Categories
شاعری

آدرش پہاڑ کی نوک پر رہتا ہے (ایچ-بی- بلوچ)

یہ ایک اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے
جس پر تم ہو

اس اونچائی کے نیچے
بہت سے درخت ہیں انسان ہیں
اور بہت سی چیونٹیاں اور بہت سے کتے ہیں

مگر تم اوپر ہو
اور تمہاری آنکھوں کی پتلیاں مجھے
خالی آسمان کی طرح لگتی ہیں
جس میں خود کو کھڑا ہوا پاتا ہوں

تم زور سے نہ بولو
زور سے ہنسو تو بالکل بھی نہیں
میں گر جاؤں گا!

اچھلنا نہیں
گڑگڑانا نہیں
جھکنا اور لرزنا تو بالکل بھی نہیں
میں خود سو دفعہ گر سکتا ہوں
لیکن تمہیں گرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا

یہ اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے
جس پر تم ہو
جیسے ایک پہاڑ مجھ پر ہو
جیسے ایک پہاڑ ۔۔۔۔ تم پر ہو !
Image: Norman Duenas

Categories
شاعری

میں پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں! (ایچ۔ بی۔ بلوچ)

میں صدیوں سے پتھر کے نیچے ہوں
کبھی پانیوں کی
خوفناک گہرائیوں اور وسعتوں میں
کبھی لامحدود اور سوکھے بیابان کے اندر
دم سادھے
چپ چاپ موسموں کو گزرتے دیکھتا ہوں

میں کھلے اور پھیلے ہوئے
برفیلے میدانوں کا ذکر ہرگز نہیں کروں گا
معذرت کے ساتھ
مجھے برفباری اور برف کے ساتھ کھیلنے سے نفرت ہے

دیکھو تم
میرے بارے میں غلط اندازے مت لگانا
اور غلط اندازہ پر اترانا تو بلکل بھی نہیں
چلو میں ہی تمہیں بتائے دیتا ہوں

میرے اوپر
یہ پتھر کسی نے رکھا نہیں ہے
بلکہ میں اس پتھر کے نیچے پیدا ہوا ہوں
اور دوسروں کو بھی
اس پتھر کے نیچے دیکھنا چاہتا ہوں.!
Image: Enrico Ferrarini

Categories
شاعری

زہر کا گھونسلا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

زہر کا گھونسلا

[/vc_column_text][vc_column_text]

کانٹوں سے
الجھنے کے بعد
میرے ہاتھوں کے لیے
کوملتا کا
اور کون سا جواز بچتا ہے؟

 

یہ بات الگ ہے کہ
کانٹے اپنی ضد میں
خاموش ہونٹوں اور سانپوں کی طرح
کسی کا راستہ
نہیں دیکھ رہے ہوتے

 

وہ پاؤں ہیں جو
اپنی منزل کا انتقام
خود سے لے لیتے ہیں

 

ورنہ تو
کانٹوں ہونٹوں اور سانپوں
کی خاموشی
میرے ہاتھوں کی کوملتا سے
مماثلت رکھتی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]