Categories
شاعری

تنہا رہنے کا موسم اور دیگر نظمیں (اویس سجاد)

تنہا رہنے کا موسم

میرے پاس ممنوعہ راتوں میں دیکھے گئے چند خواب ہیں
مگر تعبیر بتانے والا بوڑھا خودکشی کرچکا ہے
میرے اچھے اور برے دنوں کا خدا
پچھلے کئی دنوں سے لاپتہ ہے
اب میں اپنے باپ کو
اپنا خدا مانتا ہوں
میرے پاس گزرے موسم کے آنسو ہیں
جو مزید کچھ دن ٹھہرنا چاہتا تھا
مگر اسے ایک خطرناک وبا نگل گئی
میرے پاس سُروں سے خالی گیت ہیں
جن کو کوئی بھی فنکار
اپنے البم کا حصہ نہیں بنائے گا
میرے پاس گول باغ* کے مرکزی گیٹ پر بیٹھے
ایک خطرناک چوکیدار جیسا غصہ ہے
جو کبھی بھی ایکسپائر نہیں ہو گا
میرے پاس گاؤں کے لوہار جیسا دکھ ہے
جس نے کسانوں کے لیے
بیساکھی پر نئی درانتیاں بنائیں
مگر ایک رات فصلوں کو اجاڑ دیا گیا
میرے پاس کئی ٹوٹی پھوٹی نظمیں ہیں
جن میں کچھ عورتوں کے ساتھ
اندھیرے میں کی گئی محبت کے لمحے محفوظ ہیں
میرے پاس خوش کن اداسی ہے
جو قرنطینہ کے دنوں میں
ایک فرشتہ میرے سرہانے رکھ کر بھول گیا تھا

میرے پاس سب کچھ ہے
سوائے نایاب ہوتے قہقہوں کے
جو میں چرا لوں گا
کسی تابوت بنانے والے سے
یا اس بوڑھے سے جو ہمیشہ مہنگی سگریٹ پیتا ہے
ہو سکتا ہے میں مکمل ہو جاؤں

خواب میں جاگتی آنکھیں

میں ایک ایسے شہر میں زندہ ہوں
جہاں روز سانحے ہوتے ہیں
کیونکہ کچھ لوگوں کو دہشت زدہ فضا پسند ہے
جہاں گونگی سڑک پر
اندھی گاڑیاں خوفناک آوازیں نکالتی ہیں
ان سے خوفزدہ ہو کر
ہیجڑوں کا ایک گروہ خودکشی کر لیتا ہے
میں کھڑکی سے دیکھتا ہوں
اس پیشہ ور طوائف کو
جس کے پستانوں کا سائز بڑھ چکا ہے
اب وہ اپنی بیٹی کو
نئے گاہک سے ملوانے آئی ہے
میں دیکھ سکتا ہوں
سڑک کے دوسری طرف واقع اس قبرستان کو
جہاں بوڑھا گورگن
ایک بوسیدہ قبر کے سرہانے
کدال پر سر جھکائے
آنسو بہا رہا ہے
اچانک پرکھوں کا ہجوم گزرتا ہے
جو اپنے حصے کے خدا کے خلاف
دوسرے جنم میں مذاکرات کے لیے نعرے لگاتا ہے
اچانک میں خواب سے باہر آتا ہوں
مجھے رات کے دوسرے پہر کا وعدہ یاد آتا ہے
کوئی میرا انتظار کررہا ہوگا
میں اوورکوٹ پہنے گھر سے نکل آیا ہوں
مگر مجھے معلوم ہے
آخری لوکل بس بھی جا چکی ہو گی

میں سب کچھ دیکھ رہا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب ایک بوڑھا فقیر
اپنے گناہوں کا ٹوکرا اٹھائے
جہنم کا ٹکٹ لے رہا تھا
تو لوگ چپکے سے
اس کے کاسے میں
اپنے غم ڈال رہے تھے

میں دیکھ رہا تھا
جب تم اپنی زندگی کی معیاد بڑھانے
خدا کے پاس گئے تھے
تو فرشتوں نے تمہیں بھگا دیا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب تمھارا سابقہ بوائے فرینڈ
گردن سے نیچے
تمھارے بوسے لے رہا تھا
تو تم نے کچھ دیر اپنی شرم کو
بیگ میں چھپا لیا تھا

میں دیکھ رہا تھا
جب بوڑھا فنکار
مجھے تخلیق کر رہا تھا
وہ اپنے حصے کا کام چھوڑ کر
میرے حصے کے ادھورے خواب
جو شہر کی اندھی سڑکوں پر بکھرے تھے
انہیں سمیٹنے نکل گیا

میں مسلسل دیکھ رہا ہوں
بوڑھا فنکار ایک مدت سے لوٹ کر نہیں آیا

Categories
شاعری

ادنیٰ (افتخاری بخاری)

کیا تم جاننا چاہو گے
ادنیٰ ہونے کا مطلب؟
تو سنو!

یہ ایسے ہے
جیسے گھنٹوں قطار میں انتظار کے بعد
تم کھڑکی کے قریب پہنچو
اور ایک پُر رعونت بوڑھا
چھڑی کے اشارے سے
تمہیں ایک جانب ہٹا دے

جیسے پولیس والا تمہیں بھیڑ میں سونگھ کر الگ کرے
اور جامہ تلاشی پر دس کا نوٹ بھی برآمد نہ ہونے پر گالی دے کر چلتا کرے

جیسے معالج تمہارے معائنے سے قبل
اپنے ملازم سے پوچھے
دو ہزار ہیں اِس کے پاس؟

کیا تم نے کبھی کہا
” جناب ! بہت شکریہ ”
ایسی چائے کی پیالی کے لیے
جس میں مکھی گر گئی ہو؟

اگر اب بھی نہیں سمجھے
تو پھر یہ ایسے ہے
جیسے تمہارا مالک تمہیں گاڑی کا تیل بدلوانے بھیجے
جب تمہاری بیوی اکیلی ہو
اُس کے گھر میں
جھاڑ پونچھ میں لگی ہوئی

تمہیں برا لگا نا!
میں بھول گیا
تم دولت مند ہو
عزّت دار ہو
معافی چاہتا ہوں
مگر کوئی اور الفاظ
میری سمجھ میں نہیں آئے
سمجھانے کے لیے

Categories
شاعری

وہ برسوں سے ایک خواب دیکھ رہا ہے

لوگ نیند میں
خواب دیکھتے ہیں
وہ جاگتے میں
سونے سے پہلے
ہر روز ایک خواب دیکھنا شروع کرتا ہے
یہ ایک طویل اور مسلسل خواب ہے
جو روز وہیں سے شروع ہوتا ہے
جہاں پچھلی رات ختم ہوا تھا
وہ ایک ہی وقت میں
دو جگہوں پر
دو طریقوں سے
زندگی بسر کر رہا ہے

Image: Kim Daehyun

Categories
شاعری

چورن

چورن

زندگی جس چوک پر زور و شور سے
لگی ہوئی، پھٹی پڑی ہوئی ہے
اس طرف جانے کی گلی نہیں ہے
وہاں زندگی شیشوں میں کھڑی ہے
الیکٹران اور فوٹان نے جنی ہے
ان میں ہمارے عکس گلے ملتے ہیں
پھر واپس اندر آکر بیٹھ جاتے ہیں

ویسے بھی
یہ زمین
یہ نیم گرم پتھر
بنتِ مہاتما کنکر
ایک دھماکے میں لٹکی ہے
سلو موشن میں چلتی ہے
جیسے کوئی متعجب ماں کھڑی ہے
مادر خور بچہ جن کر

اس پر پھرتا ہے
میرا اور تمہارا
آدمی کی شکل کا آدمی
آدمی کا دھبہ آدمی
جو زندگی کی طرح کی
ایک اور چیز جی رہا ہے

میرے اور میرے واقعہ کے درمیان
واقعہ کی تصویر کھڑی ہے
تصویر نے مصّور کو گھڑا ہے
مصّور تصویر کی دائی تھی پچھلے جنم میں
تصویر کے سامنے
آدمی کی شکل کا آدمی کھڑا ہے
تھو! تھو! کا مجسمہ کھڑا ہے
آدھا تیتر اور باقی
گیدڑ کھا گیا بٹیر
معاملہ بہت بکھرا ہوا ہے

ہر کوئی زندگی میں بھرتی ہو رہا ہے
دھرتی دھرتی بھرتی ہو رہا ہے
زندگی ڈکار مار کر، وحشی
جس چوک میں کھڑی ہے
اس طرف جانے کی گلی
شاہراہ بن گئی ہے
آئینے کو بولو
عظیم عفریت
السلام علیکم

چودہ ارب سال
مجھے پتہ چلنے سے پہلے
ایک لمحے میں گزرے ہیں
میں اور تم
اب دوسرا لمحہ ہیں
ہم دیواریں ہیں
لمحہِ دھڑام میں بند
اپنے انتظام میں بند

اور چودہ ارب سال گز لمبی
ایک ڈوری
میرے بھی پاؤں میں بندھی ہے
اور میں ایک دھماکے میں کھڑا ہوں
تم بھی وہاں اپنے دماغ کے اندر
کسی ایسی ہی جگہ کھڑے ہو؟

ہماری آنکھیں
جدی پشتی حیرت کی ماری
ہانپتی کانپتی
سستی ہو گئی ہیں
کیونکہ کائنات کا مقصد ہے
شاید چیزوں کا سستا ہو جانا

ہم گونجتے ہوئے لوگ
نہیںِ مجسم
ہم وہ بیمار راتیں بن گئی ہیں
جو اپنے چاند کو پناڈول کی طرح
غٹک جاتی ہیں
پھر اندھیرے کو کھا جاتی ہیں
اکیلی رہ جاتی ہیں

خالقِ سانسِ اول
گوشت کی اماں پتھر بزرگ
جیسے کوئی جیم کھڑا ہے
اپنے باغی نقطہ کو
محبّت سے گھیرے میں لے کر

جیسے رات ساڑھے گیارہ بجے
چھوٹے چھوٹے جیم
چھوٹے چھوٹے اکیلے پن میں
ٹریفک میں پھنسے
اپنی ہی گاڑیوں کے نرغے میں
چپ بیٹھے ہوئے ہیں

Categories
شاعری

میری زندگی کا شیزوفرینیا

میری زندگی کا شیزوفرینیا
مجھے مسلسل ایک جیسی زندگی گزارنے نہیں دیتا
ایک ایسی زندگی
جس میں میں چاہوں تو
لوگوں کو جوتے کی نوک پر رکھوں
سب سے ملنا چھوڑ دوں
سچ بول بول کر لوگوں سے تعلقات توڑ لوں
نظموں کی برسات میں بیٹھی بھیگتی رہوں

لیکن افسوس
میری زندگی کا شیزوفرینیا
ناقابل یقین انداز سے
غائب کر دیتا ہے
ہر لمحے میں چھپی بے شمار نظمیں
اور مجبور کر دیتا ہے مجھے
اپنی کہی باتوں پر شرمندہ ہونے کے لیے
ایک طویل بے حد طویل عرصے تک کے لیے
حتیٰ کہ ناامیدی قدم اکھاڑنے کے قریب ہوتی ہے
تو مجھے بچانے کے لیے
زندگی لے لیتی ہے
ایک شیزوفرینک کروٹ

Image: Henrietta Harris

Categories
شاعری

محبت کے بغیر ایک نظم

محبت کے بغیر ایک نظم
بے وصل موسموں میں
بادلوں پر حاشیہ نہیں لگایا جا سکتا
اور بارشوں میں
کاغذ کی نظمیں نہیں لکھی جا سکتیں

بدن کا لباس پہنے بغیر
روح کو چھپانا
اور محبت کے بدون
دھوپ اور چھاؤں کو ایک ساتھ اوڑھنا ممکن نہیں

نقادوں کے قلم رو میں
پیدا ہوتے ہی
نظم کے سینے میں
اصطلاحات کا خنجر گھونپ دیا جاتا ہے
مصنوعی علامتوں اور استعاروں کے نام پر
ریت کے ایک ذرے کو صحرائے کبیر
درخت کو گوتم،
کھمبے کو خدا
اور گھونسلے کو پستان بنا کر
معنی کا سر قلم کر دیا جاتا ہے

سچ ہے
آسمان سے سفارتی تعلقات استوار کیے بِن
شاعری ہو سکتی ہے
نہ زمین پر رینگنے کے حقوق مِلتے ہیں!
Categories
شاعری

ایک پتھر خواب کا المیہ

ایک پتھر خواب کا المیہ
مٹی کا ذرا
ہمیشہ مٹی کا ہی رہتا ہے

پانی کا قطرہ
لاکھ چاہے اسے گوندھے
اسے پتھر نہیں بنا سکتا

نہ ہی پتھر کی باڑیں
اپنی کوکھ میں
کسی دریا کو ٹھہرا سکتی ہیں

پتھر اور دریا
اپنے طرف میں دو الگ چیزیں ہیں
مگر جانے کیسے
اور کب سے
آنکھ کے دو بوند پانی نے
اک خواب کو پتھر بنایا ہوا ہے
Categories
شاعری

ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے

ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے
بددعا ہے
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے
گھروں میں اترتی اذانوں میں
حکم سزا ہے
سنو بددعا ہے
ہمارے لیے صبح کے ہونٹ پر بددعا ہے
سنو ہم نے شب بھر
اسے یاد رکھا
اندھیرے کی دیورار کے سرد سینے سے لگ کر
اسے اپنے دل کے افق سے صدا دی
کبھی اپنی سانسوں کے دکھ میں پکارا
دلاسوں کی دہلیز پر
ٹوٹے خوابوں کی دھجیاں
رات بھر جاگنے کا صلہ ہیں
سنو شہر والو
کہاں ہے ہمارے لہو کی بشارت
ہمارے پراسرار خوابوں کا موسم
جسے ہم نے بچوں کی پلکوں سے سینچا
جسے ماؤں کی التجاؤں سے مانگا
ہمارا مقدر
ہواؤں میں اڑتا ہوا
موت کا ذائقہ ہے
Categories
شاعری

ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی
وقت تشدد کی چوکڑی بھرتا ہوا
ہمارے بیچوں بیچ سے نکل جاتا ہے
کبھی ہمارے دو ٹکڑے کرتا ہوا
کبھی ہمیں گھسیٹتا ہوا
کسی ایسی جگہ پھینک کر چلا جاتا ہے
جہاں ہم کبھی نہیں گئے
کبھی نہیں گئے
شاید ان خوابوں میں
جو ہمیشہ نیند سے چمٹے ہوئے ہیں
اور ہماری آنکھوں کو کھلنے نہیں دیتے
ہمیں کروٹ بدلنے کی مہلت بھی نہیں ملتی

Image: Daehyun Kim

Categories
شاعری

شاعری میں نے ایجاد کی

شاعری میں نے ایجاد کی
کاغذ مراکشیوں نے ایجاد کیا
حروف فونیشیوں نے
شاعری میں نے ایجاد کی

قبر کھودنے والے نے تندور ایجاد کیا
تندور پر قبضہ کرنے والوں نے روٹی کی پرچی بنائی
روٹی لینے والوں نے قطار ایجاد کی
اور مل کر گانا سیکھا

روٹی کی قطار میں جب چیونٹیاں بھی آ کر کھڑی ہو گئیں
تو فاقہ ایجاد ہو گیا

شہتوت بیچنے والے نے ریشم کا کیڑا ایجاد کیا
شاعری نے ریشم سے لڑکیوں کے لیے لباس بنایا
ریشم میں ملبوس لڑکیوں کے لیے کٹنیوں نے محل سرا ایجاد کی
جہاں جا کر انہوں نے ریشم کے کیڑے کا پتا بتا دیا

فاصلے نے گھوڑے کے چار پاؤں ایجاد کیے
تیز رفتاری نے رتھ بنایا

اور جب شکست ایجاد ہوئی
تو مجھے تیز رفتار رتھ کے آگے لٹا دیا گیا

مگر اس وقت تک شاعری محبت کو ایجاد کر چکی تھی

محبت نے دل ایجاد کیا
دل نے خیمہ اور کشتیاں بنائیں
اور دور دراز کے مقامات طے کیے

خواجہ سرا نے مچھلی پکڑنے کا کانٹا ایجاد کیا
اور سوئے ہوئے دل میں چبھو کر بھاگ گیا

دل میں چبھے ہوئے کانٹے کی ڈور تھامنے کے لیے
نیلامی ایجاد ہوئی
اور جبرنے آخری بولی ایجاد کی

میں نے ساری شاعری بیچ کر آگ خریدی
اور جبر کا ہاتھ جلا دیا

Image: Mikhail Vrubel

Categories
شاعری

آپ کا نام پکارا گیا ہے

آپ کا نام پکارا گیا ہے
دھند ہے چاروں طرف پھیلی ہوئی
میں بھی اس دھند کا کمبل اوڑھے
سر کو نیوڑھائے ہوئے بیٹھا ہوں

میں اکیلا ہی نہیں ہوں کہ یہاں اور بھی ہیں
منتظر اپنے بُلاوے کے لیے
لپٹے لپٹائے ہوئے’خود میں
اکیلے، چپ چاپ…….
جامد و ساکت و بے جان بتوں کی مانند
سر کو نیوڑھائے ہوئے بیٹھے ہیں

کچھ سے برسوں کی شناسائی ہے
میرے ہم عمر ہیں، میں جانتا ہوں
برق رفتار تھے سب بادیہ پیمائی میں
میری ہی طرح قدم زن تھے، سبک رو تھے یہ لوگ!
اپنے قد کاٹھ سے آدھے پونے
آج گم صم سے یہاں
صف بہ صف بیٹھے ہیں آنکھیں موندے
خستہ، درماندہ، تھکے ہارے، نڈھال
سانس پھولے ہوئے، بے دم ، ہلکان
میری ہی طرح جفا کش تھے، جیالے تھے یہ لوگ

کہیں پیچھے سے کوئی کندھا ہلاتا ہے مرا
اور تاکید سے کہتا ہے، “حضور اٹھئے تو
آپ کا نام پکارا گیا ہے!”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(اپنی چھیاسویں سالگرہ پر لکھی گئی نظم)

Image: Jan Hartman

Categories
شاعری

ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے

ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ نہیں بھول سکتے
ہم آگ پیتے ہیں
اس لئے ہماری انگلیوں کی ساری پوریں
انگارے لکھ رہی ہیں
ہم حبس کی موت مررہے ہیں
لہذا ہماری انگلیاں
حبس کا ذا ئقہ ہی تحریر کرسکتی ہیں
ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حواس کی ساری سیونوں سے بختہ بخیہ ادھڑ رہے ہیں
ادھڑ چکے ہیں ۔
ہمارے شہروں کی ہر گلی کے نکڑ پر
ایک مذبح خانہ ہے
جہاں بہت سے مشعال
ظہر کی اذان کے ساتھ ذبح کردئیے جا تے ہیں
لا تعداد گدھ
ان مذبح خانوں میں
کچلی ہوئی انگلیوں کو اپنے خونی پنجوں میں دبوچے
نوچ نوچ کے کھاتے ہیں اور خوشی سے
“نعرے لگا تے ہیں “اللہ اکبر
ہم ان کی شکلیں پہچانتے ہیں
ہمیں ان شکلوں کو تصویر کرنا ہے
یہی تو وہ گدھ ہیں جنہوں نے
چودہ سو سال پہلے بھی
اپنے نیزوں کی نوک پر
“اللہ اکبر” کو بلند کرکے
اپنی فتح کا جشن منایا تھا
مذبح خانوں کے بھوکے گدھ
دھت ہیں اپنی وحشت کا جشن منا نے میں
اور شاید اپنا انجام بھول گئے ہیں
مگر ہم ظہر کے وقت سے کیا ہوا وعدہ
نہیں بھول سکتے
حالانکہ ان کی وحشی بھوک نے ہماری انگلیاں چپا لی ہیں
مگرہم کچلی ہوئ انگلیوں سے
حبس کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حبس
مکرکو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکر
اور جھوٹ کو جھوٹ
لکھتے رہیں گے ۔
انہیں نہیں معلوم
گھپ خامشی کا آتش فشاں پھٹنے کی دیر ہے
نہ جانے کتنے مشعال
لاوا بن کے نگل لیں گے ان بھوکے گدھوں
اور وحشی مذبح خانوں کو ۔
Categories
شاعری

اسکیچ اور سایہ

مرد کی آنکھ میں عورت کا اسکیچ ہے
مرد کی آنکھ میں عورت کا اسکیچ ہے
عورت کے دل میں مرد کا سایہ ہے
مرد دیوار چاٹ رہا ہے
عورت سائے میں لیٹی ہوئی ہے
قالین بچھایا جا سکتا ہے
دیوار کو سجایا جا سکتا ہے
کھولتے خون کی خوشبو میٹھی ہوتی ہے
اس کی نیلی روشنی میں/
ایک دوسرے کا سراغ لگایا جا سکتا ہے
سائے کو پھول مار کے جگایا جا سکتا ہے
اور اسکیچ پر غور کرنے کے لیے
برقی چراغ جلایا جا سکتا ہے

Image: Julio Cesar Rodriguez

Categories
شاعری

کوئی ہونا چاہیے

کوئی ہونا چاہیے
آوازوں کے غبارے پھٹتے ہوں جب
چاروں جانب
لایعنیت شفاف زیر جامے میں
ٹھمکے لگاتی، ہونٹ پچکاتی، قہقہہ زن ہو گلی گلی
کوئی ہونا چاہیے
جسے یاد ہو کوئل کی کُوک

سنگ زنی سے گھائل دن
جب آن گرے سروں اور کندھوں پر
ٹکرا جائیں زم زم سے دُھلی پیشانیاں
فاحشہ رات کی متعفن لاش سے
کوئی ہونا چاہیے
جسے یاد ہو چنبیلی کا چٹکنا

ہجوم بن جائے جب بے ہئیت جانور
بے بصارت، بے سمت
اک سیال دیوانگی سے گھروں
دفتروں، کارخانوں، عبادت گاہوں کو ڈبوتا
کوئی ہونا چاہیے
جسے یاد ہو بچے کی پہلی کھلکھلاہٹ

اور آن پہنچیں جب ہم
تاریک سرنگ کے آخر پر
وقت کے ایک نئے قطعے پر
چندھیائے ہوئے، ہکا بکا
کوئی ہونا چاہیے جو پکار اٹھے
“یہ روشنی ہے”
Categories
شاعری

پھول تمہارے ساتھ ہیں

تم بھڑوں کے چھتے میں
ایک شہد کی مکھی ہو
تمہیں وحی کو Perform کرنا ہے
وحی جو تم پر کی گئی ہے
تمہیں جیسے تیسے
ایک خالی کونے کو شہد سے بھرنا ہے
ڈٹی رہو
تمہارے چار ہاتھ ہیں
ہر شہر میں باغ ہے
اور پھول تمہارے ساتھ ہیں

Image: Naoto Hattori