Laaltain

اور جب تم دیکھو ۔۔۔۔۔۔ (نصیر احمد ناصر)

اور جب تم دیکھو کہ رات معمول سےطویل ہو گئی ہے اور سورج طلوع ہونے کا نام نہیں لے رہا تو تم صبح کی واک ملتوی کر دینا اور پورچ کی گُل کی ہوئی بتیاں پھر سے روشن کر دینا اور جب تم دیکھو کہ ہوا ہموار راستوں پر چلنے سے گھبرانے لگی ہے اور […]

مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے ایک راستہ چاہیے جو پاؤں سے نہیں دل سے نکلتا ہو مجھ تک آنے کے لیے ایک دروازہ چاہیے جو ہوا کی ہلکی سی لرزش سے کھل سکتا ہو اور ایک کھڑکی جس سے دھوپ اندر آ سکتی ہو مجھ تک آنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے کی ضرورت […]

نظم کہانی (نصیر احمد ناصر)

کہانی کار! تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں ہوا کو سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے میں نے کئی بار کھڑکی سے باہر جھانکا اداسی بہت دبیز تھی مگر میں جانتا ہوں کہ راستے ترتیب دیتے ہوئے آنکھیں ہمیشہ مصلحت کے غبار میں گم ہو جاتی […]

خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا خود کش حملوں کے خوف سے اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے خدا واحدِ حقیقی ہے اسے کیا پڑی ہے کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر جوتوں اور […]

جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں ایک دوسرے کو دکھ میں اور خوشی میں اور مِل سکتے ہیں شام کی چائے یا ڈنر کے امکان پر میں اُس وقت کا سوچتا ہوں جب ہمارے درمیان ایک رات بھی نہیں رہے گی تب ہم کیا کریں گے؟ کہاں طلوع ہوں گے؟ Iamge: Euge­nia […]

ابدی کھیل (نصیر احمد ناصر)

وقت کے نورانیے میں تہذیبیں زوال کی سیاہی اوڑھ لیتی ہیں لیکن اکاس گنگا کے اَن گنت اَن بُجھ ستارے لُک چُھپ لُک چُھپ کھیلتے رہتے ہیں!! Image: Suzanne Wright Crain