Categories
شاعری

خدا کا حصہ! اور دیگر نظمیں (ایچ-بی-بلوچ)

خدا کا حصہ!

وسیع تر
کائناتوں کے قیام کے بعد
ہم اپنے خول میں بے مصرف ہو گئے

پکار اٹھی۔۔۔۔
کوئی ہے جو
ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں سے نکالے!!

دعا قبول ہوئی
ہم ایک نئی سرزمین پر اترے
جو بہت حسین تھی
پھر ہمیں ایک خدا
اور شیطان کی ضرورت محسوس ہوئی!

ہمارے قدموں کے درمیان
جہاں پر پودے پانی پی کر خوش ہوتے تھے
اور پھر آہستہ آہستہ
انہوں نے لوگوں کا خون پینا شروع کر دیا

یہ تب ہوا
جب ہم
زمین کے حصے کا پانی
خدا کا حصہ سمجھ کر پی گئے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک موت کی وضاحت
دور بہت دور
حدِ نگاہ تک
جہاں زمین اور آسمان باہم ملتے ہیں

وہاں کہیں باہم ربط کو
میں نے وصالِ عشق کی علامت بنایا ہوا ہے
اب زمانہ چاہے بھی تو
اپنی نظر سے
اس منظر کو الگ نہیں کر سکتا

لوگ اپنی ناکامی پر کہہ سکتے ہیں کہ
میں مر چکا ہوں
اس طرح جیسے
دور بہت دور
حدِ نگاہ تک
زمین نے آدھے آسمان کو نگلا ہوا ہے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے مجھے ایک جنگ کے بعد جیتا!
میں جو دیکھ سکتا ہوں
وہ دیکھتا ہوں
جو میں سن سکتا ہوں
سنتا ہوں
جہاں تک میں سوچ سکتا ہوں
سوچتا ہوں

تم نے مجھے اپنے مقابل دیکھنا چاہا
جب میں میدان میں تھا
تم نے مجھے ایک جنگ کے بعد جیتا!
لیکن
میری ہار کا یقین میرے اداس ہونے تک ہے

تم پہاڑوں کے دامن میں
مجھے تھوہر بنا دیتے ہو
میں تمہاری آنکھوں سے کانٹے بن کر نکلتا ہوں

جب تم مجھے بادل سمجھنے لگتے ہو
تو میں برس پڑتا ہوں
جب تم مجھے اپنے مطلب سے لکھنا چاہتے ہو
تو میں ناقابلِ تحریر سوچ بن جاتا ہوں

اپنی مرضی سے
مجھے زندہ رکھنے کے لیے
جلانے سے پہلے جان لو

بے جان اشیا جیسے آگ اور موم
اپنی ضرورتوں کا ادراک رکھ نہیں پاتیں
اس لیے وہ اپنی صفات میں
ہمیشہ سے آزاد ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کی ردی میں؎
دنیا کی ردی میں
اتنے پتھر جمع ہو گئے ہیں
جن سے لاتعداد گھر بن جائیں

جن سے سیڑھیاں بنائی جا سکتی ہیں
جو ہمارے دل تک پہنچ جائیں
اور آنکھوں سے راستے بن کر نکلیں

یہاں اتنے لوگ جمع ہو گئے ہیں
جن کو پگھلا کر ٹینک بنائے جاتے ہیں
جن کو گرما کر جنگ بنائی جاتی ہے

جن کو چن کر دیواریں اٹھائی جاتی ہیں
جو ہمارے خوابوں کو
ہماری خوشیوں سے الگ کر دیتی ہیں
ہمیں بیساکھیوں میں زندہ کر دیا جاتا ہے
اور قدموں میں مار دیا جاتا ہے

یہاں پر اتنے
رنگ بہ رنگی پرندے جمع ہوگئے ہیں
جن کو وہ ملکوں کے نام سے بناتے ہیں
اور گولیوں سے اڑا دیتے ہیں.!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت
محبت
اور عشق کے احاطے میں
آنے سے احتیاط کرو
یہاں پر سنگلاخ چٹانیں ہیں
جو کبھی کبھی
بھیڑیے کا روپ دھار لیتی ہیں

اس خطرناک ارادے سے پہلے
کبھی واپس بھی چلے جایا کرو
اس سناٹے میں
جو سکون بخش پناہوں کی صورت لے لیتا ہے

اگر تمہیں آنا ہے
تو اس دیوار کو پکڑ کر چلو
جو کبھی واپس نہیں جاتی

لیکن اگر تمہیں
خود کو مجھ سے الگ رکھنا ہے
تو ہمیں خاموشی سے
ایک تصویر بنانی ہوگی
جو کیلوں کے بغیر ہتھوڑے برداشت کر سکے!
Image: Daehyun Kim

Categories
شاعری

پیشہ ور (ساحر شفیق)

جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے
جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا

ہم اُس دن پہلی بار ملے تھے
جب پاگل خانے کی چھت پہ پتھر مار کر وقت کو شہید کر دیا گیا تھا
ہم اُس وقت بھی معصوم نہیں تھے
کیونکہ ہم چومنے کے معنی جانتے تھے

ہم نے اپنی پچھلی محبتوں کو جانور ذبح کرنے والی چھری سے کاٹ کر الگ کر دیا تھا
محبت کوئی پیشہ نہیں
یہاں پچھلا تجربہ کسی کام نہیں آ سکتا تھا
ہمیں ایک دوسرے کو رسمی انداز میں الوداع نہیں کہنا چاہیے
اگر تم چاہو تو مجھے کہیں سے بھی چوم سکتی ہو
ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر ہمیں دریامیں چھلانگ لگا دینی چاہیے
کیونکہ بیزاری کے اندھے کبوتر نے توقعات کی تتلیوں کو چُگ لیا ہے
اور
دیوار پہ لکھی ہوئی نیند کی آنکھوں میں
بے گانگی کی چمگاڈر بچہ جَن رہی ہے
ہم فاصلے کی طرح بڑھ رہے ہیں

اگر آنے والے وقتوں میں بھی تاریخ لکھنے کا چلن رہا
تو ہمارے بارے میں لکھا جائے گا
کہ ہم نے ایک دوسرے کو کُتے کی طرح سونگھ کر چھوڑ دیا تھا

Categories
شاعری

میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا (ساحر شفیق)

میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو

میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے

۔۔ اور ۔۔

نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں

کیا اُس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں

جو ریاضی میں بمشکل پاس ہوتا رہا ہو؟

میں لکھنا ضرور جانتا ہوں

مگر اپنی تقدیر میں نے نہیں لکھی

تم مجھے حاصل کر سکتی ہو

اس کم سے کم قیمت پر

جو کسی آدمی کی لگائی جاسکتی ہے

زندگی گرمیوں کی دوپہر ہے

خواب دیکھتے ہوئے انسان خدا کے بائیں طرف سو رہا ہوتا ہے

میں نے خود کو ایک کتاب کی طرح پیش کر دیا

یہ سوچے بغیر کہ

کوئی لڑکی کسی مرد کے بارے میں کیا نہیں پڑھنا چاہتی

تم میرے اندر بوڑھی ہو رہی ہو

اس خواب کی طرح___ جسے کچھ دنوں بعد زہر کا انجکشن لگایا جانا ہے

ہر آغاز انجام کی طرف

___ اور___

 ہم انجام سے آغاز کی طرف بڑھ رہے ہیں

میں جانتاہوں

میری عمر کے ایک ارب مردوں میں سے

میرا انتخاب کرنا

تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا

Image: Dolk

Categories
شاعری

اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم
ابھی ابھی
الماری کے اک کونے سے ملی ہے
دبک کر بیٹھی
پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم
کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی
اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے
ہم دونوں کی باتیں تھیں
دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی
گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے
اِک اکلوتی پینٹنگ تھی
جس میں مَیں نے
تمھارے کہنے پر
نیلے رنگ سے اسٹروک لگائے تھے
میری جھولتی کرسی کے سائے میں رکھی کتابیں تھیں
جن کو پڑھ کر ہم
گھر والوں پر رعب جمایا کرتے تھے
مشکل مشکل باتیں کر کے ہم منہ ہی منہ میں ہنستے تھے
گھر والے سب عاجز آ کر
ہم کو تنہا چھوڑ دیتے تھے
میز پہ رکھے دو مگ بھی تھے
جن میں ہم آدھی چائے چھوڑ کے
بھول گئے تھے
ایک قلم تھا ڈھیروں کاغذ تھے
اس نظم کے سطروں میں کیسی میٹھی باتیں ہیں
لیکن اب اس نظم کے پیلے کاغذ پر
وقت نے سلوٹیں ڈالی ہیں
دیکھنے سے یوں لگتا ہے
نظم بہت پرانی ہے
پرانی چیزیں کہاں کسی کو بھاتی ہیں
مَیں نے پھر سے وقت سے نظر چرا کر
اُس نظم کو واپس
رکھ چھوڑا ہے _
Image: Jean Carolus

Categories
شاعری

hypocrisy (وجیہہ وارثی)

تمہارے بوسیدہ بوسوں سے باس آنے لگی
تمہارے آنے کی آس نصف صدی پہلے دم توڑ چکی
یادیں رفتہ رفتہ دیوار سے چونے کی طرح چٹخ چٹخ کے گرنے لگی ہیں
تاریخ لاکھوں صفحے پلٹ چکی
وقت مداری کی طرح تماشے دکھا چکا
نصف صدی کا عرصہ
انسان کے زندہ رہنے کے لیے بہت تھوڑا ہے
مر جانے کے لیے بہت زیادہ
میں تمہارے بغیر زندہ تھا یا نہیں
اس سوال کا جواب میرے بچے دے سکتے ہیں
سب سے چھوٹا بچہ مجھے مرا ہوا ہی سمجھتا ہے
میری شریک حیات
جسے دنیا کی معزز ترین عورت ہونے کا شرف حاصل ہے
خود کو خاتون اول و آخر سمجھتی ہے
(بیوی کی خوش فہمی ہی اس کی خوش بختی ہوتی ہے)
آرام کے لیے بے آرام پالتی ہے
بچوں کو بڑھاپے کا سہارا بنانے کے لیے راتوں کو جاگتی ہے
بائی پاس کے دوران اپنے عقیدے کے مطابق
مسلسل میری زندگی کی دعائیں مانگتی رہی
کامیاب آپریشن کے باوجود تم دل کے کسی والول کے ساتھ
پھانس کی طرح پھنسی ہوئی ہو
Image: Kristina Falcomer

Categories
شاعری

ورثہ (ثروت زہرا)

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”1/2″][vc_column_text css_animation=”” css=”.vc_custom_1475943083005{background-color: #e0e0e0 !important;}”]

 

Heritage

Life was bequeathed a love of mirrors
And mirrors hold her love’s reflections.

Life will ever gaze at reflections,
Will ever kiss Love’s frozen shapes.

Smash the mirrors to touch Love’s warmth!
But Life was bequeathed a love of mirrors.

Translation: Dr. Rizwan Ali

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/2″][vc_column_text css=”.vc_custom_1475944594720{background-color: #ddc090 !important;}”]

ورثہ

 

زندگی کو آئینوں سے محبت 
ورثے میں ملی ہے 
اور آئینے میں اس کی محبوب کا عکس 
منجمد کردیا گیا ہے 
زندگی عکس کو دیکھ سکے گی 
عکس کے منجمد زاویوں پر 
اپنے ہونٹ رکھ سکے گی 
مگراپنے محبوب کی حرارتوں کو 
چھونے کے لئے ،
اسے آئینے کو توڑنا پڑے گا 
لیکن زندگی کو تو 
آئینوں سے محبت ورثے میں ملی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”1/1″][vc_column_text css_animation=””]
Image: christian schloe[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

محبت کا سن یاس

وہ مجھے اپنی تصویریں بھیجتی ہے
اور مجھ سے میری نظموں کی توقع رکھتی ہے
میں نے لفظوں کا پھوک
اخباروں سے چن کر
لیکچروں کے بیچ ٹھونگتے رہنے کے لیے
اپنی جیبوں میں بھر رکھا ہے
ان لفظوں سے نظمیں نہیں لکھی جا سکتیں

اخبار جن چٹپٹے لفظوں سے بھرے ہوتے ہیں
وہ چائے کے ساتھ اچھے لگتے ہیں
نظم صرف سگریٹ کے ساتھ لکھی جا سکتی ہے
تصویر صرف کسیلے پانی کے ساتھ بنائی جا سکتی ہے
میں اپنی لائف انشورنس کا پریمیم کم کرنے کے لیے
سگریٹ چھوڑ چکا ہوں
کسیلے پانی پر خدا کا پہرہ ہے
اور اخبار میں لکھے لفظ صرف ری سائیکلنگ کے لیے بھیجے جانے کے قابل ہیں

لفظ صحیفوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں
لیکن صحیفوں میں لکھے لفظ کثرت استعمال سے بے معنی ہو چکے ہیں
میں نے ان میں لکھی دعائیں رٹ ڈالیں
لیکن خدا کے کانوں میں ریشہ اتر آیا تھا
میں نے لفظوں کی تلاش میں ڈکشنریاں کھود ڈالیں
لیکن لفظ دب کر مر چکے تھے
میں نے ان مرے ہوئے لفظوں کو جوڑ کر گالیاں بنائی
لیکن کسی کو غصہ نہیں آیا
جن لفظوں پر کسی کو غصہ نہیں آتا
ان پر پیار آنے کی توقع بے سود ہے

ہم جیسے مردوں کو پیار کرنے کے لیے عورتیں درکار ہیں
اور غصہ کرنے کے لیے بھی
ہمیں نظمیں لکھنے کو عورتیں چاہئیں
اور گالیاں دینے کو بھی
ہم بچے پیدا کرنے کے لیے ان کے محتاج ہیں
اور لفظ جننے کے لیے بھی
خدا جانے تمہاری تصویر محبت کرنے کے لیے بوڑھی ہو چکی ہے
یا میں نظمیں جننے کے لیے نامرد۔۔۔
Image: Pawel kuczynski

Categories
نان فکشن

رشتے کا ایک برس

موسم بیت جاتے ہیں، وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتے چلے جاتے ہیں، حقیقتوں کے تبدیل ہونے اور حالات کے بدلنے کا یہ سلسلہ زندگی کی سخت زمینوں پر کبھی نہیں رکتا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی میں اچھا اور برا، آسان اور مشکل دن نہیں دیکھا۔ زندگی انہیں گورے، کالے سورجوں سے چڑھتی ،بڑھتی اپنے انجام کو پہنچتی ہے اور اک روز آتا ہے جب ہم سب زندگی کے ایک ایسے روشن مستقبل کی آغوش میں کہیں کھو جاتے ہیں جہا ں سے ہماری سانسوں کی حرارت کا سراغ تک نہیں ملتا۔ میں نے کئی بارشیں دیکھی ہیں، کئی راتوں کی الجھنوں کا سکون پیا ہے اور کتنے ہی ان دیکھے خوابوں کی ہوا کا جھونکا اپنے بدن کی مٹی سے لگتا ہوا محسوس کیا ہے۔ مگر میں نےکوئی پانی کی بوند ایسی نہیں دیکھی جس میں خاک کا عکس نہ ہو، کوئی کپاس کا ریشہ ایسا نہیں چھوا جس میں پتھر کی سلیں نہ ہوں اور کوئی راکھ کی آندھی ایسی نہیں دیکھی جس میں گلابوں کی خوشبووں کا مہکتا رنگ نہ ہو۔ اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھنے اور بہت کچھ نہ دیکھنے کے احساس میں میں دور تک گیا ہوں، انجان گلیوں کی خاک چھانتا، نمکین پسینوں کا دھواں تلاشتا اور نئے پتوں کی سرسراہٹ کا نغمہ سنتا، کوئی تھا جو وقت کی اس ریت پر، مجھے ہمیشہ ایک تازگی محسوس کرواتا رہا، میری آنکھوں سے اوجھل، میرے ماضی سے دور اور حال سے آگے۔ کس کو علم ہوتا ہے کہ اس کے خواب کی تعبیر زمین کے کس حصے کی مٹی تلے دفن اس کو پکار رہی ہے۔ وقت گزرتا ہے اور ہم زندگی کے نئے منظر کی نذر ہوتے چلےجاتے ہیں۔وقت کے گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوپاتا کہ کب آنکھوں کے پیالوں نے اپنا چراغ خود بجھا دیا، کب بدن کی توانائی کو حالات کی دیمک نے چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کر دیا اور کب ان سرمئی اور معصوم خواہشوں کو ہوس کے ناگوں نے نگل لیا جن سے زندگی میں ٹھنڈی ہواؤں کے لچکتے ہوئے تھپیڑوں نے اک رمق پیدا کر دی تھی۔ کئی دن کا خواب ایک دن میں چور ہوتا ہوا دیکھا تو لگا کہ غالبا اب زندگی دوبارہ موقع نہیں دے گی۔ کون اٹھنا چاہتا ہے اس ریت پر سے جس کے ٹیلوں پر بادلوں کا سایہ ہو اور جس کی آغوش میں پانی کی وہی میٹھی کلکاریاں ہوں جن سے جلتے ہوئے جسموں کا دھواں بجھ کر ہوا میں تحلیل ہو جاتا ہے۔ میں نے بھی کوئی سوال نہیں کیا، بس خاموش نظروں سے اس پیالے کو دیکھا اور دیکھتا رہا کہ وقت کی ریت اسی پیالے میں اک روز میرے نورانی دھندلے خوابوں کو سجانے والی ہے۔ دونوں جانب ایک ہلکی سی خاموشی تھی ، جس کے زیر زمیں کئی آوازیں روز بیان کا پتا دیتی ہوئی اپنی زندگی کا اثبات کروانے میں لگی ہوئی تھی۔ میں نے وقت کو ایک سفید گھوڑے پر سوار کیا اور اس کی دم پر ایک آہنی تازیانہ لگا کر اسے ہوا کے سپرد کر دیا۔ اس کا بھی یہ ہی خیال تھا کہ اسی سے ہمیں تسکین مل سکتی ہے۔ پھر وہ سب ہوا جس کا ہم دونوں کو انتظار تھا۔ کچھ سورج میری چھاتی سے اگے، کچھ اس کی ناف کے اندھے غاروں میں مدغم ہوگئے۔ کبھی چاندنی کا دھواں ہماری رانوں کے دمیان کلبلایا تو کبھی ارتعاش اور محبت کے ہوس ناک تیر ہم دونوں کے کلیجوں میں اترتے چلے گئے۔ درمیان میں کنوئیں آئے، جھیلیں پڑیں اور ان جھیلوں سے اچھلتی، کودتی مچھلیوں نے ہمارے منہ چومے، کوئی نہنگ ہماری قدموں کو چھوتا ہوا گزر گیا اور کسی ویل نے ہماری سانسوں کا ریشم نوچ کھنسوٹ دیا۔ ہم سمندر کی گہرائی تک پہنچنے ہی والے تھے کہ آسمان کی تیسری منزل سے کسی نے ہاتھ دے کر ہمیں اوپر اٹھا لیا، کون جانتا تھا کہ رگ جاں کا تصور اسی نارنگی اور سرمئی آستینوں سے لپٹا ہوا ہے۔ کون کہہ سکتا تھا کہ نور کے سائبان تلے ایک خاموش بستی ہےجس میں ہم دونوں کو ایک روز دفن ہو جانا ہے۔ اس نے ذرا سا زور لگایا اور میری پلکوں کا پانی جھڑ کر اس کے شاخ شاخ بدن پر تیر گیا اور میں نے تھوڑی سی کوشش کی اور اس کے پہاڑوں میں سوراخ ہوگئے۔ وہ دن بھی آیا جب میں ہانپتی کانپنی زلفوں کو سہلاتا ہوا ، افشاں کے باریک روشن نکات کو چومتا ہوا گیلی مٹی پر اوندھے منہ سو گیا اور وہ رات بھی آئی جس میں برف کی چٹانوں نے میرے لہوکو مجھ میں جما دیا ۔کبھی کوئی راہ گیر میرا ہمسایہ بنا اور کبھی کوئی جانور میرے قدموں تلے روندا گیا۔ کسی نے پیاس کی شدت میں پانی کا ایک گھونٹ دیتے ہوئے اپنے احسان کی چھریاں میرے گلے پر رکھ دیں اور کبھی یوں بھی ہوا کہ ایک اجنبی خیال نے میرے لبوں پر مسکان دوڑا دی۔ کسی موسم کا میں خواہش مند نہیں، کسی فکر کے الجھاوے کا اسیر بھی نہیں ،لیکن ایک آنکھ نے مجھے ایسا باندھا اور ابرو نے مجھے ایسا کھینچا کہ میں زمین کی آخری پرت تک اترتا چلا گیا اور سویا تو صدیوں کے لیے سوتا ہی رہا کہ سکون کی نیند ابدی تھی اور جاگا تو آسمانوں کی سیر کر لی کہ وقت کا بھنور یہ ہی تھا۔ نہ کوئی لمس ، نہ کوئی چشمہ، نہ کوئی لٹ اور نہ کوئی صدائے دلبر ، ایک برس جس میں تیرتے ہوئے بادلوں کا احساس تھا، جھومتی ہوئی ندیوں کا سرور، کھیلتے ہوئے بچوں کی شرارت اور ناچتے ہوئے مور کی تشنگی،اس کا ہاتھ میری کلائی سے بندھا رہا اور میں اہراموں سے اونچا ہوا کی تاریکی میں معلق ہوتا چلا گیا۔اس کی پلکیوں کی چاندنی میرے کندھوں پر بکھری رہی اور میں رات کے کلیجے سے لگا نیند کی نازکی کو محسوس کرتا رہا۔ ایک دبیز سی لہر، ایک گدگداتی ہوئی موج ،میرے اندر کہیں سفر کرتی اور مجھے ان حقائق سے دور لے جاتی جن کی مشعلوں سے میں برسوں تپتا رہا، اپنی ہی انگلیوں سے اپنے اندرون کو نوچ نوچ کر پارہ پارہ کرتا رہا۔ سب کھو گیا، وقت ہوا ہوا، احساس بجھ گیے ،مگر وہ ایک برس جو ریت کی طرح آیاتھا وہ میری پیشانی کی خواب آور لکیروں میں کہیں جذب ہوگیااورمیرے ستاروں میں شامل ہو کر زندہ جاوید ہو گیا۔

Categories
شاعری

بے حس سیلفی، بھوکا چور اور دیگر عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ع / جیل سے ویدا موحد کا تہران کی لڑکیوں کے نام خط

اے مرے شہر کی مظلوم لڑکیو ، سن لو!

تم اپنے سر پہ جو عزت کا تاج چاہتی ہو
وہ سر چھپانے سے حاصل تمہیں نہیں ہو گا

نہ اس گھٹن سے جسے نام تم تقدس دو
نہ اس حیا سے جو ہنسنے میں بھی رکاوٹ ہے

تمہیں وہ تاج ملے علم کی فضیلت سے
تمہیں وہ تاج ملے کھیل میں سیاست میں

اب اپنے حق کے لئے مل کے سب بنو آواز !

یہاں یہ عزت و پندار وہ سیاہی ہے
جسے مٹانا فقط اک دیے کا کام نہیں

ع/ محبت، آزاد پنچھی ہے

محبت نسل پرستی سے بغاوت ہمیں سکھاتی ہے

محبت نام و نسب قوم قبیلے سے الگ
اپنی بنیاد مساوات پہ اٹھاتی ہے

اس کی بنیاد میں مسلک کی لڑائی
نہ عقیدے کی گھٹن

یہ کسی ملک کی سرحد کو کہاں مانتی ہے

یہ تو آزاد پرندہ ہے جہاں بھی جائے

کوئی مندر ہو کہ مسجد کہ کلیسا کچھ ہو
یا کوئی دشت ہو محراب کہ صحرا کچھ کو

جہاں بھی پیار ملے گھونسلا بناتی ہے

ع/ بے حس سیلفی، بھوکا چور

اک نیا زخم میری لوح پر لگا اس وقت
میں سر جھکائے جو بازار سے گزار رہا تھا

کسی کی چیخ مرے کان میں سنائی دی

سہم کے رک سا گیا، دیکھنے لگا مڑ کر
ہجوم پیٹ رہا تھا کسی سبک سر کو

بس اس کا جرم یہ تھا بھوک سے بلکتے ہوئے

کسی دکان سے روٹی کوئی چرا لی تھی

اور اس سے بڑھ کے اذیت کی بات کیا ہو گی

تڑپ کے مرتے ہوئے بے قصور شخص کے ساتھ

کہ منہ پھولا کے سبھی سلفیاں بنا رہے تھے

Categories
شاعری

مجھے تم سے محبت ہے

مجھے تمہارے اس دل سے محبت ہے
جو کبوتر کے نرم پروں جتنا نرم محسوس ہو رہا ہے

مجھے تماری سماعتوں سے محبت ہے
جو ہزار گدلے خیالات کے دریاؤں کو
سمندروں کی طرح خود میں جگہ دے کے تازہ دم کردیتی ہے

مجھے تمہاری ان پتلیوں سے محبت ہے
جو زندگی کے دو شفاف محدب عدسوں کے
پیچھے سے دکھوں کا
ان کے جذیات تک پیچھا کرتی ہیں۔
مجھے تمہارے نیوران کے ان سارے دھاگوں سے محبت ہے
جو ٹوٹے وقت کے تاروں کو
پھر سے جوڑنے کا ہنر جانتے ہیں

مجھے تمہاری آواز کی مدھرتا سے محبت ہے
جو وقت کے جلتے تو ے پر پانی کے چھینٹوں کی سی آواز بن کر گر رہی ہے

مجھے تمہارے خاموش صوتی وقفوں سے
محبت ہے
جو تنہائی میں راگ الانپنا جانتے ہیں
مجھے تمہاری انگلیوں کی پوروں سے محبت ہے
جو تھاپ کے کسی ارتعاش سے بہت پہلے
مجھے رقص پہ آمادہ کرلیتی ہیں
Image: Duy Huynh

Categories
اداریہ

اظہار محبت پر پابندیاں ناقابل قبول ہیں۔ اداریہ

14 فروری دنیا بھر میں اظہار محبت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے، اس روز ہر عمر کے افراد اپنے محبوب افراد کو تہنیتی پیغامات بھجواتے ہیں اور محبت کے اظہار کے مختلف انداز اپناتے ہیں۔ تاہم پاکستان جیسے قدامت پسند، مذہبی اور مردانہ برتری کے قائل معاشروں میں اظہار محبت کو غیرت، حیاء اور پاکیزگی کے منافی خیال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں رواں برس بھی ٹی وی چینلوں پر ویلنٹائن ڈے کی تشہیر پر پابندی عائد رہی، یہ پابندی گزشتہ برس اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک حکمنامے کے تحے پیمرا نے عائد کی ہے جس کے تحت کوئی بھی چینل ویلنٹائن ڈے کی تقریبات اور اس دن کی سرگرمیوں کی کوریج اور تشہیر نہیں کر سکتا۔ اس حکمنامے کے علاوہ مذہبی تنظیمیں تدریسی اداروں اور عوامی مقامات پر اظہار محبت کی راہیں مسدود کرنے کے لئے کھلے عام لوگوں کی ذاتی زندگی میں مداخلت کو درست سمجھتی ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کے خلاف اس بڑے پیمانے پر مذہب، ثقافت اور اخلاقیات کے نام پر رسمی اور غیر رسمی پابندیاں انفرادی آزادی اور ذاتی خودمختاری کے حق کے منافی ہیں۔ ان پابندیوں کا بنیادی محور ویلنٹائن ڈے یا اس دن کی سرگرمیاں نہیں بلکہ فرد کو اپنی زاتی زندگی کے فیصلےکرنے کی خود مختاری اور آزادی دینے میں ہچکچاہٹ ہے۔ یہ ہچکچاہٹ ان قدیم پدرسری معاشرتی اصولوں کی پیداوار ہے جنہوں نے فرد پر اجتماع، اصول پر روایت اور قانون پر اخلاقیات کو تقدم بخشا ہے۔ ویلنٹائن ڈے پر پابندی دراصل ایک ایسی سوچ کی عمل شکل ہے جہاں فرد اپنی ذاتی زندگی کے فیصلوں کے لئے معاشرے، ثقافت اور مذہب کا محتاج ہے۔

ویلنٹائن ڈے اور اظہار محبت پر پابندیوں کا سب سے زیادہ شکار یقیناً نوجوان طبقہ ہوتا ہے جو اپنی رومانی اور جنسی تسکین کے لئے دیگر افراد میں دلچسپی کا اظہار کرنے سے محروم کر دیا گیا ہے۔ ہمارا معاشرہ پہلے ہی ایک ایسی اخلاقی، ثقافتی اور مذہبی گھٹن کا شکار ہے جہاں دو یا زائد افراد کو باہم محبت کے آزادانہ مواقع میسر نہیں۔ یہ گھٹن ان افراد کے لئے بھی اتنی ہی حبس آلود ہے جو معاشرتی روایات اور مذہب کے مطابق رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں، جتنی کہ غیر شادی افراد کے لئے ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اظہار محبت پر پابندیوں کا سب سے زیادہ اثر ان طبقات پر ہوتا ہے جو سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر محروم اور پس ماندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان، خواتین اور ہم جنس پرست افراد ان پابندیوں کی زد میں سب سے زیادہ آتے ہیں۔ان پابندیوں کا ایک تکلیف دہ اور تشویش ناک پہلو عوامی مقامات پر اظہار محبت پر پابندی کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اور جو عفت، غیر ت اور پاکیزگی کے غلط تصورات کی پیداوار ہے۔ ان پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ فرد اپنی رومانی اور جنسی تسکین کے لئے خود فیصلے کرنے کا مجاز اور اہل نہیں۔

پاکستان میں مذہبی شدپسندی کی ایک خطرناک صورت یہ اخلاقی جبر بھی ہے جو عدالتی فیصلوں، انتظامی حکمناموں اور عمومی سماجی رویوں کی صورت میں پہلے سے زیادہ نقصان دہ شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ مذہب ، ثقافت اور اخلاقیات کو انفرادی آزادی اور ذاتی خود مختاری پر فوقیت نہیں دی جا سکتی ۔ محبت کا شائستہ اظہار آزادی اظہار رائے اور ذاتی زندگی کے حق کا حصہ ہے جس کی اجازت نہ صرف آئین پاکستان دیتا ہے بلکہ انسانی حقوق کا عالمی چارٹر بھی ہر بالغ فرد کو اپنی مرضی، میلان اور خواہش کے مطابق دوسرے فریق کی رضامندی سے خاندان شروع کرنے کا حق فراہم کرتا ہے۔ ہر بالغ فرد کے لئے اظہار محبت کا حق تسلیم کرنا لازمی ہے اور اس حق پر اخلاقیات، ثقافت اور مذہب کے نام پر پابندیاں نہ صرف غلط ہیں بلکہ غیر آئینی بھی ہیں۔

Categories
نان فکشن

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

آج چودہ فروری ہے۔محبت کا مخصوص دن۔اچھی بات ہے، ہر شخص کی سالگرہ ہوتی ہے سو حضرت دل کی بھی ہونی چاہیے جو مختلف محبتوں سے آباد کبھی مایوس ہوکر گیلی چھتوں کی دیوار سے پاوں لٹکا کر بیٹھاکرتے ہیں تو کبھی سمندر کنارےسورج کی سنہری رسیوں پر یادوں کی بیلیں سکھاتے نظر آجاتے ہیں۔یہ دن تیسری صدی کے ایک صوفی ویلنٹائن سے وابستہ ہے، مگر معاف کیجیے گا، میں ان سے زیادہ واقف نہیں۔میں کرشن اور رادھا کی دھرتی سے تعلق رکھنے والا شخص ہوں۔چنانچہ محبت کی پری بھاشا میرے لیے ویسی ہے،جیسی میری مٹی نے مجھ پر آشکار کی ہے۔پہلے تو بات کرتے ہیں ان لوگوں کی جو سبھیتا یا تہذیب کی رکھوالی کرنے کا نام لے کر اس خاص روز لڑکوں اور لڑکیوں کو نہ تو لب سڑک ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلتے ہوئے دیکھنا پسند کرتے ہیں اور نہ ہی کسی کشادہ ریستوراں کی چھوٹی سی میز پر آنکھوں سے آنکھیں چار کرنے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔تو سب سے پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ مشرقی سماجوں اور تہذیبوں میں محبت سے اس قدر پریشانی کیوں ہے۔یہ جو پرمیشور یا خدا کی چھوٹی چھوٹی دبنگ ٹولیاں، ٹوپی یا تلک لگائے شہروں میں چیختی چلاتی گھومتی ہیں، اس سے یہ سوال تو لازمی طور پر پیدا ہونا چاہیے کہ محبت کی مخالفت کرنے والی کوئی بھی تہذیب کیا اس لائق نہیں کہ اسے نفرت کا پرچارک سمجھا جائے۔لیکن یہ بھی یہ سننا نہ چاہیں گے۔کیونکہ ان کے مذاہب ، جو کہ ان کی تہذیب کااصل مآخذ ہیں ، اس بات کی تشہیر کرتے نہیں تھکتے کہ خدا کے بندوں سےپیار کیجیے۔اب کوئی شخص پیار کو سمجھے تو کیسے سمجھے، جانے تو کیسے جانے۔۔۔کیونکہ آپ نے لوگوں کی سادہ سی تفہیم پر موٹے موٹے تالے یہ سوچ کر لگائے ہیں کہ اس سے تہذیب کا دامن داغدار ہوتا ہے۔یعنی اگر کوئی اکیس سال کا لڑکا، اٹھارہ سال کی لڑکی سے دوستی یا محبت کرنا چاہے تو یہ ایک تہذیبی خسارہ ہوگا۔اب جب ہم پوچھتے ہیں کیسے؟ تو اس کا جواب ایک ہے، وہ ہے بے حیائی اور بے شرمی کا فروغ۔بے حیائی ۔۔میں محبت کے اس مخصوص دن پر اس لفظ کی از سر نو تعریف لکھنا پسند کروں گا۔

بے حیا ہونے کا ایک مطلب ہے، بے لحاظ ہونا۔مطلب آپ جب کوئی غلط کام ببانگ دہل کرتے ہیں تو اسے آپ کی بے حیائی سمجھا جاتا ہے۔اب یہ غلط کام کون طے کرے گا؟ مطلب کسی شخص کا دوسرے کسی شخص سے متعارف ہونا اگر بے حیائی ہے، اسے پسند کرنا، اس کے ساتھ بیٹھنا، ہاتھ میں ہاتھ ڈالنا، آنکھوں سے آنکھیں چار کرنا اور محبت کے ایک خوبصورت تعلق کوا ستوار کرنا اگر بے حیائی ہے تو پھر ہمیں برسوں سے چلے آرہے اس لفظ کی تفہیم پر غور کرنا ہی پڑے گا۔اخباروں میں ہم اکثر خبریں پڑھتے ہیں کہ دن دہاڑے لوٹ مچ گئی، سڑک پر قتل کردیا گیا، سی سی ٹی وی کے ہوتے ہوئے لڑکیوں کو چھیڑا گیا، گالم گلوچ ہوئی ، یہاں تک کہ یہ تو معمولی ہی سی بات ہے کہ عام دنوں میں چھوٹی چھوٹی سڑکوں پر جس قسم کا ٹریفک لگ جایا کرتاہے، وہ لوگوں کی اتنی سی بے توجہی کے کارن ہوتا ہے کہ وہ خود جلدی اپنی منز ل پر پہنچنا چاہتے ہیں اور اس چکر میں دوسری گاڑیوں کے ساتھ الجھ پڑتے ہیں، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سڑک کافی دیر تک کے لیے ٹھس ہوجاتی ہے، وجہ یہ ہے کہ سارے لوگ انسانیت کا لحاظ نہیں کرتے، دوسروں کا خیال نہیں کرتے، درگزر سے کام نہیں لیتے اور تحمل اور محبت کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ایک مسلسل طاری رہنے والے غصے اور چڑ کے نیتجے میں اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ بعض اوقات نتائج بڑے بھیانک اور عقل کے لیے ناقابل قبول ہوتے ہیں۔ابھی الہ آباد میں چند دنوں قبل ایک کالج کے لڑکے کا پیر ٹکرا جانے سے ہونے والا جھگڑا اتنا بڑھا کہ انجام یہ ہوا کہ دوسرے فریق نے اسے اتنا ماراکہ وہ کوما میں چلا گیا، ہمارے ہی محلے میں اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایسے ایسے جھگڑے پیدا ہوجاتے ہیں کہ لوگوں کو جیل ہوجایا کرتی ہے، جان و مال کا نقصان ہوتا ہے، محلے بھر میں چٹپٹی باتوں اور خوف و ہراس کا ماحول ایک ساتھ مختلف شاخوں کے ساتھ جنم لیتا ہے اور اس گرد کو بیٹھنے میں کئی کئی دن لگ جایا کرتے ہیں۔یہ سب کیوں ہوتا ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے،معمول کی زندگی پر نگاہ دوڑائیے تو معلوم ہوگا کہ دنیا جن دو کھرے جذبات پر قائم ہے، وہ صرف محبت یا نفرت ہیں، جہاں ایک کی کمی ہوگی، وہاں دوسرا دوڑ کر ہوا کی طرح ماحول کو بیلنس کرنے کے لیے اپنا دبائو بڑھا دے گا۔یہ ایک قدرتی نظام ہے کہ جہاں فرسٹریشن، ضد، جھنجھلاہٹ اور منافقت کے رویے موجود ہونگے، اس سماج میں اطمینان، درگزر اور شفقت کے رویے کم سے کم دکھائی دیں گے ۔ہم اکثر ٹیلی ویزن پر دیکھتے ہیں کہ اچھی خبروں کے ساتھ رپورٹر حضرات یہ کہتے ہوئے ضرور نظر آتے ہیں کہ ‘ابھی انسانیت مری نہیں ہے۔’ وہ ایسا کیوں کہتے ہیں۔کیونکہ یہ جملہ ایک حیرت کی نمائندگی کرتا ہے ، خوشی سے بھرپور ایک مثبت حیرت جو ہمیں بتاتی ہے کہ ابھی ہم ایک ایسے سماج میں ہیں، جہاں نفرت کا تناسب محبت سے کئی گنا زیادہ ضرور ہے، مگر نفرت کے پھیلے ہوئے گھنے سمندروںمیں کہیں کہیں محبت کے چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی دکھائی دے جاتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسا ماحول بنا کیسے۔جواب بھی اسی فکر میں پوشیدہ ہے، جو ہمیں بتاتی ہے کہ آخر بے حیا یا بدلحاظ کس قسم کے لوگوں کے ساتھ وابستہ اصطلاح ہونی چاہیے تھی اور کس کے ساتھ وابستہ ہے۔ایسے لوگ جنہیں محبت سے اس قدر ڈرایا گیا ہو کہ اگر وہ کہیں نظر آجائے تو اسے بے حیا سمجھ کر اس کا سر کچلنے پر وہ آمادہ ہوجائیں ، کس طرح ایک ایسا سماج گوارہ کرسکتے ہیں، جس میں محبت اور درگزر کی تعلیمات دی جاتی ہوں۔یاد رکھنا چاہیے کہ قدرت کے اس عجیب و غریب نظام میں ایک اور پہلو پوشیدہ ہے جو بہت دلچسپ ہے، حالانکہ دنیا کا ہر خطہ ان دونوں جذبات کے زیر اثر پروان چڑھنے والے رویوں سے معمور ہے ، مگر پھر بھی کوئی سماج اس وقت تو قائم رہ سکتا ہے، جب اس میں نفرت کا عنصر بالکل موجود نہ ہو، مگر محبت کے سائے کے بغیر ، یعنی مکمل نفرت کے ساتھ کسی سماج کا قائم رہ پانا بالکل غیر ممکن ہے، نفرت سے بھرا پرا سماج ایک ایسا بدہونق راکھشس ہے جو لاشوں کو ڈھوتے ڈھوتے ایک روز انہی کے اندر دھنس جائے اور اپنی تمام تر قابل فخر تہذیبوں اور مذاہب کے ساتھ کبھی زمین پر دوبارہ تازہ سانسیں لیتے ہوئے نہ ابھر سکے۔ہمیں زندگی کے نئے اور بالکل متضاد بیانیوں کو نہ صرف خود کو سننے کے لائق بنانا چاہیے بلکہ اپنے پرانے رسم و رواج اور ثقافتوں پر سخت سے سخت تنقید کو غور سے سننے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ضروری نہیں ہے کہ وہ لوگ جنہیں ہم روشن دماغ کہا کرتے ہیں، ہمیشہ ٹھیک بات ہی کہیں، مگر ان کی بات سننے اور انہیں سمجھنے سے تازہ ہوا کے راستے پیدا ہوسکیں گے اور ہم سیلن اور گھٹن زدہ سوسائٹی میں گل سڑ اور پچک کر مرجانے سے بچ سکیں گے اور اس کی ابتدا ہوتی ہے اس عملی قسم کی معمولی سی تبدیلی سے، جس میں بغیر کسی جبر کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنے والے ایک نوجوان جوڑے کو دیکھنے کے لیے ہم اپنی آنکھوں کی تھوڑی سی تربیت کرسکیں۔

خیر، یہ تو بات ہوئی مخالفت کرنے والوں کی۔اب موافقت والوں پر بھی کچھ بحث ہوجائے۔ویلنٹائن ڈے،ایک لائق ستائش نظریہ محبت کو ہماری جھولی میں ڈالتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی اتنی تنگ نہیں ہوئی ہے کہ ہم محبت نہ کرسکیں۔مگر یہ ہرگز ضروری نہیں کہ محبت کا کوئی جامد یا روایتی تصور ذہنوں میں پیدا کرکے اسے خود پر طاری کرلیا جائے۔محبت ہم میں ہوتی ہے، یہ ہماری صفت ہے، ہمارا وصف ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ فلاں محبت ناکام ہوئی تو پھر ساری زندگی نہ ہوپائے گی یا پہلی محبت کی بات ہی کچھ اور ہوا کرتی ہےوغیرہ وغیرہ۔یہ ساری باتیں سر آنکھوں پر مگر سوچ کر دیکھا جائے تو ایسا نہیں ہے، انسان ناامیدی اور مایوسی کے دامن سے باہر نکل کر نئی دنیائیں آباد کرلینے کے ہنر کا دوسرا نام ہے۔ایک ایسا سماج جو محبت کے حاصل نہ کرپانے پر تیزاب پھینک دینے کی نہایت سفاک حرکت پر اتر آئے، محبت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اپنے آس پاس موجود زندگیوں پر نگاہ ڈالیے، معلوم ہوگا کہ محبت کے نام پر ہم نے ضدی اور پاگل لوگوں کی بے وقوفانہ تربیت کی ہے، یہ لوگ اپنی محبوبائوں کی مرضی کا خیال نہیں کرتے، ان کے انکار کی عزت نہیں کرتے، ان کو بدکردار ثابت کرتے ہیں، ان کو لعن طعن کرتے ہیں، ان میں کیڑے نکالتے ہیں اور اتفاق سے اگر وہ انہیں حاصل ہوجائیں تو ساری زندگی بے عزت کرتے ہیں، انہیں ان کی صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک سے گزارتے ہیں، راتوں کو بیوی کا نام دے کر جبرا ان کے ساتھ سیکس کرتے ہیں اور اپنی ایک غیر سنجیدہ اور ناکام حسرت کو مستقل محبت کا نام دیتے چلے جاتے ہیں۔اس سے بہتر ہے کہ ایک ایسا سماج تشکیل دیا جائے جس میں ایک سے زیادہ محبت جرم نہ ہو، ساتوں جنم والے کسی رشتے کا تصور نہ ہو اور کسی کو حاصل کرلینے کے نظریے پر از سر نو غور کیا جائے اور لوگوں کو یہ باور کرایا جائے کہ انسان، کبھی کسی دوسرے انسان کو مکمل طور پر حاصل نہیں کرسکتا اور ایسا سوچنا بھی کسی کی آزادی ، اس کی زندگی اور اس کی خواہشات پر قدغن لگانے جیسی بات ہے، حاصل غیر جاندار چیزیں کی جاسکتی ہیں، زندہ اور متحرک چیزوں کو حاصل نہیں کیاجاسکتا، بس ان کے ساتھ وقت گزارا جاسکتا ہے اور وہ بھی اس وقت تک، جب تک وہ چاہیں۔ہمیں محبت کے اس خاص دن پر اپنے احتساب کی سخت ضرورت ہے۔

لڑکے ہوں یا لڑکیاں، محبت میں ایک دوسرے کو اپنی پراپرٹی گرداننے لگتے ہیں، میں نے اپنے کئی دوستوں کو موبائل سے ہسٹری ڈیلیٹ کرتے دیکھا ہے، لڑکیوں کو چھپ چھپا کر بات کرتے دیکھا ہے،لڑکوں کو لڑکیوں پر اور لڑکیوں کو لڑکوں پر یہ حکم چلاتے دیکھا ہے کہ تم فلاں سے نہیں ملو گے، فلاں وقت کے بعد گھر سے باہر نہیں جائو گی، ایسے کپڑے پہنوگے یا ایسی جگہوں پر نہیں جائو گی۔یہ سب احکامات محبت کی تردید کرنے والے ہیں۔ہم اپنی Insecurityکو بعض دفعہ بڑی خوبصورتی سے ایسے جملوں میں ڈھالتے ہیں کہ ‘میں تو فلاں کا دھیان رکھتا/رکھتی ہوں ‘ یا ‘ وہ بے چارہ/بے چاری دنیا کو نہیں سمجھ پاتا/پاتی’۔یہ سب کھوکھلی باتیں ہیں۔اس میں غلطی ہماری بھی نہیں ہے، برسوں سے ہماری کہانیاں، ہمارے ڈرامے، ہمارے اساطیر ، ہمیں اس جذبے کے ایک ایسے رخ کا دیدار کراتے رہے ہیں، جس میں محبت کے نام پر جلن، اندیشوں اور جنگ تک کے تصورات وابستہ ہیں۔ہم نے کبھی کوشش ہی نہیں کی کہ ہم کوئی متبادل راستہ بھی تلاش کرتے اور دیکھتے کہ دنیا اس راستے پر چل کر کن منزلوں تک پہنچتی ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ محبت کرتے ہوئے کسی طرح کا اندیشہ نہ پالنے والے شخص کے لیے ہماری زبانوں میں کوئی لفظ ہی نہیں ہے اور اگر اس قسم کے کسی بے نیاز شخص کے لیے کوئی لفظ عربی وغیرہ میں ہے بھی تو دیوث جیسی گالی ہے، جسے اردو میں آپ بھڑوا یا دلال کہہ سکتے ہیں۔

ہم نے محبت کی مخالفت اورموافقت دونوں معاملات میں انتہاپسندی کی بھی حد کردی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ایسا سماج بنایا جائے جو ہماری مرضی کے مطابق ہو اور جس میں ہمارے لیے مختلف قسم کی سہولتیں میسر آسکیں۔ہم ایک دوسرے کے لیے آفت جان بن کر ، ایک دوسرے سے چمٹے ہوئے ،زرد بوسوں اور کالے پڑتے ہوئے رشتوں کو محبت کا نام دیتے ہیں اور آواز بھی بلند کرتے ہیں تو ایسی ہی محبت کا حق وصول کرنے کے لیے۔میرے خیال میں دونوں سطح پر غور و فکر کی ضرورت ہے اور ویلنٹائن ڈے محبت کے بارے میں سوچ سمجھ کر رائے قائم کرنے کی گھڑی ہے ،جو ہمیں ہماری تمام تر مصروفیت کے باوجود یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ محبت کا یہ خاص دن منانے کے لائق کیسے بنا جائے۔ورنہ تو ہماری سوسائٹی میں محبت کرنے والوں کی نہ کوئی کمی ہے، نہ کبھی ہوگی۔

Categories
فکشن

محبت کی گیارہ کہانیاں (دوسری کہانی)

وہ شام ایک خواب کی مانند تھی، میرے دوسرے خوابوں کی طرح۔میں اپنی ذات کی الجھنوں کو اتنی آسانی سے نہیں بتا سکتی۔بدن تو خیر جو الٹ پھیر کررہا تھا وہ ایک دوسری بات ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ذہن میں بھی تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔ایسا لگتا تھا کہ پہلے جو کچھ سیکھا سکھایا تھا، سمجھاسمجھایا تھا وہ سب اب میرے کسی کام کا نہیں تھا۔یعنی آپ یہ سمجھیے کہ تہذیب کی حروف تہجی کا علم اگر نکال دیں تو میں بعض اوقات اپنی پوشاک اور علیک سلیک سے بھی بغاوت پر اتر سکتی تھی۔دل کبھی مایوس ہوتا تو اتنا بیٹھنے لگتا جیسے ہتھیلی پر امید کی کوئی لکیر ہی نہ بنی ہو، خوش ہوتی تو اس قدر چہچہاتی جیسے تمام دنیا کو اسیر کرلیا ہو، چاند سورج مسخر کرلیے ہوں، دریائوں، سمندروں اور آسمانوں کو اپنا مطیع کرلیا ہو۔میں وقت کے ساتھ ساتھ ہر اس چیز سے جو مجھے سونپی گئی تھی، کچھ بیزاری محسوس کرنے لگی، تعلیم، تہذیب،مذہب اور یہاں تک کہ دوست احباب، جو انسان کی تنہائی اور اداسی کا آخری سہارا سمجھے جاتے ہیں۔میرا اندرون کچھ بدل رہا تھا، کیا کروں، کسے دکھائوں۔ایک سخت گیر مذہبی معاشرے میں پروان چڑھنے کے باوجود میں دوسروں کی طرح کیوں نہیں ہوں۔میری شادی گھروالوں نے ایک لڑکے سے طے کردی تھی، جب کبھی میں چھٹپھٹا کر امی سے اس بات پر احتجاج کرنا چاہتی تو وہ مرحوم ابو کا حوالہ دے کر مجھے جذباتی طور پر قائل کرنا چاہتی تھیں، مجھ جیسی بگڑیل گھوڑی کے لیے شاید ان کے آنسو ہی لگام کا کام کرسکتے تھے۔میں چپ ہوجاتی اور وہ یہ سمجھتیں کہ میں مان گئی ہوں۔کوئی بہت بڑا دکھ نہیں تھا یہ کہ میں اس شخص سے شادی کروں، جسے میری ماں نے میرے لیے منتخب کیا ہے۔مگر میں اس شخص میں اپنا بدلا ہوا روپ منتقل کرسکتی تھی، میں اسے اپنے اندرون کی بھیانک تبدیلیوں کا گواہ نہیں بناسکتی تھی۔میں ایک پاکباز سماج میں اپنے خوابوں کے بدن سے جمپر ہٹادوں تو سب دیکھ سکیں گے کہ میں ایک فاحشہ ہوں، گندی خواہشیں رکھنے والی، ناجائزرشتوں کی تلاش میں گھومنے والی، بدتمیز اور بداطوارفاحشہ۔جسے خود پر رونے کی اجازت نہیں ہے۔میں ایک ایسے شخص سے شادی کرنا چاہتی تھی، جو مجھے ننگا دیکھنے کی ہمت رکھتا ہو۔صرف مجھے ہی کیا، میرے جلتے ہوئے سانسوں کی خونی خواہشوں اور بدکردار سوچوں کی تپش کو مسکراتے ہوئے اپنی زبان پر اکیر لے۔یہ سب ناممکن تھا، اس سخت گیر مذہبی معاشرے میں تو کیا۔کہیں بھی ممکن نہیں تھا۔کہانی کا مصنف سمجھتا ہے کہ وہ مجھے جھیل لے گا، میرے بدن کی تپتی ہوئی بد آموز اور بدہیت خواہشوں کو خوشی خوشی اپنی آنکھوں اور رانوں کا گواہ بنالے گا لیکن میں مشکوک ہوں اس کے معاملے میں بھی۔وہ بھی ایک مرد ہے، اور دنیا کا ہر مرد عورت کو اپنے جسم کے چھلکے میں قید کردینا چاہتا ہے اور اس کی لذت سے اپنے سوا کسی کو بھی آگاہ نہیں کرنا چاہتا۔

زبیر چلا گیا، اس کی شادی ہوگئی۔لیکن میں رات کے جھروکوں سے اب بھی اپنی امید کے چاند کو دیکھنا نہیں بھولی تھی۔کبھی کبھی یونیورسٹی ہاسٹل سے رات کے تین بجے میں سرد کہرے میں باہر نکل جایا کرتی۔میری جلد کو ٹھنڈا اور سفید دھواں اپنی گرفت میں لے لیا کرتا تھا۔میں ہاتھوں سے آنکھوں کے دائرے پر موجود دھوئیں کی اجلی لکیروں کو کاٹ کر سامنے بنے ہوئے چھوٹے سے پارک کی بینچ ڈھونڈتی اور اس پر بیٹھ جاتی۔اسی کے سامنے ایک درخت تھا، یہ درخت میری گونگی تابناکیوں اور اندھی خواہشوں کا گواہ تھا۔میں اس کی آبنوسی چھال اور اس کے گرد لپٹی ہوئی ایک موٹی شیشم کی آنت سے گھنٹوں محو گفتگو رہتی۔وہ مجھے دیکھتا اور سوچتا کہ کاش میں آدمی ہوتا، ایک ایسا آدمی جس کو صبا کے بدن کی حدت کا سکون میسر آسکتا اور جو یہاں رات کے کالے اکھاڑے میں کھڑا سفید ٹھنڈ سے یوں بے فائدہ کشتی میں مصروف نہ ہوتا۔میں اس کے بالکل برخلاف سوچا کرتی تھی، بلکہ اس سے کہا بھی کرتی کہ میں ایک لڑکی ہونے کے بجائے اس پتھریلے اور کاٹ دار معاشرے میں ایک بودا پیڑ ہونا زیادہ پسند کروں گی، جو اپنی خاموشی کی لپیٹ میں کسی محبوب درخت کو زمین کے اندر اندر جڑوں کے مضبوط پنجوں میں جکڑ لینے کا روادار تو ہوسکتا ہے۔میں پیڑ ہوجانا چاہتی تھی، چاہے بودا ہی سہی، کمزور ہی سہی، ہوا کے تیز جھونکے میں اکھڑ جانے والا ایک پتلا دبلا درخت۔مگر شاید قدرت کا طریقہ یہی ہے، وہ ہماری دشمن ہے۔وہ ہمیں ویسا بناتی ہے، جیسے ہم نہیں ہونا نہیں چاہتے۔میری ننگی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتا ہوا سفید دھواں، میری ناک کی سرخی اور نتھنوں کے تیزابی سبز پانی سے عجیب سی بحثوں میں مصروف ہے۔یہ نہ سمجھ میں آنے والی بحث میرے ماتھے کا درجہ حرارت بڑھا دیتی ہے اور میں اپنی ننگی بانہیں لیے ہوئے آگے بڑھ کر بھوکے پیڑ کی موٹی آنت پر ہاتھ پھراتی ہوں۔اف۔۔۔کتنی تیز للک ہے اس پیڑ میں، اس کی چیخ سے میرے بدن کی ننھی جڑوں میں دھڑکتا ہوا گرم لہو اچھال مارنے لگتا ہے۔میں ایک نکیلا پتھر اٹھا کر اس کے بدن پر بڑا سا صاد بنادیتی ہوں۔پھر اس صاد پر اپنے گرم گلابی ہونٹوں سے بوسہ دے کر وہاں سے ہٹنے لگتی ہوں، یہ کیا۔۔۔ایک فی میل گارڈ بڑی حیرت سے میری طرف دیکھ رہی ہے۔اس کے نینوں پر بھی اوس نے ٹھنڈی جالیاں تان دی ہیں، وہ ان جالیوں سے نکل کر، انہیں چھاٹ کر میرا چہرہ پہچاننے کی کوشش کرتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ مجھے جان لے، میں وہاں سے چھو ہوجاتی ہوں۔

میرے خاندان میں صرف ایک صاحب ایسے ہیں، جن سے مجھے امید ہے کہ وہ مجھے سمجھ سکتے ہیں۔وہ میرے بہنوئی ہیں، ان کا نام تو آدرش ہونا چاہیے، مگر لوگ انہیں عقیل کے نام سے جانتے ہیں۔آدرش کے نام سے انہوں نے اپنی کچھ ٹوٹی پھوٹی تحریریں لکھی ہیں، کتنا اچھا نام چنا ہے لکھنے کے لیے، حالانکہ یہ لفظ اپنے معانی کے ساتھ اتنا زیادہ متاثر کن نہیں ہے، مگر مجھے سننے میں ہمیشہ اتنا ہی خوبصورت معلوم ہوتا ہے جتنی کوئی نہ سمجھ میں آنے والی نظم یا پینٹنگ، غیر مانوس شخصیت، اجنبی جگہ یا ناقابل فہم جادو۔خیر، وہ لکھتے ہیں، یعنی ادب تخلیق کرتے ہیں، کہانیاں۔۔۔اف ! کہانیاں مجھے کتنا متاثر کرتی ہیں،کاش میرے پاس یہ قوت ہوتی کہ میں مختلف کہانیاں پڑھ کر اپنے من پسند کرداروں میں خود کو ڈھال کر انہیں جی سکتی۔میں بہت سے کردار ادا کرتی، بہت سی مٹیوں کی گود سے اٹھنے والی مہک کے دامنوں میں پناہ لیتی اور سرحدوں اور زمانوں کی قید سے آزاد ہوکر کہانیوں کے دور میں جی سکتی۔کبھی جے گیٹسبی بن جاتی، کبھی ڈیوڈ کوپر فیلڈ، کبھی نستاسیا فلوپوونا، کبھی گوتم نیلمبر۔الغرض، ہواوں میں اڑتی پھرتی۔میں اس معاملے میں اتنی ہی مجبور تھی جتنی کہ میرے کمرے کے باہر پارک میں موجود وہ موٹا اور بھوکا درخت۔ہم دونوں اپنی زمین چھوڑ کر ،اپنی جون بدل کر کچھ اور ہوجانے پر قادر نہیں تھے۔خیر، ایسا بھی نہیں کہ میں بالکل ہی مجبور ہوں، میں بدلتی رہی ہوں، میں نے ڈائری لکھنا بالکل ترک کردیا ہے۔حالانکہ میری ڈائری کون سی اینی فرینک جتنی مشہور ہوجاتی، مگر میں اسے لکھتی تھی۔میرا ارادہ تھا کہ ایک روز میں اسے شائع کروائوں گی، مگر پھر پتہ نہیں وہ کہاں گم ہوگئی۔میں ڈائری کو تاریخ، دن یا مہینے کے حساب سے نہیں لکھتی تھی، بلکہ میری ڈائری میرا خفیہ ہتھیار تھا، اس زمانے میں میں نے اس میں کچھ چھوٹے موٹے وظیفے لکھے تھے، کچھ شعر اور پھر بعد میں کچھ اچھے نثری نمونوں کو بھی ان میں شامل کیا تھا۔پھر میں نقل کرنے سے تنگ آگئی اور میں نے اول جلول شبدوں میں ہی سہی، اپنی بات لکھنی شروع کردی۔ہائے کیا زمانہ تھا، میں ہر ایک بات پر تنقید کرنے کی کوشش کرتی تھی۔۔میری عقل کا چشمہ باریک نہیں تھا، میں بس چاہتی تھی کہ ہر بات کو کسی دوسرے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کروں۔امی کہتی تھیں کہ جلدی سوجائو تو ڈائری میں اس کی مخالفت درج کرتی۔شلوار ٹھیک کرو، ایسے بیٹھو، ویسے کھائو، ادھر مت جائو، لڑکوں کے ساتھ مت کھیلو اور بھائیوں کے ساتھ چوما چاٹی نہ کرو۔ان سب باتوں کے خلاف میں نے اس میں لکھا، کیا آپ یقین کریں گے اگر میں آپ کو بتائوں کہ میں نے اپنی ڈائری میں ایک روز امی کے شیر خرما بنانے کے طریقے پر بھی تنقید کی تھی۔وہ شیر بہت میٹھی کردیا کرتی تھیں، ہمارے مرحوم ابو پیار سے چھیڑتے ہوئے انہیں کہتے’لگتا ہے تم نے شکر کو کفگیر سے نہیں، اپنی انگلیوں سے گھولا ہے۔’

شاید اس دن کے بعد میں نے ڈائری لکھنی بند کردی تھی۔اس شرم میں کہ میں تنقید کی کتنی عادی ہوگئی ہوں۔نہیں۔۔۔مگر اس واقعے کے بعد نہیں، ایک واقعہ اور ہوا تھا۔ابو کے سانحہ ارتحال کے بعد سب لوگ گھر میں جمع تھے۔امی بے سدھ تھیں اور بہنیں خاموش۔ایسے میں پتہ نہیں کب میرے جی میں آئی کہ میں رونے دھونے کی متحمل نہیں ہوسکتی، خاموشی اور مایوسی کا بھی ڈھونگ نہیں کروں گی۔جو مایوسی میرے اندر ہے، اس کی گھنیری طاقت مجھ سے یہ منوانے پر راضی ہوگئی تھی کہ میرے والد اس دنیا میں ٹھیک ویسے ہی نہیں ہیں، جیسے بہت سی لڑکیوں کے نہیں ہوا کرتے۔حالانکہ میں غمگین تھی اور اب بھی کبھی کبھی ان کی یاد مجھے اپنے دکھ کے حصار میں ڈھانک لیتی ہے مگر میں اور معاملوں کی طرح اس میں بھی عقلی طور پر سوچنے کو زیادہ ترجیح دیتی ہوں، میں بھی تو مرہی جاوں گی اور کیا پتہ کسی بیماری یا کسی حادثے کا شکار ہوکر مرجاوں۔دونوں صورتوں بلکہ طبعی قسم کی موت میں بھی مجھے اس مرحلے سے آزادی تو نہیں ملنی، پھر میں یہ سب کچھ کیوں سوچوں اور محض دنیا کو یہ دکھانے کے لیے کہ مجھے اس وقت خاص ہمدردی کی ضرورت ہے، اپنا منہ کیوں بسور لوں۔میں نے ڈائری میں یہ سب کچھ لکھا اور پھر پتہ نہیں ڈائری کہاں رکھ دی۔مجھے شک ہے کہ میری بہن کے ہاتھ وہ ڈائری لگ گئی تھی، حالانکہ اس نے کبھی ایسا مجھ پر ظاہر نہیں کیا، مگر وہ اکثر مجھے انسانی رشتوں اور تہذیب و اخلاق کے تعلق سے جو بنیادی اسباق کے گھول پلاتی ہے، اس سے مجھے یہ شک ضرور ہوتا ہے۔بہرحال وہ ڈائری کھو گئی۔ڈائری نہ بھی کھوتی تو مجھے اپنے سنگدل ہونے کا مسلسل افسوس ہوتا اور کیا پتہ میں کسی رات کو اس پیڑ کی ننھی کھوہ میں جاچھپاتی۔

دوپہر تک میں نے ناشتہ نہیں کیا،اور سوچتی رہی کہ کیا کھاوں، میں اکثر برنچ کرلیا کرتی ہوں۔کیمپس کی زندگی ہی ایسی ہے۔جتنی آزادانہ اتنی ہی منحوس۔جتنی اچھی، اتنی ہی خراب، جتنی سرخ، اتنی ہی سیاہ۔الغرض میں باہر نکلی اورایک ڈھابے پر جاکر کچھ کھاپی لیا۔۔۔۔کندھے پر ایک نیلا بیگ ٹنگا تھا اور میں جھولتی ہوئی ننگی بانہیں ہاف سلیو شرٹ سے باہر نکلی ہوئی ٹھنڈ کو اب بھی منہ چڑا رہی تھیں، حالانکہ دھوپ بھی نکلی ہوئی تھی، مگر بہت مریل سی، پیڑوں پر کچھ انجان چڑیائیں لوک گیت گاتی محسوس ہوتی تھیں۔آگے پکی سڑک پر دو کتے دھوپ میں لوٹ پوٹ ہورہے تھے۔میں نے دور سے آتے ہوئے وقاص کو دیکھا، وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ تھا۔میں بددل ہوگئی، آج کل اسے دیکھنے کا میرا بالکل جی نہیں چاہتا تھا۔حالانکہ ابھی پچھلے سال تک میں اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر فوٹوزکھنچواتے نہیں تھکتی تھی۔

وقاص اپنے سیاسی کیرئیر کے لیے سرگرم تھا۔یونیورسٹی میں اسے کافی مقبولیت حاصل ہورہی تھی مگر اس کی آنکھوں میں بھی میرے اندرون کی تبدیلی بہت حد تک چبھنے لگی تھی۔وہ بھی میرے معاملے میں عام مردوں کی سی حسد رکھنے والا ایک عجیب و غریب محبت کا نمونہ بن کر پیش آتا تھا۔شاید اسے بھی سینکڑوں لڑکوں کی طرح لگتا ہے کہ وہ اپنے خود ساختہ حسد کے جذبے سے لڑکیوں کو متاثر اور مطیع کرسکتے ہیں، مگر میں اس کی توقعات پر پوری نہیں اتری تھی، وہ قدیم آریائی ثقافت کے ایک پروہت کی طرح معلوم ہوتا تھا، اس کا چہرہ ہڈیوں کے ابھار سے کچھ سخت ہوچلا تھا، کھال پر جگہ جگہ بالوں کے گچھے اگے ہوئے تھے اور وہ ان بے طرح اور بے مصرف گچھوں کو داڑھی مونچھ کہا کرتا تھا۔حالانکہ ابھی کچھ وقت پہلے مجھے یہ سب بہت اچھا لگتا تھا، مگر اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب شاید۔۔۔۔آپ سمجھ ہی گئے ہونگے۔اس نے میری طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا تو میں جواب میں مسکرادی، مجھے معلوم تھا کہ وہ اسی طرف آرہا ہے، میں نے گھوم کر اپنے ہاسٹل اور کیمپس کے بیچ حائل لال اینٹوں کی دیوار کو دیکھا، وہی پرانا او ربھوکا پیڑ اپنی ڈالیوں پر مایوس چہرہ لیے مجھے ڈھلتی بڑھتی دھوپ میں چکن کے ریشے چباتے ہوئے غور سے دیکھ رہا تھا۔
Image: Gyuri Lohmuller

Categories
شاعری

من و تو

تمہارے بازوؤں کے گھیروں میں

آ جانے کے بعد

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے

جیسے سردیوں میں گھاس کی لمبی لمبی ڈالیاں

ہوا میں پلکو رے لینے لگی ہوں

جیسے سمندر کی سطح پر

ہوائیں پانی کے ساتھ کوئی کھیل کھیلنے لگی ہوں

جیسے آسماں پر قوس و قزح کا

رنگدار دائروی جھولا ڈال کر

کائنات پینگیں لے رہی ہو

جیسے کوئی سبز ڈال

اپنے آخری سرے پہ

پھولوں کی بے خوابی سمیٹ

کر اپنے حسن کے زعم میں لچکا رہی ہو

تمہارے گھیروں میں آ جانے کے بعد

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے

جیسے پوری کائنات

مجھ میں سما رہی ہو

Image: James R Eads

Categories
شاعری

ہاں میری محبوبہ

تو نہ تو کوئی بھید ہے
اور نہ ہی بھید بھری تھیلی کا چھٹا ہوا کوئی عین محبوبہ
ہاں میری محبوبہ
تیرا نام پتہ اور شجرہ نسب تو جانتے ہیں ہم
اندر باہر
ظاہر باطن
دونوں سمت ہی آنے جانے والے ہیں ہم
تیرے گھر کے بھیدی ہیں او بھیدن باری
کبھی حقیقی کبھی مجازی
طرح طرح سے تیرے عام سے جسم کی لذت لے لیتے ہیں
اپنا تو کچھ بھی نہیں جاتا
لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں
سارے گناہ سیاسی
اخلاقی روحانی
اپنے ساتھ لپٹ کر خواب کی گہری بے ہوشی میں
سو جاتے ہیں
دوسرے دن تو نیا سوانگ رچا لیتی ہے
ہم بھی اپنے اپنے نسخے بدل بدل کے جی لیتے ہیں

Image: Gino Rubert