چیزیں جب کھو جاتی ہیں (عذرا عباس)

چیزیں جب کھو جاتی ہیں انھیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتی ہوں جو شامل ہو جاتی ہیں ان چیزوں میں جو بہت پہلے کھو گئیں تھیں مجھ سے خفا ہو کرغائب ہو گئیں تھیں نہیں آتی ہیں یہ میرے سامنے مرے ہوئے لوگوں کی طرح میں اداس ہوتی ہوں اور انھیں ان مرے ہوئے لوگوں میں […]
میرا سایہ

عذرا عباس: لیکن جب کبھی
کوئی مجھے کہیں دیکھ لیتا ہے
میرے سینے میں
چھرا گھونپ دیتا ہے
وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

عذرا عباس: وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے
وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے گئے
مارنے والوں کے ہاتھ گوشت پوست کے کب تھے
کیا تھے؟
نفرت بھیانک خواب کی طرح ہماری نیندوں میں آتی ہے

عذرا عباس: آنکھ کھولنے اور بند ہونے کے دورانیے میں
جو دیکھا تو صرف نفرت کو پنپتے ہوئے
نفرت جو ایک بھیانک خواب کی طرح روزہماری نیندوں میں آتی ہے
زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے

عذرا عباس: فسا د کے پھیلاؤ میں
زندگی درختوں سے گرتے پتوں سے بدتر ہے
پاؤں کے نیچے آ جانے والے پتے
دنیا کی تمام عورتوں کو جمع کرلو

عذرا عباس: یہ عورتیں ایسے ہی بین کرتی رہیں گی
اور کھوتی رہیں گی
اپنے بچے
اور روتی رہیں گے ایک آواز میں
ایک ایسی آواز میں
جو ایک دن آسیب بن جائے گی
اور تمھارا خریدا ہواخدا بھی اس کی دہشت سے کانپ رہا ہو گا
تمھاری تجارت چلتی رہے

عذرا عباس: ہم نہیں جانتے
ہمارے خواب کب چھین لئے جاتے ہیں
ہم منہ بولی اخلاقیات کے بچھونے میں
منہ چھپا کر سونے کے عادی بنا دئے گئے
ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
محبت اپنا زائچہ نکلوانا چاہتی ہے

اور دیکھو
مجھے کب تک تمھارے ساتھ رہنا ہے
تم کب تک مجھے گھسیٹو گی
ایک باپ کے آنسو

ہم ٹشو پیپر میں رکھ چھوڑیں گے
اور اسے کبھی سوکھنے نہیں دیں گے
وقت کے کینوس پر ہماری تصویریں

وہ تو چلتا بنے گا
لیکن ہم اپنے چہرے کی تلاش میں مارے مارے پھریں گے
آؤ گِنیں کتنے مارے گئے

ان کے لئےجنت میں جگہ خالی رہے
ظلم کے منہ کو خون لگا ہے

وہ پاگل کتوں کی طرح اپنی زنجیروں سے باہر ہے
یا باہر کیا گیا ہے
ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں

ہمارے ہاتھوں کا کوئی معاوضہ نہیں
ہمیں پھر جوتا جائے گا مال بردار گدھوں کے ساتھ
ہمارا خون چوسنے کے لئے
محبت کے بغیر کون جیتا ہے

وہ تمہارے دل میں بھی تھی
اور تمہارے بھی
ڈھونڈو میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی
محبت کے بغیر کون جیتا ہے