Laaltain

زاہد امروز

زاہد امروز ایک شاعر، لکھاری اور ماہر طبیعیات ہیں۔ ان کی نظموں کی دو کتب شائع ہو چکی ہیں۔ وہ فزکس کے استاد ہیں اور عالمی امن و سلامتی پر بھی کام کرتے ہیں۔

شاعری

اسلام پورہ میں ایک بدروح افسردہ ہے (زاہد امروز)

عورت جو چھ سال پہلے مر چکی ہے اس کی لاش ابھی تک صحن میں پڑی ہے عورتیں میّت کے…

شاعری

تم زمین سے زیادہ بڑی ہو اور دیگر نظمیں (زاہد امروز)

میں اُکتا کر اٹھتا ہوں اور سنسان گلی میں خود کو ڈھونڈنے جاتا ہوں

شاعری

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے آنسو…

شاعری

آدمی زندہ ہے، آدمی زندہ ہے!، آدمی زندہ ہے؟ (زاہد امروز)

ریڈیو گا رہا ہے ‘‘ماٹی قدم کریندی یار’’ ماٹی قتل کریندی یار آدمی سو رہا ہے آدمی ٹھنڈی لاشوں کے…

شاعری

آدمی بیوپار ہے

آدمی ہو یا کتا جو روٹی دیتا ہے وہ مالک ہوتا ہے

شاعری

نظم کے لیے غسل واجب نہیں

زاہد امروز: عمر علی! لندن ہو یا لائل پور دنیا ایک سی ہے

شاعری

نظم لکھنے سے پہلے ایک نظم

زاہد امروز:کون مرے اِس سچ کو سچا جانے میرا سچ جو اِس اَن حد باغیچے کے اِک گوشے میں کھِلا…

شاعری

کچرے کی حکومت

زاہد امروز: جب اس ہنگامے کا شور ہماری نیند آلودہ کرتا ہے ہم کروٹ کروٹ کڑھتے ہیں

شاعری

تم وہی رہو، جو ہو

زاہد امروز: اِسی طرح تم وہی رہو عیاری اور منافقتوں سے پاکیزہ جس کو پوجنا چاہتا ہے دنیا کا مکّار…

شاعری

ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ

زاہد امروز: ﺩﻧﯿﺎ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﺗﻢ ﺳﺮﻣﺎ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﮨﻮ