Categories
شاعری

دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

میں تمہارے خوابوں کو بھٹکنے سے نہیں روکتا
کیونکہ اِن کی سکونت کے لئے جو آنکھیں بنی ہیں
وہ صرف میرے پاس ہیں
میں اپنے خوابوں کی ریز گاری
تمہاری جیبوں میں نہیں ڈالتا
کہ تمہیں اِن کے بوجھ سے گھبراہٹ ہوتی ہے
میں تمہارے درد کی صراحی سے روزانہ
چِلوُ بھر درد پی جاتا ہوں
آخر ایک روز صراحی خالی پا کے
تمہیں درد کا ذائقہ بھول جائے گا
میں اپنے خیالوں کو
سبزی مائل رکھتا ہوں
کہ وہاں تمہیں موسم کی شِدت
اور حِدت کا احساس نہ ہو
میں محبت کے گیت
اونچے سُروں میں نہیں گاتا
میں محبت کے دھویں سے مرغولے نہیں بناتا
سینے میں کہیں پھیلائے رکھتا ہوں
صرف اپنے لئے
Image: Duy Huynh

Categories
شاعری

درخواست (غنی پہوال)

خواہش کی سوکھی ٹہنی
جب بھوکی چڑیا میں تبدیل ہوکر مرگئی
تو مجھے آنسوؤں کا جنازہ بنا کر
تم کسی ویرانے میں دفن کر آئی
مگر جب چاہت بھری
تمہاری آنکھوں کے وسیع صحن میں
امید کے پودوں میں
پھول لگنے کا موسم آئے
تو چپکے سے
مجھے کسی کیاری میں بو کر
پھر سے بھول جانا
Image: Seema Pandey

Categories
شاعری

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا (سرمد صہبائی)

تُو نے بھی تو دیکھا ہو گا
تیری چھتوں پر بھی تو پھیکی زرد دوپہریں اُتری ہوں گی
تیرے اندر بھی تو خواہشیں اپنے تیز نوکیلے ناخن کھبوتی ہوں گی
تو نے بھی تو رُوئیں رُوئیں میں موت کو چلتے دیکھا ہو گا
آہستہ آہستہ جیتے خون کو مرتے دیکھا ہو گا
گُھٹی ہوئی گلیوں میں تو نے
تنہائی کو ہچکیاں لیتے سُنا تو ہو گا
تیری پتھرائی آنکھوں نے
اک وہ خواب بھی دیکھا ہو گا
جس کے خوف سے تیرا دل بھی زور زور سے دھڑکا ہو گا
ناآشنائی کے شہروں میں
اپنے بدن کی تنہائی سے لپٹ لپٹ کر رویا ہو گا
جھوٹے دلاسوں کی چادر کو تُو بھی اوڑھ کے سویا ہو گا
میں نے تجھے پہچان لیا ہے
تُو نے بھی تو مجھے کہیں پر
اس سے پہلے دیکھا ہو گا
Image: Cheenu Pillai

Categories
شاعری

Self Actualization (حمیرا فضا)

میں اکثر اعتراف کر جاتی ہوں تم ایک اچھے مرد ہو
تم بھی ماننے پر مجبور ہوجاتے ہو میں ایک اچھی عورت ہوں
مگر تم نے کبھی سوچا ہے!
تمھاری باتیں ہر سمے خوشبوؤں سے بھیگی نہیں رہتیں
نہ وقت کی وصیت میں تم مجھے اُتنا حصہ دیتے ہو جتنا تم نے مجھے لکھ کر دیا تھا
تم نے کبھی دیکھا ہے!
میں بھی وعدوں اور قسموں کے دریا کا صرف ایک حصہ پار کر پائی ہوں
پھر بھی اقرار عنایت احساس کے تحفوں کی میں خود کو زیادہ حقدار سمجھتی ہوں
لگتا نہیں مگر سچ یہی ہے
ہم کہانی بن چکے ہیں
مگر لیلیٰ مجنوں ہو نہیں سکتے
پچھلی چھٹیاں ہم نے پھولوں کے ساتھ گزاری تھیں
پر اِن چھٹیوں سے پہلے ہی ساری خوشبو ختم ہو چکی ہے
کتنی طویل راتوں میں ہم ستاروں کی محفل میں بیٹھے ہیں
مگر تمھاری جیب اور میرے پرس میں روشن لمحوں کی کوئی بچت نہیں ہوتی
جنوری کی پہلی تاریخ پر ہم خوشیوں کی کمیٹی ڈالتے ہیں
اور اکتیس دسمبر تک ایک دوسرے کو گنتی کی مسکراہٹیں دے پاتے ہیں
یوں تو تم فائلوں کے پاس اور میں کچن کی شیلف کے کونے پر خاص دنوں کی فہرست رکھتی ہوں
لیکن زندگی کے ریڈیو پر یاد کا وہ نغمہ ضرورتوں کے گیت کے بعد ہی آتا ہے
ہمیں مان لینا چاہیے کہ ہم محبت کا سمندر نہیں
بس ایک قطرہ ہیں
اور محبت کی ہارٹ بیٹ نارمل رکھنے کے لیے وہی ایک قطرہ ہی کافی ہے
اگر سنبھال لیا جائے ــــــــــــ
Image: Henn Kim

Categories
شاعری

سمندر پہ کی گئی محبت (ساحر شفیق)

میں نے پہلی بار اُسے
ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شُدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا
جب وہ ہنستے ہوئے تصویر بنوا رہی تھی

اس کی آنکھیں بادلوں میں گھرے ہوئے سورج جیسی تھیں
یقینا بچپن میں اُسے نیند میں چلنے کی عادت رہی ہوگی

سمندر___ جو رشتے میں ہم دونوں کا کچھ نہیں لگتا تھا
پھر بھی ہمارے درمیان تھا

محبت ٹھنڈے پانی کی بوتل نہیں ہوتی
جسے میں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اُسے پیش کر سکتا

اگر میں نے سمندر کے بارے میں کوئی کتاب پڑھی ہوئی ہوتی
___ یا___
میں اس تباہ شدہ جہاز کا کپتان رہا ہوتا تو
اُس سے کچھ دیر گفتگو کر سکتا تھا

اگر میرے پاس کچھ پھول ہوتے تو میں اُسے دکھا کر سمندر میں بہا دیتا
پیغام دینے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے
ریل کے سفر میں بننے والا تعلق
___ اور___
سمندر پہ کی گئی محبت ہمیشہ دُکھ دیتی ہے

آج برسوں بعد___
خودکشی کے لیے کسی مناسب مقام کی تلاش میں پھرتا ہوا
میں سوچ رہا ہوں
اگر اُس شام کوئی لہر مجھے بہا کر لے جاتی
تو___میں اُسے کچھ گھنٹے یاد رہ سکتا تھا
Image: Huebucket

Categories
شاعری

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے (فرح دیبا اکرم)

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے
جب اس کا دم گھٹنے لگے تو
کھڑکی پہ پردہ ڈال کر
مدھم روشنی کو
اندھیرے کی چاندنی سے ڈراتی ہے

ایک آخری کام رہ گیا ہے
تیری امانت، تیرے سپرد کرنی ہے
اپنے جنوں کے بےمعنی اضطراب کو
تمھارے دروازے کے ڈور میٹ پہ رکھ کر
زمانے کی زنجیر کھینچنی ہے

میں وحشت کا استعارہ ہوں
زندگی میری آہٹ سے ڈر جاتی ہے
موت آواز کے سنّاٹے میں ہڑبھڑا اُٹھتی ہے
جانتے ہو، میں جہاں ہوں۔۔۔وہاں آسماں کا سایہ نہیں
بس اُس کی اک آہ نے
میرے خواب کی تعبیر اُلٹ دی۔۔۔
Image: Krisztian Tejfel

Categories
شاعری

ورثہ (ثروت زہرا)

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”1/2″][vc_column_text css_animation=”” css=”.vc_custom_1475943083005{background-color: #e0e0e0 !important;}”]

 

Heritage

Life was bequeathed a love of mirrors
And mirrors hold her love’s reflections.

Life will ever gaze at reflections,
Will ever kiss Love’s frozen shapes.

Smash the mirrors to touch Love’s warmth!
But Life was bequeathed a love of mirrors.

Translation: Dr. Rizwan Ali

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/2″][vc_column_text css=”.vc_custom_1475944594720{background-color: #ddc090 !important;}”]

ورثہ

 

زندگی کو آئینوں سے محبت 
ورثے میں ملی ہے 
اور آئینے میں اس کی محبوب کا عکس 
منجمد کردیا گیا ہے 
زندگی عکس کو دیکھ سکے گی 
عکس کے منجمد زاویوں پر 
اپنے ہونٹ رکھ سکے گی 
مگراپنے محبوب کی حرارتوں کو 
چھونے کے لئے ،
اسے آئینے کو توڑنا پڑے گا 
لیکن زندگی کو تو 
آئینوں سے محبت ورثے میں ملی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”1/1″][vc_column_text css_animation=””]
Image: christian schloe[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]