پس انداز: زوالِ آدم کے بازار میں گمشدہ روایت کی بازیافت

ہمارے عہد کا المیہ یہ نہیں ہے کہ شاعری مر رہی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ شاعری اب ایک “مقدس عمل” کے بجائے ایک “سماجی عادت” بن کر رہ گئی ہے اور جب ادب عادت بن جائے تو اس میں سے وہ خوف، وہ دہشت اور وہ لرزہ خیز تجربہ غائب ہو جاتا ہے […]
غم کی ایک حسابی نظم اور دیگر نظمیں (زوہیب یاسر)

رائیگانی کی ایک نظم نیند کی کوئی دکاں نہیں ہے، اور خواب ارزانی کے باوجود بھی نہیں بکتے، دن بھر کی تھکن پور پور میں سموئے مستقبل کے خوابوں کا دھاگہ کروشئیے پہ چڑھائے تند پہ تند ڈالے جاتا ہوں، مگر کینوس پہ نقش مکمل ہو نہیں پاتا ہے، دھاگہ کہیں بیچ میں ہی ٹوٹ […]
آج کا گیت: جیون ایک دھمال (سرمد صہبائی، پٹھانے خان)

جیون ایک دھمال اُوسائیں جیون ایک دھمال تن کا چولا لہر لہو کی آنکھیں مِثل مَشال جیون ایک دھمال سانولے مکھ کی شام میں چمکے دو ہونٹوں کے لعل جیون ایک دھمال وصل کی برکھا باندھ کے نکلی ست رنگا رومال جیون ایک دھمال کس کے دھیان کی رُت میں ڈولے من کی کچی ڈال […]
ایک گیت گایا نہیں جا سکتا (فیثا غورث)

ایک گیت تمہیں گھیر لیتا ہے ایک گیت جو تم نے سن رکھا ہے ایک گیت جو تم کبھی نہیں سنو گے راستے میں چلتے ہوئے گھیر لیتا ہے ایک گیت تمہیں گلے لگا لیتا ہے ایک گیت جس کے لیے تم زندہ رہ سکتے ہو ایک گیت جس کے لیے تم مر سکتے ہو […]
تمہاری وجہ سے (فیثا غورث)

تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے میرے نام سے کوئی سڑک منسوب نہیں کی گئی میرے کارناموں پر کہیں کوئی مقالہ نہیں لکھا جا سکا اور کوئی قومی دن میرے لیے مختص نہیں کیا گیا تمہاری وجہ سے میں ان عمارتوں کا افتتاح […]
اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں موت کو رشوت دیتے ہیں اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں اور امید رکھتے ہیں ہم خود کو ہلاک کر لیں گے وہ چڑیا گھر میں شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں اور جب ہم وہاں سیر […]
دروازوں کی خود کُشی اور دوسری نظمیں (تبسم ضیا)

دروازوں کی خود کُشی دروازے کیا ہوتے ہیں؟ کیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیں؟ یا صرف اندر آنے کے لیے؟ دروازوں کا درست مصرف سمجھنے سے فلسفی قاصر رہے ہم تمام عمر ان کی حقیقت سے ناآشنا رہے ہمیں معلوم نہ ہو سکا اور دروازے ہمارے اندر سے خارج ہو گئے یا شاید اپنے […]
جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

ندیدی بچی ہے مگر جھک نہیں سکتی ماں کی نظروں سے مجبور اٹھا کر نہیں کھائے گی آپ کے ہاتھوں سے گرے چپس کے ٹکڑے پیار کرتی ہے مگر جھک نہیں سکتی عزت سے مجبور آپ کے تقاضوں پر چھوڑ دے گی آپ کو ہمیشہ کے لیے اچھی بیوی ہے مگر جھک نہیں سکتی بچوں […]
ہم زندہ رہتے ہیں (ساحر شفیق)

ہم زندہ رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ مر جاتے ہیں ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا باغیوں کے کسی گروہ کے ممبر نہیں بنتے کسی مداری کو زندہ سانپ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہوتا ہم اس کے باوجود مر جاتے ہیں ہمارے پاس ایک دن ہوتا ہے جسے ہم سو کر گزار دیتے ہیں اور […]
جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں ایک دوسرے کو دکھ میں اور خوشی میں اور مِل سکتے ہیں شام کی چائے یا ڈنر کے امکان پر میں اُس وقت کا سوچتا ہوں جب ہمارے درمیان ایک رات بھی نہیں رہے گی تب ہم کیا کریں گے؟ کہاں طلوع ہوں گے؟ Iamge: Eugenia […]
آدھا زندہ مجسمہ (ساحر شفیق)

وہ باتیں جو گاڑی چھوٹنے کی وجہ سے میں اس سے نہیں کہہ سکا تھا وہ باتیں ریل کی سیٹی نے جن کے کانوں میں سوراخ کر دیئے تھے میں نے اسٹیشن پر بکھری ہوئی الجھنوں اور سوالات کو سمیٹ کر کوٹ کی جیبوں میں بھرا ریل ایجاد کرنے والے کو گالی دی فاصلے کو […]
آسان رستے کا مسافر

حسین عابد: خون کی ہولی کھیلتے
اس کی چمکتی بتیسی میں
مردہ آدمی کے دانت کچکتے رہتے ہیں
وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

عذرا عباس: وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے
وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے گئے
مارنے والوں کے ہاتھ گوشت پوست کے کب تھے
کیا تھے؟
میں نے ایک گھر بنایا ہے

ابرار احمد: پہلے ۔۔۔میں رنگین شیشوں اور گھنیرے کمروں والے
اس گھر میں رہتا تھا
جسے میرے باپ نے تعمیر کیا
ایک گناہ کی اجازت

صفیہ حیات: طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا
وجود کو ڈستے ڈستے
صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے
اور ہمیں ایک بھی
گناہ کی اجازت مل نہیں پاتی