Categories
شاعری

غلام گردشوں کے نگہبان ستارے (صدیق شاہد)

ہم !!
غلام گردشوں کے نگہبان ستارے
فرق نہیں کرتے
کھلکھلاتے یا اداس گالوں میں
اتر آتے ہیں
بے ستون محرابوں تلے آسمان ڈھونڈتی آنکھ میں
ریشمی جھالروں کی سلوٹوں سے
یا کسی بھی روزن سے
کوئی آئینہ شاہی نظام یا مسلح دربان
حتیٰ کہ عظیم الشان لشکر بھی
ہمیں روک نہیں پاتے
تمہارے گال پر چمکنے سے !!
Image: Esam Jlilati

Categories
شاعری

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا (سرمد بٹ)

اس مسلسل گھومتی زمین پہ اگی
آسمان کی بے مروتی سے اکتائی ہوئی گھاس کی طرح بیزار
میرے یار
تم جیو بہتر سال
میری اس wish کے پیپھے ہے
ایک selfish cause
تمھاری آواز
جس میں دیکھی
میں نے اپنی ناک
نہ تم گرہباں چاک
نہ میں گریباں چاک
اother is not the hell meri jaan
اother is the mirror
اوپر ٹیرس میں ٹہلتے افسر اور
نیچے گاڑی میں سوئے ڈرائیور میں
اوپر نیچے کے دو سورارخ common ہیں
اور نیند متضاد
سو اس میں کیسا جھگڑا
کیا فساد
کوئی کب تک جیے گا نیند
کوئی کب تک کرے گا واک
ہ when just a single missed call
ہcould end it all
شکر ہے ہم نے شاعری نہیں کی
ھم وہ پرندے جو بند کمرے میں پھڑپھڑاتے رہے
اور ہوا کی زد میں اپنے چراغ آتے رہے
ھم وہ سائے جو اپنی اوقات میں رہے
اپنے لہجے میں اپنی بات میں رہے
ہsurvival of the fittest کے
اس جنگل میں
ہم وہ وحشی جو اپنی گھات میں رہے
سو ہماری محبوبائیں بہت ناشاد رہیں
کہ ہم شبِ وصل بھی اگر مگر سوچتے رہے
چاند پیتے رہے
سحر سوچتے رہے
ستارے دیکھتے رہے
سفر سوچتے رہے
اب ان ماڈرن محبوباوں سے کون کہے
کہ جان
سن 57 کے غدر کی لٹی یہ بیوہ جوان
اردو زبان
ہidentity crisis کا شکار ہے
اسے اپنے نئے انگریزی خاوند کے ساتھ
گھلنے ملنے میں ابھی وقت درکار ہے
اور اس داد کی رسیا
غزلائی ہوئی مخلوق سے کون لڑے
لڑ کے بھی کیا ٹابت کرے
ہso meanwhile
ہم دیوانے بات کرنے سے شرمائیں کیا
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
Image: Justin Brennan

Categories
شاعری

انتظام (سلمان حیدر)

ہماری گردنوں سے لپٹے ہوئے مفلر
ہمارا گلا گھونٹتے ہیں تو بڑھی ہوئی کھردری شیو میں الجھ جاتے ہیں
ہماری پتلیاں پپوٹوں کے بند دروازوں کے پیچھے موت کے انتظار میں بے چین ٹہل رہی ہیں
گلے آخری ہچکی کی ریہرسل کرتے سوکھ چکے
اپنے سوگواروں کے سیاہ لبادے لٹکانے کو کھونٹیاں ہم نے تابوت سے بچی ہوئی لکڑی سے بنائیں
اور انہیں راہدری کی طویل دیواروں چرچ کی کرسیوں کی طرز پر ترتیب دیا
کرسیاں جن کی ٹکٹکی پر ہم سے زیادہ زندہ رہنے والوں کو اذیت دی جائے گی
آتش دان میں جلتی کھپچیاں ہماری ہڈیوں کی طرح چٹختی ہیں
کچھ دیر میں یہ شور اس سلگتی ہوئی بھنبھناہٹ میں بدل جائے گا
جو اشلوک دہرانے کے عادی بوڑھوں کے پاس سے اٹھتی ہے
ہماری انگلیاں پٹ سن کی گرہیں کھولتے بے تابی کے تشنج کا شکار ہیں
ہم اپنے پھندے کی رسی بنتے ہوئے اس خدا کی حمد گائیں گے جس نے ہمیں زندگی دی۔۔۔
Image: Ma Desheng

Categories
شاعری

فریبِ نظر ہے سکون و ثبات

ہاں یوں ہے
کہ ہم تم بظاہر
زمانے کی چھت پر
ثابت کھڑے ہیں!
سو زینو ں کو چڑھ کر
کوئی آ کے دیکھے
تو سمجھے گا یوں کر
کہ ہم تم وہیں ہیں
جہاں کل کھڑے تھے

یہ دوری کے دھوکے
زمانے کی آنکھوں پہ پردے پڑے ہیں!
لگن کی لپٹ ہے
خلاوں کی وسعت
اور ہم دو ستارے ہیں جو جل رہے ہیں
آنکھوں کی باتوں کے بہکائے لوگو
ذرا دل سے دیکھو
کہ ہم چل رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
شاعری

بہت یاد آتے ہیں

بہت یاد آتے ہی
چھوٹے ہو جانے والے کپڑے ،
فراموش کردہ تعلق
اور پرانی چوٹوں کے نشان –
—-اولین قرب کی سرشاری،
سرد راتوں میں ٹھٹھرتے ہوے ,ریتلے میدان …
پہلے پہل کی چاندنی میں —-
ڈھولک کی سنگت میں گاۓ ہوے کچھ گیت
اور نیم تاریک رہداریوں میں جگمگاتے لمس۔۔۔۔۔
.دوستوں کی ڈینگیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فراغت اور قہقہوں سے لدی کرسیاں۔۔۔۔
کھیل کے میدان۔۔۔۔۔
تنور پر پانی کا چھڑکاؤ۔۔۔۔۔
گندم کی خوشبو اور مہربان آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت یاد آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دسویں کے تعزیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مٹی اور عرق گلاب سے مہکے سیاہ لباس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مستقبل کے دھندلے خاکے۔۔۔۔۔۔۔
.رخصت کی ماتمی شام۔۔۔۔۔۔۔۔
کہیں کہیں جلتے اداس لیمپ،
سر پٹختی ہوا میں ہلتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور رات کی بھاری خامشی میں دور ہوتی ہوئی ٹاپوں کی آواز۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت یاد آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑھے ہوئے بال،
منکوں کی مالا،
سر منڈل کی تان۔۔۔۔
پرانی کتابیں۔۔۔۔۔
وقت بے وقت کیے ہوے غلط فیصلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے سفر کی صعوبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دریا کے پل پر پھنسی ٹریفک اور ریل کی سیٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
.وادی کا سینہ چیرتی ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ مکان اور دروازے۔۔۔۔۔
– اور جب یہ دروازے بند ہوئے
آہستہ آہستہ اترتے ہوے اضمحلال کی دھند میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت یاد آتے ہیں۔۔۔۔
.دور کے آسمان …اور پرندے۔۔۔
ایک ان دیکھی دنیا۔۔۔۔۔
اور اس پر بنا ہوا
عشق پیچاں کی بیلوں میں لپٹا ہوا
۔۔۔۔۔۔چھوٹی سرخ اینٹوں والا گھر۔۔۔۔۔۔
آتش دان کے پاس کیتلی سے اٹھتی بھاپ ۔۔۔۔۔
چمپی مخروطی انگلیاں۔۔۔۔۔
مضراب کو چھیڑتی ہوئیں۔۔۔۔
ایک روشن جسم آنکھیں ملتا ہوا —–
یادوں اور خوابوں کے یہ چھوٹے چھوٹے دیے —
جلتے اور بجھتے رہتے ہیں—
بجھتے اور جلتے رہتے ہیں —
اس روشنیوں بھرے شہر کی سرد مہر ، تاریک رات میں !!!
Image: Joshua Flint

Categories
شاعری

بازیابی

اب ہم اُن لوگوں کو
جو خواب دیکھتے ہیں
اور خواب بیچتے ہیں
مارتے نہیں
بہت مصیبت ہو جاتی ہے
ان کی لاشیں دفنانی پڑ جاتی ہیں
ورنہ بہت تعفن پھیلتا ہے
اور سب کو پتہ بھی چل جاتا ہے

ہم نے ایک مشین ایجاد کر لی ہے
اب ہم انھیں پکڑتے ہیں
اور ان کی آنکھوں میں
ایسی برقی رو دوڑاتے ہیں
کہ وہ ہمیشہ کے لیے خواب دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں
پھر ہم انھیں واپس چھوڑ دیتے ہیں

زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے

Image: Karen Wippich

Categories
شاعری

خدا زمین پر صبحیں لکھنا بھول گیا ہے

دن چڑھے کے خواب
شام کی آنکھوں میں بہنے لگے ہیں
رات کناروں تک بھر گئی ہے
اور کسی بھی لمحے چھلک کر
کائنات سے باہر جا گرے گی
خدا زمین پر صبحیں لکھنا بھول گیا ہے
اور شاعروں کے پاس
اتنی روشنائی نہیں
کہ لوڈ شیڈنگ کی ماری ہوئی
دھرتی روشن کر سکیں
وہ محض نظمیں لکھ سکتے ہیں
یا زیادہ سے زیادہ
مرگِ خود پر
تعزیتی قرارداد پیش کر سکتے ہیں!

Image: Daehyun Kim

Categories
شاعری

Love is a Punishment

[blockquote style=”3″]

نسرین انجم بھٹی پنجابی اور اردو کی ممتاز شاعرہ ہیں۔ ان کے مطابق ‘میں پیدائیشی طور پر بلوچ، ڈومیسائل کے اعتبار سے سندھی اور شادی کے بعد پنجاب کی ہوئی، میرا تعلق پورے پاکستان سے ہے’۔ آپ کا بچپن کوئٹہ میں گزرا، بعد ازاں وہ پہلے جیکب آباد اور پھر لاہور منتقل ہوئیں۔ آپ کی پنجابی شاعری کی دو کتابیں ‘نیل کرائیاں نیلکاں’ اور ‘اَٹھے پہر تراہ’ شائع ہو چکی ہیں۔ اردو شاعری کی ایک کتاب ‘بن باس’ شائع ہو چکی ہے جبکہ دوسری کتاب ‘تیرا لہجہ بدلنے تک’ اشاعت کے مراحل میں ہے۔ نسرین انجم بھٹی 26 جنوری 2016 کو تہتر برس کی عمر میں وفات پا گئی تھیں۔ یہ نظم ان کی آنے والی کتاب ‘تیرا لہجہ بدلنے تک’ میں شامل ہے اور معروف شاعر زاہد نبی کے تعاون سے لالٹین پر شائع کی جا رہی ہے۔ ہم زاہد نبی کے ممنون ہیں کہ انہوں نے نسرین انجم بھٹی کی یہ نظم لالٹین قارئین کے لیے عنایت کی۔

[/blockquote]

Love is a Punishment
آج باہر مت نکلنا!
باہر پیشنگوئیاں زندہ ہو رہی ہیں
جب آسمان سرخ ہو رہا ہو تو زمین بھی چنری رنگواتی ہے
مگر تمہاری شمولیت وہاں ضروری نہیں
ایسی لسٹوں میں میں ہر جگہ سے تمہارانام مٹاتی ہوئی آئی ہوں۔۔۔ مجھے پہنچنے تو دو،
دیکھو میرے ہاتھ،
انہیں پیچھے باندھ دو اور میرے بدن کی تمام سوئیاں نکالواور پوچھو کہ میں کہاں سے آرہی ہوں
وہاں بارش بہت تیز تھی
اور انسانوں کو درمیان سے کاٹتی تھی
سو جلوس کے پانچ ٹکڑے ہوئے اور میں بھاگ نکلی
یہ بتانے کے لئے کہ زندہ تو میں اپنا ثبوت خون خرابے سے ہی دیتی ہیں
منہ سے امن امن کہنے میں کیا ہرج ہے۔۔۔تم بھی کہو!
میں جہاں جہاں سے گزری وہاں وہاں محبت سزا تھی
میں نے دل کو خاموش کیاکہ عشق نہ مانگے
تمہارانام میں نے لوح محفوظ میں محفوظ ہونے کیلئے پر کٹوادئیے اور طاقتِ پرواز دعا کے طور پر جمع کرائی
اب میں کیاہوں اور کتنی ہوں دشت ِ نارسا کا دامن ہوں
اور تم! نافہ عنبر!سیاہ ہرن ہو!
مجھے معلوم ہے اُڑان قید نہیں ہوتی مگر معلوم تو بہت پیچھے کہیں رہ گیااور میں
محبت کرنے کی بجائے محبت کی حفاظت پر مامور ہوئی
میں نے اُسکے نابینا ہونے کا پورافائدہ اٹھایا۔۔۔اُسکے سب تیر میں نے توڑ دئیے
اور باقی میرے لہو میں تیرتے ہیں
لے! انسان اور دیوتا تو میں جیت لائی
مگر ہاروہاں ہوئی
جہاں میں ایک نہیں ایک نسل تھی
اور نسلیں جب اعتبارنہ بن سکیں؛
تو استقاط ہوتی ہیں
خون سے رنگے سب راستے محبت سے جدا ہونے کی سزا بھگت رہے ہیں
باہر سرخ سیال اور سیاہ جلی ہوئی روٹیوں کے ڈھیرپر اب کتے اور گدھ نہیں ہوتے
ہم خود ہی کسی نہ کسی روپ میں یہ کام کرلیتے ہیں
بھوک بیچ کر ہم ایک ایک دن خریدتے ہیں اور جہالت کے جھولے میں ڈال دیتے ہیں
لال میری پت رکھیو!
آج رنگولی ہے!آج سارے رنگ ایک ہونگے کہ نہ ملنے کے بعد تو ملنا ہی ملنا ہی
چلاؤ یہی میری گولی ہے اسے سیکھنا نہیں پڑتا۔۔۔ایکدم سمجھ میں آنے والی بولی ہے
آج اُس کی آنکھوں میں،میں ہی میں ہوں کیونکہ نشانے پر ہوں
آج رنگولی ہے آؤ کھیلیں اور پیشنگوئیاں پیش کریں۔

Image: Imad Abu Shtayyah

Categories
شاعری

ابعادیت

ابعادیت
ایک ہی جانب چلتے چلتے
کتنی عمریں بیت گئی ہیں
دس جہتوں میں کون چلے گا
بُھر بُھر کرتی جسم کی مٹی
اس آوے میں کون جلے گا
کوئی محدؔب کوئی مجوؔف
کس چہرے میں عکس ڈھلے گا
کھڑکی کے اُس پار کا منظر
یک سمتی کا بہلاوا ہے
اندر آؤ غور سے دیکھو
اتنی جہتوں کا پھیلاؤ
دیواروں کا پہناوا ہے
اب اُس خواب کی چنتا کیسی
آنکھیں جس کو دیکھ چکی ہیں
اس جیون کا اقلیدس کیا
سانسیں جس کو ریکھ چکی ہیں

Image: Barbara Licha

Categories
شاعری

ہماری خاموشی، تمہاری داستانیں

ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
اک گہرا ربط ہے

تم نے سنائیں ہمیں پریوں کی کہانیاں
ہم نے بنا لی اک جادو بھری کوٹھری

تم نے سنائیں ہمیں عشقیہ داستانیں
ہم نے اپنا لیا محبت میں مٹ جانے کا اصول

تم نے سنائے ہمیں اچھی بیویوں اور ماؤں کے قصے
ہم نے بنا لیا اپنے خون سے اک گھر

تم نے سنائے ہمیں وطن کے لیے قربانیوں کے افسانے
ہم نے ترجیح دی پردیس کی شاہراہوں پر اپنی تنگ گلی کو

تم نے سنائیں ہمیں عظیم اموات کی حکایتیں
ہم نے انتظام کر لیا اک با عزت موت کا

ہم خاموش لوگوں کو کبھی کسی نے یاد نہ کیا
اور تم رہے مقبول اپنی داستانوں کے ساتھ
بد نما حقیقتوں کے درمیان
نفرتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے
بغیر کسی گھر کے
پردیس کی شاہراہوں میں
ایک گمنام موت مر جانے کے لیے۔

لیکن ہمیشہ رہے گا
ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم

Image: Penelope Slinger

Categories
شاعری

عشرہ // میں نے ایک کتاب لکھی

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
میں نے ایک کتاب لکھی
شعر، کشٹ، اور ظیفے ملا کر
فلسفے اور لطیفے ملا کر
اگلے پچھلے صحیفے ملا کر

 

خودی / بے خودی کے موڑ پر
شعور/ لاشعور کے چوک میں
زندگی / موت کے ناکے پہ

 

میں نے لکھا کہ تحقیق، بر حق ہے جو میں نے لکھا
اور منسوخ ہیں اگلے پچھلے۔۔۔

 

اور اگرکوئی ایسا کہے جیسا میں کہہ رہا ہوں
تو اسے قتل کر دینا ہو گا
Categories
شاعری

Mob the Omnipotent

Mob the Omnipotent
آدم باغ سے نکل کر ہجوم بن گیا تھا
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے

 

ہجوم نبی کے جوتے خون سے بھر سکتا ہے
اور مکہ کی فتح کے دن
اسلام قبول بھی کر سکتا ہے
ہجوم سیاست کا پیٹ
اور کاروبار کی پیٹھ ہے
ہجوم سرسید کو نچوا سکتا ہے
ٹرمپ کو کنگ بنا سکتا ہے
ہجوم پوپ کو گرا سکتا ہے
Bob کو اٹھا سکتا ہے
ہجوم لشکر ہے
ریڈ آرمی ہے

 

ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے
ہجوم آدمی ہے
Categories
شاعری

عشرہ // بلاعنوان

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
بلاعنوان
سڑک پر جلوس موت کی اوپن دھمکی ہے
بند گلی میں بدلے کے نعرے گونج رہے ہیں
دروازے کے پیر میں گولی ماری گئی ہے

 

گالیاں آنگن کی دیوار پھلانگ آئی ہیں
دھمکی کے پتھر سے آئینہ گھائل ہے
فتوے کے فائر سے فاختہ قائل ہے

 

ابراہیم اور عیسے، موسے اور محمد
آپس میں لڑتے ہوئے مل کر میری ت-لاش کو نکلے ہیں
آنکھوں کے نمکیں پانی سے پوریں تر کر کے
دیواروں پر لکھتا ہوں، لکھتا جاتا ہوں
Categories
شاعری

پریشر ککر کی تقلید

پریشر ککر کی تقلید
میں کچن میں لوٹا تو وہ میرے سنک کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا
مندی ہوئی آنکھوں کے ساتھ کسی ادق زبان میں بڑبڑاتے ہوئے اس نے میرا مہمان بننے سے معذرت کی
ہم چمگادڑ سبزیوں کا احترام کرتے ہیں
سنک میں چھلی ہوئی گاجروں کی اترن اور کٹے ہوئے ٹنڈ کھڑے پانی میں تیر رہے تھے
اس نے جانے سے پہلے مجھے دالوں کے ماننے والے سے ملانے کا وعدہ کیا
دالوں کا ماننے والا مچھلی کے پیروکار کے ساتھ آیا
وہ چوڑے پتوں والی سبزیوں کے جنم دن کا میلہ دیکھنے جا رہے تھے
میں نے شوق اور حیرت کو ٹوکری میں ساتھ رکھ لیا
رش کی وجہ سے ہم چھلکوں پر پھسلتے ہوئے میلے سے لوٹ آئے
دن ڈھل گیا تھا اس لیے ہم نے حشرات اور چوپایوں کے عقیدت مندوں کا مناظرہ ٹی وی لاونج میں دیکھا
چھ ٹانگوں کی تقدیس گانے کے بیچ بھگڈر مچ گئی
ہم سموں تلے کچلے جانے سے بال بال بچنے والے اداکار کا انٹرویو سنتے سنتے بور ہو گئے
میں نے انہیں اپنے الحاد کا بتانے کے بعد پانی سے تواضع کی
وہ میری تھل تھل کرتی توند کی طرف بدتمیزی سے دیکھتے رہے۔۔۔۔۔