Laaltain

آرزو کا گیت

میں تمہاری آواز کے پہلو میں سویا یہ بہت خوشگوار تھا تمہاری گرم چھاتیوں نے میرے کلیسا کو ڈھانپ لیا تم کوئی گیت گا رہی تھی جسے میں یاد نہ رکھ سکا شاید وہ ان شاخوں اور پانیوں کے متعلق تھا جو تمہاری رات میں آواہ پھرتے تھے یا تمہارے اس بچپن کا گیت جو […]

پلکیں خون سے جم رہتی ہیں، آنکھیں رو رو تھم رہتی ہیں راتیں بستر پر نہیں سوتیں، برف کی سل پر جم رہتی ہیں جو زلفیں سنوری رہتی تھیں، اب درہم برہم رہتی ہیں ان زلفوں کے مار پیچ میں گھڑیاں سم در سم رہتی ہیں چڑیاں دھڑکن کی ساون میں دل کے پیڑ پہ […]

کِھلے ہوئے گلاب رخ ہرے بھرے جوان تن دزار پیڑ وقت کی زمین پر کھڑے ہوئے پرکاش کی تلاش میں امید سینچتے ہوئے لہک چہک فضاؤں میں دمک روواں روواں دل اور جگر تپاں تپاں دہکتی شوخ حسرتیں ہر ایک مس گمان، گدگدی میں میل کی امنگ ہونٹ کے نشان آن آن گردنوں پہ نور […]