Categories
شاعری

ہنسی کی جھوٹن اور دیگر نظمیں (سدرہ سحر عمران)

ہنسی کی جھوٹن

لوگ
ہمارے دکھوں پر
کپاس کے پھول
رکھتے رکھتے
قہقہے ڈال جاتے ہیں
ہم ان قہقہوں کو
اپنے جوتوں کی
نوکیلی دیوار کے نیچے رکھ کر
دبائیں
تو نفرت کی نیلی نہر
پھوٹ پڑے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت کی گم شدہ پازیبیں

ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں
ایک دوسرے کو ہجر بھیجا
تم میرے ہونٹوں سے
کسی ان چاہے اظہار کے طرح بچھڑ گئے
اور میں تمہاری آنکھوں سے
آنسوؤں کی طرح بے دخل ہوگئی
کسی میز پر آج بھی دو موم بتیاں
بڑی شدت سے جل رہی ہوں گی
مگر ہم روشنی کا مقدمہ ہار گئے تھے
دیکھو ہمارے اندر
کتنی تاریکیاں بھری ہوئی ہیں
کیا تمہیں کوئی راستہ سجھائی دیتا ہے؟
نہیں ۔۔
میں بھول چکی ہوں دروازہ کس طرف تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدم ہمارا کچھ نہیں لگتا

ہم معذوری کے لیے
جنمے گئے
ہمارے ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان
اور زبانیں
تمہارے کھیل کا حصہ بن گئیں
اور ہم
ٹوٹی ہوئی چپلوں کی طرح
گھسٹ گھسٹ کر چلتے رہے
سڑکیں ہمیں پہچانتی ہیں
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا شناختی کارڈ کوئی نہیں
ہماری گردنوں سے
غدار نسلوں کی ہڈیاں
لٹکی ہوئی ہیں
ہم نسلا حرامی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وفاداری کی نمبر پلیٹ

کپاس آنکھوں سے چنی جاچکی ہے
اب وہی ستارے بے لباس ہوں گے
جن کے حصے کا وقت ادھیڑ دیا گیا
خواب ۔۔۔مصر پہنچنے سے پہلے پہلے
مکڑی کے جالوں میں بدل جائیں گے
اور ہم ۔ ۔محبت کی ناجائز زمین پر
قدیم حویلی کی طرح
مشکوک کھڑکیوں سے جھانکیں گے
سلاخیں
ہماری آنکھیں ناپ کر بنائی گئیں
اور کنویں
ہماری قبریں
ہم نے کتنی صدیاں
اپنی آنکھوں کی پتھریلی زمین میں
نمک کی فصلیں اگائیں
پھر بھی ہمارے دل
تہہ خانوں میں چنوائے گئے
اب ہمارے پاس قیمتی کیا ہے
سوائے تیری پہنائی ہوئی زنجیر کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم کن موسموں کا سیاہ دن منائیں؟

شور سے خالی
سیمنٹ کی جالیوں میں
کتنی آنکھیں زنگ سے پینٹ کی گئیں
مگر ۔۔۔
انتظار کا پانی مرنے میں نہیں آتا
راستے ایک دوسرے کو دیکھتے دیکھتے
گونگے پتھر ہوگئے
اوردرختوں کی کلائیاں
گجروں سے خالی
وقت کے باٹ میں
یکطرفہ خوابوں کا وزن
کبھی پورا نہیں پڑتا
عشق آنکھوں سے مہنگا ہے
اور ۔۔حویلیوں میں لڑکیاں نہیں
بغیر کتبوں کے خواب دفن ہیں
کوئی قبر کس کے نام کی ہے
کون جانے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Image: P Gnana

Categories
شاعری

ہم آگ کی آخری نسل ہیں (سدرہ سحر عمران)

کاش تم بارشوں کی طرح مر جاؤ
اور کسی سبز آنکھ میں
تمہارے چہرے نہ کھل سکیں
تم وہی ہو
جس نے ہمارا نام سیڑھی رکھا
اور دیوار پر اپنے جسم شائع کئے
ہم تمہاری بندوقوں سے نکلے ہوئے
منفی اعداد ہیں
تم ہمیں جنگلوں سے ضرب دے کر
اینٹوں کے پیالے بنا رہے ہو
اور ہم اپنے پیٹ پتھروں سے باندھ کر
خوش ہیں
ہمارے بعد مٹی کبھی سونا نہیں ہوسکے گی
اور تمہارے پیتل جیسے پیر
بدعاؤں کی طرح
آسمان پر ڈولتے پھریں گے
مگر خدا ساتویں کھڑکی نہیں کھولے گا
تم اپنی قبریں لے کر کہاں جاؤ گے؟
Image: Alexander Petrovich Botvinov

Categories
شاعری

ہماری گلیوں میں قیامت بچے جنتی ہے

ہم وہ تہمت ہیں جس کے پیروں نے دھوپ پہنی
اور۔۔۔ آنکھوں سے رات کا زنا ہوتے دیکھا
رات جو کسی دن کے نکاح میں تھی
سورج کے ہاتھوں قتل ہو گئی
ہمارے گناہ درختوں کی طرح اُ گتے ہیں
ہم ان کے سائے میں بیٹھ کر
عزت نام کے کھلونوں سے کھیلتے کھیلتے
ایک دن کوٹھوں میں بدل جائیں گے
اورہمارے بدبو دار جسموں سے
گورکنوں کی راتیں رنگین کرنے والے
آوارہ کتے۔۔۔
ہمیں وراثت میں اپنی عیاشیاں سونپ جائیں گے
حرمزادو! خُدا کے لئے
ہمیں بانجھ پن کی دعائیں دو ۔۔۔

Image: Patti Warashina

Categories
شاعری

روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ

روٹی کے ٹکڑے کے لئے ایک جنگ
جس تہوار پر خدا آنکھیں مانگ رہا تھا
ہم نے کہا ۔۔۔ہم سے بیٹے نہ مانگ
ہم نے مائیں سنبھال کر رکھیں
اور۔۔۔۔ بیٹے پہاڑوں کو دے دیئے
جب بارود کا دن آتا ہے
لاشیں گنتی میں بدل جاتی ہیں
رزق دینے والوں نے کہا سڑکیں کھاؤ
اور پسینہ پیو
روشنی تمہیں پسند نہیں کرتی
تم تاریکی جتنے مذہبی ہو
تمہارے حلق مین ہولز کی طرح ہر وقت کھلے کیوں رہتے ہیں؟
کتنا مانگو گے؟
پانی دینے والوں نے کہا
ہم نے کشکول ختم کئے ۔۔۔تم ہاتھ ختم کر لو !!
(سالے۔۔۔ بکواس کرتے ہیں )
Categories
شاعری

مٹھی بھر جہنم

مٹھی بھر جہنم
ہماری آنکھیں آگ سنبھال سکتی تھیں
لیکن
خدا نے دریا کے نام
جتنے بھی خط لکھے
ہماری آنکھوں تک نہیں پہنچے

تم نے آگ کو غیرت سمجھا
اور لکڑیوں کی جگہ
لڑکیاں جلا دیں

تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی

تم نے جنازے کو تہوار سمجھا
اور شہر شہر جاکر منایا
ہمارے پہاڑ تمہیں دیکھ کر ہنستے ہیں
ہنس ہنس کر ان کے پیٹوں میں بل پڑ چکے
بلوں کو دیکھ کر
تمہاری پگڑیاں یاد آتی ہیں

ہمیں ننگی گالیاں یاد کرنے دو
کہ مرنے والوں کے لئے دعائیں ختم ہوچکیں

Image: R. M. Naeem

Categories
شاعری

زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں

زندگی سے خارج لوگوں کا کوئی عالمی دن نہیں
وہ رقص مر گیا
جو مذہب کے کسی دھاگے سے باندھا نہیں جا سکا
وہ دھمالیں موت کے خوف سے پاگل ہوئیں
جو آنکھ کی چرخیو ں پہ گھومتی تھیں
مر گئے زندگی کا مطلب پوچھنے والے
اور۔۔۔ سوگ کے کنووں میں پھینکا گیا
وہ وقت
جو موت کے پیروں سے رسیاں
لپیٹتا تھا

تم نے دھماکے کی آواز سنی
ہم نے موت کا اعلان
تم نے قیامت کی برہنہ تصویریں اتاریں
ہم نے زندگی کا خوف
ان جسموں کو کھول کر دیکھو
جن میں آنکھیں زندہ گاڑ دی گئیں

ہم اپنے آپ سے بے دخل ہو کر
کیا اس مٹی کے گیت گائیں؟
جو خدا کے بارے سوال کرتی ہے
اور۔۔۔ ہم خدا سے بچھڑنے کے بعد
قبروں کی اجتماعی آبرو ریزی کرتے ہوئے
قتل کر دئیے جاتے ہیں !!

Image: The News

Categories
شاعری

شہر ادھیڑا جا چکا ہے

جو نفرتوں کے خلاف قتل ہوئی
تم ہمیں اُس سڑک سے منسوب کرو گے؟
ہم۔۔۔جو گم شدگی کا اشتہار بن کر
دیوار سے جا لگے ہیں

جن دنوں ہم نعرے سی سی کر
اپنے دن پورے کرتے تھے
اور سوچتے تھے کہ مٹی ہمیں پانی نہیں دے سکتی
تم ہمیں پرچموں سے مکان بنا کر دیتے
اور کہتے کہ سمندروں کے حق میں دستبردار ہو جاؤ
تب ہم اپنی آنکھیں کھود کر
ایک ادھڑا ہوا شہر دریا فت کرتے تھے
اور سڑکوں سے پوچھتے تھے
کہ۔۔۔۔ تم ہمارے راستے میں کیو ں لکھے گئے ہو؟
(تم ۔۔۔جو ادھڑا ہوا شہر تھے )

Image: Hamid Suleman

Categories
شاعری

ہم موت سے زیادہ خوب صورت ہیں

ہم نے آوازوں کے شہر میں جی کر دیکھا
اس خاموشی کو
جو موت سے زیادہ خوبصورت تھی
جب ہماری آنکھوں کا مطلب
تم آنسوؤں کے سوا کچھ اخذ نہیں کر پائے
تو بارشوں نے ہنسنا چھوڑ دیا

تم نے زمین کی چپ سنی؟
اگر نہیں۔۔۔تو مجھے خود سے علیحدہ کر کے دیکھنا
کون تمہیں مجھ میں شناخت کر پاتا ہے
کون بتا سکتا ہے کہ کتنی قبروں کا
ایک دوسرے میں آنا جانا ہے
Categories
شاعری

میں اندھیرے کی بات سے متفق ہوں

میں اندھیرے کی بات سے متفق ہوں
ہم نے گالیوں کا تہوار منایا
اور۔۔۔ گریبان پھاڑ کر پرچم بنا لئے
جب ہماری نفرت کا قومی دن منایا جاتا ہے
ہماری زبانیں اگالدان بن جاتی ہیں
تم اپنے آپ کو کتنا تھو ک سکتے ہو؟

کتنی قبروں کی مٹی
ان انگلیوں میں جمع ہوئی
جو اشارے کے لئے تخلیق کی گئیں
تم کس سڑک کی ایجاد ہو؟
کون سی سرخ بتی بولنا سکھائے گی تمہیں
کون تمہارے خوف سے بیچ ڈالے گا اپنی آنکھیں
تمہیں مغلظات بکنی ہوں گی
سورج تمہارا مقدمہ نہیں لڑ سکتا
Categories
شاعری

میرے شہر کی فصیل پہ خدا بیٹھا ہوا ہے؟؟

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میرے شہر کی فصیل پہ خدا بیٹھا ہوا ہے؟؟

[/vc_column_text][vc_column_text]

کیا تم ہمیں ڈھونڈ سکتے ہو؟
ہم جو زمین کی تہہ میں کھو گئے
اور ایک زمانے سے کوئی ہمیں کھوجنے ہی نہیں آیا
ہماری تصویریں سڑکوں پہ وہ گاڑیاں
گنتی رہتی ہیں
جن کا دھواں سانس کی نالیو ں میں گرتا ہے
بے داغ اور بے شکن لباس کے عادی
اپنے اندر کا سیوریج نظام
درست کرنے کا کب سوچیں گے؟

 

دیکھو! ہمارے شہر میں آ نکھیں کھولنے کا تہوار مت منانا
یہاں مشعلوں میں زبانیں جلائی جاتی ہیں
اور مکانوں کے دروازے کھلنے سے پہلے پہلے
لوگ لاپتہ ہو جاتے ہیں

 

سیاہ دن کی ڈائری میں ان چہروں کی راکھ
ایک تصویر جوڑتی ہے
جنہیں پچھلے سفر میں راستے لکھا گیا
اور زنجیر کی کڑیوں سے کچھ جھنڈے بنا کر
وہ ہاتھ دفن کر دیئے گئے
جو گم شدہ اشتہاروں میں “بازیابی” کا ذکر کرتے تھے !!

Image: Balochistanpoint.com
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اپاہج خواب اور آنکھوں کی بیساکھیاں

[/vc_column_text][vc_column_text]

لوگ دیواروں سے سیاہی اتار کر
دن کی مخالفت کر سکتے ہیں
باندھ سکتے ہیں ہجر کے گھنگھرو شام کے پیروں میں
مگر۔۔۔۔۔
ان درختوں کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے
جن پہ جنگل کی کہانی لکھ کر
مٹا دی گئی ہے

 

جب مٹی رقص پہ مائل ہوتی ہے
چیزیں اپنی جگہ چھوڑ دیتی ہیں
اور ۔۔۔ہم آسمان کی باتوں میں آ کر
زمین کو بد دعائیں دینے لگتے ہیں
تم ہمارے حصے کی اینٹیں
اپنی آنکھو ں میں ڈال کر
کوئی ایسا مکان بنا سکتے ہو؟
جس میں ہمارے خواب قیا م کر سکیں
اس رات تک ۔۔۔
جو تمہاری آنکھوں سے زیادہ گہری نہیں ہو سکتی

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

خدا ہم سے ملنا چاہتا تھا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

خدا ہم سے ملنا چاہتا تھا

[/vc_column_text][vc_column_text]

جس دن خودکشی کرنے والوں کا دن منایا گیا
ہم نے دنیا بھر کی گھڑیوں سے
دو، دو منٹ نکال دیے
لوگ پہلے سے زیادہ شور کرنے لگے
اتنا شور ۔۔۔کہ ان کی زبانیں قتل کرنے کا
فتویٰ آ گیا

 

ہمارے نام کا دوسرا مطلب گناہ تھا
یہ اس وقت کی بات ہے
جب ہم نے آسمانوں میں
پھانسی گھاٹ
اور بارشوں کی کمین گاہیں نہیں ڈھونڈی تھیں
لوگ ہمیں ہمارے ساتھ مل کر
بد دعائیں دیتے ہیں
جب ہم ان کی نیندیں دروازوں کے ساتھ
با ندھ کر
محلے کی مسجدوں میں
اعلان کرتے اپنی گمشدگی کا
اور۔۔۔گھنٹیا ں رات بھر بجتی رہتیں
(مگر لوگو ں کو نہیں پتہ کہ ان کے کان گل چکے ہیں)

 

کوئی آدمی اس گلی میں رات گئے تک
چلتا رہتا ہے
جسے تمہارے نام سے موسوم کیا گیا
اورانتظار کے ۔۔۔۔ سائن بورڈ پر
ہماری گیلی آنکھیں چپکا دی گئیں
جنہیں جب بھی اکھاڑنے کی غلطی کی جائے گی
زندگی سے ہمارا نام و پتہ
خارج کر دیا جائے گا !!
(کیا اسے خدا کی آخری دھمکی سمجھ لینا چا ہئیے؟)

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

خدا ان کے نقشے نہیں بناتا؟

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

خدا ان کے نقشے نہیں بناتا؟

[/vc_column_text][vc_column_text]

وہ نقطے کیسے زائل ہوئے
جنہوں نے دوات میں جمع کیں
بہت ساری تختیاں
اور ۔۔۔۔۔۔سیڑھی کے خاتمے پر ڈیزائن کیا
ایک گہرا خلا
جہاں چھاپ دیئے جائیں گے ان کے
دو چار انچ بڑھے ہوئے
اضافی قدم
اور وہ گھٹنوں کے بل ہوا میں
چلنا سیکھیں گی

 

وہ گریبان جو کھلنے کے لئے نہیں بنے
انہیں دکھا ئی دیں گے ۔۔۔۔
تہہ خانے میں
مگر۔۔۔۔
سیڑھیاں ختم ہو نے سے پہلے پہلے
ضائع کی جا چکی ہوں گی
تمام کاربن کاپیاں
(مٹی کی کوئی شکل نہیں بن سکے گی )

Image: Logan Zilmer
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

خُدا اپنا لباس نہیں بدلتا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

خُدا اپنا لبا س نہیں بدلتا
ھن لباس لکم وانتم لباس لھن(البقرة:187)

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہماری جگہ کون چلتا ہے
تمہارے دل کی رہداریو ں میں
ہمارے نام کی اجازت سے
کون داخل ہوتا ہے تمہارے کمرے میں
ہماری خوشبو کے دستخط کے ساتھ
کس نے تمہاری رات میلی کی
کون تمہا رے دن دروازے پہ روک لیتا ہے
کون رکھتا ہے انتظار کی میز پر
آنکھوں کے پھول

 

کون دریچے سے سورج اٹھا کر
تمہاری سائیڈ ٹیبل پہ روشن کرتا ہے
کون بجھاتا ہے
تمہارے لباس کی آ گ ۔۔۔۔
کون تصویروں کی ریز گاری سے خریدتا ہے
ایک پھو نکا ہوا ماضی
کون تمہارے سائے سے شام بناتا ہے

 

کون تمہارا نمبر ڈائل کرنے کے بعد
قتل کر دیتا ہے آوازیں
کسے زبانی یاد رہتے ہیں
تمہارے چہرے کے ہجے
کون لکھتا ہے خدا کے خانے میں
تمہارا نام !!

 

کون مٹی کی مورت میں ڈھونڈتا ہے
تمہارا جسم
کون تمہیں بستر میں بھول جاتا ہے

 

کون پڑھتا ہے زندگی کو تمہاری مو جودگی میں
اور کسے لکھنا آ جا تا ہے لفظ “موت ”
تمہارے بغیر !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

شہر اب ہم سے مخاطب نہیں ہوتا

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہم۔۔۔۔ اپنے آپ کو شہر میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں
تو۔۔۔ ہمیں تلاش لیتی ہے
کوئی نہ کوئی سڑک!!

 

جس پہ نصب تھے ہمارے پاؤں
پا نی میں بہہ گئی وہ سڑک

 

وہ راستے ۔۔۔۔۔۔
ہمارے حافظوں سے کہیں دور نکل چکے
جو ۔۔۔۔ہماری تصویروں سے بھرے رہتے تھے
اب ہمیں کون بتائے گا؟
کہ۔۔۔ ہمارے مکان کا دروازہ
کس سڑک کی سیدھ میں کھلا کرتا تھا؟؟
ہم جو ہمیشہ سے چاہتے تھے
ہمارے مکان کھو جائیں !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]