Categories
شاعری

محبت تمہارے لیے تھی ہی نہیں (نصیر احمد ناصر)

کیا تمہارے لیے
محبت کھلا دروازہ نہیں تھی
جس سے تم ہوا کی طرح
آسانی سے گزر جاتے
کیا تمہارے لیے
محبت کھڑکی نہیں تھی
جس سے تم
باہر کی طرف دیکھ سکتے
اور جان سکتے
کہ سورج کیسے طلوع ہوتا ہے
چاند کتنا روشن ہے
ستارے کتنے زیادہ ہیں
اور رات کتنی گہری ہے
کیا تمہارے لیے
محبت راستہ نہیں تھی
جس پر تم چل سکتے
اور پہاڑوں کے ابھرے ہوئے سینوں
گھاٹیوں، نشیبوں
اور جنگلوں کی سبز تاریکیوں
اور ہموار میدانوں کی
طویل و عریض پہنائیوں میں
تمہارے نقوشِ پا
کبھی نہ ملنے والی منزلوں کے گیت لکھتے
کیا تمہارے لیے
محبت دریا نہیں تھی
جس کے ساتھ تم
صدیوں اور زمانوں کی طرح بہتے
اور کشتیوں اور کناروں کو
الوداع کہتے ہوئے
ابدیت کے پانیوں سے جا ملتے!

Categories
شاعری

دو نظمیں (نیلم ملک)

“عنوان ندارد”

گھنی تیرگی تھی
بصارت کو اپنے نہ ہونے کا یکسر یقیں ہو چلا تھا
کئی غیر ملفوظ آوازیں وحشت میں
ڈھلتی چلی جا رہی تھیں
یہاں تک
کہ ہر ذی نفس سامعہ کے نہ ہونے کو نعمت کی صورت طلب کر رہا تھا
مگر جب
افق کے کنارے سے اک روشنی کا پھریرا سا لپکا
کہیں دور سے تیری آواز آئی
تو وحشت کے معنی بدلنے لگے اور
کئی بے زباں حیرتیں اپنے ہونے کے احساس سے
چیخ اٹّھیں یکایک
مگر ایسی چیخیں کہ جن کے بطن میں
نہ وحشت نہ دہشت
کوئی سرخوشی تھی!
سراسیمگی تھی!
زمیں حیرتی تھی کہ یہ کیسی چیخیں
فضاؤں میں گھلتی چلی جا رہی ہیں
خوشی اور غمی کے معانی کو یکسر بدلتا ہوا روشنی کا پھریرا ہوا کے دباؤ سے لہرا رہا ہے۔۔
عجب تیرگی تھی
عجب روشنی تھی
عجب شور تھا اور
عجب خامشی تھی
جو ہونے کی تہہ سے نہ ہونے کے بھیدوں کو سوچوں کے ساحل تلک لا رہی تھی

نامُرادی کی ایک نظم

مُجھے پہلے لگتا تھا
میرے بھی کمرے کی ہیں چار دِیواریں
اور ایک دَر ہے
اور اِس دَر کے باہر
مرا ایک گھر ہے
اور اِس گھر کے باہر مری ایک دُنیا

اَب اکیس دِن سے
اِسی ایک کمرے میں
روزانہ چوبیس گھنٹوں سے کُچھ ساعتیں کم
مُسلسل مُقیّد
میں یہ دیکھتی ہُوں
مرے چاروں جانب
فقط دَر ہی دَر ہیں
سبھی دَر کھلے ہیں
ہر اِک دَر کے باہر
زمانہ جُدا ہے

کہیں بین کرتی سُبک سار حُوریں
کہیں رَقص کرتے برہنہ فرشتے
کہیں سبز ملبوس میں زَرد رُوحیں کہ شاید ہیولے
کہیں جِسم ہی جِسم
جِن میں کبھی رُوح پھُونکی گئی تھی
مگر اَب وہ کٹھ پتلیاں ہیں
جو خُود اپنی ڈوریں ہلاتے ہُوئے
گُھپ اندھیرے میں اُتری چلی جا رہی ہیں

کہیں زہر پینے سے مُنکر ہے سُقراط
اور بھیک میں زِندگی مانگتا ہے

کہیں پر ہے نِیرو
وہی بانسری جو بجاتا رہا، شہر جلتا رہا
اَب وہ اَژدر کی صُورت گلے میں حِمائل
شکنجے کو ایسے کَسے جا رہی ہے
کہ نِیرو کی آنکھیں
اُبل کر جلے شہر کی راکھ پر بہہ رہی ہیں مُسلسل

کہیں ہِرنیاں ایک ہی چوکڑی میں
زمیں آسماں کے قلابے ملانے میں
کب سے مگن قہقہے ریت پر مارتی ہیں
جہاں پر وہیں “پھول بن” کِھل اُٹھیں
اور مجنوں بُھلائے ہُوئے اپنی لیلیٰ کو یکسر
چُنے “پُھول بَن” سے فقط سُرخ کلیاں

کہیں پر زُلیخا ہے
جو ناخنوں کی دراڑوں میں اَٹکے ہُوئے
سَعد کُرتے کے دھاگوں کو
دانتوں سے نوچے چلی جا رہی ہے
کراہے چلی جا رہی ہے

اور اِک دَر کے باہر
جہاں تُو کھڑا ہے
میں یکبارگی اُس کی جانب لپکتی ہُوں۔۔۔
دہلیز دَلدَل ہے۔۔۔
دَلدَل کی کیا ہو بیاں بےکرانی
فَلَک اُس میں ڈُوبے تو واپس نہ اُبھرے

Categories
شاعری

ممکنات (زوہیب یاسر)

بہت ممکن ہے
کہ صورِ اسرافیل میری، تمہاری
یا کسی مجبور کی آہ ہو
جو کائنات کو تباہ کر دے
اور عرشِ معلیٰ کو ہلا دے
اور وہ پھر سے ہواؤں میں معلق رہے
یا پانیوں پر تیرا کرے،
بہت ممکن کہ آندھی،
آندھی نہ ہو،
نہ یہ بارش میکائیل کے پروں سے جھرتی پھوار ہو،
یہ بھی ممکن ہے کہ
وحی یزداں کی خود کلامی ہو
جو ہمارے لیے ضابطہ ٹھہری،
اور ممکن ہے کہ یہ دنیا،
دنیا نہ ہو
بلکہ ہمارے اوہام کا وہ آئینہ ہو کہ جس میں
ہم اپنے ہی عکس دیکھ دیکھ کر
عکاس کی غیبت کرتے ہوں،
اور یہ انسان کسی گھٹیا و برتر خداؤں کے اوتار ہوں،
ممکن ہے اور بہت ممکن ہے۔۔۔

Categories
شاعری

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں (رضی حیدر)

میں تیرے قہقہے میں دھنسا جا رہا ہوں
یا تیری رندھی ہوئی ہچکی میں
دونوں میں ایک طویل سکتہ تھا
یہ کوئی دلدل ہے شاید
یا کوئی شہرِ مدفون
وقت کی سِلوں کی عبارتیں مٹ رہی ہیں
خاموشی کی چھپکلی زبان سے اپنے ڈیلے صاف کرتی ہے

(خدایا کیا دھنسنا ہمارا مقدر ہے
اس ماتھے پر تیرے ناخنوں کا لکھا
جبہ سائی کرتے مٹ نہیں سکتا؟ )

سب ہی تو دھنس رہے ہیں
تری برہنہ کمر کا جادہ
ترے سوالوں کی اڑتی گرد
ترے ہونٹوں پر میرا آخری بوسہ
یہ بکھری کتابیں
یہ بوگس فلسفے
میری پانچ گھنٹے سے کچھ کم کی نیند
اور وہ فشارِ خون کہ رگوں کے چیتھڑے بکھیر دے
چمن کو فقط ایک بار دیکھ لینے کی آخری چاہ
اور پھولوں کی دکان میں ملا ایک بلبل کا لاشہ
میرا دو دن کا فاقہ
یہ ابلے آلوؤں کے سوکھے چھلکے
یادداشت کے کواڑوں سے آتی
“کلفی کھوئے والی” کی صدا
2 روپے کا بند سموسہ
ایک روپے کی چھے کولا ٹافیاں
اور چونی کی طلسمی کہانی کا گرانڈیل جن ۔۔۔
سب ہی تو دھنس رہے ہیں

کیا حکم ہے میرے آقا
کہیے تو آپ کی روح کھا لوں، کہیے تو آپ کا جسم
کھانا ہو تو دل سا یہ شعلہ فشاں کھا
وہ شعلہ فشاں جو سینوں کو آسماں بنا دے
یہ جگر پارے کھا
کہ انھیں کھاتے تجھے ستارے نگلنے کا گماں ہو گا
دیکھ یہاں ان دو کنوؤں کو
آبِ آزردگی کے سرچشمے،
جن کا نشہ ہر شرابِ ناب سے بہتر تھا
سوکھ گئے
اے رحمدل مخلوق
مجھے دھنسنے دے کہ دھسنا میرا مقدر ہے
پر کسی ایسے ہاویہ میں
جس کا کوئی اخیر ہو
اے رحمدل مخلوق
تو بن دھوئیں کی آگ سے بنایا گیا
میری خاک کو بھی اس کے اصل سے ہٹا دے
اسے وقت کی مُٹھی سے سرکنا بھلا دے
اے رحمدل مخلوق،
خداؤں نے ہم سے منہ پھیر لیے
اگر ہم پر رحم کر سکے
تو طلسمی کہانی سے نکل آ
اور اس سکتہ کو انت بنا دے

Categories
شاعری

سمندر خالی ہو گئے؟ (رضی حیدر)

سمندر خالی ہو گئے؟
اور زمینں بنجر؟
سورج کی کرنیں چمکنا بھول بیٹھیں ہیں
اور چڑیاں ہسنا؟
میری یادداشت کی دنیا میں
میرے ساتھ فقط ایک نیل کنٹھ ہے
اور کھڑکی سے باغ دکھتا ہے
ہم اس جیل کی زلال دیواروں کو ٹکریں مارتے مارتے تھک گئے ہیں
ہم فقط تمہارے چہرے کو دیکھ کر وقت بتا سکتے تھے
تم کہاں چلی گئیں؟
کیا رات ہو گئی ہے
یا ہم اندھے ہو گئے ہیں

Categories
شاعری

ناخن جو اب ہتھیلی پر اگ آئے – (سبین محمود کے لیے) – مدثر عباس

بمارے دل کی تیز دھڑکن کا طبعی معائنہ
نہ کریں بلکہ ہمیں یہ بتائیں کہ کیوں
آپ نے ہمارے لوگوں کو چاند کا فریم
درست کرنے کے جرم میں ہمارے گھر کی
فیملی فوٹو سے پھاڑ کر اپنی بھدی
تصویر کے ساتھ جوڑ لیا ہے؟

ہمارا تازہ غیر رجسٹرڈ گیت کیوں
آپ کی چلتی ہوئی بندوقوں کا ردھم توڑ دیتا ہے
اور آپ اپنے کانوں میں انگلیاں دبا کر
اپنی بیرکوں کی طرف دوڑ جاتے ہیں

آپ جتنی بھی کانوں میں انگلیاں دبا لیں مگر
میں چیخ کر بتاتا رہوں گا کہ مجھے طبعی موت
مرنے کا سرٹیفیکیٹ کیوں نہیں دیا گیا حالانکہ
میرے تمام کاغذات پر کرنل علیم کی مہر تصدیق ثبت تھی
میں بہت زور سے چیخوں گا
چاہے میری چیخ سے خدا کے کانوں کے پردے پھٹ جائیں
خدا کی بینائی تو آپ پہلے ہی چھین کر
خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کے لئے خصوصی عینکیں
بنا رہے ہیں جنہیں پہننے کے بعد آپ فوراً
تلاش کر لیتے ہیں کہ صبین محمود کہاں ہے ؟

ماما قدیر تو چلنے کے لیے ہر روز اپنے پیروں
کو اسلام آباد کا راستہ یاد کرا رہا ہے
مگر ماما قدیر کسی بھی مسخ شدہ لاش
کو چلنا نہیں سکھا سکتا
چاہے اس لاش کے پیروں پر
اسلام آباد سے لے کر بلوچستان تک
کے سفر کا تمام نقشہ موجود ہو
جس پر گوگل میپ اعتماد
کرتے ہوئے کبھی نہ جھجھکے

Categories
شاعری

پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں (صدیق شاہد)

پھول تمہیں دیکھنے کو کھلتے ہیں
اپنے اپنے موسموں میں
اپنے اپنے ملکوں میں

سرحدوں پہ تعینات فوجیوں پر امام کی تقریریں بے اثر جاتی ہیں
وطن سے محبت اور شہید کا رتبہ
تمہارے خطوں سے افضل نہیں ہو سکتا

تمہارے خط
کچی مہندی اور کنواری رانوں کے مدھ بھرے سندیسے
امیدوں بھری صبحوں کی انگڑایوں اور بدن کاٹتی راتوں کی کروٹوں کے ملبے
نور محمد کو سونے نہیں دیتے

نور محمد
ایک فرض شناس ڈاکیہ
جو لفافوں کو تھوک اور انسانوں کو ملاوٹ سے پہچانتا ہے
جس کی رسوئی میں اناج کی بوریاں گل جاتی ہیں ختم نہیں ہوتی
سو نہیں سکتا

سنتالیس برسوں سے
چھتیس گاؤں اس کی ایمانداری اور نیک سیرتی کی قسمیں کھاتے آئے ہیں

روایتوں میں آتا ہے
نور محمد آخری کنوارہ ڈاکیہ تھا
جسے سلانے کو خود فرشتے آئے

جوابی حملوں میں جوانوں نے اپنے دل داغے
اور کفن میں پرچم کی جگہ تمہاری خوشبو پسند کی

Categories
شاعری

مجھ تک آنے کے لیے (نصیر احمد ناصر)

مجھ تک آنے کے لیے
ایک راستہ چاہیے
جو پاؤں سے نہیں
دل سے نکلتا ہو

مجھ تک آنے کے لیے
ایک دروازہ چاہیے
جو ہوا کی ہلکی سی لرزش سے
کھل سکتا ہو
اور ایک کھڑکی
جس سے دھوپ اندر آ سکتی ہو

مجھ تک آنے کے لیے
سیڑھیاں چڑھنے یا اترنے کی ضرورت نہیں
نہ لفٹ استعمال کرنے کی
میں آسمان سے اونچی عمارت کی
زمینی منزل میں رہتا ہوں
جہاں ہر آنے والا
اپنی سطح کے مطابق
اونچائی یا نچائی ساتھ لاتا ہے

مجھ تک آنے کے لیے
کہیں جانے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑتی
میں آنے والوں کے پاس
خود چل کر پہنچ جاتا ہوں!
ٰImage: Daehyun Kim

Categories
شاعری

ہمیں بھول جانا چاہیئے (افضال احمد سید)

اس اینٹ کو بھول جانا چاہیئے
جس کے نیچے ہمارے گھر کی چابی ہے
جو ایک خواب میں ٹوٹ گیا

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس بوسے کو
جو مچھلی کے کانٹے کی طرح ہمارے گلے میں پھنس گیا
اور نہیں نکلتا

اس زرد رنگ کو بھول جانا چاہئے
جو سورج مکھی سے علیحدہ کر دیا گیا
جب ہم اپنی دوپہر کا بیان کر رہے تھے

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس آدمی کو
جو اپنے فاقے پر
لوہے کی چادریں بچھاتا ہے

اس لڑکی کو بھول جانا چاہیئے
جو وقت کو
دواؤں کی شیشوں میں بند کرتی ہے

ہمیں بھول جانا چاہیئے
اس ملبے سے
جس کا نام دل ہے
کسی کو زندہ نکالا جا سکتا ہے

ہمیں کچھ لفظوں کو بالکل بھول جانا چاہئے
مثلاً
بنی نوع انسان
ٰImage: stacey Friedman

Categories
شاعری

ہنسی کی جھوٹن اور دیگر نظمیں (سدرہ سحر عمران)

ہنسی کی جھوٹن

لوگ
ہمارے دکھوں پر
کپاس کے پھول
رکھتے رکھتے
قہقہے ڈال جاتے ہیں
ہم ان قہقہوں کو
اپنے جوتوں کی
نوکیلی دیوار کے نیچے رکھ کر
دبائیں
تو نفرت کی نیلی نہر
پھوٹ پڑے گی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت کی گم شدہ پازیبیں

ہم نے پھول بھیجنے کے موسم میں
ایک دوسرے کو ہجر بھیجا
تم میرے ہونٹوں سے
کسی ان چاہے اظہار کے طرح بچھڑ گئے
اور میں تمہاری آنکھوں سے
آنسوؤں کی طرح بے دخل ہوگئی
کسی میز پر آج بھی دو موم بتیاں
بڑی شدت سے جل رہی ہوں گی
مگر ہم روشنی کا مقدمہ ہار گئے تھے
دیکھو ہمارے اندر
کتنی تاریکیاں بھری ہوئی ہیں
کیا تمہیں کوئی راستہ سجھائی دیتا ہے؟
نہیں ۔۔
میں بھول چکی ہوں دروازہ کس طرف تھا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آدم ہمارا کچھ نہیں لگتا

ہم معذوری کے لیے
جنمے گئے
ہمارے ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان
اور زبانیں
تمہارے کھیل کا حصہ بن گئیں
اور ہم
ٹوٹی ہوئی چپلوں کی طرح
گھسٹ گھسٹ کر چلتے رہے
سڑکیں ہمیں پہچانتی ہیں
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا شناختی کارڈ کوئی نہیں
ہماری گردنوں سے
غدار نسلوں کی ہڈیاں
لٹکی ہوئی ہیں
ہم نسلا حرامی ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وفاداری کی نمبر پلیٹ

کپاس آنکھوں سے چنی جاچکی ہے
اب وہی ستارے بے لباس ہوں گے
جن کے حصے کا وقت ادھیڑ دیا گیا
خواب ۔۔۔مصر پہنچنے سے پہلے پہلے
مکڑی کے جالوں میں بدل جائیں گے
اور ہم ۔ ۔محبت کی ناجائز زمین پر
قدیم حویلی کی طرح
مشکوک کھڑکیوں سے جھانکیں گے
سلاخیں
ہماری آنکھیں ناپ کر بنائی گئیں
اور کنویں
ہماری قبریں
ہم نے کتنی صدیاں
اپنی آنکھوں کی پتھریلی زمین میں
نمک کی فصلیں اگائیں
پھر بھی ہمارے دل
تہہ خانوں میں چنوائے گئے
اب ہمارے پاس قیمتی کیا ہے
سوائے تیری پہنائی ہوئی زنجیر کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہم کن موسموں کا سیاہ دن منائیں؟

شور سے خالی
سیمنٹ کی جالیوں میں
کتنی آنکھیں زنگ سے پینٹ کی گئیں
مگر ۔۔۔
انتظار کا پانی مرنے میں نہیں آتا
راستے ایک دوسرے کو دیکھتے دیکھتے
گونگے پتھر ہوگئے
اوردرختوں کی کلائیاں
گجروں سے خالی
وقت کے باٹ میں
یکطرفہ خوابوں کا وزن
کبھی پورا نہیں پڑتا
عشق آنکھوں سے مہنگا ہے
اور ۔۔حویلیوں میں لڑکیاں نہیں
بغیر کتبوں کے خواب دفن ہیں
کوئی قبر کس کے نام کی ہے
کون جانے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Image: P Gnana

Categories
شاعری

ایک خسارے کا احوال (اسد فاطمی)

وہ جس گھڑی مجھ پہ کھل گیا تھا؛
قمار خانے کی میز پر میرے نام کے سبوچے میں خاک ہے!
زبانِ تشنہ کہ پُرسکوں تھی، سپاٹ چہرہ،
نہ ہاتھ میں کپکپی تھی، آنکھوں میں اضطرابِ شکست کا شائبہ نہیں تھا،
کہ جیسے دہقان پکی فصلوں کو مینہہ برسنے کے بعد دیکھے
کہ جیسے وہ فرش و عرش کے ٹاکرے کا سارا مآل پہلے سے جانتا ہو
میں پر سکوں تھا،
مگر اچانک گمان گزرا کہ یہ اندھیرے اُطاقچے کا فسوں ہے شاید
یونہی کسی بے یقین لمحے میں پھر سبوچہ اٹھا کے کچھ روشنی میں لایا،
یونہی کوئی چند مرتبہ کھنکھنا کے پلٹا، الٹ کے دیکھا
قمار میں ہارنے سے پہلے کی ساری چالوں کا پھیر جانچا
وہ کوئی ایسا طلسم سوچا جو پل میں مٹی کو مَے بنا دے،
نجانے کتنی اداس نظموں کے وِرد پھونکے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
وہ شب، وہ بوجھل پنا، کہ میں سب بھلا کے کونے میں ایک جھینگر کی سن رہا تھا،
وہ دن، وہ تاریخ، عیدِ نوروز میں کوئی دن ہی رہ گئے تھے،
کہ گلفروشوں کی سب دکانوں پہ بخششِ مفت کی صدا تھی،
شبِ زمستاں میں لکّھے ہر اک پیام پر سب کو خیریت کے جواب پہنچے،
نسیمِ بوئے بہار کے ہاں سے سب پہ فرمانِ جشن عاید تھا؛
کہ جو کوئی رہگزر سے گزرے گا، سر بسر جھوم کر چلے گا
مگر میں بازیچۂ بہاراں کے درسِ اول میں رہ گیا تھا
تو کس حوالے سے دورِ رفتہ کے میکشوں سے کلام کرتا؟!؟
میں باوضو ہو کے روضۂ فصلِ گل کو پہلا سلام کرتا
کہ تب تلک مجھ پہ کھل چکا تھا
قمار خانے کی میز پر میرے نام کے سبوچے میں خاک ہے۔۔۔

Categories
شاعری

اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم
ابھی ابھی
الماری کے اک کونے سے ملی ہے
دبک کر بیٹھی
پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم
کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی
اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے
ہم دونوں کی باتیں تھیں
دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی
گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے
اِک اکلوتی پینٹنگ تھی
جس میں مَیں نے
تمھارے کہنے پر
نیلے رنگ سے اسٹروک لگائے تھے
میری جھولتی کرسی کے سائے میں رکھی کتابیں تھیں
جن کو پڑھ کر ہم
گھر والوں پر رعب جمایا کرتے تھے
مشکل مشکل باتیں کر کے ہم منہ ہی منہ میں ہنستے تھے
گھر والے سب عاجز آ کر
ہم کو تنہا چھوڑ دیتے تھے
میز پہ رکھے دو مگ بھی تھے
جن میں ہم آدھی چائے چھوڑ کے
بھول گئے تھے
ایک قلم تھا ڈھیروں کاغذ تھے
اس نظم کے سطروں میں کیسی میٹھی باتیں ہیں
لیکن اب اس نظم کے پیلے کاغذ پر
وقت نے سلوٹیں ڈالی ہیں
دیکھنے سے یوں لگتا ہے
نظم بہت پرانی ہے
پرانی چیزیں کہاں کسی کو بھاتی ہیں
مَیں نے پھر سے وقت سے نظر چرا کر
اُس نظم کو واپس
رکھ چھوڑا ہے _
Image: Jean Carolus

Categories
شاعری

سمندر پہ کی گئی محبت (ساحر شفیق)

میں نے پہلی بار اُسے
ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شُدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا
جب وہ ہنستے ہوئے تصویر بنوا رہی تھی

اس کی آنکھیں بادلوں میں گھرے ہوئے سورج جیسی تھیں
یقینا بچپن میں اُسے نیند میں چلنے کی عادت رہی ہوگی

سمندر___ جو رشتے میں ہم دونوں کا کچھ نہیں لگتا تھا
پھر بھی ہمارے درمیان تھا

محبت ٹھنڈے پانی کی بوتل نہیں ہوتی
جسے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُسے پیش کر سکتا

اگر میں نے سمندر کے بارے میں کوئی کتاب پڑھی ہوئی ہوتی
___ یا___
میں اس تباہ شدہ جہاز کا کپتان رہا ہوتا تو
اُس سے کچھ دیر گفتگو کر سکتا تھا

اگر میرے پاس کچھ پھول ہوتے تو میں اُسے دکھا کر سمندر میں بہا دیتا
پیغام دینے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے
ریل کے سفر میں بننے والا تعلق
___ اور___
سمندر پہ کی گئی محبت ہمیشہ دُکھ دیتی ہے

آج برسوں بعد___
خودکشی کے لیے کسی مناسب مقام کی تلاش میں پھرتا ہوا
میں سوچ رہا ہوں
اگر اُس شام کوئی لہر مجھے بہا کر لے جاتی
تو___میں اُسے کچھ گھنٹے یاد رہ سکتا تھا
Image: Huebucket

Categories
شاعری

ایک لمحہ کافی ہے (حسین عابد)

کسی اجنبی، نیم وا دریچے سے کھنکتی
ہنسی پر ٹھٹھکتے
محبوب آنکھوں میں جھانکتے
پکی خوشبو
اور معصوم آوازوں کے شور میں
بدن سے دن کی مشقت دھوتے
یا کھلے، وسیع میدان میں بہتی
ندی کے ساتھ چلتے
جس کے کناروں کی گھاس
پانی میں ڈوب رہی ہو

وقت کی دھڑکتی تھیلی میں پڑا
ابدی مسرت کا لمحہ
جو سارے مساموں سے پھوٹ نکلے

ایک گہرے دوست جیسا
جو کبھی جدا نہ ہو
ایک جگنو جیسا
جو گھمبیر رات میں چلتے
اچانک تمہارے سامنے آنکلے
ایک لمحہ کافی ہے

Categories
شاعری

hypocrisy (وجیہہ وارثی)

تمہارے بوسیدہ بوسوں سے باس آنے لگی
تمہارے آنے کی آس نصف صدی پہلے دم توڑ چکی
یادیں رفتہ رفتہ دیوار سے چونے کی طرح چٹخ چٹخ کے گرنے لگی ہیں
تاریخ لاکھوں صفحے پلٹ چکی
وقت مداری کی طرح تماشے دکھا چکا
نصف صدی کا عرصہ
انسان کے زندہ رہنے کے لیے بہت تھوڑا ہے
مر جانے کے لیے بہت زیادہ
میں تمہارے بغیر زندہ تھا یا نہیں
اس سوال کا جواب میرے بچے دے سکتے ہیں
سب سے چھوٹا بچہ مجھے مرا ہوا ہی سمجھتا ہے
میری شریک حیات
جسے دنیا کی معزز ترین عورت ہونے کا شرف حاصل ہے
خود کو خاتون اول و آخر سمجھتی ہے
(بیوی کی خوش فہمی ہی اس کی خوش بختی ہوتی ہے)
آرام کے لیے بے آرام پالتی ہے
بچوں کو بڑھاپے کا سہارا بنانے کے لیے راتوں کو جاگتی ہے
بائی پاس کے دوران اپنے عقیدے کے مطابق
مسلسل میری زندگی کی دعائیں مانگتی رہی
کامیاب آپریشن کے باوجود تم دل کے کسی والول کے ساتھ
پھانس کی طرح پھنسی ہوئی ہو
Image: Kristina Falcomer