آخری سیلفی (زوہیب یاسر)

بچھڑنے سے پہلے کی آخری سیلفی میں سارا درد اور کرب چہرے سے چھلکتا ہے، وصل اور ہجر کی درمیانی کیفیت کو شاید نزع کہتے ہیں، تم نے اقرار کرنے میں اعترافِ جرم جیسی دیر کر دی، گویا پیلے بلب کے سامنے بیٹھا، ناکردہ گناہوں کا مجرم، آنکھوں کو تھکا دینے والی روشنی کی تاب […]
میں پرانی ہو چکی ہوں (عظمیٰ طور)

کسی پرانی کتاب میں بسی باس کی مانند میں پرانی ہو چکی ہوں کسی پوسیدہ تحریر کی مانند کہ جس تحریر کے مٹے مٹے حروف اپنے معنی کھو چکے ہیں میں پرانی ہو چکی ہوں اس ہینگر میں ٹنگی سفید قمیض کی مانند کہ جس کے کالر پر وقت کی گرد جم چکی ہے میں […]
ہم زندہ رہتے ہیں (ساحر شفیق)

ہم زندہ رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ مر جاتے ہیں ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا باغیوں کے کسی گروہ کے ممبر نہیں بنتے کسی مداری کو زندہ سانپ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہوتا ہم اس کے باوجود مر جاتے ہیں ہمارے پاس ایک دن ہوتا ہے جسے ہم سو کر گزار دیتے ہیں اور […]
تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز نوکیلے ناخن کھبوتی ہوں گی تو نے بھی تو رُوئیں رُوئیں میں موت کو چلتے دیکھا ہو گا آہستہ آہستہ جیتے خون کو مرتے دیکھا ہو گا گُھٹی ہوئی گلیوں […]
اِک نظم (عظمیٰ طور)

اِک نظم ابھی ابھی الماری کے اک کونے سے ملی ہے دبک کر بیٹھی پچھلے برس کی کھوئی یہ نظم کب سے میں ڈھونڈ رہی تھی اس نظم میں مَیں بھی تھی تم بھی تھے ہم دونوں کی باتیں تھیں دروازے پہ ٹھہری اک دستک تھی گہرے نیلے رنگ کے پردے تھے اِک اکلوتی پینٹنگ […]
Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں مگر تم نے کبھی سوچا ہے! تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں نہ وقت کی وصیت میں تم مجھے اُتنا حصہ دیتے ہو جتنا تم نے مجھے لکھ کر […]
اے میری، سردیوں کی دھوپ سی، شیریں محبت!

کومل راجہ: اے مجھ پر
سخت جاڑے کے دنوں میں مسرتیں لے کر
اترنے والی جامنی محبت!
نزار قبانی کی رومانی شاعری

نزار قبانی: جب مجھے کسی عورت سے محبت ہوتی ہے
تو تمام درخت میری طرف
ننگے پائوں دوڑنے لگتے ہیں
زبان

نزارقبانی: میں نے کچھ نہیں کہا
اس عورت سے
جس سے میں محبت کرتا ہوں
ایک عشق کی نسلی تاریخ

سید کاشف رضا: اور وہ ایسی جیت تھی
جس کی یاد میں
زمین پر کوئی لاٹھ گاڑی جا سکتی تھی
زہر کی پھانک

صفیہ حیات: ہم سب جھوٹے ہیں
ایک ہی رشتہ سے بندھے عمر بتاتے ہیں
بھلا رشتہ اور پھول بھی کبھی
سدا بہار ہوئے۔۔۔؟
مجھے تم سے محبت ہے

ثروت زہرا: مجھے تماری سماعتوں سے محبت ہے
جو ہزار گدلے خیالات کے دریاؤں کو
سمندروں کی طرح خود میں جگہ دے کے تازہ دم کردیتی ہے
سب ترے نام کا آخری حصہ ہیں

زبیر فیصل عباسی: کبھی ترچھا سا کانٹا چبھ جائے تو
رنگ اِدھر اُدھر بکھرنے لگتے ہیں
من و تو

ثروت زہرا: تمھارے گھیروں میں آجانے کے بعد
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے
جیسے پوری کائنات
مجھ میں سما رہی ہو
تم جو آتے ہو

ابرار احمد: تم جو آتے ہو
تو ترتیب الٹ جاتی ہے
دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے