بے وطن عورت کا مارچ اور دیگر نظمیں — سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران: میں زوجہ فلاں ابن فلاں
تمہاری وردیوں کے لئے حلال نہیں ہو سکتی
سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

ہم نہیں جانتے دھوپ کا ذائقہ کیا ہے روشنی کی شکل کس سے ملتی جلتی ہے یہ پرندے کون ہیں ہم درختوں کو چراغ لکھتے ہیں ہوا کو موت یہ پتے ہمارے آنسو ہیں ہمیں کیا خبر کہ آسمان کا رنگ تمہارے لہجے کی طرح نیلا کیوں ہے؟ ہم نے سیڑھیوں کے ہجے نہیں سیکھے […]
ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے منفی اعداد ہیں تم ہمیں جنگلوں سے ضرب دے کر اینٹوں کے پیالے بنا رہے ہو […]
مجھے ایک گناہ کی اجازت دو

سدرہ سحر عمران: میں مٹی کے صابن سے جھاگ بنا کر
آسمان سے رات صاف کرنا چاہتی ہوں
ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

سدرہ سحر عمران: زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ
ہماری گلیوں میں قیامت بچے جنتی ہے

سدرہ سحر عمران: ہمیں وراثت میں اپنی عیاشیاں سونپ جائیں گے
حرمزادو! خُدا کے لئے
ہمیں بانجھ پن کی دعائیں دو ۔۔۔
روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ

لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
مٹھی بھر جہنم

اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی
زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں

قبروں کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے
قتل کر دئیے جاتے ہیں
شہر ادھیڑا جا چکا ہے

اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ
ہم موت سے زیادہ خوب صورت ہیں

اس خاموشی کو
جو موت سے زیادہ خوبصورت تھی
میں اندھیرے کی بات سے متفق ہوں

ہماری زبانیں اگالدان بن جاتی ہیں
تم اپنے آپ کو کتنا تھو ک سکتے ہو؟
جنت جلتے پیروں نیچے

کتنی ماؤں کے دل پر
بارود گرانے باقی ہیں؟
دل سے اتری ہوئی نظم

جس کا نمبر کسی کو نہیں دیا گیا
لیکن وہ ہر ماہ بل کی ادا ئیگی کے لئے
اپنی چیزیں بیچ دیتا ہے
اس کے پاس اب ایک گھڑی کے سوا کچھ نہیں ہے
پچھلی گلی کا دروازہ
