محبت تمہارے لیے تھی ہی نہیں (نصیر احمد ناصر)

کیا تمہارے لیے
محبت کھلا دروازہ نہیں تھی
محبت کا سائیڈ پوز (نصیر احمد ناصر)

اداسی محبت کا سائیڈ پوز ہے
تم میری یادوں سے نہیں بچ پاؤ گے! (نصیر احمد ناصر)

دوستو! اب میرے پاس بچا ہی کیا ہے
ایک خواب اور تھوڑی سی تنہائی
خواب دیکھنے سے پہلے اور دیگر نظمیں (نصیر احمد ناصر)

زمین کے بیضوی سرے سے پھسل کر
محبت قریبی بلیک ہول میں گر گئی ہے!
محبت کے سیارے سے آخری پیغام (نصیر احمد ناصر)

تم تک کب پہنچیں گے
میری نظموں کے سگنل!
میں کچھ نہیں جانتا (نصیر احمد ناصر)

میں نے کبھی نظموں کا پیچھا نہیں کیا
لیکن جانتا ہوں
لفظ کہاں سے آتے
اور کہاں گم ہو جاتے ہیں
چائے خانہ میں ۔۔۔۔۔ نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر: چائے خانہ میں
ہم روز ملتے ہیں
اگلے دن پھر ملنے
اور جدا ہونے کے لیے
محبت کبھی ضائع نہیں جاتی — نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر: ایک بار لگ جائے
تو زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتی
ہے کوئی لینے والا ‑نصیر احمد ناصر

نصیر احمد ناصر: میرے پاس بہت سی دھوپ ہے
اور بہت سی چھاؤں
اور جب تم دیکھو ۔۔۔۔۔۔ (نصیر احمد ناصر)

اور جب تم دیکھو کہ رات معمول سےطویل ہو گئی ہے اور سورج طلوع ہونے کا نام نہیں لے رہا تو تم صبح کی واک ملتوی کر دینا اور پورچ کی گُل کی ہوئی بتیاں پھر سے روشن کر دینا اور جب تم دیکھو کہ ہوا ہموار راستوں پر چلنے سے گھبرانے لگی ہے اور […]
مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے ایک راستہ چاہیے جو پاؤں سے نہیں دل سے نکلتا ہو مجھ تک آنے کے لیے ایک دروازہ چاہیے جو ہوا کی ہلکی سی لرزش سے کھل سکتا ہو اور ایک کھڑکی جس سے دھوپ اندر آ سکتی ہو مجھ تک آنے کے لیے سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے کی ضرورت […]
نظم کہانی (نصیر احمد ناصر)

کہانی کار! تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں ہوا کو سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے میں نے کئی بار کھڑکی سے باہر جھانکا اداسی بہت دبیز تھی مگر میں جانتا ہوں کہ راستے ترتیب دیتے ہوئے آنکھیں ہمیشہ مصلحت کے غبار میں گم ہو جاتی […]
خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا خود کش حملوں کے خوف سے اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے خدا واحدِ حقیقی ہے اسے کیا پڑی ہے کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر جوتوں اور […]
جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے اور ہم دیکھ سکتے ہیں ایک دوسرے کو دکھ میں اور خوشی میں اور مِل سکتے ہیں شام کی چائے یا ڈنر کے امکان پر میں اُس وقت کا سوچتا ہوں جب ہمارے درمیان ایک رات بھی نہیں رہے گی تب ہم کیا کریں گے؟ کہاں طلوع ہوں گے؟ Iamge: Eugenia […]
ابدی کھیل (نصیر احمد ناصر)

وقت کے نورانیے میں تہذیبیں زوال کی سیاہی اوڑھ لیتی ہیں لیکن اکاس گنگا کے اَن گنت اَن بُجھ ستارے لُک چُھپ لُک چُھپ کھیلتے رہتے ہیں!! Image: Suzanne Wright Crain