Categories
شاعری

کیا اب تک اوس پڑتی ہے (ایچ-بی-بلوچ)

ہم نے گمراہ ستاروں کی
کہانی لکھنی تھی
لیکن اس سے پہلے یہ سوچنا تھا
ستاروں سے آگے
اور جہانوں کا ذکر کون کرتا ہے

یہ کون ہے جو
بے نشاں رات کے نقشے کھینچتا ہے
جو رتجگوں کے سنگلاخ سناٹے میں
قوموں کے انقلابی گیت لکھتا ہے

یہ کون ہے جو سمندر سے
حسین سفر کے رنگ نچوڑ لیتا ہے
جو خاموش درختوں سے
ٹپک ٹپک کر بہنے والی بارش میں
پرندوں کو پھڑپھڑانے کے لیے اکساتا ہے

ہمیں شام کے
سر ٹکراتے ہوئے سایوں سے
اک چاپ کے نشاں سوچنے تھے

مگر اس سے پہلے یہ پوچھنا تھا
کہ تاریخ کے اس پار
امن کے قافلے کہاں تک پہنچے ہیں

کیا اب تک جنون زلیخا
وحشت برادر پہ بھاری ہے
کیا منصور اب بھی سنگ باری میں جیتا ہے
کیا لوگ اب تک مونا لیزا کی مسکان پر اتراتے ہیں
یا جون آف آرک کے جواں سالہ خون پر تلملاتے ہیں

کیا اب تک اوس پڑتی ہے
راہوں پر
باتوں پر
آسوں پر
ہر منظر بیک ورڈ ہوجاتا ہے
سچ کہنے پر
آسمان بے ستون ہو جاتا ہے

ہم نے چلتی ٹرین کی زنجیر کو کھیچنا تھا
مگر اس سے پہلے
اک بے نام آزادی کے لیے
مجسم قوس قزح کے بھید بھی کھولنے تھے.!

Categories
شاعری

آدرش پہاڑ کی نوک پر رہتا ہے (ایچ-بی- بلوچ)

یہ ایک اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے
جس پر تم ہو

اس اونچائی کے نیچے
بہت سے درخت ہیں انسان ہیں
اور بہت سی چیونٹیاں اور بہت سے کتے ہیں

مگر تم اوپر ہو
اور تمہاری آنکھوں کی پتلیاں مجھے
خالی آسمان کی طرح لگتی ہیں
جس میں خود کو کھڑا ہوا پاتا ہوں

تم زور سے نہ بولو
زور سے ہنسو تو بالکل بھی نہیں
میں گر جاؤں گا!

اچھلنا نہیں
گڑگڑانا نہیں
جھکنا اور لرزنا تو بالکل بھی نہیں
میں خود سو دفعہ گر سکتا ہوں
لیکن تمہیں گرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا

یہ اونچا اور نوکیلا پہاڑ ہے
جس پر تم ہو
جیسے ایک پہاڑ مجھ پر ہو
جیسے ایک پہاڑ ۔۔۔۔ تم پر ہو !
Image: Norman Duenas