Categories
شاعری

بہترین/ بدترین وقت (ایچ – بی- بلوچ)

ہمارے
بہترین وقت میں
ہم سے وعدے لیے جاتے ہیں
اور ہمارے
برے دنوں میں
ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے

ہمارے برے دنوں میں
ہمارے بادشاہ بننے کا انتخاب کیا جاتا ہے
اور ہماری
بگیوں میں گھوڑے باندھے جاتے ہیں
ایک شہزادی کو
انتظار میں بوڑھا کر دیا جاتا ہے

ہماری سانسوں میں پتھر باندھ کر
ہمارے قریبی دوستوں سے
ہماری سزا کا امتحان لیا جاتا ہے
ہم برے دنوں میں محبت کرتے
اور اچھے دنوں میں لڑتے ہیں

جبکہ ہمارے
بہترین وقت میں
بڑے تحمل سے
ووٹ کے لیے درست آدمی سے ملایا جاتا ہے

یا بلند آواز میں
ہمیں ہمارے نام سے پکارا جاتا ہے
اور ہم سے
ہماری آخری خواہش پوچھی جاتی ہے.!
Image: Banksy

Categories
شاعری

میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا (ساحر شفیق)

میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو

میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے

۔۔ اور ۔۔

نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں

کیا اُس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں

جو ریاضی میں بمشکل پاس ہوتا رہا ہو؟

میں لکھنا ضرور جانتا ہوں

مگر اپنی تقدیر میں نے نہیں لکھی

تم مجھے حاصل کر سکتی ہو

اس کم سے کم قیمت پر

جو کسی آدمی کی لگائی جاسکتی ہے

زندگی گرمیوں کی دوپہر ہے

خواب دیکھتے ہوئے انسان خدا کے بائیں طرف سو رہا ہوتا ہے

میں نے خود کو ایک کتاب کی طرح پیش کر دیا

یہ سوچے بغیر کہ

کوئی لڑکی کسی مرد کے بارے میں کیا نہیں پڑھنا چاہتی

تم میرے اندر بوڑھی ہو رہی ہو

اس خواب کی طرح___ جسے کچھ دنوں بعد زہر کا انجکشن لگایا جانا ہے

ہر آغاز انجام کی طرف

___ اور___

 ہم انجام سے آغاز کی طرف بڑھ رہے ہیں

میں جانتاہوں

میری عمر کے ایک ارب مردوں میں سے

میرا انتخاب کرنا

تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا

Image: Dolk

Categories
شاعری

تبسم ضیاء کی نظمیں

تبسم ضیاء کی یہ نظمیں اہم ہیں، ایک تو اس لیے کہ ان نظموں میں جنسیت اور جنسیت زدگی کو سینسر کرنے کی کوئی شعوری کوشش موجود نہیں، اور دوسرا اس لیے کہ یہ نظمیں جنیسیت کو موضوع بناتے ہوئے کہیں بھی لغو نہیں ہوئیں۔ لیکن ان نظموں کو محض ان کے بے باک موضوعات یا اظہار کی بناء پر اہم قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ کسی بھی قسم کی اختیاری ابہام پسندی سے عاری اس سادہ طریق اظہار کی ستائش بھی ضروری ہے جو جدید نظم گو کے ہاں مفقود ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نطفے کا شور

(۱)
ہر سپرم ایک سوچ کا حامل ہے
نہ کوئی کسی کا باپ ہے
نہ کوئی کسی کا بیٹا
ہواؤں میں اچھالے گئے نطفوں کے سواکوئی نطفہ ماتحت نہیں ہوتا

(۲)
گٹر کے ڈھکنوں تلے بہائے گئے نطفے
سوکھی جگہ پر بیٹھ کراپنے زخم کھرونچ رہے ہیں
وہ ہمیں گھورتے ہیں
جیسے اپنی شناخت کے منتظر ہوں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا کی شہنائی

کائنات کے سُر
شہنائی کے سُر ہیں
دوغلے سُر
شادمانی کی آڑ میں غمگین سُر
جب پھیپھڑوں سے نکل کے منہ میں آتے ہیں
تو استا د بسم اللہ خان کے گال دنیا بن جاتے ہیں
ہر ہر آدمی اس کی شہنائی سے نکلتے سُر کے مشابہ ہے
مَکرے سُر۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نطفے کی موت

پنڈلیوں سے بال صاف کرتی عورتیں
اور وضو خانوں میں کلائیاں دھونے والیاں
اپنے نطفہ دانوں کو روتی ہیں
برسوں برگد کی داڑھی کوسنوارتی ہیں

اشک باری سے جڑیں نہیں سینچتیں،
پھل نہیں لگتے
ذکور اپنی ماداؤں سے آبیانہ وصول کرتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان تھر تھر کانپتاہے

نظر کی اک بوند کو ترسنے والوں کا ایمان کیوں کر قائم رہ سکتا ہے؟
لیکن ہے
پپوٹوں کے کھنڈرات میں بینائی کے نوادرات دریافت نہیں ہوتے

عقیدہ موت کا موجب ہے
صحرائی عورتوں کے مرجھائے ہوئے رحموں میں اُلو بولتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رحم خوفزدہ ہے

ماداؤں نے بچے جننا چھوڑ دیے ہیں
وہ عضوِ تناسل کو کیکٹس سمجھتی ہیں
رحم سوکھ چکے ہیں
اور کوکھیں کیڑے پالتی ہیں

مرد اپنی بیویوں کے پاس جانے سے کتراتے ہیں
وہ بچے کی پیدائش سے خوفزدہ ہیں
جو پیٹ سے تھیںانہوں نے بچے گرا دیے
گرے ہوئے بچے اپنی مائوں کو دعا دیتے ہیں
پِیٹھیں اندھیرے میںایک دوسرے کو گھورتی ہیں
بافتوں میں پڑے بے کار نطفے کسی کیمیا گر کے منتظر نہیں
’’اللہ اکبر۔۔ ، اللہ اکبر۔۔۔‘‘ کی صدا ئیں بلند ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو بے ربط مصرعے

میں ایک نظم لکھنا چاہتا ہوں
لیکن مصرعوں کوجانے کیا ہو جاتا ہے
بحر ۔۔۔درست نہیں ہوتی
کبھی ارکان پورے نہیں ہوتے اور وزن نہیں بنتا
نظم مکمل نہیں ہو پاتی
اور اگر
کبھی یوں لگے کہ مکمل ہونے کو ہے تو
آخری مصرعے پر قلم ٹوٹ جاتا ہے

وہ سودا بیچنے والی نہیں
نہ میں تماشبین ۔۔۔

Categories
شاعری

ایک کتے کی موت

بھونکنا چاہتا ہوں
اپنے اندر كے کتے پہ میں زور سے بھونکنا چاہتا ہوں
مگر یہ بھی ممکن نہیں
بھونک پانا تو دور
گلے سے مرے اب تو پانی اترنا بھی ممکن نہیں
اِس کو کہتے ہیں کتے کی موت
آبِ زم زم
گلوکوز کی بوتلوں سے چڑھاتے ہوئے
نرس بھی ہنس رہی ہے

Categories
شاعری

زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں

زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں
وہ رقص مر گیا
جو مذہب کے کسی دھاگے سے باندھا نہیں جا سکا
وہ دھمالیں موت کے خوف سے پاگل ہوئیں
جو آنکھ کی چرخیو ں پہ گھومتی تھیں
مر گئے زندگی کا مطلب پوچھنے والے
اور۔۔۔ سوگ کے کنووں میں پھینکا گیا
وہ وقت
جو موت کے پیروں سے رسیاں
لپیٹتا تھا

تم نے دھماکے کی آواز سنی
ہم نے موت کا اعلان
تم نے قیامت کی برہنہ تصویریں اتاریں
ہم نے زندگی کا خوف
ان جسموں کو کھول کر دیکھو
جن میں آنکھیں زندہ گاڑ دی گئیں

ہم اپنے آپ سے بے دخل ہو کر
کیا اس مٹی کے گیت گائیں؟
جو خدا کے بارے سوال کرتی ہے
اور۔۔۔ ہم خدا سے بچھڑنے کے بعد
قبروں کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے
قتل کر دئیے جاتے ہیں !!

Image: The News