Categories
شاعری

ادنیٰ (افتخاری بخاری)

کیا تم جاننا چاہو گے
ادنیٰ ہونے کا مطلب؟
تو سنو!

یہ ایسے ہے
جیسے گھنٹوں قطار میں انتظار کے بعد
تم کھڑکی کے قریب پہنچو
اور ایک پُر رعونت بوڑھا
چھڑی کے اشارے سے
تمہیں ایک جانب ہٹا دے

جیسے پولیس والا تمہیں بھیڑ میں سونگھ کر الگ کرے
اور جامہ تلاشی پر دس کا نوٹ بھی برآمد نہ ہونے پر گالی دے کر چلتا کرے

جیسے معالج تمہارے معائنے سے قبل
اپنے ملازم سے پوچھے
دو ہزار ہیں اِس کے پاس؟

کیا تم نے کبھی کہا
” جناب ! بہت شکریہ ”
ایسی چائے کی پیالی کے لیے
جس میں مکھی گر گئی ہو؟

اگر اب بھی نہیں سمجھے
تو پھر یہ ایسے ہے
جیسے تمہارا مالک تمہیں گاڑی کا تیل بدلوانے بھیجے
جب تمہاری بیوی اکیلی ہو
اُس کے گھر میں
جھاڑ پونچھ میں لگی ہوئی

تمہیں برا لگا نا!
میں بھول گیا
تم دولت مند ہو
عزّت دار ہو
معافی چاہتا ہوں
مگر کوئی اور الفاظ
میری سمجھ میں نہیں آئے
سمجھانے کے لیے

Categories
شاعری

میرا بهائی ایک ہواباز تھا

میرا بھائی ایک ہوا باز تها
ایک روز اس نے اپنا سامان باندها
اور جنوب کی سمت گاڑی پر نکل گیا

میرا بھائی ایک فاتح ہے
ہماری قوم کے پاس جگہ کی کمی ہے
جنگیں اورعلاقے فتح کرنا
ہمارا قدیم خواب ہے

وہ علاقہ جو میرے بھائی نے فتح کیا
“کوارڈرا مامسف” کی پہاڑیوں میں واقع ہے

اس کی لمبائی اسی میٹر اور گہرائی پچاس میٹر ہے.

Categories
شاعری

زبان

جب آدمی محبت میں ہو
وہ پرانے الفاظ کیسے برت سکتا ہے
کیا ایک عورت کو
اپنے محبوب کی خواہش میں
صرف و نحو کے اساتذہ
اور ماہرین لسانیات کے
ساتھ لیٹنا ہوگا

میں نے کچھ نہیں کہا
اس عورت سے
جس سے میں محبت کرتا ہوں
مگر سمیٹے
محبت کے تمام اسمائے صفت
سوٹ کیس میں
اور دور بھاگ گیا
سب زبانوں سے

Categories
شاعری

البتراء

کتنے سمُندر
کتنے صحرا
جنگل اور بارشیں
بے شمار آئینوں کا خالی پن
لمحے یا صدیاں
عبور کر کے
داخل ہوئی
میری تنہائی
تیری تنہائی میں

اے شہر گلِ سرخ !
اے عظیم خوب صورت پتّھر !
مجھے خزانے سے
کوئی سروکار نہیں
جہاں کھونٹے سے بندھا
لال گھوڑا
تئیس سو برس
کی بے خوابی میں
ایستادہ ہے

مجھے فقط تیری اداس رات کا
ایک کونا درکار ہے
کہ میری خاموشی
تیری خاموشی سے کلام کرے

میرے پاس افسوس کی کہانی ہے
جسے سن کر، قدیم چاند،
ریت کے آنسو بہائے گا
کہ تیرے ماتمی گلاب سیراب ہوں

اڑتے زمانوں کی دھجّیاں
گم شدہ عمروں کی رائگانی
تاریخ کی منافق الماریوں میں
لٹکتے اِستخواں
مجھے امانت دار پائیں گے

برباد دیواروں کی خراشوں سے
جھانکتا انہماک نہیں ٹوٹے گا

اے گلاب شہر !
میں بے زبان قصّہ گو
ایک شب بسری کا سوالی ہوں
تیرے سنگین دروازے پر

میں تجھے تیرے جیسا
اپنا دل ہدیّـہ کروں گا،
پتّھر کا گلاب

تجھے خاموش داستان سناؤں گا
کسی بہت قدیم زمانے کی
گناہ گار خدائوں سے دور
خالص عبادت گذار اندھیرے میں
صبحِ ابد کے آخری قہقہے سے بے نیاز

Categories
شاعری

مایوسی

میں وقت میں
چلتے چلتے رکا
تا کہ بچوں کی خاطر
خریدوں
میں کچھ روٹیاں
اور گزر بھی گئے
جانے کتنے برس۔۔۔۔
اور میرے لئے
وقت بد قسمتی بن گیا
تھے مرے ہاتھ میں پیسے
پر ہنسنے والوں نے دیکھا
انہیں غور سے،
اور بولے کہ اے غم زدہ !
اب تو سکے ہمارے
بدل. بھی چکے ہیں !!
Image: Jacques Resch

Categories
شاعری

آ چنو رل یار

ان کے ہریالے باغوں میں
ہمارے سوکھے ہاتھوں نے
جو پیڑ لگائے تھے
اور جن کو ہم نے
اپنی پیاسی عمروں کا
پانی بخشا تھا
ان پیڑوں پر
دھوپ میں جلتی
اپنی زندگیوں کی
محنت کے پھل
پکنے لگے ہیں

آؤ اب ہم پتھر ڈھونڈیں
اپنے پیٹ پہ باندھنے کو

Image: Burhan Karkutli

Categories
شاعری

ایک اور افتخار کے نام

تم تو کہتے تھے
دنیا بدلنے کو ھے
چھوٹے چھوٹے تھے ہم
فلسفی کہہ کے سب چھیڑتے تھے تمہیں
فلاں نے کہا ھے!
فلاں نے لکھا ھے!
کتابوں سے دیتے تھے اکثر حوالے
سویرے سویرے
مجھے روز لے جاتے تھے
ساتھ اسٹال پر
مفت اخبار پڑھنے
یہ دھن تھی
کہ بس ھو نہ ھو
آج دنیا بدلنے کی اچھی خبر
چھپ گئی ھو

زمانے کی آندھی میں اڑتے ھوئے
ٹکڑے اخبار کے
ہم جدا ھو گئے
پھر ملے ہی نہیں

افتخار!
اب مرے شیشہء عمر میں
آخری ریت ھے

چند آئندہ اخبار باقی ہیں شاید
ترے نقش دھندلا چکے ہیں
مری یاد میں
پر ترا نام میں بھول سکتا نہیں
میرے بچپن کے اے دوست
ہم دونوں ہم نام تھے نا!

نہیں جانتا
تم کہاں ھو
یا شاید نہیں ھو ابھی تک
مری طرح دنیا میں
دنیا جو بدلی نہیں

ہاں ! وہ جو اسٹال تھا، نا
وہ اخبار کا
ریلوے روڈ پر
اس جگہ ایک جوتوں کی دکان ھے
اس زمانے کے ہاکر سبھی مر چکے ہیں

Image: Harry Kent

Categories
شاعری

کیا کبھی دیکھا ہے

کیا کبھی دیکھا ہے
مقدس دوپہروں میں
بوڑھی عورتوں کو
قطاروں میں
محافظوں کو تلاشی دے کر
مین گیٹ پار کرتے ہوئے
جہاں نوازے ہوئے تکبر
سخاوت کرتے ہیں
تھوڑا سا آٹا،
تھوڑا سا گھی
سردی سے کپکپاتے بچے
سویر کے کاٹتے کہرےمیں
قیمتی گاڑیاں دھوتے ہوئے،
صاف ستھرے بچوں کے رنگین
بھاری بستے،
ان میں رکھتے ہوئے
کیا ننھی نوکرانیاں دیکھی ہیں
چند ہزار میں خریدی ہوئیں،
بدمعاش بڈھوں کو
ان کی چٹکیاں لیتے ہوئے
جب ان کے خیال میں
وہ دیکھے نہیں جا رہے ہوتے
کیا اجتماعی شادیاں دیکھی ہیں
جب وہ غلاموں کی افزائش نسل کا
گھناؤنا کھیل کھیلتے ہیں
کیا چلچلاتی دھوپ میں کھڑی
بیمار مزدور عورتیں دیکھی ہیں
ثروت مندوں کے دروازوں پر
کھلنے کے انتظار میں
اگر نہیں دیکھا
تو معاف کیجئے گا
آپ ایک غریب آدمی ہیں
غریبوں کے محلے میں رہنے والے ۔

Image: Dawn

Categories
شاعری

ہم پیشہ

تپتی سڑکوں پر
مجبور حرکت
عمروں کی اس بھیڑ میں
مجھ کو روز نظر آتی ھے
کچرے کے ڈھیروں سے
اپنے نصیب کے
ٹکڑے چننے والی
یہ محنت کش لڑکی

ٹین کے ڈبے،
خالی بوتلیں،
ٹوٹی چپلیں

کچھ دن بعد
یہ کوڑا کرکٹ
اجلے رنگ پہن کر
بازاروں کے
شوکیسوں میں
سج جائے گا
تب کچرا چننے والے
ان دو میلے ہاتھوں کی مشقت
کس کو یاد رہے گی

سوچتا ہوں
خود میرا کام بھی ایسا ہی ہے
رنج و مصیبت کے مارے
ان گلے سڑے شہروں میں بکھرے
دکھ کے منظر چنتا رہتا ہوں
اور نظمیں بنا کر
اخباروں میں چھپواتا ہوں
وہ نظمیں
جن کے مداح
کبھی دکھ چننے والی آنکھوں کا
اک دکھ بھی جان نہ پائیں گے
Categories
شاعری

چودھویں صدی کی آخری نظم

چودھویں صدی کی آخری نظم
نئی کتابوں میں یہ بھی لکھنا
کہ پچھلا سارا سفر
تو ریت اور دھوپ کا تھا
درخت کے سائے میں فنا
اور ثمر میں زہریلے ذائقے تھے

ہوا سے پیاس
اور خاک سے بھوک
ہم کو میراث میں ملی تھی

ہم اپنے اجڑے گھروں کی
کچھ راکھ
اپنی بے چہرگی پہ مَلتے
کہ یوں ہی شاید
کوئی ہماری شناختوں کی
سبیل بنتی
کوئی ہمارا جواز ہوتا
کوئی ہماری دلیل بنتی

نئے زمانوں کے نام لکھنا
کہ پچھلے قصوں کے ہر ورق میں
لہو کی بو تھی
سطور حرف وفا سے خالی تھیں
صدق غائب تھا

یہ بھی لکھنا
کہ چودہ صدیوں سے ہانڈیوں میں
ابُلتے پتھر گلے نہیں تھے
ہماری ماوں نے اپنے بچوں کو
دہشتوں میں حنوط کر کے
جنم دیا تھا

نئی کتابوں میں یہ بھی لکھنا

Image: Yadesa Bojia