Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 7 (میرا نکتۂ نظر)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4قسط نمبر 5 ، قسط نمبر 6

میرا نکتۂ نظر

یہ مضمون میرے خدا پر ایمان یا عدمِ ایمان سے متعلق نہیں ہے۔ اس کی بجائے میں اس امر پر میں گفتگو کروں گا کہ ہم کائنات کو کیونکر سمجھ سکتے ہیں۔ اور عین ممکن ہے اس گفتگو کے دوران قارئین اس غلط فہمی کا شکار ہو جائیں جس کا ازالہ اس مضمون کا اولین جملہ ہے۔یہاں زیرِ بحث سوال یہ ہے کہ Grand Unified Theory حال میں کس نہج پر ہے اور اس نظریے سے ، جسے Theory of everything کہتے ہیں، ہم کیا نتائج اخذ کر سکتے ہیں؟ یہ سوال نہ صرف حقیقی ہے بلکہ نہایت اہم بھی ہے۔ بالعموم جن لوگوں نے اس قسم کے سوالات کا مطالعہ اور ان پر کلام کیا ، یعنی کہ فلسفی حضرات، وہ نظری طبیعیات میں ہونے والی ترقی کے ساتھ ساتھ نہیں چل پائے، کیونکہ اُن کا ریاضیاتی پس منظر اتنا مضبوط نہ تھا۔ ان فلسفی حضرات کا ایک نجی طبقہ، جنہیں ہم سائنس کے فلسفی کہہ سکتے ہیں ، وہ اس مطالعے کے لئے زیادہ موزوں ہو سکتے ہیں۔ لیکن اُن میں سے اکثر ناکام طبیعیات دان ہیں، جو کوئی نیا نظریہ تخلیق نہیں کر پائے اور نتیجتاً طبیعیات کے فلسفے پر لکھنا شروع کر دیا۔ وہ ہنوز اس صدی کے ابتدائی طبیعیاتی نظریات، جیسا کہ نظریہ اضافت اور کوانٹم طبیعیات پر بحث و تمحیص کر رہے ہیں اور فزکس کے حالیہ پیش کردہ نظریات سے بے خبر ہیں۔  

شاید میں ان فلسفی حضرات پر ذرا سخت تبصرہ کر رہا ہوں، لیکن وہ (بھی) مجھ پر کچھ زیادہ مہربان نہیں رہے۔ میرے طرزِ تحقیق کو بچگانہ اور سادہ لوحی پر مبنی قرار دیا گیا ہے۔ مجھے بہت سے مقامات پر  nominalist, انسٹرومنٹلسٹ، پوزی ٹی وسٹ، ریئل اسٹ، اور بہت سے دوسرے القابات سے نوازا گیا ہے۔ دراصل یہ تردید بذریعہ تذلیل ہے۔ اگر میرے طریقہ کار پر آپ کوئی لیبل چسپاں کر ڈالتے ہیں تو آپ کو یہ بتانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرنی چاہئے کہ میرے نظریات میں کیا کمی کوتاہی ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ہر ایک یہ دیکھ سکتا ہےکہ ان القابات کے دیے جانے میں کیاخرابی پائی جاتی ہے۔ 

جو لوگ نظری طبیعیات میں حقیقتاً آگے بڑھ پاتے ہیں،وہ اُن طریقہ ہائے کار کےتحت نہیں سوچتے جو بعد ازاں فلسفی اور مؤرخین ان کے لئے ایجاد کرتے ہیں ۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آئن سٹائن، ہائزین برگ، ڈائریک، وغیرہ کو کوئی پروا نہیں تھی کہ لوگ انھیں ریئل اسٹ سمجھتے تھے یا انسٹرومینٹل اسٹ؛ انھیں صرف اس امر سے غرض تھی کہ موجودہ نظریات باہم موافق ہیں یا نہیں۔ نظری طبیعیات اپنی ترقی کی خاطر، منطقی خود مطابقت (self-consistency) پر، تجرباتی نتائج کی نسبت، ہمیشہ زیادہ اہمیت کی حامل رہی ہے۔ بہت سے فصیح اور خوب صورت نظریات محض اس وجہ سے نظر انداز کر دئے گئے ہیں کیونکہ وہ ہمارے مشاہدے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ لیکن میں کسی بھی ایسے بنیادی نظریے سے واقف نہیں ہوں جو محض تجربات کی مدد سے آگے بڑھا ہو۔ نظریہ ہمیشہ پہلے آیا، جو کہ اس خواہش کا پر تَو ہوتا تھا کہ ایک خوب صورت اور (موجودہ نظریات سے) مطابقت رکھنے والا ریاضیاتی ماڈل وضع کیا جائے۔ یہ نظریہ پھر پیشین گوئیاں کرتا ہے، جسے ہم مشاہدات کی مدد سے پرکھ سکتے ہیں۔ اگر مشاہدہ پیشین گوئیوں کے مطابق ہو تو اس سے نظریے کا درست ہونا ثابت نہیں ہوتا، بلکہ محض اتنا ہوتا ہے کہ اس نظریے کی مدد سے ہم مزید پیشین گوئیاں کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں، اور وہ پیشین گوئیاں مشاہدات کو معیار بنا کر ایک مرتبہ پھر پرکھی جاتی ہیں۔ اگر مشاہدات اور پیشین گوئیاں باہم مطابق نہ پائے جائیں، تو اس نظریے کو رد کر دیا جاتا ہے۔  

اور اگر ایسا نہیں ہوتا تو کم از کم ایسا ہونا ضرور چاہئے۔ عملاً سائنس دانوں کو ایسا کوئی بھی نظریہ رد کرنے میں تامل ہوتا ہے جس میں انھوں نے بہت زیادہ محنت اور کوشش سے کام کیا ہو اور ہزاروں گھنٹے اس تحقیق کی نذر کر دیے ہوں۔بالعموم وہ مشاہدے کی درستگی پر سوال اٹھانے سے (اپنے ردعمل کا) آغاز کرتے ہیں۔ اگر یہ تدبیر ناکام ہو جائے تو وہ ہنگامی بنیادوں پر نظریے میں ترامیم کرتے ہیں۔ اور بالآخر یہ نظریہ چوں چوں کا مربہ بن جاتا ہے۔ بعد ازاں ایک نیا نظریہ پیش کیا جاتا ہے، جس میں تمام تر ناموزوں مشاہدات کی خوب صورت اور قدرتی انداز میں وضاحت کی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال مائیکل سن مورلے کا تجربہ ہے، جو 1887 میں کیا گیا، جس کے ذریعے یہ دکھایا گیاکہ روشنی کی رفتار ہمیشہ ایک جیسی ہوتی ہے، قطع نظر اس کے کہ مبداء (source)یا مشاہد (source)کس رفتار سے حرکت میں ہیں۔(تجربے کا یہ) نتیجہ مضحکہ خیز معلوم ہوا۔ یقیناً (ایسا ہونا چاہئے تھا کہ) روشنی کی مخالف سمت میں حرکت کرنے والے کو روشنی کی رفتار زیادہ معلوم ہوتی، بنسبت اس کے جو روشنی کی سمت میں حرکت کر رہا تھا، اس کے باوجود تجربات سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ دونوں مشاہد ہر لحاظ سے رفتار کو برابر پائیں گے۔ آنے والے اٹھارہ برسوں کے لئے لورینٹذ (Hendrik Lorentz) اور فٹز جیرالڈ (George Fitzgerald) نے اس مشاہدے کو زمان و مکان سے متعلق متفق علیہ نظریات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی، انھوں نے ہنگامی بنیادوں پر مفروضے وضع کئے، جیسے کہ جب کوئی شے تیز رفتار سے حرکت کر رہی ہوتی ہے تو اُس کی طوالت میں کمی آ جاتی ہے۔ اور یوں فزکس کا سارا ڈھانچہ بے ڈھنگا اور بد شکل ہو گیا۔ بعد ازاں 1905 میں آئن سٹائن نے ان سے کہیں زیادہ پر کشش نظریہ پیش کیا، اس نظریے کے مطابق وقت (time) ایک علیحدہ اور قائم بالذات شے نہیں تھا۔ بلکہ یہ مکان (spacae) کے ساتھ مربوط ایک چوتھی جہت (fourth-dimension) تھا جسے اس نے space-time کا نام دیا۔ آئن سٹائن اس تصور تک تجرباتی نتائج کی نسبت نظریے کے دونوں حصوں کو باہم مربوط بنانے کی خواہش کے تحت اس نتیجے تک پہنچا۔ یہ دو اجزاء وہ قوانین تھے جو برقی اور مقناطیسی قوانین سے متعلق تھے اور وہ قوانین جو اجسام کی حرکت کی بنیاد تھے۔ 

میں نہیں سمجھتا کہ 1905 میں آئن سٹائن یا کسی اور کو یہ ادراک ہوا ہو کہ نظریہ اضافت کس قدر سادہ، عام فہم اور جمالیاتی تھا۔ اس نظریے نے ہمارے زمان و مکان کے تصور کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا۔ یہ مثال فلسفہ سائنس میں حقیقت نگار ی کی مشکلات کی عکاس ہے، کیونکہ جسے ہم حقیقت کہتے ہیں ، اس “حقیقت ” کی تحدید وہ نظریہ کرتا ہے جس نظریے پر وہ حقیقت مبنی ہوتی ہے۔میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ Lorentz اور Fitzgerald خود کو حقیقت نگار کہتے تھے اور انھوں نے روشنی کی رفتار دریافت کرنے والے تجربات نیوٹن کے مطلق زمان و مکان کے تصورات کی تحدید میں رہتے ہوئے انجام دیے تھے۔ (نیوٹن کے وضع کردہ) زمان و مکان کے تصورات عام فہم اور حقیقت کے قریب معلوم ہوتے تھے۔ تاہم آج کل جو لوگ نظریہ اضافت سے شناسائی رکھتے ہیں (جو تعداد میں اب تک بھی پریشان کن حد تک قلیل ہیں) اُن کا نظریہ مختلف ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم لوگوں کو زمان و مکان ایسے بنیادی تصورات کے جدید فہم سے آگاہی دیں۔ 

اگر کسی حقیقت کی بنیاد ہمارا نظریہ ہے تو ہم حقیقت کو کیونکر اپنے فلسفے کی بنیاد قرار دے سکتے ہیں؟ میں خود کو اس تناظر میں حقیقت نگار سمجھتا ہوں کہ میرے خیال کے مطابق ایک ایسی کائنات وجود رکھتی ہے جس کو سمجھا جانا چاہئے اور جس کی تحقیق کی جانی چاہئے۔ میں ایسی تشکیک پر مبنی پوزیشن کو تضیع اوقات خیال کرتا ہوں جس کے مطابق ہر شے ہمارے تخیل کی پیداوار ہے۔اس مفروضے کو اپنے کسی عمل کی بنیاد کوئی بھی نہیں بناتا۔ لیکن ہم کسی نظریے کے بغیر کائنات سے متعلق حقائق کو کائنات سے متعلق مفروضہ تصورات سے الگ نہیں کر سکتے۔یہی وجہ ہے کہ میری رائے(جسے سادہ اور بچگانہ قرار دیا گیا ہےکے مطابق طبیعیات کا کوئی بھی نظریہ ایک ریاضیاتی ماڈل ہوتا ہے جس کا مقصد ہمارے مشاہدات کے نتائج بیان کرنا ہوتا ہے۔   

کوئی بھی نظریہ ایک اچھا نظریہ تبھی کہلا سکتا ہے اگر یہ ایک فصیح ماڈل ہو، اگر یہ مشاہدات کو ایک وسیع پیمانے پر بیان کرنے کی قدرت رکھتا ہو ، اس کے ساتھ ساتھ نئے مشاہدات کا پیش بین بھی ہو۔ ان خصوصیات کے علاوہ نظریے کے متعلق یہ سوال اٹھانا کوئی معنی نہیں رکھتا کہ یہ حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے یا نہیں ، کیونکہ حقیقت نظریے سے جدا اپنا کوئی مجرد بیان نہیں رکھتی۔ سائنسی نظریات کے متعلق میرے اس رویے کی بنا پر شاید مجھے ادعائیت پسند، اثباتیت پسند (positivist) قرار دے دیا جائے، اور جیسا کہ میں نے پہلے یہ ذکر کیا ہے؛ مجھے ان دونوں القابات سے نوازا جا چکا ہے۔جس شخص نے مجھے اثباتیت پسند قرار دیا، اُس نے میری تذلیل میں اضافہ کرنے کے لئے اپنے لقب کے ساتھ یہ تبصرہ بھی شامل کیا کہ اثباتیت کا زمانہ اب گزر چکا تھا۔ عین ممکن ہے کہ اس تناظر میں اثباتیت کا دور واقعتاً گزر چکا ہو جو کہ ماضی کا ایک دانشورانہ خبط تھا، لیکن جو مثبت (positivist) پوزیشن میں نے اختیار کی ہے ، اُس شخص کے لئے وہ واحد راستہ ہے جو کائنات کی وضاحت کی غرض سے نئے قوانین اور نئے طریقہ ہائے کار کی تلاش میں ہے۔ حقیقت حقیقت کا راگ الاپنا ایک بے سود سر گرمی ہے کیونکہ حقیقت کا نظریے سے الگ کوئی مجرد وجود نہیں ہوتا۔ حقیقت ہمیشہ نظریے کی محتاج ہوتی ہے۔ 

میری رائے کے مطابق سائنس کے فلاسفہ کوانٹم میکانیات اور ہائزن برگ کا اصولِ عدم تعیین (Heisenberg’s Uncertainty Principle) اس وجہ سے نہیں سمجھ پاتے کیونکہ وہ حقیقت پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔، ایک ایسی حقیقت جو ان کے نزدیک کسی نظریے کی محتاج نہیں ہوتی، اور یہیں وہ غلطی کرتے ہیں۔ شروڈنگر (Schrodinger) کا ایک بہت مشہور خیالی تجربہ ہے جس کا نام شروڈنگر کی بلی (Schrodinger’s Cat)ہے۔ایک مہر بند (sealed) ڈبے میں بلی کو رکھا جاتا ہے۔ پھر اس ڈبے پر ایک بندوق تانی جاتی ہے۔بندوق خود بخود چل جائے گی اگر ایک عدد تابکاری مرکزہ (radioactive nucleus) زائل ہو جاتا ہے۔ایسا رونما ہو جانے کا امکان پچاس فیصد ہے۔ (موجودہ دور میں ایسی تجویز دینے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا، یہاں تک کہ خالصتاً خیالی تجربے (thought experiment) کےطور پر بھی۔ لیکن خوش قسمتی سے شروڈنگر کے دور میں جانوروں کے حقوق نے ابھی اتنا زور نہیں پکڑا تھا) 

ڈبہ کھولنے پر بلی کے ملنے کی دو صورتیں ہیں۔ یا تو وہ زندہ ہو گی یا مردہ۔ لیکن ڈبہ کھلنے سے قبل بلی کی کوانٹم حالت (state) بیک وقت مردہ ا اور زندہ cat state،کا مجموعہ ہوں گی ۔ اس امر پر یقین کرنا کچھ فلسفیوں کے لئے نہایت مشکل ہوتا ہے۔ ایسا ممکن نہیں ہے کہ آدھی بلی کو گولی لگی ہو اور آدھی صحیح سلامت ہو، بعینہ اسی طرح جیسے کوئی (عورت) آدھی حاملہ نہیں ہو سکتی۔ انھیں مشکل اس وجہ سے پیش آتی ہے کیونکہ بالفعل یہ لوگ حقیقت کا کلاسیکی تصور استعمال کر رہے ہوتے ہیں جس میں کوئی شے ایک متعین اور واحد تاریخ (history) رکھتی ہے۔ کوانٹم حرکیات (mechanics) کا تمام تر مقصد ہی یہ ہے کہ یہ حقیقت کا ایک نیا اور مختلف تصور ہے۔ اس تصور کے مطابق کسی شے کی کوئی متعین حالت نہیں ہوتی بلکہ تمام ممکنہ حالتیں ہو سکتی ہیں۔ اکثر صورتوں میں کسی خاص واقعے کے وقوع پذیر ہونے کا امکان کسی دوسرے واقعے کے وقوع پذیر ہونے کے مبہم سے امکان کے نتیجے میں مکمل معدوم ہو جائے گا؛ لیکن دوسری صورتوں میں (یہ بھی ممکن ہے کہ) ایک واقعے کے رونما ہونے کا امکان دوسرے واقعے کے رونما ہونے کے امکان کو بڑھا دے۔اور امکان کو بڑھا دینے والی یہ تواریخ (histories) میں سے کوئی ایک تاریخ ایسی ہوتی ہے جو ایک مضصوص شے کی تاریخ ہوتی ہے۔ 

شروڈِنگر کی بلی کے معاملے میں دو ایسی تواریخ ہیں جو ایک دوسرے کو کمک پہنچاتی ہیں۔ ایک تاریخ میں بلی گولی کھائے ہوئے (یعنی مر چکیہے اور دوسری تاریخ میں وہ زندہ ہے۔کوانٹم نظریے کے مطابق دونوں امکانات بیک وقت وجود رکھ سکتے ہیں۔ لیکن کچھ فلسفی حضرات اس ذہنی بندش سے چھٹکارا نہیں پا سکتے کیونکہ انھوں نے یہ طے کر رکھا ہوتا ہے کہ بلی یا ایک وقت میں زندہ ہو سکتی ہے یا مردہ، یہ بیک وقت زندہ اور مردہ نہیں ہو سکتی ۔ایک مزید مثال وقت کا تصور ہے، ایک ایسا تصور جہاں ہمارے طبیعیاتی نظریات ہمارا تصورِ حقیقت متعین کرتے ہیں۔ ایسا بدیہی سمجھا جاتا تھا کہ وقت مسلسل جاری و ساری رہتاہے قطع نظر اس کے کہ اطراف میں کیا واقعات رونما ہو رہے ہیں، لیکن نظریہ اضافت نے زمان اور مکان کو یکجا کیا اور یہ تصور پیش کیا کہ زمان و مکان دونوں کا رخ موڑا جا سکتا ہے، دونوں میں تحریف کی سکتی ہے ۔ لہذاٰ (بات کچھ یوں ہے کہ) ہمارا زمان و مکان کی نوعیت کا ادراک کائنات سے الگ ایک حقیقت ہونے کی بجائے کائنات کے ذریعے تشکیل پاتا ہے۔ تب جا کر یہ تصور کرنا ممکن ہوا کہ وقت ایک خاص نقطہ آغاز سے پہلے وجود نہیں رکھتا تھا۔ (یعنی) اگر ہم ماضی میں سفر کرنا شروع کریں تو ایک لمحہ ایسا آئے گا ، ایک اکائی، جس سے پیچھے جا پانا نا ممکن ہو گا۔ اگر ایسا ہوتا (لیکن ایسا نہیں ہے) تو یہ پوچھنا نامعقولیت کہلائے گا کہ عظیم دھماکہ (big bang) کیسے ہوا، اوراس کے پیچھے کارفرما قوت کیا تھی؟ (کسی بھی) شے کی تخلیق کے بارے میں جب بات کی جا تی ہے تو یہ بلا حجت یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ بگ بینگ سے قبل بھی وقت (time)وجود رکھتا تھا۔ ہم پچیس برسوں سے یہ جانتے ہیں کہ آئن سٹائن کا جنرل نظریہ اضافت یہ پیش گوئی کرتا ہے کہ 15 ارب سال پہلے وقت کا یقیناً ایک نکتہ آغاز تھا (یعنی اس سے قبل وقت وجود نہیں رکھتا تھا)۔ لیکن فلسفی حضرات اس تصور کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو پائے۔ وہ ابھی تک کوانٹم میکانیات کے مبادیات کو لے کر پریشان ہیں، جن کی بنیاد 65 برس قبل طے پا چکی تھی۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ فزکس بہت آگے جا چکی ہے۔ 

اس سے بھی زیادہ دشواری تصوراتی وقت(imaginary time) کے ریاضیاتی تصورات کو سمجھنے میں آتی ہے، جس کے تناظر میں میری اور جم ہارٹل کی تجویز یہ تھی کہ عین ممکن ہے کائنات کا کوئی آغاز اور انجام نہ ہو۔ (اس پر) ایک فلسفی نے مجھ پر وحشیانہ حملہ کرتے ہوئے کہا: “ریاضیاتی تصوراتی وقت کا حقیقی کائنات سے بھلا کیا تعلق ہو سکتا ہے؟” میرا خیال ہے کہ فلسفی روزمرہ استعمال میں ہونے والے الفاظ (خیالی اور حقیقی) کو ریاضی کی اصطلاحات (ریئل اور امیج نری ٹائم) کے ساتھ خلط ملط کر رہا تھا۔ اور اس امر سے میرا نکتہ نظر واضح ہو جاتا ہے کہ: ہم کسی بھی حقیقت کو بغیر کسی تناظر کے کیونکر جان سکتے ہیں؟ 

میں نے نظریہ اضافت اور کوانٹم میکانیات کے تناظر میں امثال کے ذریعے وہ مسائل سامنے رکھنے کی کوشش کی ہے جو کسی کو بھی کائنات کی حقیقت سمجھنے میں پیش آ سکتے ہیں۔اس سے قطعاً فرق نہیں پڑتا آیا آپ کوانٹم میکانیات اور نظریہ اضافت سمجھتے ہیں ، بلکہ اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا اگر یہ نظریات غلط بھی ہوں ۔ میں جو امید رکھ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں یہ دکھانے میں کامیاب رہاہوں کہ کوئی مثبت (positivist) نظریہ موجود ہے ، جس میں نظریے کو بطور ماڈل کے استعمال کر کے کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرنا واحد لائحہ عمل ہے، کم از کم نظری طبیعیات کے طالب علم کے لئے ایسا ہی ہے۔ اور میں پر امید ہوں کہ ہم ایک متوازن نظریہ وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو کائنات میں ہر ایک شے کو بیان کر سکتا ہو گا۔ اگر ہم ایسا کر سکے تو یہ انسانیت کی ایک بہت بڑی فتح ہو گی۔ 

 

Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 6 (“وقت کی مختصر تاریخ” کی مختصر تاریخ)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4قسط نمبر 5

“وقت کی مختصر تاریخ” کی مختصر تاریخ

مجھے اب بھی اپنی کتاب A BRIEF HISTORY OF TIME کو ملنے والی پذیرائی پر حیرت ہوتی ہے۔ مسلسل 37 ہفتوں تک یہ نیو یارک ٹائمز کی بیسٹ سیلرز لسٹ میں رہی اور سنڈے ٹائمز آف لنڈن کی لسٹ میں 28 ہفتے رہ چکی ہے (یہ کتاب پہلے امریکہ اور بعد ازاں برطانیہ میں شائع ہوئی)۔ اس کا بیس زبانوں میں ترجمہ کیا جا رہا ہے (اگر آپ امریکی زبان کو انگریزی سے مختلف گردانتے ہیں تو 21 زبانوں میں)۔ یہ سب اس توقع سے کہیں زیادہ تھا جو 1982 میں مجھے کائنات کے بارے میں ایک پاپولر کتاب لکھنےکے حوالے سے تھی۔ ضمناً میری نیت یہ تھی کہ اس کتاب کی مد سے ہونے والی آمدنی سے میں اپنی بیٹی کی سکول فیس ادا کر سکوں گا(در حقیقت جب کتاب شائع ہو کر مارکیٹ میں آئی تو میری بیٹی اپنے سکول کے آخری سال میں تھی)۔ لیکن (یہ کتاب لکھنے کی) بنیادی ضرورت جو میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ میں یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ ہمارے ا کائنات کے بارے میں فہم کس حد تک بڑھ چکا ہے ، اور کیسے ہم اس مکمل نظریے کو تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو کائنات اور اس میں موجود ہر شے کی وضاحت کر دے گا۔

میری خواہش تھی کہ اگر میں کتاب لکھنے کے لئے وقت صرف اور کوشش کر رہا ہوں تو اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنا چاہئے۔ میری سابقہ تکنیکی کتب کیمبرج یونی ورسٹی پریس نے شائع کی تھیں۔ پبلشر نے کتابوں کو بہترین طریق پر شائع کیا لیکن مجھے نہیں لگتا تھا کہ میں جتنی تعداد میں لوگوں تک یہ کتاب پہنچانا چاہتا ہوں اس کے لئے کیمبرج یونی ورسٹی پریس موزوں رہے گا۔ اسی لئے میں نے ایک لٹریری ایجنٹ Al Zucherman سے رابطہ کیا، جو میرے ایک لولیگ کا برادرِ نسبتی تھا۔ میں نے انھیں پہلے باب کا ڈرافٹ دیا اور کہا کہ میں یہ کتاب اس شکل میں شائع کرانا چاہتا ہوں کہ یہ ایئر پورٹ کے بل سٹال میں بھی بکنے والی ہو۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ایسا ہونے کا کوئی امکان نہ تھا۔ یہ علمی شخصیات اور طالب علموں میں شاید اچھے طریق پر فروخت ہو سکے لیکن یہ کتاب Jeffrey Archer کے گھر داخل نہیں ہو سکتی۔

میں نے 1984 میں Zuckerman کو کتاب کا پہلا مسودہ دیا۔ اس نے اسے بہت سے پبلشرز کو بھیجا اور مجھے تجویز دی کہ میں Norton والوں کی پیش کش قبول کر لوں، جو امریکہ میں کتابوں کا ایک اعلیٰ درجے کا ادارہ تھا۔ لیکن میں نے اس کے برعکس Bantam Books کی پیش کش قبول کی جس کا پاپولر کتابوں کی جانب زیادہ رجحان تھا۔ اگرچہ Bantam کا سائنس کی کتب شائع کرنے میں کوئی تخصص نہ تھا، لیکن ان کی کتب ایئر پورٹ کے سٹالز پر وسیع پیمانے پر دستیاب ہوتی تھیں۔ ان کی کتاب کی اشاعت کے لئے رضامندی ظاہر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ Bantam کے ایک ایڈیٹر کو یہ کتاب دلچسپ لگی تھی، ان کا نام Peter Guzzardi تھا۔ انھوں نے اس کتاب کی اشاعت کو نہایت سنجیدگی سے لیا اور مجھے کتاب دوبارہ لکھنے کو کہا تاکہ وہ اُن جیسے نان ٹیکنیکل افراد کو سمجھ آ سکے۔ جب بھی میں ایک باب لکھ کر انھیں بھیجتا، وہ سوالات اور اعتراضات کی ایک طویل فہرست کے ساتھ اسے واپس بھیج دیتے تاکہ اسی باب کو مکرر لکھنے سے وہ سوالات اور اعتراضات پیدا نہ ہوں۔ ایک وقت ایسا آیا جب مجھے لگا کہ یہ سلسلہ تو کبھی تھمنے والا نہیں۔ لیکن وہ ٹھیک تھے کیونکہ اس ساری کوشش کے نتیجے میں ہی کتاب کی اس قدر بہترین اشاعت ہوئی۔

Bantam کی پیش کش قبول کرنے کے کچھ ہی عرصہ بعد میں نمونیا میں مبتلا ہو گیا ۔ مجھے tracheostomy آپریشن کرانا پڑا جس سے میری بولنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو گئی۔  کچھ وقت تک میں صرف اپنے ابرو کے اشاروں کی مدد سے لوگوں سے ربط رکھ پاتا تھا ، (وہ بھی تب ) جب میرے سامنے حروف کا کارڈ لایا جاتا۔ اگر مجھے کمپیوٹر پروگرام نہ دیا گیا ہوتا تو کتاب کو مکمل کرنا نا ممکن ہو جاتا۔ کمپیوٹر ذرا سست تھا لیکن تب میری سوچنے کی صلاحیت بھی سست ہو چکی تھی لہذاٰ یہ میرے لئے موزوں ثابت ہوا۔ اور اسی کی مدد سے میں نے اپنا پہلا ڈرافٹ تقریباً سارے کا سارا دوبارہ لکھا، تاکہ Guzzardi کے اشکالات دور کئے جا سکیں۔ مسودوں کی دہرائی میں میرے ایک طالب علم Brian Whitt نے میری مدد کی۔

میں Jacob Bronowski کی ٹیلی وژن سیریز The Ascent of Man سے بہت متاثر تھا۔ (ایسا جنسی تعصب رکھنے والے نام کی شاید آج اجازت نہ دی جائے۔) یہ پروگرام ایک ایسا احساس پیدا کرتا تھا کہ نسلِ انسانی وحشی اور جنگلی حالت سے صرف پندرہ ہزار سال کے اندر ترقی کر کے اپنی موجودہ حالت کو پہنچی ہے۔ میں بھی اسی طرز کا احساس لوگوں میں پیدا کرنے کاخواہش مند تھا کہ ہمارا کائنات کا فہم بھی ترقی کرتے کرتے اب اسے چلانے والے قوانین کے مکمل فہم کو پہنچنے والا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ کم و بیش ہر ایک شخص اس امر میں دلچسپی رکھتا ہو گا کہ کائنات کیسے چل رہی ہے، لیکن بہت سے لوگ ریاضیاتی مساوات کا فہم نہیں رکھتے، میں خود بھی مساوات کی بہت زیادہ پروا نہیں کرتا۔ اس کی ضمنی وجہ یہ ہے کہ میرے لئے مساوات لکھنا مشکل ہے لیکن بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں مساوا ت کا وجدانی احساس نہیں رکھتا۔ اس کی بجائے میں تصاویر کی صورت میں سوچتا ہوں، میرا ارادہ اس کتاب میں اپنی ذہنی تصاویر کو الفاظ میں ڈھالنا تھا، اور ساتھ میں کچھ تصاویر اور مثالوں کی مدد لینا تھا۔اس طرح سے، مجھے امید تھی کہ بہت سے لوگ کامیابی کے اس جذبے میں میرے ساتھ شریک ہوں گے کہ انسانیت گزشتہ 25 برسوں میں طبیعیات میں اس قدر ترقی کر چکی ہے۔

تاہم، اگر ہم ریاضیاتی مساوات سے مکمل احتراز بھی برتیں، اس کے باوصف کچھ تصورات   سے ہم نہ صرف نا آشنا ہیں بلکہ ان کی وضاحت کرنا بھی مشکل ہے۔ اس سے ایک مسئلہ کھڑا ہوتا ہے: کیا مجھے ان تصورات کی وضاحت کرنے کی کوشش میں لوگوں کو الجھا دینا چاہئے، یا مشکل تصورات کو کتاب میں شامل ہی نہیں کرنا چاہئے؟ کچھ نا آشنا تصورات جیسے دو افراد اگر مختلف رفتار سے حرکت میں ہیں تو وہ کسی بھی عمل کا دورانیہ مختلف ریکارڈ کریں گے (یعنی فرض کیجئے اگر یہ دونوں افراد سٹاپ واچ کی مدد سے ایک مخصوص اونچائی سے گرتی ہوئی گیند کے زمین تک پہنچنے کا وقت ماپیں، تو دونوں کی سٹاپ واچ مختلف وقت ریکارڈ کرے گی)، یہ تصور اس تصویر کے لئے ضروری نہیں تھا جو میں الفاظ کی مدد سے کھینچنا چاہ رہا تھا۔ اس لئے میں نے یہ محسوس کیا کہ میں یہ تصورات اجمالاً بیان کر دوں گا پر ان کی گہرائی میں نہیں جاؤں گا۔ لیکن دوسرے مشکل تصورات ان امور کے ساتھ خاص تھے جو میں واضح کرنا چاہتا تھا۔ دو تصورات بالخصوص ایسے تھے جو میں سمجھتا تھا کہ مجھے شامل کرنے چاہییں۔ ان میں سے ایک تو نام نہاد sum over histories تھا۔ اس تصور کا مطلب یہ تھا کہ کائنات کی کوئی ایک مخصوص تاریخ نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہر ممکن تاریخ کا ایک مجموعہ ہے، اور یہ تمام تاریخیں (histories) ایک جتنی ہی حقیقی ہیں (چاہے اس کا جو بھی مطلب ہو)۔ دوسرا تصور ، جو sum over histories کا ریاضیاتی فہم تشکیل دینے کے لئے ضروری ہے، وہ “تصوراتی وقت” (imaginary time) کا ہے۔ لیکن اب جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ مجھے ان دو نہایت مشکل تصورات کی صراحت میں مزید محنت کر نی چاہئے تھی، بالخصوص “تصوراتی وقت” کے تصور کو سمجھانے میں، جو کتاب کا وہ موضوع ہے جسے سمجھنے میں لوگوں کو سب سے زیادہ مشکل پیش آتی ہے۔ تاہم، بالکل درست طور پر یہ سمجھنا کہ “تصوراتی وقت” کیا ہے، ضروری نہیں – صرف اتنا ہے کہ یہ اس وقت سے مختلف ہے جسے ہم حقیقی وقت (real time) کہتے ہیں۔

جب کتاب کی اشاعت کا وقت قریب تھا تب اسے ایک سائنس دان کو بھیجا گیا تاکہ وہ  Nature میگزین کے لئے اس پر اپنے تاثرات قلمبند کر سکے۔ انہیں یہ دیکھ کر بہت ناگواری ہوئی کہ کتاب غلطیوں سے بھری پڑی ہے، تصاویر اور خاکوں پر غلط لیبل لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے Bantamپریس کو کال کی، جنہوں نے اتنی ہی ناگواری محسوس کی اور اسی دن یہ فیصلہ کیا کہ کتب خانوں کو تقسیم شدہ تمام کاپیاں واپس منگوائی جائیں گی اور یوں شائع شدہ تمام کاپیوں کو ضائع کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد انھوں نے تین ہفتے پوری شد و مد کے ساتھ کتاب کی غلطیاں درست اور ری چیکنگ کرنے میں لگائے، اور درست شدہ کتاب اپریل کے مہینے میں کتب خانوں میں دستیابی کے لئے تیار تھی۔ اس وقت تک ٹائم میگزین نے میرا پروفائل شائع کر دیا تھا۔ اور کتاب کی اشاعت کے بعد اس کی مانگ نے ایڈیٹرز کو حیران کر دیا۔ کتاب اس وقت امریکہ میں سترہویں بار اور برطانیہ میں دسویں مرتبہ چھاپی جا رہی ہے

اتنی تعداد میں لوگوں نے اسے کیوں خریدا؟ میرے لئے مشکل ہے کہ میں معروضی تبصرہ کرپاؤں گا، اسی لئے میں لوگوں کی رائے کو زیادہ وقعت دوں گا۔ میں نے زیادہ تر آراء کو ، اگرچہ وہ میرے حق میں تھیں، بے رنگ پایا۔ اُن سب کا ایک ہی فارمولا تھا: سٹیفن ہاکنگ کو Lou Gehrig  یا موٹر نیوران نامی بیماری ہے (امریکی تبصروں میں بیماری کا نام Lou Gehrig جبکہ برطانوی تبصروں میں بیماری کا نام motor neuron disease لکھا گیا)۔ وہ ایک وہیل چیئر تک محدود ہے، بول نہیں سکتا، اور صرف چند انگلیاں ہلا سکتا ہے۔ ان سب کے باوجود اس نے سب سے بڑے  سوال ، یعنی ہم کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں، پر ایک کتاب لکھ ڈالی ہے۔ ایک اور مبصر کہتا ہے ، “(اس سوال کا ) جو جواب ہاکنگ تجویز کرتا ہے وہ ہ یہ ہے کہ کائنات نہ تخلیق کی گئی ہے نہ تباہ شدہ ہے: یہ بس ہے”۔ دوسرا مبصر کہتا ہے،”اس تصور کو واضح کرنے کے لئے ہاکنگ “تصوراتی وقت” (imaginary time) کومتعارف کراتا ہے، جو میرے لئے (یعنی مبصر کے لئے) سمجھنا ذرا مشکل ہے۔ اس کے باوجود اگر ہاکنگ درست کہہ رہا ہے اور ہم آخرِ کار ایک مکمل نظریہ وضع کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، ہم یقیناً خدا کا دماغ سمجھ جائیں گے”۔ (کتاب میں اس مدعے کو ثابت کرنے والے باب کے آخر میں میں نے آخری فقرہ حذف کر ڈالا، جو کہ یہ تھا کہ ہم خدا کا دماغ جان سکتے ہیں۔ اگر میں ایسا کر چکا ہوتا، تو کتاب کی فروخت شاید پچاس فیصد کم ہو جاتی)

برطانوی اخبار The Independent، میں ایک نسبتاً بہتر تبصرہ شائع ہوا۔ تبصرے کے مطابق A brief History of Time جیسی سنجیدہ سائنسی کتاب بھی ایک cult book بن سکتی ہے، جیسے کہ My wife was horrified ہے۔ لیکن میں تب زیادہ خوش ہوا جب میری کتاب کا موازنہ Zen and the Art of Motorcycle Maintenance سے کیا گیا، کہ یہ لوگوں کو احساس دلاتی ہے کہ انہیں عظیم علمی اور فلسفیانہ سوالات سے خود کو دور نہیں کرنا چاہئے۔

بلا شک و شبہ،لوگوں کی اس امر میں دلچسپی بھی کتاب کی فروخت کا باعث بنی ،کہ میں اپنی جسمانی طور پر اپاہج ہونے کے باوجود ایک نظری طبیعات کا سائنس دان کیونکر بن پایا۔ لیکن جنہوں نے یہ کتاب(اس) انسانی دلچسپی کے زاویے سے خریدی، وہ یقیناً مایوس ہوئے ہوں گے کیونکہ میری جسمانی حالت سے متعلق کتاب میں ایک دو سے زائد حوالہ جات نہیں ہیں۔ کتاب کائنات کی تاریخ سے متعلق تھی، نہ کی میری ذاتی تاریخ۔ لیکن اس کے باوصف ان الزامات سے خلاصی نہ ہو سکی جو Bantam پر لگائے گئے تھے کہ انہوں نے بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میری بیماری کو ‘استعمال’ کیا اور یہ کہ میں نے انہیں اپنی تصویر کتاب کا کور پیج (cover page) پر لگانے کی اجازت دے کر ان کے ساتھ تعاون کیا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ ہمارے مابین طے پانے والے معاہدے کے مطابق کتاب کے کَور پر میرا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ تاہم میں Bantam پریس کو اتنا قائل کرنے میں ضرور کامیاب ہو گیا کہ وہ برطانوی ایڈیشن کے سرورق پر امریکی ایڈیشن کی پرانی تصویر کی نسبت کوئی بہتر تصویر لگائیں۔ تاہم Bantam نے امریکی ایڈیشن کے سرورق کو بھی تبدیل نہ کیا کیونکہ اُن کے مطابق امریکیوں کے نزدیک یہ تصویر کتاب کی پہچان بن چکی تھی۔

یہ بھی کہا گیا کہ لوگوں نے اس قدر تعداد میں کتاب اس وجہ سے خریدی کیونکہ انھوں نے اس پر مثبت تبصرے پڑھے یا یہ کہ کتاب ایک عرصہ تک بیسٹ سیلر کی فہرست میں رہی؛ بالفاظ دیگر، لوگوں نے کتاب کثیر تعداد میں خریدی ضرور تھی لیکن پڑھی نہیں تھی۔ کتاب یا اُن کے شیلف پر یا کافی ٹیبل پر پڑی ہے، اور یوں وہ کتاب اپنی دسترس میں ہونے پر فخر تو کر سکتے ہیں لیکن اسے سمجھنے کی کوشش لوگوں نے بہرحال نہیں کی۔ مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے، لیکن میں یہ نہیں جانتا کہ میری کتاب کے ساتھ یہ سلوک ، بائبل اور شیکسپیئر کی کتابوں سمیت ،دوسری سنجیدہ کتابوں سے بھی زیادہ ہوا ہو گا، ۔ دوسری جانب میں یہ جانتا ہوں کہ کم از کم کچھ لوگوں نے تو کتاب ضرور پڑھی ہو گی کیونکہ ہر روز میرے پاس ڈھیروں خطوط آتے ہیں، جن میں بہت سے لوگوں نے سوالات پوچھے ہوتے ہیں اور بہت سے لوگوں نے تفصیلی تبصرے کئے ہوتے ہیں جن سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ کتاب پوری طرح نہیں بھی سمجھتے،تب بھی انھوں نے کتاب کو پڑھا ضرور ہے۔ مجھے گلی میں اکثر اجنبی لوگ روک لیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ کتاب سے کس قدر لطف اندوز ہوئے۔ یقیناً مجھے پہچاننا بہت آسان اور واضح ہے، اگرچہ میں دوسرے مصنفین جیسا ممتاز اور مشہور نہیں ہوں۔ لیکن جس تعداد میں مجھے عوامی مبارکبادیں وصول ہوتی ہیں (جس سے میرا نو سالہ بیٹا بہت گھبراتا ہے) اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ جنہوں نے کتاب خریدی، ان کی کم از کم ایک معقول تعداد نےاسے پڑھا بھی ہے۔

لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میرے مستقبل کے کیا ارادے ہیں؟ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شاذ ہی میں وقت کی مختصر تاریخ کا دوسرا حصہ لکھ پاؤں۔ میں اس کا کیا نام رکھوں گا؟ وقت کی نسبتاً طویل تاریخ؟ وقت کے اختتام سے آگے؟ وقت کا بیٹا؟ میرے ایجنٹ نے تجویز کیا ہے کہ مجھے اپنی زندگی کے بارے میں ایک فلم بنائے جانے کی اجازت دے دینی چاہئے۔ لیکن نہ ہی میں اور نہ ہی میرے گھر بار والوں کی کوئی عزت نفس باقی رہ جائے گی اگر ہم خود کو بطور اداکار کے دور پر لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ نسبتاً کم باعثِ شرمندگی یہ امر ہو گا اگر میں کسی کو اپنی زندگی کے بارے میں لکھنے میں مدد کروں۔ ظاہر ہے میں کسی کو اپنی زندگی کے بارے میں لکھنے سے نہیں روک سکتا اگر کوئی اپنے طور پر ایسا کرنا چاہے، سوائے اس کے کہ وہ توہین آمیز ہو، لیکن میں لوگوں کو یہ کہہ کر اپنے بارے میں لکھنے سے روکے ہوئے ہوں کہ میں خود نوشت لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ہو سکتا ہے میں لکھوں بھی۔ لیکن مجھے کوئی جلدی نہیں ہے۔ کیونکہ سائنس کے موضوعات میں میرا پاس کرنے کو ابھی بہت کچھ باقی ہے۔

Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 5 (سائنس کی جانب عمومی رویہ)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2، قسط نمبر 3، قسط نمبر 4

سائنس کی جانب عوامی رویہ

 

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ جس دنیا میں ہم جی رہے ہیں وہ گذشتہ ایک صدی میں بہت حد تک بدل چکی ہے، اور اگلے سو برسوں میں مزید بدل جائے گی۔ کچھ لوگ یہ چاہیں گے کہ دنیا نہ بدلے اور وہ واپس اس سادہ لوحی کے دور میں چلے جائیں جو ماضی کی یادگار ہے۔ لیکن جیسا کہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے، ماضی اتنا شاندار تھا نہ ہی اس قدر یادگارھا (جتنا تصور کیا جاتا ہے)۔ مقتدر اقلیت کے لئے تو یہ یقناً برا نہیں تھا اگرچہ انہیں بھی جدید دور کی ادویات و سہولیات میسر نہ تھی، اور (ان امراء کے ہاں بھی ) بچے کی پیدائش ایک عورت کی زندگی کیلئے شدید خطرہات سے دوچار رہتی تھی ۔ جبکہ جمہور عوام کے لئے زندگی تکلیف دہ، مظالم سے بھرپور، اور مختصر ہوتی تھی۔

بہرحال، چاہ کر بھی ہم ماضی میں دوبارہ داخل نہیں لوٹ سکتے۔ علم اور سائنسی طریقہ ہائے کار (scientific methods) اچانک ترک بھی نہیں جا سکتے، نہ ہی ہم مستقبل میں ہونے والی ترقی کو روک سکتے ہیں۔ اگر تمام حکومتیں تحقیقی کام کے لئے رقم مختص کرنا بند بھی کر دیں (جس میں موجودہ حکومت اپنی بھرپور کوشش رہی ہے) تب بھی مسابقت کی عمومی فضاء سے ٹیکنالوجی روز بروز ترقی کرے گی۔ مزید برآں، ہم متجسس اذہان کو بنیادی سائنسی تصورات و نظریات کے بارے میں سوچنے سے بھی نہیں روک سکتے، چاہے انہیں ہم انھیں اس کا معاوضہ بھی نہ دیں۔ ترقی کی راہ روکنے کا واحد راستہ ایک عالمی آمرانہ ریاست ہے جو کسی بھی نئے تصور، نئی نظریے کو بالجبر روک سکے، لیکن انسان کی آگے بڑھنے کی خواہش اور اختراعی قدرت کو شاید یہ آمرانہ ریاست بھی نہ روک پائے۔ یہ محض اتنا کر پائے گی کہ ترقی کی رفتار کو سست کر دے۔

اگر ہم اس بدیہی حقیقت کو قبول کر لیں کہ ہم سائنس اور ٹیکنالوجی کو دنیا میں انقلاب برپا کرنے سے نہیں روک سکتے، توکم از کم ہم اس امر کو ضرور یقینی بنائیں گے کہ سائنس درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک جمہوری معاشرے میں اس سے مراد یہ ہو گی کہ عوام سائنس کی مبادیات سے بھرپور واقفیت رکھتی ہو، تاکہ وہ معلوماتی بنیاد پر رائے سازی کر سکےاور سب کچھ ماہرین کے رحم و کرم پر ہی نہ چھوڑ دیا جاوے۔ سرِ دست عوام کا سائنس کی جانب رویہ متضاد جذبات کا شکارہے۔ اسے یہ توقع بھی ہے کہ ہمارا معیارِ زندگی سائنسی ترقی کی بدولت بتدریج بہتر ہوتا جائے گا مگر ساتھ ساتھ سائنس کے حوالے سے عدم اعتماد بھی پایا جاتا ہے کیونکہ عوام سائنس کا مطلوب فہم نہیں رکھتی۔ اور یہ عدم اعتماد اس کارٹون کے کردار میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے جو ایک پاگل سائنس دان کا ہے جو اپنی تجربہ گاہ میں فرینکن سٹائن (Frankenstein) تخلیق کرنے میں مصروف ہے۔ اور یہی عدم اعتماد گرین پارٹیز (Green Parties) کی عوامی سپورٹ کا محرک بھی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی عوام سائنس میں بہت دلچسپی بھی رکھتی ہے، بالخصوص فلکیات (astronomy) میں۔، جیسا کہ ٹیلی وژن سیزیز Cosmos اور دوسرے سائنس فکشن پروگراموں کی پذیرائی سے واضح ہے۔

اس دلچسپی کوبڑھانے کرنے کے لئے کیا کیا جا سکتا ہے؟ اور ہم عوام کو ایسا سائنسی پس منظر فراہم کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں کہ وہ ایسے عوامل جیسے acid rain، گرین ہاوس ایفیکٹ، نیوکلیائی ہتھیار، اور جینیٹک انجینئرنگ وغیرہ پر مبنی بر معلومات فیصلے لے سکیں؟ یقیناً اس کی بنیاد سکول میں دی جانے والی تعلیم پر ہے۔ لیکن سکولوں میں سائنس کو ایک غیر دلچسپ اور خشک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ بچے رٹا لگا کر امتحان پاس کرنے کیلئے سبق یاد کر لیتے ہیں، اور اپنے اطراف میں انھیں (پڑھائی جانے والی) سائنس کی متعلقیت دکھائی نہیں دیتی۔ مزید برآں، سائنس بالعموم مساوات (equations)کی اصطلاح میں پڑھائی جاتی ہے۔ اگرچہ مساوات ریاضی کے تصورات کی منظر کشی کیلئے جامع اور بالکل درست طریقہ ہے، لیکن زیادہ تر لوگ اس طریق سے گھبرا جاتے ہیں۔ جب میں نے حال ہی میں ایک مقبول کتاب لکھی، مجھے یہ نصیحت کی گئی تھی کہ کتاب میں مساوات کم سے کم رکھوں کیونکہ ناشر کے مطابق ایک مساوات (equation) کا اضافہ کتاب کی فروخت میں پچاس فیصد تک کمی لے آتا ہے ۔( نصیحت کے بر خلاف) میں نے آئن سٹائن کی مساوات  کو شامل کیا۔ اگر میں اسے شامل نہ کرتا تو شاید دو گنا کتابیں فروخت کر پاتا۔

سائنس دان اور انجینئر حضرات اپنے تصورات کو مساواتی شکل ہی میں متعارف کراتے ہیں کیونکہ انھیں قابلِ پیمائش اشیاء کی درست مقدار جاننا ہوتی ہے۔ لیکن ہم عامیوں کے لئے (جو سائنس دان اور انجینئر نہیں ہیں) کسی بھی سائنسی تصور کا صفاتی فہم (qualitative grasp) کافی ہے، اور یہ فہم، مساوات استعمال کئے بغیر، صرف تصاویر اور الفاظ کی مدد سے قاری میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔

جو سائنس بچے سکول میں سیکھتے ہیں، وہ اس مطلوبہ فہم کے لئے بنیادی ڈھانچہ فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن دورِ حاضر میں سائنسی ترقی کی رفتار اس قدر تیز ہے کہ کسی کے سکول یا یونی ورسٹی پہنچنے تک بہت سے امور میں پیش رفت ہو چکی ہوتی ہے ۔ میں نے سکول میں مالیکیولر بائیالوجی اور ٹرانزسٹر کے بارے میں کچھ بھی نہیں سیکھا تھا، لیکن جینیاتی انجینئرنگ (genetic engineering) اور کمپیوٹر ، یہ دونوں اس نوعیت کی سائنسی پیش رفت ہیں کہ وہ مستقبل میں ہمارے طرزِ زندگی کو یکسر بدل ڈالیں گی۔ پاپولر کتابوں اور رسالوں میں سائنسی مضامین ترقی کی نئی شاہرائیں کھول سکتے ہیں ، لیکن معروف ترین سائنسی کتاب کا بھی آبادی کا نہایت قلیل حصہ مطالعہ کرتا ہے۔ صرف ٹی وی ایک ایسا ذریعہ ہے جو عوام کی کثیر تعداد تک پیغام پہنچا سکتا ہے۔ ٹی وی پر بہت سے عمدہ سائنسی پروگرام دکھائے جاتے ہیں لیکن کئی ایسے پروگرام ہیں جو سائنسی ایجادات کو اس طرز پر دکھاتے ہیں جیسے کہ وہ جادو ہو، نہ ہی ان آلات کی وضاحت کی جاتی ہے نہ ہی یہ دکھایا جاتا ہے کہ وہ سائنسی ڈھانچے میں کس طرح سے فٹ بیٹھتے ہیں۔ سائنسی پروگرامز کے ٹی وی پروڈیوسرز کو اس امر کا احساس کرنا چاہئے کہ ان کی ذمہ داری صرف عوام کو لطف اندوز کرانا ہی نہیں، انہیں تعلیم دینا بھی ہے۔

ایسے کون سے سائنسی معاملات ہیں جن پر عوام کو مستقبل قریب میں رائے زنی کرنا ہو گی؟ سب سے اہم اور جلد فیصلہ تو نیوکلیائی ہتھیاروں کی بابت کرنا ہو گا۔ دوسرے عالمی مسائل جیسا کہ خوراک کی ترسیل یا گرین ہاوس اثرات، نسبتاً کم اہمیت رکھتے ہیں لیکن نیوکلئیائی جنگ کا واضح مطلب انسانیت کے چند دنوں کے اندر اندر خاتمے کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ مشرق اور مغرب کی باہمی تلخی سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ٹھنڈی پڑ گئی ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے شعور سے نیوکلئیائی جنگ کا خوف اب محو ہو گیا ہے۔ لیکن خطرہ ابھی تک قائم و دائم ہے جب تک تمام انسانیت کو ختم کر ڈالنے کے لئے زائد از ضرورت نیوکلئیائی ہتھیار موجود ہیں۔ سابقہ سوویت یونین اور امریکہ میں ، اب بھی نیوکلئیائی ہتھیار اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ وہ شمالی ممالک میں موجود تمام بڑے شہروں کو تباہ کر سکتے ہیں۔ کمپیوٹر کی ایک چھوٹی سی غلطی یا نیوکلئیائی ہتھیاروں کے محافظین میں سے کسی ایک کی بھی بغاوت عالمی جنگ کا باعث بن سکتی ہے۔ اور مزید پریشانی کا باعث یہ امر ہے کہ نسبتاً چھوٹی طاقتیں بھی اب نیوکلئیائی ہتھیار حاصل کر رہی ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتوں نے مناسب حد تک ذمہ دارانہ رویہ دکھایا ہے لیکن ہم ایسا اعتماد لیبیا، عراق، پاکستان، یا آذربائیجان پر نہیں کر سکتے۔ وہ ہتھیار اصل خطرہ نہیں ہیں جو عنقریب ان ممالک کے قبضے میں ہوں گے، کیونکہ وہ بنیادی نوعیت کے ہتھیار ہوں گے، اگرچہ یہ بھی لاکھوں لوگوں کو مار ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ اصل خطرہ ان چھوٹی طاقتوں کا آمنا سامنا ہے، کیونکہ یہ بڑی طاقتوں کو بھی اپنی جنگ میں دھکیل لیں گے، اور بڑی طاقتیں جدید ترین اور بے بہا ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

یہ امر بہت ضروری ہے کہ عوام کو اس خطرے کا احساس ہو اور وہ تمام حکومتوں پر بڑے ہتھیاروں کو ضائع کرنے کے لئے دباؤ ڈالیں ۔ اگرچہ نیوکلئیائی ہتھیاروں کو مکمل طور پر ضائع کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن ہم ہتھیاروں کی تعداد کم کر کے خطرات کو کم کر سکتے ہیں۔

اگر ہم ایک نیوکلئیائی جنگ سے بچنے میں کامیاب ہو گئے ، تب بھی ایسے خطرات موجود ہیں جو ہم سب کو تباہ کر سکتے ہیں۔ ایک نہایت بیمار ذہن کا وضع کردہ مذاق ہے کہ کسی خلائی مخلوق نے ہم سے اب تک رابطہ اس لئے نہیں کیا کیونکہ جب تک وہ ہماری (ذہنی) سطح تک پہنچتی ہے وہ تباہ ہو جاتی ہے۔ لیکن مجھے عوام کی اچھائی پر پورا بھروسہ ہے کہ ہم اس (مذاق میں پنہاں طنز)کو غلط ثابت کر سکتے ہیں۔

 

یہ تقریر Oviedo اسپین میں 1989 میں کی گئی جب ہاکنگ کو آسٹریا ہارمنی اور Concord پرائز دیا گیا۔ (یہ تقریر اپ ڈیٹ کی گئی ہے)

 

Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر تین (آکسفورڈ اور کیمبرج)

گذشتہ اقساط کے مطالعہ کے لئے درج ذیل لنکس استعمال کیجئے (لنک نئے ٹیب میں کھلیں گے)

قسط نمبر 1قسط نمبر 2

باب نمبر 2: آکسفورڈ اور کیمبرج

میرے والد کی شدید خواہش تھی  کہ میں آکسفورڈ یا کیمبرج میں سے کسی ایک یونی ورسٹی میں تعلیم حاصل کروں ۔ وہ خود بھی یونی ورسٹی کالج آکسفورڈ کے تعلیم یافتہ تھے لہذاٰ اُن کا خیال تھا  کہ مجھے بھی وہیں داخلہ لینا چاہئے کیونکہ وہاں میرے لئے داخلے کے امکان زیادہ روشن تھے۔ اُس وقت یونی ورسٹی کالج میں ریاضی کا کوئی وظیفہ مختص نہیں تھا۔ یہی وجہ تھی کہ میرے والد مجھے کیمسٹری میں اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے: کیونکہ میرے لئے ریاضی کی بجائے کسی نیچرل سائنس میں سکالر شپ کے لئے کوشش ممکن تھی۔

(اس دوران) میری باقی فیملی ایک سال کے لئے انڈیا چلی گئی لیکن میں ساتھ نہیں جا پایا کیوں کہ مجھے اے لیولز  کرنا تھا اور بعد ازاں یونی ورسٹی میں داخلہ لینا تھا۔ میرے ہیڈ ماسٹر کے خیال کے مطابق میں آکسفورڈ میں داخلے کیلئے ابھی میں بہت چھوٹا تھا ، اس کے باوجود میں مارچ 1959 میں سکالر شپ کا امتحان دو اور لڑکوں کے ساتھ دینے گیا جو مجھ سے ایک سال سینئر تھے۔ مجھے یقین تھا کہ میرا امتحان بہت برا ہوا ہے اور تب بہت زیادہ پریشان بھی تھا جب پریکٹیکل امتحان کے دوران یونی ورسٹی کے لیکچرار دوسرے طلباء سے بات چیت کیلئے آئے لیکن مجھ سے کسی نے بات نہیں کی۔اور پھر آکسفورڈ سے واپسی کے چند دنوں بعد، مجھے ایک ٹیلی گرام موصول ہوا جس میں بتایا گیاتھا کہ مجھے سکالر شپ کے لئے منتخب کر لیا گیا ہے۔

میں تب سترہ برس کا تھا اور میرے ہم جماعت طالب علموں میں بہت سوں نے ملٹری سروس بھی کر رکھی تھی اور مجھ سے عمر میں کافی بڑے تھے۔ اس وجہ سے پہلا پورا سال اور دوسرے سال کے کچھ حصے کے دوران میں نے خود کو بہت تنہا محسوس کیا۔ میرا تیسرا برس تھا جب میں نے خود کو بہت خوش و خرم محسوس کیا۔ تب آکسفورڈ کا ماحول بہت سہل پسند (anti-work) ہوا کرتا تھا۔ آپ کے لئے بغیر محنت کے ایک شاندار طالب علم ہونا وہاں کے کلچر کے مطابق فرضِ عین تھا ، یا پھر اپنی حدود کو قبول کریں (یعنی اپنی کند ذہنی کا اقرار کریں اور)چوتھے درجے کی ڈگری حاصل کر لیں۔ محنت کر کے ایک بہتر ڈگری حاصل کرنے والے کو gray man سمجھا جاتا تھا، جو کہ ‘آکسفورڈ کی لغت’ کے مطابق ایک  بد ترین صفت تھی۔

اُس دور میں فزکس کی ڈگری کو آکسفورڈ میں یوں مرتب کیا گیا تھا کہ اس کے طالب علموں کا کام سے بچے رہنا (دوسروں کی نسبت) خاص طور سے آسان تھا۔ میں نے صرف ایک امتحان دیا اور دوسرے سال میں داخل ہو گیا اور بعد ازاں آکسفورڈ کے بقیہ تین سالوں میں بھی صرف سالانہ امتحانات دیے۔ ایک مرتبہ تخمینہ لگانے پر مجھے  یہ آشکار ہوا کہ میں نے اپنے تین برسوں کے دوران کوئی ایک ہزار گھنٹے کا کام کیا تھا، جو اوسطاً ایک گھنٹہ روزانہ بنتا تھا۔ مجھے کام کی اس قلت پر فخر نہیں ہے۔ میں صرف اپنا تب کا اپنا رویہ بیان کر رہا ہوں، اور ایسا ہی رویہ وہاں کے زیادہ تر طالب علموں کا تھا: ایک مکمل بوریت کا احساس اور یہ رویہ کہ کچھ بھی ایسا نہیں ہے جس کے لئے کوشش کی جائے۔  مجھے بیماری سے حاصل ہونے والے اسباق میں سے ایک یہ ہے کہ یہ سب کچھ جو ہو رہا ہے یہ تبدی ہونا چاہئے۔۔ جب آپ قبل از وقت موت کے امکان سے دوچار ہوں تو آپ کو احساس ہوتا ہے کہ زندگی جئے جانے کی شے ہے اور بہت کچھ ایسا ہے جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔

کام (کرنے) کی قلت کی وجہ سے ، میں نے یہ سوچ رکھا تھا کہ میں نظری طبیعیات کے سوالات حل کروں گا اور ان سوالات سے احتراز برتوں گا جو اطلاقی علم (applied physics) کے متقاضی تھے۔ تاہم (اسی دوران ہونے والے) امتحان سے ایک رات قبل نروس ٹینشن کے باعث میں سو نہیں پایا تھا، اور امتحان میں اچھی کارکردگی نہ دکھا سکا۔ میں درجہ اول اور درجہ دوم کی ڈگری کے بین بین تھا، اور ممتحن حضرات نے میرا گریڈ متعین کرنے کے لئے میرا انٹرویو لینا تھا۔ انٹرویو میں انھوں نے مجھ سے میرے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا۔ میں نے بتایا کہ میں ریسرچ کرنا چاہتا تھا۔ اگر وہ مجھے درجہ اول میں پاس کرتے تو میں کیمبرج جاتا اور درجہ دوم میں پاس ہونے پر آکسفورڈ میں ہی رہتا۔ انھوں نے مجھے درجہ اول میں پاس کر دیا۔

میرا احساس تھا کہ نظری طبیعیات کے دو ممکنہ دائرے ہیں جو بنیادی تھے اور جن میں مجھے تحقیق کرنی چاہئے تھی۔ ان میں سے ایک کُونیات (cosmology) تھا، یعنی بہت بڑے اجسام کا مطالعہ۔ اور دوسرا بنیادی ذرات (elementary particles) تھا، یعنی بہت چھوٹے اجسام کا مطالعہ۔ میرے خیال میں بنیادی ذرات کم پر کشش تھے کیونکہ ، اگرچہ سائنس دان بہت سے نئے ذرات ڈھونڈ نکال رہے تھے لیکن اس وقت تک کوئی مناسب نظریہ سامنے نہیں آیا تھا۔ زیادہ سے زیادہ وہ یہ کر رہے تھے کہ ان ذرات کو مختلف categories میں تقسیم کر دیں، جیسا کہ botany میں ہوتا تھا۔ جبکہ دوسری جانب، کُونیات میں ایک متعین نظریہ تھا، جو کہ آئن سٹائن کا جنرل نظریۂ اضافت (General Theory of Relativity) تھا۔

آکسفورڈ میں کوئی بھی نہیں تھا جو کُونیات پر کام کر رہا تھا ، لیکن کیمبرج میں Fred Hoyle کونیات پر کام کر رہے تھے، جو اپنے وقت کے ممتاز ترین برطانوی ماہرِ فلکیات تھے۔ اسی وجہ سے میں نے Hoyle کی سرپرستی میں پی ایچ ڈی کے لئے اپلائی کر دیا۔ چونکہ میں اول درجے میں کامیاب ہوا تھا اس لئے مجھے کیمبرج میں پی ایچ ڈی میں داخلہ مل گیا۔ لیکن یہ جان کر میں بہت الجھن کا شکار ہوا کہ میرے سپروائزر Hoyle نہیں بلکہ Denis Sciama تھے، جن کو میں نہیں جانتا تھا۔ تاہم انجام کار ایسا میرے حق میں بہترین ثابت ہوا۔ Hoyle زیادہ تر بیرون ملک رہتے تھے اور  غالباً اس وجہ سے میں ان سے زیادہ استفادہ کر بھی نہ پاتا۔ جبکہ دوری جانب، Scima کیمبرج میں ہی ہوتے تھے اور ہمیشہ  حوصلہ افزائی کرتے تھے، اگرچہ میں اکثر ان کے خیالات سے متفق نہیں ہوتا تھا۔

چونکہ میں نے سکول اور آکسفورڈ میں زیادہ ریاضی نہیں پڑھی تھی، اس وجہ سے ابتداً مجھے جنرل نظریۂ اضافت سمجھنے میں بہت مشکل پیش آئی اور میں کوئی زیادہ progress نہیں کر سکا۔ مزید برآں میں نے آکسفورڈ میں اپنے آخری سال کے دوران غور کیا کہ میری جسمانی حرکت بد سلیقہ ہوتی جا رہی ہے۔ کیمبرج جانے کے بعدجلد ہی، مجھ میں ALS (amyotrophic lateral sclerosis) کی تشخیص ہو گئی، جسے برطانیہ میں موٹر نیوران (motor neuron) کی بیماری کہا جاتا ہے۔ (امریکہ میں اسے Lou Gehrig’s disease بھی کہتے ہیں )۔ ڈاکٹر حضرات میرا علاج کر پائے نہ ہی مجھے یہ یقین دہانی کرا پائے کہ میری بیماری میں مزید اضافہ نہیں ہو گا۔

ابتداً یوں محسوس ہوا کہ بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔(اس وجہ سے) مجھے اپنا تحقیقی کام بے وقعت لگنے لگا، کیونکہ مجھ اتنی بھی امید نہ رہی تھی کہ میں اپنی پی ایچ ڈی کی تکمیل تک زندہ رہ پاؤں گا۔تاہم، جوں جوں وقت گزرتا گیا، بیماری میں بظاہر آہستگی آتی گئی۔ میں نے جنرل نظریۂ اضافت بھی سمجھنا شروع کر دیا اور اپنا (پی ایچ ڈی کا) کام بھی شروع کر دیا۔ لیکن جو امر فیصلہ کن ثابت ہوا وہ میری Jane Wilde سے منگنی تھا، جس سے میری ملاقات اپنی بیماری کے تشخیص کے آس پاس ہی ہوئی تھی۔ جین کی شکل میں مجھے اپنا زندہ رہنا بامقصد نظر آنے لگا۔

ہماری شادی کے لئے میرے پاس ملازمت کا ہونا ضروری تھا، اور ملازمت ہونے کیلئے پی ایچ ڈی ہونا ضروری تھا۔ اور یوں آخرِ کار زندگی میں پہلی مرتبہ میں نے کام کرنا شروع کیا۔ اور مجھے حیرانی ہوئی کہ مجھے کام کرنا پسند آ رہا تھا۔ شاید اسے کام کہنا مناسب نہ ہو (کیونکہ) کسی نے کہہ رکھا ہے: سائنس دان اور طوائفوں کو اُن کی پسند یدہ سرگرمیوں کا معاوضہ ملتا ہے۔

میں نے Gonville اور Caius کالج میں ریسرچ فیلو شپ کے لئے درخواستیں جمع کرائیں۔ میں امید کر رہا تھا کہ میری درخواست جین ٹائپ کرے گی لیکن جب وہ مجھ سے ملنے کیمبرج آئی تو اُس کے ٹوٹے ہوئے بازو پر پلستر چڑھا ہوا تھا۔ مجھے اقرار کرنا چاہئے کہ مجھے اس واقعے پر جتنی ہمدردی دکھانا چاہئے تھی وہ میں نے نہیں دکھائی۔ اُس کا چونکہ بایاں بازو ٹوٹا تھا اس وجہ سے وہ میری درخواست لکھنے کے قابل تھی۔ میں بولتا گیا اور وہ لکھتی گئی، اور یوں بالآخر مجھے خود درخواست نہیں لکھنا پڑی

درخواست جمع کرانے کے لئے مجھے دو افراد اپنے کام کے حوالہ (reference) کے طور پر درکار تھے ۔ میرے سپروائزر نے تجویز دی کہ مجھے Herman Bondi کا نام دینا چاہئے۔ Bondi اس وقت kings College لندن میں ریاضی کے پروفیسر تھے۔، اور جنرل نظریۂ اضافت کے ماہر تھے۔ میری ان سے ایک دو مرتبہ ملاقات تھی، اور انھوں نے Proceedings of the Royal Society نامی جرنل میں میرا لکھا ہوا تحقیقی مقالہ شائع کرایا تھا۔ میں نے ان سے (ان کا نام بطور ریفرینس کے درج کرنے کے لئے) پوچھا، جب وہ کیمبرج میں ایک لیکچر دے کر فارغ ہوئے، تو انھوں نے مبہم انداز سے مجھے دیکھتے ہوئے حامی بھر لی۔ یقیناً میں انہیں یاد نہیں رہا ہوں گا کیونکہ جب کالج نے ان سے ریفرینس کے لئے رابطہ کیا تو جواباً انھوں نے کہا کہ وہ مجھے نہیں جانتے تھے۔ آج کل کالج ریسرچ فیلو شپ کے لئے اتنی کثیر تعداد میں درخواست گزار ہوتے ہیں کہ اگر کسی بھی درخواست گزار کا ریفرینس یہ کہہ دے کہ وہ اسے نہیں جانتا، تو وہیں اس درخواست گزار کے داخلے کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن وہ وقت کافی خاموش تھا۔ کالج نے مجھ سے رابطہ کر کے Bondi کا شرمندہ کردینے والا جواب بتایا، اور پھر میرے سپروائزر نے Bondi کی یادداشت تازہ کی۔ Bondi نے میرے لئے ایسا ریفرینس لکھا جس کا شاید میں مستحق نہیں تھا۔ مجھے فیلو شپ مل گئی اور تب سے میں Caius کالج کا فیلو ہوں۔

اس فیلو شپ کا مطلب یہ تھا کہ جین اور میں شادی کر سکتے تھے، جو ہم نے جولائی 1965 میں کی۔ ہم نے ہنی مون کا وقت Suffolk میں ایک ہفتے کے لئے گزارا، اور اس سے زیادہ اخراجات میں برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ بعد ازاں ہم Cornell University نیویارک کے summer school میں گئے جہاں جنرل نظریۂ اضافت پڑھایا جانا تھا۔ وہاں جانا ایک غلطی تھی۔ ہم ایک ایسی اقامت گاہ میں ٹھہرے جہاں ایسی جوڑے رہ رہے تھے جن کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے جو بہت شور مچاتے تھے، اس وجہ سے اس رہائش نے ہماری شادی شدہ زندگی پر کافی بوجھ ڈالا۔ اس کے علاوہ summer school بہت مفید رہا کیونکہ میں اپنے شعبے کے بہت سے قافلہ سالاروں سے مل پایا۔

1970 تک میں نے کُونیات میں تحقیق کی، جو کہ کائنات کی بڑے پیمانے پر تحقیق تھی۔ اس دورانیے میں میرا سب سے اہم کام Sigularities پر تھا۔ دور دراز کہکشاؤں کا مشاہدہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ وہ ہم سے دور جا رہی ہیں : کائنات پھیل رہی ہے۔ یہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ماضی میں کہکشائیں ایک دوسرے کے قریب رہی ہوں گی۔ اس کے بعد یہ سوال اٹھتا ہے: کیا ماضی میں کوئی ایسا وقت تھا جب تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں اور یوں کائنات کی کثافت غیر متناہی تھی؟ یا ماضی میں ایک ایسا دورانیہ تھا جب کہکشائیں (قریب تو تھیں لیکن) ایک دوسرے سے ٹکرانے سے محفوظ رہی ہوں گی؟ ممکن ہے وہ ایک دوسرے کے قریب سے گزر گئی ہوں پر ایک دوسرے سے ٹکرانے سے محفوظ رہی ہوں؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے ایک نئے ریاضیاتی طریقۂ کار کی ضرورت تھی۔ یہ طریقہ ہائے کار 1965 سے 1970 کے درمیان وضع کئے گئے جن میں راجر پینروز (Roger Penrose)اور میرا کردار بنیادی تھا۔ پینروز اس وقت Birkbeck کالج لندن میں تھے، اور اب آکسفورڈ میں ہیں۔ ہم نے ان ریاضیاتی طریقہ ہائے کار کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ اگر جنرل نظریۂ اضافت درست ہے تو ماضی میں غیر متناہی کثافت کی ایک حالت لازماًرہی ہو گی۔

غیر متناہی کثافت کی یہ حالت big bang singularity کہلاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر جنرل نظریۂ اضافت درست ہے تو سائنس یہ بتانے کے قابل نہیں ہو پائے گی کہ کائنات کیسے شروع ہوئی تھی۔ تاہم، میرا تازہ ترین تحقیقی کام یہ نشان دہی  کرتا ہے کہ کائنات کا آغاز جاننا ممکن ہے اگر ہم کوانٹم فزکس کی مدد سے اسے سمجھنے کی کوشش کریں، جو کہ مادے کا ذرات کی سطح پر مطالعے کا نام ہے۔

جنرل نظریۂ اضافت اس امر کی بھی پیشین گوئی کرتا ہے کہ دیو ہیکل ستارے جب اپنا نیوکلیائی ایندھن استعمال کر چکے ہوں گے تو وہ آپس میں ٹکرائیں گے۔ میرے اور پین روز کے کام نے یہ ثابت کیا کہ ستارے آپس میں تب تک ٹکرانا جاری رکھیں گے جب تک کہ وہ غیر متناہی کثافت کی اکائی (singularity) کو نہیں پہنچ جاتے۔ یہ اکائی کم از کم ان ستاروں اور ان پہ موجود ہر شے کے لئے وقت کا اختتام (end of time) ہو گا۔ اس اکائی کی کششِ ثقل اس قدر شدید ہو گی کہ اس کےاطراف موجود جگہوں سے روشنی بھی باہر نہ نکل پائے گی اور gravitational field اسے واپس کھینچ لائے گا۔ ایسا علاقہ جہاں سے روشنی کا فرار نا ممکن ہو، بلیک ہول (black hole) کہلاتا ہے اور اس کی حدود event horizon کہلاتی ہیں۔ کوئی بھی شے جو event horizonکے ذریعے بلیک ہول میں گرتی ہے، اس کا end of time اکائی پر جا کر ہوتا ہے۔

یہ 1970 کی بات ہے کہ میں ایک مرتبہ جب سونے کے لئے بستر پر لیٹا تو بلیک ہولز کے بارے میں سوچ رہا تھا، او ر یہ میری بیٹی Lucy کی پیدائش کے کچھ ہی عرصہ بعد کی بات تھی۔ اچانک مجھے یہ ادراک ہوا کہ میں نے پین روز کے ساتھ مل کر اکائی کو ثابت کرنے کے لئے جو طریقہ ہائے کار وضع کئے تھے وہ بلیک ہولز پر بھی منطبق کئے جا سکتے تھے۔ بالخصوص بلیک ہولز کا باہری کنارہ جو event horizon کہلاتا ہے، اس میں وقت گزرنے کے ساتھ کمی واقع نہیں ہو سکتی۔ اور دو بلیک ہولز  کے ٹکرانے سے جب ایک نیا بلیک ہول وجود میں آئے گا، تو اس نئے بلیک ہول کے افق کا رقبہ ان دو بلیک ہولز کے مشترکہ رقبہ سے بڑا ہو گا۔ اس نتیجے سے بلیک ہولز کے آپس میں ٹکرانے سے خارج ہونے والی توانائی کی مقدار پر ایک اہم حد بندی عائد ہو گئی۔اس اچانک ادراک سے میں اس قدر پر جوش تھا کہ اس رات ٹھیک سے سو نہ سکا۔

1970 سے 1974 کے درمیان میں نے بلیک ہولز پر کام کیا۔ لیکن 1974 میں غالباً میں نے اپنی سب سے حیران کن دریافت کی: کہ بلیک ہولز مکمل طور پر بلیک نہیں ہیں! جب ہم مادے کا بہت چھوٹی سطح پر تعامل دیکھتے ہیں ، تو بلیک ہولز سے بھی ذرات اور شعائیں خارج ہو سکتی ہیں۔اور بلیک ہول ایک گرم شے کی طرح شعائیں خارج کرتا ہے۔

1974 سے میں جنرل نظریۂ اضافت اور کوانٹم میکانکیات (quantum mechanics) کو باہم ملا کر ایک متوازن نظریہ بنانے پر کام کر رہا ہوں۔ اور اس کا ایک نتیجہ وہ تجویز (proposal) ہے جو میں نے 1983 میں نے جم ہارٹل (Jim Hartel) کے ساتھ مل کر 1983 میں پیش کیا۔ جم ہارٹل کا تعلق یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا سانتا باربرہ (Santa Barbara) سے تھا: پروپوزل یہ تھا کہ وقت (time) اور خلاء (space) محدود ہیں لیکن اُن کی کوئی حد بندی (boundary) یا کنارہ (edge) نہیں ہے۔ وہ زمین کی سطح جیسے ہی ہوں گے ، لیکن ان کی دو اضافی  جہات یا طول و عرض (dimensions) ہوں گے۔ زمین کا بیرونی علاقہ اپنے رقبہ میں محدود ہے لیکن اس کا کوئی کنارہ نہیں ہے۔ دنیا میں اپنے تمام تر سفر کے دوران میں (me) کبھی بھی زمین کے کنارے سے باہر نہیں گرا۔ اگر یہ پروپوزل درست ہے تو اس کا مطلب ہے اکائی (singularity) وجود نہیں رکھتی اور سائنس کے قوانین ہر جگہ پر لاگو ہوں گے، اور کائنات کے نکتۂ آغاز پر بھی یہ قوانین لاگو ہوں گے۔ یعنی کائنات کے آغاز کا تعین ہم سائنس کے قوانین سے کر پائیں گے۔ میں اپنے اس ارادے میں کامیاب ہو چکا ہوتا کہ یہ دریافت کروں کہ کائنات کا آغاز کیسے ہوا لیکن میں یہ ابھی تک نہیں جانتا کہ اس کا آغاز کیوں ہوا۔

Categories
نان فکشن

نجمِ اسود اور ننھی کائناتیں: قسط نمبر 1 (پیش لفظ)

عرضِ مترجم: اسٹیفن ہاکنگ کی کتاب ‘وقت کی مختصر تاریخ’ کا اردو ترجمہ محترم ناظر محمود صاحب، علیم احمد صاحب، یاسر جواد صاحب اور دیگر احباب نے اپنی اپنی جگہ نہایت ہنر مندی اور سلیقے سے کیا ہے، مزید برآں ہاکنگ کی تازہ ترین کتاب “بڑے سوالوں کے مختصر جواب” کا ترجمہ بھی حال ہی میں شائع ہو چکا ہے۔ تاہم ہاکنگ کی نہایت اہم اور طویل عرصہ تک  نیو یارک ٹائمز بیسٹ سیلر  رہنے والی کتاب Black Holes and Baby Universe  کا ترجمہ ان نامور مترجمین کی جانب سے ہنوز نہیں کیا گیا، اور یہ اعزاز لالٹین ڈاٹ پی کے کے حصے میں آ رہا ہے  جو نہ صرف  باعثِ فخر ہے بلکہ سائنسی کتب کے تراجم کی دم توڑتی روایت کو از سرِ نو زندہ کرنے کی  ایک شاندار کاوش  بھی،جو ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے۔ احباب سے درخواست ہے کہ ہاکنگ کی اس شاندار تحریر کو زیادہ سے زیادہ احباب بالخصوص سائنس کے طلباء کو مطالعے کے لئے تجویز فرمائیں۔

کتاب چودہ ابواب پر مشتمل ہے۔ جنہیں ادارہ ہفتہ وار شائع کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ط ع

 


پیش لفظ

از اسٹیفن ہاکنگ

 

یہ کتاب اُن مضامین کا مجموعہ ہے جو میں نے1976 اور 1992 کے درمیان (مختلف اوقات میں)  لکھے۔ ۔ ان مضامین کا دائرۂ کار خود نوشتہ خاکوں اور فلسفۂ سائنس سے لے کر اپنے اس جوش و ولولے کو بصراحت بیان کرنے کی کوشش ہے جو میں سائنس اور کائنات کے متعلق محسوس کرتا ہوں۔ کتاب کا اختتامیہ Desert Island Discs نام کےپروگرام کا تحریری قالب ہے جس میں مجھے مدعو کیا گیا۔ یہ برطانوی ٹیلی ویژن  انڈسٹری میں اپنی نوعیت کا ایک انوکھا پروگرام ہے جس میں مہمان سے کہا جاتا ہے کہ وہ خود کو ایک صحرائی جزیرے میں خستہ حال بھٹکتا ہوا تصور کرے، اور پھر آٹھ میں سے کسی ایک ریکارڈ کا انتخاب کرے جو وہ rescue کئے جانے تک (مسلسل) سنے گا۔ (خوش قسمتی سے مجھے صحرا سے واپس آنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔)

چونکہ یہ مضامین سولہ برس کے (طویل) دورانیے کو محیط ہیں لہذا یہ اس عرصے میں میری علمیت کی بتدریج ترقی کے عکاس بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے مضمون تحریر کرنے کی تاریخ اور جگہ، ہر مضمون کے اختتام پر درج کی ہیں۔ چونکہ  کتاب کا کوئی بھی مضمون دوسرے سے متصل نہیں ہے، لہذاٰ کچھ نہ کچھ باتوں کا اعادہ  یقینی ہے۔(اگرچہ) میں نے (حتی المقدور) کوشش کی ہے کہ ایسا نہ ہو، اس کے باوصف کچھ جگہوں پر   repetition دیکھنے میں آئے گی۔

کتاب کے اکثر مضامین کا خاکہ کچھ یوں تھا کہ یہ پڑھ کر سنائے گئے تھے۔ (لیکن) میری آواز اس قدر غیر واضح ہوتی تھی  کہ  بالعموم مجھے سیمینار اور خطابات اپنے  محقق (researcher) طالب علم کی مدد سے دینا پڑتے تھے۔ ، ایسا طالب علم جو مجھے سمجھ سکتا تھا اور میری لکھی ہوئی تحریر بھی پڑھ سکتا تھا۔ تاہم 1985 میں میرا وہ آپریشن ہوا جس سے میری قوتِ گویائی مکمل طور پر سلب ہو گئی۔ کچھ وقت کیلئے تو میرے پاس  کسی بھی قسم  کی گفتگو کا ذریعہ نہیں تھا۔ بالآخر مجھے ایک کمپیوٹر سسٹم  اور ایک نادر قسم کا speech synthesizer دیا گیا۔  مجھے (از حد) حیرت ہوئی کہ ( اس کی مدد سے)میں ایک کامیاب پبلک سپیکر بن سکتا  تھا، اور بہت سے سامعین سے بیک وقت مخاطب بھی ہو سکتا تھا۔ مجھے سائنسی امور کی وضاحت کرنے اور سوال و جواب سے لطف حاصل ہوتا ہے۔  میں جانتا ہوں کہ مجھے اس میں (سائنسی امور کی وضاحت اور سوالات کے جوابات دینے میں) بہتری لانے کیلئے ابھی بہت کچھ سیکھنا ہے، لیکن میرا خیال ہے مجھ میں بہتری آبھی رہی ہے۔  آپ  اس بارے میں فیصلہ آئندہ صفحات کو پڑھ کر از خود کر سکتے ہیں

میں اس نظریے سے متفق نہیں کہ کائنات ایک پر اسرار بھید ہے، ایک ایسی شے جس کے بارے میں ہم وجدانی آراء تو رکھ سکتے ہیں لیکن  کبھی مکمل طور پر اس کا تجزیہ کرنے یا اسے سمجھنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ میرا احساس ہے کہ یہ نظریہ اس سائنسی انقلاب سے انصاف نہیں کرتا جو قریب چار سو برس قبل گلیلیو سے شروع ہوا اور جسے نیوٹن نے دوام بخشا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کائنات کے کم از کم کچھ حصے لا یعنی یا الل ٹپ انداز میں کام نہیں کرتے بلکہ حتمی ریاضیاتی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔ اور پھر برسوں پر محیط (محنت سے) ہم نے گلیلیو اور نیوٹن کے کام کو کائنات کے تقریباً ہر حصے تک توسیع دی ہے۔ اب ہمارے پاس ریاضیاتی قوانین ہیں اور ہمارے احساسات میں آنے والے تمام تجربات ان قوانین کے تابع ہیں۔ یہ ہماری کامیابی کا معیار ہے کہ اب ہمیں اربوں ڈالر خرچ کر کے دیو ہیکل مشینیں بناتے ہیں ٍ تا کہ ہم ذرات کو اس قدر توانائی پہنچا سکیں کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہ ہو کہ (اتنی توانائی رکھتے ہوئے) ان کے آپس میں ٹکراؤ سے کیا نتیجہ برآمد ہو گا۔ ذرات کی یہ غیر معمولی توانائی زمین پر عام حالات میں وجود نہیں رکھتی، اور عین ممکن ہے کچھ لوگوں کو یہ گمان گزرے کہ ان کے مطالعہ پر اتنی خطیر رقم خرچ کرنا غیر ضروری ہے۔ لیکن (ان ذرات کا اس سطح کی توانائی رکھتے ہوئے ٹکراؤ) عین ممکن ہے ماقبل تخلیقِ کائنات ہوا ہو، لہذاٰ اگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کائنات اور ہم کس طرح وجود میں آئے تو یہ جاننا لازم ہو گا کہ اس سطح کی توانائی رکھنے والے ذرات کا باہمی تعامل کس نوعیت کا ہوتا ہے۔

کائنات کے بارے میں ہنوز بہت کچھ ایسا ہے جو ہم جانتے ہیں نہ ہی اس کا فہم رکھتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو حیران کن ترقی، بالخصوص گزشتہ سو برسوں میں کی ہے، اس سے ہمیں یہ حوصلہ ملتا ہے کہ شاید کائنات کا مکمل فہم ہماری طاقت سے باہر نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ اندھیرے میں نہیں بھٹکیں گے۔ (اور) عین ممکن ہے ہم کائنات کی ایک مکمل تھیوری وضع کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یقیناً ہم  Masters of the Universe کہلائیں گے۔

اس کتاب میں سائنسی مضامین اس یقین کے ساتھ لکھے گئے تھے کہ ہم کائنات کو ایک نظم کے تحت چلانے والے قوانین کا ضمنی ادراک رکھتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ مستقبل قریب میں ہم ان کا مکمل ادراک کر پائیں گے۔ عین ممکن ہے کہ یہ امید ایک سراب ہو؛ ہو سکتا ہے کہ کوئی مطلق تھیوری وجود نہ رکھتی ہو، اور اگر ہے بھی تو ہم اسے وضع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔  لیکن  کائنات کے مکمل ادراک کی کوشش ، انسانی  ذہن کے مستقل نا امید رہنے سے یقیناً  بہتر ہے۔

اسٹیفن ہاکنگ

31 مارچ 1993

 

 

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب چہارم)

سائنسی نظریات، خاص کر نیوٹن کے نظریہِ تجاذب کی روشنی میں فرانسیسی سائنسدان مارکس لپلاس(Laplace) نے یہ دلیل دی کہ کائنات کلی طور پر جبریتی (deterministic)ہے۔ اور سائنسی قوانین کا ایک سیٹ ایسا ہونا چاہیے کہ اگر ہمیں اس کی ماضی کی حالت پتا ہو تو وہ ہمیں کائنات کی مستقبل کی حالت کے بارے میں بتا سکے ۔ یہ بات نیوٹن کے قوانین کو استعمال کرتے ہوئے سورج اور دوسرے سیاروں کی مستقبل کی حالت کی پیش گوئی تک تو ٹھیک ہے لیکن لپلاس نے اس سے بھی آگے جا کر یہ کہا کہ ایسے قوانین نہ صرف نیوٹن کے نظریے بلکہ، بشمول انسانی رویے کے، کائنات میں موجود ہر شئے پر لاگو ہونے چاہیے۔

سائنسی جبریت کے نظریے کو ایسے لوگوں کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جن کے خیال میں اس سے خدا کی دنیا میں دست اندازی کی آزادی میں روکاوٹ آتی ہے۔ پھر بھی یہ موجودہ صدی کے آغاز تک ایک میعاری مفروضہ رہا۔ اس چیز کا پہلا اشارہ کہ ہمیں اس عقیدے کو ترک کرنا پڑے گا، رے لی اور جیمز جینز (Rayleigh and James Jeans) کی کی گئی کیلکولیشنز سے ملتا ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ کسی گرم جسم سے خارج ہو نیوالی شعاعوں کی توانائی لامحدود ہوتی ہے۔اس وقت کے یقین کردہ قوانین کے مطابق کسی بھی گرم جسم سے خارج ہونیوالی برقناطیسی شعاعوں کی توانائی تمام تعددات پر ایک جیسی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ایک جسم ایک سیکنڈ میں دس سے بیس کھرب لہریں خارج کرتا ہے تو اس سے خارج ہونے والی توانائی ایک ایسے ایسے جسم کی خارج کردہ توانائی کے برابر ہو گی جو ایک سیکنڈ میں بیس سے تیس کھرب لہریں خارج کرتا ہے۔ اب اگر فی سیکنڈ خارج کردہ لہروں کی تعداد لا محدود ہے تو خارج کردہ توانائی بھی لامتناہی ہو گی۔

اس مضحکہ خیز نتیجے سے بچنے کے لیے 1900 میں جرمنی کے ایک سائنسدان میکس پلانک نے یہ فرض کیا کہ گرم اجسام سے خارج ہونے والی شعاعیں پیکٹوں کی شکل میں خارج ہوتی ہیں جن کی توانائی تعدد کے راست متناسب ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زیادہ تعدد پر جا کر پیکٹوں کی توانائی مہیا کردہ توانائی سے بھی زیادہ ہو جائے گی لہٰذا خارج ہونیوالی شعاعوں کی تعداد کم ہو جائے گی۔

کوانٹمی مفروضے نے گرم اجسام سے خارج ہونیوالی سعاعوں کا مسلہ تو حل کر دیا لیکن جبریت پر اس کے مضمرات 1926 میں کھلے جب وارنر ہائزنبرگ نے اصولِ غیر یقینیت پیش کیا۔اس کے مطابق اگر آپ کسی ذرے کی مستقبل کی سپیڈ اور مقام معلوم کرنا ہے تو آپ کو اس کی حال کی سپیڈ اور مقام نہایت درستگی سے معلوم ہونے چاہیے۔ کسی ذرے کا مقام معلوم کرنے کے لیے آپ اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔ جب روشنی اس پر پڑنے کے بعد منتشر ہو گی تو اس کے مقام کا پتہ لگا لیا جائے گا۔کسی ذرے کے مقام کی زیادہ درست پیمائش تب ہو گی جب ہم کم طولِ موج کی لہر استعمال کریں۔ لیکن کم طولِ موج کی لہر استعمال کرنے سے اس کی توانائی زیادہ ہو جائے گی اور وہ اتنا ہی زیادہ ذرے کی رفتار کو بدل دے گی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ذرے کا مقام جتنی زیادہ درستگی سے معلوم ہو گا اس کی رفتار اتنی ہی نادرست ہو جائے گی۔یہی ہائزنبرگ کا اصولِ غیر یقینیت ہے کہ آپ چاہے جتنے بھی اچھے آلات استعمال کر لیں آپ کسی ذرے کا مقام اور رفتار(یا مومینٹم) ایک خاص حد سے زیادہ درستگی سے معلوم نہیں کر سکتے۔ اس حد کو پلانک کا مستقل کہتے ہیں۔

اصولِ غیر یقینیت نے دنیا کے متعلق ہمارے تصور کو یکسر بدل دیا۔ ااور اس کے ساتھ ساتھ لپلاس کا ایک جبریتی کائنات کے نظرے کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا۔ چونکہ مستقبل کی صحیح صحیح حالت کا پتہ لگانے کے لیے آپ کے پاس حال کی رفتار اور مقام کی صحیح صحیح معلومات ہونی چاہیے جو کہ اب اصولِ غیر یقینیت کے لگائے گئے قدغن کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔اصولِ غیر یقینیت کو بنیاد بنا کر ڈیراک، شروڈنگر اور ہائزنبرگ نے 1920 کی دہائی میں ایک نئی میکانیات کو جنم دیا جو کوانٹم میکانیات کہلاتی ہے۔اس کے مطابق ذرات کی کوئی وضع شدہ رفتار یا مقام نہیں ہے بلکہ ان کی کوانٹمی حالتیں ہیں جو کہ رفتار اور مقام کا امتزاج ہیں۔

کوانٹم میکانیات کسی مشاہدے کے ایک قطعی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتی بلکہ یہ اس کے بہت سارے ممکنہ نتائج بتاتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ کسی ایک نتیجے کے حاصل ہونے کا کتنا امکان ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی ایک نظام کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ ہمیں بتائے گی کہ کتنے فیصد الف نتیجہ اور کتنے فیصد ب نتیجہ حاصل ہونے کے امکان ہیں لیکن کس مشاہدے میں کون سا نتیجہ حاصل ہو گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔آئن سٹائن کو کوانٹم میکانیات کے اس طرح امکانی ہونے پر سخت اعتراض تھا۔ اس کو اُس کے اس مشہور معقولے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ “خدا چوسر نہیں کھیلتا “(God does not play dice)۔ لیکن باقی بہت سارے سائنسدان اس سے متفق تھے کیوں کہ ان مشاہدات سے جو نتائج حاصل ہوتے وہ تجربات کے ساتھ ہم آہنگ تھے۔درحقیقت یہ ایک بہت ہی زبردست نظریہ ہے جو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کو بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اگرچہ روشنی موجوں سے بنی ہوئی ہے لیکن پلانک کا نظریہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ بعض اوقات ان کو ذرے گمان کرنا مناسب ہے۔ اسی طرح ہائزنبرگ کا اصول ہمیں یہ بتاتا ہے کہ روشنی کے ذرات کو بعض اوقات موجوں کی صورت میں گمان کرنا مناسب ہے جن کا نہ تو کوئی خاص مقام ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی رفتار۔کوانٹم میکانیات کی بنیاد ایک نئی قسم کی ریاضی پر ہے جو دنیا کو موجوں یا ذروں کی صورت میں بیان نہیں کرتی بلکہ صرف مشاہداتِ عالم کو ان اصطلاحوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔کوانٹم میکانیات میں موجوں اور ذروں میں ایک دوہریت موجود ہے۔ کچھ مقاصد کے لیے ذورں کو موجوں کی صورت میں اور کچھ مقاصد کے لیے موجوں کو ذروں کی صورت میں گمان کرنا مناسب ہے۔ اس مظہر کا ایک اہم نتیجہ ذروں یا موجوں کے دو سیٹوں کے درمیان تداخل(interference) کی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ تداخل کی ایک مثال صابن کے بلبلے پر مختلف رنگوں کا نظر آنا ہے۔ صابن کی تہہ کے اوپر ی اور نچلی سطح سے روشنی کا انعکاس ہوتا ہے۔ یہ روشنی جب آنکھ میں پڑتی ہے تو تداخل کی وجہ سے کچھ رنگ غائب ہو جاتے ہیں اور نتیجتاً ہمیں صابن کی سطح پر مختلف رنگ نظر آتے ہیں۔

کوانٹم میکانیات کی دوہریت کی بدولت تداخل ذرات میں بھی واقع ہو سکتا ہے۔ اس مظہر کو ذیل میں دی گئی دائیگرام میں دکھایا گیا ہے۔اس کو دو درزی تجربہ(double slit experiment) کہتے ہیں۔ شکل میں نظر آنے والی دیوار میں دو تنگ درزیں بنائی گئی ہیں اور اس کے ایک طرف روشنی کا ایک منبع رکھا گیا ہے۔ دسری جانب ایک سکرین موجود ہے۔ روشنی درزوں سے گزر کر سکرین پر پڑتی ہے۔ سکرین پر موجود کسی بھی ایک نقطے پر ہمیں فرنجیں(Fringes) نظر آتی ہے۔ ایسا تداخل کی وجہ سے ہوتا کیوں کہ دونوں درزوں سے نکلنے والی روشنی اس نقطے تک پہنچنے کے لیے مختلف فاصلہ طے کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس نقطے پر آنے والی لہروں میں تداخل ہوتا ہے۔ اگر ہم روشنی کے منبعے کو الیکٹرانوں کے منبعے سے بدل دیں تو بھی فرنجیں ہی نظر آئیں گی۔

تداخل ایٹم کے متعلق ہماری فہم میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔جوہر کے کلاسیکی نظریات یہ کہتے ہیں کہ جب کوئی برقیہ مرکزے کے گرد چکر لگائے گا تو اسکی توانائی ختم ہوتی جائے گی اور وہ بالآخر مرکزے میں گر جائے گا ۔ لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوتا۔ کوانٹم میکانیات یہ کہتی ہے کہ جب کوئی برقیہ جوہری مرکزے کے گرد چکر لگاتا ہے تو وہ ساکن امواج بناتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی مدار، جس میں برقیہ چکر لگائے گا، کی لمبائی طولِ موج کا صحیح عددی ضعف ہو گی۔ یعنی ہر بار جب برقیہ ایک چکر پورا کرے گا تو اس کے ساتھ منسلک موج تعمیری تداخل کرے گی۔ باالفاظ دیگر الیکٹران صرف وہ مدار وجود رکھیں گے جن کے لیے تعمیری تداخل ہو۔

اسی مظہر کو حاصلِ تواریخ(Sum of histories) کی صورت میں بھی بیان کیا جا سکتا ہے جس کو فائن من(Feynman) نے متعارف کرایا۔ اس کے مطابق جب کو ذرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تو وہ صرف ایک راستے پر نہیں چلتا بلکہ ہر ممکنہ راستے پر چلتا ہے۔ ان میں سے بہت سارے راستے ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتے ہیں۔ جو بچ جاتے ہیں وہ الیکٹرانی مدار ہوتے ہیں۔

ان تصورات کی ریاضیاتی اشکال کی مدد سے ہم مزید پیچیدہ جوہروں اور سالموں کی ساخت معلوم کرنے کے قابل ہو گئے۔ سالمے دو یا دو سے زیادہ جوہروں سے مل کر بنے ہوتے ہیں اور تمام حیاتیاتی اجسام کا بنیادی جزو ہیں۔ قصہ مختصر یہ کہ کوانٹم میکانیات ہمیں ہمارے ارد گرد موجود تمام اشا کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے قابل بناتی ہے۔

آئن سٹائن کا عمومی نطریہ اضافیت کائنات اکبر کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ ایک کلاسیکی نظریہ ہے۔ایک کلاسیکی نظریہ ایسا نظریہ ہوتا ہے جس میں اصولِ غیر یقینیت کو شامل نہیں کیا جاتا۔لیکن پھر بھی یہ ہمیں صحیح نتائج دیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تجاذبی میدان نہایت ہی نحیف ہے۔ تاہم کچھ مقامات ایسے ہیں، جیسا کہ بلیک ہول اور بگ بینگ، جہاں تجاذبی میدان اتنا قوی ہو جاتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کو شامل کیے بنا گزارہ نہیں۔ ہمارے پاس ابھی ایسی کوئی تھیوری نہیں ہے جس میں عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانیات کو یکجا کیا جا سکے لیکن ہمیں اس بات کا پورا پورا اندازہ ہے کہ یہ تھیوری کیسی ہو گی۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب سوئم)

پھیلتی ہوئی کائنات

کائنات کے متعلق ہماری موجودہ تصویر 1924 سے شروع ہوتی ہے جب ایڈون ہبل نے یہ ثابت کیا کہ کائنات میں ہماری کہکشاں کے علاوہ اور بھی بہت ساری کہکشائیں موجودہیں اور ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلے ہیں۔یہ ثابت کرنے کے لیے ہبل کو ان کہکشاؤں کے فاصلے درکار تھے۔ چونکہ یہ بہت دور تھیں اس لیے اسے بالواسطہ طریقے استعمال کرنے پڑے۔کسی ستارے کی ظاہری چمک دو چیزوں پر منحصر ہوتی ہے۔ اول یہ کہ وہ ہم سے کتنا دور ہے اور دوئم یہ کہ وہ کتنی روشنی خارج کرتا ہے۔قریبی ستاروں کے لیے ہم ان کا فاصلہ اور ظاہری چمک ناپ سکتے ہیں۔لہٰذا ان کی دمک (Luminescence) معلوم کی جا سکتی ہے۔اس کے برعکس اگر کسی دوسری کہکشاں میں ہمیں کسی ستارے کی دمک معلوم ہو تو ہم اس کی ظاہری چمک سے اس کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔اس نے معلوم کیا کہہ کچھ خاص طرح کے ستاروں کی دمک ایک جیسی ہوتی ہے۔ لہٰذا اس نے دلیل دی کہہ اگر ہم ایسے ہی ستارے دوسری کہکشاؤں میں دھونڈ پائیں تو ان کی دمک سے ہم ان کا فاصلہ ناپ سکتے ہیں۔

اس طریقے سے ہبل نے نو کہکشاؤں کے فاصلے معلوم کیے۔اب ہم جانتے ہیں کہ ہماری کہکشاں چند سو ارب کہکشاؤں میں سے ایک ہے اور اس کے ایک سرے سے دوسرے تک کا فاصلہ ایک لاکھ نوری سال ہے۔اور اس کے مرغولے (Spiral) بازوؤں میں موجود ستارے آہستہ آہستہ اس کے مرکز کے گرد گھوم رہے ہیں۔ہمارا سورج ایک پیلا درمیانے سائز کا ستارہ ہے اور اس کے ایک مرغولی بازو کے اندرونی سرے پر موجود ہے۔

جب ستارے ہم سے اتنے دور ہیں کہ یہ ہمیں ایک نقطے کی طرح نظر آتے ہیں تو پھر ہم ان میں تفریق کیسے کر سکتے ہیں؟نیوٹن نے معلوم کیا کہ جب سورج سے آنے والی روشنی کو منشور(Prism) میں سے گزارا جاتا ہے تو وہ مختلف رنگوں میں منقسم ہو جاتی ہے۔اس کو ہم طیف (Spectrum) کہتے ہیں۔ہم کسی بھی ستارے یا کہکشاں سے آنے والی روشنی کا طیف معلوم کر سکتے ہیں۔مختلف ستاروں سے آنے والی روشنی کا طیف مختلف ہوتا ہے۔لیکن مختلف رنگوں سے نکلنے والی روشنی کی اضافی چمک ہمیشہ ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ایک سرخ دمکتے ہوئے جسم سے نکلنے والی روشنی کی۔اور اس کا انحصار اس جسم کے درجہ حرارت پر ہوتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم کسی ستارے کے روشنی کے طیف سے اس کادرجہ حرارت بتا سکتے ہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ مختلف ستاروں کی روشنی کے طیف میں کچھ خاص رنگ موجود نہیں ہوتے اور یہ ہر ستارے کے لیے مختلف ہوتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ ہر کیمیائی عنصر کچھ خاص رنگوں کے سیٹ کو جذب کر سکتاہے۔ اس سے یہ پتالگایا جا سکتا ہے کہ کس ستارے کے کُرہ ہوائی میں کون سے عناصرموجود ہیں۔

1920 میں جب ہیت دانوں نے کہکشاؤں کے طیف کی جانچ شروع کی تو انہوں نے دیکھا کہ ان کے طیف میں بھی وہی رنگ غائب ہیں جو ہماری کہکشاں میں ہیں۔ لیکن وہ تمام کے تمام رنگ روشنی کے طیف کے سرخ سرے کی طرف منتقل ہو چکے ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے لیے ہمیں پہلے ڈاپلر اثر (Doppler effect)کو سمجھنا ہو گا۔ ہمیں پتا ہے کہ روشنی برقناطیسی امواج پر مشتمل ہےاور مرئی روشنی ان امواج کا چھوٹا سا حصہ ہے۔ہر موج کا ایک تعدد(Frequency) ہوتا ہے جو کسی کاص رنگ کو ظاہر کرتا ہے۔اگر روشنی کا ایک منبع ہم سے ایک مستقل فاصلے پر موجود ہے تو وہ جو امواج خارج کرے گا ان کا تعدد ہمارے لیے مستقل ہو گا۔یعنی ایک سیکنڈ میں ہم تک پہنچنے والی امواج کی تعداد مستقل رہے گی۔لیکن اگر منبع ہماری طرف حرکت کر رہا ہو تو یہ تعداد مستقل نہیں رہتی۔بلکہ ان کا تعدد بڑھنے لگتا ہے۔ اس وجہ سے جو روشنی ہم تک پہنچتی ہے وہ طیف کے نیلے سرے کی طرف منتقل ہو چکی ہوتی ہے۔ اس کو نیلا انتقال (Blue Shift) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر منبع ہم سے دور جا رہا ہو تو روشنی سرخ سرے کی طرف منتقل ہو جاتی ہے، اس کو سرخ انتقال (Red Shift) کہا جاتا ہے۔ رفتار اور تعدد کے درمیان اس تعلق کو ڈاپلر اثر کہا جاتا ہے۔

1929 میں ہبل نے یہ مشاہدہ کیا کہ وہ کہکشائیں جو ہم سے زیادہ دور ہیں وہ زیادہ رفتار سے ہم سے دور جا رہی ہیں۔یعنی کہکشاں کے فاصلے اور رفتار میں راست تناسب ہے۔اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ کائنات ساکن نہیں ہے بلکہ پھیل رہی ہے۔

نیوٹن کے تجاذبی نطریے سے یہ بات آسانی سے اخذ کی جا سکتی تھی کہ کائنات پھیل رہی ہے لیکن ساکن کائنات کے بارے میں ہمارہ عقیدہ اتنا پختہ تھا کہ سب اس کے ساکن ہونے کی تاویلیں تلاش کرتے رہے۔حتیٰ کہ آئن سٹائن بھی ساکن کائنات کا حامی تھا۔حالانکہ اس کی عمومی اضافیت کی مساواتیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کائنات پھیل رہی ہے۔لیکن اس نے اس کو ساکن بنانے کے لیے ایک نئی ٹرم(Term) متعارف کرا دی جو کونیاتی مستقل (Cosmological Constant) کہلاتی ہے۔یہ ایک رد تجاذبی قوت ہے جو یہ بتاتی ہے کہ زمان و مکان میں خود سے پھیلنے کی خوبی موجود ہے۔ جو مادہ اور توانائی سے پیدا ہونے والی کشش کو منسوخ کرتی ہے اور نتیجتاً ہمیں ایک ساکن کائنات ملتی ہے۔ان سب میں صرف ایک بندہ ایسا تھا جو عمومی اضافیت کی مساواتوں کو ایسے ہی لے رہا تھا جیسا مطلب وہ بتاتی ہیں۔اس نے ان کی وضاحت کا ذمہ اٹھایا۔

فرائیڈ مین نے دو سادہ سے مفروضے فرض کیے۔ اول یہ کہ ہم جس سمت بھی دیکھیں کائنات ایک جیسی ہی نطر آتی ہے۔ اور دوئم یہ کہ ہم کائنات میں جس جگہ پر بھی کھڑے ہو کے دیکھیں ایسا ہی دکھے گا۔

حال ہی میں ان دونوں مفروضوں کے بہت زبردست شواہد ملے ہیں۔1965 میں دو سائنسدان، آرنو پینزیاس (Arno Penzias)اور رابڑٹ ولسن (Robert Wilson) ایک خرد موجی شناسندے(Detector) کی آزمائش کر رہے تھے لیکن اس میں بار بار ان چاہا شور(Noise) موصول ہو رہا تھا۔ جب انہوں نے تمام ممکنہ خامیوں کو بھی دور کر دیا تب بھی یہ شور یا سگنل ویسے ہی رہے۔ انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ یہ سگنل کُرّہ ہوائی کے اندر سے نہیں آرہے کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو اس وقت کم سگنل موصول ہوتے جب شناشندہ سیدھا اوپر کی جانب ہوتا بہ نسبت اس کے جب وہ افق کی طرف ہوتا کیوں کہ افق کی جانب سے آتے ہوئے ان کو زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا۔مزید یہ کہ یہ سگنل دن، رات، مہینے اور سال بھر ایک جیسے ہی تھے۔

اب ہم جانتے ہیں کہ چونکہ یہ سگنل ہر سمت سے ایک جیسے ہی موصول ہوتے ہیں لہٰذا یہ ساری مشاہداتی کائنات کا سفر طے کر کے آتے ہیں جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کائنات ہر سمت میں ایک جیسی ہی دکھائی دیتی ہے۔ آرنو پینزیاس اور رابڑٹ ولس کو اس دریافت پر 1978 میں نوبل انعام سے نوازہ گیا۔

فرائیڈمین کا پہلا مفروضہ اس بات کی طرف اشارہ دیتا ہے جیسے ہمارا کائنات میں کوئی خاص مقام ہو لیکن اس کی ایک متبادل تصریح بھی ہے کہ اگر ہم کسی اور کہکشاں سے دیکھیں تب بھی کائنات ایک جیسی ہی دکھے گی۔ جو کہ فرائیڈمین کا دوسرا مفروضہ ہے۔ہمارے پاس اس بات کو ماننے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ ہم اس کو صرف عاجزانہ طو پر مانتے ہیں کہ کائنات ہر نقطے سے ایک جیسی ہی دکھے۔ یہ صورتحال ایک ایسے غبارے کی طرح ہے جس پر مساوی فاصلے پر نشانات لگے ہوں۔ جب ایسے غبارے کو پھلایا جائے گا تو ہر نشان دوسرے سے دور ہوتا جائے گالیکن کسی کو بھی مرکز نہیں کہا جا سکتا۔ یہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دو نقاط ایک دوسرے سے جتنے دور ہوں گے وہ اتنی ہی تیزی سے ایک دوسرے سے دور جائیں گے۔یعنی سرخ انتقال فاصلے کے راست متناسب ہے۔ اسی مظہر کو ایڈون ہبل نے بھی دریافت کیا۔

اپنے دو مفروضوں کو بنیاد بنا کر فرائیڈمین نے کائنات کا ایک ماڈل ڈھونڈا۔ لیکن حقیقت میں ایسا ایک نہیں بلکہ تین ماڈل ہیں۔
پہلے ماڈل میں کائنات پھیل رہی ہے لیکن اس کے پھیلنے کی رفتار وقت کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔باالفاظ دیگر کہکشاؤں کے درمیان موجود کششِ ثقل ان کہکشاؤں کو ایک دوسرے کی طرف کھینچنا شروع کرد ے گی۔ اس طرح کی کائنات میں کہکشائیں صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتی ہیں پھر ان کے درمیان فاصلہ فاصل قیمت کو پہنچتا ہے اور پھر کم ہوتے ہوتے صفر کو پہنچ جاتا ہے۔ یہی ماڈل فرائیڈ مین نے بھی دیا تھا۔

دوسری قسم کے ماڈل میں کائنات اتنی تیزی سے پھیل رہی ہے کہ کشِ ثقل کبھی اس کو روک نہیں پاتی۔ ایسی کائنات میں اجسام صفر فاصلے سے پھیلنا شروع کرتے ہی اور پھر یکساں رفتار سے پھیلتے ہی جاتے ہیں۔

تیسری قسم کے ماڈل میں جیسے جیسے کائنات پھیلتی ہے اس کے پھیلنے کی رفتار بتدریج کم ہوتی جاتی ہے لیکن یہ کبھی بھی اتنی کم نہیں ہوتی کہ کششِ ثقل ان کو واپس صفر فاصلے پر کھینچ سکے۔

پہلے فرائیڈمین ماڈل کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں کائنات سپیس میں لامتناہی نہیں ہے۔اور نہ ہی سپیس کہ کوئی حدہے۔اس میں تجاذب اتنا قوی ہے کہ سپیس کو خود پر ہی منحنی کر دیتا ہےیہ بالکل زمین کی سطح کی طرح ہے جس پر اگر آپ ایک سمت میں چلنا شروع کر دیں تو واپس اسی جگہ پر پہنچ جائیں گے جہاں سے چلنا شروع کیا تھا۔ لیکن یہ سطح سہ جہتی ہے۔

پہلی طرح کے فرائیڈ مین ماڈل میں سپیس زمین کی سطح کی طرح بندہے لہٰذا یہ وسعت میں محدود ہے۔دوسری طرز کے ماڈل میں اس کی شکل زین (Saddle) کی طرح ہے اور لہٰذا یہ وسعت میں لامتناہی ہے۔تیسرے اور آخری فرائیڈمین ماڈل میں یہ مستوی ہے اور وسعت میں لامتناہی ہے۔
لیکن کون سا فرائیڈمین ماڈل ہماری کائنات کو بیان کرتا ہے یہ دیکھنے کے لیے ہمیں کائنات کے پھیلاؤ کی شرح اور اس کی اوسط کثافت کا پتا ہونا چاہیے۔اور اس کی کثافت ایک خاص قیمت (جس کا تخمینہ اس کی پھیلاؤ کی شرح سے ملے گا) سے کم ہوئی تو کششِ ثقل اس کو روکنے میں ناکام رہے گی اور یہ ہمیشہ پھیلتی جائے گی۔ اور اگر کثافت اس فاصل قیمت سے زیادہ ہوئی تو ثقل اس کو واپس کھینچ لے گی اور یہ منہدم ہو جائے گی۔

پھیلاؤ کی شرح کو ہم ڈاپلر اثر سے ناپتے ہیں کہ کہکشائیں ہم سے کس رفتار سے دور جا رہی ہیں۔ اس حساب سے کائنات ہر ایک ارب سال میں پانچ سے دس فیصد پھیلتی ہےتاہم اس کی اوسط کثافت میں غیر یقینیت بہت زیادہ ہے۔ اگر ہم اپنی اور دوسری کہکشاؤں میں موجود ستاروں کی کمیت کو جمع کریں تو یہ کمیت پھلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے ایک سو گنا کم ہے۔ تاہم ہم جانتے ہیں کہ ستاروں اور کہکشاؤں کے درمیان تاریک مادہ موجود ہے اور اس کی کمیت کو بھی شامل کر لیا جائے تب بھی یہ کمیت پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار کمیت سے دس گنا کم ہے۔ لہٰذا ہمارا موجودہ اندازہ یہ ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے۔

فرائیڈمین کے تمام حل یہ بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً دس سے بیس ارب سال قبل کہکشاؤں کے درمیان فاصلہ صفر رہا ہو گا۔ اور کائنات کی کثافت اور سپیس کا انحنا لامتناہی ہو گا۔ اس کو اب بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ چونکہ ریاضی لامتناہی اعداد کا حساب نہیں لگا سکتی اس لیے اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں پر عمومی اضافیت بذاتِ خود لایعنی ہو جاتی ہے۔اس نقطے کو ریاضی دان وحدانیت(Singularity) کا نام دیتے ہیں۔ہمارے تمام نظریات میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ زمان و مکان مستوی ہےاس کا مطلب یہ ہوا کہ وحدانیت پر یہ تمام لایعنی ہو جاتے ہیں۔اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے وقوع پذیر ہوئے ان کا بگ بینگ کے بعد والے واقعات پر کوئی اثر نہ ہو گا۔یاپھر جو کچھ بگ بینگ کے بعد ہوا ہے اس کو استعمال کر کے یہ معلوم نہیں کیا جا سکتا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا ہوا تھا۔ لہٰذا وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے ہوئے ان کو کسی تھیوری کا حصہ نہیں ہونا چاہیے لہٰذا ہم یہ کہتے ہیں کہ وقت کا آغاز بگ بینگ سے ہوا۔

بہت سارے لوگوں کو بگ بینگ کا تصور پسند نہ آیااس کی ایک مثال مستقل حالتی کائناتی نظریہ (Steady State Universe)ہے جو 1948 میں ہرمن بونڈی، فریڈ ہوئل اور ٹامس گولڈ نے پیش کیا۔ اس کے مطابق جیسے جیسے کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں ان کے درمیان نیا مادہ تخلیق ہو رہا ہے۔جس کی وجہ سے کائنات ایک جیسی ہی دکھتی ہے۔تاہم 1950 اور 1960 میں ہونے والے ریڈیائی موجوں کے مطالعے سے پتا چلا کہ کائنات در حقیقت پھیل رہی ہے۔ اس مطالعے میں موجود سائنسدانوں نے زمین پر موصول ہونے والی ریڈیائی لہروں کا مطالعہ کیا۔ اس میں دیکھا گیا کہ کچھ سگنل بہت قوی جب کہ دوسرے نحیف ہیں۔ اس کی تاویل یوں کی گئی کہ قوی سگنل قریب جب کہ نحیف دور کی کہکشاؤں سے موصول ہو رہے ہیں۔ لیکن پھر یہ بھی دیکھا گیا کہ مشترکہ منبوں کے سپیس کے اکائی حجم میں قوی کی نسبت نحیف منبوں کے اشاروں کی شدت زیادہ ہے، اس کی تاویل یہ تھی کہ ماضی میں یہ نحیف اشاروں کے منبے بھی ہمارے قریب قریب تھے جو اب دور جا چکے ہیں۔ باالفاظِ دیگر کائنات پھیل رہی ہے۔ اس نے مستقل حالتی کائناتی نظریے کا خاتمہ کر دیا۔

اس سوال کا جواب کہ کیا عمومی اضافیت بگ بینگ اور وقت کے آغاز کی پیش گوئی کرتی ہے برطانوی سائنسدان راجر پین روز نے دیا۔ راجر پین روز نے 1965 میں یہ ثابت کیا کہ جب کوئی ستارہ اپنی ہی کشش کے تحت منہدم ہوتا ہے تو اس کاحجم صفر ہو جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمان و مکان کا انحنا لامتناہی ہو جاتا ہے۔ باالفاظِ دیگر زمان و مکان میں واحدانیت موجود ہے جو بلیک ہول کہلاتا ہے۔

پہلے پہل یوں لگا کہ پین روز کا تھیورم صرف ستاروں پر لاگو ہوتا ہے اور اس کا بگ بینگ یا واحدانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔میں نے اس تھیورم کو 1965 میں پڑھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ تھیورم تب بھی اپنی حالت برقرار رکھتا ہے اگر آپ وقت کی سمت بدل دیں۔مطلب اگر انہدام پھیلاؤ بن جائے تب بھی۔ یعنی اگر آپ یہ سوچیں کہ کوئی ستارہ منہدم ہو کر وحدانیت کی طرف جانے کی بجائے وحدانیت سے شروع ہو کر باہر کی طرف پھیل رہا ہے۔یہ دلیل یہ ثابت کرتی ہے کہ فرائیڈ مین کی طرح کی کوئی بھی کائنات وحدانیت سے شروع ہوئی ہو گی۔1970 میں پین روز اور میں ریاضیاتی طور پر یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ اگر عمومی اضافیت صحیح ہے تو کائنات کا آغاز درحقیقت بگ بینگ سے ہی ہونا چاہیے۔ شروع میں کچھ حلقوں سے اس کی مخالفت کی گئی لیکن ایک ریاضیاتی تھیورم کے سامنے یہ مخالفت زیادہ دیر نہ ٹھہر پائی۔ ا ب تقریباً تمام سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ بگ بینگ ہی کائنات کا نقطہِ آغاز ہے۔لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر میں نے اپنا ذہن بدل لیا ہے اور سائنسدانوں کو اس بات پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ کائنات کے آغاز میں کوئی وحدانیت نہیں تھی۔ اس پر مزید بحث بعد میں آئے گی۔

چونکہ وحدانیت پر جا کر عمومی اضافیت بھی دم توڑ جاتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ایک مکمل نظریہ نہیں ہے۔ اس پیمانے پر جا کر ہمیں بیسویں صدی کی دوسرے نظریے(کوانٹم میکانیات) کو بھی عمل میں لانا ہوگا۔ اور پھر عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانات کے سنگم سے کوانٹم تجاذبی نظریے یا نظریہِ کل کی طرف جائیں گے۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب دوئم)

باب دوئم
زمان اور مکان

کائنات کے بارے میں ہمارے موجودہ تصورات گلیلیو اور نیوٹن سے شروع ہوتے ہیں۔اس سے قبل ارسطو کے تصورات رائج تھے۔ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے اور وہ اسی وقت حرکت کرتے ہیں جب ان پر کوئی قوت عمل کرتی ہے۔ اس حساب سے بھاری اجسام زمین کی جانب زیادہ تیزی سے گریں گے کیوں کہ ان پر زیادہ قوت عمل کرتی ہے۔

ارسطاطالوی روایت کے مطابق کائنات کے قوانین کو محض تخیل سے سمجھا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کسی مشاہدے کی ضرورت نہیں ہے۔شاید اسی وجہ سے گلیلیو تک کسی نے ارسطو کے عقائد کو تجربے کی کسوٹی پر پرکھنے کی کوشش نہ کی۔ کہا جاتا ہے کہ گلیلیو نے مختلف اجسام کو پیسا کے مینار سے گرا کر ان کی رفتاریں ماپیں۔ لیکن یہ کہانی غیر مستند ہے۔ پر گلیلیو نے اس جیسا کچھ کیا ضرور تھا۔اس نے اجسام کو سلوپ(Slope) پر سے لڑکھڑایا تھا۔ مثال کے طور پر ایک سلوپ جو لمبائی میں دس میٹر ہو اوراونچائی میں ایک میٹر ہو تو اس پر سے لڑکھڑائے گئے اجسام کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے بڑھے گی۔یعنی ایک سیکنڈ کے بعد اس کی رفتار ایک میٹر فی سیکنڈ ہوگی، دو سیکنڈ کے بعد دو میٹر فی سیکنڈ اور اسی طرح بڑھتی جائے گی۔اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ سیسے کا کُرہ ایک پر (Wing) کی نسبت زیادہ تیزی سے گرے گا لیکن یہ اس لیے ہے کیوں کہ اس پر ہوا کی زیادہ مزاحمت عمل کرتی ہے۔اگر مزاحمت کو ختم کر دیا جائے تو دونوں ایک ساتھ گریں گے۔

گلیلیو کے ان تجربات کو نیوٹن نے اپنے قوانینِ حرکت کی بنیاد بنایا۔گلیلیو کے تجربات یہ بتاتے ہیں کہ قوت کا اصل کام اجسام کی رفتار کو تبدیل کرنا ہے۔یعنی اس میں اسراع کا پیدا ہونا ہے۔ یہ نیوٹن کا دوسرا قانون کہلاتا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نکلتا ہے کہ اگر کسی جسم پر قوت عمل نہ کرے تو وہ یکساں رفتار سے حرکت کرتا رہے گا۔یہ نیوٹن کا پہلا قانون ہے۔ یہ قوانین پہلی بار نیوٹن کی کتاب ریاضیاتِ فطری فلسفہ میں چھپے۔

ارسطو اور گلیلیو اور نیوٹن کے تصورات کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ ارسطو کے مطابق اجسام کی فطری حالت سکون کی ہے۔جب کہ نیوٹن کے قوانین یہ بتاتے ہیں کہ سکون کا کوئی حتمی میعار نہیں ہے۔ہو سکتا ہے ایک جسم جو مشاہد الف کے مطابق سکون میں ہے وہ مشاہد ب کے مطابق حرکت میں ہو۔مثال کے طور پر اگر ہم کچھ دیر کے لیے زمین کی محوری حرکت کو نظر انداز کر دیں تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ آیا کہ زمین ساکت ہے اور ریل گاڑی شمال کی طرف حرکت میں ہے یا ریل گاڑی ساکت ہے اور زمین جنوب کی طرف حرکت میں ہے۔مطلب یہ کہ اگر کوئی ریل گاڑی میں کچھ تجربات کرے تو اس پر بھی نیوٹن کے قوانین ایسے ہی لاگو ہوں گے جیسے زمین پر ہوتے ہیں۔لہٰذا یہ بتانے کا کوئی حتمی طریقہ نہیں ہے کہ ریل گاڑی حرکت میں ہے یا زمین۔

مطلق سکون کے عدم وجود کا مطلب یہ ہے کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ دو واقعات جو مختلف مقامات پر وقوع پذیر ہوتے ہیں وہ ایک ہی مقام پر ہوئے ہیں یا نہیں۔ فرض کریں ایک سم سم والا گیند ریل گاڑی کے اندر ایک جگہ پر دو ٹپے کھاتا ہے۔ ریل گاڑی میں موجود مشاہد کے مطابق گیند ایک ہی جگہ پر دو ٹپے کھائے گا جب کہ زمین پر موجود مشاہد کے مطابق گیند دو مختلف جگہوں پر ٹکرائے گا جو ایک دوسرے سے اتنا دور ہیں جتنا ایک سیکنڈ میں ریل گاڑی فاصلہ طے کرتی ہے۔مطلق سکون کا عدم وجود یہ بتاتا ہے کہ ہم اجسام کو مطلق مقام (یا مطلق سپیس )فراہم نہیں کر سکتے۔

ارسطو اور نیوٹن دونوں مطلق زمان پر یقین رکھتے تھے۔ ان کے مطابق وقت ہر مشاہد کے لیے ایک جیسا رہتا ہے۔ لیکن وقت مطلق اس وقت تک رہتا ہے جب تک اجسام بہت کم رفتار سے حرکت کرتے ہیں۔ جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنے لگتی ہے تو وقت بھی مطلق نہیں رہتا۔
اس بات کی تصدیق کہ روشنی کی رفتار متناہی ہے سب سے پہلے اولے روئمر نے1676 میں کی۔ اس کے دیکھا کہ مشتری کے چاند کا اس کے پیچھے جانے اور پھر دوبارہ سے ظاہر ہونے کا وقت ایک جیسا نہیں تھا۔ اس نے کہا کہ چونکہ زمین اور مشتری دونوں ہی سورج کے گرد چکر لگاتے ہیں اس لیے ان کا درمیانی فاصلہ بدلتا رہتا ہے۔جس کی وجہ سے بعض اوقات مشتری کے چاند جلدی نظر آتے ہیں جب کہ بعض دفعہ یہ کافی دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔ اس نے اس وقت کے موجود ڈیٹا (Data)کی مدد سے روشنی کی رفتار کی پیمائش بھی کی جو کہ ایک لاکھ چالیس ہزار میل فی سیکنڈ تھی۔ یاد رہے کہ روشنی کی موجودہ رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔

روشنی کی اشاعت کی پہلی تھیوری 1865 میں جیمز میکسویل نے پیش کی۔ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ روشنی موجوں کی صورت میں ایک مستقل رفتار سے سفر کرتی ہے۔ نیوٹن کی تھیوری نے پہلے ہی مطلق مکان کے تصور کو جھٹلا دیا تھا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ روشنی کی یہ مستقل رفتار کس کے حساب(relative) سے ہے۔ سائنسدانوں کا خیال تھا کہ روشنی کہ یہ رفتار ایتھر(Ether) کے ریلیٹو ہے۔ ایتھر ایک فرضی میٹیریل ہے جو ساری کائنات میں پھیلا ہوا ہے اور روشنی اس میں سے سفر کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ زمین بھی ایتھر کے اندر سے سفر کرتی ہے تو سورج کی طرف سے آنے والی روشنی کے رفتار زیادہ ہونی چاہیے جب زمین سورج کی طرف جا رہی ہو بہ نسبت اس کے جب یہ اس سے دور جا رہی ہے۔ اس چیز کو دیکھنے کے لیے مائکلسن اور مورلے نے 1881 میں ایک تجربہ کیا جس کا مقصد درج بالا پیش گوئی کو جانچنا تھا۔ لیکن اس کے تجربے کے نتائج کے مطابق روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے چاہے آپ (زمین) جس سمت میں بھی سفر کریں۔1887 اور 1905 کے درمیان اس تجربے کے نتائج کی بہت ساری تاویلیں پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کوئی بھی کارگر ثابت نہ ہوئی۔ 1905 میں البرٹ آئن سٹائن نے کہا کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ وقت مطلق نہیں ہے تو ہمیں ایتھر کے تصور کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

خصوصی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ اس چیز سے بالا تر کہ وہ کس رفتار سے حرکت کر رہے ہیں، فزکس کے قوانین تمام مشاہدوں کے لیے ایک جیسے رہتے ہیں۔ یہ بات نیوٹن کا نظریہ پہلے ہی بتا چکا تھا لیکن اب اس میں میکسویل کے نظریے کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یعنی تمام مشاہد ین کے لیے روشنی کی رفتار مستقل رہے گی۔ نظریہ اضافیت کے نہایت ہی شاندار نتائج ہیں۔ اس میں پہلا کمیت اور توانائی کی برابری ہے جس کو مشہور مساوات E=mc2 کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ ایک اتنا ہی شاندار نتیجہ وہ ہے جس نے زمان و مکان کے متعلق ہمارے تصورات کو یکسر بدل دیا۔ نیوٹن کا نظریہ یہ کہتا ہے کہ اگر آپ کوئی اشارہ یا سگنل ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجتے ہیں تو مختلف رفتار سے حرکت کرنے والے مشاہد ایک ہی وقت ماپیں گے کیوں کہ نیوٹن کے نظریے میں وقت مطلق ہے لیکن وہ اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ روشنی نے کتنا فاصلہ طے کیا کیوں کہ سپیس یا مکان مطلق نہیں ہے۔ لہٰذا ان کے لیے روشنی کی رفتار جو کہ فاصلے اور وقت کا حاصلِ ضرب ہوتی ہے، مختلف ہو گی۔ لیکن آئن سٹائن کی تھیوری میں چونکہ روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے مختلف مشاہد فاصلے کو ابھی بھی مختلف ہی ماپیں گے۔ لیکن چونکہ اب روشنی کی رفتار مستقل ہے اس لیے وہ وقت جو کہ فاصلے اور روشنی کی رفتار کا حاصلِ تقسیم ہے اس کو بھی مختلف ماپیں گے۔بالالفظِ دیگر نظریہِ اضافیت نے مطلق زمانے کے تصور کو ختم کر دیا۔

ذیل میں دی گئی شکل میں ایک واقعے (Event) کی پیمائش کی جاتی ہے۔ ریڈار سے ایک اشارہ اس جگہ پر بھیجا جاتا ہے جہاں پر کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اشارے کا کچھ حصہ منعکس ہوتا ہے اور ایک اور وقت پر اسے پھر سے ریڈار کی مدد سے حاصل کر لیا جاتا ہے۔ واقعے کا وقت کل وقت کا آدھا ہوگا (جیسا کہ شکل میں دیکھایا گیا ہے)۔ اور واقعہ کس جگہ پر رونما ہوتا ہے اس کو وقت اور روشنی کی رفتار کے حاصلِ ضرب سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ذیل میں دی گئی تصویر زمانی مکانی ڈائیگرام کی ایک مثال ہے۔ مختلف مشاہد جو ایک دوسرے کے لحاظ سے حرکت میں ہوں گے وہ اس واقعے کے رونما ہونے کی زمان اور مکان کی مختلف قیمتیں ماپیں گے اور کسی بھی مشاہد کی پیمائش کو کسی دوسرے کی پیمائش پر کوئی برتری حاصل نہ ہو گی۔

یہ ایک عام تجربہ ہے کہ ہم سپیس میں کسی بھی نقطے کو تین اعداد یا محددات سے ظاہر کرتے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ نقطہ ایک دیوار سے اتنے، دوسری سے اتنے جب کہ فرش سے اتنے فاصلے پر موجود ہے۔ لیکن محدددات کا یہ نظام خالصتاً ہماری اپنی پسند ہے۔ہم اسی نقطے کے مقام کو ظاہر کرنے کیے کوئی اور اعداد یا محددات لے کر بھی اس نقطے کا بالکل صحیح مقام پتا لگا سکتے تھے۔

ایک واقعہ ایک ایسی شئے ہے جو سپیس میں کسی خاص مقام اور کسی خاص وقت پر رونما ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کے مقام کو چار محددات کی مدد سے جانا جا سکتا ہے۔ یعنی تین محدد سپیس کے اور ایک وقت کا۔ لیکن خصوصی اضافیت میں سپیس اور وقت میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔بالکل ایسے ہی جیسے سپیس کے دو محددات میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اس لیے ہم کسی نقطے کے مقام کو بجائے سپیس اور ٹائم کے محددات میں معلوم کرنے کے ایک چہار جہتی سپیس میں ظاہر کرتے ہیں جو کہ زمان و مکاں یا سپیس ٹائم کہلاتی ہے- اس کتاب میں میں زمانے یا وقت کو عمودی جب کی مکان یا سپیس کے کسی ایک محدد کو افقی سمت میں ظاہر کروں گا (سپیس کے باقی دو محددات کو نظر انداز کیا گیا ہے)۔ یہ ڈائیگرام زمانی مکانی ڈائیگرامز کہلاتی ہیں۔

ذیل میں دی گئی ڈائیگرام میں وقت کو عمودی سمت میں سالوں میں جب کہ فاصلے کو افقی سمت میں میلوں میں ماپا گیا ہے۔ زمان ومکان میں سورج اور الفا قنطوری عمودی سمت میں حرکت کرتے ہیں۔سورج سے نکلی ہوئی ایک شعاع وتری راستہ لیتے ہوئے چار سال میں الفا قنطوری تک پہنچتی ہے۔

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ میکسویل کی مساواتیں یہ بتاتی ہیں کہ چاہے روشنی کا منبہ کسی بھی رفتار سے حرکت کر رہا ہو، روشنی کی رفتار مستقل رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب روشنی کسی منبہ سے نکلتی ہے تو وہ ایک کرُے کی شکل میں ہر طرف پھیلتی ہے۔ ایک سیکنڈ کے دس لاکھویں حصے کے بعد اس کُرے کا رداس 300 میٹر جب کہ بیس لاکھویں حصے کے بعد یہ رداس بڑھ کر 600 میٹر ہو جائے گا اور اسی طرح بتدریج بڑھتا جائے گا۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک ندی کی سطح پر لہریں پیدا ہوتی ہیں۔یہ لہریں وقت گزرنے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رداس کے دائرے کی صورت میں پھیلتی جائیں گی۔

اگر ہم تین ابعادی(Three dimensional) ماڈل کا تصور کریں جس میں دو ابعاد ندی کی سطح جب کہ تیسری وقت کی سمت کو ظاہر کرے تو یہ لہریں ایک مخرطیہ (Cone) بنائیں گی۔جس کی نوک اس وقت اور مقام پر ہوگی جب پتھر پانی میں گرا تھا۔ اسی طرح کسی بھی واقعے سے پھیلنے والی روشنی بھی چار ابعادی زمان و مکان میں تین ابعادی مخروطیہ بناتی ہے۔ یہ مخروط اس واقعے کی مستقبل کی نوری مخروط (Light Cone) کہلاتی ہے۔ اسی طرح ہم ایک مخروط بنا سکتے ہیں جو ماضی کی نوری مخروط کہلاتی ہے۔ یہ ان واقعات کا مرقع یا سیٹ ہوگی جن سے روشنی کی شعاع مذکورہ واقعے تک پہنچتی ہے۔

کسی واقعےP کے ماضی اور مستقبل کی نوری مخروطیں زمان و مکان کے کسی بھی خطے کو تین حصوں میں تقسیم کرتی ہیں۔کسی واقعے کا مطلق مستقبل وہ خطہ ہو گا جو مستقبل کی نوری مخروط کے اندر ہو گا۔ یہ ان واقعات کا سیٹ ہو گا جو ممکنہ طور پر اس بات سے اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ واقعے P پر کیا ہوا ہے۔ وہ تمام واقعات جو مستقبل کی نوری مخروط کے باہر رونما ہوتے ہیں ان پر P پر ہونے والے حادثات کا کوئی اثر نہیں ہوتا کیوں کہ ان تک روشنی ابھی نہیں پہنچ پاتی۔P کامطلق ماضی وہ خطہ ہے جو ماضی کی نوری مخروط کے اندر موجود ہوتا ہے۔یہ ان تمام واقعات کا سیٹ ہے جن سے اشارے روشنی یا اس سے کم رفتار سے سفر کرتے ہوئے P تک پہنچتے ہیں۔لہٰذا یہ ان واقعات کا سیٹ ہوا جو ممکنہ طور پر P پر وقوع پذیر ہونے والے واقعات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔یعنی اگر اگر آپ کو یہ پتا ہو کہ P کی ماضی کی نوری مخروط میں کیا ہوا تھا تو آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ Pپر کیا ہوگا۔ زمان و مکان کا وہ تمام خطے جو P کی ماضی یا مستقبل کی نوری مخروط کے باہر موجود ہیں ان پر یا ان کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا کہ P پر کیا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر اگر سورج ابھی چمکنا بند کر دے تواس کا فوری طور پر زمین پر اثر نہیں ہو گا۔ کیوں کہ زمین سورج کے مستقبل کی نوری مخروط میں نہیں آتی۔ بلکہ زمین پر اس کا پتا آٹھ منٹ کے بعد چلے گا کیوں کہ سورج کی روشنی آٹھ منٹ میں زمین پر پہنچتی ہے اور آٹھ منٹ کے بعد زمین سورج کے اس واقعے کی مستقبل کی مخروط میں ہوگی جب اس نے چمکنا چھوڑا تھا۔

اسی طرح دوردراز کے ستاروں سے آنے والی روشنی لاکھوں سال کا سفر طے کر کے ہم تک پہنچتی ہے۔ تو ایک لحاظ سے ہم ان ستاروں کے ماضی میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

خصوصی نظریہ اضافیت اس وقت صحیح نتائج دیتا ہے جب اجسام کی رفتار روشنی کی رفتار کے قریب قریب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نیوٹن کے نظریہ تجاذب کے ساتھ یکساں نہیں ہے۔نیوٹن کا نظریہِ تجاذب یہ کہتا ہے کہ دو اجسام کے درمیان قوتِ کشش ان کے درمیان فاصلے کے مربع کے بالعکس متناسب ہوتی ہے۔ اس کو مطلب یہ ہوا کہ اگر اجسام کے درمیان فاصلے کو بدلا جائے تو اس کا اثر دوسرے جسم پر فوری محسوس کیا جائے گا۔جو کہ خصوصی اضافیت کے خلاف ہے جو یہ کہتا ہے کہ کوئی بھی چیز روشنی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے سفر نہیں کرسکتی۔1915 میں آئن سٹائن نے ایک تجاذبی نظریہ پیش کیا جو کہ خصوصی اضافیت کے ساتھ یکساں تھا۔ یہ اب عمومی نظریہِ اضافیت کے نام سے جانا جاتا ہے۔

عمومی نظریہ اضافیت یہ کہتا ہے کہ تجاذب ایک قوت نہیں ہے بلکہ زمان و مکان کے منحنی(curved) ہونے کا نتیجہ ہے۔ کمیت اور توانائی زمان و مکان میں انحنا پیدا کرتے ہیں۔ زمین اور دوسرے اجسام اس انحنائی زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتے ہیں جو کہ جادیاتی (Geodesic) کہلاتا ہے۔ جادیاتی یا جیوڈیزک دو نقاط کے درمیان کم سے کم فاصلہ ہوتا ہے۔عمومی اضافیت میں اجسام چہار جہتی زمان و مکان میں ایک سیدھی قطار میں حرکت کرتے ہیں لیکن ہماری سہ جہتی زمان و مکان میں وہ منحنی راستوں پر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔سورج بھی اپنے اردگرد زمان ومکان میں اس طرح کا انحنا پیدا کرتا ہے کہ زمین اس کے گرد گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ روشنی بھی زمان و مکان میں ایک جادیاتی یا جیوڈیزک پر چلے گی اور اس طرح ہمارے سہ جہتی(Three dimensional) زمان و مکان میں سیدھے راستے پر چلتی ہوئی نظر نہیں آئے گی۔عمومی اضافیت یہ پیش گوئی کرتی ہے کہ تجاذبی میدان کی وجہ سے روشنی اپنے راستے سے مڑ جائے گی۔اس لحاظ سے دور دراز کے ستارے سے آنے والی روشنی جب سورج کے پاس سے گزرے گی تو اپنے راستے سے مڑ جائے گی اور اس طرح اس ستارے کا ظاہری مقام بدل جائے گا۔ لیکن عام حالات میں سورج کی روشنی کی وجہ سے یہ دیکھنا ممکن نہیں ہوتا۔لیکن چونکہ سورج گرہن کے دوران سورج کی روشنی ہم تک نہیں پہنچ پاتی تو اس منظر کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔اس مظہر کی تصدیق 1919 میں لگنے والے سورج گرہن کے دوران کی جانے والے مشاہدات سے کی گئی۔

عمومی اضافیت کی ایک پیش گوئی یہ بھی ہے کہ بھاری اجسام کے پاس وقت سست روی سے گزرتا ہے۔اس کی وجہ توانائی اور تعدد(Frequency) کے درمیان راست تناسب ہے۔ جب روشنی کی ایک کرن اوپر کی جانب جاتی ہے تو اس کی توانائی کم ہوتی ہے۔ یعنی اس کا تعدد کم ہوتا ہے یا طولِ موج بڑھ جاتا ہے۔اس سے بلندی پر کھڑے ایک مشاہد کو یوں لگے گا جیسے نیچے واقعات بہت آہستہ آہستہ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔اس امر کی تصدیق 1962 میں کیے گئی ایک تجربے میں کی گئی۔

نیوٹن کے قوانینِ حرکت نے مطلق مکان سے آزادی دلائی اور نظریہ اضافیت نے مطلق زمان سے۔1915 سے پہلے زمان و مکان کو ایک جامد سٹیج کی مانند سمجھا جاتا تھاجس میں حاثات وقوع پذیر ہوتے تھے لیکن ان کا اس زمان ومکان پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا۔ عمومی اضافیت میں زمان و مکان متحرک مقداریں ہیں۔ جب اجسام حرکت کرتے ہیں یا ایک دوسرے پر قوت لگاتے ہیں تو وہ زمان و مکان پر اثر ڈالتے ہیں۔اور بدلے میں زمان ومکان اجسام کی حرکات پر اثر انداز ہوتا ہے۔جس طرح آپ کائنات میں ہونے والے واقعات کو زمان و مکان کے بغیر بیان نہیں کر سکتے اسی طرح عمومی اضافیت میں کائنات کے باہر زمان ومکان کا سوال ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔

Categories
نان فکشن

وقت کی مختصر تاریخ؛ ایک تلخیص (باب اول)

[blockquote style=”3″]

وقت کی مختصر تاریخ ان کتابوں میں شامل ہے جنہوں نے کائنات سے متعلق عمومی فہم کے خدوخال متعین کیے ہیں۔ اردو قارئین تک اس کتاب کو پہنچانے کے لئے فصی ملک نے اس کی تلخیص شروع کی ہے۔ ہم فصی ملک کے شکر گزار ہیں جنہوں نے نہایت عرق ریزی کے ساتھ یہ اہم فریضہ سرانجام دیا ہے۔

[/blockquote]

باب اول
کائنات کے متعلق ہماری تصویر

340 قبل مسیح میں یونانی فلسفی ارسطو نے زمین کے کُروی ہونے کے بارے میں دو دلائل پیش کئے۔
اول یہ کہ چاند گِرہن کے دوران جب زمین کا سایا چاند پر پڑتا ہے تو وہ ہمیشہ ہی دائروی ہوتا ہے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب زمین گول ہو۔ اگر زمین مستوی ہوتی تو اس کا سایا لمبوترہ یا بیضوی ہوتا ۔یا پھر ایسا ہو کہ جب بھی گرہن لگے اس وقت سورج عین اس مستوی طشتری (زمین) کے مرکز کے نیچے ہو۔

دوئم یہ کہ یونانی اپنی سیاحتوں سے جانتے تھے کہ شمالی ستارے کو جب جنوبی علاقوں سے دیکھا جائے تو وہ آسمان میں نیچے نطر آتا ہے بہ نسبت اس کے جب اسے شمالی علاقوں سے دیکھا جائے۔ چونکہ شمالی ستارہ قطب شمالی کے اوپر موجود ہے اس لیے جب اسے شمال سے دیکھا جائے تو یہ مشاہد کے اوپر دکھائی دیتا ہے جب کہ جب اسے جنوبی علاقوں سے دیکھا جائے تو یہ افق پر نظر آتا ہے۔ ارسطو نے شمالی ستارے کے مقام میں ظاہر تبدیلی سے زمین کا قطر بھی معلوم کیا جو کہ موجودہ قیمت سے دوگنا تھا۔

ارسطو کے مطابق زمین ساکن ہے اور کائنات کے مرکز پر موجود ہے اور ستارے زمین کے گرد دائروی مداروں میں چکر لگاتے ہیں۔ارسطو کے اس تصور کو بطلیموس(Ptolemy) نے ایک مکمل کونیاتی ماڈل میں ڈھال دیا۔ بطلیموس کے مطابق زمین ساکن ہے اور کائنات کے مرکز پر ہے جب کہ اس کے گرد چاند، سورج ،پانچ سیارے ،جو اس وقت معلوم تھے(عطارد، وینس، مریخ، مشتری اور یورینس)، اورجامد ستارے آٹھ مداروں میں چکر لگاتے ہیں۔ جامد ستاروں کا آپس کا درمیانی فاصلہ تبدیل نہیں ہوتا جب کی زمین کے لحاظ سے ان کی جگہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ان ستاروں کے باہر کیا ہے اس سوال پر کبھی نہیں سوچا گیا۔ یہی ہماری کائنات کی حد تھی۔

بطلیموس کا ماڈل ستاروں کے مقامات کی پیش گوئی کرنے کے لیے ایک مناسب ماڈل تھا۔ لیکن ان کا صحیح مقام بتانے کے لیے بطلیموس کو یہ فرض کرنا پڑا کی چاند زمین کے گرد چکر لگاتے ہوئے کبھی کبھی بہت قریب آ جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی جسامت کافی بڑی نظر آتی ہے۔ بطلیموس کو اس غلطی کا احساس تھا لیکن پھر بھی عمومی طور پر اس ماڈل کو اپنا لیا گیا۔ مزید اس کو کلیسا (چرچ )کی بھی حمایت حاصل ہوئی کیوں کہ جامد ستاروں کے باہر جنت اور جہنم کے لیے کافی جگہ تھی۔

کائنات کاایک نسبتاً سادہ ماڈل کوپر نیکس نے 1514 میں پیش کیا۔ اس کے مطابق سورج ساکن ہے جب کہ زمین اور دوسرے سیارے اس کے گرد چکرلگاتے ہیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں وہ بدعتی نہ کہلایا جائے کوپر نیکس نے یہ ماڈل اپنے نام سے شائع نہ کیا۔ تقریباً ایک سو سال بعد دو ہئیت دانوں، گلیلیو گلیلی اور جوہانس کیپلر نے کھل کر کوپر نیکس کے نظریے کی حمایت کرنا شروع کر دی۔ بطلیموس کی تھیوری کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب گلیلیو نے دور بین نے مشتری کا مشاہدہ کرتے ہوئے دیکھا کہ اس کے گرد مزید سیارے یا چاند چکر لگا رہے ہیں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ زمین مرکز پر ہو اور یہ چاند زمین کے گرد چکر لگائیں جو بظاہر مشتری کے گرد گھومتے ہوے نطر آتے ہیں؟

اسی دوران کیپلر نے کوپرنیکس کے نظریے میں ترمیم کرتے ہوئے ثابت کیا کہ ساروں کے مدار دائروی نہیں بلکہ بیضوی ہیں۔ اس سے بطلیموس کا نظریہ مکمل طور پر رد ہو گیا۔ تاہم کیپلر بیضوی مداروں سے مطمئن نہیں تھا۔ دائروں میں تشاکل زیادہ تھا اور وہ زیادہ خوبصورت تھے۔

1687 میں آئزک نیوٹن نے اپنی کتاب اصولِ فطری فلسفہ شائع کی۔ اس میں اس نے نہ صرف یہ ثابت کیا کہ سیارےزمان و مکان میں کیسے گھومتے ہیں بلکہ ان کی حرکات اور مقامات کو معلوم کرنے کے لیے ریاضی بھی ایجاد کی۔ نیوٹن نے قانونِ تجاذب پیش کیا جس کی رو سے دو اجسام جتنے بھاری ہوں گے ان کے درمیان کشش اتنی ہی زیادہ ہو گی اور وہ جتنے دور ہوں گے ان کے درمیان کشش اتنی ہی کم ہو گی۔ نیوٹن نے یہ بھی ثابت کیا کہ اجسام زمین کی طرف اسی قوت کی وجہ سے گرتے ہیں اور چاند زمین اور زمین سورج کے گرد اسی قوت کی وجہ سے چکر لگاتی ہے۔

نیوٹن کے نظریے کے مطابق ایک محدود کائنات میں تمام اجسام باہمی کشش کے تحت ایک دوسرے پر گر جائیں گے۔ نیوٹن نے اس سوال کا جواب ایک لامحداد کائنات کی صورت میں دیا۔ فرض کریں کائنات لامحدود ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی نقطہ کائنات کامرکز کہلا سکتا ہے۔چونکہ اب کسی بھی جسم پر ہر طرف سے مساوی قوت لگے گی اس لیے وہ اپنی جگہ پر رہے گا۔

لیکن یہ ایک غلط دلیل ہے اور یہ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم لامحدودیت کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم ایک محدود خطہ فرض کریں۔ اب نیوٹن کی تھیوری کے مطابق اس خطے میں موجود اجسام ایک دوسرے کی طرف گریں گے۔ اب اگر ہم فرض کریں کہ اس خطے کے باہر مزید اجسام کو مساوی فاصلے پر رکھ دیاجاتا ہے تو ایسا کرنے سے پہلے والے اجسام کی حرکت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور وہ اسی طرھ مرکز کی طرف گریں گے۔ اب ہم جانتے ہیں کہ کائنات کا کوئی بھی ایسا لامحدود ساکن ماڈل بنانا ممکن نہیں ہے جس میں گریوٹی ہمیشہ کشش کی قوت ہو۔

نیوٹن کی تھیوری نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ ایک لامحدود ساکن کائنات کا وجود ممکن نہیں ہے پھر بھی کسی نے اس طرف نہ سوچا کہ ہو سکتا ہے کائنات پھیل رہی ہو؟ بلکہ انہوں انہوں نے اس کے ساکن ہونے کے حق میں دلائل پیش کئے۔ایک دلیل یہ تھی کہ گریوٹی کم فاصلوں پر کشش جب کہ زیادہ فاصلوں پر دفع کی قوت کے طور پر عمل کرتی ہے۔ لہٰذا قریبی ستاروں کے درمیان کشش کی قوت دور کے ستاروں کے درمیان دفع کی قوت کو منسوخ کرتی ہے اور اس طرح سارا نظام توازن میں رہتا ہے۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ ایسا کوئی بھی نظام غیر مستحکم ہو گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی ایک خطے میں ستارے ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہوں تو کشش کی قوت دفع کی قوت پر حاوی آجائے گی اور ستارے ایک دوسری کی طرف گرنے لگیں گے وقص علیٰ ہذا۔

لامحدود ساکن کائنات پر ایک اور اعتراض 1823 میں جرمن فلسفی ہنرخ اولبرز نے اٹھایا۔ اس کے مطابق ایک لامحدود ساکن کائنات میں آپ جس طرف بھی دیکھیں گے آپ کی نطر کسی ستارے پر جا کر پڑے گی۔اور اس طرح سارا آسمان سورج کی طرح روشن دکھے گا۔ اولبرز نے اس کی جو ضد دلیل پیش کی وہ یہ تھی کہ دور دراز کے ستاروں سے آنے والی روشنی درمیان میں آنے والے مادہ میں جذب ہو رہی ہو۔ لیکن اس طرح وہ مادہ روشنی جذب کر کے ستاروں کی طرح چمکنے لگے گا۔ اس مسلے سے راہِ فرار ایک ہی تھی کہ یہ فرض کیا جائے کہ ستارے ہمیشہ سے نہیں چمک رہے بلکہ انہوں نے کسی خاص وقت پر چمکنا شروع کیا ہو۔ ایسی صورت میں درمیانی مادے نے ابھی اتنی تپش جذب نہیں کی ہو گی کہ سورج کی طرح روشن ہو سکیں۔ لیکن اس سے سوال یہ اٹھتا ہے کہ کس علت نے ابتدا میں ستاروں کو چمکنے پر مجبور کیا ہو گا؟

آغازِ کائنات کا سوال ہمیشہ سے ہی زیرِ بحث رہا ہے۔ بہت ساری کائنات کے نظریات اور مذہبی صحیفوں کے مطابق اس کا آغاز کسی خاص مقام پر ہوا۔ ایسے نظریے کی ایک وجہ علتِ اولٰی کا ہونا ہے۔ کائنات میں ہرحادثے کو آپ ماضی میں ہوئے کسی واقعے سے جوڑتے ہیں۔ایسی صورت میں کائنات کے وجود کی توضیح صرف اسی صورت میں کی جا سکتی ہے کہ کسی خاص مقام پر اس کا آغاز ہوا ہو۔ ایک اور دلیل سینٹ اگسٹین نے اپنی کتا ب خدا کا شہر میں دی۔ اس نے یہ دلیل دی کہ تہذیب ارتقا پا رہی ہے اور ہم یاد رکھتے ہیں کہ کس نے کون سا کام کیا یا کس نے کون سی تیکنیک متعارف کرائی۔ اس لیے انسان اور کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں رہے۔لہٰذا کائنات کا کسی نقطے پر آغاز ہوا ہے۔ اس نے پیدائش کی کتاب (Book of Genesis) سے اس کی عمر 5000 سال بتائی۔

ارسطو اور بہت سارے دوسرے یونانی فلسفیوں نے تخلیق کے تصور کو پسند نہ کیا کیوں کہ اس میں سماوی مداخلت کا عنصر کافی زیادہ تھا۔یونانیوں نے پہلے ہی اوپر بیان کیے گئے ارتقا والی دلیل پر غور و خوض کیا تھا اور اس کا جواب یہ دیا تھا کہ زمین پر اکثر سیلاب اور اس طرح کی آفتیں آتی رہی ہیں جن کی وجہ سے تہذیب کا خاتمہ ہو جاتا اور پھر یہ دوبارہ سے شروع ہوتی۔

اس سوال کو کہ آیا کائنات کا آغاز وقت میں کسی خاص نقطے پر ہوا یا یہ زمانے تک محدود ہے کو امینوئل کانٹ نے 1781 میں چھپنے والی اپنی کتاب تنقیدِ عقلِ محض (Critique of pure reasom)میں کافی تفصیل سے زیرِ بحث لایا ہے۔ اس کے مطابق یہ دلائل عقلِ محض کے تضادات ہیں۔ کیوں کہ اس کے خیال میں یہ دعوٰی، کہ کائنات کا آغاز ہوا تھا یا اس کا جواب دعوٰی کہ یہ ہمیشہ سے موجود تھی ، ایک جیسے وزنی دلائل ہیں۔ دعوٰی کے لیے اس کی دلیل تھی کہ اگر کائنات کا آغاز ہوا ہوتا تو کسی بھی واقعے کے ہونے سے پہلے لامتناہی وقت ہوتا اور جواب دعوٰی کے لیے دلیل یہ تھی کہ اگر کائنات کا آغاز ہوا ہو تب بھی کسی واقعے کے ہونے سے پہلے لامتناہی وقت موجود ہو گا۔اصل میں دعوٰی اور جواب دعوٰی ایک ہی دلیل ہے اور یہ اس غیر بیان کردہ مفروضے پر مبنی ہے کہ اس چیز سے بالا تر کہ آیا کائنات کا آغاز ہوا ہے یا نہیں، وقت ہمیشہ سے ہی موجود رہا ہے۔ بعد میں ہم یہ دیکھیں گے کہ کائنات کے آغاز سے پہلے وقت لایعنی ہو جاتا ہے۔

1929 میں ایک سائنسدان ایڈون ہبل نے دیکھا کہ کہکشائیں ایک دوسرے سے دور جا رہی ہیں۔ اس کامطلب یہ تھا کہ ماضی میں وہ ایک دوسرے کے قریب قریب رہی ہوں گی اور ایک ایسا وقت بھی ہو گا جب سارا مادہ ایک ہی نقطے پر مرکوز ہو گا۔اس وقت کائنات کی کثافت لامتناہی ہو گی۔ اس کو اب بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ ہبل کے مشاہدات یہ بتاتے ہیں کہ اس نقطے پر کائنات لامتناہانہ چھوٹی اور کثیف ہو گی۔ اس مقام پر طبیعیات کے تمام قوانین بے اثر ہو جاتے ہیں۔ اور اس طرح کسی بھی چیز کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت بھی صفر ہو جاتی ہے۔ وہ تمام واقعات جو بگ بینگ سے پہلے ہوئے ہوں گے ا ن کامستقبل میں ہونے والے حوادث پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ بگ بینگ ہی وقت کاآغاز ہے۔ایک غیر تغیر پذیر ساکن کائنات میں وقت کسی بیرونی قوت کا محتاج ہوتا ہے۔کوئی بھی یہ گمان کر سکتا ہے کہ خدا نے ماضی میں کسی بھی وقت پر کائنات کو پیدا کیا ہو گا۔ دوسری جانب اگرکائنات پھیل رہی ہے تو طبیعی لحاظ سے وقت کا نقطہ آغاز ایک ضرورت بن جاتا ہے۔ ایک پھیلتی ہوئی کائنات میں بھی کہا جاسکتا ہے کہ خدا نے کائنات کو بگ بینگ پرپیدا کیا یا اس کے بعد کسی بھی نقطے پر اس طرح پیدا کیا کہ یوں لگے کہ ماضی میں کہیں بگ بینگ ہوا تھا۔ایک پھیلتی ہوئی کائنات خالق کا انکار نہیں کرتی لیکن اس چیز پر حد مقرر کر دیتی ہے کہ اُس نے اِس کو کب پیدا کیا ہو گا۔

کائنات کی ماہیت کو جاننے کے لیے ایک بات بہت واضح ہونی چاہیے کہ سائنسی نظریہ کیا ہوتا ہے۔میں اس کا ایک سادہ ورژن لوں گا کہ یہ ایک ماڈل ہوتا ہے جس میں کچھ اصول ہوتے ہیں جو ماڈل میں موجود مقداروں کو ان مشاہدات سے جوڑتے ہیں جو ہم کرتے ہیں۔ کسی بھی نظریے کے اچھا ہونے میں دو باتیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ پہلے سے موجود تمام مشاہدات سے ہم آہنگ ہو اور مستقبل کے نتائج کی پیش گوئی کرے۔ مثال کے طور پر ارسطو کی تھیوری کہ مادہ آگ، پانی ، ہوا اور مٹی سے مل کر بنا ہے اتنا سادہ ہے کہ اس کو تھیوری قرار دیا جا سکے لیکن یہ مزید کسی نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتا۔ اس کے برعکس نیوٹن کا تجاذب کا نظریہ بھی اتنا ہی سادہ ہے اور تمام مشاہدات پر پورا اترنے کے ساتھ ساتھ مزید نتائج کی پیش گوئی بھی کرتا ہے۔یعنی یہ چاند ،سورج اور دوسرے سیاروں کی حرکات کی پیش گوئی کرتا ہے۔

کوئی بھی طبیعی نظریہ عارضی ہوتا ہے، ایک لحاظ سے یہ ایک مفروضہ ہی ہوتا ہے۔آپ اسے ثابت نہیں کر سکتے۔ اس چیز سے بالائے نظر کہ کتنی مرتبہ کسی تجربے کے نتائج صحیح آتے ہیں آپ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگلی بار بھی صحیح نتائج آئیں گے۔اس کے برعکس آپ کسی بھی نظریے کو صرف ایک ایسے مشاہدے سے رد کر سکتے ہیں جو پیش گوئی پر پورا نہ اترتا ہو۔ جیسا کہ سائنسی فلسفی کارل پاپر نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی تھیوری کو یہ چیز ممیز کرتی ہے کہ یہ ایسی پیش گوئیاں کرتی ہے جن کو عمومی طور پر غلط ثابت کیا جا سکتا ہو۔ جب بھی تھیوری کسی پیش گوئی پر پورا اترتی ہے تو ہمارا عقیدہ اس پر اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ عمومی طور پر جب بھی کوئی نئی تھیوری کسی پرانی کی جگہ لیتی ہے تو وہ اسی کی ہی تصحیح شدہ شکل ہوتی ہے، مثال کے طور پر نیوٹن کی تھیوری کی بنا پر عطارد کے مدار کی توضیح نہیں کی جا سکتی لیکن آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت اس کی وضاحت کرتا ہے۔ لیکن ابھی بھی نیوٹن کی تھیوری مستعمل ہے کیوں کہ اس کا آئن سٹائن کے نطریے سے فرق اتنا کم ہے کہ عام حالات میں ہم اسے نظر انداز کر دیتے ہیں اور ویسے بھی نیوٹن کا نطریہ آئن سٹائن کے نظریے سے استعمال کرنے میں بہت آسان ہے۔

سائنسدانوں کا اصل مقصد ایک ایسے نظریے کی تلاش ہے جو ساری کائنات کو بیان کر سکے۔ زیادہ تر سائنسدان اس کو دو حصوں میں بانٹتے ہیں۔ پہلے میں وہ قوانین آتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ کائنات وقت کے ساتھ کیسے تبدل پذیر ہوتی ہے۔ یعنی اگر ایک وقت پر ہمیں کائنات کی حالت کا پتا ہو تو یہ قوانین یہ بتائیں گے کہ کسی اور وقت پر اس کی حالت کیا ہو گی۔ دوسرے نمبر پر کائنات کی ابتدائی حالت (Initial state) کا سوال آتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ سائنس کا فیلڈ نہیں بلکہ فلسفے یا مذہب کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ خدا ہر شئے پر قادر ہے تو اس کی مرضی ہے کہ اس نے کائنات کو موجودہ حالت میں شروع کیا۔ لیکن یہاں پر بھی سوال اٹھتا ہے کہ اگر اس کے پاس بہت سارے چوائس تھے تو اس نے یہی حالت کیوں چنی۔چنانچہ یہ سوچنا کافی عقلی ہے کہ ایسے قوانین موجود ہوں جو کائنات کی ابتدائی حالت کو بھی بیان کریں۔

کائنات کا کوئی ایک یکساں نظریہ بنانا ایک نہایت ہی مشکل کام ثابت ہوا ہے۔ ہم اب یوں کرتے ہیں کہ اس کو مختلف حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصے کا نظریہ بنا لیتے ہیں جو کسی محدود حد میں مشاہدات کی وضاحت کرتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ راستہ غلط ہو لیکن یہی وہ طریقہ ہے جس کو استعمال کر کے ہم نے ماضی میں ترقی کی ہے۔ مثال کے طور پر نیوٹن کی تجاذب کی تھیوری یہ کہتی ہے کی کشش کی قوت دو اجسام کی کمیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اب ہمیں اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں کہ وہ اجسام کس شئے کے بنے ہوئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

سائنسدان کائنات کو دو نظریات کی مدد سے بیان کرتے ہیں۔ آئن سٹائن کا عمومی نظریہ اضافیت اور کوانٹم میکانیات۔ نظریہ اضافیت کائنات کی ساخت کو بڑے پیمانے پر بیان کرتا ہے جو کہ کچھ میل سے لے کر اربوں میل تک ہو سکتا ہے جب کہ کوانٹم میکانیات کائنات کو بہت چھوٹے پیمانے پر بیان کرتی ہے جو کہ ایک انچ کے بھی ایک اربویں حصے سے بھی کم ہو سکتا ہے۔ لیکن مسلہ یہ ہے کہ یہ دونوں نظریات ایک دوسرے کے ساتھ یکساں نہیں ہیں۔ سائنس دانوں کی کوشش ہے کہ ان دونوں کو ملا کر ایک ایسا نظریہ بنایا جائے جو ساری کائنات کو بیان کرتا ہو۔ سائنسدان اسے کوانٹم تجاذبی نظریہ کہتے ہیں۔ہمارے پاس ابھی ایسا نطریہ نہیں ہے لیکن ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ نظریہ کس طرح کی پیش گوئیاں کرے گا۔

Categories
نان فکشن

سٹیفن ہاکنگ؛ عظیم سائنسدان

انسان ہمیشہ سے کائنات میں ہونے والے مختلف اور متنوع مظاہر فطرت کا مشاہدہ کرتا آیا ہے۔ یہ مختلف قسم کی اشیاء جیسے آسمان، زمین، پہاڑ، نباتات، جمادات و حیوانات اور متنوع قسم کے مظاہر جیسے روشنی، بجلی، مقناطیسیت ،موسموں کی تبدیلی، دن رات کا بدلنا، سمندروں کی لہروں، چاند اور سورج کی مقامی تبدیلی اورحرارت و حرکیات وغیرہ کو دیکھتا اور انکے بارے غوروفکر کرتا ہوا نت نئے اندازے لگاتا رہا ہے۔ جدید سائنس نے اب سے 400 سال قبل یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے بعد ان مظاہر میں پائے جانے والی یکسانیت اور ان میں موجود قوانین کی دریافتوں نے جدید دور کے انسان کا تصور کائنات ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔اس تصور کائنات کی تصویر کشی کرنے والے سائنسدانوں میں کوپرنیکس، گلیلیو، برونے، کیپلر، لائیبنیز، لاپلاس، نیوٹن، فیراڈے، میکسول، بولٹزمین،ایڈیسن،گاؤس، ریمان، آئن سٹائن،پلانک،شروڈنجر، بوہر، ہائیزنبرگ، ڈیراک، پالی، فائن مین، ستیندرناتھ بوز، چندرشیکر، عبدالسلام اور دیگر بڑے بڑے نام شامل ہیں۔ انہی ناموں میں بیسویں اور اکیسویں صدی کا ایک عظیم نام سٹیفن ہاکنگ ہے۔

سٹیفن ولیم ہاکنگ انگلستان کے شہر آکسفورڈ میں 8 جنوری 1942ء کو پیدا ہوئے۔یہ دور دنیا میں جنگ عظیم دوم کا تھا۔ آپ کے والد فرینک ولیم ہاکنگ ایک کسان کے بیٹے تھے ۔ فرینک نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے ادویات کے شعبے میں مہارت حاصل کی اور جنگ عظیم میں انگلستان کے لئے میڈیکل کی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ اسی یونیورسٹی میں انکی ملاقات ایزوبل نامی خاتون سے ہوئی اور انہوں نے شادی کرلی۔ یہ نوبیاہتا جوڑا جنگ کے دنوں میں لندن میں قیام پذیر تھا ۔ جہاں ہر وقت گولہ باری کا امکان رہتا تھا اسی لئےجس وقت انکے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہونے والی تھی تو یہ لوگ آکسفورڈ منتقل ہوگئے جہاں جرمنی فوجوں کے ساتھ ایک معاہدہ کے تحت گولہ باری کے امکان کم تھے۔

جنگ بندی کے بعد یہ لوگ دوبارہ لندن کے قریب ایک تاریخی جگہ منتقل ہوگئے جہاں سٹیفن کی دو بہنیں میری اور فلیپا اور ایک بھائی ایڈورڈ پیدا ہوئے۔ فرینک اور ایزوبل دونوں ہی کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ دونوں نے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی۔فرینک چونکہ ایک غریب کسان کا بیٹا تھا لہٰذا وہ سٹیفن کی تعلیم اور اسکی ترقی کابہت خواہاں تھا۔ وہ اسے ایک مشہور پرائیویٹ سکول ‘ویسٹ منسٹر’ میں بھیجنا چاہتا تھا جس کی فیس کافی زیادہ تھی مگر وہاں وظیفے کا امتحان دے کر مفت تعلیم حاصل ہوسکتی تھی۔لیکن عین داخلے کے امتحان کے وقت سٹیفن انتہائی بیمار ہوگیا۔ اس لئے اسکو ایک دوسرے عام سکول میں داخل کروایا گیا۔

سٹیفن اگرچہ انتہائی ذہین طالبعلم تھا لیکن یہ اپنی جماعت میں ہمیشہ اوسط پوزیشن پرہی رہا۔ یہی وجہ ہے کہ سکول کے اساتذہ یا دیگر طالبعلم اسکے بارے میں کسی بڑی کامیابی کی توقع نہیں کرتے تھے۔اس کا ذہن بچپن ہی سے جاننے اور سچائی کی تہہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ وہ مختلف کھلونوں، ریڈیو اور گھڑیوں کو توڑ کر انکے اندرونی سٹرکچر اور کام کرنے کے طریقے دریافت کرتا تھا۔ اسی لئے اسے سائنس سے دلچسپی پیدا ہوگئی۔ اسکے والد فرینک نے اسکو بائیولوجی اور ادویات کی طرف مائل کرنا چاہا مگر وہ بائیولوجی میں ویسی دلکشی محسوس نہ کرتا تھا جیسی حقیقت کی تلاش اسے انتہائی بنیادی قوانین فطرت کی طرف مائل کرتی تھی۔

اسی لئے یونیورسٹی میں پہنچ کر ستیفن نے تہیہ کر لیا کہ وہ صرف اور صرف ریاضی اور فزکس پڑھے گا لیکن اس کے والد نے اس پر اعتراض کیا کیونکہ ریاضی پڑھنے کے بعد صرف تعلمی شعبے میں بطور معلم بھرتی کے علاوہ کوئی خاص نوکریاں نہیں ملتی تھیں ۔ والد کے اصرار پر ہاکنگ نے زیادہ تر کیمسٹری اور فزکس پڑھی اور بہت کم توجہ ریاضی پر دی۔ اسی دوران اس کو نفسیات میں دلچسپی ہوئی خصوصی طور پر جس میں اشیاء کو ذہن کی قوت سے کنٹرول کیا جاتا ہے لیکن بہت جلد اس کو محسوس ہوا کہ یہ دھوکہ دہی کا علم ہے اور تجربات کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتا۔آکسفورڈ میں داخلے کے لئے انٹرویو میں فزکس کے مضمون میں ہاکنگ نے زبردست کامیابی حاصل کی اور 1959ء میں سترہ سال کی عمر میں وہ آکسفورڈ میں فطری علوم خصوصی فزکس پڑھنے چلا گیا۔

آکسفورڈ یونیورسٹی بہت سے کالجز کا مجموعہ ہے۔ جس میں سے یونیورسٹی کالج کی بنیاد 1249ء میں رکھی گئی تھی ۔ اسی کالج میں سٹیفن کے والد بھی محقق کا کام کرتے تھے ۔سٹیفن اس کالج میں تنہائی محسوس کرتا تھا۔ کیونکہ اسکے زیادہ تر ہم جماعتی طلباء جنگ عظیم دوم میں خدمات سرنجام دینے کے بعد داخل ہوئے اور عمر میں بڑے تھے۔اگلے ہی سال سٹیفن نے خود میں ایک بڑی تبدیلی پیدا کی۔ اس نے خود کو پڑھاکو بچہ بنانے کی بجائے باقی طلباء کے ساتھ گھل مل کر رہنے کا ارادہ کر لیا۔ اس نے لمبے بال رکھ لئے۔ وہ کلاسیکل موسیقی سنا کرتا اور سائنس فکشن کے ناول پڑھا کرتا تھا۔ اس سارے کام کے لئے وافر وقت میسر تھا کیونکہ آکسفورڈ میں تعلیمی سرگرمی بہت آسان تھی اور تین سال کی ڈگری میں صرف ایک امتحان ہوتا تھا۔سٹیفن کے اساتذہ جیسے رابرٹ برمن وغیرہ کے مطابق اسکے لئے فزکس کی ڈگری ایک کھیل تھا۔ وہ جس کام کو کرنا چاہتا ا سے فوری سرانجام دے لیا کرتا تھا۔ تیسرے سال سپیشلائزیشن کے لئے ہاکنگ کے پاس دو مضامین یعنی پارٹیکل فزکس یا کاسمولوجی میں ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ ہاکنگ نے کاسمولوجی کا انتخاب کیا کیونکہ یہ علم کائنات کے بارے بڑے سوالات پر کام کرتا ہے یعنی کائنات کب، کیسے اورکیوں پیدا ہوئی؟

آکسفورڈ سے گریجوایٹ مکمل ہونے پر ہاکنگ کا ارادہ تھا کہ وہ کیمبرج یونیورسٹی میں اس وقت کے مشہور پروفیسر فریڈ ہوئیل کی شاگردی اختیار کرے لیکن اسکے لئے داخلے کے امتحان میں ‘فرسٹ’ درجہ پرآنا شرط تھی۔ ہاکنگ امتحان کو لے کر بہت پریشان ہوا اور اسی عالم پریشانی میں وہ دوسرے اور پہلے درجے کے مابین جا سکا۔ اس کو انٹرویو میں جب پوچھا گیا کہ اب وہ کیا چاہتا ہے؟ تو اس نے جو جواب دیا وہ بہت مشہور ہوا۔ اس نے کہا” اگر آپ مجھے پہلا درجہ دیں تو کیمبرج جاؤں گا۔ اگر دوسرا درجہ ملا تو آکسفورڈ ہی میں رہوں گا”۔ انہوں نے اسے پہلا درجہ دیا۔اس کے استاد کے مطابق “انٹرویو لینے والے کم از کم اتنے ذہین تھے کہ وہ اپنے سے زیادہ ذہین سٹیفن کو جان سکے”۔

کیمبرج میں ہاکنگ کو انکی خواہش کے برخلاف فریڈ ہائیل کے بجائے ڈینس شیاما نامی ایک گمنام ریاضی کے پروفیسر کو سپروائزر بنانا پڑا۔اسی دوران اسکو عجیب سے دورے پڑنا شروع ہوگئے۔ وہ اچانک گر پڑتا۔ یا گرنے کے بعد خود کو اٹھا نہیں پاتا تھا۔ 1963ء تک اکیس برس کی عمر میں ان دوروں میں کثرت کے باعث ہاکنگ کومیڈیکل ٹیست کے لئے ہسپتال داخل ہونا پڑا۔ ڈاکٹروں نے انکے ٹیسٹ کرنے کے بعد صرف اتنا کہا کہ اسے کوئی عام بیماری نہیں ہے۔ وہ کیمبرج چلا جائے اور جلد اپنی پی ایچ ڈی مکمل کر لے۔سٹیفن کو موٹر نیورون معارضہ لاحق ہوا تھا جس میں جسم کی اعصابی حرکت آہستہ آہستہ ختم ہوتی جاتی ہے اور جسم مردہ ہوتا جاتا ہے۔اس بیماری کا کوئی علاج موجود نہیں تھا۔اس کے پاس اب صرف زندگی کے دو سال باقی تھے۔

ہاکنگ کے لئے ایسی لاعلاج بیماری ایک دھچکے سے کم نہ تھی۔ اسے ایک وقتی سا ڈیپریشن بھی رہا۔ لیکن اس کے بقول وہ جب اپنے اردگرد ہسپتالوں میں لوگوں کو درد میں دیکھتا تو وہ خود کو تسلی دیتا کہ اسے درد کا احساس نہیں ہوتا تھا۔ مزید براں وہ اپنی زندگی سے پہلے بھی اتنا خوش نہیں تھا۔ اب اس لاعلاج بیماری سے اسے ایک اطمینان سا محسوس ہوا کہ زندگی سے جان چھوٹ رہی ہے۔اس اطمینان نے اس میں کچھ بڑا کرنے کا حوصلہ پیدا کردیا اور وہ زندگی کو پہلے سے زیادہ خوشگوار محسوس کرنے لگا۔ اسی دوران اس کی ملاقات جین نام ایک لڑکی سے ہوئی۔ جین البان ہائی سکول لندن میں زیر تعلیم تھی اور وہ لسانیات کے شعبے سے وابستہ تھی۔ ہاکنگ سے ملاقات کے بعد جین کو اس میں دلچسپی پیدا ہوگئی اور بیماری کے باوجود اس نے ہاکنگ سے منگنی کر لی۔ جین نے ہاکنگ کی زندگی میں بہت اہم اور مثبت کردار ادا کیا اور اسے امید اور زندگی کے روشن پہلو کی طرف راغب کیا۔ لیکن ہاکنگ کے بقول کامیاب شادی کے لئے نوکری ضروری ہے اور نوکری کے لئے پی ایچ ڈی کرنا لازمی ہوجاتا ہے۔

سٹیفن کے والد نے ڈینس شیاما سے اپیل کی کہ وہ ہاکنگ کو پی ایچ ڈی کا کام جلد مکمل کروا دے۔ پہلے ڈینس نے منع کر دیا لیکن جب ہاکنگ کے دو سال گزر گئے اور وہ پہلے سے زیادہ پرجوش نظر آیا تو اس نے سوچا کہ اب ہاکنگ کو کام کروایا جائے۔اس کے لئے ہرمن بونڈی نامی مشہور ماہر طبیعات کا ریفرنس لیٹر حاصل کرنے میں سٹیفن کے سپروائزر شیاما نے مدد کی اور یوں اسے ایک وظیفہ مل گیا۔1965ء میں تیئس سال کی عمر میں اس نے جین سے شادی کر لی۔اگلا مرحلہ پی ایچ ڈی کے مقالہ کا موضوع تھا۔کاسمولوجی میں نظریہ اضافیت جو کہ آئن سٹائن کا بڑا نظریہ تھا اس وقت غیر معمولی اہمیت کا حامل بنا ہوا تھا۔امریکہ کی ریاست نیویارک کی کورنیل یونیورسٹی میں اس موضوع پر ایک سمر سکول کا انتظام کیا گیا تھا جہاں اس شعبہ کے بڑے سائنسدان جمع ہونے تھے۔ ہاکنگ اس سکول میں شمولیت کے لئے امریکہ چلا گیا لیکن جین بھی لندن یونیورسٹی سے لسانیات میں پی ایچ ڈی کرنے لگی۔

اس دوران ہاکنگ کی ملاقات ایک نوجوان پروفیسر راجر پنروز سے ہوئی جو بلیک ہول پر تحقیق کر رہے تھے۔ ہاکنگ نے جب پنروز تھیورم پڑھا تو وہ حیران ہوگیا کیونکہ اس تھیورم کے مطابق بلیک ہول کے مرکز پر ایک ایسا نقطہ اختتام پایا جاتا ہے جہاں وقت نہیں گزرتا۔ اسی تھیورم پر سوچتے ہوئے ہاکنگ اس نتیجے پر پہنچا کہ پوری کائنات بھی ایسے ہی ایک نقطے سے پیدا ہوئی ہے جو کائنات کا آغاز ہے۔ جب یہ بات اس نے مشہور سائنسدان فریڈہائیل کو بتائی تواس نے مذاق میں کہہ دیا کہ سٹیفن ہاکنگ نے تو کوئی بڑا دھماکہ کر دیا ہے۔ یہی نام بعد میں ‘بگ بینگ’ کے طور پر مشہور ہوگیا۔ 1965ء میں دو آسٹریا کے سائنسدان رابرٹ ولسن اور آرنو پینزیاس نے بیل ٹیلیفون لیبارٹری برکلے امریکہ میں کاسمک بیک گراؤنڈ شعاعوں کی دریافت سے بگ بینگ نظریہ کو صحیح ثابت کر دکھایا۔ اس کے بعد دنیا بھر میں سٹیفن ہاکنگ مشہور ہوتا گیا۔ اس کو ایک نہایت ذہین شخص کے طور پر ‘آئن سٹائن ثانی’ کہا جانے لگا۔

1967ء میں سٹیفن اور جین کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوئی۔ اور اسی دوران ہاکنگ کو کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر کی نوکری مل گئی اور اسطرح انکے خاندانی حالات بھی بہتر سے بہتر ہوتے گئے۔ بعد ازاں انکے ہاں ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی جس کا نام لوسی رکھا گیا۔ 1974ء میں ہاکنگ شعاعوں کے نام سے پروفیسر سٹیفن ہاکنگ نے ثابت کیا کہ بلیک ہول میں سے شعاعوں کا اخراج یہ ثابت کرتا ہے کہ اسکا ایک درجہ حرارت ہے۔ مزید یہ کہ بلیک ہول آہستہ آہستہ اپنی توانائی کھو دے گا اور یوں زمان و مکاں سے غائب ہو جائے گا۔ اس سے طبیعات کے کچھ بنیادی اصول سے اختلاف پیدا ہونے پر اسے ایک ‘معلوماتی تناقضہ’ قرار دیا گیا۔ 1979ء میں کیمبرج یونیورسٹی میں انہیں ایک خاص عہدہ دیا گیا جسے ‘ریاضی کا لوکاسئین پروفیسر’ کہتے ہیں۔ یہ وہی عہدہ ہے جو کسی دور میں کیمبرج ہی کے ایک اور پروفیسر سر آئزک نیوٹن کو دیا گیا تھا۔ یعنی سٹیفن ہاکنگ کو موجودہ صدی کا نیوٹن کہا جا سکتا ہے۔ 1983ء میں ہاکنگ نے کائنات کے آغاز کے حوالے سے ‘غیرسرحدی مفروضہ’ پیش کیا جس کے مطابق کائنات میں کام کرنے والے قوانین بگ بینگ کے وقت بھی کارآمد قرار پاتے ہیں اور اسطرح پینروز تھیورم والا نقطہ ایک سطح کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔

اسی دوران ہاکنگ کو اپنی بیٹی لوسی کی تعلیم کے اخراجات اٹھانے کے لئے مزید رقم درکار تھی جس کے لئے ہاکنگ نے سائنسی موضوعات پر کتابیں لکھنے کا ارادہ کر لیا اور یوں پرنٹ میڈیا میں بھی ہاکنگ کو جانا جانے لگا۔ 1984ء میں اس کی پہلی کتاب منظر عام پر آئی جس کانام تھا ‘وقت کی مختصر تاریخ’۔ اس کتاب کا چھپنا تھا کہ دنوں کے اندر یہ کتاب فروخت ہونا شروع ہو گئی۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا بھر میں اس کی لاکھوں کاپیاں فروخت ہوئیں۔اور یہ کتاب آج تک دنیا بھر میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتب میں شامل ہے۔اس کتاب کے پس منظر میں ہالی ووڈ میں ایک فلم بھی بنائی گئی۔ اسکے بعد ہاکنگ نے اپنے مضامین، ریسرچ آرٹیکلز اور دیگر عام فہم کتب تحریر کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ دنیا بھر میں ہزاروں سائنسدان اس عظیم شخصیت سے متاثر ہو کر فزکس کے مضمون میں اعلٰی کام کرچکے ہیں۔ ہاکنگ اپنی تمام تر علالت کے باوجود ہمہ وقت کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ فاش کرنےمیں مگن رہے۔ دنیا کا یہ عظیم سائنسدان 14 مارچ 2018ء کو 76 برس کی عمر میں ہمشہ کے لئے ہم سے بچھڑ گیا۔ ان کی آخری بڑی خواہش یہ تھی کہ کائنات میں موجود ہر شے اور عمل کی وضاحت ایک ہی قوت سے کی جاسکے ایک ایسی مساوات جس میں کائنات کے تمام راز پوشیدہ ہوں۔ اس نظریہ کو ‘نظریہ کل’ قرار دیا جائے گا۔ آنے والی صدیوں میں انسان کی سائنسی ترقی میں سٹیفن ہاکنگ کے نظریات ایک سنگ میل ثابت ہوں گے !

Categories
شاعری

عشرہ // ہم اُسے روشنی سمجھتے ہیں

مذہبی، موت کہہ کے خوش لیں
ہم ، اِسے زندگی سمجھتے ہیں!

وہیل چئیر پر گزاری نصف صدی اُسی سائنس کا کارنامہ ہے
جس کا ہاکنگ کے بے پنہ راکنگ سر پہ انسان دوست عمامہ ہے
ملکی وے سے کہیں پرے کوئی کاینات اس کے انتظار میں ہے

ایسے سورج نہیں مرا کرتے
وہ ادھر ڈوبا اور ادھر نکلا
وقت کے لوُپ ھول پُر کر کے
وہ، ستاروں کی سیر پر نکلا
جو اُسے روشنی سمجھتے ہیں

Categories
شاعری

پلکوں پر افلاک

پلکوں پر افلاک کا
بھاری بوجھ اُٹھایا
خوابوں کی سر سبز یری
کو ہندسوں کا سُرتال سکھایا
بے حرکت ہی
پچھلے اگلے
سارے زمانے
ایڑی کی نیچے لے آیا
آسماں کی سات تہوں تک
راز زماں کے کھود کے لایا
بے جنبش ہی
بلیک ہول تک
سارے مداروں
اور لہروں کو عقل کی حد میں
کھنیچ کے لایا
ایٹم تک ہر اک مومینٹم
اس کی مایا
دھرتی کی پھر گود سمایا
دھرتی کے جادو کا جایا