Categories
شاعری

چیزیں جب کھو جاتی ہیں (عذرا عباس)

چیزیں جب کھو جاتی ہیں
انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتی ہوں
جو شامل ہو جاتی ہیں ان چیزوں میں
جو بہت پہلے کھو گئیں تھیں
مجھ سے خفا ہو کرغائب ہو گئیں تھیں
نہیں آتی ہیں یہ میرے سامنے
مرے ہوئے لوگوں کی طرح
میں اداس ہوتی ہوں اور انھیں
ان مرے ہوئے لوگوں میں شامل کر لیتی ہوں
دانستہ یا نا دانستہ
ان کی یاد کو کھرج دیتی ہوں
اپنی بہت سی یادوں میں سے
نہیں آئیں یہ میرے سامنے
تو نہیں آئیں
وہ بھی تو اب کبھی نہیں آئیں گے
جو چلے گئے
کبھی نہیں آنے کے لئے

Categories
شاعری

میرا سایہ

میرا سایہ اب سورج کے عکس کے ساتھ
زمین پر نہیں گرتا
میرا نام لے کر
مجھے کوئی نہیں پکارتا
کھانا تقسیم ہوتے ہوئے
میرے حصے کی پلیٹ
میرے آگے نہیں رکھی جاتی
شور میں
میری آواز سنائی نہیں دیتی
جب جرم ہوتا ہے
ملزموں کی فہرست میں
میرا نام نہیں لکھا جاتا
کوئی دعوت نامہ
میرے نام نہیں آتا
قطار میں کھڑے ہوئے لوگوں میں
مجھے شمار نہیں کیا جاتا
میری چاپ
کسی کو سنائی نہیں دیتی
لیکن جب کبھی
کوئی مجھے کہیں دیکھ لیتا ہے
میرے سینے میں
چھرا گھونپ دیتا ہے

Categories
شاعری

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے
وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے گئے
مارنے والوں کے ہاتھ گوشت پوست کے کب تھے
کیا تھے؟
ہاں، لوگ کہتے ہیں
وہ خون پینے والے جنگلی جانوروں کے پنجوں سے ملتے جلتے تھے
یہ آتے کہاں سے
جنگل سے؟
یہ بھوکے ہیں کیا؟
انسانی جانوں کے
ہاں
کسی نہ کسی شکل میں
لیکن کب تک
پتہ نہیں یہ چھوڑ دئیے جاتے ہیں
ہر موسم میں
کون چھوڑتا ہے ان کو
وہ جو زندہ رہنا چاہتے ہیں
انسانی جانوں کے بل بوتے پر
ان کی قبریں ترس رہی ہیں ان کے لئے
کب ان کےپیٹ پھٹیں گے
کب یہ ان کو بھریں گے
اب تو ان کی قبروں پر
کتے بلیوں نے پیشاب کرنا بھی چھوڑ دیا ہے
وہ جاننے لگے ہیں
یہ قبریں ان کی منتظر ہیں
جو انسانوں کا گوشت کھاتے ہیں
ان کے بچوں کا خون پیتے ہیں
موت بھی ان کا پیچھا نہیں کرتی
وہ جانتی ہے
اللہ نے ان کی رسی دراز کی ہوئی ہے
لیکن کب تک
یہ جشن منائیں گے
آخر کب تک
Image: Miream Salameh

Categories
شاعری

نفرت بھیانک خواب کی طرح ہماری نیندوں میں آتی ہے

میں انھیں گالی نہیں دینا چاہتی
جو جھوٹ کی کھٹیا پر
پاؤں پسارے پڑے ہیں
میں ان پرنفرت سےتھوک بھی نہیں سکتی
اس بڑھتی ہوئی جوکروں کی آبادی روکنے ٹوکنے کا
میں نے کوئی ٹھیکہ تو نہیں لیا
وہ زمین جس نے مجھےجوان ہوتے ہوئے دیکھا
اور اس پر تنا آسمان جو میرے تنے ہوئےاعضا کو
کمزور درخت کی طرح جھولتے ہوئےدیکھ رہا ہے
میرے پاؤں کے نشان کہاں کہاں پڑے ہونگے
میرے خواب کن کن بادلوں میں آنکھ مچولی کھیل رہے ہوں گے
کوئی نہیں جانتا
یہ تو میں بھی نہیں جانتی
بس آنکھ کھولنے اور بند ہونے کے دورانیے میں
جو دیکھا تو صرف نفرت کو پنپتے ہوئے
نفرت جو ایک بھیانک خواب کی طرح روزہماری نیندوں میں آتی ہے
روز ہمیں اپنے ساتھ لےجاتی ہے
اس ٹریننگ میں شامل ہونے کے لئے کہ ہم بھی نفرت کے بغل بچے بن جائیں
اور اس زمین پر اندھادھند خون کی ہولی کھیلیں

Image: Caroline Durieux

Categories
شاعری

زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے

فسا د کے پھیلاؤ میں
زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے
پاؤں کے نیچے آ جانے والے پتے

زندگی کہاں ہے
سہمی ہوئی
ٹھٹھری ہوئی
زندگی نہیں جانتی نشانے پر کون ہے
چھپنے کی کوئی جگہ نہیں ہے
ہے تو بس کھلا آسمان
فساد کا پھیلاؤ اپنی چادر تان رہا ہے
جنگل !
وہ بھی آنکھیں موندیں پڑا ہے
اس کے جانور
وہ تو پہلےہی بھاگ نکلے ہیں
جنگل نہیں جانتا کہاں گئے
بس
زندگیوں کو فساد کے پاؤں تلے کچلنے کی آوازیں سن رہا ہے
آنکھیں موندے
اس کے جانور کہاں گئے؟
وہ نہیں جانتا

Categories
شاعری

دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو

دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو
ان عورتوں کو
جنہوں نے اپنے بیٹے کھوئے ہیں
جنہوں نے اپنے بچے کھوئے ہیں
اور ان کو ایک دائرے میں بیٹھا دو
اور انہیں رونے کی اجازت بھی دے دو
پھر دیکھو
تمھیں کان پڑی آوازبھی سنائی نہیں دے گی
ان کے بین مل کر جو آواز پیدا کریں گے
وہ تم کو بہرا کردیں گے
ان کے آنسو سیلاب بن کر تمہیں بہا لے جائیں گے
روک دو اب یہ سب جو تم کر رہے ہو
روک دو
اب یہ تماشہ جو تم دنیا کے ٹھیٹر پر کھیل رہے ہو
بہت ہو گیا
کیا تم چاہتے ہو کہ سمندر تم پر چڑھ دوڑے
اور بہا لے جائے اس دنیا کو
پھر تم کہاں جاؤ گے
کیا کوئی خدا تم نے اپنے زور سے خرید لیا ہے
اگر ایسا ہے
کہ خدا کو خریدا جا سکتا ہے
پھر تو سب ایسا ہی چلتا رہے گا
یہ عورتیں ایسے ہی بین کرتی رہیں گی
اور کھوتی رہیں گی
اپنے بچے
اور روتی رہیں گے ایک آواز میں
ایک ایسی آواز میں
جو ایک دن آسیب بن جائے گی
اور تمھارا خریدا ہواخدا بھی اس کی دہشت سے کانپ رہا ہو گا
Image: Käthe Kollwitz

Categories
شاعری

تمھاری تجارت چلتی رہے

سستے داموں بیچتے رہے تم ہمارے خواب
انھیں تم ایک ٹھیلے پر لئے لئے پھرتے ہو
جب ہم بسوں میں دھکے کھاتے ہوئے
اپنی کتابوں کو سینے سے لگائے لگائے
پھرتے تھے
اور آج بھی پھرتے ہیں
تمھاری تجارت
ناف کے اوپر اور ناف کے نیچے
ہولناک آسیب کا شکار ہو گئی ہے
جس میں ہماری خوابوں کے سودے کی باتیں ہوتی ہیں
ہم نہیں جانتے
ہمارے خواب کب چھین لئے جاتے ہیں
ہم منہ بولی اخلاقیات کے بچھونے میں
منہ چھپا کر سونے کے عادی بنا دئیے گئے
آج ہماری کتابیں دیمک نے سنبھال کر رکھی ہیں
اور ہمارے خواب
تم منہ بولی اخلاقیات کے ساتھ
اپنے اپنے ٹھیلوں پر رکھے پھر رہے ہو
تاکہ ناف کے اوپر اور ناف کے نیچے
تمھاری تجارت چلتی رہے

Categories
شاعری

ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی
وقت تشدد کی چوکڑی بھرتا ہوا
ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
کبھی ہمارے دو ٹکڑے کرتا ہوا
کبھی ہمیں گھسیٹتا ہوا
کسی ایسی جگہ پھینک کر چلا جاتا ہے
جہاں ہم کبھی نہیں گئے
کبھی نہیں گئے
شاید ان خوابوں میں
جو ہمیشہ نیند سے چمٹے ہوئے ہیں
اور ہماری آنکھوں کو کھلنے نہیں دیتے
ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

Image: Daehyun Kim

Categories
شاعری

محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے
محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے
صبح اٹھتے ہی زد کر تی ہے
اور مجھے دھونس دیتی رہتی ہے
اگر ایسا نہیں کیا
تو میں نفرت سے دوستی کر لوں گی
اور یہ دل جو ایک کونے میں سکڑا پڑا ہے
فریاد کرتا رہ جائے گا
مجھے اس پر ترس آتا ہے
تم جلدی سے میرا زائچہ نکالو
اور دیکھو
مجھے کب تک تمہارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
کب تک میں تمہاری قید جھیلوں گی
ہر چیز کی انتہا ہوتی ہے
مجھے اب اس خول میں نہیں رہنا
مجھے جانے دو
Categories
شاعری

ایک باپ کے آنسو

ایک باپ کے آنسو
ایک باپ کے آنسو
ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے
اس میں ہم اپنے آنسو بھی ملاتے جائیں گے
ایک ماں کے آنسو جن کے ہم ذمہ دار نہیں
ان کو سمیٹنے کے لئیے
ہم خدا سے کہیں گے
اب ان آنسوؤں کی رکھوالی تجھےکرنا چاہئیے
اگر نہیں
تو یہ سمندر بھی بن سکتے ہیں
پھر تیری بنائی ہوئی اس دنیا کو
نوح کی کشتی بھی میسر نہیں ہوگی
پھر کیا ہو گا؟
پھر کیا ہونا چاہئیے

Image: BBC Urdu

Categories
شاعری

وقت کے کینوس پر ہماری تصویریں

وقت کے کینوس پر ہماری تصویریں
وقت نے اپنے کینوس پر بنا لی ہیں ہماری تصویریں
کچھ تو بارش میں رکھ کر بھول گیا
واٹر کلر پانی کی وارفتگی سے چہروں پر دھاریاں چھوڑ گیا
لیکن سننے میں آئیں ہیں
وقت کی مکاریاںشاید دوبارہ بنا لے
لیکن اس سے بھی کیا ہوتا ہے
اگر ہمارے نقوش
اس کی یاد داشت میں گم سم ہو گئے
اور اس نے ہماری آنکھیں کسی اور کی ناک پر لگا دیں
اورکسی کے ہونٹ تمھارےابر و کےساتھ جوڑ دئے
تو کیا اس کی مضحکہ خیز ادائیں
ہمیں بھی اپنا چہرہ ڈھونڈھنے پر مجبور نہ کردیں
وقت کا کیا ہے
وہ تو چلتا بنے گا
لیکن ہم اپنے چہرے کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے
Categories
شاعری

آؤ گِنیں کتنے مارے گئے

youth-yell

آؤ گِنیں کتنے مارے گئے
آؤ گِنیں
کتنے مارے گئے
کتنے شہید ہو گئے
کتنے غازی
جو شہید نہیں ہوئے اب کہاں جائیں گے
کیا مارنے والے بھی شہید ہوگئے
دوسری طرف سے تو یہی کہہ کے انھیں بھیجا گیا تھا
اور وہ جو مر جاتے تو کتنا اچھا ہوتا
وہ جو اب لنگڑے لولے ہو کر اندھے ہو کر
جب تک زندہ ہیں
کیسی جہنم سے لبریز زندگی گزاریں گے-
آؤ ہاتھ اُٹھا کر دعا کریں
ان کے لئے جنت میں جگہ خالی رہے
Categories
شاعری

ظلم کے منہ کو خون لگا ہے

ظلم کے منہ کو خون لگا ہے
وہ پاگل کتوں کی طرح اپنی زنجیروں سے باہر ہے
یا باہر کیا گیا ہے
یہ کون جانتا ہے کس نے کیا ہے
شہر میں منادی ہے
ظلم کے سر کی قیمت رکھی گئی ہے
کوئی جانتا ہے؟
سب جانتے ہیں
ظلم کی گرد ش گلی کوچوں میں دندنا رہی ہے
اختیارات کی رسموں کے دورانیے میں
یہ عہد کیا جاتا ہے

ظلم کو کچھ نہ کہنا
ایک مکاری ان کے چہروں پر ہوتی ہے
جو جانتے ہیں ظلم کی پناہ گاہیں
مکار لظو ں کو باہر کرتے ہوئے
ان کے منہ سے تھوک برآمد ہوتا ہے
جو ان ہی کےچہروں پرچھنٹیں اڑا تا ہے
ا ور ان کے دل اس خوف سے ان کے حلق میں اٹک جاتے ہیں
کہیں ظلم سن تو نہیں رہا
ظلم ان کے ہاتھوں پلا ہوا
اب ایک پاگل کتاہے
Categories
شاعری

ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں

ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں
ہمارے ہاتھ ایک بار پھر گھاس کاٹنے پر لگا دئیے گئے
ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں
ہمیں پھر جوتا جائے گا مال بردار گدھوں کے ساتھ
ہمارا خون چوسنے کے لئے
ہر ملک سے جونکیں جمع کی جا رہی ہیں
آبادی میں کمی ہو یا زیادتی
بھوک کو ٹھیکہ دیا جا چکا ہے
بد گوئی کی نیت ان کی جیبوں میں بھری جا چکی ہے
فریب کی کوئی شکل نہیں ہے
سوائے وہاں ،جہاں ان کے نرخرے
اپنی آوازوں سے ہمیں بہلاتے ہیں
اور ہم سے کہتے ہیں تیار ہو جاؤ
قیامت قریب ہے
تم یہ نہیں پوچھنا وہ کون ہیں
یہ تو ہم بھی نہیں جانتے
شاید یہ ہماری کنڈلی بنانے کے لئے
اپنے اپنے فٹ پاتھوں پر بیٹھے ہیں
اور ایک دوسرے سے سبقت لے جانا چاھتے ہیں

Image: Pawel kuczynski

Categories
شاعری

محبت کے بغیر کون جیتا ہے

محبت کے بغیر کون جیتا ہے
دیکھو ڈھونڈو اسے
بچوں کے جوتوں کے تسموں میں
وہ رُل رہی ہو گی ان کی بھاگ دوڑ میں مٹی میں
ہا ں ہاں اور آگے جاؤ
سمندر کے کنارے ریت میں منہ چھپائے پڑی ہو گی
چھپ گئی ہو گی کسی سیپی کے پیٹ میں
یا کسی گھونسلے میں
چڑیا کے بچوں کےننھے پروں میں
اور آگے چلو آگے
جہاں زبردستی حاملہ کی ہوئی عورت کے پیٹ میں کلبلا تی ہوئی زندگی سے چمٹ گئی ہو گی
میں کہتی ہوں ڈھونڈو
کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے
دہشت گردی کا کفن زیب تن کئے ہوئے
تم نہیں جانتے
ابھی وہ ایک کنواری کے چنٹ دار دوپٹے سے کھیل رہی تھی
اور جھولے میں پینگے لیتے بچوں کے قہقہوں میں
ابھی وہ میرے دل میں تھی
وہ تمہارے دل میں بھی تھی
اور تمہارے بھی
ڈھونڈو میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی
محبت کے بغیر کون جیتا ہے