Categories
شاعری

محبت تمہارے لیے تھی ہی نہیں (نصیر احمد ناصر)

کیا تمہارے لیے
محبت کھلا دروازہ نہیں تھی
جس سے تم ہوا کی طرح
آسانی سے گزر جاتے
کیا تمہارے لیے
محبت کھڑکی نہیں تھی
جس سے تم
باہر کی طرف دیکھ سکتے
اور جان سکتے
کہ سورج کیسے طلوع ہوتا ہے
چاند کتنا روشن ہے
ستارے کتنے زیادہ ہیں
اور رات کتنی گہری ہے
کیا تمہارے لیے
محبت راستہ نہیں تھی
جس پر تم چل سکتے
اور پہاڑوں کے ابھرے ہوئے سینوں
گھاٹیوں، نشیبوں
اور جنگلوں کی سبز تاریکیوں
اور ہموار میدانوں کی
طویل و عریض پہنائیوں میں
تمہارے نقوشِ پا
کبھی نہ ملنے والی منزلوں کے گیت لکھتے
کیا تمہارے لیے
محبت دریا نہیں تھی
جس کے ساتھ تم
صدیوں اور زمانوں کی طرح بہتے
اور کشتیوں اور کناروں کو
الوداع کہتے ہوئے
ابدیت کے پانیوں سے جا ملتے!

Categories
شاعری

محبت کا سائیڈ پوز (نصیر احمد ناصر)

زندگی کی سیڑھیوں پر بیٹھے
باتیں کرتے ہوئے
ہم دیکھتے ہیں
کہ وقت کیسے لڑھکتا بھاگتا گزر جاتا ہے
اور نہیں جانتے
محبت ہونے میں
ایک لمحہ لگتا ہے
یا عمریں صرف ہوتی ہیں
لیکن اتنا جانتے ہیں
جب محبت ہوتی ہے
تو ہم گملوں میں پھول اگانے،
تصویریں بنانے،
شاعری کرنے،
انجان دیسوں کا میوزک سننے
اور درد کی آواز پہچاننے لگتے ہیں
اور خدا محبت کرنے والے دلوں میں
راستے بناتا
اور بند شریانیں کھولتا ہے
اور محبت سے اٹھے ہاتھوں کو تھام لینا
اظہار کا سب سے خوبصورت کنایہ ہے
اور جو نہیں جانتے
وہ محبت کو کبھی نہیں جان پاتے
یہ سچ ہے
کہ ڈب کھڑبی کائنات میں
سیدھا کچھ نہیں
لیکن یہ بھی سچ ہے
محبت میں جھوٹ نہیں ہوتا
بس یوں سمجھو
محبت دستک دے کر نہیں آتی
یہ ہوا کی طرح آتی
اور بادلوں کی طرح برستی ہے
اور سب کچھ دھو ڈالتی ہے
روحوں تک کو نچوڑ دیتی ہے
اداسی محبت کا سائیڈ پوز ہے
اسی لیے
محبت کرنے والوں کو اچھی لگتی ہے
اور جابجا چھائی رہتی ہے!

Categories
شاعری

تم میری یادوں سے نہیں بچ پاؤ گے! (نصیر احمد ناصر)

دوستو! اب میرے پاس بچا ہی کیا ہے
ایک خواب اور تھوڑی سی تنہائی
تم وہ بھی چھین لینا چاہتے ہو
افسوس کہ تم نہیں جانتے
خود فریبی کا کوئی انت نہیں ہوتا
یہ جہاں سے شروع ہوتی ہے
وہیں پر ختم ہو جاتی ہے
میں نے اپنے ایک خواب اور تھوڑی سی تنہائی کے ساتھ
زندہ رہنا سیکھ لیا ہے
تمھیں پتا ہی نہیں چلے گا
اور میں ایک خواب سے نکل کر
دوسرے خواب میں داخل ہوتا رہوں گا
اور زندہ رہوں گا
ہر زمانے کی اسطورہ کے ساتھ
میں زندہ رہوں گا
پھولوں اور پودوں میں
پہاڑوں، آبشاروں اور جھیلوں میں
نیلی گھاس کے رقبوں،
گلیوں میں کھیلتے بچوں
اور لکیروں کی طرح پھیلے ہوئے راستوں میں
اور سب سے بڑھ کر
تم پر حملہ آور ہونے والی سفاک یادوں میں!!

Categories
شاعری

خواب دیکھنے سے پہلے اور دیگر نظمیں (نصیر احمد ناصر)

خواب دیکھنے سے پہلے

خواب دیکھنے سے پہلے
میں نے سونے سے انکار کر دیا تھا
اس جرم کی پاداش میں
تا بہ حیات
میری نیند اُڑا دی گئی!

خواب دیکھنے سے پہلے
میں نے کھڑکیاں کھول دی تھیں
تاکہ نیند میں
دَم گھٹنے کی اذیت سے بچ سکوں
اس جرم کی پاداش میں
میرے گرد
شیشے کی دیواریں کھڑی کر دی گئیں

خواب دیکھنے سے پہلے
میں نے پنجرے میں قید
پرندوں کو آزاد کر دیا تھا
اس جرم کی پاداش میں
میرے گھر کے سارے درخت کاٹ دیے گئے!

خواب دیکھنے سے پہلے
میں نے خواب دیکھنا
اور درخت لگانے سے پہلے
ان کی چھاؤں میں بیٹھنا شروع کر دیا تھا
اس جرم کی پاداش میں
میری آنکھوں میں
ہمیشہ کے لیے دھوپ بھر دی گئی!

دھوپ کے بغیر سائے

دنیا اتنی ناخواندہ نہیں
کہ ایک نظم نہ پڑھ سکے
زمین اتنی بھاری نہیں
کہ ہم اسے اٹھا ہی نہ سکیں
اور آسمان اتنا ہلکا نہیں
کہ اسے چادر کی طرح تان لیا جائے
اور تم محبت کو اتنا آسان مت سمجھو
یہ کسی بھی طرح
ہمارے لیے نہیں بنائی گئی
دیکھتے نہیں
ہمارے جوتوں سے ہوائیں بندھی ہوئی ہیں
اور ہاتھوں پہ پانیوں کے دستانے ہیں
رات ہمیں کب تک چھپائے رکھے گی
ایک دن عریانی ہمارے جسموں سے طلوع ہو گی
اور ہم بھری کائنات میں
ایک دوسرے کی آنکھوں سے پناہ مانگیں گے!!

پتا نہیں یہ نظم اکتوبر کی ہے یا اپریل کی!

ہم اکتوبر میں ملے
جب پتے درختوں سے
الگ ہونے کی تیاری کر رہے تھے
ہم اکتوبر میں ملے
جب دھوپ نرم پڑ چکی تھی
اور آسمان
سفید بادلوں کے مرغولوں سے
چمک رہا تھا
ہم اکتوبر میں ملے
جب پہاڑ
دور سے بھی صاف دکھائی دے رہے تھے
ہم اکتوبر میں ملے
جب پرندے
پانیوں سے ہم آغوش تھے
اور جھیلیں
ان کی پھڑپھڑاہٹ سے لبالب تھیں
ہم اکتوبر میں ملے
لیکن ہم اکتوبر میں جدا نہیں ہوں گے
کیوںکہ ہماری جڑیں
اپریل میں پیوست ہیں!

تمہاری محبت میں

مَیں تمہاری محبت میں
ستارے توڑ کر نہیں لا سکتا
لیکن ایک پھول ضرور پیش کر سکتا ہوں
مَیں تمہاری محبت میں
دریا نہیں بن سکتا
لیکن ایک کشتی ضرور بنا سکتا ہوں
مَیں تمہاری محبت میں
آنکھیں دان میں نہیں دے سکتا
لیکن ایک خواب ضرور دے سکتا ہوں
مَیں تمہاری محبت میں
دنیا فتح نہیں کر سکتا
لیکن بے قصد ایک سفر پہ ضرور جا سکتا ہوں
اور ایک راستہ بنا سکتا ہوں
مَیں تمہاری محبت میں
محبت کے علاوہ
کچھ بھی نہیں کر سکتا
یہاں تک کہ ایک نظم بھی نہیں لکھ سکتا!

کافی پلانیٹ (Coffee Planet)

میں نہیں جانتا
یہ کون سا سیارہ ہے
ہم جہاں بیٹھے ہوئے ہیں
زمان و مکاں کا کون سا گوشہ ہے
جہاں چوکور میز اور خم دار کرسیاں بچھی ہیں
کائنات کی کون سے دشا ہے
جہاں روشنی اور اندھیرا ایک سا ہے
اور لامتناہی ابعاد میں
باتوں کی مسلسل گونجیلی بھن بھن
اور کافی کی چاکلیٹی مہک پھیلی ہوئی ہے
لیکن اتنا جانتا ہوں
کہ وقت مجھے تم سے بہت دُور لیے جا رہا ہے!

اُم الحُب

اور جب تم دیکھو
کہ رات گہری ہو گئی ہے
اور زندگی اپنے دروازے بند کر رہی ہے
تو تم ایک محبت اور کرنا
پہلی محبت جیسی
حیران کن
جسم کو بیدار،
روح کو سرشار کر دینے والی
گزری ہوئی ہر محبت سے بڑی
تمام محبتوں کی ماں
بے تحاشا
کبھی نہ ختم ہونے والی
وقت کی طرح
دھیرے دھیرے
موت کے دائمی لمس سے
ہم کنار کر دینے والی
خدا کو
سوگوار کر دینے والی!

میں تمہارے مدار میں واپس نہیں آؤں گا

مشینی گھوڑے پر زین کستے ہوئے
میں نے دیکھ لیا ہے
سایوں کو دیواروں کے پیچھے چھپتے
اور خود کار دروازوں کو بند ہوتے ہوئے
میں جان چکا ہوں
میرا سفر کبھی ختم نہیں ہو گا
رصد گاہوں کے اس پار
زمین کے بیضوی سرے سے پھسل کر
محبت قریبی بلیک ہول میں گر گئی ہے!

Categories
شاعری

محبت کے سیارے سے آخری پیغام (نصیر احمد ناصر)

اے نُوری سالوں کی
دُوری پر رہنے والی
تم تک کب پہنچیں گے
میری نظموں کے سگنل!

Categories
شاعری

میں کچھ نہیں جانتا (نصیر احمد ناصر)

میں نے کبھی دروازہ بند نہیں کیا
لیکن جانتا ہوں
دیواریں بہت اونچی ہوتی ہیں

میں نے کبھی نفرت نہیں کی
لیکن جانتا ہوں
محبت ہر ایک کو نہیں ملتی

میں نے کبھی چلتے ہوئے
کسی کا راستہ نہیں روکا
لیکن جانتا ہوں
لوگ کیسے
سایوں، پتوں اور قدموں کو
روندتے ہوئے
آگے بڑھ جاتے ہیں

میں نے کبھی نظموں کا پیچھا نہیں کیا
لیکن جانتا ہوں
لفظ کہاں سے آتے
اور کہاں گم ہو جاتے ہیں

میں نے کبھی بغیر جانے
کچھ نہیں کہا
لیکن جانتا ہوں
کہ “میں کچھ نہیں جانتا”

Categories
شاعری

چائے خانہ میں ۔۔۔۔۔ نصیر احمد ناصر

چائے خانہ میں
ہم روز ملتے ہیں
اگلے دن پھر ملنے
اور جدا ہونے کے لیے

چائے خانہ میں
آملیٹی رغبت
ہماری لمسائی ہوئی زبانوں میں گدگدگی کرتی ہے
اور ہمارے چکنے دہن
انواع و اقسام کے
خاگینوں اور پراٹھوں کی لذت سے
کھچا کھچ بھر جاتے ہیں

چائے خانہ میں
ہمارے ہاتھ سفید مٹی کی پیالیوں کو چھوتے ہوئے
ایک دوسرے کو محسوس کرتے ہیں
اور ہمارے ہونٹوں پر
مسکراہٹ کی براؤن شوگر پھیل جاتی ہے

چائے خانہ میں
باہر سے گزرنے والوں کو
ہم خاموش فلموں کی طرح دکھائی دیتے ہیں
اور کسی کو سنائی دیے بغیر
بولتے رہتے ہیں
اور چھت میں لگے خفیہ کیمرے
ہماری حرکات و سکنات پہ نظر رکھتے ہیں

چائے خانہ میں
دنیا کے عظیم ترین مصنف
شاعر اور فلسفی
اور قدیم وقتوں کے گوتم اور پیغمبر
ہمارے پاس آ کر بیٹھ جاتے ہیں
لیکن وہ ہمارے علاوہ
کسی کو نظر نہیں آتے
اور ارد گرد کی میزوں پہ بیٹھے لوگ
ان سے اور ہم سے لاتعلق
مَنی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ
ڈوبتے ابھرتے رہتے ہیں

چائے خانہ میں
ہماری مختصر شاموں کی
آدرشی محبت پروان چڑھتی ہے
اور طویل راتوں کی چسکوری تنہائی
چٹخارے لیتی ہے
اور آس پاس بیٹھے محبتی جوڑے
ہماری طرف دیکھے بغیر
سیلفیاں بناتے رہتے ہیں

چائے خانہ میں
ہم روز انقلاب لاتے ہیں
اور دنیا کو بدل کر رکھ دیتے ہیں
اور اٹھنے سے پہلے
بوجھل دل کے ساتھ
بھاری بل معہ سیلز ٹیکس ادا کرتے ہوئے
ویٹر کو ٹپ دینا نہیں بھولتے

Categories
شاعری

محبت کبھی ضائع نہیں جاتی – نصیر احمد ناصر

ایک بار لگ جائے
تو زندگی بھر پیچھا نہیں چھوڑتی
جتنا مرضی جھٹلاؤ، دھتکارو
یہ استری اسٹینڈ کی طرح
چپ چاپ کسی کونے میں پڑی رہے گی
تکیے کے نیچے چھپا دو
یا موسمی ملبوسات کی طرح
الماری میں تہ کر کے رکھ دو
ایک دن اچانک بارش میں
یا گرمی سردی میں
اس کی ضرورت پڑ جائے گی
میلے کپڑوں کے ڈھیر میں
یا واشنگ مشین میں ڈال دو
یہ دُھل کر پھر سامنے آ جائے گی
جہاں بھی پھینک دو
یہ ری سائیکل ہوتی رہتی ہے
اور کبھی نہ کبھی
کہیں نہ کہیں
کسی نہ کسی کام آ جاتی ہے
Image: Alex Levin

Categories
شاعری

ہے کوئی لینے والا -نصیر احمد ناصر

میرے پاس بہت سی دھوپ ہے
اور بہت سی چھاؤں
بہت سے درخت
اور پھول
اور تازہ ہوا
ڈھیروں بادل
اور بہت سی بارش
بے شمار موسم
بہت سے دریا
اور سمندر
اور جزیرے
طویل ترین راستے
بے نہایت اسفار
لامحدود رقبے
اور بہت سے شہر
کھڑکیاں اور دروازے
ساباط
اور کشادہ گلیاں
غیر مشروط محبت
اننت خاموشی
اور نامختتم تنہائی
اور بہت سی اَن کہی نظمیں

Categories
شاعری

اور جب تم دیکھو ۔۔۔۔۔۔ (نصیر احمد ناصر)

اور جب تم دیکھو
کہ رات معمول سےطویل ہو گئی ہے
اور سورج طلوع ہونے کا نام نہیں لے رہا
تو تم صبح کی واک
ملتوی کر دینا
اور پورچ کی گُل کی ہوئی بتیاں
پھر سے روشن کر دینا

اور جب تم دیکھو
کہ ہوا ہموار راستوں پر
چلنے سے گھبرانے لگی ہے
اور پہاڑ راتوں رات
اپنی جگہ بدل رہے ہیں
اور درخت جنگلوں سے بھاگ کر
سڑکوں کی اطراف میں پناہ لے رہے ہیں
تو تم کسی بھی وقت
کسی بھی سمت روانہ ہونے کے لیے
سفر کی پوٹلی تیار رکھنا

اور جب تم دیکھو
کہ دنیا ایک نادیدہ وبا میں گِھر چکی ہے
اور جنازوں کی تعداد
پیدا ہونے والوں سے زیادہ ہوتی جا رہی ہے
اور انسان انسان سے مِلتے ہوئے گھبرانے
اور چہرہ چھپانے لگا ہے
اور تنہائی ایک ناگزیر ضرورت بن گئی ہے
تو تم اپنا دروازہ
کبھی نہ آنے والوں کے لیے کھول دینا

اور جب تم دیکھو
کہ بچے تمہاری باتوں سے بور ہونے لگے ہیں
اور تمہارا علم اور تجربہ
ان کے لیے بےکار ہوتا جا رہا ہے
تو تم ان کے درمیان سے اٹھ جانا
اور پرانی پڑھی ہوئی کتابیں
پھر سے پڑھنے لگ جانا

اور جب تم دیکھو
کہ سچ کا پکوان چکھتے ہوئے
دستر خوان پر خاموشی چھا جاتی ہے
اور جھوٹ کا ذائقہ
سب کو اچھا لگنے لگا ہے
تو تم انگلیاں چاٹنے سے گریز کرنا
مبادا تمہاری شناخت کے نشان معدوم ہو جائیں
اور بائیو میٹرک تصدیق نہ ہو سکنے پر
تم اپنے ہی ملک میں اجنبی قرار دے دیے جاؤ

اور جب تم دیکھو
کہ زندگی میں محبت کم
اور کھانے پینے کی چیزیں وافر ہو گئی ہیں
تو تم اپنے کتابوں سے بھرے کمرے میں
عین کھڑکی کے سامنے
بستر پر نیم دراز ہو کر
منع کیا گیا مشروب پیتے،
موسیقی سنتے
اور دل ہی دل میں
نہ لکھی جا سکنے والی نظمیں دہراتے ہوئے
ایک آرام دہ موت کا انتظار کرنا
سنا ہے وہ اپنے سچے طالب کو
کبھی دغا نہیں دیتی!
Image: Aleister Crowley

Categories
شاعری

مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے
ایک راستہ چاہیے
جو پاؤں سے نہیں
دل سے نکلتا ہو

مجھ تک آنے کے لیے
ایک دروازہ چاہیے
جو ہوا کی ہلکی سی لرزش سے
کھل سکتا ہو
اور ایک کھڑکی
جس سے دھوپ اندر آ سکتی ہو

مجھ تک آنے کے لیے
سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے کی ضرورت نہیں
نہ لفٹ استعمال کرنے کی
میں آسمان سے اونچی عمارت کی
زمینی منزل میں رہتا ہوں
جہاں ہر آنے والا
اپنی سطح کے مطابق
اونچائی یا نچائی ساتھ لاتا ہے

مجھ تک آنے کے لیے
کہیں جانے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑتی
میں آنے والوں کے پاس
خود چل کر پہنچ جاتا ہوں!
ٰImage: Daehyun Kim

Categories
شاعری

نظم کہانی (نصیر احمد ناصر)

کہانی کار!
تم نے مجھے بہت سی نظمیں دی ہیں
اس کے باوجود کہ میں تمہارا لفظ نہیں
ہوا کو سپاس نامہ پیش کرتے ہوئے
میں نے کئی بار کھڑکی سے باہر جھانکا
اداسی بہت دبیز تھی
مگر میں جانتا ہوں
کہ راستے ترتیب دیتے ہوئے
آنکھیں ہمیشہ مصلحت کے غبار میں گم ہو جاتی ہیں
تمہیں دریا بنے بغیر سمندر سے ملنا آتا ہے
تو پھر مان لو
اَن بہے آنسو بھی عظیم ہو سکتے ہیں
دکھ کسی ایک کا نہیں ہوتا
دکھ تو سب کے ہوتے ہیں
لیکن یقین اور اظہار کے درمیان آنکھوں میں
ایک نمی سی تیرتی رہتی ہے
بارشیں پرائی سرزمینوں پر برسنا چاہتی ہوں
تو انہیں کون روک سکتا ہے
اعتراف کے بغیر سب رشتے بے یقین رہتے ہیں
اگر لفظوں کے بغیر کچھ لکھا جا سکتا
تو مَیں تمہارے لیے بھی ایک نظم لکھتا

کہانی کار!
جب تمہاری آنکھوں کے آسمان میں
آنسوؤں کی روشنائی سوکھ جائے
اور بدن کی زمین کا ملبوس بوڑھا ہونے لگے
اور تم کسی اور وجود کا چولا بدلنے کے لیے
اگلی بار آؤ
تو اپنی کہانی لکھتے ہوئے
ایک کردار میرے نام سے ضرور لکھنا
کیونکہ اگلی بار میں نہیں ہوں گا
میں تو پچھلی بار بھی نہیں تھا
اور اِس بار بھی نہیں ہوں
لیکن تمہیں خواب لکھنے کا تجربہ نہیں
تم نے صرف تعبیریں دیکھی ہیں
کہانی کار!
تم نے ابھی نظم نہیں لکھی!!

Categories
شاعری

خدا معبدوں میں گم ہو گیا ہے (نصیر احمد ناصر)

خدا معبدوں کی راہداریوں میں گم ہو گیا ہے
دلوں سے تو وہ پہلے ہی رخصت ہو چکا تھا
خود کش حملوں کے خوف سے
اب اس نے مسجدوں کی سیڑھیوں پر بیٹھنا بھی چھوڑ دیا ہے
خدا واحدِ حقیقی ہے
اسے کیا پڑی ہے
کہ انسانوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر
جوتوں اور کپڑوں کے ساتھ اِدھر اُدھر بکھر جائے

شاعروں اور دہشت گردوں نے
خدا کو اتنی کثرت سے استعمال کیا ہے
کہ تنگ آ کر
وہ نظموں اور دنیا سے غائب ہو گیا ہے
اور کائنات کے کسی ایسے گوشے کی طرف نکل گیا ہے
جہاں ان کی نظروں سے محفوظ رہ سکے
خدا اتنا بے بس کبھی نہیں تھا
جتنا اب ہے

خدا کائنات کا سب سے بڑا کلیشے ہے
جسے ترک نہیں کیا جا سکتا !
Image: Andrey Bobirs

Categories
شاعری

جب امکان کو موت آ جائے گی (نصیر احمد ناصر)

ابھی تو دن ہے
اور ہم دیکھ سکتے ہیں
ایک دوسرے کو
دکھ میں
اور خوشی میں
اور مِل سکتے ہیں
شام کی چائے
یا ڈنر کے امکان پر
میں اُس وقت کا سوچتا ہوں
جب ہمارے درمیان
ایک رات بھی نہیں رہے گی
تب ہم کیا کریں گے؟
کہاں طلوع ہوں گے؟
Iamge: Eugenia loli

Categories
شاعری

ابدی کھیل (نصیر احمد ناصر)

وقت کے نورانیے میں
تہذیبیں زوال کی سیاہی اوڑھ لیتی ہیں
لیکن اکاس گنگا کے
اَن گنت اَن بُجھ ستارے
لُک چُھپ لُک چُھپ
کھیلتے رہتے ہیں!!
Image: Suzanne Wright Crain