Categories
شاعری

حالتِ حال

1

چیخ جو اچانک گلا گھونٹنے لگی ہے
کس کس کو ای میل کروں
بھنور جو دل کو چکر دے رہا ہے
کیا اس کے ساتھ سیلفی لوں

روح کی پاتال سے ذہن کے آکاش پر تابڑ
توڑ سوال کی بارش بلی کتا کھیل رہی ہے

کیا بچ نکلوں گا میں
ہاں نہیں ہاں نہیں ہاں نہیں ہاں
بچ کے کیا کروں گا میں
آف آن آف آن آف آن آف

2

کیا یہ ایک اور اٹیک ہے
ہر دوائی کا پیکٹ نکالتا ہوں
وہم ہے ابھی دور جائے گا
یہ کس چیز کی دوا تھی بھلا
واقعی ہو کے رہے گا کیا
نہیں یہ نہیں وہ دوسری گولی
کھا نہ لوں یہ بھی وہ بھی
کیا پتا یہی کام دے جائے
جل تو جلال تو آئی بلا کو ٹال تو
پانی ہاں پانی پینا چاہئیے پانی پانی پانی

3

خیر خیر خیر ایسی بھی کیا بات ہو گئی بھلا، کیا قیامت آ گئی
ابھی سب سالا گڑبڑ گھٹالا روزمرہ محاورہ ٹھیک ہوا چاہتا ہے

مجھے لگتا ہے میں ٹھیک ہو رہا یوں
مجھے لگتا ہے میں ٹھیک نہیں ہو رہا

وٹامن سی کی آدھی ٹیبلیٹ
عرقِ گلاب ، انار دانہ
سبز الائچی کا ایک دانہ
کسی کو بلاؤں آواز دوں آواز
آواز کہاں گئی، ہیلو! ہیلو آواز!
ہیلو! ہیلو! یہ اندھیرا۔۔۔

4

مجھے کچھ نہ بتانا انہوں نے طے کیا تھا
کیسے میں نے گریبان پکڑے، گالیاں دیں
کیسے میں نے ہاتھ جوڑے، تقریریں جھاڑیں
یہ کوئی بیماری نہیں، یار، سرے سے نہیں
میں کہہ رہا ہوں نا، میں نے ایک بار پھر کہا
یہ تو بس ۔۔ ایک غیر معمولی کیفیت ہے! بس!!

اس بارے میں لکھتے ہوئے کیا لگتا چاہئے
جیسے عصابی دورہ ابھی جاری ہے
جیسے ٹرین ابھی اسپیڈ پکڑ رہی ہے
اور میں اس کے دروازے سے لٹک رہا ہوں

5

کیا فائدہ ہو گا
کسی بھی چیز کا
کسی بھی شخص کا

کوئی تو ہو
کوئی نہ ہو
کہیں چلا جاؤں
نہیں جا سکوں گا
کہیں جانا چاہئے
نہیں جانا چاہئے

6

بر آمدے میں ہمسائے باتیں کر رہے ہیں
کیا اب انہیں بھی ڈسٹرب کرو گے
شرم تو نہیں آتی خامخا تنگ کرتے
ایسی کلیشے صورتِ حال توبہ توبہ
زور لگا کربھی تم سے بولا تو جا نہیں رہا
کیا کہو گے کیا بتاؤ گے کیا سمجھاؤ گے
ان بچاروں کو کلیشے کا مطلب تک نہیں آتا

گلی کے لوگ چل پھر ہنس بول لڑ جھگڑ رہے ہیں
اور لٹکے ہوئے ہو، زندگی اور موت کے در
میان آف آن آف آن آف آن

7

وہ پوچھتے ہیں تم ٹھیک تو ہو کیا ہوا کیا ہوا کیا مسئلہ ہے

کچھ بولوتو ہمیں بتاؤ یہ پانی پیو کسی نے کچھ کہا کیا ہوا کیا ہوا

جی میں تو آئی اک اک کو بڑھ کر جی سے لگاتا اور بتاتا

خاک بتاؤں سات زبانیں آتی ہوں گی ایک بھی شبد الچ نہیں پاتا

آف آن آف آن کیا قیامت کو سٹینڈ بائی پہ لگا کر چپ رہا جاتا ہے

میں فرداً فرداً مسکراتا ہوں سر اظہار کی ہر مغموم طرز پہ ہلاتا ہوں

کچھ کہہ سکتا تو ایک ہی وقت میں سب کہہ دیتا جو کہا جاتا ہے

لیکن میں کچھ بھی نہیں کہتا، اور پھر میں کچھ بھی نہیں سنتا

ایک ب لفظ ب معنی مسکراہٹ میرے لئے وقت کی آخری جگہ ہے

یہ اس منچ کا پنچم سر تھا، یہ اس نظم کا / key مصرع ہے

8

یہی ہونا رھا
ہر وقت ہر چیز ہر جگہ ہر شخص ہر مسئلے پر حل ہر سوال ہر جواب پر لڑکے ہر لڑکی ہر شاعر ہر ادیب ہر حقیقت ہر افسانے ہر ڈرامے ہر ناول ہر نظم ہر غزل ہر عشرے ہر انشائیے ہر مضمون ہر مقالے ہر دوست ہر اجنبی ہر ظالم ہر مظلوم ہر فرد پر سماج ہر لیڈر ہر عوام ہر پھول ہر ستارے ہر تشبیہ ہر استعارے ہر دریا ہر کنارے پر بندے ہر خدا ہر کتاب ہر فلم ہر گانے ہر پوسٹ ہر کمنٹ ہر خبر ہر ٹویٹ ہر کارٹون ہر لطیفے ہر چوری ہر ڈاکے ہر قتل ہر اغوا ہر امن ہر جنگ ہر جرم ہر سزا ہر مرض ہر دوا ہر کمرے ہر ہوٹل ہر مکان ہر گھر ہر دل ہر سر ہر پھر ہرگر ہرفر ہردر ہرڈر ہرپر ہرہر ہر ہر ہر
کیوں سوچتا ہوں
سب کے بارے میں
کیوں سوچتا یوں
کسی کے بارے میں
کیوں سوچتا ہوں
اپنے بارے میں
کیوں ہوں
کیوں

9

آنکھ سے اوجھل پہاڑ
میرے اوپر آن گرا ہے
باہر سے نہیں اندر سے
میں کھڑا بیٹھا لیٹا زندہ مردہ تھا ہوں
ختم ہوتی دنیا کے درمیان
میں واحد جمع حاضر غائب متکلم ہوں
بنیادی رنگوں میں تحلیل ہوتے منظروں کے بیچ
میں ایک ساکن گردش ایک موجود معدوم ہوں
گم ہوتے حافظے کے ساتھ
میں اجازت چاہتا ہوں

10

یا پھر ایک آخری کوشش کرتا ہوں
خود سے جیت گیا
تو کیا ہار جاؤں گا

آواز ساتھ چھوڑ گئی
بینائی ہاتھ سے جا رہی ہے

ایک آخری کوشش ایک آخری خواہش
میرے سختی سے بھنچے ہوئے ہونٹ
کسی طرح مسکان کا روپ دھار سکیں

جسم سے نکلتی جان کی قسم
میں نے صرف محبت کی تھی

Categories
شاعری

ریسکیو آپریشن اور دیگر نظمیں

ریسکیو آپریشن

ماں سے ڈانٹ پڑی کہ ٹھیک سے دانہ دنکو ، اس پر ان کو، اوپر ڈیڈی اور نیچے ہوسٹل وارڈن باگڑ بلے کی آنکھوں کے مشترکہ تاروں کو، شوخی سوجھی

پاس ہی کوریڈور میں اک روشن دروازہ کھلا پڑا تھا ، پٹ سے ٹکرائے، پر مڑے نہیں، دونوں بھائی کمرے میں در آئے

پھر کیا تھا، اٹھکیلیاں کرتے کرتے چھوٹے میاں کے شہپر پنکھے سے جا ٹکرائے اور میں نے سر تھام لیا

عامر نے زخمی کو میدانِ امن سے جمع کیا اور اپنے طائر ڈاکٹر محراب حسین سے مل کر اجنبی در انداز کی جان بچا لینے کا طمع کیا

ان دو ٹین ایجر سرد و گرم چشیدہ زمانے بھر کے سنجیدہ نرسوں نے مسکرا مسکرا کر ٹنکچر آیوڈین لگا کر غازی کو اس کی رجمنٹ تک واپس پہنچایا

تھوڑی دیر میں ڈارون کی بچی وہ فیملی اپنے زخمی ممبر کو چک کے باہر پھینک چکی تھی، مصطفی کمال مہارت سے اسے ترکی بہ ترکی سمیٹ ہی لایا

لکی کبوتر! شکر کر ہم نے نہیں پھینکا تھا ہمدردی سے پُر فکشن اور محبت میں گم شاعری کی بکس کا خالی ڈبہ!

جس کی دیواروں میں چاروں طرف تیری معصوم آنکھوں سے ملتے جلتے گول مٹول دریچے کھلے پڑے ہیں

لکی کبوتر! میرے سینے میرے یثرب میرے مدینے میں بھی تیرے پنجرے جیسا اندھیرا ہے

اور اک گھائل پنچھی تیری مثال سے حوصلہ پا کر دھڑکن دھڑکن صبح کی جانب بھاگ رہا ہے

“یہ چار چھے پل”

یہ چار چھے لفظ، اور سورج
ساتھ لے آئیں گے نظم، اور آگ
یہ دو تین لائنیں، اور ہوا
ساتھ لے آئیں گی نظم، اور پانی

شاعر کے پاس ہے
غزل کا پیمانہ ، جتنا بھر جائے
عشرے کا گھڑا، جتنا خالی رہ جائے

شاعر جو سب رنگوں کی مٹی
کا بنا ہے
شاعر جسے ستر ماؤں نے مل کے جنا ہے

شاعر کی مرضی

(منظر اعجاز منظر کی ایک نظم کے عنوان کے سحر میں)

عشرہ // جنگی قیدی

ابو ابو جنگی قیدی کیا ہوتے ہیں

بیٹا جنگ میں قید کئے جانے والوں کو
جنگی قیدی کہتے ہیں
میں کہتا ہوں

ایک دن ہم بھی
دشمن کی فوجوں سے
لڑائی ہار گئے تھے

تب سے اب تک ہم بھی جنگی قیدی ہیں

پچیس کروڑ جنگی قیدی!
جن پہ جنیوا کنوینشن لاگو نہیں ہوتا

اتواریہ // ہولو کاسٹ اور چھٹی کمانڈمنٹ

1.
ہولو کاسٹ! ایسا کچھ نہیں ہوا
وہ محض ایک ڈراؤنا خواب تھا

اگر ایسا کچھ ہوا ہوتا
کل کے مصنوعی مظلوم
آج کے حقیقی ظالم نہ ہوتے

کل کے حقیقی ظالم
فرضی احساسِ گناہ کے مارے
آج کے حقیقی ظالم کو جپھیاں نہ ڈالتے

مگر ہولو کاسٹ؟ ایسا کچھ نہیں ہو رہا
یہ محض ایک ڈراؤنا خواب ہے

2.
سنا ہے پتھروں پر کندہ تھے
دس کے دس احکاماتِ ربانی

“اور تم قتل نہیں کرو گے!”
چھٹی کمانڈمنٹ
پتھر کی بجائے
موم کی لکیر نکلی

سانپ لکیر پیٹتے رہے
موم کی لکیر
خون کا دریا بن گئی
کیا سانپ خون میں تیر لیں گے؟

3.
ہولو کاسٹ! اگر ایسا کچھا ہوا ہوتا
تو اس پر سوال اٹھانا جرم نہ ہوتا
وہ جن کا یہ سب کیا دھرا تھا
ان انسان دوست ریاستوں میں
تم قرآن وغیرہ جلا سکتے ہو
تم خاکے وغیرہ چھاپ سکتے ہو
ہولو کاسٹ پر انگلی نہیں! یہ ہماری ریڈ لائن ہے! ورنہ۔۔
اس نے انگلی اٹھائی اس نے بازو پھیلایا اس نے مکا لہرایا
۔۔جانوروں کے انسانی حقوق پر جان دینے والے جان لے سکتے ہیں
گدھ نے ادھوری لاش کے سینے پر پنجوں سے V کا سائن بنایا

4.

لڑائی تو عہد نامہء قدیم
اور جدید کے درمیان تھی
بیچ میں قرآن کیسے آ گیا

اے عیسی کی بھیڑو
اے موسیٰ کے بچھڑو

تم جس کا انکار کرتے آئے ہو
تمہارے نبیوں کو اس کے ساتھ ماننے والے ، ہم
کب تک تمہارے سیاہ اعمال نامے سرخ لہو سے دھوتے رہیں
کب تک تمہارے ایک دوسرے پر واجب قصاص چکاتے رہیں
کب تک تمہارے ٹریڈ ڈیفیسٹ اپنی جانوں سے بھرتے رہیں

5.
ازلی گناہ پر
جھوٹ موٹ لرزاں
عیسیٰ کی بھیڑیں

چھٹی کمانڈمنٹ
کے پرخچے اڑاتے
موسٰی کے بھیڑیے

سچ سچ بتا
تُو کس کی طرف
سے کھیل رہا تھا
اے محمد (ص) کے خدا

6.
وہ جن کے مرد غلام عورتیں لونڈیاں بنا لی جاتیں
وہ جن کی نرینہ اولادیں موت کے گھاٹ اتار دی جاتیں
وہ مظلوم جو بچ کے بھاگ نکلے
وہ جن کا ظالموں نےبپیچھا کیا
وہ جن کو دریا نے رستہ دیا ۔۔۔۔ وہ کون تھے؟

بنی اسرائیل کو بنی فرعون سے الگ کرنے میں
کیا دریا نے غلطی کی؟

کیا عصا نے غلطی کی؟

کیا خدا نے غلطی کی؟

یا صرف ہم نے جو آلِ ابراہیم پرپنجگانہ درود بھیجتے رہے!

7.
یوروپا جانے
جس نے تمہیں قتل کیا
یا نہیں کیا

یوروپا جانے
جس نے تمہیں بے دخل کیا
یا نہیں کیا

امیریکا جانے جس نے تمہیں روپیا دیا
اور تم نے ہمیں بے دخل کیا
امیریکا جانے جس نے تمہیں اسلحہ دیا
اور تم نے ہمیں قتل کیا

8.
یہ کہ تم مسلط کر دیے گئے
ہماری دھرتی پر ہمارے آکاش پر
یہ کہ تم نے نکال باہر کیا ہمیں
ہمارے آبائی گھروں سے

یہ کہ تم نے جلا کے راکھ کر دیے
ہمارے باغ ہمارے کھیت کھلیان
یہ کہ تم نے اڑا کے خاک کر دیے
ہمارے سکول ہسپتال مکان دکان

ہم تمہارے احسانات کا بدلہ کیسے چکا سکتے ہیں
جے ہو تمہاری اے بنی اس را ایل اے بنی فر عو ن

9.
یہ کہ تم نے بارود بھری مترنم لوریاں دیں
خود کش معذوروں کو، دہشت گرد شیر خواروں کو
یہ کہ تم نے طاقتور بموں کے انجیکشن لگائے
بوڑھوں اور بچوں اور زخمیوں اور بیماروں کو
یہ کہ تم نے ریپ کیا گھروں کے ملبے پر حاملہ عورتوں کو
یہ کہ تم نے چن چن کر مارا ، ایک ایک کر کے سب کو
یہ کہ تم نے بالوں سے پکڑ کر گلیوں میں گھسیٹا
اور گالی نکال کے گولی مار دی ۔۔ کسی کو بھی!

یہ تو کچھ بھی نہیں
یہ تو کچھ بھی نہیں

10۔
اس کی گڑیا کے بال
گریپ فروٹ رنگے تھے
اسریٰ کے اپنے گالوں کی طرح

چھوٹے بھیا سے یکسر مختلف
وہ تو پکے ہوے انار سا رس رہا ہے

آڑو، خوبانی، آم، پستہ، اخروٹ، بادام
فرش پر اسریٰ کے ہمجولی کھِلرے پڑے ییں

انہیں چاہئیے خوب اچھی طرح پیک کریں
اسریٰ لوگوں کو آئس کریم فریزر میں رکھنے سے پہلے
سٹرابری جوس کہیں رستے میں نہ بہنے لگے

ع // کامی اور اس کے ہمسائے

سکول رجسٹر میں اس کا نام کامران بعد میں درج ہوتا

ہم، جولی لوگ، اسے پہلے ہی کامی کہہ کر بلانے لگے

لیڈی برڈ کی جنس کا انکشاف طبی معائنے کے دوران ہوا

جب یہ پتا چلا کہ اس کے کاغذ اور بائیں پیر کے پور پورے نہیں

سلطنتِ انسان دادِ کمرہ میں کامران عرف کامی کو تب سے حاصل ہے

ایک غیر قانونی ریفیوجی کا منفرد، متاثر کن اور مشکوک اسٹیٹس

ہفتہ بھر بند پنجرے میں رکھ کر اسے چھوڑ دیا گیا

کھلے پنجرے میں، اس کا استقبال ایک عجیب الخلقت جانور نے کیا

آج کل نئے سرے سے پر پھڑپھڑانا سیکھ رہا ہے، سیکھ رہی ہے

وہ مجھ سے

میں اس سے

Categories
تبصرہ

عشرے: ادریس بابر کی نئی صنفِ سخن اور شعری مجموعہ (اسد فاطمی)

ادریس بابر کا شعری مجموعہ ‘عشرے’ چھپ کر آ گیا ہے اور یہ اس کی اختراع کردہ نئی صنفِ شعر عشرہ پر لے دے کا وقت ہے۔ دس مصرعوں کی اس مرکب صنفِ شاعری پر اب تک کافی کچھ کہا اور لکھا جا چکا ہے اور نئے لکھنے والوں میں اسے موزوں پذیرائی مل رہی ہے۔ کتاب کے آغازیے میں شاعر نے بہ تکرار یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نئی صنفِ سخن کا رخ واضح طور پر جدید سے مابعدِ جدید کی طرف ہے۔ اس دعوے پر پورا اترنے کے لیے یہ کن خواص کی حامل ہو، اس کا احاطہ بہت آسان نہیں، البتہ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مابعد جدید دور جدید اور قدیم ہیئتوں کے پگھلنے اور ڈھلنے کا، اور متن و معانی میں کھل کھیلنے کا دور ہے۔ ادریس بابر کے عشروں کا مجموعہ ہمارے سامنے ہے اور اس کے سبھی عشرے ہیئتی ترکیب میں ایک دوسرے سے منفرد ہیں۔

“مرزا باطن دار بیگ” ایک نثری افسانچہ ہے، “ایک دلکش چڑیل کا نوحہ”، اور “مرحوم کی یاد میں” بادی‌النظر میں نثری شخصی خاکے ہیں، “ماب کشی”، اور “شاعری کے عالمی دن پر” اخباروں میں چھپنے والی نامہ بنام مدیر جیسی نثری تحریریں ہیں جو ایسا لگتا ہے چونکہ اتفاق سے دس سطور پر مشتمل ہیں سو یہ تحریریں مذکورہ شعری ہیئت کی کشادگی سے رعایت پا کر عشروں کی کتاب میں آ گئی ہیں۔ معصوم، نالی ووڈ، بُھلیکھا، مسٹر وی ۲، نظم عیلان کردی پہ لکھنے چلے ہو، ایک محبت کے اطراف میں ١، ٢، ٹکٹ، نیا سال، عالم بی‌بی کے بچوں کی دعا، نولکھا، خان رمضان خانصاحب، لاسٹ ٹمپٹیشن آف کرائسٹ، اور موبائل ایک طرح سے پانچ بَیتوں کی مثنویاں ہیں، لیکن ان میں سے کچھ کچھ کہیں کہیں بحور کے توازن میں آزاد نظم سے جا ملتی ہیں۔ جہاں یہ انحراف ہے وہاں یہ مثنویاں تو نہیں رہیں لیکن عشرے کی لچکدار ہیئت نے انہیں سنبھال لیا ہے۔ لاہور میں، دیکھتا ہوں، اور پیرس پارس غزل یا قصیدہ کی سی ہیئت میں ہیں۔ “قوالی کے لیے کچھ ہے؟” یوں لگتا ہے، تین مصرعوں کے تین بند والی مانوس سی ہیئت کی ایک غنائیہ نظم تھی جسے عشرے کے ہیئتی جبر کے تحت ایک اضافی مصرع شامل کر کے عشروں کی کتاب میں شمولیت کے میرٹ پر لایا گیا ہے۔ اگر یہ نظم میری ہوتی تو یقیناً ٩ مصرعوں کی ہوتی۔

ادریس بابر کا عشرہ بالعموم انہی آمیختہ و ریختہ بندشوں کا ایک محلول ہے۔ کہیں کوئی عشرہ مثنوی طرز کے دو بیت باندھنے کے بعد ایک مسدس بند سے مصرعوں کی گنتی پوری کر جاتا ہے، تو کہیں ایک اور عشرہ غزلیہ قطعہ جیسے دو تین شعر دے کر اچانک آزاد نظم بن جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ نئی صنفِ شعر، پرانی اصنافِ سخن کے نمکدان کے خانوں سے حسبِ ذائقہ ایک دو چٹکیاں لیتی ہے اور اسے دس مصرعوں کے ایک برابر برابر ساشے میں پیک کر دیتی ہے۔

زبان کی سطح پر بھی ادریس بابر نے بیباکانہ تصرفات سے کام لیا ہے۔ روزمرہ بول چال کی تہہ سے تاثرات اور لسانی آمیزشوں کا بہت سا جھاڑ جھنکار جسے ابتک شاعری نے نہیں سمیٹا تھا، وہ آپ کو اس کی شاعری میں ملے گا۔ وہ رائج لفظوں کو بگاڑتا ہے، نئے لفظ بناتا ہے۔ کسی لفظ کو وہ کسی صوتی پڑوس کے لفظ کے نیچے قافیے میں رکھ کے روند دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے بول چال کی عامیانہ ترین سطحیں اس کے لیے صحتِ لفظی کی سند ہیں۔ وہ پورے زور سے لسانی معیار و مسلّمات کے قاموسی مراکز کے کھونٹے سے رسی توڑ آیا ہے۔ جہاں عشرہ بحر میں ہے وہاں وہ لفظ کو صحیح املا کے ساتھ لکھ کے اسے بحر میں گفتاری تلفظ کے تحت رکھ دیتا ہے۔ تحت اللفظ میں پڑھنے سے آپ کو پتہ چلے گا کہ یہاں جماعتوں کو جماتوں، سائنس کو سَینس، غلَطی کو غلْطی، رہے کو رے اور چاہیے کو چائیے پڑھنا ہے۔ کہیں عشرہ نثری آہنگ میں ہے تو وہ املا کو ہی “خامخا” مبتذل کر دیتا ہے۔ اس بگاڑنے بنانے میں وہ جگہ جگہ قاری کو چِڑاتا ہے، خود چڑتا ہے۔ یوں ادریس بابر شعری ہیئتوں کی طرح لسانی ہیئات کو بھی اسی جذبے سے توڑتا پھوڑتا ہے اور اس تخریب کی اینٹ مٹی کے ذریعے تعمیرِ نو کا امکان ڈھونڈتا ہے۔

عشرہ کی صنف کے متعدد مابعد جدیدی اوصاف واضح اور ناقابلِ تردید ہیں۔ البتہ کسی نظم‌پارے کو عشرہ بنانے کی بنیادی شرط اس میں مصرعوں کی طے شدہ تعداد ہے۔ عہدِ حاضر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے جہاں کاغذ کے استعمال کا ایک متبادل پیش کیا ہے، وہیں مواد کی گنجائش کا بھی ایک مختلف تصور سامنے آیا ہے۔ عشرہ میں مصرعوں کی طے شدہ تعداد کی بنیادی شرط کے لیے اب تک پیش کیا گیا سب سے نمایاں جواز اسی تصور سے متاثر ہے۔ وقت اور جگہ بچانے کا یہ استدلال البتہ جدیدیت ہی کے مقصدیت اور ہیئت پسندانہ رجحانوں کی بازگشت ہے، اور مابعد جدید ادب کی ہیئت شکن روح سے بہت کم میل کھاتا ہے۔
کسی بھی نئی صنفِ شعر کا متعارف ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماقبل تاریخی رزمیوں سے قصیدہ نکلا اور صدیاں پہلے قصیدے سے غزل کی صنف پھوٹی۔ رباعی چلی گئی، خیام رہ گیا۔ مثنوی پیچھے رہ گئی اور مولانا روم آگے نکل گئے۔ ایک نئی صنفِ شعر کے طور پر عشرے کے مستقبل کا فیصلہ بھی وقت نے ہی کرنا ہے۔ تاہم ادریس بابر کے ان عشروں کو شعری مواد کی سطح پر دیکھا جائے تو بھی وہ اپنے منصب کے ایک عصری امتحان میں اعتماد سے کھڑا نظر آتا ہے۔

ہم ترقی‌پذیروں کی شعوری تاریخ کیا اور اس کی منازل کیا۔ ایک نازک اور ناپختہ سا جمہوری بندوبست، طاقت کے روایتی رشتوں سے اُبھرے اربابِ حلِ عقد، علمی و تخلیقی طور پر دیوالیہ اہلِ علم و ہنر، اظہار و بیان پر خود ساختہ قدغنیں، رجعتی و جدتی نعروں کا شور، جدید ٹیکنالوجی کے آئینوں میں جھلکتے قدیم بوسیدہ عکس؛ یہ اُس پردے کی محض وہ چند ایک پرتیں ہیں جن کے پیش منظر میں ہمارے معاشرے کے مابعد جدیدی تجربہ کے خدوخال ابھرتے ہیں۔ بڑے سے بڑے انسانی المیے کو ان سنا کرنے کے لیے دردمندانہ لفاظی کی مدافعتی گولیاں بازار سے بارعایت دستیاب ہیں۔ عاشقِ زار کے پاس محبوب کا رابطہ نمبر تو ہے لیکن کہنے کو کچھ نہیں۔ سنسان کنٹین پر بیٹھے اخبار کے لہولہان فرنٹ‌پیج سے میز پر گری چائے صاف کرنا سیاسی طور پر اِن‌کوریکٹ ہو سکتا ہے۔ ان حالات میں ادریس بابر کے عشروں کے شعری مواد میں عصری زندگی کے تلخ و ترش کی بیشتر جزویات اپنے تمامتر معنوی انتشار کے ساتھ آپ کو سطح پر نمودار ہوتی ہوئی محسوس ہوں گی۔

ان عشروں میں آپ کو جگہ جگہ متوسط طبقہ کی زندگی اور کرداروں کی ہیئت کذائی کی جھلکیاں نظر آئیں گی۔ زندگی کے نشیب و فراز میں جیتا مرتا محنت کش بھی کہیں نظر آئے گا۔ آپ کو حالیہ سالوں کے ایسے کئی انسانی المیے یاد دلائے جائیں گے جو میڈیا اور سوشل میڈیا پر وقتی رجحان بن کر دو چار دن آپ کا سکون برباد کر کے آئے گئے ہو گئے۔ یا وہ سانحے جن پر کسی مصلحت کے تحت عوامی سطح پر بات ہی نہیں کی گئی۔یا پھر حکمرانوں اور افسرشاہی کے مانوس رویوں سے مستعار کوئی تاثر۔ان عشروں میں آپ کو ہاسٹلوں، کنٹینوں، دفتروں، درخواستوں، ڈگریوں، نظریوں، آدرشوں، ارمانوں، رشتوں، الجھنوں میں گھرا ہوا نوجوان ملے گا۔ شہروں، محلوں، گلیوں میں رواں دواں سماجی، اقتصادی، فلمی، جذباتی، مکالماتی، نامیاتی زندگی کے لمحوں، دنوں اور راتوں سے بھی بقدر ضرورت کچھ ملے گا۔ جذبوں، جسموں، بستروں، پیغاموں، ان‌باکسوں میں رکھی ہوئی محبتیں اپنی جھلک دکھائیں گی، یا پھر ان سب مناظر سے ابھرا کوئی مرکّب سا احساس کہیں جلوہ گر ہو گا۔ کسی عشرے میں وہ آپ سے وہ باتیں کہے گا جو ہم بلاوجہ، بلاضرورت کہتے سنتے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

دنیائے شعر میں جبکہ گاہے یوں لگتا ہے کہ سب کچھ پہلے سے کہا اور لکھا جا چکا ہے، اور گاہے یوں کہ کچھ بھی نہیں کہا جا سکا۔ اس عالم میں ہمارے وقت کی ایک نمایاں سرگوشی یہ ہے کہ جدیدیت کے بعد آخر کیا ہو سکتا ہے۔ ادریس بابر ایسے حیران و پریشان مسافروں کی لاری میں آ کر زبانِ حال سے آوازہ لگا رہا ہے:

اخبار کی دس ڈسٹربنگ سرخیوں کا خلاصہ – دس مصرعے!
ڈھابے سے بازار کی جانب شاعر کا رینڈم کلِک – دس مصرعے!
تھر میں مور کا آخری ٹُھمکا – دس مصرعے!
مہربان! دس مصرعے! – قدردان! دس مصرعے!
پوری کتاب کی قیمت ہزار روپے ہے،
نمونہ چیک کرنے کے کوئی پیسے نہیں۔۔۔

Categories
شاعری

دو عشرے (رحمان راجہ)

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[divider]عشرہ//تم سے دور تمہارے پاس(oho)[/divider]

انسان خوش رہتا ہے، اپنے پسندیدہ لوگوں میں
اور اداس بنتا ہے، ان کے سامنے
جو بجھ جائیں، پریشان چہرہ دیکھ کر

تمھارا( بندو خان، حویلی) سے کھانا پینا
میری رائے بدلتا ہے ان سب ریستورانوں کے بارے
جن کے چھریوں/کانٹوں کو تمھارے ہونٹ میسر آئے

جب تک تم اس شہر میں سانس لیتی اور گھومتی ہو
میں کسی اوبر,کریم کے منہ پر پانچ سے کم ستارے نہیں بناتا
اور ہر اس کال کو ایکسیلنٹ ریٹ کرتا ہوں
جو صرف مل کر کٹ جائے

[divider]عشرہ/ نشان[/divider]

وہ میرے بازوؤں پر کوئی نشان نہیں چاہتی
چہروں پر بلیڈوں کی تحریریں
صاف پڑھی جا سکتی ہیں

دوسرے جانوروں کو نوچ کھسوٹ کر
انسان داغ یاد رکھنا بھول جاتا ہے

میرے سینے پہ ناخنوں/ دانتوں کے نشان
اسی کے ہاتھوں/جبڑوں سے عبارت ہیں

میں اسے یقین نہیں دلا سکتا
اب جب وہ میرے بازوؤں میں ہے
اور کچھ اور نہیں چاہتی

Categories
شاعری

ناموجودگی کی آزادی سے آزادی کی ناموجودگی تک (شاعر: داراعبداللہ، ترجمہ: ادریس بابر)

دارا عبداللہ کی ان عربی نظموں کا ترجمہ انگریزی میں مونا کریم اور اردو میں ادریس بابر نے کیا۔ شاعر کے کلام میں فارم کے اعتبار سے روا رکھے گئے تجربات کے بارے میں خدشہ تھا کہ انہیں ہو بہو برقرار رکھنے سے خود شعریت سرے سے زائل ہو جائے گی. دیکھئے، کہ بعض ایسی نظموں کے لیے عشروں کی صورت کیسی موزوں رہی ہے۔

[divider]جلاد کا ڈر[/divider]

جلاد کو لاحق ہے
شدید ترین درجے کا
اعصابی تناو کا مرض
اور یہ سبب بھی نہیں

اس سے سرزد ہونے والی
کوئی بھی غلطی
وہ کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو
کسی صورت نہیں مٹائی جا سکتی
جب تک وہ ارتکاب نہ کرے
اس سے بھی بڑی غلطی کا

اور یونہی چلتا رہتا ہے
دار و رسن کا یہ سلسلہ

[divider]لفظوں کا دھواں[/divider]

شیشے کا ایک بڑا جار
کاغذ کی کترنوں سے لبالب

ایک مٹھی بھر پرچیاں نکالو
ترتیب دو، ان پہ لکھے لفظ
سنائیں گے تمہیں کہانی تمہاری

یاد کرو، یہ وہی تو لفظ ہیں
جو تم عام طور سے دہراتے پھرتے ہو

جار کو آگ لگانے کی غلطی نہ کرنا
دم گھٹ کے مر جائیں گے
لوگ، اپنے لفظوں کے ہاتھوں

[divider]ہجرت[/divider]

آزادی!
اپنی آزادی کو استعمال کرنے کی آزادی
تمہارے بر خلاف!

اُن کی آزادی
ایک قید ہے
تمہارے لیے

آزادی
چلو بطور ایک لفظ سہی
سب سے بڑا کرب ہے
کسی ایسے شخص کے لیے
جو فرار ہونے میں کامیاب رہا
جبر کے شکنجے سے
آزادی کی تلاش میں
آزادی کی سرزمین تک!

[divider]کوڑا کرکٹ کی یاد[/divider]

عام سی بات ہے
چیزوں کی ری سائیکلنگ
ہمارے یہاں جرمنی میں

جیسے یہی، تمہارے کھانے پینے کا چمچ
ممکن ہے اس سے پہلے کہیں رہ چکا ہو
کسی شامی جنگجو کی بندوق کی نالی
یا کسی بانکے کے کانوں کی بالی
یا کسی گھوڑے کے سموں کی جالی
وہ بھی ڈنمارک میں

سوچو تمہارے بعد تمہارا کیا بنے گا

[divider]میرے ذہن میں پھنسے ہوئے فقرے[/divider]

(الخطیب جیل میں قید تنہائی کے دوران لکھی گئی)

تیس دن تک الجزیرہ کے پیج کو لایک پہ لایک کرتے جانا

آج میرے خاندان کو بتایا گیا کہ میں زندہ ہوں. جب میں نے انہیں سنتری کے موبایل سے کال کی تو ابا نے رو رو کے برا حال کر لیا. انہوں نے بتایا کہ میرے جنازے کی تیاریاں مکمل تھیں۔ انہیں میری شہادت کا پورا یقین تھا. یہاں اندر میں زندہ ہوں، وہاں باہر مردہ۔

جلاد، موت کا باپ، 17-7-2011

خاموشی کو احتیاط سے سنو، ابو خالد الساعور!

پھولوں کو کچلنے سے بہار کی آمد تو ٹلنے سے رہی، ابو خالد الساعور!

میں یہاں سے گزرا تھا

اگر تم دیوار پر لکھنا چاہو تو دائیں کونے رکھے ڈبے میں ایک کیل موجود ہے۔ جب تم لکھنا بند کرو اسے اس کی جگہ پر لوٹا دو.

Categories
شاعری

ہم سکول جانے سے ڈرتے نہیں اور دیگر عشرے (ادریس بابر)

ع / ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں

در اصل عربی تلواروں کے گهیرے میں
بہت اونچی شلواروں کے گهیرے میں
ہمارے بہت دوست مارے گئے
ہماری جوانمرد استانیاں
اور استاد جو ہم پہ وارے گئے
انہیں ۔۔۔۔ جنگ یہ ہارنے کیسے دیں؟
درندوں کو منه مارنے کیسے دیں؟
پهر اسکول جانے سے تو وہ ڈریں
جو اسکول کا کام کرتے نہیں
ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں


ع / سمجهدار عشرہ

وہی ٹی ہاوس کی میز ۔۔۔ ہاف وہی چاے کا سیٹ
زیرہ بسکٹ ۔۔۔ بهلی گپ شپ ۔۔۔ سبهی بازار کے بهاو
وہی ناقدری کا رونا ۔۔۔ کسی اک بیرے پہ تاو
وہی ۔۔۔ سو کالڈ ۔۔۔ زمانے کے ستم ۔۔۔ کیا لکهیں
کیا گنیں ۔۔۔ کس بت طناز کے بخشے ہوئے گهاو
دیکهے اندیکهے خداوں کے کرم کیا لکهیں
نہ سمجهنے کی کوئی شے نہ کسی شے کی سمجهه
کیا کلیشے کو سمجهه آئے کلیشے کی سمجهه
لوگ مر جاتے ہیں ۔۔۔ جی اٹهتے ہیں ۔۔۔ مر جاتے ہیں
اور ہم سوچتے رہتے ہیں کہ ۔۔۔ ہم ۔۔۔ کیا ۔۔۔ لکهیں؟


ع / بهائی بهائی

بهائی تهوڑا وقت ملے گا؟
دین کی محنت ۔۔۔ دین کی کوشش ۔۔۔
آج نماز مغرب کے بعد۔۔۔۔

۔۔۔۔میری نماز جنازہ ہو گی
میرا نام ۔۔۔ محمد عبد اللہ ۔۔۔
سولہ کا لگتا، تها گیارہ کا ۔۔۔

۔۔۔۔پهر وہ مجهے ٹائلٹ میں لے گئے ۔۔۔
جسم بهی ہارا جان بهی ہار دی
فارغ ہو کر ۔۔۔ پاک اصحاب نے
کلمہ پڑهایا ۔۔۔ گولی مار دی


عشرہ / خالی کا سا

“صنم” کا ہال ہےتاریک ۔۔۔ میرے دل کی طرح
بِلَوری پردے پہ جاری ہے سیمیا کا عمل
چلی جو فلم تو لوگوں کی سانس تهم گئی ہے
قریب ہوتے ہوئے ہیرو/ہیروئن سے دور
ہم ۔۔۔ ایک کونے میں ۔۔۔ جس پر نگاہ کم گئی ہے
کہاں گئی وہ محبت ۔۔۔ وہ کیمیا کا عمل
یہ سوچتے ہیں کہ ۔۔۔ اتنے میں ۔۔۔ اِنگرِی/بَوگارٹ
بچهڑ گئے ہیں ۔۔۔ ہمیشہ اکٹهے ۔۔۔ رہنے کو
سلگ اٹهے ہیں میرے ہونٹ بهی سگار کے ساتھ
اور اُس کے گال پہ آئس کریم جم گئی ہے


عش / یوتها ناسیا

درد کا زرد سمندر
زخمی پروں کی زد پر
سمے بهر سرمئی وادی
جگہ کی جگہ خلا تها
ضبط کی آخری حد پر
اک بے دین مسیحا
اس کی نجات سے ڈر گیا
صبر کا پهل کڑوا تها
وہ آرام سے مر گیا
اپنے کام سے مر گیا

Categories
شاعری

ضامن عباس کے عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ع / چاۓکیسی لگی

نہیں
میں تو بس
کہہ رہی تھی کہ وہ
‘کیا ہوا’
کچھ نہیں
‘کچھ کہو بھی سہی ‘
اک سہیلی یہ کہتی ہے
آپ اُس سے بھی
خیر ! چھوڑیں اسے
چاۓ کیسی لگی ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع / ہیجان

میں یہیں ہوں
کہیں بھی نہیں جا رہا
اچھا چپ تو کرو
اک تو چھٹی بھی ختم
اور اوپر سے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار ۔۔۔۔۔۔۔۔ حد ہو گئی
ٹھیک ہے، بھائی! روتی رہو!
میری بکواس تو ماننی ہی نہیں
تم بس اپنی کرو

اچھا چلتا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع/ گُمان

بس ایک چھوٹی سی بحث پر ہی چلے گئے ہو؟
کنارا کر کے
بہت سے دعوے کیے تھے تم نے
کبھی جتایا نہیں مگر میں یہ جانتا تھا
تمام دعوے ہیں وقتی جذبوں کے زیرِ سایہ
تمہیں محبت نہیں ہے مجھ سے، فقط گماں ہے
میں مانتا ہوں کہ پیار آتا تھا مجھ پہ تم کو
سو پیار آنے کو پیار ہونا سمجھ رہے تھے
مگر جو آتا ہے اُس کا جانا بھی طے ہی سمجھو
بس ایک چھوٹی سی بحث پر ہی چلے گئے ہو!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع // مردانہ انا

آنکھوں کے پار نمی موجود ہے
کانوں کو تنہائی میسر ہے
کھل کے رونا چاہتا ہوں
کسی فلم کے جذباتی سین دیکھ کر
پھر یہ دیوار کہتی ہے
اپنے ساتھ دھوکہ کر رہے ہو
کیسی طاقتور بے بسی ہے
مجھے اس سے فرار چاہیے
ورنہ دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی
احساس۔مردانگی کے مارے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع // مجھے لگتا تھا وہ یاد آتے ہیں

شانوں پر خواہشات کی عدم تکمیل کا بوجھ لیے
میں جسے، بچھڑنے کا غم قرار دیتا تھا

پھر مجھے کسی اور سے لگاؤ ہو گیا
ایک دن وہ بھی کسی بات پر مجھے چھوڑ گیا
اب کے میں پر سکون رہا

اب جو لوگ میرے قریب ہیں
وہ کسی بھی وقت چھوڑ کر چلے جائیں گے

اور میں، ابھی سے، ان کے وجود کے بغیر
اپنی دنیا کو مکمل محسوس کرتے ہوۓ

ایک نامکمل مگر نارمل زندگی گزار رہا ہوں
Image: Rene Magritte

Categories
شاعری

مدثر عظیم کے عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
عشرہ // ڈپریشن

پچھلی رات کے
پاگل پن سے
باہر آ کر
سوچ رہا ہوں

کھڑکی
کھولی
جا سکتی ہے

کمرہ
روشن
ہو سکتا ہے

عشرہ // فرسٹریشن

جی فرمایئں
بلکہ تم تو بھونکو ۔۔۔ کتے!
آدھی رات کو میسج کر کے
تم نے اپنے کتے پن کی
ایک جھلک تو دکھلا دی ہے

میسج چھوڑو ۔۔۔۔۔ کال کرو اب
کال نہیں ۔۔۔۔۔ تم آ ہی جاو
پیچھے والا دروازہ بھی کھول رہی ہوں
جلدی آو ۔۔۔۔ ورنہ میرا شوہر کتا
سات بجے تک آ جاتا ہے

عشرہ // عجیب لڑکی

وہ بات کرتی تھی فلسفے پر،
کہانیوں اور شاعری کی
وہ ایک لڑکی جو روشنی کی تلاش میں تھی
میرے اندھیروں کے ساتھ بھی تھی
وہ مچھلیوں کو دلاسے دیتی ، وہ تتلیوں سے دعایئں لیتی
کبھی وہ دھڑکن کو ساز کہتی ، کبھی وہ خوابوں کے ساتھ بہتی ، سریلی لڑکی
کبھی وہ جنت کو شُوٹ کرتی ، کبھی جہنم کو پینٹ کرتی ، پہیلی لڑکی
وہ اپنے ہونے کی کھوج میں تھی
مگر نا ہونا بھی چاہتی تھی،
عجیب لڑکی!
Image: Saša Auguštanec

Categories
شاعری

عشرہ // ہم اُسے روشنی سمجھتے ہیں

مذہبی، موت کہہ کے خوش لیں
ہم ، اِسے زندگی سمجھتے ہیں!

وہیل چئیر پر گزاری نصف صدی اُسی سائنس کا کارنامہ ہے
جس کا ہاکنگ کے بے پنہ راکنگ سر پہ انسان دوست عمامہ ہے
ملکی وے سے کہیں پرے کوئی کاینات اس کے انتظار میں ہے

ایسے سورج نہیں مرا کرتے
وہ ادھر ڈوبا اور ادھر نکلا
وقت کے لوُپ ھول پُر کر کے
وہ، ستاروں کی سیر پر نکلا
جو اُسے روشنی سمجھتے ہیں

Categories
شاعری

بے حس سیلفی، بھوکا چور اور دیگر عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ع / جیل سے ویدا موحد کا تہران کی لڑکیوں کے نام خط

اے مرے شہر کی مظلوم لڑکیو ، سن لو!

تم اپنے سر پہ جو عزت کا تاج چاہتی ہو
وہ سر چھپانے سے حاصل تمہیں نہیں ہو گا

نہ اس گھٹن سے جسے نام تم تقدس دو
نہ اس حیا سے جو ہنسنے میں بھی رکاوٹ ہے

تمہیں وہ تاج ملے علم کی فضیلت سے
تمہیں وہ تاج ملے کھیل میں سیاست میں

اب اپنے حق کے لئے مل کے سب بنو آواز !

یہاں یہ عزت و پندار وہ سیاہی ہے
جسے مٹانا فقط اک دیے کا کام نہیں

ع/ محبت، آزاد پنچھی ہے

محبت نسل پرستی سے بغاوت ہمیں سکھاتی ہے

محبت نام و نسب قوم قبیلے سے الگ
اپنی بنیاد مساوات پہ اٹھاتی ہے

اس کی بنیاد میں مسلک کی لڑائی
نہ عقیدے کی گھٹن

یہ کسی ملک کی سرحد کو کہاں مانتی ہے

یہ تو آزاد پرندہ ہے جہاں بھی جائے

کوئی مندر ہو کہ مسجد کہ کلیسا کچھ ہو
یا کوئی دشت ہو محراب کہ صحرا کچھ کو

جہاں بھی پیار ملے گھونسلا بناتی ہے

ع/ بے حس سیلفی، بھوکا چور

اک نیا زخم میری لوح پر لگا اس وقت
میں سر جھکائے جو بازار سے گزار رہا تھا

کسی کی چیخ مرے کان میں سنائی دی

سہم کے رک سا گیا، دیکھنے لگا مڑ کر
ہجوم پیٹ رہا تھا کسی سبک سر کو

بس اس کا جرم یہ تھا بھوک سے بلکتے ہوئے

کسی دکان سے روٹی کوئی چرا لی تھی

اور اس سے بڑھ کے اذیت کی بات کیا ہو گی

تڑپ کے مرتے ہوئے بے قصور شخص کے ساتھ

کہ منہ پھولا کے سبھی سلفیاں بنا رہے تھے

Categories
شاعری

بہرے سپاہی کا گیت اور دیگر عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ع // اندھیر نگری چوپٹ راج

پانچ چوھے گھر سے نکلے کرنے چلے شکار
ایک چوھے کو جوتی لگ گئی ، باقی رہ گئے چار

چاروں چوھے ڈرتے درتے جھول رھے تھے پینگ
ایک چوھے کو لگ گئی پھانسی، باقی رہ گئے تین

تینوں میں سے ایک جو بولا، سینہ ٹھوک کے “تو”
اس چوھے کو لگ گئی گولی، باقی رہ گئے دو

دونوں میں سے اک چلایا، میں ھوں زیادہ نیک
اس کو پِیر پکڑ کر لے گئے، پیچھے رہ گیا ایک

آخری چوھا دھاڑ رھا تھا بن کر ببر شیر
بلا بلی کھا گئے اس کو، اب ھے صرف اندھیر

ع // زوال

پرانی بوسیدہ گلیوں میں خون کی بو پھیل گئی ہے
نابینا گوـٖٖیّا ریاض کرتے ہوئے ابکائیاں لینے لگا ہے
قلچہ فروش اپنی دکان بند کر کے گھر چلا گیا
حلوائی پریشان ۔ گیارہویں سے پہلے دودھ کو کہاں بہائیں
نو گزے کی قبر کی اگر بتیاں بھی اس بو کو دبانے سے قاصر ہیں
متلی زدہ عورتوں نے جائے نماز سمیٹ دئیے
مسجد کے باہر لوگ جمع ہونے لگے ہیں
نعروں کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں
ابھی تھوڑی دیر میں جلوس نکل پڑے گا
کسی گمنام کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے

ع// بہرے سپاہی کا گیت

توپچی ھوں میں
گھن گھن گھج گھج دھم دھم نے
کانوں کو شور سے بھر رکھا ھے
کشمیری شاہ کک سے لے کر منچھر کی مرغابی تک
کوئی پرندہ اپنا گیت سنا نہیں سکتا
بچوں کی کلکاری ھو یا بیماروں کا نوحہ
قصے خبریں دھرنے خطبے یا مظلوم کا گریہ
دل کی راہ کو پا نہیں سکتا

محفل ھو یا تنہائی، بس اپنے راگ کو سنتا ھوں
گانا جیسا بھی ھو میرا، میں بھیا سر دھنتا ھوں

Categories
شاعری

طاہر اسلم گورا کے عشرے


عشرہ: جنگی ترانے مت لگاؤ
ایک دوسرے کے خلاف
جنگی ترانے مت گاؤ
جنگی ترانے گانے بند کر دینے چاہیئں
ایک دن یہ سارے دشمن مر جائیں گے
تمہارے اور ہمارے ہیرو بھی
تمہیں اور ہمیں اُکسانے والے بھی
جنگی ترانے روکنے کی پہل کرنے کی جرات تو کیجئے
سرحدوں پر سپاہی کھڑے کھڑے بوڑھے ہو گئے ہیں
میرے جنرل صاحب کو اپنے جنگی کاروبار کو روکنا ہے
اور آپ کے پردھان منتری کو امن کا اشیر باد دینا ہے

عشرہ: دس سطروں میں بیان
ہم دس سطروں میں اپنا بیان قلمبند کروا سکتے ہیں
وہ اگر ہمیں پکڑنا چاہیں گے تو پکڑ لیں گے
ہم اگر بھاگنا بھی چاہیں تو بھاگ نہیں سکیں گے
ویسے ہم بھاگنا چاہتے بھی نہیں
انہوں نے غداری اور کفر کے فتووں کا ایسا بازار گرم کر رکھا ہے
شہر کا شہر ایک دوسرے کو کافر اور غدار کہتا نہیں تھکتا
ہر کوئی اپنے مخالف کو گولی مارنے سے پہلے کفر اور غداری کی کالک مَلنا چاہتا ہے
ہم اپنے بیان میں ان حقارت آمیز لفظوں کو ڈکشنری سے نکالنے کا مطالبہ کرتے ہیں
ہمارا یہ بیان دس سطروں سے پہلے ختم ہو رہا ہے
کیونکہ لوگوں کا ایک ہجوم ہمیں مارنے کو آرہا ہے

Categories
شاعری

عشرہ // ڈھوک مری میں ویلینٹائن ڈے

رات کے عین ساڑھے تین سے صبح کے ٹھیک ساڑھے چار تک
تقریبن انہی ٹرکوں نے تقریبن انہی تَھڑوں پر تقریبن وہی مال اتارا

پانچ چھے بجے صفائی کرنے والے بھی آتے
اگر یہ علاقہ شہر کا ڈسِٹَنٹ کزن نہ ہوتا

سات بجے دوکانیں کھُلنے لگیں
آٹھ بجے تک دفاتر اور تعلیمی ادارے
گلیوں میں سڑکوں پر رَش بڑھا
نو، دس بجے پھر مطع صاف تھا

شام، یہی سب، ترتیب الٹ کر، دہرایا گیا
ڈھوک مری میں ویلینٹاین ڈے منایا گیا

Categories
شاعری

عشرہ // بزدلوں کے نگر میں بغاوت کا چراغ

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

عجیب دکھ ہے اذیت ہے بے قراری ہے

‘خبر ملی ہے خدایانِ بحر و بر سے مجھے’
کہ اب زمین پہ اندھیروں کی سلطنت ہو گی

وہ ایک چراغ بغات کے قافلے میں جو تھا
وہ بجھ گیا ہے مگر اس نے سر جھکایا نہیں

اب اس کے بعد بغاوت کا کس کو یارا ہے
یہ بزدلوں کا نگر، بوٹ پالشیے ہم لوگ

زمیں پہ راج وہی ظلم کی ہوا کرے گی

کہ اک چراغ کے بھجنے کے بعد کیا ہو گا
اندھیرے اور بڑھیں گے گھٹن ستائے گی

Categories
شاعری

عشرہ//ایک بہادر عورت کی موت

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ہمیں زبانی یاد رہتا ہے شجرۂ نسب
اپنے محبوب، اور نا محبوب سیاستدانوں کا

مکمل ٹریک ریکارڈ ہو گا ہمارے پاس
فرسٹ سیکنڈ تھرڈ کلاس، ہر کرکٹر کا

ہمیں کیا پتا، کس رنگ کے پھول پسند تھے اُسے
یا، کونسی مُرکی اُس کے کانوں میں آویزاں تھی
آخری بار، اپنی کار میں بنی گالہ سے نکلتے ہُوے

ہم نے کبھی اُس کا ساتھ دینے کی غلطی نہیں کی
ہم نے تو کبھی اُس کو گالی تک نہیں دی
عاصمہ جہانگیر کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں