Categories
شاعری

درخواست (غنی پہوال)

خواہش کی سوکھی ٹہنی
جب بھوکی چڑیا میں تبدیل ہوکر مرگئی
تو مجھے آنسوؤں کا جنازہ بنا کر
تم کسی ویرانے میں دفن کر آئی
مگر جب چاہت بھری
تمہاری آنکھوں کے وسیع صحن میں
امید کے پودوں میں
پھول لگنے کا موسم آئے
تو چپکے سے
مجھے کسی کیاری میں بو کر
پھر سے بھول جانا
Image: Seema Pandey

Categories
نان فکشن

“شعر” اور “واہ” کا رشتہ (تالیف حیدر)

میں عام طور پر اپنے حلقہء احباب میں کسی بھی شعر کی تعریف میں لفظ واہ بہت سنتا ہوں۔ یقیناً !یہ صرف میرے ہی حلقہء احباب تک محدود نہیں، بلکہ ایک عام رواج ہے۔لوگوں کا تاثر اکثر کسی اچھی چیز کو دیکھ کر یا کسی اچھی بات کو سن کر یہ ہی ہوتا ہے، اس کے باوجود شعر کے ساتھ واہ کا جو رشتہ ہے، وہ دیگر معاملات میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ میرا مشاہدہ ہے کہ لوگ اکثر کسی تصویر کو دیکھ کر یا کسی اچھی عمارت کو دیکھ کر ایک دم سے واہ اس طرح نہیں کہتے جیسے شعر کو سن کر کہتے ہیں، عین ممکن ہے کہ کوئی اس صورت میں بھی واہ کو ایسے ہی ادا کرتا ہو جس طرح سماعتِ شعر کے بعد کیا جاتا ہے، لیکن یہ میرے مشاہدے میں کم ہی آیا ہے۔البتہ شعر پہ واہ کہنے والوں کو میں روز دیکھتا اور سنتا ہوں۔ اکثر میں اس بات پر غور بھی کرتا ہوں کہ کیا صرف ایک واہ سے کسی بھی شعر کی تاثیر کا مکمل اظہار ہو جاتا ہے؟ کیا واہ ایک ایسی طلسمی چھڑی ہے جس سے کسی بھی شعر کو ہانکا جا سکتا ہے؟ یقیناً! لفظ واہ کہنے کے لیے کسی لیاقت کی ضرورت نہیں، یہ بس لبوں سے یوں ادا ہوتا ہے جیسے ہر شعر کی غذا ہو۔

اگر آپ کو شعر گوئی اور شعر فہمی کا ملکہ حاصل ہے تو آپ نے اپنی زندگی میں کئی بار یہ تجربہ کیا ہوگا کہ کسی بھی شخص کو کیسا ہی کوئی شعر سنا یئے وہ یا تو خاموش رہے گیا یا اپنی گردن اثبات میں ہلا کر اس پر واہ کہہ دے گا۔ ایک واہ اور شعر کی ترسیل کے سارے مراحل طے۔ میں نے بہت سے شعر سنانے والے تو ایسے بھی دیکھے ہیں جو اپنے سامع یا قاری سے صرف واہ کی طلب کے لیے شعر پڑھتے ہیں۔ ایسے شعرا اپنا شعر پڑھ کر اکثر اپنے سامعین پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ کس کس کونے سے واہ کی صدا بلند ہوئی ہے اور کون سا کونہ خاموش ہے۔

واہ ایک اظہار کیفیت ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس میں ایک بھر پور تاثر کی جھلک پوشیدہ ہے۔ خواہ آپ نے واہ کو ایمانداری سے ادا کیا ہو یا بے ایمانی سے مگر یہ لفظ ہمیشہ اپنا اظہار ایک جیسا رکھتا ہے۔ اس کی جعل سازی کو پکڑنا مشکل ہی نہیں بلکہ تقریباً نا ممکن ہے۔ ادھر کی بستیوں میں(میری مرا د بر صغیر سے ہے) جہاں اکثر اشیاء اور جذبات میں ملاوٹ پائی جاتی ہے واہ کی ایماندارانہ جھلک کم ہی دیکھنے کو ملے گی۔ مشاعرے بازوں کے یہاں تو یہ بالکل ہی مفقود ہے۔ ہر وہ شخص جو سچے دل سے واہ کہتا ہے، یقیناً اسے کسی سادےسے سادے شعر کو بھی بڑی باریکی سے سننا پڑتا ہے۔ اس کی کیفیت کے مکمل تاثر کو واہ کے لفظ میں تبدیل کرنے سے پہلے اس کی فنی باریکیوں کا معائنہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے تمام محاسن و معائب کا حساب لگا کر اس لفظ کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ یہ ایک لمبا پروسس ہے، لہذا ایسے واہ کی ادائیگی میں اتنی تیزی جتنی عام طور پر دیکھنے میں آتی ہے، مشکل سے ملے گی۔ عین ممکن ہے کہ اس عمل میں بھی تیزی دیکھنے میں آ جائے، لیکن اس کا ادراک ہونا مزید مشکل کام ہے۔ کون شخص کس شعر میں کیا دیکھ رہا ہے اور کس وجہ سے اس کے منہ سے کسی شعر پر واہ نکل رہا ہے؟ یہ بھی سمجھنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ میرے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے کسی خاص نشست یا مشاعرے میں بہت اہم اہم لوگوں کو کسی شعر پر واہ کہتے سنا اور ان کا منہ تکتا رہا۔بعض سے اس تجسس کی بنیاد پر نظروں ہی نظروں میں یہ دریافت بھی کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے شعر سنتے ہی فوری طور پر واہ کیوں کہا۔ مگر اکثر جواب ندارت رہا۔ ایسی صورت میں جبکہ میں کسی سے اس کی واہ کی وجہ طلب کرنے کے لیے اسے غور سے دیکھتا تو مجھے بدلے میں مزید ایک واہ سنائی دیتی۔ کچھ بے تکلف قابل اور شعر فہم دوستوں کے منہ سے یہ لفظ سن کر ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کبھی کسی ایک لفظ کو قابل تحسین گردانہ، کبھی شعر کے صوتی نظام کو اپنی واہ کی وجہ بتایا، کبھی کسی بحر کو اور کبھی کسی تلمیح، استعارے اور تشبیہ کو۔بے شمار مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی نے شعر سے اپنے کسی تجربے کو ملا دیا اور بعض مرتبہ اس کی پوری شرح بیان کرتے ہوئے اپنی واہ کی وجہہ بتائی۔ مجھے ان سب سے کوئی شکایت نہیں کہ واہ تو ان سب باتوں پہ بھی کی ہی جا سکتی ہے۔ مگریہ ذرا سوچنے کی بات لگی کہ کیا کسی ایک شعر میں ایسے ایک یا دو ہی نکتے ہوتے ہیں جن پر کوئی بھی شخص اولین صورت میں واہ کہہ دیتا ہے۔ یہ تو کسی شعر فہم شخص کا حال ہے کہ اس کو کم سے کم ایک یا دو چیزوں کی بہتری کا احساس ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر تو واہ اس روایت کے تحت کہا جاتا ہے جو کہ شعری متن کے اظہار سے وابستہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی ایک ایسے شعر میں جس میں لفظ کی تہہ میں معنی کا ایک نظام گردش کر رہا ہو، اس کے جتنے نکتے قاری یا سامع پر کھلتے جائیں گے اس کے منہ سے واہ کا لفظ ادا ہوتا رہے گا۔ لیکن اس عمل کے لیے ہمیں کسی ایک شعر کی قرات کم سے کم تین سے چار بار کرنی ہوگی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اہم سماعتوں نے مشاعرے میں مکرر ارشاد کا نظام وضع کیا۔ ایک شعر جس کی کئی پرتے ہیں، جسے کئی معاملات سے جوڑا جا سکتا ہے، جو زندگی کے مختلف حالات و واقعات سے لگا کھاتا ہے، جو اپنی فنی باریکیوں کی وجہ سے دل پر اضطرابی کیفیت مرتب کرتا رہتا ہے، جس کا صوتی نظام اور آہنگ لرزہ دینے والا ہے وہ یقیناً مکرر کا حق دار ہے۔ ایسے شعروں پر وہ سماعتیں جو بالکل خالص ہیں وہ ہر بار نئے انداز میں واہ کہتی ہیں اور مختلف کیفیات کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ کسی تیلی، نائی اور پارچہ باف، کسی انجینئر، ڈاکٹر اور آرکیٹیک، کسی مزدور بھانڈ اور متشاعر کو کوئی شعر سناو، وہ واہ کہہ کر اپنا فرض پورا کر دیتا ہے۔گویا کہ شعر کسی تفہیم کا نہیں بلکہ واہ کا محتاج ہے۔ میں صرف اپنی بات کروں تو شعر پر واہ کہنا میرے لیے ہمیشہ سے ایک مشکل امر رہا ہے، یوں تو میں نے بھی اپنے بے تکلف دوستوں کی محفلوں میں بہت سے شعروں پر سر ہلا ہلا کر اور جھوم جھوم کر واہ واہ کا گیت گایا ہے، مگر یہاں بات انجم باہمی سے آگے کی ہے۔ مثلاً غالب اور میر کے اشعار کسی موسیقار کے منہ سے سن کر ایک دم سے واہ نکنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ میں یہاں مثال کے لیے اپنے ایک من پسند شاعر زیب غور ی کا ایک شعر لیتا ہوں:

ایک جھونکا ہوا کا آیا زیب
اور پھر میں غبار بھی نہ رہا

اس شعر پر میں واہ کہنے سے پہلے شاعر کے غبار نہ رہنے کی معنوی جہت پہ غور کروں گا، کیا وہ ہوا کہ چلنے سے پہلے غبار تھا، غبار اور بدن کے معنوی تقرب اور بعد پر غور کروں گا۔ پھر ہوا کے جھونکے کی تعبیر پہ سوال قائم ہوگا، شعر کی زمانی حیثیت پہ نظر جائے گی، اس اسلوب کی باریکیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ عروض کا نظام ذہن میں گردش کرے گا۔ شعر کے دونوں مصرعوں کے صوتی آہنگ پہ نظر گاڑنا ہوں گی۔ ان سب مرحلوں سے گزرنے کے بعد جب شعر کو صحیح یا پھر قرین قیاس معنی کے سانچے میں ڈھالوں گا تب واہ کا لفظ شائد منہ سے ادا ہو۔ اس عمل میں برجستگی کی خواہش عبث ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے، خواہ ذہن کتنی ہی تیزی کا مظاہرہ کرے مگر کشاکشی میں جو وقت صرف ہونا ہے وہ مجھے مصنوعی واہ سےحتی الامکان دور رکھے گا۔ واہ کہنا کوئی شوخی نہیں اور نہ کوئی فیشن ہے۔ یہ تو ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ غور سے دیکھو تو اس واہ کی لالچ نے ہی ہمارے مشاعروں کا معیار پست کیا ہے۔ غالب سے جو آسان کہنے کی فرمائش کی گئی تھی اس کے پیچھے بھی یہ ہی واہ واہی کار فرما تھی۔ ایک جملہ ہم اکثر ادیبوں کے منہ سے سنتے ہیں کہ میاں مرزا رفیع سودا واہ کے شاعر تھے۔ اس واہ سے غالباً ایک عام ذہن طربیہ مراد لے مگر ایک سوچتا ہوا ذہن اس سے تحسین کی فنی باریکیوں کی شناسائی مراد لے گا۔ یقیناً سودا واہ کے ہی شاعر ہیں کیوں کہ وہ نکتہ سنجی اور نکتہ فہمی کے متمنی ہیں۔ ان کی شاعری کی مثال واہ کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ اس تناظر میں میر کا کلام جس آہ کے خانے میں فٹ کیا جاتا ہے وہ بھی واہ کی ہی ایک ارتقائی صورت ہے۔ شعر پر واہ کہنا ہر اس امر سے مشکل ہے جس حالت میں آپ کو کسی پیڑ کے نیچے لیٹے لیٹے کشش ثقل کی موجودگی کا احساس ہوجائے۔ جس طرح کوئی ایک نیا تجربہ انسانی زندگی میں ایک نئی بہار لاتا ہے اسی طرح ہر اس شعر پر جس پر قاری یا سامع واقعتاً واہ کہنے پر مجبور ہوجائے ایک نئے احساس سے وابستہ ہوتا ہے۔ واہ کہنا کسی انوکھی کیفیت سے دوچار ہونا ہے۔ کیوں کہ ہر وہ کیفیت جو انسانی قلوب پر اکثر گزرتی ہے وہ اس کے لیے اتنی متاثر کن نہیں رہتی کہ اس سے کسی نئی کیفیت متشکل ہو۔ شعر کا کام انسانی قلوب کی منجمد گرد کو ہٹا کر وہاں تحریک کیفیت پیدا کرنا ہوتا ہے اور جب وہ تحرک اپنے عروج پر پہنچتا ہے تب ہم بے ساختہ ایک واہ کے ذریعے اس کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔ لہذا پلک جھپکے ہی کسی شعر پر واہ کہنا اور کسی ایک شعر کی جھلک پاتے ہی اس سے مجموعہ کیفیت ظاہر کرنا ایک جعلی عمل ہے اور ہر سچا قاری اور سامع ایسی جعلی واہ سے کبھی اپنا رشتہ استوار نہیں کرتا۔

Categories
شاعری

بہترین/ بدترین وقت (ایچ – بی- بلوچ)

ہمارے
بہترین وقت میں
ہم سے وعدے لیے جاتے ہیں
اور ہمارے
برے دنوں میں
ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے

ہمارے برے دنوں میں
ہمارے بادشاہ بننے کا انتخاب کیا جاتا ہے
اور ہماری
بگیوں میں گھوڑے باندھے جاتے ہیں
ایک شہزادی کو
انتظار میں بوڑھا کر دیا جاتا ہے

ہماری سانسوں میں پتھر باندھ کر
ہمارے قریبی دوستوں سے
ہماری سزا کا امتحان لیا جاتا ہے
ہم برے دنوں میں محبت کرتے
اور اچھے دنوں میں لڑتے ہیں

جبکہ ہمارے
بہترین وقت میں
بڑے تحمل سے
ووٹ کے لیے درست آدمی سے ملایا جاتا ہے

یا بلند آواز میں
ہمیں ہمارے نام سے پکارا جاتا ہے
اور ہم سے
ہماری آخری خواہش پوچھی جاتی ہے.!
Image: Banksy

Categories
شاعری

ادنیٰ (افتخاری بخاری)

کیا تم جاننا چاہو گے
ادنیٰ ہونے کا مطلب؟
تو سنو!

یہ ایسے ہے
جیسے گھنٹوں قطار میں انتظار کے بعد
تم کھڑکی کے قریب پہنچو
اور ایک پُر رعونت بوڑھا
چھڑی کے اشارے سے
تمہیں ایک جانب ہٹا دے

جیسے پولیس والا تمہیں بھیڑ میں سونگھ کر الگ کرے
اور جامہ تلاشی پر دس کا نوٹ بھی برآمد نہ ہونے پر گالی دے کر چلتا کرے

جیسے معالج تمہارے معائنے سے قبل
اپنے ملازم سے پوچھے
دو ہزار ہیں اِس کے پاس؟

کیا تم نے کبھی کہا
” جناب ! بہت شکریہ ”
ایسی چائے کی پیالی کے لیے
جس میں مکھی گر گئی ہو؟

اگر اب بھی نہیں سمجھے
تو پھر یہ ایسے ہے
جیسے تمہارا مالک تمہیں گاڑی کا تیل بدلوانے بھیجے
جب تمہاری بیوی اکیلی ہو
اُس کے گھر میں
جھاڑ پونچھ میں لگی ہوئی

تمہیں برا لگا نا!
میں بھول گیا
تم دولت مند ہو
عزّت دار ہو
معافی چاہتا ہوں
مگر کوئی اور الفاظ
میری سمجھ میں نہیں آئے
سمجھانے کے لیے

Categories
نان فکشن

شاعری، امکانات اور بے کرانیت

ایک شاعر ناممکن سے ممکن کی راہ نکالتا ہے۔ ہر وہ خیال جسےایک عام ذہن بنجر اورخشک تصور کر لیتا ہے، شاعر اس میں نمی کی موجودگی کا خیال پیش کرتا ہے۔ بظاہر یہ اتنا مشکل معلوم نہیں ہوتا،لیکن جب خیال کی سطح پر ایک بنجر خیال سے نئی زمینیں آباد کرنے کی کوشش کرو تو احساس ہوتا ہے کہ یہ کام واقعتا ً کتنا مشکل ہے۔موجودہ حقیقت کو عین حقیقت نہ سمجھنا اور اس حقیقت میں مزید حقائق تلاش کرنا یہ ایک شاعر کا کمال ہے۔ یہ بات سچ ہے کہ شاعر جو کچھ کہتا ہے وہ عین حقیقت نہیں ہوتی،لیکن حقیقت کیا ہے؟ اس پر سوال قائم کرنے میں شاعر بہت اہم رول ادا کرتا ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں اور ہر خطے میں پائے جانے والے شاعر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ کوئی زبان اور تہذیب ان کو اندھیرے میں روشنی اور تنہائی میں شور تلاش کرنے میں معاون ثابت نہیں ہوتی اور نہ ہی رکاوٹ بنتی ہے۔ نہ کوئی عہد ایسا ہوتا ہے جس میں وہ نئی اور انوکھی باتیں کہنے سے چوکتے ہیں۔ میرے سامنے اس وقت موجودہ عہد سے تقریباً تین سو برس پرانا ایک شاعر ہے۔ جس کا نام تہذیب، زبان،مذہب، طرز زندگی، معاشرت، سیاسی نظام اور جغرافیائی حالات سب کچھ کسی نہ کسی طرح محدود ہیں۔ لہذا ہر اس زاویے سے جو ظاہری دنیا کا ہے اس کا تعین کیا جا سکتا ہے جس سےاس شاعر کے متعلق آپ بہت سی مختلف آراء قائم کر سکتے ہیں۔ مگر فکر ایک ایسی آزاد لہر ہے جس سے اس کی ذات کا تعین ممکن نہیں، کیوں کہ وہ آپ کو کسی ایک مقام یا زبان، لہجے یا انداز، تہذیب یا معاشرت اورمذہب یا معتقدات تک سیمت نہیں رکھتی۔ اس میں آپ کو ایک سیال نظر آئے گا جس سے آپ مختلف دنیاوں کی مختلف النوع رنگین بستیوں کی سیر کرتے چلے جائیں گے۔کہیں رکے بنا خیال کے نئے طرز کو محسوس کریں گے اور زبان کے جھگڑے سے آزاد ایک نئی تمثیلیت کا لطف اٹھائیں گے۔میں اس شاعر کا نام لے سکتا ہوں۔ اس کے اشعار پر اظہار خیال بھی کر سکتا ہوں، مگر اس میں وہ لطف نہیں جو بے نامی اور بے راہ روی میں ہے۔ خیال پر خیال کوئی واقعہ نہیں، خیال کی ترسیل کا احساس واقعہ ہے۔ ہم کسی بھی شعر کو سمجھ لیں اور اس پر اپنی رائے دے دیں تو کھیل کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ کھیل کو جاری رکھنا اصل لطف ہے اور اس لطف کو جاری رکھنا شعر کی خود تک مستقل رسائی کو جاری رکھنا ہے۔ کبھی ہم اس بات پر غور کیوں نہیں کرتے کہ یہ شاعر جو اس وقت میرے پیش نظر ہے کیا اس نے یوں ہی بہت سے شعر کہے۔ بہت سی ایسی باتیں جن میں رنگ ہے، نشہ ہے، تکمیلیت ہےاورمصنوعی اظہار ہے۔وہ نہ چاہتا تو نہ کہتا،یا کوئی شاعر نہ کہتا یا صرف اتنا کہتا جس سے اس کی بات کو محدود کرنا آسان ہوتا۔ یہ کتنا مضحکہ خیز ہے۔ مثلاً آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے ایک مخصوص مقام پر ایک شہر بنارس ہے،جس کی سرحدیں کن کن علاقوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ کس دریا کے بعد وہ ختم ہوتا ہے اور کس زمین کے ٹکڑےسے غیر بنارس کی شروعات ہوتی ہے۔ مگر اس طرح کیا میں اس شاعر کا احاطہ کر سکتا ہوں۔ یہ تو پھیلا ہوا ہے۔ بے کنار۔ پھر اس بات سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ اس نے ہزار شعر کہے ہیں یا پانچ سو۔ مجھے تو اس کی خیال کی کوئی سرحد نظر ہی نہیں آتی یا کسی شاعر کی۔ کیا ہی خوب ہوتا کہ دنیا کا ہر شاعر اپنی زندگی میں صرف ایک شعر کہتا۔ صرف ایک شعر اور تعین قدر بالکل آسان۔ اس فلسفی،طبعیات داں اور ریاضی داں کی مانند جس کی کسی ایک مساوات سے ہم اس کی تعین قدر کا مسئلہ حل کر لیے ہیں۔ میکسویل جو اپنی مساوات سے ہی جانا جاتا ہے یا پھر فیثاغورث، آئین سٹائن، نیوٹن،ہوکر اور اسی طرح کے تمام لوگ۔ مگر یہ شاعر تو خیال کی کسی مساوات میں قید نہیں۔ بس بکھرا ہوا ہے۔ چوطرفہ۔اس لیے مجھے اس کی دنیا میں داخل ہونے کے لیے کسی طرح کی جد و جہد نہیں کرنی پڑتی۔ بس اس پھیلے ہوئے خیال کی سرخ اور سبز نہ دکھنے والی شعاعوں کو دیکھنے کی آنکھ کو مہمیز کرنا ہوتا ہے اور وہ ناممکن دنیا نظر آنے لگتی ہے جہاں ممکنات کی افشاں بکھری ہوئی ہے۔ یہ شاعر مجھے وہ سب کچھ دکھاتا ہے جو میں شائد اپنی خیالی دنیا میں رہ کر کبھی نہ دیکھ پاتا۔میں جب اس کی رنگین دنیا کا حصہ بنتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں کہ میں کتنا قید ہوں، کتنا بندھا ہوا۔ خود میں،اپنے اطراف میں اور اپنے ممکن الحصول جذبات میں۔ کسی ایک بات کو کہنا، پھر اسے رد کرنا،پھر اس کے بالمقابل ایک اور بات کہنا، پھر اسے بھی رد کرنا او ر پہلی کہی ہوئی بات کو اچانک سب سے اہم اور افضل ثابت کردینا۔ بظاہر چھوٹی سی نظر آنے والی بات میں بہت بڑی بات تلاش کر لینا اور بہت اہم اور یقینی باتوں کو بے یقین اور غیر اہم بنا دینا۔ کوئی شاعر یہ ہی تو کرتا ہے۔ کبھی ایک راہ کا تعین کرنا اور پھر اسی کو مضر قرار دینا، اس پر چلنا بہادری تصور کرنا اور اس کے نقصانات پر کف افسوس ملنا۔پھر اس میں انبساط کا کوئی نکتہ تلاش کر لینا اور پھر ایک طنز کے ساتھ سب کچھ در گزر کر دینا۔ شاعر ہمیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جاتا ہے اور پھر اس مقام پر پہنچنے کے خیال کو وہم قرار دے کر کہیں اور لئے چلتا ہے۔ ان تمام حرکات و سکنات میں وہ زندگی کی بے یقین سالمیت کو ہم پر ظاہر کر دیتا ہے۔
اپنے کرتب سے اور اس امر سے کہ کہیں رکنا، تسکین نہیں بلکہ چلنے کے لطف کو کھو دینا ہے۔ اس شاعر کے یہاں بھی مجھے وہی بکھراو نظر آتا ہے،یہ مجھے مرتب نہیں ہونے دیتا۔ میں جن خیالات، استعارات اور اعتقادات کے ساتھ زندگی گزارتا ہوں یہ ان پر ہنستا ہے۔خود کو غیر مرتب اور غیر منظم ثابت کرتا ہے اور مجھے مقلد محض بتا کر میرے طرز حیات پر سوالیہ نشان قائم کر دیتا ہے اور واقعہ یہ ہے کہ جب میں اس کا قائل ہوجاتا ہوں اور اس کے طرز کو اپنانے کی سعی کرتا ہوں تو یہ اپنے مسلمات کو وہم بتا کر ہوا ہو جاتا ہے اور میرا طرز زندگی مجھے پھر سے مثالی نظر آنے لگتا ہے۔شاعر حیات اور عدم حیات میں ایک نوع کی کشمکش پیدا کرتا ہے۔ وہ زبان سے نہیں بلکہ انسانی ذہن کی پیچیدہ پرتوں سےکام لیتا ہے۔ مستقبل میں ہمیں دور تک لے جاتا ہے،اتنا کہ ہم حال اور ماضی کو بھول جائیں۔پھر اچانک ہمیں حال میں جینے کا درس دینے لگتا ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا اور نہ ہی سچ بولتا ہے۔وہ ہمیں حقیقت کے غیر موجود ہونے کا احساس دلانے میں کوشاں رہتا ہے۔ زندگی کو اپنے اطراف کی پیچیدگی سے زیادہ الجھا ہوا دیکھنے پر ابھارتا ہے۔ پھر اس بات کی ہدایت دیتا ہے کہ اس الجھن میں کس طرح سلجھن تلاش کی جاسکتی ہے۔ وہ پل میں پہاڑ اور پل میں سمندر بن جاتا ہے۔ بڑا ہوتا ہے تو آسمان کی سرحدوں سے باہر نکل جاتا ہے اور چھوٹا ہوتا ہے تو ہماری آنکھ کی پتلی کے اندر اتر جاتا ہے۔ یہ ہی اس کی ذات ہے اور یہ ہی صفت۔شاعر خود میں ایسا ہی ہوتا ہے اور اپنے فنی اظہار سے ہمیں بھی اپنی طرح بنا لیتا ہے۔ اس کا فن اسی امر میں مضمر ہے کہ وہ کتنی صفائی سے ہمارے مسلمات کو توڑتا ہے اور ہمارے خیال کی ایک دنیا تشکیل دے دیتا ہے۔

Categories
نان فکشن

کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر

اسید الحق قادری کے متعلق یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ انھیں خدا نے شعر کہنے کی صلاحیت بھی عطا کی تھی۔یہ بات الگ ہے کہ موزونی طبع کے باوجود شعر و شاعری کو انھوں نے کل وقتی مشغلہ نہیں بنایا اور بہت کم شعر کہے۔ لیکن ان کے جتنے اشعار ہمیں دستاب ہیں اس سے ان کی شعری صلاحیتوں کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔اسید الحق صاحب کا جتنا کلام اس وقت میرے سامنے ہے اس میں ایک حمد،چار نعتیں ،ایک منقبت اور چھ دیگر نظموں کا شمار ہوتا ہے۔شاعری ان کے معمولات زندگی میں ثانوی حیثیت رکھتی تھی ،لیکن اس ثانویت کہ باوجودجتنا کلام وہ زینت قرطاس بنا گئے وہ ایسا انتخاب ہے جو بڑے سے بڑے حمد ،نعت اور منقبت نگاروں کے کلیات پر بھاری ہے۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ یہ کلام بھی انھوں نے اپنے اس عہد میں کہا تھا جس دوران وہ اکتساب فیض کر رہے تھے اور ان کا تعلیمی سفر جاری تھا ۔فارغ التحصیل ہونے کے بعد ان کا سارا دھیال دینی علوم اور اپنے اکابرین کی کار گزاریوں کی طرف مبذول ہو گیا ۔پھر اس کام میں وہ ایسے مصروف ہوئے کہ ’غالب خستہ کہ بغیر کون سے کام بند ہیں ‘کے مماثل شاعری کی جانب نگاہ کرنا ہی چھوڑ دی۔جن جن لوگوں نے اسید الحق قاردی سے ملاقات کی ہے وہ اس بات کا اعتراف کریں گے کہ اسیدالحق صاحب مزاجاً ایک قادر الکلام شاعر معلوم ہوتے تھے۔ خود میں نے کئی بار اس بات کا ذکر ان سے کیا تھا کہ آپ کو اس کوچہ جاناناں کی سیر میں ہمہ وقت مصروف رہنا چاہئے کیوں کہ آپ کو اللہ نے شعر کہنے کی جس صلاحیت سے آراستہ کیا ہے آ پ اس کا حق ادا کر سکیں ،اس کے جواب میں وہ اپنے مخصوص تبسم کے ساتھ کیا فرماتے تھے ،اس بات کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں لیکن یہ بات میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اسیدالحق قادری ایک ایسی شخصیت کا نام تھا جو’ کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر‘ کہا جا سکتا ہے۔

اسید الحق کا ادبی مطالعہ بہت وسیع تھا۔ انھوں نے عربی اور فارسی ادب کا مطالعہ تو کیا ہی تھا لیکن اردو ادب پر بھی ان کی گہری نگاہ تھی ۔اردو کے کئی کلاسکی شعرا کا کلام ان کی نوک زبان پر رہتا تھا ۔حالاں کہ اسید الحق نئی نسل کے نمائندے تھے لیکن جس علمی اور ادبی سر زمین(بدایوں) اور خانقاہ(عالیہ قادریہ، بدایوں) سے ان کا تعلق تھا اس سے بعید از قیاس نہیں کہ انھیں اتنے اشعار کیسے یاد ہو گئے ہوں گے۔پرانے شعرا ایک دوسرے کو شاعر تسلیم کرانے کے لئے جس کلیہ کو ایک دو سرے پر منطبق کرتے تھے کہ’ اس وقت تک سامنے والے کو شاعر تسلیم نہیں کیا جاسکتا جب تک اسے پانچ ہزار شعر یاد نہ ہوں ۔‘اس کلیہ کو آج کے شعرا پر منطبق کیا جائے تو صف اول کے بہت سے شعرااس حلقے سے باہر ہو جائیں گے ۔یہ کلیہ کہا ں تک درست ہے ؟یہ ایک الگ بحث ہے۔لیکن اسید صاحب کی شخصیت اس عہد میں میرے علم کے مطابق ان دو چار حضرات میں شمار ہوتی ہے، جسے پانچ ہزار نہیں تو اس کے اریب قریب اشعار تو یاد ہی ہوں گے۔ اس سے ان کی موزوں طبیعت کا علم ہوتا ہے ۔اکثر اوقات وہ شکوہ شکایت بھی شعر یا مصروں کے ذریعے کیا کرتے تھے ۔جس دوران دہلی میں اسید الحق صاحب اور خوشتر نورانی کی علامہ فضل حق خیرآبادی پرکتابوں کی رسم اجراعمل میں آئی اس کے بعد ان سے چھ ،سات مہینے تک میری کوئی گفتگو نہ رہی۔میں اپنے کاموں میں مصروف تھا وہ اپنے کاموں میں کہ اچانک ایک روز انھوں نے فیس بک پر مجھے میسج کیا کہ ’میں وہی ہوں مومن مبتلہ تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو‘میں بہت شرمندہ ہوا اور فوراً ان کا حال احوال طلب کیا۔‘ اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ انھیں موضوع کے مطابق کتنے اشعار یاد تھے۔بہر کیف مجھے ان کو شاعر ماننے میں کچھ کلام نہیں۔ لیکن شاعری کوئی تمغہ نہیں ہے جسے عطا کر کے یہ کہہ دیا جائے کہ فلاں صاحب شاعر ہیں کیوں کہ ان کے پاس شعر کہنے کی سند ہے۔ہر شاعر اپنے کلام سے اس بات کا فیصلہ کرتا ہے کہ اس میں شعر کہنے کی کتنی صلاحیت پوشیدہ ہے ۔وہ کس معیار کے اشعار کہہ سکتا ہے ،اس کا کلام اپنے بعد آنے والی نسلوں کو اور خود اس کے معاصرین کو کس حد تک متاثر کرتا ہے ۔اسید الحق قادری کی شاعری پر بھی بہت سے سوال قائم ہوتے ہیں مثلاً وہ شاعر تھے تو کس معیارکے اشعار ان کے وہاں پائے جاتے ہیں؟ ان کے اشعار آفاقی تناظر میں شعر کی تعریف سے کتنے قریب ہیں؟ ان کے کلام میں کس جذبے کی مقدار زیادہ ہے؟اور کیا انھیں ایسا شاعر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ ان کے کلام سے کسی نوع کا ادبی ، علمی،فکری،جذباتی اور مشاہداتی استفادہ کیا جا سکے؟یا انفرادی طور پر ان کے کلام کی اپنی کوئی اہمیت ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

شعر کو کن بنیادوں پر شعر تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ اس پر بہت سے مفکرین اور شعرا نے اپنی آراء درج کی ہیں۔جن میں اصمعیؔ ،ابن رشیقؔ اور ملٹنؔ کی رائے میرے نزدیک زیادہ معتبر ہیں ۔اصمعی ؔ کہتا ہے:

’شعر وہ ہیں جس کے معنی الفاظ سے پہلے ذہن میں آجائیں ‘
ابن رشیق ؔ فرماتے ہیں:

’ شعر وہ ہے کہ جب پڑھا جائے تو ہر شخص کو یہ خیال ہو کہ میں بھی ایسا کہہ سکتا ہوں ۔مگر جب ویسا کہنے کا ارادہ کیا جائے تو معجز بیان عاجز ہو جائیں۔‘
اور بقول ملٹنؔ :

’شعر وہ ہے،جوسادہ ہو ،جوش سے بھرا ہوا ہو، اور اصلیت پر مبنی ہو‘

ان تینوں بنیا دوں پر کھرا اترنے کے باوجود بھی اگر شعر، شعر نہیں ہے تو اس کے متعلق کسی اور رائے پر غور کیا جائے گا ۔اس بات کی وضاحت یہاں ضروری ہے کہ جن اشعار میں کسی قسم کا عیب یا سقم موجود ہو یہاں ایسے اشعار کی گفتگو نہیں ہو رہی بلکہ جوا شعار اپنی مبادیاتی سطح سے ہر طور کامیاب ہو کر اس صف میں شامل ہوجائیں جس پر علویت کے ساتھ شعر اور غیر شعر ہونے کی بحث ملحوظ ہو ۔یہاں ایسے اشعار کی بات ہو رہی ہے۔اب اسید صاحب ان شرائط پر کس حد تک کھرے اترتے ہیں اس کا فیصلہ ان کی شاعری سے کیا جا سکتا ہے۔ان کی ایک نظم ’نالۂ درد‘ کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے جس سے سادہ اسلوب،جوش بیان،اصلیت پسندی،اصمعی کی رائے اور ابن رشیق کے خیال کی ترجمانی ہوتی ہے۔اس نظم کا مطلع ہے:

مجھ سے احباب یہ کہتے ہیں قصیدہ لکھو
عید کا دن ہے مسرت کا ترانہ لکھو

اب اشعار ملاحظہ کیجیے:

مگر افسوس میں کس دل سے کروں یار کی بات
کس زباں سے میں کروں زلف ترحدار کی بات
کس قلم سے لکھو رعنائی گلزار کی بات
کیسے لکھوں گل و بلبل لب و رخسار کی بات
مجھ کو آتا ہے فلسطین کے بچوں کا خیال
ان کے سینوں میں اترتے ہوئے نیزوں کا خیال
نوجواں بیٹوں کو روتی ہوئی ماؤں کا خیال
خون سے بھیگی ہوئی ان کی رداؤں کا خیال
غرب اردن کے شہیدوں کا خیال آتا ہے
کبھی غزہ کے یتیموں کا خیال آتا ہے
ان کی مایوس نگاہوں کا خیال آتا ہے
گریہ کرتی ہوئی آنکھوں کا خیال آتا ہے
میرے بغداد پہ چھائے ہیں قضا کے بادل
ظلم کے جور کے وحشت کے جفا کے بادل
فقر و افلاس کے فاقے کے وبا کے بادل
آفت و رنج و مصیبت کے عنا کے بادل
میرے گجرات میں انسانوں کے کٹتے ہوئے سر
بے کسوں مفلسوں مجبوروں کے کٹتے ہوئے سر
بھوک اور پیاس سے بچوں کے بلکنے کا خیال
خاک اور خون میں لاشوں کے تڑپنے کا خیال
میرے کشمیر سے رونے کی صدا آتی ہے
میرے قندھار سے آواز بکا آتی ہے
میرے کابل میں مکانوں سے دھواں اٹھتا ہے
میرے شیشان کی گلیوں میں لہو بہتا ہے
پھر بھی احباب یہ کہتے ہیں قصیدہ لکھوں
عید کا دن ہے کوئی شوخ سا نغمہ لکھوں

ان اشعار کے مطالعے سے خود اندازہ ہو جا تا ہے کہ شاعر نے کس شدید جذبے کو اپنے الفاظ کے ذریعے کامیابی سے بیان کیا ہے ۔اک عجیب سا تسلسل ہے جو کہیں منقطع نہیں ہوتا ،ایسامحسوس ہوتا ہے کہ شاعر کو ان تمام علاقوں میں اور ان تمام بستوں میں ہونے والے حادثات اپنے گھر میں ہوتے معلوم ہو رہے ہیں۔ایک گہرا کرب ہے جس میں ڈوب کر وہ ان اشعار تک رسائی حاصل کر رہا ہے ۔اس نظم میں اسید صاحب نے اپنی جود ت طبع سے اس بات کا احساس بھی دلایا ہے کہ شاعر کتنا حساس ہوتا ہے ۔نظم کا کردار جو بنیادی طور پر شاعر ہے اس سے اس کے احباب مطالبہ کر رہے ہیں کہ عید کا موقع ہے اسے اس خوشی کہ موقعے پر کوئی قصیدہ رقم کرنا چاہئے ۔اس میں بھی کئی پہلو پوشیدہ ہیں کہ شاعر یہ پیغام دے رہا ہے کہ قصیدہ جو شاعری کی ایک صنف ہے اس کا کہنا اس دور میں یا اس عہد میں درست نہیں کیوں کہ ہماری قوم پوری دنیا میں جس ظلم و استبداد کا شکار ہو رہی ہے اس کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم کچھ عملی کام کریں نہ کہ قصائد اور غزل خوانی میں اپنا وقت ذائع کیا جائے۔

بہر کیف ہم شاعر کے حساس ہونے کی بات کر رہے تھے ۔ظاہر ہے کہ جو احباب شاعر سے قصیدہ رقم کرنے کو کہہ رہے ہیں وہ خود قصیدہ کہنے کی صلا حیت نہیں رکھتے لہٰذا وہ غیر شاعر ہیں اور شاعر جو اس بات کی صلاحیت رکھتا ہے وہ اپنے دوستوں کو ان کی بے حسی پر شرمندہ کر رہا ہے کہ تم جس دن کوخوشی کا دن سمجھ رہے ہو حقیقتاً وہ غم کا دن ہے کہ ہماری قوم پر ہر طرف سے مصیبت کے بادل چھا تے چلے جا رہے ہیں ،جس کا ہم لوگوں کو رائی برابر احساس نہیں ۔ یہ وقت اس کا نہیں کہ خوشیاں منائی جائیں یہ تو تدابیر کا وقت ہے اپنے احتساب کاوقت ہے، جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے کہ آخر ہم اتنے مظالم کا شکار کیوں ہو رہے ہیں۔یہ اور اس طرح کے کئی پہلو اس نظم میں پوشیدہ ہیں جس کا بغور جائزہ لیا جائے تو اس ایک نظم پر طویل سے طویل تر گفتگو کی جا سکتی ہے ۔ایک اہم بات اور ہے کہ شاعر کی لفظیات پر غور کیا جائے تو سمجھ میں آتا ہے کہ اس کو الفاظ کے برتنے کے فن پر کتنی قدرت حاصل تھی۔مثلاًزلف ترحدار،رعنائی گلزار،گل و بلبل ،لب و رخسار،آفت و رنج و مصیبت اور آواز بکا یہ ایسی تراکیب ہیں جو ہماری کلاسکی شاعری میں کثرت سے استعمال ہوئی ہیں اور ہم کئی حوالوں سے ان تراکیب کا مطالعہ کر چکے ہیں ۔پھر بھی اسید صاحب کے کلام میں یہ مختلف انداز میں نہ صحیح تو اتنی بر محل نظر آتی ہیں کہ ایسے الفاظ بھی جن سے نئی شاعری کے خراب ہونے کا خدشہ رہتا ہے اس کے بر عکس ان تراکیب کے استعمال سے یہ اشعار بھلے محسوس ہوتے ہیں ۔اسی طرح دوسرے الفاظ بھی اتنے تنوع اور جامعیت کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں کہ نظم میں پر فیکشن پیدا ہو گیا ہے۔ ساتھ ہی شاعر نے احوال شہر کو اسی ترتیب سے باندھا ہے جس ترتیب سے ان شہروں کے غمو ں کا احساس کسی حساس شخص کو مغموم کر سکتا ہے۔ہم شعری آہنگ کو نظر میں رکھیں تو شاعر نے جس ترتیب سے شہروں کو بیان کیا ہے اس کی حکمت بھی ہماری سمجھ میں آ جائے گی ۔مثلاً فلسطین،اردن ،غزہ، بغداد، گجرات ،کشمیر ،قندھار ، کابل اور شیشان یہ ترتیب نظم میں اس طرح استعما ل ہوئی ہے کہ شعر کا آہنگ اس سے بتدریج بلند ہوتا جا رہا ہے اور المیے میں جس قسم کے آہنگ کی ضرورت ہوتی ہے یہ اسماء اس آہنگ کو پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں ۔دیگر الفاظ پر نظر کیجئے تو آپ کو اندازہ ہو جائے کا کہ کس طرح شاعر اسماء اور الفاظ کے اشتراک سے اس نظم میں المیے کی کیفیت کو بام عروج تک لے جاتا ہے ۔ہر نئے شہر کا نام اس جگہ استعمال میں آیا ہے جس جگہ شاعر کو اس بات کا خطرہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ اب واقعے کو بدلنے کی ضرورت ہے ورنہ بحث میں تاثیر قائم نہ رہے گی ۔یہ ہی ایک شاعر کی پہچان ہے کہ وہ اپنے کلام کے ذریعے قاری کو باندھنا جانتا ہے ۔اسے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ کس حد تک ایک قاری کا ذہن کسی واقعے سے محظوظ و منغض ہو تاہے اور کس مقام پہ طبیعت کو تغیر کی ضرورت ہوتی ہے ۔ شاعر کا کوئی فعل مصلحت سے خالی نہیں ہوتا لیکن وہ مصلحت اتنی تیزی سے عمل میں آتی ہے کہ اس کے شعوری ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔یہ سب شاعر کی ذہنی کار کر دگیوں اور اس کی ذہنی اپج کی قوت کا کمال ہے اور اسی سے کسی شاعر کے اعلی و ادنی ہونے میں تمیز کیا جا سکتا ہے ۔اسید صاحب کے ذہن پرخیالات کا بہت تیزی سے نزول ہوتا ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔بڑی بات یہ ہے کہ وہ اس آمد کو اسی سلیقے سے تر تیب دینے کے فن سے آشنا ہیں جس تیزی سے وہ خیالات ان پر اتر تے ہیں۔

یہ بات صرف ان کی نظموں ہی میں نہیں ہے ۔بلکہ دیگر اصناف میں بھی وہ اسی قدرت کے ساتھ شعر کہتے ہیں ۔زندگی نے اسید صاحب کا ساتھ بہت جلد چھوڑ دیا ورنہ مجھے یقین تھا کہ ایک نہ ایک روز اسید صاحب اس فن کے لئے بھی وقت نکالیں گے اور کسے معلوم کتنے اشعار وہ روز کہتے ہوں جسے یہاں وہاں لکھ کر چھوڑ گئے ہوں یا صرف ذہن میں ان اشعار کا نقش محفوظ ہو جو صاحب ذہن کے ساتھ ہمیشہ کے لئے ہم سے دور ہو گیا ۔میں اوپر گنوا چکا ہوں کہ ان کا کتنا کلام مجھ تک پہنچا ہے ۔لیکن اس قلیل عرصے میں وہ تین اصناف پر طبع آزمائی کر چکے تھے اور ان تینوں اصناف کے ذریعے با مقصد اشعار کا انتخاب ہم تک منتقل کیا ۔اسید صاحب کو غزل سے بھی لگاؤ تھا لیکن صرف ایسی غزل جو فنی اعتبار سے مکمل ہو ۔انھیں اپنے سے پیشتر شعرا میں احمد فراز کی بعض غزلوں نے متا ثر کیا جس میں سے احمد فراز کی ایک مشہور غزل کی ردیف پر انھوں نے چند نعتیہ اشعار کہے اس میں سے دو شعر ملاحظہ کیجئے:

خرام ناز پہ نبض جہاں ٹھہرتی ہے
فرشتے عرش کے پہلو بدل کے دیکھتے ہیں
وہ بخش دیتے ہیں قدموں پہ گرنے والوں کو
سو ہم بھی قدموں پہ ان کے مچل کے دیکھتے ہیں

یہ اشعاراس بات کا ثبوت ہیں کہ اسید صاحب کو نعت و منقبت سے جو لگاو تھا وہ دیگر اصناف سے نہ تھا۔ایک اور منقبت جو ’استمداد بحضور غوث الثقلین‘کے عنوان سے انھوں نے کہی ہے اس میں ایک مقام پر اپنے چار مصروں کے ساتھ شاہ حمزہ عینی مارہروی کے مشہور شعر کی جو تضمین کی ہے وہ اس خیال کو تقوت پہنچاتی ہے۔اشعار دیکھئے:

تو بھی گر چاہتا ہے غم کا مداوا یوں کر
ایک جملے میں علاج غم فردا یوں کر
دل بیمار کو اک آن میں اچھا یوں کر
آ در غوث پہ اور عرض تمنا یوں کر
غوث اعظم بمن بے سرو ساماں مددے
قبلہ جاں مددے کعبہ ایماں مددے

اسید الحق قادری کا شعر مزاج ان کے آباو اجداد کی شاعری سے ملتا جلتا ہے ۔وہ اپنے خاندانی بزرگ شعرا کے شعری اسلوب سے ہم آہنگی کو اپنے لئے باعث افتخارسمجھتے ہیں جس کا اعتراف انھوں نے اپنی ایک نظم ’میں اپنی عظمت رفتہ تلاش کرتا ہوں‘ میں کیا ہے ۔یہ بات صرف شعر و شاعری کی حد تک محدود نہیں ۔بلکہ جملہ اوصاف کو وہ اپنے خانوادے سے اخذ کرنا چاہتے ہیں اور عادات و اطوار سے لے کر علوم و فنون تک ہر ایک چیز کے لئے دست بہ دعا ہیں کہ اپنے اکابرین سے کچھ حصہ ان کو بھی نصیب ہو ۔مذکورہ نظم کو پڑھتے وقت ایسا لگتا ہے کہ شاعر کی پر ورش جس ماحول میں ہوئی ہے اس نے شاعر کو اس بات کا احساس دلا دیا ہے کہ یہاں زندگی کو آراستہ و پیراستہ کر نے کی ہر شئے موجود ہے ۔بس ان اوصاف کو اپنے باطن میں روشن کرنے کی ضرورت ہے جس سے ایک با وقار اور پر سکون زندگی حاصل کی جا سکتی ہے ۔لیکن یہ ان کی حقیقت پسندی ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے او صاف حمیدہ کو اپنے اندر جتنا بھی پاتے ہیں وہ نا کے برابر ہے ۔انھیں کسی طرح کی خوش فہمی نہیں ہے کہ نسل در نسل وہ اوصاف سب میں منتقل ہوتے چلے گئے ہیں ۔بلکہ وہ اسے انفرادی ارتقا کے زمرے میں شمار کرتے ہیں ۔انھیں اطمنا ن ہے کہ ان اوصاف سے جس طرح ان کے دیگر اہلہ خانہ متصف ہیں وہ بھی ایک دن اپنی کوشش سے ان اوصاف کو خود میں روشن کر لیں گے ۔یہ حقیقت پسندی ہی انھیں دوسروں سے الگ کرتی ہے ۔اس نظم کا پہلا قطع دیکھئے جس میں وہ کس امید اوربھروسے کے ساتھ ان چیزوں کو تلاش کر رہے ہیں جو ان کے خون میں شامل ہیں۔

میں تیز دھوپ میں سایہ تلاش کرتا ہوں
سیاہ شب میں اجالا تلاش کرتا ہوں
نشان پائے مسیحا تلاش کرتا ہوں
ہلال عید تمنا تلاش کرتا ہوں
میں زندگی کا قرینہ تلاش کرتا ہوں
میں اپنی عظمت رفتہ تلاش کرتا ہوں

دیکھئے کہ شاعر کسی باہری دنیا سے کچھ حاصل کرنے کی خواہش ظاہر نہیں کر رہا ہے اور اسے اس بات کا بھر پور احساس ہے کہ جو عظمت اور جو زندگی کا قرینہ اسے تلاش کرنا ہے وہ اس کا اپنا اثاثہ ہے۔ یہ اظہار ہمیں دھوکے میں ڈال سکتا ہے لیکن یہ کمال شعر ہے کہ ایک ہی مصرعے میں شاعر اپنی اس شئے کو تلاش کرنے کی بات کر رہا ہے جو خود اس کی اپنی ہے ۔ظاہر ہے کہ عظمت رفتہ کوئی لکڑی کا کھلونا نہیں ہے نہ ہی کوئی ایسی چیز ہے جسے کوئی چرا سکے ۔وہ تو صرف ایک احساس ہے جو رد عمل کی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے ۔جس کا حصول شاعر کو ان اعمال کی طر ف ڈھکیل رہا ہے جہاں اسے اپنے مقصد میں کامیابی مل سکتی ہے ۔ایک بات اور غور طلب ہے کہ شاعر کو اس بات کا شکوہ نہیں ہے کہ وہ اپنی بے تو جہی کی وجہہ سے اس عظمت کو کھو چکا ہے بلکہ اسے اس یہ خیال پر یشان کر رہا ہے کہ یہی وہ عمر ہے جس عمر میں اپنے اجداد کے ورثے کو خود میں منتقل کیا جا سکتا ہے ۔یہی وہ زمانہ ہے جس زمانے میں اپنے مشاہدات اور مجاہدات سے اس عظمت کے حصول کی طرف قدم بڑھا یا جا سکتا ہے ۔جس میں سخاو ت عثمان ،حضور غوث کے فیضان،معین حق کے قلم دان ،جناب شیخ کے دامان اور نگاہ مقتد آقاوغیرہ جیسی بیش قیمتی اشیاء محفوظ ہیں ۔جو اس بات کی منتظر ہیں کہ ان کا وارث انھیں حاصل کر کے زمانے میں اپنی مثال قائم کرے۔اسید صاحب کی شاعری اتنی جذباتی اور معنی خیز ہے کہ اس پر سیر حاصل گفتگو کی جاسکتی ہے ۔اس کم سے کم کلام میں اتنے سر چشمے پو شیدہ ہیں جو ایک متلاشی کو حیران کر دیں گے ۔ اسیدصاحب ایسے شاعر نہیں ہیں جن کی شاعری سے صرف محظوظ ہوا جا سکے یا کسی نوع کی ذہنی آسودگی حاصل کی جاسکے بلکہ ان کے اشعار ذہن کو سوتے سے جگاتے ہیں ۔فکر کی دعوت دیتے ہیں ،جھنجھوڑتے ہیں اور اپنے مقصد زندگی کی طرف مائل کرتے ہیں ۔ان کے کلام سے ایسے لوگ ہر گز محظوظ نہیں ہو سکتے جو شاعری کو صرف تفنن طبع کا ذریعہ سمجھتے ہیں اس کے بر عکس ان کی شاعری کو ایسے اشخاص اپنی پلکوں پر اٹھا تے پھریں گے جو بامقصد زندگی گزارنہ چاہتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے اشعار کا بغور مطالعہ کیا جائے ان کی زندگی کے ہر ہر پہلو سے آشنا ہوا جائے۔ اس عہد میں انفرادیت کو بہت اہمیت دی جاتی ہے لہٰذا انفرادی سطح پر اپنے اعمال کا احتساب کرنے والوں اور اجتماعی سطح پر ایک متحرک کی مانند اپنے مزاج کو تشکیل دینے والوں کے نزدیک اس طرح کی شاعری اہم قرار پاتی ہے ۔اپنی ایک چھوٹی سی نظم ’دوستی کا ہاتھ ‘ میں جو پیغام انھوں نے دیا ہے وہ اس بات کا ضامن ہے کہ ایسی شاعری بہت کار آمد ثابت ہو سکتی ہے جو تالیف قلب کا کام انجام دے ۔احمد فراز کے شعر پر ختم ہونے والی اس نظم میں شاعر نے جس اعلی ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے وہ ایک بڑے ذہن کی علامت ہے ۔ یہاں نظم کے اقتباس سے بات سمجھ میں نہیں آئے گی لہٰذا پوری نظم ملاحظہ فرمائیں:

مرے عزیز مرے دوست میرے ہم سایہ
ہمارے بیچ جدائی کو اک صدی گذری
نہ تم کو مجھ پہ بھروسہ نہ مجھ کو تم پہ یقیں
اسی نفاق و عداوت میں زندگی گذری
وہ جس کا نقشے کف پا ہمارے سینے میں
اسی کی یاد سے آباد تیرا سینہ ہے
وہ جس کے فیض سے ہم نے بلندیاں پائیں
اسی کا نام مبارک ترا وظیفہ ہے
ہماری کشت پہ برسا ہے جو سحاب کرم
اسی کے فیض کی بارش تمھارے آنگن میں
وہ جس کی بو سے معطر مشام جاں ہے مرا
اسی گلاب کی رنگت تمہارے گلشن میں
وہ بادہ خانہ جہاں ہم نے مئے گساری کی
شراب تم بھی اسی میکدے کی پیتے ہو
ہے جس نگاہ کی مستی ہماری آنکھوں میں
اسی نگاہ سے مخمور تم بھی رہتے ہو
جو عندلیب مرے باغ میں چہکتا ہے
اسی کی نغمہ سرائی ترے گلستاں میں
وہ شمع جس سے منور ہے طاق دل میری
سی کی ضو سے اجالا ترے شبستاں میں
وہ بجلیاں جو مرے آشیاں کو تکتی ہیں
وہی حریف تمہارے نگار خانے کی
تمہارا گلشن صد رنگ جس کی زد پر ہے
وہی خزا ہے عدو میرے آشیانے کی
غرض کہ فرق نہیں کوئی ہم میں بنیادی
نہ فکر میں نہ عقیدے نہ دین و مذہب میں
نہ اختلاف خیالات کا نہ مسلک کا
نہ کوئی فرق ہمارے تمہارے مشرب میں
اگر یہ سچ ہے تو اے محترم حریف مرے
کوئی جواز نہیں ہم میں دشمنی کے لئے
’اگر تمہاری انا ہی کا ہے سوال تو پھر
چلو میں ہاتھ بڑھاتا ہوں دوستی کے لئے‘

میں اس بات سے آشنا ہوں کہ اسید صاحب نے کس اعلی ظرفی کا مظاہرہ اس نظم میں کیا ہے لیکن پھر بھی اس کے اظہار سے پیغام کو محدود نہیں کرنا چاہتا ۔یہ نظم ہر اس شحص ہر اس جماعت اور ہر اس ملک کے لئے سبق آموز ہے جو کسی بھی قسم کی عداوت اور نفاق میں مبتلہ رہتاہے اور صرف اپنی انا کی بنیاد پر اس لڑائی کو نسل در نسل منتقل کرتاچلا جاتا ہے ۔یہ آفاقی تناظر اور آسان زبان میں کہی گئی ایک ایسی نظم ہے جس سے ہر رنگ و نسل کے اذہان مستفید ہو سکتے ہیں ۔ایک بات اور غور طلب ہے کہ جس شخص کو کسی طرح کا سبق حاصل کرنا ہے یا اپنی زندگی کو کسی اصول سے مزین کرنا ہے تو اس کے لئے ایک واقعہ ہی کافی ہے اور جسے کسی طرح کی نصیحت درکار نہیں اس کے لئے پند و نصح کی تمام کتب بیکار محض ہیں۔اسید صاحب کی اس نظم سے جن لوگوں کو سبق حاصل کرنا ہے وہ کر لیں گے اور جنہیں نہیں کرنا وہ صرف اسے تنقید کا نشانہ بنا کر آگے بڑھ جائیں گے۔

(۲)

میر نے ہر صنف میں شعر کہے ہیں ۔اس لئے بھی انھیں اردو کا بڑا شاعر تسلیم کیا جاتا ہے ۔لیکن جن شعرا کے یہاں اس احتمام کا فقدان ہے ان میں بھی کسی نہ کسی نوع کی عظمت پو شیدہ ہے ۔ ایسے شاعر اپنی اسی صنف کے حوالے سے مشہور ہوئے ہیں جس میں انھوں نے کمال دکھایا ۔مثلاً انیس کو دنیا مرثیے کے حوالے سے جانتی ہے۔سوداؔ کوقصائد کے حوالے سے میر حسن ؔ کو مثنوی کے حوالے سے اورامجد حیدرآبادی کا رباعی کی وجہ سے۔یہ بات الگ ہے کہ ان شعرا نے من جملہ نہ سہی دیگر کچھ اور اصناف میں بھی اشعار کہے ہیں لیکن یہ تمام شعرا کسی ایک صنف کے حوالے سے زیادہ مقبول ہیں ۔میرؔ نے بھی اپنی غزل کے ذریعے جو شہرت حاصل کی وہ دوسری اصناف سے انھیں حاصل نہ ہو سکی ۔لیکن نعت اور منقبت میں اس قد کے شعرا بہت کم نظر آتے ہیں۔نعت کے حوالے سے اگر محسنؔ کاکوروی کو اردو ادب کی تاریخ سے نکال دیا جائے تو ہمارے لئے دوسرا نام تلاش کرنامشکل ہو جائے گا۔اس کی کیا وجوہات ہیں اس سے قطع نظر یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اردو شاعری محسن کاکوروی کو چھوڑ کر حمد و نعت و منقبت کے حوالے سے ہوئی ہے اوربہت! اور بہت اچھی ہوئی ہے۔جس کا مطالعہ کرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ جس طرح عشق کے حقیقی جذبے کے بنا غزل اور قصیدہ نہیں کہا جا سکتا اسی طرح حمد ،نعت اور منقبت بھی نہیں کہی جا سکتی ۔فرق صرف اتنا ہے کہ ایک طرف عشق مجازی ہے تو دوسری طرف عشق حقیقی۔جب ہم غزل میں اس تخصیص کے قائل ہیں کہ مجازی کا اطلاق حقیقی کے معنی پر بھی کیا جا سکتا ہے تو جو اشعار کلیتاً اس بو قلمونی سے آراستہ ہیں ان کو اتنی اہمیت کیوں نہ دی جائے۔انسان کی ذہنی و دلی وابستگی جس شئے سے ہوتی ہے وہ اسی کی جانب مائل ہوتا ہے ۔ اسید الحق نے جو نعتیہ کلام اپنے پیچھے چھوڑا ہے وہ کسی طور ایک اچھے غزل گو یا ایک اچھے نظم نگار سے کم رتبہ نہیں ۔یہ ان کے رجحان کی بات ہے کہ انھوں نے اپنی صلاحیت کو ایک مقدس ہستی سے منسلک کیا اور اپنے اشعار میں ان کی مدح سرائی کو اپنے لئے بہتر جانا ں۔صرف اس لئے اگر کسی شاعر کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جائے کہ اس نے محدود دائرے میں رہ کر شعر کہے ہیں یا کسی فرد واحد سے منسلک ہو کر اس فن میں طبع آزمائی کی ہے تو دنیا کی کئی زبانوں میں ہونے والی شاعری کا ایک بڑا ذخیرہ بے کار ہو جائے گا جو اس انفرادیت کو ملحوظ رکھ کر کہا گیا ہے اور کہا جا رہا ہے۔ ہر محدود نقطہ نظر میں اک آفاقیت پو شیدہ ہوتی ہے اور اسیدالحق عاصم القادری کی شاعری اسی آفاقیت کا خزینہ ہے ۔جو ایک محور تک محیط ہے لیکن اس احاطے میں ایسے مذہبی و ثقافتی اصول پوشیدہ ہیں جو انسانی زندگی میں بہت کار آمد ثابت ہوئے ہیں ۔ان کے چند نعتیہ اشعار ملا حظہ کیجئے ۔ان اشعار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسید الحق جیسے اذہان جس سمت اپنی فکر کو موڑ دیں وہاں کیا کیا گل کھلا سکتے ہیں:

رسول وہ جو رسولوں کا تاجدار ہوا
وہ جس کا ذکر دوائے دل فگار ہوا
رسول وہ جسے محبوب کردگار کہیں
رسول وہ جسے قدرت کا شاہ کار کہیں


جب تصور میں بسالیں آنکھیں
ساری دنیا سے اٹھالیں آنکھیں
خاک طیبہ ہے خبر دار قمر
اس کی آنکھوں میں جو ڈالی آنکھیں


سنا ہے لالہ طیبہ کی تازہ کاری کو
لباس گل سے شگوفے نکل کے دیکھتے ہیں
خرام ناز پہ نبض جہاں ٹھہرتی ہے
فرشتے عرش کے پہلو بدل کے دیکھتے ہیں


تابانی در عدن رخشانی لعل یمن
دندان انور کی ضیا یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں
تاج سر کسریٰ کہاں پیشانی زہرہ کہا
نعلین پاک مصطفی یہ بھی نہیں وہ بھی نہیں


بصارت کر رہی ہو گی طواف گنبد خضرا
بصیرت کی جبیں پر عکس روئے مصطفی ہوگا
بوصری، جامعی و قدسی قصائد لکھ رہے ہوں گے
کوئی حسان نعت سرور دیں پڑھ رہا ہوگا

اسید صاحب اس میدان میں جس شاعر سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں وہ امام احمد رضا خاں بریلوی کی ذات ہے ۔اس کے علاوہ ان کی کل شاعری لہجے کے مطابق علامہ اقبال ؔ اور جوش ؔ سے قریب نظر آتی ہے۔ اس بات کو میں اوپر بیان کر چکا ہوں کہ اسید الحق جس عہد میں شعر کہہ رہے تھے وہ ان کا عہد طالب علمی تھا ۔اس عہد میں زیادہ تر لوگ انھیں شعرا سے متاثر ہوتے ہیں ۔لہٰذا اسید صاحب بھی اسی رنگ میں شعر کہتے نظر آتے ہیں ۔لیکن یہ اشعار تجرباتی نوعیت کے ہیں پھر بھی ان میں اتنا بلند آہنگ پایا جاتا ہے۔ اگر وہ مسلسل شعر کہتے رہتے تو یقیناًاپنے عہد کے بڑے شعرا میں ان کا شمار ہوتا۔

اخیر میں اس بات کا اظہار کرنا بھی میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اسید الحق جتنے اچھے شاعر تھے اس سے کہیں زیادہ اچھے انسان تھے ۔اچھا شعر کہنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا ایک اچھا انسان کہلانا ہے ۔اسید الحق صاحب نے جیسے اشعار کہہ ویسے یا اس سے بہتر اشعار کہے جا سکتے ہیں میرا طلسم اس دن ٹوٹے گا جس دن میں ان سے بہتر انسان دیکھوں گا۔

Categories
نان فکشن

نظم کیا ہے؟

ہر نظم، یا فنون لطیفہ میں مشمولہ ہر نئی تخلیق بنیادی طور پر تو تخلیق کار کے ذہن سے ابھری ہوئی ایک ’سچی‘ ، یعنی اس کے ذہن کی ہو بہو عکاسی کرنے والی مصور کاوش (الفاظ، رنگ اور برش، پتھراور تیشہ، کسی بھی میڈیم میں) ’’فنکار کے اپنے لیے ‘‘ہی ہوتی ہے، چاہے وہ تصویر بیچنے کے لیے بنائے، نظم مشاعرے میں پڑھنے کے لیے لکھے یا ہتھوڑے اور چھینی سے مورتی مندر میں استھاپت کرنے کے لیے ہی کیوں نہ بنائے۔ اس میں دو آراء ہو ہی نہیں سکتیں۔ یعنی اگر وہ فنی کاوش true to life(1) ہے، تو اسے true to the life of the mind of the artist (2) ہونا چاہیے۔ اب نمبر ایک (۱)اور نمبر دو (۲)میں فرق یہ ہے، کہ نمبر(۱) فوٹو گرافی کی One-to-One equation پر پوری اترتی ہے، لیکن نمبر دو(۲)میں خدا جانے یا کسی حد تک فرائڈ،ؔ یونگ،ؔ میک ڈوگل اؔور درجنوں دیگرنظریہ ساز سایکالوجسٹ جانیں، کیا کیا کچھ اور ، یعنی فوٹوگرافی والی تصویر سے بعید ، ما قبل اور مابعد، شعوری اور لا شعوری سطحوں پر موجود ہے۔ ان میں سے بہت کچھ تو فنکار کے علم میں بھی نہیں ہے۔

معافی چاہتا ہوں ، میں شاید ایک کلاس روم ٹیچر کی طرح بولنے لگ گیا ہوں جو اپنی ’آرٹ ایپریسی ایشن ‘ کی کلاس پڑھا رہا ہے۔ لیکن یہ مضمون میں نے سالہا سال تک یہاں کی یعنی واشنگٹن ڈی سی کی یونیورسٹی میں پڑھا یا ہے ۔۔۔۔۔ تو میں کہہ رہا تھا، کہ ۔۔۔۔چلیں ایک مثال ہی لے لیں۔ جب پکاسوؔ ایک تصویر بناتا ہے تو کیا وہ اس کو بیچنے کے لیے یا آرٹ گیلری میں آنے والے شائقین کے لیے بناتا ہے؟ جی نہیں! اگر وہ ان کے لیے بناتا بھی ہو، تو بھی جو تصویر بنفس نفیس کینوس پر اترتی ہے، اس کا جامع خاکہ تو شایدوہ خود بھی پہلے سے نہیں جانتا کہ وہ کیا بنائے گا۔ جوں جوں تصویر بنتی چلی جاتی ہے، شعوری، تحت الشعوری اور لا شعوری سطحوں کے اشتراک سے پیدا شدہ یہ مرقع ذہن کی بالائی سطحوں پر اجاگر ہوتا چلا جاتا ہے، تو بھی تصویر کے اختتام تک اس میں تبدیلیاں ممکن ہیں ۔۔۔۔۔۔اس سارے بکھیڑے میں ناظر یا تصویر خریدنے والا یا نقاد یا آرٹ گیلری کا شائق کہیں موجود نہیں ہے! اگر مصور دیکھنے والی ایک آنکھ کو گھٹنے پر فِٹ کر دیتا ہے تو وہ اس بات کو رمز و اشارہ و علامت سے ظاہر کر رہا ہے، کہ اس آنکھ کو گھٹنوں کے بل چل کر اس منظر کو دیکھنا ہے، اگر یہی آنکھ وہ فرضی پکاسو ؔپاؤں کے انگوٹھے پر فِٹ کر دیتا ہے تو اسے یہ دکھانا مقصود ہے کہ اس آنکھ کو پاؤں کے بل چلنا ہے۔ (گھٹنوں کے بل چلنے اور پاؤں کے بل چلنے میں عمر کا جو تضاد ہے، اس کا اندراج یہاں ضروری نہیں ہے!ْ)

یہی صورت ِ حال نظم گو شاعر کی بھی ہے۔ (یہ حالت غزل گو شاعر کی بھی فرداً فرداً ایک یا دو اشعار میں ہو سکتی ہے!)چاہے وہ یہ عزم کر کے ہی کیوں نہ بیٹھے کہ اسے پشاور کے اسکول میں بچوں کے قتل عام پر ایک احتجاجی یا ماتمی نظم لکھنی ہے، (اگر وہ versifier نہ ہو کر سچا اور اچھا شاعر ہے ) تو ذہنی استعاروں کی رقص گاہ میں ناچتے ہوئے ہیولے اسے دم بدم اپنی طرف متوجہ کریں گے۔ ان میں سے کچھ ایک کو وہ منتخب کر کے انہیں الفاظ کے ملبوس سے آراستہ کرے گا اور نظم لکھے گا۔ ۔۔۔۔اور میں یہ بات ایک بار پھر تاکید سے عرض کر رہا ہوں کہ یہ نظم اُس کے ذہن کی صحیح عکاسی کرنے کی وجہ سے، اصلاً اور نسلاً، اس کے اپنے لیے ہو گی۔(چاہے وہ اسے اخبار میں چھپنے کے لیے بھیجتے ہوئے یہ بھی لکھ دے کہ اس نے یہ نظم اس خاص ضمیمے کے لیے لکھی ہے، جو اس قتل عام کے بارے میں ہے)۔۔۔۔ اس نظم کو لکھنے کے بعد وہ اس ہیجان، اتھل پتھل سے نجات حاصل کر لے گا، جسے creative tension کہتے ہیں، جو بچے کی پیدائش کے وقت درد ِ زہ کی سی حالت میں زچہ کو ہوتی ہے۔

تو صاحب، میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اردو میں لکھی جانے والی آج کی سب نظمیں ایسی نہیں ہیں۔ وہ جن میں استعارہ سازی اپنی اصلی حالت میں موجود ہے، تو یقینا ہیں، لیکن وہ (۱) جن میں بھول بھلیاں کی حد تک (راشدؔ کا نگینہ، انگوٹھی، ڈبیا، صندوق اور سمندر کی مثال پہلے دی جا چکی ہے) استعاراتی عمرو عیا رکی زنبیل میں پوشیدہ تصاویر ہیں، جن کا آپس میں کوئی organicرشتہ نہیں ہے، یا پھر وہ (۲) جو غزل کے استعارہ سازی کے گودام کے شیلفوں سے اٹھائی ہوئی ذہنی تصویروں سے بوجھل ’’منظوم جواب مضمون‘‘ کی طرح تحریر کردہ ہیں ۔۔۔۔دونوں اس ذیل میں نہیں آتیں۔ یہ دونوں قارئین کے لیے لکھی جاتی ہیں یا رسالوں کی زینت اس لیے بنتی ہیں کہ لکھی ہی اس وجہ سے گئی ہیں۔ ان کا genesis مصنوعی تخم کاری کا مرہون ِ منت ہے۔

اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے میں کچھ اور زیادہ تفصیل سے صرف بات کرنا ہی نہیں چاہتا، آپ کو تحلیقی قوت کے کار بیوہار کے عمل سے انگلی پکڑ کر ایسے ہی ساتھ لیے چلتا ہوں جیسے میں آرٹ اپریسییشن کے کمرہ جماعت میں اپنے طلبہ کے سامنے کھڑا ہوں اور وہ مجھے بلیک بورڈ پر لکھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں یا مجھے اوور ہیڈ پروجیکٹر پر گراف بناتے ہوئے میری تحریر یا گراف کو سکرین پر دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اس کے لیے ، اور اس خاص مثال کو پوری طرح سمجھنے کے لیے، اس کے پس منظر کا علم ہونا ضروری ہے۔

1994ء میں سعودی عرب میں تین برس کے تدریسی قیام کے بعد لوٹنے پر میں کچھ ایسے نا مساعد حالات سے دو چار ہوا کہ ایک کے بعد ایک سانحے رونما ہوتے گئے جن کی وجہ سے میری جمع شدہ پونجی برباد ہو گئی، مکان بھی ہاتھ سے نکل گیا اور بیوی کی خرابیٔ صحت کے علاوہ میں خود بھی شدید ڈیپریشن کا شکار ہو گیا۔ ان نا مساعد حالات کی آخری کڑی میرا کار ایکسیڈنٹ تھا جس میں میری بائیں ٹانگ کی ہڈی تین جگہوں سے ٹوٹ گئی اور میں ایک لمبے عرصے کے لیے بار ِ بستر ہو گیا۔ہسپتالوں کے بل اور دیگر اخراجات کی وجہ سے مجھے بنکرپسی (دیوالیہ پن) کا سہارا لے کر ان بلوں سے جان چھڑانا پڑی ۔۔۔۔ ڈیپریشن کے دوران میں اکثر اپنی تقدیر کو کوستا ، اس کے بنانے والے پر نفرین بھیجتا۔ لڑکپن میں کہیں سنا ہوا اور سہگل کا گایا ہوا ایک گیت دہراتا : اے کاتب تقدیرمجھے اتنا بتا دے، کیوں مجھ سے خفا ہے تو، کیا میں نے کیا ہے۔۔۔۔اس کے کلیدی الفاظ ’’کاتب تقدیر‘‘ نہ صرف میرے ذہن میں گونجتے رہتے بلکہ بارہا مجھے غالب کے اس شعر کی یاد دلاتے اور میں اسے دہراتا رہتا : ’’پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق : آدمی کوئی ہمارا دم ِ تحریر بھی تھا!‘‘

ایک دن لگ بھگ نیم بیداری کی حالت میں میرے ذہن میں ایک ہیولیٰ سا ابھر آیا کہ پٹواریوں کی طرح ایک تخت پر تقدیر لکھنے والے منشی بیٹھے ہیں اوربہی کھاتوں میں لوگوں کے مقدر لکھتے چلے جاتے ہیں۔ ان میں کچھ بے ہنگم سے ، بڑے بڑے پیٹوں والے، ادھیڑ عمر کے عجیب الجثہ اشخاص ہیں۔ کچھ اپنے قلموں کو سیاہی کی دوات میں ڈبوتے ہیں اور پھر فاضل روشنائی کو دیوار پر جھٹک کر منہ میں کچھ بڑبڑاتے ہیں، مثلاً ’’یہ لے، یہ تیرے لیے ہے، بد نصیب شخص !‘‘اس کے ساتھ ہی لکھتے ہیں اور پھر اس نوشتے پر مہر ثبت کر کے اسے ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور دوسرا اٹھا لیتے ہیں۔
نیم بیداری کی حالت میں ہی میں نے قلم اٹھایا اور لکھنا شروع کیا ۔۔۔۔ انگریزی میں ! ۔۔۔۔یعنی اردو میں کیوں نہیں، جبکہ دونوں محرکات، سہگل کا گایا ہوا گیت اور غالب کا شعر اردو میں تھے؟ تب بھی اس کا کوئی جواز نہیں تھااور آ جتک میں اس تضاد کی وجہ نہیں سمجھ پایا کہ انگریزی میں ہی کیوں ؟ بہر حال یہ سوال تو میں نے خود سے بعد میں پوچھا ، اُس وقت تو صرف لکھنا شروع کر دیا۔
اب ایک نگاہ ِ واپسیںذہن کے اس کیمکارڈر کے slide by slide & bloc by bloc تصویری تسلسل پرڈالتا ہوں تو وہ ساری فلم صریحاً آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے جو اُس وقت ذہن کی آنکھوں میں تھی، یعنی پٹواری یا محرر قسم کے لوگ تخت پر بیٹھے ہوئے، بہی کھاتوں میں لکھتے ہوئے، چہرے پر ناراضگی اور خشونت کے نشان، غصے سے روشنائی میں قلم ڈبوتے ہوئے، بے دردی سے فاضل روشنائی جھٹک کر دیوار پر پھینکتے ہوئے اور پھر لکھتے ہوئے بھی بڑبڑا ، بڑبڑا کر دل کا غبار نکالتے ہوئے۔۔۔۔اللہ، کیا منظر تھا میرے بیمار ذہن کے نہاں خانے میں!
انگریزی میں جو نظم خلق ہوئی، وہ نیچے لکھ رہا ہوں۔ یہ میری انگریزی نظموں کے ایک مجموعے، بعنوان
IF WINTER COMESمیں شامل ہے۔
THE FORTUNE FATHEADS
A drip in the right arm vein
Wires and cables, meters and clock faces
Looking at me, on the surgery table
– I can’t move : No, I can’t move
But I can see – and I can hear
I can hear the silence of the operation theatre.
“Here he is”, a voice booms from somewhere above.
“The hot-headed poet, the inconscient babe-babbler
Come, you challenger of God,
Come and have your fortune writ for you!
Yea! Unworthy Sir, no money, no respite from want.”
“Nay, but there’s something”,

ٓanother voice – a sore-throated one says:
Yea, a name and a fame.”
Wrap it around your cuff, man and be happy.
I look up – and see a round , rotund face
A bulging belly hanging to his knees,
Going up and down with every guffaw.
Another chimes in with his rasping, birdlike voice:
O, the sharp-tongued one, isn’t he?
One who challenged everything and everybody –
Including us, the ultimate diviners?
F…..him. Let him swallow his spittle.
I look up and see an emaciated face, almost a scarecrow
A womanish silk-soft sallow-voice sighs
Pity he doesn’t deserve.
Let him rot in the world some years more.
I open my eyes and find myself in the recovery room.

اب آپ غور فرمائیں ۔ کہ ظہورہ کی سطح پر بلا صورت و آشکارائی جو ہیولے ذہن میں تخلیقی کار کردگی کے عمل کے شروع میں محسوسیت کی سطح پر تھے ، جن کی ایک جھلک احاطہ ٔ نظر کی حدود کے اندر جھانکتی دکھائی دیتی تھی، اس عمل کے دوران اخفا و اضمار کی چلمن کے عقب سے نکل کر کیسے اپنی ’’منہ دکھلائی‘‘ کرتے ہیں اور نہ صرف بشرہ، ناک نقشہ، حلیہ، شکل، تیور پیش کرتے ہیں، ( Example: a round , rotund face, A bulging belly, hanging down to his knees, going up and down with every guffaw) , بلکہ لہجہ ، انداز ِ بیان، بھی قابل ِ شناخت بنا دیتے ہیں۔(Example: Booming voice, (and) A rasping chirplike voice. ایک اور مثال یہ ہے:an emaciated face, almost a scarecrow
A womanish silk-soft sallow-voice ۔۔۔۔۔۔

میں اب صرف اتنا کہہ کر اپنی بات ختم کرنا چاہتا ہوں کہ سچی تخلیق کا دار و مدار فہم، شعور، عقل و دانش پر نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی کو بھی چِت یا بودھ نہیں چاہیے، قوائے فکر و فطانت کی ضرورت نہیں، صرف خدا داد حسیت پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے اور پھر برافگندہ نقاب کے لیے وہ ’لشکارہ‘ چاہیے جسے چشم تماشا کی دید بافی کہا گیا ہے۔ الفاظ تو سنتری بھی ہیں، تماشبین بھی اور ہمہ بین گواہ بھی۔ ان سے پردہ کرنا غیر قدرتی ہے۔ یہ خود بخود، پرّا جمائے ہوئے دوڑے چلے آتے ہیں، یعنی کہ آپ اگرکلمہ جنبانی کا مذاق رکھتے ہیں اور آپ کو ایک فصیح گویندہ ہونے کا شعور ہے، تو ۔۔۔۔۔ یہ آپ کی خدمت میں ہر وقت کمر بستہ ہیں۔

نظم کے’’معنی کی تحدید‘‘ یا اس کی حد بندی کا نکتہ البتہ رہ گیا تھا۔ اس پہلو کے بارے میں تفصیل سے میں نے اپنے نویں شعری مجموعے ’’بیاض عمر کھولی ہے‘‘ کے دیباچے میں تحریر کیا تھا کہ نظم کا ’معنی‘ اگر کوئی ہے تو اسے منبر کی اونچائی سے خطاب دینے والے مقرر کی طرح سے نہیں بلکہ ان امیجز کی وساطت سے قاری یا سامع تک پہنچایا جانا ضروری ہے تا کہ وہ اسے بجنسہ اپنے ذہن میں اجاگر کر سکے جیسے کہ خلق ہونے کے لمحے میں شاعر کے ذہن میں تھا۔۔۔۔میں نے اس دیباچے میں عرض کیا تھا کہ انگریزی شعرا میں سے ، ایلیٹ ؔ سے بھی کہیں زیادہ میں ایذرا پاؤنڈؔ کا اس لیے مقروض تھا کہ اس نے کچھ اصول ایسے وضع کیے تھے، جنہیں ’شاعر‘ کا اندرونی ’میں‘ اور اس کے personna کابیرونی خطاب کنندہ تو One-to-one-equationمیں سمجھتے ہی ہیں، لیکن اس کے تخاطب کا نشانہ، یعنی اس کا سامع، قاری یا کئی دہائیوں یا صدیوں کے بعد اس کے قارئین اس کے ’چِتروںکے کتھن‘ (یعنی تصویری مفہوم یا جو کچھ تصویری امیجز کی زبان سے کہا گیا) سمجھ کر اپنی یاداشت میں اس کا نعم البدل ’چتر‘ یعنی تصویر تلاش کر سکیں۔ پاؤنڈؔ کا پہلا اصول یہ تھا کہ مفہوم کا پس منظر کچھ بھی کیوں نہ ہو ، قدرتی مظاہر کو ہی علامت کا ’پیش منظر‘ بنایا جائے۔’’ Abstraction سے ڈر ڈر کر، پھونک پھونک کر قدم آتے رکھو ‘‘، اس نے کہا تھا۔ Solid image صرف ایک ارتسام یا مجرد خیال نہیں ہوتا، ایک شجر کے مضبوط تنے کی مانند ہوتاہے، جس کے اوپر جوں جوں نگاہ چڑھتی جاتی ہے، نئی نئی کونپلیں پھوٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔امیجز کا تسلسل ایک مضبوط ترین رسی ہے، جس سے ماضی ، حال اور مستقبل سب بندھے ہوئے ہیں۔ اس نے اسے’’ وورٹیکس‘‘vortexیعنی’ بگولا‘ یا ’گرد باد‘ کہاجو تینوں زمانوں کو اپنی گردش میں باندھتے ہوئے چکر کاٹتا ہی جاتا ہے۔

آگ، پانی، مٹی، ہوا، زمین، آسمان، ستارے ۔۔۔۔اور ان کے Concordant combinationsسینکڑوں، ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ایک ’ابسٹریکٹ امیج‘ یا ’کانسیپٹ‘ (جو ایک مجرد خیال ہے، مثلاً حب الوطنی، غریبی، غرور، طاقت، عزت، ظلم و ستم، ہمدردی، وغیرہ الفاظ) کی جگہ پر ’کانکریٹ امیج‘کا استعمال زمان و مکان کو فتح کر کے دور دراز کے ملکوں اور آنے والی درجنوں نسلوں تک ویسے ہی پہنچتا ہے جیسے کہ تخلیق کار کے ذہن میں نظم کے خلق ہونے کے لمحے میں تھا۔

Categories
شاعری

بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ اور دیگر عشرے

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ

اگر گھر میں گوشت پکا ہے، تب بھی ہم کھانا نہیں کھائیں گے
آخر یہ اشارہ ہے کہ کل سبزی پکے گی
اگر گھر میں سبزی پکی ہے، تب بھی ہمارا کھانا نہ کھانا ہی بہتر ہے
کل کو بہر حال دال بن سکتی ہے
اور فرض کریں گھر ایک میس ہے، جس میں سموسے نہیں ہوتے
تب ہمارا کھانا نہ کھانا بغاوت سمجھا جائے
اور ہاسٹل اک گھر ہے، اور آج اتوار کا دن ہے
ہم اتوار کا ناشتہ انار کلی سے کرتے ہیں
پیزا، برگر، سینڈوچ کے کارڈ، صفائی والا لے جا چکا ہے
کیا آج کہیں بھوک ہڑتالی کیمپ لگا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لائف اِن سونگز

شاہدرہ سے گجومتہ جانے تک
میٹرو کتنا وقت لیتی ہے
نصرت کی تین چار قوالیاں، عطاء اللہ کے پانچ چھ گانوں جتنا
آپ کا دل آج ہی ٹوٹا ہے، آپ کو آج ہی پیار ہوا ہے
ارجیت کے بس دو، تین گانے آپ کو یہ بتلا دیں گے
اور جان لینن کا بس اک گیت
آپ کو انقلابی بنا سکتا ہے
آدھی رات کو اک ایف ایم چینل
تنہائی کا سچا ساتھی ہوتا ہے
زندگی بھی تو اک میش اپ، اک میڈلے ہے۔ کیا نہیں ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الیوگجیا نامی شہر

الیوگجیا” نامی شہر میں کچھ بھی تو نارمل نہیں”
گاڑیاں نہیں، ہڑتال نہیں، شور نہیں، فٹ پاتھ نہیں
ہکلے گاتے ہیں اور ہکلانا ختم کر لیتے ہیں
جس کی دیواروں پر نعرے نہیں گریفیتی نقش ہے
جس کے اخباروں میں کبھی کوئی خبر نہیں چھپتی
جہاں اچھی کہانی بیچ کر کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے
جہاں سوالوں میں طنز شامل نہیں ہوتا
جہاں زہر بھی سموسہ نام رکھنے سے کھا لیا جاتا ہے
جہاں کے سب سے مشہور آرٹسٹ کا کمرہ روسی ادیبوں سے مزین ہے
جہاں بے گھر لوگوں نے نیند پر قابو پا لیا ہے

Categories
شاعری

میں ڈرتا ہوں

میں ڈرتا ہوں
اپنے پاس کی چیزوں کو
چھو کر شاعری بنا دینے سے
روٹی کو میں نے چھوا
اور بھوک شاعری بن گئی
انگلی چاقو سے کٹ گئی
اور خون شاعری بن گیا
گلاس ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا
اور بہت سی نظمیں بن گئیں
میں ڈرتا ہوں
اپنے سی تھوڑی دور کی چیزوں کو
دیکھ کر شاعری بنا دینے سے
درخت کو میں نے دیکھا
اور چھاؤں شاعری بن گئی
چھت سے میں نے جھانکا
اور سیڑھیاں شاعری بن گئیں
عبادت خانے پر میں نے نگاہ ڈالی
اور خدا شاعری بن گیا
میں ڈرتا ہوں
اپنے سے دور کی چیزوں کو
سوچ کر شاعری بنا دینے سے
میں ڈرتا ہوں
تمہیں سوچ کر
دیکھ کر
چھو کر
شاعری بنا دینے سے

Image: Levi van Veluw

Categories
شاعری

نرم گھاس میں سرگوشیاں

نرم گھاس میں سرگوشیاں

شاعر:ہانس بورلی
ترجمہ: زاہد امروز

زندگی ہمیشہ
موت کے ہم راہ ہانپتی ہوئی دوڑ نہیں ہوتی

زندگی فقظ
حقیر مقاصد کی طرف دس ہزار مشقت بھرے قدم نہیں

نہیں ، زندگی بہت وسیع ہوتی ہے
نرم گھاس میں سرگوشیاں بن جانے کے لئے

زندگی بہت وسیع ہوتی ہے
کچھ لمحے زندگی اور موت کو بھول جانے کے لیے
لیکن تمام مصروف لوگ
سنہرے بید سے بنے اپنے کھانے کے کمروں میں
تنخواہی لفافوں اور گھڑیوں کے ساتھ
ایک ایک لمحے کے بخیل ہوتے ہیں
اُن کے دل کی صدائیں
لوہے اور مشینوں کے شور میں ڈوب جاتی ہیں

لیکن جنوبی ہواؤں میں نرم گھاس
سرگوشیوں میں گیت گنگناتی رہتی ہے
جنہیں اُن کے دل فیکٹریوں کے فرش پہ یاد کرتے ہیں

تنہا پرندے
سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں
Categories
شاعری

وقت

وقت
تین چڑیلیں
ککلی کھیلیں
گھوم گھوم کے
جھوم جھوم کے آئیں
آدم زادوں کو بہکائیں

پچھل پیری، ڈین سنہری، کلکو اندھی بہری
تین چڑیلو ں کا اک جال
اِس سے آدم زاد کی آل
کیسے نکلے؟
سوچ رہا ہوں ایسی چال
میرے لال!
Categories
شاعری

شہر کا ماتم

شہر کا ماتم
اس بار چلیں گی سرد ہوائیں نیل بھری
سانسوں کا ملبہ بار کرے گا سینوں پر
اور دل کے پیادے رک جائیں گے زینوں پر
سنسان گھروں میں رقص کریں گی دوپہریں
ویران چھتوں پر رات اکھاڑا ڈالے گی
زہر در و دیوار کے ڈھانچے کھا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا

Image: Katrina Jurjans

Categories
شاعری

کھرے عشق کا المیہ

کھرے عشق کا المیہ
بزدلی کی بھی حد ہے
کس لیے اور کیوں
ہم اچھل کود کرتے پھرتے پھریں منزلوں منزلوں
لاش سینے سے اپنے لگائے ہوئے
ان دنوں کی
کہ جب عشق آدھا ادھورا تھا اور راستے میں تھے ہم
محبت کا حد سے گزرنا ہی بے کیف کرتا ہے اس کو
کھرا عشق یوں بھی اداسی ہے
گہری اداسی
کسی بھی طرح کے جنوں
اور لفظوں سے خالی
ٹھیک بارش سے پہلے کی جیسے گھٹن
سانس لینا بھی مشکل ہو جس میں
بے وفائی کا پنکھا جھلو
مان لو
اس مسلسل اذیت سے
الزام سر لینے والا ہی اچھا
اٹھا لے جو خود بے وفائی کی تہمت
وہی ہم میں سچا
Categories
شاعری

قہقہہ

قہقہہ
میں جب مشینوں سے بیزار ہوتا ہوں
تو میرا جی چاہتا ہے
میں اپنے گاؤں چلا جاؤں
نانا کے ساتھ شراب پیوں
اور سارا غصہ
سڑک کے کنارے کھڑے کھڑے اُنڈیل دوں
اور ایسے میں جو گیت
میں اکثر گنگنایا کرتا تھا
ایک بار پھر سے گنگناؤں
اور سردی سے ٹھٹھرتے ہوئے آسمان کو
ایک قہقہہ رسید کروں
سردیوں کی کسی شام میں
میں جب بھی ایسا سوچتا ہوں
تو مشینیں اور دانت
ایک ساتھ بجنے لگتے ہیں
Categories
شاعری

خشک نمی

خشک نمی
شامِ تجدیدِ وفا اب کے برس مثلِ خزاں آئی ہے
نہ کوئی تحفۂ گل سرخیٔ رخسارِ تمنا کو عیاں کرتا ہے
نہ کوئی سبز خطِ قصۂ پارینہ
رہِ یاد کے غنچوں کو ہرا کرتا ہے
نہ تو تشبیب،
نہ توصیف،
نہ رنگینی و زیبائی ہے
فاصلہ موسمِ ہجراں کا تماشائی ہے

فاصلہ کیا ہے مگر؟
زود گزر تین حبابوں کا تراشیدہ تعلق ہے فقط
“اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا”
سرمدی موجِ گزشتہ
جو کسی قطرۂ آئندہ کو
موجودہ میں ڈھلنے کی صدا دیتی ہے
کل، ابھی، آج، کبھی،
موجِ زماں، طولِ مکاں،
شعبدۂ دستِ اجل ہے مری جاں

فاصلہ زہرِ جدائی تو ہے
پر ایسا بھی اب اژدرِ سفاک نہیں
پہلوئے یاد ترا لمس گزیدہ تو ہے
پر درد کا محتاج نہیں
ہے زمیں خشک
مگر اتنی بھی تاراج نہیں

سُن مری جانِ وفا
گرچہ صبا لائے گی تجھ تک
مرےاس شہرِ شکستہ پہ برسنے کی خبر
ایسی افواہوں پہ یوں کان نہ دھر
ایک لحظے کو ٹھہر،
غور تو کر،
بات اتنی سی ہے
امکان کی میچی ہوئی آنکھوں سے یہی چار گہر پھسلے ہیں
اِن کو برکھا نہ سمجھ
یہ تو فقط اشکِ شکیبائی ہیں
اتنی جلدی بھی کبھی چرخِ تمنا پہ گھٹا چھائی ہے؟
اتنی سرعت سے کبھی نخلِ بیاباں پہ شگوفوں کے ابھرنے کی خبرشوق کی بے جان زمینوں میں نمی لائی ہے؟

تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
کیسے ممکن ہے کہ گلشن میں بہار آ جائے
اور سلگتی ہوئی نظروں کو قرار آ جائے
یہ جو کل صبح ذرا گرم شتابی سے فلک ایک گھڑی برسا ہے
ہو نہ ہو یہ بھی کسی غفلت وانکار کی مٹی میں گندھے ابر کی سازش ہو گی
تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی

Image: Duy Huynh