ہنسی کی جھوٹن اور دیگر نظمیں (سدرہ سحر عمران)

ہنسی کی جھوٹن لوگ ہمارے دکھوں پر کپاس کے پھول رکھتے رکھتے قہقہے ڈال جاتے ہیں ہم ان قہقہوں کو اپنے جوتوں کی نوکیلی دیوار کے نیچے رکھ کر دبائیں تو نفرت کی نیلی نہر پھوٹ پڑے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت کی گم شدہ پازیبیں ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں ایک دوسرے کو ہجر […]
ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ اور کسی سبز آنکھ میں تمہارے چہرے نہ کھل سکیں تم وہی ہو جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے منفی اعداد ہیں تم ہمیں جنگلوں سے ضرب دے کر اینٹوں کے پیالے بنا رہے ہو […]
ہماری گلیوں میں قیامت بچے جنتی ہے

سدرہ سحر عمران: ہمیں وراثت میں اپنی عیاشیاں سونپ جائیں گے
حرمزادو! خُدا کے لئے
ہمیں بانجھ پن کی دعائیں دو ۔۔۔
روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ

سدرہ سحر عمران: جب بارود کا دن آتا ہے
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
مٹھی بھر جہنم

سدرہ سحر عمران: تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی
زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں

سدرہ سحر عمران: ہم خدا سے بچھڑنے کے بعد
قبروں کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے
قتل کر دئیے جاتے ہیں
قبروں کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے
قتل کر دئیے جاتے ہیں
شہر ادھیڑا جا چکا ہے

سدرہ سحر عمران: تم ہمیں پرچموں سے مکان بنا کر دیتے
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ
ہم موت سے زیادہ خوب صورت ہیں

سدرہ سحر عمران: ہم نے آوازوں کے شہر میں جی کر دیکھا
اس خاموشی کو
جو موت سے زیادہ خوبصورت تھی
اس خاموشی کو
جو موت سے زیادہ خوبصورت تھی
میں اندھیرے کی بات سے متفق ہوں

سدرہ سحر عمران: جب ہماری نفرت کا قومی دن منایا جاتا ہے
ہماری زبانیں اگالدان بن جاتی ہیں
تم اپنے آپ کو کتنا تھو ک سکتے ہو؟
ہماری زبانیں اگالدان بن جاتی ہیں
تم اپنے آپ کو کتنا تھو ک سکتے ہو؟
میرے شہر کی فصیل پہ خدا بیٹھا ہوا ہے؟؟

سدرہ سحر عمران: سیاہ دن کی ڈائری میں ان چہروں کی راکھ
ایک تصویر جوڑتی ہے
جنہیں پچھلے سفر میں راستے لکھا گیا
ایک تصویر جوڑتی ہے
جنہیں پچھلے سفر میں راستے لکھا گیا
اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

تم ہمارے حصے کی اینٹیں
اپنی آنکھو ں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیا مکر سکیں
اس رات تک
اپنی آنکھو ں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیا مکر سکیں
اس رات تک
خدا ہم سے ملنا چاہتا تھا

جس دن خودکشی کرنے والوں کا دن منایا گیا
ہم نے دنیا بھر کی گھڑیوں سے
دو، دو منٹ نکال دیے
ہم نے دنیا بھر کی گھڑیوں سے
دو، دو منٹ نکال دیے
خدا ان کے نقشے نہیں بناتا؟

سیڑھیاں ختم ہو نے سے پہلے پہلے
ضائع کی جا چکی ہوں گی
تمام کاربن کاپیاں
ضائع کی جا چکی ہوں گی
تمام کاربن کاپیاں
خُدا اپنا لباس نہیں بدلتا

کون پڑھتا ہے زندگی کو تمہاری مو جودگی میں
اور کسے لکھنا آ جا تا ہے لفظ “موت ”
تمہارے بغیر
اور کسے لکھنا آ جا تا ہے لفظ “موت ”
تمہارے بغیر
شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا

ہم۔۔۔۔ اپنے آپ کو شہر میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں
تو۔۔۔ ہمیں تلاش لیتی ہے
کوئی نہ کوئی سڑک!!
تو۔۔۔ ہمیں تلاش لیتی ہے
کوئی نہ کوئی سڑک!!