Categories
شاعری

پاروتی کا نیل کنٹھ (ثروت زہرا)

میں نے دھیرے دھیرے
خواب کی ایک ایک گانٹھ کھولی
اور اس ڈوری کو اپنی گردن پر لپیٹ لیا
میں نے آہستہ آہستہ
تمنا کی شاخ سبز
زندگی کے مرتبان میں ڈال کر
اس کی شاخوں کا لیپ تیار کیا
اور دل کے زخموں پر لگا لیا
میں نے چپکے چپکے
شوق کے رسیلے پھل سے
ایک سانس نچوڑی
اور اپنی پیاس کی کٹوری
۔۔۔۔۔۔ میں انڈیل دی
میں نے سورج کی کرنوں کی حرارت نچوڑی
اور اپنی آنکھوں کے زخمی پپوٹوں کے
درمیان صبح کی خواہش میں دبا لیا
میں نے تمہاری
زلف گرہ گیر سے ایک
نصف دائروی کمان دریافت کی
اور تمہارے دائرے سے باہر نکلنے کا
متحرک زاویہ نکال لیا
Image: Neha Kapil

Categories
شاعری

ورثہ (ثروت زہرا)

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”1/2″][vc_column_text css_animation=”” css=”.vc_custom_1475943083005{background-color: #e0e0e0 !important;}”]

 

Heritage

Life was bequeathed a love of mirrors
And mirrors hold her love’s reflections.

Life will ever gaze at reflections,
Will ever kiss Love’s frozen shapes.

Smash the mirrors to touch Love’s warmth!
But Life was bequeathed a love of mirrors.

Translation: Dr. Rizwan Ali

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/2″][vc_column_text css=”.vc_custom_1475944594720{background-color: #ddc090 !important;}”]

ورثہ

 

زندگی کو آئینوں سے محبت 
ورثے میں ملی ہے 
اور آئینے میں اس کی محبوب کا عکس 
منجمد کردیا گیا ہے 
زندگی عکس کو دیکھ سکے گی 
عکس کے منجمد زاویوں پر 
اپنے ہونٹ رکھ سکے گی 
مگراپنے محبوب کی حرارتوں کو 
چھونے کے لئے ،
اسے آئینے کو توڑنا پڑے گا 
لیکن زندگی کو تو 
آئینوں سے محبت ورثے میں ملی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”1/1″][vc_column_text css_animation=””]
Image: christian schloe[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

خلا میں لڑھکتی زمین

زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے
خلا
اپنی برفاب وسعتوں میں
زمانے اگلتا ہوا چل رہا ہے
سفر
زاویوں کی پناہوں میں بیٹھا ہوا
خواب میں ڈھل رہا ہے
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے
ہوا
اپنی سانسوں کے بارود میں
خواہشوں کو الٹتی ہوئی بہہ رہی ہے
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے

سمندر کی خوں خوار لہریں
سفر در سفر خوف پہنے ہوئے
بھاگتی جا رہی ہیں
کبھی چاند کے
اور کبھی
سورج کے جلتے ہوئے جسموں کو پی کے
کئی رنگ پھیلا رہی ہیں
زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے

Categories
شاعری

پلکوں پر افلاک

پلکوں پر افلاک کا
بھاری بوجھ اُٹھایا
خوابوں کی سر سبز یری
کو ہندسوں کا سُرتال سکھایا
بے حرکت ہی
پچھلے اگلے
سارے زمانے
ایڑی کی نیچے لے آیا
آسماں کی سات تہوں تک
راز زماں کے کھود کے لایا
بے جنبش ہی
بلیک ہول تک
سارے مداروں
اور لہروں کو عقل کی حد میں
کھنیچ کے لایا
ایٹم تک ہر اک مومینٹم
اس کی مایا
دھرتی کی پھر گود سمایا
دھرتی کے جادو کا جایا

Categories
شاعری

مجھے تم سے محبت ہے

مجھے تمہارے اس دل سے محبت ہے
جو کبوتر کے نرم پروں جتنا نرم محسوس ہو رہا ہے

مجھے تماری سماعتوں سے محبت ہے
جو ہزار گدلے خیالات کے دریاؤں کو
سمندروں کی طرح خود میں جگہ دے کے تازہ دم کردیتی ہے

مجھے تمہاری ان پتلیوں سے محبت ہے
جو زندگی کے دو شفاف محدب عدسوں کے
پیچھے سے دکھوں کا
ان کے جذیات تک پیچھا کرتی ہیں۔
مجھے تمہارے نیوران کے ان سارے دھاگوں سے محبت ہے
جو ٹوٹے وقت کے تاروں کو
پھر سے جوڑنے کا ہنر جانتے ہیں

مجھے تمہاری آواز کی مدھرتا سے محبت ہے
جو وقت کے جلتے تو ے پر پانی کے چھینٹوں کی سی آواز بن کر گر رہی ہے

مجھے تمہارے خاموش صوتی وقفوں سے
محبت ہے
جو تنہائی میں راگ الانپنا جانتے ہیں
مجھے تمہاری انگلیوں کی پوروں سے محبت ہے
جو تھاپ کے کسی ارتعاش سے بہت پہلے
مجھے رقص پہ آمادہ کرلیتی ہیں
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

معیشت کی رسی

معیشت کی رسی سے
یہ راتبِ شوق کھنچا گیا ہے

فصیلوں کے گارے سے
خواہش کی اینٹوں سے
سب منزلوں اور
رستوں کو پاٹا گیا ہے
نگاہِ سخن تیرے آگے
حقیقت کی اندھی سحر
چن چکی ہے
ضمیر طلب ۔۔۔۔۔
تیری خواہش
ضرورت کی اوندھی بصیرت سے
باندھی
گئی ہے
میں اس شہر کی بستیوں اور
سڑکوں پہ دل کی معیشت کی
رسی سے کھینچی گئی ہوں
Image: Debbie Turner Chavers

Categories
شاعری

ہوائیں حاملہ ہیں

کہیں دو حرف ملنے کی صدا
اڑتی فضاؤں نے
چرالی تھی
مگر اب ساتھ اڑتی
تتلیوں سے اور پرندوں سے
نگاہیں چراتی ہیں
بہاروں میں بھی اب وہ
کتنا ہولے ہولے چلتی ہیں
انہیں اب اپنی ہیئت
اپنی حالت پر
بہت تشویش ہے کیونکہ
ہوائیں حاملہ ہیں
مرے کانوں میں
ان کے درد کی آواز گونجے جارہی ہے
وہ میرے درپہ دستک دے رہی ہیں
انہیں میری ضرورت ہے
مگر خاموش ہوں میں
اور میرے شہر کے سارے مسیحاؤں نے بھی
چپ سادھ رکھی ہے
مگر ہم سب اسی کی فکر میں ہیں
اور ہمیں اب خوف ہے کہ
اس نئی دنیا کی زچگی سے
ہمارے شہر کا کیا کچھ لٹے گا؟
ہمارے شہر کو کیا کچھ ملے گا؟
 
Image: Yves Tanguy

 

Categories
شاعری

من و تو

تمہارے بازوؤں کے گھیروں میں

آ جانے کے بعد

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے

جیسے سردیوں میں گھاس کی لمبی لمبی ڈالیاں

ہوا میں پلکو رے لینے لگی ہوں

جیسے سمندر کی سطح پر

ہوائیں پانی کے ساتھ کوئی کھیل کھیلنے لگی ہوں

جیسے آسماں پر قوس و قزح کا

رنگدار دائروی جھولا ڈال کر

کائنات پینگیں لے رہی ہو

جیسے کوئی سبز ڈال

اپنے آخری سرے پہ

پھولوں کی بے خوابی سمیٹ

کر اپنے حسن کے زعم میں لچکا رہی ہو

تمہارے گھیروں میں آ جانے کے بعد

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے

جیسے پوری کائنات

مجھ میں سما رہی ہو

Image: James R Eads

Categories
شاعری

انٹیروگیشن …!!!

نام کیا ہے ترا ؟؟
زندگی !!
چپ کے اس شہر میں
زندگی جرم ہے
تم پہ اس زندگی کی دفعہ لگتی ہے
کام کیا ہے ترا ؟؟
بندگی !!
اس گناہوں کے بیوپار میں
میرے تھانے کے ہر کوچہ و بازار میں
بندگی جرم ہے
تم پہ اس بندگی کی دفعہ لگتی ہے
گھر کہاں ہے تیرا ؟؟
یہ سڑک یہ گلی !!
تو ذرا دیکھ تو
جسم پر یہ تیرے
خواب کے کتنے مہلک جراثیم ہیں
تو تو ان کو گرا کر چلا جائے گا
اور پھر میونسپلٹی کے آنے تلک
شہر میں یہ وبا پھیل بھی سکتی ہے
تم پہ اک خواب کو بانٹنے کی دفعہ لگتی ہے
آنکھ کے روزنوں میں چھپاتا ہے کیا ؟؟
جی ________وہ ہے روشنی !!
اوہ —-اچھا تو تو چور ہے
تم نے سورج سے کیوں روشنی چوری کی
تم پر دن لوٹنے کی دفعہ لگتی ہے
تم کو اب وقت کی ہتھکڑی لگتی ہے

Image: Fadia Affash

Categories
شاعری

وقت کا نوحہ

میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے
صحن میں دُھواں پھیلتا جا رہا ہے
گھروں کی چلمنوں سے اُس پار
باہر بیٹھی ہَوا رو رہی ہے
نظام سقّہ پیاس کی اوک کے سامنے
سبیل لگائے ہوئے العطش بانٹتا ہے

زمانہ پیاس کے نوحے پر
ماتمی دف بجا رہا ہے
ڈبلیو ٹی او اناج کی گٹھریوں پہ بیٹھی
بھوکوں کو امن کے حروف سے بھری
پلیٹ دے رہی ہے
یو این او کی آنکھ کے کناروں کی جنبشوں سے دنیا
کپکپا رہی ہے

ماں؟؟؟
مامتا کو ہنسی آ رہی ہے
دودھ کی جگہ چھاتیوں میں
نظریے اور فلسفے گھولے جا رہے ہیں
وقت کی ڈور پر جھولتے بچوں سے
جھولنے کے اوقات چھینے جا رہے ہیں
بارود، بم، میزائل اور دھماکے
دھرتی کی کوکھ میں دھکیلے جا رہے ہیں

Image: Banksy

Categories
شاعری

منی پلانٹ

پرائے اجنبی آنگن میں
ڈالر اور درہم کے لیے
سینچا گیا ہوں
یہ مرے سبزے کی خوبی تھی
جبھی تو مجھ کو دھرتی سے
نکالا مل گیا تھا
اور اب اس اجنبی بوتل میں
میرے سبز رہنے کے ہنر کو
آزمایا جا رہا ہے

مرے اپنے وطن کی خاک سے
مجھ کو بچایا جارہا ہے
چھپایا جارہا ہے
مجھے ویران کرکے گھر سجایا جارہا ہے
غلامی اور تنہائی
مرے اس فن کا نذرانہ
روپیا میرے جینے کا بہانہ
پرائے اجنبی آنگن میں
ڈالر اور درہم کے لیے
سینچا گیا ہوں

Categories
شاعری

جنت اور جہنم کے درمیان کی لکیر

رتھ فاؤ
کاش تم نے
کوڑھی دماغوں کے
علاج کے لیے بھی کوئی نسخئہ اکسیر
تجویز کردیا ہوتا
رتھ فاؤ
برص کے سفید داغوں جیسے
احساس سے عاری ،
یہ دل و دماغ
تمھارے پیار کی خوشبو تو لنے کے لیے
خدائی نام کےبا ٹ اور ترازوں
تھامے ہوئےبازار تک آگئے ہیں
رتھ فاؤ
زخمی ہاتھ پیر کی مرہم پٹی کرنے
میں تم اتنی مشغول تھیں
کہ ان کے شعور کی جراثیم زدہ رطوبت
تمہارے علاج سے بچ گئی تھی

رتھ فاؤ
تمہیں تو ڈراونی شکلوں سے خوف نہیں آتا
مگر مجھے ان کے تحلیل شدہ،
جھڑتے ہوئے متعصب نظریوں کے فضا میں پھیلنے سے
خوف آ رہا ہے
رتھ فاؤ! مگر مجھے معلوم ہے
یہ سب لوگ جنت اور جہنم کے درمیان کی
لکیریں ٹاپتے ٹاپتے،
دیکھتے رہ جائیں گے
اور تم ابد تلک تخت خداوندی
کے طلسماتی جلو میں جھلملاتی رہو گی

Categories
شاعری

ایک اور فتح کے بعد

بموں اور گولیوں سے
مری دھرتی اب نئی دنیا اگائے گی
ہوا
مردہ گلے جسموں کی بو میں
لڑکھڑائے گی
ڈری سہمی ہوئی مائیں
اب اپنے وقت سے پہلے
زمانے جننا سیکھیں گی
کھلی آنکھوں میں حیرانی سمیٹے
میرے بچے
پہلی بولی، درد سے آہوں سے
اور چیخوں سے سیکھیں گے
بلیک آؤٹ میں بیٹھے
ایڈیسن کو شکریے کی میل بھیجیں گے
عقوبت خانوں میں بے داغ جسموں پر
زمانے چڑھ گئے تو کیا
ہم ایور یوتھ کریموں سے
ہر اک سلوٹ چھپالیں گے
کلوننگ کے لئے خلئے ملیں گے
فرد ہم پھر سے بنالیں گے
زمین یہ بجھ گئی تو کیا
نئے سیارے پر جاکے
نئی دنیا بسا لیں گے

Categories
شاعری

خاتون خانہ

میں اپنی اولاد کے لئے
دودھ کی ایک بوتل
اپنے صاحب کے لئے تسکین
گھر کے لیے مشین
اور اپنے لیے
ایک آہٹ بن کے رہ گئی ہوں
میرا گھر
جہاں مجھے رات اور دن
انتظار کے دہکتے ہوئے لمس
لپیٹ کر سونا پڑرہا ہے
خیال کی ادھ سلی باس سے
کلائیوں کے گجرے گوندھ کر
سنگھار کرنا پڑرہا ہے
تنہائیوں کے سوال
ہونٹ کی سرخیوں کی
تہوں میں دبا کر
الوداعی بوسوں کا
جواب سہنا پڑرہا ہے
خموش ٹٹولتی ہوئی
پتلیاں، کاجلوں کی لکیروں کی جگہ
سجا کر آنسوؤں کے درمیان
ہنسنا پڑرہا ہے
میرا گھر جہاں مجھے اشیاء صرف کی طرح
رہنا پڑرہا ہے

Image: Shadi Ghadiran

Categories
شاعری

انٹرنیٹ استھان کی ملکہ

انٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ !
مخمل سی پوروں سے کتنے روز بنو گی؟
خواب کی ریکھا
رنگ رنگیلے بیر بہوٹی جیسے لفظوں کی انگنائی
جلتی بجھتی تصویروں کی خواب سرائی
ثابت انگوروں کے دانوں جیسی
دنیا کی یہ ہوش ربائی
تنہائی کی گاگر سے پھر لمحہ چھلکا
انٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ !

دور کسی کیفے میں بیٹھے
خواہش اور محبت کے یہ اجلے سائن
یہ جلتے ہونٹوں کے خط،
یہ ہنسنا رونا
سب کچھ آدھا سچ ہے
آدھے سچ میں ڈوب مرو گی
گورکھ دھندا بس اک پل کا
انٹر نیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ !
چیٹنگ روم میں
سرد دلوں کے رش میں گھٹتی سانسیں
انسانوں کے چہرے پہنے
جذبے کھائیں روح چبائیں
تنہائی کے روپ رنگیلے رقص دکھائیں
حرفوں کے بجھتے انگارے
کتنے دن تک اور چنو گی؟
پیاس تو مانگے رستہ جل کا
انٹرنیٹ استھان پہ بیٹھی خواب کی ملکہ!