اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں موت کو رشوت دیتے ہیں اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں اور امید رکھتے ہیں ہم خود کو ہلاک کر لیں گے وہ چڑیا گھر میں شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں اور جب ہم وہاں سیر […]
ہمیں بھول جانا چاہیئے (افضال احمد سید)

اس اینٹ کو بھول جانا چاہیئے جس کے نیچے ہمارے گھر کی چابی ہے جو ایک خواب میں ٹوٹ گیا ہمیں بھول جانا چاہیئے اس بوسے کو جو مچھلی کے کانٹے کی طرح ہمارے گلے میں پھنس گیا اور نہیں نکلتا اس زرد رنگ کو بھول جانا چاہئے جو سورج مکھی سے علیحدہ کر دیا […]
جنگل کے پاس ایک عورت

افضال احمد سید: نیند کے پاس ایک رات ہے
میرے پاس ایک کہانی ہے
جنگل کے پاس ایک عورت تھی
ایک تلوار کی داستان

افضال احمد سید: یہ ایک تلوار کی داستان ہے
جس کا دستہ ایک آدمی کا وفادار تھا
اور دھڑ ایک ہزار آدمیوں کے بدن میں اتر جاتا تھا
اگر ہم گیت نہ گاتے

افضال احمد سید: ہمیں معنی معلوم ہیں
اس زندگی کے
جو ہم گزار رہے ہیں
آخری دلیل

افضال احمد سید: اس کھڑکی کو سبزے کی طرف کھولتے ہوئے
تمہیں محاصرے میں آئے ایک دل کی یاد نہیں آئی
میں ڈرتا ہوں

افضال احمد سید: میں ڈرتا ہوں
تمہیں سوچ کر
دیکھ کر
چھو کر
شاعری بنا دینے سے
شاعری میں نے ایجاد کی

حروف فونیشیوں نے
شاعری میں نے ایجاد کی