Categories
شاعری

کیا سورج غروب ہو چکا ہے؟ (ایچ-بی-بلوچ)

ہر کوئی
ستون سے ٹیک لگا کر
آزاد ہونے کی کوشش کر رہا ہے
اور آرام سے سوچتا ہے
کہ میں چھت سے بندھا ہوا ہوں!

شام سے پہلے
واپسی کی آرزو کو
آنکھوں میں مٹی بھر کر بے نور کر دیتا ہے
اور پھر پوچھتا ہے
کیا سورج غروب ہو چکا ہے؟
کیا تم بھی یہیں کے ہو؟
جہاں منظر کو مزید پرسوز بنانے کے لیے
ہر ایک نے اپنی صلیب اٹھا رکھی ہے
نہیں تو۔۔۔ تم ضرور ہنسو گے اور پکڑے جاؤ گے !

لوگ انہیں ریت کے ٹیلے کی طرح نظر آتے ہیں
اور وہ اس میں دفن ہونے کے ڈر سے دور بھاگتے ہیں
روشنی چیل کی طرح دکھتی ہے
جو ان کی آنکھیں نوچ لے گی
اور ہوائیں گدھ جیسی محسوس ہوتی ہیں
جسے وہ اپنے جسم پر بیٹھنے نہیں دیتے !

آواز کو وہ فاختہ سمجھ کر پکڑتے ہیں
اور تہہ خانے میں ڈال دیتے ہیں
کل ہی تو انہوں نے
خوشبو کو کتاب سمجھ کر پھاڑ ڈالا
جو صفحات کے سطروں سے نکل کر شور کر رہی تھی!

Categories
شاعری

لہروں پر جھومتا چاند! (ایچ-بی-بلوچ)

لہروں پر جھومتا چاند
رات کے طول کا ایک دیدہ عکس ہے
باقی نادیدہ سراپا پانی کی نظر ہو چکے ہیں

گزرے لمحات کی قبر میں مدفون اے میری راحت!
میں تصور بھی نہیں کر سکتا
کہ میں نے تجھے کبھی چوما تھا !

میں اکیلائی کے جسم پر
مجوزہ منصوبوں کی وارداتیں لکھتا ہوں
شاید
تنہائی لاجوردی شام کی ایجاد
اور نظر انداز کئے گئے پرندوں کی بدعا ہے!

میں عجلت میں
فیصلہ کرنے کی قوت سے محروم ہوں
اور سوچ کے سلسلے میں
ہر اس آواز کو شامل کر لیتا ہوں
جس نے مجھے کبھی
ریتیلے کنویں کے عذاب سے
محتاط رہنے کی آگاہی نہیں دی

لیکن اب کے
چاند نکلنے سے پہلے
میں ستاروں کے دامن سے
ایک صدا کی بازگشت کھینچوں گا
اور اسے فضا کی بصیرت میں پھیلا دوں گا
اور پھر تم
سویرے کی دہلیز سے
صبح کی ڈور بیل پہ ہاتھ رکھ کر بھول جانا!

Categories
شاعری

ہم زندہ رہیں گے! – ایچ- بی- بلوچ

دور سے نظر آتا موسم
بادل اور برفیلی سفیدی
نزدیک آنے پر آٹے کا تھیلا
یا اسپرٹ میں بھیگا کپاس کا ڈھیلا بن جاتی ہے
راشن پر لپکتے جم غفیر نے لاک ڈاؤن کا
کہیں پر خاموشی نے دن اور رات کا فرق ختم کردیا ہے
لیکن جب تک ہم زندہ ہیں
ہم ایک امید پر عمل پیرا رہیں گے

ان خوش گوار بولیوں
اور گول چوک پر نصب سائن بورڈ پر
ماڈل کی پلکوں کی یکسانیت کے اندر
جس میں موت جیسے لفظ کی کوئی گنجائش نہیں ہے

جب ہم
اپنائیت کی لذت آشنائی سے منور کر دیئے جائیں گے
جب تک ہمیں
کھیت پکانے کے لیے ادھاری آگ کی ضرورت نہیں پڑے گی
کسی طور پر ہم
جسم کی قید کے دورانیے کو طویل کر سکتے ہیں

جب تک خون کا رنگ لال
اور ہمارے دل احساس کی چبھن سے آگاہ رہیں گے
ہم ان سیٹیوں کے آگے لیٹ جائیں گے
جو ہمیں
ملانے اور جدا کرنے کے لیے ایندھن کھپاتی ہیں
جو ایک بار کو دوسرے اسٹیشن
اور ایک مرض کو دوسری جگہ منتقل کر دیتی ہیں

جب تک ہم زندہ رہیں گے
خواہش موت کی أنکھوں میں مکڑی کے جال بنتی
اور سنگینوں کی نوک کو گدگداتی رہے گی

ہم زندہ رہیں گے
مجھے یقین ہے کہ ہم زندہ رہیں گے
تنگ اور تاریک گلیوں میں
تمباکو چباتے لوگ اس لیے زندہ ہیں
کہ وہ جانتے ہیں
سرہانے کھڑا مسیحا اور زندگی
کبھی بھی ایک موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی!
Image: Sukhpal Grewal

Categories
شاعری

خدا کا حصہ! اور دیگر نظمیں (ایچ-بی-بلوچ)

خدا کا حصہ!

وسیع تر
کائناتوں کے قیام کے بعد
ہم اپنے خول میں بے مصرف ہو گئے

پکار اٹھی۔۔۔۔
کوئی ہے جو
ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں سے نکالے!!

دعا قبول ہوئی
ہم ایک نئی سرزمین پر اترے
جو بہت حسین تھی
پھر ہمیں ایک خدا
اور شیطان کی ضرورت محسوس ہوئی!

ہمارے قدموں کے درمیان
جہاں پر پودے پانی پی کر خوش ہوتے تھے
اور پھر آہستہ آہستہ
انہوں نے لوگوں کا خون پینا شروع کر دیا

یہ تب ہوا
جب ہم
زمین کے حصے کا پانی
خدا کا حصہ سمجھ کر پی گئے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک موت کی وضاحت
دور بہت دور
حدِ نگاہ تک
جہاں زمین اور آسمان باہم ملتے ہیں

وہاں کہیں باہم ربط کو
میں نے وصالِ عشق کی علامت بنایا ہوا ہے
اب زمانہ چاہے بھی تو
اپنی نظر سے
اس منظر کو الگ نہیں کر سکتا

لوگ اپنی ناکامی پر کہہ سکتے ہیں کہ
میں مر چکا ہوں
اس طرح جیسے
دور بہت دور
حدِ نگاہ تک
زمین نے آدھے آسمان کو نگلا ہوا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھے ایک جنگ کے بعد جیتا!
میں جو دیکھ سکتا ہوں
وہ دیکھتا ہوں
جو میں سن سکتا ہوں
سنتا ہوں
جہاں تک میں سوچ سکتا ہوں
سوچتا ہوں

تم نے مجھے اپنے مقابل دیکھنا چاہا
جب میں میدان میں تھا
تم نے مجھے ایک جنگ کے بعد جیتا!
لیکن
میری ہار کا یقین میرے اداس ہونے تک ہے

تم پہاڑوں کے دامن میں
مجھے تھوہر بنا دیتے ہو
میں تمہاری آنکھوں سے کانٹے بن کر نکلتا ہوں

جب تم مجھے بادل سمجھنے لگتے ہو
تو میں برس پڑتا ہوں
جب تم مجھے اپنے مطلب سے لکھنا چاہتے ہو
تو میں ناقابلِ تحریر سوچ بن جاتا ہوں

اپنی مرضی سے
مجھے زندہ رکھنے کے لیے
جلانے سے پہلے جان لو

بے جان اشیا جیسے آگ اور موم
اپنی ضرورتوں کا ادراک رکھ نہیں پاتیں
اس لیے وہ اپنی صفات میں
ہمیشہ سے آزاد ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کی ردی میں؎
دنیا کی ردی میں
اتنے پتھر جمع ہو گئے ہیں
جن سے لاتعداد گھر بن جائیں

جن سے سیڑھیاں بنائی جا سکتی ہیں
جو ہمارے دل تک پہنچ جائیں
اور آنکھوں سے راستے بن کر نکلیں

یہاں اتنے لوگ جمع ہو گئے ہیں
جن کو پگھلا کر ٹینک بنائے جاتے ہیں
جن کو گرما کر جنگ بنائی جاتی ہے

جن کو چن کر دیواریں اٹھائی جاتی ہیں
جو ہمارے خوابوں کو
ہماری خوشیوں سے الگ کر دیتی ہیں
ہمیں بیساکھیوں میں زندہ کر دیا جاتا ہے
اور قدموں میں مار دیا جاتا ہے

یہاں پر اتنے
رنگ بہ رنگی پرندے جمع ہوگئے ہیں
جن کو وہ ملکوں کے نام سے بناتے ہیں
اور گولیوں سے اڑا دیتے ہیں.!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت
محبت
اور عشق کے احاطے میں
آنے سے احتیاط کرو
یہاں پر سنگلاخ چٹانیں ہیں
جو کبھی کبھی
بھیڑیے کا روپ دھار لیتی ہیں

اس خطرناک ارادے سے پہلے
کبھی واپس بھی چلے جایا کرو
اس سناٹے میں
جو سکون بخش پناہوں کی صورت لے لیتا ہے

اگر تمہیں آنا ہے
تو اس دیوار کو پکڑ کر چلو
جو کبھی واپس نہیں جاتی

لیکن اگر تمہیں
خود کو مجھ سے الگ رکھنا ہے
تو ہمیں خاموشی سے
ایک تصویر بنانی ہوگی
جو کیلوں کے بغیر ہتھوڑے برداشت کر سکے!
Image: Daehyun Kim

Categories
شاعری

میں خوف ہوں (ایچ-بی-بلوچ)

حلیے اور
شکلیں بدل بدل کر
مجھ سے مت پوچھو
کہ میں کون ہوں

میں محنت اور اطاعت کا
کالا رنگ ہوں
جس سے تم نے
نسلی تعصب گھڑ ڈالا

میں گول چکرا ہوں
جس سے
موہن جو دڑو کے باسیوں نے پہیہ بنایا
اور جس سے تم نے
دار کی چرخیاں بنا ڈالیں

میں کنور رام کی آواز ہوں
جس سے تم نے سائرن بنا لیے

میں محبت ہوں
جس سے تم نے شیطان بنا ڈالا
میں طلب ہوں
جس سے تم نے دیوتا بنا لیے

میں خوف ہوں
آج کل تم جس سے
انسان بنانے کے چکر میں ہو!

Categories
شاعری

بہترین/ بدترین وقت (ایچ – بی- بلوچ)

ہمارے
بہترین وقت میں
ہم سے وعدے لیے جاتے ہیں
اور ہمارے
برے دنوں میں
ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے

ہمارے برے دنوں میں
ہمارے بادشاہ بننے کا انتخاب کیا جاتا ہے
اور ہماری
بگیوں میں گھوڑے باندھے جاتے ہیں
ایک شہزادی کو
انتظار میں بوڑھا کر دیا جاتا ہے

ہماری سانسوں میں پتھر باندھ کر
ہمارے قریبی دوستوں سے
ہماری سزا کا امتحان لیا جاتا ہے
ہم برے دنوں میں محبت کرتے
اور اچھے دنوں میں لڑتے ہیں

جبکہ ہمارے
بہترین وقت میں
بڑے تحمل سے
ووٹ کے لیے درست آدمی سے ملایا جاتا ہے

یا بلند آواز میں
ہمیں ہمارے نام سے پکارا جاتا ہے
اور ہم سے
ہماری آخری خواہش پوچھی جاتی ہے.!
Image: Banksy