خشک نمیعاصم بخشی: تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے تو جب آئے گی، گھٹا چھائے گی، بارش ہو گی