Categories
شاعری

پختگی (عظمیٰ طور)

میں اس سے جب ملی تھی
وہ اپنی عمر کی تین دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ
بڑے سبھاؤ سے
گزار چکا تھا
میں بھی __
بھلا دس برس پہلے
میں عمر کے کس حِصے میں ہوں گی؟؟؟
شاید عمر کے اس حِصے میں
جہاں خواب بنے جاتے ہیں
اور ہر دھاگے کو اپنے ہاتھوں سے
کسا جاتا ہے
میں بہت خاموش رہ کر
بہت کچھ سہہ کر
جب اس تک پہنچی
تو اس کے ساتھ میں نے کئی زمانوں کو
الیوژن کی صورت خود پر بیتتے دیکھا
میں نے بھری دوپہروں میں اس کے ہمراہ
سنسان گلیوں میں
اتنی سائیکلنگ کی کہ ہم دونوں اور ہمارے ساتھی
تمتماتے سرخ چہروں کے ساتھ
سورج سے لڑتے تھے
باغِ جناح کے کئی ٹریک
ہمارے قدموں کو پہچانتے ہیں اب بھی
کئی کلیاں کھلنے سے پہلے ہم توڑ لاتے تھے
کئی بارش کی بوندیں
چھپاک چھپاک ہمارے پیروں تلے روندی جاتی تھیں
ہم ہنستے تھے تو ہوائیں چلتیں
بولتے تو وقت رک جاتا
وہ اب اپنی عمر کی چار دہائیاں بڑے ہی رکھ رکھاؤ
بڑے ہی سبھاؤ سے گزار چکا ہے
اور میں
عمر کے اس حِصے میں ہوں
جہاں
سمجھ پختگی کے دھاگوں سے سِل کر
مکمل اک کتاب بن کر
سامنے آ چکی ہے _!!!
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

میں تمہارے خوابوں کو بھٹکنے سے نہیں روکتا
کیونکہ اِن کی سکونت کے لئے جو آنکھیں بنی ہیں
وہ صرف میرے پاس ہیں
میں اپنے خوابوں کی ریز گاری
تمہاری جیبوں میں نہیں ڈالتا
کہ تمہیں اِن کے بوجھ سے گھبراہٹ ہوتی ہے
میں تمہارے درد کی صراحی سے روزانہ
چِلوُ بھر درد پی جاتا ہوں
آخر ایک روز صراحی خالی پا کے
تمہیں درد کا ذائقہ بھول جائے گا
میں اپنے خیالوں کو
سبزی مائل رکھتا ہوں
کہ وہاں تمہیں موسم کی شِدت
اور حِدت کا احساس نہ ہو
میں محبت کے گیت
اونچے سُروں میں نہیں گاتا
میں محبت کے دھویں سے مرغولے نہیں بناتا
سینے میں کہیں پھیلائے رکھتا ہوں
صرف اپنے لئے
Image: Duy Huynh

Categories
نان فکشن

“شعر” اور “واہ” کا رشتہ (تالیف حیدر)

میں عام طور پر اپنے حلقہء احباب میں کسی بھی شعر کی تعریف میں لفظ واہ بہت سنتا ہوں۔ یقیناً !یہ صرف میرے ہی حلقہء احباب تک محدود نہیں، بلکہ ایک عام رواج ہے۔لوگوں کا تاثر اکثر کسی اچھی چیز کو دیکھ کر یا کسی اچھی بات کو سن کر یہ ہی ہوتا ہے، اس کے باوجود شعر کے ساتھ واہ کا جو رشتہ ہے، وہ دیگر معاملات میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ میرا مشاہدہ ہے کہ لوگ اکثر کسی تصویر کو دیکھ کر یا کسی اچھی عمارت کو دیکھ کر ایک دم سے واہ اس طرح نہیں کہتے جیسے شعر کو سن کر کہتے ہیں، عین ممکن ہے کہ کوئی اس صورت میں بھی واہ کو ایسے ہی ادا کرتا ہو جس طرح سماعتِ شعر کے بعد کیا جاتا ہے، لیکن یہ میرے مشاہدے میں کم ہی آیا ہے۔البتہ شعر پہ واہ کہنے والوں کو میں روز دیکھتا اور سنتا ہوں۔ اکثر میں اس بات پر غور بھی کرتا ہوں کہ کیا صرف ایک واہ سے کسی بھی شعر کی تاثیر کا مکمل اظہار ہو جاتا ہے؟ کیا واہ ایک ایسی طلسمی چھڑی ہے جس سے کسی بھی شعر کو ہانکا جا سکتا ہے؟ یقیناً! لفظ واہ کہنے کے لیے کسی لیاقت کی ضرورت نہیں، یہ بس لبوں سے یوں ادا ہوتا ہے جیسے ہر شعر کی غذا ہو۔

اگر آپ کو شعر گوئی اور شعر فہمی کا ملکہ حاصل ہے تو آپ نے اپنی زندگی میں کئی بار یہ تجربہ کیا ہوگا کہ کسی بھی شخص کو کیسا ہی کوئی شعر سنا یئے وہ یا تو خاموش رہے گیا یا اپنی گردن اثبات میں ہلا کر اس پر واہ کہہ دے گا۔ ایک واہ اور شعر کی ترسیل کے سارے مراحل طے۔ میں نے بہت سے شعر سنانے والے تو ایسے بھی دیکھے ہیں جو اپنے سامع یا قاری سے صرف واہ کی طلب کے لیے شعر پڑھتے ہیں۔ ایسے شعرا اپنا شعر پڑھ کر اکثر اپنے سامعین پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ کس کس کونے سے واہ کی صدا بلند ہوئی ہے اور کون سا کونہ خاموش ہے۔

واہ ایک اظہار کیفیت ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس میں ایک بھر پور تاثر کی جھلک پوشیدہ ہے۔ خواہ آپ نے واہ کو ایمانداری سے ادا کیا ہو یا بے ایمانی سے مگر یہ لفظ ہمیشہ اپنا اظہار ایک جیسا رکھتا ہے۔ اس کی جعل سازی کو پکڑنا مشکل ہی نہیں بلکہ تقریباً نا ممکن ہے۔ ادھر کی بستیوں میں(میری مرا د بر صغیر سے ہے) جہاں اکثر اشیاء اور جذبات میں ملاوٹ پائی جاتی ہے واہ کی ایماندارانہ جھلک کم ہی دیکھنے کو ملے گی۔ مشاعرے بازوں کے یہاں تو یہ بالکل ہی مفقود ہے۔ ہر وہ شخص جو سچے دل سے واہ کہتا ہے، یقیناً اسے کسی سادےسے سادے شعر کو بھی بڑی باریکی سے سننا پڑتا ہے۔ اس کی کیفیت کے مکمل تاثر کو واہ کے لفظ میں تبدیل کرنے سے پہلے اس کی فنی باریکیوں کا معائنہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے تمام محاسن و معائب کا حساب لگا کر اس لفظ کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ یہ ایک لمبا پروسس ہے، لہذا ایسے واہ کی ادائیگی میں اتنی تیزی جتنی عام طور پر دیکھنے میں آتی ہے، مشکل سے ملے گی۔ عین ممکن ہے کہ اس عمل میں بھی تیزی دیکھنے میں آ جائے، لیکن اس کا ادراک ہونا مزید مشکل کام ہے۔ کون شخص کس شعر میں کیا دیکھ رہا ہے اور کس وجہ سے اس کے منہ سے کسی شعر پر واہ نکل رہا ہے؟ یہ بھی سمجھنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ میرے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے کسی خاص نشست یا مشاعرے میں بہت اہم اہم لوگوں کو کسی شعر پر واہ کہتے سنا اور ان کا منہ تکتا رہا۔بعض سے اس تجسس کی بنیاد پر نظروں ہی نظروں میں یہ دریافت بھی کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے شعر سنتے ہی فوری طور پر واہ کیوں کہا۔ مگر اکثر جواب ندارت رہا۔ ایسی صورت میں جبکہ میں کسی سے اس کی واہ کی وجہ طلب کرنے کے لیے اسے غور سے دیکھتا تو مجھے بدلے میں مزید ایک واہ سنائی دیتی۔ کچھ بے تکلف قابل اور شعر فہم دوستوں کے منہ سے یہ لفظ سن کر ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کبھی کسی ایک لفظ کو قابل تحسین گردانہ، کبھی شعر کے صوتی نظام کو اپنی واہ کی وجہ بتایا، کبھی کسی بحر کو اور کبھی کسی تلمیح، استعارے اور تشبیہ کو۔بے شمار مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی نے شعر سے اپنے کسی تجربے کو ملا دیا اور بعض مرتبہ اس کی پوری شرح بیان کرتے ہوئے اپنی واہ کی وجہہ بتائی۔ مجھے ان سب سے کوئی شکایت نہیں کہ واہ تو ان سب باتوں پہ بھی کی ہی جا سکتی ہے۔ مگریہ ذرا سوچنے کی بات لگی کہ کیا کسی ایک شعر میں ایسے ایک یا دو ہی نکتے ہوتے ہیں جن پر کوئی بھی شخص اولین صورت میں واہ کہہ دیتا ہے۔ یہ تو کسی شعر فہم شخص کا حال ہے کہ اس کو کم سے کم ایک یا دو چیزوں کی بہتری کا احساس ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر تو واہ اس روایت کے تحت کہا جاتا ہے جو کہ شعری متن کے اظہار سے وابستہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی ایک ایسے شعر میں جس میں لفظ کی تہہ میں معنی کا ایک نظام گردش کر رہا ہو، اس کے جتنے نکتے قاری یا سامع پر کھلتے جائیں گے اس کے منہ سے واہ کا لفظ ادا ہوتا رہے گا۔ لیکن اس عمل کے لیے ہمیں کسی ایک شعر کی قرات کم سے کم تین سے چار بار کرنی ہوگی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اہم سماعتوں نے مشاعرے میں مکرر ارشاد کا نظام وضع کیا۔ ایک شعر جس کی کئی پرتے ہیں، جسے کئی معاملات سے جوڑا جا سکتا ہے، جو زندگی کے مختلف حالات و واقعات سے لگا کھاتا ہے، جو اپنی فنی باریکیوں کی وجہ سے دل پر اضطرابی کیفیت مرتب کرتا رہتا ہے، جس کا صوتی نظام اور آہنگ لرزہ دینے والا ہے وہ یقیناً مکرر کا حق دار ہے۔ ایسے شعروں پر وہ سماعتیں جو بالکل خالص ہیں وہ ہر بار نئے انداز میں واہ کہتی ہیں اور مختلف کیفیات کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ کسی تیلی، نائی اور پارچہ باف، کسی انجینئر، ڈاکٹر اور آرکیٹیک، کسی مزدور بھانڈ اور متشاعر کو کوئی شعر سناو، وہ واہ کہہ کر اپنا فرض پورا کر دیتا ہے۔گویا کہ شعر کسی تفہیم کا نہیں بلکہ واہ کا محتاج ہے۔ میں صرف اپنی بات کروں تو شعر پر واہ کہنا میرے لیے ہمیشہ سے ایک مشکل امر رہا ہے، یوں تو میں نے بھی اپنے بے تکلف دوستوں کی محفلوں میں بہت سے شعروں پر سر ہلا ہلا کر اور جھوم جھوم کر واہ واہ کا گیت گایا ہے، مگر یہاں بات انجم باہمی سے آگے کی ہے۔ مثلاً غالب اور میر کے اشعار کسی موسیقار کے منہ سے سن کر ایک دم سے واہ نکنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ میں یہاں مثال کے لیے اپنے ایک من پسند شاعر زیب غور ی کا ایک شعر لیتا ہوں:

ایک جھونکا ہوا کا آیا زیب
اور پھر میں غبار بھی نہ رہا

اس شعر پر میں واہ کہنے سے پہلے شاعر کے غبار نہ رہنے کی معنوی جہت پہ غور کروں گا، کیا وہ ہوا کہ چلنے سے پہلے غبار تھا، غبار اور بدن کے معنوی تقرب اور بعد پر غور کروں گا۔ پھر ہوا کے جھونکے کی تعبیر پہ سوال قائم ہوگا، شعر کی زمانی حیثیت پہ نظر جائے گی، اس اسلوب کی باریکیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ عروض کا نظام ذہن میں گردش کرے گا۔ شعر کے دونوں مصرعوں کے صوتی آہنگ پہ نظر گاڑنا ہوں گی۔ ان سب مرحلوں سے گزرنے کے بعد جب شعر کو صحیح یا پھر قرین قیاس معنی کے سانچے میں ڈھالوں گا تب واہ کا لفظ شائد منہ سے ادا ہو۔ اس عمل میں برجستگی کی خواہش عبث ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے، خواہ ذہن کتنی ہی تیزی کا مظاہرہ کرے مگر کشاکشی میں جو وقت صرف ہونا ہے وہ مجھے مصنوعی واہ سےحتی الامکان دور رکھے گا۔ واہ کہنا کوئی شوخی نہیں اور نہ کوئی فیشن ہے۔ یہ تو ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ غور سے دیکھو تو اس واہ کی لالچ نے ہی ہمارے مشاعروں کا معیار پست کیا ہے۔ غالب سے جو آسان کہنے کی فرمائش کی گئی تھی اس کے پیچھے بھی یہ ہی واہ واہی کار فرما تھی۔ ایک جملہ ہم اکثر ادیبوں کے منہ سے سنتے ہیں کہ میاں مرزا رفیع سودا واہ کے شاعر تھے۔ اس واہ سے غالباً ایک عام ذہن طربیہ مراد لے مگر ایک سوچتا ہوا ذہن اس سے تحسین کی فنی باریکیوں کی شناسائی مراد لے گا۔ یقیناً سودا واہ کے ہی شاعر ہیں کیوں کہ وہ نکتہ سنجی اور نکتہ فہمی کے متمنی ہیں۔ ان کی شاعری کی مثال واہ کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ اس تناظر میں میر کا کلام جس آہ کے خانے میں فٹ کیا جاتا ہے وہ بھی واہ کی ہی ایک ارتقائی صورت ہے۔ شعر پر واہ کہنا ہر اس امر سے مشکل ہے جس حالت میں آپ کو کسی پیڑ کے نیچے لیٹے لیٹے کشش ثقل کی موجودگی کا احساس ہوجائے۔ جس طرح کوئی ایک نیا تجربہ انسانی زندگی میں ایک نئی بہار لاتا ہے اسی طرح ہر اس شعر پر جس پر قاری یا سامع واقعتاً واہ کہنے پر مجبور ہوجائے ایک نئے احساس سے وابستہ ہوتا ہے۔ واہ کہنا کسی انوکھی کیفیت سے دوچار ہونا ہے۔ کیوں کہ ہر وہ کیفیت جو انسانی قلوب پر اکثر گزرتی ہے وہ اس کے لیے اتنی متاثر کن نہیں رہتی کہ اس سے کسی نئی کیفیت متشکل ہو۔ شعر کا کام انسانی قلوب کی منجمد گرد کو ہٹا کر وہاں تحریک کیفیت پیدا کرنا ہوتا ہے اور جب وہ تحرک اپنے عروج پر پہنچتا ہے تب ہم بے ساختہ ایک واہ کے ذریعے اس کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔ لہذا پلک جھپکے ہی کسی شعر پر واہ کہنا اور کسی ایک شعر کی جھلک پاتے ہی اس سے مجموعہ کیفیت ظاہر کرنا ایک جعلی عمل ہے اور ہر سچا قاری اور سامع ایسی جعلی واہ سے کبھی اپنا رشتہ استوار نہیں کرتا۔

Categories
شاعری

خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے
دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا
خود کش حملوں کے خوف سے
اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے
خدا واحدِ حقیقی ہے
اسے کیا پڑی ہے
کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر
جوتوں اور کپڑوں کے ساتھ اِدھر اُدھر بکھر جائے

شاعروں اور دہشت گردوں نے
خدا کو اتنی کثرت سے استعمال کیا ہے
کہ تنگ آ کر
وہ نظموں اور دنیا سے غائب ہو گیا ہے
اور کائنات کے کسی ایسے گوشے کی طرف نکل گیا ہے
جہاں ان کی نظروں سے محفوظ رہ سکے
خدا اتنا بے بس کبھی نہیں تھا
جتنا اب ہے

خدا کائنات کا سب سے بڑا کلیشے ہے
جسے ترک نہیں کیا جا سکتا !
Image: Andrey Bobirs

Categories
شاعری

آگ (تخلیق: لنڈا ہیگن، ترجمہ: نسیم سید)

زندگی کے لئے
ایک عورت کو بس
سانس لینا ہی کافی نہیں
اس کو لازم ہے وہ
کوہساروں کی آواز سنتی ہو
نیلے افق کی حسیں، بے کراں وسعتوں کو
اسے علم ہو
وہ زن باد شب
جانتی ہو کہ
کیسے طرح دے کے سب گھٹنائیوں کو نکل جائے
کیسے وجود اپنا خود میں سمیٹے
یہ سب
یہ سارا کچھ
اس کو معلوم ہو

اس کو لازم ہو
وہ جانتی ہو
اسے سب خبر ہو
مجھے دیکھو
میں بھی وہی ہوں
زن باد شب
لیکن اس آگ کو
میں نے کیسا چراغوں میں ڈھالا ہے
کس طرح اب میری آواز کی
گونج ان بے کراں وسعتوں میں فضاؤں کی

سنو
میں بھی تم میں سے ہوں
کوئی تم سے الگ تو نہیں
مگر میں زن بادِ شب
نیلگوں آسمانوں کا ایک سلسلہ ہوں
میں اب
سینڈیا کے پہاڑوں کی آواز ہوں
ہاں میں وہی ہوں
وہی۔۔۔۔ وہ زن باد شب
ایک اک سانس میں اپنی جلتی تھی جو
Image: firelei baez

Categories
نان فکشن

شاعری، امکانات اور بے کرانیت

ایک شاعر ناممکن سے ممکن کی راہ نکالتا ہے۔ ہر وہ خیال جسےایک عام ذہن بنجر اورخشک تصور کر لیتا ہے، شاعر اس میں نمی کی موجودگی کا خیال پیش کرتا ہے۔ بظاہر یہ اتنا مشکل معلوم نہیں ہوتا،لیکن جب خیال کی سطح پر ایک بنجر خیال سے نئی زمینیں آباد کرنے کی کوشش کرو تو احساس ہوتا ہے کہ یہ کام واقعتا ً کتنا مشکل ہے۔موجودہ حقیقت کو عین حقیقت نہ سمجھنا اور اس حقیقت میں مزید حقائق تلاش کرنا یہ ایک شاعر کا کمال ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ شاعر جو کچھ کہتا ہے وہ عین حقیقت نہیں ہوتی،لیکن حقیقت کیا ہے؟ اس پر سوال قائم کرنے میں شاعر بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں اور ہر خطے میں پائے جانے والے شاعر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کوئی زبان اور تہذیب ان کو اندھیرے میں روشنی اور تنہائی میں شور تلاش کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوتی اور نہ ہی رکاوٹ بنتی ہے۔ نہ کوئی عہد ایسا ہوتا ہے جس میں وہ نئی اور انوکھی باتیں کہنے سے چوکتے ہیں۔ میرے سامنے اس وقت موجودہ عہد سے تقریباً تین سو برس پرانا ایک شاعر ہے۔ جس کا نام تہذیب، زبان،مذہب، طرز زندگی، معاشرت، سیاسی نظام اور جغرافیائی حالات سب کچھ کسی نہ کسی طرح محدود ہیں۔ لہذا ہر اس زاویے سے جو ظاہری دنیا کا ہے اس کا تعین کیا جا سکتا ہے جس سےاس شاعر کے متعلق آپ بہت سی مختلف آراء قائم کر سکتے ہیں۔ مگر فکر ایک ایسی آزاد لہر ہے جس سے اس کی ذات کا تعین ممکن نہیں، کیوں کہ وہ آپ کو کسی ایک مقام یا زبان، لہجے یا انداز، تہذیب یا معاشرت اورمذہب یا معتقدات تک سیمت نہیں رکھتی۔ اس میں آپ کو ایک سیال نظر آئے گا جس سے آپ مختلف دنیاوں کی مختلف النوع رنگین بستیوں کی سیر کرتے چلے جائیں گے۔کہیں رکے بنا خیال کے نئے طرز کو محسوس کریں گے اور زبان کے جھگڑے سے آزاد ایک نئی تمثیلیت کا لطف اٹھائیں گے۔میں اس شاعر کا نام لے سکتا ہوں۔ اس کے اشعار پر اظہار خیال بھی کر سکتا ہوں، مگر اس میں وہ لطف نہیں جو بے نامی اور بے راہ روی میں ہے۔ خیال پر خیال کوئی واقعہ نہیں، خیال کی ترسیل کا احساس واقعہ ہے۔ ہم کسی بھی شعر کو سمجھ لیں اور اس پر اپنی رائے دے دیں تو کھیل کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ کھیل کو جاری رکھنا اصل لطف ہے اور اس لطف کو جاری رکھنا شعر کی خود تک مستقل رسائی کو جاری رکھنا ہے۔ کبھی ہم اس بات پر غور کیوں نہیں کرتے کہ یہ شاعر جو اس وقت میرے پیش نظر ہے کیا اس نے یوں ہی بہت سے شعر کہے۔ بہت سی ایسی باتیں جن میں رنگ ہے، نشہ ہے، تکمیلیت ہےاورمصنوعی اظہار ہے۔وہ نہ چاہتا تو نہ کہتا،یا کوئی شاعر نہ کہتا یا صرف اتنا کہتا جس سے اس کی بات کو محدود کرنا آسان ہوتا۔ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔ مثلاً آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے ایک مخصوص مقام پر ایک شہر بنارس ہے،جس کی سرحدیں کن کن علاقوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ کس دریا کے بعد وہ ختم ہوتا ہے اور کس زمین کے ٹکڑےسے غیر بنارس کی شروعات ہوتی ہے۔ مگر اس طرح کیا میں اس شاعر کا احاطہ کر سکتا ہوں۔ یہ تو پھیلا ہوا ہے۔ بے کنار۔ پھر اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ اس نے ہزار شعر کہے ہیں یا پانچ سو۔ مجھے تو اس کی خیال کی کوئی سرحد نظر ہی نہیں آتی یا کسی شاعر کی۔ کیا ہی خوب ہوتا کہ دنیا کا ہر شاعر اپنی زندگی میں صرف ایک شعر کہتا۔ صرف ایک شعر اور تعین قدر بالکل آسان۔ اس فلسفی،طبعیات داں اور ریاضی داں کی مانند جس کی کسی ایک مساوات سے ہم اس کی تعین قدر کا مسئلہ حل کر لیے ہیں۔ میکسویل جو اپنی مساوات سے ہی جانا جاتا ہے یا پھر فیثاغورث، آئین سٹائن، نیوٹن،ہوکر اور اسی طرح کے تمام لوگ۔ مگر یہ شاعر تو خیال کی کسی مساوات میں قید نہیں۔ بس بکھرا ہوا ہے۔ چوطرفہ۔اس لیے مجھے اس کی دنیا میں داخل ہونے کے لیے کسی طرح کی جد و جہد نہیں کرنی پڑتی۔ بس اس پھیلے ہوئے خیال کی سرخ اور سبز نہ دکھنے والی شعاعوں کو دیکھنے کی آنکھ کو مہمیز کرنا ہوتا ہے اور وہ ناممکن دنیا نظر آنے لگتی ہے جہاں ممکنات کی افشاں بکھری ہوئی ہے۔ یہ شاعر مجھے وہ سب کچھ دکھاتا ہے جو میں شائد اپنی خیالی دنیا میں رہ کر کبھی نہ دیکھ پاتا۔میں جب اس کی رنگین دنیا کا حصہ بنتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں کتنا قید ہوں، کتنا بندھا ہوا۔ خود میں،اپنے اطراف میں اور اپنے ممکن الحصول جذبات میں۔ کسی ایک بات کو کہنا، پھر اسے رد کرنا،پھر اس کے بالمقابل ایک اور بات کہنا، پھر اسے بھی رد کرنا او ر پہلی کہی ہوئی بات کو اچانک سب سے اہم اور افضل ثابت کردینا۔ بظاہر چھوٹی سی نظر آنے والی بات میں بہت بڑی بات تلاش کر لینا اور بہت اہم اور یقینی باتوں کو بے یقین اور غیر اہم بنا دینا۔ کوئی شاعر یہ ہی تو کرتا ہے۔ کبھی ایک راہ کا تعین کرنا اور پھر اسی کو مضر قرار دینا، اس پر چلنا بہادری تصور کرنا اور اس کے نقصانات پر کف افسوس ملنا۔پھر اس میں انبساط کا کوئی نکتہ تلاش کر لینا اور پھر ایک طنز کے ساتھ سب کچھ در گزر کر دینا۔ شاعر ہمیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جاتا ہے اور پھر اس مقام پر پہنچنے کے خیال کو وہم قرار دے کر کہیں اور لئے چلتا ہے۔ ان تمام حرکات و سکنات میں وہ زندگی کی بے یقین سالمیت کو ہم پر ظاہر کر دیتا ہے۔
اپنے کرتب سے اور اس امر سے کہ کہیں رکنا، تسکین نہیں بلکہ چلنے کے لطف کو کھو دینا ہے۔ اس شاعر کے یہاں بھی مجھے وہی بکھراو نظر آتا ہے،یہ مجھے مرتب نہیں ہونے دیتا۔ میں جن خیالات، استعارات اور اعتقادات کے ساتھ زندگی گزارتا ہوں یہ ان پر ہنستا ہے۔خود کو غیر مرتب اور غیر منظم ثابت کرتا ہے اور مجھے مقلد محض بتا کر میرے طرز حیات پر سوالیہ نشان قائم کر دیتا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ جب میں اس کا قائل ہوجاتا ہوں اور اس کے طرز کو اپنانے کی سعی کرتا ہوں تو یہ اپنے مسلمات کو وہم بتا کر ہوا ہو جاتا ہے اور میرا طرز زندگی مجھے پھر سے مثالی نظر آنے لگتا ہے۔شاعر حیات اور عدم حیات میں ایک نوع کی کشمکش پیدا کرتا ہے۔ وہ زبان سے نہیں بلکہ انسانی ذہن کی پیچیدہ پرتوں سےکام لیتا ہے۔ مستقبل میں ہمیں دور تک لے جاتا ہے،اتنا کہ ہم حال اور ماضی کو بھول جائیں۔پھر اچانک ہمیں حال میں جینے کا درس دینے لگتا ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا اور نہ ہی سچ بولتا ہے۔وہ ہمیں حقیقت کے غیر موجود ہونے کا احساس دلانے میں کوشاں رہتا ہے۔ زندگی کو اپنے اطراف کی پیچیدگی سے زیادہ الجھا ہوا دیکھنے پر ابھارتا ہے۔ پھر اس بات کی ہدایت دیتا ہے کہ اس الجھن میں کس طرح سلجھن تلاش کی جاسکتی ہے۔ وہ پل میں پہاڑ اور پل میں سمندر بن جاتا ہے۔ بڑا ہوتا ہے تو آسمان کی سرحدوں سے باہر نکل جاتا ہے اور چھوٹا ہوتا ہے تو ہماری آنکھ کی پتلی کے اندر اتر جاتا ہے۔ یہ ہی اس کی ذات ہے اور یہ ہی صفت۔شاعر خود میں ایسا ہی ہوتا ہے اور اپنے فنی اظہار سے ہمیں بھی اپنی طرح بنا لیتا ہے۔ اس کا فن اسی امر میں مضمر ہے کہ وہ کتنی صفائی سے ہمارے مسلمات کو توڑتا ہے اور ہمارے خیال کی ایک دنیا تشکیل دے دیتا ہے۔

Categories
شاعری

نظم کے لیے غسل واجب نہیں

لندن کے شب خانوں میں
نیم واقف عورتوں کی کمریں گھیرے
برہنہ ٹانگوں ، ادھ کھلے پستانوں پر چھا جانے کی خواہش میں
آدمی خود کو زخمی کر لیتا ہے

آدمی سوچتا ہے
زخم اِنسان کا زیور ہے
یہ تو ایک مکَر ہے
مکَر عورت کا چور دروازہ ہے
اور مرد کے ماتھے کا محراب

منکوحہ عورتیں منافق نکلیں
تو رات نے سوچا
جس کا مرد زیادہ گھائل ہو
اس کی عورت زیادہ گہری ہوتی ہے

لندن لڑکیوں سے بھرا پڑا ہے
لیکن دل کا دالان خالی ہے

مے نوشی کی رات کے بعد
راہ پڑے بنچ پر آنکھیں کھولو
کمرے میں جوتوں سمیت جاگو
یا اجنبی بستر کی رانوں سے طلوع ہو
آدمی تنہائی کو طلاق نہیں دے سکتا

رات کے تین بجے ہوں
یا تیس برس کی زوجیت ہو
خواب ہو یا بستر
عورت اپنا مرد خود چنتی ہے

عمر علی!
لندن ہو یا لائل پور
دنیا ایک سی ہے

منشی محلے کے چکلے کی عورت بھی شاطر نکلی
اُس نے رمضان کے سارے روزے رکھے
اور تیس راتیں کمائیں
ہم بستری کے بعد وہ نماز پڑھنے چلی گئی
میں غسل کیے بغیر نظم لکھنے لگا

Image: Jean-Michel Basquiat

Categories
شاعری

موت مجھے بلاتی ہے

موت مجھے بلاتی ہے
لیکن مجھے وہ شام بھولتی ہی نہیں
جب درختوں میں ہوا چل رہی تھی
میں رک گیا تھا ۔۔۔۔ ایک منظر کے سامنے
گزر جانے کے لیے
اپنی مٹی اور بادلوں کے درمیان
وقت کے بہاؤ کی عین وسط سے
نکل جانے کے لیے

آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے
تم میرے دل سے گزرے تھے
یا شاید میں تمھارے دل سے ۔۔۔۔
اور چاندنی، ہماری انگلیوں سے الجھ رہی تھی
زمین پر ایسی شام
شاید ہی کہیں اتری ہو
کیفے کی باڑھ سے
دنیا ہمیں دیکھتی تھی
پاس بلاتی تھی
اور ہم
لوٹ گئے تھے ۔۔۔۔۔ اپنے اپنے جہنم کو
اذیت اور انکار کی ہر رات
اس شام کی پناہ میں ہے

وقت کم ہے یا زیادہ
کچھ پتا نہیں چلتا
میں ایک خواب سے دوسرے خواب میں
اس شام سے گزر کر جانا چاہتا ہوں
تم کہاں ہو
موت مجھے بلاتی ہے
Image: Edward Munch

Categories
شاعری

سب ترے نام کا آخری حصہ ہیں

یاد ہے تم کو
پھول تھا دیا تم نے
بالکل اپنے دل جیسا
اُس گلاب کی ساری پتیاں
مہکا سا کچھ بہکا سا اب شعر کہنے لگتی ہیں
کبھی نظمیں جنتی رہتی ہیں
وہ گلاب خود بھی اب غزل کا سنیاسی ہے
میں نے اسکی ٹہنی بھی ساتھ سنبھال کے رکھی ہے
کانٹے بھی آئے تھے ساتھ کچھ
سب بچا رکھےہیں
کبھی ترچھا سا کانٹا چبھ جائے تو
رنگ اِدھر اُدھر بکھرنے لگتے ہیں
کاغذوں کی سانسیں چلنے لگتی ہیں
اک کہانی خود کو لکھنے لگتی ہے
سچ کہا
یہ افسانے شاعری کتابوں کے سلسلے
یہ تیرے میرے ملن کی کتھا
پھول کا تخیل سے طلسمی سا ناطہ ہیں
سب ترے نام کا آخری حصہ ہیں
Image: Paula Belle Flores

Categories
شاعری

سراب میں جل پری

سمندر یہ زہر نہیں دھو سکتا
جو میری آنکھوں، رگوں
روئیں روئیں میں ٹھاٹھیں مارتا ہے
سمندر میرے قرب سے نیلا پڑ جاتا ہے

ایک ایک پاوٗں جوڑ کر
ریت میں گھروندے بناتے نہیں بھولنا چاہیے
محبت دو مونہی سپنی ہے

لڑکیاں
ادھیڑ عمر مردوں کے ساتھ
محبت کی نیٹ پریکٹس کرتی ہیں
کہ جب نوجوان محبوب
نا تجربہ کاری کی گیند پھینکے
تو وہ اسے میدان سے باہر اچھال سکیں

تم جل پری کی طرح اپنا نچلا دھڑ
مجھ پر مقفل رکھو
میری محبت تمہارے بائیں پستان کے نیچے دبا سیپ ہے
پورے چاند کے تلاطم سے گبھرا کر
تنہائی کے غار میں اترو گی
تاریک دیواروں سے سر ٹکراتے اپنا دل اگلو گی
تو ایک چھوٹی سی نیلے کانچ کی گیند
تمہاری ریتلی جھلی سی آنکھیں خیرہ کردے گی

Categories
شاعری

روئی ہوئی آنکھ سے

روئی ہوئی آنکھ سے
دنیا بہت صاف دکھائی دیتی ہے
بچہ بہت خوبصورت ہے
اس کی وردی میلی ہو جائے گی
دن بہت اجلا ہے
اسے گدلا کر دیں گے یہ ہاتھ
رات بھر ہوا چلے گی
ٹھنڈی، تاریک، مونھ زور
رگوں میں اتر جائے گی
پھر بھی —-
بارش ہو رہی ہے
بارش میں بھیگتے کپڑے اور راستے مجھے اچھے لگتے ہیں
کیوں نہ بارش میں کہیں دور نکل جاؤں
لیکن رات ہو گئی ہے
اور ابدی جدائی کی سمت کھلنے والی یہ کھڑکی
اور تمہاری آنکھیں
بھر جائیں گی اندھیرے سے
محبت دکھ تو دیتی ہے
لیکن یہ دکھ بہت گہرا ہے ۔۔۔۔۔ نیند کی طرح
مٹی میں اترے ہوئے پانی کی طرح
میرا شہر میری مٹی بن گیا ہے
مجھے زمین مل گئی ہے
رہنے اور اوڑھنے کے لیے
یہ ہارا ہوا دل
ایک مرتبہ تمھارے سینے میں دھڑک لینا چاہتا ہے
تم کہاں ہو ؟
دنیا میری باتوں پر ہنستی ہے, اور میری پرانی گاڑی چھینٹے اڑاتی ہے
جو سب سے زیادہ
میرے اپنے لباس پر پڑتے ہیں

Image: Hossein Zare

Categories
شاعری

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے
نظم: یاہودا امیخائی
ترجمہ : زاہد اِمروز

(۱)
اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے
جس طرح ہفتے کی شام میری ماں کا ہاتھ
ذبح کی ہوئی مرغی کی انتڑیوں میں ہوتا ہے
جب خدا کے ہاتھ زمین تک پہنچتے ہیں
وہ کھڑکی میں سے کیا دیکھتا ہے؟
اِسی طرح
میری ماں کیا دیکھتی ہے؟
(۲)
میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے
اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں
میری امیدوں نے میرے اندر اِس ہجوم سے بہت دور
سفید گھروں کے منصوبے تعمیر کیے
لیکن میری محبوبہ اپنی محبت
پگڈنڈی پر گری سائیکل کی طرح بھُول گئی
جو رات بھرَ اوس میں بھیگتی رہتی ہے
بچے میری زندگی کے ادوار
اور یروشلم کے ادوار
گلی میں سفید چونے سے نشان زد کرتے ہیں
اور ایسی دنیا میں خدا کا ہی ہاتھ ہے
Categories
شاعری

ایک گیت (پیڑا کتھا)

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک گیت (پیڑا کتھا)

[/vc_column_text][vc_column_text]

آتما راکھ ہو کے بکھر گیو رے
میں تو مر گیو رے
کاہے برہن کی سنتا نہیں ہے پیا
پریت پر موری الزام دھر گیو رے
میں تو مر گیو رے

 

ساتوں ساگر سے آتی ہے اس کی مہک
جس کنارے چلوں دیکھوں اُس کی چمک
اُس کے سائے میں لپٹے ہیں رستے سبھی
ناؤ ناؤ پڑےاس کے ناؤں کے پھول
سب کی اکھین میں سپنوں کی پروا چلی
مورے نینوں میں اٹکی ہے
اک پل کی بھول
آتما راکھ ہو کے بکھر گیو رے
میں تو مر گیو رے

 

کوئی پنچھی نہ تارا نہ کوئی سکھی
موہے پیڑا کی سدھ بدھ بھی کب رہ گئی
مورے سندیسے مورے ہی من میں رہے
کس سے بتیاں کروں نیر ارپن کروں
میں وہ مورکھ جو مکھ کو چھپاتی پھروں
پاس کیا ہے جسے
اپنا درپن کروں
آتما راکھ ہو کے بکھر گیو رے
میں تو مر گیو رے

 

(مہربان دوست اور سخن فہم شاعر جگدیش پرکا ش کے نام)

Image: M. F. Hussain
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

آستین کا سانپ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آستین کا سانپ

[/vc_column_text][vc_column_text]

وہ مجھے ڈس رہا ہے
کئی برسوں سے
تنگ جوتے کی طرح
اس ناخن کی طرح
جو گھوم جاتا ہے
نصف دائرے میں
اور پیوست ہو جاتا ہے گوشت میں
اس چیونٹی کی طرح
جو راہ بھٹک جاتی ہے
زیرِ جامہ میں گھس جاتی ہے
یا پھر کسی کنکھجورے کی طرح
تلاش کرتا رہتا ہے کان
اور کامیاب ہو جاتا ہے
باس کے کان بھرنے میں

Image: Peter Ravn
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

راوی رستہ موڑ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

راوی رستہ موڑ

[/vc_column_text][vc_column_text]

راوی رستہ موڑ
کبھی اس شہر کی جانب جو جلتا ہے
سن زخمی آواز
جو سینے چیر رہی ہے
جھومر کی وادی میں کس نے پھینکا ہے بارود؟؟
جھلس گئے بالَوچ
کون “پری پیکر” ہیں جنہوں نے ڈسے بلوچی خواب ؟؟
کون ” کرم فرما” ہاتھوں نے زہرکیا یہ آب؟؟
ظلم کریں عُہدوں والے اور گالی سنے پنجاب؟؟؟؟
تَو راوی !
اب تُو رستہ موڑ
ذرا اس شہر کی جانب اے بوڑھے دریا !
غصیلی خلقت کو سمجھا
کہ میں تو خود روتا ہوں !
دیکھ ! مِری لہروں نہروں سے نکل رہی لاشیں
اپنے ہی آنچل سے پھندہ لیتی یہ بہنیں
ڈگری پر پٹرول چھڑک کر جلتا مستقبل
دیکھ ! یہ اُجڑے خواب اور خوابوں سے خالی ہر دل
جس کرسی کے پایے تیرے دل میں ہیں پیوست
میری لہروں اور ترے درّوں پر نازل مشترکہ آسیب
جن کی سنگینوں سے ادھڑے سندھ بلوچستان
جن کی خون آشام ہوس نے لوٹا پاکستان
یار بلوچستان
وہی اپنے مجرم ہیں !
راوی رستہ موڑ بلوچستان کی جانب
پھولوں کے ہمراہ
کہ سب دکھ سکھ سانجھے ہیں !

Image: Abid Khan
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]