Categories
تبصرہ

پس انداز: زوالِ آدم کے بازار میں گمشدہ روایت کی بازیافت

ہمارے عہد کا المیہ یہ نہیں ہے کہ شاعری مر رہی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ شاعری اب ایک “مقدس عمل” کے بجائے ایک “سماجی عادت” بن کر رہ گئی ہے اور جب ادب عادت بن جائے تو اس میں سے وہ خوف، وہ دہشت اور وہ لرزہ خیز تجربہ غائب ہو جاتا ہے جو انسان کو اس کی اپنی حقیقت کے روبرو کھڑا کرتا ہے۔ اسد فاطمی کا مجموعہ “پس انداز” ہمارے سامنے آتا ہے تو پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ شاعر محض قافیہ پیمائی کی مشق کر رہا ہے یا اس کے اندر وہ “قدیم آدمی” زندہ ہے جو لفظ کو اپنے وجود کا حصہ سمجھ کر خرچ کرتا ہے؟ حسن عسکری نے کہا تھا کہ مغرب کی ہوائیں ہمارے گھر کے اندر تک آ گئی ہیں، لیکن اسد فاطمی کے کلام کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس شخص نے اپنے گھر کی کھڑکیاں اب تک شعوری طور پر بند رکھی ہیں، یا شاید یہ ان کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں سے آنے والی ہوا کو بھی اپنے چراغ کی لو کا حصہ بنانے کا ہنر جانتا ہے۔

شاعر کا تعلق اس قبیلے سے معلوم ہوتا ہے جو اب ناپید ہو چکا ہے۔ وہ قبیلہ جو شاعری کو الہام اور کسب کے درمیان ایک پل سمجھتا تھا۔ اسد فاطمی کی غزل میں جو فارسیت اور کلاسیکی تراکیب کا ہجوم ہے، وہ محض لغت دانی کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک ایسے تہذیبی نظام سے وابستگی کا اعلان ہے جسے ہمارا نیا “ترقی پسند” اور “جدید” ذہن رد کر چکا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ “ہنر کے کشکول میں جفا کے ثمر کی اک قاش رکھ گیا ہے” تو یہاں “کشکول” اور “ثمر” محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ ایک پوری روایت کے استعارے بن جاتے ہیں جہاں فنکار بھکاری بھی ہے اور بادشاہ بھی۔

ان کی شاعری کے پس منظر میں “استاد” کا کردار محض ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا استعارہ بن جاتا ہے جس کی “کلکِ بے نیازی” نے شاعر کی ہستی کی لوحِ خالی پر پیش لفظ لکھا تھا۔ ان کی نظم دراصل اسی روایت سے انحراف اور پھر اسی کی طرف واپسی کا ایک بلیغ اعتراف ہے جہاں شاعر یہ مانتا ہے کہ اس نے استاد کی ہر ہدایت کو “قط بہ قط، خط بہ خط غلط لکھا” مگر بالآخر وہ اسی دائرے میں واپس لوٹتا ہے جہاں روایت کا تقدس اسے پناہ دیتا ہے۔ یہ شعور انہیں جدید دور کی “کمرشلائزیشن” اور ادبی “شِٹ” (جیسا کہ انہوں نے “ایک تاریخی وعظ سے پہلے مائیکرو فون ٹیسٹنگ” میں طنزیہ انداز میں استعمال کیا) کے خلاف کھڑا کرتا ہے، جہاں وہ اپنی “بیاضِ غزل” کو دو ٹکے کی شہرت پر قربان کرنے کے بجائے اسے اپنی “آخری بچت” یا “پس انداز” کے طور پر سنبھال کر رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔”پس انداز” کا عنوان ہی جدید انسان کی نفسیات پر ایک گہرا طنز ہے۔ یہ اس “سیونگ” کا نام نہیں جو بنکوں میں رکھی جاتی ہے، بلکہ یہ اس روحانی سرمائے کا اشارہ ہے جو تہذیبی شکست و ریخت کے بعد ایک حساس روح کے تہہ خانے میں بچ رہتا ہے۔

اسد فاطمی کے ہاں “استاد” کا تصور محض ایک سکھانے والے کا نہیں، بلکہ ایک روحانی نسب نامے کا ہے۔ جدیدیت نے انسان کو باپ اور استاد سے محروم کر کے اسے “یتیم” بنا دیا ہے، مگر اسد فاطمی بضد ہیں کہ وہ یتیم نہیں ہیں۔ وہ اپنی نظموں اور غزلوں میں بار بار اس “نسب” کا حوالہ دیتے ہیں جو انہیں ماضی کے ایک غیر منقطع سلسلے سے جوڑتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو ایک خاص قسم کی حزنیہ فضا ہے، وہ ذاتی ناکامی کا نوحہ نہیں بلکہ یہ اس “اجتماعی لاشعور” کی بازگشت ہے جو محسوس کر رہی ہے کہ کچھ بہت اہم کھو گیا ہے۔ وہ “بازارِ زیاں” میں کھڑے ہو کر بھی منافع کی امید نہیں رکھتے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی شاعری ایک “روحانی مزاحمت” بن جاتی ہے۔ ان کا مصرعہ “بیٹھے ہیں اپنے دھیان میں محفل کو چھوڑ چھاڑ کر” اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شاعر ہجوم میں تنہا نہیں ہے، بلکہ ہجوم سے “بیزار” ہے، اور یہ بیزاری ہی اس کے تخلیقی جوہر کو زنگ لگنے سے بچاتی ہے۔

عام طور پر غزل میں جسم یا تو محبوب کا ہوتا ہے یا پھر ایک تجریدی وجود، مگر اسد فاطمی کے ہاں شاعر کا اپنا جسم ایک “کھنڈر” کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ وہ اپنی ذات کے داخلی کرب کو محض روحانی سطح پر نہیں رکھتے بلکہ اسے “جسمانی اذیت” میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ جب وہ “تن تندور الاؤ بھیا” کی بات کرتے ہیں تو یہاں گرمی موسم کی نہیں بلکہ ہڈیوں میں سلگتی ہوئی اس آگ کی ہے جو وجود کو آہستہ آہستہ بھسم کر رہی ہے۔ ان کی شاعری میں گرد اور دھول محض راستے کی نہیں بلکہ ان کے مساموں میں اتری ہوئی ہے۔ یہ “جسمانی ٹوٹ پھوٹ” دراصل اس تہذیبی شکست کا استعارہ ہے جو اب صرف روح تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ہڈی، ماس اور جلد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وہ اپنے ہونے کو ایک ایسے “بوجھ” کی طرح اٹھائے پھرتے ہیں جو اب ان کے کاندھوں کو چھلنی کر رہا ہے۔
اسد فاطمی کے ہاں ایک عجیب قسم کی “بے اعتنائی” اور “ملنگانہ طنز” موجود ہے جو خود ان کی اپنی ذات پر مرکوز ہے۔ وہ اپنے آپ کو “کم بخت”، “آفت” اور “ملغوبہ” کہہ کر پکارتے ہیں، اور یہ خود تضحیکی دراصل ان کا سب سے بڑا دفاع ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا ان پر ہنسے گی، اس لیے دنیا کے ہنسنے سے پہلے وہ خود اپنے اوپر قہقہہ لگا دیتے ہیں تاکہ دنیا کا وار خالی جائے۔ یہ وہ “رندانہ شوخی” ہے جو شدید ترین المیے کو بھی ایک “کامیڈی” میں بدلنے کا ہنر جانتی ہے۔ وہ المیے کو رو رو کر بیان کرنے کے بجائے ایک ایسی تلخ مسکراہٹ کے ساتھ پیش کرتے ہیں جو آنسوؤں سے زیادہ دلدوز ہوتی ہے۔ ان کا یہ انداز انہیں روایتی غزل گو شعراء سے ممتاز کرتا ہے جو صرف “رونا” جانتے ہیں، جبکہ اسد فاطمی “ہنستے ہوئے” مرنے کا ہنر جانتے ہیں۔

پس انداز کی شاعری میں جہاں وہ فارسی کی سنگلاخ زمین سے اتر کر اپنے “مقامی لہجے” میں بات کرتے ہیں، وہاں ان کی تاثیر دوچند ہو جاتی ہے۔ وہ کمرشلائزیشن” اور “ادبی سیاست” پر جب چوٹ کرتے ہیں تو ان کا لہجہ کسی صوفی کا نہیں بلکہ ایک ایسے “چڑچڑے دانشور” کا ہوتا ہے جو جانتا ہے کہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔
“دہقان”، “دریا”، “نہر”، “دوپہر”۔ یہ سب روایتی لفظ اور استعارے لگتے ہیں نا؟ مگر ٹھہریے اسد کا دہقان وہ پریم چند والا سیدھا سادا کسان نہیں ہے، یہ وجودی کرب کا مارا ہوا جدید انسان ہے جو “دریا” (وقت) کے کنارے کھڑا تماشا دیکھ رہا ہے۔ دریا بہہ رہا ہے اور دہقان کی آنکھوں میں ویرانی ہے۔ یہ تصویر کشی کسی مصور کا کام نہیں، ایک حساس شاعر کا کام ہے جس نے زندگی کو بہت قریب سے، شاید بہت قریب سے “چوٹ” کھا کر دیکھا ہے۔
اور یہ “گردِ سفر” کا قصہ کیا ہے؟ پوری کتاب میں شاعر کہیں ٹک کر نہیں بیٹھتا۔ کبھی وہ بازارِ زیاں میں ہے، کبھی رنگپورے کی نہر پر، کبھی چنیوٹ کی گلیوں میں۔ یہ بے چینی، یہ اضطراب، یہی تو وہ ایندھن ہے جس سے شعر کی بھٹی جلتی ہے۔ اگر شاعر مطمئن ہو کر بیٹھ جائے تو سمجھو مر گیا۔ اسد فاطمی زندہ ہے، کیونکہ وہ بے چین ہے۔ وہ اپنے “اندر” کے آدمی سے لڑ رہا ہے، باہر کی دنیا سے الجھ رہا ہے۔

ہمارے نئے لکھنے والوں نے “ذات” کے جس تصور کو مغرب کی اترن سمجھ کر پہن لیا ہے، وہ انہیں اندر سے کھوکھلا کیے جا رہا ہے، مگر اسد فاطمی کے ہاں ایک عجیب قسم کی “ضد” دکھائی دیتی ہے۔اپنی ذات کو بکھرنے سے بچانے کی ضد۔ ان کی شاعری میں جو “میں” ہے، وہ کوئی نرگسیت کا شکار جدید فرد نہیں بلکہ وہ “قدیم انسان” ہے جو جانتا ہے کہ کائنات کے ساتھ اس کا نامیاتی رشتہ ٹوٹ چکا ہے اور اب اسے یہ رشتہ اپنے لہو سے دوبارہ جوڑنا پڑے گا۔ جب وہ غزل کے روایتی ڈھانچے میں اپنے وجودی تجربے کو ڈھالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں پر پلاسٹر چڑھا رہے ہیں۔ یہ عمل تکلیف دہ ضرور ہے اور قاری کو بھی اس تکلیف میں شریک کرتا ہے، مگر اس کے بغیر چارہ بھی نہیں۔ ان کا لفظی نظام اس بات کا گواہ ہے کہ وہ زبان کو محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ “وجود کا گھر” سمجھتے ہیں، اور جب گھر میں آگ لگی ہو تو آدمی کھڑکی سے باہر کے نظارے نہیں کرتا، بلکہ پہلے آگ بجھانے کی فکر کرتا ہے، چاہے اس کوشش میں ہاتھ ہی کیوں نہ جھلس جائیں۔
پھر معاملہ صرف ذات کا نہیں، “عشق” کا بھی ہے جو ہمارے عہدِ زریں میں یا تو جنسی ہیجان کا نام ہو گیا ہے یا پھر سماجی تعلقات کی ایک مسخ شدہ صورت۔ اسد فاطمی کے مجموعے میں عشق ایک “تہذیبی قوت” بن کر ابھرتا ہے، ایک ایسی قوت جو “مارکیٹ” کے اصولوں کو ماننے سے انکاری ہے۔ وہ اپنے محبوب کو کسی اشتہار کا ماڈل نہیں بناتے اور نہ ہی اسے کھپت کی کوئی شے سمجھتے ہیں بلکہ اسے اس “غیب” کا استعارہ بنا دیتے ہیں جس سے مکالمہ کیے بغیر انسانی زندگی بے معنی اور بے رس ہے۔ ان کے ہاں محبت، وصال کی خواہش سے زیادہ “فراق” کے ان آداب کا نام ہے جو انسان کو اندر سے پختہ کرتے ہیں۔ آج کا قاری جو “انسٹنٹ کافی” کی طرح فوری نتیجے اور فوری سرشاری کا عادی ہے، اسے اسد کی یہ “ریاضت” شاید بوجھل لگے، مگر شاعر کو اس کی پروا اس لیے نہیں کہ وہ جانتا ہے کہ سچی شاعری قاری کی خوشنودی کے لیے نہیں بلکہ اپنی روح کی تطہیر اور کائنات سے اپنے تعلق کی بازیافت کے لیے کی جاتی ہے۔

مزید برآں، اسد فاطمی وقت کو جس پیمانے سے ناپتے ہیں وہ گھڑی کی سوئیوں والا حسابی وقت نہیں بلکہ وہ “ازلی وقت” ہے جس میں ماضی، حال اور مستقبل ایک نقطے پر آ کر مل جاتے ہیں۔ مابعد جدید عہد نے ہمیں “لمحہِ موجود” کا اسیر بنا دیا ہے اور ہم تاریخ کے تسلسل سے کٹ گئے ہیں، مگر اسد فاطمی اس لمحے کو پھلانگ کر اس “دائمی سچائی” تک پہنچنا چاہتے ہیں جو روایت کے دامن میں چھپی ہے۔ ان کا یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ “تاریخ” کے جبر کو تسلیم تو کرتے ہیں مگر اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں، وہ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں جو آج کل کے شعری منظرنامے میں نایاب ہے۔

ان کی زبان کا کھردرا پن اور فارسی آمیز لہجہ دراصل اس “چکنی چپڑی” زبان کے خلاف ایک بھرپور احتجاج ہے جس نے ہماری فکر کو مفلوج اور ہمارے احساس کو کند کر دیا ہے۔ وہ جان بوجھ کر ایسے الفاظ اور تراکیب استعمال کرتے ہیں جو قاری کو “ٹھوکر” لگائیں، تاکہ وہ رک کر سوچے کہ یہ لفظ یہاں کیوں ہے؟ یہ “لسانی مزاحمت” ہی ان کا اصل ہتھیار ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اردو شاعری کا مزاج محض محفل میں “واہ واہ” کروانا نہیں تھا بلکہ قاری کے شعور کو ایک ایسی سطح پر لے جانا تھا جہاں اسے اپنی “کم مائیگی” اور کائنات کی ہیبت کا احساس ہو سکے۔ اسد فاطمی کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو جھوٹی تسلی نہیں دیتے بلکہ اسے بے چین کرتے ہیں، اسے اس کے خواب غفلت سے جھنجھوڑتے ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ جس فن سے قاری کا سکون برباد نہ ہو، وہ فن نہیں، محض ایک نشہ ہے جو اتر جائے گا۔

مجموعی طور پر، “پس انداز” ایک ایسے شاعر کی دستاویز ہے جو اپنے عہد کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکاری ہے۔ یہ شاعری ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو ادب میں “تفریح” تلاش کرتے ہیں، بلکہ ان کے لیے ہے جو ادب میں “اپنا چہرہ” دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ چہرہ کتنا ہی مسخ شدہ کیوں نہ ہو۔ اسد فاطمی نے ثابت کیا ہے کہ روایت کی راکھ کریدنے سے صرف ہاتھ کالے نہیں ہوتے، بلکہ کبھی کبھی اس میں سے کوئی چنگاری بھی نکل آتی ہے جو اس ٹھنڈے اور بے حس معاشرے میں آگ لگانے کے کام آ سکتی ہے۔ یہ کتاب ایک اعلان ہے کہ “آدمی” ابھی پوری طرح نہیں مرا، اس کے اندر کا “دکھ” ابھی زندہ ہے، اور جب تک دکھ زندہ ہے، شاعری زندہ رہے گی۔ اسد فاطمی کی کامیابی یہ نہیں کہ انہوں نے کوئی نیا فلسفہ پیش کیا ہے، بلکہ ان کی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ ہم کیا بھول چکے ہیں۔ اور یقین مانیے، آج کے دور میں یاد دہانی سے بڑا کوئی جہاد نہیں۔

Categories
شاعری

غم کی ایک حسابی نظم اور دیگر نظمیں (زوہیب یاسر)

رائیگانی کی ایک نظم

نیند کی کوئی دکاں نہیں ہے،
اور خواب ارزانی کے باوجود بھی نہیں بکتے،
دن بھر کی تھکن پور پور میں سموئے
مستقبل کے خوابوں کا دھاگہ
کروشئیے پہ چڑھائے تند پہ تند ڈالے جاتا ہوں،
مگر کینوس پہ نقش مکمل ہو نہیں پاتا ہے،
دھاگہ کہیں بیچ میں ہی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔
کہانی لکھتے لکھتے نیند آنے لگتی ہے،
اور نیند میں اٹھ کے کبھی
لکھنے لگتا ہوں سلسلہ جہاں سے ٹوٹا تھا،
مگر کہانی بھی مکمل ہو نہیں پاتی ہے،
شبدوں کی کمی پوری ہو نہیں پاتی ہے۔۔۔
خوابوں کا مگر رونا ہے،
دن، مہینے سال،
بچپن جوانی بڑھاپا کسی اور کے خوابوں کی تعبیر
کے ادھیڑ بن میں گزرے،
اور اب آنکھوں میں نیند نہیں اور
خوابوں کی زنبیل ارزانی کے باوجود،
کندھوں کا بوجھ بنی ہوئی ہے،
نیند کی کوئی دکاں نہیں ہے۔ ۔ ۔

غم کی ایک حسابی نظم

خوشی ویری ایبل ہے
اور غم کونسٹینٹ ،
خوشی اور غم کی یہ مساوات ،
الجیبرا سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔۔۔۔
یہ اعداد و شمار کی ایسی كسر لا مختتم ہے ،
کہ جس کا کوئی سِرا دوسرے سرے سے نہیں ملتا ،
اِس مساوات کو متوازن کرتے
عمریں بیت جاتی ہیں۔۔
خوشی ویری ایبل ہے اور غم کونسٹینٹ،
اگر اسے گراف پیپر پر پھیلاؤں ،
تو ‘ایکس’ کا محیط بڑھتا جاتا ہے ،
اور ‘وائے’ کہیں اور ہی اپنی پہچان کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔۔
یہ وہ فارمولا ہے جہاں ‘اسٹیٹس’ کے سارے ‘میڈین’ اور ‘رینج’ ناکام ہو جاتے ہیں ،
جہاں الگورتھم کا جھگڑا پاک ہو جاتا ہے ،
اور جس میں کمپاس اور پروٹیکٹر بھی کام نہیں آتے۔۔
خوشی ویری ایبل ہے اور غم کونسٹینٹ۔۔

اسکیچ۔۔۔۔

ماضی کے جھروکے سے جھانکا
تو دور تلک تیرے ساتھ گزرے لمحوں کی خاک اڑ رہی تھی۔۔۔۔
سگریٹ کے کش نے ہجر کے موسم پر مہر تصدیق ثبت کی،
دھوئیں کے مرغولوں نے کمرے کو بھر دیا،
گویا کسی مقدس اوتار کی آمد ہو۔۔۔۔
میں گم ہو گیا اور تیری یاد
موسم بن کر مجھ پہ بیت گئی۔۔۔۔۔۔

گورنمنٹ گرلز کالج ماڈل ٹاؤن، لاہور میں GAT کا پرچے دیتے ہوئے۔۔۔!!!

امتحان گاہ تھی
یا نازنینوں کی آماجگاہ!
سرخ و سفید، رنگ برنگے
دلکش لباسوں میں
جلوے بکھیرتی، سوال نکالتی،
جواب دیتی نازنینیں،
قلم رواں، سانسیں رکی ہوئی،
کسی سوال کا جواب غلط ہو گیا
تو نمبر کم ہو جائیں گے!
سوچتی، سر ہلاتی نازنینیں،
پرچہ حل کرنے میں مگن!!
اور میں الگ تھلگ سب سے،
پرچے اور مستقبل سے نا آشنا،
رنگ اور نور کے اس میلے میں،
گم رہا، کھویا رہا، دیکھتا رہا۔۔۔۔!

گوگل ارتھ

تمہارے گھر، گلی کوچے سے نکلنے کے بعد
تمہارے محلے کے اس ننھے قاصد سے
رابطہ ٹوٹنے کے بعد،
تمہیں تلاش کرنے کا، دیکھنے کا
ایک یہ ہی ذریعہ بچا ہے۔۔۔۔۔

وچھوڑا

جانے کے وقت آ گیا تھا،
اور میں سامان باندھے کسی بھی لمحے،
کوچ کا منتظر تھا۔
گاڑی کی سیٹی, سینے سے اٹھتی کوئی ہوک محسوس ہوتی تھی۔۔
سامان کی گٹھڑیوں میں گزرے ہوئے پل، لڑائی جھگڑے، روٹھنا منانا،
سبھی کچھ یاد سے باندھ لیا تھا۔
نئے راستوں کا سفر درپیش از ہمیش تھا،
اور اکثر بنا کسی منزل کے سفر کرتے،
اب بے سمتی کی عادت سی ہوگئی تھی۔
تم خود کو سنبھال سکتی تھی، سنبھلنا بھی جانتی تھی،
مگر یہ خلش تھی کہ
روٹی پکاتے، بھاپ سے جلی انگلی کس کو دکھاؤ گی۔۔
جلدی میں پہنے ہوئے کپڑوں کو کون پہچانے گا،
یا تمہاری لپ اسٹک کا شیڈ، ہونٹوں کی سرحدوں سے آگے نکل گیا، یہ کون بتائے گا۔
دوپٹے پر گھی کے داغوں کو کون پہچانے گا۔۔
جانے کا وقت آگیا تھا
اور میں نے سامان باندھ لیا تھا۔۔۔

ایک اور دریا کا سامنا

ابھی پھر، آج سے دوبارہ،
مجھے اس کاروبار دنیا کا حصہ بننا ہے،
اپنے بدن کو خواہشوں کے اس کارخانے میں جوت کر،
چند خواہشیں کمانی ہیں،
ابھی کہاں فرصت کہ میں،
ہمسائے میں ہوئے قتل پر آنسو بہاوں،
یااس جواں سال لڑکی کی عصمت کا نوحہ لکھوں کہ
جس کا جرم،
فطرت کی عطیہ کردہ خوبصورتی تھی
(تو پھر کیوں نہ فطرت کو پھانسی گھاٹ لے جایا جائے),
ابھی پھر آج سے،
اس روشن دن نے گھیرا ہے، جس کی روشنی میرے مقدر سے سیاہ ہے،
ابھی کہاں فرصت کہ میں تیرے ہجر میں،
گریہ کروں، رو رو کے ہلکان ہو جاؤں،
یا تمہیں سوچتے گھنٹوں، بے جان و بے سدھ پڑا ہوں،
ایک اور (روشن) دن کا سامنا ہے درپیش،
ایک اور دن مجھے زندگی بتانی ہے۔۔۔

Categories
عکس و صدا

آج کا گیت: جیون ایک دھمال (سرمد صہبائی، پٹھانے خان)

جیون ایک دھمال اُوسائیں
جیون ایک دھمال

تن کا چولا لہر لہو کی
آنکھیں مِثل مَشال
جیون ایک دھمال

سانولے مکھ کی شام میں چمکے
دو ہونٹوں کے لعل
جیون ایک دھمال

وصل کی برکھا باندھ کے نکلی
ست رنگا رومال
جیون ایک دھمال

کس کے دھیان کی رُت میں ڈولے
من کی کچی ڈال
جیون ایک دھمال

تیری چال کی سنگت کرتی
دھڑکتے دل کی تال
جیون ایک دھمال

آنکھوں میں دیدار کی مِستی
تن میں لہو بھونچال
جیون ایک دھمال

سانجھے دُکھ سُکھ سانجھا اَن جَل
سانجھ مویشی مال
جیون ایک دھمال

کِن گہری مُشکی راتوں کے
بھیدی کالے بال
جیون ایک دھمال

سرمدؔ یار تمھیں ہو رانجھو
ملے جو ہیرؔ سیال
جیون ایک دھمال او سائیں
جیون ایک دھمال

Categories
شاعری

ایک گیت گایا نہیں جا سکتا (فیثا غورث)

ایک گیت تمہیں گھیر لیتا ہے
ایک گیت جو تم نے سن رکھا ہے
ایک گیت جو تم کبھی نہیں سنو گے
راستے میں چلتے ہوئے گھیر لیتا ہے

ایک گیت تمہیں گلے لگا لیتا ہے
ایک گیت جس کے لیے تم زندہ رہ سکتے ہو
ایک گیت جس کے لیے تم مر سکتے ہو
تمہیں پہچان کر گلے لگا لیتا ہے

ایک گیت تمہیں قتل کر دیتا ہے
ایک گیت جس سے تم محبت کرتے ہو
ایک گیت جس سے تم نفرت کرتے ہو
تمہارا گلا گھونٹ کر تمہیں قتل کر دیتا ہے

پڑے پڑے ایک کھٹا اور میٹھا گیت
بدذائقہ ہو سکتا ہے
رکھے رکھے ایک سادہ مگر الجھا ہوا گیت
شکن آلود ہو سکتا ہے
ایک گیت دُکھنے لگتا ہے
جب اس میں پیپ پڑ جاتی ہے
یا تمہارے گلے میں پھنس سکتا ہے
جب تم اسے نگلنے لگتے ہو

لیکن ایک گیت بھلایا نہیں جا سکتا
ایک بھلایا ہوا گیت
ایک خون آشام عفریت ہے
جو تمہیں بھنبھوڑ ڈالتا ہے

ایک گیت دہرایا نہیں جا سکتا
ایک دہرایا گیا گیت
ایک موذی عادت ہے
جو تمہیں تھکا دیتی ہے

ایک گیت گایا نہیں جا سکتا
ایک گایا گیا گیت
ایک بے کار سہولت ہے
جسے تم کبھی استعمال نہیں کر سکتے

Categories
شاعری

تمہاری وجہ سے (فیثا غورث)

تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا
میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے
میرے نام سے کوئی سڑک منسوب نہیں کی گئی
میرے کارناموں پر کہیں کوئی مقالہ نہیں لکھا جا سکا
اور کوئی قومی دن میرے لیے مختص نہیں کیا گیا

تمہاری وجہ سے
میں ان عمارتوں کا افتتاح نہیں کر سکا
جو میرے دیئے ہوئے چندے سے تعمیر ہو سکتی تھیں
میں ان بیمار بچوں کے ساتھ تصویریں نہیں بنوا سکا
جو مرنے سے پہلے ایک بار
میرے ساتھ تصویریں بنوانے والے تھے

میں وہ نامور کھلاڑی تمہاری وجہ سے نہیں بن سکا
جسے دیکھنے کے لیے لوگ قطاریں بناتے ہیں
یا جو واشنگ پاوڈر کے اشتہار میں آ سکتا ہے
نہ وہ فلمی ستارہ
جس کی عشق بازیوں سے
اخباروں کے صفحے رنگین ہوتے ہیں

میرے نام کے جلسے
میرے نام کے جلوس
میرے نام کے تہوار
میرے نام کے درخت کہیں بھی نہیں
شہر میں کہیں بھی میرے نام کی کوئی یادگار تمہاری وجہ سے نہیں بنی

ان فرشتوں سے
جو مجھ تک وحی پہنچانے کو بے چین رہتے ہیں
میں تمہاری وجہ سے ہم کلام نہیں ہوتا
حیات قبل از حیات کی کوئی حکایت
نجات بعد از حیات کی کوئی سبیل
مجھ سے روایت نہیں ہو سکی
(اور اگر ایسا ہو بھی جاتا
تو مجھ پر ایمان لانے والے
تمہاری وجہ سےمرتد ہو جاتے)

تمہاری کوکھوں، پستانوں اور رانوں کا بوجھ اٹھاتے
میری آنکھیں دھنس گئی ہیں
میرے ہاتھ مفلوج ہو گئے ہیں
میری زبان سبز ہو گئی ہے
اور تمہاری وجہ سے
میں یہ نظم مکمل نہیں کر سکا

Image: Giuseppe Guerreschi

Categories
شاعری

اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں
موت کو رشوت دیتے ہیں
اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں
وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں
اور امید رکھتے ہیں
ہم خود کو ہلاک کر لیں گے
وہ چڑیا گھر میں
شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں
اور جب ہم وہاں سیر کرنے جاتے ہیں
اس دن وہ شیر کا راتب بند کر دیتے ہیں
جب چاند ٹوٹا پھوٹا نہیں ہوتا
وہ ہمیں ایک جزیرے کی سیر کو بلاتے ہیں
جہاں نہ مارے جانے کی ضمانت کا کاغذ
وہ کشتی میں ادھر ادھر کر دیتے ہیں
اگر انہیں معلوم ہو جائے
وہ اچھے قاتل نہیں
تو وہ کانپنے لگیں
اور ان کی نوکریاں چھن جائیں
وہ ہمارے مارے جانے کا خواب دیکھتے ہیں
اور تعبیر کی کتابوں کو جلا دیتے ہیں
وہ ہمارے نام کی قبر کھودتے ہیں
اور اس میں لوٹ کا مال چھپا دیتے ہیں
اگر انہیں معلوم بھی ہو جائے
کہ ہمیں کیسے مارا جا سکتا ہے
پھر بھی وہ ہمیں نہیں مار سکتے

Categories
شاعری

دروازوں کی خود کُشی اور دوسری نظمیں (تبسم ضیا)

دروازوں کی خود کُشی

دروازے کیا ہوتے ہیں؟
کیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیں؟
یا صرف اندر آنے کے لیے؟
دروازوں کا درست مصرف سمجھنے سے
فلسفی قاصر رہے

ہم تمام عمر
ان کی حقیقت سے ناآشنا رہے
ہمیں معلوم نہ ہو سکا
اور دروازے ہمارے اندر سے خارج ہو گئے
یا شاید
اپنے ہی اندر داخل ہو گئے

داخل اور خارج ہونے کی بحث جاری تھی
کہ دروازوں کو دوام بخشا جا سکے
لیکن دروازوں کی خود کشی سے
مداومت کی موت واقع ہو گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلم ڈاگ

گرمیوں کے موسم میں
لالٹین کی آگ سینکتے ہیں
تو ٹھنڈابلب مسکراتا ہے
اور ہماری بے بسی پر منہ چڑاتا ہے

بہت سی ہڈیاں
کھال کے تھیلے میں پڑی چبھتی رہتی ہیں
روزانہ کئی کتے
فوڈ سٹریٹ میں
خوراک کی تلاش میں مصروف
کچرے کے ڈھیر پہ
ایک دوسرے پر غراتے ہیں

زمین کے بالوں میں کنگھی کرتی
گرم سرد ہوائیں
خیالوں کی پرانی دیگ میں باس مارتے خواب
کولہوں کی بھٹی کے پاس جلتا سرد خون
آہیں بھرتی پیروں میں بکھری سسکیاں
انجان سڑک پہ اُدھڑاپڑالاوارث پیٹ
جسے اجنبی شعبدہ باز
ہنسی کی ٹھوکریں مار کر گزر جاتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مالوف کی اولادِ بائن

اس کا نام ہم نے پیدائش سے پہلے ہی رکھ لیا تھا
میں جانتا تھا،
پیدائش کے وقت میں اسے مل نہیں سکوں گا کہ کوئی ہماری شکلوں میں مماثلت پیدا نہ کرلے
میں چاہتا تھا،
وہ اپنے ہاتھوں سے مجھے میرا دوسرا جنم تھمائے

میں نے یونہی ایک دن اس سے پوچھاکہ اس کی پیدائش پہ مجھے کیا تحفہ دو گی
کہنے لگی
سونے میں تول دوں گی
میں نے اپنے تھوک والا ہاتھ اس کے پیٹ پر لگایا
اور چل دیا

کوئی چند ماہ مجھے پکارتے رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خود رُسوا

میرے دل میں اُگتی پیار کی فصل کو
جب لو گوں کی نفرت کے فضلے کی کھاد ملی
تو سِٹے چمک کر سونا ہو گئے
پھر وہی فصل کاٹنے کا وقت آیاتو میرے خلوص کی درانتی کُند ہو گئی
اور دل شکم کے آنسووں سے بھر آیا

درانتی خوب چلائی گئی لیکن فصل نہ کٹی
میرے ہاتھوں پر کیچڑ لگا ہوا تھا
سٹے نیلے ہو چکے تھے

محبت نے خلوص کے ساتھ نیّت کو اٹھا کر نفرت کے فضلے پہ پٹخ ڈالا
اور درد نے محبت کے اُپلے ناف پر تھاپنا شروع کر دیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روح سے لپٹا پیاسا کوا

روح سے لپٹے پیاسے کوّے نے پیاس بجھانے کویہاں وہاں دیکھا
ایک مٹکے پہ نظر پڑی تو اس کے کنارے جا بیٹھا
معلوم ہوا۔۔۔ کنارہ ، کنارہ نہیں

پانی بہت دور تھا
قریب لانے کو کنکر ڈالے تو پانی ان میں رستا نظر آیا
گویا موت نظر آئی
کوّے نے شیطان کو دوست کیا
اور اپنے رونگٹے پانی کے مساموں میں اتار دیئے
پانی ان میں چڑھنا شروع ہو ا
نئی زندگی کے پہلے لفظ نے ہاتھ بڑھا کر
موت کے آخری حرف کو تھاما
اور ایک نیا جملہ وجود میں آیا
کائیں کائیں۔۔۔کائیں کائیں۔۔۔

Categories
شاعری

جھک نہیں سکتی (تنویر انجم)

ندیدی بچی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
ماں کی نظروں سے مجبور
اٹھا کر نہیں کھائے گی
آپ کے ہاتھوں سے گرے
چپس کے ٹکڑے

پیار کرتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
عزت سے مجبور
آپ کے تقاضوں پر
چھوڑ دے گی آپ کو
ہمیشہ کے لیے

اچھی بیوی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
بچوں سے مجبور
چھین لے گی واپس آپ سے
اپنے چرائے ہوئے پیسے

دعائیں دیتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
خودداری سے مجبور
چلی جائے گی
آپ کے گھر سے
فٹ پاتھوں پر رہنے

ٹھیک لگتی ہے
مگر جھک نہیں سکتی
کمر درد سے مجبور
اٹھا کر دے دیجئے
زمین پر پڑے
بھیک کے پیسے

Categories
شاعری

ہم زندہ رہتے ہیں (ساحر شفیق)

ہم زندہ رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
مر جاتے ہیں

ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا
باغیوں کے کسی گروہ کے ممبر نہیں بنتے
کسی مداری کو زندہ سانپ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہوتا
ہم اس کے باوجود مر جاتے ہیں

ہمارے پاس ایک دن ہوتا ہے
جسے ہم سو کر گزار دیتے ہیں
اور ایک زندگی
جو کسی لڑکی کے نام کر دی جاتی ہے

جب سورج مر جاتا ہے
ہم چھت پر ٹہلتے ہوئے
پڑوس میں رہنے والی عورتوں کو سونگھتے ہیں
جب فسادات میں مرنے والوں کے اعضاء اکٹھے کیے جارہے ہوتے ہیں
ہم کسی اخباری تصویر پر پنسل سے
مونچھیں بنا رہے ہوتے ہیں

ہم موٹے ہو جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے باوجود زندہ رہتے ہیں

عین اُس وقت /جب ہم خواب میں
کسی نو عمر لڑکی کے بریزئیر کا ہُک کھول رہے ہوتے ہیں
ایک بوڑھی چڑیل ہمارے مُنہ میں پیشاب کر دیتی ہے

جب کوّے اپنا قومی ترانہ پڑھ رہے ہوتے ہیں
سمندر ہمیں خودکُشی کے دعوت نامے بھیجتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ہم
آگ کا حمل ٹیسٹ کروانے کے لیے جہنم کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہوتے ہیں
ہمارے ہاتھ بوڑھے ہوجاتے ہیں
ہمارے پائوں چُرا لیے جاتے ہیں
دروازہ دیوار میں تبدیل ہوجاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم
آگ کے حمل کی طرح گِر جاتے ہیں

Categories
شاعری

جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے
اور ہم دیکھ سکتے ہیں
ایک دوسرے کو
دکھ میں
اور خوشی میں
اور مِل سکتے ہیں
شام کی چائے
یا ڈنر کے امکان پر
میں اُس وقت کا سوچتا ہوں
جب ہمارے درمیان
ایک رات بھی نہیں رہے گی
تب ہم کیا کریں گے؟
کہاں طلوع ہوں گے؟
Iamge: Eugenia loli

Categories
شاعری

آدھا زندہ مجسمہ (ساحر شفیق)

وہ باتیں جو گاڑی چھوٹنے کی وجہ سے
میں اس سے نہیں کہہ سکا تھا
وہ باتیں
ریل کی سیٹی نے جن کے کانوں میں سوراخ کر دیئے تھے

میں نے اسٹیشن پر بکھری ہوئی الجھنوں اور سوالات کو سمیٹ کر
کوٹ کی جیبوں میں بھرا
ریل ایجاد کرنے والے کو گالی دی
فاصلے کو غصے سے گھورا
-اور- قطار میں کھڑے لوگوں کو دھکیلتا ہوا
باہر نکل آیا

میں نے اسمگلنگ کا سامان بیچنے والے آدمی سے
ایک صندوقچہ خریدا
-اور- اس میں تمام باتوں کو بھر دیا
چوروں کے محلے سے ایک تالا خریدا
اسے صندوقچے کے جبڑوں میں پھنسا دیا

میں کئی دن اس صندوقچے کو اٹھائے پھرتا رہا
میں اُسے پہاڑ
-یا-
کسی عمارت کے اوپر سے گرادیتا
اگر مجھ میں ہمت ہوتی
اسے مطلوبہ اونچائی تک لے جانے کی

آخر رات کی تاریکی میں
گڑھا کھود کر دفنا دیا اسے
شہر کے چوک میں نصب مجسمے کے قدموں میں
یہ باتیں تم مجھے ویسے بھی بتا سکتے تھے
یہ کہہ کر مجسمے نے
جھک کر صندوق میں سے ایک بات نکالنا چاہی
میں نے کلہاڑے سے اس کی گردن اڑا دی

صبح شہر بیدار ہوا تو
دیکھنے والوں نے دیکھا
مجسمے کے کندھوں پہ میرا سر لگا ہوا تھا
Image: Kevin Conor Keller

Categories
شاعری

آسان رستے کا مسافر

وہ خواب دیکھنا دوسروں کو سونپ دیتا ہے
دوسرا
ہزاروں سال پہلے مرچکا ہو
تو یہ اور بھی محفوظ سودا ہے
آدمی کو اپنا خواب نہ دیکھنے سے
کتنی راحت ملتی ہے!
وہ ایک پرچم کے ڈنڈے پر بیٹھ سکتا ہے
گائے کے سینگوں پر لیٹ سکتا ہے
ہلال کو ستارے سے ٹکرا سکتا ہے
اور مرے بغیر
صلیب پہ لٹکا رہ سکتا ہے
نیچے
گلی میں
خون کی ہولی کھیلتے
اس کی چمکتی بتیسی میں
مردہ آدمی کے دانت کچکتے رہتے ہیں

Categories
شاعری

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے
وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے گئے
مارنے والوں کے ہاتھ گوشت پوست کے کب تھے
کیا تھے؟
ہاں، لوگ کہتے ہیں
وہ خون پینے والے جنگلی جانوروں کے پنجوں سے ملتے جلتے تھے
یہ آتے کہاں سے
جنگل سے؟
یہ بھوکے ہیں کیا؟
انسانی جانوں کے
ہاں
کسی نہ کسی شکل میں
لیکن کب تک
پتہ نہیں یہ چھوڑ دئیے جاتے ہیں
ہر موسم میں
کون چھوڑتا ہے ان کو
وہ جو زندہ رہنا چاہتے ہیں
انسانی جانوں کے بل بوتے پر
ان کی قبریں ترس رہی ہیں ان کے لئے
کب ان کےپیٹ پھٹیں گے
کب یہ ان کو بھریں گے
اب تو ان کی قبروں پر
کتے بلیوں نے پیشاب کرنا بھی چھوڑ دیا ہے
وہ جاننے لگے ہیں
یہ قبریں ان کی منتظر ہیں
جو انسانوں کا گوشت کھاتے ہیں
ان کے بچوں کا خون پیتے ہیں
موت بھی ان کا پیچھا نہیں کرتی
وہ جانتی ہے
اللہ نے ان کی رسی دراز کی ہوئی ہے
لیکن کب تک
یہ جشن منائیں گے
آخر کب تک
Image: Miream Salameh

Categories
شاعری

میں نے ایک گھر بنایا ہے

پہلے ۔۔۔میں رنگین شیشوں اور گھنیرے کمروں والے
اس گھر میں رہتا تھا
جسے میرے باپ نے تعمیر کیا
محبت کی گلیوں میں آباد وہ گھر
ہمیں در بدری اور دھوپ سے بچا نہ پایا
لیکن — کبھی نہ ختم ہونے والی مسافرت میں
اس گھر کی خوشبو
ہمیشہ میری سانسوں میں چلتی رہی
میں بہت سے گھروں میں رہا
ایک تعلق بھری مغایرت کے ساتھ
وہ کمرہ نما گھر
جس کی اداس شاموں میں دھول اڑا کرتی تھی
اور صحرائی میدانوں کی گرم جوش ہوا
دل میں بے چینی بھر دیتی تھی
جس کی خاموشی میں
دوستوں، دور افتادہ یادوں
اور آنے والے دنوں کی صورت گری سے
رونق لگی رہتی تھی
ایک اجنبی پہاڑ پر وہ خیمہ
جو ایک پر شور دریا کے کنارے
تیز ہواؤں کی زد پر ساری رات پھڑکتا تھا
جہاں پتروماکس کی روشنی میں
میں نے ” وار اینڈ پیس ” کا مطلب جانا
اور کتابوں سے باہر کی دنیا کو دیکھا
پر کیف خوابوں جیسا وہ گھر
جس کے اطراف میں بہت بارش ہوتی اور
بہت مہمان آتے تھے
زندہ دل لوگوں اور گھروں کے درمیان کا وہ گھر
جہاں پارک کی روش پر ٹہلتے ہوئے
ہنستے کھیلتے، ایک عمر بیت گئی
اور ایک گھر
جو ان گھروں سے پرے
میرے خیالوں ہی میں بنا رہا
گھر ہوتا ہے، رہنے والوں کے لیے
اور یہاں قیام کس کو ہے؟
ویسے بھی کچھ لوگوں کا گھر نہیں ہوتا
یا پھر وہ گھروں کے نہیں ہوتے
میں نے اب
ادھر ادھر سے اینٹیں جمع کر کے
ایک خوب صورت گھر تعمیر کیا ہے
ایک چھت جو انھیں دھوپ اور آندھی سے بچا سکے
اپنے بچوں کے لیے
ان کی روشن آنکھوں کے خوابوں کی رہایش گاہ —–
لیکن میرا تو ایسا سایہ بھی نہیں
جہاں وہ تا دیر قیام کر سکیں
پھر بھی
زندگی کے گلی کوچوں سے گزرتے ہوئے
اجنبی زمینوں پر نئے گھر بناتے ہوئے
اس گھر کی خوشبو
اور میرے تھکے ماندے خوابوں کی چاپ
ہمیشہ ان کے ساتھ ساتھ چلے گی
موجود اور معدوم کے
کناروں تک
Image: Peterio

Categories
شاعری

ایک گناہ کی اجازت

عشق کی مٹی سے گندھے بدن
پیاسے دشت وصحرا میں
سانسوں کے ناپسندیدہ تصادم میں
کرب میں ملفوف
درد کے بوجھ سےدھری
نیند سے آزاد آنکھیں
جگراتے کا میلہ لگاتی ہیں
میٹھے درد کی کسک حوصلےتوڑ دے
تو۔۔۔
سماعت و بصیرت
روشنی و تیرگی، دھوپ و سایہ
ایک ہونے لگتے ہیں
جذبے عشق کے سامنے
خاک سر پہ اوڑھے
گرد آلود، مسجود، نابود ہو جاتے ہیں
ہونٹوں سے حرف دعا گرتے
خالی دل کی خالی رات کو
نامراد لوٹا دیتے ہیں۔
طلب کا سانپ پھنکارتا سر پٹختا
وجود کو ڈستے ڈستے
صبح کی ہنگامہ خیزی تک مر جاتا ہے
اور ہمیں ایک بھی
گناہ کی اجازت مل نہیں پاتی
اک کندھے کی چاہ میں
جئے بغیر ہی
اگلے جہاز میں سوار ہو جاتے ہیں
Image: Henn Kim