خدا کا حصہ! اور دیگر نظمیں (ایچ-بی-بلوچ)

خدا کا حصہ! وسیع تر کائناتوں کے قیام کے بعد ہم اپنے خول میں بے مصرف ہو گئے پکار اٹھی۔۔۔۔ کوئی ہے جو ہمیں اپنے چھوٹے چھوٹے گھروں سے نکالے!! دعا قبول ہوئی ہم ایک نئی سرزمین پر اترے جو بہت حسین تھی پھر ہمیں ایک خدا اور شیطان کی ضرورت محسوس ہوئی! ہمارے قدموں […]
پیشہ ور (ساحر شفیق)

جدائی کا کیلنڈر چھپ چکا ہے جسے ہم دونوں نے مل کے ڈیزائن کیا تھا ہم اُس دن پہلی بار ملے تھے جب پاگل خانے کی چھت پہ پتھر مار کر وقت کو شہید کر دیا گیا تھا ہم اُس وقت بھی معصوم نہیں تھے کیونکہ ہم چومنے کے معنی جانتے تھے ہم نے اپنی […]
میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا (ساحر شفیق)

میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے ۔۔ اور ۔۔ نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں کیا اُس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں جو ریاضی میں بمشکل پاس ہوتا رہا ہو؟ میں لکھنا ضرور جانتا ہوں مگر اپنی تقدیر میں نے نہیں لکھی […]
اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم ابھی ابھی الماری کے اک کونے سے ملی ہے دبک کر بیٹھی پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے ہم دونوں کی باتیں تھیں دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے اِک اکلوتی پینٹنگ […]
hypocrisy (وجیہہ وارثی)

تمہارے بوسیدہ بوسوں سے باس آنے لگی تمہارے آنے کی آس نصف صدی پہلے دم توڑ چکی یادیں رفتہ رفتہ دیوار سے چونے کی طرح چٹخ چٹخ کے گرنے لگی ہیں تاریخ لاکھوں صفحے پلٹ چکی وقت مداری کی طرح تماشے دکھا چکا نصف صدی کا عرصہ انسان کے زندہ رہنے کے لیے بہت تھوڑا […]
ورثہ (ثروت زہرا)

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=“”][vc_column width=“1/2”][vc_column_text css_animation=”” css=”.vc_custom_1475943083005{background-color: #e0e0e0 !important;}”] Heritage Life was bequeathed a love of mirrors And mirrors hold her love’s reflections. Life will ever gaze at reflections, Will ever kiss Love’s frozen shapes. Smash the mirrors to touch Love’s warmth! But Life was bequeathed a love of mirrors. Translation: Dr. Rizwan Ali […]
محبت کا سن یاس

سلمان حیدر: لفظ صحیفوں میں ڈھونڈے جا سکتے ہیں
لیکن صحیفوں میں لکھے لفظ کثرت استعمال سے بے معنی ہو چکے ہیں
رشتے کا ایک برس

تالیف حیدر: موسم بیت جاتے ہیں، وقت ہوا ہو جاتا ہے اور انسان وقت کے ساتھ ساتھ اجنبی ہوتے چلے جاتے ہیں، حقیقتوں کے تبدیل ہونے اور حالات کے بدلنے کا یہ سلسلہ زندگی کی سخت زمینوں پر کبھی نہیں رکتا۔
بے حس سیلفی، بھوکا چور اور دیگر عشرے

ضیا افروز: محبت نام و نسب قوم قبیلے سے الگ
اپنی بنیاد مساوات پہ اٹھاتی ہے
مجھے تم سے محبت ہے

ثروت زہرا: مجھے تماری سماعتوں سے محبت ہے
جو ہزار گدلے خیالات کے دریاؤں کو
سمندروں کی طرح خود میں جگہ دے کے تازہ دم کردیتی ہے
اظہار محبت پر پابندیاں ناقابل قبول ہیں۔ اداریہ

افسوسناک امر یہ ہے کہ اظہار محبت پر پابندیوں کا سب سے زیادہ اثر ان طبقات پر ہوتا ہے جو سماجی، سیاسی اور معاشی طور پر محروم اور پس ماندہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان، خواتین اور ہم جنس پرست افراد ان پابندیوں کی زد میں سب سے زیادہ آتے ہیں۔
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے

تصنیف حیدر: ویلنٹائن ڈے محبت کے بارے میں سوچ سمجھ کر رائے قائم کرنے کی گھڑی ہے ،جو ہمیں ہماری تمام تر مصروفیت کے باوجود یہ سوچنے کا موقع دیتی ہے کہ محبت کا یہ خاص دن منانے کے لائق کیسے بنا جائے۔ورنہ تو ہماری سوسائٹی میں محبت کرنے والوں کی نہ کوئی کمی ہے، نہ کبھی ہوگی۔
محبت کی گیارہ کہانیاں (دوسری کہانی)

تصنیف حیدر: وہ شام ایک خواب کی مانند تھی، میرے دوسرے خوابوں کی طرح۔میں اپنی ذات کی الجھنوں کو اتنی آسانی سے نہیں بتا سکتی۔بدن تو خیر جو الٹ پھیر کررہا تھا وہ ایک دوسری بات ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ذہن میں بھی تبدیلیاں رونما ہورہی تھیں۔
من و تو

ثروت زہرا: تمھارے گھیروں میں آجانے کے بعد
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے پوری کائنات
مجھ میں سما رہی ہو
ہاں میری محبوبہ

سرمد صہبائی: لفظ سے لفظ بنانے والے
کوئی بھی غم ہو
لفظ کی گولی رنگ بدلتے لمحوں کی گنگا میں گھول کے پی جاتے ہیں