Categories
شاعری

آخری سیلفی (زوہیب یاسر)

بچھڑنے سے پہلے کی آخری سیلفی میں سارا درد اور کرب
چہرے سے چھلکتا ہے،
وصل اور ہجر کی درمیانی کیفیت کو شاید نزع کہتے ہیں،
تم نے اقرار کرنے میں اعترافِ جرم جیسی دیر کر دی،
گویا پیلے بلب کے سامنے بیٹھا، ناکردہ گناہوں کا مجرم،
آنکھوں کو تھکا دینے والی روشنی کی تاب نہ لا کر اعتراف کرتا ہے
کہ اس کرب ناک ‘حال’ سے مستقبل کا تختہ بہتر ہے،
میری مستقل مزاجی اور چپ شاید وہی پیلا بلب ثابت ہوئی،
میں مگر اس بڑی سی میز کے پار نہیں تھا،
مشرقی محبت کا یہی رونا ہے،
یہاں کواڑ کھلتے اگر نہیں تو بند بھی نہیں ہوتے
کلوئی (Chloe) اور ڈیفنس (Daphnis) کی محبت اور مشرقی تعلق میں کوئی مماثلت نہیں،
مگر میرے پاس وہ آخری سیلفی Leonardo Da Vinci کے آخری عصرانے (The Last Supper) کی طرح محفوظ رہے گی۔۔۔
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

میں پرانی ہو چکی ہوں (عظمیٰ طور)

کسی پرانی کتاب میں بسی باس کی مانند
میں پرانی ہو چکی ہوں
کسی پوسیدہ تحریر کی مانند
کہ جس تحریر کے مٹے مٹے حروف
اپنے معنی کھو چکے ہیں
میں پرانی ہو چکی ہوں
اس ہینگر میں ٹنگی سفید قمیض کی مانند
کہ جس کے کالر پر وقت کی گرد جم چکی ہے
میں پرانی ہو چکی ہوں
اس مکان کی مانند
کہ جس کے مکیں اس کی بوسیدہ دیواروں
ٹوٹی ٹپکتی چھتوں
سے بیزار نکلے تھے
اور مڑ کر دیکھنے والوں نے
دروازے کے شکستہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے نہ لوٹنے کی قسم کھائی تھی
میں اس مکاں کی دیواروں سے اکھڑے روغن
گھسی ہوئی کھڑکیوں سے جھانکتی
بوسیدگی کی علامت ہوں
میں اتنی پرانی ہوں کہ جتنی پرانی گھڑی سامنے دیوار پہ ٹنگی نجانے کب سے
ایک ہی وقت پہ اٹکی ہے
جیسے ضد پکڑے کھڑی ہے
آؤ مجھے واپس بلاؤ
میرے سیل تھک چکے ہیں
میں چلنا چاہتی تھی مگر
میرے اندر اب سکت باقی نہیں ہے
میں اتنی ہی پرانی تھی تو مجھے
کیوں نئی دنیا بخشی تھی
جہاں نئے پن سے مانوس ہونے کے لیے مجھے پرانا پن دان کرنا پڑ رہا تھا
مجھے کیوں نیا نہ بنایا گیا
کہ میں بھی سمجھ پاتی نئے پن کے تقاضوں کو __

Categories
شاعری

ہم زندہ رہتے ہیں (ساحر شفیق)

ہم زندہ رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
مر جاتے ہیں

ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا
باغیوں کے کسی گروہ کے ممبر نہیں بنتے
کسی مداری کو زندہ سانپ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہوتا
ہم اس کے باوجود مر جاتے ہیں

ہمارے پاس ایک دن ہوتا ہے
جسے ہم سو کر گزار دیتے ہیں
اور ایک زندگی
جو کسی لڑکی کے نام کر دی جاتی ہے

جب سورج مر جاتا ہے
ہم چھت پر ٹہلتے ہوئے
پڑوس میں رہنے والی عورتوں کو سونگھتے ہیں
جب فسادات میں مرنے والوں کے اعضاء اکٹھے کیے جارہے ہوتے ہیں
ہم کسی اخباری تصویر پر پنسل سے
مونچھیں بنا رہے ہوتے ہیں

ہم موٹے ہو جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے باوجود زندہ رہتے ہیں

عین اُس وقت /جب ہم خواب میں
کسی نو عمر لڑکی کے بریزئیر کا ہُک کھول رہے ہوتے ہیں
ایک بوڑھی چڑیل ہمارے مُنہ میں پیشاب کر دیتی ہے

جب کوّے اپنا قومی ترانہ پڑھ رہے ہوتے ہیں
سمندر ہمیں خودکُشی کے دعوت نامے بھیجتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ہم
آگ کا حمل ٹیسٹ کروانے کے لیے جہنم کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہوتے ہیں
ہمارے ہاتھ بوڑھے ہوجاتے ہیں
ہمارے پائوں چُرا لیے جاتے ہیں
دروازہ دیوار میں تبدیل ہوجاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم
آگ کے حمل کی طرح گِر جاتے ہیں

Categories
شاعری

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا
تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی
تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز نوکیلے ناخن کھبوتی ہوں گی
تو نے بھی تو رُوئیں رُوئیں میں موت کو چلتے دیکھا ہو گا
آہستہ آہستہ جیتے خون کو مرتے دیکھا ہو گا
گُھٹی ہوئی گلیوں میں تو نے
تنہائی کو ہچکیاں لیتے سُنا تو ہو گا
تیری پتھرائی آنکھوں نے
اک وہ خواب بھی دیکھا ہو گا
جس کے خوف سے تیرا دل بھی زور زور سے دھڑکا ہو گا
ناآشنائی کے شہروں میں
اپنے بدن کی تنہائی سے لپٹ لپٹ کر رویا ہو گا
جھوٹے دلاسوں کی چادر کو تُو بھی اوڑھ کے سویا ہو گا
میں نے تجھے پہچان لیا ہے
تُو نے بھی تو مجھے کہیں پر
اس سے پہلے دیکھا ہو گا
Image: Cheenu Pillai

Categories
شاعری

اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم
ابھی ابھی
الماری کے اک کونے سے ملی ہے
دبک کر بیٹھی
پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم
کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی
اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے
ہم دونوں کی باتیں تھیں
دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی
گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے
اِک اکلوتی پینٹنگ تھی
جس میں مَیں نے
تمھارے کہنے پر
نیلے رنگ سے اسٹروک لگائے تھے
میری جھولتی کرسی کے سائے میں رکھی کتابیں تھیں
جن کو پڑھ کر ہم
گھر والوں پر رعب جمایا کرتے تھے
مشکل مشکل باتیں کر کے ہم منہ ہی منہ میں ہنستے تھے
گھر والے سب عاجز آ کر
ہم کو تنہا چھوڑ دیتے تھے
میز پہ رکھے دو مگ بھی تھے
جن میں ہم آدھی چائے چھوڑ کے
بھول گئے تھے
ایک قلم تھا ڈھیروں کاغذ تھے
اس نظم کے سطروں میں کیسی میٹھی باتیں ہیں
لیکن اب اس نظم کے پیلے کاغذ پر
وقت نے سلوٹیں ڈالی ہیں
دیکھنے سے یوں لگتا ہے
نظم بہت پرانی ہے
پرانی چیزیں کہاں کسی کو بھاتی ہیں
مَیں نے پھر سے وقت سے نظر چرا کر
اُس نظم کو واپس
رکھ چھوڑا ہے _
Image: Jean Carolus

Categories
شاعری

Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو
تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں
مگر تم نے کبھی سوچا ہے!
تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں
نہ وقت کی وصیت میں تم مجھے اُتنا حصہ دیتے ہو جتنا تم نے مجھے لکھ کر دیا تھا
تم نے کبھی دیکھا ہے!
میں بھی وعدوں اور قسموں کے دریا کا صرف ایک حصہ پار کر پائی ہوں
پھر بھی اقرار عنایت احساس کے تحفوں کی میں خود کو زیادہ حقدار سمجھتی ہوں
لگتا نہیں مگر سچ یہی ہے
ہم کہانی بن چکے ہیں
مگر لیلیٰ مجنوں ہو نہیں سکتے
پچھلی چھٹیاں ہم نے پھولوں کے ساتھ گزاری تھیں
پر اِن چھٹیوں سے پہلے ہی ساری خوشبو ختم ہو چکی ہے
کتنی طویل راتوں میں ہم ستاروں کی محفل میں بیٹھے ہیں
مگر تمھاری جیب اور میرے پرس میں روشن لمحوں کی کوئی بچت نہیں ہوتی
جنوری کی پہلی تاریخ پر ہم خوشیوں کی کمیٹی ڈالتے ہیں
اور اکتیس دسمبر تک ایک دوسرے کو گنتی کی مسکراہٹیں دے پاتے ہیں
یوں تو تم فائلوں کے پاس اور میں کچن کی شیلف کے کونے پر خاص دنوں کی فہرست رکھتی ہوں
لیکن زندگی کے ریڈیو پر یاد کا وہ نغمہ ضرورتوں کے گیت کے بعد ہی آتا ہے
ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم محبت کا سمندر نہیں
بس ایک قطرہ ہیں
اور محبت کی ہارٹ بیٹ نارمل رکھنے کے لیے وہی ایک قطرہ ہی کافی ہے
اگر سنبھال لیا جائے ــــــــــــ
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!

اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!
اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!
تم مشرق و مغرب کی دِشاؤں میں چلنے والی
پروئی سے ہو
جسکے چھوتے ہی، میری پلکوں میں اٹکے
اڑی رنگت کے تمام زرد پتے، جڑ گئے تھے
میری سوچوں سے لپٹی
تمام سوکھی بیلیں، اتر گئی تھیں
اور میری زلفوں میں بکھرے، موتیا کے گجرے
تمہاری تاثیر سے ایک بار پھر مہک اٹھے تھے
جس مہک کے تعاقب میں
تم نے میلوں کا سفر بار بار کیا ہے
کئی آگ کے دریا اور نیلی ندیوں کو پار کیا ہے
ہرے موسموں کی بھری جھولیوں سے
ایک جامنی پھول میرے نام کیا ہے
جس کی ایک ایک پتی پہ
عرقِ محبت کو چھڑکا ہے میں نے
اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!
میرے ناخنوں پہ سدا تیرے رنگ کی بہاریں رہیں گی!
Image: Christian Schloe

Categories
شاعری

نزار قبانی کی رومانی شاعری

[blockquote style=”3″]

“معروف عربی شاعر نزارقبانی کا عملی دورانیہ بیسویں صدی کے نصفِ ثانی پر محیط ہے، ان کے اشعار، نقوشِ فکر اور ان کے رنگارنگ تخیلات مسلسل ایک نسل سے دوسری نسل کی طرف منتقل ہورہے ہیں، نزارقبانی 30 اپریل 1998ء کو وفات پاگئے، مگر ان کا ادبی، شعری و تخلیقی کارنامہ اپنی قوت و انفرادیت کی بدولت ہنوز تازہ و شاداب ہے۔ نزارقبانی نے اپنے باہم متناقض افکار و شعریات کے ذریعے پوری زندگی ادبی و فکری سطح پر ایک قسم کا ہیجان برپا کئے رکھا، وہ بیسویں صدی کے نصفِ آخر کے عربی معاشرے کے تضادات کو ان کی حقیقی شکل وصورت میں بیان کرتے تھے۔ وہ واحد ایسے عربی شاعر تھے جس نے ایک طویل زمانے سے قائم معاشرتی رسوم و رواج کے خلاف پوری جرأت و ہمت سے ہلہ بولا۔ اس نے بھرپور آزادی اور باغیانہ تیور کے ساتھ جہاں ایک طرف فکری، عملی اور شعوری سطح پر اس وقت کے عالمِ عربی کو درپیش مسائل پر اظہارِ خیال کیا وہیں معاشرتی منکرات اور حرام و حلال جیسے نازک موضوعات بھی اس کی ناوک افگنی سے محفوظ نہ رہے۔”

نزّار قبانی عرب دنیا کا ایک معروف نام ہے۔ وہ شام میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے۔ قانون کی تعلیم حاصل تو کی مگر کبھی عملی طور پر قانون دان یا منصف کی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں۔ ملازمت کے طور پر انہوں نے سفارت کاری کا انتخاب کیا اور وہ ملک شام کی طرف سے کئی ملکوں میں سفیر کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ ملازمت کے بعد ڈیڑھ دہائی تک یورپ میں مقیم رہے اور 30 اپریل 1998ء کو ان کا انتقال ہوا۔

نزّار قبانی زمانہء طالب علمی سے ہی شاعری لکھنا شروع کر چکے تھے اور یہ زیادہ تر رومانوی شاعری ہوتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ نے آدھی سے زیادہ دنیا کو متاثر کیا اور پھر اس جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی سطح پر بڑی بڑی تبدیلیاں بھی آئیں۔ اس دور کی عرب دنیا کو نزّار قبانی نے بہت غور سے دیکھا اور انہوں نے عربوں کی حالت زار اور ان کے رویئے کو اپنی شاعری کے ذریعے تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف بھی بھرپور آواز اٹھائی۔ وہ آخر تک استبداد کی مخالفت میں مزاحتمی شاعری کرتے رہے۔

ذاتی زندگی میں وہ ایک نہایت دکھی انسان تھے جن کی پہلی بیوی شادی کے فوراً بعد ہی ایک بم دھماکے میں جاں بحق ہوگئی۔ جس کے بعد انہوں نے اپنی ایک پرانی دوست کے ساتھ دوسری شادی کی اور ان کا بھی جلد انتقال ہو گیا۔ اس کے علاوہ ان کا بیٹا ایک ٹریفک حادثے میں چل بسا۔ اصل زندگی کی تلخیوں سے انہوں نے ایسی شاعری کشید کی کہ جس میں مزاحمتی کڑواہٹ کے علاوہ رومانوی مٹھاس بھی شامل ہے۔

ان کی رومانوی شاعری کے حوالے سے سنگِ میل پبلی کیشنز نے ‘محبت کی 101 نظمیں’ کے عنوان سے ایک کتاب بھی شائع کی ہے جس میں ان کی نظموں کے منظوم تراجم آنجہانی منّو بھائی نے کئے ہیں۔ اس مجموعے میں شامل نظموں کے علاوہ ‘ایک روزن’ کے قارئین کیلئے ہم نے نزّار قبانی کی کچھ مزید رومانوی نظمیں ترجمہ کی ہیں۔ ہر نظم کے آخر میں دیئے گئے ویب لنک سے یہی نظم عربی اور انگریزی میں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

[/blockquote]

مجھے جب محبت ہوتی ہے

مجھے جب محبت ہوتی ہے
تو لگتا ہے میں وقت کا شہنشاہ بن گیا ہوں
زمین اور جو کچھ بھی اس میں ہے، میری ملکیت بن چکا ہے
اور میں گھوڑے پر سوار سورج کی سیر کو نکل کھڑا ہوتا ہوں۔

مجھے جب محبت ہوتی ہے
تو میں بہتی ہوئی روشنی میں ڈھل جاتا ہوں
کہ نظر جسے دیکھ نہ سکتی ہو
اور میری ڈائریوں میں لکھی نظمیں
ببول اور پوست کے کھیت بن جاتی ہیں۔

مجھے جب محبت ہوتی ہے
پانی میری انگلیوں سے پھُدک کر بہہ نکلتا ہے
گھاس میری زبان پر اُگنے لگتی ہے
جب میں محبت کرتا ہوں

میں اس سبھی وقت سے باہر کا کوئی وقت بن جاتا ہوں۔

جب مجھے کسی عورت سے محبت ہوتی ہے
تو تمام درخت میری طرف
ننگے پائوں دوڑنے لگتے ہیں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=56


محبت کا گَر موازنہ کیجے

میری جانِ من میں تمہارے باقی چاہنے والوں جیسا نہیں ہوں
اگر کوئی دوسرا تمہیں بادل لا کر دیتا ہے
تو میں تمہیں بارش پیش کروں گا
اگر وہ تمہیں لالٹین عطا کرتا ہے، تو میں
تمہیں چاند لا کر دوں گا
اگر وہ دے تمہیں ایک شاخ
تو میں تمہیں پیڑ کے پیڑ لا دوں گا
اور اگر کوئی دوسرا تمہیں بحری جہاز لا کردے
تو میں تمہیں سفر تحفہ کروں گا۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=55


جب میں تم سے محبت کرتا ہوں

جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
ایک نئی زبان پُھوٹ پڑتی ہے
نئے شہر، نئے ملک دریافت ہونے لگتے ہیں
گھنٹے ننّھے کتوں کی مانند سانس لینے لگتے ہیں
کتابوں کے صفحوں کے بیچ سے اناج کے خوشے اُگ آتے ہیں
پرندے تمہاری آنکھوں سے شہد کی بوندیں چُرا کر اڑنے لگتے ہیں
انڈین پھلیوں سے لدے قافلے تمہارے پستانوں سے روانہ ہونے لگتے ہیں
ہر طرف آم ہی آم گرنے لگتے ہیں
جنگل آگ پہن لیتے ہیں
اور چہارسُو نیوبین ڈھول بجنے لگتے ہیں۔

جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
تمہاری چھاتیاں لاج شرم جھٹک دیتی ہیں
یہ نُور میں بدل جاتی ہیں، گرج دار ہو جاتی ہیں
تلوار لگنے لگتی ہیں اور ایک ریتلا طوفان بن جاتی ہیں
جب میں تم سے محبت کرتا ہوں تو عرب شہر چھلانگنے لگتے ہیں
اور ڈٹ جاتے ہیں صدیوں کے استبداد کے خلاف
اور انتقام کے خلاف جو قبائلی قوانین کی آڑ میں ان سے لیا جاتا رہا
اور میں، جب میں تم سے محبت کرتا ہوں
تو مارچ کرنے لگتا ہوں
بدصورتی کے خلاف
نمک کے بادشاہوں کے خلاف
صحرا کو ادارہ جاتی بندوبست میں جکڑنے کے خلاف
اور میں تب تک تمہیں چاہتا رہوں گا جب تک کہ دنیا کا سیلاب نہیں آن پہنچتا
میں تب تک تم سے یونہی محبت کرتا رہوں گا جب تک کہ دنیا کا سیلاب نہیں آن پہنچتا۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=61


میری محبوبہ مجھ سے پوچھتی ہے

میری محبوبہ مجھ سے پوچھتی ہے:
‘میرے اور فلک کے بیچ کیا فرق ہے؟’
فرق یہ ہے، میری جان
کہ جب تم ہنستی ہو
میں آسمان کو بھول جاتا ہوں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=334


اے میری چاہت

اے میری چاہت
اگر تم پاگل پن میں میرے برابر ہوتی
تو تم اپنے گہنے اتار پھینکتی،
اپنے تمام کنگن بیچ کر
میری آنکھوں میں آ کر سو جاتی۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=335


میں جب جب تمہیں چُومتا ہوں

میں جب جب تمہیں چومتا ہوں
ایک لمبی جدائی کے بعد،
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے میں کسی سرخ لیٹر باکس میں
جلدی سے محبت نامہ ڈال رہا ہوں۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=336


روشنی لالٹین سے مقدّم ہے

روشنی لالٹین سے مقدّم ہے
نظم ڈائری سے زیادہ اہم ہے
اور بوسہ لبوں سے زیادہ قیمتی ہے

تمہارے نام میرے خط
ہم دونوں سے زیادہ عظیم بھی ہیں اور مقدم بھی
صرف یہی وہ دستاویز ہیں
جہاں لوگ تلاش کرسکیں گے
تمہارا حسن
اور میرا پاگل پن۔

http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=shqas&qid=338

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالات زندگی
http://www.adab.com/en/modules.php?name=Sh3er&doWhat=ssd&shid=2

شاعری
http://www.adab.com/modules.php?name=Sh3er&doWhat=lsq&shid=7&start=0

Categories
شاعری

زبان

جب آدمی محبت میں ہو
وہ پرانے الفاظ کیسے برت سکتا ہے
کیا ایک عورت کو
اپنے محبوب کی خواہش میں
صرف و نحو کے اساتذہ
اور ماہرین لسانیات کے
ساتھ لیٹنا ہوگا

میں نے کچھ نہیں کہا
اس عورت سے
جس سے میں محبت کرتا ہوں
مگر سمیٹے
محبت کے تمام اسمائے صفت
سوٹ کیس میں
اور دور بھاگ گیا
سب زبانوں سے

Categories
شاعری

ایک عشق کی نسلی تاریخ

میں اس کی سانسیں سونگھتا ہوا
دریاؤں اور میدانوں میں داخل ہوا تھا
اور وہ مجھے زرخیز زمین کی طرح ملی تھی
میں تاریک راتوں میں جنما ہوا مہتاب تھا
اور وہ شریانوں سے خون اچھال دینے والی تمازت تھی
میں ریت کی کشادہ دامنی تھا
اور اس کی پشت سرما کے سورج کی طرح تھی
میں ایڑ لگائے ہوئے گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر کودنے والے کا بیٹا تھا
اور اس کی آنکھوں میں
جاٹوں کی خوں ریز صدیاں چنوتی دیتی تھیں
وہ گناہ کی طرح نمکین تھی
اور وہ ذائقہ تھی جو چکھے بغیر زبان پر پھر جاتا تھا
اور میں اس کی گدی میں دانت گاڑ دینے کی حسرت میں تھا
وہ دھرتی پر پھیلا ہوا سرسوں کا کھیت تھی
اور اس کے ہاتھ گندم کاٹنے والی ماں نے بنائے تھے
اور اس کی ناف کے گرد بھر پرا سکم تھا
اور اس کی گھنڈی میں ایسی جان تھی
کہ اس کا باپ موریا عہد میں پتھر چمکانے کا کاری گر معلوم ہوتا تھا
اور اس کے جسم میں توے پر سرخ کی گئی روٹی کی خوشبو تھی
اور میں آنتوں سے اگی ہوئی آرزو تھا
اور میں تلواروں کی موسیقی پر پڑھا ہوا رجز تھا
اور میں تیر کھائے ہوئے گھوڑے سے گری ہار تھا
اور وہ ایسی جیت تھی
جس کی یاد میں
زمین پر کوئی لاٹھ گاڑی جا سکتی تھی

Categories
شاعری

زہر کی پھانک

جادو کی بانسری بجنے والی ہے
بس تم رکو
پھر دیکھو تماشا

تماشا یہی کہ
ہم سب جھوٹے ہیں
ایک ہی رشتہ سے بندھے عمر بتاتے ہیں
بھلا رشتہ اور پھول بھی کبھی
سدا بہار ہوئے۔۔۔؟
رشتے تو زہر کی پھانک ہیں

کیا کہا۔۔۔؟
رشتے سدا بہار ہوتے ہیں
جھوٹے، منافق، دوغلے
یہاں سب برف، پانی ہیں
سدا کے لئے کچھ نہیں
وقت رکتا ہے۔
صرف میخانے میں

گنبد میں گول گول مت گھومو
جو کرنا ہے
کر گزرو
ورنہ دیوار چاٹتے مر جاؤ گے

ناگ، ناری اور نار کا کہنا ہے
ڈسو، جلو اور راکھ ھو جاؤ
بوڑھے سنیاسی نے
زہر پھانکتے چیخ چیخ کر کہا
انسان کے بنائے رواج ورسوم کو پھونک ڈالو
مر جاوؤ
یا پھر” فطری جینا “سیکھ لو

Categories
شاعری

مجھے تم سے محبت ہے

مجھے تمہارے اس دل سے محبت ہے
جو کبوتر کے نرم پروں جتنا نرم محسوس ہو رہا ہے

مجھے تماری سماعتوں سے محبت ہے
جو ہزار گدلے خیالات کے دریاؤں کو
سمندروں کی طرح خود میں جگہ دے کے تازہ دم کردیتی ہے

مجھے تمہاری ان پتلیوں سے محبت ہے
جو زندگی کے دو شفاف محدب عدسوں کے
پیچھے سے دکھوں کا
ان کے جذیات تک پیچھا کرتی ہیں۔
مجھے تمہارے نیوران کے ان سارے دھاگوں سے محبت ہے
جو ٹوٹے وقت کے تاروں کو
پھر سے جوڑنے کا ہنر جانتے ہیں

مجھے تمہاری آواز کی مدھرتا سے محبت ہے
جو وقت کے جلتے تو ے پر پانی کے چھینٹوں کی سی آواز بن کر گر رہی ہے

مجھے تمہارے خاموش صوتی وقفوں سے
محبت ہے
جو تنہائی میں راگ الانپنا جانتے ہیں
مجھے تمہاری انگلیوں کی پوروں سے محبت ہے
جو تھاپ کے کسی ارتعاش سے بہت پہلے
مجھے رقص پہ آمادہ کرلیتی ہیں
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

سب ترے نام کا آخری حصہ ہیں

یاد ہے تم کو
پھول تھا دیا تم نے
بالکل اپنے دل جیسا
اُس گلاب کی ساری پتیاں
مہکا سا کچھ بہکا سا اب شعر کہنے لگتی ہیں
کبھی نظمیں جنتی رہتی ہیں
وہ گلاب خود بھی اب غزل کا سنیاسی ہے
میں نے اسکی ٹہنی بھی ساتھ سنبھال کے رکھی ہے
کانٹے بھی آئے تھے ساتھ کچھ
سب بچا رکھےہیں
کبھی ترچھا سا کانٹا چبھ جائے تو
رنگ اِدھر اُدھر بکھرنے لگتے ہیں
کاغذوں کی سانسیں چلنے لگتی ہیں
اک کہانی خود کو لکھنے لگتی ہے
سچ کہا
یہ افسانے شاعری کتابوں کے سلسلے
یہ تیرے میرے ملن کی کتھا
پھول کا تخیل سے طلسمی سا ناطہ ہیں
سب ترے نام کا آخری حصہ ہیں
Image: Paula Belle Flores

Categories
شاعری

من و تو

تمہارے بازوؤں کے گھیروں میں

آ جانے کے بعد

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے

جیسے سردیوں میں گھاس کی لمبی لمبی ڈالیاں

ہوا میں پلکو رے لینے لگی ہوں

جیسے سمندر کی سطح پر

ہوائیں پانی کے ساتھ کوئی کھیل کھیلنے لگی ہوں

جیسے آسماں پر قوس و قزح کا

رنگدار دائروی جھولا ڈال کر

کائنات پینگیں لے رہی ہو

جیسے کوئی سبز ڈال

اپنے آخری سرے پہ

پھولوں کی بے خوابی سمیٹ

کر اپنے حسن کے زعم میں لچکا رہی ہو

تمہارے گھیروں میں آ جانے کے بعد

مجھے ایسا کیوں لگتا ہے

جیسے پوری کائنات

مجھ میں سما رہی ہو

Image: James R Eads

Categories
شاعری

تم جو آتے ہو

تم جو آتے ہو
تو ترتیب الٹ جاتی ہے
دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے
نرم پوروں سے کوئی ہولے سے
دل کی دیوار گرا دیتا ہے
ایک کھڑکی کہیں کھل جاتی ہے
آنکھ اک جلوہ صد رنگ سے بھر جاتی ہے
کوئی آواز بلاتی ہے ہمیں

تم جو آتے ہو
تو اس حبس، دکھن کے گھر سے
رنج آئندہ و رفتہ کی تھکاوٹ سے
نکل لیتے ہیں
تم سے ملتے ہیں
تو دنیا سے بھی مل لیتے ہیں

Image: Henn Kim