ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے رجز قومی ترانہ بن جائے تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے بچے ماں کی چھاتیوں سے خون چوسنے لگتے ہیں کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا اور یومِ آزادی پر لوگ […]
نظم کے لیے غسل واجب نہیں

زاہد امروز: عمر علی!
لندن ہو یا لائل پور
دنیا ایک سی ہے
