Categories
شاعری

دو عشرے (رحمان راجہ)

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

[divider]عشرہ//تم سے دور تمہارے پاس(oho)[/divider]

انسان خوش رہتا ہے، اپنے پسندیدہ لوگوں میں
اور اداس بنتا ہے، ان کے سامنے
جو بجھ جائیں، پریشان چہرہ دیکھ کر

تمھارا( بندو خان، حویلی) سے کھانا پینا
میری رائے بدلتا ہے ان سب ریستورانوں کے بارے
جن کے چھریوں/کانٹوں کو تمھارے ہونٹ میسر آئے

جب تک تم اس شہر میں سانس لیتی اور گھومتی ہو
میں کسی اوبر,کریم کے منہ پر پانچ سے کم ستارے نہیں بناتا
اور ہر اس کال کو ایکسیلنٹ ریٹ کرتا ہوں
جو صرف مل کر کٹ جائے

[divider]عشرہ/ نشان[/divider]

وہ میرے بازوؤں پر کوئی نشان نہیں چاہتی
چہروں پر بلیڈوں کی تحریریں
صاف پڑھی جا سکتی ہیں

دوسرے جانوروں کو نوچ کھسوٹ کر
انسان داغ یاد رکھنا بھول جاتا ہے

میرے سینے پہ ناخنوں/ دانتوں کے نشان
اسی کے ہاتھوں/جبڑوں سے عبارت ہیں

میں اسے یقین نہیں دلا سکتا
اب جب وہ میرے بازوؤں میں ہے
اور کچھ اور نہیں چاہتی

Categories
شاعری

ہم سکول جانے سے ڈرتے نہیں اور دیگر عشرے (ادریس بابر)

ع / ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں

در اصل عربی تلواروں کے گهیرے میں
بہت اونچی شلواروں کے گهیرے میں
ہمارے بہت دوست مارے گئے
ہماری جوانمرد استانیاں
اور استاد جو ہم پہ وارے گئے
انہیں ۔۔۔۔ جنگ یہ ہارنے کیسے دیں؟
درندوں کو منه مارنے کیسے دیں؟
پهر اسکول جانے سے تو وہ ڈریں
جو اسکول کا کام کرتے نہیں
ہم اسکول جانے سے ڈرتے نہیں


ع / سمجهدار عشرہ

وہی ٹی ہاوس کی میز ۔۔۔ ہاف وہی چاے کا سیٹ
زیرہ بسکٹ ۔۔۔ بهلی گپ شپ ۔۔۔ سبهی بازار کے بهاو
وہی ناقدری کا رونا ۔۔۔ کسی اک بیرے پہ تاو
وہی ۔۔۔ سو کالڈ ۔۔۔ زمانے کے ستم ۔۔۔ کیا لکهیں
کیا گنیں ۔۔۔ کس بت طناز کے بخشے ہوئے گهاو
دیکهے اندیکهے خداوں کے کرم کیا لکهیں
نہ سمجهنے کی کوئی شے نہ کسی شے کی سمجهه
کیا کلیشے کو سمجهه آئے کلیشے کی سمجهه
لوگ مر جاتے ہیں ۔۔۔ جی اٹهتے ہیں ۔۔۔ مر جاتے ہیں
اور ہم سوچتے رہتے ہیں کہ ۔۔۔ ہم ۔۔۔ کیا ۔۔۔ لکهیں؟


ع / بهائی بهائی

بهائی تهوڑا وقت ملے گا؟
دین کی محنت ۔۔۔ دین کی کوشش ۔۔۔
آج نماز مغرب کے بعد۔۔۔۔

۔۔۔۔میری نماز جنازہ ہو گی
میرا نام ۔۔۔ محمد عبد اللہ ۔۔۔
سولہ کا لگتا، تها گیارہ کا ۔۔۔

۔۔۔۔پهر وہ مجهے ٹائلٹ میں لے گئے ۔۔۔
جسم بهی ہارا جان بهی ہار دی
فارغ ہو کر ۔۔۔ پاک اصحاب نے
کلمہ پڑهایا ۔۔۔ گولی مار دی


عشرہ / خالی کا سا

“صنم” کا ہال ہےتاریک ۔۔۔ میرے دل کی طرح
بِلَوری پردے پہ جاری ہے سیمیا کا عمل
چلی جو فلم تو لوگوں کی سانس تهم گئی ہے
قریب ہوتے ہوئے ہیرو/ہیروئن سے دور
ہم ۔۔۔ ایک کونے میں ۔۔۔ جس پر نگاہ کم گئی ہے
کہاں گئی وہ محبت ۔۔۔ وہ کیمیا کا عمل
یہ سوچتے ہیں کہ ۔۔۔ اتنے میں ۔۔۔ اِنگرِی/بَوگارٹ
بچهڑ گئے ہیں ۔۔۔ ہمیشہ اکٹهے ۔۔۔ رہنے کو
سلگ اٹهے ہیں میرے ہونٹ بهی سگار کے ساتھ
اور اُس کے گال پہ آئس کریم جم گئی ہے


عش / یوتها ناسیا

درد کا زرد سمندر
زخمی پروں کی زد پر
سمے بهر سرمئی وادی
جگہ کی جگہ خلا تها
ضبط کی آخری حد پر
اک بے دین مسیحا
اس کی نجات سے ڈر گیا
صبر کا پهل کڑوا تها
وہ آرام سے مر گیا
اپنے کام سے مر گیا

Categories
شاعری

خواب اور دیگر عشرے (رحمان راجہ)

ع//خواب

کھلی آنکھوں سے دیکھے جانے والے خواب
اپنے پورا ہونے کے امکانات
ساتھ لیے پھرتے ہیں
تمھارے خواب دیکھنے کے لیے
میں رات کا انتظار نہیں کرتا
نرم بستر آنسووں کو خوابوں سمیت جذب کر لیتے ہیں
تمھارے خواب تنہائی یا ہجوم
کہیں بھی دیکھے جا سکتے ہیں
میں تمھارا خواب کینٹن میں
تمھارے سامنے رکھی ہوئی کرسی پر بیٹھ کر دیکھتا ہوں

عشرہ//پوائنٹ آف ویو

میں چیزوں کو الگ زاویے سے دیکھتا ہوں
سنہرے بالوں تلے چھپی گندمی گردن
مجھے اپنی طرف مائل نہیں کر پاتی
ریسنگ ٹریک سے اٹھتا دھواں
مرا دھیان بٹانے میں
سب گاڑیوں کی رفتار پر سبقت لے جاتا ہے
تمھاری آنکھیں بھی خوبصورت ہیں لیکن
میں اپنی نظریں
تمھاری ایڑھیوں کی
گہری ہوتی ہوئی دراڑوں سے ہٹا نہیں پاتا

ع//انتظار ختم ہو جاتا ہے(ابرار کے لئے)

یہ دن بھی کونے میں رکھی ہوئی کرسی کے ساتھ گزر جائےگا
لیب میں اے سی گرمی دور کرنے کی غرض سے لگائے جاتے ہیں
پنکھوں کے بر عکس یہ انسانوں کو اپنی باتیں سنانے میں ناکام ہیں

کواڑوں کے کھلنے اور بند ہونے کی آواز آنکھوں کو متوجہ کرتی ہے
ٹیبل پہ رکھی کتاب پر رینگتا ماؤس دائیں، بائیں ہو کر اک جگہ ٹھہر جاتا ہے
سکرین کئی رنگ اور شکلیں بدلنے کے بعد ان کے ایک مجموعے پر ساکن ہو جاتی ہے
آنکھیں کی بورڈ پر مختلف ایلفابیٹس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے دھندلا جاتی ہیں
ہوم بٹن ایک دفعہ پھر بے گھری کا احساس دلانے میں کامیاب رہتا ہے
چیزوں / لوگوں کو اگر مطلوبہ وقت نہ دیا جائے تو وہ غائب ہو جاتے ہیں

آخری دفعہ دروازہ کھلتا ہے اور ایک آشنا چہرہ پر نظر پڑتے ہی سکرین آنکھیں بند کر کے سلیپ موڈ میں چلی جاتی ہے

ع // رنگوں سے کھیلتے بچے

تا دیر یاد رکھے جانا چاہتے ہیں
وہ اپنے ہاتھ کینوس پر چھاپ دیتے ہیں

بے نام نشان مکمل تصویر نہیں بناتے

معلوم نا معلوم ہاتھ چھین لیتے ہیں تصویر
شامل کر دیتے ہیں مرضی کے رنگ

نفرت کا سیاہ چھپا لیتا ہے انتظار کے پیلے کو
عناد کا سبز دبا لیتا ہے اطمینان کے نیلے کو

بلکل با خبر رہتے ہوئے معصوم بچے
مکمل نامکمل تصویر
اپنے نام سے چھاپ دیتے ہیں

Categories
شاعری

ضامن عباس کے عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ع / چاۓکیسی لگی

نہیں
میں تو بس
کہہ رہی تھی کہ وہ
‘کیا ہوا’
کچھ نہیں
‘کچھ کہو بھی سہی ‘
اک سہیلی یہ کہتی ہے
آپ اُس سے بھی
خیر ! چھوڑیں اسے
چاۓ کیسی لگی ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع / ہیجان

میں یہیں ہوں
کہیں بھی نہیں جا رہا
اچھا چپ تو کرو
اک تو چھٹی بھی ختم
اور اوپر سے تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یار ۔۔۔۔۔۔۔۔ حد ہو گئی
ٹھیک ہے، بھائی! روتی رہو!
میری بکواس تو ماننی ہی نہیں
تم بس اپنی کرو

اچھا چلتا ہوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع/ گُمان

بس ایک چھوٹی سی بحث پر ہی چلے گئے ہو؟
کنارا کر کے
بہت سے دعوے کیے تھے تم نے
کبھی جتایا نہیں مگر میں یہ جانتا تھا
تمام دعوے ہیں وقتی جذبوں کے زیرِ سایہ
تمہیں محبت نہیں ہے مجھ سے، فقط گماں ہے
میں مانتا ہوں کہ پیار آتا تھا مجھ پہ تم کو
سو پیار آنے کو پیار ہونا سمجھ رہے تھے
مگر جو آتا ہے اُس کا جانا بھی طے ہی سمجھو
بس ایک چھوٹی سی بحث پر ہی چلے گئے ہو!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع // مردانہ انا

آنکھوں کے پار نمی موجود ہے
کانوں کو تنہائی میسر ہے
کھل کے رونا چاہتا ہوں
کسی فلم کے جذباتی سین دیکھ کر
پھر یہ دیوار کہتی ہے
اپنے ساتھ دھوکہ کر رہے ہو
کیسی طاقتور بے بسی ہے
مجھے اس سے فرار چاہیے
ورنہ دماغ کی نسیں پھٹ جائیں گی
احساس۔مردانگی کے مارے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ع // مجھے لگتا تھا وہ یاد آتے ہیں

شانوں پر خواہشات کی عدم تکمیل کا بوجھ لیے
میں جسے، بچھڑنے کا غم قرار دیتا تھا

پھر مجھے کسی اور سے لگاؤ ہو گیا
ایک دن وہ بھی کسی بات پر مجھے چھوڑ گیا
اب کے میں پر سکون رہا

اب جو لوگ میرے قریب ہیں
وہ کسی بھی وقت چھوڑ کر چلے جائیں گے

اور میں، ابھی سے، ان کے وجود کے بغیر
اپنی دنیا کو مکمل محسوس کرتے ہوۓ

ایک نامکمل مگر نارمل زندگی گزار رہا ہوں
Image: Rene Magritte

Categories
شاعری

مدثر عظیم کے عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
عشرہ // ڈپریشن

پچھلی رات کے
پاگل پن سے
باہر آ کر
سوچ رہا ہوں

کھڑکی
کھولی
جا سکتی ہے

کمرہ
روشن
ہو سکتا ہے

عشرہ // فرسٹریشن

جی فرمایئں
بلکہ تم تو بھونکو ۔۔۔ کتے!
آدھی رات کو میسج کر کے
تم نے اپنے کتے پن کی
ایک جھلک تو دکھلا دی ہے

میسج چھوڑو ۔۔۔۔۔ کال کرو اب
کال نہیں ۔۔۔۔۔ تم آ ہی جاو
پیچھے والا دروازہ بھی کھول رہی ہوں
جلدی آو ۔۔۔۔ ورنہ میرا شوہر کتا
سات بجے تک آ جاتا ہے

عشرہ // عجیب لڑکی

وہ بات کرتی تھی فلسفے پر،
کہانیوں اور شاعری کی
وہ ایک لڑکی جو روشنی کی تلاش میں تھی
میرے اندھیروں کے ساتھ بھی تھی
وہ مچھلیوں کو دلاسے دیتی ، وہ تتلیوں سے دعایئں لیتی
کبھی وہ دھڑکن کو ساز کہتی ، کبھی وہ خوابوں کے ساتھ بہتی ، سریلی لڑکی
کبھی وہ جنت کو شُوٹ کرتی ، کبھی جہنم کو پینٹ کرتی ، پہیلی لڑکی
وہ اپنے ہونے کی کھوج میں تھی
مگر نا ہونا بھی چاہتی تھی،
عجیب لڑکی!
Image: Saša Auguštanec

Categories
شاعری

عشرہ // ہم اُسے روشنی سمجھتے ہیں

مذہبی، موت کہہ کے خوش لیں
ہم ، اِسے زندگی سمجھتے ہیں!

وہیل چئیر پر گزاری نصف صدی اُسی سائنس کا کارنامہ ہے
جس کا ہاکنگ کے بے پنہ راکنگ سر پہ انسان دوست عمامہ ہے
ملکی وے سے کہیں پرے کوئی کاینات اس کے انتظار میں ہے

ایسے سورج نہیں مرا کرتے
وہ ادھر ڈوبا اور ادھر نکلا
وقت کے لوُپ ھول پُر کر کے
وہ، ستاروں کی سیر پر نکلا
جو اُسے روشنی سمجھتے ہیں

Categories
شاعری

بہرے سپاہی کا گیت اور دیگر عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
ع // اندھیر نگری چوپٹ راج

پانچ چوھے گھر سے نکلے کرنے چلے شکار
ایک چوھے کو جوتی لگ گئی ، باقی رہ گئے چار

چاروں چوھے ڈرتے درتے جھول رھے تھے پینگ
ایک چوھے کو لگ گئی پھانسی، باقی رہ گئے تین

تینوں میں سے ایک جو بولا، سینہ ٹھوک کے “تو”
اس چوھے کو لگ گئی گولی، باقی رہ گئے دو

دونوں میں سے اک چلایا، میں ھوں زیادہ نیک
اس کو پِیر پکڑ کر لے گئے، پیچھے رہ گیا ایک

آخری چوھا دھاڑ رھا تھا بن کر ببر شیر
بلا بلی کھا گئے اس کو، اب ھے صرف اندھیر

ع // زوال

پرانی بوسیدہ گلیوں میں خون کی بو پھیل گئی ہے
نابینا گوـٖٖیّا ریاض کرتے ہوئے ابکائیاں لینے لگا ہے
قلچہ فروش اپنی دکان بند کر کے گھر چلا گیا
حلوائی پریشان ۔ گیارہویں سے پہلے دودھ کو کہاں بہائیں
نو گزے کی قبر کی اگر بتیاں بھی اس بو کو دبانے سے قاصر ہیں
متلی زدہ عورتوں نے جائے نماز سمیٹ دئیے
مسجد کے باہر لوگ جمع ہونے لگے ہیں
نعروں کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں
ابھی تھوڑی دیر میں جلوس نکل پڑے گا
کسی گمنام کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے

ع// بہرے سپاہی کا گیت

توپچی ھوں میں
گھن گھن گھج گھج دھم دھم نے
کانوں کو شور سے بھر رکھا ھے
کشمیری شاہ کک سے لے کر منچھر کی مرغابی تک
کوئی پرندہ اپنا گیت سنا نہیں سکتا
بچوں کی کلکاری ھو یا بیماروں کا نوحہ
قصے خبریں دھرنے خطبے یا مظلوم کا گریہ
دل کی راہ کو پا نہیں سکتا

محفل ھو یا تنہائی، بس اپنے راگ کو سنتا ھوں
گانا جیسا بھی ھو میرا، میں بھیا سر دھنتا ھوں

Categories
شاعری

دی جاب لیس پیپل اور دیگر عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
عشرہ// گوندھ دو

گزشتہ و آئندہ سات سات نسلوں میں
ماضی، مستقبل، حال کی کچی پکی فصلوں میں
ہماری ٹہنیاں اپنی مرضی کے عین مطابق موڑ دی گئی ہیں
کسی کی شاخ سے کاٹی تو کہیں پر جوڑ دی گئی ہیں
کوئی ڈاکٹر ،کوئی انجینئر بنتا رہا ہے
میں ان لوگوں سے بس اک بات کرنا چاہتا ہوں
تمہارے خواب ہم پورے کریں کہ اپنے کریں
سبھی کی مانتے ہوے ہم خود کو بھول ہی بیٹھے ہیں
چھری تلے دھری ہے یہ گردن ، جونہی ہم آنکھیں موند دیں گے
مندرجہ بالا چاہنے والے فورن ہمیں بھی گوندھ دیں گے

عشرہ//دی جاب لیس پیپل
رات جاگیں گے دن میں سوئیں گے
کام کچھ ہے ہی نہیں کرنے کو
کهانا آتا ہے مل کے کهاتے ہیں
سگریٹیں پی کے اپنی ٹینشن کو
باری باری دهواں بناتے ہیں
اس قدر زندگی یہ پیاری ہے
بری شے بس بےروزگاری ہے
جن کو ملتی ہے نوکری اچهی
وہ کبوتر تو جال میں خوش ہیں
باقی سب اپنے حال میں خوش ہیں

عشرہ//وہ مجھ سے نہیں چھپ سکتی

وہ مجھ سے نہیں چھپ سکتی جیسے
بہت سے پھولوں میں گلاب کی مہک
ڈسک ڈرائیو سی میں رکھے گئے ہایڈ فولڈرز
گھر سے چار کلومیٹر دور کھوکھے پر پی جانے والی سگریٹ کی خوشبو، میٹھے پان سے

ایکوافینا کی بوتل میں انڈیلی ہوئی ووڈکا۔۔۔۔۔ نہیں چھپ سکتی
کوٹ سے لٹکتے لمبے سنہرے بال، بیوی سے

الماری کے نچلے دراز میں رکھے ہوئے کچھ نیلے نوٹ
لڑکی کے گورے بدن سے باہر جھانکتی سبز رگیں
وہ مجھ سے نہیں چھپ سکتی جیسے
ہلکے پیلے رنگ کی قمیض کے زیرِ سایہ لال سینہ بند
Image: George Condo

Categories
شاعری

عشرہ // بزدلوں کے نگر میں بغاوت کا چراغ

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

عجیب دکھ ہے اذیت ہے بے قراری ہے

‘خبر ملی ہے خدایانِ بحر و بر سے مجھے’
کہ اب زمین پہ اندھیروں کی سلطنت ہو گی

وہ ایک چراغ بغات کے قافلے میں جو تھا
وہ بجھ گیا ہے مگر اس نے سر جھکایا نہیں

اب اس کے بعد بغاوت کا کس کو یارا ہے
یہ بزدلوں کا نگر، بوٹ پالشیے ہم لوگ

زمیں پہ راج وہی ظلم کی ہوا کرے گی

کہ اک چراغ کے بھجنے کے بعد کیا ہو گا
اندھیرے اور بڑھیں گے گھٹن ستائے گی

Categories
شاعری

ایک معصوم سچ کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ اور دوسرے عشرے

ع/ ایک معصوم سچ کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ

شراب خانے کو ناجائز قرار دے کر
بند کرنے والے کانسٹیبل کے پاؤں میں
قیمتی جوتے تھے

وہ جو پچھلے جمعے ، دوران نماز جاتے رہے تھے
نشے میں دھت نمازی کے ہاتھ سے

انسپکٹر نے داڑھی پر ہاتھ پھیرا
خدا کا شکر ادا کیا
ماتحتوں کو شاباشی دی
بدمعاشی کی بیخ کنی کے لئے
اپنا مجاہدانہ کردار ادا کرنے پر

ع/ سخی سرکار کی سخاوت کی خیر

سخی سرکار کے دربار سے باہر جھانکو
پھول ہاتھوں میں لئے دھول اڑاتے بچے
لب پہ فریاد لئے ہاتھ میں کشکول لئے
ہر خطاکار کے دامن سے لپٹ جاتے ہیں
ان کی فریاد بھری آنکھ میں اشکوں لکیر
بین کرتی ہوئی ہر دل سے گزر جاتی ہے

سخی سرکار تیری عظمت و عرفان کی خیر

تو سخی ہے تو میری ایک گزارش سن لے
اپنی رحمت کی نظر ان کی طرف کر جن کو
تیرے پہلو میں بھی زلت کی سزا ملتی ہے

ع/ اک شمع ہے دلیل سحر

میرے غنیم ! شبِ ظلم کے پیامبر سن
تو ہم پہ ظلم کرے چاہے سر قلم کر دے
یہ روشنی کا سفر ختم یوں نہیں ہو گا

نیا سویرا ابھرتا ہے تیرگی کے بعد

جہاں بھی ظلم کا طوفان سر اٹھائے گا
وہاں سے قافلہ اٹھے گا سرفروشوں کا

وہاں جلائیں گے عشاق خون دل سے چراغ

اے سرکشی سے بھری ظلم کی ہوا سن لے

نئے چراغ اسی طاق پر جلیں گے یہاں،
جہاں قدیم چراغوں کو گل کیا گیا تھا

Categories
شاعری

عشرہ // ہمیں دفن کر دو

بات مانو۔ ہمارا یہ اک آخری کام کر دوہمیں دفن کر دو چُپکے سے،

بین کرتی ہوئی عورتو اور مردو۔ ہمیں دفن کر دو فرق پھرمرنے اور جِینے میں؟

ظلم کی رات کےمشتعل سینے میں خالی قبریں نہیں۔

سینے کے گھاؤ ہیں، گھاؤ بھر دو۔ہمیں دفن کر دو

اُجلےکپڑے، سنہری حروف اورہرے پات، خاکِ شفا۔۔کم پڑیں گے

سب سے اُوپر ہماری ہلاکت کا الزام دھَر دو۔ ہمیں دفن کر دو

کتنی تیزی سے چینل بدلتے ہوئے لوگ تابوت والوں سے اُکتا چُکے ہیں

ریڈیو، ٹی وی، اخبار کو ایک تازہ خبر دو۔ ہمیں دفن کر دو

خوں بہا چاہتے ہو؟ فضا اَمن کی ،دور انصاف کا چاہتے ہو؟

اتنے خوش بخت! کیاتم خدا ہو؟ ارے خواب گَردو! ہمیں دفن کر دو!

 

Categories
شاعری

اوڈ ٹو سموسہ اور دیگر عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
Ode to Samosas

پیزا ہٹ اور ڈومینوز کی بحث میں
سموسے والے نظر انداز کیے گئے
جن کے مطابق پیزا بس پیزا ہوتا ہے

جوائس، ٹالسٹائی اور پراؤسٹ میں
نوبیل نہ ملنے کے علاوہ کیا مشترک ہے؟
تینوں نے سموسے نہیں کھائے ہوں گے

فروٹ بائکاٹ پہ منقسم لوگ بھول گئے
سموسہ مہنگا ہونے پر سو موٹو لیا جا سکتا ہے

تب تک ہم لوگ بفے نہیں جائیں گے
جب تک مینیو میں سموسے شامل نہیں کیے جائیں گے

گوڈو کے آ جانے کے بعد

گودو کے آنے کے بعد

ہومر اپنی کہانیوں میں جگہ دے گا
جب آحاب ہمیں اپنی کشتی سے دھکا دے گا

ہم پرانی لائبریریوں میں کھنگالے جائیں گے
جب لڑکے کچھ خط چھپانے آئیں گے

لیکن کیا کوئی ڈرامہ فلموں کا پرستار رہے گا؟

ہم ری ٹویٹ نہیں ہو پائیں گے
ریویوؤر کہتا ہے ہم کلاسک بن جائیں گے

کسی کم قیمت موبائل کی طرح، ہمیں گم جانے کا ڈر نہیں ہے
وارڈ نمبر چھ” کسی بھی عظیم ناول سے کم نہیں ہے

لیکن کیا کبھی گودو کا انتظار ختم ہو گا؟

شارٹ فلمز

فیوچر کو ڈاؤنلوڈنگ پہ لگا رکھا ہے
ماضی کی پروفائل ایڈٹ نہیں ہو سکتی
حال کا فولڈر ڈیلیٹ نہیں کیا جا سکتا

گودو کے انتظار میں بیٹھے، ولادیمیر اور ایسٹراگن
ڈان کہوٹے کو دیکھ کر ہنسنے لگ جاتے ہیں
بھاری بدن پہ ہلکے کپڑے: سچ ہے مزید بھاری ہو جاتے ہیں

جب بھی کوئی تعارف میں “میرا نام” کہتا ہے
بمطابق مارکسزم اس کے کیپٹلسٹ ہونے کا اندیشہ ہے

رائٹر بننے سے زیادہ اچھا شارٹ فلموں کا آئیڈیا ہے
ہم نے صرف چیخوف کی خاطر، روس کا ویزہ لگوا لیا ہے

این انٹروڈکشن ٹو پاکستانز پولیٹیکل کلچر

ہمارے دل ٹوٹنے کی خبر بینروں پہ چھپی
ہم نے کیا کھانا ہے : نوٹس بورڈ پہ لکھا گیا
ہماری بغاوت سوشل میڈیا کی محتاج تو نہ تھی
ہماری بیماریوں کے چرچے دیواروں پر ہوئے

دیواریں کون سے ہینڈز فری یوز کرتی ہیں ؟
پاگل پن ماپنے کا سائنسی پیمانہ کون سا ہے ؟
سرکاری دفاتر سے ای میل کا جواب کب آئے گا ؟

پاکستانی کی اسرائیل سے دوستی غیر آئینی تو نہیں ہے ؟

انٹرنیٹ کے ریٹ بڑھنے پر، ہڑتال کی کال دینے سے
کیا ہم زیادہ ڈیٹا استعمال نہیں کر ڈالیں گے؟

Categories
شاعری

عشرہ // اُس پار اِس پار

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مرد مارے گئے
پھر کیا ہوا
عورتیں ماری گئیں
وہ تو ماری جاتی ہیں
بچے مارے گئے
یہ تو ہونا تھا
لوگ مارے گئے
تمہیں کیا
میں سچ کہہ رہا ہوں
ہمیں کیا

Categories
شاعری

بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ اور دیگر عشرے

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ

اگر گھر میں گوشت پکا ہے، تب بھی ہم کھانا نہیں کھائیں گے
آخر یہ اشارہ ہے کہ کل سبزی پکے گی
اگر گھر میں سبزی پکی ہے، تب بھی ہمارا کھانا نہ کھانا ہی بہتر ہے
کل کو بہر حال دال بن سکتی ہے
اور فرض کریں گھر ایک میس ہے، جس میں سموسے نہیں ہوتے
تب ہمارا کھانا نہ کھانا بغاوت سمجھا جائے
اور ہاسٹل اک گھر ہے، اور آج اتوار کا دن ہے
ہم اتوار کا ناشتہ انار کلی سے کرتے ہیں
پیزا، برگر، سینڈوچ کے کارڈ، صفائی والا لے جا چکا ہے
کیا آج کہیں بھوک ہڑتالی کیمپ لگا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لائف اِن سونگز

شاہدرہ سے گجومتہ جانے تک
میٹرو کتنا وقت لیتی ہے
نصرت کی تین چار قوالیاں، عطاء اللہ کے پانچ چھ گانوں جتنا
آپ کا دل آج ہی ٹوٹا ہے، آپ کو آج ہی پیار ہوا ہے
ارجیت کے بس دو، تین گانے آپ کو یہ بتلا دیں گے
اور جان لینن کا بس اک گیت
آپ کو انقلابی بنا سکتا ہے
آدھی رات کو اک ایف ایم چینل
تنہائی کا سچا ساتھی ہوتا ہے
زندگی بھی تو اک میش اپ، اک میڈلے ہے۔ کیا نہیں ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الیوگجیا نامی شہر

الیوگجیا” نامی شہر میں کچھ بھی تو نارمل نہیں”
گاڑیاں نہیں، ہڑتال نہیں، شور نہیں، فٹ پاتھ نہیں
ہکلے گاتے ہیں اور ہکلانا ختم کر لیتے ہیں
جس کی دیواروں پر نعرے نہیں گریفیتی نقش ہے
جس کے اخباروں میں کبھی کوئی خبر نہیں چھپتی
جہاں اچھی کہانی بیچ کر کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے
جہاں سوالوں میں طنز شامل نہیں ہوتا
جہاں زہر بھی سموسہ نام رکھنے سے کھا لیا جاتا ہے
جہاں کے سب سے مشہور آرٹسٹ کا کمرہ روسی ادیبوں سے مزین ہے
جہاں بے گھر لوگوں نے نیند پر قابو پا لیا ہے

Categories
شاعری

عشرہ // اودا سوٹ اور بارش

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اودا سوٹ اور بارش

اس بہتے منظر میں جھانکو، ہے یہ غیر شفاف
لیکن اس پہ سبز و سفید چڑھا ہے ایک غلاف
بھینبھریاں سب پنکھ نکالے ناچ رہی ہیں گھر گھر کرتی
اور وہ اپنی بالکنی میں دیکھ رہی ہے شور سڑک کا
ماتھے پر بندیا ہے یا پھر روشنیوں کی رات
سرمئی شاخوں پر رقصیدہ موسم کی ہے برات
اودے سوٹ میں چمک رہے ہیں بازو چکنے صاف
اور ریلنگ سے ٹچ ہوتی ہے گرم گلابی ناف
گھنے ابر نے بنادیا ہے شہر کو کوہ قاف
ایسے میں اک بوسہ لے لوں تو شاید کردے معاف