Categories
شاعری

اسلام پورہ میں ایک بدروح افسردہ ہے (زاہد امروز)

عورت جو چھ سال پہلے مر چکی ہے
اس کی لاش ابھی تک صحن میں پڑی ہے
عورتیں میّت کے سرہانے بیٹھی ہیں
کمرہ چغلیوں سے بھراہوا ہے

اسلام پورہ کی گلیوں میں بد روحیں پھرتی ہیں
اور میرے دل میں سستا نے آتی ہیں

میں یاد کرتا ہوں
وہ چھت پر سو رہی ہوتی
ایک جِن میرا ہاتھ اُس کی رانوں پر پھیرتارہتا
میں بریزیئر میں بنیان اُڑس کر پستان بناتا
اورمشت بھر لطف کے بیج گراتا

جب میں اسے آخری بار ملا
چیونٹیاں اُس کی ایک ٹانگ کُتر چکیں تھی
اس کے تن کا تنا سوکھ چکا تھا
رفتہ رفتہ وقت کی بکری بدن کا پھل بھی چر گئی
قسمت لادین تھی
تعویز بے اثر گئے
اور ڈاکٹر کی دوائی عامل کے کرائے سے مہنگی تھی

عصر کی اذان کے بعد اُسے دفنانے لے جائیں گے
میں اسے تب بھی دیکھتا تھا اورآج بھی دیکھتا ہوں
کل ہمارے درمیان اُس کا شوہر تھا
کل ہمارے درمیان حاملہ عورت کے پیٹ جیسی قبر ہوگی

بنیان جو اَب میں نہیں پہنتا
بریزیئر جو اَب وہ نہیں پہنے گی
غسل خانے میں لٹک رہے ہیں

Categories
شاعری

تم زمین سے زیادہ بڑی ہو اور دیگر نظمیں (زاہد امروز)

زاہد امروز کی نظمیں “لالٹین” پر مسلسل شایع ہوتی رہی ہی۔ ان کی نظمیں اپنے موضوعات، شعریت، علامتوں اور استعاروں کی وجہ سے اپنی انفرادیت رکھتی ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں ان کی نظموں میں واضح موضوعاتی اور ہیئتی تبدیلیاں آئی ہیں جو ان کے شعری سفر کا ارتقاء ہے. ان نظموں کا غیر روایتی انداز ہمیں اردو نظم کے ایک نئے رنگ سے متعارف کرواتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدمی زندہ ہے
آدمی زندہ ہے!
آدمی زندہ ہے؟

ریڈیو گا رہا ہے
“ماٹی قدم کریندی یار”
ماٹی قتل کریندی یار

آدمی سو رہا ہے
آدمی ٹھنڈی لاشوں کے درمیان سو رہا ہے
آدمی جاگ رہا ہے
آدمی مردہ عورت سے ہم بستری کے لیے جاگ رہا ہے

بچہ آدمی کی تصویر بنا رہا ہے

بچہ فیڈر پی رہا ہے
اور سوچ رہا ہے
میں بڑا ہو کر قاتل بنوں گا

ریڈیو گا رہا ہے
“ماٹی قدم کریندی یار”
ماٹی قتل کریندی یار
آدمی نہا رہا ہے
نہاتے ہوئے آدمی قتل کے منصوبے بنا رہا ہے

نالی میں خون بہہ رہا ہے
آدمی مر رہا ہے
مرا ہوا آدمی سوچ رہا ہے
آدمی زندہ ہے
آدمی زندہ ہے!
آدمی زندہ ہے؟
آ!
دمی؟
زن!
دہ؟؟؟؟

آدمی
عورت کے پستان سے لٹکا رہتا ہے

بے مصرف دن کی گولائی
گول گھنے چکر میں گھومتی رہتی ہے
دنیا چلتی رہتی ہے
آدمیوں کے دل میں رات ٹھہر جاتی ہے
اس ٹھہری رات میں عورت بچے جنتی ہے

بچے روتے ہیں
بچے ہنستے ہیں
بچے دنیا کی دلال دِلی پر ہنستے ہیں
اااااااااابچے خالق اور مخلوق کی مکاری پر ہنستے ہیں
اااااااااااااااااااابچے عمروں کی عیاری پر ہنستے ہیں
ہنستے ہنستے
ہنسی کا ہتھیار بنا لیتے ہیں بچے

آدمی ڈر جاتا ہے
ڈرا ڈرا سا آدمی
عورت کے پستان سے لٹکا رہتا ہے

دن مردہ پانی میں تیرتا ہے

کبھی کبھی تو میرا ذہن برف کا ٹکڑا بن جاتا ہے
سینہ میلوں میل خشکی سے بھر جاتا ہے
اور آنتیں صحرا میں پگڈنڈیاں بن جاتی ہیں
بے کار باتوں سے بھرے بازار بے زاری کو اور سستا کر دیتے ہیں

ماں روٹی کی باتیں کرتی ہے
کون بہتر باورچی ہے؟
محلہ عورتوں کا چغل خانہ ہے
چار دیواری میں نرگسیت کی بارش برستی رہتی ہے

فیس بُک چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے
انگلیاں چلتی رہتی ہیں
لاچاری کی دلدل میں بے چہرہ جسم بھٹکتے رہتے ہیں

میں اُکتا کر اٹھتا ہوں
اور سنسان گلی میں خود کو ڈھونڈنے جاتا ہوں
میرا دل ڈوبنے لگتا ہے
ڈوبتے ڈوبتے
دور سمندر میں ایک سبز جزیرے پر میں خود سے ملتا ہوں
دھوپ نکل آتی ہے
برف پگھل جاتی ہے

اینا ماریہ سان فرانسسکو سے مجھے دیکھ رہی ہے

بستر پر لیٹے ہوئے
میں تمہیں پورے جسم سے سوچتا ہوں
اور کھڑکی سے باہر کھڑے دیکھتا ہوں

میرے ہاتھ تمہارے جسم کا ہمالیہ چھوتے ہیں
اور تمہارے سمندر میں اُتر جاتے ہیں
لہریں سان فرانسسکو کی سمت بہتی ہیں
پلٹ کر نہیں آتیں
میں تمہیں نیند کی گود میں دیکھتا ہوں
اور بوسوں کی سیپیاں بھیجتا ہوں

سمندر پر ہوائیں چلتی ہیں
تمہاری گرم سانس کا گردباد میرے سینے سے اٹھتا ہے
بستر میں میرے بال اڑنے لگتے ہیں

تم میرا نمک چکھنے کب آؤ گی؟

تم بن جاتے ہوجو نہیں بننا چاہتے

صبح کی دہلیز پر روز ایک خواب دیکھتے ہو
ہر رات بستر پرایک خواب مر جاتا ہے

تم گھر سے غصے میں نکلو
یا مسکراتے ہوئے
شام کی بُکّل مارے افسردہ لوٹتے ہو

لوگ تمہارے دیہاتی دل سے کھیلتے ہیں
قطرہ قطرہ
غصے کا دریا خشک ندی بن جاتا ہے
آنکھوں کی لالی جلی ہوئی مٹی کی سرخی بن جاتی ہے
سدھائے کتے کی طرح
تم اپنے آقا کے تلوے چاٹنے لگتے ہو

قطرہ قطرہ
زندگی کا زہر تمہاری روح میں گھُل جاتا ہے
لمحہ لمحہ
تم داناہوجاتے ہو
اوربن جاتے ہو
جو نہیں بننا چاہتے

تم زمین سے زیادہ بڑی ہو

تم میرے گرد پیاز کی طرح لپٹی ہو
میں دیوانوں کی طرح
ایک ہی جملہ دُہرائے جاتا ہوں
اور پیاز چھیلے جاتا ہوں

آنسو دُکھ کے ہیں نہ پیاز کے
بے بسی اور حسرت کے ہیں

میں ایک ہی جملہ دوہرائے جاتا ہوں
اور تہہ در تہہ پیاز چھیلے جاتا ہوں
تم تہہ در تہہ لپٹی جاتی ہو
اور زمین سے زیادہ بڑی ہو جاتی ہو

میں اس پیاز کے مرکز میں
دہکتا ہوا دل ہوں
یا کچھ بھی نہیں؟

Categories
شاعری

ایک عوامی نظم (زاہد امروز)

ہم خالی پیٹ سرحد پر
ہاتھوں کی امن زنجیر نہیں بنا سکتے
بُھوک ہماری رانیں خشک کر دیتی ہے
آنسو کبھی پیاس نہیں بجھاتے
رجز قومی ترانہ بن جائے
تو زرخیزی قحط اُگانے لگتی ہے
بچے ماں کی چھاتیوں سے
خون چوسنے لگتے ہیں
کوئی چہروں پہ پرچم نہیں بناتا
اور یومِ آزادی پر لوگ
پھلجھڑیاں نہیں، اپنی خوشیاں جلاتے ہیں

فوج کبھی نغمے نہیں گُنگنا سکتی
کہ سپاہی کھیتیاں اُجاڑنے والے
خود کار اوزار ہوتے ہیں

کیا پھول نوبیاہتا عورت کے بالوں
اور بچوں کے لباس پر ہی جچتا ہے؟
کاش۔۔۔!
وطن کی حدود کے تعیّن کے لیے
پھولوں کی کیاریاں
آ ہنی تاروں کا متبادل ہوتیں!

Categories
شاعری

آدمی زندہ ہے، آدمی زندہ ہے!، آدمی زندہ ہے؟ (زاہد امروز)

ریڈیو گا رہا ہے
‘‘ماٹی قدم کریندی یار’’
ماٹی قتل کریندی یار

آدمی سو رہا ہے
آدمی ٹھنڈی لاشوں کے درمیان سو رہا ہے

آدمی جاگ رہاہے
آدمی مردہ عورت سے ہم بستری کے لیے جاگ رہا ہے

بچہ تصویر بناناکھیل رہا ہے
بچہ آدمی کی تصویر بنا رہا ہے

بچہ فیڈر پی رہا ہے
اور سوچ رہا ہے
میں بڑا ہو کر قاتل بنوں گا

آدمی گا رہا ہے
‘‘ماٹی قدم کریندی یار’’
ماٹی قتل کریندی یار

آدمی نہا رہا ہے
آدمی نہاتے ہوئے قتل کے منصوبے بنا رہا ہے

نالی میں خون بہہ رہا ہے
آدمی مر رہا ہے
مرا ہو ا آدمی سوچ رہا ہے
آدمی زندہ ہے
آدمی زندہ ہے!
آدمی زندہ ہے؟
آ!
دمی؟
زن
دہ؟؟؟
؟؟؟؟

Categories
شاعری

آدمی بیوپار ہے

آدمی بیوپار ہے
آدمی کا دل بیوپار ہے

آدمی شاپنگ بیگ لیے بازار جاتا ہے
آدمی شاپنگ بیگ میں گھر واپس آجاتا ہے

خالی جیب آوارہ کتے کی طرح بھونکتی ہے

کتے کے جسم پر جیب نہیں
کتے کے سامنے پیالہ ہے

کتا صرف گالی دے سکتا ہے
آدمی نہیں بن سکتا!
جس آدمی کی جیب نہیں ہوتی
اس کے پاس پیالہ ہوتا ہے

آدمی ہو یا کتا
جو روٹی دیتا ہے
وہ مالک ہوتا ہے

جب پیالہ نہیں تھا
میں آزاد تھا
اب پیالہ بھرا ہوا ہے
بیوپار ہو رہا ہے
اب میں پالتو ہوں
Image: Banksy

Categories
نان فکشن

روشنی کے ذرّات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)

دوسرا سبق: روشنی کے ذرّات (کوانٹا)
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بیسویں صدی کی فزکس کے دواہم ستون،آئن سٹائن کا نظریہ عمومی اضافیت (جس کے بارے میں میَں نے گزشتہ سبق میں بات کی) اورکوانٹم میکانیات (جس کے متعلق میَں اس سبق میں بات کروں گا)، اپنے بنیادی تصوّرات میں اس قدر الگ تھے کہ ایک دوسرے سے مزید مختلف نہیں ہو سکتے تھے۔ البتہ دونوں نظریات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ فطرت کی ساخت ایسی نہیں ہے جیسی بظاہر نظرآتی ہے۔ یہ اس سے کہیں زیادہ لطیف ہے. عمومی اضافیت ایک ایسا جامع علمی گوہر ہے جس کو ایک تنہا دماغ نے جنم دیا۔ یہ نظریہ کششِ ثقل،زمان و مکاں(Space and Time) کا ایک مربوط تصورہے۔ جب کہ دوسری جانب کوانٹم میکانیات یا کوانٹم فزکس نے بھی اتنی ہی تجرباتی کامیابی حاصل کی ہے اور ایسے سائنسی اور تکنیکی اطلاقات دیے ہیں جس نے ہماری روزمرہ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے. مثال کے طور پر یہ کمپیوٹر جس پر میں یہ تجریرلکھ رہا ہوں۔ تاہم اپنے جنم سے ایک سو برس بعد بھی یہ ناقابلِ فہم پیچیدگی اورتجسس سے بھری ہوئی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کوانٹم میکانیات کا آغازعین 1900ع میں ہوا اوراس سے ایک گہرےتفکّرکی صدی نے جنم لیا۔ جرمنی کے سائنس دان میکس پلانک نےایک فرضی سیاہ جسم میں موجود برقی میدان کی ریاضیاتی پیمائش کی جب وہ جسم حالت توازن میں ہو۔ ایسا کرنے کے لیے اس نے ہوشیاری سے کام لیا اورایک ترکیب سوچی۔ اس نے فرض کیا کہ اس میدان کی توانائی قدریوں (building blocks) یا کوانٹا(Quanta) میں منقسم ہے۔ یوں سمجھیں کہ توانائی کوئی بہتی ہوئی شے نہیں، بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے ذرات (Quanta)یا پیکٹوں کی صورت میں اپنا وجود رکھتی ہے۔ اس تصور کی رو سے ریاضیاتی پیمائش نے بالکل وہی نتائج دیے جو تجرباتی طورپرحاصل کیے گئے تھے (اور لازماً صحیح تھے)۔ لیکن یہ نتائج مروجّہ سائنسی تصورات کے بالکل منافی تھے۔

توانائی کو ایسی چیز گمان کیا جاتا تھا جو ایک تسلسل سے تبدیل ہوتی ہے۔ ایسا سوچنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ یہ چھوٹے چھوٹے قدریوں یا ذرات سے مل کر بنی ہو سکتی ہے۔ توانائی کو چھوٹے چھوٹے ذرات گمان کرنا پلانک کے لیے بھی محض ایک حسابی کلیہ تھا اوروہ خود بھی مکمل طور پر اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا تھا۔ ایک مرتبہ پھر، یہ آئن سٹائن ہی تھا جس نے پانچ سال بعد ایک سادہ سے تجربے کے ذریعے یہ دیکھا کہ توانائی کے یہ چھوٹے چھوٹے ذرےدراصل حقیقی ہیں۔

آئن سٹائن نے ثابت کیا کہ روشنی محض مسلسل لہر نہیں بلکہ ذرات یا پیکٹوں سے مل کر بنی ہے۔انہیں ہم آج ضیائیہ یا فوٹان (Photon) کہتے ہیں۔ آئن سٹائن نے اپنے مضمون کے تعارف میں لکھا کہ:
“مجھے یوں لگتا ہے کہ سیاہ جسمی شعاعیں (Blackbody Radiation)، روشنی کی دمک (Fluorescence)، بالائے بنفشی شعاؤں (Ultraviolet Rays)کے ذریعےمنفی شعاعوں (Cathode Rays)کی پیداواراورروشنی کے اخراج یا تبدیلیِ ہیت کے ساتھ منسلک دوسرے عوامل کوزیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے اگر ہم یہ فرض کرلیں کہ روشنی کی توانائی مکاں میں غیرمسلسل انداز میں منقسم ہے۔ اس مفروضے کی مطابق ایک نقطے سے خارج ہونے والی روشنی کی شعاع مکاں میں مسلسل بڑھتے تناسب کےساتھ مساوی طورپرمنقسم نہیں بلکہ محدود مقداری روشنی کے ذرات یعنی ‘کوانٹا’ پر مشتمل ہے جوعام ذرات کی طرح خلا میں ایک خاص مقام پر موجود ہوتے ہیں اور انہیں مزید تقسیم نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ مکمل اکائی کی شکل میں خارج یا جذب کیے جا سکتے ہیں”۔

یہ سادہ اور واضح سطور کوانٹم میکانیات کا پیدائشی سرٹیفیکیٹ ہیں۔ حیران کن بات ہے کہ آئن سٹائن کےاس ابتدائی جملے پرغور کریں “مجھے یوں لگتا ہے۔۔۔۔”، جوکہ چارلس ڈارون کے ابتدائی جملے “میں سوچتا ہوں۔۔۔” کی یاد دہانی کراتا ہے جب اس نے اپنی تحقیقی ڈائریوں میں انواع کے ارتقا کا تصورپیش کیا تھا۔ یا فیراڈے کی وہ “ہچکچاہت” جو اس نے مقناطیسی میدان کا انقلابی تصور متعارف کراتے ہوئے ظاہر کی تھی۔ یقیناً نابغے ہچکچاتے ہیں۔
ابتدا میں آئن سٹائن کے سائنسی کام کو اس کے ہم عصروں کی طرف سے ایک بہت ہی ذہین نوجوان کا “لایعنی بچپنہ”سمجھا گیا۔ لیکن بعد میں اسے اسی کام پر نوبل انعام دیا گیا۔ اگرمیکس پلانک اس نظریے کا باپ ہے تو آئن سٹائن ان والدین میں سے ہے جس نے اس کی پرورش کی۔

اپنےاعتراضات کی وجہ سےآئن سٹائن نےاس نظریے کا مکمّل اعتراف نہیں کیا۔ لیکن تمام بچوں کی طرح یہ نظریہ بھی اپنے رستے پر چل پڑا۔ البتہ بیسویں صدی کی دوسری اورتیسری دہائی میں نیل بوہر نے اس نظریےکو مزید مستحکم کیا۔ نیل بوہرنے یہ آگہی حاصل کی کہ جوہروں(Atoms) کےاندربرقیوں یا الیکٹرانوں (Electrons) کی توانائی بھی روشنی کی توانائی کی طرح مخصوص قیمت ہی حاصل کر سکتی ہے۔ سب سے اہم نقطہ یہ کہ الیکٹران ایک مدار سے دوسرے مدار میں ایک خاص توانائی سے ہی چھلانگ لگا سکتے ہیں اورجب وہ ایسا کرتے ہیں تو دو مداروں میں توانائی کے فرق کےبرابرایک فوٹان خارج یا جذب کرتے ہیں۔ یہ مشہورکوانٹمی جستیں (Quantum Leaps) ہیں۔ ڈنمارک کے شہرکوپن ہیگن میں واقع یہ نیل بوہرکا انسٹی ٹیوٹ ہی تھا جہاں بیسویں صدی کے ذہین ترین دماغ اس نئی جوہری دنیا کی حیران کن خوبیوں پر ہونے والی تحقیق میں ایک نظم (Order) لانے کے لیے اکٹھے ہوئے اوراس سے ایک جامع ((Coherent نظریے نے جنم لیا۔ بالآخر1925ع میں اس نظریے کی ریاضیاتی مساواتیں ظہورپذیر ہوئیں جنہوں نے نیوٹن کی میکانیات کومکمل طور پر تبدیل کردیا۔

ایک کامیابی کا تصور کرنا کافی مشکل ہے۔ ایک ہی دھچکے میں ہر چیز قابلِ فہم بن جاتی ہے اور آپ ہر چیز کا حساب لگا سکتے ہیں۔ ایک مثال لیتے ہیں: آپ کو مینڈلیف کا بنایا ہوا دوری جدول یاد ہے؟ جس میں ہائیڈروجن سے لے کر یورینیم تک وہ تمام عناصردرج ہیں جن سے مل کر ہماری کائنات بنی ہے اور جوہمارے اسکولوں اور کالجوں کے بہت سارے کمروں کی دیواروں پرلٹکا ہوتا ہے؟ دوری جدول میں جو عناصر موجود ہیں وہ خاص طور پراسی جگہ پر کیوں ہیں جہاں وہ ہیں اور دوری جدول کی خاص طور پر یہی ساخت کیوں ہے جس میں پیریڈ ہیں اوران کیمیائی عناصر کی مخصوص خصوصیات ہیں؟ جواب یہ ہے کہ ہرعنصرکوانٹم میکانیات کی بنیادی مساوات کے ایک خاص حل سےمطابقت رکھتا ہے۔ تمام کی تمام کیمسٹری ایک ہی مساوات سے نکلتی ہے۔
اس نئے نظریے کی مساوات جو کہ دماغ کو ماؤف کر دینے والے مشکل تصورات پر مبنی تھی، کا خالق جرمنی کا ایک نوجوان نابغہ وارنر ہائزن برگ تھا۔ ہائزن برگ نے فرض کیا کہ الیکٹران ہروقت اپنا وجود نہیں رکھتے۔ یہ صرف اس وقت وجود رکھتے ہیں جب کوئی شخص یا کوئی شئے انہیں دیکھتی ہے یا پھر جب وہ کسی دوسری چیز سے تعامل کرتے ہیں۔ جب یہ کسی دوسری چیز سے ٹکراتے ہیں تو اس جگہ پر کسی خاص امکان کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں جس کا حساب لگایا جا سکتا ہے۔ایک مدار سے دوسرے مدار تک کوانٹمی جستیں ان کے حقیقی ہونے کا وسیلہ ہیں۔ ایک الیکٹران ایک تعامل سے دوسرے تعامل تک جستوں کا مجموعہ ہے۔ جب کوئی چیز اس سے تعامل نہیں کر رہی ہوتی تو یہ کسی بھی خاص مقام پر موجود نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ کہیں بھی “موجود” نہیں ہوتا۔

یہ بالکل ایسے ہی جیسے خدا نے حقیقت کا خاکہ تیار کرنے میں مکمل اورگہرے خط کھینچنے کی بجائے محض دھندلی اورادھوری سی کچھ نیم مکمل لائنیں کھینچ دی ہیں۔

کوانٹم میکانیات میں کسی بھی جسم کا کوئی خاص مقام متعین نہیں ہوتا سوائے جب وہ کسی دوسرے جسم سے ٹکراتا ہے۔ ان دو تعاملات کے درمیانی وقفے میں اسے بیان کرنے کے لیے ایک تجریدی کلیے کا سہارا لینا پڑتا ہے جس کا وجود حقیقی کی بجائے تجریدی ریاضی میں ہے۔ لیکن ابھی اس سے زیادہ پیچیدہ مسئلہ باقی ہے۔ الیکٹرانوں کی ایک مقام سے دوسرے مقام تک ان تعاملاتی جستوں (Interactive Leaps) کی پیش گوئی ممکن نہیں بلکہ مجموعی طور پر یہ بے ترتیب ہوتی ہیں۔ صرف اس امکان (Probability) کا حساب لگانا ممکن ہے کہ الیکٹران کا ظہور یہاں ہو گا یا وہاں، نہ کہ اس کا کہ اس کا ظہور کسی خاص مقام پر ہوگا۔ ان امکانات کا سوال فزکس کی اساس تک جاتا ہے جہاں بظاہرہرچیزخاص قوانین کے تحت کام کرتی محسوس ہوتی ہے اورجو ہمہ گیراورناقابلِ تغّیر ہیں۔

کیا یہ لامعنی محسوس ہوتا ہے؟ یہ آئن سٹائن کو بھی بے معنی ہی لگا تھا۔ ایک طرف تواس نے ہائزن برگ کے اس نظریے کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا نام نوبل انعام کے لیے تجویزکیا کہ اس نے دنیا کے بارے میں کسی بنیادی چیز کو سمجھا ہے۔ جب کہ دوسری جانب اس نے کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا جہاں وہ اس نظریے کے خلاف بڑبڑا نہ سکے کہ یہ تصوّر اس کے نزدیک قرین قیاس نہیں۔

کوپن ہیگن کے نوجوان افسردہ تھےکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آئن سٹائن ایسا سوچے؟ان کا روحانی باپ جس نے ناقابلِ تصورکو تصورمیں لانے کی جرّات کی، اس نامعلوم (Unknown) کی جانب ایک نئی جست لگانے سے گھبرا رہا تھا جس کی بنیاد اس نےخود رکھی تھی۔ وہی آئن سٹائن جس نے ثابت کیا تھا کہ وقت ہمہ گیر نہیں ہے اور مکاں منحنی ہے، اب کہہ رہا تھا کہ دنیا “اس قدر”عجیب نہیں ہو سکتی۔

بوہر نے نہایت تحمل سے آئن سٹائن کوان تصورات کی وضاحت پیش کی۔ آئن سٹائن نے اعتراضات کیے۔ اس نے ان نئےتصورات میں موجود تضادات ثابت کرنے کے لیے تخیّلی تجربات (Thought Experiments) ترکیب دیے۔ روشنی سے بھرے ایک ڈبے کا تصور کریں جس سے ہم صرف ایک فوٹان کوباہرآنے دیتے ہیں اوریوں آئن سٹائن کی مشہورمثال “روشنی کے ڈبّے والا تخیلی تجربہ” کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن ہر بار بوہر کوئی ایسا جواب دھونڈ لیتا جس سے ان اعتراضات کو رد کیا جا سکے۔ سالوں تک ان کا مکالمہ خطوط، دروس اور مضامین کے ذریعے جاری رہا۔ تبادلہ خیال کے دوران دونوں شخصیات کو اپنے خیالات پرنظرثانی کرنےاوران کوتبدیل کرنے کی ضرورت پڑی۔ آئن سٹائن کو بالآخر یہ ماننا پڑا کہ نئے تصورات میں تضادات نہیں ہیں اور بوہر کو یہ ماننا پڑا کہ چیزیں اتنی آسان اور سادہ نہیں ہیں جتنی اس نے پہلے سمجھی تھیں۔ آئن سٹائن اس پر بالکل نرمی نہیں برتنا چاہتا تھا جو اس کے لیے سب سے اہم مسلہ تھا: کہ اس سے بالاتر کہ کون سی چیز کس سے تعامل کرتی ہے، کائنات کی ایک معروضی حقیقت موجود ہے۔ جب کہ بوہرنے اس نئے نظریے پر، جس نے حقیقت کی عمیقیت کو نئے انداز میں تصور کیا، کوئی شک نہ کیا۔ بالآخر آئن سٹائن نے مان لیا کہ یہ نظریہ دنیا کے متعلق ہماری فہم میں بہت بڑی جست ہے۔ وو اس بات پربھی قائم رہا کہ چیزیں جتنی عجیب نظرآتی ہیں اتنی ہیں نہیں۔ یقیناً ان مظاہر کے پیچھے قابل فہم وضاحت موجود ہے۔

آج ایک صدی بعد بھی ہم اسی مقام پرکھڑے ہیں۔ کوانٹم میکانیات کی مساواتوں اوران کے مضمرات کو طبیعیات دان، کیمیا گر، انجینئراورحیاتیات دان روزمرہ زندگی کے بہت سارے مختلف علمی میدانوں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ مساواتیں ہم عصر ٹیکنالوجی میں بہت کار آمد ہیں۔ کوانٹم میکانیات کے بغیر الیکٹرانکس مثلاّ ٹرانسسٹر کا کوئی وجود نہ ہوتا۔ ان کےعملی استمعال کے باوجود یہ مساواتیں پر اسرار اور کسی حد تک ناقابلِ فہم رہتی ہیں۔ کیوں کہ یہ محض یہ بتاتی ہیں کہ ایک طبعی نظام دوسرے طبعی نظام پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے، یہ نہیں بتا پاتیں کہ اس تعامل کے دوران اس طبعی نظام کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

اس کا مطلب کیا ہوا ؟ کہ کسی نظام کی بنیادی حقیقت ناقابلِ بیان ہے؟ کیا اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس اس پہیلی کو حل کرنے کے لئے ایک حصّے کی کمی ہے؟ یا کیا اس کا مطلب یہ ہے( اور جو مجھے بھی لگتا ہے) کہ ہمیں اس حقیقت کو مان لینا چاہیےکہ یہ تعامل ہی اصل حقیقت ہے۔ اس سے صحیح معنوں میں ہماراعلم بڑھے گا۔ ایسا مان لیںے سے ہم وہ کچھ کرنے کے قابل ہوں گے جس کے بارے میں ہم نے ابھی تک تصوّربھی نہیں کیا۔ لیکن اس سے نئے سوالات اور نئے اسرار جنم لیتے ہیں۔ اس کے باوجود، تجربہ گاہوں میں ان نظریات کی مساواتوں کواستعمال کرنے والے اپنا کام جاری رکھتے ہیں۔ لیکن مضامین اورکانفرنسوں میں جو حالیہ سالوں میں کافی بڑھ گئی ہیں، طبیعات دان اورفلسفی اپنی تلاش جاری رکھتے ہیں۔ اپنے جنم کے ایک صدی بعد آج نظریہ کوانٹم کیا ہے۔۔۔ حقیقت کی اصل ماہیت میں ایک گہری ڈبکی؟۔۔۔۔ایک صریح غلطی (Blunder) جو محض حادثاتی طور پر کام کر گئی؟۔۔۔ یا پھر دنیا کی ساخت کے بارے کسی عمیق راز کی طرف اشارہ جس کو ہم ابھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پائے؟

جب آئن سٹائن فوت ہوا تو اس کے سب سےبڑے نظریاتی حریف بوہر نے اس کے لیے نہایت جذباتی تعریفانہ کلمات کہے۔ جب کچھ سالوں بعد بوہرکی وفات ہوئی تو کسی نے اس کے کمرہ مطالعہ (Study Room) کے تختہ سیاہ کی تصویر لی۔ اس کے اوپر ایک ڈرائینگ بنی ہے۔ آئن سٹائن کے “روشنی کے ڈبّے والے تخیلی تجربے کی ڈرائینگ”۔ حرفِ آخر میں: خود کو للکارنے اور زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی خواہش اورآخر میں سب سے اہم بات: شک۔

Categories
شاعری

نظم کے لیے غسل واجب نہیں

لندن کے شب خانوں میں
نیم واقف عورتوں کی کمریں گھیرے
برہنہ ٹانگوں ، ادھ کھلے پستانوں پر چھا جانے کی خواہش میں
آدمی خود کو زخمی کر لیتا ہے

آدمی سوچتا ہے
زخم اِنسان کا زیور ہے
یہ تو ایک مکَر ہے
مکَر عورت کا چور دروازہ ہے
اور مرد کے ماتھے کا محراب

منکوحہ عورتیں منافق نکلیں
تو رات نے سوچا
جس کا مرد زیادہ گھائل ہو
اس کی عورت زیادہ گہری ہوتی ہے

لندن لڑکیوں سے بھرا پڑا ہے
لیکن دل کا دالان خالی ہے

مے نوشی کی رات کے بعد
راہ پڑے بنچ پر آنکھیں کھولو
کمرے میں جوتوں سمیت جاگو
یا اجنبی بستر کی رانوں سے طلوع ہو
آدمی تنہائی کو طلاق نہیں دے سکتا

رات کے تین بجے ہوں
یا تیس برس کی زوجیت ہو
خواب ہو یا بستر
عورت اپنا مرد خود چنتی ہے

عمر علی!
لندن ہو یا لائل پور
دنیا ایک سی ہے

منشی محلے کے چکلے کی عورت بھی شاطر نکلی
اُس نے رمضان کے سارے روزے رکھے
اور تیس راتیں کمائیں
ہم بستری کے بعد وہ نماز پڑھنے چلی گئی
میں غسل کیے بغیر نظم لکھنے لگا

Image: Jean-Michel Basquiat

Categories
گفتگو

سوشل میڈیا پر لکھاری ہی مدیر اور ناشر ہے: زاہد امروز

[blockquote style=”3″]

گزشتہ پندرہ سالوں میں اظہار کے نئے ذرائع مثلاً ادبی ویب سائٹس، بلاگز، آن لائن صفحات ، فیس بک اور ٹویٹر وغیرہ نے نئے ادبی اور سماجی رجحانات کو جنم دیا ہے۔ ان سے قاری، مدیر اور لکھاری کے رشتے میں ایک تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ خصوصاً اردو شاعروں اور ادیبو ں میں سوشل میڈیا کا حد درجہ استعمال کیا اثرات مرتب کر رہا ہے ، اس پر شائد ہی بات ہوئی ہے۔ کیا یہ اردو شعر و ادب کی ترویج کے لیے مثبت رجحان ہے اور اس سے ادب کا دائرہ صحیح معنوں میں وسیع ہو رہا ہے؟ کیا سوشل میڈیا اور سماجی ویب سائٹس پرنٹ میڈیا کا نعم البدل ہو سکتی ہیں؟ عالمی اد ب میں ان ٹیکنالوجیکل رجحانات کو کیسے دیکھا جا رہا ہے ۔مزید یہ کہ سوشل میڈیا کا صارف لامحالہ کارپوریٹ سرمایہ داری نظام کا آلہ کار بن جاتا ہے ۔ اردو ادیب اس عمل کو کیسے دیکھتا ہے ؟ اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔اس حوالے سے ’لالٹین ‘نے زاہد امروز سے ایک گفتگو کی جسے ہم یہاں شائع کر رہے ہیں۔ امید ہے یہ گفتگو سوشل میڈیا پر ہمہ وقت موجود رہنے والے شاعروں اور ادیبوں کو سوچنے کا موقع دے گی۔

[/blockquote]

س: آپ سوشل میڈیا کو کیسے دیکھتے ہیں؟ کیا یہ ایک سنجیدہ ادبی فورم ہے اورکسی لکھنے والے کا ادبی معیار متعین کر سکتا ہے؟

میں ان سوالوں کے روایتی جوابات دینے کی بجائے (جن میں کسی جج سا فیصلہ کن انداز شامل ہوتا ہے) محض اپنے خیالات کا اظہار کروں گا۔ ان میں کہیں کہیں میری خود کلامی بھی در آئے گی اور کہیں کہیں نئے سوالات بھی کیونکہ ابھی اس بارے میں کوئی تاریخی اورحتمی رائے قایم کرنا قبل از وقت ہے۔ سوشل میڈیا کا بطور ایک متبادل یا متوازی عوامی فورم ، کم و پیش ایک دہائی کا قصہ ہے۔اگرچہ سوشل میڈیاایک دہائی میں ہی ہماری زندگیوں کا اہم حصہ بن چکا ہے ۔ہم ایک زندگی حقیقت میں جیتے ہیں اور دوسری سوشل میڈیا پر۔ اظہار کے (ادبی اور زیادہ تر غیر ادبی ) اس نئے فورم کے ہمہ وقت وجود سے ہماری زندگیوں میں کیا تبدیلی آرہی ہے۔ اس کو سمجھنا ضروری ہے۔آپ کے سوال کے تناظر میں ہم سوشل میڈیا کے استعمال کو دودرجوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک بطور متبادل ادبی فورم اور دوسرا بطور تفریحی فورم۔ ہم ان دونوں پہلوؤں پر بات کریں گے۔اردو میں سوشل میڈیا کا مطلب ہوا سماجی مواصلاتی ذریعہ۔ یعنی ایک ایسا نظام جو سماجی اور عوامی استعمال میں ہو اور انہیں کے کنٹرول میں ہو۔ اور جب ایک بڑی عوامی تعداداسے استعمال کرنے لگے، تو اشتہاروں کے ذریعے پیسہ کمایا جائے۔ مواصلاتی ٹیکنالوجی کے عوامی دسترس میں آنے سے رابطوں کا جو نیا رستہ قایم ہوا اس کاابتدائی کاروباری مقصد یہ تھا کہ عوام بطور صارف اسے استعمال کرے ۔یعنی یہ اخبار اور ٹی وی کا نعم البدل بن جائے۔ اسے ہر صارف اپنی دلچسپی کے مطابق استعمال کرے۔ اپنی پسند ،نا پسند کی بنیاد پر اپنی ترجیحات کے مواد تک رسائی حاصل کرے ، اپنے دوستوں اور ہم خیال لوگوں تک پہنچ سکے اور مشترکہ دلچسپیوں کی گروہ بندی کرے جس میں عموماً عام فہم تفریحی قسم کی عوامی دلچسپیاں، انٹرٹینمنٹ اور سماجی مشاہدات جیسا مواد ہو۔ کیونکہ اکثریت اسی طرح کی زندگی گزارتی ہے۔ اور اسی سے حظ اٹھاتی ہے۔

س: اظہار کے اس نئے ذرائع سے ادبی اور علمی عمل میں کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے؟

ایک بڑی تبدیلی تو یہی پیدا ہوئی کہ بطور متوازی ذریعہِ اظہار ادبی عمل کی ریاضیاتی مساوات بدل گئی ۔یعنی سوشل میڈیا پر لکھاری خود مدیر ہے اور خود ہی ناشر ہے ۔ وہ قاری تک رسائی میں اب کسی کا محتاج نہیں۔ لیکن اس وصال کی عمر محدود ہے۔ میرے نزدیک سوشل میڈیا ایک چوک ہے جہاں ہر کسی کے پاس ایک سی رسائی ہے۔ ہر کوئی بات کر رہا ہے۔ ہر کوئی سن رہا ہے اور ہر کوئی بول رہا ہے۔ ایک جمہوریت ہے جس میں لکھاری اور قاری ایک ہو گئے ہیں۔ آپ بیک وقت لکھاری بھی ہیں اور قاری بھی ۔یعنی آپ خود ہی مداری ہیں۔خود تماش بین بھی ہیں اورخود ہی تماشہ بھی۔ یہ عمل اب دو طرفہ ہے جس میں خیال ، اس کے اظہار اور اشاعت میں وقت کی تاخیر اور انتظار نہیں۔

سوشل میڈیا سے دوسری اہم تبدیلی یہ رونما ہوئی کہ اس (ورچوئل ورلڈ)میں مرکز اور مضافات کی تفریق ختم ہو گئی۔ آ پ لندن میں رہتے ہوں، چیچہ وطنی میں بیٹھے ہوں، یاتھر پارکر کے کسی دور افتادہ گاؤں میں، آپ یہاں سٹلائٹ کے آ فاقی چشم و گوش کے ذریعے ہمہ وقت دیکھے سنے جا سکتے ہیں۔ یہ کثیر مرکزیت اپنی ظاہریت میں جمہوری ہے۔اپنی تصویر و تحریر کی ترسیل کے لیے آپ کوکسی اخبار کی ضرورت نہیں، کسی ادبی رسالے کے مدیر سے رسمی تعلق رکھنے کی ضرورت نہیں ۔ کراچی، لاہور، اسلام آباد کے ’’لکی ایرانی لٹریری فیسٹول‘‘ کے منتظمین کی عدم توجہ پر کڑھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی فیس بک وال، آپ کا ٹویٹ اور انسٹاگرام سپیس آپ کا اخبار بن گیا ہے جس میں آپ جو چاہیں نشر کرتے ہیں اورہمہ وقت اپنے قارئین کی پسند و ناپسند پر آنکھ رکھے ہوئے ہیں۔

س: لیکن اس مکمل خود مختاری سے کچھ سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ہمہ وقت موجودگی کیا واقعی حقیقت کا نعم البدل ہے اور بظاہراظہار و ترسیل کی اس انقلابی نوعیت کی تبدیلی کیا بڑا ادیب پیدا کر سکتی ہے؟ کیا سوشل میڈیا ادبی سرگرمی کے کوئی منفی پہلو بھی ہیں ؟

یہ ہمارا اردو ادیب ابھی نہیں سوچ رہا۔اکثر میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا کس نوعیت کا میڈیم ہے۔ میں اب تک یہ سمجھا ہوں کہ سوشل میڈیا اگرچہ ایک ورچوئل ورلڈ ہے، لیکن یہ اسی مادی ، حقیقی دنیا کا ایک پرتو ہے۔ جس طرح سایہ اپنا وجود نہیں رکھتا ۔ یہ کسی مادی شے کا روشنی کے راستے میں آجانے کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا حقیقی زندگی کی پرچھائیں ہے۔ جس طرح کسی شے کا سایہ محض سیاہ رنگ کا بے خال و خد حاشیہ ہوتا ہے اسی طرح آپ کا سوشل میڈیا پروفائیل آپ کی اصل شخصیت کا بے خال و خد سایہ ہوتا ہے۔ اس میں آپ اپنی تمام کمزوریاں، خرابیاں ، محرومیاں اور بے بسیاں چھپا لیتے ہیں۔جس طرح سب کے سائے ایک جیسے ہوتے ہیں، اسی طرح آپ اپنی’ سوشل میڈیا شخصیت ‘کچھ بھی پیش کر سکتے ہیں۔جس طرح آپ کو ادبی حلقوں میں، گلیوں بازاروں میں تماشہ گر قسم کے لوگ ملتے ہیں ، سوشل میڈیا پر بھی ایسے ہی لوگ موجود ہیں۔فرق محض میڈیم کا ہے۔ہر شخص اپنا اظہار چاہتا ہے۔ ہر گلی محلے میں لکھنے والے ہوتے ہیں ۔پرنٹ میڈیا میں قاری اور لکھاری کے درمیان مدیر، ناشراور مارکیٹ بطور فلٹر کام کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ فلٹر ہٹ جاتا ہے۔ کسی نظر انداز کیے گئے اچھے لکھاری کے لیے یہ ایک نعمت ہے ۔ یہاں وہ دوسروں تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے بغیر بھی اچھا لکھنے والا زیادہ دیر تک نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔سوشل میڈیا کا منفی پہلو یہ ہے اس سے وہ سارا کچرا قاری تک پہنچتا ہے جو ادبی اشاعتی عمل میں فلٹر ہوتا ہے۔

س: اگر یہ حقیقت کا پرتو ہے توپھر روایتی ادبی فورم اورسوشل میڈیا بطور ادبی فورم میں کیا فرق ہے؟

ہر میڈیم یا فورم کی ایک نفسیات اورایک مزاج ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیاصحافت کی ایک شاخ ہے۔ لیکن اس میں اور روایتی صحافت میں فرق یہ ہے کہ اس میں ہر صارف صحافی و مدیر خود ہے۔ تحریر اور قاری کے اس برا ہ راست تعامل سے کچھ نئے پہلو نمایا ں ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لکھاری خود ہی کاتب ، خود پروف ریڈر، خود مدیر اور خود ہی ناشر بن گیا۔ وہ جو بھی خیال حرف کرے، سونا بنائے یا مٹی، اس کا انحصار کسی’ دوسرے ‘پر نہیں رہا۔ وہ اپنے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے قاری تک رسائی میں خود مختار ہو گیاہے۔ یوں کہئے کہ سوشل میڈیا ایک ایسا عوامی تھڑا ہے جس میں لکھاری اور قاری کے وصال میں کوئی رابطہ کار نہیں،کوئی مدیر نہیں، کوئی ناشر نہیں، معیار کا کوئی معروضی پیمانہ نہیں۔ اس سے لکھنے والے کو مفت اور مکمل آزادی مل گئی ۔ایسی آزادی جس میں وقت کی بھی قید نہیں۔

س:ہم دیکھتے ہیں کہ اردو کا شاعر و ادیب طبقہ فیس بک یا سماجی رابطے کی دوسری ویب سائٹس پر ہمہ وقت موجود رہتا ہے۔ کیا یہ اچھا نہیں کہ اس سے ادب کی عوام تک فوری رسائی ہو رہی ہے۔اور آپ کے کلام کی زیادہ پذیرائی ہو سکتی ہے؟

دیکھو، جس طرح گوئیّے کو سنوئیّاچاہئے ہوتا ہے اور مداری کوتماش بین ، اسی طرح لکھاری کو قاری چاہیے ہوتا ہے ۔ آپ صدر، وزیراعظم (بادشاہ) کے دربار میں گائیں ، صوفی کے دربار پر، کوکا کولا کے دربار میں یا گھر کی بیٹھک میں موبائل پراپنا گانا بمعہ وڈیو ریکارڈ کر کے آن لائن ( فیس بک چوک ) میں رکھ دیں، سب اظہار کے راستے ہیں۔لوگ آپ کو دیکھیں گے ، سنیں گے، ایک دوسرے کی نقالی کریں گے اور داد دیں گے۔ اسی طرح، شاعر ادیب لوگ خواہ ایوانِ صدر میں مشاعرے پڑھیں ، ٹی وی چینلوں کے عید شوز میں کلام آزمائی کریں ، سنجیدہ ادبی رسائل میں تحریریں چھپوائیں یا فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام پر لکھاری بمعہ مدیری بمعہ اشتہاری کی سہ جہتی ڈیوٹی کریں۔ سب اظہار کے راستے ہیں۔ (یہاں اشتہاری سے مراد وہ شخص ہے جو اپنی تشہیر آ پ کرے) ۔ویسے تو اخباروں اور ادبی رسائل میں بھی روزانہ ڈھیروں کچرا شائع ہوتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر لکھاری کے پاس مکمل اختیار ہے کہ وہ (اپنی فیس بک وال پر بطور سٹیٹس ) بیک وقت لکھ بھی رہا ہے اور شائع بھی رہا ہے۔ یعنی لکھاری کے لیے اپنی تحریر کی نظرِثانی بھی بے معنی بات ہے اور بلا وجہ کی تاخیر اور رکاوٹ ہے۔لکھار ی اور قاری کے درمیان یہ نیا تعلق مثبت ہے یا منفی؟ میرے نزدیک یہ مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔اس کا انحصار تحریر کے تناظر (context) پر ہے۔

جہاں تک ادب کی ترسیل اور پذیرائی کی بات ہے، کم سہی لیکن سنجیدہ پڑھنے والے آپ کو کتابیں پڑھتے ہی نظر آئیں گے۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ کو پڑھنے والے (کچھ سنجیدہ اورزیادہ تر غیر سنجیدہ)،آپ کی یک حرفی تعریف کرنے والے ا ور فوراً فین بن جانے والے لوگ مل جائیں گے۔آپ سوشل میڈیا پر بے حد مشہور ہیں یا بالکل مشہور نہیں ہیں، آپ کو ہزاروں لائک ملتے ہیں یا سو پچاس، ایک بات طے ہے کہ اس سے آپ کی ادبی و علمی قد و قامت اور معیارِ تحریر متعین نہیں ہو سکتیں۔ادب کے لیے سنجیدہ فورم کون سا ہے اور غیر سنجیدہ کون سا، اس کا فیصلہ ہم ابھی نہیں کرتے۔البتہ میرے نزدیک ایک سنجیدہ لکھنے والے کو جن باتوں اور حرکات سے دور رہنا چاہئے ، سوشل میڈیا انہیں حرکات کے بدولت چلتا ہے۔

س: ان حرکات سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا معروف ادب اور سنجیدہ ادب دو مختلف چیزیں ہیں؟کتنے ہی اچھے شاعرا ور فنکار سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آئے ہیں؟

یہ اس اختیار و رسائی کا مثبت پہلو ہے کہ کثیر مرکزیت سے کئی نئے در کھلے ہیں۔ لیکن یہاں ہم سوشل میڈیا بطور متبادل ادبی فورم کی بات کر رہے ہیں۔نئے شاعر ادیب تو سوشل میڈیا سے پہلے بھی متعارف ہوتے رہے ہیں اور اس کے لیے سوشل میڈیا کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ یہ بڑا ادب ہے اور یہ بڑا ادب نہیں ہے اس کا پیمانہ یہ ہرگز نہیں کہ کسی تحریر یا وڈیو یا فلم کو کتنے لائکس ملے ہیں یا اسے کتنے لوگوں نے دیکھا ہے۔ تخلیقی عمل اس کے بالکل بر عکس ہے۔ کسی بھی تحریر (یہاں تحریر سے مراد textہے جو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہر حسی تجربہ ایک تحریر/ textہے)کے راتوں رات مشہور ہو جانے کے لیے ضروری ہے کہ یہ عام فہم یعنی familiarہو، پہلے سے آپ کے مشاہدے میں ہو اور اُس میں کوئی اجنبیت نہ ہو۔ آپ اسے سرسری دیکھیں اور سوچے بغیر اسے سمجھ لیں۔ ایسی تحریر جو آپ کے تصوارت اور عقائد کو چیلنج نہ کرے اور کسی الجھن میں نہ ڈالے ۔ ایسی ادبی تحریریں کلیشے سے بھری ہوتی ہیں۔ اور کلیشے ادبی تحریر کی موت ہے۔ بڑا ادب کسی نئے تجربے کے بیان میں آنے سے یا کسی عام تجربے سے نیابیانیہ تشکیل دینے سے پیدا ہوتاہے ۔ اس میں ایک پر اسراریت، ایک اجنبیت ہوتی ہے۔ وہ آپ کو چیلنچ کرتا ہے اور مروّجہ نقطہ نظر کو بدل دیتا ہے۔سوشل میڈیا اس کا متحمل نہیں۔ بڑے ادب کی اس اجنبیت اور غیر مانوسیت ) (Unfamiliarity کوسمجھنے کے لیے وقت درکا ر ہوتا ہے اور سوشل میڈیا پر کسی تحریر یا پوسٹ کی عمر کچھ لمحے یا زیادہ سے زیادہ کچھ گھنٹے ہوتی ہے ۔اس کے بعد آنکھ اوجھل ، پہاڑ اوجھل ۔ آپ کو کچھ سنجیدہ قارئین ضرور مل جائیں گے۔سو پچاس اچھے پڑھنے والے تو ہر جگہ مل جاتے ہیں۔ آپ خود دیکھیں۔ جن ادبی تحریروں کو سوشل میڈیا پرہزاروں لاکھوں لوگ لائک کرتے ہیں ان میں شاز و نادر ہی کوئی اچھی تحریر ہوتی ہے ورنہ وہی ادبی جگالی ۔ چونکہ یہاں آپ خود ہی سارے شعبوں پر ڈیوٹی کر رہے ہیں۔ آپ جتنی خود تشہیری کر یں گے اتنے مشہور ہو جائیں گے۔ یہ جستجو تخلیق کا ر کو تماشہ گر بنا دیتی ہے۔اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ تخلیقی عمل کے لیے جو بے فکری درکار ہوتی ہے وہ آلودہ ہو جاتی ہے۔ آپ ہمہ وقت لائکس اور کمنٹس گنتے رہتے ہیں۔ یہ گویا ہوا کے گولے جمع کرنے کے مترادف ہے۔

س: یعنی آپ کے نزدیک سوشل میڈیا پر تحریر شائع کرنا برانہیں ،اس سے اپنا ادبی قد متعین کرنا خام خیالی ہے؟

ہاں ، آپ کہہ سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ایک نئی طرز کا شاعر ،ادیب پیدا کیا ہے ۔ یہ جھٹ لکھی، پٹ اپ لوڈ کی ، قسم کی عام فہم، مختصر، جذباتی نوعیت کی تحریریں جو انسٹاگرام، فیس بک، ٹویٹر پر وائرل ہو جاتی ہیں ،خیال اور کرافٹ کی سطح پر اکثر کوئی نیا تجربہ پیش نہیں کرتیں۔ یہ اردو شاعروں ادیبو ں کی تحریریں ہوں یا دوسری زبانوں میں لکھنے والوں کی، اس کے اصول و قوائدایک سے ہیں۔ قاری مصروف ہے۔ وہ میٹرو میں سفر کر رہا ہے،اسٹیشن پر بس کا انتظار کر رہا ہے، ٹائلٹ میں بیٹھا ہے، وہ دماغ سے نہیں پڑھ رہا اپنے سمارٹ فون کی سکرین پر رکھے انگوٹھے سے پڑھ رہا ہے۔ اس کا انگوٹھا اس کے دماغ سے زیادہ تیز چلتا ہے۔ بوریت کے خلا کو وہ کسی غزل یا مختصر نظم پڑھ کر پُر تو کر رہا ہے اور ممکن ہے یہ اس پر اثر انداز بھی ہو، لیکن اس دورانیے میں وہ ادبی تحریر سے ، کسی وڈیو یا تصویر سے لمحاتی تفریح سے زیادہ توقع نہیں رکھتا ۔ آپ سوشل میڈیا مواد کا تجزیہ کریں تو لاکھوں، کروڑوں لائکس حاصل کرنے والی پوسٹ عموماً موبائل سے بنائی گئی کسی ڈکیتی، کسی ظلم ، زیادتی، یا کسی راہ گیر سے پیش آئے واقع کی کوئی سنسی خیزوڈیو ہو گی۔کسی ایکٹر، ایکٹرس کا کوئی پرائیویٹ بیڈ روم منظر یا کسی عام لڑکی کا سطحی جنسی اشتہا دیتا ڈانس کلپ ہو گا۔ سماجی میڈیا اپنی فطرت میں ایک ورچوئل بازار ہے جو ہماری حقیقی زندگی کی نفسیات کی پرچھائیں ہے۔ اس ورچوئل بازار میں لوگ تفریح کے لیے نکلتے ہیں۔ ان کے پاس سنجیدہ مواد پڑھنے کا وقت نہیں۔ سنجیدہ ادب کے لیے آپ مخصوص ادبی ویب سائٹس پر جاناہو گا۔مثلاًآن لائن اردو میڈیا میں ریختہ، ادبی دنیا ، لالٹین یا عالمی سطح پر معروف ادبی رسالوں کی ویب سائٹس موجود ہیں جہاں کسی تحریر کو مخصوص ادبی تناظر میں پیش کیاجاتا ہے۔سوشل میڈیا چونکہ ایک صحافیانہ فورم ہے اسے پروپیگنڈے کے لیے ، سیاسی اور تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، سنجیدہ ادبی سرگرمی کے لیے یہ غیر مناسب ہے۔

س: اگر آپ کسی بڑے شاعر ادیب کی شاعری یا فن پارے سوشل میڈیا پر پیش کریں تو آپ کے مطابق لوگ اسے کس طرح پڑھتے ہیں؟

مثلاً آپ بابا فریدیا غالب کو آج زندہ کر لیجئے اور ان کے سوشل میڈیا پروفائل بنادیں ۔ جہاں وہ فیس بکی ادیبوں شاعروں کی طرح روزانہ صبح شام اپنی تحریریں اپ لوڈکریں۔ ہر صبح ناشتے کے بعد اپنا ایک شعر یا اشلوک زنانہ تصویر کا پس منظر لگا کر انسٹاگرام یا فیس بک پر اپ لوڈ کریں،اس کی تشہر کریں ۔ لوگوں کواپنی تحریروں پر کمنٹس کرنے کے لیے اِن باکس میں ذاتی پیغامات اور سفارشیں بھیجیں ، تو کیا لوگ ان کے اشلوک یا اشعار ایک سرسری پڑھت میں سمجھ لیں گے؟ سمجھیں گے نہیں ، مروتاً لائک کر کے گزر جائیں گے۔ کسی تحریراور اس کے لکھاری کا عظیم ہونااس کی شہرت میں نہیں اس کے باطن میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ دراصل کوئی بھی شے /تحریر بذاتِ خود مکمل معنی نہیں رکھتی اس کا تنا ظر اسے معنی و مفہوم فراہم کرتا ہے۔ اگر اس سوال کو ایک اور طرح سے دیکھیں تو میں کہوں گا کہ تحریر کا ایک تناظر اس کاذریعہِ اشاعت بھی ہے۔ آپ ایک تحریر اخبار میں شائع کریں، اسی کو ایک معیاری ادبی جریدے میں شائع کریں (جس کی مقبولیت مخصوص اور سخت ادبی معیار کے تحت ہو) ۔اسی تحریر کو بطور آن لائن بلاگ کے شائع کریں اور پھر اسی تحریر کو فیس بک پروفائل دیوار پربطور سٹیٹس لگا دیں۔ ایک ہی تحریر کے مختلف ذریعہِ اشاعت کے باعث اس کا تناظر بدل جائے گا اور پڑھنے والااس اشاعتی ذرائع/ میڈیم سے منسلک اپنی پیش بین جانب دار ی (Pre-conceived bias) یا میڈیم کے مزاج کے اثرکے تحت مختلف رائے قائم کرے گا۔ ہر تحریر اپنے مناسب ذریعہِ اشاعت کی محتاج ہے تاکہ وہ صحیح تناظر میں اصل قارئین تک پہنچ سکے۔اس کا مطلب ہوا کہ کسی تحریر کا کوئی حتمی تناظر نہیں ہوتا۔قاری اور تحریر ہر تعامل میں اپنی قدر اور معنی خود متعین کرتے ہیں۔ تحریر اور قاری کے درمیان رابطہ کسی بھی ذریعے سے ہواس کی کوئی معروضی اور حتمی شکل طے کرنا مشکل ہے۔

س: سوشل میڈیا کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ لامحالہ ادیب کو سرمایہ داری نظام کا صارف بنا دیتا ہے ، یہ کیسے کام کرتا ہے ۔ اگر یہ ادب کی خدمت نہیں کر رہا تو کیا اس سے کنارہ کشی ممکن ہے؟

آپ دیکھیں تو ان سماجی میڈیا ویب سائٹس کے خالقین اور منتظمین کے ذاتی پروفائل اکاونٹ قدرے غیر متحرک ہیں۔ وہ صبح شام فیس بک کے عادی اردو شاعروں ،ادیبوں کی طرح آن لائن نہیں رہتے۔ وجہ جاننے کے لیے اس وِرچوئل بازار کی نفسیات اور کاروباری حکمتِ عملی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج دنیاکے امیر ترین سرمایہ دارلوگ انہیں ورچوئل بازاروں مثلاً فیس بک، ٹویٹر ، انسٹاگرام کے مالکان ہیں۔ کروڑوں، اربوں صارفین کے مفت استعمال کے لیے دستیاب ویب سائٹس اتنا پیسہ کہاں سے کماتی ہیں؟در اصل یہ منافع آپ سے دوہری شکل میں وصول کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے اس کے نفسیاتی پہلو پر بات کرتے ہیں۔مشہور سوشل میڈیا ویب سائٹس بنانے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ انسانی شعور اور نفسیات کیسے کام کرتی ہے۔ انسانی دماغ میں ایک مرکب ڈوپامائن (Dopamine)پایا جاتا ہے جس کے ذریعے نیوران کے درمیان عصبی ترسیل ہوتی ہے۔ ڈوپامائن مرکب ہمیں کسی چیز کے عادی ہوجانے میں ، لذت دینے والی اشیا کی طرف بار بار مائل ہونے میں ، کسی نشے سے لطف حاصل کرنے میں بنیادی محرک کاکردار ادا کرتا ہے۔ ہر شخص کسی نہ کسی چیز کا عادی ہوتا ہے۔ کسی عادت کا پیدا ہونا اصل میں تو کسی ایسے کام کو شعوری یا غیر شعوری طور پر بار بار کرنے کا نام ہے جو آپ کو لطیف احساس دے اور آپ مزہ محسوس کریں، یہ کوئی بھی فعل ہو سکتا ہو۔ خواہ کسی نشے کی لت ہو، کوئی گیم ہو ،جنسی فعل ہو، سسپنس ڈائجسٹ ہوں یا کوئی اور عادت،آپ کے دماغ میں اس عمل سے ڈوپامائن لیول کا بڑھنا ایک لطیف احساس دیتا ہے۔ سوشل میڈیا ویب سائٹس بھی ایسے اصولوں پر ڈیزائن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس ویب سائٹ کے استعمال کے دوران صارف کے دماغ میں ڈوپامائن لیول کو اشتہا ملے۔نفسیاتی سطح پر ٹیکنالوجی کی لت بھی نشے کی لت جیسا اثر کرتی ہے۔ اسی لیے پچھلے پندرہ سالوں میں موبائل فون میسجنگ، سوشل میڈیا پر اجنبی روابط، ٹنڈر، فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام جیسی ویب سائٹس استعمال کرتے ہوئے آپ کو بہت سا دلچسپی کا سامان ملتا ہے۔ دوسرے لوگوں کی شیئر کی ہوئی معلومات کے اس سمندر میں آپ بے سمت تیراکی (surfing)کرتے ہوئے دوستوں کی تصاویر دیکھتے ہیں۔ان کے روز مرہ کی سرگرمیوں سے واقف ہوتے ہیں، اجنبیوں کی پروفائل ٹٹولتے ہیں، کوئی ہنسی مزاق کی وڈیو دیکھتے ہیں۔ یہاں وہاں سے کوئی شعر، کوئی غزل ، نظم پڑ ھتے ہیں، لائکس ، کمنٹ کرتے جاتے ہیں۔اسی طرح گھنٹوں گزر جائیں گے اور آپ لطف لیں گے۔ لیکن اس وقت گزاری کے بعد آپ کا ذہن ایک خالی پن محسوس کرے گا۔آپ کئی لوگوں کے شیئر کیے ہوئے تجربات کو سکرین پر دیکھیں گے لیکن خود کسی تجربے سے نہیں گزریں گے۔آپ اس مغالطے میں مبتلا رہتے ہیں کہ آپ سکرین پر ہونے والی سرگرمی کا حصہ ہیں۔ لیکن حقیقت اور آپ کے درمیان ایک متحرک سکرین حائل ہے اورآپ اپنے کمرے میں بند محض ساکن تماش بین بنے بیٹھے ہیں۔ آپ لطف اندوز ضرور ہوتے ہیں لیکن کچھ نیا نہیں سیکھتے۔یہی لطیف کیفیت کسی نشے کے بعد ہوتی ہے۔ ان عادتوں اور تجربوں کی مماثلت کے پیچھے ڈوپامائن کام کر رہی ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ آپ کی اس وقت گزاری (یا آپ کی محدود ادبی سرگرمیوں کا) کا سوشل میڈیا مالکان کو کیا فائدہ ہوتا ہے؟ جب آپ سوشل میڈیا پر اپنا اکاؤنٹ بناتے ہیں ۔آپ اس سرمایہ داری منڈی میں ایک صارف بن جاتے ہیں۔ آپ اس بازار میں آجاتے ہیں جہاں ہر نوع کی اجناس موجود ہیں۔ سب کی طرح آپ بھی کچھ اپ لوڈ، کچھ شیئر کرتے ہیں۔ اور آپ کے پاس بھی اوروں کی طرح اپنی تصاویر، روز مرّہ سرگرمیوں کا حال، کچھ چبائے ہوئے سطحی سے خیالات اور دن بھر ارد گرد سے سنے ہوئے سیاسی تجزیئے وغیرہ ہوتے ہیں جو آپ اپنی آواز، اپنی شناخت پیدا کرنے کے لیے، اپنے وجود کی تصدیق کے لیے اور دوسروں کی نظر میں نمایاں ہونے کے لیے شیئر کرتے ہیں۔ یہ سب اس ورچوئل منڈی کا مال بن جاتا ہے۔جسے آپ کے جاننے والے ، دوست احباب اور’ اجنبی دوست ‘ صرف کرتے ہیں۔ اسی طرح آپ دوسروں کا لایا ہوا ما ل/ مواد صرف کرتے ہیں۔ آپ جتنے کلک کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر اتنا ٹریفک بڑھتا ہے ۔ کروڑوں، اربوں کی تعداد میں جمع شدہ عالمی بھیڑکو سرمایہ داری کمپنیاں اشتہارات کی صورت میں اپنی مصنوعات متعارف کرواتی ہیں۔ ان اشتہاروں سے سوشل میڈیا مالکان پیسہ کماتے ہیں۔ آپ اپنی ساری نقل و حرکت، پسند ناپسند، اچھائی برائی، سوشل میڈیا پربراہ راست یا بلاواسطہ شیئر کرتے ہیں جسے کمپیوٹرز کے مصنوعی ذہانت پر مبنی حسابی کلیے (Algorithms) مسلسل جمع کرتے ہیں اور آپ کی نفسیات کا تجزیہ کرکے آپ کی دلچسپی کی خبریں اور صارفی مصنوعات کے اشتہارات آپ کے سامنے بار بار پیش کرتے ہیں۔یعنی ایک طرف توآپ صارف بن گئے۔ دوسرا آپ سوشل میڈیا پر جتتا زیادہ وقت گزارتے ہیں، ان صارفی ویب سائٹس کے لیے مفت ملازمت کرتے ہیں۔اس سے بڑھ کر آپ ان ویب سائٹس کے استعمال کے عادی ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ اب وہاں آپ کی ایک شخصیت بن چکی ہے۔ آپ کے احباب ہیں، سننے ، پڑھنے والے ہیں ۔ اجنبی دوست آپ کے سٹیٹس لائک کرتے ہیں۔ کمنٹ کرتے ہیں۔ گو یا آپ ایک مشہور شخصیت celebrity) (بن جاتے ہیں۔حقیقی زندگی میں کوئی آپ کی رائے، آپ کی بات کو اہمیت نہ بھی دیتا ہو، یہاں آپ کو سو پچاس لائک مل جاتے ہیں اور آپ کی انا کی تسکین ہوتی ہے۔ یہی احساس آپ کا ڈوپامائن لیول بڑھاتا ہے جو نشے کی لت کی ایک صورت ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہمارا اردوشاعر ادیب ، دانش ور طبقہ ہمہ وقت فیس بک پر موجود رہتا ہے۔ یا تو وہ اس کے منفی اثرات سے غافل ہے یا اس لت کا شکار ہوچکا ہے جو اُسے سوائے وقتی لذت کے اور کچھ پیش نہیں کر رہی۔ اپنی بات ختم کرتے ہوئے میںیہی کہوں گا کہ سوچنے سمجھنے والے شاعروں ادیبوں کو سوشل میڈیا کے بے دریغ استعمال سے پرہیز کرنا چاہئے۔دوستوں سے رابطے ، ادبی سرگرمیوں کی معلومات اور سیاسی اور سماجی پروپیگنڈے کی حد تک تو درست ہے لیکن ہر روز اپنی صبحیں اور شامیں اس لت کی نذر کرنا مناسب نہیں۔ بڑا ادب پیدا کرنے کے لیے گہرا تفکر اور بے فکری درکارہوتی ہے اور اس کے لیے سوشل میڈیا کے شور سے دور خاموشی کو محسوس کرنا ضروری ہے تاکہ آپ اپنے باطن کی جنبشوں کو محسوس کر سکیں جو گہری اور خوبصورت ہیں۔

Categories
شاعری

نظم لکھنے سے پہلے ایک نظم

کون مرے اِس سچ کو سچا جانے
میرا سچ جو اِس اَن حد باغیچے کے اِک گوشے میں کھِلا ہوا معمولی پھول ہے
کون اِس پھول کی خوشبو چننے آئے
کس کو اِتنی فرصت!

کبھی کبھی تو میں اِس باغ کے باترتیب کیاروں میں
کھِلے ہوئے پھولوں سے ڈر جاتا ہوں
جن کے رعب تلے دب جاتی ہیں
میری ننھی خوشیاں
میرے مسکانے کی معصوم سی خواہش
اِن پھولوں کی سچائی کو سچ کرنے کی خاطرہی تو ہے
گل بانوں کا سارا پانی، ساری محنت
ایسے میں میری خود رَو سچائی کو جھوٹے بھی گر جھوٹا جانیں
تو خود انصاف کرو
میں کس کو جھٹلاؤں؟

میں نے تو بس اپنے اثبات کی خاطر
اپنے پہلو میں ایک کلی کو ساتھ کیا
جو نہ شبِ حشر کی ملکہ
نہ روزِ اجر کی رانی
جس نے اپنے اثبات کی خاطر
نہ کوئی کہرام کیا
نہ کوئی ہنگام کیا
بس اتنا سا کام کیا
خاموشی سے مجھ بے نام کا نام لیا
Image: Salavador Dali

Categories
شاعری

کچرے کی حکومت

صاف گھروں کے باہر کس نے
کُوڑے کا یہ ڈھیر لگایا؟
اور اُس ڈھیر میں پیدا ہوئے پھر
فوج، حکومت اور ہتھیار
کس نے دیا ان کو اختیار!

کُوڑے پر کتوں کے پِلے دن کی دھوپ میں کھیلتے ہیں
اور کُتیا کے گندے تھنوں سے کڑوی خشکی چوستے ہیں
بے چینی میں پھدک پھدک کر اپنی دم کو نوچتے ہیں
ایک رسیلی ہڈی کی خاطرچاؤں چاؤں بولتے ہیں
صاف گھروں کی جانب اپنے بزدل جبڑے کھولتے ہیں

صبح چماروں کے بچے کچرے میں قسمت چننے آتے ہیں
پلّے اُن کے قدموں میں
امن کے جھنڈے کی ماننداپنی دُمیں ہلاتے ہیں
جب بچا ہوا روٹی کا ٹکڑا بچے کے ہاتھ میں آتا ہے
کتوں کے پیٹ میں بھوک کا پودا اُگنے لگتا ہے
آنکھوں میں بے صبری بھونکنے لگتی ہے
بھاگتے بچوں کا رستہ روکنے لگتی ہے

جب اس ہنگامے کا شور
ہماری نیند آلودہ کرتا ہے
ہم کروٹ کروٹ کڑھتے ہیں
اور اونگھتے اونگھتے سوچتے ہیں
صاف گھروں کے باہر ہم نے
کیوں کوڑے کا ڈھیر لگایا؟
اور اس ڈھیر میں پیدا ہوئے پھر
فوج، حکومت اور ہتھیار
کس نے دیا اِن کو اختیار!

Image: Ibrahim El-Salahi

Categories
شاعری

آدمی کہتا ہے وہ جی سکتا ہے

آدمی کہتا ہے وہ جی سکتا ہے
لیکن ایسی دنیا میں
آدمی جیتے جی کیسے جی سکتا ہے؟

جینے کی خاطر آدمی لوہا بن جاتا ہے
آدمی آرا بن جاتا ہے
آدمی کاٹنے لگتا ہے
دھرتی کٹ جاتی ہے
سینے پھٹ جاتے ہیں
اور خوشیوں کے خصّیے کچلے جاتے ہیں

آدمی کہتا ہے وہ جی سکتا ہے
ہنسی کا ہتھیار لیے
آدمی دُکھ کی جھاڑی کاٹتا رہتا ہے
کاٹتے کاٹتے آدمی کٹ جاتا ہے
کٹے ہوئے جسموں میں لاشیں زندہ رہتی ہیں
لاشوں کے ملک میں چلتے چلتے
ڈرے ہوئے آدمی ڈرے ہوئے آدمی سے ڈر جاتے ہیں
مرے ہوئے آدمی مرے ہوئے آدمی کو مار دیتے ہیں

Image: Dia al-Azzawi

Categories
شاعری

نرم گھاس میں سرگوشیاں

نرم گھاس میں سرگوشیاں

شاعر:ہانس بورلی
ترجمہ: زاہد امروز

زندگی ہمیشہ
موت کے ہم راہ ہانپتی ہوئی دوڑ نہیں ہوتی

زندگی فقظ
حقیر مقاصد کی طرف دس ہزار مشقت بھرے قدم نہیں

نہیں ، زندگی بہت وسیع ہوتی ہے
نرم گھاس میں سرگوشیاں بن جانے کے لئے

زندگی بہت وسیع ہوتی ہے
کچھ لمحے زندگی اور موت کو بھول جانے کے لیے
لیکن تمام مصروف لوگ
سنہرے بید سے بنے اپنے کھانے کے کمروں میں
تنخواہی لفافوں اور گھڑیوں کے ساتھ
ایک ایک لمحے کے بخیل ہوتے ہیں
اُن کے دل کی صدائیں
لوہے اور مشینوں کے شور میں ڈوب جاتی ہیں

لیکن جنوبی ہواؤں میں نرم گھاس
سرگوشیوں میں گیت گنگناتی رہتی ہے
جنہیں اُن کے دل فیکٹریوں کے فرش پہ یاد کرتے ہیں

تنہا پرندے
سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں
Categories
تبصرہ

کائناتی گرد میں عریاں شام۔۔ نفسیاتی مطالعہ

کولاج میں پڑھے جانے والے مزید مضامین پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ظہیر احمد ظہیر
ڈارون کے پیش کردہ نظریات نے ابھی انسان کو اپنی تخلیق کے بارے میں تشکیک کا شکار کیا ہی تھا کہ بیسویں صدی میں پھوٹنے والی پہلی جنگ عظیم نے مرکزیت کی جگہ لامرکزیت کا طوفان لا کھڑا کیا۔ ہر طرف لاشیں دیکھنے اور چیخ پکار سننے کے بعد وہ یہ سوال کرنے پر مجبور ہوا کہ خدا کہاں ہے؟ وہ خدا جو انسان کو رنج و الم اور ہر قسم کے مصائب سے تحفظ دیتا ہے۔ عقیدہ پر پڑنے والی اس زوردار ضرب نے انسان کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کر دیا۔
کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھنے کے بعد صرف رنج و الم ہی کیوں بچتا ہے؟ یہ وہ سوال تھا جن کا جواب پانچ سو قبل مسیح میں لکھی جانے والی سوفوکلیس کی تحریروں سے مل سکتا ہے۔ جہاں اس نے انسانی المیے کو پیش کیا، وہیں جنس کی بھی نئی جہتیں متعارف کرائیں۔ جنس، جس کی خاطر دنیا میں انسان نے پہلی بار قتل کیا۔ بیسویں صدی میں فرائیڈ اور کارل جنگ کے اڈیپس اور الیکٹرا پر لکھے گئے مضامین نے سوفوکلیس کے المیوں کی تشریح نفسیاتی سطح پر کی تو انسان جس نے ابھی اپنے اندر جھانکنا شروع ہی کیا تھا، اسے گویا ایک نئی ڈور ہاتھ آ گئی۔ خارج سے داخل کا یہ سفر شروع ہوا تو اسے احساس ہوا کہ اندر کی دنیا باہر کی دنیا سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ مسرت اور غم کے نئے پہلو آشکار ہوئے۔ خود اذذیتی اور خود لذتی کی آگاہی نے انسان کو اس کے وجود اور اس کی ضروریات سے متعارف کروایا۔

 

دوسری طرف جب بنیادی عقیدہ پر شک کی ضرب پڑی تو اس کے ساتھ ہی انسان پر لگائی گئی مذہبی معاشی، معاشرتی اور سماجی پابندیوں پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہوئے۔ انسان نے ان تمام بیڑیوں کو مسترد کرنا شروع کر دیا جو اس کی خوشی کی راہ میں رکاوٹ کا باعث تھیں۔ بنیادی عقائد پر پڑنے والی چوٹ نے جہاں دیگر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا، وہیں ادب پر بھی دور رس نتائج مرتب کیے۔ شاید یہی وہ اثرات تھے جو نظم کی ایک بہت بڑی روات ایپک سے انحراف کا سبب بنے اور نظم کے میٹرز، سٹرکچر اور رائم سکیمز کو یکسر نظرانداز کر کے جدید نظم کی بنیاد رکھی گئی۔ جدید نظم جہاں اپنی ساخت میں روایتی نظم سے منفرد ہے وہیں وہ روایتی اصولوں اور نظریات پرجدید عہد کے انسان کا سوال بھی ہے۔

 

انسان جہاں بھی رہے، اس کے مسائل اور اس کی سوچیں دوسرے انسانوں سے ملتی ہیں۔ انگریزی ادب میں پلنے والی جدیدیت اور وجودیت کی لہر اگر اردو ادب پر اپنے اثرات نہ بھی ڈالتی تو بھی یہاں میرا جی اور راشد جیسے شعرا کا پیدا ہونا ایک فطری امر تھا۔میرا جی اور راشد نے بقول ڈاکٹر رشید امجدکرم خوردہ اخلاق کی جھوٹی قدروں والی خستہ دیواروں کو ڈھانا اور حالیؔ کے سائے میں پلی ہوئی پود کے چہرے سے چھلکا اتارنا شروع کیا۔ درحقیقت یہی وہ شعرا تھے جنہوں نے نظم کو روزمرہ موضوعات اور اخلاقی باتوں سے نکال کر حیات و کائنات کے مسائل سے روشناس کرایا۔انگریزی زبان اور ادب پر ان کی گہری نظر تھی انھوں نے وہاں سے ایک چیز جو بطورِ خاص برآمد کی وہ شعور کی رو کی تکنیک ہے۔جدید نظم کا تجربہ انگریزی ادب سے ہی آیا تھا میرا جی نے اسے ہندوستان کی مقامیت میں گوندھ کر اردو کی مستقل اور جاندار صنف بنادیا۔

 

میرا جی کی نظم کی بنیادی وجہ ان کی محبت میں ناکامی ہے اور اس ناکامی سے پریشان ہو کر وہ جنس میں پناہ لیتے ہیں۔ ان کے ہاں جنس کا تصور کچلا ہوا ہے۔ جنسی ناآسودگی کے سائے ان کی شخصیت اور شاعری دونوں سے نمایاں ہیں۔ جنسی گھٹن کے مظاہر ان کی شاعری میں جا بجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ سرگوشیاں سرسراہٹ اسی قبیل کی نظمیں ہیں۔

 

راشد کی شاعری کی ابتدا اگرچہ میرا جی کی طرح جنس سے نہ ہوئی، مگر انہوں نے جنسی موضوعات کو اپنی شاعری کا حصہ ضرور بنایا۔ جنس کے معاملے میں انہوں نے چونکا دینے والی صاف گوئی سے کام لیا۔ باطنی سطح پر اٹھنے والی جنسی تحریکیں ان کی شاعری میں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کی نظمیں”ہونٹوں کا لمس” “ انتقام” اور” اے مری ہم رقص” جنسی جذبے کی فراوانی سے بھری ہوئی ہیں۔ راشد نے جنس کو شجر ممنوعہ کے درجے سے نکال کر حقیقی مسرت کی بنیاد بنایا۔ مصطفی زیدی کی اپنی محبوبہ شہناز پر لکھی گئی نظمیں بھی جنسی موضوعات کے نئے دریچے وا کرتی ہیں۔

 

فہمیدہ ریاض کا تذکرہ بھی میں یہاں ضروری سمجھوں گا کیونکہ اب سے پہلے نظم میں جنس کا اتنا بے باکانہ اظہار نہ ہوا تھا جتنا فہمیدہ ریاض کی نظموں “لاؤ اپنا ہاتھ لاؤ ذرا” “باکرہ” “ زبانوں کا بوسہ” اور اس جیسی دیگر نظموں میں سامنے آیا۔۔لذت کوشی ان کی نظموں کا بھی خاص موضوع ہے۔ تاہم ان کی جنسی شاعری کا نمایاں وصف نسائیت ہے جس پر چلتے ہوئے وہ انتہائی تلخ ہو جاتی ہیں۔

 

زاہد امروز اسی روایت کا حصہ ہے۔ کائناتی گرد میں عریاں شام زاہد کی نظموں کا وہ مجموعہ ہے جس میں جنس پر لگائی گئی معاشی، معاشرتی، سماجی، اور مذہبی پابندیوں کے خلاف احتجاج شامل ہے۔ ان نظموں میں اذیت کوشی بھی ہے اور خود لذتی بھی۔ رنج بھی ہے اور مسرت بھی۔ جدید شاعر ہونے کے ناطے انہوں نے اپنی نظموں میں ان تمام پابندیوں کو اکھاڑ پھینکا ہے جو ان کے راستے کی رکاوٹ ہیں۔ انسانی ذہن کی گہرائیوں میں جھانکتی ہوئی یہ نظمیں شعور اور لاشعور کی نئی جہتیں تلاش کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے ستعارے نئے اور تازہ ہیں۔ زبان سادہ اور صاف ہے مگر نظمیں جدید انسان کے مسائل کی طرح پیچیدہ۔ بظاہر سادہ نظر آنے والی نظم تہ بہ تہ نئے مفاہیم کھولتی نظر آتی ہے۔

 

زاہد امروز کی نظموں میں لاشعور میں پلنے والی کون سی تحریکیں بیان کی گئی ہیں؟ اس کا جواب خود ان کی اپنی نظموں “میں اسے خشک کپڑے پہننے سے پہلے ملوں” “نیم وحشی دنیا میں عقلمند اجنبی” اور “اس شیطان کو کیسے ماروں جو آدمی کا قتل کرتا ہے” میں موجود ہے۔ان منظومات کے عنوانات ہی اپنی وضاحت آپ ہیں۔

 

میں اسے خشک کپڑے پہننے سے پہلے ملوں میں ان اولیں جذبات کا تذکرہ ہے جو آگے چل کرNeurosis کا باعث بن سکتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے لذت کی نادیدہ جڑیں اگتی ہیں۔ محبوب کو تن برہنہ دیکھنے کی خواہش اور جرم کے افشا ہونے کا خدشہ وہ لاشعوری عوامل ہیں جن کو اگر مناسب راستہ نہ دیا گیا تو وہ کسی بھی لمحے جسم اور روح کے پرزے اڑاسکتی ہیں۔

 

نیم وحشی دنیا میں عقلمند اجنبی بھی انسانی زندگی کی اس Phallic Stageکو ظاہرکرتی ہوئی ایک نظم ہے جہاں ایک انسان اپنی شناخت کے اولین مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ وہ زندگی کے نئے حقائق اور سرشاریوں اور محرومیوں سے آگاہی حاصل کر رہا ہوتا ہے۔ یہ عمر کا وہ حصہ ہے جہاں انسان کو اپنے جسم سے حاصل ہونے والی مسرتوں سے آگاہی حاصل ہونا شروع ہوتی ہے۔

 

میں بالوں سے بھرا اپنا نیم حیوانی جسم دیکھتا ہوں
اور سرد پانی کی جھیل میں نہاتے ہوئے
مچھلیوں سے دوستی کی خواہش کرتا ہے۔

 

“اس شیطان کو کیسے ماروں جو آدمی کا قتل کرتا ہے”۔ یہ نظم اپنے آغاز سے ہی اڈیپس اور الیکٹرا کمپلیکس کی نشاندہی کرتے دکھائی دیتی ہے۔

 

“تبدیلی کا موسم آیا اور مجھ پر بور آگیا”

 

اور اس کے بعد میں آنے والی سطور بھی Phallic Stageکی نمائندہ ہیں جہاں جذبات پہلی بار سر ابھار رہے ہوتے ہیں اور انسان اپنے اور مخالف صنف کے اعضا سے حاصل ہونے والی آسودگی اور تکلیف سے واقفیت حاصل کر رہا ہوتا ہے۔

 

یہ بات تو طے ہے کہ اس کتا ب میں بنیادی مسئلہ آسودگی کا ہے اور وہ بھی جنسی آسودگی۔ لیکن کیا یہ آسودگی محض وحشت کو مٹانے کے لیے اور جسمانی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہو یا ایک ایسی آسودگی جس میں جسم کے ساتھ ساتھ ذین اور روح کی طمانیت بھی شامل ہو۔نظم “جب مجھے لمس کی خواہش ہوتی ہے” میں شاعر نے خود انتہائی واضح الفاظ میں اس خواہش کا بے باکانہ اظہار کیا ہے کہ وہ دوسری قسم کی آسودگی کا خواہاں ہے۔

 

مجھے تمھاری دھوپ میں لیٹنا ہے
ضرورت کے زندہ قبرستان میں تو
میں کئی عورتوں کے ساتھ سو سکتا ہوں
(جب مجھے لمس کی خواہش ہوتی ہے)

 

جدید عہد کا انسان ہر قسم کی پابندی سے آزادی چاہتا ہے۔ اب وہ پابندی چاہے مذہبی ہو، معاشی ہو، معاشرتی ہو یا کچھ بھی ہو، وہ یہ بیڑیاں اپنے پاؤں سے اتار پھینکنا چاہتا ہے۔ آسودگی اس کی خواہش ہے اور اس خواہش کے لیے وہ کسی پابندی کو خاطر میں نہیں لاتا۔ یہاں دو صورتیں ہیں۔

 

اول؛ معاشرتی اور مذہبی پابندیاں اس کے راستے کی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ نتیجتا اس کو اپنی خواہش سے دست بردار ہونا پڑتا ہے۔ یہ دست برداری ایک قسم کی بے بسی ہے جو غصے، بے چینی اور نفرت جیسے جذبات کو جنم دیتی ہے۔

 

دوم؛ اگر وہ تمام پابندیوں کو توڑ کر اپنی آسودگی کا سامان کر بھی لیتا ہے تو اس آسودگی کے اختتام پر دوبارہ وہ نا آسودگی کی منزل پر آن پہنچتا ہے۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ ناکام ٹھہرتا ہے۔
دونوں صورتوں میں اپنی انا اور اپنے غصے کے اظہار کے لیے وہ Ego Defense Mechanismکا سہارا لیتا ہے مثلا دروازے کو زور سے بند کرنا، کسی چیز کو اٹھا کر پھینکنا۔ تلخ الفاظ کا استعمال بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ڈیفنس میکانزم پر لکھی گئی ایک نظم “میرا غصہ کہاں ہے” میں شاعر نے محبوب کی بے وفائی پر پلنے والے غصے کا اظہار جنسی جذبے کے تحت کیا ہے۔ اس نظم کو راشد کی “ انتقام” کے ساتھ رکھا جا سکتا ہے

 

“مجھے بتاؤ
میرا غصہ کس شیر کے بدن میں جھرجھراتا ہے
میری آگ کس عقاب کی آنکھوں میں کپکپاتی ہے
جسے تمھاری ہنسی، تمھارے دل
اور تمھاری دھوکے باز ناف میں انڈیل سکوں

 

جنس انسان کی بنیادی جبلتوں میں سے ایک ہے۔ جنسی آسودگی کو محض جسم کی آسودگی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ ذہنی اور روحانی آسودگی بھی اس میں برابر کی حصہ دار ہیں۔روحانی بالیدگی کے بغیر جسمانی تسکین کا کوئی فائدہ نہیں۔غیر متوقع بچے کی موت ایک ایسے معاشرے میں لکھی گئی نظم ہے جہاں ذہنی آسودگی اور جنسی آسودگی دو الگ موضوعات ہیں۔ دونوں کے الگ الگ معنی اور دنیائیں ہیں۔ یہاں لمس ہمیشہ محبت کو ترستے ہیں اور دو نفوس اپنی وحشت کو نپٹانے کے بعد اگلے پڑاؤ کو روانہ ہو جاتے ہیں۔

 

“یہ ملک بن مانگے بچوں سے بھرا پڑا ہے جن کی ماؤں کو کبھی مخلص مرد نہیں ملا”

 

نظم کی آخری لائن میں لفظ بے ارادہ مدہوشی آسودگی کی صرف ایک سطح کو بیان کر رہا ہے جو صرف جسمانی ہے اور جس میں ذہنی اطمینان کی بجائے کرب اور تکلیف کا عنصر ہے۔ گویا جسمانی ضرورت کو پورا کرتے وقت یہاں ذہنی اور روحانی خوشی کا خیال نہیں رکھا گیا۔
“اس محبت کا کیا مصرف” بھی اسی موضوع پر لکھی گئی نظم ہے جس میں یہ موقف زیادہ واضح انداز میں بیان ہوا ہے۔

 

“ریشمی ارمانوں میں قید بانجھ عورتوں کا کوئی مصرف نہیں
جن کے مردوں نے صرف وارث کے لیے جسم خریدے؟؟
وحشت میں چبائے ناخنوں کا اب کیا مصرف؟

 

انسانی زندگی کا ہر دور ایک نفسیاتی دور ہے جہاں اس کے جسم میں مختلف جنسی تحرکات پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے جیسے انسان بڑا ہوتا ہے، تو جسم کے مختلف حصے ایک مخفی احساس محرومی یا آسودگی کے لحاظ سے اہمیت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں۔ زندگی انہی محرومیوں اور خوشیوں کے گرد گھومتی ہے۔انسانی جسم میں پیدا ہونے والی ایک جنسی تحریک Libido کی افزائش سے ذہنی تناؤ اور اس کے ڈسچارج ہونے سے خوشی پیدا ہوتی ہے۔لبیڈو ڈسچارج ہونے کے لیے ایسے حالات مانگتی ہے جو معاشرے کے لیے اخلاقی لحاظ سے قابل قبول ہوں۔

 

نظم “عریاں شام پہ کتے بھونکتے ہیں” اس معاشرے کا علامتی اظہار ہے جہاں جنس کو ایک ممنوع چیز خیال کیا جاتا ہے۔یہ نظم شعور اور لاشعور کے بابین ہونے والی جنگ کی عکاس ہے۔ لاشعوری تحریکوں کی Gratification ایک معاشرے میں قابل قبول ہو نہ ہو، پھر بھی یہ تحریکیں کسی نہ کسی طور اپنا راستہ نکال لیتی ہیں، فطری نہ سہی، غیر فطری ہی سہی۔ ایسی صورت میں شہر کی آٹھویں منزل پر مدہوش پڑے دو امرد پرستوں کا ملنا کوئی حیران کن بات نہیں۔

 

نظم کے اگلے ہی بند میں دو عورتوں کا تذکرہ بھی ملتا ہے جن میں سے ایک سیاہ برقعے میں اور دوسرے سفید بستر پر عریاں۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے موسم سرما کی خنک آلود رات میں آگ کا الاؤ جل رہا ہو مگر اس کو سینکنے کی اجازت نہ دی جائے۔

 

نظم میں صرف معاشرتی رکاوٹوں کا ذکر نہیں، یہاں اس نقطر نظر کا بھی تذکرہ ہے جہاں نفس کا قتل کر کے راہبانہ صورت اختیار کی جاتی ہے اور انسان کو ایک سرخوشی سے دور رکھا جاتا ہے۔ “ سجدے میں خصیوں کا بوجھ اٹھاتا ہوا آدمی” دراصلCastrationکے ایک عمل کی طرف اشارہ ہے جس کی اذیت سہنے کے بعد Sterilityکے ذریعے شعوری اور لاشعوری تحریکوں کے پر کاٹنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

 

نظم میں استعمال ہونے والے سیاہ اور سفید رنگ بھی انہی تحریکوں کے ترجمان ہیں۔ سفید پر سیاہ لباس پہنتی ہوئی رات اس امر کی طرف اشارہ ہے جہاں ہم حقائق سے نظر چرا کر لاشعور میں پلنے والی امپلسسز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

ڈر، خوف اور شک جنسی آسودگی کی تحریکوں پر کیا اثر ڈالتے ہیں، اس کا اندازہ زاہد کی نظم “قصہ ایک مینڈک کا” سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظم بھی معاشرے کے انہی رسوم و رواج پر ہے جہاں پیدا ہونے والی جنسی تحریکوں کو اپنا راستہ نہی ملتا۔ اس نظم میں جنس کے مرکزی خیال کے پس پردہ ایک ایسی لڑکی کا تذکرہ ہے جو ایک ایسے معاشرے میں رہتی ہے جوMale Dominant ہے۔جہاں مردوں کو آزادی حاصل ہے۔ وہ جس چشمے سے چاہیں سیراب ہو لیں مگر لڑکی معاملے میں ایسا نہیں۔ یہاں مرد جنسی تسکین کے لیے آزاد ہے۔ مگر عورت کے ساتھ ایسا نہیں۔جس مرد کے ساتھ اسے زندگی گزارنا ہے،جیلسی اس مرد کا خاصہ ہے۔ اوتھیلو کو تو صرف بہانہ چاہیے۔ Possessionمیں کسی قسم کا اشتراک اسے پسند نہیں۔ لیکن یہ جیلسی بذات خود اس کے اپنے اندر پوشیدہ ایک چور کی عکاسی ضرور کرتی ہے۔

 

“سب مردوں کی طرح اسے بھی باکرہ لڑکی چاہیے تھی”
“خواہش تھی کہ کسی نے اس کی منگیتر کو چھوا نہ ہو
کسی نے اس کے معبد میں جھانکا نہ ہو”
لیکن عورت اپنے اندر اٹھنے والی موجوں کے مقابل بے بس ہے، دوسری طرف بدنام ہو جانے کا خدشہ۔ نتیجتا
“تبھی وہ اپنے یاروں سے یہ وعدہ کرتی
پردے کے اس پار نہ جانا
چوری پکڑی جائے گی”

 

گویا اس نے اپنے وجود کے گرد جالا بن لیا۔اور اس جالے میں اپنی تمام خواہشوں کا گلا گھونٹ دیا۔ احساس محرومی نے اس کی شخصیت کا جو قلع قمع کیا سو کیا، مگر شوہر خوش تھا کہ پردہ قائم ہے اور عزت دائم ہے۔

 

آگہی ہمیشہ تکلیف دہ کیوں ہوتی ہے؟۔ زاہد امروز نے حقائق کے تکلیف دہ ادراک کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا ہے لیکن یہ موضوع بھی ان کے ہاں جنسی دروازے سے آیا ہے۔ حسین عورت کی خوش حال شادی ایک ایسی نظم ہے جس میں ہمارے معاشرے کے دوہرے معیار کو طنز کا نشانہ بنایا گیا ہے۔جہاں انسانی جبلتوں کو مختلف رسوم و رواج سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔اکیسویں صدی میں بھی ہمارے ہاں شادی کے وقت عورت کی مرضی نہیں پوچھی جاتی۔ نتیجتا دولہا اور دلہن کا ملاپ صرف جسمانی رہ جاتا ہے جسے شہوت کے ایک جوشیلے کھیل سے تشبیہ دی گئی ہے۔

 

دولہا اپنے نشے میں کھیلے
شہوت کا جوشیلا کھیل
اسے نہیں معلوم کہ اس کا
سرد بدن سے میل

 

یہ ان جذبات کی کہانی ہے جب رخصتی کے وقت ایک دلہن بظاہر اپنے ماں باپ سے بچھڑنے کے دکھ پر رو رہی ہوتی ہے،لیکن لاشعوری سطح پر ان آنسوؤں کے پیچھے کئی دوسرے عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ عمر بھر کی جمع پونجی اور کمائی کے لٹنے کا غم اپنی جگہ پر مسلم، لیکن کہیں کسی کونے میں کسی دوسرے شخص کے خواب بھی اس سیلاب کا باعث ضرور ہوتے ہیں۔ لڑکی بیٹی سے بہو بن جاتی ہے، دلہن بن کر بیٹھ جاتی ہے لیکن اس کا جسم سرد ہے۔ زندگی نام کی کوئی شے اس میں موجود نہیں کیونکہ شہوت کے اس جوشیلے کھیل میں نہ تو اس کا دل ملوث ہے اور نہ دماغ۔ شعوری سطح پر اس کا جسم موجود ہے مگر لاشعوری سطح پر وہ کسی اور کے خواب میں اپنے کپڑے اتار دیتی ہے۔

 

ابتر معاشرتی حالات جہاں زندگی کے دیگر شعبوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، وہیں وہ جنسی آسودگی راہ میں بھی بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔شہری روشنیوں میں وحشی خواب ایک ایسے شخص کا قصہ جو غم دوراں سے گھبرا کر جنس میں پناہ لینا چاہتا ہے مگر عین وقت پر کسی بم دھماکے کی آواز اس کی سوچوں کو منتشر اور منحرف کر دیتی ہے۔ اس نظم میں بھی شدید ذہنی کرب ہے۔ ایک ہیجان ہے جو کسی طور کم نہیں ہو رہا۔ اپنے ہم وطنوں کے دکھ اس شخص کوذہنی کرب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ وہ شخص نہ تو ان سے پیچھا چھڑا سکتا ہے اور نہ ہی ان کو حل کر سکتا ہے۔ اسی ادھیڑ بن میں اس کی اپنی شخصیت کا استحصال ہونا شروع ہوتا ہے اور وہ لڑکھڑاتا ہوا اپنے محبوب کے بدن میں جا گرتا ہے۔

 

میں تمام راستوں سے اپنا تعاقب کرتا ہوں
اور خواب لیے تمھارے بدن میں کود جاتا ہوں

 

جنسی تلذذ اسے زندگی کے مسائل سے دور اک جنت میں لے جاتا ہے جہاں اس کی سوچوں کا منتشر پن مجتمع ہونا شروع ہوتا ہے۔ نظم کا دوسرا بند اسی آسودگی و اطمینان کا نمائندہ ہے جو شاعر کو جنس سے حاصل ہے۔، ایک شانتی کا بار بار چومنا۔ روشنی کا بانہوں میں بھرنا، کوئی سمت اجنبی نہ ہونا۔ محسوس ہوتا ہے جیسے جنسی اطمینان تمام مسائل کا حل ہے۔ لیکن عین وقت پر ہونے والا دھماکہ شاعر کو دوبارہ اسی ذہنی کرب میں مبتلا کر دیتا ہے جہاں سے وہ چلا تھا۔ ایکسٹیسی کے عین عروج پر توجہ کا منحرف ہونا ایک ناقابل بیان ذہنی فالج اور نفسیاتی عارضے کا جنم دیتا ہے جس کو ظاہر کرنے کے لیے شاعر نے یہاں قبر اور وحشی خواب جیسے استعاروں کا سہارا لیا ہے۔ جدید عہد کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ انسان زیادہ دیر ایک کیفیت میں نہیں رہ سکتا۔ اور کیفیات کی یہی جلد تبدیلی اس کی شخصیت کی توڑ پھوڑ کی بھی ذمہ دار ہے۔

 

زاہد امروز کی نظموں پر اٹھنے والے ممکنہ سوالوں میں سے ایک بے باکانہ اظہار کا سوال بھی ہے۔ تاہم اس کے لیے ہمیں اردو ادب کی شعری روایت میں میرا جی، راشد، فہمیدہ ریاض اور کشور ناہید وغیرہ جبکہ نثری ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی کے نام کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ کلاسیکی شاعری میں میر جعفر زٹلی کا نام بھی اس حوالے سے ایک پیمانہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر یہ تمام نام اس الزام کی زد میں آتے ہیں تو زاہد کی شاعری میں میر جعفر زٹلی جیسا اظہار نہ سہی، لیکن راشد اور میرا جی سے کہیں زیادہ بے باکی موجود ہے، اور اگر اس روایت کو راستہ دیا جاتا ہے تو پھر یقینا زاہد داد کے مستحق ہیں۔

 

اس سے قطع نظر کہ اس کتاب کا اردو کی جنسی روایت میں کیا مقام ہو گا،انسانی ذہن کی گہرائیوں میں جھانکتی ہوئی نظمیں پڑھ کر یہ بات حتمی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ یہ کتاب جدید نسل کے نفسیاتی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
Categories
شاعری

قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

قومی قاتلوں کے لیے سپاس نامہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

چاروں جانب اُمڈی تاریکی میں
ہم کتنے دن زندہ رہ سکتے ہیں؟
یہ وطن ہنسی کی گود نہیں
کسی قاتل کا وحشی بدن ہے

 

درد مٹنے سے پہلے پہلے
ہمیں ایک بار پھر بانٹ دیا جائے گا
جتنا جلد ہو سکے
ہمیں اپنے بچوں کو کھلونے خرید دینے چاہئیں
اپنی بیویوں اور محبو باؤں سے آخری مباشرت کر لینی چاہئے

 

چہرے کے لمبے بالوں سے
جب سوچوں کو باندھ دیا جائے گا
تو عقیدوں میں چرتی معصوم روحوں کی چیخیں
ہماری مسکراہٹیں لہولہان کر دیں گی

 

خواب بکھرنے کی آواز
ہماری نیندوں کی خاموشی تار تار کر ڈالے گی
اور ایک اند ھی صبح کے کنارے
بے رنگ دھوئیں میں تیرتے ہوئے
ہم زندگی سے ہار جائیں گے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]
[vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں
لیکن دنیا!
جب تو کووّں کی آواز میں گاتی ہے
چڑیوں کی چہکار کا رنگ
ترے کپڑوں پر مدہم پڑ جاتا ہے
تیرے چہرے کی جھریوں میں
مَیں کرنیں گوندھنے آتا ہوں
تو دھوکے سے جلتا سورج میری جیب میں رکھ دیتی ہے
مخمور ہوا کی دھیمی آہٹ میں جب شام ٹہلتی ہے
میں تیرے ساتھ لپٹ کر
تیرے جُوڑے میں مہکے مہکے پھول سجانا چاہتا ہوں
لیکن تو چہرے پہ غلاظت مل لیتی ہے
تو اپنی عیّار ہنسی سے
شفاف دلوں کی ننھی خوشیاں ڈس لیتی ہے

 

چم چم کرتی بھری بھرائی دنیا!
تیری سنگت بڑی ہی ظالم دشمن ہے
میں تجھ کو گلے لگا لوں لیکن
تیری قبا میں پوشیدہ ہے
سب چوری کا مال
تیری جھلمل سطح کے نیچے
پھیلا ہے مایا کا جال

 

اگر ترے سینے کی گولائیاں
گوتم کےَ سر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]