Categories
شاعری

میں تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا (ساحر شفیق)

میں جیسا ہوں مجھے ویسا قبول کرو

میں نے اپنے ہاتھ خود نہیں بنائے

۔۔ اور ۔۔

نہ ہی آنکھیں کسی نیلامی میں خریدی ہیں

کیا اُس انسان کو محبت کرنے کا کوئی حق نہیں

جو ریاضی میں بمشکل پاس ہوتا رہا ہو؟

میں لکھنا ضرور جانتا ہوں

مگر اپنی تقدیر میں نے نہیں لکھی

تم مجھے حاصل کر سکتی ہو

اس کم سے کم قیمت پر

جو کسی آدمی کی لگائی جاسکتی ہے

زندگی گرمیوں کی دوپہر ہے

خواب دیکھتے ہوئے انسان خدا کے بائیں طرف سو رہا ہوتا ہے

میں نے خود کو ایک کتاب کی طرح پیش کر دیا

یہ سوچے بغیر کہ

کوئی لڑکی کسی مرد کے بارے میں کیا نہیں پڑھنا چاہتی

تم میرے اندر بوڑھی ہو رہی ہو

اس خواب کی طرح___ جسے کچھ دنوں بعد زہر کا انجکشن لگایا جانا ہے

ہر آغاز انجام کی طرف

___ اور___

 ہم انجام سے آغاز کی طرف بڑھ رہے ہیں

میں جانتاہوں

میری عمر کے ایک ارب مردوں میں سے

میرا انتخاب کرنا

تمہارے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا

Image: Dolk

Categories
شاعری

رات کی بے بسی

وہی رات ہے مگر اداس سی

وہی جگہ ہے مگر سونی سی

وہی گھڑی کی ٹک ٹک مگر روئی سی

شام کے 5 بجے تھے

جب روح تن سے جدا ہو کے پلٹی تھی

وہ سیڑھیاں چڑھا

ٹک ٹک سے ٹھوکر لگی

میں الوادعی بوسے کے ساتھ سوئی تھی

نیند کے پاؤں میں الجھتی بھاگی

 

میری گلیوں سے جانے والے کو کوئی موڑ لائے

وہ میری گلیوں کی بھول بھلیوں میں کھو کر

اپنے گھر کا رستہ بھول جائے

 

ہوا !!!

صحرا سے ریت لاؤ

اسے سراب بناؤ

وہ سرکٹ ہاؤس سے ہوتا

پگڈنڈیوں پہ چلتا

میرے گھر کی دہلیز پہ رکھ دے قدم

 

سنو!!!

میں نے سر شام ہی

ریت کے ہر ذرے میں سورج رکھ دیا ہے

یہ سورج میرا ہے

جب رستہ بھولو

یہ ہر ذرہ میں اگے گا

ذرے سے پھوٹتی کرنیں

گلی کی نکڑ پہ کھڑے

تمھیں رستہ دکھائیں گی

مگر رکو

میں خود تمھیں لینے آتی ہوں

پلٹنا نہ

میں اک پل سے پہلے آتی ہوں

 

یہ کیا۔۔۔؟

رات کا ایک بجا ہے

تم بستر کے سفر میں ہو

اس سے دو راتوں کی دوری کی کہانی سنتے

دو راتوں کے رت جگے کا کاجل

میری آنکھوں سے بہتے دیکھ کر روئے ہو

سونے سے پہلے یاد رکھنا

تم مجھے سرکٹ ہاؤس میں تنہا چھوڑ گئے ہو

Image: Henn Kim