Categories
شاعری

بے وطن عورت کا مارچ اور دیگر نظمیں – سدرہ سحر عمران

ہمارے شناختی کارڈ میں ولدیت کا خانہ نہیں ہے

آپ کے سونے جیسے ہاتھ سائیں
ہمارے ہونٹوں کی کالک سے
نیلے پڑ جاتے ہیں

آپ کے چاندی جیسے پیر سائیں
ہماری گناہ گارپیشانیوں سے
داغدار ہو گئے

آپ کے سفید سوٹ سائیں
ہمارے کفنوں کو خدا غارت کرے
ان کی برابری کا سوچتے ہیں

آپ کے اونچے شملے سائیں
ہمارے جھونپڑوں کا تاج ہیں

آپ کے حکم کے صدقے سائیں
ہماری نمازیں
پچھلی صفوں میں مری پڑی ہیں

آپ کی اوطاق سائیں
ہماری اوقات کا پیمائشی فیتہ ہے

آپ کی مسہریاں سائیں
ہماری عورتوں کی گندمی مہک سے
بھری ہوئی ہیں

آپ کے مزار سائیں
ہمارے جسم کے چراغوں سے
روشن رہتے ہیں

آپ کا حسب نسب سائیں
شاہوں اور سیدوں کی لڑیوں کا
سنہری پھول

اور ۔۔
ہم سائیں
آپ کی پاک زمینوں پر بندھے ہوئے
حرام زادے۔۔!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عورت ایک ایبسٹریکٹ پینٹگ ہے

عورت کی ہنسی کے سو رنگ ہوتے ہیں
اور آنسوؤں کا ایک بھی نہیں
عورت کی آنکھیں
کسی بادشاہ کے محل کی بارہ دری جیسی ہیں
ایک دروازے سے کئی دروازے نکلتے ہیں
(یا پھر کئی مرد)
جیسے ایک ٹہنی سے کئی پھول
عورت کی محبت بھی
کسی مرد کی محبت جیسی ہے
اتنی ہی شدید، پوزیسو اور بے وفا
مرد عورت کے بارے میں
اپنے پیروں سے سوچتا ہے
عورت مرد کے بارے میں
اپنی بے زبانی سے
بھلا کوئی رات کے کاغذ پر اپنے آپ کو
بارش جیسی باتیں لکھ کر روتا ہے
ہاں ۔۔ ایک عورت
خود سے محبت کے دنوں میں
خودکشی پر نظمیں لکھتا ہے
ہاں۔۔۔عورت
کوئی خوشبودار لکڑی سے گڑیا بنا کر
اسے ماچس سے بیاہتا ہے
ہاں۔۔
ایک عورت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قبر ہمارا قومی پھول ہے

کیا تمہیں ایک ایسا ملک چاہئے تھا؟
جس پر اپنے جوتے صاف کرنے کے بعد
تم ایک خوب صورت چھٹی منا سکتے
اپنی محبوبہ کے ہونٹوں سے سرخ رنگ چنتے ہوئے
تمہیں کبھی وہ پھول یاد آئے ہیں
جو ایک نابالغ ماں کی قبر تک نہیں پہنچے
تم نے 5 فروری کا کاغذ پھاڑ کر
اپنے بیٹے کے لئے جہاز بنایا
اور ہمارے لئے ایک جھنجھنا
تمہاری آواز بہت بد صورت ہے
بالکل کسی زنجیر کی طرح
جب بھی گلیوں سے بھونکنے کی آواز آتی ہے
ہم مسجدوں میں اعلان کرتے ہیں
کہ۔۔۔ ہما ری بیٹیاں مر گئیں
ہماری مائیں اپنے دوپٹے پھاڑ کر
دروازے اور کھڑکیاں بناتی ہیں
ہمارے باپ دادا ایسے تہہ خانے
جہاں حرام زادوں کی قلقاریاں
تھوکی نہ جاسکیں!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بایاں ہاتھ اور ماچس کا گیت

فساد فی الارض کا اعلان ہوتے ہی
ترازو والوں نے ایک پلڑے میں
ذلت۔۔
اور دوسرے میں خود کو رکھا
ان کا پلڑا جھک گیا
یہ بائیں ہاتھ والے ہیں

زمین نے اپنا گریبان پھاڑ ڈالا
اور سیاہ چہروں والے
ایک ایک کفن کا حساب دیتے
پہاڑ کے مانند ریزہ ریزہ ہو گئے
یہ دوزخ خریدنے والے ہیں

جب تابوتوں پر جوتے برسائے جارہے تھے
قیامت اپنے آپ میں غرق ہو گئی
آنسو ۔۔ بہت سارے آنسو
خدا کے پیروں سے لپٹ گئے
جیسے ٹانگ سے محرومی کے بعد
ہاتھ میں بیساکھی آ جاتی ہے
ایسے رحم کے چھن جانے پر
آگ کے پاؤں دیے جاتے ہیں
یہ آگ والے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں تمہاری آواز کی تصویر کھینچ سکتا ہوں؟

میں اپنی کلہاڑی کے دستے سے
تمہارے لئے
ایک بنسری بنانا چاہوں گا
تم وہ سارے پہاڑی گیت
اونچی حویلی کی خوابگاہ سے
باہر انڈیل دینا
جو تمہاری ریشمی آواز کو
دیمک کی طرح چاٹ گئے

میں اپنے ڈول سے تمہارے لئے
ایک کشتی بنانا چاہوں گا
تم اپنی سبز آنکھوں میں بہہ کر
کسی دروازے کو اپنا رازداں بنا لینا
میں دریا کی چوکھٹ پر
تمہارا منتظر رہوں گا

میں جولاہا ہوں
تمہارے لئے وطن کا ایک ٹکڑا
کاشت نہیں کر سکتا
تمہیں میری زمین پر رہنا ہوگا
کسی درخت،پھول
یا پھر کسی پہاڑ کا حصہ بن کر

میں تمہارے لئے
اپنی سانسیں ادھیڑ کر
ایک چراغ بُننا چاہوں گا
جس کی حدت سے
تمہارے ہونٹوں کے سرد پتھر
آگ ہو جائیں
اور میں۔۔۔
تمہاری آواز کا ریشم چرا سکوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے وطن عورت کا مارچ(1)

۔۔۔۔
کوئی رنگ سفیدی کے علاوہ؟
پانی ۔۔ آنسوؤں کے سوا
سرخی ۔۔۔ لہو سے الگ تھلگ
چوڑیاں ۔۔۔ جن میں بیڑیوں سی کھنک نہ ہو
پازیبیں ۔۔ جن کی صورت زنجیروں سے علیحدہ
ایک آزادی میرے کاجل کے لئے
ایک نعرہ میری زندگی کے لئے
ایک دیوار ایسی ہو
جس پر میری مرضی کی سانسیں ٹنگی ہوں
کوئی ایسی زمین
جس پرمیں اپنی مرضی کا وقت کاشت کر سکوں
میرے لیے کوئی بینر
جس پر میرے وطن کا نقشہ ہو
کوئی سڑک
جو میرے ملک کو جاتی ہو
اور راستے میں کوئی قبرستان نہ پڑے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے وطن عورت کا مارچ(2)

میرے بیٹے
کچھ دیر کے لئے
کیا تو مرنا موخر نہیں کرسکتا تھا
کرتے کا آخری بٹن ٹانکنا باقی تھا
ایسی بھی کیا ناراضی
تو بغیر بٹنوں والا ان سلا لباس پہن کر آگیا
ارے اس میں تو کوئی جیب بھی نہیں ہے
میں یہ چاروں قل والا تعویذ کہاں رکھوں
تیری حفاظت کے لئے جو پانی دم کیا تھا
تیرا باپ بالٹی میں انڈیل کر لے گیا
بیری کے پتے
اور وہ تختہ
جس پر بیٹھ کر تو آزادی کے نعرے لکھا کرتا تھا
میرے لعل
ذرا ٹھہر میں طاق میں سے عطر اٹھا لاؤں
یہ کافور بھی کوئی لگانے کی چیز ہے
دیکھ باورچی خانے میں چولہا جل رہا ہے
کہیں میری سانسیں تو نہیں جل رہیں
یہ میرا دوپٹہ بھیگتا کیوں جارہا ہے
میرے چاند
تیرے ماتھے پر سرخ پھول کھلا ہوا ہے
مجھے اس کی خوشبو سونگھنے دے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے وطن عورت کا مارچ(3)

مٹی خارش کی طرح
میرے جسم سے چمٹی ہوئی ہے
آزادی کی سرخ چیونٹیاں
میری آنکھوں میں بل بناتے ہوئے
آٹے کی بوریوں پر نعرے لکھتی ہیں
“ایک عورت کے بدلے ،وطن کی ایک اینٹ”
نہیں، نہیں
وطن عورتوں کا متبادل نہیں ہوتے
عورتیں تو غنمیت کی لاٹھیوں سے ہانک کر
کتوں کی شکار گاہ میں لائی جاتی ہیں
اور بدن سونگھنے والے
مٹی کو کھجلی میں بدل دیتے ہیں
دوسری عورتوں کو
سورہ نور والے مرد ملتے ہیں
اور ہمیں
خارش زدہ کتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بے وطن عورت کا مارچ(4)

میں زوجہ فلاں ابن فلاں
تمہاری وردیوں کے لئے حلال نہیں ہو سکتی
میرا خاوند
تمہارے بوٹوں کے نیچے آ کر مر گیا
لیکن میں اس کا جنازہ لینے سے انکاری ہوں
نکاح نامے سے بیوگی کاخانہ پھاڑ کر
میں تمہاری لئے پھانسی کا پھندہ بناؤں گی
یہ میرا بیٹا ایک درخت ہے
اس کی لکڑی ایک دن تختہ دار میں بدل جائے گی
اور میں تمہاری وردیوں سے
اپنے خاوند کے پھٹے پرانے جوتے صاف کرتے ہوئے
تمہاری ماں بہنوں کو گالیوں جیسی بددعائیں دوں گی
میں زوجہ فلاں شہید ابن شہیدابن شہید

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰىۙ

بجھاؤ۔۔یہ موم بتیاں
اور اس آگ سے اپنے چولہے آباد کرو
اٹھاؤ! ۔۔۔ پھولوں کی چادریں
اور اپنے بدن کی نالیاں ڈھانپ لو
سمیٹو!۔۔۔ خیرات کی تھالیاں
بھوک کے رنگوں سے جسم کی دیواروں پر
عزت کی روٹیاں پینٹ کرو
پھینکو!۔۔پیروں سے سلی ہوئی قمیضیں
اپنی برہنگی پر رقص کرو
ناچو!۔۔۔موت کی مسجدوں میں
جھومو!۔۔۔کلیسا کے سرد خانوں میں
گاؤ۔۔۔مندروں کے اسٹریچرز پر
خدا کے گیت
موت کے قفل توڑ کر
پھلانگو ۔۔ زندگی کی دیواریں
اپنی زبانوں سے پرچم بناؤ
اپنی آوازوں سے ایک سمندر
جو ان ساری مچھلیوں کو پھاڑ کھائے
جو تمہارے یونس نگل گئیں

Categories
شاعری

سورج کا بانجھ پن (سدرہ سحر عمران)

ہم نہیں جانتے دھوپ کا ذائقہ کیا ہے
روشنی کی شکل کس سے ملتی جلتی ہے
یہ پرندے کون ہیں
ہم درختوں کو چراغ لکھتے ہیں
ہوا کو موت
یہ پتے ہمارے آنسو ہیں
ہمیں کیا خبر کہ آسمان کا رنگ
تمہارے لہجے کی طرح
نیلا کیوں ہے؟
ہم نے سیڑھیوں کے ہجے نہیں سیکھے
ہم دیواروں میں آنکھیں لپیٹ کے سوتے ہیں

ہم نے پھولوں کو جنازہ گاہوں سے پہچانا
بارشوں کو اپنی آنکھوں سے
جس رات ہماری باتوں میں کم نمک ہوتا ہے
ہم سوکھی لکڑیوں پر
اپنے دن پینٹ کرتے ہیں
دیکھو ہمارے خواب سوکھ گئے
اب ہمارے لئے
بغیر کھڑکیوں والے مکان پیدا کرو
Image: Yves Tanguy

Categories
شاعری

ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ
اور کسی سبز آنکھ میں
تمہارے چہرے نہ کھل سکیں
تم وہی ہو
جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا
اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے
ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے
منفی اعداد ہیں
تم ہمیں جنگلوں سے ضرب دے کر
اینٹوں کے پیالے بنا رہے ہو
اور ہم اپنے پیٹ پتھروں سے باندھ کر
خوش ہیں
ہمارے بعد مٹی کبھی سونا نہیں ہوسکے گی
اور تمہارے پیتل جیسے پیر
بدعاؤں کی طرح
آسمان پر ڈولتے پھریں گے
مگر خدا ساتویں کھڑکی نہیں کھولے گا
تم اپنی قبریں لے کر کہاں جاؤ گے؟
Image: Alexander Petrovich Botvinov

Categories
شاعری

مجھے ایک گناہ کی اجازت دو

برف باری کاشت کرنے کے موسم میں
ہم نے آگ سے بوریاں بنا ئیں
ہماری آنکھیں کلہاڑی سے زیادہ تیز
اور درختوں سے زیادہ سایہ دار نکلیں
تم مجسمے کی طرح باغ میں کھڑے تھے
میں نے سورج کے آنے سے پہلے
پرندے آزاد کر دیئے
تم آسمان کی پرتوں میں چھپ گئے
سورج تمہیں رات کے نام سے پکارتا رہا
دیکھو۔۔۔ گھنگرو ہوا کے پیر سے پھسل چکے
اور میری آوارگی مجھے راس آ گئی
میں مٹی کے صابن سے جھاگ بنا کر
آسمان سے رات صاف کرنا چاہتی ہوں

Image: Gabriel Isak

Categories
شاعری

ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

ہم وہ روشن دان تھے جن سے
ہوائیں بے دخل کر دی گئیں
ہم نے خود کو جوڑ توڑ کر آسمان بنایا
اور اپنی مرضی کا سورج ٹانک دیا
ہم نے رات بھر جاگ کر پتھر جیسی آنکھوں سے
ستارے کُوٹے
قلعے بنائے ۔۔۔۔
اور خود کو قید کر لیا
ہم نے اونچے میناروں پر خدا سے چغل خوریاں کیں
زندگی پرفحش نگاری کا بہتان لگایا
اور موت پر جھوٹا الزام لگا کر اسے زنداں میں ڈال دیا
زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ ۔۔۔

Categories
شاعری

ہماری گلیوں میں قیامت بچے جنتی ہے

ہم وہ تہمت ہیں جس کے پیروں نے دھوپ پہنی
اور۔۔۔ آنکھوں سے رات کا زنا ہوتے دیکھا
رات جو کسی دن کے نکاح میں تھی
سورج کے ہاتھوں قتل ہو گئی
ہمارے گناہ درختوں کی طرح اُ گتے ہیں
ہم ان کے سائے میں بیٹھ کر
عزت نام کے کھلونوں سے کھیلتے کھیلتے
ایک دن کوٹھوں میں بدل جائیں گے
اورہمارے بدبو دار جسموں سے
گورکنوں کی راتیں رنگین کرنے والے
آوارہ کتے۔۔۔
ہمیں وراثت میں اپنی عیاشیاں سونپ جائیں گے
حرمزادو! خُدا کے لئے
ہمیں بانجھ پن کی دعائیں دو ۔۔۔

Image: Patti Warashina

Categories
شاعری

روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ

روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ
جس تہوار پر خدا آنکھیں مانگ رہا تھا
ہم نے کہا ۔۔۔ہم سے بیٹے نہ مانگ
ہم نے مائیں سنبھال کر رکھیں
اور۔۔۔۔ بیٹے پہاڑوں کو دے دیئے
جب بارود کا دن آتا ہے
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
رزق دینے والوں نے کہا سڑکیں کھاؤ
اور پسینہ پیو
روشنی تمہیں پسند نہیں کرتی
تم تاریکی جتنے مذہبی ہو
تمہارے حلق مین ہولز کی طرح ہر وقت کھلے کیوں رہتے ہیں؟
کتنا مانگو گے؟
پانی دینے والوں نے کہا
ہم نے کشکول ختم کئے ۔۔۔تم ہاتھ ختم کر لو !!
(سالے۔۔۔ بکواس کرتے ہیں )
Categories
شاعری

مٹھی بھر جہنم

مٹھی بھر جہنم
ہماری آنکھیں آگ سنبھال سکتی تھیں
لیکن
خدا نے دریا کے نام
جتنے بھی خط لکھے
ہماری آنکھوں تک نہیں پہنچے

تم نے آگ کو غیرت سمجھا
اور لکڑیوں کی جگہ
لڑکیاں جلا دیں

تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی

تم نے جنازے کو تہوار سمجھا
اور شہر شہر جاکر منایا
ہمارے پہاڑ تمہیں دیکھ کر ہنستے ہیں
ہنس ہنس کر ان کے پیٹوں میں بل پڑ چکے
بلوں کو دیکھ کر
تمہاری پگڑیاں یاد آتی ہیں

ہمیں ننگی گالیاں یاد کرنے دو
کہ مرنے والوں کے لئے دعائیں ختم ہوچکیں

Image: R. M. Naeem

Categories
شاعری

زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں

زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں
وہ رقص مر گیا
جو مذہب کے کسی دھاگے سے باندھا نہیں جا سکا
وہ دھمالیں موت کے خوف سے پاگل ہوئیں
جو آنکھ کی چرخیو ں پہ گھومتی تھیں
مر گئے زندگی کا مطلب پوچھنے والے
اور۔۔۔ سوگ کے کنووں میں پھینکا گیا
وہ وقت
جو موت کے پیروں سے رسیاں
لپیٹتا تھا

تم نے دھماکے کی آواز سنی
ہم نے موت کا اعلان
تم نے قیامت کی برہنہ تصویریں اتاریں
ہم نے زندگی کا خوف
ان جسموں کو کھول کر دیکھو
جن میں آنکھیں زندہ گاڑ دی گئیں

ہم اپنے آپ سے بے دخل ہو کر
کیا اس مٹی کے گیت گائیں؟
جو خدا کے بارے سوال کرتی ہے
اور۔۔۔ ہم خدا سے بچھڑنے کے بعد
قبروں کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے
قتل کر دئیے جاتے ہیں !!

Image: The News

Categories
شاعری

شہر ادھیڑا جا چکا ہے

جو نفرتوں کے خلاف قتل ہوئی
تم ہمیں اُس سڑک سے منسوب کرو گے؟
ہم۔۔۔جو گم شدگی کا اشتہار بن کر
دیوار سے جا لگے ہیں

جن دنوں ہم نعرے سی سی کر
اپنے دن پورے کرتے تھے
اور سوچتے تھے کہ مٹی ہمیں پانی نہیں دے سکتی
تم ہمیں پرچموں سے مکان بنا کر دیتے
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ
تب ہم اپنی آنکھیں کھود کر
ایک ادھڑا ہوا شہر دریا فت کرتے تھے
اور سڑکوں سے پوچھتے تھے
کہ۔۔۔۔ تم ہمارے راستے میں کیو ں لکھے گئے ہو؟
(تم ۔۔۔جو ادھڑا ہوا شہر تھے )

Image: Hamid Suleman

Categories
شاعری

ہم موت سے زیادہ خوب صورت ہیں

ہم نے آوازوں کے شہر میں جی کر دیکھا
اس خاموشی کو
جو موت سے زیادہ خوبصورت تھی
جب ہماری آنکھوں کا مطلب
تم آنسوؤں کے سوا کچھ اخذ نہیں کر پائے
تو بارشوں نے ہنسنا چھوڑ دیا

تم نے زمین کی چپ سنی؟
اگر نہیں۔۔۔تو مجھے خود سے علیحدہ کر کے دیکھنا
کون تمہیں مجھ میں شناخت کر پاتا ہے
کون بتا سکتا ہے کہ کتنی قبروں کا
ایک دوسرے میں آنا جانا ہے
Categories
شاعری

میں اندھیرے کی بات سے متفق ہوں

میں اندھیرے کی بات سے متفق ہوں
ہم نے گالیوں کا تہوار منایا
اور۔۔۔ گریبان پھاڑ کر پرچم بنا لئے
جب ہماری نفرت کا قومی دن منایا جاتا ہے
ہماری زبانیں اگالدان بن جاتی ہیں
تم اپنے آپ کو کتنا تھو ک سکتے ہو؟

کتنی قبروں کی مٹی
ان انگلیوں میں جمع ہوئی
جو اشارے کے لئے تخلیق کی گئیں
تم کس سڑک کی ایجاد ہو؟
کون سی سرخ بتی بولنا سکھائے گی تمہیں
کون تمہارے خوف سے بیچ ڈالے گا اپنی آنکھیں
تمہیں مغلظات بکنی ہوں گی
سورج تمہارا مقدمہ نہیں لڑ سکتا
Categories
شاعری

جنت جلتے پیروں نیچے

جنت جلتے پیروں نیچے
کم سن جسموں کو دیکھا ہے
اِس کونے میں
اُس کھڑکی سے
ٹکڑے ٹکرے جھول رہے ہیں
الف سے اللہ
بھول رہے ہیں
جیسا یونی فارم اتارا
ویسا پھر سے پہنے دیکھا
چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں جو قید دعائیں تھیں ساری
مٹی میں ملتے دیکھی ہیں
ہونٹوں پر ہلتے دیکھی ہیں
آج لہو کی جھیل میں دیکھو
جوتے، بستے، پنسل، بوتل
اور کچھ سکے تیر رہے ہیں

 

یہ دنیا بھی ایک جہنم
اُس دنیا میں بھی دوزخ ہے
جنت جلتے پیروں نیچے
قبروں کی جانب بھاگ رہی ہے
سنتے ہیں دربار لگا ہے
لیکن سننے والا چپ ہے
اک دہشت چنگھاڑ رہی ہے
باپ کا کرتا پھاڑ رہی ہے

 

2

 

دہشت گردو! کن ماؤں نے جنما تم کو
کیسے باپ کا نطفہ ہو؟
کب تک تم تاریک کرو گے
گھر، مسجد، اسکول ہمارے
کب تک نوچو گے ماؤں کے
کلیاں، شبنم، پھول، ستارے
اپنی جنگیں جیتو، ہارو
لیکن ہم کو تو مت مارو
بندوقوں کے بل پر کتنے تابوت اٹھانے باقی ہیں
کتنی ماؤں کے دل پر
بارود گرانے باقی ہیں؟

Image: Ammar Saleem

Categories
شاعری

دل سے اتری ہوئی نظم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

دل سے اتری ہوئی نظم

[/vc_column_text][vc_column_text]

تمہارے حصے کی عورت
میرے گملوں سے پھول نہیں توڑ سکتی
اور میرے حصے کا مرد
تمہاری شاخوں سے وہ باغ نہیں بنا سکتا
جہاں پہلی بار بھولنا سکھانا گیا تھا
ہم ایک دوسرے کی زندگی کا سیاہ باب ہیں
مجھے جہیز میں تابوت دیا گیا
اور تم نے بہت ساری کیلیں خرید لیں
آ خری کیل دیکھو
اس پہ میرا نام لکھا ہو گا

 

میرا مرد اس ٹیلی فون کی طرح خاموش ہے
جس کا نمبر کسی کو نہیں دیا گیا
لیکن وہ ہر ماہ بل کی ادا ئیگی کے لئے
اپنی چیزیں بیچ دیتا ہے
اس کے پاس اب ایک گھڑی کے سوا کچھ نہیں ہے

 

میں نے اس کے جوتوں کے تلووں میں وہ کیل

 

ٹھونک دیئے
جو مجھے تمہاری جیب سے ملے تھے
تمہاری عورت مجھ سے ملنے آئے گی
تو میں یہ گھڑی اس کو دے دوں گی
لیکن۔۔۔۔
تم اسے اپنی کلائی میں نہیں باندھ سکو گے
کیونکہ تمہاری عورت اسے راستے میں
پھینک جائے گی
اور وقت ہماری زندگی سے نکل جائے گا !

Image: Eric Petersen
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
فکشن

پچھلی گلی کا دروازہ

شام سے ہی اچھا خاصا سناٹا درودیوار سے لپٹا تھا۔ اس گھر میں تھا ہی کیا وحشت اور تنہائی کے سوا۔ سارا دن ویرانی کا مرگھلا پرند مکان کی چھت سے الٹا لٹکا کریہہ آوازوں میں ہیبت نا ک کلمے پڑھتے رہتا تھا۔ وہ کافی دیر سے ذہن کے اندرو نی حصے میں روشن خیالا ت کے عکس کو آنکھوں کی تاریک اسکرین پر دیکھ رہا تھا۔ سیاہ لباس میں ملبوس کئی چہرے ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے اور وہ ایک کھمبے کے پیچھے چھپ کر افراتفری کے عالم کو دیکھ رہا تھا۔ کتنی ہی دیر تک تو اسے سمجھ ہی نہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔اور جب اس کے حواس قدرے بیدار ہوئے اس نے ذہن پہ زور دینا شروع کیا۔وہ ان چہروں کو پہچان نہیں پا رہا تھا۔ شاید وہ راستہ بھول کر کسی اور بستی میں آ گیا تھا۔ لیکن وہ گھر سے کس کام کے لئے نکلا تھا۔ اسے یاد نہیں آ رہا تھا۔ وہ دم سادھے لیٹا اپنے خواب کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کر تا رہا۔ پھر اکتا کر اس نے خود کو آزاد چھوڑ دیا۔ معاً اس کی سماعت میں پروں کے پھڑپھڑانے کی آواز سرسرانے لگی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کئی سانپ ایک ساتھ پھنکار رہے ہوں۔ اس کے ماتھے پہ پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے۔ حبس زدہ فضا میں عجیب سی باس تھی اس نے نتھنے سکیڑ کر خوشبو سونگھنے کی کوشش کی تو اسے چھینک آ گئی۔ایک جھنجھناہٹ نے بدن کو چیر دیا تھا۔ اس کے منہ میں خشک مٹی کا ذائقہ گھلنے لگا تو اس نے بائیں طرف تھوکنے کی کوشش کی۔مگر سر اتنا بھاری ہو رہا تھا کہ اس سے بالکل بھی ہلا نہیں گیا۔ سر تک چادر اوڑھے ہوئے وہ نیم غنو د کیفیت میں تھا۔ دفعتاً اسے لگا کہ کوئی اس کا شانہ ہلا رہا ہے۔ اس کی آنکھ کھل گئی تھی مگر اس نے خود کو سوتا ظاہر کیا۔ وہ مزید کچھ دیر سونا چاہتا تھا مگر جب اسے زبردستی اٹھا دیا گیا تو وہ بارہ بجاتی شکل کے ساتھ اس گستاخ کو کوسنے لگا جس نے اسے پھر بے آرامی کے برزخ میں دھکیل دیا تھا۔ آج مدت بعد تو سکھ چین کی نیند آئی تھی۔ گو کہ کرنے کو بہت سارے کام باقی تھے۔ کام کیا زندگی کے جھنجھٹ کہئے۔۔۔جو ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی اس کی ملوکیت میں آ چکے تھے۔ پہلے تو اپنے جی کا جنجال تھا اب پانچ جانیں مزید ساتھ تھیں۔اس کی کرخت انگلیاں تو اسی جمع توڑ میں لگی رہتی تھیں۔ مکان کا کرا یہ، بجلی، گیس کا بل، بچوں کی فیسیس، گھریلو اخراجات اور پھر کچھ عرصے بعد بڑی بیٹی کی شادی بھی طے تھی۔ گو اس کی نیک بخت شریک حیات نے کافی کچھ جوڑ رکھا تھا مگر پھر بھی سو بکھیڑے تھے۔اس نے اپنی ماں سے مکان کے حصے کی بات کی جو اس کے بھائی کے زیر استعمال تھا۔ پہلے سب اکھٹے رہتے تھے مگر پھر چھ کمروں کا مکان چھوٹا پڑنے لگا تو اسی نے قربانی دی اور کرائے کے مکان میں آ پڑا۔پانچ سال ہو گئے تھے اسے مختلف مکانوں میں دھکے کھا ؎تے۔ چھوٹے بھائی نے الگ ہو نے کے بعد نیا کا روبار شروع کیا تو اسے خاطر خواہ فائدہ ہوا اور اب تو اس نے کئی پلاٹ بھی لے لئے تھے اس لئے جب ماں اور بھائی کو احساس نہ ہوا تو اس نے خود ہی منہ سے کہہ دیا۔ماں تو سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گئی اور بکتی جھکتی چھوٹے کے ہاں چلی گئی تھی۔

 

“میرے جیتے جی اس گھر کا بٹوارہ نہیں ہو سکتا۔ اگر میرا وجود کھٹکتا ہے تو زہر دے دو تم دونوں میاں بیوی مجھے ” وہ شدید غصے میں کا نپنے لگی تھی۔اس کی بیوی نے تو کبھی ضرورت سے زیادہ مانگا تھا نہ وہ چا در سے پاؤں با ہر نکا لنے کی قا ئل تھی پھر بھی اس کی ماں کو لگتا وہی اس کے بیٹے کو پٹیاں پڑھاتی رہتی ہے۔ اس کا دل برا ہو گیا تھا۔ ماں رو ٹھ کر چلی گئی اور کچھ دیر بعد ما لک مکا ن کا لڑ کا کرا یہ لینے آیا تو اس کا دل مزید افسردہ ہو گیا۔

 

“بیٹا ! ابا سے کہو اگلے مہینے اکھٹا دے دوں گا دونوں مہینوں کا ” اس نے بے چارگی کی انگلی تھام کر کہا۔

 

“ک ئی نہیں چاچا۔ابا نے کہا تھا کرایہ ضرور ہی لے کے آئیو۔ اسٹور والے کا حسا ب چکتا کرنا ہے۔” بد لحاظ سا نوجوان اکھڑ پن سے بولا۔

 

“اچھا۔۔میں کل ان کی خدمت میں حا ضر ہو تا ہوں” وقتی طور پہ یہی عذر ذہن میں آیا تھا۔ لڑکا تو چلا گیا۔وہ کمرے میں آ کر حساب کتاب کرنے لگا۔ اس کی بیٹی اس سے کھانے کا پوچھنے آئی تھی۔ اس نے گھڑی کی بدرنگ سوئیوں پہ وقت شمار کیا تو رات کے نو بجنے میں کچھ ہی وقت باقی تھا۔ اور طبیعت اس قدر مکدر تھی کہ رہی سہی بھوک پیاس بھی اڑ چکی تھی۔

 

“ابھی بھو ک نہیں ہے بیٹا۔۔۔ بعد میں کھا لوں گا” اس نے نر می سے کہا۔

 

“جی اچھا۔۔۔ امی نے بھی نہیں کھایا کہتیں بھو ک نہیں ہے۔ آج کسی کو بھی بھو ک نہیں لگی ابا۔۔ “

 

“تم لو گوں نے کھا لیا؟” اس نے چا روں بچوں کے متعلق پو چھا۔
“نہیں ابا۔۔۔سب نے منع کر دیا۔ میں نے اتنے شوق سے بگھا رے بیگن بنائے تھے۔ دا دی اماں نے فرما ئش کی تھی اب وہ تو خفا ہو کر چلی گئیں۔ کسی اور نے بھی نہیں کھائے۔”

 

“چلو کھا نا لگا ؤ۔۔۔سب مل کے کھا تے ہیں۔” اس نے اپنی پریشا نی کا تھیلا اٹھا کر الما ری میں رکھا۔جن بچوں کے لئے وہ دن رات محنت کرتا تھا ان کے ملول چہرے دیکھ کر اسے دکھ تو ہوا مگر خود پر زبردستی بشاشت طاری کرتے ہوئے وہ خوش گپیوں میں مصروف ہو گیا تھا۔

 

اور اگلی صبح طمانیت کی نرم کرنیں لئے طلو ع ہو ئی تھی۔ وہ دفتر سے گھر آ یا تو گھر کے باہر لوگوں کو جم غفیر دیکھ کر اسے کسی انہونی کا احساس ہوا۔ وہ بھیڑ چیر کربد حواسی کے عا لم میں اندر آیا تو اس کی بیوی بچے، بہن بھا ئی، ماں، بھتیجے، بھتیجیاں، بھانجے، بھانجیاں، عزیز و اقربا سب ہی جمع تھے۔درمیان میں رکھی چارپا ئی پہ سفید چادر اوڑھے وہ کون تھا؟

 

اسے دھچکا لگا۔ وہ حیرت سے آنکھیں ملتا آ گے بڑھا تو سب سے پہلے اسے اپنی بیوی کا چہرہ دکھائی دیا۔ وہ رو رو کر ہلکان ہو چکی تھی۔ بکھرے بال، ٹوٹی چوڑیاں، سوجی آنکھیں۔۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر اسے اس پہ بے تحاشہ ترس آیا۔وہ اسے دلاسہ دینے کے لئے آگے بڑھنا چا ہتا تھا مگر اس کے ساتھ ہی اس کی بیٹیاں سر جھکائے سسکیاں بھر رہی تھیں۔وہ وہیں کھڑا رہ گیا۔رشتے دار خواتین میں سب سے زیادہ بلند آواز اس کی ماں کی تھی وہ ہاتھ پھیلا پھیلا کر بین کر رہی تھی۔پچھا ڑیں کھا رہی تھی۔ اسے دیکھ کر اس کے لبوں پر تمسخرانہ مسکرا ہٹ بکھر گئی۔ اسے وہ سوانگ بھرے کردار کسی ڈاکیومنٹری کا حصہ لگے۔ وہ ان کی ادا کاری پہ جی بھر کر داد دینا چاہتا تھا مگر اس کی طرف کوئی دیکھ ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو پکارنے کی کوشش کی تو اس کے حلق سے عجیب سی غر غراہٹ نکلی جسے سن کر وہ خود بھی حیران ہو گیا۔ حلق میں انگلی ڈا ل کر اس نے پھنسے ہوئے لفظوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اس کی زبان تا لو سے چپکی ہوئی تھی جیسے کسی نے اسے ایلفی سے چپکا دیا ہو۔ وہ گردن لٹکائے الٹے قدموں پیچھے کھسکنے لگا۔اسے اس بھر ے مجمع میں کسی سے دلچسپی نہیں تھی لیکن وہ پا نچ مہرباں اور جانے پہچانے چہرے جو اس کے اپنے چہرے تھے۔اس کے وجود کا حصہ بن چکے تھے۔وہ انہیں ایک بار سینے سے لگا کر محسوس کرنا چاہتا تھا۔مگر شاید دیر ہو چکی تھی۔اس کی بیوی کی چو ڑیاں دور تک بکھری ہو ئی تھی۔بیو گی کی سفید چا در اس کے ما تھے تک آئی ہوئی تھی تاہم وہ خود بے بس ہو چکا تھا۔اس نے رو تے، پیٹتے، کرلا تے مجمع پر ایک طا ئرا نہ نگاہ ڈالی اور پچھلی گلی میں کھلتے دروازے سے نکل کر اپنی قبر میں جا کر ساکت لیٹ گیا۔ وہ گہری نیند سو جانا چاہتا تھا۔ایک پرسکون اور طویل نیند۔۔ اب تو اسے روزِ محشر تک کسی نے بیدار کر نے نہیں آنا تھا۔

Image: Joanna Kuhling