Categories
شاعری

اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں
موت کو رشوت دیتے ہیں
اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں
وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں
اور امید رکھتے ہیں
ہم خود کو ہلاک کر لیں گے
وہ چڑیا گھر میں
شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں
اور جب ہم وہاں سیر کرنے جاتے ہیں
اس دن وہ شیر کا راتب بند کر دیتے ہیں
جب چاند ٹوٹا پھوٹا نہیں ہوتا
وہ ہمیں ایک جزیرے کی سیر کو بلاتے ہیں
جہاں نہ مارے جانے کی ضمانت کا کاغذ
وہ کشتی میں ادھر ادھر کر دیتے ہیں
اگر انہیں معلوم ہو جائے
وہ اچھے قاتل نہیں
تو وہ کانپنے لگیں
اور ان کی نوکریاں چھن جائیں
وہ ہمارے مارے جانے کا خواب دیکھتے ہیں
اور تعبیر کی کتابوں کو جلا دیتے ہیں
وہ ہمارے نام کی قبر کھودتے ہیں
اور اس میں لوٹ کا مال چھپا دیتے ہیں
اگر انہیں معلوم بھی ہو جائے
کہ ہمیں کیسے مارا جا سکتا ہے
پھر بھی وہ ہمیں نہیں مار سکتے

Categories
شاعری

ہمیں بھول جانا چاہیئے (افضال احمد سید)

اس اینٹ کو بھول جانا چاہیئے
جس کے نیچے ہمارے گھر کی چابی ہے
جو ایک خواب میں ٹوٹ گیا

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس بوسے کو
جو مچھلی کے کانٹے کی طرح ہمارے گلے میں پھنس گیا
اور نہیں نکلتا

اس زرد رنگ کو بھول جانا چاہئے
جو سورج مکھی سے علیحدہ کر دیا گیا
جب ہم اپنی دوپہر کا بیان کر رہے تھے

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس آدمی کو
جو اپنے فاقے پر
لوہے کی چادریں بچھاتا ہے

اس لڑکی کو بھول جانا چاہیئے
جو وقت کو
دواؤں کی شیشوں میں بند کرتی ہے

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس ملبے سے
جس کا نام دل ہے
کسی کو زندہ نکالا جا سکتا ہے

ہمیں کچھ لفظوں کو بالکل بھول جانا چاہئے
مثلاً
بنی نوع انسان
ٰImage: stacey Friedman

Categories
شاعری

جنگل کے پاس ایک عورت

نیند کے پاس ایک رات ہے
میرے پاس ایک کہانی ہے
جنگل کے پاس ایک عورت تھی
عورت بچہ پیدا کرنے کے درد سے مر رہی تھی
ایک شکاری وہاں پہنچ گیا
اور بچے کی آنکھوں کے عوض
عورت کی مدد کرنے پر آمادہ ہو گیا
عورت نے جڑواں بچے جنے
شکاری کے ہاتھ
آنکھوں کی دو جوڑیاں آئیں
اس وقت سکے ایجاد نہیں ہوئے تھے
ایک جوڑی آنکھ کے بدلے
زندگی بھر کا سامان خریدا جا سکتا تھا
جو لوگ دوسروں کی آنکھیں حاصل نہیں کر سکتے
اپنی آنکھوں کا سودا کر لیتے
ہر سودے کی طرح
بیچتے وقت
آنکھوں کی صرف آدھی قیمت حاصل ہوتی تھی
آنکھیں بیچنے والے
صرف آدھی زندگی خرید سکتے تھے
عورت نے شکاری سے جدا ہو کر
اپنے بچوں کو جنگل میں چھوڑ دیا
جیسا کہ اس نے اپنے شوہر کو
سمندر میں چھوڑ دیا تھا
بچے بھیڑیوں میں پل کر بڑے ہوئے
ان میں سے ہر ایک
دوسرے کو
اپنی ماں کی کوکھ کا غاصب
اور اپنی آنکھوں کے سودے کا باعث سمجھنے لگا
جب
بیلوں میں پاؤں ٹوٹنے کی بیماری پھیل جانے کی وجہ سے
اندھے غلاموں کی مانگ بڑھ گئی
ایک بردہ فروش
انہیں بھیڑیوں کی غول سے چرا لے گیا
زمین میں جتے ہوئے اندھے بھائی
ہل لے کر اتنی مخالف سمت میں چلتے کہ
ان کے آقا کو
خدا سے درخواست کر کے
ایک کھڑکھڑانے والا سانپ ان کے پیچھے لگانا پڑا
میں بہت دنوں پہلے
اس شہر کا محاصرہ کرنے آیا تھا
میرے پرچم پر رہنے والا عقاب اڑ گیا
میرے سپاہیوں نے
اپنی تلواریں ٹکسالوں میں بیچ دیں
گھوڑے نے اپنی کھال
مشکیزہ بنانے والے کو ہدیہ کر دی
شہر کی دیواروں میں
شگاف کہاں ہے
یہ اس کے چرواہوں کو بھی معلوم ہے
اور ان کی بھیڑوں کو بھی
مگر یہ جنگ
غداروں اور چوباؤں کو بھی خرید کر نہیں جیتنا چاہتا
میں سمندروں کو کشتیوں سے
اور تلوار کو تلوار سے ناپتا ہوں
میں غلام عورت کی
غلام مرد سے پیدا ہوئی اولاد نہیں
جو ایک غلام شاخ سے کمان
اور دوسری غلام شاخ سے تیر بناتا ہے
میں اس کھڑکھڑانے والے سانپ کو کچل دوں گا
اور جڑواں بھائیوں کے کندھے سے جوتا اتار کر
اسے گہری کھائی میں پھینک دوں گا
میں انہیں لے کر جنگل میں نکل آؤں گا
اور اس شکاری کو تلاش کروں گا
جو بچہ پیدا کرنے کے عوض اس کی آنکھیں طلب کرتا ہے
اور اس ماں کو تلاش کروں گا
جو بغیر آنکھوں کے بچے کو چھوڑ کر بھاگ جاتی ہے
ایک دن بیچی ہوئی آنکھیں
شکاری سے سودا کردہ شخص کو پہچان لیں گی
اور اندھے بچے
اس آدمی سے اہنی آنکھیں چھین کر
اپنے شکاری کو ڈھونڈ نکالیں گے
اور شکاری سے اس عورت کا پتہ پوچھ کر رہیں گے
جو انہیں جنگل میں چھوڑ کر چلی گئی تھی
چاہے وہ عورت میری بیوی ہی کیوں نہ ہو
Image: Roberto Matta

Categories
شاعری

ایک تلوار کی داستان

یہ آئینے کا سفرنامہ نہیں
کسی اور رنگ کی کشتی کی کہانی ہے
جس کے ہزار پاؤں تھے
یہ کنویں کا ٹھنڈا پانی نہیں
کسی اور جگہ کے جنگلی چشمے کا بیان ہے
جس میں ایک ہزار مشعلچی
ایک دوسرے کو ڈھونڈ رہے ہوں گے
یہ جوتوں کی ایک نرم جوڑی کا معاملہ نہیں
جس کے تلووں میں ایک جانور کے نرم
اور اوپری حصے میں اس کی مادہ کی کھال ہم جفت ہو رہی ہے
یہ ایک اینٹ کا قصہ نہیں
آگ پانی اور مٹی کا فیصلہ ہے
یہ ایک تلوار کی داستان ہے
جس کا دستہ ایک آدمی کا وفادار تھا
اور دھڑ ایک ہزار آدمیوں کے بدن میں اتر جاتا تھا
یہ بستر پر دھلی دھلائی ایڑیاں رگڑنے کا تذکرہ نہیں
ایک قتلِ عام کا حلفیہ ہے
جس میں ایک آدمی کی ایک ہزار بار جاں بخشی کی گئی
Image: Abdullah al-Muharraqi

Categories
شاعری

اگر ہم گیت نہ گاتے

ہمیں معنی معلوم ہیں
اس زندگی کے
جو ہم گزار رہے ہیں

ان پتھروں کا وزن معلوم ہے
جو ہماری بے پروائی سے
ان چیزوں میں تبدیل ہو گئے
جن کی خوب صورتی میں
ہماری زندگی نے کوئی اضافہ نہیں کیا

ہم نے اپنے دل کو
اس وقت
قربان گاہ پر رکھے جانے والے پھولوں میں
محسوس کیا
جب ہم
زخمی گھوڑوں کے جلوس کے پیچھے چل رہے تھے

شکست ہمارا خدا ہے
مرنے کے بعد ہم اس کی پرستش کریں گے
ہم اس شخص کی موت مریں گے
جس نے تکلیفوں کے بعد دم توڑا

زندگی کبھی نہ جان سکتی
ہم اس سے کیا چاہتے ہیں
اگر ہم گیت نہ گاتے

Image: Pawel Kuczynski

Categories
شاعری

آخری دلیل

تمہاری محبت
اب پہلے سے زیادہ انصاف چاہتی ہے
صبح بارش ہو رہی تھی
جو تمہیں اداس کر دیتی ہے
اس منظر کو لازوال بننے کا حق تھا
اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی
ایک گم نام پل پر
تم نے اپنے آپ سے مضبوط لہجے میں کہا
مجھے اکیلے رہنا ہے
محبت کو تم نے
حیرت زدہ کر دینے والی خوش قسمتی نہیں سمجھا
میری قسمت جہاز رانی کے کارخانے میں نہیں بنی
پھر بھی میں نے سمندر کے فاصلے طے کیے
پراسرار طور پر خود کو زندہ رکھا
اور بے رحمی سے شاعری کی
میرے پاس ایک محبت کرنے والے کی
تمام خامیاں
اور آخری دلیل ہے
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

میں ڈرتا ہوں

میں ڈرتا ہوں
اپنے پاس کی چیزوں کو
چھو کر شاعری بنا دینے سے
روٹی کو میں نے چھوا
اور بھوک شاعری بن گئی
انگلی چاقو سے کٹ گئی
اور خون شاعری بن گیا
گلاس ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا
اور بہت سی نظمیں بن گئیں
میں ڈرتا ہوں
اپنے سی تھوڑی دور کی چیزوں کو
دیکھ کر شاعری بنا دینے سے
درخت کو میں نے دیکھا
اور چھاؤں شاعری بن گئی
چھت سے میں نے جھانکا
اور سیڑھیاں شاعری بن گئیں
عبادت خانے پر میں نے نگاہ ڈالی
اور خدا شاعری بن گیا
میں ڈرتا ہوں
اپنے سے دور کی چیزوں کو
سوچ کر شاعری بنا دینے سے
میں ڈرتا ہوں
تمہیں سوچ کر
دیکھ کر
چھو کر
شاعری بنا دینے سے

Image: Levi van Veluw

Categories
شاعری

شاعری میں نے ایجاد کی

شاعری میں نے ایجاد کی
کاغذ مراکشیوں نے ایجاد کیا
حروف فونیشیوں نے
شاعری میں نے ایجاد کی

قبر کھودنے والے نے تندور ایجاد کیا
تندور پر قبضہ کرنے والوں نے روٹی کی پرچی بنائی
روٹی لینے والوں نے قطار ایجاد کی
اور مل کر گانا سیکھا

روٹی کی قطار میں جب چیونٹیاں بھی آ کر کھڑی ہو گئیں
تو فاقہ ایجاد ہو گیا

شہتوت بیچنے والے نے ریشم کا کیڑا ایجاد کیا
شاعری نے ریشم سے لڑکیوں کے لیے لباس بنایا
ریشم میں ملبوس لڑکیوں کے لیے کٹنیوں نے محل سرا ایجاد کی
جہاں جا کر انہوں نے ریشم کے کیڑے کا پتا بتا دیا

فاصلے نے گھوڑے کے چار پاؤں ایجاد کیے
تیز رفتاری نے رتھ بنایا

اور جب شکست ایجاد ہوئی
تو مجھے تیز رفتار رتھ کے آگے لٹا دیا گیا

مگر اس وقت تک شاعری محبت کو ایجاد کر چکی تھی

محبت نے دل ایجاد کیا
دل نے خیمہ اور کشتیاں بنائیں
اور دور دراز کے مقامات طے کیے

خواجہ سرا نے مچھلی پکڑنے کا کانٹا ایجاد کیا
اور سوئے ہوئے دل میں چبھو کر بھاگ گیا

دل میں چبھے ہوئے کانٹے کی ڈور تھامنے کے لیے
نیلامی ایجاد ہوئی
اور جبرنے آخری بولی ایجاد کی

میں نے ساری شاعری بیچ کر آگ خریدی
اور جبر کا ہاتھ جلا دیا

Image: Mikhail Vrubel