ممکنات (زوہیب یاسر)

بہت ممکن ہے
کہ صورِ اسرافیل میری، تمہاری
یا کسی مجبور کی آہ ہو
جو کائنات کو تباہ کر دے
غم کی ایک حسابی نظم اور دیگر نظمیں (زوہیب یاسر)

رائیگانی کی ایک نظم نیند کی کوئی دکاں نہیں ہے، اور خواب ارزانی کے باوجود بھی نہیں بکتے، دن بھر کی تھکن پور پور میں سموئے مستقبل کے خوابوں کا دھاگہ کروشئیے پہ چڑھائے تند پہ تند ڈالے جاتا ہوں، مگر کینوس پہ نقش مکمل ہو نہیں پاتا ہے، دھاگہ کہیں بیچ میں ہی ٹوٹ […]
آخری سیلفی (زوہیب یاسر)

بچھڑنے سے پہلے کی آخری سیلفی میں سارا درد اور کرب چہرے سے چھلکتا ہے، وصل اور ہجر کی درمیانی کیفیت کو شاید نزع کہتے ہیں، تم نے اقرار کرنے میں اعترافِ جرم جیسی دیر کر دی، گویا پیلے بلب کے سامنے بیٹھا، ناکردہ گناہوں کا مجرم، آنکھوں کو تھکا دینے والی روشنی کی تاب […]
