Categories
شاعری

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا (سرمد بٹ)

اس مسلسل گھومتی زمین پہ اگی
آسمان کی بے مروتی سے اکتائی ہوئی گھاس کی طرح بیزار
میرے یار
تم جیو بہتر سال
میری اس wish کے پیپھے ہے
ایک selfish cause
تمھاری آواز
جس میں دیکھی
میں نے اپنی ناک
نہ تم گرہباں چاک
نہ میں گریباں چاک
اother is not the hell meri jaan
اother is the mirror
اوپر ٹیرس میں ٹہلتے افسر اور
نیچے گاڑی میں سوئے ڈرائیور میں
اوپر نیچے کے دو سورارخ common ہیں
اور نیند متضاد
سو اس میں کیسا جھگڑا
کیا فساد
کوئی کب تک جیے گا نیند
کوئی کب تک کرے گا واک
ہ when just a single missed call
ہcould end it all
شکر ہے ہم نے شاعری نہیں کی
ھم وہ پرندے جو بند کمرے میں پھڑپھڑاتے رہے
اور ہوا کی زد میں اپنے چراغ آتے رہے
ھم وہ سائے جو اپنی اوقات میں رہے
اپنے لہجے میں اپنی بات میں رہے
ہsurvival of the fittest کے
اس جنگل میں
ہم وہ وحشی جو اپنی گھات میں رہے
سو ہماری محبوبائیں بہت ناشاد رہیں
کہ ہم شبِ وصل بھی اگر مگر سوچتے رہے
چاند پیتے رہے
سحر سوچتے رہے
ستارے دیکھتے رہے
سفر سوچتے رہے
اب ان ماڈرن محبوباوں سے کون کہے
کہ جان
سن 57 کے غدر کی لٹی یہ بیوہ جوان
اردو زبان
ہidentity crisis کا شکار ہے
اسے اپنے نئے انگریزی خاوند کے ساتھ
گھلنے ملنے میں ابھی وقت درکار ہے
اور اس داد کی رسیا
غزلائی ہوئی مخلوق سے کون لڑے
لڑ کے بھی کیا ٹابت کرے
ہso meanwhile
ہم دیوانے بات کرنے سے شرمائیں کیا
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
Image: Justin Brennan

Categories
شاعری

فریبِ نظر ہے سکون و ثبات

ہاں یوں ہے
کہ ہم تم بظاہر
زمانے کی چھت پر
ثابت کھڑے ہیں!
سو زینو ں کو چڑھ کر
کوئی آ کے دیکھے
تو سمجھے گا یوں کر
کہ ہم تم وہیں ہیں
جہاں کل کھڑے تھے

یہ دوری کے دھوکے
زمانے کی آنکھوں پہ پردے پڑے ہیں!
لگن کی لپٹ ہے
خلاوں کی وسعت
اور ہم دو ستارے ہیں جو جل رہے ہیں
آنکھوں کی باتوں کے بہکائے لوگو
ذرا دل سے دیکھو
کہ ہم چل رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories
شاعری

شام دروازہ بند کر دیتی ہے

شام دروازہ بند کر دیتی ہے
تمہارے منہ پہ مکھیاں بیٹھ جاتی ہیں
میرے اندر کتا دُم ہلانے لگتا ہے
صبح میرے معدے میں سانپ ڈستا ہے
دفتروں کے منہ کھل جاتے ہیں
اور لوگ سڑکیں چاٹنے لگتے ہیں
مکھیاں اس سیارے سے اڑ کیوں نہیں جاتیں
اکتا کر
یا بدہضمی کے ڈر سے
یا کم از کم میرے گھر سے

Image: Ray Cesar

Categories
شاعری

حرف

حرف
ایک حرف
ایک حرف بھی نہیں
تیرے ہاتھ کا لکھا میرے پاس
ایک حرف بھی نہیں
مجھے کیا خبر کہ تم
‘س’ کیسے سیتی ہو
‘ر’ کیسے رنگتی ہو
‘م’ کیسے موڑتی ہو
‘د’ کیسے دھرتی ہو
اور یہ یک شکل
لاکھوں مشینی ہجے
مجھے سخت بے معنی لگ رہے ہیں
ایک کلک کی مار یہ دھوکے
کتنے فانی لگ رہے ہیں۔۔۔۔

Categories
شاعری

اسکیچ اور سایہ

مرد کی آنکھ میں عورت کا اسکیچ ہے
مرد کی آنکھ میں عورت کا اسکیچ ہے
عورت کے دل میں مرد کا سایہ ہے
مرد دیوار چاٹ رہا ہے
عورت سائے میں لیٹی ہوئی ہے
قالین بچھایا جا سکتا ہے
دیوار کو سجایا جا سکتا ہے
کھولتے خون کی خوشبو میٹھی ہوتی ہے
اس کی نیلی روشنی میں/
ایک دوسرے کا سراغ لگایا جا سکتا ہے
سائے کو پھول مار کے جگایا جا سکتا ہے
اور اسکیچ پر غور کرنے کے لیے
برقی چراغ جلایا جا سکتا ہے

Image: Julio Cesar Rodriguez

Categories
شاعری

پھول تمہارے ساتھ ہیں

تم بھڑوں کے چھتے میں
ایک شہد کی مکھی ہو
تمہیں وحی کو Perform کرنا ہے
وحی جو تم پر کی گئی ہے
تمہیں جیسے تیسے
ایک خالی کونے کو شہد سے بھرنا ہے
ڈٹی رہو
تمہارے چار ہاتھ ہیں
ہر شہر میں باغ ہے
اور پھول تمہارے ساتھ ہیں

Image: Naoto Hattori

Categories
شاعری

Mob the Omnipotent

Mob the Omnipotent
آدم باغ سے نکل کر ہجوم بن گیا تھا
ہجوم آدمی ہے
ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے

 

ہجوم نبی کے جوتے خون سے بھر سکتا ہے
اور مکہ کی فتح کے دن
اسلام قبول بھی کر سکتا ہے
ہجوم سیاست کا پیٹ
اور کاروبار کی پیٹھ ہے
ہجوم سرسید کو نچوا سکتا ہے
ٹرمپ کو کنگ بنا سکتا ہے
ہجوم پوپ کو گرا سکتا ہے
Bob کو اٹھا سکتا ہے
ہجوم لشکر ہے
ریڈ آرمی ہے

 

ہجوم کچھ بھی کر سکتا ہے
ہجوم آدمی ہے
Categories
شاعری

سرمد گماں پرستا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

سرمد گماں پرستا

[/vc_column_text][vc_column_text]

سپنا بنا کے سیڑھی
بند آنکھ چڑھ کے اوپر
کھڑکی کیوں کھولتا ہے
سرمد گماں پرستا

 

تو رنگ کا پجاری
سورج کے سائے اپنے
شعروں میں گھولتا ہے
سرمد گماں پرستا

 

معلوم کا ہے قصہ
اور دید کا سفر ہے
اک کھیل چل رہا ہے
سرمد گماں پرستا

 

تو آہٹوں کا قیدی
لفظوں کی کوٹھڑی میں
بادل کیوں سوچتا ہے
سرمد گماں پرستا

 

بن کر فسانے روح کے
ننگے بدن میں اپنے
تہذیب ٹھونستا ہے
سرمد گماں پرستا

 

باطن کی بات مت کر
ظاہر ہے حال تیرا
کیوں جھوٹ بولتا ہے
سرمد گماں پرستا

Original Art Work: Sadequain
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

Theory

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

Theory

[/vc_column_text][vc_column_text]

مجھے چاند کی کمی ہے
سورج بخار ہے شاید
مدت ہوئی ہے
شام میں کہیں ٹہلا نہیں ہوں میں
عرصہ ہوا ہے
رات کہیں چمکا نہیں ہوں میں
سارا دن دھوپ دیوار
دیکھتا رہتا ہوں
ٹرمیں سوچتا رہتا ہوں
نظمیں توڑتا رہتا ہوں
تھیسز جوڑتا رہتا ہوں
(سورج بخار ہے شاید
چاند کی کمی ہے)

Image:
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

شاعر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

شاعر

[/vc_column_text][vc_column_text]

تم نے کبھی
رات کے سکوت میں
Click کی گونج سے
نغمہ کوئی جگایا ہے؟
خیر چھوڑو
بے ادبی کا بوجھ
سینے پہ پتھر نہیں ہوتا
ہواؤں میں اُڑو
عیش کرو
آسمانوں میں کوئی خدا نہیں ہے
میری فکر چھوڑو
میں تو زمین پہ
اپنے جیسے لوگوں کا
ریت اور پانی سا
بے پناہ شاعر ہوں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]