Categories
شاعری

دو نظمیں (علی محمد فرشی)

آؤ تتلی کے گھر چلتے ہیں

چلیں !
تنہائی کے
اِس غار سے نکلیں
کوئی رستہ بنائیں
اِس گھنی، گاڑھی، سیاہی سے نکلنے کا
اندھیرے، اندھے، زہریلے دھوئیں میں
کاربن ہوتی ہوئی عمریں کہاں ہیرا بنائیں گی
کسی نیکلس، انگوٹھی اور جھمکے میں
چمک اٹھنا، کہاں دل کا مقدر ہے
ہمارے کوئلہ ہوتے دنوں کا غم، ہمالہ نے کہاں رونا ہے
کس تاریخ کا چہرہ بھگونا ہے
وبا موسم ہے، اک جیسا
سبھی کے واسطے یکساں کرونا ہے

مری جاں!
پھول کے چہرے پہ کھلتی مسکراہٹ
کم نہیں ہوتی
ذرا سی زندگی پا کر
کوئی تتلی نہیں روتی
اَمر ہونے کا سپنا کب کسی چڑیا نے دیکھا ہے
سبھی کی ایک ریکھا ہے
سہانی نیند میں جاگا ہوا ہے
خواب” ہونے کا”
سبب کیا ہے؟
نشیلے نین رونے کا
انیلی بارشیں نیلے سمند رکی کثافت پر
بہت آنسو بہاتی ہیں
مگر اس کو معطر کر نہیں سکتیں
کبھی خواہش کے اس کاسے کو
آنکھیں بھر نہیں سکتیں!

مرض الموت سے محفوظ

محبت سے کوئی جگہ خالی نہیں
سواے مٹی سے بھرے پیٹ کے
اور اُن آنکھوں کے
جو اندھیرے میں دیکھ لیتی ہیں
کالی دولت
جو ہماری نسلوں کی ہڈیاں بیچ کر جمع کی گئی
اور مرمریں میناروں والی مسجدوں میں
جو نفرتوں کی پناہ گاہیں بنادی گئیں
وہ گھر،جس کی بنیادوں میں چوہوں نے
بل بنا لیے
بندریا کے پاؤں جلنے لگے تو
اُس نے اپنا بچہ پاؤں تلے دبا لیا
جھیل خشک ہو گئی تو
موت مچھلیوں کی ضرورت بن گئی
کونج مردہ ساتھی سے پیوست ہو کر رہ گئی
حالانکہ اُس کے پر سلامت تھے
اور پیٹ بھرا ہوا
پروں میں لہو کی لہریں بے قابو تھیں
اور آسمان اُسے بار بار بلا رہا تھا
لیکن اُس نے مردہ خور کیڑوں کی
آواز پر کان رکھے
اورمٹی سے مٹی ہو جانے والی
محبت کے سینے پر سر رکھ کر
اپنی آنکھیں موند لیں

Categories
شاعری

پریس نوٹ

تیز آندھی میں
زخمی پرندوں کی چیخیں
چٹختی ہوئی ٹہنیوں کی
اذیت میں ڈوبی ہوئی سرد ٹیسیں
بکھرتے ہوئے گھونسلے
تنکا تنکا ادھڑتی ہوئی زندگی
اور بارش میں بھٹکی ہوئی کونج کے گرم آنسو
کہاں تیری برفیں پگھلتی ہیں
اونچے پہاڑوں پہ پھیلے ہوئے آسماں سے پرے
کتنا محفوظ ہے تو !
وہ تتلی جو سپنا بناتے ہوئے دھوپ کا، سو گئی
جس کو طوفان نے بے خبر پا لیا —– نیند میں آ لیا
ساتواں دن ابھی جس نے دیکھا نہ تھا
رات اس کے لیے مستقل ہو گئی
وہ، جو سپنا بناتے ہوئے سو گئی !

وہ کبوتر جو چھتری سمجھ کر فلک کی طرف اڑ گیا
کس بصیرت نے دھوکا دکھایا اسے
جس نے جانا تھا ان لڑکیوں کی طرف
آسماں جن کی کھڑکی پہ کھلتا نہ تھا
جن کے پاؤں نے دہلیز دیکھی نہ تھی
کیسے گلیوں میں ان کے دوپٹے گرے اور روندے گئے
جن کی چھاتی کی آواز سن کر زمیں پھٹ گئی
عمر بھر رات روتے ہوئے کٹ گئی !

صبح اخبار میں سب وہی چھپ گیا
تو نے جو کچھ کہا

Categories
شاعری

بارود گھر

بارود گھر
بہت دیر کر دی
فرشتوں نے نیچے اترتے ہوئے
فاختہ
اپنی منقار میں
کیسے زیتون کی سبز پتی دبائے
جہنم سے پرواز کرتی؟
فلک دور تھا
اور بارود گھر شہر کے وسط میں
Categories
شاعری

نیند پری کی موت

نیند پری کی موت
شام مسافر لاؤنج میں بیٹھی ہے
اور باہر مٹیالی بارش میں لت پت آسیبی رات
اندر آنے کا رستہ ڈھونڈ رہی ہے

کالے جوتوں کو چمکاتے چمکاتے
سرد سیاہی کی کیچڑ میں ننگے پاؤں چلتے چلتے
تم خوابوں کے روشن میدانوں تک جا پہنچے ہو
دھوپ کی گیند کے پیچھے بھاگ رہے ہو
خوشبو دار ہری چمکیلی گھاس پہ گر پڑتے ہو
نرم محبت تمہیں اٹھا کر اپنی گود میں بھر لیتی ہے
ست رنگی نیند پری کی لوری سنتے سنتے ہنستے ہو تو
نیلی چادر چاند ستاروں سے بھر جاتی ہے
آنسو سِکّوں کی مانند
میرے خالی پن کے اندر گرتے ہیں
ناموجود فلور سے آنے والا برقی زینہ
نامعلوم اترائی کی جانب جاتے جاتے رک جاتا ہے

ننھے نور بھرے ہاتھوں سے
کالی پالش کی ڈبیا گر پڑتی ہے
اور گلوب کی صورت گھومنے لگتی ہے
Categories
شاعری

وقت

وقت
تین چڑیلیں
ککلی کھیلیں
گھوم گھوم کے
جھوم جھوم کے آئیں
آدم زادوں کو بہکائیں

پچھل پیری، ڈین سنہری، کلکو اندھی بہری
تین چڑیلو ں کا اک جال
اِس سے آدم زاد کی آل
کیسے نکلے؟
سوچ رہا ہوں ایسی چال
میرے لال!
Categories
شاعری

CYBERIA

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

CYBERIA

[/vc_column_text][vc_column_text]

میرے پھولوں پہ
قیمت کی چِٹ دیکھ کر
رُک گیا آسماں

 

بِک رہی تھی مشینوں پہ
عورت کی خوشبو
جسے اپنی بغلوں میں چھڑکاؤ کرکے
انھیں نیند آتی تھی

 

‘کھانے کے خوابوں’ کی قلت تھی شاید
سبھی اک جھلک دیکھنے کے لیے
کیمرے آن کرکے کھڑے تھے
ہنسی اور کھلونے عجائب گھروں میں سجے تھے
فراکوں کے سارے نمونے بھی
ونڈو میں محفوظ تھے
اور بچوں کے ماڈل بھی
‘یادوں کی دنیا’ میں ایسے کھڑے تھے
کہ جیسے ابھی ہنس پڑیں گے

 

مقدر کی سکرین پر رش نہیں تھا
دعا کی ضرورت پرانی پڑی تھی
محبت تو ویسے بھی فیشن سے باہر تھی!

 

اپنے ہی ہاتھوں میں ڈالے ہوئے ہاتھ
وہ رقص کرتے
تماشا لگاتے
مگر
دیکھنے والا کوئی نہیں تھا

 

بہت رش تھا
تاریخ کے کاؤنٹر پر
جہاں سے انہیں اپنے ہونے کا
احساس لینے کی جلدی تھی

 

حیرت کے سیکشن میں کوئی نہیں تھا
خدا بھی —–نہیں
آدمی بھی —–نہیں
زندگی بھی —– نہیں
موت بھی —–؟
ہاں — نہیں — موت بھی تو نہیں تھی
کہ زندہ تھی موت آدمی کے لیے
زندگی کے لیے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]