درخواست (غنی پہوال)

خواہش کی سوکھی ٹہنی جب بھوکی چڑیا میں تبدیل ہوکر مرگئی تو مجھے آنسوؤں کا جنازہ بنا کر تم کسی ویرانے میں دفن کر آئی مگر جب چاہت بھری تمہاری آنکھوں کے وسیع صحن میں امید کے پودوں میں پھول لگنے کا موسم آئے تو چپکے سے مجھے کسی کیاری میں بو کر پھر سے […]
“شعر” اور “واہ” کا رشتہ (تالیف حیدر)

میں عام طور پر اپنے حلقہء احباب میں کسی بھی شعر کی تعریف میں لفظ واہ بہت سنتا ہوں۔ یقیناً !یہ صرف میرے ہی حلقہء احباب تک محدود نہیں، بلکہ ایک عام رواج ہے۔لوگوں کا تاثر اکثر کسی اچھی چیز کو دیکھ کر یا کسی اچھی بات کو سن کر یہ ہی ہوتا ہے، اس […]
بہترین/ بدترین وقت (ایچ — بی- بلوچ)

ہمارے بہترین وقت میں ہم سے وعدے لیے جاتے ہیں اور ہمارے برے دنوں میں ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے ہمارے برے دنوں میں ہمارے بادشاہ بننے کا انتخاب کیا جاتا ہے اور ہماری بگیوں میں گھوڑے باندھے جاتے ہیں ایک شہزادی کو انتظار میں بوڑھا کر دیا جاتا ہے ہماری سانسوں میں پتھر باندھ […]
ادنیٰ (افتخاری بخاری)

کیا تم جاننا چاہو گے ادنیٰ ہونے کا مطلب؟ تو سنو! یہ ایسے ہے جیسے گھنٹوں قطار میں انتظار کے بعد تم کھڑکی کے قریب پہنچو اور ایک پُر رعونت بوڑھا چھڑی کے اشارے سے تمہیں ایک جانب ہٹا دے جیسے پولیس والا تمہیں بھیڑ میں سونگھ کر الگ کرے اور جامہ تلاشی پر دس […]
شاعری، امکانات اور بے کرانیت

ایک شاعر ناممکن سے ممکن کی راہ نکالتا ہے۔ ہر وہ خیال جسےایک عام ذہن بنجر اورخشک تصور کر لیتا ہے، شاعر اس میں نمی کی موجودگی کا خیال پیش کرتا ہے۔ بظاہر یہ اتنا مشکل معلوم نہیں ہوتا،لیکن جب خیال کی سطح پر ایک بنجر خیال سے نئی زمینیں آباد کرنے کی کوشش کرو […]
کل وقتی شعری مزاج کا جز وقتی شاعر

تالیف حیدر: اسید صاحب اس میدان میں جس شاعر سے سب سے زیادہ متاثر نظر آتے ہیں وہ امام احمد رضا خاں بریلوی کی ذات ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کل شاعری لہجے کے مطابق علامہ اقبال ؔ اور جوش ؔ سے قریب نظر آتی ہے۔
نظم کیا ہے؟

ستیہ پال آنند: سچی تخلیق کا دار و مدار فہم، شعور، عقل و دانش پر نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی کو بھی چِت یا بودھ نہیں چاہیے، قوائے فکر و فطانت کی ضرورت نہیں، صرف خدا داد حسیت پر اس کی بنیاد رکھی گئی ہے
بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ اور دیگر عشرے

جنید الدین: شاہدرہ سے گجومتہ جانے تک
میٹرو کتنا وقت لیتی ہے
نصرت کی تین چار قوالیاں، عطاء اللہ کے پانچ چھ گانوں جتنا
میں ڈرتا ہوں

افضال احمد سید: میں ڈرتا ہوں
تمہیں سوچ کر
دیکھ کر
چھو کر
شاعری بنا دینے سے
نرم گھاس میں سرگوشیاں

سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں
وقت

ککلی کھیلیں
گھوم گھوم کے
جھوم جھوم کے آئیں
آدم زادوں کو بہکائیں
شہر کا ماتم

زہر در و دیوار کے ڈھانچے کھا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا
کھرے عشق کا المیہ

کھرا عشق یوں بھی اداسی ہے
قہقہہ

تو میرا جی چاہتا ہے
میں اپنے گاؤں چلا جاؤں
خشک نمی

سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی