Laaltain

ہنسی کی جھوٹن اور دیگر نظمیں (سدرہ سحر عمران)

ہنسی کی جھوٹن لوگ ہمارے دکھوں پر کپاس کے پھول رکھتے رکھتے قہقہے ڈال جاتے ہیں ہم ان قہقہوں کو اپنے جوتوں کی نوکیلی دیوار کے نیچے رکھ کر دبائیں تو نفرت کی نیلی نہر پھوٹ پڑے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کی گم شدہ پازیبیں ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں ایک دوسرے کو ہجر […]

ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے منفی اعداد ہیں تم ہمیں جنگلوں سے ضرب دے کر اینٹوں کے پیالے بنا رہے ہو […]

مٹھی بھر جہنم

سدرہ سحر عمران: تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی

شہر ادھیڑا جا چکا ہے

سدرہ سحر عمران: تم ہمیں پرچموں سے مکان بنا کر دیتے
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ

میں اندھیرے کی بات سے متفق ہوں

سدرہ سحر عمران: جب ہماری نفرت کا قومی دن منایا جاتا ہے
ہماری زبانیں اگالدان بن جاتی ہیں
تم اپنے آپ کو کتنا تھو ک سکتے ہو؟