Categories
نان فکشن

نثری نظم کا فن (اویس سجاد)

نوٹ: یہ مضمون راجوری (ہندوستان) سے شایع ہونے والے رسالے “تفہیم” کے تازہ شمارے (جون ۲۰۲١) میں بھی شامل ہے۔

شاعری کا تعلق تخیل، حسیات، جذبات اور کیفیات سے جڑا ہوا ہے۔ یہ ہمارے شعوری اور لاشعوری خیالات کو مہمیز کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسے وحدت یا کلیت میں ڈھلنا پڑتا ہے۔ یہ عمل شاعری کی ہئیتی ضرورت کو مکمل کرتا ہے اور اس سے وہ آہنگ بھی جنم لیتا ہے جو سامع یا قاری پر اثر انداز ہو۔ نفیس اور پُراثر شاعری زمانی یا مکانی قیود کی پابند نہیں ہوتی بلکہ بڑا شاعر اسے آفاقیت کا درجہ دیتا ہے۔ رامائن، مہابھارت، اوڈیسی یا ایلیڈ جیسے شاہکار اگر آج بھی ہمیں لطف پہنچاتے ہیں تو ان باریکیوں کو تلاش کرنا چاہیے جس کی وجہ سے یہ فن پارے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

شاعر کو اختصاص حاصل ہے کہ وہ تخیل اور اسلوب سے نئے جذبات اختراع کرتا ہے۔ ایسا نہیں کہ شاعری جذبات و احساسات کے دائرے میں مقید رہتی ہے بلکہ وہ تو انسان کے باطن کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے۔ اچھی شاعری انسان کو مایوسی کی طرف دھکیلنے کی بجائے ؛اس سے چند قدم آگے چلتی ہے۔ شاعری قاری کو ایسے راستے پر چلنے پر مجبور کرتی ہے جو بالکل نیا اور منفرد ہوتا ہے؛ یہ ایسا ساز ہے جس کے پردوں میں جذبات کے نغمے خوابیدہ ہوتے ہیں۔ (1)

شاعری کو مختلف اصناف میں منقسم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تمام اصناف اپنے اپنے عہد کی پیدوار ہیں۔ نظم شاعری کا اہم سانچہ ہے۔ اس میں مختلف موضوعات کو ہیئتی اور تکنیکی تجربات کے ساتھ پرویا جا سکتا ہے۔ ہیئت اور مواد کی سطح پر نظم میں بے شمار تجربات ہوئے۔ مواد کا تعلق چونکہ ہیئت اور تکنیک سے ہے ، اس لیے نظم کے فنی معیارات طے کرنا مشکل عمل ہے۔ پابند نظم سے نثری نظم تک کا سفر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نظم میں لامختتم امکانات پوشیدہ ہیں۔ نظم میں انسان کی نفسیاتی الجھنوں اور تمام معاملات زندگی کی بہترین عکاسی ہوتی ہے۔ نظم کسی بھی فرد کے انفرادی جذبات کو آشکار کرتی ہے اور انسان خود کو نئے سرے سے تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ عمل شاعری کی دیگر اصناف کے مقابلے میں زیادہ ٹھوس، جامع اور وسعت یافتہ ہے(2)

بعض اوقات نئے عمل کو منکشف کرنے کے لیے نظم میں ایسے اساطیری یا تاریخی حوالے آ جاتے ہیں جو قاری سے گہرے شعور کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ راشد اور میرا جی کی نظموں کو سمجھنے کے لیے قدیم اساطیر کی جانب مراجعت کرنا پڑتی ہے۔ سپاٹ اور کیفیت سے خالی بیانیہ نظم کا لطف زائل کر سکتا ہے۔ نظم میں استعاروں اور علامتوں کے ذریعے جو تخلیقی فضا قائم ہوتی ہے وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر تی ہے۔ ہر نظم اپنے ساتھ خارجی تکنیک ضرور لے کر آتی ہے جو مواد (داخلی تکنیک) سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ اس متعلق ناصر عباس نیئر نے اپنی کتاب ’’نظم کیسے پڑھیں؟‘‘ میں سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ شاعر کے لیے ہیئت کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ اس بات سے آگاہ ہوتا ہے کہ کون سی ہیئت اس کے مواد کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں شاعر ’کیا‘ کے بارے میں لاعلم ہو سکتا ہے مگر ’کیسے‘ کے سلسلے میں نہیں۔ (3)

نثری نظم میں یہ معاملہ مختلف ہے۔ یہاں تو تخلیق کار اسی وجہ سے نثری نظم کا انتخاب کرتا ہے، کیونکہ اس کے لیے نظم کی باقی ہیئتیں رکاوٹ بنتی محسوس ہوتی ہیں۔ نثری نظم خلق کرنے والے کے سامنے ہیئت کی بجائے مواد (اظہار) اہم ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ اس ہیئت کا انتخاب کرتا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ مواد اور ہیئت کی اہمیت اپنی اپنی جگہ پر قائم ہے۔

نظم کی روایت پر ایک مختصر سی نگاہ دوڑائیں تو پابند نظم قصیدہ، مثنوی یا رباعی کا ارتقاء معلوم ہوتی ہے۔ نظیر اکبر آبادی نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جو عام آدمی کی محرومیوں اور خواہشوں کو سامنے لاتے ہیں۔ نظم نے ہر عہد میں انسان کی نئی قدروں کو منکشف کرنے پر زور دیا ہے۔ اسی لیے ان کی نظموں میں وہ تمام اقدار دکھائی دیتی ہیں جن کو بعد میں ترقی پسند ادیبوں نے موضوع بنایا۔ نظیر کی نظمیں زندگی کے مختلف رنگوں سے ہم آہنگ ہیں۔ ’’الٰہی نامہ، بنجارہ نامہ‘‘ اور ’’برسات کی بہاریں‘‘ چند ایسی نظمیں ہیں، جو عام آدمی کے خدشات کو ظاہر کرتی ہیں۔ انہوں نے سماجی روّیوں، مذہبی اعتقادات کو نظموں میں خوبصورتی سے پرویا۔ ان کی نظموں میں ایک خاص رنگ دکھائی دیتا ہے جو لوک گیتوں کے قریب تر ہے۔

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد جب سماج کے روایتی بیانیے ٹوٹے تو اس کے ساتھ منطقی روّیوں نے جنم لیا۔ لوگوں نے استدلالی انداز میں سوچنا شروع کیا۔ یہ وہی دور تھا جب ہندوستانی سماج نئے حالات اور مغربی اثرات سے متاثر ہو رہا تھا۔ جدید نظم کا آغاز ہوا تو اس میں ہیئت اور تکنیک کے تجربات بھی ہوئے۔ ۱۸۵۷ء کے بعد جدید نظم نگاری نے اپنی جڑوں کو مضبوط کیا ۔ سماجی، سیاسی اور تہذیبی تغیرات کی وجہ سے سر سید، آزاد اور حالی نے اصلاحی کوششیں کیں۔ جدید نظم کو پروان چڑھانے میں ان تینوں کا حصہ شامل تھا۔ ۱۸۸۷ء کے پاس حالی کے ایک شاگرد پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی نے تجربہ کیا جو انگریزی شاعری کی مخصوص ہیئت ’’اسٹنزا‘‘ فارم کے قریب تر تھا۔ آزاد اور حالی نے جدید نظم کا جو تصور پیش کیا تھا، اس نے نہ صرف انیسویں صدی کے شعراء کو متاثر کیا بلکہ اس کے اثرات بیسویں صدی کے شعراء بھی پر بھی مرتب ہوئے۔ یہاں سے نظم نگاروں کی ایک نئی پود نے جنم لیا جن کے موضوعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نظم وہ صنف ہے جس نے خود کوبدلتے سماج کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پابند، معریٰ اور آزاد نظم کے بعد نثری نظم کیوں وجود میں آئی؟ ایسا کیا ہوا کہ پابند اور معریٰ نظم طاقِ نسیاں کی نذر ہو گئیں، حالانکہ ہیئتی اعتبار سے پابند اور معریٰ نظم یہ صلاحیت رکھتی تھی کہ اسے شعری روایت میں بلند درجے پر فائز کیا جائے۔ لیکن ہمارے سامنے جدید زندگی نے جو صورتحال پیدا کی اس کا بوجھ تو پابند نظم بھی نہیں سہار سکتی تھی۔ نظیر اکبر آبادی کی روایت کو حبیب جالب، ساقی فاروقی اور فیض احمد فیض وغیرہ نے زندہ رکھنے کی سعی کی مگر یہ ہیئت پنپ نہ سکی۔ انہوں نے لسانی تجربات بھی کیے مگر زیادہ سفر نہ کر سکے۔ جدید نظم کی جو بنیاد آزاد اور حالی نے رکھی تھی وہ شرر، طباطبائی اور اقبال سے ہوتی ہوئی مجید امجد تک ٹھہری۔ جدید نظم میں شعراء کی بڑی تعداد تجربات کر رہی تھی۔ ۱۹۶۰ء کے قریب ’’لسانی تشکیلات‘‘ کی تحریک نے اردو ادب کے دروازے پر دستک دی جو جدیدیت کی پیداوار تھی۔ اس تحریک میں افتخار جالب اور شمس الرحمن فاروقی نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ ’شعریت‘ کو موضوع یا تجربہ کی بنیاد پر نہیں ماپا جا سکتا بلکہ ’فارم‘ کے ذریعے جو لفظوں کی عمارت وجود میں آتی ہے وہی شاعری ہے۔ یہ عمل لاشعوری نہیں ہوتا بلکہ شاعر ارادی طور پر تمام فیصلے کرتا ہے۔

اسی دوران ’’نثری نظم‘‘ کا وجود بھی عمل میں آیا۔ اس نے ہیئت وزن اور بحر کے تمام معاملات کو ازکارِ رفتہ قرار دیا۔ نثری نظم لکھنے والوں کا ماننا تھا کہ آہنگ ہی وہ بنیادی شرط ہے جس سے ’’شعریت‘‘ کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ اردو ادب کے لیے نیا مگر مغرب کے لیے پرانا تجربہ تھا۔ اردو میں آزاد نظم کی طرح نثری نظم لکھنے والوں نے کوئی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ کئی تخلیق کاروں نے اس تجربے کو کشادہ دل کے ساتھ تسلیم کیا۔ فرانسیسی شاعر ’’بودلیئر‘‘ نے سب سے پہلے نثری نظم کی اصطلاح استعمال کی۔ بودلیئر سے کئی ہم عصر شاعر بھی متاثر ہوئے جن میں راں بو، ملارمے وغیرہ شامل ہیں۔

جب اردو میں نثری نظم لکھنے کا چلن عام ہوا تو جہاں اس ہیئت کا خیر مقدم کیا گیا وہیں مخالف روّیے بھی سامنے آئے۔ ان کے بقول یہ صنف چونکہ مروجہ اصنافِ شاعری کی طرح موزوں نہیں ہے، اس لیے یہ تجربہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ حالانکہ ناقدین اس بات سے بخوبی آگاہ تھے کہ مغرب میں بڑے پیمانے پر اس صنف میں طبع آزمائی کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’اوراق‘‘ میں اسے صنفِ شعر تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ انہوں نے اس صنف /ہیئت کو ’’اوراق‘‘ میں جگہ دی بھی تو اپنے پسندیدہ ناموں کے ساتھ، اسے نثم، نثرِ لطیف جیسے نام دینے کی کوشش کی مگر یہ جدو جہد کار آمد نہ ہو سکی۔ ان کا موقف تھا کہ شاعری تو خارجی اور عروضی آہنگ سے مملو ہے۔ چونکہ نثری نظم عروضی پیرائے پر پورا نہیں اترتی لہٰذا اسے شاعری کے دائرے سے خارج کرنے پر کوئی افسوس نہیں ہونا چاہیے۔

ذوالفقار تابش نے بھی نثری نظم کو رد کیا۔ ان کا ماننا تھا کہ نثر اور نظم دو مختلف اصناف ہیں۔ ان کا یکجا کرنا کسی نئے بیانیے کو جنم دینے کے مترادف ہے۔ نثری نظم کے نام پر جو کچھ تخلیق کیا جا رہا ہے وہ نظم سے زیادہ نثر کے قریب ہے۔ انہوں نے نثری نظم کو سہل نگاری کی گھٹیا مثال قرار دیا۔

فیض احمد فیض کا بھی یہی خیال تھا کہ نثری شاعری بحور اور اوزان کے پیمانے پر پورا نہیں اترتی، اسے شاعری قرار دینا کسی گناہ سے کم نہیں ۔ ان ناقدین کے مقابلے میں وہ لوگ بھی سامنے آئے جنہوں نے نثری نظم کو عصرِ حاضر کے لیے ضروری صنف قرار دیا۔ احمد اعجاز نے تو یہاں تک کہا کہ نئی اور جدید شاعری کے امکانات اسی ہیئت یا صنف میں پوشیدہ ہیں۔ اس کے علاوہ شہر یار، قمر جمیل، انیس ناگی، مبارک احمد، مخدوم منور، فہیم جوزی اور سعادت سعید وغیرہ وہ نام ہیں جنہوں نے نثری نظم کی بھرپور حمایت کی۔ اس تمام پس منظر کے بعد اب ان فنی پیمانوں کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں جو نثری نظم میں موجود ہو سکتے ہیں یا اس کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ یہ صنف آج بھی رد و قبول کے مرحلے سے گزر رہی ہے، اس لیے فنی معیارات طے کرنا یا کچھ لکھنا قبل از وقت ہو گا۔ اس سب کے باوجود نثری نظم کے نام پر جو کچھ لکھا جا رہا ہے وہ اسے مضبوط بنانے کی بجائے شک و شبہات میں مبتلا کر رہا ہے۔ ایسی صورت میں چند پیمانے وضع ہونے چاہییں جو اس صنف کے ارتقاء میں معاون ثابت ہو سکیں۔ اس ضمن میں نثری نظم کے ان شاعروں کا بھی ذکر کیا جائے گا جن کی نظمیں فنی معیارات طے کرتی ہوئی ماڈل (نمونہ) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ لیکن اس سے پہلے ان عناصر کا جائزہ لیتے ہیں جو نثری نظم میں شعریت پیدا کر سکتے ہیں۔

تخلیق میں شعریت اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے جب فکر و احساس میں لطافت اور بیان کرنے کے انداز میں کوئی انوکھا پن ہو۔ اس حوالے سے ہیئت یا مواد کی جمالیاتی فضا بھی موثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسے تخلیقی فکر یا جذبے کی ہم آہنگی کے بغیر پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں عناصر مل کر پُراثر فضا کو تشکیل دیتے ہیں جس کا تعلق ہماری حسیات یاتجربے سے ہے۔ جدید نظم کی لفظیات، استعارے اور تشبیہات شعریت کو جنم دیتے ہیں۔ جبکہ نثری نظم میں تمثیلی، تجریدی اور امیجری مناظر شعریت پیدا کرنے کے لیے موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ موضوع اور ہیئت میں ہم آمیزی مخصوص شعریت کو ابھارتی ہے۔ جب کوئی لفظ کسی مخصوص استعارے کا لباس پہنتا ہے تو اس میں موسیقی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو دراصل شعریت ہی ہے۔ استعاروں کے ذریعے نئی دنیا خلق کی جا سکتی ہے۔ اساطیری کرداروں کی بازیافت ہوسکتی ہے۔ بہرحال شعریت پیدا کرنے کے لیے بنیادی اہمیت استعارے کو دی جا سکتی ہے اور اسی کے ذریعے نئے خیالات وجود میں آتے ہیں۔ نثری نظم میں چونکہ ’’لفظ‘‘ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے، اس لیے لفظ کو نظر انداز کر کے ہم معنی کی جانب جست نہیں بھر سکتے۔ نثری نظم میں لفظ کے ذریعے جو شعریت جنم لیتی ہے وہ قاری کو اپنے حصار میں لے سکتی ہے۔

نثری نظم مروجہ نظام سے انحراف کرتی ہے۔ اس کی سطروں میں داخلی آہنگ پایا جاتا ہے جو پڑھنے والے یعنی خارجی آہنگ سے متشکل ہوتا ہے۔ نثری نظم امیجز (Images) پر اپنی بنیاد استوار کرتی ہے۔ اس میں واقعیت کی بجائے تجریدیت کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ لیکن آج کی نثری نظم بیانیہ اسلوب بھی اختیار کرتی نظر آتی ہے اور اس کی مختلف شکلیں ظہور پذیر ہو چکی ہیں۔ نثری نظم کا تعلق چونکہ ہمارے لاشعور سے ہے اس لیے مختلف شہروں میں جو نظمیں لکھی گئیں وہ مختلف فنی معیارات طے کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کراچی کے حالات کشیدہ ہوئے، ٹارگٹ کلنگ ہونے لگی، تشدد کی فضا چھانے لگی اور بوری بند لاشوں کا ملنا معمول بن گیا تو اس صورت میں نثری نظم بیانیہ اسلوب، براہ راست یا واقعیت کے قریب نظر آئی۔ افضال احمد سید، ثروت حسین، ذی شان ساحل، سعید الدین، تنویر انجم اور کاشف رضا کی نظموں میں ایسی فضا محسوس کی جا سکتی ہے۔

افضال احمد کی نظم سے چند سطریں دیکھئے جو ’’مٹی کی کان‘‘ میں شامل ہے:
’’میرا پسندیدہ کھلونا
چوہے دان رہا ہو گا
میری دوپہریں وباؤں کی بستیوں میں آہ و بکا سننے میں گزری ہوں گی
شام کو جب منحوس پرندے شور مچانے لگتے
میں گھر آ جاتا
اور اپنے پاؤں سے زمین کریدنے لگتا
کوئی خزانہ ہمارے گھر کے نیچے دفن ہے
مگر میرا باپ مجھے لہو لہان کر دیتا ہے‘‘ (4)

ان سطروں میں کوئی تجریدیت یا بھاری بھر کم لفظ نہیں ملتا بلکہ یہ کسی واقعے کی جانب اشارہ ہے۔ لاشوں کی بات ہے، قید کا ذکر ہے اور آہ و بکا سننے کے عمل کو بیان کیا گیا ہے۔ جب انسان سماج کے مکروہ چہرے سے خوفناک ہو جاتا ہے تو وہ نیا جہان بسانا چاہتا ہے۔ یہ موت کی خواہش بھی ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی قبر تیار کر رہا ہے۔

کاشف رضا کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی نظموں میں لاپتہ افراد کا دکھ اور قتل کیے جانے والے معصوم لوگوں کی ہُوک سنائی دیتی ہے۔ اگر ان کی نظموں کے عنوان بھی دیکھے جائیں تو وہ بھی کسی مجموعی واقعے کو ہی جنم دے رہے ہیں۔ ’’ممنوعہ موسموں کی کتاب‘‘ سے ایک نظم ’’کراچی ڈیتھ سروس‘‘ کی چند سطریں دیکھئے:
’’ زندگی سے موت تک
اک کڑی مسافت ہے
ہم اسے سہولت سے طے کراتے ہیں
اور آپ سے تیس روپے فی گولی
قیمت بھی نہیں لیتے

آپ کے لیے ہم
پٹ سن کی گانٹھوں سے
کفن تیار کرتے ہیں
جس کی خوشبو نیند آور ہوتی ہے

ہمارے رضا کار
آپ کی لاش اٹھاتے ہیں
اور ہماری ایمبولینس
آپ کے لیے ٹریفک کو چیرتی ہوئی نکلتی ہے‘‘ (5)

ان سطروں میں وہ دکھ واضح ہے جو پچھلی کئی دہائیوں سے کراچی کے عام لوگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ ان کے کان صبح و شام کا فاصلہ اذانوں کی بجائے گولیوں کی آواز سے ماپتے ہیں۔ ’’کراچی ڈیتھ سروس‘‘ دراصل کسی ایک فرد یا سماج کے لیے کہی جانے والی نظم نہیں ہے، بلکہ اس میں مجموعی فضا کا ذکر ہے۔

اسلام آباد کے منفرد اور نفیس شاعر نصیر احمد ناصر کی نظمیں فطرت (نیچر) کے زیادہ قریب ہیں۔ وہاں کے موسموں کا ذکر ملتا ہے اور خوبصورتی کی عکاسی ہوتی ہے۔ ان کی نظم ’’میں پرندوں کی طرح طلوع ہونا چاہتا ہوں‘‘ ملاحظہ ہو:
’’ میں جانتا ہوں
میرا سفر ختم ہونے والاہے
نیند آنکھوں میں پڑاؤڈال چکی ہے
اور اندھیرے کی ساکن آواز
کہیں بہت قریب سے سنائی دے رہی ہے
لیکن میں سونا نہیں چاہتا
نظم، کچھ دیر اور میرے ساتھ رہو
مجھ سے باتیں کرو
مجھے تنہا مت چھوڑو
میں اس رات کی صبح دیکھنا،
اور پرندوں کی طرح
تمہارے ساتھ طلوع ہونا چاہتا ہوں‘‘ (6)

اس نظم میں استعاراتی زبان اختیار کی گئی ہے۔ یہ نظم فطرت سے مکالمہ کرنا چاہتی ہے۔ اس میں جمالیاتی فضا بھی واضح ہے۔ ۲۰۰۰ء کے بعد جو نثری نظم کے شعراء سامنے آتے ہیں، ان کے ہاں نئی بوطیقا ملتی ہے۔ جس میں زندگی کی لایعنیت، فرد کی تنہائی اور کم مائیگی کا اظہار ملتا ہے۔ ایسے شعراء میں ساحر شفیق، زاہد امروز اور قاسم یعقوب کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ساحر شفیق کا تعلق ملتان سے ہے۔ ان کی نظموں کا مجموعہ ’’خودکشی کا دعوت نامہ‘‘ ۲۰۱۰ء میں طبع ہوا۔ ساحر کی نظموں میں ایک ایسا فرد نظر آتا ہے جو ہر چیز سے بیزار ہو چکا ہے۔ وہ کسی نئے جہان کی طرف نکل جانا چاہتا ہے۔ ان کی نظم سے یہ سطریں دیکھئے:
’’ میرے پاس ایک گیت تھا/ جسے میرے ملازم نے چُرا کر کباڑی کو بیچ دیا
میرے پاس ایک بات تھی/جو مجھ سے کہیں گِر گئی
میرے پاس ایک دن تھا/ جسے میں ایک سفر میں گنوا آیا
میرے پاس ایک دعا تھی /جو چڑیا کی طرح اُڑ گئی
میرے پاس ایک تعویز تھا / جسے میں نے بہت سالوں بعد کھولا تو اس میں گالیاں لکھی ہوئی تھیں
میرے پاس ایک حیرت تھی/جو ہمسائے کے کُتے کے کاٹنے سے مر گئی
میرے پاس ایک پری تھی/جو خود دیو کے ساتھ بھاگ گئی
میرے پاس وقت تھا/ جو ناراض ہو کر چلا گیا
میرے پاس ایک شام تھی/ جو چائے کے ساتھ پی گئی
___ اور ___
میرے پاس میں خود تھا/ جسے میں نے قتل کر دیا‘‘ (7)

اس نظم میں نثری نظم کی نئی جہت دریافت ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایسا بیانیہ نظم میں بہت کم ملتا ہے۔ ان لائنوں کی ترتیب نثری نظم کی نئی تکنیک بھی متعارف کروا رہی ہے۔ ساحر کی نظمیں، جون ایلیاء کی شاعری کی طرح کسی نوجوان کو کھانے جانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ نظموں میں یہ اسلوب اب دقیق ہو چکا ہے۔ جو نوآموز خود کو اس رنگ میں رنگنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں وہ صرف نقالی کر رہے ہیں۔

زاہد امروز کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ ان کی نظموں کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ زاہد امروز کی نظمیں تہہ دار ہیں مگر مشکل نہیں۔ بظاہر تو ان میں زندگی کا عامیانہ رنگ دکھائی دیتا ہے مگر بین السطور میں انسان کو زندگی کی گھمبیرتا سے خوف محسوس ہوتا ہے۔ ان کی نظم ’’ میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں‘‘ بھی ایسی کیفیت کو آشکار کرتی ہے۔
’’میں تیرے ساتھ لپٹ کر
تیرے جُوڑے میں مہکے مہکے پھول سجانا چاہتا ہوں
لیکن تُو چہرے پر غلاظت مَل لیتی ہے
تُو اپنی عیار ہنسی سے
شفاف دلوں کی ننھی خوشیاں ڈس لیتی ہے
چم چم کرتی بھربھرائی دنیا!
تیری سنگت بڑی ہی ظالم دشمن ہے
میں تجھ کو گلے لگا لوں لیکن
تیری قبا میں پوشیدہ ہے
سب چوری کا مال
تیری جھلمل سطح کے نیچے
پھیلا ہے مایا کا جال

اگر ترے سینے پر گولائیاں
گوتم کے سَر جیسی ہوں
میں تیری خوشی میں خوش ہو جاؤں ‘‘ (8)

زاہد امروز کی نظموں میں فنی حوالے سے یہ بات بھی قابل غور ہے کہ انہوں نے شعریت پیدا کرنے کے لیے ایک مختلف استعاراتی نظام وضع کیا ہے۔ عصرِ حاضر میں نثری کے متعلق یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اسے نثر کے زیادہ قریب ہونا چاہیے تا کہ اس صنف کے تخلیقی جواز کو وسعت مل سکے۔ اس مختصر جائزے سے سمجھانے کی سعی کی گئی ہے کہ نثری نظم کسی ایک موضوع تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ عمرانی شعور سے مکمل ہم آہنگ ہے اور مستقبل کی جانب بھی اشارہ کرتی ہے۔ دراصل یہ موضوعات ہی نثری نظم کے فنی پیمانے بھی طے کرتے ہیں۔

نثری نظم کا موضوع اپنا اسلوب خود وضع کرتا ہے۔ ساحر کی نظمیں نیا اسلوب اختراع کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ جب کوئی اسلوب چرانے کی کوشش کی جاتی ہے تو موضوع کی پیشکش میں فاصلہ حائل رہتا ہے جو کمزوری بھی ہے نثری نظم زیادہ تر صیغہ واحد متکلم میں لکھی جاتی ہے۔ ایسی نظموں میں خود کلامیہ تکنیک سے معاملہ کیا جاتا ہے۔ انجم سلیمی کی بیشتر نظموں میں یہ کیفیت دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نظم ’’اذیت کا شجر ہوں‘‘ دیکھئے:
’’ مجھ پر بے موسم کا بُور آتا ہے
بہت بے صبرے ہو
ہنسی کو پکنے تو دو
میری خوشیاں ابھی بالغ نہیں ہوئیں
اور دکھ کن اکھیوں سے مجھے دیکھتے ہیں
یہ کوئی بددعا نہیں کہ تم پر میرا صبر پڑے
یہ تو ایک ذائقہ ہے جسے تم نے کبھی چکھ کر نہیں دیکھا
چھوٹے چھوٹے دکھوں نے مجھے چھوٹا کر دیا ہے
عجیب دکھ ہے
خود کو جی بھر کے برباد نہیں کر سکا
ایک بڑے سانحے کے انتظار میں
رائیگاں جا رہا رہوں !‘‘ (9)

نثری نظم میں ایک نیا رویہ یہ بھی سامنے آیا کہ خود کوکسی کردار کا روپ دے کر ایک علامتی وجود خلق کیا جائے۔ ایسی نظمیں تنویر انجم کے ہاں ملتی ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ’’میں اور نیلوفر‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔
’’ دنیا میں کوئی نیلوفر کا مقابل ہے اور نہ متبادل
ایسا ہو سکتا ہے
میں اس کا پیچھا کرتے دور نکل جاؤں
میں اس کا پیچھا کرتے مٹی میں دھنس جائوں
میں اس کا پیچھا کرتے عالمِ انبساط میں مر جاؤں‘‘(10)

ناقدین کا یہ اعتراض بھی سامنے آتا ہے کہ نثری نظم کے نام پر جو کچھ تخلیق کیا جا رہا ہے وہ اس سے پہلے آزاد، نیاز فتح پوری یا یلدرم اپنی شاعرانہ نثر میں پیش کر چکے تھے۔ یہ اعتراض بہت سطحی سا ہے۔ نثری نظم اور ایسے شاعرانہ ٹکڑوں میں بہت تفاوت ہے۔ شاعرانہ نثر قطعیت اور جامعیت پر مبنی ہوتی ہے۔ ایسا اظہار خود میں نامکمل ہوتا ہے۔ شاعرانہ نثر شروع سے لے کر آخر تک مبہم اور معنویت سے خالی ہوتی ہے۔ جبکہ نثری نظم کا معاملہ مختلف ہے۔ اس میں تو شاعر کے ذہن میں پوری کہانی چل رہی ہوتی ہے۔ وہ اس کے کردار بھی ڈھونڈ لیتا ہے۔ یوں وہ اول تا آخر ایک کلی تجربے کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ پھر اس میں برتے جانے والے استعارے، علامتیں اور امیجز(Images) اسے آرٹ کے قریب تر کر دیتے ہیں جو اپنا تخلیقی جواز فراہم کرتے ہیں۔ نثری نظم پیرگراف میں بھی لکھی جاتی رہی ہے۔ یہ بھی اس کا فن اور تکنیک ہے۔ بودلیئر نے جب نثری نظم لکھنے کا آغاز کیا تو اسے پیراگراف میں لکھا۔ ہمارے ہاں بھی چند نظم نگاروں نے اس میں تجربہ کیا۔ ثروت حسین کی یہ نظم دیکھئے:
’’ پرندوں اور بادلوں سے خالی آسمان کے نیچے کسی دور دراز اسٹیشن کے برآمدے میں ریت بھری بالٹیاں اور ایک بھاری زنجیر ۔۔۔ جنگلے کو تھام کر پھیلتی ہوئی بیلیں، رُکی ہوئی مال گاڑی کے پہیے اور پتھروں کی ابدی خاموشی میں قریب آتی ہوئی یاد، کبھی کبھی چمکنے والی بجلی کی چکا چوند میں آبائی مکان کی جھلک، جہاں کیاریوں کے پاس ایک بیلچہ بارشوں میں بھیگ رہا ہے۔۔۔۔
کوئی ہمارا نام لے کر پکارتا ہے، کیا وہ لڑکی اب بھی کسی کھڑکی پر کہنیاں ٹکائے ہمیں اداسیوں کے سرسراتے جھنڈ سے گزرتے دیکھ سکتی ہے ۔۔۔ یہاں تک کہ شام ہو جاتی ہے۔‘‘ (11)

یہ نظم پیراگراف میں ہونے کے باوجود کسی قطیعت یا جامعیت کا اعلان نہیں کر رہی، نہ ہی اس نظم کی سطروں کے مفاہیم کو کسی دائرے میں مقید کیا جا سکتا ہے۔ نثری نظم کا یہ فن اسے باقی اصناف سے ممیز کرتا ہے۔

فنی اعتبار سے نثری نظم کو یہ اختصاص بھی حاصل ہے کہ اس ہیئت /صنف کے موضوعات خود کو عالمی شخصیت، کسی بحران یا جنگ سے بھی جوڑتے ہیں۔ نثری نظم اپنا رشتہ بین الاقوامیت کے ساتھ مضبوط کرتی ہے۔ وہ علاقائی سرحدوں کو توڑتے ہوئے ہر موضوع کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نازی حکمران نے جب پولینڈ کو تباہ کر دیا تو بعد میں ہمارے ہاں کئی باشعور شاعروں نے اس درد کو محسوس کیا اور کافی عرصہ گزر جانے کے بعد بھی انہیں نظموں کا موضوع بنایا۔ کاشف رضا نے چارلی چپلن کے لیے نظم لکھی جو پڑھنے کے قابل ہے:
’’ چارلی چپلن نے کہا
اُسے بارش میں چلنا پسند ہے
کیونکہ تب کوئی اس کے
آنسو نہیں دیکھ پاتا

اس نے چار شادیاں کیں
اور بارہ معاشقے
عورتیں اس پر فدا تھیں
وہ انہیں کسی بھی وقت
جوائے رائڈ دے سکتا تھا‘‘ (12)

نثری نظم میں تکنیکی اور فنی لحاظ سے بے شمار امکانات پوشیدہ ہیں جنہیں تلاش کیا جانا چاہیے۔ نثری نظم میں مکالماتی انداز بھی اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ مکالمہ کسی فرد یا سماج سے ہو سکتا ہے۔ نثری نظم کی یہ تکنیک نئے فنی پیمانے وجود میں لاتی ہے۔ ثروت حسین کی نظم ’’ایک پل بنایا جا رہا ہے‘‘ سے چند سطریں ملاحظہ ہوں:
’’ میں ان سے پوچھتا ہوں:
پُل کیسے بنایا جاتا ہے؟
پُل بنانے والے کہتے ہیں:
تم نے کبھی محبت کی
میں کہتا ہوں:محبت کیا چیز ہے؟
وہ اپنے اوزار رکھتے ہوئے کہتے ہیں:
محبت کا مطلب جاننا چاہتے ہو
تو پہلے دریا سے ملو ___ ‘‘ (13)

نثری نظم کا فن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس ہیئت /صنف کے لیے مروجہ اوزان یا بحور کی جو قربانی دی جاتی ہے وہ کسی صورت رائیگاں نہیں جا سکتی۔ یہاں تو شاعر کا کڑا امتحان ہوتا ہے کہ اس نے کسی خارجی مدد کے بغیر داخلی آہنگ کو تشکیل دینا ہوتا ہے جو دراصل شعریت کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔ نثری نظم لکھنے کا عمل سرکس کے اس جوکر جیسا ہے جو باریک رسی پر چل کر اپنا فاصلہ طے کرتا ہے ۔ اس میں جہاں کہیں جھول آ گیا نظم اپنے فن کو مشکوک کرے گی اور شاعر منہ کے بل گرے گا۔

مندرجہ بالا بحث سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ صنف فنی جہات میں متنوع پہلو رکھتی ہے۔ اسے لکھنے کے اتنے ہی طریقے ہیں جتنے اس دنیا میں موجود نثری نظم نگار ۔ نثری نظم اپنے ساتھ تخریب اور تعمیر کا سامان خود لے کر وارد ہوتی ہے۔ اس کو چند پیمانوں پر ماپنا ناانصافی ہو گی۔ اس حوالے سے نئے لکھنے والوں کی تربیت ضروری ہے تا کہ وہ اس غلط فہمی سے پاک رہیں کہ جو کچھ انہوں نے تخلیق کیا ہے وہ نثری نظم کے زمرے میں شمار ہو گا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آزاد نظم سے بحر حذف کر دی جائے تو وہ نثری نظم کہلائے گی۔ ایسا ہرگز نہیں نثری نظم تو لکھنے والے سے گہرے شعور اور مکمل کمٹمنٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔ نثری نظم لکھنے والے کے ذہن میں چند فنی پیمانے ضرور ہونے چاہییں تا کہ وہ ان کی پابندی کرتے ہوئے کوئی لایعنی یا بے معنوی نظم خلق کرنے سے گریز کرے۔

حوالہ جات

۱۔ محمد ہادی حسین، شاعری اور تخیل، مجلس ترقیء ادب، لاہور ، ۲۰۱۵ء، ص ۲۱
۲۔ سعادت سعید، اردو نظم میں جدیدیت کی تحریک، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۷ء، ص ۶۲
۳۔ ناصر عباس نیئر، ڈاکٹر، نظم کیسے پڑھیں، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، ۲۰۱۸ء، ص ۱۵۶
۴۔ افضال احمد سید، مٹی کی کان، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۰۹ء، ص ۲۰
۵۔ کاشف رضا، سید، ممنوعہ موسموں کی کتاب، شہر زاد، کراچی، ۲۰۱۲ء، ص ۳۰
۶۔ نصیر احمد ناصر، سرمئی نیند کی بازگشت، بک کارنر، جہلم، ۲۰۱۷ء، ص ۱۳
۷۔ ساحر شفیق، خود کشی کا دعوت نامہ، دستک پبلی کیشنز، ملتان، ۲۰۱۰ء، ص ۷۸
۸۔ زاہد امروز، کائناتی گردش میں عریاں شام، سانجھ، لاہور، ۲۰۱۳ء، ص ۳۱
۹۔ انجم سلیمی، ایک قدیم خیال کی نگرانی میں، دست خط مطبوعات، فیصل آباد، ۲۰۱۷ء، ص ۸۳
۱۰۔ تنویر انجم، نئی زبان کے حروف، آ ج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۲۰ء، ص ۱۱۳
۱۱۔ ثروت حسین، کلیات، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۱۵ء، ص ۳۵
۱۲۔ کاشف رضا سید، ممنوع موسموں کی کتاب، شہرزاد، کراچی، ۲۰۱۲ء، ص ۷۳
۱۳۔ ثروت حسین، کلیات، آج کی کتابیں، کراچی، ۲۰۱۵ء، ص ۷۲

Categories
شاعری

اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں
موت کو رشوت دیتے ہیں
اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں
وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں
اور امید رکھتے ہیں
ہم خود کو ہلاک کر لیں گے
وہ چڑیا گھر میں
شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں
اور جب ہم وہاں سیر کرنے جاتے ہیں
اس دن وہ شیر کا راتب بند کر دیتے ہیں
جب چاند ٹوٹا پھوٹا نہیں ہوتا
وہ ہمیں ایک جزیرے کی سیر کو بلاتے ہیں
جہاں نہ مارے جانے کی ضمانت کا کاغذ
وہ کشتی میں ادھر ادھر کر دیتے ہیں
اگر انہیں معلوم ہو جائے
وہ اچھے قاتل نہیں
تو وہ کانپنے لگیں
اور ان کی نوکریاں چھن جائیں
وہ ہمارے مارے جانے کا خواب دیکھتے ہیں
اور تعبیر کی کتابوں کو جلا دیتے ہیں
وہ ہمارے نام کی قبر کھودتے ہیں
اور اس میں لوٹ کا مال چھپا دیتے ہیں
اگر انہیں معلوم بھی ہو جائے
کہ ہمیں کیسے مارا جا سکتا ہے
پھر بھی وہ ہمیں نہیں مار سکتے

Categories
شاعری

ہمیں بھول جانا چاہیئے (افضال احمد سید)

اس اینٹ کو بھول جانا چاہیئے
جس کے نیچے ہمارے گھر کی چابی ہے
جو ایک خواب میں ٹوٹ گیا

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس بوسے کو
جو مچھلی کے کانٹے کی طرح ہمارے گلے میں پھنس گیا
اور نہیں نکلتا

اس زرد رنگ کو بھول جانا چاہئے
جو سورج مکھی سے علیحدہ کر دیا گیا
جب ہم اپنی دوپہر کا بیان کر رہے تھے

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس آدمی کو
جو اپنے فاقے پر
لوہے کی چادریں بچھاتا ہے

اس لڑکی کو بھول جانا چاہیئے
جو وقت کو
دواؤں کی شیشوں میں بند کرتی ہے

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس ملبے سے
جس کا نام دل ہے
کسی کو زندہ نکالا جا سکتا ہے

ہمیں کچھ لفظوں کو بالکل بھول جانا چاہئے
مثلاً
بنی نوع انسان
ٰImage: stacey Friedman

Categories
شاعری

جنگل کے پاس ایک عورت

نیند کے پاس ایک رات ہے
میرے پاس ایک کہانی ہے
جنگل کے پاس ایک عورت تھی
عورت بچہ پیدا کرنے کے درد سے مر رہی تھی
ایک شکاری وہاں پہنچ گیا
اور بچے کی آنکھوں کے عوض
عورت کی مدد کرنے پر آمادہ ہو گیا
عورت نے جڑواں بچے جنے
شکاری کے ہاتھ
آنکھوں کی دو جوڑیاں آئیں
اس وقت سکے ایجاد نہیں ہوئے تھے
ایک جوڑی آنکھ کے بدلے
زندگی بھر کا سامان خریدا جا سکتا تھا
جو لوگ دوسروں کی آنکھیں حاصل نہیں کر سکتے
اپنی آنکھوں کا سودا کر لیتے
ہر سودے کی طرح
بیچتے وقت
آنکھوں کی صرف آدھی قیمت حاصل ہوتی تھی
آنکھیں بیچنے والے
صرف آدھی زندگی خرید سکتے تھے
عورت نے شکاری سے جدا ہو کر
اپنے بچوں کو جنگل میں چھوڑ دیا
جیسا کہ اس نے اپنے شوہر کو
سمندر میں چھوڑ دیا تھا
بچے بھیڑیوں میں پل کر بڑے ہوئے
ان میں سے ہر ایک
دوسرے کو
اپنی ماں کی کوکھ کا غاصب
اور اپنی آنکھوں کے سودے کا باعث سمجھنے لگا
جب
بیلوں میں پاؤں ٹوٹنے کی بیماری پھیل جانے کی وجہ سے
اندھے غلاموں کی مانگ بڑھ گئی
ایک بردہ فروش
انہیں بھیڑیوں کی غول سے چرا لے گیا
زمین میں جتے ہوئے اندھے بھائی
ہل لے کر اتنی مخالف سمت میں چلتے کہ
ان کے آقا کو
خدا سے درخواست کر کے
ایک کھڑکھڑانے والا سانپ ان کے پیچھے لگانا پڑا
میں بہت دنوں پہلے
اس شہر کا محاصرہ کرنے آیا تھا
میرے پرچم پر رہنے والا عقاب اڑ گیا
میرے سپاہیوں نے
اپنی تلواریں ٹکسالوں میں بیچ دیں
گھوڑے نے اپنی کھال
مشکیزہ بنانے والے کو ہدیہ کر دی
شہر کی دیواروں میں
شگاف کہاں ہے
یہ اس کے چرواہوں کو بھی معلوم ہے
اور ان کی بھیڑوں کو بھی
مگر یہ جنگ
غداروں اور چوباؤں کو بھی خرید کر نہیں جیتنا چاہتا
میں سمندروں کو کشتیوں سے
اور تلوار کو تلوار سے ناپتا ہوں
میں غلام عورت کی
غلام مرد سے پیدا ہوئی اولاد نہیں
جو ایک غلام شاخ سے کمان
اور دوسری غلام شاخ سے تیر بناتا ہے
میں اس کھڑکھڑانے والے سانپ کو کچل دوں گا
اور جڑواں بھائیوں کے کندھے سے جوتا اتار کر
اسے گہری کھائی میں پھینک دوں گا
میں انہیں لے کر جنگل میں نکل آؤں گا
اور اس شکاری کو تلاش کروں گا
جو بچہ پیدا کرنے کے عوض اس کی آنکھیں طلب کرتا ہے
اور اس ماں کو تلاش کروں گا
جو بغیر آنکھوں کے بچے کو چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے
ایک دن بیچی ہوئی آنکھیں
شکاری سے سودا کردہ شخص کو پہچان لیں گی
اور اندھے بچے
اس آدمی سے اہنی آنکھیں چھین کر
اپنے شکاری کو ڈھونڈ نکالیں گے
اور شکاری سے اس عورت کا پتہ پوچھ کر رہیں گے
جو انہیں جنگل میں چھوڑ کر چلی گئی تھی
چاہے وہ عورت میری بیوی ہی کیوں نہ ہو
Image: Roberto Matta

Categories
شاعری

ایک تلوار کی داستان

یہ آئینے کا سفرنامہ نہیں
کسی اور رنگ کی کشتی کی کہانی ہے
جس کے ہزار پاؤں تھے
یہ کنویں کا ٹھنڈا پانی نہیں
کسی اور جگہ کے جنگلی چشمے کا بیان ہے
جس میں ایک ہزار مشعلچی
ایک دوسرے کو ڈھونڈ رہے ہوں گے
یہ جوتوں کی ایک نرم جوڑی کا معاملہ نہیں
جس کے تلووں میں ایک جانور کے نرم
اور اوپری حصے میں اس کی مادہ کی کھال ہم جفت ہو رہی ہے
یہ ایک اینٹ کا قصہ نہیں
آگ پانی اور مٹی کا فیصلہ ہے
یہ ایک تلوار کی داستان ہے
جس کا دستہ ایک آدمی کا وفادار تھا
اور دھڑ ایک ہزار آدمیوں کے بدن میں اتر جاتا تھا
یہ بستر پر دھلی دھلائی ایڑیاں رگڑنے کا تذکرہ نہیں
ایک قتلِ عام کا حلفیہ ہے
جس میں ایک آدمی کی ایک ہزار بار جاں بخشی کی گئی
Image: Abdullah al-Muharraqi

Categories
شاعری

اگر ہم گیت نہ گاتے

ہمیں معنی معلوم ہیں
اس زندگی کے
جو ہم گزار رہے ہیں

ان پتھروں کا وزن معلوم ہے
جو ہماری بے پروائی سے
ان چیزوں میں تبدیل ہو گئے
جن کی خوب صورتی میں
ہماری زندگی نے کوئی اضافہ نہیں کیا

ہم نے اپنے دل کو
اس وقت
قربان گاہ پر رکھے جانے والے پھولوں میں
محسوس کیا
جب ہم
زخمی گھوڑوں کے جلوس کے پیچھے چل رہے تھے

شکست ہمارا خدا ہے
مرنے کے بعد ہم اس کی پرستش کریں گے
ہم اس شخص کی موت مریں گے
جس نے تکلیفوں کے بعد دم توڑا

زندگی کبھی نہ جان سکتی
ہم اس سے کیا چاہتے ہیں
اگر ہم گیت نہ گاتے

Image: Pawel Kuczynski

Categories
شاعری

آخری دلیل

تمہاری محبت
اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے
صبح بارش ہو رہی تھی
جو تمہیں اداس کر دیتی ہے
اس منظر کو لازوال بننے کا حق تھا
اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی
ایک گم نام پل پر
تم نے اپنے آپ سے مضبوط لہجے میں کہا
مجھے اکیلے رہنا ہے
محبت کو تم نے
حیرت زدہ کر دینے والی خوش قسمتی نہیں سمجھا
میری قسمت جہاز رانی کے کارخانے میں نہیں بنی
پھر بھی میں نے سمندر کے فاصلے طے کیے
پراسرار طور پر خود کو زندہ رکھا
اور بے رحمی سے شاعری کی
میرے پاس ایک محبت کرنے والے کی
تمام خامیاں
اور آخری دلیل ہے
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

میں ڈرتا ہوں

میں ڈرتا ہوں
اپنے پاس کی چیزوں کو
چھو کر شاعری بنا دینے سے
روٹی کو میں نے چھوا
اور بھوک شاعری بن گئی
انگلی چاقو سے کٹ گئی
اور خون شاعری بن گیا
گلاس ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا
اور بہت سی نظمیں بن گئیں
میں ڈرتا ہوں
اپنے سی تھوڑی دور کی چیزوں کو
دیکھ کر شاعری بنا دینے سے
درخت کو میں نے دیکھا
اور چھاؤں شاعری بن گئی
چھت سے میں نے جھانکا
اور سیڑھیاں شاعری بن گئیں
عبادت خانے پر میں نے نگاہ ڈالی
اور خدا شاعری بن گیا
میں ڈرتا ہوں
اپنے سے دور کی چیزوں کو
سوچ کر شاعری بنا دینے سے
میں ڈرتا ہوں
تمہیں سوچ کر
دیکھ کر
چھو کر
شاعری بنا دینے سے

Image: Levi van Veluw

Categories
شاعری

شاعری میں نے ایجاد کی

شاعری میں نے ایجاد کی
کاغذ مراکشیوں نے ایجاد کیا
حروف فونیشیوں نے
شاعری میں نے ایجاد کی

قبر کھودنے والے نے تندور ایجاد کیا
تندور پر قبضہ کرنے والوں نے روٹی کی پرچی بنائی
روٹی لینے والوں نے قطار ایجاد کی
اور مل کر گانا سیکھا

روٹی کی قطار میں جب چیونٹیاں بھی آ کر کھڑی ہو گئیں
تو فاقہ ایجاد ہو گیا

شہتوت بیچنے والے نے ریشم کا کیڑا ایجاد کیا
شاعری نے ریشم سے لڑکیوں کے لیے لباس بنایا
ریشم میں ملبوس لڑکیوں کے لیے کٹنیوں نے محل سرا ایجاد کی
جہاں جا کر انہوں نے ریشم کے کیڑے کا پتا بتا دیا

فاصلے نے گھوڑے کے چار پاؤں ایجاد کیے
تیز رفتاری نے رتھ بنایا

اور جب شکست ایجاد ہوئی
تو مجھے تیز رفتار رتھ کے آگے لٹا دیا گیا

مگر اس وقت تک شاعری محبت کو ایجاد کر چکی تھی

محبت نے دل ایجاد کیا
دل نے خیمہ اور کشتیاں بنائیں
اور دور دراز کے مقامات طے کیے

خواجہ سرا نے مچھلی پکڑنے کا کانٹا ایجاد کیا
اور سوئے ہوئے دل میں چبھو کر بھاگ گیا

دل میں چبھے ہوئے کانٹے کی ڈور تھامنے کے لیے
نیلامی ایجاد ہوئی
اور جبرنے آخری بولی ایجاد کی

میں نے ساری شاعری بیچ کر آگ خریدی
اور جبر کا ہاتھ جلا دیا

Image: Mikhail Vrubel

Categories
خصوصی

افضال احمد سید ستر برس کے ہو گئے

حلقہ اربابِ ذوق کے اجلاسوں اور ان میں پیش کی جانے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

حلقہ اربابِ ذوق، کراچی کا ہفتہ واراجلاس مورخہ 04 اکتوبر 2016 کو وفاقی وزارتِ اطلاعات کے زیرِ انتظام ڈائر یکٹر یٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلکیشنز کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا۔ اس نشست کی صدارت محترمہ تنویرانجم نے کی۔ یہ خصوصی اجلاس نام ور شاعرمحترم افضال احمد سید کی ستر ویں سال گرہ پر منعقد کیا گیا۔

 

اجلاس شروع ہونے سے پہلے افضال احمد سید صاحب نے اپنی سال گرہ کا کیک کاٹا۔ عذرا عباس نے اپنی اور انور سن رائے کی جانب سے افضال صاحب کو پھول پیش کیے اور باقی حاضرین نے با آواز بلند افضال صاحب کو سال گرہ کی مبارک باد دی۔ محترمہ نگت مجید صاحبہ نے تمام حاضرین کو کیک پیش کیا۔

 

اس کے بعد افضال صاحب نے اپنی غیر مطبوعہ یا داشتوں کا ابتدائی حصہ پڑھ کر سنایا، جس میں 1947 میں ان کے خاندان کے یو پی سے ڈھاکہ منتقل ہونے کے واقعات کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کی خود نوشت سوانح سنتے وقت حاضرین کی اکثریت پر گہرا تاثر غالب رہا۔ سوانح کی قرات کے بعد تقریباً سب نے اس پر اظہارِ رائے کیا۔ خود نوشت سوانح میں بھی افضال صاحب کا مخصوص شاعرانہ اسلوب جھلک رہا تھا۔ بچپن کے اکثر واقعات کا متن ان کی غزلیات کے مجموعے “خیمہء سیاہ” کے مصرعوں کی طرح اختصار اور ابہام لیے ہوئے تھا مگراس کا تاثر بہت بھر پور اور گہرا تھا۔ ایک جگہ انہوں نے پڑھا۔ “ہم سے پہلے جو لوگ اس مکان میں رہتے تھے، ان میں سے کبھی کوئی لوٹ کر اس مکان کو دیکھنے نہیں آیا، کن حالا ت میں چھوڑا ہو گا اس مکان کو، پوری منصوبہ بندی کے ساتھ، افراتفری میں قیمتی اشیاء سنبھال کر فرار ہوتے ہوئے، سب کچھ لٹ جانے کے بعد یا وہ کہیں نہیں گئے یہیں ان کی گردنیں کاٹ دی گئیں۔ “اور یہ حصہ “ڈھاکہ میں جس گلی میں ہمارا مکان تھا اس میں با لکل عام سے لوگ رہتے تھے پتہ نہیں عام رہ جانا ان کی تقدیر تھی یا ترجیح “۔ ایک اور جگہ وہ رقم طراز تھے۔ “پرانے ڈھاکہ میں طوائفوں کے لئے مشہور بادام گلی سے میری آشنائی ان رکشہ چلانے والوں نے کرائی، جو متبادل راستوں کے ہوتے ہوئے بھی ادھر سے ہی گزر کر جاتے، کبھی کبھی گلی میں کھڑی کوئی طو ائف جسے عرفِ عام میں خانگی کہا جا تا تھا، اس سے کچھ چھیڑ چھاڑکر لیتی تھی، تو رکشے والے کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ رہتا، اگر خانگی، شرارت سے اس کے عُضوء تناسل کو پکڑ لیتی تو یہ ایک محنت کش کے لئے ایک جسم فروش کا ایثار ہوتا جو دو ٹکے کی طوائف کے پاس بھی جا نے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا۔”

 

afzal-ahmed-syed-2

خود نوشت سوانح کی قرأت کے اختتام پر اس کے حوالے سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے نگہت مجید نے کہا کہ اس نسبتاً مختصر باب میں اس قدر تنوع اور گہرائی دیکھ کر میں حیران رہ گئی۔ واقعات کی کثرت اور تیز رفتاری قاری کو پریشان کن حد تک متجسس رکھتی ہے۔ کاشف رضا نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جو تحریر ہم نے سنی اس کا بیانیہ بہت مختلف اور انوکھا ہے۔ جس میں افضال صاحب کا مخصوص شاعرانہ اسلوب جھلک رہا ہے۔ ایک مشکل جو اس حصے میں قاری کو محسوس ہوتی ہے، وہ بہت سے زمانوں کا ایک ساتھ چلنا ہے۔ یہ سوانح مکمل حالت میں سامنے آئے تو پتا چلے کہ انہوں نے زمان و مکان کو کس طرح تقسیم کیا ہے۔ بہر حال پوری تحریر پڑھ کر ہی تمام جزئیات کو سمجھا جا سکتا ہے۔ خالد معین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض جگہ عمر کا تعین کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے اور واقعات میں تفاصیل کی کمی بھی محسوس ہو رہی ہے لیکن یہ طے ہے کہ جزئیات نگاری اور تفاصیل کی حد کا تعین آپ نے کرنا ہے اور اسی طرح اسٹائل کے حولے سے بھی آپ کو پابند نہیں کیا جا سکتا ہے۔ خالق داد اُمید کے اس سوال پر کہ بہت سے سوانحی نکتے، جیسا کہ اپنے خاندان کے بارے میں تفصیل کو آپ نے بالکل نظر انداز کر دیا ہے اور بچپن کے جن واقعات کو شامل کیا ہے ان کی بھی جائز تفاصیل موجود نہیں، بس اشارہ اور صرف دلچسپ اشارہ کرکے گز رنے کا تاثر کیوں مل رہا ہے؟ اس کے جواب میں افضال صاحب نے بتایا کہ یہ تاثر درست ہے۔ بنیادی طور پر یہ سوانح لکھنے کی وجہ اس باب کے بعد شروع ہونے والے قیامت خیز واقعات ہیں، جن کے بارے میں، میں تفصیل سے لکھنا چاہتا ہوں۔ یہ بچپن کا ذکر تو ان جھلکیوں پر مشتمل ہے جو میرے لاشعور میں رچ بس گئی ہیں اور جن کے ذکر کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔ آج بھی میں خواب دیکھتا ہوں تو اکثر اپنا پچپن ہی خواب میں دیکھتا ہوں۔ افضال صاحب کے اس جواب پر سعدیہ بلوچ نے کہا، جیسا افضال صاحب نے بتایا کہ آگے چل کر وہ کچھ قیامت خیز واقعات پر لکھنا چاہ رہے ہیں لہٰذا یہ تعارف اس کے لیے معاون ثابت ہو گا۔ عذرا عباس نے کہا کہ خود نوشت کے راوی کی عمر اور واقعات کا زمانہ جو کہ ایک ہی چیز ہے، اس کی عدم وضاحت بیانیہ کوسمجھنے کے >لئے مشکل بنا رہی ہے، گر ایسا ہے تو راوی کی عمر اور واقعات کے زمان کے حوالے سے وضاحت پیدا کی جائے۔ عبدالصمد نے کہا کہ بہت سی کمینوٹیوں کے مذہبی اور لسانی حوالوں کا ذکر ہے اور اس مختصر باب میں واقعات کا کثیر الجہت مشاہدہ پیش کیا گیا ہے جس سے تحریر بظاہر گُنجلک لگنے لگی ہے مگر ایسا حقیقت میں نہیں ہے بلکہ ہر چیز واضح ہے۔

 

رفاقت حیات نے کہا کہ ڈھاکہ کاجتنا ذکر اس باب میں سنا، اسے سنتے ہوئے محسوس ہوا کہ کرچی کا ذکر چل رہا ہے۔ مقامی بنگالیوں، بہاریوں، یو پی، سی پی کے اُردو بولنے والوں کشمیریوں حتیٰ کہ پٹھانوں کا ذکر بھی ڈھاکہ کو کراچی بنا رہا ہے۔ علی ارقم نے بتایا کہ جس رقص کا ذکر پٹھانوں کے حوالے سے کیا گیا اور جسے گفتگو میں دوستوں نے اتنڑ کہا، در اصل خٹک ڈانس کی ایک خاص صورت ہے جس میں تلواروں کو لہراتے ہوئے رقص کیا جاتا ہے اور جو اب بہت کم دیکھنے میں آ تا ہے۔ محترمہ تنویر انجم نے اجلاس کے اس حصے کے اختتام پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ میرا تاثر بھی اس تحریر کو سن کر یہی ہے کہ بہت سے واقعات کا بہت ہی کم ٹائم فریم میں ذکر کیا گیا ہے اور ہر واقعے کی تفصیل سے بھی اجتناب برتا گیا ہے جس سے تحریر گنجلک ہو گئی ہے۔ اگر ہر واقعے کو اس کی مطلوبہ تفصیل دے دی جائے تو یہ چھوٹی چھوٹی الگ الگ کہانیاں ہیں جو اس آپ بیتی کو بہت سپورٹ دے سکتی ہیں بہر حال یہ سب کچھ طے کر نا لکھنے والے پر منحصر ہے کہ کس چیز یا واقعے کو کتنی تفصیل اور وضاحت سے بیان کرنا چاہتا ہے۔ اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ صدرِ نشست کی گفتگوکے بعد افضال صاحب نے اپنی کلیات “مٹی کی کان” کے بعد کی نثری نظمیں “جواہرات کی نمائش میں شاعرہ”، “مٹی میں تیرا رنگِ حنا اور بھی چمکے” سنائیں اور اس کے بعد خیمہء سیا ہ کے بعد تخلیق پانے والی غزلیں سنائیں۔ جن میں سے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں:

 

اک رنجِ من و تو کو ہمہ وقت اٹھائے
پھرتا ہوں یہی مطلعِ دولخت اٹھائے
آتش کدہ ءِ یزدِ محبت میں ملے تو
اک شمع بنامِ دل و زرتشت اٹھائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری وحشت سے جو اس حسن پہ تشدید آئی
دل یہ کہتا ہے کہ اب ساعتِ تمہید آئی
روبرو اس کے جو اس دل سا خطاکار آیا
اس کی آ نکھوں میں بھی اک شوخیِ تائید آئی
ایک آئینہ میں ایسا بھی لیے پھرتا ہوں
جس میں جب دیکھا نظر صورتِ امید آئی
اس نے سن کر یہ غزل بوسہِ لب تک نہ دیا
اس کی جانب سے بڑی سخت یہ تنقید آئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عکسِ معدوم سہی میں تیری آنکھوں میں مگر
دل مرا تجھ پہ تو اے آئینہ رُو روشن ہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دست برداری ہے اب تیغِ ستم سے تیری
یا ہماری سرِ وحشت سے سبک دوشی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزر کے منزلِ ہر خوب و زشت سے اس کی
ملیں گے جا کے بہارِ بہشت سے اس کی
جہاں سے صورتِ تنویم میں گزرتا ہوں
خیالِ چشمِ ستارہ سرشت سے اس کی

 

حاضرین کی اکثریت کے لیے جو کہ افضال صاحب کی غیر مطبوعہ غزلیں خاصے کی چیز تھیں۔ شرکائے اجلاس نے افضال کی غزلوں پر انہیں خوب خوب داد دی۔

afzal-ahmed-syed