Categories
تبصرہ

پس انداز: زوالِ آدم کے بازار میں گمشدہ روایت کی بازیافت

ہمارے عہد کا المیہ یہ نہیں ہے کہ شاعری مر رہی ہے، بلکہ المیہ یہ ہے کہ شاعری اب ایک “مقدس عمل” کے بجائے ایک “سماجی عادت” بن کر رہ گئی ہے اور جب ادب عادت بن جائے تو اس میں سے وہ خوف، وہ دہشت اور وہ لرزہ خیز تجربہ غائب ہو جاتا ہے جو انسان کو اس کی اپنی حقیقت کے روبرو کھڑا کرتا ہے۔ اسد فاطمی کا مجموعہ “پس انداز” ہمارے سامنے آتا ہے تو پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ شاعر محض قافیہ پیمائی کی مشق کر رہا ہے یا اس کے اندر وہ “قدیم آدمی” زندہ ہے جو لفظ کو اپنے وجود کا حصہ سمجھ کر خرچ کرتا ہے؟ حسن عسکری نے کہا تھا کہ مغرب کی ہوائیں ہمارے گھر کے اندر تک آ گئی ہیں، لیکن اسد فاطمی کے کلام کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس شخص نے اپنے گھر کی کھڑکیاں اب تک شعوری طور پر بند رکھی ہیں، یا شاید یہ ان کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشوں سے آنے والی ہوا کو بھی اپنے چراغ کی لو کا حصہ بنانے کا ہنر جانتا ہے۔

شاعر کا تعلق اس قبیلے سے معلوم ہوتا ہے جو اب ناپید ہو چکا ہے۔ وہ قبیلہ جو شاعری کو الہام اور کسب کے درمیان ایک پل سمجھتا تھا۔ اسد فاطمی کی غزل میں جو فارسیت اور کلاسیکی تراکیب کا ہجوم ہے، وہ محض لغت دانی کا مظاہرہ نہیں بلکہ ایک ایسے تہذیبی نظام سے وابستگی کا اعلان ہے جسے ہمارا نیا “ترقی پسند” اور “جدید” ذہن رد کر چکا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں کہ “ہنر کے کشکول میں جفا کے ثمر کی اک قاش رکھ گیا ہے” تو یہاں “کشکول” اور “ثمر” محض الفاظ نہیں رہتے بلکہ ایک پوری روایت کے استعارے بن جاتے ہیں جہاں فنکار بھکاری بھی ہے اور بادشاہ بھی۔

ان کی شاعری کے پس منظر میں “استاد” کا کردار محض ایک شخص کا نہیں بلکہ ایک پورے عہد کا استعارہ بن جاتا ہے جس کی “کلکِ بے نیازی” نے شاعر کی ہستی کی لوحِ خالی پر پیش لفظ لکھا تھا۔ ان کی نظم دراصل اسی روایت سے انحراف اور پھر اسی کی طرف واپسی کا ایک بلیغ اعتراف ہے جہاں شاعر یہ مانتا ہے کہ اس نے استاد کی ہر ہدایت کو “قط بہ قط، خط بہ خط غلط لکھا” مگر بالآخر وہ اسی دائرے میں واپس لوٹتا ہے جہاں روایت کا تقدس اسے پناہ دیتا ہے۔ یہ شعور انہیں جدید دور کی “کمرشلائزیشن” اور ادبی “شِٹ” (جیسا کہ انہوں نے “ایک تاریخی وعظ سے پہلے مائیکرو فون ٹیسٹنگ” میں طنزیہ انداز میں استعمال کیا) کے خلاف کھڑا کرتا ہے، جہاں وہ اپنی “بیاضِ غزل” کو دو ٹکے کی شہرت پر قربان کرنے کے بجائے اسے اپنی “آخری بچت” یا “پس انداز” کے طور پر سنبھال کر رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔”پس انداز” کا عنوان ہی جدید انسان کی نفسیات پر ایک گہرا طنز ہے۔ یہ اس “سیونگ” کا نام نہیں جو بنکوں میں رکھی جاتی ہے، بلکہ یہ اس روحانی سرمائے کا اشارہ ہے جو تہذیبی شکست و ریخت کے بعد ایک حساس روح کے تہہ خانے میں بچ رہتا ہے۔

اسد فاطمی کے ہاں “استاد” کا تصور محض ایک سکھانے والے کا نہیں، بلکہ ایک روحانی نسب نامے کا ہے۔ جدیدیت نے انسان کو باپ اور استاد سے محروم کر کے اسے “یتیم” بنا دیا ہے، مگر اسد فاطمی بضد ہیں کہ وہ یتیم نہیں ہیں۔ وہ اپنی نظموں اور غزلوں میں بار بار اس “نسب” کا حوالہ دیتے ہیں جو انہیں ماضی کے ایک غیر منقطع سلسلے سے جوڑتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو ایک خاص قسم کی حزنیہ فضا ہے، وہ ذاتی ناکامی کا نوحہ نہیں بلکہ یہ اس “اجتماعی لاشعور” کی بازگشت ہے جو محسوس کر رہی ہے کہ کچھ بہت اہم کھو گیا ہے۔ وہ “بازارِ زیاں” میں کھڑے ہو کر بھی منافع کی امید نہیں رکھتے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی شاعری ایک “روحانی مزاحمت” بن جاتی ہے۔ ان کا مصرعہ “بیٹھے ہیں اپنے دھیان میں محفل کو چھوڑ چھاڑ کر” اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شاعر ہجوم میں تنہا نہیں ہے، بلکہ ہجوم سے “بیزار” ہے، اور یہ بیزاری ہی اس کے تخلیقی جوہر کو زنگ لگنے سے بچاتی ہے۔

عام طور پر غزل میں جسم یا تو محبوب کا ہوتا ہے یا پھر ایک تجریدی وجود، مگر اسد فاطمی کے ہاں شاعر کا اپنا جسم ایک “کھنڈر” کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ وہ اپنی ذات کے داخلی کرب کو محض روحانی سطح پر نہیں رکھتے بلکہ اسے “جسمانی اذیت” میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ جب وہ “تن تندور الاؤ بھیا” کی بات کرتے ہیں تو یہاں گرمی موسم کی نہیں بلکہ ہڈیوں میں سلگتی ہوئی اس آگ کی ہے جو وجود کو آہستہ آہستہ بھسم کر رہی ہے۔ ان کی شاعری میں گرد اور دھول محض راستے کی نہیں بلکہ ان کے مساموں میں اتری ہوئی ہے۔ یہ “جسمانی ٹوٹ پھوٹ” دراصل اس تہذیبی شکست کا استعارہ ہے جو اب صرف روح تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ہڈی، ماس اور جلد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ وہ اپنے ہونے کو ایک ایسے “بوجھ” کی طرح اٹھائے پھرتے ہیں جو اب ان کے کاندھوں کو چھلنی کر رہا ہے۔
اسد فاطمی کے ہاں ایک عجیب قسم کی “بے اعتنائی” اور “ملنگانہ طنز” موجود ہے جو خود ان کی اپنی ذات پر مرکوز ہے۔ وہ اپنے آپ کو “کم بخت”، “آفت” اور “ملغوبہ” کہہ کر پکارتے ہیں، اور یہ خود تضحیکی دراصل ان کا سب سے بڑا دفاع ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا ان پر ہنسے گی، اس لیے دنیا کے ہنسنے سے پہلے وہ خود اپنے اوپر قہقہہ لگا دیتے ہیں تاکہ دنیا کا وار خالی جائے۔ یہ وہ “رندانہ شوخی” ہے جو شدید ترین المیے کو بھی ایک “کامیڈی” میں بدلنے کا ہنر جانتی ہے۔ وہ المیے کو رو رو کر بیان کرنے کے بجائے ایک ایسی تلخ مسکراہٹ کے ساتھ پیش کرتے ہیں جو آنسوؤں سے زیادہ دلدوز ہوتی ہے۔ ان کا یہ انداز انہیں روایتی غزل گو شعراء سے ممتاز کرتا ہے جو صرف “رونا” جانتے ہیں، جبکہ اسد فاطمی “ہنستے ہوئے” مرنے کا ہنر جانتے ہیں۔

پس انداز کی شاعری میں جہاں وہ فارسی کی سنگلاخ زمین سے اتر کر اپنے “مقامی لہجے” میں بات کرتے ہیں، وہاں ان کی تاثیر دوچند ہو جاتی ہے۔ وہ کمرشلائزیشن” اور “ادبی سیاست” پر جب چوٹ کرتے ہیں تو ان کا لہجہ کسی صوفی کا نہیں بلکہ ایک ایسے “چڑچڑے دانشور” کا ہوتا ہے جو جانتا ہے کہ سب جھوٹ بول رہے ہیں۔
“دہقان”، “دریا”، “نہر”، “دوپہر”۔ یہ سب روایتی لفظ اور استعارے لگتے ہیں نا؟ مگر ٹھہریے اسد کا دہقان وہ پریم چند والا سیدھا سادا کسان نہیں ہے، یہ وجودی کرب کا مارا ہوا جدید انسان ہے جو “دریا” (وقت) کے کنارے کھڑا تماشا دیکھ رہا ہے۔ دریا بہہ رہا ہے اور دہقان کی آنکھوں میں ویرانی ہے۔ یہ تصویر کشی کسی مصور کا کام نہیں، ایک حساس شاعر کا کام ہے جس نے زندگی کو بہت قریب سے، شاید بہت قریب سے “چوٹ” کھا کر دیکھا ہے۔
اور یہ “گردِ سفر” کا قصہ کیا ہے؟ پوری کتاب میں شاعر کہیں ٹک کر نہیں بیٹھتا۔ کبھی وہ بازارِ زیاں میں ہے، کبھی رنگپورے کی نہر پر، کبھی چنیوٹ کی گلیوں میں۔ یہ بے چینی، یہ اضطراب، یہی تو وہ ایندھن ہے جس سے شعر کی بھٹی جلتی ہے۔ اگر شاعر مطمئن ہو کر بیٹھ جائے تو سمجھو مر گیا۔ اسد فاطمی زندہ ہے، کیونکہ وہ بے چین ہے۔ وہ اپنے “اندر” کے آدمی سے لڑ رہا ہے، باہر کی دنیا سے الجھ رہا ہے۔

ہمارے نئے لکھنے والوں نے “ذات” کے جس تصور کو مغرب کی اترن سمجھ کر پہن لیا ہے، وہ انہیں اندر سے کھوکھلا کیے جا رہا ہے، مگر اسد فاطمی کے ہاں ایک عجیب قسم کی “ضد” دکھائی دیتی ہے۔اپنی ذات کو بکھرنے سے بچانے کی ضد۔ ان کی شاعری میں جو “میں” ہے، وہ کوئی نرگسیت کا شکار جدید فرد نہیں بلکہ وہ “قدیم انسان” ہے جو جانتا ہے کہ کائنات کے ساتھ اس کا نامیاتی رشتہ ٹوٹ چکا ہے اور اب اسے یہ رشتہ اپنے لہو سے دوبارہ جوڑنا پڑے گا۔ جب وہ غزل کے روایتی ڈھانچے میں اپنے وجودی تجربے کو ڈھالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں پر پلاسٹر چڑھا رہے ہیں۔ یہ عمل تکلیف دہ ضرور ہے اور قاری کو بھی اس تکلیف میں شریک کرتا ہے، مگر اس کے بغیر چارہ بھی نہیں۔ ان کا لفظی نظام اس بات کا گواہ ہے کہ وہ زبان کو محض ابلاغ کا ذریعہ نہیں بلکہ “وجود کا گھر” سمجھتے ہیں، اور جب گھر میں آگ لگی ہو تو آدمی کھڑکی سے باہر کے نظارے نہیں کرتا، بلکہ پہلے آگ بجھانے کی فکر کرتا ہے، چاہے اس کوشش میں ہاتھ ہی کیوں نہ جھلس جائیں۔
پھر معاملہ صرف ذات کا نہیں، “عشق” کا بھی ہے جو ہمارے عہدِ زریں میں یا تو جنسی ہیجان کا نام ہو گیا ہے یا پھر سماجی تعلقات کی ایک مسخ شدہ صورت۔ اسد فاطمی کے مجموعے میں عشق ایک “تہذیبی قوت” بن کر ابھرتا ہے، ایک ایسی قوت جو “مارکیٹ” کے اصولوں کو ماننے سے انکاری ہے۔ وہ اپنے محبوب کو کسی اشتہار کا ماڈل نہیں بناتے اور نہ ہی اسے کھپت کی کوئی شے سمجھتے ہیں بلکہ اسے اس “غیب” کا استعارہ بنا دیتے ہیں جس سے مکالمہ کیے بغیر انسانی زندگی بے معنی اور بے رس ہے۔ ان کے ہاں محبت، وصال کی خواہش سے زیادہ “فراق” کے ان آداب کا نام ہے جو انسان کو اندر سے پختہ کرتے ہیں۔ آج کا قاری جو “انسٹنٹ کافی” کی طرح فوری نتیجے اور فوری سرشاری کا عادی ہے، اسے اسد کی یہ “ریاضت” شاید بوجھل لگے، مگر شاعر کو اس کی پروا اس لیے نہیں کہ وہ جانتا ہے کہ سچی شاعری قاری کی خوشنودی کے لیے نہیں بلکہ اپنی روح کی تطہیر اور کائنات سے اپنے تعلق کی بازیافت کے لیے کی جاتی ہے۔

مزید برآں، اسد فاطمی وقت کو جس پیمانے سے ناپتے ہیں وہ گھڑی کی سوئیوں والا حسابی وقت نہیں بلکہ وہ “ازلی وقت” ہے جس میں ماضی، حال اور مستقبل ایک نقطے پر آ کر مل جاتے ہیں۔ مابعد جدید عہد نے ہمیں “لمحہِ موجود” کا اسیر بنا دیا ہے اور ہم تاریخ کے تسلسل سے کٹ گئے ہیں، مگر اسد فاطمی اس لمحے کو پھلانگ کر اس “دائمی سچائی” تک پہنچنا چاہتے ہیں جو روایت کے دامن میں چھپی ہے۔ ان کا یہ رویہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ “تاریخ” کے جبر کو تسلیم تو کرتے ہیں مگر اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے کو تیار نہیں، وہ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں جو آج کل کے شعری منظرنامے میں نایاب ہے۔

ان کی زبان کا کھردرا پن اور فارسی آمیز لہجہ دراصل اس “چکنی چپڑی” زبان کے خلاف ایک بھرپور احتجاج ہے جس نے ہماری فکر کو مفلوج اور ہمارے احساس کو کند کر دیا ہے۔ وہ جان بوجھ کر ایسے الفاظ اور تراکیب استعمال کرتے ہیں جو قاری کو “ٹھوکر” لگائیں، تاکہ وہ رک کر سوچے کہ یہ لفظ یہاں کیوں ہے؟ یہ “لسانی مزاحمت” ہی ان کا اصل ہتھیار ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اردو شاعری کا مزاج محض محفل میں “واہ واہ” کروانا نہیں تھا بلکہ قاری کے شعور کو ایک ایسی سطح پر لے جانا تھا جہاں اسے اپنی “کم مائیگی” اور کائنات کی ہیبت کا احساس ہو سکے۔ اسد فاطمی کا کمال یہ ہے کہ وہ قاری کو جھوٹی تسلی نہیں دیتے بلکہ اسے بے چین کرتے ہیں، اسے اس کے خواب غفلت سے جھنجھوڑتے ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ جس فن سے قاری کا سکون برباد نہ ہو، وہ فن نہیں، محض ایک نشہ ہے جو اتر جائے گا۔

مجموعی طور پر، “پس انداز” ایک ایسے شاعر کی دستاویز ہے جو اپنے عہد کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکاری ہے۔ یہ شاعری ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو ادب میں “تفریح” تلاش کرتے ہیں، بلکہ ان کے لیے ہے جو ادب میں “اپنا چہرہ” دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے وہ چہرہ کتنا ہی مسخ شدہ کیوں نہ ہو۔ اسد فاطمی نے ثابت کیا ہے کہ روایت کی راکھ کریدنے سے صرف ہاتھ کالے نہیں ہوتے، بلکہ کبھی کبھی اس میں سے کوئی چنگاری بھی نکل آتی ہے جو اس ٹھنڈے اور بے حس معاشرے میں آگ لگانے کے کام آ سکتی ہے۔ یہ کتاب ایک اعلان ہے کہ “آدمی” ابھی پوری طرح نہیں مرا، اس کے اندر کا “دکھ” ابھی زندہ ہے، اور جب تک دکھ زندہ ہے، شاعری زندہ رہے گی۔ اسد فاطمی کی کامیابی یہ نہیں کہ انہوں نے کوئی نیا فلسفہ پیش کیا ہے، بلکہ ان کی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ہمیں یاد دلایا ہے کہ ہم کیا بھول چکے ہیں۔ اور یقین مانیے، آج کے دور میں یاد دہانی سے بڑا کوئی جہاد نہیں۔

Categories
شاعری

قہقیوں کے گھونٹ اور دیگر نظمیں – عظمیٰ طور

“قہقیوں کے گھونٹ”

میں نے طویل چیخ کے بعد
چیخ کے خلا کو پر کرنے کے واسطے
قہقہوں کے کئی بڑے بڑے گھونٹ نگلے ہیں
سات جہانوں اور خلاؤں اور کہکشاؤں کی بنیادیں پھر بھی اپنے پیروں پہ کھڑی ہیں
اندھے پیروں پر
جن کے نشانوں کو ڈھونڈنے کے واسطے مجھے اور میرے جیسے کئی نقطوں کو
وزن برابر رکھنے کی تگ و دو میں لگا دیا گیا ہے
اور ایک دن نقطے معدوم ہو جائیں گے
جیسے تھے ہی نہیں
جیسے سات آسمانوں اور خلاؤں اور کہکشاؤں کے اندھے پیر
قہقہوں کے گھونٹ نگلنا کیا تمھیں آسان لگتا ہے _

…………………..

“کوزہ گر”

حسن کوزہ گر پڑھتے پڑھتے
وہ بھی کوزہ گر بن گیا تھا
جن سچے ہاتھوں کے عشق میں مٹی کی پریاں اپنے نقش سنوار رہی تھیں
وہ دراصل جلد ہی ٹوٹنے والی تھیں
محبت کے کئی کوزے اس کی آواز کی تیز لہروں سے بھر جاتے
اور مٹی کی پریاں انھیں اپنی لچکتی کمروں پہ ٹکائے
اونچی نیچی دشوار پگڈنڈیوں پہ لہکنے لگتیں
انھیں اپنے حسین نقوش پانی میں دکھائی دیتے تو
اپنی بھربھری مٹی سے آگاہی رکھتے ہوئے بھی
اس لوچ کی لہر میں بہتی جاتیں
اس کے سچے ہاتھوں میں آئی ایک نیم پتھرائی مورت
جس کی دھوپ نے اس کو آدھا کچا آدھا پکا رکھا تھا
احتیاطاً _
چاک پر دھر دی گئی
نہ ٹوٹی نہ جڑ پائی
اور حسن کوزہ گر
اب
کسی نئی دنیا میں
کسی نئی مٹی سے
کسی نئی پری کو تراشنے نکل گیا ہے _!

…………………..

“موجود”

کمرے میں جانے کونسے رنگ کا بلب روشن تھا ،جانے روشن تھا بھی یا نہیں
روشنی یا پیلی ہوتی ہے یا سفید اس کا تیسرا کوئی رنگ نہیں
رنگ بدلتی روشنی اگر کہیں دکھے بھی تو کسی آئینے، کسی اور رنگ کا عکس ہوتی ہے
پیلی روشنی میں گول گول چکر کاٹتے ذرے _ شاید سورج کا بھی کوئی دیوانہ ہو
کمرے میں نہ پیلا بلب تھا نہ چمچمتی سفید روشنی
سلیٹی تھا کچھ _ سرمئی سا _ گرے سا __
کچھ واضح نہیں _ کچھ واضح تھا بھی نہیں _
کمرے کی سفید ٹائلز ،سفید چھت ،اس کے بستر کی سفید چادر ،پنکھا ، سفید ٹی روز سب سلیٹی تھے
سرمئی ،گرے _ غیر واضح __ ٹی روز کی خوشبو بھی __
اس کے سفید کاٹن کے سوٹ پر سلیٹی دھبے تھے __
آنکھوں کے سنہرے ہلکے ناجانے کب سے سلیٹی لگنے لگے تھے __
دیوار پر ایک قطار میں گھڑیاں ابھر آئیں جن پر وقت کے ساتھ تاریخیں بھی درج تھیں
چودہ اکتوبر _ صبح آٹھ
بارہ دسمبر _ رات دس
مئی کی تاریخ دھندلی تھی( سنہ اسے یاد تھا) مگراس سے جڑا وقت پوری دیوار پہ پھیلنے لگا
کمرے کا سلیٹی رنگ اور بھی جم کر پھیل گیا
اس نے بظاہر سلیٹی نظر آتی فرش کی ایک چوکور ٹائل پر ننھے ننھے سیاہ دھبوں کو چھوا
وہ دھبے راکھ بن کر اس کی پوروں کی باریک لکیروں میں دھنس گئے
اس کے ایک کان میں کمرے کا پورا ماحول بول رہا تھا اور دوسرے میں تاریخیں، واقعات، لوگ، دھوکے، نصیحتیں، باز پرس گرزنے والا ہر واضح اور غیر واضح پل دھڑک رہا تھا
موجود کی طاقت اس کے کانوں کو فالج ذدہ کرنا چاہتی تھیں
ناموجود کی تپش، اس کی لوئیں سرخ ہونے لگیں
ناموجود میں موجود سی زندگی تھی تلخی کے باوجود ،برے تجربات، تلخ مشاہدات کے باوجود ہونٹوں کے کنارے تھرتھراتے تھے
آنکھیں لو دیتیں
ہاتھ کپکپاتے
پیر لڑکھڑاتے
مگر حاضر ہونے میں ہلاکت کا جو مزہ تھا اس سے بھی منکر نہ ہوا جا سکتا تھا
حاضری لازم تھی
وقت کے سامنے
گھٹنے ٹیکتی عمر کے سامنے
زندگی کرتے انفاس کے سامنے
سانس لیتے دھڑکتے رستوں کے سامنے
حاضر کی طاقت کمزور پڑتی تھی
اس کی سانسیں جو وہ پہلے بہت پہلے ہی کھینچ چکی تھی اب حاضر میں خارج ہو رہی تھیں
یہ بھی اس کے زندہ ہونے کی علامت تھی
پوروں کی لکیروں میں پھیلتی سرمئی راکھ پورے بدن میں پھیل گئی تھی
اس نے تجربہ کیا تھا
اس کا خون اب خون رنگ نہیں تھا جم کر کچھ گاڑھا سا ہو گیا تھا
موجود کی مہک ناموجود کے سرور کے آگے گھٹنے ٹیک دیتی تو وہ تھرتھراتے ہونٹوں کو مسکرانے کا حکم دیتی
اس نے اٹھ کر کمرے کے ٹیپ ریکارڈر میں ناموجود کی آواز کو پلے کیا
اور کمرے کے بیچوں بیچ پنکھے کے ساتھ ساتھ دائرے میں گھومنے لگی
اس کے پیروں کے نیچے سرمئی زمین اور بھی سرمئی ہو گئی
موجود _ موجود _ موجود
اس نے باہیں پھیلا کر ناموجود کو آواز دی
بازو بھاری ہونے لگے
کندھے جھکنے لگے
پیروں میں جیسے کچھ بھاری بندھ گیا
مگر وہ گھومتی رہی
گھومتی رہی
گھومتی رہی
جب ناموجود اور موجود دونوں اس کے سنگ ایک ہی چکر میں چکرانے لگے تو اس نے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا
اس کا کام ختم ہو چکا تھا
جسم پر نیلے نشان تھے
سرخ دھاریں جسم کی مختلف پور سے رستی تھیں
اور پیروں میں سرمئی، سلیٹی بھنور تھے _

Categories
شاعری

انتظار – غنی پہوال

ماضی کے نقوشِ قدم
دروازے کے ویراں چہرے پر
ہر مُہر اور تصدیق سے بے نیاز
کسی فوسل کی طرح ثبت تھے
اُداسیوں کی بانجھ آنکھیں
روشنی کو حاملہ کر کے
دیمک کی چال سے اندر بھیج رہی تھیں
دیوار کے شگافوں سے
اذیت سر نکالے نیچے دیکھ رہی تھی
جہاں فرش پر
کسی کا حنوط شدہ انتطار
ٹکٹکی باندھے دروازے کو تکے جا رہا تھا
Image: Fareed Ahmed

Categories
شاعری

ہم زندہ رہیں گے! – ایچ- بی- بلوچ

دور سے نظر آتا موسم
بادل اور برفیلی سفیدی
نزدیک آنے پر آٹے کا تھیلا
یا اسپرٹ میں بھیگا کپاس کا ڈھیلا بن جاتی ہے
راشن پر لپکتے جم غفیر نے لاک ڈاؤن کا
کہیں پر خاموشی نے دن اور رات کا فرق ختم کردیا ہے
لیکن جب تک ہم زندہ ہیں
ہم ایک امید پر عمل پیرا رہیں گے

ان خوش گوار بولیوں
اور گول چوک پر نصب سائن بورڈ پر
ماڈل کی پلکوں کی یکسانیت کے اندر
جس میں موت جیسے لفظ کی کوئی گنجائش نہیں ہے

جب ہم
اپنائیت کی لذت آشنائی سے منور کر دیئے جائیں گے
جب تک ہمیں
کھیت پکانے کے لیے ادھاری آگ کی ضرورت نہیں پڑے گی
کسی طور پر ہم
جسم کی قید کے دورانیے کو طویل کر سکتے ہیں

جب تک خون کا رنگ لال
اور ہمارے دل احساس کی چبھن سے آگاہ رہیں گے
ہم ان سیٹیوں کے آگے لیٹ جائیں گے
جو ہمیں
ملانے اور جدا کرنے کے لیے ایندھن کھپاتی ہیں
جو ایک بار کو دوسرے اسٹیشن
اور ایک مرض کو دوسری جگہ منتقل کر دیتی ہیں

جب تک ہم زندہ رہیں گے
خواہش موت کی أنکھوں میں مکڑی کے جال بنتی
اور سنگینوں کی نوک کو گدگداتی رہے گی

ہم زندہ رہیں گے
مجھے یقین ہے کہ ہم زندہ رہیں گے
تنگ اور تاریک گلیوں میں
تمباکو چباتے لوگ اس لیے زندہ ہیں
کہ وہ جانتے ہیں
سرہانے کھڑا مسیحا اور زندگی
کبھی بھی ایک موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی!
Image: Sukhpal Grewal

Categories
شاعری

نمبردارکی حویلی – حسین عابد

ڈنڈوت و سلام
سات آسمانوں کو
اور سات زمینوں کو
اور ان کے بیچ
چڑھتے ڈھلتے سوریہ کو
ہماری زندگی
گنتی میں گزرتی ہے
کھائی گئی روٹیوں کی گنتی
جرابوں میں چھپائے گئے نوٹوں
کارپوریٹ بینک کے ایجنٹوں
داڑھی کے تنکوں
مندر مسجد گرجے گردوارے
میں پھوڑی گئی پیشانیوں
اور سالگرہ پر جلائی گئی
مومی شمعوں کی گنتی میں
نیم تاریک جگہوں پر
کی گئی مباشرت
ادھورا رہ جانے والے لمس
اور ان چہروں کو گنتے
جنہیں ہم چوم لیتے
تو سوریہ سنسکار بھول جاتے
بھول جانے کی حسرت میں
ہماری تسبیح کے دانے گرتے ہیں
سات زمینوں
سات آسمانوں کے پار
خدا کی انگلیوں پر
جو ہمارے گناہ ثواب
اپنی پوروں پر گن رہا ہے

Image: Bhupen Khakhar

Categories
شاعری

چاند رات (عادل یوسف)

اجسام پلاسٹک کی بوتلوں کی مانند سڑک پر لڑھکتے جاتے ہیں
بوتلیں جن میں سماج کا پیشاب بھرا پڑا ہے

ہر آنکھ میں مردہ خوابوں کی لاشیں تیرتی رہتی ہیں
جو فاتحہ کی امید پہ اکثر آنکھوں سے ٹکراتی رہتی ہیں
انہیں ہر دن رشتوں کے گدھوں کی خوراک بننا ہے

لڑکیاں جو شادیوں کی بھینٹ چڑھیں گی
موٹر سائیکلوں کی چیختی ہڈیوں کی آواز پہ جوانوں کے قہقہے میرا مذاق اڑاتے ہیں

آج میں سڑک کے تارکول سے لپٹ کر خوب رویا
اور میری آنکھوں کی سیاہی سڑک میں اپنا تیزاب پلاتی گئی

شہر کی ہر دکان میرا منہ چڑاتی ہے

لوگ اپنے خوابوں کا قتل کر کے نئے کرتے خریدتے ہیں
اور اس پہ اپنے ارمانوں کے کفن پہنتے ہیں

ہماری اناوں کے کتوں کو لڑتے دیکھ کر ہمارے وعدے سہمے بیٹھے ہیں
میں نے بھی تمہارے لیے اک دکان سے لباس چرانے کا سوچا ہے
مگر دکاندار کو مالک کی پڑھنے والی گالیوں کا تصور میرے ارادوں کا گلہ گھونٹتا ہے
گو عید پہ تمہارے جسم میری انگلیوں سے مس کیے لیے لباس کی راہ تکے گا
تکنے دو
مجھ سے جڑی ہر چیز کے حصے میں انتظار ہی لکھا ہے

Categories
شاعری

ایک گیت گایا نہیں جا سکتا (فیثا غورث)

ایک گیت تمہیں گھیر لیتا ہے
ایک گیت جو تم نے سن رکھا ہے
ایک گیت جو تم کبھی نہیں سنو گے
راستے میں چلتے ہوئے گھیر لیتا ہے

ایک گیت تمہیں گلے لگا لیتا ہے
ایک گیت جس کے لیے تم زندہ رہ سکتے ہو
ایک گیت جس کے لیے تم مر سکتے ہو
تمہیں پہچان کر گلے لگا لیتا ہے

ایک گیت تمہیں قتل کر دیتا ہے
ایک گیت جس سے تم محبت کرتے ہو
ایک گیت جس سے تم نفرت کرتے ہو
تمہارا گلا گھونٹ کر تمہیں قتل کر دیتا ہے

پڑے پڑے ایک کھٹا اور میٹھا گیت
بدذائقہ ہو سکتا ہے
رکھے رکھے ایک سادہ مگر الجھا ہوا گیت
شکن آلود ہو سکتا ہے
ایک گیت دُکھنے لگتا ہے
جب اس میں پیپ پڑ جاتی ہے
یا تمہارے گلے میں پھنس سکتا ہے
جب تم اسے نگلنے لگتے ہو

لیکن ایک گیت بھلایا نہیں جا سکتا
ایک بھلایا ہوا گیت
ایک خون آشام عفریت ہے
جو تمہیں بھنبھوڑ ڈالتا ہے

ایک گیت دہرایا نہیں جا سکتا
ایک دہرایا گیا گیت
ایک موذی عادت ہے
جو تمہیں تھکا دیتی ہے

ایک گیت گایا نہیں جا سکتا
ایک گایا گیا گیت
ایک بے کار سہولت ہے
جسے تم کبھی استعمال نہیں کر سکتے

Categories
شاعری

تمہاری وجہ سے (فیثا غورث)

تمہاری وجہ سے میں ایک خلا نورد نہیں بن سکا
میرے مجسمے کسی چوک پر نصب نہیں ہوئے
میرے نام سے کوئی سڑک منسوب نہیں کی گئی
میرے کارناموں پر کہیں کوئی مقالہ نہیں لکھا جا سکا
اور کوئی قومی دن میرے لیے مختص نہیں کیا گیا

تمہاری وجہ سے
میں ان عمارتوں کا افتتاح نہیں کر سکا
جو میرے دیئے ہوئے چندے سے تعمیر ہو سکتی تھیں
میں ان بیمار بچوں کے ساتھ تصویریں نہیں بنوا سکا
جو مرنے سے پہلے ایک بار
میرے ساتھ تصویریں بنوانے والے تھے

میں وہ نامور کھلاڑی تمہاری وجہ سے نہیں بن سکا
جسے دیکھنے کے لیے لوگ قطاریں بناتے ہیں
یا جو واشنگ پاوڈر کے اشتہار میں آ سکتا ہے
نہ وہ فلمی ستارہ
جس کی عشق بازیوں سے
اخباروں کے صفحے رنگین ہوتے ہیں

میرے نام کے جلسے
میرے نام کے جلوس
میرے نام کے تہوار
میرے نام کے درخت کہیں بھی نہیں
شہر میں کہیں بھی میرے نام کی کوئی یادگار تمہاری وجہ سے نہیں بنی

ان فرشتوں سے
جو مجھ تک وحی پہنچانے کو بے چین رہتے ہیں
میں تمہاری وجہ سے ہم کلام نہیں ہوتا
حیات قبل از حیات کی کوئی حکایت
نجات بعد از حیات کی کوئی سبیل
مجھ سے روایت نہیں ہو سکی
(اور اگر ایسا ہو بھی جاتا
تو مجھ پر ایمان لانے والے
تمہاری وجہ سےمرتد ہو جاتے)

تمہاری کوکھوں، پستانوں اور رانوں کا بوجھ اٹھاتے
میری آنکھیں دھنس گئی ہیں
میرے ہاتھ مفلوج ہو گئے ہیں
میری زبان سبز ہو گئی ہے
اور تمہاری وجہ سے
میں یہ نظم مکمل نہیں کر سکا

Image: Giuseppe Guerreschi

Categories
شاعری

اگر انہیں معلوم ہو جائے (افضال احمد سید)

وہ زندگی کو ڈراتے ہیں
موت کو رشوت دیتے ہیں
اور اس کی آنکھ پر پٹی باندھ دیتے ہیں
وہ ہمیں تحفے میں خنجر بھیجتے ہیں
اور امید رکھتے ہیں
ہم خود کو ہلاک کر لیں گے
وہ چڑیا گھر میں
شیر کے پنجرے کی جالی کو کمزور رکھتے ہیں
اور جب ہم وہاں سیر کرنے جاتے ہیں
اس دن وہ شیر کا راتب بند کر دیتے ہیں
جب چاند ٹوٹا پھوٹا نہیں ہوتا
وہ ہمیں ایک جزیرے کی سیر کو بلاتے ہیں
جہاں نہ مارے جانے کی ضمانت کا کاغذ
وہ کشتی میں ادھر ادھر کر دیتے ہیں
اگر انہیں معلوم ہو جائے
وہ اچھے قاتل نہیں
تو وہ کانپنے لگیں
اور ان کی نوکریاں چھن جائیں
وہ ہمارے مارے جانے کا خواب دیکھتے ہیں
اور تعبیر کی کتابوں کو جلا دیتے ہیں
وہ ہمارے نام کی قبر کھودتے ہیں
اور اس میں لوٹ کا مال چھپا دیتے ہیں
اگر انہیں معلوم بھی ہو جائے
کہ ہمیں کیسے مارا جا سکتا ہے
پھر بھی وہ ہمیں نہیں مار سکتے

Categories
شاعری

اجنبیت سے بھرا دن (ثاقب ندیم)

اجنبیت سے بھرا دن
اہم شخص کو غیر اہم بنا سکتا ہے
میں ایک اجنبی دن کے اندر سے گُزرا
جہاں خاموشی
کمرے کی درزوں سے بہہ رہی تھی
جہاں تمہاری آنکھوں میں
ایک اجنبی اداسی تھی
یہ میرا پہلا تعارف تھا
اُس لہجے سے
جِس میں اجنبی دن بولا کرتے ہیں
اور پاس سے گزرتے پاؤں کی آہٹ
دل دہلا سکتی ہے
اجنبیت بھرے دن میں
اجنبی رنگوں کی گِنتی
آپ کو پورا دن مصروف رکھ سکتی ہے
آپ اپنی گنگناہٹ میں بہت آسانی سے
بیڈار سُر کا اضافہ کر سکتے ہیں
اور مکمل مصروف رہ کے
اپنے آپ کو
دھوکا دینے کی پریکٹس کر سکتے ہیں
اجنبیت بھرا دن گزارنے کی خاطر
Image: Tadas Zaicikas

Categories
شاعری

اور جب تم دیکھو ۔۔۔۔۔۔ (نصیر احمد ناصر)

اور جب تم دیکھو
کہ رات معمول سےطویل ہو گئی ہے
اور سورج طلوع ہونے کا نام نہیں لے رہا
تو تم صبح کی واک
ملتوی کر دینا
اور پورچ کی گُل کی ہوئی بتیاں
پھر سے روشن کر دینا

اور جب تم دیکھو
کہ ہوا ہموار راستوں پر
چلنے سے گھبرانے لگی ہے
اور پہاڑ راتوں رات
اپنی جگہ بدل رہے ہیں
اور درخت جنگلوں سے بھاگ کر
سڑکوں کی اطراف میں پناہ لے رہے ہیں
تو تم کسی بھی وقت
کسی بھی سمت روانہ ہونے کے لیے
سفر کی پوٹلی تیار رکھنا

اور جب تم دیکھو
کہ دنیا ایک نادیدہ وبا میں گِھر چکی ہے
اور جنازوں کی تعداد
پیدا ہونے والوں سے زیادہ ہوتی جا رہی ہے
اور انسان انسان سے مِلتے ہوئے گھبرانے
اور چہرہ چھپانے لگا ہے
اور تنہائی ایک ناگزیر ضرورت بن گئی ہے
تو تم اپنا دروازہ
کبھی نہ آنے والوں کے لیے کھول دینا

اور جب تم دیکھو
کہ بچے تمہاری باتوں سے بور ہونے لگے ہیں
اور تمہارا علم اور تجربہ
ان کے لیے بےکار ہوتا جا رہا ہے
تو تم ان کے درمیان سے اٹھ جانا
اور پرانی پڑھی ہوئی کتابیں
پھر سے پڑھنے لگ جانا

اور جب تم دیکھو
کہ سچ کا پکوان چکھتے ہوئے
دستر خوان پر خاموشی چھا جاتی ہے
اور جھوٹ کا ذائقہ
سب کو اچھا لگنے لگا ہے
تو تم انگلیاں چاٹنے سے گریز کرنا
مبادا تمہاری شناخت کے نشان معدوم ہو جائیں
اور بائیو میٹرک تصدیق نہ ہو سکنے پر
تم اپنے ہی ملک میں اجنبی قرار دے دیے جاؤ

اور جب تم دیکھو
کہ زندگی میں محبت کم
اور کھانے پینے کی چیزیں وافر ہو گئی ہیں
تو تم اپنے کتابوں سے بھرے کمرے میں
عین کھڑکی کے سامنے
بستر پر نیم دراز ہو کر
منع کیا گیا مشروب پیتے،
موسیقی سنتے
اور دل ہی دل میں
نہ لکھی جا سکنے والی نظمیں دہراتے ہوئے
ایک آرام دہ موت کا انتظار کرنا
سنا ہے وہ اپنے سچے طالب کو
کبھی دغا نہیں دیتی!
Image: Aleister Crowley

Categories
شاعری

دروازوں کی خود کُشی اور دوسری نظمیں (تبسم ضیا)

دروازوں کی خود کُشی

دروازے کیا ہوتے ہیں؟
کیا دروازے باہر جانے کے لیے ہیں؟
یا صرف اندر آنے کے لیے؟
دروازوں کا درست مصرف سمجھنے سے
فلسفی قاصر رہے

ہم تمام عمر
ان کی حقیقت سے ناآشنا رہے
ہمیں معلوم نہ ہو سکا
اور دروازے ہمارے اندر سے خارج ہو گئے
یا شاید
اپنے ہی اندر داخل ہو گئے

داخل اور خارج ہونے کی بحث جاری تھی
کہ دروازوں کو دوام بخشا جا سکے
لیکن دروازوں کی خود کشی سے
مداومت کی موت واقع ہو گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلم ڈاگ

گرمیوں کے موسم میں
لالٹین کی آگ سینکتے ہیں
تو ٹھنڈابلب مسکراتا ہے
اور ہماری بے بسی پر منہ چڑاتا ہے

بہت سی ہڈیاں
کھال کے تھیلے میں پڑی چبھتی رہتی ہیں
روزانہ کئی کتے
فوڈ سٹریٹ میں
خوراک کی تلاش میں مصروف
کچرے کے ڈھیر پہ
ایک دوسرے پر غراتے ہیں

زمین کے بالوں میں کنگھی کرتی
گرم سرد ہوائیں
خیالوں کی پرانی دیگ میں باس مارتے خواب
کولہوں کی بھٹی کے پاس جلتا سرد خون
آہیں بھرتی پیروں میں بکھری سسکیاں
انجان سڑک پہ اُدھڑاپڑالاوارث پیٹ
جسے اجنبی شعبدہ باز
ہنسی کی ٹھوکریں مار کر گزر جاتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مالوف کی اولادِ بائن

اس کا نام ہم نے پیدائش سے پہلے ہی رکھ لیا تھا
میں جانتا تھا،
پیدائش کے وقت میں اسے مل نہیں سکوں گا کہ کوئی ہماری شکلوں میں مماثلت پیدا نہ کرلے
میں چاہتا تھا،
وہ اپنے ہاتھوں سے مجھے میرا دوسرا جنم تھمائے

میں نے یونہی ایک دن اس سے پوچھاکہ اس کی پیدائش پہ مجھے کیا تحفہ دو گی
کہنے لگی
سونے میں تول دوں گی
میں نے اپنے تھوک والا ہاتھ اس کے پیٹ پر لگایا
اور چل دیا

کوئی چند ماہ مجھے پکارتے رہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خود رُسوا

میرے دل میں اُگتی پیار کی فصل کو
جب لو گوں کی نفرت کے فضلے کی کھاد ملی
تو سِٹے چمک کر سونا ہو گئے
پھر وہی فصل کاٹنے کا وقت آیاتو میرے خلوص کی درانتی کُند ہو گئی
اور دل شکم کے آنسووں سے بھر آیا

درانتی خوب چلائی گئی لیکن فصل نہ کٹی
میرے ہاتھوں پر کیچڑ لگا ہوا تھا
سٹے نیلے ہو چکے تھے

محبت نے خلوص کے ساتھ نیّت کو اٹھا کر نفرت کے فضلے پہ پٹخ ڈالا
اور درد نے محبت کے اُپلے ناف پر تھاپنا شروع کر دیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روح سے لپٹا پیاسا کوا

روح سے لپٹے پیاسے کوّے نے پیاس بجھانے کویہاں وہاں دیکھا
ایک مٹکے پہ نظر پڑی تو اس کے کنارے جا بیٹھا
معلوم ہوا۔۔۔ کنارہ ، کنارہ نہیں

پانی بہت دور تھا
قریب لانے کو کنکر ڈالے تو پانی ان میں رستا نظر آیا
گویا موت نظر آئی
کوّے نے شیطان کو دوست کیا
اور اپنے رونگٹے پانی کے مساموں میں اتار دیئے
پانی ان میں چڑھنا شروع ہو ا
نئی زندگی کے پہلے لفظ نے ہاتھ بڑھا کر
موت کے آخری حرف کو تھاما
اور ایک نیا جملہ وجود میں آیا
کائیں کائیں۔۔۔کائیں کائیں۔۔۔

Categories
شاعری

ہمیں بھول جانا چاہیئے (افضال احمد سید)

اس اینٹ کو بھول جانا چاہیئے
جس کے نیچے ہمارے گھر کی چابی ہے
جو ایک خواب میں ٹوٹ گیا

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس بوسے کو
جو مچھلی کے کانٹے کی طرح ہمارے گلے میں پھنس گیا
اور نہیں نکلتا

اس زرد رنگ کو بھول جانا چاہئے
جو سورج مکھی سے علیحدہ کر دیا گیا
جب ہم اپنی دوپہر کا بیان کر رہے تھے

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس آدمی کو
جو اپنے فاقے پر
لوہے کی چادریں بچھاتا ہے

اس لڑکی کو بھول جانا چاہیئے
جو وقت کو
دواؤں کی شیشوں میں بند کرتی ہے

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس ملبے سے
جس کا نام دل ہے
کسی کو زندہ نکالا جا سکتا ہے

ہمیں کچھ لفظوں کو بالکل بھول جانا چاہئے
مثلاً
بنی نوع انسان
ٰImage: stacey Friedman

Categories
شاعری

فرق کی موت (حسین عابد)

زندگی اور موت میں
ایک سانس کا فرق ہے
ایک سوچ کا

سانس
اکھڑ سکتی ہے
انکاری دل کی دہلیز پر
پس سکتی ہے آخری دانے کی طرح
روزمرہ کی چکی میں
ضبط ہو سکتی ہے ہیرے کی طرح
بحقِ سرکار
چھلنی ہوسکتی ہے
سستے مذاق کی طرح
امپورٹڈ مشین گن کے قہقہے سے

سوچ
بدل سکتی ہے
صحن میں گرتی پکی جامنیں، آم کا بُور، شام کی بارش، چھاتی میں اڑتی تازہ محبت کی تتلیاں، شانے اور گردن کے بیچ دہکتا بوسہ، رانوں میں مہکتا نمو کا بیج، رنگوں سے اٹے بازار، اینٹ سیمنٹ کا عہدِ وفا، بھٹی میں ڈھلے فولاد کا غرور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نظر کے واہمے میں
سرائے میں، امتحان گاہ میں، حیات بعد از موت کی تیاری کے اکھاڑے میں
خدا کے جوتے کی نوک پر دھرے ذرے میں

وحشت
اس فرق کی موت ہے
اور موت کی زندگی
Image: Gustav Klimt

Categories
شاعری

بہترین/ بدترین وقت (ایچ – بی- بلوچ)

ہمارے
بہترین وقت میں
ہم سے وعدے لیے جاتے ہیں
اور ہمارے
برے دنوں میں
ہمارا مذاق اڑایا جاتا ہے

ہمارے برے دنوں میں
ہمارے بادشاہ بننے کا انتخاب کیا جاتا ہے
اور ہماری
بگیوں میں گھوڑے باندھے جاتے ہیں
ایک شہزادی کو
انتظار میں بوڑھا کر دیا جاتا ہے

ہماری سانسوں میں پتھر باندھ کر
ہمارے قریبی دوستوں سے
ہماری سزا کا امتحان لیا جاتا ہے
ہم برے دنوں میں محبت کرتے
اور اچھے دنوں میں لڑتے ہیں

جبکہ ہمارے
بہترین وقت میں
بڑے تحمل سے
ووٹ کے لیے درست آدمی سے ملایا جاتا ہے

یا بلند آواز میں
ہمیں ہمارے نام سے پکارا جاتا ہے
اور ہم سے
ہماری آخری خواہش پوچھی جاتی ہے.!
Image: Banksy