Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب سوئم)

پھیلتی ہوئی کائنات

کائنات کے متعلق ہماری موجودہ تصویر 1924 سے شروع ہوتی ہے جب ایڈون ہبل نے یہ ثابت کیا کہ کائنات میں ہماری کہکشاں کے علاوہ اور بھی بہت ساری کہکشائیں موجودہیں اور ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلے ہیں۔یہ ثابت کرنے کے لیے ہبل کو ان کہکشاؤں کے فاصلے درکار تھے۔ چونکہ یہ بہت دور تھیں اس لیے اسے بالواسطہ طریقے استعمال کرنے پڑے۔کسی ستارے کی ظاہری چمک دو چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ اول یہ کہ وہ ہم سے کتنا دور ہے اور دوئم یہ کہ وہ کتنی روشنی خارج کرتا ہے۔قریبی ستاروں کے لیے ہم ان کا فاصلہ اور ظاہری چمک ناپ سکتے ہیں۔لہٰذا ان کی دمک (Luminescence) معلوم کی جا سکتی ہے۔اس کے برعکس اگر کسی دوسری کہکشاں میں ہمیں کسی ستارے کی دمک معلوم ہو تو ہم اس کی ظاہری چمک سے اس کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔اس نے معلوم کیا کہہ کچھ خاص طرح کے ستاروں کی دمک ایک جیسی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس نے دلیل دی کہہ اگر ہم ایسے ہی ستارے دوسری کہکشاؤں میں دھونڈ پائیں تو ان کی دمک سے ہم ان کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔

اس طریقے سے ہبل نے نو کہکشاؤں کے فاصلے معلوم کیے۔اب ہم جانتے ہیں کہ ہماری کہکشاں چند سو ارب کہکشاؤں میں سے ایک ہے اور اس کے ایک سرے سے دوسرے تک کا فاصلہ ایک لاکھ نوری سال ہے۔اور اس کے مرغولے (Spiral) بازوؤں میں موجود ستارے آہستہ آہستہ اس کے مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں۔ہمارا سورج ایک پیلا درمیانے سائز کا ستارہ ہے اور اس کے ایک مرغولی بازو کے اندرونی سرے پر موجود ہے۔

جب ستارے ہم سے اتنے دور ہیں کہ یہ ہمیں ایک نقطے کی طرح نظر آتے ہیں تو پھر ہم ان میں تفریق کیسے کر سکتے ہیں؟نیوٹن نے معلوم کیا کہ جب سورج سے آنے والی روشنی کو منشور(Prism) میں سے گزارا جاتا ہے تو وہ مختلف رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔اس کو ہم طیف (Spectrum) کہتے ہیں۔ہم کسی بھی ستارے یا کہکشاں سے آنے والی روشنی کا طیف معلوم کر سکتے ہیں۔مختلف ستاروں سے آنے والی روشنی کا طیف مختلف ہوتا ہے۔لیکن مختلف رنگوں سے نکلنے والی روشنی کی اضافی چمک ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک سرخ دمکتے ہوئے جسم سے نکلنے والی روشنی کی۔اور اس کا انحصار اس جسم کے درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم کسی ستارے کے روشنی کے طیف سے اس کادرجہ حرارت بتا سکتے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مختلف ستاروں کی روشنی کے طیف میں کچھ خاص رنگ موجود نہیں ہوتے اور یہ ہر ستارے کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہر کیمیائی عنصر کچھ خاص رنگوں کے سیٹ کو جذب کر سکتاہے۔ اس سے یہ پتالگایا جا سکتا ہے کہ کس ستارے کے کُرہ ہوائی میں کون سے عناصرموجود ہیں۔

1920 میں جب ہیت دانوں نے کہکشاؤں کے طیف کی جانچ شروع کی تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے طیف میں بھی وہی رنگ غائب ہیں جو ہماری کہکشاں میں ہیں۔ لیکن وہ تمام کے تمام رنگ روشنی کے طیف کے سرخ سرے کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے ڈاپلر اثر (Doppler effect)کو سمجھنا ہو گا۔ ہمیں پتا ہے کہ روشنی برقناطیسی امواج پر مشتمل ہےاور مرئی روشنی ان امواج کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ہر موج کا ایک تعدد(Frequency) ہوتا ہے جو کسی کاص رنگ کو ظاہر کرتا ہے۔اگر روشنی کا ایک منبع ہم سے ایک مستقل فاصلے پر موجود ہے تو وہ جو امواج خارج کرے گا ان کا تعدد ہمارے لیے مستقل ہو گا۔یعنی ایک سیکنڈ میں ہم تک پہنچنے والی امواج کی تعداد مستقل رہے گی۔لیکن اگر منبع ہماری طرف حرکت کر رہا ہو تو یہ تعداد مستقل نہیں رہتی۔بلکہ ان کا تعدد بڑھنے لگتا ہے۔ اس وجہ سے جو روشنی ہم تک پہنچتی ہے وہ طیف کے نیلے سرے کی طرف منتقل ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کو نیلا انتقال (Blue Shift) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر منبع ہم سے دور جا رہا ہو تو روشنی سرخ سرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، اس کو سرخ انتقال (Red Shift) کہا جاتا ہے۔ رفتار اور تعدد کے درمیان اس تعلق کو ڈاپلر اثر کہا جاتا ہے۔

1929 میں ہبل نے یہ مشاہدہ کیا کہ وہ کہکشائیں جو ہم سے زیادہ دور ہیں وہ زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔یعنی کہکشاں کے فاصلے اور رفتار میں راست تناسب ہے۔اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کائنات ساکن نہیں ہے بلکہ پھیل رہی ہے۔

نیوٹن کے تجاذبی نطریے سے یہ بات آسانی سے اخذ کی جا سکتی تھی کہ کائنات پھیل رہی ہے لیکن ساکن کائنات کے بارے میں ہمارہ عقیدہ اتنا پختہ تھا کہ سب اس کے ساکن ہونے کی تاویلیں تلاش کرتے رہے۔حتیٰ کہ آئن سٹائن بھی ساکن کائنات کا حامی تھا۔حالانکہ اس کی عمومی اضافیت کی مساواتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے۔لیکن اس نے اس کو ساکن بنانے کے لیے ایک نئی ٹرم(Term) متعارف کرا دی جو کونیاتی مستقل (Cosmological Constant) کہلاتی ہے۔یہ ایک رد تجاذبی قوت ہے جو یہ بتاتی ہے کہ زمان و مکان میں خود سے پھیلنے کی خوبی موجود ہے۔ جو مادہ اور توانائی سے پیدا ہونے والی کشش کو منسوخ کرتی ہے اور نتیجتاً ہمیں ایک ساکن کائنات ملتی ہے۔ان سب میں صرف ایک بندہ ایسا تھا جو عمومی اضافیت کی مساواتوں کو ایسے ہی لے رہا تھا جیسا مطلب وہ بتاتی ہیں۔اس نے ان کی وضاحت کا ذمہ اٹھایا۔

فرائیڈ مین نے دو سادہ سے مفروضے فرض کیے۔ اول یہ کہ ہم جس سمت بھی دیکھیں کائنات ایک جیسی ہی نطر آتی ہے۔ اور دوئم یہ کہ ہم کائنات میں جس جگہ پر بھی کھڑے ہو کے دیکھیں ایسا ہی دکھے گا۔

حال ہی میں ان دونوں مفروضوں کے بہت زبردست شواہد ملے ہیں۔1965 میں دو سائنسدان، آرنو پینزیاس (Arno Penzias)اور رابڑٹ ولسن (Robert Wilson) ایک خرد موجی شناسندے(Detector) کی آزمائش کر رہے تھے لیکن اس میں بار بار ان چاہا شور(Noise) موصول ہو رہا تھا۔ جب انہوں نے تمام ممکنہ خامیوں کو بھی دور کر دیا تب بھی یہ شور یا سگنل ویسے ہی رہے۔ انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ سگنل کُرّہ ہوائی کے اندر سے نہیں آرہے کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو اس وقت کم سگنل موصول ہوتے جب شناشندہ سیدھا اوپر کی جانب ہوتا بہ نسبت اس کے جب وہ افق کی طرف ہوتا کیوں کہ افق کی جانب سے آتے ہوئے ان کو زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا۔مزید یہ کہ یہ سگنل دن، رات، مہینے اور سال بھر ایک جیسے ہی تھے۔

اب ہم جانتے ہیں کہ چونکہ یہ سگنل ہر سمت سے ایک جیسے ہی موصول ہوتے ہیں لہٰذا یہ ساری مشاہداتی کائنات کا سفر طے کر کے آتے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات ہر سمت میں ایک جیسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ آرنو پینزیاس اور رابڑٹ ولس کو اس دریافت پر 1978 میں نوبل انعام سے نوازہ گیا۔

فرائیڈمین کا پہلا مفروضہ اس بات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسے ہمارا کائنات میں کوئی خاص مقام ہو لیکن اس کی ایک متبادل تصریح بھی ہے کہ اگر ہم کسی اور کہکشاں سے دیکھیں تب بھی کائنات ایک جیسی ہی دکھے گی۔ جو کہ فرائیڈمین کا دوسرا مفروضہ ہے۔ہمارے پاس اس بات کو ماننے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ ہم اس کو صرف عاجزانہ طو پر مانتے ہیں کہ کائنات ہر نقطے سے ایک جیسی ہی دکھے۔ یہ صورتحال ایک ایسے غبارے کی طرح ہے جس پر مساوی فاصلے پر نشانات لگے ہوں۔ جب ایسے غبارے کو پھلایا جائے گا تو ہر نشان دوسرے سے دور ہوتا جائے گالیکن کسی کو بھی مرکز نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دو نقاط ایک دوسرے سے جتنے دور ہوں گے وہ اتنی ہی تیزی سے ایک دوسرے سے دور جائیں گے۔یعنی سرخ انتقال فاصلے کے راست متناسب ہے۔ اسی مظہر کو ایڈون ہبل نے بھی دریافت کیا۔

اپنے دو مفروضوں کو بنیاد بنا کر فرائیڈمین نے کائنات کا ایک ماڈل ڈھونڈا۔ لیکن حقیقت میں ایسا ایک نہیں بلکہ تین ماڈل ہیں۔
پہلے ماڈل میں کائنات پھیل رہی ہے لیکن اس کے پھیلنے کی رفتار وقت کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔باالفاظ دیگر کہکشاؤں کے درمیان موجود کششِ ثقل ان کہکشاؤں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنا شروع کرد ے گی۔ اس طرح کی کائنات میں کہکشائیں صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتی ہیں پھر ان کے درمیان فاصلہ فاصل قیمت کو پہنچتا ہے اور پھر کم ہوتے ہوتے صفر کو پہنچ جاتا ہے۔ یہی ماڈل فرائیڈ مین نے بھی دیا تھا۔

دوسری قسم کے ماڈل میں کائنات اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ کشِ ثقل کبھی اس کو روک نہیں پاتی۔ ایسی کائنات میں اجسام صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتے ہی اور پھر یکساں رفتار سے پھیلتے ہی جاتے ہیں۔

تیسری قسم کے ماڈل میں جیسے جیسے کائنات پھیلتی ہے اس کے پھیلنے کی رفتار بتدریج کم ہوتی جاتی ہے لیکن یہ کبھی بھی اتنی کم نہیں ہوتی کہ کششِ ثقل ان کو واپس صفر فاصلے پر کھینچ سکے۔

پہلے فرائیڈمین ماڈل کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں کائنات سپیس میں لامتناہی نہیں ہے۔اور نہ ہی سپیس کہ کوئی حدہے۔اس میں تجاذب اتنا قوی ہے کہ سپیس کو خود پر ہی منحنی کر دیتا ہےیہ بالکل زمین کی سطح کی طرح ہے جس پر اگر آپ ایک سمت میں چلنا شروع کر دیں تو واپس اسی جگہ پر پہنچ جائیں گے جہاں سے چلنا شروع کیا تھا۔ لیکن یہ سطح سہ جہتی ہے۔

پہلی طرح کے فرائیڈ مین ماڈل میں سپیس زمین کی سطح کی طرح بندہے لہٰذا یہ وسعت میں محدود ہے۔دوسری طرز کے ماڈل میں اس کی شکل زین (Saddle) کی طرح ہے اور لہٰذا یہ وسعت میں لامتناہی ہے۔تیسرے اور آخری فرائیڈمین ماڈل میں یہ مستوی ہے اور وسعت میں لامتناہی ہے۔
لیکن کون سا فرائیڈمین ماڈل ہماری کائنات کو بیان کرتا ہے یہ دیکھنے کے لیے ہمیں کائنات کے پھیلاؤ کی شرح اور اس کی اوسط کثافت کا پتا ہونا چاہیے۔اور اس کی کثافت ایک خاص قیمت (جس کا تخمینہ اس کی پھیلاؤ کی شرح سے ملے گا) سے کم ہوئی تو کششِ ثقل اس کو روکنے میں ناکام رہے گی اور یہ ہمیشہ پھیلتی جائے گی۔ اور اگر کثافت اس فاصل قیمت سے زیادہ ہوئی تو ثقل اس کو واپس کھینچ لے گی اور یہ منہدم ہو جائے گی۔

پھیلاؤ کی شرح کو ہم ڈاپلر اثر سے ناپتے ہیں کہ کہکشائیں ہم سے کس رفتار سے دور جا رہی ہیں۔ اس حساب سے کائنات ہر ایک ارب سال میں پانچ سے دس فیصد پھیلتی ہےتاہم اس کی اوسط کثافت میں غیر یقینیت بہت زیادہ ہے۔ اگر ہم اپنی اور دوسری کہکشاؤں میں موجود ستاروں کی کمیت کو جمع کریں تو یہ کمیت پھلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے ایک سو گنا کم ہے۔ تاہم ہم جانتے ہیں کہ ستاروں اور کہکشاؤں کے درمیان تاریک مادہ موجود ہے اور اس کی کمیت کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی یہ کمیت پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے دس گنا کم ہے۔ لہٰذا ہمارا موجودہ اندازہ یہ ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔

فرائیڈمین کے تمام حل یہ بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً دس سے بیس ارب سال قبل کہکشاؤں کے درمیان فاصلہ صفر رہا ہو گا۔ اور کائنات کی کثافت اور سپیس کا انحنا لامتناہی ہو گا۔ اس کو اب بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ریاضی لامتناہی اعداد کا حساب نہیں لگا سکتی اس لیے اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں پر عمومی اضافیت بذاتِ خود لایعنی ہو جاتی ہے۔اس نقطے کو ریاضی دان وحدانیت(Singularity) کا نام دیتے ہیں۔ہمارے تمام نظریات میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ زمان و مکان مستوی ہےاس کا مطلب یہ ہوا کہ وحدانیت پر یہ تمام لایعنی ہو جاتے ہیں۔اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے وقوع پذیر ہوئے ان کا بگ بینگ کے بعد والے واقعات پر کوئی اثر نہ ہو گا۔یاپھر جو کچھ بگ بینگ کے بعد ہوا ہے اس کو استعمال کر کے یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا ہوا تھا۔ لہٰذا وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے ہوئے ان کو کسی تھیوری کا حصہ نہیں ہونا چاہیے لہٰذا ہم یہ کہتے ہیں کہ وقت کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔

بہت سارے لوگوں کو بگ بینگ کا تصور پسند نہ آیااس کی ایک مثال مستقل حالتی کائناتی نظریہ (Steady State Universe)ہے جو 1948 میں ہرمن بونڈی، فریڈ ہوئل اور ٹامس گولڈ نے پیش کیا۔ اس کے مطابق جیسے جیسے کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں ان کے درمیان نیا مادہ تخلیق ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے کائنات ایک جیسی ہی دکھتی ہے۔تاہم 1950 اور 1960 میں ہونے والے ریڈیائی موجوں کے مطالعے سے پتا چلا کہ کائنات در حقیقت پھیل رہی ہے۔ اس مطالعے میں موجود سائنسدانوں نے زمین پر موصول ہونے والی ریڈیائی لہروں کا مطالعہ کیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ کچھ سگنل بہت قوی جب کہ دوسرے نحیف ہیں۔ اس کی تاویل یوں کی گئی کہ قوی سگنل قریب جب کہ نحیف دور کی کہکشاؤں سے موصول ہو رہے ہیں۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ مشترکہ منبوں کے سپیس کے اکائی حجم میں قوی کی نسبت نحیف منبوں کے اشاروں کی شدت زیادہ ہے، اس کی تاویل یہ تھی کہ ماضی میں یہ نحیف اشاروں کے منبے بھی ہمارے قریب قریب تھے جو اب دور جا چکے ہیں۔ باالفاظِ دیگر کائنات پھیل رہی ہے۔ اس نے مستقل حالتی کائناتی نظریے کا خاتمہ کر دیا۔

اس سوال کا جواب کہ کیا عمومی اضافیت بگ بینگ اور وقت کے آغاز کی پیش گوئی کرتی ہے برطانوی سائنسدان راجر پین روز نے دیا۔ راجر پین روز نے 1965 میں یہ ثابت کیا کہ جب کوئی ستارہ اپنی ہی کشش کے تحت منہدم ہوتا ہے تو اس کاحجم صفر ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمان و مکان کا انحنا لامتناہی ہو جاتا ہے۔ باالفاظِ دیگر زمان و مکان میں واحدانیت موجود ہے جو بلیک ہول کہلاتا ہے۔

پہلے پہل یوں لگا کہ پین روز کا تھیورم صرف ستاروں پر لاگو ہوتا ہے اور اس کا بگ بینگ یا واحدانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں نے اس تھیورم کو 1965 میں پڑھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ تھیورم تب بھی اپنی حالت برقرار رکھتا ہے اگر آپ وقت کی سمت بدل دیں۔مطلب اگر انہدام پھیلاؤ بن جائے تب بھی۔ یعنی اگر آپ یہ سوچیں کہ کوئی ستارہ منہدم ہو کر وحدانیت کی طرف جانے کی بجائے وحدانیت سے شروع ہو کر باہر کی طرف پھیل رہا ہے۔یہ دلیل یہ ثابت کرتی ہے کہ فرائیڈ مین کی طرح کی کوئی بھی کائنات وحدانیت سے شروع ہوئی ہو گی۔1970 میں پین روز اور میں ریاضیاتی طور پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ اگر عمومی اضافیت صحیح ہے تو کائنات کا آغاز درحقیقت بگ بینگ سے ہی ہونا چاہیے۔ شروع میں کچھ حلقوں سے اس کی مخالفت کی گئی لیکن ایک ریاضیاتی تھیورم کے سامنے یہ مخالفت زیادہ دیر نہ ٹھہر پائی۔ ا ب تقریباً تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ بگ بینگ ہی کائنات کا نقطہِ آغاز ہے۔لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر میں نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور سائنسدانوں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کائنات کے آغاز میں کوئی وحدانیت نہیں تھی۔ اس پر مزید بحث بعد میں آئے گی۔

چونکہ وحدانیت پر جا کر عمومی اضافیت بھی دم توڑ جاتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک مکمل نظریہ نہیں ہے۔ اس پیمانے پر جا کر ہمیں بیسویں صدی کی دوسرے نظریے(کوانٹم میکانیات) کو بھی عمل میں لانا ہوگا۔ اور پھر عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانات کے سنگم سے کوانٹم تجاذبی نظریے یا نظریہِ کل کی طرف جائیں گے۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب دوئم)

باب دوئم
زمان اور مکان

کائنات کے بارے میں ہمارے موجودہ تصورات گلیلیو اور نیوٹن سے شروع ہوتے ہیں۔اس سے قبل ارسطو کے تصورات رائج تھے۔ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے اور وہ اسی وقت حرکت کرتے ہیں جب ان پر کوئی قوت عمل کرتی ہے۔ اس حساب سے بھاری اجسام زمین کی جانب زیادہ تیزی سے گریں گے کیوں کہ ان پر زیادہ قوت عمل کرتی ہے۔

ارسطاطالوی روایت کے مطابق کائنات کے قوانین کو محض تخیل سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کسی مشاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔شاید اسی وجہ سے گلیلیو تک کسی نے ارسطو کے عقائد کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش نہ کی۔ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو نے مختلف اجسام کو پیسا کے مینار سے گرا کر ان کی رفتاریں ماپیں۔ لیکن یہ کہانی غیر مستند ہے۔ پر گلیلیو نے اس جیسا کچھ کیا ضرور تھا۔اس نے اجسام کو سلوپ(Slope) پر سے لڑکھڑایا تھا۔ مثال کے طور پر ایک سلوپ جو لمبائی میں دس میٹر ہو اوراونچائی میں ایک میٹر ہو تو اس پر سے لڑکھڑائے گئے اجسام کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے بڑھے گی۔یعنی ایک سیکنڈ کے بعد اس کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ ہوگی، دو سیکنڈ کے بعد دو میٹر فی سیکنڈ اور اسی طرح بڑھتی جائے گی۔اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیسے کا کُرہ ایک پر (Wing) کی نسبت زیادہ تیزی سے گرے گا لیکن یہ اس لیے ہے کیوں کہ اس پر ہوا کی زیادہ مزاحمت عمل کرتی ہے۔اگر مزاحمت کو ختم کر دیا جائے تو دونوں ایک ساتھ گریں گے۔

گلیلیو کے ان تجربات کو نیوٹن نے اپنے قوانینِ حرکت کی بنیاد بنایا۔گلیلیو کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ قوت کا اصل کام اجسام کی رفتار کو تبدیل کرنا ہے۔یعنی اس میں اسراع کا پیدا ہونا ہے۔ یہ نیوٹن کا دوسرا قانون کہلاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ اگر کسی جسم پر قوت عمل نہ کرے تو وہ یکساں رفتار سے حرکت کرتا رہے گا۔یہ نیوٹن کا پہلا قانون ہے۔ یہ قوانین پہلی بار نیوٹن کی کتاب ریاضیاتِ فطری فلسفہ میں چھپے۔

ارسطو اور گلیلیو اور نیوٹن کے تصورات کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے۔جب کہ نیوٹن کے قوانین یہ بتاتے ہیں کہ سکون کا کوئی حتمی میعار نہیں ہے۔ہو سکتا ہے ایک جسم جو مشاہد الف کے مطابق سکون میں ہے وہ مشاہد ب کے مطابق حرکت میں ہو۔مثال کے طور پر اگر ہم کچھ دیر کے لیے زمین کی محوری حرکت کو نظر انداز کر دیں تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا کہ زمین ساکت ہے اور ریل گاڑی شمال کی طرف حرکت میں ہے یا ریل گاڑی ساکت ہے اور زمین جنوب کی طرف حرکت میں ہے۔مطلب یہ کہ اگر کوئی ریل گاڑی میں کچھ تجربات کرے تو اس پر بھی نیوٹن کے قوانین ایسے ہی لاگو ہوں گے جیسے زمین پر ہوتے ہیں۔لہٰذا یہ بتانے کا کوئی حتمی طریقہ نہیں ہے کہ ریل گاڑی حرکت میں ہے یا زمین۔

مطلق سکون کے عدم وجود کا مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دو واقعات جو مختلف مقامات پر وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ ایک ہی مقام پر ہوئے ہیں یا نہیں۔ فرض کریں ایک سم سم والا گیند ریل گاڑی کے اندر ایک جگہ پر دو ٹپے کھاتا ہے۔ ریل گاڑی میں موجود مشاہد کے مطابق گیند ایک ہی جگہ پر دو ٹپے کھائے گا جب کہ زمین پر موجود مشاہد کے مطابق گیند دو مختلف جگہوں پر ٹکرائے گا جو ایک دوسرے سے اتنا دور ہیں جتنا ایک سیکنڈ میں ریل گاڑی فاصلہ طے کرتی ہے۔مطلق سکون کا عدم وجود یہ بتاتا ہے کہ ہم اجسام کو مطلق مقام (یا مطلق سپیس )فراہم نہیں کر سکتے۔

ارسطو اور نیوٹن دونوں مطلق زمان پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے مطابق وقت ہر مشاہد کے لیے ایک جیسا رہتا ہے۔ لیکن وقت مطلق اس وقت تک رہتا ہے جب تک اجسام بہت کم رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔ جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنے لگتی ہے تو وقت بھی مطلق نہیں رہتا۔
اس بات کی تصدیق کہ روشنی کی رفتار متناہی ہے سب سے پہلے اولے روئمر نے1676 میں کی۔ اس کے دیکھا کہ مشتری کے چاند کا اس کے پیچھے جانے اور پھر دوبارہ سے ظاہر ہونے کا وقت ایک جیسا نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ چونکہ زمین اور مشتری دونوں ہی سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں اس لیے ان کا درمیانی فاصلہ بدلتا رہتا ہے۔جس کی وجہ سے بعض اوقات مشتری کے چاند جلدی نظر آتے ہیں جب کہ بعض دفعہ یہ کافی دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس نے اس وقت کے موجود ڈیٹا (Data)کی مدد سے روشنی کی رفتار کی پیمائش بھی کی جو کہ ایک لاکھ چالیس ہزار میل فی سیکنڈ تھی۔ یاد رہے کہ روشنی کی موجودہ رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔

روشنی کی اشاعت کی پہلی تھیوری 1865 میں جیمز میکسویل نے پیش کی۔ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ روشنی موجوں کی صورت میں ایک مستقل رفتار سے سفر کرتی ہے۔ نیوٹن کی تھیوری نے پہلے ہی مطلق مکان کے تصور کو جھٹلا دیا تھا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ روشنی کی یہ مستقل رفتار کس کے حساب(relative) سے ہے۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ روشنی کہ یہ رفتار ایتھر(Ether) کے ریلیٹو ہے۔ ایتھر ایک فرضی میٹیریل ہے جو ساری کائنات میں پھیلا ہوا ہے اور روشنی اس میں سے سفر کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین بھی ایتھر کے اندر سے سفر کرتی ہے تو سورج کی طرف سے آنے والی روشنی کے رفتار زیادہ ہونی چاہیے جب زمین سورج کی طرف جا رہی ہو بہ نسبت اس کے جب یہ اس سے دور جا رہی ہے۔ اس چیز کو دیکھنے کے لیے مائکلسن اور مورلے نے 1881 میں ایک تجربہ کیا جس کا مقصد درج بالا پیش گوئی کو جانچنا تھا۔ لیکن اس کے تجربے کے نتائج کے مطابق روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے چاہے آپ (زمین) جس سمت میں بھی سفر کریں۔1887 اور 1905 کے درمیان اس تجربے کے نتائج کی بہت ساری تاویلیں پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ 1905 میں البرٹ آئن سٹائن نے کہا کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ وقت مطلق نہیں ہے تو ہمیں ایتھر کے تصور کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

خصوصی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ اس چیز سے بالا تر کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہے ہیں، فزکس کے قوانین تمام مشاہدوں کے لیے ایک جیسے رہتے ہیں۔ یہ بات نیوٹن کا نظریہ پہلے ہی بتا چکا تھا لیکن اب اس میں میکسویل کے نظریے کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یعنی تمام مشاہد ین کے لیے روشنی کی رفتار مستقل رہے گی۔ نظریہ اضافیت کے نہایت ہی شاندار نتائج ہیں۔ اس میں پہلا کمیت اور توانائی کی برابری ہے جس کو مشہور مساوات E=mc2 کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ ایک اتنا ہی شاندار نتیجہ وہ ہے جس نے زمان و مکان کے متعلق ہمارے تصورات کو یکسر بدل دیا۔ نیوٹن کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ اگر آپ کوئی اشارہ یا سگنل ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجتے ہیں تو مختلف رفتار سے حرکت کرنے والے مشاہد ایک ہی وقت ماپیں گے کیوں کہ نیوٹن کے نظریے میں وقت مطلق ہے لیکن وہ اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ روشنی نے کتنا فاصلہ طے کیا کیوں کہ سپیس یا مکان مطلق نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے لیے روشنی کی رفتار جو کہ فاصلے اور وقت کا حاصلِ ضرب ہوتی ہے، مختلف ہو گی۔ لیکن آئن سٹائن کی تھیوری میں چونکہ روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے مختلف مشاہد فاصلے کو ابھی بھی مختلف ہی ماپیں گے۔ لیکن چونکہ اب روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے وہ وقت جو کہ فاصلے اور روشنی کی رفتار کا حاصلِ تقسیم ہے اس کو بھی مختلف ماپیں گے۔بالالفظِ دیگر نظریہِ اضافیت نے مطلق زمانے کے تصور کو ختم کر دیا۔

ذیل میں دی گئی شکل میں ایک واقعے (Event) کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریڈار سے ایک اشارہ اس جگہ پر بھیجا جاتا ہے جہاں پر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اشارے کا کچھ حصہ منعکس ہوتا ہے اور ایک اور وقت پر اسے پھر سے ریڈار کی مدد سے حاصل کر لیا جاتا ہے۔ واقعے کا وقت کل وقت کا آدھا ہوگا (جیسا کہ شکل میں دیکھایا گیا ہے)۔ اور واقعہ کس جگہ پر رونما ہوتا ہے اس کو وقت اور روشنی کی رفتار کے حاصلِ ضرب سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ذیل میں دی گئی تصویر زمانی مکانی ڈائیگرام کی ایک مثال ہے۔ مختلف مشاہد جو ایک دوسرے کے لحاظ سے حرکت میں ہوں گے وہ اس واقعے کے رونما ہونے کی زمان اور مکان کی مختلف قیمتیں ماپیں گے اور کسی بھی مشاہد کی پیمائش کو کسی دوسرے کی پیمائش پر کوئی برتری حاصل نہ ہو گی۔

یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم سپیس میں کسی بھی نقطے کو تین اعداد یا محددات سے ظاہر کرتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نقطہ ایک دیوار سے اتنے، دوسری سے اتنے جب کہ فرش سے اتنے فاصلے پر موجود ہے۔ لیکن محدددات کا یہ نظام خالصتاً ہماری اپنی پسند ہے۔ہم اسی نقطے کے مقام کو ظاہر کرنے کیے کوئی اور اعداد یا محددات لے کر بھی اس نقطے کا بالکل صحیح مقام پتا لگا سکتے تھے۔

ایک واقعہ ایک ایسی شئے ہے جو سپیس میں کسی خاص مقام اور کسی خاص وقت پر رونما ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے مقام کو چار محددات کی مدد سے جانا جا سکتا ہے۔ یعنی تین محدد سپیس کے اور ایک وقت کا۔ لیکن خصوصی اضافیت میں سپیس اور وقت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے سپیس کے دو محددات میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم کسی نقطے کے مقام کو بجائے سپیس اور ٹائم کے محددات میں معلوم کرنے کے ایک چہار جہتی سپیس میں ظاہر کرتے ہیں جو کہ زمان و مکاں یا سپیس ٹائم کہلاتی ہے- اس کتاب میں میں زمانے یا وقت کو عمودی جب کی مکان یا سپیس کے کسی ایک محدد کو افقی سمت میں ظاہر کروں گا (سپیس کے باقی دو محددات کو نظر انداز کیا گیا ہے)۔ یہ ڈائیگرام زمانی مکانی ڈائیگرامز کہلاتی ہیں۔

ذیل میں دی گئی ڈائیگرام میں وقت کو عمودی سمت میں سالوں میں جب کہ فاصلے کو افقی سمت میں میلوں میں ماپا گیا ہے۔ زمان ومکان میں سورج اور الفا قنطوری عمودی سمت میں حرکت کرتے ہیں۔سورج سے نکلی ہوئی ایک شعاع وتری راستہ لیتے ہوئے چار سال میں الفا قنطوری تک پہنچتی ہے۔

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ چاہے روشنی کا منبہ کسی بھی رفتار سے حرکت کر رہا ہو، روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب روشنی کسی منبہ سے نکلتی ہے تو وہ ایک کرُے کی شکل میں ہر طرف پھیلتی ہے۔ ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے کے بعد اس کُرے کا رداس 300 میٹر جب کہ بیس لاکھویں حصے کے بعد یہ رداس بڑھ کر 600 میٹر ہو جائے گا اور اسی طرح بتدریج بڑھتا جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک ندی کی سطح پر لہریں پیدا ہوتی ہیں۔یہ لہریں وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رداس کے دائرے کی صورت میں پھیلتی جائیں گی۔

اگر ہم تین ابعادی(Three dimensional) ماڈل کا تصور کریں جس میں دو ابعاد ندی کی سطح جب کہ تیسری وقت کی سمت کو ظاہر کرے تو یہ لہریں ایک مخرطیہ (Cone) بنائیں گی۔جس کی نوک اس وقت اور مقام پر ہوگی جب پتھر پانی میں گرا تھا۔ اسی طرح کسی بھی واقعے سے پھیلنے والی روشنی بھی چار ابعادی زمان و مکان میں تین ابعادی مخروطیہ بناتی ہے۔ یہ مخروط اس واقعے کی مستقبل کی نوری مخروط (Light Cone) کہلاتی ہے۔ اسی طرح ہم ایک مخروط بنا سکتے ہیں جو ماضی کی نوری مخروط کہلاتی ہے۔ یہ ان واقعات کا مرقع یا سیٹ ہوگی جن سے روشنی کی شعاع مذکورہ واقعے تک پہنچتی ہے۔

کسی واقعےP کے ماضی اور مستقبل کی نوری مخروطیں زمان و مکان کے کسی بھی خطے کو تین حصوں میں تقسیم کرتی ہیں۔کسی واقعے کا مطلق مستقبل وہ خطہ ہو گا جو مستقبل کی نوری مخروط کے اندر ہو گا۔ یہ ان واقعات کا سیٹ ہو گا جو ممکنہ طور پر اس بات سے اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ واقعے P پر کیا ہوا ہے۔ وہ تمام واقعات جو مستقبل کی نوری مخروط کے باہر رونما ہوتے ہیں ان پر P پر ہونے والے حادثات کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیوں کہ ان تک روشنی ابھی نہیں پہنچ پاتی۔P کامطلق ماضی وہ خطہ ہے جو ماضی کی نوری مخروط کے اندر موجود ہوتا ہے۔یہ ان تمام واقعات کا سیٹ ہے جن سے اشارے روشنی یا اس سے کم رفتار سے سفر کرتے ہوئے P تک پہنچتے ہیں۔لہٰذا یہ ان واقعات کا سیٹ ہوا جو ممکنہ طور پر P پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یعنی اگر اگر آپ کو یہ پتا ہو کہ P کی ماضی کی نوری مخروط میں کیا ہوا تھا تو آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ Pپر کیا ہوگا۔ زمان و مکان کا وہ تمام خطے جو P کی ماضی یا مستقبل کی نوری مخروط کے باہر موجود ہیں ان پر یا ان کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا کہ P پر کیا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر سورج ابھی چمکنا بند کر دے تواس کا فوری طور پر زمین پر اثر نہیں ہو گا۔ کیوں کہ زمین سورج کے مستقبل کی نوری مخروط میں نہیں آتی۔ بلکہ زمین پر اس کا پتا آٹھ منٹ کے بعد چلے گا کیوں کہ سورج کی روشنی آٹھ منٹ میں زمین پر پہنچتی ہے اور آٹھ منٹ کے بعد زمین سورج کے اس واقعے کی مستقبل کی مخروط میں ہوگی جب اس نے چمکنا چھوڑا تھا۔

اسی طرح دوردراز کے ستاروں سے آنے والی روشنی لاکھوں سال کا سفر طے کر کے ہم تک پہنچتی ہے۔ تو ایک لحاظ سے ہم ان ستاروں کے ماضی میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

خصوصی نظریہ اضافیت اس وقت صحیح نتائج دیتا ہے جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نیوٹن کے نظریہ تجاذب کے ساتھ یکساں نہیں ہے۔نیوٹن کا نظریہِ تجاذب یہ کہتا ہے کہ دو اجسام کے درمیان قوتِ کشش ان کے درمیان فاصلے کے مربع کے بالعکس متناسب ہوتی ہے۔ اس کو مطلب یہ ہوا کہ اگر اجسام کے درمیان فاصلے کو بدلا جائے تو اس کا اثر دوسرے جسم پر فوری محسوس کیا جائے گا۔جو کہ خصوصی اضافیت کے خلاف ہے جو یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر نہیں کرسکتی۔1915 میں آئن سٹائن نے ایک تجاذبی نظریہ پیش کیا جو کہ خصوصی اضافیت کے ساتھ یکساں تھا۔ یہ اب عمومی نظریہِ اضافیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

عمومی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ تجاذب ایک قوت نہیں ہے بلکہ زمان و مکان کے منحنی(curved) ہونے کا نتیجہ ہے۔ کمیت اور توانائی زمان و مکان میں انحنا پیدا کرتے ہیں۔ زمین اور دوسرے اجسام اس انحنائی زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتے ہیں جو کہ جادیاتی (Geodesic) کہلاتا ہے۔ جادیاتی یا جیوڈیزک دو نقاط کے درمیان کم سے کم فاصلہ ہوتا ہے۔عمومی اضافیت میں اجسام چہار جہتی زمان و مکان میں ایک سیدھی قطار میں حرکت کرتے ہیں لیکن ہماری سہ جہتی زمان و مکان میں وہ منحنی راستوں پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔سورج بھی اپنے اردگرد زمان ومکان میں اس طرح کا انحنا پیدا کرتا ہے کہ زمین اس کے گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ روشنی بھی زمان و مکان میں ایک جادیاتی یا جیوڈیزک پر چلے گی اور اس طرح ہمارے سہ جہتی(Three dimensional) زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتی ہوئی نظر نہیں آئے گی۔عمومی اضافیت یہ پیش گوئی کرتی ہے کہ تجاذبی میدان کی وجہ سے روشنی اپنے راستے سے مڑ جائے گی۔اس لحاظ سے دور دراز کے ستارے سے آنے والی روشنی جب سورج کے پاس سے گزرے گی تو اپنے راستے سے مڑ جائے گی اور اس طرح اس ستارے کا ظاہری مقام بدل جائے گا۔ لیکن عام حالات میں سورج کی روشنی کی وجہ سے یہ دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔لیکن چونکہ سورج گرہن کے دوران سورج کی روشنی ہم تک نہیں پہنچ پاتی تو اس منظر کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔اس مظہر کی تصدیق 1919 میں لگنے والے سورج گرہن کے دوران کی جانے والے مشاہدات سے کی گئی۔

عمومی اضافیت کی ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ بھاری اجسام کے پاس وقت سست روی سے گزرتا ہے۔اس کی وجہ توانائی اور تعدد(Frequency) کے درمیان راست تناسب ہے۔ جب روشنی کی ایک کرن اوپر کی جانب جاتی ہے تو اس کی توانائی کم ہوتی ہے۔ یعنی اس کا تعدد کم ہوتا ہے یا طولِ موج بڑھ جاتا ہے۔اس سے بلندی پر کھڑے ایک مشاہد کو یوں لگے گا جیسے نیچے واقعات بہت آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔اس امر کی تصدیق 1962 میں کیے گئی ایک تجربے میں کی گئی۔

نیوٹن کے قوانینِ حرکت نے مطلق مکان سے آزادی دلائی اور نظریہ اضافیت نے مطلق زمان سے۔1915 سے پہلے زمان و مکان کو ایک جامد سٹیج کی مانند سمجھا جاتا تھاجس میں حاثات وقوع پذیر ہوتے تھے لیکن ان کا اس زمان ومکان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ عمومی اضافیت میں زمان و مکان متحرک مقداریں ہیں۔ جب اجسام حرکت کرتے ہیں یا ایک دوسرے پر قوت لگاتے ہیں تو وہ زمان و مکان پر اثر ڈالتے ہیں۔اور بدلے میں زمان ومکان اجسام کی حرکات پر اثر انداز ہوتا ہے۔جس طرح آپ کائنات میں ہونے والے واقعات کو زمان و مکان کے بغیر بیان نہیں کر سکتے اسی طرح عمومی اضافیت میں کائنات کے باہر زمان ومکان کا سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب اول)

[blockquote style=”3″]

وقت کی مختصر تاریخ ان کتابوں میں شامل ہے جنہوں نے کائنات سے متعلق عمومی فہم کے خدوخال متعین کیے ہیں۔ اردو قارئین تک اس کتاب کو پہنچانے کے لئے فصی ملک نے اس کی تلخیص شروع کی ہے۔ ہم فصی ملک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ یہ اہم فریضہ سرانجام دیا ہے۔

[/blockquote]

باب اول
کائنات کے متعلق ہماری تصویر

340 قبل مسیح میں یونانی فلسفی ارسطو نے زمین کے کُروی ہونے کے بارے میں دو دلائل پیش کئے۔
اول یہ کہ چاند گِرہن کے دوران جب زمین کا سایا چاند پر پڑتا ہے تو وہ ہمیشہ ہی دائروی ہوتا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب زمین گول ہو۔ اگر زمین مستوی ہوتی تو اس کا سایا لمبوترہ یا بیضوی ہوتا ۔یا پھر ایسا ہو کہ جب بھی گرہن لگے اس وقت سورج عین اس مستوی طشتری (زمین) کے مرکز کے نیچے ہو۔

دوئم یہ کہ یونانی اپنی سیاحتوں سے جانتے تھے کہ شمالی ستارے کو جب جنوبی علاقوں سے دیکھا جائے تو وہ آسمان میں نیچے نطر آتا ہے بہ نسبت اس کے جب اسے شمالی علاقوں سے دیکھا جائے۔ چونکہ شمالی ستارہ قطب شمالی کے اوپر موجود ہے اس لیے جب اسے شمال سے دیکھا جائے تو یہ مشاہد کے اوپر دکھائی دیتا ہے جب کہ جب اسے جنوبی علاقوں سے دیکھا جائے تو یہ افق پر نظر آتا ہے۔ ارسطو نے شمالی ستارے کے مقام میں ظاہر تبدیلی سے زمین کا قطر بھی معلوم کیا جو کہ موجودہ قیمت سے دوگنا تھا۔

ارسطو کے مطابق زمین ساکن ہے اور کائنات کے مرکز پر موجود ہے اور ستارے زمین کے گرد دائروی مداروں میں چکر لگاتے ہیں۔ارسطو کے اس تصور کو بطلیموس(Ptolemy) نے ایک مکمل کونیاتی ماڈل میں ڈھال دیا۔ بطلیموس کے مطابق زمین ساکن ہے اور کائنات کے مرکز پر ہے جب کہ اس کے گرد چاند، سورج ،پانچ سیارے ،جو اس وقت معلوم تھے(عطارد، وینس، مریخ، مشتری اور یورینس)، اورجامد ستارے آٹھ مداروں میں چکر لگاتے ہیں۔ جامد ستاروں کا آپس کا درمیانی فاصلہ تبدیل نہیں ہوتا جب کی زمین کے لحاظ سے ان کی جگہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ان ستاروں کے باہر کیا ہے اس سوال پر کبھی نہیں سوچا گیا۔ یہی ہماری کائنات کی حد تھی۔

بطلیموس کا ماڈل ستاروں کے مقامات کی پیش گوئی کرنے کے لیے ایک مناسب ماڈل تھا۔ لیکن ان کا صحیح مقام بتانے کے لیے بطلیموس کو یہ فرض کرنا پڑا کی چاند زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے کبھی کبھی بہت قریب آ جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی جسامت کافی بڑی نظر آتی ہے۔ بطلیموس کو اس غلطی کا احساس تھا لیکن پھر بھی عمومی طور پر اس ماڈل کو اپنا لیا گیا۔ مزید اس کو کلیسا (چرچ )کی بھی حمایت حاصل ہوئی کیوں کہ جامد ستاروں کے باہر جنت اور جہنم کے لیے کافی جگہ تھی۔

کائنات کاایک نسبتاً سادہ ماڈل کوپر نیکس نے 1514 میں پیش کیا۔ اس کے مطابق سورج ساکن ہے جب کہ زمین اور دوسرے سیارے اس کے گرد چکرلگاتے ہیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں وہ بدعتی نہ کہلایا جائے کوپر نیکس نے یہ ماڈل اپنے نام سے شائع نہ کیا۔ تقریباً ایک سو سال بعد دو ہئیت دانوں، گلیلیو گلیلی اور جوہانس کیپلر نے کھل کر کوپر نیکس کے نظریے کی حمایت کرنا شروع کر دی۔ بطلیموس کی تھیوری کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب گلیلیو نے دور بین نے مشتری کا مشاہدہ کرتے ہوئے دیکھا کہ اس کے گرد مزید سیارے یا چاند چکر لگا رہے ہیں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ زمین مرکز پر ہو اور یہ چاند زمین کے گرد چکر لگائیں جو بظاہر مشتری کے گرد گھومتے ہوے نطر آتے ہیں؟

اسی دوران کیپلر نے کوپرنیکس کے نظریے میں ترمیم کرتے ہوئے ثابت کیا کہ ساروں کے مدار دائروی نہیں بلکہ بیضوی ہیں۔ اس سے بطلیموس کا نظریہ مکمل طور پر رد ہو گیا۔ تاہم کیپلر بیضوی مداروں سے مطمئن نہیں تھا۔ دائروں میں تشاکل زیادہ تھا اور وہ زیادہ خوبصورت تھے۔

1687 میں آئزک نیوٹن نے اپنی کتاب اصولِ فطری فلسفہ شائع کی۔ اس میں اس نے نہ صرف یہ ثابت کیا کہ سیارےزمان و مکان میں کیسے گھومتے ہیں بلکہ ان کی حرکات اور مقامات کو معلوم کرنے کے لیے ریاضی بھی ایجاد کی۔ نیوٹن نے قانونِ تجاذب پیش کیا جس کی رو سے دو اجسام جتنے بھاری ہوں گے ان کے درمیان کشش اتنی ہی زیادہ ہو گی اور وہ جتنے دور ہوں گے ان کے درمیان کشش اتنی ہی کم ہو گی۔ نیوٹن نے یہ بھی ثابت کیا کہ اجسام زمین کی طرف اسی قوت کی وجہ سے گرتے ہیں اور چاند زمین اور زمین سورج کے گرد اسی قوت کی وجہ سے چکر لگاتی ہے۔

نیوٹن کے نظریے کے مطابق ایک محدود کائنات میں تمام اجسام باہمی کشش کے تحت ایک دوسرے پر گر جائیں گے۔ نیوٹن نے اس سوال کا جواب ایک لامحداد کائنات کی صورت میں دیا۔ فرض کریں کائنات لامحدود ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی نقطہ کائنات کامرکز کہلا سکتا ہے۔چونکہ اب کسی بھی جسم پر ہر طرف سے مساوی قوت لگے گی اس لیے وہ اپنی جگہ پر رہے گا۔

لیکن یہ ایک غلط دلیل ہے اور یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم لامحدودیت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم ایک محدود خطہ فرض کریں۔ اب نیوٹن کی تھیوری کے مطابق اس خطے میں موجود اجسام ایک دوسرے کی طرف گریں گے۔ اب اگر ہم فرض کریں کہ اس خطے کے باہر مزید اجسام کو مساوی فاصلے پر رکھ دیاجاتا ہے تو ایسا کرنے سے پہلے والے اجسام کی حرکت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ اسی طرھ مرکز کی طرف گریں گے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ کائنات کا کوئی بھی ایسا لامحدود ساکن ماڈل بنانا ممکن نہیں ہے جس میں گریوٹی ہمیشہ کشش کی قوت ہو۔

نیوٹن کی تھیوری نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ ایک لامحدود ساکن کائنات کا وجود ممکن نہیں ہے پھر بھی کسی نے اس طرف نہ سوچا کہ ہو سکتا ہے کائنات پھیل رہی ہو؟ بلکہ انہوں انہوں نے اس کے ساکن ہونے کے حق میں دلائل پیش کئے۔ایک دلیل یہ تھی کہ گریوٹی کم فاصلوں پر کشش جب کہ زیادہ فاصلوں پر دفع کی قوت کے طور پر عمل کرتی ہے۔ لہٰذا قریبی ستاروں کے درمیان کشش کی قوت دور کے ستاروں کے درمیان دفع کی قوت کو منسوخ کرتی ہے اور اس طرح سارا نظام توازن میں رہتا ہے۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی نظام غیر مستحکم ہو گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی ایک خطے میں ستارے ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہوں تو کشش کی قوت دفع کی قوت پر حاوی آجائے گی اور ستارے ایک دوسری کی طرف گرنے لگیں گے وقص علیٰ ہذا۔

لامحدود ساکن کائنات پر ایک اور اعتراض 1823 میں جرمن فلسفی ہنرخ اولبرز نے اٹھایا۔ اس کے مطابق ایک لامحدود ساکن کائنات میں آپ جس طرف بھی دیکھیں گے آپ کی نطر کسی ستارے پر جا کر پڑے گی۔اور اس طرح سارا آسمان سورج کی طرح روشن دکھے گا۔ اولبرز نے اس کی جو ضد دلیل پیش کی وہ یہ تھی کہ دور دراز کے ستاروں سے آنے والی روشنی درمیان میں آنے والے مادہ میں جذب ہو رہی ہو۔ لیکن اس طرح وہ مادہ روشنی جذب کر کے ستاروں کی طرح چمکنے لگے گا۔ اس مسلے سے راہِ فرار ایک ہی تھی کہ یہ فرض کیا جائے کہ ستارے ہمیشہ سے نہیں چمک رہے بلکہ انہوں نے کسی خاص وقت پر چمکنا شروع کیا ہو۔ ایسی صورت میں درمیانی مادے نے ابھی اتنی تپش جذب نہیں کی ہو گی کہ سورج کی طرح روشن ہو سکیں۔ لیکن اس سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ کس علت نے ابتدا میں ستاروں کو چمکنے پر مجبور کیا ہو گا؟

آغازِ کائنات کا سوال ہمیشہ سے ہی زیرِ بحث رہا ہے۔ بہت ساری کائنات کے نظریات اور مذہبی صحیفوں کے مطابق اس کا آغاز کسی خاص مقام پر ہوا۔ ایسے نظریے کی ایک وجہ علتِ اولٰی کا ہونا ہے۔ کائنات میں ہرحادثے کو آپ ماضی میں ہوئے کسی واقعے سے جوڑتے ہیں۔ایسی صورت میں کائنات کے وجود کی توضیح صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے کہ کسی خاص مقام پر اس کا آغاز ہوا ہو۔ ایک اور دلیل سینٹ اگسٹین نے اپنی کتا ب خدا کا شہر میں دی۔ اس نے یہ دلیل دی کہ تہذیب ارتقا پا رہی ہے اور ہم یاد رکھتے ہیں کہ کس نے کون سا کام کیا یا کس نے کون سی تیکنیک متعارف کرائی۔ اس لیے انسان اور کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں رہے۔لہٰذا کائنات کا کسی نقطے پر آغاز ہوا ہے۔ اس نے پیدائش کی کتاب (Book of Genesis) سے اس کی عمر 5000 سال بتائی۔

ارسطو اور بہت سارے دوسرے یونانی فلسفیوں نے تخلیق کے تصور کو پسند نہ کیا کیوں کہ اس میں سماوی مداخلت کا عنصر کافی زیادہ تھا۔یونانیوں نے پہلے ہی اوپر بیان کیے گئے ارتقا والی دلیل پر غور و خوض کیا تھا اور اس کا جواب یہ دیا تھا کہ زمین پر اکثر سیلاب اور اس طرح کی آفتیں آتی رہی ہیں جن کی وجہ سے تہذیب کا خاتمہ ہو جاتا اور پھر یہ دوبارہ سے شروع ہوتی۔

اس سوال کو کہ آیا کائنات کا آغاز وقت میں کسی خاص نقطے پر ہوا یا یہ زمانے تک محدود ہے کو امینوئل کانٹ نے 1781 میں چھپنے والی اپنی کتاب تنقیدِ عقلِ محض (Critique of pure reasom)میں کافی تفصیل سے زیرِ بحث لایا ہے۔ اس کے مطابق یہ دلائل عقلِ محض کے تضادات ہیں۔ کیوں کہ اس کے خیال میں یہ دعوٰی، کہ کائنات کا آغاز ہوا تھا یا اس کا جواب دعوٰی کہ یہ ہمیشہ سے موجود تھی ، ایک جیسے وزنی دلائل ہیں۔ دعوٰی کے لیے اس کی دلیل تھی کہ اگر کائنات کا آغاز ہوا ہوتا تو کسی بھی واقعے کے ہونے سے پہلے لامتناہی وقت ہوتا اور جواب دعوٰی کے لیے دلیل یہ تھی کہ اگر کائنات کا آغاز ہوا ہو تب بھی کسی واقعے کے ہونے سے پہلے لامتناہی وقت موجود ہو گا۔اصل میں دعوٰی اور جواب دعوٰی ایک ہی دلیل ہے اور یہ اس غیر بیان کردہ مفروضے پر مبنی ہے کہ اس چیز سے بالا تر کہ آیا کائنات کا آغاز ہوا ہے یا نہیں، وقت ہمیشہ سے ہی موجود رہا ہے۔ بعد میں ہم یہ دیکھیں گے کہ کائنات کے آغاز سے پہلے وقت لایعنی ہو جاتا ہے۔

1929 میں ایک سائنسدان ایڈون ہبل نے دیکھا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔ اس کامطلب یہ تھا کہ ماضی میں وہ ایک دوسرے کے قریب قریب رہی ہوں گی اور ایک ایسا وقت بھی ہو گا جب سارا مادہ ایک ہی نقطے پر مرکوز ہو گا۔اس وقت کائنات کی کثافت لامتناہی ہو گی۔ اس کو اب بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ ہبل کے مشاہدات یہ بتاتے ہیں کہ اس نقطے پر کائنات لامتناہانہ چھوٹی اور کثیف ہو گی۔ اس مقام پر طبیعیات کے تمام قوانین بے اثر ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح کسی بھی چیز کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت بھی صفر ہو جاتی ہے۔ وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے ہوئے ہوں گے ا ن کامستقبل میں ہونے والے حوادث پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ بگ بینگ ہی وقت کاآغاز ہے۔ایک غیر تغیر پذیر ساکن کائنات میں وقت کسی بیرونی قوت کا محتاج ہوتا ہے۔کوئی بھی یہ گمان کر سکتا ہے کہ خدا نے ماضی میں کسی بھی وقت پر کائنات کو پیدا کیا ہو گا۔ دوسری جانب اگرکائنات پھیل رہی ہے تو طبیعی لحاظ سے وقت کا نقطہ آغاز ایک ضرورت بن جاتا ہے۔ ایک پھیلتی ہوئی کائنات میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ خدا نے کائنات کو بگ بینگ پرپیدا کیا یا اس کے بعد کسی بھی نقطے پر اس طرح پیدا کیا کہ یوں لگے کہ ماضی میں کہیں بگ بینگ ہوا تھا۔ایک پھیلتی ہوئی کائنات خالق کا انکار نہیں کرتی لیکن اس چیز پر حد مقرر کر دیتی ہے کہ اُس نے اِس کو کب پیدا کیا ہو گا۔

کائنات کی ماہیت کو جاننے کے لیے ایک بات بہت واضح ہونی چاہیے کہ سائنسی نظریہ کیا ہوتا ہے۔میں اس کا ایک سادہ ورژن لوں گا کہ یہ ایک ماڈل ہوتا ہے جس میں کچھ اصول ہوتے ہیں جو ماڈل میں موجود مقداروں کو ان مشاہدات سے جوڑتے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ کسی بھی نظریے کے اچھا ہونے میں دو باتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ پہلے سے موجود تمام مشاہدات سے ہم آہنگ ہو اور مستقبل کے نتائج کی پیش گوئی کرے۔ مثال کے طور پر ارسطو کی تھیوری کہ مادہ آگ، پانی ، ہوا اور مٹی سے مل کر بنا ہے اتنا سادہ ہے کہ اس کو تھیوری قرار دیا جا سکے لیکن یہ مزید کسی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتا۔ اس کے برعکس نیوٹن کا تجاذب کا نظریہ بھی اتنا ہی سادہ ہے اور تمام مشاہدات پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ مزید نتائج کی پیش گوئی بھی کرتا ہے۔یعنی یہ چاند ،سورج اور دوسرے سیاروں کی حرکات کی پیش گوئی کرتا ہے۔

کوئی بھی طبیعی نظریہ عارضی ہوتا ہے، ایک لحاظ سے یہ ایک مفروضہ ہی ہوتا ہے۔آپ اسے ثابت نہیں کر سکتے۔ اس چیز سے بالائے نظر کہ کتنی مرتبہ کسی تجربے کے نتائج صحیح آتے ہیں آپ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگلی بار بھی صحیح نتائج آئیں گے۔اس کے برعکس آپ کسی بھی نظریے کو صرف ایک ایسے مشاہدے سے رد کر سکتے ہیں جو پیش گوئی پر پورا نہ اترتا ہو۔ جیسا کہ سائنسی فلسفی کارل پاپر نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی تھیوری کو یہ چیز ممیز کرتی ہے کہ یہ ایسی پیش گوئیاں کرتی ہے جن کو عمومی طور پر غلط ثابت کیا جا سکتا ہو۔ جب بھی تھیوری کسی پیش گوئی پر پورا اترتی ہے تو ہمارا عقیدہ اس پر اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ عمومی طور پر جب بھی کوئی نئی تھیوری کسی پرانی کی جگہ لیتی ہے تو وہ اسی کی ہی تصحیح شدہ شکل ہوتی ہے، مثال کے طور پر نیوٹن کی تھیوری کی بنا پر عطارد کے مدار کی توضیح نہیں کی جا سکتی لیکن آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت اس کی وضاحت کرتا ہے۔ لیکن ابھی بھی نیوٹن کی تھیوری مستعمل ہے کیوں کہ اس کا آئن سٹائن کے نطریے سے فرق اتنا کم ہے کہ عام حالات میں ہم اسے نظر انداز کر دیتے ہیں اور ویسے بھی نیوٹن کا نطریہ آئن سٹائن کے نظریے سے استعمال کرنے میں بہت آسان ہے۔

سائنسدانوں کا اصل مقصد ایک ایسے نظریے کی تلاش ہے جو ساری کائنات کو بیان کر سکے۔ زیادہ تر سائنسدان اس کو دو حصوں میں بانٹتے ہیں۔ پہلے میں وہ قوانین آتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ کائنات وقت کے ساتھ کیسے تبدل پذیر ہوتی ہے۔ یعنی اگر ایک وقت پر ہمیں کائنات کی حالت کا پتا ہو تو یہ قوانین یہ بتائیں گے کہ کسی اور وقت پر اس کی حالت کیا ہو گی۔ دوسرے نمبر پر کائنات کی ابتدائی حالت (Initial state) کا سوال آتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سائنس کا فیلڈ نہیں بلکہ فلسفے یا مذہب کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ خدا ہر شئے پر قادر ہے تو اس کی مرضی ہے کہ اس نے کائنات کو موجودہ حالت میں شروع کیا۔ لیکن یہاں پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ اگر اس کے پاس بہت سارے چوائس تھے تو اس نے یہی حالت کیوں چنی۔چنانچہ یہ سوچنا کافی عقلی ہے کہ ایسے قوانین موجود ہوں جو کائنات کی ابتدائی حالت کو بھی بیان کریں۔

کائنات کا کوئی ایک یکساں نظریہ بنانا ایک نہایت ہی مشکل کام ثابت ہوا ہے۔ ہم اب یوں کرتے ہیں کہ اس کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصے کا نظریہ بنا لیتے ہیں جو کسی محدود حد میں مشاہدات کی وضاحت کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ راستہ غلط ہو لیکن یہی وہ طریقہ ہے جس کو استعمال کر کے ہم نے ماضی میں ترقی کی ہے۔ مثال کے طور پر نیوٹن کی تجاذب کی تھیوری یہ کہتی ہے کی کشش کی قوت دو اجسام کی کمیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اب ہمیں اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ وہ اجسام کس شئے کے بنے ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

سائنسدان کائنات کو دو نظریات کی مدد سے بیان کرتے ہیں۔ آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت اور کوانٹم میکانیات۔ نظریہ اضافیت کائنات کی ساخت کو بڑے پیمانے پر بیان کرتا ہے جو کہ کچھ میل سے لے کر اربوں میل تک ہو سکتا ہے جب کہ کوانٹم میکانیات کائنات کو بہت چھوٹے پیمانے پر بیان کرتی ہے جو کہ ایک انچ کے بھی ایک اربویں حصے سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ دونوں نظریات ایک دوسرے کے ساتھ یکساں نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کی کوشش ہے کہ ان دونوں کو ملا کر ایک ایسا نظریہ بنایا جائے جو ساری کائنات کو بیان کرتا ہو۔ سائنسدان اسے کوانٹم تجاذبی نظریہ کہتے ہیں۔ہمارے پاس ابھی ایسا نطریہ نہیں ہے لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ نظریہ کس طرح کی پیش گوئیاں کرے گا۔

Categories
نان فکشن

سٹیفن ہاکنگ؛ عظیم سائنسدان

انسان ہمیشہ سے کائنات میں ہونے والے مختلف اور متنوع مظاہر فطرت کا مشاہدہ کرتا آیا ہے۔ یہ مختلف قسم کی اشیاء جیسے آسمان، زمین، پہاڑ، نباتات، جمادات و حیوانات اور متنوع قسم کے مظاہر جیسے روشنی، بجلی، مقناطیسیت ،موسموں کی تبدیلی، دن رات کا بدلنا، سمندروں کی لہروں، چاند اور سورج کی مقامی تبدیلی اورحرارت و حرکیات وغیرہ کو دیکھتا اور انکے بارے غوروفکر کرتا ہوا نت نئے اندازے لگاتا رہا ہے۔ جدید سائنس نے اب سے 400 سال قبل یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے بعد ان مظاہر میں پائے جانے والی یکسانیت اور ان میں موجود قوانین کی دریافتوں نے جدید دور کے انسان کا تصور کائنات ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔اس تصور کائنات کی تصویر کشی کرنے والے سائنسدانوں میں کوپرنیکس، گلیلیو، برونے، کیپلر، لائیبنیز، لاپلاس، نیوٹن، فیراڈے، میکسول، بولٹزمین،ایڈیسن،گاؤس، ریمان، آئن سٹائن،پلانک،شروڈنجر، بوہر، ہائیزنبرگ، ڈیراک، پالی، فائن مین، ستیندرناتھ بوز، چندرشیکر، عبدالسلام اور دیگر بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ انہی ناموں میں بیسویں اور اکیسویں صدی کا ایک عظیم نام سٹیفن ہاکنگ ہے۔

سٹیفن ولیم ہاکنگ انگلستان کے شہر آکسفورڈ میں 8 جنوری 1942ء کو پیدا ہوئے۔یہ دور دنیا میں جنگ عظیم دوم کا تھا۔ آپ کے والد فرینک ولیم ہاکنگ ایک کسان کے بیٹے تھے ۔ فرینک نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ادویات کے شعبے میں مہارت حاصل کی اور جنگ عظیم میں انگلستان کے لئے میڈیکل کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اسی یونیورسٹی میں انکی ملاقات ایزوبل نامی خاتون سے ہوئی اور انہوں نے شادی کرلی۔ یہ نوبیاہتا جوڑا جنگ کے دنوں میں لندن میں قیام پذیر تھا ۔ جہاں ہر وقت گولہ باری کا امکان رہتا تھا اسی لئےجس وقت انکے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہونے والی تھی تو یہ لوگ آکسفورڈ منتقل ہوگئے جہاں جرمنی فوجوں کے ساتھ ایک معاہدہ کے تحت گولہ باری کے امکان کم تھے۔

جنگ بندی کے بعد یہ لوگ دوبارہ لندن کے قریب ایک تاریخی جگہ منتقل ہوگئے جہاں سٹیفن کی دو بہنیں میری اور فلیپا اور ایک بھائی ایڈورڈ پیدا ہوئے۔ فرینک اور ایزوبل دونوں ہی کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ دونوں نے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔فرینک چونکہ ایک غریب کسان کا بیٹا تھا لہٰذا وہ سٹیفن کی تعلیم اور اسکی ترقی کابہت خواہاں تھا۔ وہ اسے ایک مشہور پرائیویٹ سکول ‘ویسٹ منسٹر’ میں بھیجنا چاہتا تھا جس کی فیس کافی زیادہ تھی مگر وہاں وظیفے کا امتحان دے کر مفت تعلیم حاصل ہوسکتی تھی۔لیکن عین داخلے کے امتحان کے وقت سٹیفن انتہائی بیمار ہوگیا۔ اس لئے اسکو ایک دوسرے عام سکول میں داخل کروایا گیا۔

سٹیفن اگرچہ انتہائی ذہین طالبعلم تھا لیکن یہ اپنی جماعت میں ہمیشہ اوسط پوزیشن پرہی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ سکول کے اساتذہ یا دیگر طالبعلم اسکے بارے میں کسی بڑی کامیابی کی توقع نہیں کرتے تھے۔اس کا ذہن بچپن ہی سے جاننے اور سچائی کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ مختلف کھلونوں، ریڈیو اور گھڑیوں کو توڑ کر انکے اندرونی سٹرکچر اور کام کرنے کے طریقے دریافت کرتا تھا۔ اسی لئے اسے سائنس سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔ اسکے والد فرینک نے اسکو بائیولوجی اور ادویات کی طرف مائل کرنا چاہا مگر وہ بائیولوجی میں ویسی دلکشی محسوس نہ کرتا تھا جیسی حقیقت کی تلاش اسے انتہائی بنیادی قوانین فطرت کی طرف مائل کرتی تھی۔

اسی لئے یونیورسٹی میں پہنچ کر ستیفن نے تہیہ کر لیا کہ وہ صرف اور صرف ریاضی اور فزکس پڑھے گا لیکن اس کے والد نے اس پر اعتراض کیا کیونکہ ریاضی پڑھنے کے بعد صرف تعلمی شعبے میں بطور معلم بھرتی کے علاوہ کوئی خاص نوکریاں نہیں ملتی تھیں ۔ والد کے اصرار پر ہاکنگ نے زیادہ تر کیمسٹری اور فزکس پڑھی اور بہت کم توجہ ریاضی پر دی۔ اسی دوران اس کو نفسیات میں دلچسپی ہوئی خصوصی طور پر جس میں اشیاء کو ذہن کی قوت سے کنٹرول کیا جاتا ہے لیکن بہت جلد اس کو محسوس ہوا کہ یہ دھوکہ دہی کا علم ہے اور تجربات کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔آکسفورڈ میں داخلے کے لئے انٹرویو میں فزکس کے مضمون میں ہاکنگ نے زبردست کامیابی حاصل کی اور 1959ء میں سترہ سال کی عمر میں وہ آکسفورڈ میں فطری علوم خصوصی فزکس پڑھنے چلا گیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی بہت سے کالجز کا مجموعہ ہے۔ جس میں سے یونیورسٹی کالج کی بنیاد 1249ء میں رکھی گئی تھی ۔ اسی کالج میں سٹیفن کے والد بھی محقق کا کام کرتے تھے ۔سٹیفن اس کالج میں تنہائی محسوس کرتا تھا۔ کیونکہ اسکے زیادہ تر ہم جماعتی طلباء جنگ عظیم دوم میں خدمات سرنجام دینے کے بعد داخل ہوئے اور عمر میں بڑے تھے۔اگلے ہی سال سٹیفن نے خود میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کی۔ اس نے خود کو پڑھاکو بچہ بنانے کی بجائے باقی طلباء کے ساتھ گھل مل کر رہنے کا ارادہ کر لیا۔ اس نے لمبے بال رکھ لئے۔ وہ کلاسیکل موسیقی سنا کرتا اور سائنس فکشن کے ناول پڑھا کرتا تھا۔ اس سارے کام کے لئے وافر وقت میسر تھا کیونکہ آکسفورڈ میں تعلیمی سرگرمی بہت آسان تھی اور تین سال کی ڈگری میں صرف ایک امتحان ہوتا تھا۔سٹیفن کے اساتذہ جیسے رابرٹ برمن وغیرہ کے مطابق اسکے لئے فزکس کی ڈگری ایک کھیل تھا۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ا سے فوری سرانجام دے لیا کرتا تھا۔ تیسرے سال سپیشلائزیشن کے لئے ہاکنگ کے پاس دو مضامین یعنی پارٹیکل فزکس یا کاسمولوجی میں ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ ہاکنگ نے کاسمولوجی کا انتخاب کیا کیونکہ یہ علم کائنات کے بارے بڑے سوالات پر کام کرتا ہے یعنی کائنات کب، کیسے اورکیوں پیدا ہوئی؟

آکسفورڈ سے گریجوایٹ مکمل ہونے پر ہاکنگ کا ارادہ تھا کہ وہ کیمبرج یونیورسٹی میں اس وقت کے مشہور پروفیسر فریڈ ہوئیل کی شاگردی اختیار کرے لیکن اسکے لئے داخلے کے امتحان میں ‘فرسٹ’ درجہ پرآنا شرط تھی۔ ہاکنگ امتحان کو لے کر بہت پریشان ہوا اور اسی عالم پریشانی میں وہ دوسرے اور پہلے درجے کے مابین جا سکا۔ اس کو انٹرویو میں جب پوچھا گیا کہ اب وہ کیا چاہتا ہے؟ تو اس نے جو جواب دیا وہ بہت مشہور ہوا۔ اس نے کہا” اگر آپ مجھے پہلا درجہ دیں تو کیمبرج جاؤں گا۔ اگر دوسرا درجہ ملا تو آکسفورڈ ہی میں رہوں گا”۔ انہوں نے اسے پہلا درجہ دیا۔اس کے استاد کے مطابق “انٹرویو لینے والے کم از کم اتنے ذہین تھے کہ وہ اپنے سے زیادہ ذہین سٹیفن کو جان سکے”۔

کیمبرج میں ہاکنگ کو انکی خواہش کے برخلاف فریڈ ہائیل کے بجائے ڈینس شیاما نامی ایک گمنام ریاضی کے پروفیسر کو سپروائزر بنانا پڑا۔اسی دوران اسکو عجیب سے دورے پڑنا شروع ہوگئے۔ وہ اچانک گر پڑتا۔ یا گرنے کے بعد خود کو اٹھا نہیں پاتا تھا۔ 1963ء تک اکیس برس کی عمر میں ان دوروں میں کثرت کے باعث ہاکنگ کومیڈیکل ٹیست کے لئے ہسپتال داخل ہونا پڑا۔ ڈاکٹروں نے انکے ٹیسٹ کرنے کے بعد صرف اتنا کہا کہ اسے کوئی عام بیماری نہیں ہے۔ وہ کیمبرج چلا جائے اور جلد اپنی پی ایچ ڈی مکمل کر لے۔سٹیفن کو موٹر نیورون معارضہ لاحق ہوا تھا جس میں جسم کی اعصابی حرکت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جاتی ہے اور جسم مردہ ہوتا جاتا ہے۔اس بیماری کا کوئی علاج موجود نہیں تھا۔اس کے پاس اب صرف زندگی کے دو سال باقی تھے۔

ہاکنگ کے لئے ایسی لاعلاج بیماری ایک دھچکے سے کم نہ تھی۔ اسے ایک وقتی سا ڈیپریشن بھی رہا۔ لیکن اس کے بقول وہ جب اپنے اردگرد ہسپتالوں میں لوگوں کو درد میں دیکھتا تو وہ خود کو تسلی دیتا کہ اسے درد کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ مزید براں وہ اپنی زندگی سے پہلے بھی اتنا خوش نہیں تھا۔ اب اس لاعلاج بیماری سے اسے ایک اطمینان سا محسوس ہوا کہ زندگی سے جان چھوٹ رہی ہے۔اس اطمینان نے اس میں کچھ بڑا کرنے کا حوصلہ پیدا کردیا اور وہ زندگی کو پہلے سے زیادہ خوشگوار محسوس کرنے لگا۔ اسی دوران اس کی ملاقات جین نام ایک لڑکی سے ہوئی۔ جین البان ہائی سکول لندن میں زیر تعلیم تھی اور وہ لسانیات کے شعبے سے وابستہ تھی۔ ہاکنگ سے ملاقات کے بعد جین کو اس میں دلچسپی پیدا ہوگئی اور بیماری کے باوجود اس نے ہاکنگ سے منگنی کر لی۔ جین نے ہاکنگ کی زندگی میں بہت اہم اور مثبت کردار ادا کیا اور اسے امید اور زندگی کے روشن پہلو کی طرف راغب کیا۔ لیکن ہاکنگ کے بقول کامیاب شادی کے لئے نوکری ضروری ہے اور نوکری کے لئے پی ایچ ڈی کرنا لازمی ہوجاتا ہے۔

سٹیفن کے والد نے ڈینس شیاما سے اپیل کی کہ وہ ہاکنگ کو پی ایچ ڈی کا کام جلد مکمل کروا دے۔ پہلے ڈینس نے منع کر دیا لیکن جب ہاکنگ کے دو سال گزر گئے اور وہ پہلے سے زیادہ پرجوش نظر آیا تو اس نے سوچا کہ اب ہاکنگ کو کام کروایا جائے۔اس کے لئے ہرمن بونڈی نامی مشہور ماہر طبیعات کا ریفرنس لیٹر حاصل کرنے میں سٹیفن کے سپروائزر شیاما نے مدد کی اور یوں اسے ایک وظیفہ مل گیا۔1965ء میں تیئس سال کی عمر میں اس نے جین سے شادی کر لی۔اگلا مرحلہ پی ایچ ڈی کے مقالہ کا موضوع تھا۔کاسمولوجی میں نظریہ اضافیت جو کہ آئن سٹائن کا بڑا نظریہ تھا اس وقت غیر معمولی اہمیت کا حامل بنا ہوا تھا۔امریکہ کی ریاست نیویارک کی کورنیل یونیورسٹی میں اس موضوع پر ایک سمر سکول کا انتظام کیا گیا تھا جہاں اس شعبہ کے بڑے سائنسدان جمع ہونے تھے۔ ہاکنگ اس سکول میں شمولیت کے لئے امریکہ چلا گیا لیکن جین بھی لندن یونیورسٹی سے لسانیات میں پی ایچ ڈی کرنے لگی۔

اس دوران ہاکنگ کی ملاقات ایک نوجوان پروفیسر راجر پنروز سے ہوئی جو بلیک ہول پر تحقیق کر رہے تھے۔ ہاکنگ نے جب پنروز تھیورم پڑھا تو وہ حیران ہوگیا کیونکہ اس تھیورم کے مطابق بلیک ہول کے مرکز پر ایک ایسا نقطہ اختتام پایا جاتا ہے جہاں وقت نہیں گزرتا۔ اسی تھیورم پر سوچتے ہوئے ہاکنگ اس نتیجے پر پہنچا کہ پوری کائنات بھی ایسے ہی ایک نقطے سے پیدا ہوئی ہے جو کائنات کا آغاز ہے۔ جب یہ بات اس نے مشہور سائنسدان فریڈہائیل کو بتائی تواس نے مذاق میں کہہ دیا کہ سٹیفن ہاکنگ نے تو کوئی بڑا دھماکہ کر دیا ہے۔ یہی نام بعد میں ‘بگ بینگ’ کے طور پر مشہور ہوگیا۔ 1965ء میں دو آسٹریا کے سائنسدان رابرٹ ولسن اور آرنو پینزیاس نے بیل ٹیلیفون لیبارٹری برکلے امریکہ میں کاسمک بیک گراؤنڈ شعاعوں کی دریافت سے بگ بینگ نظریہ کو صحیح ثابت کر دکھایا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں سٹیفن ہاکنگ مشہور ہوتا گیا۔ اس کو ایک نہایت ذہین شخص کے طور پر ‘آئن سٹائن ثانی’ کہا جانے لگا۔

1967ء میں سٹیفن اور جین کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی۔ اور اسی دوران ہاکنگ کو کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر کی نوکری مل گئی اور اسطرح انکے خاندانی حالات بھی بہتر سے بہتر ہوتے گئے۔ بعد ازاں انکے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی جس کا نام لوسی رکھا گیا۔ 1974ء میں ہاکنگ شعاعوں کے نام سے پروفیسر سٹیفن ہاکنگ نے ثابت کیا کہ بلیک ہول میں سے شعاعوں کا اخراج یہ ثابت کرتا ہے کہ اسکا ایک درجہ حرارت ہے۔ مزید یہ کہ بلیک ہول آہستہ آہستہ اپنی توانائی کھو دے گا اور یوں زمان و مکاں سے غائب ہو جائے گا۔ اس سے طبیعات کے کچھ بنیادی اصول سے اختلاف پیدا ہونے پر اسے ایک ‘معلوماتی تناقضہ’ قرار دیا گیا۔ 1979ء میں کیمبرج یونیورسٹی میں انہیں ایک خاص عہدہ دیا گیا جسے ‘ریاضی کا لوکاسئین پروفیسر’ کہتے ہیں۔ یہ وہی عہدہ ہے جو کسی دور میں کیمبرج ہی کے ایک اور پروفیسر سر آئزک نیوٹن کو دیا گیا تھا۔ یعنی سٹیفن ہاکنگ کو موجودہ صدی کا نیوٹن کہا جا سکتا ہے۔ 1983ء میں ہاکنگ نے کائنات کے آغاز کے حوالے سے ‘غیرسرحدی مفروضہ’ پیش کیا جس کے مطابق کائنات میں کام کرنے والے قوانین بگ بینگ کے وقت بھی کارآمد قرار پاتے ہیں اور اسطرح پینروز تھیورم والا نقطہ ایک سطح کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔

اسی دوران ہاکنگ کو اپنی بیٹی لوسی کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے کے لئے مزید رقم درکار تھی جس کے لئے ہاکنگ نے سائنسی موضوعات پر کتابیں لکھنے کا ارادہ کر لیا اور یوں پرنٹ میڈیا میں بھی ہاکنگ کو جانا جانے لگا۔ 1984ء میں اس کی پہلی کتاب منظر عام پر آئی جس کانام تھا ‘وقت کی مختصر تاریخ’۔ اس کتاب کا چھپنا تھا کہ دنوں کے اندر یہ کتاب فروخت ہونا شروع ہو گئی۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا بھر میں اس کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں۔اور یہ کتاب آج تک دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب میں شامل ہے۔اس کتاب کے پس منظر میں ہالی ووڈ میں ایک فلم بھی بنائی گئی۔ اسکے بعد ہاکنگ نے اپنے مضامین، ریسرچ آرٹیکلز اور دیگر عام فہم کتب تحریر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ دنیا بھر میں ہزاروں سائنسدان اس عظیم شخصیت سے متاثر ہو کر فزکس کے مضمون میں اعلٰی کام کرچکے ہیں۔ ہاکنگ اپنی تمام تر علالت کے باوجود ہمہ وقت کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ فاش کرنےمیں مگن رہے۔ دنیا کا یہ عظیم سائنسدان 14 مارچ 2018ء کو 76 برس کی عمر میں ہمشہ کے لئے ہم سے بچھڑ گیا۔ ان کی آخری بڑی خواہش یہ تھی کہ کائنات میں موجود ہر شے اور عمل کی وضاحت ایک ہی قوت سے کی جاسکے ایک ایسی مساوات جس میں کائنات کے تمام راز پوشیدہ ہوں۔ اس نظریہ کو ‘نظریہ کل’ قرار دیا جائے گا۔ آنے والی صدیوں میں انسان کی سائنسی ترقی میں سٹیفن ہاکنگ کے نظریات ایک سنگ میل ثابت ہوں گے !

Categories
شاعری

تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا


تمہارا کہکشاں سے وصال ہوا
طنز اور تبرّا کرنے والے
تمھاری کائناتی مسکراہٹ کا فراق کیسے سمجھ سکتے ہیں ؟
گھٹن اور جبر کے چاپلوس
تمھارے لئے کہے جانے والے دعائیہ کلمات پر نہیں
اپنے فکری افلاس پر ہنس رہے ہیں !
یہ تاریخ کے وہ بد دعائے ہوئے بوزنے ہیں
جن کی واحد تحقیق
کفر اور ایمان کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے تک ہے !
بد قسمتی کے سنگھاسن پر بیٹھے ہوئے بے دماغ افراد !
جنہوں نے آج تک کسی روشن دماغ کی روشنی سے کچھ حاصل نہیں کیا
ان کی کسی بات کا برا مت ماننا
یہ تنگ نظر نہیں، نابینا ہیں !
میں تمھارے وصال پر ایک نظم اور سفید گلابوں کا پرسہ پیش کرتا ہوں
آج تم نے برسوں بعد اپنے قدموں پر پہلی اڑان بھری ہو گی
میں تصور کر سکتا ہوں
کہ تمھاری مسکراہٹ آج کس قدر روشن ! کس قدر واضح ہو گئی ہو گی
پیارے ستارے !
مجھے تمھارے وصال کا دکھ نہیں
سرشاری ہے
تم نے اپنا علم تقسیم کرنے میں کوئی سستی نہیں دکھائی
تم نے ثابت کیا
کوئی بھی معذوری،
تخلیقیت اور علم کے راستے میں کوئی معنی نہیں رکھتی
اے بزرگ ستارے
تم ہمیشہ روشن رہو گے
کھوج کرنے والی پیشانیوں
کائنات کا کُھرا نکالنے والے بہادر دماغوں
اور بچوں کی ہنسی میں
Image: Grant Lund

Categories
شاعری

عشرہ // ہم اُسے روشنی سمجھتے ہیں

مذہبی، موت کہہ کے خوش لیں
ہم ، اِسے زندگی سمجھتے ہیں!

وہیل چئیر پر گزاری نصف صدی اُسی سائنس کا کارنامہ ہے
جس کا ہاکنگ کے بے پنہ راکنگ سر پہ انسان دوست عمامہ ہے
ملکی وے سے کہیں پرے کوئی کاینات اس کے انتظار میں ہے

ایسے سورج نہیں مرا کرتے
وہ ادھر ڈوبا اور ادھر نکلا
وقت کے لوُپ ھول پُر کر کے
وہ، ستاروں کی سیر پر نکلا
جو اُسے روشنی سمجھتے ہیں

Categories
شاعری

پلکوں پر افلاک

پلکوں پر افلاک کا
بھاری بوجھ اُٹھایا
خوابوں کی سر سبز یری
کو ہندسوں کا سُرتال سکھایا
بے حرکت ہی
پچھلے اگلے
سارے زمانے
ایڑی کی نیچے لے آیا
آسماں کی سات تہوں تک
راز زماں کے کھود کے لایا
بے جنبش ہی
بلیک ہول تک
سارے مداروں
اور لہروں کو عقل کی حد میں
کھنیچ کے لایا
ایٹم تک ہر اک مومینٹم
اس کی مایا
دھرتی کی پھر گود سمایا
دھرتی کے جادو کا جایا

Categories
نقطۂ نظر

باغی لوگ سوچ کے زاویے بدل رہے ہیں

youth-yell

ملحدین، دہریے اور مادیت پرست یا کسی بھی خدائی تصور کے مُنکرین کو پاکستانی سماج میں فقط قابلِ اعتراض ہی نہیں بلکہ قابلِ تعزیر سمجھا جاتا ہے۔ اکثریت اِس گروہ کو قابلِ گردن زدنی سمجھتی ہے، حالانکہ ابھی تک اِس بحث کو سمیٹا نہیں جا سکا کہ الحاد کی اسلام میں کیا سزا موجود ہے؟ اِس مذہبی بحث کا کوئی حتمی نتیجہ مستقبل قریب میں سامنے آنے کی امید بھی نہیں۔ مسلمانوں کے علاوہ باقی مذہبی دنیا بھی اِن ملحدین و مادیت پرستوں کو لعن طعن کرتی ہے۔ لیکن یہاں ایک بات جو قابلِ توجہ ہے کہ دنیا میں ملحدین و منکرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

 

ماضی اور حال کے کئی نامور سائنس دان دہریت کی طرف مائل رہے ہیں۔یہ قیاس بھی کیا جا سکتا ہے کہ سائنسی دنیا سے وابستہ افراد عام لوگوں کی نسبت دہریت کی جانب زیادہ مائل دیکھے گئے ہیں۔
دہریت کا لفظ اپنے لغوی معنوں کے اعتبار سے اور اصطلاحاً بھی ایک ایسے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے جس کے مطابق دہریہ ایک ایسا فرد ہے جو کسی خالق کی تخلیق سے انکاری ہو اور زمان (وقت) کی ازلی اور ابدی صفت کا قائل ہو؛ یہ تعریف ہی لفظ دہریت کا وہ مفہوم ہے کہ جو قرآن کی آیات سے ارتقاء پاکر اور مسلم فلاسفہ و علماء کی متعدد تشریحات کے بعد خاصے وسیع معنوں میں استعمال ہونے لگا ہے۔ دہریوں کو تخلیق سے انکاری مفہوم سے منسلک ہونے کی وجہ سے مذہب سے انکاری ہونے کے معنوں میں بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہ اصطلاح بنیادی طور پر ایک ایسے شخص کے لیے یا عقیدے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو وقت کی لافانی حیثیت کو مانتا ہو اور اس کی کسی خالق کے ذریعے تخلیق کا انکاری ہو۔ اس اصطلاح کو بعدازاں تمام اقسام کے خداوں کے وجود سے انکار کے لیے استعمال کیا جانے لگا، بعض اوقات اس اصطلاح کو مذہب سے تحریف کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک تو یہ کہ دہریہ ایسے شخص کو کہتے ہیں کہ جو (ماضی اور مستقبل دونوں جانب) دنیا کی لافانیت کا قائل ہو اور (وسیع مفہوم میں) موت کے بعد کسی اور صورت یا کسی اور دنیا میں دوسری زندگی کا انکاری ہو اور دوسرے یہ کہ لفظ دہریت اپنے عقیدے سے مکمل انکار نہیں مگر انحراف کے لیے بھی ستعمال کیا جاتا ہے۔

 

ماضی اور حال کے کئی نامور سائنس دان دہریت کی طرف مائل رہے ہیں۔یہ قیاس بھی کیا جا سکتا ہے کہ سائنسی دنیا سے وابستہ افراد عام لوگوں کی نسبت دہریت کی جانب زیادہ مائل دیکھے گئے ہیں۔ یہ تحریر ایسے ہی چند دہریے، ملحد یا مادیت پرست سائنسدانوں سے متعلق ہے۔ اس تحریر کا مقصد دہریت کی ترویج نہیں۔

 

سٹیفن ہاکنگ

 

موجودہ عہد میں سٹیفن ہاکنگ کو آئن سٹائن کے بعد بڑا مقام حاصل ہے۔ سٹیفن ہاکنگ ایک خطرناک بیماری سے دو چار ہیں اور کرسی سے اٹھ نہیں سکتے، ہاتھ پاؤں نہیں ہلا سکتے اور بول نہیں سکتے۔ مگر وہ دماغی طور پر صحت مند ہیں۔ بلند حوصلگی اور بلند ہمتی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایک خاص کمپیوٹر کی مدد سے وہ اپنے خیالات کو دوسروں تک پہنچاتے اور اسے صفحے پر منتقل کراتے ہیں۔ معذوری اور بیماری اِس عظیم محقق کو تحقيق کر نے سے نہیں روک سکی۔ اُن کا بنیادی کام تھیوریٹیکل کاسمولوجی اور بلیک ہولز کے حوالے سے ہے۔ اُن کی شہرہ آفاق کتاب “وقت کی مختصر تاریخ” کو ایک انقلابی حیثیت حاصل ہے۔ یہ ایک نہایت اعلیٰ پائے کی کتاب ہے جس سے ایک عام قاری سے لےکر محققین تک ہر کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

 

ہاکنگ کے مطابق “بِگ بینگ” محض ایک حادثہ یا پہلے سے پائے جانے والے سائنسی یا مذہبی عقائد کے مطابق خدا کے حکم کا نتیجہ نہیں بلکہ کائنات میں موجود طبعی قوانین کا ناگزیر نتیجہ تھا۔
سٹیفن ہاکنگ، جسے ڈاکٹروں نے اکیس سال کی عمر میں ہی بتا دیا تھا کہ وہ دو تین سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکے گا، آج زندہ و جاوید ہے۔ ہاکنگ کسی بھی خدائی تصور اور معجزے کا منکر ہے۔ اپنی کتاب “دی گرینڈ ڈیزائن” میں وہ سوالات کے جواب دینے کے لیے کسی اندازے، قیاس آرائی یا مفروضے سے کام نہیں لیتے بلکہ مُحکم سائنسی ثبوتوں اور تجربات کو بنیاد بناتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ہاکنگ کو رد کرنا بےحد دشوار ہو جاتا ہے۔ دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ موضوع کی گھمبیرتا کے باوجود ہاکنگ نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ یہ کتاب محض کوانٹم فزکس کے کسی سکالر کے ہی نہیں بلکہ ایک عام آدمی کے لیے بھی قابل فہم ہو۔ اور اپنی اس کوشش میں وہ کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ ہاکنگ نے اِس کتاب میں کہا ہے کہ انسان نے نہایت قلیل مدت میں ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ اگر صحیح معنوں میں حساب لگایا جائے تو انسان کی فِکری تاریخ دو اڑھائی ہزار سال سے زیادہ پرانی نہیں اور اگر ہم اتنی مختصر مدت میں یہاں تک پہنچ گئے ہیں تو ذرا سوچئے کہ ایک ایسی عالمگیر تھیوری کا ظہور، جس میں کائنات سے متعلق تمام سوالات کا جواب ہوگا، اب کتنی دیر کی بات ہے؟ ہاکنگ اس عالمگیر تھیوری کو “ایم تھیوری” کا نام دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تھیوری بہت ساری تھیوریز کا مجموعہ ہو گی جس میں کائنات کے تمام حیران کن تجربات کو سمیٹ کر انسانی ذہن کے لئے ایک مربوط جواب تیار کیا جائے گا۔

 

ہاکنگ کہتا ہے کہ لوگوں کے نزدیک زندگی کے ظہور کے لئے حیران کن اتفاقات کا ایک لا متناہی سلسلہ درحقیقت خدا کے وجود کی دلیل ہے کیونکہ خدا کے بغیر اس نوع کے ناقابل یقین اتفاقات وقوع پذیر نہیں ہو سکتے۔ لیکن اُس کے نزدیک ایسا نہیں ہے۔ ہماری کائنات، ان گنت کائناتوں میں سے ایک ہے، اِسی طرح ہمارا نظامِ شمسی بھی اربوں نظاماتِ شمسی میں سے ایک ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارے نظامِ شمسی کے حیران کن اتفاقات کسی طرح بھی انوکھے نہیں کیونکہ اِس طرح کے اربوں نظام نہ صرف چل رہے ہیں بلکہ دوڑ رہے ہیں اور قدرت کے قوانین کی fine-tuning کو ان گنت کائناتوں کے تناظر میں سمجھا جاسکتا ہے۔ ہاکنگ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ ہماری کائنات اور اِس کے قوانین زندگی کو جنم دینے کے لئے اِس طرح “ڈیزائن” کیے گئے ہیں کہ اگر یہ اِس طرح سے نہ ہوتے تو پھر ہم بھی نہ ہوتے ۔۔۔ ایسا کیوں ہے اور کس وجہ سے ہے؟ ہاکنگ صرف سوال اٹھا کر رکھ نہیں دیتا بلکہ جواب بھی دیتا ہے۔ ہاکنگ کا کہنا ہے کہ کائنات کی تخلیق میں کسی “ان دیکھے تخلیق کار” کا تصور سائنس کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہاکنگ کے مطابق “بِگ بینگ” محض ایک حادثہ یا پہلے سے پائے جانے والے سائنسی یا مذہبی عقائد کے مطابق خدا کے حکم کا نتیجہ نہیں بلکہ کائنات میں موجود طبعی قوانین کا ناگزیر نتیجہ تھا۔

 

سٹیفن ہاکنگ کا کہنا ہے کہ انسان مختار نہیں بلکہ مجبور ہے اور چند ایسے طبعی قوانین کے تابع ہے جنہیں ثابت کیا جا چکا ہے۔ نیورو سائنس کی روشنی میں انسانی رویہ چند مخصوص قدرتی قوانین کے تحت کام کرتا ہے اور انسان کی خود مختاری محض ایک ڈھکوسلہ ہے۔ ہاکنگ کہتا ہے کہ ہمیں یہ بات اِس لئے ہضم نہیں ہوتی کیونکہ ہم کسی بھی اقدام کے نتیجے میں انسانی رویّے کی پیشین گوئی نہیں کرسکتے چنانچہ ہم یہ اخذ کر لیتے ہیں کہ انسان خود مختار ہے جبکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔

 

ابوبکر محمد ذکریا الرازی

 

امیر وقت کو الرازی کے نظریات سے اتنا شدید اختلاف تھا کہ اس نے حکم جاری کیا کہ الرازی کی کتاب مصنف کے سر پر اُس وقت تک زور زور سے ماری جائے جب تک کہ کتاب یا سر دونوں میں سے کوئی ایک پھٹ نہ جائے۔
ابوبکر محمد ذکریا الرازی تاریخ میں عظیم طبیب کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ الرازی نے تاریخ میں پہلی بار خسرہ اور چیچک کے فرق کو واضح کیا، عمل کشید کو بہتر بنایا اور شاید تاریخ میں پہلی بار اس نے میڈیکل ایتھکس کا تصور متعارف کرایا۔ دنیا کی تاریخ میں جہاں بہت سے طبیبوں کا نام آتا ہے وہاں “ابوبکر محمد بن زکریا رازی” کا نام علم طب کے امام کی حیثیت سے لیا جاتاہے۔ ان کی سب سے مشہور کتاب “حاوی” اسی زمانے کی یاد گار ہے۔ حاوی دراصل ایک عظیم طبی انسائیکلوپیڈیا ہے جس میں انہوں نے تمام طبی سائنس کو جو متقدمین کی کوششوں سے صدیوں میں مرتب ہوئی، ایک جگہ جمع کردیا اور پھر اپنی ذاتی تحقیقات سے اس کی تکمیل کی۔ فن طب کا یہ امام 932ء میں 92 سال کی عمر پانے کے بعد انتقال کرگیا۔

 

وہ نہا یت آزاد خیال اور روشن فکر سائنس دان تھا۔ وحی کے بارے میں پائے جانے والے عمومی تصور سے وہ متفق نہیں تھا۔ وہ مذہب کے سماجی استعمال کو بنی نوع انسان کے لئے ضرر رساں خیال کرتا تھا۔ الرازی کو توہین مذہب کے الزام میں سزا دی گئی اور اس کی کم و بیش سبھی کتابوں کو جلا دیا گیا تھا۔ رازی اسلاف پرستی کے سخت خلاف تھا۔ وہ منقولات کی حاکمیت کو نہیں تسلیم کرتا بلکہ عقل و تجربے کو علم کا واحد ذریعہ سمجھتا ہے۔ الرازی کا کہنا تھا کہ انسان کو لازم ہے کہ اپنے دماغ کی کھڑکیاں کھلی رکھے اور منقولات کے بجائے حقیقی واقعات پر بھروسہ کرے۔ الرازی نے کہا کہ ہم کو فلسفے اور مذہب دونوں پر تنقید کرنے کا پورا حق ہے۔ الرازی معجزوں کا منکر تھا کیونکہ اُس کے مطابق معجزے قانون قدرت کی نفی کرتے ہیں اور خلاف عقل ہیں ۔ وہ مذاہب کی صداقت کا بھی چنداں قائل نہیں تھا، اُس کے مطابق مذاہب عموماً حقیقتوں کو چھپاتے ہیں اور لوگوں میں نفرت اور عداوت پیدا کرتے ہیں۔ امیر وقت کو الرازی کے نظریات سے اتنا شدید اختلاف تھا کہ اس نے حکم جاری کیا کہ الرازی کی کتاب مصنف کے سر پر اُس وقت تک زور زور سے ماری جائے جب تک کہ کتاب یا سر دونوں میں سے کوئی ایک پھٹ نہ جائے۔ ضعیف طبیب نے یہ سزا برداشت کرلی لیکن کچھ مورخوں کا خیال ہے کہ عمر کے آخری ایام میں اس کی بینائی چلے جانے کی وجہ اسی واقعے سے لگنے والی سر اور دماغ کی چوٹیں تھیں۔

 

آندرے شیخاروف

 

آندرے شیخاروف کے بقول اُسے سائنسی تحقیق کے دوران خدائی وجود کے حق میں ایک شہادت بھی نہیں ملی۔ معروف سوویت نیوکلیئر فزیسسٹ آندرے شیخاروف ملحد تھا۔ اُس کی ماں ایک پکی مذہبی عورت تھی اور اُس کا باپ ایک مکمل دہریہ تھا۔ جبکہ وہ ابتدائی عمر ہی سے دہریہ تھا۔ آندرے روسی ایٹم بم بنانے والے پروگرام کا معتبر ترین فرد تھا۔ انسانی حقوق اور آزادی اظہار رائے کے حوالے سے اُس کی جدوجہد اور خدمات کے صلے میں اُسے نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ لینن اور سٹالن ایوارڈ کا بھی حقدار ٹھہرایا گیا۔ کاسمالوجی کے میدان میں بھی اُس نے خاطرخواہ کام کیا۔ سٹالن کے عہد کے جبر کے خلاف بھی آندرے نے بھرپور آواز اٹھائی اور انسانی حقوق کی خلاف وزیروں کے خلاف کافی جدوجہد کی۔ جدوجہد کے دوران آندرے کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دُھونا پڑا، بھوک ہڑتال کرنے پر بھی مجبور ہوا اور جبروتشدد کا بھی سامنا کیا۔

 

تھامس یڈیسن

 

ایڈسن کے مطابق حیات بعد از موت، جنت و جہنم اور خدا کے وجود کے مذہبی عقائد بےبنیاد ہیں کیونکہ اِن عقائد کے کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملتے۔
بلب کا موجد، مشہور سائنسدان “تھامس ایڈسن” بھی ایک دہریہ تھا۔ ایڈسن کے مطابق حیات بعد از موت، جنت و جہنم اور خدا کے وجود کے مذہبی عقائد بےبنیاد ہیں کیونکہ اِن عقائد کے کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملتے۔ ایڈسن نے کہا کہ میرے جسم میں کسی روح کا کوئی وجود نہیں بلکہ جسم خلیوں کا ایک مجموعہ ہے، میں اپنے جسم کی تخلیق کو خدائی معاملہ بالکل بھی نہیں سمجھتا۔ ایڈسن نے مذہبی عقائد کو ایک بکواس کا نام بھی دیا۔

 

مذہبی حلقوں کی طرف سے دہریوں کو یہ طعنہ دیا جاتا ہے کہ اُن کے پاس اخلاقی جواز، جرات، اخلاص اور جذبہ محرکہ کا فقدان ہے۔ مگر ملحدوں نے آندرے شیخاروف کے نام میں اخلاقیات دیکھی ہے، ہاکنگ کی شکل میں ملحدین کو مقصدیت ملی ہے، یوجینی سکاٹ اور الفریڈ کِنسے کے روپ میں اخلاص کے پیکر ملے ہیں، ایلن ٹورنگ اور نیل ٹائسن نے ملحدین کو جذبہ محرکہ عطا کیا ہے۔ الرازی، ایڈسن اور روزالنڈ فرینکلن نے ہمتِ کفر اور جراتِ تحقیق کی راہیں ہموار کی ہیں۔
Categories
نان فکشن

روایتی مسلم ذہن میں مسئلۂ الحاد کی غلط تفہیم

روایتی مسلم ذہن میں موجود سماج کا تصور چونکہ الہامی روایت کی مختلف تعبیرات سے معاشرتی معیارات اخذ کرتا ہے لہٰذا ایسے غیر مذہبی ذہن کو بھی الحادی یا ’ نیم الحادی‘ گردانتا ہے جس کے لئے الہامی روایت سماجیات کی ذیل میں اپنے اندر کوئی نظری یا عملی دلچسپی نہیں رکھتی۔ اگر تاریخی تناظر میں مسلم سماج کے حال پر ایک نظر ڈالی جائے تو اٹھارہویں صدی کے یورپ کی تنویری یا روشن خیال تحریک کی ایک سطحی سی جھلک نظر آتی ہے۔ سطحی اس لیے کہ چاہے بنگلہ دیش میں اپنے شدت پسند مذہبی حریفوں کے ہاتھوں قتل ہوتے ‘فری تھنکر’ انٹرنیٹ ادیب اور کالم نگار ہوں یا پاکستانی سوشل میڈیا پر برسرپیکار مختلف عقلیت پسند الحادی و نیم الحادی آوازیں، اپنی سیاسی و سماجی تعبیرات کے کوئی ایسے چشمے نہیں رکھتیں جو اسی زمین سے پھوٹیں جس کی سیرابی کے سماجی حق کے لیے وہ جدوجہد میں مشغول ہیں۔ ہمارے ہاں روایتی مذہبی ذہن اور روشن خیال عقلیت پسند ذہن کی باہمی کشمکش کے لیے ابن سینا یا ابن طفیل کی بجائے گیلیلیو کو استعاراتی ترجیح دینا اس لیے حیرانی کی بات نہیں کہ اٹھارہویں صدی کی روشن خیال تحریکوں، صنعتی و سائنسی انقلاب اور دورِ استعماریت کے بعد پوری دنیا سکڑ کر کچھ ایسے ملفوظ یا ناملفوظ سماجی معیارات کو تیزی سے ہمہ گیر تسلیم کرنے کے دور سے گزر رہی ہے جن کی بنیادوں میں سائنسی طریقۂ استدلال سے جڑی تاریخ ِ فکر کو بلاشبہ روایتی فلسفیانہ استدلال کے مقابلے میں واضح اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا کشمکش کے اس پورے منظرنامے میں اگر روایتی اور تجدد مخالف مذہبی ذہن کے پاس کچھ ایسی منجمد الہامی تعبیرات کا سہارا ہے جو قرونِ وسطیٰ کی تعبیری روایت سے منسلک ہیں تو غیرمذہبی عقلیت پسند ذہن کی پشت پرجدید سائنس کی کم و بیش تین سو سالہ طویل اور مستحکم روایت کھڑی ہے جو مسلسل اپنے پھیلاؤ کے ذریعے ذہن سازی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

اگر تاریخی تناظر میں مسلم سماج کے حال پر ایک نظر ڈالی جائے تو اٹھارہویں صدی کے یورپ کی تنویری یا روشن خیال تحریک کی ایک سطحی سی جھلک نظر آتی ہے۔
عقلیت پسند ذہن سازی کے اس مسئلے کو کسی مثال سے سمجھنا ہو تو بنگلہ دیشی ‘فری تھنکر‘ تحریک کے 31 سالہ کارکن محی الدین کی ذہنی کشمکش پر ایک نظر دوڑائیے جو مذہبی شدت پسندوں کے متعدد حملوں کے بعد بالآخر جرمنی میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے اور آج کل وہاں سے بذریعہ انٹرنیٹ سرگرمِ عمل ہیں۔ ایک مسلم خاندان میں پیدا ہونے والے محی الدین کا کہنا ہے کہ انہیں جنت و جہنم کے واقعات سے بھرپور مذہبی “قصے کہانیاں” کسی دیومالا کی طرح مضحکہ خیز معلوم ہوتی تھیں لہٰذا تیرہ سال کی عمر سے ہی وہ اپنے آپ کو ملحد سمجھنے لگے۔ ان کے بقول اس ردعمل پر ان کے والد بہت شرمسار تھے۔ اسی زمانے میں انہوں نے اسٹیفن ہاکنگ کی مشہورِ زمانہ کتاب ‘بریف ہسٹری آف ٹائم‘ (اردو ترجمہ: وقت کا سفر) کا مطالعہ کیا جس نے ایک نئے جہان کی طرف ان کی راہنمائی کی۔ سولہ سال کی عمر میں ان کا تعارف ایک ایسے بنگلہ دیشی مجلے سے ہوا جو نظریہ اضافت اور دوسرے سائنسی اصولوں کی مدد سے قرآن کریم میں موجود معجزوں کی تعبیرات پیش کرتا تھا۔ محی الدین نے اپنے کڑے تنقیدی خطوط میں یہ نکتہ اٹھایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سائنسی طور پر ناممکن تھا کہ کسی گھوڑے پر سوار ہو کر آسمانوں کا سفر کر آتے۔ یوں ڈھاکہ سے شائع ہونے والے مختلف اخبارات میں ان مختلف مذہب پسندوں سے ان کا کڑا مناظرہ جاری رہا۔ 2008 میں کمپیوٹر سائنس میں گریجویشن کے بعد انہوں نے مستقل طور پر لکھنا شروع کیا اور یوں وہ تحریک برپا ہوئی جس کے نتیجے میں ان کے چار ساتھی مذہبی شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور وہ خود بنگلہ دیش سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔

 

آپ کے سامنے یہ نہایت مختصر سوانحی منظرنامہ رکھنے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ اول تو یہ منظرنامہ ہمیں ایک روایتی مذہبی ذہن کا ردعمل سمجھنے میں ناگزیر مدد فراہم کرتا ہے اور دوسرا ایک روایتی عقلیت پسند ذہن کی ماہیت اور جدید دنیا میں اس کے ارتقاء پر بھی روشنی ڈالتا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں دنیا پاکستان میں شائع ہونے والے اپنے ایک اخباری مضمون میں ایک عالم دین کے مشہور مغربی مفکر کارل ساگاں کی کتاب ‘کاسموس’ پر پابندی کے مطالبے کو مثال بنا کر راقم نے روایتی مذہبی ذہن کے ایک مخصوص متشدد ردعمل کی جانب نشاندہی کی تو کچھ محترم مذہب پسند دوستوں نے یہ سوال اٹھایا کہ پھر کیا چپ سادھ لی جائے اور سماج کو فکری طور پر آزاد چھوڑ دیا جائے؟ ایک اور مشہور اہل ِعلم نے مجھ طالبعلم پر یہ اعتراض اٹھایا کہ یہ ایک خطرناک فکری نراجیت پسندی معلوم ہوتی ہے اور کوئی بھی مذہبی یا غیرمذہبی سماج فکر کو بالکل آزاد کیسے چھوڑ سکتا ہے؟

 

اٹھارہویں صدی کی روشن خیال تحریکوں، صنعتی و سائنسی انقلاب اور دورِ استعماریت کے بعد پوری دنیا سکڑ کر کچھ ایسے ملفوظ یا ناملفوظ سماجی معیارات کو تیزی سے ہمہ گیر تسلیم کرنے کے دور سے گزر رہی ہے جن کی بنیادوں میں سائنسی طریقۂ استدلال سے جڑی تاریخ ِ فکر کو بلاشبہ روایتی فلسفیانہ استدلال کے مقابلے میں واضح اہمیت حاصل ہے۔
ذاتی نوعیت کے یہ دونوں اعتراضات پیش کرنے کا مقصد بھی روایتی مذہبی ذہن کے ردعمل کی اس مخصوص جہت ہی کو مزید واضح کرنا ہے کیوں کہ راقم کی سوچی سمجھی رائے میں فی زمانہ اسلام کی مذہبی سماجی روایت کے سامنے ردعمل کے مباحث ترتیب دینے کا مسئلہ تو سرے سے درپیش ہے ہی نہیں کیوں کہ اس کا تعلق تو بہرحال کسی نہ کسی طرح مسئلے کے حل سے ہے۔ یہاں تو فی الحال مسئلے کے خدوخال پر ہی اتفاق زیرِ التوا ہے۔ جب ایسے سوال ہی سامنے موجود نہ ہوں جن پر ایک سماج میں باہمی اتفاق پایا جاتا ہو تو جواب چہ معنی دارد؟ ظاہر ہے اگر کوئی روایتی مذہبی ذہن مسئلے کے خدوخال ہی یوں مرتب کرتا ہے کہ ہمارے نام نہاد مذہبی سماج کا مسئلہ اخلاقیات کا جنازہ نکلنا، باہمی محبت و احترام کا ایک سماجی قدر کے طور پر ناپید ہو جانا، اور روشن خیالی و خرد افروزی کو ایک طنز و دشنام کے طور پر رواج دینا نہیں بلکہ فلسفہ و سائنس کے ذریعے بڑھتا ہوا الحاد ہے تو اس کے نزدیک یہ سادہ لوح ردعمل یقیناً ‘معقول’ ٹھہرے گا کہ ‘کاسموس’ اور ‘بریف ہسٹری آف ٹائم’ جیسی کتابوں پر سرے سے پابندی ہی لگا دی جائے۔ لیکن اگر پھر بھی ہم جیسے ‘نیم ملحدین’ باز نہ آئیں اور ریاست یہ نیک کام کرنے میں سستی کرے تو پھر ہمارے پیٹ میں خنجر گھونپ دینا بھی یقیناً اسی ردعمل کا اگلا ‘معقول ترین’ مذہبی قدم ہونا چاہیئے جسے ‘تائیدِ غیبی’ حاصل ہو۔

 

لیکن ہماری رائے میں اس ہولناک سماجی سانحے سے بچنے کی واحد معقول ترین صورت یہی ہے کہ اس روایتی مذہبی ذہن کے مقابل کھڑے ایک غیرمذہبی عقلیت پسند ذہن کی ماہیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ کیا یہ واقعی کوئی مسئلہ بھی ہے یا سادہ طور سے ایک مستقل ذہنی ارتقاء کا ہی تسلسل ہے جس کے ساتھ اب ہماری روایتی مذہبی روایت کو کئی داخلی و خارجی وجوہ کے باعث قدم ملا کر چلنے میں مشکل پیش آ رہی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس مشکل پر قابو پانے کا کوئی دوسرا نفیس طریقہ نہ ہونے کے باعث یہ مخصوص روایتی مذہبی شعور اب اپنی داخلی سماعت کے پردوں سے خدا کی یہ تحکمانہ آواز ٹکراتے سن رہا ہے کہ دوڑ میں آگے نکلنے والے حریف کو اڑنگا دے کر گرا دیا جائے؟ چونکہ ہماری روایت میں مذہبی کے ساتھ ساتھ غیرمذہبی روایت کے سوتے بھی عرصے سے خشک پڑے ہیں لہٰذا کیوں نہ مغربی عقلیت پسند ذہن کی ماہیت کو براہِ راست سمجھنے کی کوشش کی جائے تاکہ جہاں روایتی مذہبی ذہن کو اس کی خطرناک سادہ لوحی کا یقین دلایا جا سکے وہیں ہمارے ہاں کے عقلیت پسند مقلدین و نیم ملحدین کو بھی واضح ہو سکے کہ وہ اپنے مخصوص تعصبات کے لیے کتنا معقول جواز رکھتے ہیں جس پر ان کو خود بھی غیرمتزلزل یقین ہو۔

 

چونکہ اس مختصر مضمون کو اس حد تک طویل نہیں کیا جا سکتا کہ نظر خراشی کا الزام معقول ٹھہرے لہٰذا کتابوں کی اقتباسات کی بجائے آپ کی توجہ کے لیے اسّی کی دہائی کے اواخر میں نشر کی جانے والی ایک گھنٹے کی نادر دستاویزی فلم کا انتخاب کیا ہے جس کا عنوان ہے ‘خدا، کائنات اور باقی سب کچھ‘۔ یہ وہ سال ہے جب اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ راقم کی رائے میں یہ مکالمہ اس جاری بحث کے تناظر میں اس لیے دلچسپ ترین ہے کہ مکالمے کے تینوں شرکاء یعنی اسٹیفن ہاکنگ، کارل سیگاں اور آرتھر سی کلارک نہ صرف چوٹی کے سائنسی مفکرین تھے بلکہ زمانۂ جدید کی تاریخِ فکر میں بھی ان کے نام سائنسی تفکر کو عوامی طور پر متعارف کروانے کے لحاظ سے سرفہرست ہی رہیں گے۔ پوری فلم تو انٹرنیٹ پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے اوراپنے آپ کو اب تک مجھ سے متفق پانے والے قاری یقیناً اس کے ذریعے وہ تقابلی نفسیاتی جائزہ لینے کے قابل ہوں گے جس کی طرف میں نے اوپر اشارہ کیا۔ اس نفسیاتی جائزے میں تجسس، جستجو، تخیل کی جست، منطقی استدلال کی نوعیت، شعور کی حقیقتِ مطلق کو جان لینے کی داخلی کشمکش وغیرہ جیسی جہتوں پر تو سیر حاصل بحث ہو سکتی ہے لیکن یہاں اس کے اختتامی حصے کے کم وبیش دس منٹ کے مکالمے کا ترجمہ پیش کرنا بہت ضروری ہے۔ اپنے سوالات کے ذریعے گفتگو کو آگے بڑھانے والے مشہور صحافی میگن میگنسن تھے۔

 

میگن: پروفیسر ہاکنگ، اپنی کتاب کے بالکل آخر میں آپ لکھتے ہیں کہ اگر ہم کائنات کا ایک مکمل نظریہ دریافت کر لیں تو پھر آخرکار وہ کچھ وقت میں(عوامی سطح پر) قابلِ فہم مانا جائے گا اور نہ صرف سائنسدانوں بلکہ ہر ایک کو اصولی طور پر متفق کر دے گا۔ اور جب یہ ہو جائے گا تو ہم ‘کیسے’ کی بجائے ‘کیوں’ کے بارے میں بحث کرنے کے قابل ہوں گے۔ میں آپ کا اقتباس پیش کرتا ہوں کہ “اگر ہم اس سوال کا جواب ڈھونڈ لیں تو یہ انسانی عقل کی حتمی فتح ہو گی کیوں کہ پھر ہمیں خدائی ذہن کا علم حاصل ہو جائے گا۔” سوال یہ ہے کہ کیا آپ کے خیال میں خدا جیسے چاہے کائنات میں دخل دے سکتا ہے؟ یا خدا بھی قوانینِ سائنس کے دائرے میں محدود ہے؟

 

اسٹیفن ہاکنگ: یہ سوال کہ آیا خدا قوانینِ سائنس کے دائرے میں محدود ہے اسی قسم کے سوال کی طرح ہے کہ کیا خدا ایک ایسا بھاری پتھر بنا سکتا ہے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے؟ میں نہیں سمجھتا کہ یہ تفکر کچھ خاص مفید ہو سکتا ہے کہ خدا کیا کرسکتا ہے اور کیا نہیں بلکہ ہمیں اس کا جائزہ لینا چاہیئے کہ وہ واقعتاً اس کائنات کے ساتھ کیا کرتا ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ ہمارے تمام مشاہدات یہ تجویز کرتے ہیں کہ وہ چند اچھی طرح متعین قوانین کے مطابق کام کرتا ہے۔ وہ قوانین شاید خدا نے خود ہی متعین کئے ہوں لیکن یہی محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہ قوانین توڑنے کے لیے کائنات میں دخل نہیں دیتا۔ کم از کم جب ایک دفعہ کائنات اپنے راستے پر چل پڑے۔تاہم اب تک یہی سمجھا جاتا تھا کہ یہ تمام قوانین کائنات کے نقطۂ آغاز پر ہر صورت ٹوٹ جاتے ہیں جس کا مطلب یہی تھا کہ کائنات کے آغاز کی حد تک خدا کو انتخاب کی مکمل آزادی تھی۔لیکن پچھلے کچھ سالوں میں ہمیں اندازہ ہوا کہ قوانینِ سائنس وقت کے نقطۂ آغاز پر بھی شاید متعین ہی ہیں۔ اس صورت میں تو خدا کو یہ آزادی نہیں ہو گی اور کائنات کا نقطۂ آغاز بھی سائنسی قوانین کے ذریعے ہی متعین ہو گا۔

 

میگن: بہت شکریہ۔ کارل ساگاں، اس کتاب کے تعارف میں آپ نے تبصرہ کیا کہ یہ کتاب خدا کے بارے میں بھی ہے بلکہ شاید خدا کے نہ ہونے کے بارے میں، کیوں کہ ہاکنگ نے خدائی تخلیق کے لیے کچھ نہیں چھوڑا۔ لیکن ظاہر ہے خدا مختلف لوگوں کے لیے مختلف معنی رکھتا ہے۔ جب ہم ذہنِ خداوندی تک جست کی بات کرتے ہیں تو ہم کس قسم کے خدا کا تصور قائم کر رہے ہوتے ہیں؟

 

کہیں ایسا تو نہیں کہ اس مشکل پر قابو پانے کا کوئی دوسرا نفیس طریقہ نہ ہونے کے باعث یہ مخصوص روایتی مذہبی شعور اب اپنی داخلی سماعت کے پردوں سے خدا کی یہ تحکمانہ آواز ٹکراتے سن رہا ہے کہ دوڑ میں آگے نکلنے والے حریف کو اڑنگا دے کر گرا دیا جائے؟
کارل ساگاں: بھئی میرے خیال میں تو یہ ایک اعلیٰ ترین سوال ہے اور میں اسٹیفن ہاکنگ کا جواب جاننا چاہوں گا۔ لیکن صرف حدودِ امکان کا احاطہ کرنے کی خاطر میں دو متبادل قیاسات پر غور کی دعوت دیتا ہوں۔ایک تو مغرب کا مشہور تصورِ خدا ہے جہاں خدا ایک بہت جسیم سفید فام مرد ہے جو اپنی لامبی سفید ریش کے ساتھ تختِ آسمانی پر براجمان ہر گرتی چڑیا کے بارے پیشین گوئی کر رہاہے۔ اس کے متبادل وہ تصورِ خدا ہے جو مثال کے طور پر اسپینوزا یا آئن سٹائن کے ذہن میں موجود ہے جو کم از کم کائنات کے کل مجموعۂ قوانین کے بہت قریب ہے۔ اب کائنات میں متعین طبیعی قوانین کا انکار کرنا پاگل پن ہی ہو گا اور اگر آپ کی خدا سے یہی مراد ہے تو خدا کے نہ ہونے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ لیکن یہ ایک بہت ہی دوردراز بیٹھا خدا ہے جسے فرانسیسی روایت میں ‘کاہل بادشاہ’ کا خطاب دیا گیا۔ اس کے برعکس پہلے والا تصور جو کائناتی مظاہر میں روز مرہ کی بنیاد پر دخل اندازی کرتا ہے، ڈاکٹر ہاکنگ کے بقول اس کے کوئی شواہد نہیں پائے جاتے۔ میرا ذاتی رجحان یہی ہے کہ ان معاملات میں انسان کو ذرا عاجزی کا مظاہرہ ہی کرنا چاہئے کیوں کہ ہمیں یہ اعتراف کرنا چاہیئے کہ ہم اصولی طور پر کچھ ایسے پیچیدہ معاملات کے بارے میں رائے قائم کرنا چاہ رہے ہیں جو انسانی تجربے سے سب سے زیادہ فاصلے پر ہیں۔ اور شاید ہم ان پراسرار رازوں کی جانب ذرا سا رینگنے کے قابل ہی ہو پائیں۔

 

میگن: شاید پروفیسر ہاکنگ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔

 

اسٹیفن ہاکنگ: میں خدا کا نام اسی طرح استعمال کرتا ہوں جیسے آئن سٹائن نے کیا کہ وہ کائنات کے اس طرح ہونے کی اولین توجیہہ ہے جس طرح کہ وہ ہمارے سامنے ہے اور اس کے موجود ہونے کی اولین علت بھی وہی ہے۔

 

میگن: آرتھر کلارک، کیا میں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ اس بات کا کیا مطلب تھا جب آپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ میں خدا پر ایمان نہیں رکھتا لیکن اس میں شدید دلچسپی رکھتا ہوں۔

 

آرتھر کلارک: (مسکراتے ہوئے) خیر میں نے تو اب تک اپنی شرط ہی نہیں باندھی۔ اسٹیفن اور کارل کے تبصروں سے مجھے نپولین اور لاپلاس کا نظریۂ کائنات کے ضمن میں دو سو سال پرانا مکالمہ یاد آ گیا جب نپولین نے اس سے پوچھا کہ “اس میں خدا کہاں ہے؟” تو لاپلاس نے جواب دیا کہ “جناب، مجھے اس قیاس کے قائم کرنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔” ۔۔۔ میں اس سلسلے میں پنڈت نہرو کے اس قول کا بہت معترف ہوں کہ سیاست اور مذہب کا زمانہ گزر گیا، یہ زمانہ سائنس اور روحانیت کا ہے۔

 

یہ سوال کہ آیا خدا قوانینِ سائنس کے دائرے میں محدود ہے اسی قسم کے سوال کی طرح ہے کہ کیا خدا ایک ایسا بھاری پتھر بنا سکتا ہے جسے وہ خود بھی نہ اٹھا سکے؟
پوری گفتگو ہی نہایت دلچسپ ہے لیکن یہ اقتباس پیش کرنے کا مقصد ایک طرف تو روایتی مذہبی ذہن اور دوسری طرف پچھلی دو دہائیوں سے تیزی سے بڑھتے ایک متشدد سائنس پرست الحادی ذہن کو اپنی ردعمل کی نفسیات پر نظر ثانی کی دعوت دینا ہے۔ جہاں اسی گفتگو کے اختتام میں ایک سوال کے جواب میں اسٹیفن ہاکنگ کا یہ تبصرہ کہ فزکس ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ ہمسائے سے کیسے سلوک کرنا ہے الحادی روایت کے شدت پرست حامیوں کے لیے چشم کشا ہے، وہیں اس میں روایتی مذہبی ذہن کے فہم کے لیے نہایت اہم اشارے ہیں۔ ان میں اہم ترین اشارہ یہی ہے کہ ایک اعلیٰ ٰجدید عقلیت پسند ذہن کی ماہیت نہایت پیچیدہ طور پر سائنسی استدلال اور سائنسی تاریخِ فکر کی روایت سے نہ صرف نظری طور پر مربوط ہے بلکہ عملی میدان میں ایسے نتائج بھی پیدا کرنے کے قابل ہے جن کے لیے کسی نظری استدلال کی ضرورت نہیں۔ یہ پیچیدہ جدید ذہن آج ایک ایسے نئے تناظر میں ایستادہ ہے جہاں عوامی طور پر سائنس پر ایمان لانے کی صورت کم وبیش وہی ہے جو خدا پر ایمان لانے کی ہے۔ یہ انسان خدا کو اس کے تصور کی بجائے اس کی فعالیت سے تو پہچانتا ہی تھا لیکن آج سائنس پر ایمان لانے کی کیفیت بھی کم وبیش ایسی ہی ہے۔ ایک کسان جہاں سجدے میں بارش کی دعا کرتا ہے اور آسمان سے پانی کے نزول کو خدائی قوت کا مظہر سمجھتا ہے وہیں اسے یہ ایمان بھی ہوتا ہے کہ موسمی پیشین گوئی کے مطابق اگلے تین دن بارش کے امکانات معدوم ہیں۔ یہ اب نفسیاتی طور پر ایک شدید تجربیت پسند انسانی شعور ہے جسے تجربے سے بہت فاصلے پر موجود حقائق پراسرار معلوم ہوتےہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ ہر لمحہ کائنات کے اسرار و رموز پر سے پردہ اٹھاتے، ابدی پیاس سے نڈھال، زمانۂ جدید کے اس انسان کی جستجو بھی روایتی مذہبی ذہن میں ایک ہیبت سے بھرپور محبت پیدا کرنے کی بجائے نفرت اور ردعمل پر اکساتی ہے۔ سمجھ سے باہر ہے کہ یہ کیسی مذہبی نفسیات ہے جو ہر لمحہ اپنے خدا کے آگے پردہ تانے کھڑی ہے اور اسی خدا تک پہنچنے کے متلاشی انسان کو حملہ آور سمجھ بیٹھی ہے کیوں کہ وہ اپنی زندگی میں خدا کو کوئی ‘معنی خیز’ جگہ دینے سے قاصر ہے۔

 

اگر انسان کو اپنی کامل ابدی تسکین کے لئے خدا کی ضرورت ہے تو اسی روایتی مذہبی ذہن کی تعبیرات کے مطابق خدا بھی تو کمالِ بے نیازی سے اپنے آپ کو مانے جانے کا مطالبہ لیے کھڑا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مذہبی فکر اپنی اٹل تعبیرات پر ’غیرمعقول‘ پیرائے میں اصرار کی دیوار کے ذریعے بندے اور خدا کے درمیان موجود ہے؟۔
یہ اب ایک صریح نتائجیت پسندی پر استوار منظر نامہ ہے جس میں ایسی روایتی مذہبی فکر کو جو جدیدیت سے سمجھوتے کے بعد ایک معقول اور جامع تجدیدِ فکر کے نتیجے میں انسانیت کی عالمگیر فکری روایت میں اپنا حصہ نہیں ڈالنا چاہتی سائنسی تفکر کے خلاف استبدادی محاذ آرائی کی بجائے اخلاقیات و مابعدالطبیعات کے میدان میں اپنی رہے سہےاختیار کو اس طرح قائم رکھنے کی فکر کرنی چاہیئے کہ ایک ایسا فرد جسے الٰہامی تعبیرات کی بنیاد پر کھڑے مذہب کے مجموعی اعتقادی ڈھانچے پر ایمان لانے کی دعوت دی جائے تو وہ اس ایمانیات کو جبرِ محض کی بجائے دنیا میں نوعِ انسانی کی فلاح اور آخرت میں نجات کے ساتھ ایک مربوط فکری و عملی نظام کے طور پر اپنانے کے لیے تیار ہو۔ دوسرے لفظوں میں روایتی مذہبی فکر کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ استبداد اور جبر سے دورِ جدید کی مذہبی سماجیات میں سوائے مزید ردعمل اور شدت پسند الحادی فکر پیدا کرنے کوئی اور خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہیں کیا جا سکتا جو خدا کی بارگاہ میں بھی پسندیدہ ٹھہرے اور انسانوں کے لیے بھی کسی مجموعی خیر کا ضامن ہو۔
اوپر پیش کی گئی گفتگو ملاحظہ کرنے کے بعد یہ سوال اٹھانا ہر گز مشکل نہیں کہ ہمارے وقت کے یہ اعلیٰ ترین اذہان جن کی فکر کو ہمارے تیسری دنیا کے مذہبی سماج میں مسئلہ الحاد کی جڑ سمجھا جا رہا ہے ان سوالات میں سرے سے دلچسپی ہی نہیں رکھتے جو ہمارے ہاں کی روایتی مذہبی فکر کا موضوع ہیں۔ شاید یہ خدا کوماننے کا نہیں بلکہ ایک مخصوص تصورِ خدا سے ایسا ذاتی تعلق پیدا کرنے کا مسئلہ ہے جو یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ ہے۔ جہاں دو دہائیاں قبل ویٹی کن میں آرتھر کلارک جیسوں کے خطاب کے بعد کیتھولک کلیسا کی روایت اپنے ساڑھے تین سو سالہ پرانی غلطی تسلیم کرنے کے بعد گلیلیو کو بری الذمہ قرار دے چکی ہے وہاں ہمارے ہاں کی روایتی مذہبی فکر ابھی صرف اس پیچیدہ جدید نفسیات کے فہم سے مسئلے کے خدوخال متعین کرنے کی جانب اولین قدم ہی اٹھا سکتی ہے۔ اسے اپنے اوپر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اگر انسان کو اپنی کامل ابدی تسکین کے لئے خدا کی ضرورت ہے تو اسی روایتی مذہبی ذہن کی تعبیرات کے مطابق خدا بھی تو کمالِ بے نیازی سے اپنے آپ کو مانے جانے کا مطالبہ لیے کھڑا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مذہبی فکر اپنی اٹل تعبیرات پر ’غیرمعقول‘ پیرائے میں اصرار کی دیوار کے ذریعے بندے اور خدا کے درمیان موجود ہے؟

 

پسِ تحریر: مضمون میں مذکورہ دستاویزی فلم کا انگریزی عنوان God, the Universe and Everything Else ہے اور اسے انٹرنیٹ پر بآسانی تلاش کیا جا سکتا ہے۔