Laaltain

بیت الخلا سے ایک نظم

شہر کی بدبو سے
شہر بھی اپنے مضافات میں بھاگ رہا ہے
تم نے بھاگتا ہوا شہر دیکھا ہے؟

آوازیں ہم کو شہرِ عدم تک لے جاتی ہیں

رات کے خالی برتن میں یہ کیسا شور بھرا ہے!
دن کی ٹانگیں کائنات کے رعب سے کانپتی رہتی ہیں
اِس لاغر ،کانپتی ٹانگوں والے دن سے کون اُمید کرے
کون اِس دل کے چیختے ویرانوں کی گونج سنے

انتظار کا الو

میں پرانا قیدی ہوں مجھ سے
دیواروں سے محبت نہیں ہوتی
ہوتی ہے تو پھر نفرت نہیں ہوتی
میں اپنے گوشت کے محاصرے میں بند
اپنے بدن کے ہراول دستوں کا سپاہی
میں اپنی ناف پر کمند ڈال کر
اس شہر کو گرانے آیا ہوں
تم سے جو ہوتا ہے
تم وہ کر لو

لاہور کا چھوٹا منافق اور منٹو نام کا سٹہ

میں جانتا ہوں شہروں کی نیندیں اجڑنا عالمی المیہ ہے
مگر بھاڑ میں جاۓ لندن اور نیو یارک کی لال آنکھیں
وہاں کی اینٹوں کی نظموں کا غزلوں میں ڈھلنے کا غم
وہاں کے رہنے والوں کو ہو تو ہو
مجھے نہیں ہے

حرامی ہجرتیں

میں ادھورے نقشے بناتا ہوں
تم نے کہاں تک جانا ہے؟
آج کے دن، اس سال، اس صدی، اس کہکشاں کے انڈے میں
تم کہاں تک جا سکو گے؟

بلاسفیمی

عطا تراب: منادی ہے
کہ جگنو جگمگاتے ہیں
تو سورج دیوتا کی شان و شوکت
ماند پڑتی ہے