Categories
شاعری

اوڈ ٹو سموسہ اور دیگر عشرے

[blockquote style=”3″]

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

[/blockquote]

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
Ode to Samosas

پیزا ہٹ اور ڈومینوز کی بحث میں
سموسے والے نظر انداز کیے گئے
جن کے مطابق پیزا بس پیزا ہوتا ہے

جوائس، ٹالسٹائی اور پراؤسٹ میں
نوبیل نہ ملنے کے علاوہ کیا مشترک ہے؟
تینوں نے سموسے نہیں کھائے ہوں گے

فروٹ بائکاٹ پہ منقسم لوگ بھول گئے
سموسہ مہنگا ہونے پر سو موٹو لیا جا سکتا ہے

تب تک ہم لوگ بفے نہیں جائیں گے
جب تک مینیو میں سموسے شامل نہیں کیے جائیں گے

گوڈو کے آ جانے کے بعد

گودو کے آنے کے بعد

ہومر اپنی کہانیوں میں جگہ دے گا
جب آحاب ہمیں اپنی کشتی سے دھکا دے گا

ہم پرانی لائبریریوں میں کھنگالے جائیں گے
جب لڑکے کچھ خط چھپانے آئیں گے

لیکن کیا کوئی ڈرامہ فلموں کا پرستار رہے گا؟

ہم ری ٹویٹ نہیں ہو پائیں گے
ریویوؤر کہتا ہے ہم کلاسک بن جائیں گے

کسی کم قیمت موبائل کی طرح، ہمیں گم جانے کا ڈر نہیں ہے
وارڈ نمبر چھ” کسی بھی عظیم ناول سے کم نہیں ہے

لیکن کیا کبھی گودو کا انتظار ختم ہو گا؟

شارٹ فلمز

فیوچر کو ڈاؤنلوڈنگ پہ لگا رکھا ہے
ماضی کی پروفائل ایڈٹ نہیں ہو سکتی
حال کا فولڈر ڈیلیٹ نہیں کیا جا سکتا

گودو کے انتظار میں بیٹھے، ولادیمیر اور ایسٹراگن
ڈان کہوٹے کو دیکھ کر ہنسنے لگ جاتے ہیں
بھاری بدن پہ ہلکے کپڑے: سچ ہے مزید بھاری ہو جاتے ہیں

جب بھی کوئی تعارف میں “میرا نام” کہتا ہے
بمطابق مارکسزم اس کے کیپٹلسٹ ہونے کا اندیشہ ہے

رائٹر بننے سے زیادہ اچھا شارٹ فلموں کا آئیڈیا ہے
ہم نے صرف چیخوف کی خاطر، روس کا ویزہ لگوا لیا ہے

این انٹروڈکشن ٹو پاکستانز پولیٹیکل کلچر

ہمارے دل ٹوٹنے کی خبر بینروں پہ چھپی
ہم نے کیا کھانا ہے : نوٹس بورڈ پہ لکھا گیا
ہماری بغاوت سوشل میڈیا کی محتاج تو نہ تھی
ہماری بیماریوں کے چرچے دیواروں پر ہوئے

دیواریں کون سے ہینڈز فری یوز کرتی ہیں ؟
پاگل پن ماپنے کا سائنسی پیمانہ کون سا ہے ؟
سرکاری دفاتر سے ای میل کا جواب کب آئے گا ؟

پاکستانی کی اسرائیل سے دوستی غیر آئینی تو نہیں ہے ؟

انٹرنیٹ کے ریٹ بڑھنے پر، ہڑتال کی کال دینے سے
کیا ہم زیادہ ڈیٹا استعمال نہیں کر ڈالیں گے؟

Categories
شاعری

بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ اور دیگر عشرے

عشرہ — دس لائنوں پر مبنی شاعری کا نام ہے جس کے لیے کسی مخصوص صنف یا ہئیت، فارم یا رِدھم کی قید نہیں. ایک عشرہ غزلیہ بھی ہو سکتا ہے نظمیہ بھی۔ قصیدہ ہو کہ ہجو، واسوخت ہو یا شہرآشوب ہو، بھلا اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ادریس بابر

مزید عشرے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

بھوک ہڑتال کی مکمل گائیڈ

اگر گھر میں گوشت پکا ہے، تب بھی ہم کھانا نہیں کھائیں گے
آخر یہ اشارہ ہے کہ کل سبزی پکے گی
اگر گھر میں سبزی پکی ہے، تب بھی ہمارا کھانا نہ کھانا ہی بہتر ہے
کل کو بہر حال دال بن سکتی ہے
اور فرض کریں گھر ایک میس ہے، جس میں سموسے نہیں ہوتے
تب ہمارا کھانا نہ کھانا بغاوت سمجھا جائے
اور ہاسٹل اک گھر ہے، اور آج اتوار کا دن ہے
ہم اتوار کا ناشتہ انار کلی سے کرتے ہیں
پیزا، برگر، سینڈوچ کے کارڈ، صفائی والا لے جا چکا ہے
کیا آج کہیں بھوک ہڑتالی کیمپ لگا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لائف اِن سونگز

شاہدرہ سے گجومتہ جانے تک
میٹرو کتنا وقت لیتی ہے
نصرت کی تین چار قوالیاں، عطاء اللہ کے پانچ چھ گانوں جتنا
آپ کا دل آج ہی ٹوٹا ہے، آپ کو آج ہی پیار ہوا ہے
ارجیت کے بس دو، تین گانے آپ کو یہ بتلا دیں گے
اور جان لینن کا بس اک گیت
آپ کو انقلابی بنا سکتا ہے
آدھی رات کو اک ایف ایم چینل
تنہائی کا سچا ساتھی ہوتا ہے
زندگی بھی تو اک میش اپ، اک میڈلے ہے۔ کیا نہیں ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الیوگجیا نامی شہر

الیوگجیا” نامی شہر میں کچھ بھی تو نارمل نہیں”
گاڑیاں نہیں، ہڑتال نہیں، شور نہیں، فٹ پاتھ نہیں
ہکلے گاتے ہیں اور ہکلانا ختم کر لیتے ہیں
جس کی دیواروں پر نعرے نہیں گریفیتی نقش ہے
جس کے اخباروں میں کبھی کوئی خبر نہیں چھپتی
جہاں اچھی کہانی بیچ کر کچھ بھی خریدا جا سکتا ہے
جہاں سوالوں میں طنز شامل نہیں ہوتا
جہاں زہر بھی سموسہ نام رکھنے سے کھا لیا جاتا ہے
جہاں کے سب سے مشہور آرٹسٹ کا کمرہ روسی ادیبوں سے مزین ہے
جہاں بے گھر لوگوں نے نیند پر قابو پا لیا ہے

Categories
فکشن

ریفری‎

‘م’ نامی سڑک کے کنارے پر واقع ‘ص’ نامی رہائشی پلازے کی پہلی منزل کے نکڑ والے کمرے میں جو اپنے مثلث نما یعنی ٹیڑھے نقشے کی وجہ سے وکٹر ہیوگو کے عظیم ناول کبڑے عاشق کے مرکزی کردار کواسمودو کی یاد دلاتا تھا، میں، کیکاوس، سوموار کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے پیشاب کرنے کےلئے بستر سے اٹھا اور پیشاب کر کے واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ وہ تو چارپائی پہ سویا ہوا ہے۔ سونے والے نے یعنی اس نے خود ہی سبز رنگ کا ٹراؤزر پہن رکھا تھا جس کی پنڈلی کی باہرلی طرف پیلے اور سیاہ رنگ کی دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔ عام طور پر اس طرح کے ڈیزائن دار ٹراؤزر کھلاڑی پہنتے ہیں جن میں سے زیادہ تر کرکٹ اور ہاکی کے ہوتے ہیں۔ اس ٹراؤزر کے اوپر اس نے نیلے رنگ کے کپڑے کی ڈھیلی شرٹ پہن رکھی تھی جس کے ڈیزائن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ بازار سے کم قیمت کسی ایسے درزی سے سلی ہوئی ہے جو زمانے کی رفتار سے تھک کر بڑھے بوڑھوں کے کپڑے سینے تک محدود ہو چکا ہے۔

 

اگر وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا اور جتنا بھی صاف ہوتا تو وہ اس بو کو نہ بھگا سکتا جو صرف ایک غیر مذہب ہی سونگھ سکتا ہے۔
تقریباً پانچ فٹ آٹھ انچ کا بائیس سالہ نوجوان ستتر کلو کی جسامت سے کسی آلو کی بوری کی طرح بستر پہ پڑا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ اس نے اسے یعنی خود کو جگانے کی ناکام کوشش کی اور بالآخر دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا۔ اس نے سگریٹ جلائی جو وہ اکثر رات کو دوستوں سے چوری چھپے اپنے بستر کے نیچے رکھ دیا کرتا تھا تاکہ صبح نہار منہ اس کو پی سکے۔ ایک دن کلاس میں اس نے ایک لیکچرر سے سنا تھا کہ سگریٹ دو ہی وقت مزہ دیتی ہے، ایک بستر سے اٹھ کر نہار منہ اور دوسرا رات کو سوتے وقت۔ اگر چہ لیکچرر کے بر خلاف اس نے دو سے زیادہ پینے والی عادت کو نہ چھوڑا مگر اس کے ٹائم ٹیبل کو مان لیا اور اب اس پہ ہی عمل پیرا تھا۔ ایک دو کش لیتے ہی سگریٹ نے اس کے دماغ کے غنودگی زدہ گھوڑے کو جگا دیا جو کہ اکثر نوجوان اور فلسفی سوچتے ہیں اور اس کا رخ اس نوجوان کے چہرے کی طرف مڑ گیا۔ اگر وہ سگریٹ نہ پی رہا ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یقینناً اسے بستر پہ اپنے آپ کو پڑے دیکھ کر جھر جھری آ جاتی۔ پتلے بغیر کنگھی کیے ہوئے بال جن کو دھوئے ہوئے نجانے کتنے دن ہو چکے تھے، کھلا منہ اس کے اندر بغیر برش ہوئے پیلے دانت اور بڑھی ہوئی داڑھی اور مونچھیں جو موٹے نقوش پہ اور بھی بھدی لگنے لگتی ہیں۔۔۔۔ بالکل داتا دربار کے باہر فٹ پاتھ پر پڑے کسی ملنگ کی مافک جس کے بالوں سے مٹی نکال دی گئی ہو اور صاف اور مکمل کپڑے پہنا دیے گئے ہوں۔۔۔۔ اسے اس کے دوستوں کے متعلق تشویش ہونے لگی کہ کیا یہ ہم مذہبی تھی جو وہ اسے اس حال میں بھی برداشت کر رہے تھے یعنی اگر وہ دوسرے مذہب سے تعلق رکھتا اور جتنا بھی صاف ہوتا تو وہ اس بو کو نہ بھگا سکتا جو صرف ایک غیر مذہب ہی سونگھ سکتا ہے۔ اس نے گئے دنوں میں اس کے ہاں کام کرنے والے عیسائی جونی سائی کو یاد کیا جس کے برتن اس کے گھر والوں نے باقی مزارعوں کے برعکس علیحدہ رکھے تھے یا وہ نوجوان مارکسسٹ جن کے نزدیک دوسرے انسان سے نفرت صرف طبقاتی تقسیم کے معاملے میں ہوتی ہے جیسا عظیم کامریڈ میکسم گورکی نے کہا تھا کہ لوگ یا تو ہمارے دوست ہیں یا دشمن۔۔۔ تمام محنت کش ہمارے دوست ہیں اور تمام سرمایہ دار و جاگیر دار ہمارے دشمن۔۔۔۔ کیا سب ہاسٹل میں رہنے والے مارکسی نقطہ نظر سے سوچتے ہیں؟ نہیں مگر زیادہ تر!

 

وہ ایسے ہی بہت ساری باتیں سوچ رہا ہوتا مگر اتنے میں اس کے بستر پہ لیٹے نوجوان کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کسی لمحے کا انتظار کیے بغیر اس سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور اس کے بستر پہ کیا کر رہا ہے؟ اس نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ کوئی بہروپیا ہے جس نے ٹی وی اور تھیٹر کی وجہ سے اپنا اصل کام چھوڑ کر چوری چکاری شروع کر دی ہے اور اب بھی اپنے پرانے فن سے مدد لیتا ہے۔۔۔ مگر اس نے اسے بالکل نظرانداز کر دیا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ اس نے اس کے ساتھ والے بستر پہ لیٹے وسیم کو جگانے کی کوشش کی جو اس کی ہی یونیورسٹی میں ماحولیات میں گریجوایشن کر رہا تھا مگر اس نے بھی کوئی جنبش نہ کی۔ تھک ہار کر وہ بیٹھ گیا اور اپنے آپ کو باتھ روم جاتے دیکھا۔ دس پندرہ منٹ بعد وہ باہر نکلا اور کپڑے پہننے لگ گیا۔ اس نے اسے کہا کہ آج حبس اور گرمی بڑھ گئی ہے تو کیا ہی اچھا ہو کہ وہ نہا لے لیکن جواب ندارد اسے رہ رہ کر اس پہ غصہ آ رہا تھا۔۔ تھوڑی دیر کے بعد اس لڑکے نے وسیم کو جگایا کہ دروازہ بند کر لے اور باہر نکل گیا۔

 

اسے لگا کہ اس کا وزن اس کے گناہوں سے بھی زیادہ ہے اور شاید اس کی بخشش صرف اپنا آپ اٹھائے رکھنے سے ہی ہو جائے گی۔
سڑک پر پہنچنے پر اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے دوست کا انتظار کیے بغیر جو گاڑی سے یونیورسٹی جاتا تھا، بس پر جائے گا اور ٹکٹ کاؤنٹر کی طرف بڑھ گیا۔ ٹکٹ لینے کے بعد جب وہ بس کی طرف جانے کے لئے سیڑھیوں کی جانب بڑھا تو دیکھا کہ بجلی نہ ہونے کے سبب وہ بند پڑی ہیں اور پیدل اوپر جانے کے خیال سے اس کا سانس رکنے لگا۔ اسے لگا کہ اس کا وزن اس کے گناہوں سے بھی زیادہ ہے اور شاید اس کی بخشش صرف اپنا آپ اٹھائے رکھنے سے ہی ہو جائے گی۔ وہ اکثر آخرت میں ملنے والی سزا کا دنیا ہی میں ہونے والی معمولی قسم کی چیزوں سے موازنہ کیا کرتا تھا جیسے وہ اپنے ایک دوست بلال کو کہتا تھا کہ وہ آخرت کا عذاب دنیا میں گھٹیا موبائل استعمال کرنے کی صورت میں بھگت رہا ہے۔۔۔۔۔ آخر اس نے ہمت باندھی اور اوپر چڑھنے لگا۔ اوپر پہنچ کر اس نے ٹوکن چیک کروایا اور آگے بڑھ گیا۔ ابھی پلیٹ فارم پہ پہنچا ہی تھا کہ گاڑی آ گئی. دروازہ کھلا اور اندر داخل ہو گیا. کیکاؤس بھی ساتھ ہی تھا مگر کوئی بھی اسے دیکھ یا محسوس نہیں کر رہا تھا۔ گاڑی کے اندر تل دھرنے کی جگہ نہ تھی اور رش کی وجہ سے اے سی بھی کام کرنا چھوڑ چکے تھے۔ یہ تمام بھیڑ جس میں زیادہ تر تعداد داتا صاحب، شاہ عالمی چوک اور اردو بازار میں کام کرنے والوں کی تھی اپنی وضح قطح سے صاف پہچانی جا سکتی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر ایسے رنگوں والی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جن کے بارے آسانی سے بتایا نہیں جا سکتا اکثر دیہاتوں میں اسے سفیانے یا ٹسری رنگ کی طرز کے نام دیے ہوتے ہیں اور پاؤں میں چائنہ کے جوتے، سستی چپلیں اور اکثر کے موبائل نوے کے عشرے کے ہندی گانوں کی ٹیون لیے بج اٹھتے۔ ان میں سے کوئی بھی سارے راستہ نہ اترا اور بالآخر اس کا سٹاپ آ گیا۔ کیکاؤس بھی بھیڑ کو کاٹتے ہوئے باہر نکلا اور خود کے ساتھ ہو لیا۔ نیچے اتر کر اس نے سڑک پار کی۔ بے ہنگم اژدھام کی وجہ سے سڑک پار کرنا اسے فتح کرنے جیسا لگتا تھا اور یونیورسٹی میں داخل ہو گیا۔ داخل ہوتے ہی ایک چوکیدار نے اسے روک لیا اور کارڈ دکھانے کا تقاضہ کیا۔ اس نے کارڈ نکالا اور بغیر کسی تاثر کے چوکیدار کے آگے کر دیا۔ کیکاؤس نے خود کو انتہائی غصہ سے دیکھا اور کہا کہ اسے چوکیدار کو بتانا چاہیے تھا کہ وہ بہت عرصہ سے یہاں سے گزر رہا ہے اور اس کا یوں اس طرح روکے جانا اس کے وجود کی نفی ہے کہ کوئی بھی اس کے بارے میں نہیں سوچتا۔ مگر اسے کوئی جواب نہ دیا گیا۔

 

چوکیدار سے نپٹ کر وہ غسل خانے گیا تاکہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے منہ دھو لے کہ کچھ تازہ لگ سکے اور اس شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کے بارے میں اسے لگتا تھا کہ وہ اسے کافی اچھا دکھاتا ہے۔ وہ شیشوں کی نفسیات اور شکل کے معاملے میں اکثر پریشان رہا کہ اس کا چہرہ کیسا ہے کیا وہ اتنا ہی پیارہ ہے جتنا اس شیشہ میں نظر آتا تھا یا اتنا ہی بھدا جتنا کہ ساتھ والے شیشہ میں۔ منہ دھو کر وہ باہر نکلا اور اس راستے سے کلاس میں جانے لگا جہاں وہ کم سے کم کسی کو نظر آسکے۔ اور کلاس میں چلا گیا۔ کلاس ختم ہونے پر بغیر کوئی لمحہ ضائع کیے وہ باہر نکلا اور صحن میں لگے ہوئے بینچ کے پاس آکر کھڑا ہو گیا جہاں اور بھی لڑکے جمع تھے۔ اس خوف سے کہ کوئی اسے مذاق کا ہدف بنائے اس نے کوشش کی کہ باتوں کو کسی اور موضوع کی طرف موڑ دے اور کامیاب ہو گیا۔

 

چوکیدار سے نپٹ کر وہ غسل خانے گیا تاکہ کلاس میں داخل ہونے سے پہلے منہ دھو لے کہ کچھ تازہ لگ سکے اور اس شیشے کے سامنے کھڑا ہو گیا جس کے بارے میں اسے لگتا تھا کہ وہ اسے کافی اچھا دکھاتا ہے۔
کیکاؤس کا غصہ اب چرچراہٹ میں تبدیل ہونے لگا تھا۔ وہ باقی لڑکوں کو ورغلانے لگا کہ اسے بےعزت کریں، جگتیں لگائیں مگر کوئی بھی اس کی باتوں میں نہ آیا۔ بالآخر وہ ان کے پاس سے اٹھا اور لائبریری چلا گیا اور فلسفہ وجودیت کے اوپر لکھی ایک کتاب پڑھنے لگا۔ وہ بھی اس کے پاس بیٹھ گیا اور اس نظریہ کے اوپر لکھے ناولوں کے ورق کھنگالنے لگا۔ وہ جوں جوں انہیں پڑھتے گیا توں توں اسے ان کے کرداروں سے نفرت ہونے لگی۔ ایک ایک کردار اسے منافقت کا مینار لگ رہا تھا جسے جاننے اور نا جاننے والے سبھی پر شکستہ (رشک اور حسد کے ملے جلے تاثر) نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ اگر وہ سب زندگی سے اتنے تنگ تھے تو مر کیوں نہیں گئے انہوں نے دوسروں کو کیوں ورغلایا کہ زندہ رہنا قابل نفرت ہے۔ آخر دوستوئفسکی اور چیخوف نے ان سے بدتر زندگی گزاری تھی لیکن اس کے باوجود اس سے محبت کی حالانکہ وہ دونوں اپنے سے زیادہ دوسروں سے پیار کرتے تھے۔ اس نے دعا کی کہ اے پروردگار اس لڑکے کو جلدی سے اس سنسان کونے سے اٹھا تاکہ یہ ناامیدی کے اس حصار سے جو ان کتابوں نے کھینچ دیا تھا باہر نکلے۔ وہ یہ دعا مانگ ہی رہا تھا کہ لڑکے نے جیب سے موبائل نکالا۔ اس پہ ایک پیغام آیا ہوا تھا جس میں لکھا تھا کہ نیچے آؤ کھانا کھانے چلتے ہیں۔ اس نے کتاب بند کی اور نیچے دوست کے پاس چلا گیا۔ اس کے پہنچنے پر دو اور لڑکے جمع ہو گئے جو ان کے مشترکہ دوست تھے اور چاروں کینٹین کی طرف چل پڑے۔کینٹین پہنچ کر انہوں نے کھانے کا آرڈر دیا اور کھانے لگے۔ اس سب کے دوران کیکاؤس اپنے آپ کو ایک طرف بیٹھ کے دیکھتا رہا۔ کھانا کھانے کے بعد اس نے باقیوں سے اجازت لی اور اپنی رہائش گاہ پر جانے کے لئے چل پڑا۔

 

رہائش گاہ پر جا کر آرام کرنے کے خیال سے وہ خاصا پرجوش لگ رہا تھا، اس نے دعا مانگی کے بجلی نہ ہو تاکہ سیڑھیاں چڑھنے کے بہانے اس کا کھانا ہضم ہو جائے اور تھک بھی جائےلیکن اب کی بار اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا، بجلی ہونے کی وجہ سے وہ ان پر کھڑا ہوا اور یک لخت اوپر پہنچ گیا۔ ٹکٹ کاؤنٹر پہ کوئی مسافر کھڑا نہ ہونے کی وجہ سے اس نے آسانی سے ٹکٹ لی اور بس پہ سوار ہو گیا۔ صبح کے قابل نفرت مسافر اب اتنے باعث نفرت نہیں لگ رہے تھے۔ شاید اسکی وجہ کم رش ہی تھا۔ سٹاپ پر پہنچ کر وہ نیچے اترا اور فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ فلیٹ کے لالچی چوکیدار نے جو اکثر اس سے سو پچاس مانگ لیا کرتا تھا اسے سلام کیا جس کا جواب اس نے ہاتھ ہلا کر دیا۔

 

کمرے میں پہنچتے ہی اس نے دروازہ بند کیا۔ کنڈی لگائی اور کپڑے اتار کے سو گیا۔ کیکاؤس نے کچھ دیر اس کے سونے کاانتظار کیا اور آنکھ لگتے ہی اس کے جسم میں گھس گیا۔

 

کچھ دیر بعد پورے دن کے حالات کو لے کر ان دونوں کرداروں نے آپس میں باتیں شروع کردیں جیسے فلسفی اوشو اور سوال کرنے والوں کے درمیان ہوتی ہیں۔ اس دوران اس کے جسم نے آخری سوال کیا کہ کب تک ہمیں اس طرح جینا ہو گا؟ یہ بوجھ کب تک اٹھائے رکھنا ہے؟

 

جب تک چار آدمی تمہیں اٹھا کر قبرستان تک نہیں چھوڑ آتے۔ اس نے جواب دیا اور دونوں خاموش ہو گئے۔

Image: Rook Floro

Categories
فکشن

ایک بوتل سیون اپ

مارچ کے آخری دن چل رہے تھے.ایسے دن جب گرمی اور سردی میں رسہ کشی چل رہی ہوتی ہے۔صبح اگر رسی کا پلڑا سورج کے ہاتھ کھنچ جاتا ہے تو اندھیرے کی قوتیں شام ہوتے ہی چاند کی مدد کو پہنچ جاتی ہیں۔کسان فصل کی کٹائی سے فارغ ہو کر اگلی فصل کی بوائی کا انتظار کر رہا ہوتا ہے تو بھینس بھی دودھ زیادہ دینے لگتی ہے۔ ایسی ہی ایک رات کو شاہد کے موبائل کی گھنٹی اچانک بج اٹھی، جسے اس نے کاٹ دیا۔ دوسری طرف اس کا بڑا بھائی تھا جو مسلسل فون پہ فون کیے جا رہا تھا، تنگ آکر اس نے فون اٹھا لیا۔ “بےغیرت انسان فون کیوں نئیں سی چکدا پیا” (بے غیرت انسان فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے)

 

فون اٹھاتے ہی چند عدد گالیوں میں ملبوس یہ الفاظ اس کے پردہ سماعت سے ٹکرائے۔

 

“بھائی موبائل چارجنگ پہ لگا تھا”۔

 

شاہد نے کسی لمحہ کا انتظار کئے بغیر جھوٹ بولا۔

 

“اچھا ایک بات سنو، بستر لے کر ڈیرے پر پہنچو ایک مہمان آرہا ہے، اور کھانا رہنے دینا کھانا میں اسے راستے میں کھلا دوں گا”

 

ڈاکٹر شعیب نے تحکمانہ لہجہ میں کہا۔ ڈاکٹر شعیب کو کچھ عرصہ قبل بطور ایک ویٹرنری ڈاکٹر مظفرگڑھ میں تعینات کر دیا گیا تھا۔ کسی سیکرٹری کے ساتھ تلخی کی پاداش میں وسطی سے جنوبی پنجاب کے دوردراز علاقہ میں بھیج دیا گیا تھا۔ ایک سادہ اور ایماندار شخص جو رشوت لینے سے اتنا ہی خوفزدہ تھا جتنا کوئی نیا سگریٹ نوش نوجوان محلے کی دوکان سے سگریٹ لیتے وقت ہوتا ہے۔ اپنی سادگی کی وجہ سے اکثر تضحیک کا نشانہ ٹھہرتا تھا۔ اس کے آباؤ اجداد جن کو لوگ آج بھی اس وجہ سے یاد کرتے ہیں کہ جب پورے گاؤں میں گوشت ختم ہو جاتا تھا تب صرف انہی سے ملتا تھا۔ آباؤ اجداد کی اسی سخاوت نے ایک طرف تو مہمان نوازی ان کی سرشت میں ڈال دی تھی مگر اگلی نسل کے لئے کچھ چھوڑا نہیں تھا اور ان کے پاس سنانے کو اگلوں کے قصے ہی بچے تھے۔

 

مہمان اور ڈیرہ کا نام سنتے ہی شاہد حیرت اور پریشانی کے عالم میں ڈوب گیا۔ یہ پریشانی اسی بات کا تسلسل تھی کہ گنجا نہائے گا کیا اور نچوڑے گا کیا۔ پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ کسی مہمان کو ڈیرہ پر ٹھہرایا جانا تھا۔
اس نے کلیم اور بلال کو فون کر کے بلا لیا۔ دونوں یونیورسٹی کے طالب علم تھے اور سارا دن ادھر سے ادھر آوارہ پھرا کرتے تھے۔ دونوں گاؤں سے باہر ہی کہیں بیٹھے ہوئے تھے۔

 

کلیم نفسیات کا طالبعلم,سگمنڈ فرائیڈ کا پرجوش قاری، جس نے گرتے ہوئے بالوں کی پریشانی سے نجات حاصل کرنے کیلئے وجاہت سعید کا روپ دھار لیا تھا نے بلال کو ساتھ لیا جس کے والد نے اپنا علاقہ چھوڑ کر سوات سے الیکشن لڑا اور فقط اس دوست کے جس کے پاس وہ سوات میں قیام کرتا تھا دوسرا ووٹ حاصل نہ کر سکا اور دوبارہ سوات نہ جانے کی قسم کھا لی تھی شاہد کی طرف روانہ ہو گئے۔ تھوڑی دیر بعد تینوں دوست ڈیرے پہ بیٹھے مہمان کا انتظار کر رہے تھے۔ ڈیرہ کیا تھا ٹوٹی پھوٹی اینٹوں کو جوڑ کر ایک چار دیواری بنا دی گئی تھی جس میں ایک لوہے نصب تھا۔.ندر چند کمزور بھینسیں بندھی ہوئی تھیں جو سڑک پہ چلتی تو لگتا کہ کپڑے سوکھنے ڈالے ہوئے ہیں۔

 

اتنی دیر میں قریب آتی ہوئی ایک ایکس ایل آئی کی ہیڈ لائٹس نے ان کی توجہ اپنی طرف موڑ دی۔ ڈرائیور گاؤں کا ہی ایک شخص تھا جو سرگودھا گیا ہوا تھا اور اس کے ساتھ مہمان کو بٹھا دیا گیا تھا کہ اسے ٹاہلی والا اتار دینا۔
“اپنے بندے کو اتار لیں جناب، چیک کر لیں کہ ٹھیک ہی ہے بعد میں اعتراض نہ کیجیے گا”۔
اسلم ڈرائیور نے ہنستے ہوئے کہا۔

 

درایں اثنا مہمان باہر نکلا۔ میلے کچیلے کپڑے، پھٹے پرانے جوتے اور سر پر سرمئی عمامہ پہنے جو کبھی سفید رہا ہو گا، جب اس سے آگے بڑھ کر ملنے کی کوشش کی گئی تو اس نے کمال بے نیازی سے تمام اخلاقی اصولوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے سلام کا جواب دئیے بغیر اپنے بستر کا پوچھا اور جاتے ہی پاؤں پسار کر بیٹھ گیا۔
کسی انجانی بات سے خفگی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ ایسی خفگی جو تب طاری ہوتی ہے جب انسان کو اپنے خواب ٹوٹتے محسوس ہوتے ہیں۔

 

ڈاکٹر شعیب کی تمام باتیں، اس کا ڈیرہ ریت کا محل اور فصلیں سبز باغ کی شکل میں اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھیں۔

 

اس نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے بوسیدہ سے شاپر میں ملبوس اخبار نکالا اور اس کے اندر لپٹی ہوئی دو عدد روٹیاں اور سالن نکالا۔ سالن اتنا کم تھا کہ اس سے آدھی روٹی بھی نہیں کھائی جا سکتی تھی۔ ایک دو نوالے لینے کے بعد اس نے ایک آہ بھری اور کھانا ایک طرف رکھ کے لیٹ گیا۔

 

کھانا کھائیے نا، بلال نے استفسار کیا۔

 

راستے میں ڈاکٹر نے پتہ نہیں کتنے دن پرانا دودھ کا ملک شیک بنا کے پلا دیا ہے، پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔
غرض اس سے جو بھی پوچھا گیا اس نے نہایت بد تہذیبی و لا پرواہی سے جواب دیا، جیسے اپنا کتھارسس کر رہا ہو۔
میں اپنی جیب سے پیسے بھر کر اس کو اس کے گاؤں پہنچاؤں گا۔ شاہد نے کہا اور داد بھری نظروں سے باقیوں کو دیکھا کہ جیسے اس کو اس کے گھر پہنچانا کوئی مورچہ فتح کرنے کے مترادف تھا۔

 

نصیر بطور مزارع یہاں آیا تھا پہلی دفعہ گھر سے باہر نکلا تھا,یہ سوچ کر کہ ڈاکٹر شعیب کوئی چوہدری ہو گا، اس کا عالی شان ڈیرہ ہو گا جس میں وہ نوابوں کی طرح رہے گا۔ یہ صورتحال اس کے اوسان خطا کر رہی تھی کہ اگر سب ویسا ہی ہوا جیسا پہلے دن ہوا ہے تو یہ تو ماضی سے بھی بدتر ہے۔ اس نے بہت برے دن گزارے تھے اچھے دنوں کی آس نے اسے گھر چھوڑنے پہ مجبور کیا تھا۔

 

میں گاؤں سے کچھ لے کر آتا ہوں۔ شاہد نے کہا اور جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

جے پیسے نئیں نے تے ایہہ میرے کولوں لے لو” (اگر پیسے نہیں ہیں تو مجھ سے لے لیں) نصیر نے جیب سے پیسے نکالتے ہوئے کہا۔”

 

مہمان نوازی کے شاندار ماضی کے وارثوں کے لیے یہ باعث شرم صورتحال تھی کہ ان کا مزارع انہیں ہی پیسوں کا طعنہ دے رہا تھا۔ نصیر نے ایسا اس انداز سے کہا جیسے کوئی فاتح کسی مفتوح کی جان بخشی کر رہا ہو۔
شاہد نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا اور چل دیا۔

 

واپسی پر اس کے ہاتھ میں بسکٹ، سگریٹ اور سوڈے کی ایک بوتل تھی۔

 

بوتل دیکھتے ہی نصیر کی آنکھیں چمک اٹھیں، ایسے جیسے قارون کا خزانہ ہاتھ آگیا ہو۔

 

شاہد نے گلاس پکڑا جسے اسی سوڈے سے دھویا گیا تھا، اس کے اندر بوتل ڈالی اور اسے نصیر کو تھما دیا۔
گھونٹ بھرتے ہی نصیر نے جیب سے موبائل نکالا اس پہ مجرا چلایا اور آواز بلند کر دی۔ جھومتے ہوئے اس کے منہ سے یہ الفاظ نکل رہے تھے:

 

“اجے تساں میرے رنگ ای نئیں ویکھے”
(ابھی اپ نے میرے رنگ ڈھنگ نہیں دیکھے)۔