے کی اسطورہ کے ساتھ
میں زندہ رہوں گا
پھولوں اور پودوں میں
پہاڑوں، آبشاروں اور جھیلوں میں
نیلی گھاس کے رقبوں،
گلیوں میں کھیلتے بچوں
اور لکیروں کی طرح پھیلے ہوئے راستوں میں
اور سب سے بڑھ کر
تم پر حملہ آور ہونے والی سفاک یادوں میں!!

Categories
شاعری

ہم قیدی ہیں (صدیق شاہد)

ہم قیدی ہیں
اور ہمارے چاروں طرف دیواریں ہیں

قیدی قیدی !!
ان دیواروں سے باہر بھی اک پنجرہ ہے
پنجرے میں دیواریں ہیں
اور قیدی ہیں

قیدی قیدی !!
وہ آتے ہوں گے
تازہ پھلوں کی خوشبو ہم کو پاگل کر دیتی ہے
ہونٹوں کو کاٹنے لگتی ہیں
اور دہرانے لگتی ہیں
ہم کچی پکی جھول رہی تھیں شاخوں سے جب توڑی گئیں
کانٹا چبھا اور سو گئیں ہم
آنکھ کھلی تو دیواریں
چاروں جانب دیواریں تھیں

قیدی قیدی !!
جب رنگ برنگے خوشبو بیچنے والے آتے ہیں
تو گدگدی ہونے لگتی ہے
تب ہم ٹانگوں کو بھینچ کے سوتی ہیں
اور ہماری مائیں اپنی قبروں میں دہرانے لگتی ہیں

بِٹیا۔۔۔۔ بِٹیا۔۔۔۔

خوشبو بیچنے والے سوداگر پھولوں کا مول بھی جانت ہیں
تم بچ کے رہیو
اکھین کو نیچا رکھیو
اور چھپ کے رہیو
ان دیواروں کے بھیتر
جن کے باہر بھی دیواریں ہیں

قیدی قیدی !!
سنتے ہو ؟؟
کہتے ہیں دور سمندر پار بھی ایک سمندر ہے
جس کی لہریں ان دروازوں سے ٹکراتی ہیں
جن کے باہر کوئی دیوار نہیں
اور وہاں انسانوں جیسی اک جاتی ہے
جس کو ہنسنا آتا ہے
جو اپنی مادہ کے سنگ کُھش کُھش رہتا ہے
پر ہم کاہے جانیں
ہم نے تو ان دیواروں بھیتر آنکھیں کھولیں
جن کے باہر بھی دیواریں تھیں

قیدی قیدی !!
او قیدی قیدی۔۔۔

پر تم بھی کاہے جانو۔۔۔

Categories
شاعری

دو نظمیں (عبدالودود دائم)

[divider]وہ نظم جو میں تمہیں پچاس سال بعد سنانا چاہتا تھا[/divider]

اسٹوو پر دھری کیتلی کی بھاپ اور سیٹی
کمرے میں پھیلتی چلی جاتی ہے
بزرگ آنکھوں سے چشمہ سرکنے لگتا ہے
نیند کا بوجھ، زندگی کی تھکن کو مات دینے لگتا ہے
کتابوں کے میلے میں
جس کا بچپن گم چکا ہے

اونگھنے لگتا ہے
راوی کہانی پھر بھی روکتا نہیں
سنائے چلا جاتا ہے
گاؤں کا خستہ گھر
(جس کی دیواروں کا رنگ سیلن چاٹ چکا ہے )
رات کے آخری پہر تک
جاگتا ہے
کمرے میں اسٹوو پر دھری
کیتلی کی سیٹی رک جاتی ہے
راوی کی دھیمی آواز رکتی نہیں

[divider]اندھی نظمیں[/divider]

مرا فقط تم سے مکالمہ ہے
تمہیں خبر ہے ؟؟؟
کہ وقت بھی تو اک دائرہ ہے
دائرہ، جس میں اک تسلسل سے گھومنا ہے
دائرہ جس میں ایک نقطہ
کسی بھی نقطے سے ایک نقطہ بھی آگے آ کر، اگر بڑھا تو
یہ حادثوں میں شمار ہو گا
پھر اس کے بعد
اک طویل انتظار ہو گا
وقت پھر، اس ابتدا سے شمار ہو گا
جو
قدیم روحوں پے بار ہو گا
اس لیے،
انتظار کے دکھ سے نم
ادھار جذبوں، ادھار لفظوں سے معتبر
میں نے نظمیں کہیں
جن کی آنکھیں نہیں تھیں!

Categories
شاعری

یہ کوئی نظم نہیں ہے اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

یہ کوئی نظم نہیں ہے

رات کہتی ہے
—–عورتیں محبت مانگتی ہیں
کنواں کہتا ہے
—–انسان مینڈک ہے
درخت کہتا ہے
—–کلہاڑی شیطان کی ایجاد ہے
نظم کہتی ہے
—–آدمی استعاروں میں زندہ ہے
صحرا نورد کہتا ہے
—–زندگی طویل سفر مانگتی ہے
سمندر کہتا ہے
—–آدمی عرشے پر کھڑا بھلا لگتا ہے
کرسی کہتی ہے
—–تھکن کا کوئی نعم البدل نہیں
سرخ نوٹ کہتا ہے
—–عورت کے سینے سے نرم کوئی جگہ نہیں
خواب کہتا ہے
—–آدمی کی شلوار سیلن زدہ رہتی ہے
اندھیرا کہتا ہے
—–خوف انسان کا دیوتا ہے
زمین کہتی ہے
—–چلنے سے تم رندے کی طرح گھستے رہتے ہو
اور بستر کہتا ہے
—–آدمی مباشرت کے لئے زندہ ہے

میں تمہاری سمت غروب ہونا چاہتا ہوں

جب انگلیاں دو زانو ہو کر
تمہارے جسم کا طواف کرتی ہیں
ہمسایوں کی کھڑکیاں ہمارے خلاف
ایک دوسرے کے کانوں میں
نفرت کی سرگوشیاں کررہی ہوتی ہیں

جب تمہارے جسم کی سرحد کو چومتے ہوئے
محبت کی موسیقی ترتیب دے رہا ہوتا ہوں
شہر اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے
معنویت سے خالی باتیں اگل رہا ہوتا ہے

رد کئے ہوئے لمحوں میں
جب میں خود کو جمع کر رہا ہوتا ہوں
چوک میں کھڑے میلے کچیلے ہاتھ
خوابوں کی بھیگ مانگ رہے ہوتے ہیں

جب کاربن سے اٹے مزدور اپنے چہرے کو
بچوں کی چیخوں سے صاف کر رہے ہوتے ہیں
میں تمہارے ہونٹوں پر تیرتی ہنسی کو
چھونے کی ریاضت کر رہا ہوتا ہوں

حب ریستوران سایوں کے شور سے بھر جاتے ہیں
اور سڑکوں پر بے چہرہ لوگ
آپس میں ٹکرا ریے ہوتے ہیں
تم میری بانہوں میں مرجھا چکی ہوتی ہو
اور میں قطرہ قطرہ
تمہارے جسم کے کسی خانے میں
محفوظ ہوجانا چاہتا ہوں

بارش ہر کسی کو مصروف کر دیتی ہے

چاند بارش میں بھیگ رہا ہے
گراموفون موت کا گیت گا رہا ہے
آدمی عرشے سے
ریت میں دھنسی عورت کی تصویر کشی کر رہا ہے
مالی امرود کے درخت کے پہلو میں سو رہا ہے
اسے پھولوں میں سوئی لڑکی کے خواب آ رہے ہیں
اداسی کیکٹس کے پھولوں سے
پول میں مشت زنی کرتے لڑکے کو جھانک رہی ہے

آدمی بے موسمی پھل اگانے کی کوشش میں
کئی موسم ضائع کر رہا ہے
چوک میں کھڑے ریڑھی بان
قہقہے ہانک رہے ہیں

بچے نیند کے فیڈر پیتے ہوئے
دو سمتوں میں سفر کررہے ہیں
کلاک کا پینڈولم تھکتا ہی نہیں ہے

شہر کے حاکم کو آٹھ راتوں سے
امرد پرستی کے خواب آ رہے ہیں

شام بادلوں کے پیچھے تیر رہی ہے
میں اسے بھیگتے ہوئے دیکھ رہا ہوں

آنسوؤں میں بٹی زندگی

ہماری آنکھیں
صرف تھوکے ہوئے منظر
یا بس کے پیچھے
لٹکتے ہوئے آدمی کو دیکھ سکتی ہیں
مگر میں نے اپنی آنکھیں
ہم دونوں کے درمیان حائل فاصلہ
ماپتے ہوۓ ضائع کیں

ہمارے کان
گیت اور دعا سے پہلے
آنسوؤں کا ترانہ سننے کے عادی ہیں
اور انگلیاں
مٹی کا بوجھ اٹھانے کی وجہ سے
لکڑی کی شکل میں تبدیل ہو چکی ہیں
یہ تو صرف ایک ماں ہی بتا سکتی ہے
کہ مٹی میں آنسو جلدی جذب ہوتے ہیں
یا پھر پسینہ؟

میں ہر رات
کشتی بنانے کے منصوبے ترتیب دیتا ہوں
تاکہ چپوؤں سے
سمندر کی گہرائی معلوم کرتے وقت
مچھلی سے پوچھا جاسکے
کہ سمندر کا پانی زیادہ میٹھا ہوتا ہے
یا پھر آدمی کے آنسوؤں کا؟

شاید میں اب
ایک چپو بھی نہیں بنا سکتا
کیو نکہ جوۓ کی بازی میں
رات کی بچائی ہوئی
آدھی روٹی بھی ہار چکا ہوں

میرے پاس اب صرف دل بچا ہے
جس کے ذریعے
میں ایک چھینی ہوئی محبت کرسکتا ہوں

تم کھڑکی کھول کر نہیں دیکھتی

تمہارے کمرے کی کھڑکی
سمندر کی طرف کھلتی ہے
تم آسانی سے
بادلوں کو چھو سکتی ہو
مگر میرے پیغام کا جواب دینے کی بجائے
طویل انتظار
میسج میں رکھ کر بھیج دیتی ہو

تم نیند کے ساحل پر
خوابوں کا بادبان اوڑھے سوئی رہتی ہو
تمہیں اس وقت کی خبر نہیں ہوتی
جب کوئی سیاح
تمہاری خوشبو سونگھ کر مچل جاتا ہے
اور سانسوں کے رستے سے
تم میں داخل ہوجانا چاہتا ہے

بارش کی شاموں میں
تم برہنہ بستر کا لباس بنی رہتی ہو
تمہارے کمرے کے آتشدان سے نکلتا دھواں
آسمان میں شگاف کردیتا ہے

خود لذتی کے دوران
آوازیں نکالتے ہوئے
جب تم دیواروں کے کان
بند کر رہی ہوتی ہو
کوئی شہوت کا مارا
تمہارے کمرے کی دیواروں میں
کسی درز کو تلاش کررہا ہوتا ہے

مگر تم کھڑکی کھول کر نہیں دیکھتی

شناخت

جب وہ پیدا ہوا
گھر والوں نے اس کا نام جمال الدین رکھا
سکول کے رجسٹر میں اس کا نام
محمد جمال الدین درج ہوا

جب بچپن کو بیچ کر
اس نے بلوغت کمائی
اور داڑھی رکھنا شروع کردی
تو محلے والے اسے مولوی پکارنے لگے

عمر کے درمیانی حصے میں
جب وہ شہر میں چپڑاسی بھرتی ہوا
بڑے صاحب نے اس کا نام
بگاڑ کر “جالو “رکھ  دیا

مگر وہ خوش تھا
کہ پہچان تو چہروں سے ہوتی ہے

جن دنوں سرکاری معلومات
کمپیوٹر میں محفوظ کی جارہی تھی
ایک چیک پوسٹ پر
تلاشی لینے کے بہانے
اس کے اعضاء کو بکھیر دیا گیا
یوں اپنے اصل نام کے ساتھ
وہ کہیں بھی درج نہ ہو سکا

جب ٹی وی اسکرین پر
اس کی موت کی خبر نشر ہوئی
تو گھر والے خوش تھے
کہ اس کے نام کی بجائے
مسخ شدہ چہرے کے ساتھ
صرف شہید لکھا ہوا تھا

Categories
شاعری

قید اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

[divider]قید[/divider]

میری روح کا جھنڈا
ایک اداس پرندے کے ہاتھ میں ہے
جو زندگی کی سمتوں میں قید
آزادی یا موت کا منتظر ہے

[divider]ایک بھلائی جانے والی لڑکی[/divider]

وہ اپنے چہرے پر
گزرے دنوں کا میک اپ کرتی ہے
اس کی زرد سرخی میں
ہجر کے ذرات دیکھے جا سکتے ہیں
مستقبل کی چکی میں
وعدوں کو پیس کر
آنکھوں پر کاجل کی طرح سجانا
اسے ہمشہ پسند رہا ہے

فارغ اوقات میں
اپنے سینے پر محفوظ
مختلف ذائقوں کو محسوس کرنا
اس کے نزدیک
وقت گزارنے کا بہترین مشغلہ ہے

ضدی شوہر جب بھی
گردن پہ ابھری
نیلی رگوں پر بوسہ دیتا ہے
بیتے دنوں کی شفاف یادیں
ناف کے گرد
زبان پھیرنے لگتی ہیں
وہ خود کو
کھڑکی میں ٹھٹھرتی بلی کی طرح
سرد محسوس کرتی ہے

وہ اپنا غصہ
اس کے داہنے گال پر تھوکتا ہے
اور
نیند کے سینے میں دفن ہو جاتا ہے

[divider]تمہارے بدن سے چرائی ہوئی نظم[/divider]

دھوپ سے خالی
ایک دوپہر میں
جب تم اپنے بوسوں سے
میرے سینے کو نرم کر کے جا چکی تھیں
تمہارے ہاتھ کی لکیروں جیسی
اپنے بستر کی سلوٹ میں
مجھے برہنہ نظم ملی تھی
جس پر نیلے پھول کڑھے ہوئے تھے

اور اس میں سے
تمہارے بوسوں جیسی خوشبو آ رہی تھی!

[divider]خواب کے ہاتھ پر لکھی نظم[/divider]

تمہاری باتوں سے
بارود کی بو آتی ہے
تم سے خوفزدہ لوگ
اندھیرے میں
زندہ رہنے کی اداکاری کرتے ہیں
تم جنگ سے لوٹےگھڑ سوار کی
بے خوابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے
اس کے خوابوں کو قتل کرنا جانتے ہو
تم محبت کے نام پر جسم جیت سکتے ہو
مگر اس لڑکی کو کبھی نہیں سمجھ سکے
جس کے آنسوؤں سے
تمہارے جسم پر دستخط ہو چکے ہیں
اور وہ تمھیں جوان کرنے کی کوشش میں
خود بوڑھی ہوتی جارہی ہے

بے خواب راتوں میں
شہر کی اکلوتی ویشیا
اپنی ساری سانسیں جمع کر کے
جب تمہارے جسم کو چومتی ہے
اس کی آنکھوں سے بہتی نیند
تمہارے جسم کے خفیہ خانوں میں گر جاتی ہے

اور جب چیونٹیاں
زمین کے کانوں میں اذان دے رہی ہوتی ہیں
تم روشنی سے آنکھیں چرائے
زمین کی کوکھ میں پناہ لینا چاہتے ہو
مگر ویشیا خود کو مکمل کرنے کے لیے
جب تمہارا پیچھا کرتی ہے
تم اپنا خون آلود ہاتھ
خدا کے قدموں میں پھینک چکے ہوتے ہو !

[divider]تم کبھی محبت کا لباس نہ پہن سکے[/divider]

جب تم پیدا ہوئے
تم سے پوچھے بغیر
کسی ان دیکھے رشتے سے باندھ دیا گیا
یوں تم سے
ایک محبت کرنے کا حق بھی چھین لیا گیا
اور لڑکی کا جسم
تمہارے لئے ممنوع قرار پایا!

بارش کے موسم میں
جب زمین کی تنہائی نے کروٹ لی
تم کئی بدن جھانکنے نکلے
مگر اپنے ساتھ
باتوں کی مہک سے خالی آنگن جیسی
خاموشی لے کر لوٹے

تم نے اپنے خالی کمرے میں
جب جسم کی فصل کاٹنے
اور محبت حاصل کرنے کی مہم شروع کی
تو تمہارے خراٹے
جنسی آوازوں جیسے ہو گئے

گھر والوں نے
تمہیں قتل کرنے کے منصوبے بنائے
اور جس رات تم خوابوں کے سفر پر نکلے
بے عکس آئینے کے سامنے کھڑی لڑکی
اپنے جسم پر زہر ملے
تمہیں محبت کا لباس پہنانے کی منتظر تھی

Categories
شاعری

چائے کے لیے ایک نظم اور دیگر نظمیں (نسیم خان)

[divider]چائے کے لیے اک نظم[/divider]

کپ غصے کا گواہ ہو سکتا ہے یا نفرت کا؟
کپ خاموش کیوں ہے؟
گواہی گمراہی نہیں ہے

چائے اپنے آنسو فرش کے چہرے پر مل رہی ہے
فرش کو اس سے ہمدردی ہے پر اسے پتہ نہیں چل پا رہا کہ یہ خوشی کے آنسو ہیں یا غم کے؟
اگرچہ اسے معلوم ہے کہ خوشی میں زیادہ اور غم میں کم آنسو نہیں بہائے جا سکتے

شاید چائے خفا ہو کہ اسے کپ نے اپنے سینے سے نکال دیا ہے جیسے کہ درد کے دوران منہ سے کسی آہ کو نکال پھینکا جاتا ہے
یا
شاید وہ خوش ہو کہ اسے بہہ جانے کا تجربہ بھی ہو گیا ہے اور اصل زندگی تو بہنا ہی ہے
بہنا گمراہی نہیں ہے
آنسووں کو بہنے دو
لہو کو بہنے دو
پھر اس کے بعد آنکھیں اور زخم ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھیں گے کہ بہنا ان کی خوشی کا اظہار ہے یا غم کا
مگر یہ بات تو واضح ہے کہ بہنا گمراہی نہیں ہے
کپ خاموش رہے

[divider]شاعر، شاعری اور نقاد[/divider]

نظم کو نیند سے جگانے والا پنچهی اسے آسمانوں کی سیر پر لے جاتا ہے
تخیل اڑن کھٹولا ہے
ملکی وے کی ساری رنگینیاں لے کر وہ اسے خلا کے حوالے کرتا ہے
تکمیل یہی سے شروع ہوتی ہے
نظم آہستہ آہستہ عروج کی طرف قدم بڑھاتی ہوئی
کشش ثقل کے بانہوں میں پہنچ جاتی ہے

شاعر کی آنکھ کھلتی ہے
اور وہ خود کو زندہ پاکر خوشی سے پاگل ہونے لگتا ہے
خواب کی تعبیر شاعر کے حق میں نکلتی ہے
اور نقاد کا منہ کسی بلیک ہول کی طرح کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے

[divider]میں نرگس ہوں[/divider]

انار کلی دیوار سے نکل آئی ہے
دیوار میرے سینے میں داخل ہورہی ہے
کھورہی ہے

انارکلی! نرگس میری آنکھیں چوم رہی ہے
زمیں جھوم رہی ہے
خلا پانی پانی ہوگیا ہے
میں نرگس میں بدل رہا ہوں

افروڈائٹی (Aphrodite)مجھے گلے لگانا چاہتی ہے
حق جتانا چاہتی ہے
انار کلی! دیوار میں واپس جاکر دیوار میرے سینے سے باہر پھینک دے
میری دھڑکن رکتی جارہی ہے
اور رقص ہنوز جاری ہے۔

[divider]میر تقی میر کے نام[/divider]

فطرت میری سگی نہیں ہے
زمیں مجھ سے نفرت کرتی ہے
دن مجھ پر فقرے کستا ہے
دن بھر مجھے ذلیل کرتا ہے
میری نظموں کو مکروہ گردانتا ہے
میرے بارے میں سب کچھ جانتا ہے؟

خلا میرا بھائی ہے
آسمان مجھے پسند کرتا ہے
رات مجھے نہیں گھورتی
اور ستارے مجھے آنکھ مارتے ہیں
آنکھ مارنے والے لڑکے رات بھر میری بانہوں میں ہوتے ہیں
(خواب مجھے سے کوئی نہیں چھین سکتا)
اورستاروں کے چھپتے ہی میر اور میں پھر سے اپنی تنہائیوں میں خود کو چھپا لیتے ہیں

 

[divider]نیوٹن دامن پھیلائے کھڑا ہے[/divider]

نیوٹن دامن پھیلائے کھڑا ہے

اور سیب نہیں گر رہا
ایک پنچھی آکر اس کے سر پر ہگتا ہے
کشش ثقل اسے شاہی تاج پہناتی ہے

نظم جس کا IQ لیول میری طرح کم ہے
جیلس ہوتی ہے
اور میں پہاڑ کے دامن میں پتھروں کی بارش کا انتظار کرنے لگ جاتا ہوں
ردعمل ضرور ہو گا

Categories
شاعری

پرانے روزنامچے میں اونگھتے دن اور دیگر نظمیں (روش ندیم)

[divider]پرانے روزنامچے میں اونگھتے دن[/divider]

انامیکا!

اگر ان ہی دنوں ہم سے خدا بھی پوچھتا
—————-تو ہم فقط اپنی لِکھت کی ہی قسم کھاتے
ہمیں پورا یقیں تھا
——–جو بھی لکھیں گے فلک پر کہکشاں بن کر ہمیشہ مسکرائے گا
مکاں کے حافظے میں اور زماں کی لوح پر
————ازلوں تلک وہ جگمگائے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ اس موسم کا قصہ ہے
————کہ جب اندھے یقیں کی عمر کا نشّہ
————جوانی کی امنگ
اور دل کے کہنے پر سبھی کچھ کر گزرنے کا
——————–کوئی لاوا رگ وپے میں دھڑکتا تھا
صحیفے، آسماں، یہ کائناتیں اور خدا
——–ہم کو سبھی کچھ ہیچ لگتا تھا
فقط اپنا ہی ہونا آخری سچ تھا
گو ایسا تھا
کہ اک افلاس کا تپتا ہوا سورج ہمارے سر پہ رہتا تھا
ہمیں بس بے کراں سی بھوک تھی
——–اتنے بڑے عالم میں پلتی ایک اک شے کی
کوئی خفگی، کوئی غصہ، کوئی ناراضگی بے دید سی شے سے
——————–جسے ہم جانتے کب تھے؟
کوئی بے شکل سی، بے نام سی اک آرزو کا سحر تھا
——–جس میں ہمیشہ ڈوبے رہتے تھے
——————–جسے ہم مانتے کب تھے؟
کسی آدرش میں بھیگی ہوئی اک تابناکی تھی
کہ اپنے خون سے اس ساری دنیا کو نیا پھر سے بنائیں گے
فلک کو چومتے کہسار جیسا اک ارادہ تھا
——–کہ جو لکھے ہوئے لفظوں کی شریانوں میں بہتا تھا
قلم بارود کے دریا اگلتا تھا
تخیل پر دہکتی آبشاریں راج کرتی تھی
فقط تاراجیٔ دنیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
فقط بربادیٔ ماضی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
مگر اک خوبصورت سی نئی دنیا بسانے کو
—————-نیا انساں بنانے کو
سو ہم کو یہ یقیں تھا جو بھی لکھیں گے
——–فلک پہ کہکشاں بن کر ازل تک مسکرائے گا

انامیکا!
مگر یہ وقت کا پتھر قلم کی ضرب سے کس طور ٹوٹے گا!!

[divider]غارِثور سے کائنات کا نظارہ[/divider]

انامِکا ! سن
میں کیسے تاریخ کے وہ سارے رجسٹروں کو ہی پھاڑ دیتا
پھر ان کے ٹکڑے گئے زمانوں کے کوڑے دانوں میں پھینک آتا
اور اپنی مرضی سے اک نئے دودھیا ورق پر پھر اپنا ماضی بکھیر دیتا
یہ ایسا آسان بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

سو کیا میں کرتا
کہ میں جو تاریخ کی شرارت
اسی کی شوخی کا شاخسانہ
خدا کی مٹھی سے دھیرے دھیرے پھسلتی جاتی کوئی کہانی؟
——————–کہ نامکمل سی کوئی تمثیل؟
میں اس کی عِلت ہوں یا نتیجہ؟
میں اس کا فنکار ہوں کہ فن ہوں؟
ازل سے جاری کسی ڈرامے کا کوئی ہیرو
——–کہ بس اضافی سا کوئی کردار

انا مِکا! بات ایسی آسان بھی نہیں تھی
سو میں اٹھا
——–اور ہاتھ جھاڑے
—————-ذرا سا چو گرد میں نے دیکھا
——————–بیاض تھامی
بڑی خموشی سے اس زمان ومکاں کے جھنجھٹ سے لوٹ آیا

[divider]ادھورے خواب کا نوحہ[/divider]

انا میکا!
کہانی گھومتی پھرتی اسی نقطے پر آئے گی
——–جہاں پر بے یقینی کے گھنے جنگل
——–وساوس اوڑھ کر چپ چاپ بیٹھے ہیں
ادھورے عہد میں ایمان کی تکمیل کیا ہوتی؟
——–یہاں تو خود خدا بھی نامکمل ہیں
تو پھر کیسے میں اپنی ذات کی تیرہ حدوں سے بھاگ سکتا تھا؟
مری سوچوں کی لوحوں پر
——–مری ماں نے وہی کندہ کیا تھا
جو اسے اجداد نے اپنی وارثت میں تھمایا تھا
انا میکا!
تمہارے واسطے میں کوئی خوشخبری نہیں لایا
جھلستی رہگزاروں سے میں کیسے پھول لے آتا؟
اندھیروں کے جہنم سے میں کیسے روشنی لاتا؟
ابھی برفیں نہیں پگھلیں
——–نہ ساحل پر پڑے دریاؤں کی نیندیں ہی ٹوٹی ہیں
مگر پھر بھی
——–میرے اس آرزوؤں کے ہرے آنگن میں چڑیاں چہچہاتی ہیں
——————–(وہ تم لے لو)
میں اپنی ناک پر خوش فہمیوں کی کوئی عینک رکھ نہیں سکتا
مگر کم تو نہیں، پھر بھی تمہارے ساتھ ہنستا ہوں
تمہارے قہقہوں کی بارشوں میں بھیگ جاتا ہوں
——–کہ شاید اک نہ اک دن میں بھی اس شہرِ سبا کا بھید پا لوں
——–جس کے بارے میں
——–مرے اجداددن بھر کی مشقت کاٹ کر مجھ سے یہ کہتے تھے:
————“سنو اک روز ایسا آئے گا
————جب تم بہاروں کے نگر میں پھول بن کر مسکراو گے”
پہ کتنی ان گنت صدیاں سلو موشن کے پنگوڑے میں بیٹھی ہیں
اور اب تو میرے بالوں میں بھی چاندی کا بسیرا ہے
نگاہیں آج بھی ان آرزوئوں کے کھنڈر میں گشت کرتی ہیں

[divider]سوچوں کے ہینگر پہ ٹنگی آنکھیں[/divider]

انا میکا!
ذرادیکھو
——–کہ سورج کتنے جنموں سے مری گلیوں میں ٹھہرا ہے
مگر ایسی سیاہی تو کبھی دیکھی نہیں ہو گی
سیہ سورج
سیہ گندم
سیہ آنسو
سیہ پرچم
سیہ اوراق بھی تم نے کبھی دیکھے نہیں ہوں گے
انامیکا! جنم بھومی ہے یہ میری
——–جہاں عیسیٰ صلیبِ شہر کا ہمزاد ہو بیٹھا
پھر اس کے بعد سے جو دن چڑھا
——–وہ لب پہ گالی، ہاتھ میں پستول لے کر سر پہ آ بیٹھا
یہاں جب رات بھی آئی
——–تو سر میں مقتلوں کی راکھ، آنکھوں میں لہو لائی
مرا ٹیچر تو کہتا تھا :
——–“محبت مر نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
——–شعوروآگہی بھی بک نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
پہ میرے شہر میں ہمدم!
——–شعوروآگہی حرص وہوس کارزق بنتے ہیں
(وہ شاید سچ ہی کہتا تھا
——–کہ وہ اس وقت ٹیچر تھا، میں اک معصوم سا بچہ)
مگر جب مکتبوں سے ڈگریاں لے کر میں لوٹا تھا
اسی دن سے
——–مرا یہ شہر تو اندھے سرابوں کے
——–کسی لامنتہا جنگل میں رہتا ہے
اور اب تو اپنے ماضی کے ہزاروں بت تراشے
——–مسجدوں میں گونجنے والی اذانوں پر وہ اٹھتا
——————————–اور سوتا ہے
شکستہ یاد کی سیڑھی پہ بیٹھا
——–ہاتھ میں تسبیح کے دانے گھماتا اور کہتا ہے کہ
——–اب لوحِ مقدر پر لکھا مٹ ہی نہیں سکتا!!
انا میکا!
مری سوچوں کے ہینگر پر ٹنگی آنکھیں یہ کہتی ہیں :
——–“ستارے کیوں نہیں چمکے؟
——–سویرے کیوں نہیں مہکے؟
——–چوراہے میں کھڑے برگدکی آنکھیں کیوں نہیں برسیں؟
——–زبانوں پر لگے چپ کے یہ تالے کیوں نہیں ٹوٹے؟
——–خیالوں میں تنے مکڑی کے جالے کیوں نہیں اترے؟”
انا میکا!
تمہیں شب کے کناروں پر نیا سورج بنانا ہے
تمہیں اندھے نگر کے ہاتھ پر آنکھیں بنانی ہیں
——–صداقت امر کرنی ہے!

[divider]کائنات سے باہر گری وقت کی کترن[/divider]

امر لمحہ
(کہ جیسے ہو کسی ویرانے میں اک اونگھتا معبد)
ہزاروں سال پہلے مضطرب گوتم کے من میں آن ٹھہرا جو
گزشتہ کل صحن کی ادھ گری دیوار کے نزدیک
——–جس پر جنگلی بیلیں دسمبر کی سنہری دھوپ
——–میں مدہوش لیٹی ہیں
——–مرے اندر اتر آیا تھا دھیرے سے
یہ ساری کائناتیں جم گئی تھیں یوں
کہ جیسے ہوازل کے بیکراں ساگر میں ٹھہری شانتی کا نم
ہوا، خوشبو، خموشی، رنگ
——–جو تھے اس زمیں کے اولیں باسی
——–مجھے پہلی دفعہ ملنے کو آئے تھے
یہ شاید وقت اس لمحے ہی جنما تھا
وہ جس کی دوڑ سے ناآشنا
——–ماچس کی ننھی تیلیوں کے کھیل میں گم سم انا میکا
—————-اسی لمحے میں جیتی ہے
سو اس کے سامنے مغرور سایہ وقت پیچ وتاب کھاتا یوں کھڑا ہے
—————————-جیسے بے بس ہے

انامیکا!
بچارے وقت کو بس دوڑنے
——–اور ہانپنے
یا بیت جانے کے سوا
————آتا ہی کیا کچھ ہے؟

Categories
شاعری

خواب دیکھنے سے پہلے اور دیگر نظمیں (نصیر احمد ناصر)

خواب دیکھنے سے پہلے

خواب دیکھنے سے پہلے
میں نے سونے سے انکار کر دیا تھا
اس جرم کی پاداش میں
تا بہ حیات
میری نیند اُڑا دی گئی!

خواب دیکھنے سے پہلے
میں نے کھڑکیاں کھول دی تھیں
تاکہ نیند میں
دَم گھٹنے کی اذیت سے بچ سکوں
اس جرم کی پاداش میں
میرے گرد
شیشے کی دیواریں کھڑی کر دی گئیں

خواب دیکھنے سے پہلے
میں نے پنجرے میں قید
پرندوں کو آزاد کر دیا تھا
اس جرم کی پاداش میں
میرے گھر کے سارے درخت کاٹ دیے گئے!

خواب دیکھنے سے پہلے
میں نے خواب دیکھنا
اور درخت لگانے سے پہلے
ان کی چھاؤں میں بیٹھنا شروع کر دیا تھا
اس جرم کی پاداش میں
میری آنکھوں میں
ہمیشہ کے لیے دھوپ بھر دی گئی!

دھوپ کے بغیر سائے

دنیا اتنی ناخواندہ نہیں
کہ ایک نظم نہ پڑھ سکے
زمین اتنی بھاری نہیں
کہ ہم اسے اٹھا ہی نہ سکیں
اور آسمان اتنا ہلکا نہیں
کہ اسے چادر کی طرح تان لیا جائے
اور تم محبت کو اتنا آسان مت سمجھو
یہ کسی بھی طرح
ہمارے لیے نہیں بنائی گئی
دیکھتے نہیں
ہمارے جوتوں سے ہوائیں بندھی ہوئی ہیں
اور ہاتھوں پہ پانیوں کے دستانے ہیں
رات ہمیں کب تک چھپائے رکھے گی
ایک دن عریانی ہمارے جسموں سے طلوع ہو گی
اور ہم بھری کائنات میں
ایک دوسرے کی آنکھوں سے پناہ مانگیں گے!!

پتا نہیں یہ نظم اکتوبر کی ہے یا اپریل کی!

ہم اکتوبر میں ملے
جب پتے درختوں سے
الگ ہونے کی تیاری کر رہے تھے
ہم اکتوبر میں ملے
جب دھوپ نرم پڑ چکی تھی
اور آسمان
سفید بادلوں کے مرغولوں سے
چمک رہا تھا
ہم اکتوبر میں ملے
جب پہاڑ
دور سے بھی صاف دکھائی دے رہے تھے
ہم اکتوبر میں ملے
جب پرندے
پانیوں سے ہم آغوش تھے
اور جھیلیں
ان کی پھڑپھڑاہٹ سے لبالب تھیں
ہم اکتوبر میں ملے
لیکن ہم اکتوبر میں جدا نہیں ہوں گے
کیوںکہ ہماری جڑیں
اپریل میں پیوست ہیں!

تمہاری محبت میں

مَیں تمہاری محبت میں
ستارے توڑ کر نہیں لا سکتا
لیکن ایک پھول ضرور پیش کر سکتا ہوں
مَیں تمہاری محبت میں
دریا نہیں بن سکتا
لیکن ایک کشتی ضرور بنا سکتا ہوں
مَیں تمہاری محبت میں
آنکھیں دان میں نہیں دے سکتا
لیکن ایک خواب ضرور دے سکتا ہوں
مَیں تمہاری محبت میں
دنیا فتح نہیں کر سکتا
لیکن بے قصد ایک سفر پہ ضرور جا سکتا ہوں
اور ایک راستہ بنا سکتا ہوں
مَیں تمہاری محبت میں
محبت کے علاوہ
کچھ بھی نہیں کر سکتا
یہاں تک کہ ایک نظم بھی نہیں لکھ سکتا!

کافی پلانیٹ (Coffee Planet)

میں نہیں جانتا
یہ کون سا سیارہ ہے
ہم جہاں بیٹھے ہوئے ہیں
زمان و مکاں کا کون سا گوشہ ہے
جہاں چوکور میز اور خم دار کرسیاں بچھی ہیں
کائنات کی کون سے دشا ہے
جہاں روشنی اور اندھیرا ایک سا ہے
اور لامتناہی ابعاد میں
باتوں کی مسلسل گونجیلی بھن بھن
اور کافی کی چاکلیٹی مہک پھیلی ہوئی ہے
لیکن اتنا جانتا ہوں
کہ وقت مجھے تم سے بہت دُور لیے جا رہا ہے!

اُم الحُب

اور جب تم دیکھو
کہ رات گہری ہو گئی ہے
اور زندگی اپنے دروازے بند کر رہی ہے
تو تم ایک محبت اور کرنا
پہلی محبت جیسی
حیران کن
جسم کو بیدار،
روح کو سرشار کر دینے والی
گزری ہوئی ہر محبت سے بڑی
تمام محبتوں کی ماں
بے تحاشا
کبھی نہ ختم ہونے والی
وقت کی طرح
دھیرے دھیرے
موت کے دائمی لمس سے
ہم کنار کر دینے والی
خدا کو
سوگوار کر دینے والی!

میں تمہارے مدار میں واپس نہیں آؤں گا

مشینی گھوڑے پر زین کستے ہوئے
میں نے دیکھ لیا ہے
سایوں کو دیواروں کے پیچھے چھپتے
اور خود کار دروازوں کو بند ہوتے ہوئے
میں جان چکا ہوں
میرا سفر کبھی ختم نہیں ہو گا
رصد گاہوں کے اس پار
زمین کے بیضوی سرے سے پھسل کر
محبت قریبی بلیک ہول میں گر گئی ہے!