غلام گردشوں کے نگہبان ستارے (صدیق شاہد)

ہم !! غلام گردشوں کے نگہبان ستارے فرق نہیں کرتے کھلکھلاتے یا اداس گالوں میں اتر آتے ہیں بے ستون محرابوں تلے آسمان ڈھونڈتی آنکھ میں ریشمی جھالروں کی سلوٹوں سے یا کسی بھی روزن سے کوئی آئینہ شاہی نظام یا مسلح دربان حتیٰ کہ عظیم الشان لشکر بھی ہمیں روک نہیں پاتے تمہارے گال […]
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا (سرمد بٹ)

اس مسلسل گھومتی زمین پہ اگی آسمان کی بے مروتی سے اکتائی ہوئی گھاس کی طرح بیزار میرے یار تم جیو بہتر سال میری اس wish کے پیپھے ہے ایک selfish cause تمھاری آواز جس میں دیکھی میں نے اپنی ناک نہ تم گرہباں چاک نہ میں گریباں چاک اother is not the hell meri […]
انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں ہماری پتلیاں پپوٹوں کے بند دروازوں کے پیچھے موت کے انتظار میں بے چین ٹہل رہی ہیں گلے آخری ہچکی کی ریہرسل کرتے سوکھ چکے اپنے سوگواروں کے سیاہ لبادے لٹکانے کو کھونٹیاں ہم نے تابوت […]
فریبِ نظر ہے سکون و ثبات

سرمد بٹ: یہ دوری کے دھوکے
زمانے کی آنکھوں پہ پردے پڑے ہیں
بہت یاد آتے ہیں

بہت یاد آتے ہی چھوٹے ہو جانے والے کپڑے ، فراموش کردہ تعلق اور پرانی چوٹوں کے نشان — —-اولین قرب کی سرشاری، سرد راتوں میں ٹھٹھرتے ہوے ‚ریتلے میدان … پہلے پہل کی چاندنی میں —- ڈھولک کی سنگت میں گاۓ ہوے کچھ گیت اور نیم تاریک رہداریوں میں جگمگاتے لمس۔۔۔۔۔ .دوستوں کی ڈینگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ […]
بازیابی

رضوان علی: زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے
خدا زمین پر صبحیں لکھنا بھول گیا ہے

نصیر احمد ناصر: وہ محض نظمیں لکھ سکتے ہیں
یا زیادہ سے زیادہ
مرگِ خود پر
تعزیتی قرارداد پیش کر سکتے ہیں!
Love is a Punishment

ابعادیت

یک سمتی کا بہلاوا ہے
اندر آؤ غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے
ہماری خاموشی، تمہاری داستانیں

ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم
عشرہ // میں نے ایک کتاب لکھی

اور منسوخ ہیں اگلے پچھلے
Mob the Omnipotent

ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے
عشرہ // بلاعنوان

دھمکی کے پتھر سے آئینہ گھائل ہے
فتوے کے فائر سے فاختہ قائل ہے
پریشر ککر کی تقلید
