Categories
شاعری

ہائے عرفان خان (علی اکبر ناطق)

قسم ہے مجھے اپنی آنکھوں کی
جو بہت برکت والی تھیں
اِن میں حزن و ملال کے سیراب بھر گئے ہیں
یہ آنکھیں دیکھنے میں بہت ہنرمند اور سمجھنے میں جلد باز تھیں
یہ غم سے بھر گئی ہیں
کیا تم نہیں جانتے غم کتنا بے رحم دیوتا ہے
ایسی آنکھوں میں یاس کے کنکر ڈال دیتا ہے
جن کی اذیت خدا سے بڑی ہوتی ہے
خدا بے رحم نہیں مگر کیا وہ زندہ آنکھوں والوں کو مرنے سے روک نہیں سکتا
کیا وہ موت کے دیوتا پر اپنا دُرہ نہیں چلا سکتا
کیا خدا اُن لوگوں کو اکیلے چھوڑ دینے پر افسردہ نہیں ہوتا
جو دوسروں کے لیے اپنی آنکھیں کھلی رکھتے ہیں
اے عرفان خان
اگر مَیں خدا ہوتا تو تمھیں کچھ وقت کے لیے موت سے مستثنیٰ قرار دےدیتا
اگر مَیں غم ہوتا تو تمھاری آنکھوں میں قینچیاں نہ پھیرتا
مگر اب تو مَیں اِن دونوں میں سے ایک بھی نہیں
فقط نوحہ کہنے پر اختیار رکھنے والا شاعر ہوں
اب تُو اِسی پر قناعت کر

Categories
شاعری

پونے دو ارب گلیڈی ایٹرز ( علی اکبر ناطق)

مَیں گلیڈی ایٹر کے خونیں کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
جب وہ قتل کرنےکے لیے نہیں
ایک دوسرے سے بچنے کے لیے لڑتے ہیں

پھر اُن میں سے ایک مارا جاتا ہے
یا پھر دونوں
یہاں تک کہ میدان خون کا تالاب بن جاتا ہے
اُسی لمحے تماشا دیکھنے والوں کی تالیاں گونجتی ہیں
تالیوں کی آوازیں گلیڈی ایٹر کی لاشیں نہیں سُنتیں
وہ فقط تڑپتی ہیں
مَیں اِس کھیل سے محظوظ ہوتا ہوں
کیونکہ مَیں جانتا ہوں
مَیں کسی بھالے ، نیزے یا تلوار کی ضرب سے بہت دُور ہوں
فقط ایک تماشائی
فاتح گلیڈی ایٹر کی قیمت
میری صرف ایک تالی کے برابر ہے
وہ تالی
جسے کبھی کبھی مَیں اپنے زانو پر پیٹتا ہوں
یا دونوں ہاتھوں سے بجاتا ہوں
گلیڈی ایٹر میری تالی کی آواز کو شناخت نہیں کر سکتا
کہ وہ ایک لمحے میں بہت سی تالیاں سُنتا ہے
یا اگر وہ زخموں سے چور ہے یا مر چکا ہے تو اُسے تالیاں بالکل سنائی نہیں دیتیں
اِس کا تجربہ
ایک ایسے شخص کو کیسے ہوسکتا ہے جو میدان سے باہر بیٹھا ہے
ہاں مگرجب تک اچانک تماشائی خواب سے بیدار نہ ہو جائے
اور اُسے پتا چلے کہ وہ خود گلیڈی ایٹر ہے
اور ابھی چند لمحوں بعد مرنا ہے
اے پونے دو ارب گلیڈی ایٹرو
ایک دن تمھیں پتا چلے گا کہ تم تماشائی نہیں ، گلیڈی ایٹر ہو
پھر تمھیں کوئی تالی، کوئی نعرہ سنائی نہیں دے گا
تمھارے کان بحرے ہو جائیں گے
اور میدان خون کے تالاب میں بدل جائیں گے
پھر تمھیں خبر ہو گی یہ تماشا محظوظ ہونے والا نہیں
Image: Pakistan Today

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – آخری قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(56)

اُس دن مَیں سکول سے بھاگ کر کمپنی باغ میں آگیا۔ یہ صرف میری بات نہیں تھی،جو لڑکا بھی سکول یا کالج سے بھاگتا،وہ یہیں آتا۔ اِس کی کئی وجوہات تھیں۔ اول یہ جگہ بالکل کالج اور اسکول کے سامنے پڑتی تھی۔ درخت اِتنے زیادہ اور گھنے تھے کہ اُن کی اوٹ سے آسمان کو دیکھنا کسی کے بس کا روگ نہیں تھا۔ اِن درختوں کے بیچوں بیچ ایک چھوٹی ریل گاڑی کی پٹڑی تھی،جس پر صبح سے شام تک ایک ریل کچھوے کی چال چلتی رہتی اوربچوں اور بڑوں کو جھولے دیتی رہتی۔ اس کا ٹکٹ بہت ہی معمولی تھا،جو غریب سے غریب آدمی بھی برداشت کر سکتا تھا۔ ریل کا انجن کوئلوں سے چلتا تھا۔ یہ کوئلے اُس دور میں بہت سستے تھے۔ پارک انگریز ی دور میں انگریز فیملی کے لیے تیار کیا گیاتھا۔ اِس لیے اِس میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں،جو کسی بھی یورپین پارک میں ہو سکتی ہیں۔ درخت روشیں،جھولے،خوبصورت پرندے اور جانور،غرض ہر چیز میں ایک ترتیب اور حسن تھا۔ بہت سے والدین اپنے سکول کے بھگوڑے بچوں کو یہیں سے آن پکڑتے۔

اُس دن صبح کے ساڑھے نو بجے تھے اور مئی شروع ہو چکا تھا۔ ایک مہینہ پہلے گزرنے والی بہار نے اِتنا سبزہ پھیلا دیا تھا کہ آنکھوں میں سوائے سبزی کے کسی شے کا سامنا نہیں تھا۔ مَیں کمپنی باغ میں اِدھر اُدھر گھومتا رہا۔ کبھی ٹکٹ لے کر اُسی ریل پر چڑھ جاتا،جو پارک کے ایک کونے سے دوسرے کو نے تک چکر کاٹتی ہوئی نکل جاتی،پھر دس منٹ بعد وہیں آن کھڑی ہوتی۔ کبھی ریل کے ساتھ ساتھ اِدھر سے اُدھر بھاگتا جاتا،کبھی کسی درخت پر چڑھ جاتا،وہاں سے پھراُتر کر ریل پر چڑھ جاتا۔ اِسی طرح میں اِس ریل پر بیٹھا اِدھر اُدھر کے نظاروں میں گم جارہا تھا،اچانک ریل ایک جگہ رُک گئی۔ یہ جگہ ریل کے رُکنے کی نہیں تھی،اِس لیے مجھے حیرانی ہوئی۔ نیچے اُترا تو میری نظر ایک مجمعے پر پڑی،جو ایک بہت پُرانے پیپل کے درخت کے نیچے دکھائی دے رہا تھا۔ کچھ لوگ آرے اور کلہاڑوں سے پیپل کے ارد گرد گڑھا کھود کر اُس کے تنے کو کاٹنے کے درپے تھے،جبکہ ایک بوڑھا انگریز اُس گڑھے میں بیٹھا،اُن کے کام میں رکاوٹ ڈال رہا تھا۔ دوآدمی اُسے کھینچ کر باہر نکالنے کی کوشش میں تھے لیکن وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ دوسرے لوگ اِس کھینچا تانی کے عمل سے ارد گرد کھڑے محظوظ ہو رہے تھے۔ وہ نہ تو بڈھے کی طرف داری کر رہے تھے،نہ اُن دو آدمیوں کو روک رہے تھے،جو بوڑھے کو بے دردی سے باہر کھینچنے میں لگے تھے اور اُسے پنجابی میں سخت سست سنا بھی رہے تھے۔ لیکن اُس نے مضبوطی سے پیپل کی جڑوں کو پکڑا ہوا تھا اور کوشش کے باوجود اُن سے باہر نہیں نکل رہا تھا۔ اِس عمل میں اُس بوڑھے انگریز کا ہیٹ پاس ہی گیلی مٹی میں مُرا تُڑا پڑا تھا۔ ہیٹ کی حالت سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اُس پر کئی لوگوں کے پاؤں آئے ہیں اور اِس قابل نہیں رہا کہ دوبارہ سر پر رکھ لیا جاتا۔ بوڑھے کی رنگت بہت زیادہ سُرخ اور سفید تھی۔ لیکن یہ وہ سرخی نہیں تھی،جو خون اور جوان صحت کی نشانی ہوتی ہے۔ بلکہ یہ رنگت نسل اور قوم کا پتہ دینے والی تھی۔ رنگت اِس قدر سُرخ ہو چکی تھی،جو عمر کی زیادتی کی وجہ سے دیکھنے والوں کے لیے کراہت پیدا کر دیتی ہے اور سفید بوڑھوں کے چہرے بندر کی پشت کے رنگ سے مشابہ ہو جاتے ہیں۔ قد ایک تو ویسے بھی لمبا تھا،اُس پر لاغر پن نے اُس کی قامت کو مزید ہوا دی تھی،جس کی وجہ سے وہ ضرورت سے زیادہ لمبا نظر آ رہا تھا۔ پاؤں میں جوتے چمڑے کے تھے لیکن وہ اتنے بوسیدہ اور مٹی میں لتھڑ چکے تھے کہ اُن کا اصلی رنگ کوئی نہیں بتا سکتا تھا۔ عینک کی حالت بھی اُس کے جوتوں سے زیادہ اچھی نہیں تھی۔ عینک کی کمانیوں پر ٹاکیاں تو نہیں لپٹی تھیں لیکن اُن کمانیوں کا رنگ اِس طرح پھٹ گیا تھا کہ اُس سے عینک کی عمر کا بخوبی اندازہ ہو تاتھا۔ بوڑھا اِس زور آزمائی میں بہت زیادہ تھک چکا تھا اور قریب تھا بیہوش ہو جائے۔ لوگ اُس کی بے بسی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ہنس بھی رہے تھے۔ بوڑھا خود بھی پیپل کاٹنے والوں کو ہانپتے ہوئے،انگریزی میں گالیاں دے رہا تھا۔ یہ لڑائی شاید کافی دیر سے جاری تھی،اس لیے کلہاڑوں والے آدمی اب اُس پر سختی کرنے پر اُتر آئے تھے۔ مَیں جب سے وہاں کھڑا تھا،اُس کے ابتدائی لمحوں میں خود بھی لطف لیتا رہا لیکن جب مجھ پر اصل حقیقت کا انکشاف ہوا کہ بوڑھا اصل میں اُنہیں پیپل کے کاٹنے سے مانع ہو رہا ہے اور سب لوگوں میں دراصل یہی ایک انسان ہے،تو میری دلی ہمدردیاں اُس کے ساتھ ہو گئیں۔ لیکن مَیں اِس معاملے میں اُس کی مدد کرنے سے بالکل قاصر تھا۔ مجھے اِس سارے قضیے میں بوڑھے سے صرف ایک ہی گلہ تھا کہ وہ یہا ں کیا کر رہا ہے۔ ممکن تھا،وہ لوگ اُس بڈھے کو کھینچ کر کسی دوسرے درخت سے باندھ کر ا پنا کام کر لیتے کہ اُسی لمحے کمپنی باغ کا انچارج آگیا۔ اُس نے آتے ہی اُن آدمیوں کو اشارے سے پیچھے ہٹایااور خود اُس کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا،لیجیے ولیم صاحب،اب باہر آجایے،یہ پیپل نہیں کٹے گا۔ پھر اُن لوگوں کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے،جناب آپ اپنا معاہدہ کینسل سمجھیں۔ مَیں آپ کا بیانہ واپس کرتا ہوں۔ ہم اِس بارے میں دوبارہ کمیٹی بنائیں گے۔ اگر یہ درخت کاٹنے کا فیصلہ ہوا تو سب سے پہلے آپ ہی کو تر جیح دی جائے گی۔ اب قریب تھا،وہ انچارج کے ساتھ بھی اُلجھ پڑتے کہ تماشا دیکھنے والے سب لوگوں نے بھی اَنچارج اور اُس بوڑھے انگریز کی حمایت شروع کردی۔ جب معاملہ طے پا گیا اور یہ بھی طے ہو گیا کہ اِس کھودے گئے گڑھے کی مزدوری بھی ادا کردی جائے گی اور درخت نہیں کٹے گا،تو مجھے ایک گونا خوشی ہوئی۔ اِس کے بعد میں جلد ہی وہاں سے چلا آیا۔ البتہ میرے دماغ میں ایک ہلچل شروع ہو گئی کہ بوڑھا انگریز،جسے کمپنی باغ کا انچارج ولیم کے نام سے پکار رہا تھا،یہ آخر کون ہے؟یہاں کیا کرتا پھرتا ہے؟اِس کا اِن درختوں سے کیا تعلق ہے؟اِس سے بڑھ کر یہ کہ پارک کا انچارج اِسے کیسے جانتا ہے؟مَیں اِن سب سوالوں کے جواب چاہتا تھا،مگر میری ہزار جستجو کے بعد وہ بوڑھا اُس پارک میں دوبارہ دکھائی نہیں دیا۔ حالانکہ مَیں اب کمپنی باغ میں بلا ناغہ اِسی لیے چکر لگانے لگا تھا۔ جب کافی دنوں کی کوشش کے باوجود وہ نظر نہ آیا تو مَیں نے بھی اُسے بھلا دیا۔ البتہ یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ پیپل کے گرد کھودا جانے والاگڑھا اب پُر ہو چکا تھا اور پیپل کی شاخیں مزے سے ہلکورے لے رہیں تھیں اور پتے کھڑکھڑا رہے تھے۔

دن گزرتے رہے اور مَیں یہ تمام واقعہ فراموش کر گیا۔ اِس واقعے کے تین مہینے بعد میں اپنے دوست اور سکول فیلو احمد شہزاد کے ساتھ،جسے اُس کا اَبا بھی لالہ کہتا تھا،بڑی نہر کا بجلی گھر دیکھنے کے لیے رینالہ چلا گیا۔ جیسا کہ بہت دفعہ پہلے بتایا جا چکا ہے،رینالہ اوکاڑہ کے مضاف میں ہی کئی نہروں کے دامن میں ایک بہت دلفریب اور خوبصورت جگہ ہے۔ جہاں مچلز فروٹ فارم اور انگریزوں کے کئی بنگلے تھے۔ یہاں کی نہریں،باغات،بنگلے،بڑے بڑے اور گھنے درخت چھوٹے سے اساطیری شہر کا نقشہ پیش کرتے تھے۔ اِس جگہ جا کر واقعی ایسے لگتا ہے کہ انسان وکٹورین دور کے بھوت بنگلوں میں آ گیا ہے۔ ہم دونوں وہاں دیر تک سیر سپاٹا کرتے رہے اور نہر کے کناروں پر بیٹھ کر کنول کے پھولوں کے درمیان کُنڈیاں پھینک پھینک کر مچھلیاں پکڑنے کی ناکام کوشش میں لگے رہے۔ جب دو تین گھنٹوں کی مشقت کے بعد مچھلی کی بجائے ایک مینڈک کُنڈی میں پھنسا تو ہمیں بہت کوفت ہوئی۔ ہم نے اپنی کُنڈیاں وہیں پھینکیں اور نہروں کے دونوں پل پار کر کے دوسرے کنارے پر آ گئے۔ اِس جگہ ستگھرہ روڈ کے عین کنارے پر ایک دیسی آئس کریم بنانے والی چھوٹی سی فیکڑی سے دو آئس کریم خرید کر( جو اُس وقت نہائت عمدہ خالس دودھ کی بنتی تھیں اور سستی اتنی کہ ایک روپے کی دو آ جاتی تھیں) وہیں ساتھ والے بڑے برگد کے سائے میں بیٹھ کر کھانے لگے،جس کے نیچے سے ٹھنڈے پانی کی چھوٹی سی ندی گزرتی تھی،جو چھاؤں کو مزید ٹھنڈاکر رہی تھی اور اِس اگست کے مہینے میں برگد کا سا یہ شجر طوبیٰ کی مانند تھا۔ اِس ساری جگہ کا نام نہری کوٹھی سے موسوم تھا۔

نہری کوٹھی اصل میں پانچ چھ چھوٹی چھوٹی کوٹھیوں کا مجموعہ تھا۔ جن کی حیثیت نو لکھی کوٹھی کے سامنے تو کچھ نہیں تھی۔ لیکن موجودہ زمانے کی تمام عمارتوں کے اعتبار سے ابھی بھی جاہ و جلال کی آئینہ دار تھیں۔ یہی وہ جگہ تھی،جو رینالہ شہر کے بالکل سا تھ اور دونوں بڑی نہروں کے کنارے پر واقع تھی۔ اِس کے دوسری طرف مچلز کے وسیع باغات اور فیکڑی ابھی تک اپنے عروج پر تھیں۔ اِن کوٹھیوں کے ارد گرد جامن کے آٹھ نو سو درخت اِس علاقے کو جنت کا منظر بنا رہے تھے۔ البتہ کوٹھیاں مکمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں۔ اِن میں مسلًی،چوہڑے اور نہائت غریب لوگ آ باد تھے۔ واپڈا نے اِن کی بجلی کے کنکشن بھی کاٹ دیے تھے کہ نہ یہ لوگ بل دینے کے قابل تھے اور نہ ہی اُنہیں بجلی کی خاص ضرورت تھی۔ مختصر یہ کہ ہم بیٹھے وہاں ندی کے پانی میں پاؤں ڈالے آئس کریم کھا رہے تھے کہ اچانک مجھے وہی انگریز بڈھا نظر آیا۔ بوسیدہ سی ہاف بازو کی شرٹ کے ساتھ ڈھیلا ڈھالا سا پاجامہ پہنے۔ سر پروہی ہیٹ تھا،جو غالباً اُس دن کے واقعے کے بعد دھو لیا گیا تھا۔ ہاتھ میں عام سی چھڑی تھی۔ عینک بھی نئی نئی لگ رہی تھی۔ یہ چلتا ہوا مجھے اِس دن سے بھی زیادہ لمبا تڑنگا لگا۔ بڈھے کو دیکھ کر میری پُرانی خواہش جاگ اُٹھی۔ مَیں اُٹھ کر فوراً اُس کی طرف بھاگا اور کچھ ہی قدموں پر اُسے جا لیا۔

اسلام علیکم بابا جی،مَیں نے پیچھے سے ہی اُسے بالکل اُجڈوں کی طرح سلام داغ دیا۔ میرے اِس طرح اچانک اُس کے پیچھے بھاگنے سے شہزاد لالہ کو حیرانی ہوئی۔ اِس سے پہلے کہ وہ میرے اِس عمل کی مجھ سے وضاحت طلب کرتا،مَیں بوڑھے ولیم کے سامنے جا چکا تھا۔ بوڑھامیرے سلام کے ایک دم کے حملے سے تھوڑا سا ٹھٹھک کر رُک گیا،پھر چند لمحے میری طرف دیکھ کر وعلیکم سلام کہا۔ ولیم کا یہ جواب اتنا ملائمت بھرا اور شائستہ تھا کہ مجھے اُس سے مزید بات کرنے کی جرات ہو ئی لیکن وہ سلام کا جواب دے کر رُکا نہیں،مسلسل اُن کوٹھیوں کی طرف بڑھ گیا۔ مگر یہ رفتاراتنی سست تھی کہ مَیں آسانی سے اُس کا پیچھا کر سکتا تھا۔ میرا دوست،جو ابھی تک وہیں بیٹھا تھا،میری اِس حرکت پر زیادہ دیر غیر جانب دار نہ رہ سکا،اُٹھ کر ہمارے تعاقب میں تیز تیز قدم اُٹھاتا ہوا آگیا۔

بابا جی،آپ کہاں رہتے ہیں؟

شاید اُسے یہ توقع نہیں تھی،مَیں اُس سے مزید سوال کروں گا۔ لہذا اُس نے میرے اِس سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور چلتا رہا،لیکن مَیں خموش نہیں ہوا اور کہا،اُس دن آپ نے کمپنی باغ کا ایک پیپل کٹنے سے بچا کر بہت اچھا کیا۔ اتنا خوبصورت درخت پتا نہیں،وہ کیوں کاٹنا چاہ رہے تھے؟

میرے اِس جملے پر وہ ایک دم چلتے چلتے رُک گیا،پھر بھرپور نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ اِس لمحے مَیں نے دیکھا،اُس کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو گئی تھی۔ وہ کچھ دیر مجھے سر سے پاؤں تک دیکھنے کے بعد بولا،بیٹا وہاں اُس کوٹھی میں آؤ،جس کے صحن میں برگد کھڑا ہے،وہاں بیٹھتے ہیں۔ چند ثانیوں بعد ہم اُس ٹوٹے پھوٹے مکان میں پہنچ چکے تھے،جس کے صحن میں برگد اور جامنوں کے پتوں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ پتے اِتنے زیادہ بکھرے ہوئے تھے کہ فرش کی زمین اُس میں بالکل چُھُپ گئی تھی اور یہ پتے تہ بہ تہ چڑھے ہوئے تھے۔ ایسے لگتا تھا،یہاں صدیوں سے کسی نے جھاڑو نہیں دیا،نہ اِس کوٹھی کی دیکھ بھال ہوئی ہے۔ کوٹھی قریب ایک کنال کے رقبے پر بنی تھی۔ اُس کی عمارت تو سات آٹھ مرلوں ہی میں تھی لیکن صحن کو ملا کر ایک کنال بن ہی گیا تھا۔ تمام عمارت انتہائی نفاست اور کاریگری کا عمدہ نمونہ تھی۔ اینٹوں پر پلستر نہیں تھالیکن کسی بھی پلستر شدہ عمارت سے بہتر تھی۔ سُرخ رنگ کی یہ اینٹیں ٹیپ کے ساتھ نہایت سیدھے جوڑوں میں درست کونوں کے ساتھ معماروں کی فنًی دسترس پر گواہ تھیں۔ کمروں کی چھتیں سب کی بیس فٹ اُونچی تھیں،لیکن درمیان میں ایک بڑا کمرا نظر آ رہا تھا،جو غالباً ڈرائنگ روم رہا ہو گا،اُس کی چھت دوسرے کمروں کی چھتوں سے بھی چار فٹ مزید بلند تھی۔ دروازے اور کھڑکیاں بھی سب کے سب ٹاہلی کی سیاہ لکڑی کے تھے لیکن اُن کے تختے بعض بالکل ٹوٹ چکے تھے اور جو نہیں ٹوٹے تھے،وہ اتنے بدحال ہو چکے تھے کہ کسی بھی وقت اپنی چوگاٹھوں سے الگ ہو سکتے تھے،مگر تھے ابھی تک وہ بھی اپنے شاندار ماضی کی گواہی ثبت کرنے والے۔ صحن میں ایک قینچی نما لکڑی کی کرسی اور ایک بوسیدہ سی میز پڑی تھی،جس کا رنگ قریب قریب مٹی کے رنگ سے مل گیا تھا۔ بوڑھا ولیم کرسی پر بیٹھ گیا۔ وہ بہت زیادہ تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ مجھے خواہش پیدا ہوئی،اندر جا کر کمروں کا جائزہ لوں لیکن فی الحال اِس عمل سے یہ سوچ کر باز آگیا کہ نجانے کیاسمجھے۔ چنانچہ ہم دونوں مَیں اور شہزاد اُسی تھڑے پر بیٹھ گئے،جو برگد کے تنے کے ارد گرد بنا تھا اورتنے کو اپنے گھیرے میں لیے تھا۔ جس کا قطر کم ازکم دس فٹ تھا۔ اُس کی جڑیں کئی کئی فٹ تک،کوٹھی کی چھت تک پھیلی ہوئی تھیں اور ڈر تھا،جڑیں چھت کو پھاڑ کر نیچے نہ اُتر جائیں۔ بوڑھا کچھ دیر آنکھیں بند کیے بیٹھا رہا۔ گرمی بہت شدید تھی لیکن ہوا نہروں کے اُوپر سے گزرتے ہوئے پانی کا لمس لے کر کوٹھی کے احاطے میں داخل ہو رہی تھی اور اِس انتہائی گھنے برگد کی سیاہی مائل سبز شاخوں سے ٹکرا کر مزید ٹھنڈی ہو کر ولیم اور ہمیں چھو رہی تھیں۔ جس کی وجہ سے ہم تینوں ایک پُر کیف اور سرور آور فضا میں گم ہوئے کچھ دیر چُپ بیٹھے رہے۔ ہوا کی سرسراہٹ کے ساتھ شاخوں کے لرزنے سے پرندوں کا چہچہانا بڑھ گیا تھا۔ ہوا اور پرندوں کے سوا وہاں ہر طرح کی چپ تھی۔ مجھے محسوس ہوا،بوڑھا ولیم دراصل آرام کرنے کے چکر میں ہے اور ہم خواہ مخوا اُس کو تنگ کرنے کے لیے آگئے ہیں۔ لالہ شہزاد بھی اس کیفیت سے اُکتانے لگا تھا۔ اِس حالت کو دیکھ کر مَیں نے لالے کو کَن اَکھیوں سے اُٹھنے کا اشارہ کر دیا۔ قریب تھا کہ ہم اُٹھ کر چل دیتے،اُسی لمحے وہ دوبارہ بولا،دوست کیا کرتے ہو؟

ہم پڑھتے ہیں۔

ہاں پڑھنا اچھی بات ہے لیکن پڑھ کر کلرک نہ بننا،کوئی ہنر سیکھ لینا۔
ہم افسر بنیں گے۔
مجھے تم سے ہمدردی ہے لیکن پاکستانی افسروں سے میری مراد کلر ک ہے۔ اِس خطے کے لوگ آئندہ تین سو سال تک افسر نہیں بن سکیں گے۔
مجھے بوڑھے کی اِن فلسفیانہ باتوں کی کوئی سمجھ نہ آئی۔ مَیں تو کسی اور چکر میں تھا کہ ُاس کے آگے پیچھے کا پتا چلاؤں۔ مگر یہ تو کچھ دوسری طرح کی باتیں کر رہا تھا۔

چائے پکا لیتے ہو؟
جی ہاں مَیں پکا لیتا ہوں،اب کہ شہزاد لالہ نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا۔
وہ بوڑھے میں دلچسپی لینے لگا تھا۔
دوست،وہ سامنے کچن میں دودھ پڑا ہے۔ چینی اور چائے بھی موجود ہے،اپنے اور میرے لیے چائے بنا لو۔
بوڑھے کی اِس پیشکش کے بعد شہزاد بھاگ کر اندر چلا گیا اور میں وہیں بیٹھا رہا۔
یہ لڑکا آپ کا دوسست ہے یا بھائی؟
دوست ہے،میں نے مختصر جواب دیا۔
آااہ،کبھی یہاں مَیں اور ایشلے اِسی جگہ دوستی کے مزے لیا کرتے تھے۔ بوڑھے نے لمبی آہ کھینچتے ہوئے کہا۔
مَیں بوڑھے کی بات،جس میں قیامت کا درد چھُپا تھا،کو کسی وجہ سے جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور سوال کیا،آپ مجھے انگریز لگ رہے ہیں۔ کیا آپ برطانیہ واپس نہیں گئے؟

نہیں،
ولیم کا جواب مختصر تھا۔ شایدوہ میرے سوالوں کے جواب دینے کے لیے تیارنہیں تھا۔ زیادہ بولنے سے غالباً اُسے تکلیف ہو رہی تھی۔ اِس لیے اختصار سے کام لے رہا تھا۔
آپ یہیں رہتے ہیں؟
یقیناً اب یہیں رہتا ہوں۔
پہلے کہیں اور رہتے تھے؟
دو سال پہلے اوکاڑہ کی نولکھی کوٹھی میری تھی۔
واہ،وہ آپ کی تھی؟ تو آپ نے اتنی اچھی کوٹھی بیچ کیو ں دی؟

بہت سی چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ تم حالت نزع میں پڑے انسان کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ مرنے سے انکار کر دے۔

ولیم کے اِس جواب پر میں خاموش ہو گیااور سوچنے لگا،اگر نولکھی کوٹھی اِس بوڑھے کی تھی،پھر تو اِس کے پاس بہت پیسے ہوں گے۔ اِتنی بڑی کوٹھی کم سے کم پر بھی ایک کروڑ سے کم نہ بکی ہو گی۔ مگر یہ اتنی بُری جگہ پر کیوں رہ رہاہے؟

آپ یہاں اِس خراب کوٹھی میں کیو ں رہ رہے ہیں؟ کوئی اچھا سا مکان خرید لیتے۔
مجھے یہی جگہ اچھی لگتی ہے۔

یہ تو کوئی بھوت بنگلہ ہے،مَیں نے نہایت سادگی سے بولنا شروع کیا،آپ کو یہ پُرانی اور ٹوٹی پھوٹی جگہ کیوں اچھی لگتی ہے؟ نہ یہاں بجلی نظر آتی ہے،نہ رہنے کے لیے کسی دوسری سہولت کا نام و نشان ہے۔ یہاں تو رات کو اکیلا بندہ ڈر بھی جاتا ہو گا۔
یہاں میرا دوست ایشلے رہتا تھا،وہ شاعر بھی تھا۔ اگر اُس کا بھوت یہاں ہوتا،تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے مجھے اُس کا بھوت کبھی نظر نہیں آیا۔ اب مَیں یہاں اکیلا ہوں۔

وہ آ پ کا دوست کہاں ہے۔
وہ بیس سال پہلے مر چکا ہے۔ لندن میں۔ مَیں نے اُسے سمجھایا تھا،وہ اُدھر نہ جائے لیکن وہ چلا گیا،اور تین مہینے بعد اُس کے مرنے کی خبر آئی۔ ( کچھ دیر کی خاموشی کے بعد )وہ اِسی گھر میں رہتا تھا۔ (پھر کچھ دیر رک کر) غالباً اُسی بیڈ پر سوتا تھا،جہاں اب مَیں سوتا ہوں۔
بابا جی،آپ کے بیوی بچے نہیں ہیں؟

بوڑھا ولیم،جو آنکھیں مسلسل بند کیے کُرسی پر لیٹنے کی صورت بیٹھا ہوا تھا اور اُس کا ہیٹ جھک اُس کی آنکھوں پر آ گیا تھا،میرے اِس سوال پر اپنی سکون کی حالت سے تھوڑا سا اضطراب میں آیا۔ اُس نے آنکھیں کھولیں،ہیٹ آنکھوں سے ہٹا کر تھوڑا سا پیچھے کیا اور میری طرف دیکھ کر بولا،بچے کیتھی کے تھے،وہ اُنہیں لے کر چلی گئی،اب مَیں نہیں جانتا،وہ کہاں ہیں۔ مجھے لگتا ہے،کیتھی بھی مر چکی ہے لیکن بچوں کو زندہ رہنا چاہیے۔

آپ واپس کیوں نہیں گئے؟
کہاں؟
برطانیہ

اِس قسم کے سوالوں سے مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ برطانیہ سے میں واقف نہیں ہوں۔ مَیں اِسی علاقے میں پیدا ہوا تھا۔ آپ سے اور آپ کے باپ سے پہلے مَیں اِس جگہ کو جانتا ہوں۔ شاید آپ کا دادا بھی یہاں کا نہیں ہو گا۔ یہ جگہ اُس نے دیکھی بھی نہیں ہو گی۔ جب مَیں اِن سب سے یہاں کا پُرانا رہنے والا ہوں،تو یہاں سے کیوں جاؤں۔

اب مَیں نے اُس سے سوال کرنا بند کر دیا۔ کیوں کہ میری ذہنی استعداد یہیں ختم ہو گئی تھی۔ اتنے میں احمد شہزاد تین کپ چائے لے کر آگیا اور ہم تینوں چائے پینے لگے۔ ولیم نے چائے کا گھونٹ بھر کر مسکراتے ہوئے شہزاد لالے سے کہا،تم نے بہت اچھی چائے بنائی،مَیں تسلیم کرتا ہوں،مجھ سے ایسی چائے نہیں بن سکتی۔

چائے واقعی بہت اچھی تھی۔ چائے پینے کے بعد میری پھر خواہش جاگی کہ کمرں کا جائزہ لوں۔ مَیں نے ولیم سے کہا،بابا جی،میں اِن کمروں کو اندر سے دیکھ سکتا ہوں؟
تمھاری خواہش جائز ہے لیکن مایوسی ہوگی۔
وہ کیوں؟

ایشلے میرا دوست تھا،تمھارا نہیں۔ اُس وقت جب ہم اِن کمروں میں کھیلتے تھے،اُس کی عمر میرے برابر تھی۔ تب ہم آپ سے بہت چھوٹے تھے۔ اِس وقت جتنے آپ ہیں،بہر حال دیکھ لو۔

مَیں اُٹھ کر اندر داخل ہوا تو واقعی مایوس کن حالت تھی۔ سب کمرے بالکل خالی تھے۔ نہ کوئی الماری،نہ فرنیچر،نہ پُرانے وقتوں کی کوئی اور نشانی۔ سوائے ایک چارپائی اور تین چار کرسیوں کے،سب کمروں میں ایک تھکا دینے والا خالی پن تھا۔ سب کا فرش اُکھڑ کر اُن کی اینٹیں تھور اور سیم زدہ ہو رہی تھیں۔ یہ سیم شاید نہروں کے قریب ہونے کی وجہ سے تھی۔ ڈارائنگ روم سمیت اُن کی تعداد پانچ تھی اور ایک باتھ روم،جس میں پانی کے لیے لوہے کا ایک ٹب اور ایک لوٹا بھی موجود تھا۔ مجھے کمروں کی اِس قدر ویرانی دیکھ کر وحشت ہوئی اور مَیں بھاگ کر باہر آگیا۔

بابا جی،آپ کا کوئی سامان نہیں ہے ِ؟ باہر آ کر مَیں بے چینی سے بولا۔
بہت ہے لیکن وہ مَیں نولکھی کوٹھی میں چھوڑ آیا ہوں۔ یہاں خراب ہو جاتا۔
اگر انہوں نے ضائع کر دیا؟

یہاں اُس سے پہلے ضائع ہو جاتا۔ ویسے بھی اب مجھے اُن چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں۔
ہمیں کافی دیر ہو گئی تھی،شہزاد بھی اُکتا رہا تھا۔ اِس لیے ہم اُٹھ کھڑے ہوئے اور چلنے کی اجازت لی۔ ولیم بھی ہمارے ساتھ کرسی سے اُٹھ پڑا۔ لیکن اب وہ صرف ہمیں رخصت کرنے کے لیے اُٹھا تھا۔

یہ میری ولیم سے پہلی تفصیلی ملاقات تھی۔ اِس کے بعد پھر مَیں جب بھی رینالہ گیا،میرا معمول بن گیا۔ اِدھر اُدھر آوارگی کرتا ہوا ولیم کو ڈھونڈ نکالتا۔ اِس عرصے میں وہ میرا بہت ہی قریبی دوست بن چکا تھا۔ اُس کا وہاں پر ایک اور دوست ایک ڈسپنسر تھا،جو بوڑھے ولیم کی دیکھ بھال کرتا۔ وہ اُس ڈسپنسری میں کام کرتا رہا تھا،جو اُسی دور میں بنائی گئی تھی،جب نہری کوٹھیوں کی آبادی قائم کی گئی تھی۔ ڈسپنسری اصل میں وہاں کے مقیم انگریز فیملیوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ ڈسپنسری کی عمارت بھی انتہائی پُر شکوہ تھی اور ابھی تک اُس کی حالت اچھی تھی۔ اُس میں اب باقاعدہ ڈاکڑ بیٹھتا تھا۔ ڈسپنسر عزیز احمد اِسی ڈسپنسری سے ریٹائرڈ ہوا تھا۔ اب اُس کی عمر بھی پینسٹھ سال سے اُوپر ہو گئی تھی لیکن صحت ابھی تک اچھی تھی۔ ولیم اُس کے ساتھ کافی مانوس تھا۔ یا یہ کہیں کہ ُاس کا سب سے پُرانا جاننے والا تھا اور اُس کی صحت کا خاص خیال رکھتا تھا۔ عزیز احمد کا گھر کافی کھلا اور بالکل ڈسپنسری کے ساتھ تھا۔ جس کے دائیں ہاتھ وہی آئس کریم کی چھوٹی سی فیکڑی تھی۔ جہاں سے آئس کریم خرید کر کھانا مَیں نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا۔ یہیں سے شاید ولیم اور ڈسپنسر عزیز بھی آئس کریم لے کر کھاتے ہوں۔ لیکن مَیں نے اُنہیں خود نہیں دیکھا۔ ولیم مجھے اکثر اُسی کے پاس ایک لکڑی کی کرسی پر بیٹھا ہوا ملا۔ وہ دونوں آپس میں کافی گفتگو کرتے تھے۔

ساون آیا تو جامن کے پھلوں کا بہت زور ہو گیا۔ چونکہ یہاں جامن کے درخت سیکڑوں کی تعداد میں تھے۔ اِس لیے اُن کا گورنمنٹ کی طرف سے ٹھیکہ ہوتا اور ٹھیکیدار بانسوں والی لمبی لمبی سیڑھیاں درختوں کی شاخوں پر ٹکا کر،ہر وقت پھل توڑنے میں مصروف رہتے۔ اِس طرح یہ ایک مہینہ خوب رونق رہی اور بارشوں نے بھی بڑا اودھم مچایا۔ مَیں بھی جامن کھانے کے لیے ہرروز وہاں جا نکلتا۔ کبھی اکیلا اور کبھی کسی دوست کے ساتھ۔ ولیم سے میری ملاقات بھی روز ہونے لگی۔ میں محسوس کر رہا تھا کہ وہ روز بہ روز کمزور ہوتا جا رہاہے۔ اِس عرصے میں وہ مجھ سے کافی زیادہ کھل گیا اورمَیں قریب قریب سب کچھ اُس کے بارے میں جان گیا۔ کچھ اُس نے خود بتا یا،کچھ ڈاکڑعزیز احمد نے،باقی مَیں نے اِدھر اُدھر کے ذرائع سے معلوم کر لیا۔ مَیں یہ بھی جان گیا تھا،نولکھی کوٹھی ولیم نے بیچی نہیں،اُس سے چھینی گئی ہے۔ وہ بھی ایک ایسے شخص نے،جس کے خاندان کے بارے میں اب کوئی پردہ نہیں رہ گیا تھا۔ مجھے ولیم سے ہمدردی ہوگئی تھی۔ لیکن اُس کے لیے کچھ بھی کر نہیں سکتا تھا۔ ہاں ایک بار مَیں اور میرے دوست شہزاد لالہ نے اُس کے بھوت بنگلے کو صاف کرکے پتوں کو آگ لگا دی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہ دسمبر کے آخری دن تھے۔ اُس دن کُہر یا دُھند تو نہیں تھی لیکن سردی ایسی کڑاکے کی،کہ ہاتھ چادر سے باہر نکالتے ہی برف کی طرح جم جاتے۔ اُس پر اُڑا دینے والی ہوا کے جھونکے تھے،جو نہر کے پانی کی سطح سے ہو کر اور بھی ٹھنڈے ہو جاتے اور منہ پر سرد تھپیڑے لگاتے ہوئے دوسری سمت کے درختوں اور مکانوں سے جا ٹکراتے۔ نہر کا پانی بھی اتنا صاف تھا کہ تہہ میں بیٹھی ہوئی ہر چیز نظر آرہی تھی۔ پانی کی سطح پر ہوا کے دباؤ سے لہریں بن بن کر تیرتی ہوئی نکل جاتیں،جو اِس قدر دلفریب تھیں کہ انسان دیکھتا رہ جائے۔ ایسے میں برگد کے سوا تمام درختوں کے زرد پتے نہر کی پٹڑی اور سڑکوں پر گر گر کے دوڑتے اور شور مچاتے ہوئے کبھی ایک طرف کو اور کبھی دوسری طرف کو سرکتے دور تک چلے جاتے۔ لوگوں نے سویٹر اور جرسیوں کے سا تھ اپنے اُوپر چادریں بھی لپیٹی ہوئی تھیں۔ ٹانگوں کا اڈا نہر کے پُل کے دائیں طرف تھا۔ وہاں ہر وقت تین چار ٹانگے کھڑے ہوتے تھے،جو شہر کی سواریاں ارد گرد کے گاؤں سے لاتے اور لے جاتے۔ ٹانگوں کے اڈے سے لے کر آئس کریم کی فیکڑی تک کہیں نہ کہیں آگ بھی جل رہی تھی اور دو دو چار چار لوگ اُسے بیٹھے سینک رہے تھے۔ خاص کر ٹانگے والے اپنے گھوڑوں کے آگے دانہ ڈال کر اور چادریں اوڑھ کر مسلسل کوئلے تاپ رہے تھے۔ اِس حالت میں کسی کو بھی اِس بات سے غرض نہیں تھی کہ موسم کی دلفریبی سے لطف لیا جائے۔ یہی موسم میرے لیے قیامت کی کشش رکھتا تھا۔ مَیں اِن تمام لوگوں اور کام میں مصروف یا آگ تاپنے والوں کو نظر انداز کر کے سیدھا نہر کے کنارے کنارے جامنوں کے درمیان کی روشوں پر چلتا چلا گیا اور تیزہواکے جھونکوں میں دوڑتے زردپتوں سے لطف اندوز ہوتا جا رہا تھا۔ یہ وقت ایک بجے کا ہو گا۔ کیونکہ نہر کے پہلے پُل کے دائیں کنارے پر موجود سفید رنگ کی چھوٹی مسجد والے موذن نے ابھی ابھی ظہر کی اذان دی تھی۔ میرے جسم پر اُون کی ایک بڑی اور موٹی چادر کے ساتھ نیچے ہاتھ کی بنی ہوئی اُونی سویٹر بھی تھی۔ یہ اُس وقت کا زمانہ ہے،جب ولیم کو نولکھی کوٹھی چھوڑکر نہری کوٹھی میں آباد ہوئے تین سال ہوچکے تھے۔ اُس سے میری متواتر ملاقاتوں کو بھی ایک سال ہو چلا تھا۔ اِس دوران مجھے اُس سے جو کچھ معلوم ہوا،مَیں اُسے اپنی یادداشت میں محفوظ کرتا گیا۔ میرے لیے یہ بات مسلسل گھبراہٹ کا سبب تھی کہ وہ تیزی سے کمزرو ہو رہا تھا۔ کبھی کبھی اُس کی زندگی دنوں کی بات لگتی تھی لیکن اُس کی آوازمیں ابھی تک وہی جان تھی۔

یہ انیس سو نواسی کی سردیوں کا زمانہ تھا اور ولیم کم وبیش اسی سال کا ہو چکا تھا۔ اُس کو اِس دفعہ کی گرمی نے وہ ضرب لگائی تھی کہ اگست کے آخری دنوں میں اُسے لو لگ گئی،جس نے اُس کا کچومر نکال کے رکھ دیا۔ وہ تو بھلا ہوڈسپینسر عزیز احمد کا،جس نے بروقت علاج کر کے اُسے موت کے منہ سے نکالا۔ لیکن اِس دھچکے نے اُسے نڈھال کر دیا اور وہ حد سے زیادہ کمزور ہو گیا۔ ایک دن مَیں اُس کے اُسی بوسیدہ مکان پر پہنچا،جسے اب مکان کہنا وضع داری ہو سکتی تھی۔ صحن سے ہوتے ہوئے،جو پہلے کی طرح زرد پتوں اور چھوٹی چھوٹی سوکھی ہوئی شاخوں سے بھرا پڑاتھا،کمرے کے سامنے پہنچ گیا تھا۔ صحن کی ویرانی اور ہوا کی تیزی سے مَیں نے اندازہ لگالیا تھا کہ ولیم اندر بستر میں دُبکا پڑا ہو گا۔ مَیں نے ہلکا سا دروازے کو کھٹکھٹایا لیکن اندر سے کوئی آواز نہ آئی۔ تھوڑی دیر بعد دوبارہ دستک دی تو ایک نحیف سی آہ سنائی دی۔ مَیں دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ دیکھا تو ولیم چارپائی پر سیدھا لیٹاہوا ہے۔ اُس کے اُوپر کمبل تھا،لیکن وہ اِتنا گندا اور بدبودار تھا کہ مجھے ہاتھ لگانے سے بھی کراہت ہوئی۔ مَیں نے ایک بار سوچا،ایسے ہی پلٹ جاؤں،لیکن پھر کچھ دیر کھڑا رہنے کے بعد غیر ارادی طور آگے بڑھ کر ہلکا سا کمبل اُوپر اُٹھا دیا۔ کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ اِس لیے پہلے مرحلے میں ولیم کا چہرہ دکھائی نہ دیا۔ لیکن آہستہ آہستہ ہر چیز آنکھوں کے لیے مانوس ہونے لگی۔ اِس کمرے میں میری ولیم کے ساتھ اب کئی ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ اِس لیے مجھے معلوم تھا،لال ٹین کہاں ہے اور کچن یعنی چولہا کس جگہ ہے؟مَیں نے اندازے کے مطابق آگے بڑھ کر لالٹین ڈھونڈ نکالی اور اُسے جلانے کے لیے ماچس تلاش کرنے لگا۔ اُسی لمحے ولیم کی آوا ز سنائی دی،کیتلی کے ڈھکن کے اُوپر پڑی ہے۔ مجھے ولیم کی آواز سن کر ایک گونا سکون ہوا کہ ابھی نہ صرف زندہ ہے،بلکہ حواس بھی کام کر رہے ہیں۔ لال ٹین روشن کر کے ولیم کے پاس آیا،وہ بخار سے تپ رہا تھا۔ مَیں نے کچن کی طرف جا کر دیکھا،وہاں کیتلی میں کچھ دودھ اور ڈبل روٹی پڑی تھی۔ اُس کے پاس ہی کچھ دوائیاں بھی موجود تھیں۔ کچھ ہی دیر بعد مَیں دودھ گرم کر کے بریڈ کے ساتھ ولیم کے سامنے لے آیا۔ وہ میری طرف دیکھ کر آہستہ سے اُٹھنے کی کوشش کرنے لگا۔ دس پندرہ منٹ بعد مَیں نے اُسے صحن میں آگ جلا کر کرسی پر بٹھا دیا۔ ولیم آگ تاپنے لگا تو میں صحن سے باہر نکل کر سیدھا ڈسپنسر عزیز احمد کی طرف گیا اور اُسے تمام حالت کی خبر کی۔ عزیز احمد نے مجھے ساتھ لے کر دوبارہ ولیم کے پاس جانا چاہا لیکن نہ جانے کیوں میرا وہاں جانے کو جی نہ چاہا۔ میں نے کہا،ڈاکٹر صاحب،مجھے جلدی گھر جانا ہے،آپ جا کر اُسے دیکھ لیں۔ اِس واقعے کے بعد مَیں جان بوجھ کر کئی دن وہاں نہیں گیا۔ اِس کی وجہ مجھے بھی معلوم نہیں۔

آج مَیں پھراِن ٹھنڈی ہواؤں کا لطف لیتے ہوئے غیر ارادی طور پر اُس طرف بڑھ رہاتھا،مگر جیسے ہی اُس کوٹھی پر پہنچا وہاں اور ہی رنگ تھے۔ مسلًیوں کے بچے صحن میں اُچھل کود رہے تھے۔ ذرا غور کیا،تو پتا چلا وہاں کوئی اور ہی خاندان آباد ہے۔ مَیں نے جائزہ لینے کے لیے بھرپور نظر ماری لیکن مجھے ولیم نظر نہ آیا۔ بالآخر اُنہی میں سے ایک آدمی سے پوچھا،

‘یہاں ایک بوڑھا انگریز تھا،وہ کہاں ہے؟’

اُس نے انتہائی لاپروائی سے جواب دیا،کاکااُسے توفوت ہوئے بھی ہفتہ ہوگیا۔ پنج چک کے عیسائی اُسے اُٹھا کر لے گئے ہیں۔ وہیں کے گرجا گھر میں اُس کی قبر ہے۔

اُس کالے اور چیچک زدہ چہرے والے اَدھیڑ عمر آدمی کا جواب سن کر مَیں وہیں سے واپس ہو گیا۔ موسم خوبصورت اور ٹھنڈا تھا۔ میں نے اُس سے مزید بات کر کے لطف کو غارت کرنا مناسب نہ سمجھا اور نہر کے کنارے کنارے ہواؤں کے لمس لیتا ہوا پل پر آگیا۔ کچھ دیر اُنہی ٹانگے والوں کے پاس کھڑا رہا۔ وہاں چند لمحے رُکنے کے بعد واپس دیسی آئس کریم بنانے والی فیکٹری پر آیا۔ ایک آئس کریم لی اور بھری ٹھنڈ میں کھانے لگا۔ حالانکہ سردی کی وجہ سے میری ناک سُرخ ہو گئی تھی اور اُس سے پانی بہنے لگا تھا۔ آئس کریم بہت مزے کی تھی۔ دُور تک مکئی اور سرسوں کے وسیع کھیت آسمان تک پھیلے ہوئے تھے،نہروں کا پانی چل رہا تھا،جامنوں کی شاخیں ہل رہی تھیں،پیپلوں اور برگدوں کے بھاری پیڑمست ہاتھیوں کی طرح جھول رہے تھے اور درختوں سے زرد پتے مسلسل گر رہے تھے،جنہیں ٹھنڈی ہوا کے تیز جھونکے سڑکوں پر اِدھر اُدھر دوڑا رہے تھے۔ ہر چیز ویسی ہی خوبصورت تھی،جیسی پہلے تھی۔ کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔

اگرچہ جرمن نے ہماری ہڈیوں سے گودا کھینچ لیا ہے لیکن ہمیں پھر بھی لنگڑانے کی اجازت نہیں۔ سبک روی سے چلنے میں تکلیف تو ہو گی،مگر آنے والے حادثوں کے پیش نظر اسی چال کو برقرار رکھنا ہے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اکتسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(52)

نواز الحق مولانا فضل دین کی امیدوں پر اس طرح پورا اُتر رہا تھا کہ اِتنی توقع اُسے بھی نہیں تھی۔ لڑکا ایسا ذہین اور لائق نکلا کہ باپ دادا کے بھی کان کاٹنے لگا۔ بڑے بڑے جاگیرداروں،فوجیوں اور افسروں کے بیٹے اُس نے دوست بنالیے۔ اُنہی کی صحبت میں دن رات گزارنے سے اُسے وہ تمام معلومات اور طریقے حاصل ہو گئے تھے،جو سول سروس کا زینہ تھے اور خاندان کی کایا کلپ کر دینے کے لیے نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے تھے۔ اِس کے علاوہ انگلش،عربی،فارسی،تا ریخ،غرض ہر شعبے میں کچھ نہ کچھ سُدھ بدھ حاصل کر لی تھی۔ لباس اور بات چیت میں بھی اِتنی نفاست پیدا کر لی کہ موقع کی مناسبت سے تمام جگہ اپنے آپ کو فِٹ کر لیتا۔ عربی اور اور فارسی کی لیاقت نے اُس کے اندر شعر سے لُطف لینے کا مادہ بھی پیدا کر دیا۔ لیکن یہ مادہ تھوڑا بہت شعر کو سُن کر،یا پڑھ کر یاد کر لینے کی حد تک تھا۔ شعر کی فنی جمالیات کو سمجھنے یا خود کسی مشق میں پڑنے کی اہلیت نہیں تھی۔ یہ بات بھی اُس کو کسی نے سمجھا دی تھی کہ پاکستان میں سول سروس کی نوکری حاصل کرنے کے لیے بندے کو تین چیزوں میں خاص طور پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک اُسے تھوڑا بہت اقبال کی شاعری اور اُس کی زندگی کے نیک نیک حالات ازبر ہوں۔ دوسرا انگریزی بول چال کی مہارت حاصل ہو اور تیسری اہم بات یہ کہ اپنے باس کی چاپلوسی کرنے کی تر بیت میں نُقص نہ ہو۔ اگر اِن میں انسان طاق ہو تو نوکری ملنے کے بعد اُس کی ترقی میں خدا بھی رکاوٹ کھڑی نہیں کر سکتا۔ بندہ اِس طرح بائیس سکیل کے زینے طے کرتا ہے،جیسے گہری نیند سوئے ہوئے پر صبح آجاتی ہے۔ نوازلحق نے اِن تینوں مضامین میں اپنی استعداد کو اِتنا بڑھایا کہ ایک تو اقبال کا ستر فی صد کلام اُسے یاد ہو گیا،دوم وہ انگریزی کو ایسے چاٹنے لگا کہ بعض اوقات اُس پر انگریز ہونے کا شبہ ہوتا۔ وہ تو غنیمت تھی رنگ زیادہ صاف نہ تھا۔ سوم افسر کی بات سے اتفاق کرنے کا ملکہ حاصل ہو گیا۔ نتیجہ یہ کہ نوازلحق پنجاب سول سروس کا امتحان پاس کر کے ڈائریکٹ نائب تحصیل دار بھرتی ہوگیا۔ لیکن اس پر وہ مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں گیا۔ بلکہ مزید ترقی کے لیے کوشاں رہا۔ جس میں اُس نے مولانا فضل دین کی جمع کی گئی بے شمار دولت کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ لاہور میں کوئی افسر ہو گا،جس کے ساتھ اُس نے تعلقات قائم نہیں کیے اور اُسے تحفے تحائف نہیں بھیجے۔ وہ اِس معاملے میں اپنے افسران کا اِس قدر وفادار تھا کہ اُن کی بیویوں تک سے ذاتی مراسم قائم کر لیے۔ کوئی نوازلحق صاحب کی بڑی بہن بن گئی اور کو ئی خالہ ہوگئی۔ کوئی اُس کے دوست کی والدہ تھی۔ اِس لحاظ سے نواز صاحب کی بھی والدہ بن گئی۔ اِن رشتوں کے بن جانے کی وجہ سے نواز کو عید بقر عید اور سالگرہوں پر تحفے بھی دینے ہوتے تھے اور وہ دل کھول کر دیتا۔ خاص کر اُسے یہ پتا چل گیا تھا کہ عورت ذات سونے کی بڑی لالچی ہوتی ہے۔ اِس لیے وہ جو بھی تحفہ دیتا،سونے ہی کا ہوتا۔ کیونکہ سونے کے بغیر چاہے ہزاروں تحفے ہوں،لوگ بھول جاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک ایسی دھات ہے،جس کا تحفہ ایک تو لینے والے کو احسان مند کر دیتا ہے اور دوسرا عمر بھر نہ لینے والے کو بھولتا ہے اور نہ دینے والے کو۔ اِس کے علاوہ جب ضرورت ہوتی،سودا سلف بھی خود بخود گھر بھجوا دیتا۔ اِن اطاعت شعاریوں سے یہ ہوا کہ کسی افسر کی جرات نہ ہوتی تھی،وہ نوازلحق کی اے،سی آر میں،اُس کے کردار اور کام کی پاکدامنی کی گواہی نہ ثبت کرے۔ اپنے باس کے گھر روزانہ جا کر اُن کی ضروریات کی خبر لے کر اُنہیں پورا کرنا تو نواز صاحب نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا۔ یہ فرض شناسی اِس حد تک تھی کہ ایک دن جب کمشنر صاحب کو ہلکا سا نزلہ ہوگیا تو نواز صاحب کی راتوں کی نیند حرام ہو گئی۔ آپ اُس کی تیمارداری میں اِس طرح مگن ہو ئے کہ تین دن تک اپنے گھر نہیں آئے۔ وہیں اُن کی کوٹھی کے سرونٹ کوارٹر میں رہنے لگے۔ اگرچہ صاحب نے بہت کہا،کوئی بات نہیں نواز صاحب،آپ گھر چلے جائیں،مَیں ٹھیک ہو جاؤں گا۔ لیکن یہ نہیں مانے،کہ جانے کب ضرورت پڑ جائے،پھر خدا نخواستہ آنے میں دیر ہوگئی تو آپ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اِسی فرض شناسی کی وجہ سے اُس کے دفتر والے نواز صاحب کا مذاق بھی اُڑاتے۔ ایک دن میٹنگ کے دوران جب کئی ماتحت بھی بیٹھے تھے،صاحب کا چھوٹا بیٹا ساتھ والی کرسی پر بیٹھا کھیل رہا تھا۔ اُس نے وہیں بیٹھے پیشاب کر دیا۔ نواز صاحب نے اپنے ہاتھوں سے اُس کو غسل خانے میں لے جا کر پانی سے صاف کیا اور اُس کا پیشاب دھویا،جس کی وجہ سے اُس کا مذاق اُڑایا گیا۔ لیکن اُنہوں نے اِن احمقوں کی ذرا پروا نہیں کی اور سب نے دیکھا،انہی خدمت گزاریوں کی وجہ سے وہ صرف دو سال میں ہی تحصیل دار ہو گیا۔ جبکہ ساتھ والے،جو ذرا خدمت گزاری میں کم تھے،ابھی تک اُنہی بوسیدہ میزوں پر بیٹھے مکھیاں مار رہے تھے۔ اس کے ساتھ ہی اُنہیں یہ کلیہ بھی کسی نے سمجھا دیا تھا کہ ریٹائرڈ افسر مردہ گھوڑے سے زیادہ اہم نہیں ہوتا۔ اِس لیے جتنی جلدی ہو سکے،اُس پر مٹی ڈال دینی چاہیے۔ کیونکہ جو وقت کو ضائع کرتا ہے،وقت اُسے ضا ئع کر دیتا ہے۔ ریٹائرڈ افسر کی بات ماننا یا اُسے ملنا وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز صاحب نے کبھی پلٹ کر بھی ایسے لوگوں کی طرف نہیں دیکھا تھا،جو سرکاری نوکری سے فارغ ہو چکے تھے۔

اُن کے تحصیل دار بننے کے کچھ عرصے بعد ملک میں فوج کی حکومت آگئی۔ نواز صاحب اُن دنوں خوش قسمتی سے ضلع راولپنڈی کے محکمہ مال میں تھے۔ یہ حکومت ہر لحاظ سے شرعی کہی جا سکتی تھی۔ تمام سزائیں شرعی ہو گئی تھیں۔ لباس شرعی ہو گیا۔ ٹوپیاں،تسبیاں،لوٹے اور چٹائیوں کی قیمتیں شریعت کے مطابق بڑھ گئیں۔ شلواریں گھٹنوں سے اُوپر۔ حتیٰ کہ سر کے بال اورڈارھیاں شرعیت کے مطابق ڈھل گئیں۔ گاؤں گاؤں میں مولویوں کے وظائف مقرر کر دیے گئے اور اُنہیں خطبے لکھے لکھائے آنے لگے تاکہ کسی بھی مولوی کو دماغ پر زور دینے کی زحمت نہ پڑے۔ ہزاروں چوہڑے بطور جلاد بھرتی کیے گئے،پھر بھی کوڑے مارنے والے کم پڑ جاتے تھے۔ عوام کا نماز روزے کی طرف اِتنا رجحان ہو گیا کہ سر زمین جنت نشان ہو گئی۔ ہر طرف امن و امان کی فضاقائم ہو گئی۔ تبلیغی مرکزوں میں،جہاں کبھی ویرانی ہونکتی تھی،اب کھوے سے کھوا چھلنے لگا۔ عدل انصاف کا اِس قدر بول بالا ہو ا کہ جرم کے شبے کی بنا پر بھی سزائے موت دی جانے لگی۔ اور اِس معاملے میں اتنی احتیاط تھی کہ چاہے مجرم وزیراعظم ہی کیوں نہ ہو،تختے پر چڑھا دیا جاتا۔ دراصل عدالتوں نے پتا چلا لیا تھاکہ سوائے فوجی اور ایک خاص مکتبہ فکر کے مولوی کے،باقی لوگ کافر اور غدار ہیں۔ تمام بدعتی مذاہب اور مسالک کا قلعہ قمع کرنے کی ٹھان لی گئی اور صحابہ کے سچے پیرو کاروں اور خفیہ اداروں کو اجتماعی طور پر پورے اختیار دے دیے گئے کہ وہ آسانی سے نشاۃ اسلامیہ کے دشمنوں کی سرکوبی کر سکیں۔ یہی وہ دن تھے،جب نوازلحق صاحب پر صحیح دین کی سمجھ اور فوجی حکومت کی برکتوں کے پے بہ پے انکشافات ہوئے۔ اُنہوں نے نہ صرف خود،بلکہ لوگوں کی بھی اِس امر کی طرف توجہ دلانی شروع کر دی کہ امیرالمومنین جنرل صاحب اللہ کے ولی اور مجدد دین ہیں۔ اُن کے حکم کی سرتابی خدا سے بغاوت کے مترادف ہے اور یہ کہ جمہوریت مغرب کا پراپیگنڈہ ہے۔ اسلام ایسی کسی حکومت کو جائز قرار نہیں دیتا جس کی بنیاد غیر مذہبوں نے رکھی ہو۔ اُنہوں نے علی الاعلان یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ رافضی اور خانقاہی نظامِ،دین میں فساد کا دوسرا نام ہے۔ چنانچہ اُنہیں بالکل ختم کر دینا چاہیے۔ اِس عرصے میں نواز صاحب نے اپنی ڈاڑھی مزید بڑھا لی اور رضا کارانہ طور پر دفتر میں کام کرنے والوں کو نماز پڑھانے کے ساتھ دین کی صحیح سمجھ بوجھ دینا بھی شروع کر دی۔ جس کی اُس وقت اُن لوگوں کو سخت ضرورت تھی۔ جو آدمی نماز پڑھنے نہ آتا،اُسے دفتری قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا نام دے کر وارننگ لیٹر جاری کرنے کا اہتمام بھی ہونے لگا۔ اِس میں بھی نواز صاحب سب سے زیادہ پیش پیش تھے۔ اِس کے ساتھ ہی فوجیوں سے مراسم اور لاہور کی نہایت شریف فیملی،جس پر جنرل صاحب کی برکات بے پایاں تھیں،کے درِ دولت پر دن رات حاضری کو اپنا ایمان اور کعبہ کی زیارت کے مترادف جان لیا۔ اور اُن نامرادوں کے نام اور کوائف دینے لگا،جو سرکاری یا غیر سرکار ی سطح پر فوج یا اسلام کے خلاف بات کرتے پائے جاتے تھے۔ نواز صاحب میں اِن سب خوبیوں اور اسلام کے سچے عاشق ہونے کی وجہ سے،یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ حساس اداروں کی نظرسے اُس کی وفادار ی اُوجھل رہ جاتی۔ بالآخر اُس کا نام اُن افراد کی فہرست میں شامل ہو گیا،جنہیں بلا شبہ غیر مشروطی طور پر حکومت کے وفاداروں میں شمار کیا جاسکتا تھا۔ چنانچہ اُسی شریف فیملی کی غلام گردشوں میں پھرتے نواز صاحب نے اپنی ترقی کے ایک اور زینے کی راہ دیکھ لی۔ بالآخر پنجاب کی وزارت ِ خزانہ کی سفارش سے انُیس سو بیاسی میں اُس کی اسسٹنٹ کمشنری کے آڈر جاری ہو گئے۔ اُنہیں پورے سرکاری پروٹوکول کے ساتھ جھنگ شہر کی افسری کا پروانہ دے دیا گیا،جہاں دیگر کاموں کے ساتھ بعض مسالک اور اُن کے عقائد کے خلاف کام کرنے والوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنا تھیں۔

(53)

اُنیس سو تراسی کاآدھا اکتوبر گزر چکا تھا۔ پنجاب میں اکتوبر کا مہینہ موسم کی کیفیت کو اِس قدر معمول پر لے آتا ہے کہ اُس وقت گرمی گرمی نہیں رہتی اور سردی ابھی تک نومبر کے پردوں میں چھپی ہوتی ہے۔ اُس وقت نہ تو گرمی تھی ہے اور نہ سردی۔ اِس ٹھہرے ہوئے موسم میں اُداس کر دینے والی ایسی خموش کیفیت تھی،جس کو بیان کرنے کی قدرت نہیں۔ یہ موسم بہار کانہیں ہوتا۔ لیکن اُس سے کہیں زیادہ طبیعت کو راس آنے والا ہوتا ہے۔ بہار ہر چیز میں ایک قسم کاہلکا سا شور،تحرک اور چہچہاہٹ پیدا کر دیتی ہے۔ حتیٰ کہ خوشبوئیں بھی بولتی ہیں۔ اِس کے بر عکس اکتوبر کے درمیان سے لے کر نومبر کے ابتدائی دس دنوں میں ہر شے خموش،چپ اور ٹھہری ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ جس میں پوری فضا پر اُداس کر دینے والے غمگین سائے چھا جاتے ہیں۔ موسم کی اِن چپ چاپ سفیدیوں میں انسان بھی افسردہ ہو جاتا ہے۔ ماضی کی گونج عام حالات کی نسبت زیادہ سنائی دیتی ہے اور آج کل یہی کیفیت ولیم کی تھی۔ وہ اوکاڑہ کے مضافات اور نہری کوٹھی کے جامنوں،پھولوں اور گوگیرہ کی بستیوں میں اکیلا گھومتے پھرنے کے ساتھ ماضی کے ورقوں کو پرتالتا جاتا اور اُن میں لکھے افسانوں کی سطر یں بغور پڑھتا،مکرر پڑھتا،سہ بار پڑھتا،بار بار پڑھتا۔ روپے اُس کے پاس کم ہوتے جا رہے تھے۔ بلکہ اِس تیزی سے کم ہو رہے تھے،جیسے عمر کی منزلیں سمٹتی جا رہی تھیں۔ یوں بھی اُس کی عمر بہتر سال ہو چکی تھی لیکن کمر ابھی تک جھکی نہیں تھی،جیسا کہ عام اور مقامی ہندوستانیوں کے بوڑھے ہونے پر جھک جاتی ہیں۔ پاکستان کی بیوروکریسی سے اب اُسے کوئی سروکار نہیں تھا۔ سیاسی حالات کیا ہیں،؟ لوگوں کے رویے کتنے بدل چکے ہیں یا بیرونی دنیا میں کیا ہو رہا ہے؟برطانیہ امریکہ یا دوسرے مغربی ممالک کی کیا صورت ہے؟ ولیم اِس سب کچھ سے اس طرح بیگانہ ہو چکا تھا،جیسے اِن چیزوں کا وجود اساطیری دنیا میں ہو۔ جہاں صرف کہانیا ں جا سکتی تھیں۔ البتہ اوکاڑہ کے کیتھلک چرچ میں اتوار کے اتوار اُس کی حاضری اب لازمی ہو گئی تھی۔ یہ چرچ اُس کے دادا نے اپنے خرچے سے بنوایا تھا۔ جہاں یہ چرچ موجود تھا،اُس کے سامنے والے بازار کا نام بھی چرچ بازار رکھ دیا گیا تھا،جو ابھی تک اُسی نام سے تھا۔ یہ بازار جنوب کی طرف سے ریلوے پھاٹک نمبر دو سے لے کر سرور سوڈا چوک کو کراس کرتا ہوا شمال میں کمپنی باغ کے جنوب مشرقی کونے تک چلا جاتا تھا۔ ولیم اِس چرچ میں عبادت سے زیادہ اُن لوگوں کی پُرسش کے لیے جاتا،جن کے لیے خداوند خدا چرچ کی لال اینٹوں میں پھنسا ہوا ایک بے بس صلیب کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ جو دنیا میں تو اِن کالے عیسائیوں کے کچھ کام نہیں آ سکتا تھا۔ اگر کوئی آخرت تھی،تو وہاں ان کالوں کے لیے دودھ کی سفید نہروں اور میوہ کے باغوں کی دستیابی کا ذمہ دار تھا۔

آج وہ اسی اداس کر دینے والی فضا میں اتنا بوجھل ہو چکا تھا،جس میں دل کو سنبھال لینا ایرے غیرے کا کام نہیں تھا۔ ولیم کمرے سے نکل کر کوٹھی کے صحن میں آیا اور سامنے والی اُسی بنچ پر بیٹھ گیا،جس کو اس صحن میں لگے اب ساٹھ برس گزر چکے تھے۔ یہ کرسی ولیم کے دن رات بیٹھنے سے اِتنی چمکدار ہو گئی تھی کہ پالش کا گمان ہو تا۔ پرندے اِدھر اُدھر اڑے جاتے تھے،اگر کوئی چہچہا بھی رہا تھا،تو اُس کی چونچ ہلتی نظر آتی تھی مگر آواز سنائی نہ دیتی۔ سامنے کا پیپل بھی بالکل خموش اور حیرانی کی حالت میں تھا،جیسے ولیم کی تنہائی پر نوحہ کناں ہو۔ اُسے آنے والے لمحوں کا پتا چل چکا تھا۔ کبھی ایک آدھ چڑیا اُس کے پاس سے اُڑ کر نکل جاتی،پھر دورتک کھیتوں میں،کبھی ایک جگہ پر،کبھی دوسری جگہ پھدکتی ہوئی بیٹھتی۔ پھر اُسی طرح نظروں سے اوجھل ہو جاتی۔ ولیم کو جب کافی دیر اِسی حالت میں گزرگئی تو وہ اُٹھ کر دوبارہ کوٹھی میں چلا گیا اور اپنے بیڈ روم میں جا کر پُرانے سامان کو ٹٹولنے لگا،جو اَب زیادہ نہیں رہ گیا تھا۔ چندچیزیں تھیں،جو کیتھی کے ہاتھوں سے یا تحفہ دینے سے بچ گئی تھیں۔ یہ چیزیں بازار میں قیمت تو نہیں رکھتی تھیں لیکن ولیم کے لیے بہت زیادہ اہم تھیں۔ اِن میں ولیم کے دوستوں کی کچھ تصویریں،ولیم کے بچوں کی تصویریں،اُس کے ذاتی کاغذات،ملازمت کے دنوں کی فوٹو گراف،قلم،پینٹنگز،ایشلے کی شاعری کے کچھ مسودات،بے شمار کتابیں اور اِسی طرح کی یادگاریں تھیں۔ چیزوں کو دیکھتے ہوئے ولیم کے ہاتھ میں ایک ایسا کاغذ لگا،جو اُس کی اپنی ہینڈرائیٹنگ میں تھا۔ وہ ایشلے کی ایک نظم تھی،جو اُسے بہت پسند تھی۔ ولیم نے اپنے ہاتھ سے اُسے لکھ لیا تھا۔ نظم دیکھ کر ولیم کو ایشلے کی شدت سے یاد آنے لگی،جس کے مرنے کی اطلاع اُسے دس سال پہلے مل چکی تھی۔ وہ اُس کے مرنے کی خبر سُن کر اُس وقت بھی بہت افسردہ ہوا تھا اور بہت دنوں تک اپنے حواس میں نہ ر ہا تھا۔ جب کاغذات سے وہ نظم سامنے آئی تو ولیم کی آنکھوں میں پھر آنسووں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ وہ نظم لے کر اُسی بیڈ پر لیٹ گیا اور اُسے اپنے سینے پر رکھ کرآہستہ آہستہ نظم کو پڑھنے لگا اورگزری ہوئی ساعتیں یاد کر کے رونے لگا۔

نظم
کیا تم ایسی دھوپ دیکھنا چاہو گے
جو چمکتی ہے جلاتی نہیں
نہ اس کی روشنی میں آنکھیں چندھیاتی ہیں
نہ سفید عورتیں عرق آلود ہوتی ہیں
وہ دھوپ نومبر کی خاموش وادی میں ہے
نومبر کی دھوپ کو دیکھ سکتے ہو
نرم لباس کی طرح محسوس کر سکتے ہو
اُس میں تلخی نہیں
موت کے نزدیک لے جانے والی اُداسی ہے
اُداسی کو تم چھو نہیں سکتے
نہ فریب دے سکتے ہو
نہ اس سے بھاگ سکتے ہو
یہ ہجوم میں تنہا کر دیتی ہے
کیا پچھلے برس کا نومبر اُداس نہیں تھا؟
نومبر ہمیشہ اُداس ہوتا ہے
رُکا ہوا،مطمئن اور بے نیاز
اِس کی وادی میں صبح ہوتی ہے،دوپہر،سہ پہر
پھر شام آجاتی ہے
مگر دھوپ کا مزاج نہیں بدلتا
آسمان کی طرح پُر وقار بزرگی والا
زندگی نومبر کی طرح نہیں
زندگی بدلتی ہے،متواتر بدلتی ہے
وہ تجھے نومبر میں نہیں رہنے دے گی
دھوپ غبار آلود ہو جائے گی
صاف نظر آنے والی چیزیں دُھندلا جائیں گی
پھر سیاہ ہو جائیں گی
پھر اندھیرا کھا جائے گا
اُس وقت،جب میں نہیں ہوں گا
دوست کوشش کرنا،نومبر نہ گزرے
مگر یہ وہ کوشش ہے جس کا حاصل خسارا ہے
ولیم بار بار نظم پڑھتا رہا اور پرانے بیڈ کے بوسیدہ مگر صاف بسترپر لیٹا آنسووں کی بارش روکنے کی کوشش کرتارہا۔ اسی حالت میں وہ سو گیا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اٹھائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(48)

دھوپ اور گرمی کی وجہ سے پورا فیروز پور جہنم کی دیگ ہوگیا تھا۔ ہر چیز کر راکھ ہو رہی تھی۔ اگر کسی نے گرمی اور دھوپ کے بارے میں اندازہ لگانے میں غلطی کی ہو اور اُسے یقین نہ آرہا ہو کہ گرمی کا دوسرا نام وہ ذلت ہے،جس کے بعد سوچنے سمجھنے کی تمام قوتیں سلب ہو جاتی ہیں،تو اُسے لا کر فیروز پور کے جیٹھ ہاڑ میں ڈبو دینا چاہیے۔ لیکن اب کے معاملہ دوسرا تھا۔ لوگ اِس عقل سوز گرمی اور دھوپ کو بھول کر کسی اور دھیان میں لگے ہوئے تھے۔ ایک خاموشی،دبی دبی خاموشی،جس میں حواس باختہ کر دینے والا خوف اور بجھا بجھا ڈر تمام لوگوں پر چھایا ہو ا تھا۔ پوری آبادی میں نہائت خموشی اور لاشعوری تقسیم کا عمل جاری تھا۔ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے دو حصوں میں بٹنے لگے تھے۔ آپس کی اِس لاشعوری تقسیم میں اُن کی زبانوں پر ہر وقت ست سری اکال یا اللہ اکبر کی تکرار پہلے سے کئی گنا ہو گئی۔ وہ نہیں جانتے تھے،بغیر وقفے کے اِن مذہبی نعروں سے کیا حاصل کر رہے ہیں،لیکن اپنے کلمہ گو بھائی کو دیکھ کر ہر فرد نے اُن نعروں کو ادا کرنا اور اُن کاجواب دینا اپنے اوپر لازم کر لیا تھا۔ گویا دونوں گروہوں نے اپنے اپنے دیوتا میدان میں لا کھڑے کیے،جو ایک عرصہ تک غیر متحرک رہے تھے اور اب اُن کی طاقت کا مظاہرہ کسی وقت بھی ہو سکتا تھا۔ مگر ایک بات ابھی تک نہ جانے کیوں راز میں تھی کہ اِس میدان کو تیار کرنے والے ظاہراً نظر نہ آ رہے تھے۔ آخر وہ سب سے بڑا دیوتا کہاں تھا؟ جو دونوں بڑی طاقتوں کو خموشی سے بھڑا دینا چاہتا تھا لیکن اُس کی آگ کو وقت سے پہلے بالکل خموش رکھ رہا تھا۔ نہ اُس کی لکڑیاں دکھائی دیتی تھیں اور نہ اُس کے بندوبست میں لگے ہوئے چہروں کی کچھ خبر تھی۔ بس ہر ایک چیز اِس طر ح اپنے ہی آپ منظم اور اپنی اپنی صفوں میں درست ہو رہی تھی،جیسے پانی کا بہاؤ سوکھے ہوئے پاٹ میں پڑے تنکوں کو اِدھر اور اُدھر دونوں کنارے کے حوالے کرتا ہوا،آپ اکیلا سمندر کی جانب چلا جائے۔ اگرچہ یہ قضیہ سارے ہند وستان میں ایک ہی طرح سے چل رہا تھا لیکن تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور خاص فیروزپور میں معاملات اِس طرح پُر اسرار تھے کہ اِس بارے میں کوئی بھی دماغ کوشش کے باوجود اِن حالات کا پتا چلانے میں ناکام تھا۔ ہر شے میں نحوست اور بے وقعتی اور بد نیتی یو ں دبے قدموں چلی آئی تھی کہ اُس کے متعلق کوئی دعوہ نہیں کر سکتا تھا کہ اُس نے بدلتے ہوئے آسمان اور زمین کا مشاہدہ کر لیا ہے۔ ہاں ایک بات جو سب جانتے تھے اور ہر فرد اُس کے بارے میں وثوق سے اپنی آنکھ کا اعتبار پیدا کر سکتا تھا،وہ یہاں کے لوہاروں کی تپتی ہوئی بھٹیاں تھیں،جن میں اِتنا ایندھن جھونکا جا چکاتھا کہ اب سر کنڈوں کے تنکوں تک کی نوبت آ گئی تھی۔ لوہار وں کی دوکانیں،جن کی چھتیں،کھپریل،ٹوٹے پھوٹے بانسوں اور سخت جنتر کے سستے آنکڑوں سے بنی تھیں،بھٹی سے اُٹھنے والے دھویں اور آگ کی لپکوں نے،جو اُن کی واحد خوراک تھیں،پورے پورے علاقوں کو جلا دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ یہی وہ جگہیں تھیں،جن کا مالک کوئی سکھ لوہار تھا اور کوئی مسلمان۔ مگر لوہے کو سُرخ کرنے کی مہارت دونوں میں ایک ہی جیسی تھی۔ دونوں کے پاس آرہن،چھینی،ہتھوڑا اور چمٹا بھی ایک ہی طرح سے کام کرتا تھا۔ لوہے پر اُن دونوں کی ضربوں کی دھمک بھی ایک جیسی پڑتی تھی۔ حتیٰ کہ دونوں کے لوہا کوٹتے ہوئے بغلوں کا پسینہ اور پسینے کی بدبوسے ایک ہی طرح سے کراہت پید ہوتی تھی۔ اِس کے باوجود دونوں میں ایک ایسا ناقابل بیان فرق موجود تھا،جس کی وضاحت وہ خود بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اُس فرق سے وہ اِتنے وفادار تھے،جیسے اُس کے ساتھ زندگی کا لمس بندھا ہوتا ہے۔ اِن لو ہاروں کو کئی دنوں سے تلواریں،چھویاں،برچھیاں اور سنگینیں بنانے سے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی اور بھٹیوں کی چھتیں،جن پر پہلے ہی دھوپ،گرمی،دھویں اور اُڑتے ہوئے بگولوں سے گرد اور مٹی کی دبیز تہیں چڑھی ہوئی تھیں،آگ کے تپاؤ میں کٹھالی کی طرح پک کر سیاہ اور چکی تھیں۔ یہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ نہ یہ سب تیاری سات سمندر پار اُن سفید لوگوں کے لیے تھی،جنہوں نے لال قلعہ سے لے کر جلیانوالا باغ تک،دونوں جگہ اپنے نقشے درست کیے تھے۔ نہ اُن لوگوں کے لیے،جو دیسی ہونے کے باوجود اُن کے درمیان نہ تھے،نہ اُن کی طرح کھاتے پیتے تھے اور نہ ہی اُن کی طرح بولتے تھے۔ یہ سب کچھ وہ اپنے لیے ہی کر رہے تھے۔ بلکہ یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ تیاری تھی بھی کہ نہیں۔ ہاں کچھ ہی دنوں بعد اتنی سمجھ اور آنے لگی تھی کہ یہ خموش نحوست اُس وقت شروع ہوئی،جب کسی نے اُسی ملک میں ایک مزیدملک بنانے کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ ملک کیا تھا؟کہاں بننا تھا؟ اور اس میں کن لوگوں نے رہنا تھا؟یہ ابھی طے نہیں ہوا تھا،مگر یہ طے تھا کہ اِس کی بنیادوں میں گاڑھے اور پتلے،سبھی قسم کے خون کا گارا او رکٹے ہوئے سروں کی اینٹیں استعمال ہونا تھیں،جس میں تیز دھار لوہے کا بہت زیادہ کام تھا۔ اور یہ بھی طے تھا کہ جس کے پاس جتنا زیادہ اور جتنا تیز لوہا ہو گا،وہی اپنی عمارت بلندتعمیر کرے گا۔ اس میں ست سری اکال اور اللہ اکبر کو بھی کردار ادا کرنا تھا۔ لیکن اُن کا عمل دخل صرف لوہے کے استعمال کے وقت تھا۔

چھ سات مہینے تو یہی حالت رہی لیکن اب کچھ دنوں سے اِس منحوس اور اُکتا دینے والی خموشی کا سکوت ٹوٹنے لگا تھا۔ سان پر چڑھی ہوئی بر چھیاں ڈانگوں پر چڑھنے لگیں۔ اَن کہی ٹولیاں تر تیب پانے لگیں اور اَن سُنی کہانیاں سُنی جانے لگیں۔ پُر امن گاؤں میں راتوں کو پہرے جمنے لگے۔ جوانوں نے مونچھوں کو تاؤ دینے شروع کر دیے لیکن کیوں؟ یہ ابھی بھی کسی کو پتا نہیں تھا۔ بس کہانیاں تھیں،کہ فلاں سکھڑے نے فلاں مسلے کو برچھی مار دی یا فلاں مُسلے نے فلاں سکھ کو تلوار سے کاٹ کر اُس کی انتڑیاں نکال دیں۔ مگر یہ سب دیکھا کسی نے نہیں تھا،سُن ضرور رہے تھے۔ یہ کہاں ہو رہا تھا؟یہ بھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔ ہاں اِتنا اور ہوا،چوہدریوں نے اپنے مزارعے بدل لیے اور مزارعوں نے چوہدری۔ مسلمان مسلمانوں کے ہاں چلے گئے اور سکھ سکھوں کے ہاں۔ پُرانے محلے داروں نے اپنے محلے اور گلیاں تک بدل لیں۔ گھر وں کے پُر سکون آنگنوں میں سونے والے کوٹھوں جا چڑھے اور ساری ساری رات جاگ کر پہرے داریوں میں لگ گئے۔ ڈھاریوں میں مال کی رکھوالی کرنے والے مال مویشی ہی گاؤں لے آئے۔ مزید دن گزرے تو سونے والے اچانک ڈر کرہڑ بڑا اُٹھتے اوراُٹھ اُٹھ کر بھاگنے لگے۔ پھر خبر ملتی کہ کچھ بھی نہ تھا۔ پھر کچھ دنوں بعد کچھ ہونے بھی لگا۔ واہریں اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ کبھی دائیں طرف سے بلوے کی خبر آتی،کبھی بائیں طرف سے۔ تھوڑی دیر میں واویلا اُٹھتا کہ سکھوں نے حملہ کر دیا۔ لوگ اللہ اکبر اور یا علی کے نعرے مارتے اپنی ڈانگیں اور برچھیاں لے کر چند لمحوں میں جمع ہو جاتے۔ وہ بر چھیاں،جو اُنہوں نے رات اپنے سرہانوں کے ساتھ رکھی تھیں۔ لیکن پتا چلتا،خبر جھوٹی تھی۔ دو ہفتے بعد یہ کھیل بھی ختم ہوا اور خبریں سچی ہونے لگیں۔ اِس لیے کہ نیا ملک بننے میں اب کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی،بلکہ وہ بن چکا تھا۔ لیکن وہاں نہیں،جہاں فیروز پور تھا۔ بلکہ ستلج کے اُس پار منٹگمری کی طرف۔ اچانک اُنہیں پتا چلا،یہ اُن کا وطن نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے؟اِس کا ابھی جواب نہیں تھا۔ وہ یہاں سے نکل کر کس مکان،کس دیہات یا کس شہر میں جائیں گے؟یہ سب نہ اُنہیں پوچھنے کی طاقت تھی اور نہ ہی اُنہیں کسی ایسے شخص کا پتا تھا،جو یہ سب کچھ اُن بتا سکتا ہو۔ ڈھاریاں،بستیاں،قصبے اور فیروز پور کے چھوٹے چھوٹے شہر وں کی آبادیاں،جن کی تعداد کم سے کم چار یا پانچ ہزار تھی،سب کے سب لوہے کے ہتھیاروں سے بھر گئے۔

پھر وہ دن جلد آگئے،جب لال آندھیوں،جھکڑوں،بگولوں کے اُٹھتے ہوئے طوفانوں اور خشک زمینوں سے د ھوپ کے اُڑتے ہوئے غباروں کے ساتھ دکن کی طرف سے سیاہ بادلوں کے پرے چڑھ آئے۔ یہ عذاب اکیلا نہ تھابلکہ دوسری طرف سے کرپانوں،گنڈاسوں،تلواروں اور چھویوں کے مینہ برسنے لگے۔ بیٹھے بیٹھے جانے کس غیب سے اشارہ ملا کہ لوہے کی تیز دھاریں ریشمی جسموں کی رگیں کاٹنے لگیں۔ واہگرو کی جَے،ست سری اکا ل اور اللہ اکبر کا آوازہ بلند چوراہوں،راہوں،نہر کی پٹڑیوں اور ہر اُس جگہ پر گونجنے لگا،جہاں کوئی بے دست و پا نظر آیا۔ انگریزی نظام کی تمام کڑیاں ایک ہی ہلے میں کٹ کر گر گئیں۔ پولیس معطل اور نظام ثقہ کا سکہ رائج ہو گیا۔

ہو سکتا تھا جلال آباد اور مکھسر میں حالات ویسے ہی مست چال چلتے رہتے اور کسی کو باور نہ ہوتا،کیا ہو رہا ہے۔ اُن کی تلواروں،کرپانوں اوربرچھیوں کو پڑے پڑے ساون کے پانی سے زنگ لگنا شروع ہو جاتا کہ ہریانہ،لدھیانہ اور دہلی سے لُٹے پٹے قافلے نمودار ہونے لگے۔ ۔ گڈے ہی گڈے،چھکڑے ہی چھکڑے،انسان،گدھے،بیل،بکریاں،اُونٹ،گائیں اور بھینسیں اور چیتھڑوں میں لپٹے،ننگے،سفید لٹھوں میں،ننگے پاؤں،ننگے سر،پگڑیاں باندھے،پیدل،سوار،گدھوں پر،گھوڑوں پر،بیمار ایک دوسرے کے کاندھوں پر،کفن کی ٹاکیوں میں لپٹے مُردے،ہزاروں انسانوں،لاکھوں انسانوں کے قافلے اور قافلوں کے تعاقب میں بھی قافلے۔ ڈانگوں والے،برچھیوں والے،داڑھیوں والے،مڑاسے مارے ہوئے،ننگے سر،اسوار،گھوڑوں پر۔ گویا انسانوں کی کھمبیا ں نکل آئیں تھیں،جن کی نہ کوئی پکار تھی،نہ پُرسش تھی اور نہ احساس تھا۔ بس نعرے تھے،بلوے تھے اور خون کے لمبے سلسلے،ہزاروں سال لمبے۔

غلام حیدر کو تشویش تو پہلے ہی بہت تھی لیکن جھنڈو والا کی خبر نے اُسے تڑپا کر رکھ دیا۔ ہوا یہ،آج صبح جب حویلی کے بیرونی صحن میں آیا تو اُسے ایک اجنبی نظر آیا،جسے اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ غلام حیدر چار پائی پر بیٹھ چکا تو اُس نے اُٹھ کر سلام کیا۔ غلام حیدر نے دیکھا،وہ لنگڑا کے چل رہاتھا۔ بہر حال اُس کے سلام کا جواب دیا اور پوچھا،وہ کون ہے؟

رفیق پاؤلی نے اُس شخص کے بولنے سے پہلے ہی کہا،چودھری غلام حیدر،یہ رشید عُرف چھدو ہے۔ جھنڈو والا سے آیا ہے۔ کہتا ہے،وہ بہت اہم خبر لایا ہے،جسے سوائے تمھارے کسی کو نہیں بتانا چاہتا۔

غلام حیدر نے کہا،چار پائی دور اُس کونے میں رکھ دو۔

جب غلام حیدر چھدو کو لے کر اکیلا بیٹھ گیا تو اُس نے جلدی سے بولنا شروع کر دیا،چودھری صاحب،میں خاص سودھا سنگھ کا ملازم تھا۔ اُس کے قتل کے بعد بھی اُسی کا نمک کھا رہا ہوں لیکن اِس وقت ایسی مجبوری آ پڑی ہے کہ تیری طرف آنا ضروری ہو گیا تھا۔ آخر مسلمان ہوں۔ اپنے آپ کو روک نہیں سکا۔ بات یہ ہے کہ جودھا پور کے مسلمان اِس وقت بہت خطرے میں ہیں۔ آج شام سے پہلے اُن سب کو سردار سودھا سنگھ کے بھتیجے سردار شمشیر سنگھ نے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور اِس کے لیے پوری تیاری ہو چکی ہے۔ جتنی جلدی ہوسکے،اپنے بندوں کو اسلحہ دے کر بھیج،تاکہ اُن کو نکال لائیں۔ خدا نخواستہ دیر ہو گئی تو سب کچھ تلپٹ ہو جائے گا۔ چھدو کی بات سُن کر غلام حیدر سُن ہو گیا۔ اُس کے دماغ میں جو خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی،آخر وہی کچھ ہوا تھا۔ سوچتے سوچتے اُس کا ذہن نچڑ کے رہ گیا،مگر سمجھ میں کچھ نہ آ رہا تھا۔ غلام حیدر کی رعایا تو ایک طرف،خود وہ نہیں جانتا تھا کہ حالات اِتنی تیزی سے بدلیں گے۔ پورے علاقے میں،جہاں اُس کی چند ہی دن پہلے ہیبت تھی اور اُس کا نام سُن کر سکھوں کو پسینے چھوٹ جاتے تھے،وہیں ہر شے اُس کے اثر سے اچانک اِس طرح نکل گئی،جیسے وہ ابھی پیدا ہی نہ ہوا ہو۔ کہاں تو ایک سال پہلے آدھے فیروز پور میں اُس نے الیکشن میں وہ کردار ادا کیا تھا،جس کی توقع نواب افتخار بھی نہیں کر رہا تھا۔ کانگرس اور یونینسٹ کو ووٹ ہی نہیں پڑنے دیے۔ اب اُسے اپنے اور اپنے بندوں کے جان و مال کے بھی لالے پڑ گئے تھے۔ آخر اُس نے ایک فیصلہ کر لیا پھر مطمئن ہو کر وہیں آ گیا،جہاں بہت سے آدمی جمع تھے۔

بادل اِتنے کالے اور گہرے تھے کہ اُن کے نہ برسنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہوا بالکل بند تھی،جس کی وجہ سے حبس صبح کے وقت ہی اتنا بڑھ گیا تھا کہ محسوس ہونے لگا،ابھی بارش ہو جائے گی۔ یہ بارش ہو جاتی تو ساون کی پہلی بارش تھی۔ دن کافی چڑھ آیا تھا۔ غلام حیدر کے بندے حقہ پینے میں مصروف تھے۔ اُسے پاس آتے دیکھ کر سب اُٹھنے لگے تو غلام حیدرنے اشارے سے سب کو بیٹھ جانے کے لیے کہا،پھر رفیق پاؤلی سے مخاطب ہوا،چاچا رفیق،جلدی سے ہمارے تمام بندوں کو جمع کر لو اور جو باہر نکلے ہوئے ہیں،اُن کو بھی بلا لو۔

رفیق پاؤلی نے غلام حیدر کو اِتنا گھبرائے ہوئے دیکھا تو وہ خود بھی پریشان ہو گیا۔ بولا،غلام حیدر خیر ہے،اتنی پریشانی کس لیے ہے؟ آدمی تو سارے ہی اِدھر ہیں۔

ہاں خیر ہی ہے،غلام حیدر نے تحمل سے جواب دیتے ہوئے کہا،تم سب میری ایک بات غور سے سُن لو۔ اب کوئی بندہ میرے پوچھے بغیر کہیں نہیں جائے گا۔ ایک بات طے ہے کہ فساد ہونے والا ہے۔ اِتنا بڑا فساد،جس کے آگے چراغ دین اور سودھا سنگھ کے قتل کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ سب کچھ تلپٹ ہونے والا ہے۔ اِس فساد میں کون کہاں جائے گا،اِس کی کسی کو خبر نہیں۔ اِس لیے کوشش کرو،ایک دوسرے سے الگ نہ ہو۔ کچھ دن پہلے میں نے جو محسوس کیا تھا۔ اُس کے پیش نظر اسلحہ تو ضرورت سے زیادہ جمع کر لیا تھا،لیکن اب سکھوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں۔ اِس لیے مزید بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے لگ رہا ہے،جتنا کچھ احتیاطاً کیا گیا تھا،وہ اِس بند کے آگے تنکوں کا گھونسلا ہے۔ یہ بھی اچھی طرح سے جان لو کہ اب ہمیں بھی ستلج پار چلنا ہو گا۔
اور یہ گھر؟جانی چھینبا بولا،

یہ گھر،زندگی رہی تو واپس آ جائیں گے،غلام حیدر نے جانی کی بات کاٹتے ہوئے کہا،لیکن اِس وقت یہ حالات نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہم لٹتے ہوؤں کا تماشا دیکھتے رہیں۔ پھر خودبھی زنخوں کے ہاتھوں مر جائیں۔ مَیں نے دس دن پہلے فرید کوٹ کے نواب صاحب سے دس ریفلیں اور گولیاں منگوا لی تھیں۔ اُنہیں ملا کے اب ہمارے پاس چودہ رائفلیں اور چار سو کار توس موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ میری پکی رائفل بھی ہے،جس کی مرے پاس پچاس گولیاں باقی ہیں۔ چاچا رفیق،سب بندوں سے کہہ دو،جن کے پاس کچھ نہیں ہے،وہ کچھ نہ کچھ ضرور اپنی بغل میں دبالیں۔ ہماری عورتوں کے پاس بھی چھُری کانٹا موجود ہونا چاہیے۔

یہ بات کہہ کر غلام حیدر کچھ دیرکے لیے چپ ہو گیا،جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔ پھر رفیق پاؤلی سے کہا،چاچا رفیق،تم ایسا کرو،جانی اور الطاف کو لے کر بیس مزید بندوں کے ساتھ بمع اسلحہ جودھا پور چلے جاؤ او ر جودھا پور والوں کو اپنی نگرانی میں جلال آباد لے آؤ۔ اِس وقت وہ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ دو بندے شاہ پور بھیج کر اُن کو خبر کر دو کہ جتنی جلدی ہو سکے،اپنا سامان باندھ کر بنگلہ فاضلکا کی طرف روانہ ہو جائیں اور وہیں بیٹھ کر ہمارا انتظار کریں۔ جب تک ہم نہ آ جائیں،آگے نہیں بڑھنا۔ وہاں سے اکٹھے ہیڈ پار کریں گے۔ یہ کام جلدی کرو،دیر اب نقصان کی طرف لے جائے گی۔

یہ حکم دے کر غلام حیدر جلدی سے واپس اندرونی صحن کی طرف چلا گیا۔ اِدھر رفیق پاؤلی نے ہوا کی تیزی سے اُس کی بات پر عمل شروع کر دیا۔ امیر سبحانی اور شیدے کو شاہ پور کی طرف بھیج کر آپ دس بجے سے پہلے ہی جودھا پور روانہ ہو گیا۔ رفیق پاؤلی کا جودھا پور کی طرف روانہ ہونا تھاکہ بادلوں نے گرجتے ہوئے برسنا شروع کر دیا۔ بارش ایسی شدید تھی کہ خدا کی پناہ۔ سیر سیر بھر کے تریڑے گرنے لگے۔ مگر رفیق پاؤلی نے اپنا سفر جاری رکھا کیونکہ معاملہ اب واقعی ہاتھ سے جاتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اُس کا خیال تھا،بارشوں کی وجہ سے دیر کی گئی تو خون کی بارشیں شروع ہو جائیں گی۔ حالات کے مطابق یہاں سے اب جتنی جلدی ہوسکے،نکلنا ضروری ہو گیا تھا تاکہ اکٹھے سفر کیا جائے اور بغیرجانی اور مالی نقصان کے ستلج پا کر لیا جائے۔

اِدھر تو غلام حیدر یہ فیصلے کر رہا تھا،اُدھر جھنڈو والا میں الگ اپنے فیصلے ہو رہے تھے کہ جودھا پور وا لوں سے کیا سلوک کیا جائے؟سردار سودھا سنگھ کا بیٹا موہن سنگھ ابھی چھوٹا تھا۔ اِس لیے فیصلہ کرنے کا حق سردار سودھا سنگھ کے بھتیجے سردار شمشیر سنگھ کو دے دیا گیا۔ اُس نے کافی دنوں کی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ پورے جودھا پور میں کسی مرد کو زندہ نہ چھوڑا جا ئے۔ عورتوں کو آپس میں بانٹ لیا جائے اور بچوں کو نوکر بنا کر اُن سے بیگار لی جایا کرے،کہ اِن مُسلوں کی یہی سزا ہے۔ دوسری طرف جودھا پور میں یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ موت نے اُن پر نازل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اُنہوں نے بھی فی بندے کے حساب سے جو چیز لوہے کی ہاتھ آئی،اُسے سنبھال لیا۔ تمام عورتوں اور بچوں کو غلام حیدر کے جودھا پور والے مکان میں جمع کر دیا۔ اپنا اپنا سامان گٹھڑیوں میں باندھ کر ضروری چیزیں لے لیں اور باقی اندر رکھ کر مکانوں کو تالے لگا دیے کہ جب ٹھنڈ ٹھنڈار ہو گا تو اپنے گھروں میں دوبارہ آ بسیں گے۔ عورتوں نے یہ سوچ کر گھروں کے جندروں کی چابیاں اپنے گھگھروں کے ازاربندوں سے باندھ لیں۔ بھلا ایسے بھی کبھی ہوا،کسی کو کوئی زبر دستی اپنے گھروں سے نکال دے۔ آخر یہ دنگا فساد ایک دن تو ختم ہونا ہی تھا،جو نہ جانے کس شطونگڑے نے شروع کیا تھا اور بیٹھے بٹھا ئے گھروں سے بے گھر کر دیا۔ رحمت علی نے سب لوگوں کو حوصلہ دیا اور کہا،ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اب ہم مل کر ہی مریں گے اور مل کر جیئں گے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے سکھڑے زبردستی گاؤں کو آ گ لگا ئیں؟ وہ اچھی طرح جانتے ہیں،یہ گاؤں اُسی غلام حیدر کا ہے جس کی بندوق سے سکھڑے اِس طرح بھاگتے ہیں جس طرح شیطان اعوذ بااللہ سے۔

جودھا پور میں کل مل ملا کے پچاسی مرد تھے،جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل جانے کے لیے پوری تیاری کر لی اور غلام حیدر کے مکان کو مورچہ بنا کر آنے والی آفت کا انتظار کرنے لگے۔ اِدھر ساون بھی اپنی جولانی پر تھا۔ سہ پہر چار بجے بادلوں کے کالے سایوں کے ساتھ موت کے زرد سائے بھی جودھا پورپر منڈلانے لگے۔ شمشیر سنگھ دو سوبندے لے کر،جو کرپانوں،چھویوں اور گنڈاسوں سے لیس تھے،جودھا پور کی طرف روانہ ہو گیا۔ اِس دفعہ اُس نے صرف کرپانوں پر بھروسا کرنے کی بجائے رائفلیں بھی ساتھ لے لیں،جن کی تعداد پانچ تھی۔ سردار سودھا سنگھ کے قتل کے بعد وہ صرف ڈانگ سوٹے پر بھروسا نہیں کر سکتے تھے۔ شمشیر سنگھ جانتا تھا،حالات جتنے بھی سکھوں کے حق میں ہوں،مُسلے بہر حال ایسے بچھو تھے جو کسی نئے طریقے سے بھی ڈنک مار سکتے تھے۔ ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ غلام حیدر نے اُن کے لیے کوئی انتظام نہ کیا ہو۔ شام چار بجے شمشیر سنگھ کے جتھے نے جودھا پور پہنچ کر پورے گاؤں کا محا صرہ کر لیا۔ اِدھر رحمت علی نے پہلے ہی اُن کے انتظام کے لیے سب کچھ سمیٹ کر غلام حیدر کے مکان پر جمع کر لیا تھا اور لڑنے کے لیے ہر طرح سے تیار وہا ں بیٹھے تھے۔ عورتیں اِس کے لیے ہرگز تیار نہیں تھیں۔ وہ کسی بھی طرح سے نہیں چاہتی تھیں،فساد ہو۔ اُن کے سننے میں ایسی بُری بُری خبریں پہنچتی تھیں،جن کو برتنے کا اُن میں یارا نہیں تھا۔ اُن عورتوں میں سے کچھ مسلسل نماز میں تھیں،۔ کچھ دعا اور درود کے ورد میں مصروف ایک انہونے خوف میں مبتلا تھیں۔ اُنہیں مرنے سے زیادہ اِس بات سے دہشت ہو رہی تھی کہ خدا نخواستہ اُن پر حملہ ہو گیا اور مرد لڑتے لڑتے مارے گئے تووہ لمبی داڑھیوں اور بد بو دار بغلوں والے نا پاک سکھڑوں کے ہاتھ ا ٓجائیں گی۔ وہ جو اُن سے سلوک کریں گے،اُس کا تصور ہی کپکپا دینے والا تھا۔ تمام بچے سہمے ہوئے اپنی ماؤں اور بہنوں کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے۔ منہ اندھیرا ہورہا تھا۔ اِس عالم میں جوں جوں سکھوں کے حملے کی خبریں ملتیں،دہلا دینے والے ہول پڑتے اور شام کے سائے بھوتوں کی طرح جودھا پور میں چلتے پھرتے نظر آتے۔ اچانک بادل زور سے گرجنے لگے۔ ہوا کا زور بڑھا تو عورتوں نے چاروں قل اور آیہ کرسی کی تلاوتیں شروع کر دیں۔ پانچ بجے شام گھوڑوں کی ٹاپوں اور پیدل سکھوں کے قدموں کی دڑ دڑ شروع ہوئی تو عورتوں کے وظیفوں اور دعا ؤں کی گنگناہٹ اتنی تیز ہو گئی،جیسے شہد کی مکھیوں کے چھتے بکھررہے ہوں۔ رحمت علی کی ہدایات پر مردوں نے دو رائفلوں کے ساتھ پوری طرح حملے کا جواب دینے کے لیے اپنے نشانے سیدھے کر لیے۔ و ہ یہ تو جانتے تھے،اِتنے سکھوں کی یلغار کے سامنے مٹھی بھر لوگوں کا کیا بنے گا۔ مگرشایدیہی دن تھا،جب سب کے ایمان کا یقین ایک جیسا ہو گیا تھا،اور وہ مولا علی کو دل میں اور با آواز بلند بھی پکار رہے تھے۔

شمشیر سنگھ اور اُس کا جتھا جودھا پور میں داخل ہوا تووہ حیران رہ گئے۔ سارے گاؤں میں کوئی فرد بھی اُنہیں کسی گلی میں چلتا پھرتا نظر نہ آ یا۔ گویا کوئی دیو پھر گیا ہو۔ مکانوں کو تالے لگے ہوئے تھے۔ بادلوں کے سیاہ پھریروں میں صرف درختوں کی شاخیں اور پتے تھے،جو لہرا لہرا کر اپنے ہونے کی گواہی دے رہے تھے۔ اِس ویرانی میں اُن کا ہلنا بھی گاؤں کی وحشت میں اضافہ کر رہا تھا۔ چند منٹوں کے لیے تو شمشیر سنگھ پریشان ہو گیا۔ لیکن جلد ہی اُسے پتا چل گیاکہ مُسلوں نے غلام حیدر کے بڑے احاطے میں پناہ لے رکھی ہے۔ گاؤں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اُنہیں ڈھونڈنے میں زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑی۔ اُس نے سوچا،یہ اور بھی اچھا ہے،سارے ایک ہی جگہ پر قابو آ گئے ہیں۔ اُسی وقت اُس نے مکان پر حملے کا حکم دے دیا۔ اِس سے پہلے کہ شمشیر سنگھ کا جتھا حملہ آور ہوتا،رحمت علی نے فیصلہ کیا کہ سکھوں پر گولی چلا دی جائے۔ رحمت علی اور جودھا پور کے مر دمکان کی چھت پر ہونے کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے اُن کی دسترس سے باہر تھے۔ بلکہ جب تک گولیاں ختم نہ ہو جاتیں سکھوں کا مکان میں داخل ہونا مشکل تھا۔ چنانچہ اِدھر شمشیر سنگھ کے لوگ حویلی کی طرف بڑھے،اُدھر ایک دم کوٹھے کے اُوپر تنی بندوقوں سے تین فائر نکل کرسیدھے سکھوں کے ہجوم میں گھس گئے۔ فائر کارتوسوں سے کیے گئے تھے،اِس لیے چھَرًے اِس طرح زور سے بکھرے،جیسے مینہ کے چھنٹے برس پڑے ہوں۔ بادل زور سے برس اور گرج رہے تھے۔ اِس قدر تیز بارش میں حملہ آوروں کا دھیان پہلے ہی بٹا ہوا تھا کہ ِان فائروں سے وہ اور زیادہ بوکھلا گئے۔ لیکن اب وہ بھاگنے کے لیے نہیں آئے تھے۔ اُن کے دو بندے گر گئے جس کی وجہ سے غصہ دو چند ہو گیا اور وہ اندھا دُھن مکان کے دروازے کی طرف دوڑ پڑے۔ کچھ نے چھت کی طرف گولیاں برسانی شروع کردیں۔ بہت سے سکھوں نے مل کر حویلی کے بڑے دروازے کو دھکا دیا تو وہ منٹوں میں زمین بوس ہو گیا۔ اُس کے ساتھ ہی تمام سکھڑے مکان کے صحن میں بھر گئے،جن پر کوٹھے کی چھت سے ایک اور فائر وں کی بوچھاڑ پڑی۔ اِس بوچھاڑ سے کئی سکھ مزید زخمی ہو کر گر پڑے۔ لیکن وہ مسلسل واہگرو اور ست سری اکال کے نعرے لگاتے ہوئے اور تلواریں،برچھیاں لہراتے ہوئے آ گے ہی چلے آ رہے تھے اور کوٹھے پر بھی فائر کرتے جاتے۔ اِس فائرنگ سے حمیداکمبو،دلاور عرف دُلا اور شرفو اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن سوائے اِس کے،کوئی رستہ نہیں تھا کہ لڑ مریں۔ چنانچہ وہ بھی چھت پر بیٹھے فائر پر فائر کرنے لگے۔ اِس مسلسل فائرنگ اور بارش کی وجہ سے شمشیر سنگھ کا جتھا کچھ دیر کے لیے کمروں کے دروازوں کی طرف بڑھنے سے رُک گیا،جہاں عورتیں چھُریاں اور دات تھامے اور خالی ہاتھ،بچے ماؤں کے پہلووں سے چمٹے سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ باہر کے شور شرابے اور مار دھاڑ میں ڈر اتنا غالب آ گیا کہ کچھ عورتیں دعاؤں کو چھوڑ کر رونا شروع ہو گئیں۔ اِسی باہر کے پٹاخوں اور نعروں کی اُونچی آوازوں سے گھبرا کر بچے مسلسل رو رہے تھے۔ رحمت علی نے محسوس کیا کہ سکھ کچھ ہی دیر میں کمروں کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہو جائیں گے اور سب کچھ برباد ہو جائے گا،تو اُس نے،جن لوگوں کے پاس رائفلیں تھیں،اُنہیں کہا کہ وہ چھت پر ہی رہیں اور سکھوں پر اُس وقت تک فائر کرتے جائیں جب تک کارتوس موجود ہیں یا جب تک ہم زندہ ہیں۔ باقی سب نیچے چھلانگیں مار کر دالان میں جمع سکھوں پر حملہ کر دو۔ ویسے بھی کئی سکھ صحن میں کھڑے ہوئے نیم کے بڑے درخت پر چڑھ چکے تھے۔ جس کی شاخیں مکانوں کی چھتوں سے بھی بلند تھیں۔ یہ سکھ یہاں سے چڑھ کر کوٹھوں پر بیٹھے لوگوں پر فائرنگ کرنے لگے۔ جس کی وجہ سے بندوں کا نقصان بڑھ گیا۔ اِن حالات کے پیش نظر آمنے سامنے سے بھی فائرنگ شروع ہو گئی۔ رحمت علی کی بات سُن کر سب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ،نیچے چھلانگیں مار دیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے دوبدو لڑائی شروع ہو گئی۔ چھویاں،ڈانگیں،کرپانیں اور بر چھیاں اِس طرح برسنے لگیں جیسے ساون کی بارش برس رہی تھی اور پانی کے ساتھ خون کے پرنالے بھی بہنا شروع ہو گئے۔ سکھ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ اِس لیے نقصان مسلمانوں کا زیادہ ہو رہا تھا۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ سکھ مکمل طور پر محفوظ تھے۔ اگر دو بندے مسلمانوں کے گرتے تو ایک سکھوں کا بھی گر جاتا۔ کچھ ہی دیر میں لڑائی نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ کسی کو کسی کا ہوش نہ تھا۔ بس غلام حیدر کے مکان کا تین کنال کھلا صحن تھا،بارش کا شور تھا،خون اور پانی کے تریڑے تھے۔ یا پھریا علی مدد اور واہگرو کے نعروں کی گونج تھی۔ جن میں بچوں اور عورتوں کے رونے کی آواز دب کر رہ گئی تھی۔ جودھا پور والے اِس بے جگری سے لڑ رہے تھے کہ شمشیر سنگھ حیران رہ گیا۔ مکان چاروں طرف سے گھرا ہوا تھا۔ مرنے والے اور لڑنے والوں کے پاس اب نہ تو قائد اعظم تھا،نہ نواب افتخار اور نہ ہی گاندھی اور نہرو موجود تھے۔ وہ سب لیڈراپنے گھروں میں محفوظ،اِس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ہندوستان کے صوبے پنجاب کے ضلع فیروزپور کی تحصیل جلال آباد کے تھانے مکھسر کے ایک گاؤں جودھا پور میں اِس وقت خون اور پانی کی جنگ ہو رہی ہے۔ اُنہیں نہیں پتا تھا کہ ُاس کے نتیجے میں،جو مارے جارہے ہیں،اُن کا مقدمہ کس عدالت میں چلایا جاسکتا ہے؟یا اگر وہ جانور ہیں اور اُن کا خون بہا نہیں تو یہ اُنہیں پہلے کیوں نہ بتایا گیا۔ جہاں تک یا د پڑتا ہے،اُن کے کانوں نے تو کسی آزادی وغیرہ کا نام سنا تھا۔ اُن بڑے لیڈروں نے تو جودھا پور،شاہ پور اور جھنڈو والا کے نام بھی نہیں سُنے تھے،جو ہوائی جہازوں کے ذریعے سرحدیں پار کر رہے تھے،بمع سازو سامان اور اہل و عیال۔ ان بڑے بڑوں کو تو چھوڑیے،خود اِن جودھاپور اور جھنڈووالا کے لڑ کر مرنے والوں کو بھی نہیں پتا تھا،وہ کیوں لڑ اور مر رہے ہیں؟کیونکہ اِس لڑائی میں نہ گاندھی شامل تھا اور نہ محمد علی جناح،لیکن لڑائی جاری تھی اور لاشیں گر رہی تھیں،بارش ہو رہی تھی۔

اِسی دوران رفیق پاؤلی گاؤں میں اپنے بندوں کے ساتھ داخل ہو گیا اور جودھا پور پر اِتنے سارے حملہ آور سکھوں کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ جلد ہی ساری صوت حال کو سمجھ گیا تھا اور جی میں اِس بات پر خدا کا شکر کیا کہ غلام حیدر کے سامنے سرخ رو ہونے کے لیے عین موقعے پر پہنچ گیا تھا۔ رفیق پاؤلی نے فوراً اپنے آپ کو سنبھا لا اور اپنے بندوں کو سکھوں پر فائر کھولنے کا کہہ دیا۔ جس کے بعد ایک دم یا علی کے نعروں کے ساتھ سکھوں پر پانچ مزید رائفلوں سے گولیاں برسنا شروع ہو گئیں۔ شمشیرسنگھ اور اُس کے ساتھی اِس اچانک حملے سے گھبرا گئے۔ مگر جلد ہی اُس نے اپنے بندوں کو قابومیں کر کے رفیق پاؤلی پر بھی حملے کے لیے آگے کر دیا۔ رفیق پاؤلی کے آنے سے جودھا پوریوں کے حوصلے کئی گنا بڑھ گئے۔ اُس کی وجہ سے مکان کے اندر اور باہر،دونوں جگہ گھمسان کا رن پڑ گیا۔ رفیق پاؤلی اور اُس کے بندے کھلی جگہ پر تھے۔ اِس لیے اندر کی لڑائی سے باہر کی لڑائی زیادہ تیز ہو گئی۔ اُدھر اندر والے بھی کئی لوگ بھاگ کر باہر آنے لگے۔ اُنہیں محسوس ہوا،غلام حیدر اپنے بندوں کے ساتھ مدد کو آگیا ہے۔ اِس افراتفری میں یہ ہوا کہ چند ہی لمحوں میں حویلی کا صحن سکھوں سے خالی ہو گیا اور باہر لڑائی کا زور پیدا ہو گیا۔ اب چھت پر بیٹھے ہوئے بندوق والوں کو کُھل کر فائر کرنے کا موقع مل گیا۔ لیکن کارتوس کم ہو گئے تھے۔ مگر اُس کا اندازہ خدا کا شکر ہے،شمشیر سنگھ کو نہیں تھا۔ باہر چونکہ لڑائی کا زور بہت بڑھ گیا تھا اور سب کا رخ رفیق پاؤلی اور اُ س کے بندوں کی طرف تھا،اِس لیے شمشیر سنگھ کی گولیوں اور کرپانوں کا تماشا بھی اُدھر ہی ہونے لگا۔ اُدھر جودھا پور والے،جو حویلی کے اندر لڑ رہے تھے،وہ بھی باہر نکل آئے۔ عورتیں اور بچے پھر کچھ دیر کے لیے محفوظ ہو گئے۔ لڑائی کا یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ جس میں ابھی تک کسی کو نہیں معلوم تھا کہ کتنے مسلمان مر گئے ہیں اور کتنے سکھ؟البتہ اِتنا ہو ا کہ رفیق پاؤلی کے آنے کی وجہ سے جودھا پور والوں کے حوصلے اور قوت میں اضافہ ہو گیا۔ اِس لیے وہ پہلے سے زیادہ بہادری سے لڑ نے لگے۔ اُن کے اِس طرح لڑنے سے سکھوں کے حوصلے اُٹھ سے گئے۔ وہ جس عظیم فتح کا گمان لے کے جھنڈو والا سے آئے تھے،اُس پر کچھ اوس پڑ تی نظر آ رہی تھی۔ نقصان ہر چند مسلمانوں کا ہی زیادہ تھا لیکن شمشیر سنگھ اور اُس کے متروں کو حملہ کرنے سے پہلے یہ توقع نہیں تھی کہ معاملہ اتنی مزاحمت اختیار کر جائے گا۔ اِدھر نہ جانے کہاں سے کاہنا سیؤ نے تاک کر ایک گولی ماری کہ سیدھی آکر رفیق پاؤلی کے دل پر لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اِس گولی کا لگنا تھا،مسلمانوں نے نعرہ بازی بلند کر دی۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ مر تو جانا ہے،کیوں نہ زیادہ سے زیادہ سکھوں کو لے کر مریں۔ یہ سوچ کر مسلمان اِس طرح سکھوں پر ٹوٹ پڑے جیسے سروں پر بارش کے تریڑے گر رہے تھے۔ اِس گھمسان کی وجہ سے لاشوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی اور بیسیوں بندے ادھر اُدھر بکھر گئے۔ گویا پانی پت کی لڑائی جاری ہو۔ بارش کے پانی کا زور،کیچڑ اور اُس میں زخمی ہو کرگرنے والوں کا خون،زخمیوں کی چیخیں اور ڈانگوں کے کھڑاک نے وہ ہنگامہ برپا کیا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ شمشیر سنگھ کو یہ دیکھ کر اپنی فتح کے آثار قریب نظر آنے لگے۔ وہ مزید زور زور سے ست سری اکال کے نعرے دہرانے لگا۔ اِس کی وجہ سے اپنے آپ سے بے خبر ہو گیا اور آگے پیچھے کی ہوش نہ رہی۔ اُسی وقت چھت پر سے ایک گولی شمشیر سنگھ کے ماتھے پر آکر لگی اور وہ گھوڑے سے سیدھا زمین آ پڑا۔ یہ دیکھ سکھوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ اُنہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ مسلمانوں نے اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی یلغار بڑھا دی اور بھاگتے ہووں کو مارنے لگے۔ یہی وہ وقت تھا،جب سکھوں نے جیتی ہوئی لڑائی کو شکست سمجھ لیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں اُن سے خالی ہو گیا۔ البتہ جاتے ہوئے اُنہوں نے شمشیر سنگھ کی لاش ضرور اُٹھا لی۔ باقی جو سکھ مر گئے تھے،اُن کو وہیں چھوڑ دیا۔ جس کی وجہ سے جودھا پور والوں میں مزید خوشی دوڑ گئی اور وہ اُن کا تعاقب کرتے ہوئے ایک دو ایکڑ تک پیچھے بھاگے،پھر لوٹ آئے۔ لڑائی قریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی تھی۔ اِس لیے شام کے سائے برستے ہوئے بادلوں کے ساتھ مل کر گہرا اندھیرا کرنے لگے۔ لاشوں کا حساب شروع کیا تو جودھا پور کے چالیس بندے مر چکے تھے اور سولہ سکھ بھی وہیں ڈھیر ہوئے پڑے تھے۔ زخمیوں کی تعداد الگ تھی۔ اِس کے علاوہ رفیق پاؤلی اور اُس کے ساتھ آئے بیس میں سے پانچ بندے مزید مارے جا چکے تھے۔

بارش ابھی ہلکی ہلکی جاری تھی۔ کچی زمین ہونے کی وجہ سے کیچڑ،پانی اور کھوبے نے چلنے پھرنے میں مشکل پیدا کر دی۔ رفیق پاولی مارا جا چکا تھا،اِس لیے حالات کی ڈور جانی چھینبے اور رحمت علی نے سنبھا ل لی۔ شام کی اذان کا وقت ہو گیا تھا۔ جانی نے سب زندہ لوگوں،بچوں اور عورتوں کو اکٹھا کیا اور اُنہیں کہا،جو کچھ اُٹھا سکتے ہو،اُٹھا لواور جلدی یہاں سے نکلنے کی کرو۔ رحمت علی نے کچھ بندوں کو لے کر ایک گڑھا کھدوانا شروع کر دیا تاکہ لاشوں کو جلدی سے دفن کر دیا جائے۔ اب یہ طے تھا کہ اتنی جلدی یا کم از کم رات کے وقت سکھ دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ مگر یہ ضرور تھا کہ اگلے دن وہ دوبارہ نئی طاقت سے چڑھ آئیں گے۔ اِس لیے رات ہی جودھا پور چھوڑ دینا ضروری تھا۔ عورتیں اپنے مرنے والوں پر رونے اور بین کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری میں مصروف ہو گئیں۔ وہ کبھی اپنے کپڑے سنبھالتیں اور کبھی بھائیوں،باپوں اور خاوندوں کے اُوپر گر گر کے دو ہتھڑ پیٹتیں اور بین کرتیں،جنہیں چند لمحوں بعد وہ خود چھوڑ جانے والی تھیں۔ اُنہیں رہ رہ کر اِن لاشوں کی تنہائی اور بے کسی کچوکے لگا رہی تھی۔ جن پر اب نہ وہ اگر بتی سلگا سکتی تھیں اور نہ اُن کی قبروں پر بیٹھ کے ماتم کر سکتی تھیں۔ اِسی عالم میں جو کپڑا لتا،اُن کے ہاتھ میں آیا،اُس کی گٹھڑی باندھ لی۔ گڑھا تیار ہو گیا توجودھا پور کے مولوی نے،جو خوش قسمتی سے بچ گیا تھا،جلدی سے اور مختصر ترین جنازہ پڑھا اور لاشوں کو دفنانے کا کہہ دیا۔ سکھوں کی لاشیں،جن سے اب وحشت ہو رہی تھی،اُنہیں ویسے ہی پڑا رہنے دیا۔ اِس دوران بارش بالکل رُک چکی تھی۔ گویا بارش ایک ایسا رجز تھی،جو اُس وقت تک جاری رہا،جب تک لاشیں گرتی رہیں۔

رات دس بجے کے قریب یہ بد نصیب قافلہ،جس کے آدھے مرد پل بھر میں لاشوں میں تبدیل ہو کر گڑھے میں جا چکے تھے،جلال آباد کی طرف چھکڑوں پر اور پیدل روانہ ہو گیا۔ عورتیں اور بچے خوش قسمتی سے بچ گئے تھے۔ قافلے کے ساتھ رفیق پاؤلی،حمیدا کمبوہ سمیت پانچ لاشیں،آٹھ زخمی،بین کرتی ہوئی عورتیں اور روتے ہوئے بچے تھے،جورات کے اندھیرے میں اپنے گھروں کو چھوڑتے ہوئے،اُن پر حسرت بھری نظر بھی نہ مار سکے اور اپنے گھروں کی دہلیزوں کو ڈر کے مارے پلٹ کر دیکھ بھی نہ سکے۔ بوڑھی عورتیں،بچے اور زخمی زیادہ تر چھکڑوں پر لادے گئے،جب کہ جوان عورتیں اور مرد پیدل چل دیے۔ بارش اِتنی شدید ہوئی تھی کہ ہر طرف جل تھل عام ہو گیا۔ سڑکیں پانی اور کیچڑ میں بدل جانے سے چھکڑوں اور گڈوں کا چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ چنانچہ اُن کو جتنا زیادہ ہلکا رکھا جا سکتا تھا،چھکڑوں میں جُتے ہوئے بیلوں کے لیے اتنا ہی بہتر تھا۔ یہ قافلہ رات بھر کراہتا ہوا چلتا رہا،جس کے پیچھے پیچھے ڈر بھی دوڑا چلا آرہا تھا،اس لیے وہ پل بھر کو کہیں آرام کرنے کے لیے ٹھہر بھی نہ سکااوردن نکلنے تک جلال آباد پہنچ گیا۔

قافلہ جس وقت جلال آباد پہنچا،صبح کے چھ بج رہے تھے۔ غلام حیدر فکر مندی سے اُن کے انتظار میں اِدھر اُدھر حویلی میں ٹہل رہا تھا۔ جیسے ہی اُس نے اِس لُٹے پُٹے قافلے کو دیکھا اور رفیق پاؤلی کی لاش پر نظر پڑی تو دل ایک جھٹکے کے ساتھ دہل گیا اور دم سینے میں اٹک سا گیا۔ غلام حیدر نے تمام لوگوں کی دلجوئی کی خاطر قافلے کو جلدی سے حویلی کے احاطے میں اُتارا اور عورتوں اور بچوں کو اندرونی صحن میں بھیج دیا۔ جہاں غلام حیدر کی ماں اور بیوی موجود نہیں تھیں۔ اُنہیں غلام حیدر نے دس پندرہ دن پہلے ہی پاکپتن بھیج دیا تھا،جس کے بارے میں یقین تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہو جائے گا۔ اِس لیے اُنہیں دلاسا دینے کے لیے حویلی میں کوئی نہیں تھا۔ یہ عورتیں،جو اپنے تازہ مُردوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جودھا پور کے گڑھے میں چھوڑ آئی تھیں۔ یہ عورتیں،جنہیں لاشوں پر آرام سے بیٹھ کر رونا نصیب نہیں ہوا تھا اور نہ اُن کی قبروں اور چارپائیوں کے پایوں کو پکڑ کر بین کر سکیں تھیں۔ یہ سب غلام حیدر کی حویلی کے اندرونی صحن میں اِس طرح داخل ہو رہی تھیں،جیسے صحرائے سینا سے نکل آئی ہوں اور اب آرام سے بیٹھ کر اپنے نقصان کا تخمینہ لگا سکیں۔ رفیق پاؤلی،حمیدہ کمبوہ،دلاور،الہ داد اور شریف جلاہے کی لاشیں حویلی کے دالان میں پڑی غلام حیدر کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر رہی تھیں۔ جبکہ وہاں کھڑے ہو ئے تمام لوگ اُن کو ایسے دیکھ رہے تھے،جیسے خراج تحسین پیش کر رہے ہوں۔ باقی اِدھر اُدھر بیٹھ کر اُن کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ غلام حیدر جانتا تھا،اب وہ اِن کا نہ تو بدلا لے سکے گا اور نہ مداوا کر سکے گا،۔ سوائے اِس کے کہ وہ اِن بچے کھچے اور اُجڑے پُجڑے لوگوں کو لے کر جتنی جلدی ہو سکے،ستلج پار کر جائے۔

ایک طرف تو غلام حیدر کے یہ مزارع اور رعایا تھی،جو اُس پر اپنا حق سمجھتے ہوئے یہاں آگئے تھے یا لائے گئے تھے۔ اِن کے علاوہ ارد گرد کے ہزاروں لوگ بھی حویلی کے آس پاس جمع ہو رہے تھے،جنہیں یا تو سکھوں کا ڈر تھا،یااُن کے پاس سفر کرنے کے لیے ضرورت کا تنکا تک نہ تھا۔ غلام حیدر کے پاس اِن لوگوں کا جمع ہو جا نا اُنہیں گویا اپنی حفاظت کا یقین دلاتا تھا۔ لوگ اتنے جمع ہو گئے تھے جن کا حویلی کے صحن میں پورا آنا مشکل ہو گیا۔ اِس لیے اُنہوں نے حویلی کے باہر ہی اپنے آسن جما لیے تھے۔ غلام حیدر جانتا تھا،ایک دو دن تک تو یہاں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن زیادہ دیر تک وہ اِن لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔ اُس کا ڈر سکھوں پر ایک حد تک رہ سکتا تھا۔ اُس کے بعد معاملہ بگڑ جاتا۔ کیونکہ اطلاعیں ملنے لگی تھیں کہ دریا پار سے سکھوں کے کئی قافلے لُٹ پُٹ کر جلال آباد آرہے ہیں،جو شمالی اور جنوبی پنجاب کے مسلمانوں کے جہاد کی نظر ہو گئے ہیں۔ اب اُن کی آبادی لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی،جنہیں دیکھ کر جلال آباد اور مضافات کے عام اور شریف سکھوں کے بھڑک اُٹھنے کا بھی اندیشہ تھا۔ وہ کسی وقت بھی غلام حیدر کے ڈر کو نظر انداز کر سکتے تھے۔ جب غلام حیدر کو جانی چھینبا جودھا پور میں ہونیوالی لڑائی کا تمام ماجرا سنا چکا تو اُس نے ایک ٹھنڈی آ ہ کھینچی۔ جس کا مطلب غالباًیہ تھا کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ اِسی لیے اُٹھتے ہوئے بات فوراًکسی اور طرف پھیر دی اور بولا،جان محمد ایسا کرو،جلدی سے چاچے رفیق اور دوسرے شہیدوں کی لاشوں کا بندوبست کر کے انہیں دفناؤ،بادل پھر چڑھ آئے ہیں اور نہ جانے کب برسنا شروع ہو جائیں۔ اِس کے علاوہ ہمارے گودام میں جتنا غلہ ہے،اُس کے دروازے اِن اجنبی دیس میں جانے والے مسافروں پر کھول دو۔ بچارے جتنے دن یہاں ہیں،پیٹ بھر کر کھا لیں،پھر خدا جانے اِنہیں کبھی کھانا نصیب ہو،یا نہ ہو۔ اور جہاں یہ جا رہے ہیں،وہاں کوئی اِن کا پُر سان حال ہو گا بھی کہ نہیں۔ بادل پھر گرجنے لگے تھے اور اُن کی سیاہی کل سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گئی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جودھا پور کی لڑائی کو چار دن گزر چکے تھے۔ عورتوں کے بین رک تو گئے تھے لیکن اُنہیں رہ رہ کر اپنے مُردوں کی یاد آتی تو وہ پھر رونا شروع کر دیتیں۔ پھر یہ درد جلد ہی تھم جاتااور چُپ کر جاتیں۔ یہ قافلہ اِرد گرد کے بیس پچیس گاؤں کا تھا،جس کی تعداد کم از کم چھ ہزار ہو چکی تھی اور اِس کا نقیب غلام حیدر تھا۔ غلام حیدر کی جیپ (جو نواب افتخار نے اُسے الیکشن جیتنے کے بعد تحفے کے طور پر دی تھی)،کے ارد گرد تیس پینتیس گھڑ سوار بندوقوں اور برچھیوں سے لیس چل رہے تھے۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ بارش تھمنے کو نہیں آتی تھی۔ کچی سڑکیں کیچڑ سے اِس قدر بھر گئیں کہ دو قدم چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ بعض جگہ تو دُور تک گھُٹنوں گھٹنوں پانی کے تا لاب لگ گئے اور پیدل والوں کے لیے،جو قافلے کا ستر فی صد تھے،مصیبت ہو گیا۔ اُن کا حساب،کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا،والا تھا۔ لیکن غلام حیدر کسی کو بھی پیچھے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اِدھر سکھ بارش کی طرح،نہ جانے آسمان سے برس رہے تھے کہ زمین سے اُگ رہے تھے۔ اُن سکھوں میں سے بیشتر کی حالت بھی انتہائی ابتر تھی۔ اُن کے لُٹے پُٹے اور بے دست و پا چھوٹے چھوٹے گروہ جب غلام حیدر کے قافلے کے قریب سے گزرتے تو دونوں اطراف کی آنکھیں ایک دوسرے کی کسمپرسی پر شرمندگی سے جھک جاتی اور وہ بغیر ست سری اکال،یا واہگرو کا نعرہ مارے گزر جاتے۔ غلام حیدر جانتا تھا،یہ وہی لوگ ہیں،جن کی حالت جودھا پور والوں سے کم نہیں تھی۔ اب بارش اور تیز ہوا نے اتنا زور پکڑ لیا تھا کہ اگست کا مہینہ پوہ ماگھ سے آگے نکل گیا۔ اُ س پر ستم یہ کہ نہر بنگلہ کے کنارے فسادیوں نے توڑ کرپانی سڑکوں اور کھیتوں پر بہا دیا۔ جس کی وجہ سے اِنہیں مجبوراً نہر کی پٹڑی پر چلنا پڑا۔ چلتے چلتے ایک جگہ سے قافلہ گزرا تو دیکھ کر حیران رہ گئے،نہر بنگلہ،جسے ولیم کے نہری عملے نے بنایا تھا،کی پٹڑی پر چار کلو میٹر تک لاش کے ساتھ لاش جوڑ کر اِس طرح رکھی ہوئی تھیں کہ ایک مرد کی لاش،اُس کے بعد عورت کی لاش پھر مرد کی لاش تھی۔ کسی کا گَلا کٹا تھا،کسی کے جسم کا کوئی اور عضو کٹا تھا،خون اور مٹی میں لتھڑی ہوئی اِن کئی ہزار لاشوں کا سلسلہ دور تک اِسی طرح پھیلا ہوا تھا۔ خُدا جانے،آنے والے دنوں میں اِن کا بندوبست کون کرنے والا تھا۔ اُن کو دیکھ کر قافلے کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ سوچنے لگے،اگر غلام حیدر ساتھ نہ ہوتا،تو اُن کی بھی یہی حالت ہوتی۔ یہ سب لاشیں مسلمانوں کی تھیں،جن کے اُوپر پاؤں رکھ کراور اُن کو روند کر اِس قافلے نے چار کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ کیونکہ کھیتوں میں اور سڑکوں پر پانی اور کیچڑ نے چلنے کی سکت بالکل ختم کر دی تھی۔ لاشیں ایک دن پہلے کی تازہ ہی تھیں۔ بارش اُن گمنام شہیدوں پر برس برس کراپنی رحمتیں نچھاور کر رہی تھی۔ اِن مشکلوں کے باوجود قافلہ روز کے دس کلو میٹر طے کر رہا تھا۔ رستے میں کئی کئی شرنارتھیوں اور مقامی سکھوں کے لوٹ مار والے جتھوں سے ٹاکرا بھی ہو رہا تھا۔ لیکن غلام حیدر کے حفاظتی دستوں کو دیکھ کر اِدھر اُدھر ہو جاتا۔ البتہ دہلی،ہریانہ اور مشرقی پنجاب کے بالائی علاقوں سے آنے والے مہاجرین کو لوٹنے سے اُنہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ لوگ اِن کے ہاتھوں سے اِس طرح لٹ لٹ کر خالی ہو رہے تھے جیسے ببول کی شاخیں اُونٹ کے منہ میں آکر پتوں سے صاف ہو جاتی ہیں اور مسلمان اِس طرح کٹ رہے تھے،جیسے دھان کی فصلیں جالندھر کی درانتیوں سے کٹتی ہیں۔ بہر حال غلام حیدر کا قافلہ گپھایااور لکھے کی سے ہوتا ہواپانچ دن میں فاضلکا بنگلہ پہنچ گیا۔ قافلہ ہیڈ سلیمانکی کی بجائے لکھے کی سے ہی دریا پار کر کے وسطی پنجاب میں داخل ہو سکتا تھا۔ لیکن ُمون سُون کی بارشوں کی وجہ سے،جو پچھلے کئی دن سے ایک پل سکون نہیں لینے دے رہی تھی،دریا کا پاٹ بڑھ کر ایک کلو میٹر ہو گیا تھا اور گہرائی بھی معمول سے کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ بہت سے لوگوں نے،چاہے وہ سکھوں میں سے تھے یا مسلمانوں میں،براہ راست دریا کو پار کرنے کی کوشش بھی کی،لیکن اُن کی لاشیں ہی کناروں پر آئیں اور کئیوں کی تو لاشیں بھی نہیں ملیں۔ ا سِ لیے اُدھر کا راستہ مکمل بند ہو چکا تھا اور سلیمان کی ہیڈ سے پار کرنا ناگزیر تھا۔ بنگلہ میں ایک رات گزارنے کے بعد،جہاں شاہ پور والے اُن کا انتظار کر رہے تھے،سب مل کر ہیڈ سلیمانکی کو روانہ ہو گئے اور شام کے وقت ہیڈ پر پہنچ گئے۔ سلیمانکی ہیڈ پہنچ کر غلام حیدر حیران رہ گیا۔ دُور تک لوگ ہی لوگ تھے۔ جدھر نظر جاتی سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ غلام حیدر اتنے سارے لوگوں کو ہیڈ کے مضافات میں بیٹھے دیکھ کر پریشان ہو گیا اور یہاں پر رکے رہنے کا سبب معلوم کرنے لگا۔ کافی دیر تک تحقیق کرنے سے اُس پر جلد ہی کھل گیا کہ معاملہ کیا ہے؟ کئی لوگ پندرہ دن سے بیٹھے تھے۔ اِن میں سے وہ بھی تھے،جن پر رات کے وقت لوٹ مار کرنے والے کئی کئی بار شب خون مار چکے تھے،قتل کر چکے تھے،اسباب لوٹ کر لے جا چکے تھے اور عورتوں تک کو اُٹھا کر لے گئے تھے۔ بلکہ ایسے بھی تھے،جو ڈیڑھ دو دوسو میل سے بالکل مع اسباب سلامت آگئے تھے،مگر یہاں پر اُن کو لوٹ لیا گیا تھا۔ اِس کا سبب گورکھا فوج تھی،جو ہیڈ پر دونوں طرف کے لوگوں کو عبور کرانے پر متعین تھی۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ انتہائی بے رحمی کا سلوک کرتے ہوئے،اُن کو پچھلے پندرہ بیس دنوں سے ہیڈ پر ہی روکے بیٹھی تھی۔ جبکہ ہندؤوں اور سکھوں کو برابر ہیڈ کراس کرا رہی تھی۔ اُس کی کچھ وجہ تویہ تھی کہ ہیڈ کا پُل نہائت تنگ اور کافی لمبا تھا اور اُس کے دونوں سروں پر لاکھوں لوگ گزرنے کے لیے بیٹھے تھے،جن کے پاس مال مویشی،گڈے،چھکڑے اور دوسرا بے بہا مال اسباب بھی تھا۔ جبکہ وقت بہت کم تھا لیکن زیادہ دخل بد نیتی کا تھا۔ گور کھا فورس پاکستان مخالف تھی۔ اِس لیے اُن کا مسلمانوں کے ساتھ متعصب ہو جانا فطری تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کو مسلسل روکے کھڑی تھی اور دوسری طرف سے اپنے ہم مذہبوں کو بارڈر عبور کرا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان کئی دنوں سے یہاں بیٹھے بیماری سے مر رہے تھے،بھوک سے مر رہے تھے،بارشوں سے مر رہے تھے،اور رہے سہے بدمعاشوں کی لوٹ مار،قتل و غارت اور شب خون سے مر رہے تھے۔ غلام حیدر نے پورے دو دن تک تمام چیزوں کا جائزہ لیا،چل پھر کر لوگوں کے حالات معلوم کیے،پھر دل ہی دل میں ایک فیصلہ کرنے لگا۔

بڑی سوچ بچار کے بعد اُس نے ڈیوٹی پر موجود میجر صاحب سے ملاقات کی کوششیں شروع کر دیں۔ مگر ہزار کوشش کے باوجود یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔ غلام حیدر جلال آباد کے علاقے میں کتنا ہی معروف سورما رہا ہو،اب اُس کی حیثیت یہاں پر ایک عام آدمی ہی کی تھی۔ بالکل اُن بے شمار لوگوں کی طرح،جن کی اوقات اِس وقت گورکھا فورس کے سامنے بارش میں بھیگے ہوئے،خارش زدہ کتے کی تھی۔ ایسا کتا،جس کو کراہت،اور بیماری کے ڈر سے گھر کی دہلیز کے باہر سے ہی دھتکار دیا جاتا ہے۔ غلام حیدر میجر سے ملنے کے لیے اور اپنے مسائل بتانے کے لیے آگے تک چلا گیا اور فورس کے بار بار منع کرنے پر ضد کرنے لگا تو دو تین سپاہیوں نے غلام حیدر کو گالیوں کے ساتھ دو چار دھولیں جما دیں،جنہیں ہزاروں لو گوں نے دیکھا۔ اُن لوگوں نے بھی،جنہیں امیر سبحانی کے ریکارڈ ابھی تک یاد تھے۔ اُن سب لوگوں نے اُن گالیوں کو سنا،جو غلام حیدر کے ماں باپ کو دی گئی تھیں اور اُن دھولوں کو دیکھا،جو غلام حیدر کو پڑی تھیں۔ خود امیر سبحانی نے دیکھا،جس نے یہ ریکارڈ بھرے تھے اور اب وہ ریکارڈ اِس طرح یاد تھے،جیسے اپنے ہاتھوں کی پانچ انگلیاں۔ اِس حبس پیدا کر دینے والی اور سانس روک دینے والی بے عزتی کی وجہ سے غلام حیدر کا جی چاہا،وہ اِسی وقت دریا میں چھلانگ لگا دے۔ مگر غلام حیدر نے دریا میں چھلانگ نہیں لگائی،ایک سخت فیصلہ کر لیا،۔ وہ تھا گورکھا فورس سے بھِڑ جانے کا۔
غلام حیدر نے واپس اپنے قافلے میں آکر سب دوستوں کو جمع کیا۔ جوش اور جذبات سے بھری ہوئی رُندھا دینے والی آواز میں بولنے لگا،بھائیو،مَیں تمھارا بھائی غلام حیدر ولد شیر حیدر،جس کی ماں ابھی اُس پر رونے والی موجود ہے۔ جس کا ایک بیٹا اور بیوی اُس پر بین کرنے والی ابھی بیٹھی ہے۔ یاد رکھنا،میں نے کبھی تمھارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ نہ میں نے پیٹھ دکھائی اور تمھیں حقیر جانا۔ میں نہ تو قائد اعظم ہوں،جو اِس وقت دہلی میں بیٹھا ہے اور نہ نواب افتخار،جو لاہور نواب ولاز میں ہے۔ میں غلام حیدر ہوں،جس نے ہجرت کی۔ بارشوں میں تمھارے ساتھ،بیماری میں تمھارے ساتھ اور فساد میں تمھارے ساتھ۔ جسے رفیق پاؤلی کا دُکھ ہے،حمیدا کمبوہ کا دکھ ہے،چراغ دین کا دُکھ ہے اور اُن جودھا پور کے چالیس شہیدوں کا دکھ ہے،جو گڑھوں میں دفن ہو گئے۔ مَیں غلام حیدر ولد شیر حیدر،جس کی ذِلت آج تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ یہ ذلت مجھ غلام حیدر کی ہوئی،جسے جھنڈو والا جانتا ہے،میگھا پور جانتا ہے،پورا فیروز پور جانتا ہے۔ یہ ذلت میری نہیں،تم سب کی ہے۔ میں نہیں چاہتا،لوگ مجھ پر ہنسیں اور مزے لے کر میری رسوائی کی کہانیاں اپنی اولادوں کو سنائیں۔ میں امیر سبحانی کی زبان کو جھوٹا نہیں کر سکتا اور ذلت سے جی نہیں سکتا۔ تم میں سے جو میرے ساتھ جانا چاہتا ہے،آ جائے۔ میں آج فیصلہ کرنے والا ہوں،اپنے اور اِن حرامزادوں کے درمیان،جنہوں نے بزدلوں کی طرح مجھے ذلیل کیا ہے۔ مَیں اُن کے ساتھ دو ہاتھ کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ جس نے میرا ساتھ دینا ہے،آ جائے۔ ورنہ میں اکیلا ہی اِس آگ سے گزرنے کے لیے تیار ہوں۔ زندہ رہا تو تمھارے ساتھ ہیڈ پار کروں گا،مارا گیا توراستہ ضرور کھول جاؤں گا۔ یہ کہہ کر غلام حیدر نے اپنی جیپ پر پاؤں رکھ دیا۔ اُسے دیکھتے ہی جانی چھینبا،شادھا تیلی،شوکا ماچھی اور چھ مزید جوان غلام حیدر کے ساتھ چل پڑے۔ اِن سب کے پاس رائفلیں تھیں۔

غلام حیدر کو دُھولیں مارنے کے بعد گورکھا فورس کے جوان مزید اَکڑ میں آ گئے تھے۔ ہیڈ پر زیادہ سے زیادہ پچاس سپاہی اور چھ آٹھ افسر موجود تھے لیکن اسلحہ کافی تعداد میں تھا۔ سکھ،ہندو،اور دوسری قومیں۔ اُن کے گدھے،گھوڑے اور دیگر مال مویشی ہیڈ کو عبور کر کے اِدھر آ رہے تھے۔ جس کی وجہ سے ہجوم حد سے زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ غلام حیدر اور اُس کے بندے جیسے ہی آگے بڑھ کر فورس کے سپاہیوں کے قریب ہوئے،اُنہوں نے جھٹ خطرے کو بھانپتے ہوئے رائفلیں تان لیں اور فوراً پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ یہ وقت سہ پہر کا تھا اور بارش کچھ دیر کے لیے رُکی ہوئی تھی۔ لیکن ہوا اور دریا کے پانی کا شور بہت تھا۔ جوانوں نے جیسے ہی رائفلیں سیدھی کر کے رُکنے کو کہا،غلام حیدر نے عاقبت سے بے نیازہو کرفائر کھول دیا۔ اُس کے ساتھ اُس کے بندوں نے بھی۔ دوسری طرف سے بھی گولیاں برسنی شروع ہوگئیں اور پُل پر بھگدڑ مچ گئی۔ پہلے ہی ہلے میں کئی سپاہی فائر لگنے سے گر گئے۔ غلام حیدر نے شوکے تیلی کو بھی گرتے دیکھ لیا تھا۔ گولی اُس کے سینے پر آ کرلگی تھی۔ گولیاں اتنی شدت سے برسنے لگیں کہ کسی کو یہ خیال نہ رہا،کس کو لگتی ہے اور کس کو نہیں۔ گولیوں کے ڈر سے کئی لوگ دریا میں کود کرپانی کو پیارے ہو گئے۔ غلام حیدر کا ڈرائیور جیپ کو جھٹ پٹ میں ہیڈ پر لے گیا،جہاں میجر صاحب موجود تھے۔ وہ اپنے کیبن میں بیٹھے تھے۔ لیکن کیبن زیادہ مضبوط نہ تھا۔ محض گھاس پھونس کا ایک جھونپڑا ہی تھا۔ گولیاں اب نہایت نزدیک سے اور دوُ بدُو چل رہی تھیں۔ جن کے تڑاکوں میں اتنی شدت آ گئی کہ دُور دُور تک مجمعے چھٹ گئے اور پُل چند ہی لمحوں میں اِس طرح صاف ہو گیا،جیسے جھاڑو پھر گیا ہو۔ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کوئی فرد نظر نہ آتا تھا۔ دھکم پیل میں زیادہ تعداد تو دریا میں ہی جا پڑی تھی۔ جس کی گہرائی کم از کم اِس پُل پر سے سو فٹ تھی۔ غلام حیدر عین پُل کے اُوپر پہنچ چکا تھا اور مسلسل گولیاں چلا رہا تھا۔ میجر صاحب کے کیبن کو گولیوں کے دھماکوں سے آگ لگ کر،گھاس پھونس کو اِس طرح جلا رہی تھی،جیسے چتا سے الاؤ اُٹھ رہے ہوں۔ یہ حالت دیکھ کر میجر کیبن سے باہر کی طرف بھاگ اُٹھا۔ اِنہی اوقات میں غلام حیدر نے تاک کر اُس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی،جن میں سے دو گولیاں اُس کے سر میں جا لگیں اور وہ وہیں لڑھک گئے۔ گورکھا سپاہیوں نے اپنے افسر کو یوں ڈھیر ہوتے دیکھا،تو وہ بوکھلا گئے۔ اِسی بوکھلاہٹ میں اُنہوں نے اندھا دھند فائرنگ برسا دی۔ اس دو طرفہ شدید فائرنگ میں دونوں طرف کے لڑنے والے اور دوسرے لوگ بیروں کی طرح گرنے لگے۔ چند ہی لمحوں میں غلام حیدر بھی گولیوں کی بارش میں اپنے ساتھیوں سمیت،وہیں ہیڈ کے پل پر خون میں لت پت ہو گیا اور بارش کی رم جھم میں کچی سڑک پر منہ کے بل گر پڑالیکن ابھی جانی چھینبا بچا ہوا تھا۔ وہ اُس سنگِ میل کے پیچھے بیٹھا تھا،جس پر لکھا تھا،دہلی چار سواٹھارہ کلو میٹر۔ وہ سنگ میل کی آڑ لے کر مسلسل کار توس چلا رہا تھا،جس کی وجہ سے بچی کھچی گورکھا فورس اِدھر اُدھر بھاگ گئی اور چوکی بالکل خالی ہو گئی،جو میجر صاحب کے مرنے کی وجہ سے پہلے ہی تتر بتر ہوچکی تھی۔ اِسی بھاگم دوڑ میں جانی چھینبے کو بھی گولی لگ گئی۔ گولی اُس کی پسلیوں میں نجانے کدھر سے کچھ لمحے پہلے آ کر لگی تھی،لیکن اُس نے زخمی حالت میں ہی سنگ میل کی آڑ سے باہر آکر مسلمان قافلوں کو پکارنا شروع کر دیا۔ لوگ،جو موت جیسی حالت میں زندگی اور اُس ہیڈ سے اُکتائے بیٹھے تھے،وہ غلام حیدر کے غم کو بھول کر دریا کی طرح ہیڈ کی طرف بڑھے اور لمبے لوہے کے پُل پر چڑھ گئے۔ یہ پُل،جو اب بالکل خالی پڑا تھا۔ اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ جس نے پُل خالی کرایا ہے،وہ کون ہے؟ اور اُس کی لاش کو اُٹھانا ضروری ہے کہ نہیں۔ غلام حیدر کی رعایاکے لوگ اور عورتیں اپنی اپنی لاشوں کے گرد اکٹھا ہو کر رونے پیٹنے لگیں مگر پھر اُنہوں نے بھی جلد ہی لاشوں کو اُٹھا کر چھکڑوں پر رکھ لیا اور دریا پار کرنے والوں کے ساتھ مل گئے۔ جبکہ جیپ اُس جگہ پر تنہا کھڑی رہ گئی،جس کی ہر چیز سلامت ہونے کے با وجود اُسے کوئی دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔ اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اُس کا مالک کون ہے؟جانی چھینبے کے لگا ہوا زخم تو جان لیوا نہیں تھا لیکن اُس کا خون اِتنا بہہ گیا کہ وہ بھی چند لمحوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملا۔

اب ہجوم اتنا زیادہ اور بے قابو ہو چکا تھا،اگر کوئی فورس آ بھی جاتی تو وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اُن خانہ خرابوں اور بھوکوں کے سیلاب نے جب پُل کے دوسری طرف جا کر ہندؤوں اور سکھو ں کی تھوڑی سی جمیعت کو دیکھا تو اُن پر بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ پھر تو نہ کسی کی ہدایت اُنہیں بچا سکی اور نہ قرآن و رسول کے واعظ کسی کام آئے۔ اس معاملے میں سب سے پیش پیش وہ ملا لوگ تھے،جو دہلی،ہریانہ،روہتک،گڑگاؤں اور حصار سے دھکے کھاتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔ وہ اُس وقت تک بیٹھے اور لُٹتے رہے جب تک غلام حیدر نہ آ پہنچا اور اب جو اُنہیں موقع ملا تو مُلا نے جہاد کے فتوے شروع کر دیے اور روہتکی مجاہد بن گئے۔
الغرض مسلمان پُل پار کرتے رہے اور مجاہد بنتے رہے۔ جبکہ جلال آباد،شاہ پور اور جودھا پور والے سب کو یہیں چھوڑ کر اپنی لاشوں کے ساتھ منڈی ہیرا سنگھ کی طرف بڑھ گئے۔ امیر سبحانی،جو غلام حیدر کے ملازموں میں واحد آدمی بچا تھا،وہ غلام حیدر کی لاش اُس کے وارثوں کے حوالے کرنے کے لیے پاکپتن جانا چاہتا تھا۔ جہاں غلام حیدر کی ماں،بیوی اور اُس کا بیٹا انتظار میں بیٹھے تھے لیکن لاش خراب ہونے کے ڈر سے اُس نے غلام حیدر اور دوسرے ساتھیوں کی لاشیں وہیں ہیڈ پار کر کے دفن کر دیں اور خود منڈی ہیرا سنگھ کی طرف بڑھ گیا تاکہ بذریعہ ریل پاکپتن چلا جائے۔ ہیڈ عبور کرنے کے بعد مہاجرین،جن میں اب نہ غلام حیدر تھا اور نہ رفیق پاؤلی تھا،اِدھر اُدھر پناہ کے لیے بکھرنے لگے۔ ان سب مہاجرین کو اب آپ ہی آپ ایک سکون سا آ گیاتھا۔ گویا وہ اپنی قسمت پر اعتماد کر کے مطمئن ہو گئے ہوں۔ یہ ہزاروں خاندان،جنہیں شاید اب نہ کسی چھت کی ضرورت تھی،نہ پہننے کو کپڑا چاہیے تھا،نہ یہ کسی سواری کے محتاج تھے۔ ان گاؤں گاؤں اور قصبہ قصبہ چلنے والے لاکھوں زندگی اور موت کے درمیان،انسانوں اور جانوروں کے درمیان کی مخلوق کو بس کھانے کو روٹی کی ضرورت تھی۔ جو اِن کی عزت کے بدلے میں،جان کے بدلے میں یا کسی بھی چیز کے بدلے میں مل جاتی تو یہ جی سکتے تھے۔ مگر کیا کیا جائے کہ ان لاکھوں خاندانوں میں بارش،بھوک اور مسلسل سفر کے دوران ہیضے اور گردن توڑ بخار کی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔ یہ بیماریاں اتنی شدت سے پھوٹیں کہ جو کسی طرح کرپانوں کے لوہے سے بچ کر آ گئے تھے،وہ اِس قدرتی بوجھ تلے دب کر مرنے لگے اور یہ کیفیت صرف مسلمانوں کی طرف ہی نہ تھی بلکہ،
دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔

امیر سبحانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اکیلے ہی چلتا جا رہاتھا۔ اُس کی جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی اور نہ دور نزدیک کوئی رشتہ دار تھا،نہ پُر سان حال۔ اُس کو یہ جلدی تھی کہ کسی طرح پاکپتن پہنچ جائے اور غلام حیدر کی ماں سے اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کا اسباب لے لے۔ وہ یہ اسباب غلام حیدر کی ماں کو غلام حیدر کی موت کی خبر دے کر نیاز،درود اور قل ساتے کے کھانے سے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ غلام حیدر کی شہادت کی خبر سن کر اُس کی ماں اور بیوی بچوں کو جو صدمہ پہنچنا تھا،اُس کا اندازہ بھی اُس کو تھا،لیکن اُسے یہ بات بھی پوری طرح عیاں تھی کہ غلام حیدرکے ایصال ثواب کی نیازیں شروع ہونگی تو کم از کم سوا مہینہ تک جاری رہیں گی۔ اُس کے بعد خدا اور اسباب پیدا کر دے گا۔ اس کے علاوہ علاوہ امیر سبحانی نہ کسی پٹواری کو جانتا تھا اور نہ اس کا ربط ضبط کسی تحصیل دار یا قانون گو کے ساتھ تھا،جو اُس کو مہاجر تسلیم کر کے اُس کے نام چار ایکڑ زمین ہی لگا دے۔ اُسے تو یہ بھی خبر نہیں تھی کہ جس غیر ملک میں وہ آیا ہے،اِس میں اِس طرح کے محکمے بھی موجود ہیں؟ سکھوں اور ہندووں کو مارنے اور اُن کے مال پر قبضہ کرنے کی اُس میں ہمت نہیں تھی،جو اس علاقے میں ویسے ہی مر رہے تھے اور لٹ رہے تھے،جیسے ستلج کی دوسری طرف وہ مسلمانوں کو مرتا اور لٹتا دیکھ آیا تھا۔ گر تا پڑتا اپنے ایک بچے کو ہیضے سے مرنے کی وجہ سے رستے میں دفن کر کے بالآخر دو دن بعد امیر سبحانی منڈی ہیرا سنگھ پہنچ گیا،جہاں سے گاڑی پر بیٹھ کر وہ پاکپتن جا سکتا تھا۔

اسٹیشن پر ہزار ہا بچے،مرد،خواتین،بوڑھے،جوان،ناتوان اور ہٹے کٹے خیموں میں،بغیر خیموں کے،ادھر اُدھر گویا بکھرے پڑے تھے۔ ان میں مقامی لوگ پھر پھر کر ہندووں اور سکھوں کو ڈھونڈتے پھرتے اور اُن کا مال اساب چھینتے پھرتے تھے۔ امیر سبحانی اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ بیٹھا پاکپتن جانے والی گاڑی کے انتظار میں تھا،جس کے ٹائم ٹیبل کا اب کسی کو نہیں پتا تھا،نہ ہی کسی کو اُس کے دیر سے آنے کی شکایت رہ گئی تھی۔ بادل ابھی بھی گہرے چھائے ہوئے تھے اور بارش رہ رہ کر برس رہی تھی۔ منڈی ہیرا سنگھ کا اسٹیشن بالکل ویسا ہی چھوٹا سا تھا،جیسے قصبوں کے اسٹیشن ہوا کرتے ہیں۔ ایک ٹکٹ لینے دینے والوں کا کمرہ تھا،جس میں دو تین افراد کا عملہ۔ اِس کے علاوہ اسٹیشن پر سرخ اینٹوں کا فرش،جو ریل کی پٹڑی سے اِتنا ہی اُونچا تھا،جتنی اُونچی ریل کی آخری سیڑھی تھی۔ دونوں جانب کے فرش کے درمیان ایک بڑا سا نالہ بن جاتا تھا،جس میں ایک تو ریل چلتی تھی اور دوسرا بارش کا پانی،جو اُن دنوں شدت سے برس رہا تھا۔ منڈی ہیرا سنگھ کا یہ قصبہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ بس ڈھائی تین سو گھر تھے اور وہ بھی بکھرے ہوئے۔ یہاں درخت بھی زیادہ نہیں تھے۔ ہاں مگر جگہ جگہ بیریوں کے پیڑ نظر آ جاتے تھے۔ الغرض منڈی ہیرا سنگھ ایک پُر سکون جگہ تھی۔ مگر جب سے تقسیم اور فسادات کا عمل شروع ہوا تو یہاں مشرقی اور وسطی پنجاب کے ہزاروں خاندانوں کا جھمگٹا سا ہو گیا تھا۔ اُدھر سے اِدھر آنے والوں کا اور اِدھر سے اُدھر جانے والواں کا۔ امیر سبحانی صبح دس بجے کے قریب پہنچا تھا۔ اب اُسے یہاں بیٹھے بیٹھے شام ہو گئی تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا،کاش وہ ہیڈ سے سیدھا پاکپتن ہی کا رخ کر لیتا تو کل تک پہنچ ہی جاتا۔ اب نہ جانے کب گاڑی آئے اور وہ اس جگہ کے عذاب سے نکلے۔ پچھلے کئی گھنٹوں سے اسٹیشن پر ایک گاڑی براستہ قصور فیروزپور جانے والی کھڑی تھی،جو نجانے کیوں اتنی دیر سے وہاں موجود تھی۔ یہ ساری کی ساری گاڑی ہندووں اور سکھوں سے بھری ہوئی تھی۔ نہ صرف اندر سے پُر تھی بلکہ اس کی چھت پر بھی کھچاکھچ انسان تھے۔

عصر کے وقت امیر سبحانی نے اچانک ایک آدمی کو دیکھا،جو اردو اور عجیب غریب لہجے میں اسٹیشن پر کھڑے مسلمان مہاجروں اور مقامیوں کے ساتھ کچھ خطاب کر رہا تھا۔ امیر سبحانی کو یاد آیا،جب وہ غلام حیدر کے ساتھ نواب افتخار ممدوٹ کے لیے ووٹ مانگنے نکلا تھا،تو وہ بھی اسی طرح کے خطاب کرتے تھے۔ لیکن وہ تو پنجابی زبان میں صاف سمجھ آنے والا خطاب ہوتا تھا اور یہ تو کوئی فوجیوں والے لہجے کا تھا۔ وہ اُن سب لوگوں کو کہ رہا تھا،بھائیو،میرا نام محمد زمان خان ہے۔ ہم دہلی سے نکلے تھے،تو ستر افراد کا قبیلہ تھے لیکن ہمارا سارا خاندان ان کافروں اور مشرکوں نے راستے میں ہی مار دیا اور سارا سامان لوٹ لیا۔ اب میں اُن ستر افراد میں اکیلا بچا ہوں۔ میری مائیں،بہنیں اور بچے اُنہوں نے یا تو ماردیے ہیں یا اپنے گھروں میں لے گئے ہیں۔ مسلمانو !یہ مجھ اکیلے کے ساتھ نہیں ہوا۔ ہندوستان سے ہر آنے والے کی یہی کہانی ہے۔ یہ کہہ کر زمان خان رونے لگا لیکن اِس گریہ وزاری کے درمیان بھی اُس نے اپنی کہانی اُسی درد ناک لہجے میں جاری رکھی۔ جسے سن کر تمام مجمع بھی رونے لگا۔ اُن سننے والوں میں سے بعض کی آنکھیں سُرخ ہو گئیں،چھاتیوں کے بال اکڑ گئے اور گنڈاسوں اور تلواروں پر ہاتھ سخت ہوگئے۔ زمان خان نے مجمع کی یہ حالت دیکھی تو سُرخ لوہے پر ایک اور ضرب لگائی،بھائیو،اِن بے غیرتوں نے،جو ہمارے ساتھ کیا،وہ تو الگ بات ہے لیکن مجھے ایک اور اندیشہ ہے کہ یہ لوگ،جو اِس گاڑی میں بیٹھے ہندوستان جا رہے ہیں اور تم انہیں دامادو ں کی طرح بڑی عزت سے وہاں بھیج رہے ہو۔ یہ جاتے ہی اُن شرنارتھیوں کے ساتھ مل جائیں گے اور تمھارے دوسرے مسلمان بھائیوں کا صفایا کر دیں گے۔

زمان کی آواز اتنی پُر اثر،مدلل اور رُندھا دینے والی تھی کہ تمام لوگوں کو غضب آ گیا۔ کیا مہاجر اور کیا مقامی،سب ایک دم اُس ریل پر گرہجوں کی طرح جھپٹ پڑے۔ امیر سبحانی کے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے گاڑی پر ہلہ بول دیا۔ اُن سب نے زمان خان کی ہدایات پر پہلے تمام ریل کے دروازے بند کر دیے اور چھتوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو نیچے اتار کر اُن سب کو نیزوں اور تلواروں کی لڑی میں پرویا۔ اُس کے بعد لوگ ریل کا ایک دروازہ کھول لیتے،اُ س میں موجود تمام سواریوں کو تہہ تیغ کر دیتے،پھر اگلے ڈبے کو کھول لیتے۔ اِس قتل و غارت میں ریل کی پٹڑی کا نالہ خون سے بہنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے ماؤں کی گود میں موجود بچوں سے لے کر بڑوں تک،سب ایک گھنٹے کے اندر تلواروں کا رزق ہو گئے۔ اس عرصے میں سب لوگ اس قدر سہم گئے کہ کسی بچے تک کے رونے کی خبر نہیں آئی۔ اپنے پرائے سب قاتلوں کے سامنے بلی بن گئے۔ امیر سبحانی سارا منظر بیٹھا دیکھتا رہا۔ اُس کی ہمت نہ پڑی کہ وہ کسی کو روک لیتا۔ ابھی غارت گری رُکی ہی تھی کہ جانے کہاں سے میونسپل کمیٹی کے ٹرک آگئے۔ اُنہوں نے چند ساعتوں میں وہ لاشیں اُٹھا کر،پتا نہیں کہاں لے جا پھینکیں۔ البتہ اسٹیشن سے اُٹھا کر لے گئے۔ اِس کے بعد خدا کی قدرت،پھر وہی بارش شروع ہو گئی،جس نے اسٹیشن کو دھو کر ایسے صاف کر دیا جیسے،یہاں کچھ ہوا ہی نہیں۔ گویا قدرت بھی اِن سب کے ساتھ ساتھ اپنا فرض ادا کر رہی تھی۔ رات امیر سبحانی نے وہیں گزاری اور اگلے دن حویلی لکھا روانہ ہو گیا۔ یہاں سے اُس نے ارادہ کیا کہ پیدل ہی پاکپتن چلا جائے گا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – ستائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(46)

الیکشن میں دو ہفتے باقی تھے۔ کمپین کے لیے جلسے اور جلوس زوروں پر تھے۔ اِن جلسوں میں کانگرس اور یونینسٹ پارٹی کے اُمیدوار بھی کہیں کہیں تقریریں کرتے اور ووٹ مانگتے نظر آ رہے تھے۔ لیکن اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ غلام حیدر کے بندے اِس طرح سارے علاقے میں پھیل چکے تھے کہ اُن بچاروں کو جلسہ کرنے کی جگہ بھی نہیں ملتی تھی۔ جانی چھینبا اور امانت خاں نے بہت جگہ پر ڈانگ سوٹا چلا کر اُنہیں منتشر ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا،وہ بِدک گئے اور اِن کے سامنے آنے سے گریز کرنے لگے۔ خوش قسمتی سے اُسی طرح کا ایک ہجوم کانگرس پارٹی کا غلام حیدر کے ہجوم سے راستے میں ٹکرا گیا۔ یہ جگہ منڈی گرو ہرسا سے روہی کی طرف دس میل پر تھی۔ کانگرس کے اُمیدوار بھی وہاں چھوٹے چھوٹے گاؤں سے کہیں ووٹ مانگنے نکلے تھے۔ غلام حیدر نے اپنے بندوں کو حکم دیا،اِن کی ذرا اچھے طریقے سے دھلائی کر دو۔ اِنہیں جرات کیسے ہوئی،یہاں آ کر ووٹ مانگنے کی۔ غلام حیدر کا حکم سننا تھا کہ جتنا بھی اس کا گروہ تھا،سب کانگرسی لیڈروں پر ٹوٹ پڑا۔ یہ جگہ ایسی تھی،جہاں ریت کی وجہ سے اُن کی سواریاں زیادہ تر اونٹوں کی تھی۔ کانگرسی تعداد میں پچاس یا ساٹھ ہوں گے۔ اِدھر پورے تین سو کا مجمع،اور سب کے ہاتھوں میں گتکے اور ڈانگیں تھی۔ پل کی پل میں تڑ اتڑ ڈنڈے برسنے لگے۔ کسی کے سر پر،کسی کی ٹانگ پر اور کسی کے بازوپر۔ منٹوں میں ہنگامہ مچ گیااور رونا دھونا،چیخ چگاڑا شروع ہو گیا۔ کچھ نے اُونٹوں کو ڈنڈے مارنے شروع کر دیے،جس کی وجہ سے وہ اپنے سواروں کو بھی نیچے پھینک پھینک کر دوڑنے لگے۔ جس کا جدھر منہ آیا،نکل گیا اور لمحوں میں کانگرسی گروہ آفت کا شکار ہو کر بکھر گیا۔ اِسی ہنگامے میں کانگرسی لیڈرسری واستر جی کی جیپ بھی وہیں رہ گئی،جس کے ٹائروں سے ہوا نکال کر اُس کی پٹرول والی ٹینکی میں ریت ڈال دی۔ اِسی طرح ایک دفعہ غلام حیدر نے یونینسٹ پارٹی کے امیدوار سرور بہکاں والے کی مکھسر تحصیل کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چھترول کر دی۔ اِس دوران ڈیوٹی پر موجود تین چار پولیس والوں نے دخل اندازی کی،تو اُن کے چوتڑوں پر بھی دو دو ڈنڈے لگوا دیے۔
اِنہی واقعات کا نتیجہ تھا کہ وہاں مخالفین سہم گئے۔ ووٹ مانگنا تو ایک طرف،اُنہوں نے غلام حیدر کے اثر رسوخ والے علاقوں میں آناہی چھوڑ دیا۔ دوسری طرف غلام حیدر اور ملک بہزاد دونوں اپنے دو تین سو بندوں کے ساتھ گھوڑوں پر اور نواب افتخار ممدوٹ کی جیپ پر گاؤں گاؤں دوڑتے پھرتے تھے۔ جن کے ہاتھوں میں مسلم لیگ کے جھنڈے،ڈنڈے،برچھیاں اور بندوقیں بھی تھیں۔ بنگلہ فاضلکا،جلال آباد،سری مکھسر،لکھو کے،گرو ہرسا،ابوہر،خپانوالی حتیٰ کہ فرید کوٹ تک کے علاقے کو اِس طرح روند ڈالاکہ ہر سمت مسلم لیگ کا پھریرا لہرانے لگا۔ ایک بڑا کام تو منصوبے کے مطابق پہلے ہی امیر سبحانی کے ریکارڈ نے کر دیا تھا،جو اب چھوٹی چھوٹی ڈھاریوں پر بھی بج رہا تھا۔
لوگ غلام حیدر کی جرات اور بہادری کے اِس قدر قائل ہو چکے تھے کہ وہ فیروزپور کے مسلمانوں کا بلا شرکت غیرے ہیرو بن گیا تھا۔ وہ سمجھتے تھے،قہر خدا کا،انگریز بہادر کے دور میں کوئی کتے کو مار دے تو موت کی سزا پائے۔ غلام حیدر نے تو پورے پندرہ بندے بیچ دوپہر مارے تھے۔ اِس طرح کے سورمے گھر گھر تھوڑے پیدا ہوتے ہیں؟دوسرا غضب یہ کہ وائسرائے کی بیٹی تک تعلقات تھے۔ ورنہ اِس طرح اسلحہ لے کر کھلے عام کوئی پھر سکتا ہے؟ وہی خونی بندوق اب بھی اُس کے پاس ہے اور کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ غلام حیدر کی جیپ جہاں بھی رکتی لوگ دیکھنے کے لیے دور دور سے دوڑے چلے آتے اور منٹوں میں سینکڑوں کا مجمع لگ جا تا۔ اِدھر لوگ اکٹھے ہوتے اُدھردس پندرہ منٹ امیر سبحانی کا ریکارڈ بجتا۔ اُس کے بعد ملک بہزاد سامنے آتا اور غلام حیدر کی دلیری اور نواب ممدوٹ کی مسلمانوں کے لیے دی گئی اُن قربانیوں کا واویلا مچاتا،جن کے بارے میں فیروز پور کے قریباً تما م لوگ بے خبر تھے۔ مگر وہ ملک بہزاد کی باتوں کا اعتبار کر رہے تھے۔ آٹھ دس منٹ نپٹانے کے بعد ملک بہزاد ایک طرف ہوجاتا اور غلام حیدر ر لاچا باندھے،ریفل کاندھے پر ڈالے جیپ کے بونٹ پر کھڑا ہوتا،دوچار نعرے مسلم لیگ،قائد اعظم اور نواب افتخار ممدوٹ کے حق میں لگواتا پھر تقریر کرنے لگتا۔

میرے فیروزپوری مسلمان بھائیو،جان لو مَیں وہ ہوں جس کی بندوق کی گولی
کی آواز نزدیک اور دور والے سب جانتے ہیں اورکافروں کے سینے اس کے
سیسے کی تپش خوب محسوس کرتے ہیں۔ یاد رکھو،یہ ہندو بنیے،جو تمھاری اگلی پچھلی
سب نسلوں کو بیاج کے عوض رہن رکھ چکے ہیں اور یہ گورے،جن کے جوتوں کی پالش
تمھارے پسینوں کے عرق سے تیار ہوتی ہے۔ یہ سب تمھارے ازلی دشمن ہیں۔
ان کی حکومت میں نہ تمھارا ایمان سلامت ہے،نہ تمھارے بال بچے۔ یہ سکھ،ہندو
اور فرنگی کبھی تمھاری روزی روٹی کی حالت ٹھیک نہیں ہونے دیں گے۔ تم یاد رکھو
اسی صورت بچ سکتے ہو،اگر ان کو اپنے سے دور کر دو گے۔ اور ان سے نجات حاصل
کر لوگے۔ نجات کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔ اپنی مسلم لیگ کو ووٹ دو،جس کا
فیروز پور میں بڑا رکن اپنا نواب افتخار ہے۔ یہ اپنا بھائی بھی ہے اور اپنا وڈا بھی۔ یاد رکھو
ٹُٹیاں باہواں گل نوں۔ ہم پھر بھی مسلمان ہیں۔ یہ سرور بہکاں والا غدار اور انگریز کا
پٹھو ہے۔ وہ چاہتا ہے،انگریز ہندوستان میں رہے اور تمھاری آنے والی نسلیں بھی
ان فرنگیوں کی غلامی کرتی رہیں اور بنیوں کو بیاج دیتی رہیں اور سکھڑوں کی زمینوں
میں ہل چلاتی رہیں۔ اِس لیے مسلم لیگ کو ووٹ پاؤاور سب سے جان چھڑاؤ

(47)

نصف مارچ گزر چکا تھا اور بہار کی ایک خوشگوار صبح تھی۔ ولیم کو اوکاڑہ چھٹی پر آئے تین دن ہو چکے تھے۔ کل اُسے گُڑگاؤں جانا تھا۔ ذہن میں سینکڑوں خدشات اور آنے والے دنوں کی بدلتی صورت نے اُس کی طبیعت میں اتنی بیزاری بھر دی کہ اُسے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ خاص کر چیف سیکرٹری آفس سے وصول ہونے والے خط نے ولیم کے اعصاب کو بالکل معطل کردیا۔ اُسے خوب علم تھا،اُس کے ہاتھ کٹ چکے ہیں۔ ملٹری سے لے کر سول انتظامیہ تک ہر شعبے میں کالے لوگ سُرنگیں بنا کر نہ صرف داخل ہوچکے تھے۔ بلکہ نوے فیصد نظام اُنہی کے قلم دانوں میں چلا گیا تھا۔ اِس وقت جب تمام بیوروکریسی ایک ایک کر کے رخصت ہو چکی تھی،اُس کا اپنی سیٹ پر ٹکے رہنا بھی خو ش قسمتی تھی مگر کہاں تک؟ آخر اُسے بھی خط آ گیا کہ جون تک اپنا بوریا باندھ لو۔ ولیم اِسی پیچ و تاب میں غلطاں ہزاروں وسوسوں میں ڈوبا تھا۔

اب جبکہ ہزار کوشش کے باوجود وہ اپنی پوسٹنگ منٹگمری کروانے میں ناکام رہا تو اُسے انتہائی تکلیف ہو رہی تھی۔ اُس نے چیف سیکرٹری صاحب سے لاکھ طرح سے گزارش کی،کچھ دن کے لیے ہی سہی،اُس کو منٹگمری بھیج دے لیکن یہ درخواست اِس بے رحمی سے رد کر دی گئی کہ ولیم ٹوٹ کر رہ گیا۔ اُس کی بجائے وہاں ایک سکھ ڈپٹی کمشنر کو تعینات کر دیا گیا،جو انتہائی نامعقول بات تھی۔ اگر اُس جگہ ولیم کی پوسٹنگ کر دی جاتی تو چیف سیکرٹری کا کیا بگڑ جاتا۔ وہ کچھ عرصے کے لیے یا کم ازکم بہار کے دن ہی وہاں کاٹ لیتا۔ مگر بد قسمتی سے یہ نہ ہو سکا اور اب اُسے محسوس ہو رہا تھا،اُس کی یہ حسرت ہی رہ گئی۔ حتیٰ کہ انگریزوں کاہندوستان سے انخلامکمل ہو جائے گا۔ جس کا عمل پچھلے ایک سال سے خاموشی سے جاری تھا۔ اُس کے ہاتھ سے گُڑگاؤں بھی نکلنے والا تھا۔ شاید اِسی لیے دو دن بعد اُسے گورنر ہاؤس میٹنگ پر بلایا گیا تھا۔

ولیم کیتھی کے ساتھ ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا اپنے ہی خیالوں میں گم سلائس پر جیم لگا رہا تھا۔ کیتھی اُسے بار بار اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ٹھوہکا دے کرچونکا نے کی کوشش کرتی مگر وہ ایک دو باتیں کرنے کے بعد پھر خاموش ہو کرواپس اپنی سوچوں میں گم ہو جاتا،جو پچھلے کئی مہینوں سے اُس پر غلبہ کیے ہوئے تھیں۔ پہلے پہل تو ولیم کسی طرح اُن سوچوں کو نظر انداز کرتا رہا لیکن اب اُن میں شدید طریقے سے اُلجھ گیا تھا۔ حالات روز بہ روز ولیم کے ہاتھ سے نکلتے جا رہے تھے اور اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیا کرے؟اُسے کبھی عزت و آبرو کو تباہ کر دینے والی جنگ کے متعلق سوچنے پر کوفت ہوتی،جس نے پانچ سال میں ہر شے راکھ کر ڈالی تھی،کبھی ہندوستانیوں کی بے وفائی اور احسان فراموشی پر غصہ آتا،جنہیں تعلیم دینے سے لے کراور عقل سکھاکر جدید دور میں داخل کرنے تک صرف انگریز ہی کا کردار تھا۔ ورنہ یہ گنوار کے گنوار ہی رہتے۔ کل تک اُجڈ اور جاہل آج بم دھماکے کر رہے تھے،جلسے جلوس نکال کر ایجی ٹیشن پھیلارہے تھے اور انڈیا چھوڑ دو کے نعرے بلند کرتے تھے۔ جہاں ولیم ایک طرف ہندوستانیوں پر بھرا بیٹھا تھا،وہیں اپنی برٹش ایمپائر کے کرتا دھرتاؤں پر سخت غصہ میں تھا،جو آئے دن اختیارات ہندوستانیوں کو سونپتے رہے،اپنے ہاتھ کاٹتے رہے اورآج اُسی کے نتیجے میں ہندوستان کو چھوڑ دینے پرمجبور ہوتھے۔ ولیم سوچتا کہ چلو یہ برداشت کیا جا سکتا تھا،دیسی لوگوں کو حکومت میں حصہ دے دیا جائے اور اُن کو انگریزوں کے برابر مراعات بھی مل جائیں،جن پر اُسے پہلے دن سے ہی کوئی اعتراض نہیں تھا،مگر یہ کیا کہ مکمل طور پر اپنے گلے ہی کاٹ لیے گئے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑبرف پیدا کرنے والی زمینوں اور بغیر سورج کے نکلنے والے دنوں کے ملک میں چلے جائیں۔

ولیم کو اِس طرح فکر مند دیکھ کر کیتھی اُٹھی اور اُس کی پشت پر آ کر کھڑی ہوگئی۔ کچھ دیر خموشی سے چپ کھڑی رہنے کے بعدجب ولیم نے اُس کی طرف پھر بھی دھیان نہ دیا تو بو لی،ولیم ڈارلنگ میں جانتی ہوں،تم کئی دنوں سے پریشانی میں مبتلا ہو۔ تمھارے اختیارات سمٹتے جا رہے ہیں اور برٹش گورنمنٹ اپنے بادبان لپیٹ رہی ہے۔ مگر اب کیا کیا جا سکتاہے؟

ولیم نے گردن گھما کر کیتھی کی طرف دیکھا اور نصف کھایا ہوا سلائس وہیں رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا،کیتھی شاید وہ دن قریب آ رہے ہیں،جن کے لیے میں نے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا۔ دراصل مجھے اِس بارے میں سوچنے سے ہی وحشت ہوتی تھی لیکن اب اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد ولیم چند ثانیے خموش رہ کر دوبارہ بولا،کیتھی تمھیں پتہ ہے؟ مَیں ولیم اپنے خاندان میں سب سے زیادہ بد قسمت انسان ہوں۔ میراپردادا،میرا دادااور میرا باپ بڑے خوش قسمت تھے۔ بڑے ذی اقتدار تھے اور نہایت معزز تھے۔ نہ اُنہیں وقت نے دھوکا دیا،نہ اُنہوں نے وہ کرب محسوس کیا جو میرے حصے میں آیاہے۔ وہ سب اِسی ہندوستان کی مٹی میں اپنی مرضی سے رہے،اپنی مرضی سے یہیں دفن ہوئے۔ لیکن مَیں،جسے اُن سب سے زیادہ ہندوستان سے محبت ہے۔ اُن سب سے زیادہ مَیں اِس مٹی میں اپنی روح محسوس کرتا ہوں اور اُن سب سے زیادہ میری خواہش اِسی سرزمین پر اپنا اقتدار قائم رکھنے کی ہے،میرے ہی ہاتھ سے وقت سرکتا جا رہا ہے۔ اِس زمین کی مٹی میرے رنگ اور نسل کو اپنے سے علیحدہ کر کے مجھے باہر پھینکنے کی کوشش میں ہے۔ مجھے آئے دن ایسے احکامات وصول ہوتے ہیں،جو ہر اگلے لمحے ہندوستان سے میرا فاصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میرا باپ ایک سال پہلے اور میری ماں ڈیڑھ سال پہلے بغیر کچھ تکلیف اُٹھائے مر گئے اور یہیں دفن بھی ہوگئے مگر مجھے کہا جا رہا ہے کہ اپنا وجود یہاں سے سمیٹنا شروع کر دو ں،یہ ہماری سر زمین نہیں ہے۔ آخر یہ کیا حماقت ہے؟ کیا یہ لوگ نہیں سوچتے،اگر مَیں اِس زمین کا نہیں ہوں تو مجھے جو لوگ یہاں سے دھکیل دینا چاہتے ہیں،کیا وہ ایرانی تو رانی اپنی قبروں کی مٹی وسط ایشیا سے اُٹھا کر لائے تھے؟ مگر میری بات کوئی سنتا ہی نہیں۔ گویامَیں ایسی صورتوں سے مخاطب ہو ں،جو خواب میں نظر آتی ہیں اور ہاتھ لگانے پر غیب ہو جاتی ہیں۔ ہر آنے والے دن مجھے اگلے بدقسمت لمحے کی خبر دی جا رہی ہے۔ میرے تمام دوست یہاں سے جا چکے ہیں اور باقی جا رہے ہیں۔ جو جا چکے ہیں،اُن کے واپس آنے کا اِمکان نہیں۔ جو نہیں گئے،اُن کا ٹھہرے رہنے کا ارادہ نہیں۔ وہ جانے کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ سفید لوگ اِس طرح حالات سے سمجھوتہ کر رہے ہیں،جیسے اُن کے اندر رُکنے کی طاقت بالکل نہیں رہی۔ رہی تمھاری بات،تو مجھے تمھارے معاملے میں ایسا ڈر کھائے جا رہا ہے،جس کا ظاہر ہو جانا ہمارے جگر کے ٹکڑے کر دے گا۔ تمھا ری کیفیت اُس بچے کی ہے،جو اپنے معمولی زخم کا خون بھی دیکھ لے تو چیخنا شروع کر دے۔ اِس لیے مَیں تمھیں اُن سوچوں میں شریک نہیں کر تا،جن کا حزن زندگی کی خوشیاں لپیٹ دینے کے لیے کا ہے اور اُس کا اندمال نہیں۔

کیتھی ولیم کے سامنے کُرسی پر دوبارہ بیٹھ گئی اور بولی،ولیم تم یہ بات جان جاؤ،مَیں ایک عرصے سے تمھارے خیالات میں خموش شرکت کر چکی ہوں۔ میں جانتی ہوں،تم ہندوستان چھوڑنا نہیں چاہتے۔ مگر یہ بھی سچ ہے،یہ سب کچھ لکھا جا چکا ہے۔ تو کیا ہوا،ہم لندن میں جا کر اپنے آپ کو نئے سرے سے منظم کر لیں گے۔ کمشنری نہ سہی کوئی کاروبار،اور اگر یہ بھی نہ ہوا،تو ہمارے پاس اِتنے پیسے ہیں کہ آرام سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔

کیتھی کی بات سُن کر ولیم اِنتہائی غصے سے میز پوش کو جھٹکتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا اور بولا،کیتھی بس یہی بات مجھے پریشان کر رہی ہے اور اُ س کی واحد وجہ تم ہو۔ مَیں جن تسلیوں سے بچتا ہوں،تم بار بار مجھے وہی دیتی ہو۔ مَیں تمھاری نصیحتوں سے ڈرتا ہوں اور تمھارے مشوروں کا سامنا نہیں کرنا چاہتا،جن کے بارے میں مجھے ایسے ہی وضاحت ہے،جیسے تمھارے خدوخال سے واقف ہوں۔ کیا تم نے کبھی دیکھا،مَیں نے روپے پیسے کو اہمیت دی ہو یا حساب کی جمع تفریق میں دلچسپی لی ہو؟ مَیں وہ ہوں جس کی دلچسپیاں جاننے اور سمجھنے کے لیے تمھیں وقت دینا چاہیے،جو بہت کم رہ گیا ہے۔ حالات قدموں کے نیچے سے کھسکتے جا رہے ہیں اور تم بار بار لند ن میں کاروبار کھولنے کی بات کرتی ہو۔ کیا مَیں وہاں برف کی آڑھت کر لوں یا ملاح گیری اپنالوں؟ میرے پاس اپنے باپ داد ا کی ڈیڑھ سو سال کی کمائی موجودہے۔ وہ اُس وقت سے کماتے آ رہے ہیں جب ایسٹ انڈیا کمپنی پیدا ہوئی تھی۔ کمپنی مر گئی مگر ہمارا منافع ابھی تک آ رہا ہے اور اِس سب کچھ کا میں اکیلا وارث ہوں۔ اِدھر تم سمجھتی ہو،مَیں اپنے روزگار سے پریشان ہوں۔

کیتھی نے ولیم کو اتنا غصے میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ ولیم کے اِس انداز کو دیکھ کر گھبرا گئی اور ایک دم سہم کر چپ ہو گئی پھر کچھ دیر اِسی خموشی میں گزر گئی۔ شاید انتظار کر رہی تھی کہ ولیم مزید کچھ بولے مگر اُس نے اپنی بات مکمل کر لی تھی۔ اُدھر وہ کچھ اور کہنے سے ڈر رہی تھی اور پریشان تھی کہ ولیم اِتنا چڑچڑا کیوں ہو گیا ہے۔ کافی دیر اِسی طرح بیٹھے گزر گئی،تو ہمت کر کے دوبارہ بولی،ولیم آخر تم کیا چاہتے ہو؟مَیں نے کئی بار تم سے پوچھنے کی کوشش کی ہے۔ وہ کون سی پریشانی ہے جس کی وجہ سے تم آج اِس قدر بلبلا اُٹھے ہو؟مَیں تمھاری بیوی ہوں۔ اگر مَیں نہیں سنوں گی اور تم کو تسلی نہیں دوں گی،تو وہ دوسرا کون ہے جس کے سامنے تم اپنے سوالات رکھو گے؟میں جاننا چاہتی ہوں،تم مسلسل کیا سوچ رہے ہو؟

ولیم نے محسوس کر لیا تھا کہ اُس کا لہجہ کچھ زیادہ تلخ ہو گیا ہے۔ لیکن وہ کب تک کیتھی کے بے کار،فرسودہ اور تھکا دینے والے سوالات کو برداشت کرتا۔ ولیم نے فیصلہ کیا،آج وہ اپنا مدعا کیتھی کے سامنے رکھ ہی دے۔ اُس نے نہایت تحمل سے ا پنی بات کا آغاز کر دیا۔ کیونکہ ِاس کے بعد جو شور بلندہونا تھا،اُس کی تلخی سینے کو کاٹ دینے والی تھی۔ اِس لیے ولیم نے سوچا،جس قیامت کو گزرنا ہے،وہ جلدی گزر جائے۔ ولیم تھوڑا سا آگے بڑھا،کیتھی کا ہاتھ پکڑا اور اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا،کیتھی کیا تم جانتی ہو،مَیں تم سے اپنی بات چوروں کی طرح چھپا رہا ہوں؟تم میری جس تکلیف کو سننے کا روز تقاضا کرتی ہو،جب مَیں نے اُسے تم پر ظاہر کر دیا تو وہ تکلیف تمھاری بن جائے گی اور تم اُس کے دردسے چیخ اُٹھو گی۔
کیتھی نے ولیم کا ہاتھ مضبوطی سے دباتے ہوئے کہا،ولیم تم بیان کرو۔

کیتھی،ولیم دو ٹوک بولنے لگا،مجھے پورے ہندوستان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ مجھے کسی سے کوئی مطلب نہیں۔ بس اِس وقت جس جگہ تم اورمَیں کھڑے ہیں،مجھے اِسی سے مطلب ہے۔ یہ جگہ،یہ خطہ،یہ نولکھی کوٹھی،یہ نہریں،یہ باغات اور نہروں کی کچی کچی روشیں،کھیتوں میں اُگتے ہوئے آلو،مکئی،گندم،گنا اور برسن کے ٹھنڈے ٹھنڈے لمس،اِن باغات اور نہروں کے مضاف میں رہنے والے لوگ،اُن کے معصوم،سادہ اور عزت و آبرو بخشنے والے چہرے،یہ ہے میری زندگی۔ مَیں نے تمھیں پہلے کہا ہے،مجھے نہ کسی اور زمین سے غرض ہے،نہ میں نے کبھی دہلی،لکھنؤ،یا کلکتے کو پسند کیا۔ حتیٰ کہ آگرے کا تاج محل اِس نولکھی کوٹھی کے عوض حقارت سے ٹھکرا دوں۔ مجھے پورے پنجاب سے بھی کچھ مطلب نہیں۔ بس یہ میرا گھر میری سلطنت ہے۔ مَیں اپنی اِس سلطنت کو نہ لندن کے عوض بیچ سکتا ہوں اور نہ میں اِس کے مقابلے میں اپنے دوسرے محبوب کا گناہ معاف کر سکتا ہوں۔ کیتھی مَیں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ کبھی نہیں جاؤں گا۔ کیونکہ لندن کی مٹی مجھے نہیں جانتی،نہ اُس کی سرد ہواؤں سے مجھے رغبت ہے۔ مَیں یہاں پیدا ہوا ہوں،یہیں مروں گا۔ اِس کے بعد ولیم نے کیتھی کا ہاتھ چھوڑ دیا اور دوبارہ بولا،یہ ہے میری تکلیف اور المیہ لیکن دیکھو اب مجھے نہ سمجھانے کی کوشش کرنا،نہ نصیحتوں کی انجیل پڑھانااور نہ ہی مجھے میرے اور اپنے بچوں کے واسطے دینا۔ یہ بچے جو مَیں نے اور آپ نے مل کر پیدا کیے ہیں۔

ولیم کی بات اتنی دو ٹوک اور فیصلہ کن تھی،کیتھی سوچتی رہ گئی کہ یہ کیا بن گیا ہے؟واقعی ولیم نے ایسا نقصان دینے والا فیصلہ سنایا تھا،جس کی تلافی نہ ہو سکنے والی تھی۔ وہ یہ تو جانتی تھی،ولیم برطانیہ کے مقابلے میں ہندوستان کو پسند کرتاہے اور لندن نہیں جانا چاہتا۔ لیکن وہ یہ بھی خیال کرتی تھی کہ ولیم کوبہر حال سب برطانیوں کی طرح یہاں سے نکلنا ہی پڑے گا۔ کیونکہ وہ اکیلا تو کسی صورت یہاں رک نہیں سکتا۔ اِسی زعم میں یہ سمجھے بیٹھی تھی کہ وطن واپس جانے کے دن قریب آرہے ہیں۔ اس سلسلے میں کئی قسم کی تیاریاں کر رہی تھی اور طرح طرح کے منصوبے عمل میں لا رہی تھی،جس کا ولیم کو بھی پتا تھا۔ اب اُسے یاد آیا،وہ جب بھی ولیم سے اپنی تیاری کا ذکر کرتی،ولیم نہ صرف اُسے ٹال جا تا بلکہ بعض دفعہ جھنجھلاہٹ کا بھی شکار ہو جاتا تھا۔ پھر بات سنے بغیر یا تو اُٹھ جاتا یا بات بدل دیتا تھا۔ تو گویا وہ ایک ایسے سول سروس کے افسرکو اپنا چکی تھی،جو اپنی سرزمین واقعی بدل چکا تھا۔ اب و ہ ایک قوم کے ہوتے ہوئے دو الگ الگ خطوں کے باشندے تھے۔ کیتھی نے سوچا،کیا یہ اِتنا آسان ہے؟ وہ اپنے جگر کی طاقت جمع کرتے ہوئے ولیم کی طرف بڑھی اور دوبارہ بولی،ولیم کیا تم جانتے ہو،قدرت کے فیصلے طاقت سے نہیں بدلے جا سکتے۔ جب طوفان کی لہریں بادبانوں سے بلند ہو جائیں،اُس وقت کمپاس بیکار ہوجاتے ہیں۔ خود کو اُس وقت تک لہروں کی مرضی پر چھوڑ دینا پڑتا ہے،جب تک چاند اور ہوائیں پُرسکون ہو جائیں۔ تمھیں معلوم ہے،یہاں ایک سال بعد ایک بیرا تک تمھارا ہم جنس نہیں رہے گا اور یہ لوگ،جن کو اب تم اپنا کہ رہے ہو،یہ تمھارے چہرے کی سُرخ جھریوں پر ہنسیں گے اور تمھاری شکل کو بندروں سے تشبیہ دیں گے۔

مجھے اس کی پروا نہیں،ولیم نے کہا،مَیں اِن اصطبل کے گھوڑوں پر سیر کرنا زیادہ پسند کرتا ہوں،کسی انگریز بیر ے سے مل کر بات چیت کرنے کو۔ یہ اصطبل،جس کو میرے باپ نے میرے لیے،اِس کوٹھی کے پچھواڑے بنایا ہے۔

کیتھی نے ولیم کے جواب میں چبھتے ہوئے لہجے میں کہا،ولیم تمھیں یقین ہے،یہ اصطبل جو اِس کوٹھی کے پچھواڑے میں ہے،جس میں موجود گھوڑوں کی نعل بندی اپنی نگرانی میں کرواتے ہو،تمھارے پاس رہے گا؟

شاید نہ رہے،مگر میں برطانیہ جانے کے لیے تیار نہیں ہوں،نہ اِس وقت تم سے زیادہ گفتگو کرنے کی ضرورت محسوس کرتا ہوں۔ تمھارے پاس وقت کم ہے،اپنا فیصلہ سنا سکتی ہو۔

ولیم،اگر تم اپنی حماقت پر قائم رہے،تو مَیں اپنے بچوں کو اِس جلا دینے والی زمین سے نکال کر لے جاؤں گی۔
اِس تلخ جملے کے بعد کیتھی اُٹھ گئی۔ جبکہ ولیم وہیں بیٹھا رہا،ایسے لگا جیسے کوئی جواری سب کچھ ہار جانے کے بعد پُرسکون ہوگیا ہو۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چھبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(44)

غلام حیدر کو حویلی میں آئے ایک ہفتہ ہو چکا تھا۔ اِس عرصے میں اُس نے تمام عزیزوں،دوستوں اور ملازموں کو اکٹھا کر کے نئے سرے سے چودھراہٹ کا کام شروع کر دیا۔ یہ چودھراہٹ پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور ہیبت ناک تھی۔ چودھری غلام حیدر اب شاہ پور اورجودھا پور کا مالک ہی نہیں،پندرہ آدمیوں کا قاتل بھی تھا۔ اور یہ پندرہ لوگ کوئی ایسے ویسے نہیں تھے۔ علاقے کے سر چُنویں بدمعاش اور بڑے زمیندار تھے۔ اِسی لیے اب وہ پینتیس سال کا منجھا ہوا چودھری اور طاقتور سورما بن چکا تھا۔ صرف شیر حیدر کا ندان مُنڈا نہیں رہ گیا تھا۔ دوم،سردار سودھا سنگھ جیسے سورماؤں کو چت کر کے اور انگریز سرکار میں صاف بچ نکلنے کی وجہ سے اب بڑے بڑے بد معاش بھی اُس کا نام سُن کر نہ لرزتے اور سلام کے لیے حاضری نہ بھرتے تو کیا فائدہ تھا۔ یہی وجہ تھی،حویلی میں آکر بیٹھنے والے لوگوں کی تعداد پہلے سے دُگنی ہوگئی۔ ایک ہفتے بعد جب غلام حیدر نے محسوس کیا حویلی کا انتظام قدرے ٹھیک ہوگیا ہے،تو اُس نے ایک دعوت کا اہتمام کر دیا۔ الیکشن کا وقت قریب آرہا تھااور غلام حیدر کو نواب صاحب کے احسان کا پاس بھی رکھنا تھا۔ اِس لیے جلد ہی ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا تھا،جس میں پورا فیروزپور نہ سہی،مکھسر اور جلال آباد تحصیل میں تو مسلم لیگ کا طوطی بول جائے۔ چنانچہ حویلی میں سینکڑوں لوگ مبارک سلامت کے لیے جمع ہو گئے۔ رفیق پاؤلی،جانی چھینبا،حاجی کمبو،امیر سبحانی تو خیر اُس کے اپنے آدمی تھے،جو غلام حیدر کی معافی کا سن کر دوسرے تیسرے روز ہی چلے آئے تھے۔ دعوت میں وہ لوگ بھی تھے،جن کا غلام حیدر سے دُور دُور کا بھی تعلق نہیں تھا۔ وہ سب اہل و عیال سمیت حویلی میں جمع ہو گئے اورحویلی میں ایک دم گہما گہمی ہو گئی،جو پچھلے دس سال سے تقریباً بند پڑی تھی اوراُس کے صحنوں اور دیوار وں سے ویرانی سیم اور تھورکی شکل میں جھڑ جھڑ کر گرتی رہی اوروارثوں کی غریب الوطنی پر نوحے پڑھتی تھی۔ نیم اور پیپل کے درخت بدلتے موسموں کو بے آبرو ہوتے دیکھتے رہے اور زرد ہواؤں کے تھپیڑوں کو سہتے رہے۔ آج اُس حویلی میں ایسے رونق پیدا ہو گئی،جیسے دنیا نئے سرے سے بسی ہو۔ حویلی سے غلام حیدر کو نکلنے کا غم کم نہیں تھا۔ وہ واپس آ کر بہت زیادہ جذباتی ہو گیا تھا لیکن رفیق پاؤلی اور دوسرے ملازم اُس سے بھی زیادہ جذباتی تھے۔ سب خوشی سے اِدھر اُدھر بھاگتے ہوئے آپس میں مل کر رو بھی رہے تھے۔ اُنہیں یہ دوبارہ جنم ملے گا اورامیر سبحانی کی قصہ گوئی کی محفلیں جمیں گی،اِس طرح کا وہم بھی جی سے اُٹھ گیا تھا۔ کیونکہ غلام حیدر نے سودھا سنگھ کے قتل کے بعداُن سے ایسے ربط توڑا تھاجیسے وہ اِس دنیا میں موجود ہی نہ ہو۔ اِدھر یہ سب ملازم،نوکر،دوست یار گورنمنٹ کے ڈر سے حویلی تو ایک طرف فیروز پور ضلع بھی چھوڑ کردُور دُور جا بسے تھے اور خوف کے مارے غلام حیدر کا نام بھی منہ سے نہیں نکالتے تھے۔ مگر اب سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا۔ رفیق پاؤلی لوگوں کو اِدھر اُدھر مختلف کاموں کے بارے میں حکم دیتا پھرتا تھا،تم یہ کرو،تم وہ کرو۔ گویا اُس کی نئے سرے سے اجارہ داری تسلیم کر لی گئی تھی۔ جس پر کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ ہر ایک نے اپنا اپنا کام بغیر کسی کے کہے سنبھال لیا جیسے یہ طے شدہ بات تھی۔ دعوت کی اِس تقریب میں شاہ پور اور جودھا پور کی رعایا بھی جلال آباد آگئی۔ بالکل وہی نقشہ بن گیا جو شیر حیدر کی موت کے وقت تھا۔ لیکن اُس میں اور اِس میں ایک فرق تھا کہ اِس رونق میں بھرپور جذباتی کیفیت کے ساتھ ایک بڑی فتح کی سر شاری بھی تھی۔ غلام حیدر نے ملک بہزاد اور امانت خاں کو بھی بلا لیا۔ وہ بھی لوگوں میں پھنسے بڑی بڑی ہانک رہے تھے،جس میں زیادہ تر اپنی بڑ ھکوں کی کہانیاں تھیں۔ سودھا سنگھ،عبدل گجر اور شریف بودلے کے قتل اور اُس کے بعد ان دس سالوں کے دوران ہونے والے تمام واقعات کے بیان کرنے میں اتنا وقت درکار تھا،جس میں غلام حیدر کی حالیہ دعوت کے برابر سو دعوتیں بھی ہوتیں تو ناکافی تھیں۔

غلام حیدر نے اپنے آنے کی خوشی میں کئی سو دیگیں گوشت اور چاولوں کی چڑھا دیں۔ اِن دیگوں کی منت اُس کی والدہ نے اُسی دن مانی تھی،جب غلام حیدر جلال آباد سے نکلا تھا۔ دیگوں کے دہانوں سے بُھنے ہوئے گوشت اور پکتے ہوئے باسمتی کے چاولوں کی بھاپ دماغوں میں چڑھ کر بھوک کی اشتہا کو مزید بڑھا رہی تھی۔ دیگوں کے نیچے جلانے کے لیے کلہاڑوں سے سوکھی لکڑیاں پھاڑی جا رہی تھیں اور آگ کے الاو مسلسل جل رہے تھے۔ غلام حیدر سب سے مل ملا کر ملک بہزاد کے پاس آبیٹھا۔ جہاں امانت خاں بھی بیٹھا تھا۔ ملک بہزاد کافی بوڑھا لگ رہا تھا۔ دس سال کی طویل مدت نے اُس کی صحت پر جو اثرات ڈالے تھے،وہ چہرے کی بڑھتی ہوئی جُھریوں اور چھلکتی ہوئی زردی میں بہت نمایاں تھے۔ مگر باتوں میں وہی دلیری اور سیانا پن اب بھی تھا۔ غلام حیدر جانتا تھا،اگر ملک بہزاد اُس وقت اُس کا ساتھ نہ دیتا تو شاید وہ بُرے طریقے سے ذلت کا منہ دیکھتا۔ پھر اُسے نواب افتخار کا خیال آ گیا،جس کی وجہ سے وہ پورے طور پر سرخ رو ہوا تھا۔ غلام حیدر نے سوچا،حقیقت یہ ہے کہ سب کے تعاون سے ہی سودھا سنگھ کی چتا کو آگ لگی ہے۔

غلام حیدر نے ماحول کے مطابق پورا پنجابی چوہدریوں کا لباس پہنا ہوا تھا۔ کھُسا،لمبے بَر والا سیمابی کڑھائی کا لاچا،سر پر پف والی کُلے دار پگڑی اور ہاتھ میں چھوٹا سا چاندی کا حقہ،جو غلام حیدر کو نواب افتخار کے ماموں سے تحفے میں ملا تھا۔ یہ شان و شوکت تو واقعی غلام حیدر کی ذات کو نوابوں سے کم نہیں دکھاتی تھی اوراِن سب سے بڑھ کر وہ رائفل جو اپنے کارنامے بھری دنیا کی انگریزی سرکار میں دکھا چکی تھی۔ غلام حیدر کے کاندھے پر لٹکی اُس کی چاندی جیسی نال تو ایک موت کی پری کی گردن تھی۔ غلام حیدر نے امانت خاں کی طرف دیکھ کر ملک بہزاد سے کہا،چاچا بہزاد،اصل میں تیرا یہ بھانجا اِس پورے قضیے کا سورما ہے۔ اُس دن یہ نہ ہوتا تو سکھڑے اِتنی آسانی سے قابو میں نہ آتے۔ (امانت خاں نے اپنی مونچھوں کو مزید مروڑا دیا،جو پہلے ہی کھسے کی نوک کی طرح اُوپر کو چڑھی ہوئی تھیں ) مجھے اِس پر فخر ہے۔ خدا نے موقع دیا تومَیں اس کا بدلا ضرور چکاؤں گا۔

ملک بہزاد بھتیجے کی طرف دیکھ کر بولا،غلام حیدر تمھیں پتا ہے،اِس نے پہلا بندہ کس عمر میں قتل کیا ہے؟اُس وقت اس کی عمر صرف تیرہ سال تھی،جب چودھری الہ بخش جندے کا سے اِس نے اپنے باپ کا بدلا لیا تھا اور کیو ں نہ لیتا،تربیت جو ( اپنے سینے پر ہاتھ مار کر ) ملک بہزاد نے کی تھی۔ آگے بھی یاد رکھ،لڑائی بھڑائی میں راہکوں اور مزارعوں سے کام نہیں لیا جاتا۔ بندہ مار کھا جاتا ہے۔

سینکڑوں آدمی اِدھر اُدھر چار پائیوں پر بیٹھے اپنی اپنی گپوں میں لگے تھے۔ اکثر امیر سبحانی سے غلام حیدر کے وائسرائے کے ساتھ گہرے تعلقات کی کہانی بڑی دلچسپی اور مزے لے کر سُن رہے تھے۔ غلام حیدر کو اُ س کی یہ ڈینگیں سُنائی دے رہی تھیں لیکن وہ اُسے اِن کے ہانکنے سے روکنا نہیں چاہتا تھا۔ بلکہ اب وہ چاہتا تھا،لوگوں پر اُس کی دلیری اور تعلقات کا جتنا بھی رعب پڑ جائے،اُسی قدر اچھا ہے اور وہ یہ رعب ملک بہزاد کے سامنے بھی رکھنا چاہتا تھا۔ ویسے بھی ملک بہزاد کو اُس کے تعلقات کا پتہ اُس کی سزا میں معافی اور نواب صاحب کی طرف سے اِتنے بڑے تعاون کے باعث چل ہی گیا تھا۔

چاچا بہزاد،غلام حیدر نے چارپائی پر ملک بہزاد کے پہلو میں آرام سے بیٹھنے کے بعد کہا،الیکشن بہت قریب ہیں۔ نواب افتخار پنجاب مسلم لیگ کے صدر ہیں۔ وہ خود ہمارے علاقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ نواب صاحب نے جو کچھ میرے لیے کیا ہے،اُس کا تقاضا ہے،ہم اُس کا ساتھ ووٹ دینے سے کچھ زیادہ کریں تاکہ اُس کی نمک حلالی کا پورا حق ادا ہو جائے۔ نواب کاجو میرے اُوپر احسان چڑھ گیا ہے،وہ تو شاید عمر بھر نہ اُترے لیکن کم از کم اس علاقے میں تو اُس کے خلاف کوئی بندہ پرچی نہ ڈال سکے۔ اِس کے لیے ہمیں چاہے کسی بھی قسم کی زبردستی کرنی پڑے،مسلم لیگ کو ہر حالت میں پورے علاقے سے الیکشن جتوانا ہے۔ کانگریس اور یونینسٹ کے اُمیدواروں کو پرچیاں دینا تو ایک طرف،جلسہ تک نہیں کرنے دینا۔ اِس کے لیے جتنا خرچہ اور اسلحہ چاہیے،وہ مَیں بندوبست کرنے کو تیار ہوں لیکن نواب صاحب اور جناح صاحب کے آگے ہماری بے عزتی نہ ہو جائے۔

ملک بہزاد غلام حیدر کی بات تحمل سے سنتا رہا، پھر حقے کی نَے کو ہاتھ سے پکڑ کر اُس پر اپنی ٹھوڑی ٹکاتے ہوئے بولا،چوہدری غلام حیدر،بھلا مسلم لیگ کا ساتھ ہم نہ دیں گے تو کون دے گا؟ یہ کام سودھا سنگھ کی چتا سے زیادہ اوکھا تو نہیں لیکن اِس کے لیے ایک کام کرو،اگر وہ کام ہو گیا تو ہمیں زیادہ تردد کرنے کی ضرورت ہی نہیں،لوگ خود بخود مسلم لیگ کی طرف جھکتے جائیں گے۔
وہ کیا کام ہے؟ غلام حیدر نے پوچھا۔

ایک ریکاٹ لو،جس میں تمھاری دلیری کے سارے واقعے قصے کی شکل میں بھرے ہوں۔ اِس کام کے لیے امیر سبحانی بہت مناسب ہے۔ وہ ریکاٹ الیکشن سے پہلے پورے علاقے میں پہنچا دو اور اپنے خرچے پر سنوا دو۔ جب تیری بہادری،خدا ترسی اور بڑے گھروں تک پہنچ کے قصے لوگ سنیں گے تو وہ خود بخود ہماری طرف دوڑے چلے آئیں گے۔ کچھ تو پہلے ہی تیری بہادر ی کا گُڈا چڑھا ہوا ہے،رہتی سہتی کسر یہ رکاٹ نکال دے گا۔ ابھی دو مہینے الیکشن میں باقی ہیں،امیر سبحانی سے دو چار دن میں یہ کام کرا کے چار پانچ بندے ریکاٹ چلانے والے کرائے پر لے لیتے ہیں اور گاؤں گاؤں پھرا کر سنا دیتے ہیں۔ ویسے بھی لوگوں کو شغل کے لیے بہانہ چاہیے۔ وہ جب امیر سبحانی کی چٹخارے والی زبان سے یہ مزیدار قصہ سنیں گے تو تم خود بخود اُن کا سورما بن جاؤ گے۔ اُس کے بعد ہم دونوں اپنے بندوں کے ساتھ پورے علاقے کا دورہ کریں گے اور باقی کسر دورے میں نکال دیں گے۔ پھر بھی جس جگہ سے نواب کے خلاف ووٹ پڑنے کا خطرہ ہوا،وہاں پرنواب سے کہہ دینا،الیکشن والے دن وہ اپنے بندے ہمارے ساتھ کر دے،نگرانی ہم کریں گے اور وہ پرچیاں اپنے ہاتھوں سے نواب صاحب کی صندوقچی میں ڈالتے جائیں گے۔ جس نے بھی چوں چراں کی،چار متہریں چوتڑوں پر ماریں گے اور سیدھا کر دیں گے۔
بس یہ ٹھیک ہے،غلام حیدر بولا،ہم کل ہی اِس کا انتظام کر لیتے ہیں۔ پہلے ڈیڑھ مہینے میں امیر سبحانی والا ریکارڈچلواتے ہیں۔ آخری پندرہ دنوں میں علاقے کا دورہ شروع کریں گے اور پورے علاقے میں گھوڑے دوڑا کر نقارہ بجا دیں گے۔ کوئی شخص نواب افتخار کے علاوہ کسی کو ووٹ دینے کی جرات نہ کرے۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ اپنا ذمہ دار خود ہو گا۔ ہمیں نواب صاحب کے گاؤوں میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو اُس کی ملکیت سے باہر کا علاقہ ہے،وہاں نواب کو چکر لگانے کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہیے۔ اُس کے بعد غلام حیدر ملک بہزاد کو اُٹھا کر ڈیوڑھی میں لے گیا اور جیب سے چاندی کے روپوں کی ایک بھاری تھیلی نکال کر اُس کے حوالے کردی۔

چاچا بہزاد،یہ نواب صاحب کی طرف سے دو ہزار روپے ہیں،آپ یہ رکھ لو اور اِس میں سے کچھ امانت خاں کو دے دینا۔ مَیں اُسے روپے دیتا اچھا نہیں لگتا۔ اِس الیکشن میں سو طرح کے کام ہیں اور کئی طرح کے خرچے ہیں۔ اُن میں کام آئیں گے،مَیں نے تو نواب صاحب سے کہا تھا،اِن کی ضرورت نہیں لیکن اُس نے ضد کر کے ہمیں دے دیے ہیں۔ بہر حال اب نواب صاحب کو پتا چلنا چاہیے،اُس کے دوست حالات کا پھیر بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

ملک بہزاد جان گیا تھا،غلام حیدر کو نواب نے کوئی پیسے نہیں دیے مگراُس نے پیسوں کی تھیلی پکڑ لی کیونکہ اب اُسے بھی پیسوں کی ضرورت تھی،پھر روز روز مفت میں تو کام نہیں ہو سکتے تھے۔ اور یہ بات غلام حیدربھی جانتا تھا،شاید اب ملک بہزاد پیسوں کے بغیر بے دلی سے چلے،اسی لیے اُس نے یہ چال چل دی تھی۔ غلام حیدر اب زمانے کا پانی پی چکا تھااور جانتا تھا،مایا ایسا ہتھیار ہے،جو فساد کے علاوہ دلوں کی محبت میں اضافہ بھی کرتاہے۔

غلام حیدر اور ملک بہزاد ڈیوڑھی سے نکلے تو کھانا تیار تھا۔ وہ دونوں اور میاں امانت خاں،جانی چھینبا،رفیق پاؤلی اور غلام حیدر کے وہ ساتھی،جو سودھا سنگھ کو مارتے وقت ساتھ تھے،چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ گرم گرم گوشت اور چاولوں کی بھری ہوئی کنالیاں اُن کے سامنے آگئیں تھیں۔ وہ کھانے کے دوران اُس واقعے کو چٹخارے لے کر چُٹکلے بھی چھوڑ رہے تھے اور چاولوں کے مزے بھی۔ اِن کے علاوہ بھی حویلی کا پورا صحن آدمیوں سے بھرا کھانا کھانے اور باتیں کرنے میں مصروف تھا۔

(45)

فضل دین اب چوبیس سال کا سمجھ بوجھ والا ایسا سرکاری بابو بن چکا تھا،جو مولوی کرامت کی تربیت سے ہوتا ہوا جلال آباد،وہاں سے ایف سی کالج لاہور اور اب گورنر ہاؤس لاہور میں پچھلے چھ سال سے سرکار انگریز کا نوکر تھا۔ وہ آہستہ آہستہ اِتنا سیانا ہو گیا کہ مولوی کرامت سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گیا۔ آنکھوں کو گول شیشوں کی عینک چڑھ گئی تھی،جس نے شخصیت کو اور بھی سنجیدہ کر دیا۔ گورنر ہاوس لاہور میں نوکری کے دو سال بعد ہی ا ُس نے لاہورمیں اپنی جگہ لے کر وہاں مکان بنا لیا۔ تنخواہ تو اتنی نہیں تھی کہ اُس سے گھر کا خرچ چلانے کے بعد مکان بھی خریدا جا سکتا مگرمولوی کرامت نے جلال آباد اپنی نوکری کے دوران مختلف حیلوں سے اِتنی پونجی جمع کر لی تھی جو دیر تک کام آ سکتی تھی۔ ولیم کی وجہ سے فضل دین کو مولوی کرامت کی وفات کے فوری بعد نوکری ملنے سے وہ رقم محفوظ رہی اور خرچ ہونے سے بچ گئی۔ وہ رقم اور کچھ تنخواہ سے بچا کر فضل دین نے لاہور میں مکان بنا لیا،جہاں اب وہ اپنی ماں شریفاں،ساس رحمت بی بی اور اپنی بیوی اور ایک دو سالہ بیٹے نوازالحق کے ساتھ رہنے لگا۔ اپنے باپ مولوی کرامت کی طرح فضل دین بھی کام اور عاجزی کا پیکر تھا۔ اِن خوبیوں کی وجہ سے تمام افسروں کا منظور نظر ہو گیا۔ جس نے جو بھی کام کہا،چاہے آدھی رات تک بیٹھنا پڑتا،فضل دین اُسے مکمل کر کے ہی دم لیتا۔ بلکہ بعض غیر متعلقہ کام بھی اُس کے ذمے لگا دیے جاتے تو وہ اُنہیں بھی ڈیوٹی سمجھ کر پورا کر دیتا۔ اِن سب باتوں کے علاوہ اُس نے اپنے کئی افسروں کو گھر کی بنی ہوئی دیسی گھی کی پنجیری پر لگا دیا،جو فضل دین کی ساس ایسی عمدہ بناتی کہ کسی نے کیا بنائی ہوگی۔ اُس نے ایک سائیکل بھی خرید لی،جس پر دفتر آنے جانے کے علاوہ فضل دین صبح سویرے افسروں کے گھر ناشتہ وغیرہ کا سامان بھی بازار سے خرید کر پہنچاآتا۔ جس کی فہرست اور پیسے فضل دین کو شام ہی دے دیے جاتے تھے۔ اِن کاموں سے فارغ ہو کر وہ سب سے پہلے دفتر میں داخل ہوتا۔ بعض اوقات تو چپڑاسی کے گیٹ کھولنے سے پہلے ہی باہر تھڑے پر بیٹھا ہوتا۔ فضل دین کی بیوی زینت ایسی ہشیار تھی کہ وہ فضل دین کا کھانا نماز پڑھ کے سورج نکلنے سے پہلے ہی تیار کر دیتی۔ فضل دین،جسے بچپن میں مولوی کرامت کی ڈانٹ نے سانجرے اُٹھنے کا خوگر بنا دیا تھا،جب تک نماز پڑھ کر فارغ ہوتا،کھانا تیار ہوتا۔ وہ کھانا کھاتا،سائیکل اُٹھاتا اور اپنے افسر کی دی ہوئی فہرست کے مطابق بازار سے سودا سلف خریدتا اور افسر کے گھر والوں کے اُٹھنے سے پہلے یہ سامان پہنچا دیتا۔ پھر وہیں سے اپنے دفتر آجاتا۔ دوپہر کا کھانا وہ سویرے گھر ہی سے لیے آتا اور شام یا رات کو گھر پر ہی جا کر کھاتا۔ آفس کے مسلمان افسروں اور کلرکوں کو ظہر اور عصر کی نماز بھی پڑھا دیتا۔ اِس لیے گورنرہاؤس میں رفتہ رفتہ مولوی فضل دین کے نام سے معروف ہو گیا۔ آفس کے اکثر لوگ اُس کی اِس وجہ سے بھی عزت کرتے تھے کہ جتنی آئتیں اور سورتیں اُسے یاد تھیں،کسی دوسرے کو اُن کا عشرِ عشیر بھی یاد نہیں تھا۔ اُس نے نماز کی قرات کے دوران لمبی لمبی سورتیں پڑھ کر سب کو مرعوب کردیا تھا۔ کئی دفعہ دفتر میں کام کرنے والے بابوؤں اور افسروں کے باپ دادا کے جنازے بھی پڑھا دیے۔ اُن کو گویا یہ ایک مفت کی سہولت مل گئی تھی کہ ایک تو مولوی ڈھونڈنا نہیں پڑتا تھا،دوسرا عام مولویوں سے فضل دین کا علم کہیں زیادہ تھا۔ بعض اوقات کئی لوگ خوش ہو کر اُسے کپڑے اور روپے پیسے بھی دے دیتے بلکہ رفتہ رفتہ اُس سے نکاح بھی پڑھوانے لگے۔ کئی دفتر والوں کو فضل دین کے علم کا پتا چلا تو اُنہوں نے اُس سے اپنے بچوں کو قرآن پڑھانے کا بھی کام لینا شروع کر دیا۔ اِس عمل میں فضل دین کو مزید آمدنی ہونے لگی۔ آمدنی کے اضافے نے فضل دین کے اندر ایک اور طرح کا جذبہ پیدا کر دیا۔ وہ سوچنے لگا،کسی طرح خود نہیں تو اپنے بیٹے کو ضرور افسر بنائے۔ کیونکہ افسروں کے ٹھاٹھ بابووں سے کہیں زیادہ تھے۔ چنانچہ فضل دین اِس کھوج میں لگ گیا کہ لوگ افسر کیسے بنتے ہیں اور چپکے چپکے ہر ایک سے معلومات لینے لگا۔ کسی نے فضل دین کو کچھ بتایا،کسی نے کچھ۔ پہلے پہل اُس کے ذہن میں یہ بات تھی،افسر صرف انگریز ہی بن سکتا ہے۔ لیکن جب آہستہ آہستہ اُسے پتا چلا،بہت سے مسلمان بھی افسر ہیں تو فضل دین نے اُس کی خبر لینا ضروری سمجھی۔ وہ بہت سے افسروں کے بچوں کو قرآن پڑھا رہا تھا،جس کی وجہ اُن کے والدین کے متعلق بہت سی معلومات اُس کے پاس جمع ہو رہی تھیں۔ اِن معلومات میں ایک بات اُس کی سمجھ میں آ گئی کہ افسر بننے کے لیے انگریزی میں بولنااور امیر بچوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا ضروری ہے۔ اِس سلسلے میں انگلستان بھی جانا پڑتا ہے،جس کے لیے بہت زیادہ پیسے چاہییں۔ اِس سب کے پیش نظر فضل دین نے بیٹے کے لیے میدان ہموار کرنا شروع کر دیا اور روپے پیسے کو کنجوسی کی حد تک احتیاط سے برتنے لگا۔ دفتر سے ملنے والی تنخواہ ساری کی ساری بچانے کے چکر میں فضل دین نے نماز،جنازے،نکاح،ختم دورد اور افسر کالونیوں میں قرآن پڑھا کر پیسے کمانے کی کاوشیں مزید تیز کر دیں۔ اِس سلسلے میں فضل دین کے گھر باہرسے ختم درود کا کھانا بھی آنے لگا اور ہانڈی کے پیسے مزید بچنے لگے۔ یہ سب کچھ اول تو فضل دین نے اپنے بیٹے کے لیے کیا تھا مگر آہستہ آہستہ اُس کی یہ عادت اپنے بچپن کی افتاد کو غالب کر گئی اور وہ بابو سے زیادہ دوبارہ مولوی بن گیا۔ لیکن دفتر کے کام میں کوتاہی پھر بھی کبھی نہ کرتا۔ البتہ اِتنا ہوا کہ جو دین کے کام وہ دفتر میں بغیر پیسوں کے کرتا تھا،اب پیسوں سے شروع کر دیے،جس میں اُسے کافی زیادہ ترقی ہوئی اور آمدنی میں کئی گنا اضافہ۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – پچیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(43)

غلام حیدر اپنی روپوشی کے دن مستقل مزاجی سے گزار رہا تھا اور وطن واپسی کے لیے کسی معجزے کا منتظر تھا۔ اُسے جلال آباد سے نکلے دس سال ہو چکے تھے۔ اُس کے لیے اتنے طویل عرصہ کی روپوشی قید سے کم نہیں تھی مگر کیا کرتا؟ دوسری صورت میں تو فوراًسزائے موت تھی جبکہ غلام حیدر کو ابھی اپنی زندگی عزیز تھی۔ وہ بلاوجہ ریشمی رسہ گلے کی زینت نہیں بنانا چاہتا تھا۔ پہلے ایک دو سال اُسے جلال آبا د اور لاہور بہت یاد آتے رہے۔ اُس کے بعد دل کو ٹھہراؤ آنے لگا اور وہ روپوشی کی جگہ کو گھر تصور کرنے لگا۔ اُس کی اطلاع سوائے نواب ممدوٹ کے کسی کو نہ تھی۔ حتیٰ کہ غلام حیدر کے عزیز ترین رشتہ داروں کو بھی۔ اُس نے اپنی والدہ کو بھی اپنے پاس بلا لیا تھا،جس کے اصرار پر وہیں شادی بھی کر لی اور کچھ نواب صاحب کا خرچہ کچھ اپنی بچی کھچی دولت کو احتیاط سے برت رہا تھا،جو پان چھ کلو سونے اور ایک لاکھ چاندی کے روپوں کی شکل میں تھی۔ یہ دولت غلام حیدر نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ہی ٹھکانے لگا دی تھی۔

یہ جگہ،جہاں غلام حیدر روپوش تھا،پنجاب سے باہر کشمیر کے دور دراز کے علاقے میں تھی۔ جہاں نہ تو سواری جاتی تھی اور نہ ہی پیدل کسی میں طاقت تھی۔ یہ ایسا دشوار گزار علاقہ تھا،جس کے شمال جنوب کی خود غلام حیدر کو بھی خبر نہ تھی۔ اُس رستے کو وہ خود اکیلا بھی طے نہ کر سکتا تھا۔ اُس کا یہ گھر دریا کے کنارے چھوٹی سی بستی میں تھا،جس کے مالکانہ حقوق نواب ممدوٹ کی ماں کے پاس تھے،جو اَب نواب ممدوٹ کو منتقل ہو چکے تھے۔ وہاں کی مقامی آبادی بھی ایک طرح سے نواب ممدوٹ کی رعیت ہی تھی۔ نواب صاحب سال بعد یہاں چکر لگا جاتے تھے اور غلام حیدر کو دلاسے کے ساتھ جلال آباد،غلام حیدر کی رعیت،کیس کی نوعیت اور علاقے کی پوری صورت حال کے بارے میں آگاہ کر جاتے تھے۔ سچ پوچھیں تو اِس تنگی کے پورے عرصے غلام حیدر کی دوستی کا نواب ممدوٹ نے حق ادا کر دیا تھا۔ خرچے پانی کے علاوہ کسی چڑیا کو بھی پتا نہیں چلنے دیا کہ غلام حیدر کہاں ہے۔ اس بات کا غلام حیدر کو دل ہی دل میں احساس تھا اور وہ چاہتا تھا،کسی طرح اِس احسان کا بدلہ اُتارے مگر وہ دن بھی نواب کی کوششوں کے بغیر نہیں آ سکتا تھا۔ زندگی کے دن گزرتے جا رہے تھے اور کوئی صورت پیدا نہیں ہو رہی تھی۔ اِدھر عدالت نے اُس کی غیر حاضری میں اُسے سزائے موت سنادی تھی۔ جس کی اپیل کا وقت بھی مدتیں ہوئیں گزر چکا تھا۔ اِس کے باوجود نواب ممدوٹ غلام حیدر کو مسلسل دلاسے دیے جا رہا تھا کہ وہ اُس کی معافی کی کوشش کر رہا ہے،جس کا وقت بہت قریب ہے۔ ان دلاسوں کی شدت پچھلے ایک سال سے کافی زیادہ ہو گئی تھی۔ غلام حیدر پہلے پہل تو یہی خیال کرتا رہا تھا کہ وہ کبھی جلال آباد واپس نہیں جا سکے گا۔ مگر نواب افتخار ممدوٹ نے جو کچھ صورت حال انگریزوں اور ہندوستان کی بتائی تھی،اُس سے ثابت ہوتا تھا،واقعی کچھ نہ کچھ خدا راہ نکالنے والا ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو اُسے یقین ہونے لگتا کہ یہ انقلاب صرف اور صرف اُسی کے لیے برپا ہونے والا ہے۔ جس میں سرا سر دخل اُس کی ماں کی دن رات تہجد کی دعاوں کا ہے۔ اِسی عرصہ میں غلام حیدر کے دو بیٹے بھی پیدا ہو چکے تھے۔ جن میں سے ایک کی عمر چار سال تھی اور ایک دو سال کا تھا۔ رائفل اب بھی غلام حیدر کے پاس تھی،جو اُسے مسلسل وہ دن یاد دلاتی،جس دن اُس نے سردار سودھا سنگھ کا نقشہ برباد کیا تھا۔ وہ اُس واقعے کو یاد کر کے پُر سکون سا ہو جاتا۔ حالانکہ اُسے یہ بالکل خبر نہیں تھی کہ امیر سبحانی نے اُس کی بہادری پر ایک نہایت دلچسپ کمشری تیار لی تھی۔ جسے اُس نے جلال آباداور فیروز پور کے علاوہ دور نزدیک کی دوسری تحصیلوں کے دور دور گاؤں تک بھی پھیلا دیا تھا۔ وہ یہ قصہ لوگوں کو بڑے دلنشیں انداز میں سنا سنا کر اپنی روزی روٹی کا بھی سامان پیدا کرلیتا۔ اُس کمشری کی وجہ سے ہر گھر میں غلام حیدر کا تذکرہ ایک سورمے کی حیثیت اختیار کر گیا۔ لوگ بڑے فخر سے اُسے اپنی بیٹھکوں اور چوپالوں میں سُنتے۔ غلام حیدر پنجاب کے ان لوگوں کے لیے ایک ایسا اسطیری ہیرو بن گیا،جس کی بندوق امیر حمزہ کی تلوار کی قائم مقام بن چکی تھی۔ اِدھر غلام حیدر سب کچھ سے بے خبر اِس کوہ قاف میں نواب صاحب کی آمد کا شدت سے منتظر رہنے لگا،جسے اب آئے ہوئے دس ماہ ہو چکے تھے۔ اُس کے علاوہ اس جگہ پر کسی دوسری خبر کا پہنچنا جوئے شیر کے پہنچنے سے کم نہیں تھا اور دن تھے کہ عمر کی طرح مسلسل نکلے جا رہے تھے۔ اِس بار اُسے اس لیے بھی انتظار زیادہ تھا کہ جب سے اُس کی آزادی کا گمان یقین میں بدلا تھا،بے چینی اور اضطراب بھی شدید ہو گیا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ خدا نا خواستہ خبر ملتی کہ روپوشی ختم نہیں ہو سکتی تو غلام حیدر اِس جگہ سے نکل کر کہیں اور جانے کی سوچ لیتا۔ بھلے اِس میں اُس کی زندگی کو خطرہ ہی ہو جاتا۔ وہ پنجاب کارخ ضرور کرتا،جہاں دشمن اُس کی بُو کتوں کی طرح اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی سونگھ رہے تھے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جناح صاحب کو نواب و لاز لاہور میں ٹھہرے دو روز ہو گئے تھے اور نواب افتخار صاحب ممدوٹ کی جرات نہیں ہو رہی تھی،وہ جناح کے ساتھ اِس مسئلے پر بات کرے۔ وہ یہ بھی سوچ رہا تھا،اگر اب بھی جناح سے اس معاملے میں بات نہ کی،پھر یہ مسئلہ کبھی حل نہ ہو سکے گا۔ یہ ایک ایسا موقع تھا کہ اس معاملے میں تھوڑی سی بھی استقامت پیدا کرے،تو کچھ ہی دیر میں سب ٹھیک ہو سکتا تھا۔ چنانچہ آج نواب افتخار نے غلام حیدر کا معاملہ جناح صاحب کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ نواب نے سوچا،نتیجہ جو بھی نکلے،آج کا دن ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اِنہیں خیالوں کے ساتھ اپنی کوٹھی کے وسیع لان میں چہل قدمی میں مصروف تھا۔ دل ہی دل میں وسواس اور خدشوں کو اِدھر سے اُدھر دھکیل رہا تھا اور سوچ رہا تھا،اگر آج ابا جان زندہ ہوتے تو آسانی سے اُن کے ذریعے جناح صاحب کو کہلوا دیتا۔ صبح سفید روشنی دور تک پھیلی تھی۔ یہ ٹھنڈی روشنی اور سفید صبح کتنی حسین ہوجائے،اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے۔

جناح صاحب کچھ ہی دیر میں ناشتہ کر کے باہر نکلنے والے تھے۔ اسی انتظار میں وہ آنے والی گھڑیوں کو دیکھ رہا تھا اور اِس معاملے پر دل ہی دل میں بدل بدل کر اُن سے مکالمہ کرتا،پھر خود ہی جناح کی طرف سے اپنی باتوں کا جواب دے کر مشق کرنے لگا۔ وہ خوب جانتا تھا،جناح کا معاملہ ذرا ٹیڑھا ہے۔ اگر ایک دفعہ اُنہوں نے،نہیں،میں سر ہلا دیا تو ہر چیز گڑبڑ ہو جائے گی۔ پھر اُنہیں قیامت تک قائل نہیں کیا جا سکے گا۔ لہذا بات کرنے میں کہیں جھول نہ رہ جائے اور جواز جس قدر مضبوط بنا لیا جائے،بہتر ہے۔ اِسی وجہ سے نواب صاحب آج اذان کے وقت ہی اُٹھ کر ٹہلنے لگ گئے تھے اور اب تو دن صاف نکل آیا تھا۔ چنانچہ بات کے ہر پہلو پر غور کرتے ہوئے نواب افتخار اپنے ذہن میں ایک منصوبہ بنا کر تیار ہوچکا تھا اور اب بے چینی سے قائد کے باہر نکلنے کے منتظر تھا۔

یہ سردیوں کے عظیم اور مصروف دن تھے۔ ہلکی ہلکی دھوپ صحن میں پر پھیلا رہی تھی،ایسے محسوس ہو رہاتھا،دھوپ نواب کی منصوبہ بندی کو تقویت دینے میں کافی مفید ہو گی۔ سردی میں اِس طرح کی دھوپ بات کرنے کے جذبے کو بڑھاوا اور تاثیر دیتی ہے۔ نواب ولاز کے اُونچے اور لمبے چھتناروں کے رہائشی پرندے،اِس ساری کشمکش سے بے نیاز بوڑھے درختوں کی شاخوں پر اِدھر سے اُدھر پھدکتے اور پر چہلیں کرتے نظر آ رہے تھے۔ اُن کے پَروں کے بال دھوپ کی روشنی میں کبھی سنہری نظر آتے،کبھی دوسرا رنگ اختیار کر لیتے۔ کافی دیر بے چینی سے ٹہلنے کے بعدنواب صحن میں پڑی صندل کی لکڑی کی کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا اور دل میں منصوبے کی چوہلیں ہر طرح سے ٹھیک بٹھا لیں۔ اِسی طرح بیٹھے،اُنہیں دس منٹ گزر گئے۔ خدا خدا کر کے جناح صاحب باہر آتے دکھائی دیے۔ نواب نے دیکھا اُن کی صحت قدموں کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ لیکن چال میں ایسی طمطراقی موجود تھی،جس کے آگے نواب تو ایک طرف گورنر تک کی شخصیت ماند پڑ جاتی۔ سُرمئی رنگ کے انتہائی نفیس اور صاف ستھرے تھری پیس سوٹ میں دُبلا پتلا جسم پُر وقار چال کے ساتھ سامنے آرہا تھا۔ پاؤں میں سیاہ جوتے ایسے متوازن تسموں سے کَسے ہوئے،اِتنے چمکدار اورداغ دھبے سے مبرا تھے کہ اُن کی چمک میں اندھا بھی اپنا منہ دیکھ سکتا تھا۔ ایسا نہیں کہ جناح کے جوتے اور سوٹ خاص لندن سے بن کر آتے تھے،اِس لیے اُن میں اتنی نفاست تھی۔ بہت سے اُمرا اور لیڈر اپنے پہننے کا سامان خاص لندن ہی میں آڈر سے بنواتے تھے لیکن اُن میں اِس طرح کی نفاست کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی،اُن کے سامنے بڑے سے بڑا پھنے خاں بھی مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔ اس کا اندازہ غیر شعوری طور پر نواب ممدوٹ کو بھی تھا۔ جناح سے اُس کا تعلق ایک عرصے سے تھا۔ وہ اُس کا لحاظ بھی رکھتے تھے۔ لیکن اِس قربت کے باوجود نواب ممدوٹ کی جرات نہیں تھی،وہ جناح سے بے تکلف ہونے کی جسارت کرتا۔ یہ جسارت تو لیاقت علی خاں وغیرہ بھی نہیں کر سکتے تھے اور جنہوں نے کی تھی،وہ برصغیر کے مسلمانوں کی نظر میں اِس طرح بے وقار ہو کر رہ گئے گویا اُن کا وجود ہی نہ ہو۔

سگار کے ہلکے ہلکے کش لیتے ہوئے وہ کھلے لان کے مرکز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نواب کو اُن کے عینک کے شیشوں کے اندر سے پپوٹوں کی جھریاں صاف نظر آ رہی تھیں جو چہرے کو اُن کی نقاہت کے باوجود پر شکوہ کر رہی تھیں۔ جناح کو آتے دیکھ کر نواب فوراً اُٹھ کر کھڑا ہو گیااور نہایت ادب سے اُن کے استقبال کو آگے بڑھا۔ لان کافی کھلا اور بڑا تھا،اس لیے نواب کو آٹھ دس قدم آگے جانا پڑا۔ جناح کے برابر پہنچا تو ہاتھ ملانے کی بجائے واپسی ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ جناح نے سگار کا دھواں ہوا کی آغوش کو سونپتے ہوئے نہائت آہستگی سے گُڈ مارننگ کہا اور بغیر قدم روکے کُرسیوں کی طرف بڑھتے چلا گیا۔ چند لمحوں بعد جناح نے کُرسی پر بیٹھ کر ایک ٹانگ دوسری کے اُوپر ر کھ لی۔ اِس طرح بیٹھنے سے اُن کے جوتوں کی چمک میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ کیونکہ دھوپ دھند اور غبار سے بے عیب تھی اور جوتے گرد سے۔ نواب افتخار ایسے ایک طرف کھڑا ہو گیا جیسے پریشانی کے آثار چہرے سے نظر آرہے ہوں۔ لیکن جناح نے نواب کے پریشان چہرے کی طرف کچھ توجہ نہیں دی۔ وہ خموشی سے سگار پیتے رہے اور چند لمحے اِسی طرح گزر گئے۔ نواب افتخار جناح کا منتظر تھا کہ کب وہ پنجاب کی صورت حال پر بات کرے اور یہ سُرخ لوہے پر ضرب لگائے۔ پنجاب مسلم لیگ کے لیے سب سے اہم صوبہ تھا،جس میں سکھوں اور ہندؤوں کی بڑی تعداد موجود ہونے کی وجہ سے پیچ در پیچ ہزاروں مسائل تھے۔ اُن کو حل کرنے کے لیے جس آدمی کی سب سے زیادہ اہمیت جناح کی نظر میں تھی،وہ نواب ہی تھا۔ لہذا یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا کہ وہ مسلم لیگ کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے پنجاب کو نظر انداز کر جائیں اور اُس میں نواب کی مشاورت سے گریز کریں۔ کافی دیر خموش بیٹھے رہنے کے بعد جناح نے آخر سکوت توڑ دیا۔

افتخار،آپ کی طرف سے ابھی تک اپنے علاقے کے بارے میں کوئی صورت حال سامنے نہیں آئی،خموشی کیوں ہے؟
سر پنجاب میں ہر طرف حالات مسلم لیگ کے حق میں ہیں،جیسا کہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ لیکن مشرقی پنجاب کے کچھ علاقوں میں پوزیشن ٹھیک نظر نہیں آتی۔ اندیشہ ہے،تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور تحصیل فیروز پور سے ہم الیکشن ہار جائیں گے،مجھے یہی پریشانی اس وقت بھی ہے۔

ایسا کس لیے ہے؟،جناح نے نہایت اطمنان اور بغیر پریشانی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا،اُن کا یہ رویہ نواب کے بنائے ہوئے منصوبے کے لیے بہتر نہیں تھا۔

فیروزپور کی انتظامیہ کانگرس کے ساتھ مل کر ہمیں شکست سے دوچار کرنا چاہتی ہے ( نواب نے اب کے اپنے چہرے پر ایک کرب ناک پریشانی طاری کرلی) پورے علاقے میں غیر تحریری طور پر ہمیں جلسے کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ عوام پر ایک خفیہ دباؤ موجود ہے۔ کانگرس کچھ سکھ سرداروں کے ساتھ مل کر غنڈہ گردی کر رہی ہے۔ مسلمانوں کوبلا جواز ڈرایا جا رہا ہے۔ یہ عوام غریب غربا بے زمین لوگوں پر مشتمل ہیں اور زیادہ تعداد بالواسطہ طور پر سکھ زمینداروں کی رعایا ہیں۔ یہ لوگ ووٹ تو مسلم لیگ کو ہی دینا چاہتے ہیں،لیکن ڈر کی وجہ سے ہو سکتا ہے،الیکشن کے دن گھر وں سے ہی باہر نہ نکلیں۔ بلکہ جو لوگ سکھوں کے مزارع ہیں،اگر اُن پر دباؤ بڑھ گیا تو وہ ہمارے خلاف بھی ووٹ دے سکتے ہیں۔ اِس لحاظ سے ہم مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

آپ نے پہلے آگاہ نہیں کیا؟ اب جناح نے قدرے بات کو سنجیدہ لیتے ہوئے پوچھا۔ البتہ چہرے پر پریشانی کے آثار پھر بھی ظاہر نہیں ہونے دیے،مگر نواب ایک عرصے کی رفاقت کے بعد سمجھ گیا تھا کہ اُن کے اندر ہل چل ہو چکی ہے۔

سر،کچھ فائدہ نہیں تھا۔ معاملات اور بھی زیادہ خراب ہو جاتے۔ انتظامیہ جس قدر عذراور تاویلات کی ماہر ہے،ہمارا کوئی بھی قدم اُس کے آگے غیر موثر ثابت ہو گا۔ نواب نے ایک اور ضرب لگائی۔

پھر بھی ہمیں اِس کا حل نکالنا ہے( جناح کا اطمنان گڑبڑا گیا تھالیکن وہ بات اب بھی بے پناہ تحمل کے ساتھ کر رہے تھا )وہاں تمھاری شکست کا مطلب مسلم لیگ کی پنجاب میں شکست ہے۔ ہمارے لوگ بددل ہو جائیں گے۔ فیروز پور میں ہر حالت اپنی پوزیشن بہتر کرو۔
جناح کا یہ جملہ ایسا تھا جو نواب افتخار کے لیے اپنی بات منوانے کی بنیاد فراہم کرتا تھا۔ لہذا نواب نے بغیر وقت ضائع کیے،جس کا انتظار وہ کئی مہینوں سے کر رہے تھے،اپنا مدعا سامنے ر کھ دیا،سر میرے کئی آدمیوں اور ذاتی دوستوں پر فیروزپورپولیس کی طرف سے ایک عرصے سے قتل اور ڈکیتی کے مقدمات درج ہیں۔ جن کے پس پشت گورنمنٹ کی مسلم لیگ دشمنی کار فرما ہے،جو مشرقی پنجاب میں آج کل تو بہت فعال ہو چکی ہے۔ مَیں اُس کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہوں۔ مثلاً؟ جناح نے وضاحت چاہی۔

مثلاًمیرا ایک دوست غلام حیدر ہے(نواب نے منصوبے کے مطابق اب کہانی شروع کی) جس نے میرے ساتھ ایچی سن کالج سے بی اے کیا ہے۔ وہ مسلم لیگ کا انتہائی سر گرم رکن ہے۔ اُس پر اُسی دن سے پورے پندرہ بندوں کے قتل کا مقدمہ درج ہے،جس دن اُس نے مسلم لیگ کی رکنیت اختیار کی۔ اِس کی وجہ سے وہ پچھلے دس سال سے روپوش ہے اور اپنے علاقے میں داخل نہیں ہو سکا۔ عدالت اُس کی غیر موجودگی میں اُسے سزائے موت سنا چکی ہے۔ بچاراپتہ نہیں کہاں جان بچاتا پھر رہا ہے۔ اُس کا مال اور جائداد ضبط کی جا چکی ہے۔ پڑھالکھا اور شریف زمیندار ہونے کے ساتھ علاقے میں اُس کی حیثیت ایک بااثر مسلم لیگ کے کار کن کی ہے۔ اُس کی شرافت اور ہر دل عزیزی کی وجہ سے ہزاروں ووٹ اُس کی جیب میں ہیں۔ لوگ سمجھتے ہیں،جب اِتنے اہم شخص کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے تو پھراُ ن کی کیا حیثیت ہے؟ اُس پر بلاجواز مقدمات درج کر کے فیروزپور میں مسلم لیگ کی تحریک کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور سرور بہکاں والے کو مجھ پر سوار کرایا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے،جب تک میری گاڑی میں غلام حیدر نہیں بیٹھ جا تا اور میرے جلسوں میں شریک نہیں ہو جاتا،مجھے الیکشن نہیں لڑنا چاہیے۔ ورنہ ذلت سے دوچار ہونا پڑے گا۔

کیا غلام حیدر کے علاوہ یہ جگہ کوئی اور نہیں پُرکر سکتا؟ جناح نے سگار پینا مسلسل جاری رکھا۔

اول تو ایسا کوئی آدمی وہاں موجود نہیں ہے۔ اگر ہو بھی،تو اِن حالات میں،جبکہ ہم اُن کی حفاظت کے لیے کچھ نہیں کر سکتے،کوئی اور کیونکر رسک لے سکتا ہے؟ نواب نے اب بات فیصلہ کن انداز میں جناح صاحب کے گوش گزار کرنے کی کوشش کی۔
اوکے دیکھتے ہیں،جناح نے اُٹھتے ہوئے کہا،تم الیکشن کی تیاری کرو،میری تین تاریخ کو مونٹ بیٹن سے ملا قات ہے۔
اتنا کہ کر جناح صاحب دوبارہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑے اور مزید ایک لفظ بھی کہنا گوارہ نہ کیا۔

نواب افتخار جناح کے اُٹھتے ہی خود بھی جلدی سے تکریم کے لیے کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا اور اُسے جاتے ہوئے دیکھنے لگا۔ جناح کا کہنا،تم الیکشن کی تیاری کرو،کا مطلب تھا،کام اسی فیصد تک ہو چکا ہے اور واقعی وہی کچھ ہوا دو ہفتے بعد ہی جلال آباد تحصیل میں غلام حیدر کی سزا کی معافی اور اُس کی تمام جائداد کی واپسی کا حکم پہنچ گیا۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا،جو فی الحال کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ اِتنے زیادہ قتل کا مقدمہ،جس میں غلام حیدر کے اشتہاری ہونے کے بعد اُس کو سزائے موت ہو چکی تھی،کا آسانی سے ختم ہوجانا سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ وہ بھی انگریز سرکا ر میں۔ بعض لوگوں نے سمجھا،یہ حکومت کی چال ہے اور اُسے روپوشی سے باہر نکالنے کا ایک ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا ہے۔ جیسے ہی غلام حیدر سامنے آئے گا،اُسے دھر لیا جائے گا۔ لیکن جب غلام حیدر واقعی دس سال بعد جلال آباد اپنی حویلی میں آیا اور پولیس نے کوئی پوچھ گچھ نہ کی تو لوگوں کو یقین آ گیا کہ امیر سبحانی کی بات تو بھائی سچ ہے۔

ہوا یہ کہ جناح صاحب کو مونٹ بیٹن کے ساتھ ملاقات میں نواب افتخار کی تمام بات یاد تھی۔ اُنہوں نے اِس تشویش کا اظہار لارڈ صاحب سے کر دیا کہ گورنمنٹ پنجاب اُن کے خلاف سازش بُن رہی ہے۔ اِس بات کا لارڈ صاحب نے فوراً انکار کر دیا اور کہا اِس کا ثبوت دیں۔ جناح نے نواب افتخار کے حوالے سے غلام حیدر پر مقدمات کا ذکر کر دیا،جس کی تفصیل بعد میں اُنہوں نے خود معلوم کر لی تھی۔ مونٹ بیٹن نے غلام حیدر کی خوش بختی سے،وہیں بیٹھے جناح صاحب کی تشویش دور کرنے کے لیے گورنر صاحب کو فون کر مارا اور کسی لہر میں آ کر یہ بات کر دی،غلام حیدر پر سے تمام مقدمات فوری طور پر اُٹھا لیے جائیں۔ گورنمنٹ اُس کی سزائے موت معاف کرتے ہوئے اُسے بری کرتی ہے۔ لہذا غلام حیدر ولد شیر حیدر کی سزا کے متعلق فیصلے کی فائل بلا تاخیر اُنہیں دہلی رو انہ کر دی جائے۔ یہ تھی ساری کہانی،جس میں مونٹ بیٹن نے محض جناح صاحب کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے اپنی طرف سے یہ چھوٹا سا کام آناً فاناً کر دیا۔
غلام حیدر جلال آباد میں کچھ ایسی دھوم دھام سے داخل ہوا کہ اُس کے سامنے جلال آباد والوں کی نظر میں نواب افتخار کی کیا اہمیت تھی۔ سفارش کا یہ قدم شاید جناح صاحب کبھی نہ اُٹھا تے لیکن اُن کی نظر میں نواب افتخار کی بھی ایک اہمیت تھی۔ شروع دن سے ہی ممدوٹ خاندان محمد علی جناح کا دست وبازو تھا۔ وہ پنجاب میں سب سے زیادہ اعتبار اُنہیں پر کرتے۔ لاہور آتے تو ممدوٹ ولا زکے سوا کہیں قیام نہ فرماتے۔ حتیٰ کہ فاطمہ جناح بھی اُن کے ہمراہ ہوتیں تو وہ بھی ممدوٹ ولاز میں ٹھہرا کر تیں-انیس سو چھ میں سرشاہنواز خان ممدوٹ نے پنجاب میں مسلم لیگ کی صدارت سنبھالی تھی اور مسلم لیگ کو مضبوط و فعال بنانے کے لئے انتھک کوششیں کیں اور اپنی دولت خرچ کی تھی۔ یہ اُنہی کی کاوشیں تھیں کہ قرار داد پاکستان ممدوٹ ولازکے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر بنائی گئی- منٹوپارک کا جلسہ اور اُس کی کامیابی بھی سرشاہنواز خان ممدوٹ کے سرجاتی ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کو جہاں دُشواری پیش آتی،نواب ممدوٹ اپنی تجوری کی چابیاں اُن کے حوالے کر دیتے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – چوبیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(42)

بہت دنوں سے ولیم سوچ رہا تھا کہ سرکاری نوکری پر لعنت بھیج دے۔ صرف اوکاڑہ میں رہ کر اپنا ذاتی فارم چلائے،جس پر کیتھی کسی طرح بھی راضی نہ ہو سکتی۔ شاید وہ اُسے بھی نظر انداز کر کے فیصلہ کر بیٹھتا کہ اچانک اُس کی خوش نصیبی سے برطانیہ پر ایک آفت ٹوٹ پڑی اور وہ تھی جنگ عظیم دوم۔ ہٹلر کی حکومت نے مشرقی یورپ میں ایک وسیع اور جدید سلطنت “لونگ اسپیس” (لیبن سروم) کے قیام کا خواب دیکھا تھا۔ اُس نے یہ خیال اپنے لوگوں پر واضح کیا تو جرمن لیڈروں نے یورپ پر جرمنی کے تسلط کیلئے جنگ کو ضروری قرار دے دیا۔ سویت یونین کی غیر جانبداری حاصل کرنے کے بعد جرمنی نے یکم ستمبرانیس سو انتالیس میں پولنڈ پر حملہ کرکے دوسری جنگ عظیم کا آغاز کر دیا۔ اِس کھلم کھلا جارحیت کو روکنے کے لیے برطانیہ اور فرانس نے رد عمل کے طور پر تین ستمبر کو جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ اُدھر ایک ماہ کے اندر جرمن نے سویت فوجوں کے اتحاد سے پولنڈ کو شکست دے دی۔ پولینڈ جرمنی اور سویت یونین کے درمیان تقسیم ہو گیا۔ یہ وہ دور تھا جب اِس سب کچھ سے لا تعلق ولیم پنجاب کے چیف سیکرٹری ہاؤس لاہور میں کُھڈے لائن لگا،فائلوں کے اُوپر سے مکھیاں اُڑا رہا تھا۔ وہ اِس جنگ کی خبریں تو مسلسل سُن رہا تھا لیکن ابھی جنگ کی آواز براہ راست ہندوستان نہیں پہنچی تھی۔ اِس لیے اُسے اس سب کچھ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ویسے بھی کچھ وقت تک عارضی سکون ہو چکا تھا،جونو اپریل انیس سو چالیس تک جاری رہا اور اُس وقت ختم ہوگیا،جب جرمن فوجوں نے پھر ایک دفعہ ناروے اور ڈنمارک پر حملہ کردیا۔ یہی وہ وقت تھا جب بر طانیہ کے کان پر دوبارہ جوں رینگی اور وہ اِس کھجلی پر چونکا۔ اُدھر جنگ کا آغاز ہو ااِدھر برطانوی کالونیوں میں انگریزوں اور مقامیوں کو افسریاں پلیٹوں میں بکنے لگیں۔ اِسی ریلے میں کئی معتوبوں کی غلطیاں بھی تھوڑی بہت سرزنش کے بعد بخش دی گئیں۔ چنانچہ ولیم کی بھی سنُ لی گئی اور اُس کی خدمات دہلی ڈویژن کے سپرد کر دیں۔ جہا ں انہیں بطور ڈپٹی کمشنر ضلع روہتک بھیج دیا۔

ولیم کا اتنی جلدی اچانک ڈپٹی کمشنر بن جانا نہایت اعزاز کا باعث تھا اور کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ کجا لاہورمیں پندرہ ماہ سے مکھیاں مارنے کاکام اور کجاایک دم پورے ضلع کا وائسرائے۔ آڈر ملنے کے بعد اُس نے فوراً کیتھی کو اطلاع دی اور کہا،محترمہ جلدی ضلع کی میم بننے کے لیے تیار ہو جاؤ۔ کیتھی نے یہ سنتے ہی اوکاڑہ میں اپنی نیابت کے منصوبے شروع کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری شروع کر دی۔ سب سے پہلے اُس نے ڈپٹی کمشنر کو ذاتی طور پر ملنے والے ملازمین کی لسٹ تیار کی۔ جس کی تعداد پینتیس کے لگ بھگ تھی۔ اِن میں خاص کر،سائیس،دھوبی،خانساماں،بھنگی،باورچی،مالی،گھسیارا،چڑی مار، قصاب، مچھیرا، ماشکی، مالشیا،حلوائی،سگ پرور،بٹیر باز،مرغ باز،اور اسی طرح کے نجانے کیا کیا الا بلا نوکروں کی پلٹنیں تھیں۔ یہ تو باقاعدہ نجی ملازم تھے۔ ورنہ تو اب پورا ضلع ملازم ہونے والا تھااور کسی کی کیا جرات کہ اُن کی مرضی کے خلاف پر بھی مارتا۔ ولیم اِسی خوشی میں نولکھی کوٹھی پر پہنچا اور سب دوستوں کو بلا کر ایک لمبی دعوت سے سر فراز کیا۔ جانسن صاحب نے (جو ایک سال پہلے ریٹائرڈ ہو چکے تھے) اپنے تجربات کی تھکادینے والی کہانیاں سنائیں اور ایسی ایسی نصیحتوں کی زنبیلیں کھولیں،جو اگرچہ بوسیدہ ہو چکیں تھیں،پھر بھی ولیم کو سننی پڑیں کہ یہ کچھ دیر کی کوفت اُس کے والد کے لیے طمانیت کاباعث تھی۔ جانسن کے لیے ویسے بھی یہ ایک ایسی خوشی تھی،جس کا نہ ملنا ایک طرح کی بے توقیری تھی،کہ پشت در پشت ملنے والی کمشنری اگر کسی جگہ رک جاتی تو خاندان کو بٹہ لگ جاتا۔ اِس لیے جانسن صاحب ولیم سے بھی زیادہ پُرجوش تھے اور دوستوں کو اپنے خاندان کے قصے لطف لے لے کر سنا رہے تھے۔ اگر ولیم کے ڈپٹی کمشنر بننے کی کہانی اندر سے کھولی جاتی تو کہیں جانسن صاحب کی بار آور کوششیں درمیان میں موجود تھیں۔ دعوت میں پادریوں سے لے کرڈپٹی کمشنروں تک سب جمع تھے،جنہیں جانسن صاحب کو اپنا نام و نامود دکھانا منظور تھا۔ دعوت کے بعد ولیم بلا تاخیر افسرانہ اعزاز کے ساتھ روہتک کی طرف روانہ ہوگیا اور سیدھا ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں جا کر دم لیے۔ جو چنددن پہلے اُس کے لیے خالی کر کے،اُس میں ولیم کا ذاتی سامان لگا دیا گیا تھا۔

یہ بنگلہ ایک طرح کا گورنر ہاؤس ہی تھا۔ وہ بڑی بڑی پیلے رنگوں کی دیواریں اور دیواروں کے اندر سفید انڈے کی طرح کا اونچا سا بنگلہ،جس کے بے شمار کمرے،مہمان خانے،ڈائیننگ روم،ڈرائینگ روم اور دوسرے کمرے تھے۔ اِن کے علاوہ کئی کئی چبوترے،سہ دریاں،بارہ دریاں اور شش دریاں سفید رنگوں میں ایک کے بعد ایک بنگلے کے کھلے صحنوں میں ہنس رہی تھیں۔ یہ سب تو ایک طرف،ولیم بنگلے میں اُترا تو اُس کا استقبال کرنے کے لیے آدھا شہر وہاں موجود تھا۔ دو ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،ضلع کی پانچوں تحصیلوں کے تحصیلدار،نائب تحصیلدار،پولیس کے افسر اور نہ جانے کس کس شعبے کے لوگ تھے۔ ان سرکاری لوگوں کے علاوہ شہر کے بڑے اور امیر لوگوں کی الگ کھیپ سلام کرنے کے لیے پہنچی ہوئی تھی۔ ولیم نے ان سینکڑوں افراد کے مجمعے کو دیکھا،جو اُسی کی خاطر کھڑے تھے،تو چند لمحوں کے لیے اُس کے اندر رعونت نے بھرپور پھریری لی۔ لیکن اِس طرح کے معمولات وہ اپنے باپ دادا کے ساتھ دیکھ چکا تھا،اِس لیے زیادہ فرق نہ پڑا اور وہ پہلی حالت میں آ گیا۔ لوگ بہت زیادہ تھے لیکن ولیم نے ترتیب میں کھڑے ہوئے آٹھ دس سے ہی ہاتھ ملانے پر اکتفا کیا۔ اسی طرح ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر جان میکن نے بھی چند لوگوں کا تعارف کرا کے باقی کو نظر انداز کر دیا۔ وہ جان گیا تھا،صاحب اِس وقت تھکے ہوئے ہیں اور جلد ی مجمع اپنے سے دور کر دینا چاہتے ہیں۔

روہتک میں کافی عرصے سے ڈپٹی کمشنر کی جگہ پر اسسٹنٹ کمشنر ہی کام کر رہا تھا۔ یہاں کسی کو اتنی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی اور کام بخوبی چل رہا تھا لیکن اچانک جنگ کی وجہ سے ہنگامی حالات پیدا ہوئے تو اس آسامی کو پُر کرنے کا خیال آ گیا اور قرعہ ولیم کے نام نکل آیا۔

تعارف کے بعد ولیم نے جلد ہی سب کو رخصت کر دیا تاکہ دوسرے دن مکمل آزادی کے ساتھ اگلے اقدام کا بندوبست کیا جائے۔
دوسرے دن ولیم ڈپٹی کمشنر ہاؤس پہنچا تو عمارت کو اندازے کے مطابق نہایت پُر شکوہ پایا۔ دور تک بلندو بالا کمرے ہی کمرے اور کھلی راہداریاں۔ ولیم کا اپنا کمرہ جلال آباد والے سے دگنا تھا۔ انتظامیہ کا پروٹوکول بھی کمال تھا۔ مگر اِس کے باوجود ولیم کو یہاں کچھ خلا سا محسوس ہو رہا تھا۔ جس کی فی الحال نشان دہی تو نہیں ہو رہی تھی لیکن کچھ ایسا ضرور تھا،جسے ولیم سمجھ نہیں پا رہا تھا۔ یہاں اُس کا،پی اے،ایک راجپوت رانا دھنپت رائے تھا،جو شائستہ اور صاف ستھرا پچاس سال کی عمر کے لگ بھگ کا شخص تھا۔ اُس کی مونچھیں ضرور تھیں لیکن ایسی،جس سے ولیم کو کسی قسم کی تکلیف پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ سر پر کُلے دار پگڑی نے مو نچھوں کو مزید بارعب بنا رکھا تھا۔ رائے دھنپت صاحب اردو کے ساتھ انگلش بھی اچھی طرح سمجھتا اور بولتا تھا۔ ولیم کو پہلے دن ہی اُس کی لیاقت کا اندازہ ہو گیا۔ اُس نے اُسے جتنی ہدایات دیں،اُن پر اس قدر پھرتی سے عمل کیا کہ خود ولیم بھی دنگ رہ گیا۔

ولیم نے دوسرے روز ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنرز اورتمام تحصیلداروں کا اجلاس طلب کیا اور کام کے آغاز کے بارے میں منصوبہ بندی کرنے لگا۔ اُسے ایک بات کا اطمنان تھا کہ اب اُسے بہت سے کاموں میں آزادی ہوگی۔ وہ اُن کے بارے میں کسی کو جواب دہ نہیں ہو گا۔ وہ بے دھڑک اُن کو نبٹانے کی طرف توجہ دے گا اور جو کام اپروول کے محتاج ہوئے،وہ آہستہ آہستہ بھی آگے بڑھتے رہے تو مضائقہ نہیں۔ ولیم نے پہلے ہی اجلاس میں اپنی گزارشات کی وضاحت کردی اور تمام تحصیلوں کے ذمہ دار افسروں پر واضع کر دیا کہ اُسے صرف تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول تعلیم کے بہتر نتائج،دوم معاشی ذرائع کا پیدا کرنا اور سوم گورنمنٹ کے لیے خراج کے نظام کو مزید بہتر بنانا۔ یہ اُن کی پہلی ترجیحات ہیں۔ اِن کے علاوہ تمام کام ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضلعی گزٹ کے مطابق،جس کا مطالعہ کئی روز پہلے ولیم کر چکا تھا،روہتک میں امن و امان کے حوالے سے زیادہ خرابی نہیں تھی۔ لوگوں میں اکڑ پھکڑ کافی تھی لیکن بڑے پیمانے پر شر پسندی پھیلانے کی جرات ابھی تک پیدا نہ ہو سکی تھی،نہ ہی آگے توقع تھی۔ اس لیے ولیم نے اس معاملے پر بات کرنے کی زحمت نہیں کی اور ہدایات دے کر اجلاس ختم کر دیا۔ آفیسرز،جنہیں ابھی تک روہتک میں کسی ڈپٹی کمشنر نے ڈیل نہیں کیا تھا،کو بھی ولیم کے انداز گفتگوسے واضح ہو گیا کہ اب بڑے افسر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ میٹنگ کے انجام پر اُنہوں نے بھی کام کرنے کے انداز میں تبدیلی لانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔

لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد ولیم کو محسوس ہوا،وہ جو سوچ رہا تھا،اتنا آسان نہیں تھا۔ اب اور طرح کی مجبوریاں سامنے دکھائی دینے لگیں۔ اُسے اس بات کا ندازہ نہیں تھا کہ حالات میں بڑے پیمانے پر تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔ اچانک مسلم لیگ اور کانگرس کے جلسے چل نکلے تھے،جن سے اُسے پہلے ہی بہت زیادہ کوفت ہوتی تھی۔ وہ اُن کو روکنے کا اختیار بھی نہیں رکھتا تھا۔ کئی بار دفعہ چوالیس کا نفاذ کر کے اس طرح کے جلسوں کا ناطقہ بند بھی کیا َلیکن صاحبانِ جلسہ کہیں اُوپر سے احکامات حاصل کر کے لے آتے اورآزادی کی بکواس شروع کر دیتے۔ ولیم کو بعض اوقات ان سے وحشت محسوس ہوتی۔ ولیم کو اس بات پر شدید غصہ آتا کہ ان کے بڑے اصل میں انگریزوں کو نکال کر اپنی حکومت چاہتے ہیں۔ اُس کے ذہن میں طرح طرح کے اندیشے آنے شروع ہو جاتے۔ وہ سوچتا،کیایہ ہندوستانی اُسے بھی نکال دیں گے؟ حالا نکہ اُن کے خاندان کو یہاں پورے ڈیڑھ سو سال ہوگئے ہیں۔ بعض اوقات ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے کہتا،یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ جو حکومت اتنی جدو جہد اور طاقت سے حاصل کی گئی ہے،اُسے انگریز اتنی آسانی سے اِن گنواروں کے سپرد نہیں کریں گے۔ جن کے پاس نہ تعلیم ہے اور نہ حکومت چلانے کا تجربہ ہے۔ وہ خیال کرتا،اصل میں یہ سب کچھ جنگ کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ان خیالات اور اندیشوں کے باوجود ولیم اپنے تئیں کچھ نہ کچھ کرنے میں جتا رہا اور کافی سارے نتائج حاصل بھی کر لیے مگر چند مہینوں میں حالات کے پیشِ نظر ولیم کو اندازہ ہو گیا کہ اُس کے جنگ کے متعلق اندازے ٹھیک نہیں تھے۔ وہ طول پکڑتی جارہی تھی۔ اِدھر اُس کے اختیار ات کی کڑیاں آہستہ آہستہ ٹوٹتی جا رہی تھیں۔ مقامی اور کالوں کی جراتیں بڑھ رہی تھیں اور بعض احکامات پر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ عمل کر نے پر مجبور تھا،جو ہندوستان کی آزادی اور کالوں کے وافر حقوق کے متعلق ہوتے۔ ولیم نے حالات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا تو اُسے لگا،اُوپر کی سطح پر کہیں گڑ بڑ ہو چکی ہے۔ اُس کی بھیجی ہوئی فائلیں یا تو بغیر اپروول کے واپس آ رہی تھیں یا اُن میں بلا وجہ کی تاخیر ہو رہی تھی۔ کبھی بجٹ کا بہانہ کر کے،کبھی کہ دیا جاتا،حکومت کی اِس کام میں ترجیح نہیں ہے۔ پھروہ جلد ہی بہت کچھ جان گیا اوراُسے پتا چل گیا کہ اس وقت پورے ہندوستان کی انتظامیہ اِسی طرح چل رہی ہے۔ جس میں اُس کا کام بھی عبوری سطح کا اور ہنگامی بنیادوں پر ہو گیا تھا۔ اس حالت میں اُسے ایک سال گزر گیا۔ اس دوران کام کی بڑھتی ہوئی یکسانیت نے اُس کی طبیعت کو تباہ کر دیا۔ اِن حالات میں کیتھی اُسے اِدھر اُدھر سے ہر وقت دلاسا دینے میں لگی رہتی اور پل پل کا خیال رکھتی۔ لیکن اسے کمشنری کی جتنی خوشی ہونی چاہیے تھی، وہ سب غارت ہو کے رہ گئی۔ اِس وقت کمشنر ی کے اختیارات اُس کے لیے ایک ایسا خواب ہو گئے تھے،جن میں مناظر تو نظر آتے ہیں لیکن خواب دیکھنے والا اُن مناظر کو نہ چھو سکتا ہے،نہ اُن سے لذت حاصل کرسکتا ہے۔ ایک تو یہ ایسی گائے کا دودھ تھا،جو جنگ کی وجہ سے ہر کس و ناکس کو پلا دیا گیا۔ دوئم،اِس شاہانہ عہدے کے ساتھ کچھ ایسی ہدایات نتھی کردی گئیں،جو کسی طرح بھی ڈپٹی کمشنر جیسی پُر وقار ذات کے لیے جائزنہیں تھیں۔ بجائے اِس کے،کہ ڈپٹی کمشنر اپنے ضلع میں بلا شرکتِ غیرے،جیسا کہ وہ سوچ رہا تھا، حکمرانی کرے، اُسے بریگیڈیروں اور جنرلوں کی ہدایات پہنچنا شروع ہو گئیں اور سخت سے سخت حکم وصول ہونے لگے۔ مثلاً ضلع سے جتنے جوان ہو سکیں،فوج میں بھرتی کے لیے بھیجے جائیں۔ غلہ کو ذخیرہ کر کے اُس کا حساب پہنچایا جائے۔ زیادہ سے زیادہ خراج اور مالیہ وصول کیا جائے۔ ٹیکسوں میں اضافہ کر دیا جائے۔ بعض اوقات تو یہ حکم نامے کمشنر آفس سے آنے کے بجائے ڈائریکٹ ہی وصول ہونے لگے،جو ولیم کے لیے اس قدر آزار کا باعث تھے کہ اُسے اپنا یہ عہدہ ایک چپڑاسی سے بھی بد تر معلوم ہونے لگتا۔ وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ آخر وہ کس کے ماتحت ہے؟ آیا اپنے ڈویژن آفس کی سول انتظامیہ کا،جہاں سے اصولی طور پر اُسے تنخواہ ملتی ہے یا پھر میرٹھ چھاونی کا،جہاں کے فوجیوں کی حیثیت اُس کے سامنے ایک گنوار زبان استعمال کرنے والے جانوروں کی تھی۔ ولیم کبھی کبھی خیال کرتا،اِس سے تو بہتر اُس کے وہی دن تھے،جب وہ جلال آباد میں اسسٹنٹ کمشنر تھا اور ہیلے کا ماتحت تھا۔ اُسے ہیلے،اپنے باپ اور اُن ڈپٹی کمشنروں پر رشک آنے لگا،جووقار کو تباہ کردینے والی جنگ سے پہلے ریٹائر ہوکر عزت بچا چکے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم دل کو دلاسا دینے کے لیے سوچتا کہ مصیبت کے دن تھوڑے ہی ہیں،گزر جائیں گے تو اُن کی افسری کی شان میں بھی پہلے والی چمک دمک آجائے گی۔ مگر اُسے پھر آزادی کے متوالوں کے بے ڈھنگے مطالبوں کی یاد آجاتی جو روز بروز بڑھ رہے تھے اور منظور بھی ہورہے تھے۔

ایک طرف درج بالا بکواسیات تھیں،دوسری طرف روہتک کا ماحول ولیم کے لیے انتہائی اذیت ناک تھا۔ اُسے روہتک میں ڈیڑھ سال کے قریب گزر چکا تھا۔ یہ عرصہ اُس کی طبیعت کو اچاٹ کر دینے کے لیے ہر دن نئی بیزاری لے کر آتا اور ولیم کی نحوست میں اضافہ کر دیتا۔ یہ ضلع دہلی کے مغرب میں چالیس یا پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ایک خشک شہر تھا،جس کے مضافات میں مٹی کے ٹیلے،عک اور ببول کی جھاڑیاں حد نظر تک پھیلی ہوئی تھیں۔ شہر کے ساتھ ساتھ پختہ اینٹیں بنانے والے بھٹوں کی کثرت تھی۔ اُن کی چمنیوں سے اُٹھنے والا دھواں ہر وقت شہر پر سایے بلند کیے رکھتا۔ اُن سایوں کے بیچ اُڑتی ہوئی چیلیں چکر کاٹتی رہتیں،کبھی بلندی پر اور کبھی بالکل چھتوں کے اُوپر۔ شہر کی عمارتیں زیادہ تر پکی اینٹوں کی اور پُرانے دور کی یاد دلانے والی تھیں۔ اُن پر کام اگرچہ بہت نفاست سے کیا گیا تھا لیکن اب وہ اکثر جگہ سے خراب ہو رہا تھا۔ شہر کی قریباً ساری آبادی نہ جانے کون سی زبان بولتی تھی اور کس کلچر سے تعلق رکھتی تھی۔ راجستان سے روز کی اُٹھنے والی آندھیوں نے اُس پر مزید کام دکھایا تھا۔ آئے دن شہر کے درو دیوار گرد و غبار کی تہوں میں دب جاتے۔ مضافات میں اُڑتی ہوئی ریت اور دھول نے ہر چیز کو مٹیالا بنا دیا تھا۔ لوگوں کے چہرے بھی اسی مٹی،خشکی اور دھول کے باعث اتنے بے رونق ہو چکے تھے کہ ولیم کو جلال آباد کے لوگ اِن کے مقابلے میں نہایت خوبصورت لگنے لگے۔ کڑوا تمباکو اِن کی مرغوب غذا تھی۔ آٹھوں پہر میں کوئی لمحہ ہو گا کہ اُن کے بوڑھے،جوان حتیٰ کہ بچے بھی اس لعنت میں گرفتار نہ ہوں۔ تمباکو کے کثیف اور مسلسل دھویں سے اُن کی مونچھیں اور داڑھیاں بھوری،زرد اور بدبو دار ہو چکی تھیں اور وہ اُسی ابکائی پیدا کر دینے والے رنگوں سے مانوس تھے۔ یہ لوگ نہایت سوکھے سڑے،لمبی مونچھوں،چھوٹی قامتوں،باریک آنکھوں اور چھوٹے چھوٹے پاؤں کے ساتھ دھوپ اُگاتی سڑکوں پر آتے جاتے نظر آ تے۔ بعض دفعہ ولیم اِن کے رنگ برنگے چیتھڑوں اور ٹاکیوں سے سیے گئے بستروں کے بارے میں غور کر کے کانپ جاتا،جو اُس نے دیکھے تو نہیں تھے،لیکن اِن لوگوں کی ظاہری حالت سے ہی اُن بستروں کی کیفیت کا اندازہ ہو جاتا تھا۔ جن میں دوپہر کی گرمی نکلنے تک پڑے سوتے یہ لوگ پیٹ کی بودار کثیف ہوائیں چھوڑتے رہتے اور اُن کو خود ہی سونگھتے رہتے۔ ولیم کو اُن کی دھوتیوں پر ہرگز اعتراض نہ ہوتا،اگر وہ اصل میں دھوتیاں ہی ہوتیں۔ وہ تو محض بے کار چیتھڑے تھے،جو ہمیشہ اُن کے گھٹنوں سے اُوپر اُٹھے رہتے۔ اُن چیتھڑو ں کا ایک پلو نیچے سے کھینچ کر مزید پیچھے گانڈ کی طرف سے باندھ لیاجاتا،جو ایک کچھا سا بن کر رہ جاتا اور وہ رانگڑ اُسی کچھے میں ننگادندناتا پھرتا۔ بعض اوقات وہ کچھا اتنا چھوٹا ہوتا کہ اُس کے سُکڑے ہوئے سیاہ چوتڑ صاف نظر آتے۔ ولیم یقیناً اُن کا لباس،عادات اور زبان بدلنے پر قادر نہ تھا لیکن وہ چاہتا تھا،کم از کم جس سے بھی اُس کی ملاقات ناگزیر ہو،وہ انسانوں کی حالت میں اُس کے پاس آئے۔ ولیم نے اپنے عملے کو ملاقات کے لیے ضروری ہدایات جاری کر دیں کہ ملاقاتی اپنے لباس میں پاجامہ اور کُرتہ کا اہتمام کرے۔ اسی طرح دیسی چمڑے کے جوتوں کی بجائے انگلش جوتے پہن کر آئے یاکم از کم جوتوں کے اندر اُس کے پاؤں سرسوں کے تیل اور مٹی میں غچ غچ نہ ہوں،نہ جوتوں کے چمڑے سے چرر چرر کی آواز پیدا ہو۔

لوگوں کی بد شکلی کے علاوہ ولیم کو روہتک کے مضافات سے بھی وحشت آنے لگی۔ کوسوں تک سبزے کی ایک پتی بھی نہیں تھی۔ نہ کوئی نہر اور پانی کا انتظام نظر آ رہا تھا۔ کچھ تھا،تو تمباکو کی سر سر ی فصلیں،جو اِن لوگو ں کے رزق کا واحد سہارا تھیں۔ تمباکو کی اسی بہتات کی وجہ سے ہر شخص کے ہاتھ میں اپنا ایک حقہ تھا،جسے وہ ہر وقت گُڑ گڑاتا رہتا۔ شہر کی منڈی معمول کے مطابق ہندووں کے ہاتھ میں تھی۔ مسلمان یہاں بھی محض حقے پر گزارہ کیے ہوئے تھے۔ کلچر دونوں قوموں کا ایک ہی تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ جو مسلمان تھے،اُن میں مسلمانوں والی کوئی بات نہیں تھی،سوائے مفلسی اور غربت کے۔ جسے دور کرنا ولیم کے بس سے باہر تھا۔ یہاں اِتنے مسائل اور حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی دیکھ کر ولیم کا دل چھوٹ چکا تھا۔ وہ چاہتا تھا،جتنی جلدی ہوسکے،اُس کو دہلی کے مضافات سے نکال کر جالندھر،لاہور یا ملتان ڈویژن کے حوالے کر دیا جائے مگر جو کام کرنے کے لیے اُسے یہاں تعینات کیا گیا تھا،اُس کا ٹارگٹ حاصل کرنا بھی ضروری تھا۔ جس کے لیے ولیم نے بہر حال اپنی سی کوشش ضرور کی اور اُس میں کامیاب بھی ہوا۔ سچ پوچھیں تو یہ ضلع اِس کام کے لیے ویسے بھی مناسب ترین تھا۔ وسطی پنجاب یا فیروز پور سے لوگوں کوبرطانوی فوج میں لے جانا مشکل ہی نہیں ناممکن تھا۔ وہاں لوگوں کی روٹی پوری ہو رہی تھی۔ دریاؤں کے ارد گرد بیلے،چراگاہیں اور فصلیں اُن لوگوں کی زیادہ نہ سہی،بنیادی ضروریات پوری کر رہی تھیں۔ جبکہ روہتک اور راجستان جیسے علاقوں میں بھوک اور ریت کے بگولوں کے سوا کچھ نہیں تھا،یاپھر مونچھیں تھیں کہ اُگی چلی جاتی تھیں۔ چنانچہ ولیم کی طرف سے فوج میں بھرتی کے اعلان کے ساتھ ہی ہزاروں لوگ بھاگے چلے آئے۔ جنہوں نے انگریزی وقار کو میدانِ جنگ میں مزید برقرار رکھنے کے لیے اپنی مونچھوں کے تاؤ اور زیادہ کر دیے تھے۔ ایک ایک دن میں دو دوسو لوگوں کی بھرتی ہونے لگی اور چند مہینوں میں ہزاروں لوگوں کو انگریزی ٹوپیاں پہنا کر محاذوں پر بھیجنے کے لیے ریوڑوں کے ریوڑ تیار کر لیے گئے۔ یہ اتنی بڑی اور شاندار کامیابی صرف جہلم،روہتک یا راجستان ہی سے حاصل ہوئی تھی۔ باقی تمام اضلاع میں اتنی نفری کسی بھی علاقے سے نہیں مل سکی تھی۔

اِدھر ولیم کے یہ حالات تھے،اُدھرجرمنی کی حوصلہ افزائی پرسویت یونین نے جون انیس سو چالیس میں بالٹک ریاستوں پر قبضہ کرکے اُنہیں باقاعدہ طور پر اپنے ملک کا حصہ بنا لیا۔ اٹلی،جو اتحاد (جرمنی کے حلیف ممالک) کا رُکن تھا،وہ بھی اس جنگ میں شریک ہوگیا۔ تیرہ اگست سے اکتیس اکتوبرانیس سو چالیس تک جرمنی نے انگلستان کے خلاف ہوائی جنگ شروع کی اور اْس میں شکست کھائی۔ اِس جنگ کو بیٹل آف برٹن یعنی برطانیہ کی لڑائی کہا جاتا ہے۔

مئی انیس سو بیالیس میں جب ولیم روہتک سے ہندوستانی راجپوتوں کو فوجی بھرتی کروانے میں لگا ہوا تھا،برطانوی شاہی فضائیہ نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر پہلی بار جرمنی کے اندرجنگ کرتے ہوئے ہزاروں بمبار جہازوں سے بمباری شروع کردی اور جرمنی کے بیشتر شہری علاقوں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔ انیس سو بیالیس کے اختتام اور انیس سو تینتالیس کے شروع میں اتحادی فوجوں نے شمالی افریقہ میں سلسلہ وار زبردست فوجی کامیابیاں حاصل کیں۔ افریقہ میں ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ نفری پر مشتمل مخالف فوجوں کے اتحاد نے مئی انیس سو تینتالیس میں ہتھیار ڈال دیا۔

اِدھر ولیم کا تبادلہ کانگرا کر دیا گیا،جہاں اُسے با لکل اِنہی حالات کا سامنا ہوا جیسا روہتک میں چل رہے تھے۔ یہاں ولیم نے ایک سال گزارا اور اگلے سال اُسے ریاست کپور تھلہ کے پولیٹیکل ایجنٹ کے طور پر متعین کر دیا۔ یہاں تک کہ اگست انیس سو پینتالیس میں برلن میں جرمنی کے ہتھیار ڈال دینے پر جنگ ختم ہو گئی۔ لیکن اِس کے ساتھ ہی ہندوستان میں برطانوی حکومت کے دن گنے جا چکے تھے۔ جس کا احساس ولیم کو ایک سال پہلے ہوگیا تھا مگر ابھی شاید اُسے یقین تھا کہ یہ کام کہیں اُس کی ریٹائر منٹ کے قریب جا کر ہو سکے گا۔ اُنہی دنوں ولیم کا تبادلہ بطور ڈپٹی کمشنرگُرداسپور کردیا گیا اور ہزار کوششوں کے باوجود اُسے منٹگمری نہیں بھیجا گیا۔ اِس بارے میں ولیم نے نہایت اہم سفارشیں بھی کروائیں۔ لیکن جب اُسے اس معاملے میں شدید ناکامی ہوئی تو وہ سوچنے لگا کہ منٹگمری میں اُس کی پوسٹنگ ایک خواب ہی ہو کر رہ جائے گی کیونکہ معاملات ہر دن مزید بگڑتے جا رہے تھے۔ ان حالات میں ولیم کی ذہنی کیفیت اتنی تبدیل ہو گئی کہ قریب کے جاننے والوں کو اُس پر شبہ ہونے لگا،کہیں پاگل نہ ہو جائے۔ بات بات پر اُلجھنا،احکام دیتے ہوئے تحمل کو چھوڑ بیٹھنا اور بعض اوقات سامنے والے کو گالی بھی دے دینا ولیم کی عادات میں شامل ہو رہا تھا۔ اِس بات کی سب سے زیادہ تشویش کیتھی کو تھی،جو سب سے زیادہ یہ عذاب جھیل رہی تھی مگر وہ کچھ کر بھی نہیں سکتی تھی۔ اُسے اس بات کا شدید احساس تھا کہ یہ سب کچھ ولیم سے مستقبل میں پیدا ہونے والے حالات کے پیش نظر ہو رہا ہے۔ ولیم کے ہاتھ سے اختیارات کی ڈور روز بروز نکلتی جا رہی تھی اورگورنمنٹ کی طرف سے وصول ہونے والے ہرنئے حکم پر اُس کے چڑچڑے پن میں اضافہ ہو جاتا،جو کئی دن تک بر قرار رہتا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا،ہٹلر نے گورنمنٹ بر طانیہ کی ہڈیوں کا تمام گودا کھینچ لیا ہے اور اب اُن کے پاس نو آبادیات میں اپنا اقتدار قائم رکھنے کی نہ طاقت ہے اور نہ ہی جواز۔ خاص کر ہندوستان کی حالت اس معاملے میں بہت مختلف تھی۔ اتنے بڑے اور وسیع خطے کو کنٹرول کرنے کے لیے اُن کے پاس وقت بھی نہیں بچا تھا اور نہ وسائل۔ کیونکہ سوسال میں اکٹھی کی گئی دولت پانچ ہی سالوں میں ٹھکانے لگ گئی تھی اور وہ اس ماشکی کی طرح خالی ہو گئے تھے،جس کی مشک میں چھید ہو گئے ہوں،کہ گہرے کنویں سے مشک کی لمبی رسی کھینچتے کھینچتے جس کے ہاتھ شل ہو جائیں مگر مشک کا سارا پانی اس عرصے میں دوبارہ اُسی کنویں میں بہ جائے۔ ان باتوں کے علاوہ جو مشکل سب سے اہم تھی وہ یہ کہ اب ہندوستانی بھی پہلے والے نہیں رہے تھے۔ اب یہ لوگ چالاکی اور عیاری میں گوروں کے بھی کان کاٹتے تھے اور اِس چکر میں تھے،کب انگریز یہاں سے نکلیں۔ ایسے میں انہیں آزاد نہ کرنا ایسے ہی تھا،جیسے بغیر ہتھیار کے بھیڑیے کے ساتھ رات گزاری جائے۔ اس ساری صورت حال میں ولیم نہ صرف یہ کہ ہند وستانیوں سے ناخوش تھا بلکہ انگریزوں سے اور اپنے آپ سے بھی ناراض تھا۔ وہ یہ سب کچھ ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اُس وقت تو اُسے اور بھی غضب آتا،جب وہ کسی انگریز کو ہندوستان چھوڑنے کے متعلق گفتگو کرتے دیکھتا،یا اُسے پتا چلتا،اُس کا فلاں دوست اپنا بوریا بستر سمیٹ کر انگلستان جا رہا ہے۔ ولیم کا اُس وقت خون کھولنے لگ جاتا گویا یہ سب اُس کے خلاف سازش تھی جس میں انگریز،مسلمان،ہندو سب شامل تھے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – تئیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(41)

لاہور چیف سیکرٹری ہاؤس ولیم کے لیے نیا نہیں تھا۔ ابتدائی آٹھ نو مہینے ٹریننگ کے اور مختلف اوقات میں میٹنگ کے سلسلے میں اُس کا یہاں قیام رہا۔ اِس دوران ولیم کے ذاتی طور پر بھی بہت سے دوست نکل آئے تھے۔ اس کے علاوہ ولیم کے باپ اور دادا کو جاننے والے بھی کئی لوگ یہاں موجود تھے،جو اس خاندان کا نجی سطح پر بھی احترام کرنے والے تھے۔ اس لیے کسی قسم کی اجنبیت نہیں تھی۔ پھر بھی جو اختیار ولیم کو جلال آباد میں حاصل تھا،اُس کا یہاں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ کہاں تو ایک پورے علاقے میں بے تاج بادشاہ ہونا،نوابوں کی طرح فیصلے صادر کرنا بلکہ اُس کے اختیارات تو نوابوں سے بھی بڑھ کر تھے،کہ اِن کو حکومت کی قانونی حییثت بھی حاصل ہو جاتی تھی،اور کہاں ایک پندرہ مربع فٹ کے کمرے میں بیٹھ کر صبح سے شام تک مکھیاں مارتے رہنااور ملازم کو بلا کر کافی یا چائے پیتے جانا۔ قہر تو یہ تھا کہ اُسے افسروں کی چھٹیوں کا گھٹیا کام دے دیا گیا،جسے وہ کراہت کی حد تک ناپسند کرتا تھا۔ اِس کے بر عکس کیتھی یہاں انتہائی خوش تھی۔ ولیم کو رہنے کے لیے مال روڈ پر جو بنگلہ ملا تھا،وہ جلا ل آباد والے بنگلے سے اگرچہ چھوٹا تھا لیکن اُس سے کہیں خوبصورت تھا۔ ارد گرد میں دوسرے بنگلوں میں رہنے والے افسروں کی بیگمات اور بچوں کی رونق مستزاد تھی۔ جلال آباد میں ولیم ڈ یوٹی پر چلا جاتاتھا تو کیتھی کو ایک ایک گھنٹہ سال سال کا ہو جاتا لیکن یہاں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا تھا۔ نوکروں کی تعداد کم ہو گئی تھی مگر ایسی بھی کم نہیں کہ کمتری کا احساس پیدا ہو جاتا۔ شام کے بعد لاہور کے کلبوں اور جم خانوں میں ولیم کے ساتھ جانے میں ایک عجیب طرح کا احساسِ تفاخر جاگ اُٹھتا۔ ولیم جیسا خوبصورت اور وجیہہ شکل و صورت کا انگریز افسر وہاں کم ہی تھا۔ اس لحاظ سے کیتھی اپنی سہیلیوں کے آگے بہت زیادہ سرخرو تھی۔ کیونکہ اُن کے خاوندوں میں کوئی بھی ولیم کے پاسک نہیں تھا۔ جب دیگر انگریز بیگمیں کیتھی کے خاوند کو دیکھتیں اور جل بھن کے رہ جاتیں،تو کیتھی کا سینہ فخر سے پھول جاتااور وہ پہلے سے بھی زیادہ ولیم کے ساتھ لپٹ لپٹ جاتی۔

ایک دن ولیم نے اپنے کمرے میں اُونگھتے اُونگھتے سوچا،کیوں نہ چیف سیکرٹری سے دو دو ہاتھ ہو جائیں۔ زیادہ سے زیادہ کوئی نیا کام مشکل سمجھ کر دے دے گا۔ ملاقات کر کے دیکھتے ہیں۔ ولیم اپنے کمرے سے اُٹھا اور چیف سیکر ٹری کے پی اے جوزف جان کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ جوزف نے فوراً اُٹھ کر ہاتھ بڑھایا اور کہا،ویلکم ولیم،آج ہمارے کمرے میں کیسے؟ زہے نصیب تشریف رکھیے۔

ولیم آرام سے کرسی پر بیٹھا،اپنا ہیٹ سر سے اُتار کر جوزف کی میز پر رکھا۔ چِٹ پیک سے ایک کاغذ نکالا،اُس پر اپنا نام لکھ کر جوزف کے آگے بڑھاتے ہوئے کہا،جوزف یہ چٹ اندر بھیج دو،مجھے ملاقات کرنی ہے۔

جوزف نے چٹ پکڑ کر سامنے رکھی،بیل کا بٹن دبایا اور ولیم سے پوچھا،کافی پیئیں گے یا چائے؟

جوزف،اِس دفتر میں اب میں اِسی کام کے لیے رہ گیا ہوں (اتنے میں ملازم اندر داخل ہو چکا تھااور حکم کا منتظر تھا )بہر حال کافی ٹھیک رہے گی۔

ملازم حکم سن کر باہر نکل گیا تو جوز ف بولا،چیف صاحب لاہور ڈویزن کے ڈپٹی کمشنروں سے میٹنگ کر رہے ہیں،ابھی ختم ہونے والی ہے۔ وہ باہر نکلتے ہیں تو آپ اندر چلے جایئے۔ یہ آپ کی چٹ مَیں ابھی پہنچا دیتا ہوں۔

جوزف صاحب مجھے ایک بات بتائیں؟

پوچھیں۔

جب میری ٹرانسفر کی فائل چل رہی تھی تو آپ یہیں تھے۔ کچھ ہَوا کی زبانی کہہ دیا ہوتا۔ مَیں کسی تنکے کو پکڑنے کی کوشش کرتا۔
ولیم،تم ابھی لارنس صاحب سے میٹنگ کرنے والے ہو۔ چند لمحوں بعد خبر ہو جائے گی کہ تم اُس وقت بھی کچھ نہ کر سکتے۔

جوزف،تم میں اور مجھ میں ایک فرق ہے۔ مَیں اپنی رائے سے فائل تیار کرتا ہوں اور تم آزاد رائے سے واقف نہیں۔ کبھی اِس چھ گز کے حبس زدہ کمرے سے نکل کر دیکھ،دن کتنے روشن ہیں۔

مَیں پچھلے تیرہ سال سے اِس آفس میں ہوں۔ ولیم،آپ کی طرح کچھ نوجوان اور بھی جذباتی ہو گزرے ہیں۔ مگر اُنہیں زیادہ دیر سکھانا نہیں پڑا۔ روشنی اِس کمرے میں بھی کم نہیں لیکن ابھی آپ اِس سے مانوس نہیں ہوئے۔

آپ کی آنکھوں پر اِن فائلوں کی سیاہی جم چکی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کلر بلائنڈ ہو گئے ہو؟ جو روشنی اور اندھیرے میں تمیز نہیں جانتے۔

جوزف نے ولیم کی بات میں تلخی کو محسوس کیا لیکن ظاہراًمسکرا کر بولا،ولیم،زیادہ تلخی اچھی نہیں (کافی جو چند لمحے پہلے ہی ملازم رکھ گیا تھا )کافی پیئیں۔ رنگوں کی تمیز کرنے والے ضروری نہیں حالات کی تمیز کرنا بھی جانتے ہوں۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ آج کھُلے دالانوں کی راہداریاں چھوڑ کر اس حبس زدہ کمرے میں چیف سیکرٹر ی صاحب کا انتظار نہ کاٹتے۔ اِتنا کہ کر جوزف ولیم کی چٹ چیف سیکرٹری صاحب کے کمرے میں لے گیا۔ اس بھرپور طنز پر کافی ولیم کے ہاتھ سے گرتے گرتیبچی۔ اُس نے کپ وہیں رکھ دیا اور غصے سے ہونٹ کاٹنے لگا،دو ٹکے کا ملازم سول سروس کی توہین کیسے کر گیا۔ لیکن ولیم بے بس تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ ملاقات کیے بغیر اُٹھ کے چلا جائے۔ اُٹھنے کے لیے ارادہ باندھا ہی تھا کہ جوزف نے باہر آکر کہا،چلیے جناب،صاحب بلاتے ہیں۔ ولیم فوراً اُٹھ کر کمرے میں داخل ہو گیا۔ سیکرٹری صاحب نے بیٹھے ہی بیٹھے ولیم کے سلام کا جواب دیا اور سامنے کی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ولیم بغیر تکلف کے شکریہ کہہ کر کُرسی پر بیٹھ گیا۔ چیف سیکرٹری صاحب کا کمرہ ولیم پہلے بھی کئی بار دیکھ چکا تھا جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ کمرے کی ہیبت کم تو نہیں تھی لیکن اُس میں اور ڈپٹی کمشنروں کے کمروں میں زیادہ فرق نہیں تھا۔ تمام لوازمات ویسے ہی تھے۔ بس فرق میز کی دوسری طرف بیٹھنے والے آدمی کا تھا۔ لارنس صاحب کرسی پر بیٹھے ہوئے بھی اتنے لمبے لگ رہے تھے جتنا ایک درمیانے قد کا آدمی کھڑا ہو ا لگتا ہے۔ مونچھیں سیاہ کالی اور بڑی بڑی تھیں۔ سر سامنے سے گنجا لیکن آنکھیں اِتنی بڑی اور سُرخ جیسے ابھی دو مٹکے شراب کے پیے ہوں۔ مگر انتہائی چمکدار۔ چند لمحے پُر تکلف سلام کے بعد ولیم اور چیف سیکرٹری میں ایک باقاعدہ گفتگو شروع ہوئی۔

سر مَیں کچھ کہنا چاہتا ہوں
مَیں سننے کے لیے بیٹھا ہوں۔
مَیں چاہتا ہوں کچھ کام کروں۔
یہاں آپ کو کچھ کام نہیں دیا گیا؟
دیا گیا ہے سر۔ اُونگھنے کا کام دیا گیا ہے۔
اُسے اچھے طریقے سے کرو۔
سر،جو کام چار سال تک کیا ہے،مجھے اُس میں زیادہ تجربہ ہے۔
اِس کام میں بھی تجربہ حاصل کرو۔
مجھے اس کام میں بھی چھ ماہ ہو چُکے ہیں سر۔ اور اس درجے کے کام کے لیے اِتنا تجربہ کافی ہے.
اِس کا فیصلہ تمھارے بجائے ہم کریں گے۔ ویسے میری اطلاع کے مطابق آپ افسران کی چھُٹیوں کا حساب کتاب سنبھالے ہوئے ہیں۔
سر،یہ کام میرا باورچی مجھ سے بہتر کر لیتا ہے۔

اب لارنس صاحب نے اپنی آنکھیں ولیم کی آنکھوں میں ڈالیں اور خوفناک طریقے سے گھورتے ہوئے کہا،ولیم،مَیں نہیں جانتا تھا،آپ کا باورچی آپ سے زیادہ لائق ہے۔ اگر ہے،تو یہ آپ کے لیے بہت بُرا ہے۔ اِس بعد چیف سیکرٹری صاحب اپنی کرسی سے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ اُسے دیکھ کر ولیم بھی کھڑا ہو گیا۔

سیکرٹری صاحب دوبارہ بولے،ولیم،آپ کو وقت دیا جارہا ہے۔ اپنے کو باورچی سے بہتر ثابت کرو اور وقت آنے کا انتظار کرو۔ یہاں آپ کو کسی وجہ سے بلایا گیا ہے۔ یہ کہ کر لارنس صاحب کمرے سے باہر نکلنے کے لیے تیار ہوگئے۔ ولیم نے بھانپ لیا کہ اب مزید بات کرنا اور یہاں ٹھہرنا اُس کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی بات کچھ ایسا انداز اختیار کر چکی تھی جس کو طول دینا ولیم کے لیے بہتر نہیں تھا۔ لہذا ولیم سلام کر کے سیکرٹری کے کمرے سے نکلنے سے پہلے ہی باہر نکل آیا اور سوچتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھا کہ جوزف سچ کہتا تھا۔ اِس ملاقات کے بعد ولیم نے چیف سیکرٹری سے ملنے کی کبھی کوشش نہیں کی اور وقت نکلتا گیا۔

ولیم کو لاہور میں ایک سال تین ماہ گزر چکے تھے۔ اِن پندرہ مہینوں میں سوائے جم خانہ جانے کے،اِدھر اُدھر کی گھٹیا اور بے کار فائلوں پر دستخط جمانے اور کلرکوں کے بیہودہ چہروں کے دیکھنے کے علاوہ کوئی کام نہ تھا۔ یہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں سینکڑوں ہندوستانی چاپلوس افسر ہر وقت موقعے کی طاق میں رہتے کہ کب صاحب سے سامنا ہو اور وہ ایک زور دار سلام داغیں۔ ایسے دیسی افسر بھی تھے،جو افسری کے آداب سے تو سرے سے ناواقف تھے لیکن اُنہیں اپنے وطن کے لوگوں اور اُس کی مٹی میں کوئی خوبی نظر نہ آ تی تھی۔ یہ وہ افسرتھے جو انگریز کلرکوں تک کی چاپلوسی سے بھی نہیں ہچکچاتے تھے اور چاہتے تھے،کسی طرح اپنی اولادوں کو ٹوڈی بنا کر انگلستان بھیج دیں۔ یہ نوکری ہی اِسی کو خیا ل کرتے تھے۔ اُن کے خیال میں ہندوستان کی بُرایاں بیان کرنا اور یہاں کے لوگوں کے خلاف کام کرنے کا نام سرکاری نوکری تھا۔ یہ دیسی افسر انگریزوں کی طرح کھانا کھانے کی کوشش کرتے،سر پر کنٹوپ اور ہیٹ جمانا،ہاتھ میں سیر کرتے ہوئے چھڑی تھامنا،شام کو کلب جانا اور تھوڑی بہت ڈرنک کرنا یا مہنگے کتے رکھنا اپنا اعزاز سمجھتے۔ ولیم دیکھتا تھا،اِن افعال کی وجہ سے یہ لوگ بعض اوقات تماشا بن جاتے مگر اپنی حرکتوں سے باز نہ آتے۔ اِن معاملات میں ہندووں اور سکھوں کی نسبت مسلمان بڑھے ہوئے تھے۔ اِنہی اعمال کی بنا پر یہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو جاتے۔ بعض خاندان تو دیکھتے دیکھتے انگلستان میں داخل ہو چکے تھے اور وہاں مستقل قیام کا بندوبست کرنے میں مصروف تھے۔ افسر تو افسر بعض ہندوستانی کلرک بھی اس معاملے میں بہت چالاک واقع ہوئے تھے۔ وہ اپنے صاحب کو اِس طرح شیشے میں اُتارتے کہ بچارے صاحب کو خود بھی پتا نہ چلتا۔ ولیم نے اِن سے بڑھ کر یہ ہُنر کسی میں نہیں دیکھا تھا۔ اِس بارے میں جو سب سے افسوس ناک بات تھی وہ یہ،کہ اِنہی کے دم سے ولائتی افسر رشوت خوری میں مبتلا ہوچکے تھے۔ ولیم اپنے اس قیام میں جو کچھ دیکھ چکا تھا،ایک طرح سے یہ بھی اُس کے تجربے میں اضافہ ہی ہوا تھا۔ اِس تمام عرصے میں وہ اِن دیسی اور ولائتی افسروں سے متنفر ہو چکا تھا۔ وہ اس کوشش میں رہتا کہ دیسی افسر یا کلرک سے سامنا نہ ہو۔ اگر ہوتا بھی تو وہ انہیں سختی سے نظر انداز کر دیتا۔ ولیم کے اِس رویے کی وجہ سے وہ یہاں انتہائی مغرور اورمتکبر مشہور ہو گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہلکی پھلکی سازشوں کے ذیل میں آنے لگا۔ مگر ولیم نے اِن باتوں کی پروا بالکل ہی چھوڑ دی اور اپنی پوری توجہ بیوی بچوں پر صرف کر دی۔ اسی فارغ البالی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کئی کئی دن اوکاڑہ اپنے فارم پر چلا آتا اور ذاتی کام میں دلچسپی لینے لگا۔ اس عرصے میں اُس نے وہاں ایک دو جدید اسکولوں اور پارکوں کی بنیاد بھی رکھی۔ سکول کا کام کیتھی کے سپرد تو نہ کیا جا سکا البتہ اُن کا سلسلہ ضرور شروع کر دیا اور اپنی زرعی زمینوں پر مزید باغات اور درخت لگانے کا کام کرتا رہا۔

ولیم ایک دن اپنے کمرے میں بیٹھا چھٹی ہونے کا انتظارکر رہا تھا۔ جب کام نہ ہویا ایسا کام پیٹے ڈال دیا جائے جو طبیعت سے لگاؤ نہ رکھتا ہو تو ایک ایک لمحہ پہاڑ معلوم ہوتا ہے۔ ولیم کی اِس وقت یہی حالت تھی۔ اپنی شوریدہ مزاجی کے سبب وہ کسی افسر اور کلرک کو منہ بھی نہیں لگانا چاہتا تھا۔ چنانچہ وقت گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہاتھا۔ اس لیے ولیم نے آج گیارہ بجے ہی چھٹی کرنے کی ٹھانی اور بیگ اُٹھانے کے لیے اپنے پی اے کو بلوایا۔ پی اے کمرے میں داخل ہوا تو اُس کے ہاتھ میں کاغذ کی ایک پرچی تھی۔ ولیم کو زبانی پوچھنے کی عادت تو نہیں تھی لیکن اِس وقت چونکہ وہ نکلنے لگا تھا،اُس نے پی اے سے اس کاغذ کے بارے میں پوچھ لیا،یہ کیا ہے؟
پی اے نے کہا،سر یہ ایک لڑکا ہے،جو پچھلے کئی دن سے یہاں چکر لگا رہا ہے اور آپ سے ملاقات کی کوشش کر رہاہے۔ اپنا نام فضل دین بتاتا ہے لیکن ملنے کا کوئی سبب نہیں بتاتا۔ اِس لیے میں نے اُسے ملنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ آج مجھے اُس پر کچھ ترس آیا تو میں اُس کا رقعہ اندر لے آیا ہوں۔ اِس پر اُس کا نام اور حوالہ موجود ہے۔ اگر آپ اجازت دیں تو حاضر کر دیتا ہوں۔
ولیم نے پی اے کے ہاتھ سے کاغذ پکڑا تو اُس پر صرف اتنا درج تھا،صاحب بہادر ولیم کے دروازے کا گدا گر فضل دین ولد مولوی کرامت سکنہ جلا ل آباد۔

ولیم نے رقعہ پڑھتے ہی حکم دیا،اُسے حاضر کرو اور خود دوبارہ کرسی پر بیٹھ گیا۔

فضل دین کمرے میں داخل ہوا تو اُس نے دونوں ہاتھ باندھے ہوئے تھے اور آنکھیں بالکل نیچے تھیں۔ ولیم ایک نظر دیکھتے ہی پہچان گیا۔ انداز سارے باپ جیسے تھے۔ اُسے مولوی کرامت کی وہی پہلی ملاقات یاد آ گئی،جو جودھا پور میں چراغ دین کے قتل کے وقت دورے میں ہوئی تھی۔

کیا بات ہے؟ ولیم نے پوچھا۔

سر،حضور کے اقبال سے انٹرنس پڑھ گیا ہوں،فضل دین اسی عاجزی سے کھڑے کھڑے بولا،جناب کی شکر گزاری کوحاضر ہونے کے لیے کئی دن سے کوشش کر رہا تھا۔ آج خدا وند یسوع مسیح کی برکت سے بار یابی ہوگئی۔ ابا جان نے بھی آپ کی جناب میں حاضری کے لیے کہا تھا۔

مولوی صاحب خیریت سے ہیں؟

جی،دو مہینے پہلے اُن کو تپ چڑھی اور وہ فوت ہوگئے۔
اوہ خدا،ولیم نے افسوس کرتے ہوئے فضل دین کی طرف دیکھا اور کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،بیٹھو۔
فضل دین نہایت آہستگی اور ادب کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اُس کے بعد کچھ دیر مکمل خاموشی چھائی رہی۔

فضل دین،دس تاریخ کواپنے سرٹیفیکیٹ لے کر آ جانا،گورنر ہاؤس میں کچھ دیسی اسسٹنٹوں کی ضرورت ہے۔ میں آپ کے بارے میں مسٹر جیس کو کہہ دیتا ہوں،جاؤ اور اُس کے لیے تیاری کرو۔ اِس کے ساتھ ہی ولیم نے دوبارہ اپنے پی اے کو طلب کر کے فضل دین کے بارے میں ہدایات دیں اور کہا،دس تاریخ کو فضل دین آئے تو میرے پاس بھیج دینااور انٹر پرجیس سے میری بات کراؤ۔

حکم سنتے ہی پی اے نے تعمیل کی۔ اِسی اثنا میں ولیم نے فضل دین کو چلے جانے کا اشارہ کیا اور وہ باہر نکل گیا۔

پندرہ ماہ چیف سیکرٹری آفس میں بیکار گزارنے کے بعد ولیم بہت زیادہ اُکتا گیا۔ و ہ چا ہتا تھا،کسی طرح اِس جہنم سے نکل جائے لیکن کس طرح؟ اِس بارے اُس کی تمام کاوشیں اور اعمال ضائع ہو چکے تھے اورکوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔ وہ یہ تو جانتا تھا،اُسے سزا کے طور پر بھیجا گیا ہے لیکن کتنا عرصہ؟اِس کے متعلق اُسے پوری طرح آگاہی نہ تھی مگریہ پتہ تھا کہ اُس کے جلال آباد میں کام کرنے کی نوعیت سے افسرانِ بالا خوش نہیں تھے۔ وہ اُس پر کھلا اعتراض تو نہیں کر سکتے تھے لیکن بار بار دبے لفظوں کے انتباہ کے باوجود اُس نے مقامی لوگوں کے بارے میں اپنی انفرادی پولیسی پر نظر ثانی نہیں کی تھی۔ جس میں معاشی سطح پر بے شک گورنمنٹ کو فائدہ پہنچا تھا لیکن ولیم کے مقامی آبادی کے ساتھ شیرو شکر اور میل ملاپ نے انگریزی وقار کو کافی نقصان پہنچایا تھا۔ جب تک کمشنر ہاؤس ایڈم کے قبضے میں رہا،اُس وقت تک ولیم کو فکر نہ تھی۔ وہ خود بھی ہندوستانی عوام کے لیے رحمت کا فرشتہ تھے۔ مگر اُس کے جاتے ہی حالات یکسر بدل گئے تھے۔ اب ولیم کو جلال آباد سے نکلنا ہی تھااور انتظامیہ اُنہیں کسی دوسری جگہ بھیجنے کا رسک نہیں لے سکتی تھی۔ اُس نے لاہور آتے ہی بہت ہاتھ پاؤں مارے،اپنے باپ دادا کی خدمات کا حوالہ دیا اور کام میں اپنی مہارت کے ثبوت پیش کیے۔ مگر مسلسل ابتدائی تین مہینوں کی محنت کے باوجود اُسے لگا،وہ اپنی کارکردگی کے افسانے افسروں کی بجائے سیکرٹریٹ کی دیواروں کو سنا رہا تھا۔ اس لیے پچھلے آٹھ ماہ سے خاموش تھا اور اکثر چھٹیوں پر رہنے لگا تھا۔ لیکن اتنا ہوا اِس عرصے میں فرصت کی وجہ سے اُس نے بہت سے کام ایسے بھی کر لیے،جن میں اُس کی اپنی تر جیحات تھیں۔ یعنی اوکاڑہ میں چرچ اسکول اور لیڈی پارک کا قیام۔ اِس کے علاوہ اپنے فارم ہاؤس کی مزیدوسعت۔ اور نو لکھی کوٹھی کی مزید رینو ویشن اور باغوں کی توسیع۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – بائیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(40)

ولیم کو جلال آباد میں آج چارسال ہو چکے تھے۔ وہ بنگلے سے نکل کر پیدل ہی کمپلیکس کی طرف چلنے لگا۔ آج اُس نے جو کپڑے پہنے تھے،اُن سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ کیتھی کا عمل دخل آخر کار اُس کی ذاتی پسندو ناپسند میں شامل ہو چکا ہے۔ کنٹوپ کی جگہ کیپ نے لے لی تھی اور شرٹ پر ہُڈ والے بٹنوں کی جگہ شیشے کے باریک ٹیکوں کے بٹن لگ چکے تھے۔ کوٹ بھی اب کُھلا ڈُھلا نہیں تھا،باقاعدہ سوٹ کے ساتھ فٹنس میں تھا۔ ولیم کا قد ویسے بھی لمبا تھا اور جسم کی ہڈی اکہری ہونے کی وجہ سے بہت سمارٹ بھی تھا۔ جوتے بھی ویسے ہی بارعب اور چمکدار جو کمشنروں کی شخصیت کے آئینہ ہوتے ہیں۔ اِس قدر روشن دن میں ولیم کی نیلی آنکھوں کے گھیراؤ میں سرخ و سفید چہرہ واقعی اپنی مثال آپ تھا۔ ہاتھ میں بید تو وہی پُرانی تھی لیکن آج اُس کی لچک پہلے سے زیادہ محسوس ہو رہی تھی۔ نہائت نپے تُلے قدم اُٹھاتا ہوا پُروقار چال چلنے لگا۔ ولیم کے بنگلے سے تحصیل کمپلیکس تک سڑک کے دونوں جانب بیس کے قریب سنتری کھڑے تھے۔ جب وہ دفتر آتا یا واپس بنگلے پر جاتا،یہ سنتر ی خاکی وردی پہنے ہر چالیس قدم کے فاصلے پر موجود صاحب کی نگہبانی کے لیے ایستادہ ہوجاتے۔ سنتریوں کی وردی شرٹ اور لمبی نیکروں پر منحصرتھی۔ سنتری سکھ،ہندو اور مسلمان سبھی قوموں سے تھے۔ اُن کی شرٹیں اور نیکریں بھی ایک جیسی تھیں لیکن سر پر پگڑی رکھنے کے لیے سکھوں کو استثنیٰ حاصل تھا۔ وہ سرکاری ٹوپی کی بجائے نیلے رنگ کی پگڑی پہن سکتے تھے۔ سنتریوں کے علاوہ بھی تین چار افسر ولیم کے استقبال کے لیے صبح اُس کے گھر کے سامنے پہنچ جاتے تاکہ وہیں سے صاحب کو پروٹوکول کے ساتھ دفتر میں لائیں مگر ولیم اِن چیزوں کا خیال کم ہی کرتا۔ اکثر اِن سب کو نظر انداز کرتا ہوا سیدھا پیدل ہی چل پڑتا۔ جیسا کہ آج سُرخ اینٹوں کی ٹھنڈی سڑک پر چہل قدمی کرتا ہوا چل رہا تھا۔ یہ سڑک ولیم کے جلال آباد آنے کے ایک سال بعد پکی کر دی گئی تھی۔ جس کی گرد پہلے محض ریت اور بھٹے کی کیری ڈال کربٹھائی تھی۔ اب اِس سڑک پر کمپلیکس تک دو رویہ پیپلوں کے درخت بھی لہلہا رہے تھے۔ یہ بھی ولیم کے جلال آباد تعیناتی کے بعد ہی لگے تھے۔ بلکہ ولیم نے خود لگوائے تھے۔ سردی کے وہی دن لوٹ آئے تھے،جب ولیم نے جلال آباد میں قد م رکھے تھے اور آج اُس کی تعیناتی کو چار سال ہو چکے تھے۔ اِس عرصے میں اُس نے جلال آباد تحصیل میں کئی انقلابی قدم اُٹھا ئے۔ تعلیم کا معیار پنجاب کی تمام تحصیلوں سے آگے نکل چکا تھا۔ اِسی طرح ایک نئی نہر اور دوسرے کئی چھوٹے چھوٹے رجواہے جاری کر دیے۔ جن کی وجہ سے تحصیل کے ہر گوشے میں پانی کی بہتات ہوگئی۔ گندم،چاول اور مکئی کی فصلیں کثرت سے پیدا ہونے لگیں اور لوگوں کے چہروں پر ایک قسم کی خوشحالی آنے لگی۔ ہر طرف درخت اورفصلوں کے سبز آئینے لہلہارہے تھے۔ اِس کے علاوہ سرکاری سر پرستی میں نجی سطح پر لوگوں کو چھوٹے چھوٹے کاروبار شروع کروا دیے،جن میں جلال آباد کے مضاف میں لگا ئے گئے شہتوتوں کے باغ بھی شامل تھے۔

اب ولیم جلال آبا د سے اِس قدر مانوس ہو چکا تھا کہ اگر اُسے ساری عمر بھی یہاں رہنے کی اجازت دی جاتی تو وہ اس کے لیے بھی تیار تھا۔ سبب اِس کا یہی تھا کہ جلال آباد شہر سے لے کر اُس کے مضافات تک ولیم نے ہر جگہ کو اپنی ذاتی جمالیات کے آئینوں میں ڈھال لیا تھا۔ رہٹ،نالے،نہریں اور باغات جگہ جگہ پیدا ہو چکے تھے اور مزید کے لیے کوششیں جاری تھیں۔ دوکانوں سے لے کر مکانوں تک،ہر شے میں ایک قسم کی نفاست جھلکنے لگی،جو ولیم کی ابتدائی کوششوں کے بعد خود بخود مقامی لوگوں میں ظاہر ہو رہی تھی۔ ولیم کے یہ چار سال گویا اُس کی زندگی کے حاصل تھے،جن میں اُس نے اس طرح دل جان سے کام کیا کہ یہ علاقہ بالکل بدل گیا۔ دریا کے ساتھ بھینسیں اور بھیڑ بکریاں پالنے والوں کے لیے باقاعدہ چراگاہوں کا قیام سرکاری کھاتوں میں کر دیا گیا اور اُن علاقوں میں چرواہوں کو پوری آزادی دے دی گئی۔ اِس عرصے میں اُس کا تبادلہ کئی دفعہ ہوتے ہوتے بچا،جس کو رکوانے میں اُس نے خود بھی چیف سیکرٹری تک تعلقات قائم کر لیے۔ اِن تعلقات میں اُس کے باپ کا کافی زیادہ دخل تھا کہ سیکرٹری صاحب اُن کے ذاتی دوستوں میں سے تھے،جنہیں دیسی گھی مکھن سے لے کر بھینسوں،بیلوں اور لڑاکا مرغوں تک کا چسکا پڑ گیا تھا۔ جس کی بنا پروہ یہاں چار سال نکالنے میں کامیاب ہو گیا ِ۔ اپنی مرضی سے بھرپور طریقے سے کام کیے اور جلال آباد میں برطانوی راج کے فوائد پورے طریقے سے عوام تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اُسے اس معاملے میں کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر وہ فائدے نچلی سطح تک لیجانے میں کامیاب ہو ہی گیا،جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کا نام جلال آباد اور اُس کے مضافات کے غریب غربا تک بھی پہچان میں آ چکا تھا۔ حتیٰ کہ اُس کی شکل بھی جلال آباد کے کئی عام لوگوں نے دیکھ لی تھی۔ امن و امان کے حوالے سے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر وغیرہ کے قتل کے بعد کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جو ولیم کے لیے پریشانی کا باعث بنتا۔ اگرچہ غلام حیدر لاکھ کوشش کے بعد بھی گرفتار نہیں ہو سکا تھا اور نہ ہی اُس نے دوسری کاروائی کی۔ گویا اپنا بدلا لے کر روپوش ہو چکا تھا۔ البتہ اُس کے اشتہاری ہونے کے بعد ولیم نے اُس کی زمین اُسی کی رعا یا میں بانٹ دی بلکہ اُن کے لیے بھی وہی سہولتیں جاری کر دیں،جو عام تحصیل میں تھیں لیکن ولیم نے اُس کا انتقال کسی وجہ سے غلام حیدر ہی کے نام رہنے دیا۔

مولوی کرامت نے جس قدر محنت اور تندہی سے کام کیا تھا،اُس کے عوض ولیم نے ذاتی دلچسپی لے کر اُس کی مالی اور سماجی حیثیت میں اتنا اضافہ کر دیاکہ اب وہ تحصیل جلال آبادکے معززین میں شمار ہونے لگا۔ بلکہ اُس کے بیٹے فضل دین کو دسویں درجے میں انتہائی اچھے نمبروں میں پاس ہونے کے بعد ذاتی خرچ پر اور کچھ وظیفہ دے کر لاہور ایف سی کالج میں پڑھنے کے لیے بھجوا دیا۔ اب فضل دین بھی وہ فضل دین نہیں رہا تھا،جوصرف روٹیاں مانگنے کا ماہر تھا۔ سکول میں تو ویسے ہی وہ دو دو درجے ایک ایک سال میں طے کر گیا تھا۔ مولوی کرامت کے بھی اتنے پر نکل آئے کہ کئی دفعہ صاحب بہادر سے خود ملاقات نکال کر اُن لوگوں کی شکایات بھی کیں،جو اُس کے کام میں حارج ہونے کی کوشش کرتے تھے۔ غضب تو یہ کہ اُن شکایات کو سنابھی گیا تھا،جس کے بعد بیشتر لوگ بابووں سمیت مولوی کرامت کی چاپلوسی پر اُتر آ ئے تھے۔ کئی بابو اپنی سفارشیں بھی لے کر آتے،جنہیں مولوی کرامت ولیم تک پہنچانے کی جرات تو نہ کر سکتا تھا،لیکن وہ اُن سفارشی لوگوں کو کام ہونے کی اس طرح تسلی کروا دیتا جیسے یہ اُس کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہو۔ اِن سفارشوں کے عوض مولوی صاحب نے کسی سے پیسے تو نہیں پکڑے تھے،جس کا اُس وقت رواج بھی کم تھا۔ البتہ مختلف قسم کے تحفے تحائف ضرور وصول کر لیتا،جو بظاہر سفارشی حضرات اصرار کر کے مولوی صاحب کے حوالے کردیتے تھے۔ مولوی صاحب اُنہیں اِس لیے بھی قبول کر لیتے کہ اُنہوں نے یہ حدیث پڑھ رکھی تھی کہ ایک دوسرے کو تحفے لینے دینے سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مولوی کرامت فی الحال اِس حدیث کے ایک حصے پر عمل کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ مولوی کرامت کے جلال آباد کے اکثر زمینداروں سے اتنے خو شگوار تعلقات پیدا ہو گئے کہ وہ اُسے شادی بیاہ اور موت،غمی سے آگے بڑھ کر اپنی رشتے داریوں کے متعلق بھی مشوروں میں شریک کرنے لگے اور چھوٹے موٹے فیصلوں کا ثالث بھی قرار دے لیتے۔ مولوی کرامت کی ثالثی اِس لیے بھی پائیدار تھی کہ سب جانتے تھے،مولوی صاحب کا کمشنر جلال آباد سے ذاتی تعلق ہے۔ اِس لیے وہ صاحب بہادر سے کہ کر کسی کا بھی چوبارہ گول کر سکتا ہے۔ اِن سب باتوں سے الگ اسکول منشی ہونے کے ساتھ مولوی کرامت نے اپنے لیے جامع مسجد جلال آباد کی امامت بھی حاصل کر لی تھی کہ تین سال پہلے مسجد کے سابقہ پیش امام کو منصوبے کے مطابق ملازمت دلوا کر منڈی گرو ہر سا بھیج کر اور اپنی تمام ذاتی قابلیتوں کے پیش نظر مسجد کی امامت کے فرائض سنبھال لیے تھے۔ جس سے اتنی آمدنی مزید ہو جاتی جتنی مولوی صاحب کی گورنمنٹ کی طرف سے تنخواہ تھی۔ مولوی کرامت کی خوشحالی کے ساتھ شریفاں کے اطوار بھی کافی بدل چکے تھے۔ چک راڑے میں تو کبھی کسی کی میت کے گھر پُرسہ دینے یا مُردہ عورت کو نہلانے اور کفن پہنانے کے سوا دوسرا کام نہیں کیا تھا لیکن جلال آباد میں باقاعدہ گھروں میں میلاداور دیگر بہت سی تقریبات میں مدعو ہونے لگی،جس میں اُسے مولوی کرامت کے برابر نہ سہی،گھر کے خرچے یعنی ہانڈی روٹی کی آمدن ہو ہی جاتی۔ بلکہ اُس نے کچھ نعتیں اور آئتیں رحمت بی بی کو بھی یاد کروا دیں۔ وہ بھی شریفاں کے ساتھ گھروں میں جا کر طرح طرح کی نذر نیاز کا سبق دینے لگی تھی۔ اِس طرح پورے جلال آباد میں مولوی کرامت کے گھر کے علم اور فتووں کی دھوم مچی ہوئی تھی اور کاروبار اِتنا ترقی کر گیا تھاکہ ضلع قصور کے چک راڑے میں تو اِس کا خواب بھی نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ اُدھر فضل دین کا لاہور کے کالج میں پڑھنے سے فضل دین اب بچپن میں ہی مولانا فضل دین بن چکا تھا۔ ایف سی کالج نے اُسے دھوتی کی بجائے پاجامہ پہنا دیا اور بابو بنا کر رکھ دیا۔ عربی فارسی تو اُسے پہلے ہی آتی تھی،کالج کے ماحول نے انگریزی کا اثر ڈالا تو مولانا فضل دین ایک ہی سال میں کئی باتیں انگریزی میں ہی بولنے لگا۔ چھُٹی پر جلال آباد آتا تو لوگ دیکھنے کے لیے آتے اور باتوں باتوں میں ایک دوسرے کو کہتے،بھائی مولوی کا بیٹا تو کوئی بڑا انگریز بنتا جا رہا ہے۔ بعض لوگ اِس بات پر مولوی کرامت سے نا خوش بھی تھے کہ اُس نے اپنے بیٹے کا مذہب خراب کر دیا ہے۔ فضل دین کو باقاعدہ کرسٹان بنا کر مولوی کرامت نے دین کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔ اسی کو بنیاد بنا کر وہ مولوی کرامت کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھتے تھے لیکن مولوی کے صاحب بہادر سے تعلقات کی بنا پر کھلے عا م مخالفت سے بھی ڈرتے تھے۔ مولوی کو بھی اُن کی کوئی پرواہ نہیں تھی کیو نکہ ایسے لوگ دیہاتوں میں تو کافی تھے لیکن شہر میں اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی کیونکہ مولوی کرامت کی پچھلے تین سال کی تبلیغ نے جلال آباد کو انگریز بہادر کا وفادار بنا ہی دیا تھا۔

الغرض ولیم نے مولوی کرامت کی حالت بدلنے سے لے کر فیروز پور کی تحصیل جلال آباد کو تعلیمی،معاشی،اور سماجی سطح پر اتنی کچھ ترقی دے دی کہ اُسے محسوس ہی نہیں ہورہا تھا،وہ اپنی نولکھی کوٹھی میں رہ رہا ہے یا جلال آباد کے بنگلے میں۔ کیتھی شادی کے بعد ولیم کے ساتھ جلال آباد کے بنگلے میں تھی۔ بلکہ اب توان کا ایک بچہ بھی تھا،جس کی عمر ڈیڑھ سال ہو چکی تھی۔ کیتھی روزانہ نہیں تو ہر دوسرے دن گھوڑے پر بیٹھ کے جلال آباد کے مضافات میں سیر کو ضرور نکلتی،جس کے دائیں بائیں بیسیوں نوکر،مامائیں اور پولیس والے اٹین شین چلتے اور بھاگتے نظر آتے۔ میم صاحبہ نے یہاں آکر بھی عجب طرح کے پُرپرزے نکال لیے تھے۔ کچھ دن تو دیسی ملازمین کے ساتھ ملائمت سے بات کرتی رہی۔ یہ لوگ اُسے فرشتوں جیسے اور تابع فرمان لگتے تھے۔ اُس کے خیال میں اِن ہندوستانی کالوں کے اندرانتہائی سادگی اور معصومیت تھی کیونکہ اُن کا اپنا نہ کوئی تقاضا تھا اور نہ شکائت۔ یہی وہ لوگ تھے جو صرف صاحب بہادر،میم صاحبہ اور بابا لوگوں کے لیے جیتے اور اُن کی خدمت گزاری میں مرتے تھے۔ اِس لیے اُن کے ساتھ محبت اور شفقت کرنا گورے لوگوں کا فرض تھا۔ کیتھی بات بات پر اُنہیں انعامات سے نوازتی اور شاباش سے دل بڑھاتی۔ لیکن جیسے جیسے ولیم کے اختیارات کی وسعت اور اقتدار کا نشہ دیکھا،لہجے اور خیالات میں تبدیلی آتی گئی۔ حتیٰ کہ تین ہی سال کے اندر اُس نے ولیم کو بھی سرزنش کرنا شرع کر دی کہ وہ اِن دیسی لوگوں کو زیادہ رعایت دیتا ہے اور ملازموں کی غلطی کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اب یہ لوگ اُسے گنوار،اُجڈ،بھکاری،کام چور،چاپلوس اور چغل خور نظر آنے لگے۔ وہ اِس بات کی سختی سے قائل ہو گئی کہ کالے ایک بد بخت نالائق اور منحوس قوم ہیں۔ اِن کے جسموں سے بدبو آتی ہے۔ نہاتے نہیں اور گوروں کے درمیان بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ اِن کو پیار سے نہیں ذلًت اور رسوائی کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ کیتھی کے اپنے شغل بھی ضرور یات سے آگے نکل کر تفریح میں بدلتے گئے،جن میں سے ایک اُسے اُونٹ پر سواری کرنے کا بھی شوق پیدا ہو گیا۔ اِس شوق کو پورا کرنے کے لیے کئی اونٹ خرید ے گئے اور اُن کی دیکھ بھال کے لیے آٹھ آٹھ ملازم رکھ لیے۔ کیتھی ولیم کو بھی اُونٹوں پر اپنے ساتھ سیر کرنے کا اصرار کرتی،جسے پورا کرنے کے لیے اُس نے کئی دفعہ یہ سواری بھی کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب ولیم بھی اُونٹ کی سواری سے لطف اندوز ہونے لگا۔ اُونٹوں کے علاوہ کیتھی کی کوششوں سے جلال آباد میں اوکا ڑہ کے مقابلے کا تو خیر نہیں،لیکن ایک چھوٹا سا مویشیوں کا فارم ضرور بن گیا۔ اِس فارم کے لیے نیلی کی عمدہ بھینسیں چُن کر دُگنے تگنے مول میں خرید لی گئیں۔ اِس کے علاوہ بنگلے کے پچھواڑے اچھا خاصا باغیچہ بنا دیا۔ اِس میں دُور تک درختوں کی قطاریں ہری چھاؤں کے ساتھ لہلہانے لگیں،جن پر توریوں،کدؤوں،اور کریلوں کی بیلیں چڑھ گئیں تھیں۔ بنگلے کے قُر ب و جوار میں درختوں کی عمر ابھی چار سال ہی تھی لیکن اُن کی حفاظت اِس اچھے طریقے سے ہوئی کہ وہ اب اچھا خاصا سایہ دینے لگے تھے۔

بیلوں کے چڑھ جانے سے اور بھی اچھے لگتے،جو سردیوں کے موسم میں عجیب بہار پیدا کر دیتیں۔ کیتھی نے اپنی بیٹی کے لیے بنگلے کے صحن میں ایک نوابی قسم کا جھولا بھی بنوالیا تھا۔ جھولے میں اپنی سائرز کو لٹا کر اُسے بعض اوقات اپنے ہاتھ سے جھولاتی۔ لیکن اکثر یہ کام ماما سر انجام دیتی اور کیتھی خود صحن میں بے شمار سفیدکبوتروں کو اُڑا اُڑا کر دانہ ڈالتی اور اُن کا تماشا دیکھتی۔ اِن کبوتروں کے صرف پھڑ پھڑانے کی آواز سننے کے لیے کیتھی نے یہ کبوتر آگرہ سے منگوائے تھے۔ کیتھی کے مسلسل جلال آباد میں ہی قیام کی وجہ سے اوکاڑہ میں کیتھلک چرچ اسکول کا کام معطل پڑا تھا۔ لیکن اب ولیم کو کیتھی کے ساتھ رہنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ وہ اُسے ایک لمحے کے لیے اپنے سے دور نہیں رکھنا چاہتا تھا،نہ ہی یہ بات کیتھی کو منظور تھی کہ ولیم ڈیوٹی کے وقت کے علاوہ کسی کلب میں بھی اُس کے بغیر جائے یا دوستوں کے ساتھ گپ بازی کرے اور وہ گھر میں اکیلی بیٹھی رہے۔ ولیم سے دُور اوکاڑہ میں رہنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہاں وہ دونوں اوکاڑہ میں براستہ ہیڈ سلیمان کی ہر پندرہ دن میں دو دن کے لیے چکر ضرور لگاتے،کہ یہ فاصلہ جیپ کے آگے کچھ حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ بلکہ اب تو راستے میں کئی مقامی لوگوں کو بھی اُن کے معمول کے سفر کا علم ہو گیا تھا۔ چنانچہ وہ اپنی عرضیاں ولیم کے رستے میں پڑنے والی چوکیوں پر جمع کرادیتے،جس کا آڈر ولیم نے پولیس والوں کو بھی کر دیا تھا۔

اب کچھ دن سے ولیم کو ڈپٹی کمشنر رالف کی طرف سے دھڑکا لگا ہوا تھا۔ اُسے ولیم کا اِتنا عرصہ ایک ہی تحصیل میں رہنا گوارا نہیں تھا اور چیف سیکرٹری بیڈن صاحب بھی بدل چکے تھے۔ رالف کو فیروز پور میں آئے ایک مہینہ ہی ہوا تھا کہ اُس نے ولیم کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا اظہار شروع کر دیا۔ اِدھر ولیم کو بھی پتا چل چکا تھا کہ اُس کے اب جلال آباد میں دن تھوڑے ہی رہ گئے ہیں۔ اُس نے کیتھی کو آگاہ کر دیا تھا کہ اب وہ جلال آباد سے اپنا بستر لپیٹنے کے لیے تیار ہو جائے کیونکہ پنجاب گورنمنٹ کسی وقت بھی اُسے اُٹھا کر کہیں بھی بھیج سکتی ہے اور آج وہی کچھ ہوا۔ ولیم آرام سے بیٹھ کر فائلوں کا جائزہ لینے لگا تو سب سے پہلے اُس نے جو فائل کھولی اُس میں ولیم کے ٹرانسفر آڈر پڑے تھے۔ ولیم کو مطلع کیا گیا تھا کہ اُس کے چار سالہ تجربے کے پیشِ نظرچیف سیکرٹری آفس لاہور کو اُس کی خدمات کی ضرورت ہے۔ لہذا وہ جتنی جلد ی ہو سکے اپنا چارج تحصیل دار مالیکم کو سونپ کر لا ہورچیف سیکرٹری آفس میں جوائننگ رپورٹ دے۔ ولیم نے آڈر دیکھ کر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پھر بیل دبا کر کرم دین سے کافی کا کپ بنانے کے لیے کہا۔ آڈر اتنے اچانک اور محتاط انداز میں تیار کئے گئے تھے کہ وقت سے پہلے اُن کی ہوا بھی باہر نکلنے نہیں دی گئی تھی۔ ولیم یہ تو جانتا تھا کہ وہ یہاں سے جانے والاہے لیکن اِتنا اچانک،اُس کے بھی گمان میں نہیں تھا۔ اس لیے اب ولیم نے کسی نئی سفارش کا بندوبست کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ ویسے بھی ذہنی طور پر اب وہ اپنے تبادلے کے لیے تیار ہو چکا تھا،جو ایک نہ ایک دن ہونا ہی تھا۔ اب چونکہ ولیم کو جلال آباد کے کسی کام میں قانونی تو پر دخل اندازی کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی وہ یہاں کسی چیز کا ذمہ دار رہا تھا،اس لیے اُس نے فوراً اپنے آپ کو ہلکا پُھلکا کر کے باقی تمام فائلوں کو ایک طرف کر دیا اور دل ہی دل میں رالف پر لعنت بھیج کر پچھلے چار سال میں پیش آنے والے تمام واقعات پر نظر دوڑانے لگا۔ جس میں طرح طرح کے بے شمار کردار ایک ایک کر کے اُس کی آنکھوں میں گھومنے لگے۔ پہلے دن فیروز پور میں ملنے والا باورچی نظام دین،اُس کے معتوب افسر،جن میں لوئیس اور وہ جو ایک دو لوگ ریٹائر ہو کر گھر بھی جاچکے تھے۔ ان کے علاوہ مدن لال ماسٹر،سردار سودھا سنگھ،غلام حیدر،رسہ گیر چوہدری،مولوی کرامت،تھانیداروں سے لے کر عوام تک اور پھر اُس کے ماتحت کام کرنے والی تحصیل انتظامیہ،سینکڑوں ہی طرح کے لوگوں سے اُسے واسطہ پڑا تھا۔ جن میں ایماندار بھی تھے،چاپلوس بھی،کام چور بھی اور کام کے ماہر مگر نکمے بھی۔ اِنہی میں وہ بھی تھے،جو دونوں طرف مخبری کا کام دیتے تھے اور نہایت ایمانداری سے۔ وہ بھی،جنہوں نے ہمیشہ منافقت اور کام چوری سے ربط رکھا۔ یہ سب کچھ ولیم کو یاد آرہا تھا۔ اُسے یہ بھی خبر تھی کہ آنے والا کوئی بھی افسر اس طرح جلال آباد میں کام نہیں کرے گا جس طرح اُس نے کیا ہے۔ وہ عوام کو اپنی رعایا نہیں غلام بنا کر رکھے گا،جیسے خود اُس کی بیگم کا اِن لوگوں کے ساتھ رویہ ہو گیا تھا،۔ اِس خیال کے آتے ہی ولیم ہلکا سا مسکرا دیا،گویا انگریز افسرعورت بن کر مقامی لوگوں کے ساتھ سلوک کرتے تھے،جس کا اُسے اس وقت قلق تو ہو رہا تھا لیکن اب کیا کیا جا سکتا تھا۔ ولیم نے سوچاجلا ل آباد کے لوگوں کو کیا پتا،اُن کی تحصیل میں ولیم کے تبادلے کا کتنا بڑا انقلاب آ چکا ہے۔ اُس نے خود بھی دل میں جلال آباد کو اپنا گھر تسلیم کر لیا تھا اور اُس کے لیے اُسی طرح کام کیا تھا جس طرح اپنے گھر کو بنانے میں کیا جاتا ہے۔ اِسی اثنا میں ولیم نے دوبارہ بیل بجا کر نجیب شاہ کو طلب کیا۔ نجیب شاہ جیسے ہی کمرے میں آیا،ولیم نے اُسے بنگلے میں موجود تمام سامان کو بحفاظت پیک کروانے کا حکم دے دیا۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اکیسویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(38)

جھنڈووالا میں سردار سودھا سنگھ سمیت ایک دم دس لاشیں پہنچیں تو اندھا کر دینے والا حبس چھا گیا۔ لاشیں دو گَڈوں پر لادی ہوئی تھیں۔ گولیوں سے چھلنی اور خون سے لت پت گو یا مَسلی جا چکی تھیں۔ لاشوں سے مسلسل رِستے ہوئے خون کی وجہ سے گَڈوں کی حالت بھی لاشوں سے بد تر تھی اورگَڈوں کے اُوپر جُڑے ہوئے تختوں کے فرش سے لے کر لکڑی کے پہیوں تک خون میں نہا چکے تھے۔ بہت ساخون تختوں پر جم کر سیاہ ہو چکا تھا۔ لاشیں اگرچہ تازہ تھیں اور قتل ہوئے مشکل سے ہی پانچ یا چھ گھنٹے ہوئے تھے لیکن شدید گرمی کی وجہ سے اُن کی حالت بہت ہی خوفناک اور بدبو پیدا کر دینے والی تھی۔ اُن کو دیکھنا تو الگ بات،قریب جانا بھی اذیت ناک تھا۔ لاشیں پولیس کی نگرانی میں جھنڈووالا پہنچی تھیں،اِس لیے پولیس کی بھی کافی نفر ی وہاں موجود تھی لیکن وہ اب لا تعلق سی ایک طرف کھڑی تھی،جیسے اُنہیں اس بات سے صرف اتنی غرض ہو کہ جتنی جلدی ہو سکے ان کا کریا کرم ہو جائے اور اس بدبو،پسینے،اور شور شرابے سے جان چھوٹے۔ جھنڈووالا کے مرد تو ایک طرف بینت کور سمیت وہاں کی تمام عورتیں لاشوں کے اُوپر گری پڑی تھیں اور ایسے ایسے بین اُٹھا رہی تھیں کہ خدا پناہ۔ سر کے بال بکھیر کر اوراُن میں راکھ ڈال کر اپنے آپ کودوہتھڑ پیٹ رہی تھیں،جیسے چڑیلیں بن گئی ہوں۔ بیہوش ہو کر کبھی نیچے گرتیں کبھی اُوپر اُٹھ کر گڈے پر چڑھنے کی کوشش کرتیں۔ کسی کو جرات نہ تھی،اُن کے قریب جا کر دلاسا ہی دے۔ سب سے بُری حالت بینت کور کی تھی۔ لوگوں کی بھی زیادہ تر ہمدردیاں سردار سودھا سنگھ اور بینت کور ہی کے ساتھ تھیں۔ لاشیں کافی دیر اسی طرح گڈوں پر پڑی رہیں۔ مردوں اور عورتوں نے جی بھر کر ماتم اور رونا پیٹنا مچایا۔ مرنے والوں کے ا قربا غش کھا کھا کر گرتے تھے جبکہ لوگ بھاگ بھاگ کر اُن کے منہ میں پانی ڈالتے تھے۔ پانی پلانے والے کم تھے اور رونے پیٹنے والے زیادہ کیونکہ پوری دس لاشیں تھیں۔ وہ بھی ساری کی ساری جھنڈووالا کی۔ یہ سب قتل ہونے والے پورے گاؤں کے کسی نہ کسی طرح قریبی رشتہ دار تھے۔ جو آدمی بھی لاشوں کو دیکھتا اور اُن کی بُری حالت پر نظر کرتا تو کلیجہ پھٹ کے رہ جاتا۔ وہیں لاشوں سے لپٹنے کی کوشش کرتا۔ تھوڑی دیر پہلے صبح کے وقت اچھے بھلے شینہہ جوان اور سوہنے سنکھنے تھے اور اب گڈوں پر اس طرح لیٹے تھے جیسے کبھی دھرتی پر چلے پھرے ہی نہ ہوں۔ پولیس نے دیر تک اُنہیں یونہی اُن کے حال پر چھوڑے رکھا اور الگ بیٹھی رہی لیکن جب رونے دھونے اور پیٹ پٹہیے کے عذاب کودو گھنٹے گزر گئے تو اُنہوں نے مداخلت کر کے لاشیں گڈوں سے اُتارنا شروع کر دیں۔ بینت کور اور دو تین خواتین ویسے بھی روتے پیٹتے غش کھا کر اپنے حواس سے بیگانہ ہو چکی تھیں۔ مردوں کو پیچھے کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ ایک ایک کر کے تمام لاشیں گڈوں سے اُتار کر سودھا سنگھ کی حویلی میں لائی گئیں اور اُنہیں چارپائیوں پر لٹا دیا گیا۔ سودھا سنگھ کو اُسی چار پائی پر لٹایا گیا جو اُس نے خاص اپنے لیے بنوائی تھی اور اُس پر کسی دوسرے کو بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ جب تک لاشیں اُتاری گئیں،بینت کور کو دوبارہ ہوش آچکا تھا۔ وہ بھاگ کر پھر لاش سے لپٹ گئی۔ سودھا سنگھ کی شکل خوفناک حد تک مسخ ہوچکی تھی اور دیکھنے سے کراہت محسوس ہوتی لیکن بینت کور اُسے اُسی طرح چوم رہی تھی جیسے اُس میں خوبصورتی کے شعلے دہک رہے ہوں۔ پورا دو تین سو بندہ حویلی میں جمع ہو تھا۔ اُن کے علاوہ ارد گرد گاؤں کے لوگ بھی اس ہیبت ناک خبر کو سن کر وہاں آگئے۔ اِس طرح جھنڈو والا میں لوگوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ پہنچ گئی۔ زیادہ تر لوگ لاشوں سے دور حویلی کے باہر ہی مختلف ٹولیوں میں ادھر اُدھر بیٹھے اور کھڑے،اِس واقعے پر طرح طرح کے تبصرے بکھیر رہے تھے۔ اُنہیں اِس سانحے پر دُکھ سے زیادہ تعجب اور غلام حیدر کی جرات پر حیرانی تھی۔ اُن میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن کو لاشیں دیکھنے سے دلچسپی نہیں تھی،نہ ہی وہ چاہتے تھے،اُن کا نام گواہی کے طور پر استعمال ہو۔ فقط تماشا دیکھنے میں اُن کی طبیعت کو ایک قسم کا سکون ملتا تھا۔ جھنڈووالا میں اب سکھ،مسلمان سب ہی جمع ہو چکے تھے۔ مسلمان بظاہر مرنے والوں کے لیے چہروں کو سنجیدہ بنا کر پھر رہے تھے لیکن دل ہی دل میں اُن کا ایمان انہیں غلام حیدر کو داد دینے پر اُکسا رہا تھا۔ وہ جی میں بغلیں بجا رہے تھے اور غلام حیدر کی بہادری پر اُن کے سینے فخر سے پھولے ہوئے تھے۔ بعض چپکے چپکے آپس میں اِس بات کر اظہار بھی کر رہے تھے کہ بھائی مُنڈے نے اپنے اُوپر نیودرا نہیں رکھا۔ بدلے کا حساب پورا پورا کھول کے چکایا ہے۔ غلام حیدر آخر شیر حیدر کا بیٹا تھا۔ یہی کچھ ہونا تھا۔ لوہے کی گولیاں مار مار کے بچاروں کے حلیے ہی بگاڑ دیے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے ظلم کی انتہا بُری ہوتی ہے۔ پھر بھی جیسا بھی تھا،میاں سودھا سنگھ تھا اچھا آدمی۔ اپنی رعایا پر بچارا بڑا مہربان تھا۔ غلام حیدر کو حوصلے سے کام لینا چاہیے تھا۔ معاف کر دیتا تو زیادہ اچھا تھا،پرغصہ بُری چیز ہے،بھائی ہوا بُرا۔ بچارے سودھا سنگھ کو کیا پتا تھا،اُس کے دن گنے جا چکے ہیں؟ چلو مولا بھلی کرے،اب بچاروں کی لاشیں خراب ہو رہی ہیں۔ جتنی جلدی ہو سکے،ان کی ہوا کوآگ دے دینی چاہیے۔ غرض یہ کہ مسلمان،جو اِس وقت جھنڈووالا میں کھڑے تھے،وہ بظاہر تو ہمدردی کے کلمات کہہ رہے تھے لیکن دل میں ایک مسلمان کی بہادری پر خوش ہو رہے تھے۔ اُدھر سکھوں کی حالت واقعی قابلِ رحم تھی،وہ یا تو کچھ بول نہیں رہے تھے اور زبانوں پر مہر یں لگی ہوئی تھیں یا وہ رو رہے تھے،بولیں تو کیا؟ کہ ایک مُسلے نے دس سرداروں کی ایک وقت میں چتا کی راکھ اُڑا دی۔

تھانہ گرو ہر سا کی پولیس حادثے کے فوراً بعد ہی وہاں پہنچ گئی تھی حتیٰ کہ جھنڈووالا کے لوگوں سے بھی پہلے۔ تھانیدار ضمیر شاہ نے وقوعے کی تمام رپورٹ درج کرکے گواہوں کے بیانات قلم بند کرلیے۔ جس کے مطابق سودھا سنگھ اور اُس کے بندوں پر حملہ کرنے والے صرف دو ہی آدمی تھے،جن کے پاس پکی رائفلیں تھیں اور وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔ مگر اُن کے چہروں پر منڈاسا ہونے کی وجہ سے وہ پہچانے نہیں جاسکے۔ البتہ سودھا سنگھ کے بھاگے ہوئے بندوں کے مطابق،اُن دو کے علاوہ اور بھی کافی سارے آدمی تھے،جن کے پاس ڈانگیں اور برچھیاں تھیں اور وہ بھی گھوڑوں پر سوار تھے۔ اُنہیں یہ بھی شبہ تھا،کہ رائفلوں والے جو دو آمی تھے۔ اُن میں سے ایک غلام حیدر تھا،مگر اُن کی یہ بات پولیس کی سمجھ سے باہر تھی۔ اگر سودھاسنگھ کے اُن گواہوں کے بیانات کو مان لیا جائے،تو مسلۂ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی مرنے والے اور زخمی ہونے والے یا بھاگنے والے پر تیز دھار لوہے کا ایک بھی زخم موجود نہیں تھا۔ نہ ہی اُن لوگوں کا نام نشان وہاں موجود تھا،جن کے پاس ڈانگیں یا برچھیاں تھیں۔ یااُن میں سے کیوں کوئی بھی آدمی سودھا سنگھ کے ہاتھوں زخمی نہیں ہوا۔ یہ تمام باتیں جزیات کے ساتھ تھانیدار ضمیر شاہ نے اپنے نقشے اور پہلی انکوائیری میں درج کر لیں۔ باقی پورے کیس کی بنیاد اِسی پہلی انکوائیری پر تھی۔ عصر تک تھانیدار نے واقعے کے شاہدین،جگہ کا نقشہ اور وقوعے کی رپورٹ تیار کر کے لاشیں چھوٹے تھانیدار دیوان سنگھ اور حوالدار چندن لعل سمیت چھ سپاہیوں کی نگرانی میں جھنڈووالا کی طرف روانہ کر دیں اور خود ڈی ایس پی لوئیس صاحب کو رپورٹ کرنے کے لیے جلال آباد روانہ ہو گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گھوڑے دلکی چال چل رہے تھے۔ غلام حیدر براستہ سلیمانکی حویلی لکھا پہنچا،تو رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ گرمیوں کی راتیں مختصر اور نہایت گرم ہونے کی وجہ سے لوگ اتنی جلدی چارپائیوں پر کم ہی جاتے ہیں۔ غلام حیدر کے اس پورے علاقے میں کئی رشتے دار اور دوست پھیلے ہوئے تھے۔ لیکن وہ کہیں بھی قیام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا،واقعے کے فوری بعد مشرقی اور وسطی پنجاب کے تمام تھانوں میں اُس کے متعلق اطلاع کر دی گئی ہو گی۔ اِس لیے وہ کوئی بھی خطرہ فی الحال مول نہیں لینا چاہتا تھااور کسی بھی ایسی جگہ نہیں رکنا چاہتا تھا،جہاں اُس کی رشتہ داری یا دوستی کا لوگوں کو کچھ پتا تھا۔ غلام حیدر نے چلتے چلتے امانت خاں سے کہا،میاں امانت،تم نے جو آج میرے لیے کیا ہے،اُس کی قیمت تو میں کسی بھی طرح ادا نہیں کر سکتا لیکن میں چاہتا ہوں،اِس دوستی کے عوض تم سے کچھ نہ کچھ ضرور سلوک کرو ں۔ مجھے نہیں پتا،کتنا عرصہ اب مسافرت میں گزارنا پڑے لیکن میرا وعدہ ہے،اِس غربت کے بعد میں تمھیں اپنا سگا بھائی بنا کر رکھوں گا۔ مگر اس وقت میرا خیال ہے،ہمیں اکٹھے نہیں رہنا چاہیے اور الگ الگ ہو جائیں۔ یہ کہ کر غلام حیدر نے اپنی کمر سے بندھی ہوئی ایک بھاری تھیلی کھولی اور چلتے چلتے ہی اُسے امانت خاں کی طرف بڑھا دیا اور کہا،اِس میں ایک پاؤ سونا ہے۔ یہ میری طرف سے تحفہ سمجھو اور اِسی وقت سیدھے اپنے علاقے میں چلے جاؤ۔

امانت خاں نے تھیلی غلام حیدر سے پکڑ لی اور کہا،چوہدری غلام حیدر،میں تیرے ساتھ اِن پیسوں کے لالچ میں نہیں آیا تھا لیکن یہ سونا مَیں ضرور اپنے پاس رکھوں گا،اُس وقت تک جب تم دوبارہ نہیں ملتے۔ یہ سونا میرے پاس تمھاری امانت ہے۔ اگر مشکل پڑی اور اِن کی ضرورت ہوئی تو اپنی امانت مجھ سے آ کر لے لینا۔ ملک بہزاد،میرا ماماہے اور اُس کے مجھ پر ہزاروں احسان ہیں۔ مَیں یہ کام پیسوں کے لیے نہیں کرتا،۔ اِس کے بعد دونوں گلے ملے اور دونوں نے اپنے گھوڑوں کی باگیں مخالف سمت میں موڑ دیں۔ غلام حیدر نے اپنا گھوڑا نواب سرفراز کی حویلی کی طرف دوڑا دیا،جہاں کچھ دن آرام کرنے کے بعد منصوبے کے مطابق اُسے نواب افتخار کے ماموں کے پاس کشمیر جا کر پتا نہیں کتنے برس تک روپوش ہونا تھا۔ تاکہ وقت کا انتظار کیا جا سکے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گرمی کی وجہ سے لاشوں کو زیادہ دیر تک نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ ویسے بھی تمام قانونی کارروائی مکمل کی جا چکی تھی۔ اِس لیے پولیس چاہتی تھی کہ لاشوں کو اپنی نگرانی میں ٹھکانے لگا دے تاکہ لاشیں خراب ہو کر بدبو نہ مارنے لگ جائیں۔ اب رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ اِس سخت گرمی میں اِتنا وقت بہت زیادہ تھا۔ ورنہ مزید کوفت پھیل جاتی۔ خون،بد بو اور لوگوں کا ہجوم اس میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ لوگوں نے ایک ہی وقت میں اتنی لاشیں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں،نہ اِس طرح کا قہر پہلے نازل ہوا تھا۔ اِس لیے ہر کوئی دور دور سے بھاگا ہوا آیا اور یہاں جمع ہو گیا تھا۔ سردارسودھا سنگھ کے رشتے داروں کے بھی سینکڑوں لوگ تھے،جو لاشوں کو دیکھ کر جذباتی ہو رہے تھے۔ اِس ساری آنے والی خرابی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اپنا کردار شروع کر دیا اور فیصلہ کیا کہ اب چتاؤں کو آگ دینے اور راکھ بنانے میں دیر نہ کی جائے۔ چنانچہ رات آٹھ بجے کے قریب سردار سودھا سنگھ،دما سنگھ،جگبیر،پیت سنگھ،بیدا سنگھ،ہرے سنگھ،کڑے مان،لہنگا سئیواور دوسرے متروں کی لاشوں کو شمشان گھاٹ میں لے جا کے آگ اور لکڑیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ سردار سودھا سنگھ کا تین سالہ بیٹا سرداو جیوا سنگھ،جسے ابھی تک کچھ پتا نہیں چلا تھا کہ کون سی قیامت اُس کے سر سے گزر چکی ہے،کے ہاتھ میں جلتی ہوئی لام دے دی گئی تاکہ وہ سردار سودھا سنگھ کے گولیوں سے چھلنی بدن کو دکھا دے،جو سوکھی لکڑیوں کے درمیان بے خبر پڑا تھا۔

اِدھر سردار سودھا سنگھ کی لاش کا کریاکرم ہونے لگا،اُدھر لوئیس صاحب پولیس کو لے کر اپنی کارروائی کرنے کے لیے جلال آباد میں چوہدری غلام حیدر کی حویلی پر چڑھ دوڑا۔ چالیس سنتریوں اور تھانیداروں سمیت گھوڑوں نے پوری حویلی کو گھیرے میں لے کر اُس کا اپریشن شروع کر دیا۔ مگر وہاں دو ملازموں کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا،جو حویلی کا دروازہ بند کرنے اور کھولنے کے لیے موجود تھے۔ لوئیس نے دونوں ملازم حراست میں لے کر کونے کونے کی تلاشی شروع کر دی۔ لیکن وہاں کچھ ہوتا تو ملتا۔ رات بارہ بجے تک لالٹینوں کی روشنی میں تلاشی جاری رہی۔ مگر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ بالآخر لوئیس صاحب نے وہاں دو سنتری متعین کر کے اور دونوں ملازموں کو،جنہیں خود بھی کسی بات کا پتا نہیں تھا،اُنہیں اٹھا کر اپنے دفتر لے آیااور باقی کارروائی اگلے دن پر ڈال دی۔

لوئیس صاحب کے لیے معاملہ بہت گھمبیر ہو چکا تھا۔ اُسے یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ غلام حیدر اتنا بڑا قدم اُٹھا لے گا اور اِس میں اپنے نفع نقصان کو بالائے طاق رکھ دے گا۔ اِدھر اُسے ولیم صاحب سے انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جسے اُس نے مطمئن رہنے کا سرٹیفیکیٹ عطا کر دیا تھا۔ اب مجرم موجود نہیں تھا،جسے گرفتار کر لیا جاتا۔ جبکہ اُس کے تمام آدمی تھانہ گرو ہرسا کی حوالات میں ناجائزاسلحہ کے جرم میں بند پڑے تھے۔ اُن کا موقعہ واردات پر موجود ہونا ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ پورا تھانہ گواہی دے رہا تھا کہ ِانہیں دو دن پہلے ناجائز اسلحے اور ایک دوسرے گروہ کے ساتھ دنگا کرنے کے جرم میں گرفتار کر کے فیروز پور عدالت میں پیش کرنے کے لیے چالان تیار کیا جا چکا ہے اور واقعہ کے عین روز اُنہیں پولیس کی حراست میں عدالت لے جایا جا رہا تھا کہ سردار سودھا سنگھ،شریف بودلہ،عبدل گجر اور دوسرے کئی آدمیوں کا قتل ہو گیا۔ لوئیس صاحب کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی۔ ضمیر شاہ کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ایک یا دو بندے کس طرح اِتنے قتل اِس قدر قلیل وقت میں کر سکتے ہیں؟ مگروہ اُن بندوں کو وہاں کیسے ثابت کرے؟ جن کی خبر سردار سودھا سنگھ کے بھاگنے والے بندے دے چکے تھے۔ دوسری طرف سردار دیوے کھوہ کے مالک کے بیان کے مطابق بھی دو بندے تھے،جن کو وہ نہیں پہچانتا تھا۔ اُس نے بس اتنا دیکھا تھا کہ اُنہی دونوں نے ریفلوں سے فائرنگ کر کے اِن سب کو قتل کیا تھا اور اُن کے چہرے کپڑوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ اِس لیے پہچانے نہیں گئے۔ اِس بات کی تصدیق اِس سے بھی ہوتی تھی کہ عبدل گجر اور شریف بودلے کے قتل کے گواہوں نے بھی دو بندوں ہی کی تصدیق کی تھی۔ لوئیس صاحب جانتا تھا،کہیں دال میں کالا ضرور ہے۔ لیکن اتنی جلدی پتہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا۔ مگر اُسے پوری تحقیق کرنے کے لیے وقت بھی ملتا ہے کہ نہیں؟ اب اِس کا خطرہ موجود تھا۔ کیونکہ ولیم اب کسی بھی طرح کا رسک لینے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور اُس کے خلاف کاروائی کر دے گا۔

تفتیش کو تیسرا دن تھا۔ کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔ اُدھر ولیم شادی میں مصروف تھا۔ اور اِس وقت اُسے اِن کاموں میں اُلجھانا نامناسب ہی نہیں،اصولوں کے بھی خلاف تھا۔ اگرچہ لوئیس صاحب نے فیروزپور جا کر ساری بات ضلع پولیس افسر کے سامنے رکھ دی تھی اور اپنی پوزیشن واضح کر دی تھی۔ لیکن معاملہ اُلجھتا ہی جا رہا تھا۔ البتہ غلام حیدر کی پوری زمین اور جائداد قبضہ میں لے لی گئی اور تمام لوگوں کو خبردار کر دیا کہ جو اِس معاملے میں ملوث ہے،وہ خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دے ورنہ گورنمنٹ انتہائی سخت ایکشن لے گی۔ لیکن اِس کی نوبت نہیں آئی۔ کیونکہ اِس ہولناک واقعہ کی اطلاع جب ولیم صاحب کو پہنچی تو اُنہوں نے ڈپٹی کمشنرصاحب کو صاف لکھ دیا کہ یہ پولیس افسراُسے نہیں چاہیے۔ یوں ولیم کے تقاضے پر ڈی ایس پی جلال آباد مسٹر لوئیس صاحب کو دس دن کے اندر ہی تبدیل کر کے لدھیانے بھیج دیا گیا اور اُن کی جگہ لاہور سے تحصیل پولیس آفیسر مسٹر جان میلکم کو جلال آباد تعینات کر دیا گیا۔ جس کی سفارش کچھ دن پہلے سر شاہنواز نواب ممدوٹ نے بھی کی تھی۔ جان میلکم کے آنے کے بعد کیس کی تحقیق نئے سرے سے شروع ہو گئی۔ اُنہوں نے چند دنوں میں سودھا سنگھ کے قتل کے متعلق اپنی پچاس صفحات کی رپورٹ تیار کرلی۔ اُس کا خلاصہ کچھ یوں تھا۔

سودھا سنگھ اور شیر حیدر کے درمیان دیرینہ دشمنی چلی آرہی تھی،جودونوں طرف سے ایک دوسرے کے معمولی نقصان کرنے پرمنحصر تھی۔ یہاں تک کہ شیر حیدرفوت ہو گیا۔ اُس کا بیٹا غلام حیدر تعلیم کے سلسلے میں اکثر لاہور میں رہتا تھا اور اُس کے وہاں کافی بااثر دوست تھے،جن میں کچھ انگریز بھی تھے اور کچھ نواب حضرات۔ اِن لوگوں میں اُٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اُس کے اندر ایک قسم کی خود سری پیداہو گئی۔ جس کو ہوا اُس وقت ملی جب سودھا سنگھ نے شیر حیدر کے مرنے کے بعد فور اُس کی زمینوں پر حملہ کر کے ایک بندہ قتل کر دیا اور بیس ایکڑ مونگی کی فصل تباہ کر دی۔ اِس حملے کے بعد پولیس کی سُستی نے سودھاسنگھ کی مزید ہمت بندھائی۔ اُس نے شیر حیدر کے مزید دو دشمنوں عبدل گجر اور شریف بودلہ کے ساتھ مل کر ایک اور حملہ شاہ پور پر کر دیا،جو غلام حیدر کاآبائی گاؤں تھا۔ اِس میں غلام حیدر کے مزید تین بندے مارے گئے اور بہت سی بھینسیں لوٹ کر لے گئے۔ اسی بنا پرغلام حیدر نے جوابی حملے کا منصوبہ تیار کیا،جو انتہائی کامیاب رہا۔ لیکن اُس میں غلام حیدر نے اپنے بندوں کو استعمال نہیں کیا بلکہ ایک اور آدمی کا سہارا لیا،جس کا ابھی تک کوئی نام ونشان نہیں ملا۔ اُس کا پتا صرف غلام حیدر سے چل سکتا ہے لیکن وہ تا حال فرار ہے۔ پولیس اُسے گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اُمید کی جاتی ہے جلدگرفتارکرلیاجائے گا۔ لیکن بعض اطلاعات کے مطابق وہ ایران نکل گیا ہے۔

(39)

مولوی کرامت پچھلے دو ڈھائی مہینوں سے اپنی گدھی پر گاؤں گاؤں اور بستی بستی پھرتا رہا۔ اِس سفر اور سفر میں مختلف لوگوں سے ملاقات میں مولوی کرامت کو بات چیت کرنے اور کام کرنے میں بہت تجربہ حاصل ہو گیا۔ اُس کی گدھی ایسی سواری تھی،جسے بغیر کسی خرچے کے جہاں چاہتا،لے کر نکل جاتا۔ راستے میں کسی نہ کسی کھیت سے اُس کے لیے مفت میں چارا بھی حاصل کر لیتا۔ کبھی تین تین دن واپس نہ پلٹتا،جہاں رات پڑتی سو جاتا اور لوگوں کو تعلیم کے فوائد سمجھانے اور اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرنے کے متعلق ایسی ایسی دلیلیں پیش کرتا کہ وہ فوراً تیار ہو جاتے۔ حتیٰ کہ اب ان بچوں کی تعداد ہندو اور سکھوں کے بچوں کے نزدیک پہنچنے لگی تھی۔ مولوی کرامت نے سوچ لیا تھا،اگراُسے کچھ عرصہ اسی طرح کام کرنے دیا جائے تو وہ یہ تعداد آیندہ سال تک اِن سب سے زیادہ کر دے گا۔ اس کام میں مولوی کرامت کو سہولت بھی بہت تھی۔ نہ کوئی ڈیوٹی کا مقررہ وقت تھا اور نہ کسی کی پابندی تھی۔ کام کے سلسلے میں بات یہاں تک پہنچ گئی کہ جلال آباد سے دس دس میل دور سے بھی لڑکے سکول آنے کے لیے تیار ہو گئے۔

آج مولوی کرامت نے سکول میں حاضری دینا تھی۔ ایک ہفتے میں مولوی کرامت جتنے بچوں کو سکول میں داخل کرواتا تھا،ہفتے کے آخری دن اُنہیں سکول میں لا کر پکا اندراج کروا دیتا۔ اُس کے بعد وہ پڑھنا شروع کر دیتے۔ آج مولوی کرامت کے بستی جنڈوکا کے سولہ بچے ساتھ لے کر آیا تھا،جن کی عمر آٹھ سال سے لے کر بارہ سال تک تھی۔ مولوی کرامت انہیں نائب ہیڈ منشی کے حوالے کر کے،جب ہیڈ منشی کو سلام کرنے اُن کے کمرے میں پہنچا،تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھا۔ البتہ اُس کے بابو نے مولوی کرامت کو اطلاع دی کہ اُسے تعلیم افسرتُلسی داس اپنے دفتر میں یاد فرماتے ہیں۔ مولوی کرامت اُسی گدھی پر سوار ہو کرڈرتے ڈرتے تحصیل ایجوکیشن افسر کے دفترپہنچا کہ نجانے حاکموں نے اُسے کیوں بلایا ہے؟ اللہ جانے وہ اُس کی خدمت سے خوش ہوئے ہیں کہ ناراض۔ اوراب نوکری برقرار رہ سکے گی کہ نہیں؟ پچھلے تین مہینے کی تنخواہ مولوی صاحب کو مل چکی تھی،جسے وہ جودھا پور میں اپنی بیوی شریفاں کے حوالے کر آیا تھا۔ بلکہ اب جلال آباد میں گھر کے لیے اپنی جگہ بھی مول لینے کی سوچ رہا تھا۔ وہ پہلا مہینہ غلام حیدر کی حویلی میں عزت سے رہ رہا تھا لیکن وہاں انتہائی خوف میں مبتلا تھا۔ بڑی بڑی مونچھوں اور سُرخ انگارہ آنکھوں والے گبرو جوانوں سے حویلی بھری رہتی تھی،جن کو دیکھنے ہی سے اوسان خطا ہو جاتے۔ اس کے ساتھ،ہر طرف ڈانگوں،برچھیوں اور تلواروں کا معاملہ تھا اور لڑائی بھڑائی کی باتیں،جن سے مولوی کرامت کوسوں دور بھاگتا۔ وہ سوچتا تھا،جانے کس وقت حملہ ہو جائے اور وہ اپنے ثالے کی طرح مفت میں مارا جائے۔ اس کے علاوہ نہ کسی کو نماز روزے سے غرض تھی اور نہ اس بات سے کہ اُن کے درمیان ایک مولوی رہ رہا ہے۔ چنانچہ وہ پہلی تنخواہ ملنے کے فوراً بعد وہاں سے اُٹھ کر چار روہے کرایہ کے ایک کمرے میں اُٹھ آیا تھااور شکر خدا کا یہ جگہ اُس نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ہی تبدیل کر لی تھی ورنہ مفت میں مارا جاتا۔ اب ایک مصیبت جو سب سے اہم تھی،مولوی کرامت اپنی بیوی شریفاں کے بغیر آج تک کہیں ایک رات بھی نہیں رہا تھااور اب اُسے پورے تین مہینے ہو گئے تھے۔ مولوی نے سوچا تھا،اُس کی تین مہینوں کی تنخواہ اور جو قصور سے آتے ہوئے کچھ پیسے جمع ہوگئے تھے،اُن سب کو ملا کر جلال آباد کے اندر نہ سہی،شہر کے مضاف میں تو پانچ چھ مرلے کی جگہ مل ہی سکتی ہے۔ جہاں باقی روپوں کا ایک دو کمرے کا مکان بن جاتا۔ اُس کے لیے مولوی کرامت نے سوچ رکھا تھا،کچھ پیسے وہ رحمت بی بی سے لے گا۔ لیکن اب اس کھتری افسر نے اُسے کیوں بلایاتھا؟اگر اُس نے نوکری ختم کردی تو سارا معاملہ ہی چوپٹ ہو جائے گا۔ اُدھر راڑے والوں نے بھی کوئی نہ کوئی مولوی رکھ لیا ہو گا۔ ہاتھ سے مسجد بھی جائے گی،حالانکہ وہ کام تو اپنی بساط سے زیادہ ہی کر رہا تھا۔ اُس کے لیے اُسے دوسرے ملاؤں اور مسلمانوں سے غدار،کرسٹان اور کس کس قسم کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ مولوی کرامت نے سوچا،کیا ہی اچھا ہو،اگر گورنمنٹ اُسے آرام سے تنخواہ دیے جائے اور وہ کام کیے جائے۔ لیکن یہ بیچ میں جو بابو لوگ ہیں،یہ بہت چالاک ہوتے ہیں۔ بُری بُری باتیں کر کے افسروں کا دماغ خراب کر ہی دیتے ہیں اور یہ افسر بھی کتنے معصوم ہوتے ہیں،جو بابووں کی ایسی ویسی باتوں میں آکر غریبوں کی نوکری چھین لیتے ہیں۔ اس سے تو اچھا ہے،پہلے نوکری ہی نہ دیں۔ مولوی کر امت کسی انجانے خوف میں یہ سوچتا جاتا تھا اور چلا جاتا تھا۔

سچ بات تو یہ تھی،مولوی کرامت کو صرٖ ف اب تحصیل کے سب سے بڑے فرنگی افسر ولیم صاحب سے ہی ملنا اچھا لگتا تھا۔ کتنا نیک دل افسر ہے،جس نے بغیر سفارش کے،اُسے اتنی بڑی نوکری دے دی لیکن نجانے وہ ایک دفعہ اُسے نوکری دے کر بھول کیوں گیا تھا؟دوبارہ کبھی بلایا ہی نہیں اور نہ کوئی حساب کتاب لیا۔ مولوی کرامت جانتا تھا،دوسرے منشی اور تعلیم کا تحصیل افسر اُس کے کام سے جلتے تھے اور کسی بھی وقت اُسے نوکری سے نکلواسکتے تھے۔ اِسی اندیشے کے تحت اُس نے پہلے بھی ایک دو دفعہ بڑے صاحب سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن اُسے صاحب کے کمرے میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ بلکہ ایک مرتبہ جب صاحب اپنے دفتر سے نکل کر بنگلے کی طرف جا رہا تھا اور وہ صاحب کو اپنا چہرہ دکھانے کے لیے دو پہر سے دفترکی راہ داری کے باہر کھڑا تھا۔ اُس وقت بھی نہ صاحب نے اُس پر توجہ دی تھی اور نہ ہی کسی نے اُسے آگے ہونے کے لیے رستہ دیا تھا۔ سارے بابوؤں اور پولیس والوں نے رستہ ہی روک لیا۔ پھر بھی اُسے صاحب کی نیک دلی پر پورا یقین تھا لیکن تعلیم افسر تو ایک کھتری ہی تھا،جو شکل ہی سے مسلمانوں کا دشمن نظر آتا تھا۔

یہ سب سوچتا ہوا مولوی کرامت تُلسی داس کے کمرے کے باہر پہنچا تو تھر تھر کانپ رہا تھا۔ وہ باہر ایک بنچ پر ہی بیٹھ گیا،یہاں تک کہ اپنے آنے کا اندر پیغام بھی نہ بھیجا۔ نہ ہی کسی نے مولوی کرامت سے پوچھا،کہ وہ کس لیے آیا ہے؟ مولوی کرامت کو بیٹھے بیٹھے کافی دیر ہو گئی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا تو ایک بابو نے بالآخر مولوی سے پوچھ ہی لیا کہ وہ کون ہے اور کس لیے آیا ہے؟ اُس کے جواب نے مولوی کرامت نے وہ رقعہ نکال کر بابو کو تھما دیا،جو اُسے صبح سکول میں حاضری کے وقت نائب ہیڈ منشی ہری چند نے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ خط تعلیم افسر کے دفتر سے آیا ہے اور آپ کو حاضر ہونے کو کہا ہے۔ بابو نے رقعہ دیکھ کر اپنی عینک،جو ایک میلی ڈوری سے باندھ کر گلے سے لٹکائی ہوئی تھی،اُٹھا کر آنکھوں پر لگائی اور رقعہ پڑھنے لگا۔ رقعہ پڑھ کر ایک نظر اُس نے مولوی کرامت کو دیکھا اور بولا،مولوی صاحب،کچھ دیر یہیں بیٹھو۔ وہ رقعہ لے کر تُلسی داس کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ مولوی کرامت دوبارہ اُسی بنچ پر بیٹھ گیا۔ اس گرمی کے موسم میں صبح سے دوپہر تک مولوی کرامت کا بھوکا پیا سا بیٹھنا ایک عذاب سے کم نہ تھا۔ لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات والا معاملہ تھا۔ ابھی مولوی کرامت سوچ رہا تھا،خدا جانے کب اِس ہندو کھتری کے ہاں پیشی ہو گی کہ اُسی بابو کی آواز مولوی کرامت کے کان میں پڑی،مولوی صاحب،اندر چلو صاحب نے بلایا ہے۔ مولوی کرامت اُٹھا اور جلدی سے سورہ الناس پڑھتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔ سورہ پڑھ کر دل ہی دل میں میز کی دوسری طرف بیٹھے تلسی داس کے اُوپر پھونک مار دی۔ مولوی کو دیکھتے ہی تُلسی داس ہلکے سے مسکرایا اور ایک کُرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،آؤ مولوی کرامت بیٹھو۔

مولوی کرامت جھجکتے ہوئے کُرسی پر بیٹھ گیا اور ٹک ٹک تُلسی داس کی طرف دیکھنے لگا،لیکن منہ سے کچھ نہیں بولافقط سلام کیا۔ سلام کے جواب میں تلسی داس نے رام رام کہا اور بولا،مولوی صاحب کیسا چل رہا ہے کام؟

جی سرکار کی مہربانی سے میں تو اپنی محنت کر رہا ہوں،باقی اللہ مالک ہے،مولوی کرامت بولا،سو بچوں کو سکول میں داخل کروا چکا ہوں،صرف دو مہینوں میں۔ میں تو جی مسجدوں میں جا کر اور لو گو ں کے گھر گھر جا کر بڑی محنت سے کام کر رہا ہوں۔ لوگ حجتیں بہت کرتے ہیں۔ پر مَیں بھی اُن کو حدیثیں سنا سنا کر قائل کر ہی لیتا ہوں۔

مولوی صاحب،آپ کو زیادہ مشکل تو نہیں پیش آتی اس معاملے میں؟ تُلسی داس نے مولوی کرامت کی طرف دیکھ کر اور اپنی چُندیا پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مربیانہ سے انداز میں پوچھا۔

مہاراج،آپ کی دیا سے کچھ مشکل نہیں،مولوی نے داڑھی کھجاتے ہوئے جواب دیا،اگر سرکار تنخواہ دیتی ہے تو کام تو ایمانداری سے کرنا چاہیے۔ بس یہاں ابھی اکیلا ہوں۔ جودھا پور روز روز جایا نہیں جاتا،سوچتا ہوں کسی طرح بال بچوں کو یہا ں لے ہی آؤں پھر بے فکری سے کام کروں۔

تُلسی داس نے مولوی کرامت کی بات سن کر کہا،مولوی صاحب کمشنر صاحب کو آپ کے کام کی رپورٹ کردی گئی تھی۔ وہ آپ کے کام سے بہت خوش ہیں۔ اسی خوشی میں آپ کے لیے ایک حکم فرمایا ہے،جس کے تحت تحصیل کمپلیکس میں آپ کے رہنے کے لیے ایک گھر دے دیا جائے گا،جہاں تم اپنے بیوی بچوں کو لا سکتے ہو۔ اب تم گورنمنٹ کے پکے ملازم ہو اور بے فکری سے کام کرو۔ مکان تم کو جب تک دیا جائے گا،جب تک گورنمنٹ کے ملازم رہو گے۔ اُس میں ہر سہولت موجود ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی تم پر ایک ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔

وہ کیا سرکار؟مولوی کرامت خوشی سے کانپتے ہوئے بولا،مہاراج آپ جو کام بھی دیں گے, میں حاضر ہوں۔ سرکار مجھ پر اتنی مہربان ہے تو میں کیسے اُن کے کہے پر عمل نہ کروں گا۔

مولوی صاحب،اب آپ تین دن سکول میں پڑھائیں گے اور تین دن جلال آباد سے باہر جا کر دوسرے گاؤں کے لوگوں کو اس کام پر اُکسائیں گے۔ اس کام کے لیے آپ مزید چارایسے مولوی ڈھونڈیں،جن کو گورنمنٹ آپ ہی کی طرح تنخواہ دے گی،لیکن اُن کی نگرانی تم خود کرو گے اور ہمیں رپورٹ کیا کرو گے۔ اس معاملے میں تم کو اختیار ہے،جو مولوی مناسب سمجھو،انہیں گورنمنٹ میں ملازمت دلوا سکتے ہو،لیکن یہ کام جلدی ہونا چاہیے۔ ان چھ مہینوں میں ہم سکولوں کی تعداد دُگنی کر رہے ہیں۔ جس کے لیے کم ازکم مسلمان بچوں کی تعداد تین سو ہو جانی چاہیے۔ اس کے بعد تُلسی داس نے اُسی بابو کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا،میکا رام،یہ مولوی صاحب وہی ہیں،جن کے لیے مکان کا بندوبست کیا گیا ہے۔ آپ اُس کی کنجیاں مولوی صاحب کو دے دیں۔ اِس کے بعد تُلسی داس نے اُٹھ کر مولوی کرامت کو ہاتھ جوڑکر رام رام کہا۔ جس کا مطلب تھا کہ مولوی کرامت اب جا سکتا ہے۔

میکا رام نے کہا،آئیے مولوی صاحب اور آگے چل دیا۔ باہر نکل کر اُس نے میز کی دراز سے کچھ چابیاں نکالیں اور ایک چوکیدار کو آواز دی،جو تیس سال کا مسلمان لڑکا ہی تھا۔ اُسے کچھ سمجھاتے ہوئے کہا،میاں دُلًے،یہ کنجیاں لے جاو اور کونے والے سیتا رام کے سامنے والا گھر مولوی صاحب کو دکھا آؤ۔ اُس کے بعد مولوی صاحب سے کہا،جائیے مولوی صاحب،یہ آپ کو گھر دکھا آتا ہے۔ پھر مسکرا کر آنکھ دباتے ہوئے دوبارہ بولا،کوئی بڑی سفارش ڈھونڈی ہے مولوی جی آپ نے۔ کبھی ہما ری بھی سفارش کروا دیں۔

مولوی کو اپنے اُو پر گورنمنٹ کی اتنی نوازشات کی سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔ اُسے بس اتنا پتا تھا،اُس نے کوئی بہت بڑا نیکی کا کام کر دیا ہے،جس کا خدا اُس کو یہ صلہ دے رہا ہے۔ وہ بھی کرسٹان اور ہندوبنیے کے ہاتھوں۔ مولوی کرامت نے سوچا،ایساتو پہلے بھی ہوا ہے،خدا اپنے بندوں کو دشمنوں کے ہاتھوں سے ہی فایدہ دلواتا ہے۔ جس کی مثال موسیٰ اور فرعون کے باب میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ مکان اور ترقی حاصل ہونے کی اتنی بڑی خوشی مولوی صاحب کے قدموں کو اُڑا اُڑا رہی تھی۔ اُس کا جی چاہ رہا تھا،ابھی جودھا پور پہنچ کر یہ خبر شریفاں کو دے۔ لیکن جودھا پور جلال آباد سے پورے اَٹھارہ کوس ہونے کی وجہ سے وہاں جانے سے قاصر تھا۔ جبکہ جلال آباد میں مولوی کرامت کاکوئی رشتے دار نہیں تھا،جس کو یہ خبر سناتا۔

کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد ایک چوڑی سی گلی کے آخری کونے پر پہنچ کر،جہاں سے آگے یہ گلی بند ہو جاتی تھی،ایک مکان کے سامنے دُلا چپڑاسی رُک گیا اور بولا،لایے مولوی صاحب،پانچ روپے مٹھا ئی کے اور یہ کنجیاں لے کر دروازہ کھول لیں۔ مولوی کرامت نے ایک دفعہ گھر کو دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ اِتنا اچھا اور پکا گھر تو اُس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا لیکن پانچ روپے کا سُن کر مولوی کو غصہ آ گیا۔ مولوی کرامت نے کہا،بھائی پانچ روپے کس بات کے،؟ مجھے تو بڑے بابو صاحب نے کہا تھا کہ گھر مفت ملے گا۔
دُلًے نے عورتوں کی سی طعنہ زنی کرتے ہوئے کہا،واہ مولوی صاحب بھلا اس گھر کی قیمت پانچ روپے ہے؟ یہ پانچ روپے تو مٹھائی کی قیمت ہے۔ گھر تو آپ کو مفت ہی ملا ہے،میکا رام نے کہا تھا،مولوی صاحب سے مٹھا ئی کے پانچ روپے لیے بغیر گھر کی کنجیاں نہیں دینی۔ یہ پیسے کوئی میں نے تو نہیں رکھنے۔ آپ شکر کریں،آپ کو گھر مل رہا ہے۔ باقی بھلا کسی کو اس طرح کبھی گھر ملا ہے؟ کنجیاں تو تب ہی ملیں گی جب پانچ روپے دو گے،ورنہ اور بہت سے لوگ اس گھر کو لینے والے موجود ہیں،جو پچاس پچاس دینے کو بھی تیار ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ بڑے افسر کے پاس بڑی سفارش پہنچ جائے اور وہ یہ گھر کسی دوسرے کے نام جاری کرنے کا حکم فرما دے۔ پھر آپ منہ دیکھتے رہ جاؤ گے۔ وہ تو میں نے بھی اپنے تُلسی داس صاحب سے آپ کی سفارش کی تھی،جس کی وجہ سے یہ مکان آپ کے نام الاٹ ہو گیا۔ اگر آپ کی نہیں مرضی تو واپس چلے چلتے ہیں۔ جا کر میکا رام کو کہ دوں گا،مولوی صاحب کو آپ کی شرط منظور نہیں۔

مولوی کرامت دُلے کی بات سُن کر خاموش سا ہو گیا اور سوچنے لگا،اگر مَیں نے پیسے نہ دیے تو شاید یہ گھر نہ ملے۔ کیوں کہ جب نوکری ملی تھی تب بھی پانچ روپے مٹھا ئی کے دیے ہی تھے پھر مَیں فایدے میں ہی رہا۔ جب مَیں وہ پانچ روپے مٹھا ئی کے بھول چکا ہوں تو یہ پانچ روپے بھی دے ہی دو ں۔ کہیں بڑے صاحب کے سامنے میری بُرائی کر کے یہ بھی نہ لینے دیں۔ یہ سوچتے ہوئے مولوی صاحب نے اپنی ناف سے بندھی روپوں کی تھیلی کھولی اور گن کے پورے پانچ روپے کے سکے دُلے کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اتنے زیادہ پیسے دیکھ کر دُلے کی آنکھیں چمک گئیں،تیر عین نشانے پر بیٹھا تھا۔ اُس نے جلدی سے چابیاں نکال کر مولوی کے ہاتھ پر رکھ دیں۔

گھر ملنے کے دوسرے دن بعد ہی مولوی کرامت جودھا پور گیا۔ پھر تیسرے دن ہی جو کچھ مال اسباب تھا،لپیٹا،شریفاں،فضل دین،رحمت بی بی اور اُس کی یتیم بیٹی کو لے کر جلال آباد کے نئے گھر میں آن داخل ہوا۔ مولوی کرامت کی صرف تین مہینوں کی محنت نے یہ رنگ نکالا تھا کہ جلال آبادکے مرکزی اسکول میں ہی مسلمان بچوں کی تعداد پندرہ سے بڑھ کر ایک سو دس ہو گئی تھی۔ جس کا صلہ مولوی صاحب کو یہ ملا کہ اُسے اسسٹنٹ کمشنر ولیم کی منظوری سے جلال آباد تحصیل کمپلیکس میں ہی ایک تین کمروں کا کوارٹر رہنے کو مل گیا۔ جس میں اور تو اور پانی کا نلکا بھی لگا ہوا تھا اور گھر بھی پورے کا پورا پکی اینٹوں سے بنا تھا اور کرایہ اُس کا صرف تین روپے ماہانہ تنخواہ سے کٹنا تھا۔ گھر کے سامنے ایک ٹاہلی کا درخت بھی تھا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ گھر پکا ہونے کی وجہ سے مولوی کرامت کی بیوی کو روز روز بھوسے میں گُندھی ہوئی مٹی سے اُس کی دیواروں اور چھت کو لیپنا نہیں پڑنا تھا،جو کچی اینٹوں اور مٹی گارے سے بنے گھروں میں روز روز کا سیاپا تھا۔ اس طرح کے کچے گھر بارشوں کے موسم میں مصیبت بن جاتے ہیں۔ یہ پہلا رعب تھا،جو حقیقت میں مولوی کرامت شریفاں پر ڈالنے کے لائق ہوا تھا۔ شریفاں کے ساتھ اب اُس کی نند رحمت بی بی اور رحمت بی بی کی یتیم بیٹی بھی تھی۔ اِن کے علاوہ فضل دین تو موجود ہی تھا۔ رحمت بی بی سے نہ مولوی کرامت اور نہ ہی شریفاں نے کوئی بات کی تھی لیکن یہ قصہ خموشی سے طے ہو چکا تھا کہ رحمت بی بی کی بیٹی کا فضل دین سے اب نکاح ہونا لازمی قرار پا چکا ہے،جس کا بس اشارہ ہی رحمت بی بی کے لیے کافی تھا۔ اُس کے لیے اِس سے بڑھ کر اب کون سی بات تھی کہ جب چراغ دین قتل ہوا تو اُن ماں بیٹی کا دور دور تک کوئی پُرسان حال نہیں تھا۔ یہ مولوی کرامت ہی تھا،جس نے آخری وقت پر اُن کو سہارا دیا۔ یہاں تک کہ وہ اُنہیں جودھا پور کے اکیلے پن سے نکال کر تحصیل جلال آباد اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ لہذا رحمت بی بی جس قدر بھی مولوی کرامت کی شکر گزار ہوتی،وہ کم تھا۔

تحصیل کمپلیکس عین ریلوے اسٹیشن کے قریب تھا،جس میں مولوی صاحب اور اُس کی فیملی کو ولیم کی برکت سے رہنے کو اب ایک مکان بھی مل گیا تھا۔ کمروں میں اینٹوں کا فرش بھی لگا ہوا تھا۔ اب اُنہیں کہیں اور سے پانی ڈھونے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ مولوی یا اُس کی بیوی جب چاہتے وضو کر سکتے تھے،نہا سکتے تھے اور وہی پانی پی بھی سکتے تھے۔ مولوی کرامت،فضل دین اور دونوں عورتوں نے مل کر اونٹ گاڑی سے سامان اُتارااور اُسے ترتیب سے گھر میں رکھتے گئے۔ گھر دیکھ کرشریفاں کے دیدے کھلے ہوئے تھے،جو اَب گھر کی مالکن ہونے کے ناتے ہدایات بھی دے رہی تھی کہ فلاں چیز اِدھر رکھو،فلاں چیز اُدھر رکھو۔ چیزیں کیاتھیں،تین چارپائیاں کچھ بسترے،کھانے کے چند ایک برتن،دو لکڑی کے صندوق،جن میں سلوٹوں سے بھر ے ہوئے کپڑے اور کچھ شادی کے وقت کی باقیات جمع تھیں اور بس۔ یہی کچھ دونوں گھروں کا اثاثہ تھا،جو ایک ہی گھر میں جمع ہو کر بھی اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ اس گھر میں تین کمروں کے علاوہ اچھا خاصا صحن بھی تھا۔ موسم گرمیوں کا تھا۔ اِس لیے چارپائیاں رات کو صحن میں ہی بچھائی جانی تھیں۔ البتہ دن کے وقت اُنہیں کمروں میں منتقل کیا جاسکتا تھا۔ گھر میں موجود ٹاہلی کے درخت نے یہ مشکل بھی دور کر دی۔ سورج کی گرمی سے بچنے کے لیے دن کو چارپائیاں ٹاہلی کے سائے میں بچھائی جا سکتی تھیں۔ صحن کچا تھااور اُس میں گھاس پھونس اتنا اُگا تھا کہ گرد غبار بالکل نہیں تھا۔ گھاس کاٹنے کی ضرورت تھی،جو فضل دین آرام سے کر سکتا تھا۔ مولوی کرامت نے سامان اُتروا کر اونٹ گاڑی والے کو پیسے دے کر رخصت کیا۔ کچھ دیر بیٹھ کر آرام کیااور عصر کے وقت جب گرمی کا کچھ زور تھما تو دونوں عورتوں کو گھر پر چھوڑفضل دین کو لے کر جلال آباد کے بازار میں چلا آیا تاکہ کھانے پکانے کے لیے دال،چاول،آٹا اور گھی وغیرہ خرید لے۔ بازار جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے،کوئی خاص نہیں تھا۔ ٖفضل دین نے تو خیر کبھی نہیں،البتہ مولوی کرامت نے تو قصور کابازار دیکھا ہی تھا۔ وہ اِس سے کہیں بڑا تھا۔ پورے جلال آباد میں ایک ہی بازار تھا۔ کوئی دو سو گز لمبی اور بارہ گز چوڑی سڑک تھی۔ جس کے دونوں طرف کچی پکی اور لکڑی کے بڑے تختوں والی چند ایک کھلی کھلی دکانیں تھیں۔ دکانوں کے بنیروں کے اُوپر دورویہ بانس کی لکڑیاں ڈال کراُن کو رسیوں سے باندھ دیا گیا اور اُوپر کٹی پھٹی ترپالیں بچھا دی گئیں تاکہ بازار سے گزرنے والوں پر دھوپ نہ پڑے جو مئی،جون،جولائی میں اتنی بڑھ جاتی کہ ننگے سر والوں کی چیں بول جائے۔ تر پالیں دوکانداروں نے خود ہی اپنے خرچے سے ڈال کر بازار میں چھاؤں بنا رکھی تھی۔ اِس میں دوکانداروں کی یہ حکمت بھی تھی کہ زیادہ تر سودادوکان سے باہر ہی پڑا ہوتا تھا۔ ایک تو اُس پر سایہ ضروری تھا۔ دوسرا اُس سودے کو آکر دیکھنے یا خریدنے والادھوپ کی شدت سے بچ کر آرام سے سودے کو ملاحظہ کر سکتا تھا۔ اگر گاہک کو مسلسل دھوپ تنگ کر رہی ہو،تووہ جلد ہی کھسکنے کی کرتا ہے اور دوسری دوکان میں داخل ہو جاتا ہے۔ دکاندار،جس قدر زیادہ امیر ہوتا،اُس کی دکان کے اُوپر ترپال اتنی ہی اچھی ہوتی۔ مولوی کرامت نے ایک دفعہ پورے بازار کا ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک چکر لگا یا۔ فضل دین کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ بازار میں کس لیے آئے تھے کیونکہ نہ تو اُس نے پچھلے دو تین مہینوں سے روٹیاں اکٹھی کی تھیں،جو بیچنا ہو اور نہ ہی فضل دین کے خیال کے مطابق مولوی کرامت کے پاس پیسے تھے،کہ ٹانگر یا کھجوریں خریدنی ہوں۔ وہ حسرت بھری نگاہوں سے دوکانوں کو دیکھتا جاتا۔ جہاں سے اکثر سکھ،ہندو اور مُسلے کچھ نہ کچھ خریداری کر رہے تھے یا بیچ رہے تھے۔ بازار میں زیادہ تر عورتیں تھی۔ بوڑھی،جوان،سبھی قسم کی۔ اِن میں سکھ اور مسلمان عورتوں کے لباس گفتگو اور چال ڈھال میں کچھ فرق نہیں تھا۔ اکثر عورتوں نے لہنگے اور کگھرے پہنے ہوئے تھے اور اُن کگھروں کے آزار بندوں کے ساتھ اُن کے گھروں کے صندوقوں اور کمروں کی چابیاں لٹکی چھن چھن بجتی جا رہی تھیں اور بازار میں اِن عورتوں کے چلنے سے ایک قسم کے ساز میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ بازار کے آخری کونے پر جا کر جہاں اب سوائے دھوپ کے آگے کوئی شے نظر نہیں تھی،مولوی کرامت واپس پلٹا اور ایک کھتری کی دوکان پر رُک گیا۔ وہ ضرور کسی مسلمان کی دوکان پر رُکتالیکن وہاں مسلمان کی دوکان تو ایک طرف،کسی مسلمان نے چھابڑی تک نہیں لگائی تھی۔ دکانوں کے مالک اکثر ہندو تھے،۔ چھابڑیاں سکھوں نے لگا رکھی تھیں۔ چھابڑیوں میں بھی زیادہ تر چِبڑ، رینڈیاں، تربوز، تریں اور اِسی طرح کی سستی اشیا آنے کی تین کلو بکنے والی تھیں۔ پھل تو کسی کے پاس نہیں تھا۔ البتہ سڑے ہوئے دیسی آم اور کچے پکے کیڑوں والے امرودوں کی الگ بات تھی۔ جنہیں دیکھ کر مولوی کرامت نے سوچ لیا کہ جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ اِن اَمرودوں اور کھجوروں میں سے رحمت بی بی اور شریفاں کے لیے لے جائے گا۔ قصہ مختصر اُس نے کھتری سے ایک آنے کا دیسی گھی،دو آنے کی دال اور اِسی طرح کچھ دوسری چیزیں خرید کر دو روپیہ کا پورا گٹو بھر کے فضل دین کے سر پر رکھ دیا۔ تھوڑی دُور چل کر مولوی کرامت کے دل میں خیال آیا،وہ پیچھے مُڑا اور ایک آنے کا ٹانگر،امرود اور کھجوریں بھی خرید لیں۔ اُس میں سے تھوڑا سا ٹانگر مولوی کرامت نے فضل دین کو بھی دے دیا،جسے پا کر اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ گٹو سر پر اُٹھائے ٹانگر چبانے لگا اور مولوی کرامت کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ۔ مولوی کرامت اب سر پر کُلے دار پگڑی رکھے اور ہاتھ میں عصا تھامے بازار کے بیچوں بیچ بڑی طمطراقی سے چل رہا تھا۔ خشک چمڑے کی جُوتی میں آواز تو پیدا نہیں ہو رہی تھی لیکن اُس کی کھدر کی سفید چادر اور کُرتے کے نیچے جوتی کا ہونا ہی اِس بات کی دلیل تھی کہ اب وہ عوام سے نکل کر اَشراف میں داخل ہو رہا تھا۔ عوام میں تو اکثر کے پاس جوتی نہیں تھی یا چادر کی بجائے ڈیڑھ گز کی دھوتی ہوتی تھی اور گلے میں قمیض کے بدلے میں فقط جانگیہ ہوتا،جس کے ہاتھ بھر کے سلوکے ہوتے۔ اَصل میں مولوی کرامت کی زندگی میں یہ پہلا دن تھا،جب اُس نے بازار سے پیسوں کے ذریعے خریدار ی کی تھی۔ ورنہ اُسے کبھی اِس طرح کی شاہانہ کاروائی کا موقع نہیں ملا تھا۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتاتھا،جو لوگ بازار سے خریداری کرتے ہیں،وہ یا تو ذیلدار ہوتے ہیں یا بابو لوگ۔ اُسے یہ تصور ہی نہیں تھا،ایک دن وہ خود منشی بن جائے گا اور جلال آباد کے بازار سے گھر کے لیے سودا سلف خریدا کرے گا۔ اور اب تو یہ موقع اُسے ہر روز یا جب چاہے مل جایا کرے گا۔ کیونکہ اب وہ بھی ایسی سرکار کا نوکرتھا جو بہت امیر تھی۔ سرکار اُسے اُس کی تنخواہ ہر ماہ اب ضرور ہی دے دیا کرے گی،جس میں وہ زیادہ پیسے بچا کر رکھ لیا کرے گا اور کچھ کا سودا سلف خرید لیا کرے گا۔ اِسی رو میں اُس کا دماغ کہیں کا کہیں جا نکلا۔ جامع مسجد جلال آباد کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک خیال پیدا ہوا،اگراُسے منشی گیری کے ساتھ اِس مسجد میں امامت کا کام بھی مل جائے تو سونے پر سہاگہ ہو جائے گا۔ اِس طرح آمدنی بھی دگنی ہو جائے گی اور مسجد میں پُرانی خدمت بھی بحال ہو جائے گی۔ لیکن اِس کے لیے اُسے اِس مسجد کے پہلے امام کا کوئی بندوبست کرنا ہو گا۔ بہتر یہ ہے کہ اُسے منشی بنوا کر منڈی گرو ہر سا بھجوا دوں اور یہاں کی امامت خود لے لوں۔ مگر پہلے اچھی طرح سے یہاں کے نمازیوں کے ساتھ علیک سلیک بڑھانی ہوگی۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ دو چار مہینوں کے لیے مفت میں کچھ لیے دیے بغیر ہی لوگوں کے مُردوں کو نہلا دیا کروں یا اُن کی قبروں پر جا کر فاتح خوانی کر آیا کروں،یا کبھی صبح اور عشا کی اذان دے دی جائے۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ خود ہی اُس کی طرف رجوع کر لیں گے۔ جب لوگ اُس پر مکمل اعتماد کر لیں تو اِس امام کو گورنمنٹ سے نوکری دلوا کر کہیں اور بھجوا دوں گا۔ اِس طرح کسی کو محسوس بھی نہ ہو گا اور مسجد بھی ہاتھ میں آ جائے گی۔ اِس کے بعد فضل دین کی شادی رحمتے کی بیٹی ہاجرہ سے ہو جائے تو چراغ دین کے نام،جو غلام حیدر نے دس ایکڑ زمین نام کروائی ہے،وہ بھی اُنہیں مل جائے گی۔ یہ بھی ہو سکتاہے،وہ خود رحمت بی بی سے نکاح کر لے،توسارا معاملہ بالکل ہی سیدھا ہو جائے لیکن اُسے فوراً شریفاں کا غصے سے سُرخ ہوتا ہوا چہرا دکھنے لگا۔ اُس نے ایک جھر جھری لے کر یہ خیال جلد ہی دماغ سے جھٹک دیا اور بازار سے گزرتے ہوئے لوگوں کو سلام علیکم کہنے لگا۔ اب تھوڑی دیر میں مولوی صاحب کا گھر آنے والا تھا۔ اُس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ خدا دِلوں کے بھید کسی دوسرے پر نہیں کھولتا۔ ورنہ اگر آج اُس کے رحمتے سے شادی والے خیال کو شریفاں جان جائے تو ابھی گھر میں صفِ ماتم بچھ جائے بلکہ وہ گھر میں داخل ہی نہ ہو سکے۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – اٹھارہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(33)

مولوی کرامت کی آنکھ کھلی تو ستارے اپنی ترتیب بدل رہے تھے لیکن کھتیاں صبح کاذب سے ابھی دور تھیں اور فجر کی اذان میں کافی وقت تھا۔ مولوی کرامت عادت کے مطابق بہت ہی سانجرے اُٹھ جاتا تھا۔ اِس لیے حاجات ضروریہ وغیرہ کے لیے کھیتوں میں نکل جاتا،جو اکثر لوگوں کا معمول تھا۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ گھروں میں جھاڑے پیشاب کے لیے جگہ بنائی جائے۔ کھیتوں میں منہ اندھیرے اِس کام کے لیے جانے سے تازہ ہوا اور لمبی سیر کے ساتھ ساتھ رفع حاجت کے کام سے بھی فارغ ہو جا تا۔ کئی لوگ تو اِس سلسلے میں چلتے چلتے تین چار کلو میٹر تک نکل جاتے۔ بہر حال اِس کے بعد مولوی کرامت سیدھا پاس کی چھوٹی مسجد کا رخ کرتا جس میں زیادہ تر غلام حیدر کی رعا یا اورچند ادھر اُدھر کے لوگ نماز پڑھنے آجاتے۔ مولوی مسجد میں پہنچ کرتہجد پڑھتا،پھر قرآن کھول لیتا اور جب تک نماز فجر کا وقت نہ ہو لیتا،اُسی کی تلاوت کرتا رہتا۔ اِس مسجد کا مولوی پہلے سے ایک موجود تھا،جو غلام حیدر کا خاندانی مولوی بھی تھا۔ اِس لیے مولوی کرامت کو اُس کے پیچھے نماز پڑھنا پڑتی لیکن دل ہی دل میں اِس بات کا دکھ بھی تھا۔ اور خواہش تھی،کاش وہ اِس مسجد کا مولوی بن جائے۔ کبھی اُس کے جی میں خیال آتا،خدا کرے یہ مولوی مر جائے۔ پھر اُسی خیال میں اپنی امامت کے منصوبے بنانے لگتا۔ مگر تھوڑی دیر بعد جھر جھری لے کر اس سوچ کو جھٹک دیتا اور خدا سے توبہ کرتا۔ ایک دفعہ اُسے یہ خواب بھی آیا کہ پہلا مولوی مر گیا ہے اور وہ لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہے۔

اب اُسے جلال آباد میں آئے ہوئے اور سکول میں پڑھاتے کئی دن ہو گئے تھے۔ رہنے کے لیے چوہدری غلام حیدر کی حویلی میں انتظام بھی تھا۔ حویلی کی ڈیوڑھیوں میں سے ایک ڈیوڑھی کے چھوٹے سے کمرے میں چراغ دین کا رشتے دار ہونے کے ناطے بستر جمانے کی جگہ مل چکی تھی اور ناشتے کے علاوہ دو وقت کا کھانا بھی مل جاتا۔ ہیڈ منشی اُس کی کارکردگی سے کافی مطمئن تھا۔ سکول سے چھٹی کے بعد مولوی صاحب فارغ ہوتا۔ ان اوقات میں وہ جلال آباد اور اُس کے مضافات کی سیر کو نکل جاتا۔ اِس طرح کچھ ہی دنوں میں اُس نے یہ علاقہ بھی قریب قریب دیکھ لیا۔

جلال آباد کہنے کو تحصیل تھی لیکن اس کی آبادی بنگلہ فاضلکا سے بھی کم تھی۔ مشکل سے چارسو گھر کا شہر تھا۔ گویا ایک قصبہ تھا،جسے فیروز پور ضلع کے مرکز میں ہونے کی وجہ سے تحصیل کا درجہ دے دیا گیا۔ جلال آباد میں تحصیل کمپلیکس کے علاوہ ایک چھوٹی سی غلہ منڈی تھی،جس کے زیادہ تر آڑھتی ہندو تھے اورکاروبار پر قابض تھے۔ منڈی میں جن اجناس کا لین دین تھا وہ بھی مخصوص تھیں۔ جیساکہ جَو،باجرہ،چنے اور گندم۔ ان کے علاوہ نہ ہی جلال آباد میں کوئی فصل تھی اور نہ بڑے پیمانے پر کسی اور شے کا کاروبار تھا۔ البتہ سُرخ مرچیں،پیاز،لہسن اور سستے پھل،جن میں سے اکثر سڑے ہوتے تھے،یہاں تھوڑے بہت دستیاب تھے۔ منڈی کے باہر بھی کچھ دوکانیں تھیں لیکن وہ دوکانیں جلال آباد کے بازار میں تھیں۔ بازار مشکل سے بیس پچیس دوکانوں پر مشتمل تھا۔ اِنہی میں ایک دو کپڑے کی بھی تھیں۔ اُن میں بھی کھدر اور سوتی کپڑے کے علاوہ دوسرا کپڑا نظر نہیں آتا تھا یا ہاتھ کے بنے ہوئے کھیس،چادریں اور رنگ برنگی لنگیاں تھیں۔ منڈی کے بر عکس یہاں کچھ سکھ دوکانداربھی نظر آ جاتے مگراُ ن کی حالت ہندو ؤں سے کافی پتلی تھی اور مسلمان تو سِرے سے نہیں تھا۔ دکانوں میں روزمرہ استعمال کی چیزیں اور چھوٹی موٹی کھانے کی اشیا مثلاً دیسی شکر،گُڑ،نمک،مسالہ جات،ٹانگر،میدے کی برفی اور کھانڈ کی چوسنے والی گولیا ں،چاول،دال اور اسی طرح کی دیگر چیزیں بوریوں میں کُھلے منہ پڑی رہتی تھیں۔ اکثر دکانداروں نے تیسرے درجے کی کھجوریں بھی رکھی تھیں،جن پر ہر وقت مکھیاں بھنبھناتی رہتیں اور گاہک مکھیوں سے بے پروا یہ سستی کھجوریں لے جاتے۔ کھجوریں اور ٹانگر عموماً دیہات سے آئے ہوئے لوگ ہی اپنے ساتھ لے کر جاتے۔ یہ چیزیں سستی ہونے کے ساتھ میٹھی اور مزیدار بھی لگتیں اور بچے اِنہیں کھا کے خوش ہو ہو کر اُچھلتے کودتے۔ اِن کے علاوہ ایک حلوائی تھا،جس کی دوکان تو نہیں تھی،بس ایک پھٹے پُرانے شامیانے کے نیچے دو چولہوں کے اُوپر دو کڑاہیاں رکھ کر ایک میں جلیبی اور دوسری میں پکوڑے تَل تَل کر پراتوں میں ڈھیر لگاتا جاتا۔ یہ حلوائی مسلمان تھا۔ بازار میں آنے والے ہر ایک نے اپنے اُوپر لازم کر لیا تھا کہ وہ اِس سے پکوڑے اور جلیبی ضرور لے کر کھائے اور گھر لے جائے۔ ایک مدت ہو گئی تھی لیکن اِس کا یہ تھڑا دوکان میں نہیں بدلا تھا اور نہ اس نے کاروبار میں کچھ اضافہ کیا تھا۔ ان دکانوں اورمنڈی کے علاوہ جلال آباد میں ایک مسجد،ایک گوردوارہ اور ایک مندر بھی تھا اور یہ تینوں مذہبی عمارتیں اپنے اپنے مکینوں کے درمیان ہی تھیں۔ اِن کے علاوہ کوئی ایسی خاص چیز نہیں تھی جس کا ذکر کیا جائے۔ ہاں ریلوے اسٹیشن البتہ جلال آ باد کے شمال کی طرف تحصیل کمپلیکس کے بالکل ساتھ پڑتا تھا۔ یہ اُس وقت واحد سواری تھی،جو جلال آباد کے رہنے والوں کو دور دراز لے جاتی اور لے آتی۔ اکثر دیہاتی بھی اِسی ریل کے ذریعے جلال آباد آتے۔ کیو نکہ اُس وقت ریل اکثر بڑے بڑے دیہاتوں میں رُکتے ہوئے آتی تھی۔ کرایہ سستا ہونے کی وجہ سے لوگ اپنی اشیاء بھی اِسی کے ذریعے منڈی میں لا کر بیچتے یا پھر یہاں سے فیروز پور لے جاتے۔ ریل کے علاوہ سواری اور باربرداری کے لیے جو ذرائع تھے،اُن میں زیادہ تر گدھے،اونٹ اور گَڈے تھے جسے آپ بیل گاڑی کہہ لیں۔ بعض لوگ گھوڑے کو بھی استعمال میں لاتے مگر یہ خال خال ہی تھا۔ کچھ بڑے زمینداروں یا پولیس کے پاس۔

محکمہ تعلیم کے طرف سے مولوی کرامت کو نیا حکم نامہ ملے تین دن ہو چکے تھے مگر ابھی تک اُس نے کام شروع نہیں کیا تھا۔ وہ اِسی شش پنج میں تھا کہ کیا کرے اور کس طرح لوگوں کو اُسی کام کے لیے تیار کرے؟ جس کے خلاف خود وہ یا اُس کے بھائی بند فتوے دے چکے تھے۔ وہ سوچ رہا تھا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ جب تین دن اِسی سوچ بچار میں گزر گئے تو اُسے اچانک ایک ترکیب سوجھی اور آج مولوی نے اُس پر عمل کرنے کی ٹھان لی۔ اُس نے تہیہ کر لیا کہ جلال آباد کی جامع مسجد سے اپنی ڈیوٹی شروع کر ے گا۔ مولوی کرامت نے بستر سے اُٹھ کر سر پر ا چھے طریقے سے پگڑی باندھی۔ اُس کے بعد بستہ بغل میں دبایا اور چھڑی پکڑ کر کمرے سے باہر نکل پڑا۔ باہر نکل کر اُس نے ایک دفعہ بستہ اور چھڑی زمین پر رکھ کر اپنے کمرے کو تالا لگاکر چابی ازار بند سے باندھی پھر بستہ اور چھڑی زمین سے دوبارہ اُٹھا ئی اور چل دیا۔ باہر اُس کی گدھی موجود تھی،جس کے آگے مولوی صاحب نے رات بہت ساری چاولوں کی پھک ڈال دی تھی۔ پھک ابھی تک کافی مقدار میں پڑی تھی،جسے مولوی کی گدھی وقفے وقفے سے کھا رہی تھی۔ یہ گدھی اُس نے سواری کے لیے جودھا پور سے پورے سات روپے کی لی تھی لیکن اُس پر سواری کرنے کا ابھی موقع نہیں ملا تھا کیونکہ سکول نزدیک تھا۔ مگر اب مولوی کو جو ڈیوٹی دی گئی تھی،اُس کے مطابق اُسے ارد گرد کے گاؤں میں بھی جانا پڑنا تھا۔ سفر طے کرنے کے لیے اُسے گدھی کا سہارا چاہیے تھا۔ لیکن اس وقت مولوی نے اُسے وہیں بندھا رہنے دیا کیونکہ جامع مسجد زیادہ دور نہیں تھی۔

ابھی اندھیرا تھا اور بہار کی ہوا ہولے ہولے چل رہی تھی۔ ہوا کے اندر سردی کا لمس بالکل ختم ہو چکا تھا کیونکہ فروری کب کا نکل گیا تھا اور مارچ اپنے آخری دن پورے کر رہا تھا۔ مولوی کرامت زمین پرچھڑی ٹکاتا ہوا مسجد کی طرف بڑھنے لگا۔ اِدھر اُدھر لیٹے آوارہ کتوں نے مولوی کرامت پر اس طرح بھونکنا شروع کر دیا،جیسے اُن کی سلطنت میں ایک اور اُن کا شریک آگیا ہو۔ مولوی کرامت دور ہی سے کتوں کو چھڑی دکھاتاآگے بڑھتا گیا۔ ابھی وہ مسجد کے دروازے پر ہی تھا کہ موذن نے اذان دینا شروع کردی۔ مولوی کرامت نے جلال آباد کی مسجد میں قدم رکھا تو اُس کا دل ایک مرتبہ بالکل ڈگمگا سا گیا۔ کہاں تو اپنے گاؤں کی مسجد کا واحد مالک تھا،جو اُس کا ایک قسم کا گھر تھی۔ وہ اُس میں جب چاہتا اذان دیتا،جب چاہتا نماز کا وقت آگے پیچھے کر دیتا اور جیسے چاہتا مسجد کے درودیوار کے اور صفوں کے بار ے میں فیصلے صادر فرماتا۔ ایک یہ مسجد تھی جس کی ہر شے اجنبی تھی۔ یہاں نہ کسی نے اُس سے پوچھ کے اذان دینا تھی اور نہ دوسرے کسی معاملے میں کوئی مشورہ لینا تھا۔ اُسے محسوس ہوا جیسے روح گھٹتی جارہی ہو اور وہ ابھی مر جائے گا۔ عین ممکن تھا مولوی کرامت گھبرا کے واپس مڑ جاتا،اُسی وقت اُس نے اپنے پیچھے ایک شخص کے قدموں کی آواز سُنی جس کے سبب مولوی کرامت نے اپنے دل کو سنبھالا دیا اور مسجد کے صحن میں داخل ہو گیا۔ مسجد کے دائیں بائیں برآمدے تھے،جن میں صفیں بچھی ہوئی تھیں لیکن ان برآمدوں میں ایسے لگتا تھاجیسے مدت سے کسی نے نماز نہیں پڑھی تھی۔ صفوں پر گرد او ر سفید سیم اُبھری ہوئی تھی،جو لال ٹین کی روشنی میں صاف نظر آ رہی تھیں۔ شاید سردی کی وجہ سے برآمدوں میں نماز نہ پڑھنے کے ساتھ اُن کی صفائی کا خیال بھی نہیں رکھا گیا تھا۔

مولوی کرامت نے اپنا بستہ اُتار کر وہیں برآمدے میں رکھا اور طہارت خانے کی طرف رُخ کیا۔ کچھ دیر میں حاجت سے فارغ ہو کر پہلے آرام سے وضو کیا پھر خاص مسجد میں آکر محراب کے پاس کھڑا ہو گیا تا کہ با جماعت فرض ادا کرنے سے پہلے نماز سُنت ادا کر لے۔ مولوی نے دیکھا،جس موذن نے اذان دی تھی،وہ بیٹھا تسبیح کے دانے گن رہا تھا۔ غالباً اُس نے اپنی نمازِ سُنت ادا کر لی تھی۔ مولوی کرامت نے اُسے سلام علیکم کہا اور جوا ب سُنے بغیر ہی نماز کے لیے اللہ اکبر کہ دیا۔

نماز با جماعت میں کم از کم ڈیڑھ سو آدمی جمع تھے اور یہی بات مولوی کرامت کے لیے خوشی کا باعث تھی۔ جب سب لوگ نماز پڑھ کر دعا مانگ چکے اور اُٹھ کر جانے لگے تو مولوی کرامت کھڑا ہو گیا اور بولا،بھائیو کچھ دیر کے لیے اگر بیٹھ جاؤ اور میری بات سُن لو تو تمھاری مہربانی ہو گی۔ لوگ مولوی کرامت کی بات سُن کر بیٹھ تو گئے لیکن ذرا بد دلی سے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے مولوی صاحب کچھ دیر تقریر کرنے کے بعد اپنی کسی ضرورت کے لیے چندہ مانگ لے گا جیسا کہ اکثر اس طرح کے ملاً حضرات کا معمول تھا۔ پھر بھی اُنہوں نے سوچا،کچھ دیر کے لیے سُن لینے میں کیا حرج ہے۔

سب لوگ بات سننے کو تیار ہو گئے تو مولوی کرامت نے بولنا شروع کر دیا۔ اِس تقریرکے لیے اُسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ جب سے ہوش سنبھالے تھے،مولوی کرامت نمازیوں کو باتیں ہی سناتا آیا تھا۔

میرے مسلمان بھائیو،مَیں جلال آباد کے اِس بڑے اسکول میں منشی بن کر آیا ہوں جو انگریز بہادر نے ہمارے بچوں کے لیے بنایا ہے۔ میرا ارادہ ہے مَیں تمھارے بچوں کو عربی،فارسی اور حساب کتاب پڑھاؤں تاکہ یہ بڑے ہو کر بابو بنیں۔ گورنمنٹ انگریز بہادر نے مجھے کچھ ہی دن پہلے اِس نوکری پر رکھا ہے لیکن جب میں نے دیکھا،اِس بڑے اسکول میں تو مسلمان بچے نام کو بھی نہیں۔ سارے بچے ہندو،سکھ اور چوہڑے ہیں تو میرا جی بہت دُکھا۔ اس لیے میں نے ارادہ کیا مَیں آپ کو خود آ کر گزارش کروں کہ اپنے بچوں کو اسکول میں داخل کراؤ۔
مولوی کرامت کی بات سُن کر سب لوگ حیران ہوئے۔ اُنہیں یہ خیال تک نہیں تھا کہ کوئی مولوی ہم سے چندے کے علاوہ اِس طرح کے سوال بھی کرنے آئے گا۔ یہ تو بالکل ہی انوکھا آدمی تھا،بلکہ اُن کی حیرت اِس لیے بھی زیادہ ہوگئی کہ اسکول میں داخلے کی بات ایک مولوی کر رہا ہے۔ حالانکہ سب جانتے ہیں،اِن اسکولوں میں مسلمان بچوں کو نصاریٰ کی تعلیم دے کر کرسٹان بنایا جاتا ہے۔ اِسی لیے تو چوہڑوں کے پورے گاؤں کے گاؤں کرسٹان ہوئے ہیں۔

اُن کی حیرانی اور پریشانی دیکھ کر مولوی کرامت مزید بولا،بھائیو،میرے اور آپ کے رسول اور اللہ کے پیارے نبی محمدعربی نے فرمایا ہے،علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے لیکن کتنی بد بختی ہے ہمارے لیے کہ ہمارے نبی کے اس فرمان پر ہندو اور چوہڑے تو عمل کر رہے ہیں مگر ہم نافرمانی کر رہے ہیں۔ مجھے یہ بتاؤ ہم اپنے گھر کے پاس بننے والے اسکولوں میں ہی بچے نہیں بھیجتے،چین میں جانا تو دور کی بات ہے۔ میرا اور آپ کا نبی جانتا تھا،میری امت غریب ہے،ان کے پاس چین جانے کا خرچہ نہیں ہوگا اس لیے اُس نے کرسٹان،جو شروع دن سے ہی ہمارے نوکر اور ہمارے لیے کام کرنے والے رہے ہیں،اُن کو اس کام پر لگایا کہ وہ ہمارے لیے اِس طرح کے سکول اور مدرسے بنائیں جس طرح چین میں ہوتے ہیں۔ اب آپ ہی بتاؤ ہم چین جا سکتے تھے؟ نہیں جا سکتے تھے نا؟ تو بھائیو،اِس گورنمنٹ کا شکر کرو کہ جس نے چین لا کر جلال آباد میں اور فیروز پور میں رکھ دیا اور ہمیں دور نہیں جانا پڑا۔

مولوی کرامت کی بات سُن کر مسجد کے پیش امام نے فوراً ٹوکا،لیکن وہ تو مولوی صاحب،رسولِ پاک نے دین کے علم کی بات کی تھی کہ دین کا علم اگر تم کو چین میں جا کر حاصل کرنا پڑے تو اتنا لمبا بھی سفر کرنا مگر یہ انگریزی سکولوں میں تو کرسٹان کا علم ہے۔ ان سکولوں میں جا کر ہمارے بچے کرسٹا ن ہو جائیں گے اور دین خراب ہو جائے گا۔ تم نے فرنگی سرکار سے پیسے کھا لیے ہیں۔
مولوی کرامت کو اُس کی بات بہت بُری لگی۔ اُس نے سوچا اگر اِسی طرح یہ خبیث مولوی مجھے ٹوکتے رہے تو نوکری ضرور چلی جائے گی۔ اگر چہ اُس نے خود بھی ْقصور میں کئی باراِن اسکولوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور لوگوں کو روکا تھا کہ وہ ان اسکولوں میں نہ جائیں لیکن اب معاملہ وہ نہیں رہا تھا۔ اُس کے خیال میں اب گورنمنٹ نے بچوں کو کرسٹان بنانا چھوڑ دیا تھا۔ لیکن اِس جاہل مولوی کو کیا پتا سرکار کا نظریہ بدل چکا ہے۔

مولوی کرامت نے دیکھا کہ بات بگڑ سکتی ہے تو اُس نے بڑے تحمل سے ایک نئی چال چلی اور کہا،پہلی بات تو یہ ہے بھایؤ کہ اب گورنمنٹ سرکاری اسکولوں میں مسلمان بچوں کی تعلیم کے لیے مولویوں کو رکھ رہی ہے۔ سرکار نے اعلان کیا ہے،جو مولوی اچھی طرح سے دین اور عربی فارسی پڑھا ہو گا،اُسے سرکار اسکولوں میں تنخواہ پر مُنشی رکھے گی تا کہ وہ خود مسلمان بچوں کو پڑھائیں۔ اِس طرح کوئی خطرہ نہیں رہے گا اُن کے کرسٹان بننے کا۔ مجھے یہ مولوی صاحب ایک بات بتائیں،چین میں کون سے دین کی تعلیم دی جاتی تھی؟ ہمارا پیغمبر تو آیا عرب میں۔ اِس لیے دین اور اُس کا علم تو سارا وہاں تھا لیکن آپ نے یہ کیوں کہا،تم چین میں جانا؟ بتاؤ؟ (اپنی سفید ڈاڑھی میں انگلیوں سے خلال کرتے ہوئے )اِس کا مطلب ہے،وہ کوئی اور علم تھا،جس کے لیے چین جانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ پھر چند لمحے رُک کراور پیش امام کی طرف رُخ کر کے،جس کے آگے مولوی کرامت نے گورنمنٹ کی نوکری کا لقمہ پھینک دیا تھا اور وہ ذہنی طور پر شکست تسلیم کرنے کے لیے آمادہ ہو چکا تھا،مجھے ایک بات بتاؤ مولوی صاحب ! جب بد ر کی جنگ ہوئی اور کافر پکڑے گئے تو اُن کو آزاد کر نے کی ہمارے نبی نے کون سی شرط لگائی تھی؟پھر لوگوں کی طرف دیکھ کر،پوچھو اِس سے؟
ایک شخص جو اُن میں سب سے معزز نظر آ رہا تھا اور ہلکی سی ڈاڑھی بھی رکھتا تھا،ایسے محسوس ہوتا تھا،پیش امام کا زیادہ تر خرچہ اِسی کے گھر سے پورا ہوتا ہے۔ اُس نے پیش امام سے پوچھا،جی مولوی صاحب آپ بتائیں کس شرط پر ہمارے رسول نے اُن قیدیوں کو چھوڑا تھا؟

جب پیش امام نے چند لمحے تک کوئی جواب نہ دیا تو اُس شخص نے مولوی کرامت سے کہا،مولوی صاحب آپ ہی بتائیں،وہ کون سی شرط تھی؟

اب مولوی کرامت کو اپنی فتح قریب نظر آرہی تھی۔ نوکری کی نوید سُن کر پیش امام نے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ لہذا مولوی کرامت نے بولنا شروع کیا،ہوا یہ مومنو،جب نبی پاک اُن قیدیوں کو پکڑ کر مدینے لے آئے توآپ نے اعلان کیا،جو کا فر قیدی ہمارے دس مسلمان بچوں کو تعلیم دے گا اور اِنہیں پڑھنا لکھنا سکھائے گا،ہم اُس کو آزاد کر دیں گے۔ اِس حکم پر بیس قیدیوں نے مدینے کے پورے دوسو مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھایا اور ہمارے نبی پاک نے اُن کو شرط کے مطابق آزاد کر دیا اور پیسے بھی دیے۔

یہ کہ کر مولوی کرامت خموشی سے مسجد میں موجود لوگوں کی طرف دیکھنے لگا۔ جب چند ثانیے اسی طرح گذر گئے اور کسی نے اُس کی بات کو رد نہ کیا تو مولوی کرامت نے مزید اپنی بات کو پختہ کرنے کے لیے کہا،اب مسلمانو آپ ہی بتاؤ،وہ قیدی تو پکے کافر تھے۔ رسول تو رسول،خدا کو بھی نہیں مانتے تھے،پھر بھی رسول پاک نے مسلمان بچوں کو اُن سے پڑھانے سے گریز نہ کیا لیکن نصاریٰ تو پھر بھی خدا کو مانتے ہیں اور مفت میں آپ کے بچوں کو تعلیم دینا چاہتے ہیں تا کہ مسلمان خود حکومت کرنے کے قابل ہو جائیں۔ ہندوستان پر حکومت کرنا مسلمانوں کا حق ہے اور گورنمنٹ بہادر چاہتی ہے،ہم پڑھ لکھ جائیں تاکہ وہ ہماری امانت ہم کو سونپ کر چلے جائیں۔ یاد رکھو اگر تم اپنے بچوں کو ان گورنمنٹ کے اسکولوں میں نہیں پڑھاؤ گے تویہ ہنود اور چوہڑے اور سکھ،یہ سب فرنگی سرکار کے جانے کے بعد ہم پر حکومت کریں گے۔

او بھلے لوگو،تمھارے علاوہ یہ سب قومیں فٹا فٹ اِن اسکولوں میں جا کر تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور ہمارے بچے ایسے ہی ڈنگر کے ڈنگر بھیڑ بکریاں چرا رہے ہیں۔ کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ کیا تم نے نہیں دیکھا،عدالتوں اور کچہریوں میں سب ہندو لوگ ہیں جو فیصلے بھی ہمارے خلاف کرتے ہیں اور یہ بنیے جو چاہیں اپنے بھئی کھاتوں میں لکھ دیں۔ پھر تمھاری گردن پر ناخن رکھ کر جتنا چاہیں وصول کر لیں۔ تمھیں تو نہ پڑھنا آئے اور نہ اُن کھاتوں کے حساب کتاب کے دیکھنے کا طریقہ۔ اِسی لیے ہمارے قرضے بڑھتے جاتے ہیں اور پشتوں سے لے کر اب تک ادا نہیں ہوتے۔ یاد رکھو اگر ہمارے بچے نہیں پڑھیں گے تو پنجاب پھر سکھوں کے پاس چلا جائے گا۔ بھلا تمھیں پتا ہے؟مہاراجہ رنجیت نے کیا کیا تھا؟ اُس نے ہماری بادشاہی مسجد میں اپنی فوج کے گھوڑے باندھ کر اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ جہاں اُنہوں نے لید اور پیشاب کر کر کے اتنی بدبوپھیلائی اوراتنا گند مارا کہ بچارے گنبد اور میناروں کے کبوتر بھی ہجرت کر گئے۔ یہ انگریز بہادر ہی تھے،جنہوں نے وہ شاہی مسجد ان سے آزاد کرا کے ہمیں دی۔ اگر فرنگی سرکا ر مسلمانوں کی دشمن ہوتی تو اُس مسجد کو سکھوں سے آزاد کیو ں کراتی؟ پھر اُس جگہ اپنا گرجا بنا لیتی۔ اِسی دوران مولوی کرامت کو یاد آیا کہ جب فرنگیوں نے دہلی فتح کیا تھا،تو انہوں نے بھی جامع مسجد دہلی میں اپنے گھوڑے باندھ دیے تھے اور اُسے اصطبل بنا دیا تھا۔ مگر شکر ہے کہ اِس بات کا کسی کو بھی پتا نہیں تھا،ورنہ بات بگڑ جاتی۔ یا اگر پیش امام کو پتا بھی تھا،تو اب وہ نہیں بول سکتا تھا۔ کیو نکہ نوکری ملنے والی تھی۔ بہر حال مولوی کرامت نے اس بیہودہ خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی،مگر صدقے جاؤں اِس منصف اور عادل گورنمنٹ کے،جنہوں نے مسلمانوں کے لیے یہ سب کچھ کیا اور ہم ہیں کہ اپنے ہی دشمن۔ سکولوں میں اپنے بچوں کو نہیں بھیجتے اور چوہڑے جو ہمارا گند صاف کرنے والے ہیں،وہ پڑھ پڑھ کر بابو بنتے جا رہے ہیں۔ یہی حالت رہی تو ایک دن آئے گا ہماری اولادیں اُن کا گند صاف کریں گی۔ جس سے سرکا ر ہمیں بچانا چاہ رہی ہے۔

مولوی صاحب یہ بات آپ نے پہلے ہمیں کیوں نہیں بتائی،ایک شخص جس کی عمر ساٹھ سال کے قریب تھی،اُس نے سر سے صافا اُتار کر گھٹنوں کے نیچے رکھا اور بولا،ہم تو خط پتر بھی نہیں پڑھ سکتے۔ کہیں سے شادی موت کا لفافہ آ جائے تو بیس دروازے بھونکتے ہیں،تب جا کر کوئی پڑھ کے سناتا ہے۔ وہ بھی سو سو نخرے کرتا ہے۔

مولوی کرامت نے اپنا وار کار گر ہوتے دیکھا تو مزید اُس پر جملہ کسا،تو اور کیا؟ پھر سو باتیں ایسی ہوتی ہیں کسی غیر کو نہیں بتانی ہوتیں،جس سے خط پڑھواتے ہیں وہ اُنہیں بھی جان جاتا ہے اور گھر کی بات خواہ مخواہ باہر نکل جاتی ہے۔ پھر یہ ہندو اور چوہڑے تو ہمارے ویسے بھی دشمن ہیں۔ بھائی تعلیم بہت ضروری ہے۔

اس کے بعد مولوی کرا مت نے اپنا بستہ کھولا اور اُس میں سے ہاتھ بھرلمبا اور آدھ ہاتھ چوڑا رجسڑ اور ایک قلم اور دوات نکال کر بیٹھ گیا اور کہا،جلدی سے اب اپنے اپنے بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کے نام لکھواؤ۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – سترہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(32)

ولیم کو جلال آباد سے چھٹی پر لاہور آئے دودن ہو گئے تھے۔ اگلے دو دن نولکھی کوٹھی پر گزارنے تھے۔ جس کے لیے اُس نے اپنی ماما اور بہن لورین کو بھی تیار کر لیا۔ لورین ممبئی سے لاہور اپنی ماما کو ملنے کے لیے آئی تھی اورپچھلے دس دن سے یہیں تھی۔ اب جو ولیم آیا تو لورین کو بھی اپنی جنم بھومی یا د آ گئی۔ جہاں بگھیوں پر بیٹھ کر وہ دونوں رینالہ کی نہری کوٹھی اور مچلز کے باغوں میں جامنوں اور پاپلر کے پیڑوں کی گنگناتی لوریاں سنتے تھے۔ پھر وہاں سے محافظوں کی پلتنوں میں خراماں خراماں نولکھی کوٹھی آجاتے۔ اس سیر میں اُن کے دوست ایشلے،سمتھ اور ڈینی اکثر اُن کے ساتھ ہوتے۔ ایشلے جو اُس وقت بھی اُلٹی سیدھی نظمیں لکھ لکھ کر سناتا تھا اب بہت بڑا شاعر بن گیا تھا۔ یہ تمام زمین اُن کی اپنی ملکیت تھی لیکن رینالہ اور ستگھرہ اسٹیٹ کے درمیان اوکاڑہ کے پاس کلیانہ اسٹیٹ کی زمین اور آموں کے باغ میں گھری ہوئی نولکھی کوٹھی سے اُنہیں خاص اُنسیت تھی۔ کیونکہ اِسی کوٹھی میں وہ پیدا ہوا تھا۔ بڑی نہر جسے دوآبہ کہتے ہیں،کے دونوں کناروں پر دور تک پیپلوں کے اُونچے اُونچے درختوں نے نہر کے صاٖ ف پانی پر اپنی چھتریوں کا سایہ کر کے اُسے جنت سے نکالی گئی نہروں سے ٹھنڈا اور بہشت آفرین بنا دیا تھا۔ پیپلوں سے ہٹ کر نہر کے دونوں طرف کی زمین پر آموں کے باغ اگر ایک طرف سے مچلز کو چھوتے تھے تو دوسری طرف اوکاڑہ کینال بنگلوں کے ساتھ جا لگتے تھے۔ نہر لوئر باری دوآب،جس کا پاٹ اور پانی کا بہاؤ دریاوں کی ناک کاٹتا تھا،کے دونوں کناروں پر کھڑے گھنے درختوں کی چھاؤں کے نیچے چوڑی اور سخت پٹڑی پر چلتی ہوئی بگھی کی روانی پانی کی روانی سے کم نہ تھی۔ مارچ کا آغاز تھا اور یہ دن لاہور میں غارت کرنے کا اُس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اِس کے ساتھ اُسے اپنی والدہ اور لورین کے ساتھ کچھ وقت صرف کرنے کی بھی خواہش تھی۔ کیونکہ کافی عرصے سے آبائی گھر میں پورے خاندان کو مل کر بیٹھنے کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ ولیم آٹھ سال لندن رہا۔ اُس کی غیر حاضری میں ہی لورین بیاہ کر ممبئی جا پہنچی۔ جبکہ جانسن صاحب کا لاہور تبادلہ ہونے کی وجہ سے اُس کی والدہ بھی وہیں منتقل ہو گئی۔ اس طرح نولکھی کوٹھی،نہری کوٹھی،آموں کے وسیع باغ اورنہر کے آس پاس دور تک لہلہاتی سرسبز فصلیں اپنے مالکوں کا منہ دیکھنے کو ترس گئی تھیں۔ ولیم نے اپنی ماں اور باپ جانسن صاحب کو بھی تیار کر لیا کہ چھیٹوں کے دو دن اوکاڑہ گھر میں گزار لیں۔ لورین تو پہلے ہی بے تاب تھی۔ اب جانسن صاحب نے بھی تیاری پکڑ لی۔ اس طرح یہ چار افراد کا قافلہ سرکاری جیپوں پر لاہور سے اوکاڑہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ قافلے کی نگرانی اور پروٹو کول کے لیے دو مزید جیپیں ساتھ تھیں۔ جن پر حفاظتی پولیس اور دیگر عملہ سوار تھا۔ نولکھی کوٹھی پر پچیس تیس ملازم جانسن کی غیر حاضری میں بھی ہر وقت موجود رہتے تاکہ مویشی فارم،اصطبل،کوٹھی اور باغ کی حفاظت رہے۔ لیکن اُن کے کوٹھی پر جانے سے ملازم کم پڑ سکتے تھے۔ اس لیے جانسن نے ڈپٹی کمشنر منٹگمری کو اپنے آنے کی اطلاع کر دی۔ اُسے کہہ دیا کہ کچھ ملازم بھی وہاں بھیج دیے جائیں۔ چنانچہ رات ہی اُن کے استقبال کے لیے پچاس ساٹھ افراد مزید نو لکھی کوٹھی پر پہنچ گئے تھے۔ موسم کافی خوشگوار تھا اور ولیم بھی بہت دنوں کے بعد جارہا تھا۔ اس لیے اُسے کچھ زیادہ ہی لطف محسوس ہو رہا تھا۔ ہلکی ہوا کے جھونکوں اور روشن دن میں ولیم اور اُس کی فیملی نولکھی کوٹھی پہنچی تو دن کے دس بج رہے تھے۔ ادھر اُدھر بندوقیں تھامیں سنتری اور محافظ اِس طرح پھیلے تھے جیسے وائسرائے کا دورہ ہو۔ ان کے علاوہ دیسی عوام اور کاشت کار ستگھرہ روڈ پر دور تک سڑک کے کنارے سلامی کو حاضر ہوئے تھے۔ اِن میں نوئے فی صد تو وہ تھے جو جانسن صاحب کی زمین کی دیکھ بھا ل اور کاشت کرتے تھے۔ باقی کے بھی بالواسطہ انہی کے دامن سے بندھے اپنی روٹی پیدا کرتے تھے اور خوش اس لیے تھے کہ مقامی مالکان کی نسبت جانسن صاحب کا رویہ ان مزارعین کے ساتھ کافی بہتر تھا۔ نولکھی کوٹھی ایک فرلانگ رہ گئی تو ولیم نے خواہش ظاہر کی کہ وہ گاڑی سے اُتر کر اپنے گھر جائے۔ ولیم کی اس تجویز پر اُس کی والدہ،لورین اور بذاتِ خود جانسن صاحب بھی گاڑی سے اُتر گئے۔ اِن کو دیکھتے ہوئے باقی عملہ بھی احتراماً جیپوں سے اُتر گیا اور پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ولیم فیملی کے ساتھ آہستہ آہستہ گھر کے باغات کے درمیان چھوٹی نہر پر بچھی صاف سڑک پر جا رہا تھا۔ جبکہ مقامی چودھری،سرداراور سیاستدان کلے دار پگڑیاں سروں پر باندھے اور مزارع لوگ دھوتیاں،جانگیے پہنے،ہاتھ باندھے،استقبال میں چپ چاپ ولیم اور اُن کے خاندان کو گزرتے دیکھ رہے تھے۔ ان مقامیوں کے سیاہ رنگ کے چہرے،گال پچکے ہوئے اور سکڑی ہوئی کالی ٹانگیں بتا رہی تھیں کہ غلاموں کی حقیقی تصویر انہی لباسوں میں بنتی ہے۔ انہیں دیکھ کرولیم نے ایک لمحے کے لیے خدا وند یسوع مسیح کا شکر ادا کیا کہ اُس کی رگوں میں بہر حال انگریزی خون دوڑتا ہے۔ لیکن پھراُن کی دل جوئی کے لیے اچانک ولیم نے اپنا ہاتھ اُوپر کر کے اُن مقامی مزارعوں کو سلام کر دیا۔ ولیم کے اِس عمل کو دیکھ کر سارے کا سارا عملہ،اُس کا باپ جانسن،ولیم کی والدہ،ایکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر،تحصیلدار صاحب حتیٰ کہ دوسرا تمام عملہ بھی سکتے میں آگیا۔ ولیم نے مقامیوں کو سلام کر کے پورے انگریزی وقار کو ہی داؤ پر نہیں لگایا تھا بلکہ اپنی ملازمت سے بھی کھیل گیا تھا۔ اُس کے اس عمل سے دیسی لوگ بہت خوش ہوئے لیکن معاملہ بہر حال خطر ناک تھا۔ جسے ولیم بھی فوراً ہی بھانپ گیا اور اپنے آپ میں شرمندہ ہونے لگا۔ ایک اضطراب انگیز خاموشی میں چلتے ہوئے نولکھی کوٹھی کے صحن میں پہنچ گئے۔ صحن میں پہنچ کر جانسن صاحب نے جلدی سے سب کو رخصت کیا اور کوٹھی کے اندر داخل ہو گیا۔ ولیم جانسن صاحب کے اندر اُٹھنے والے طوفان کو جانتا تھا کہ وہ اُس کے اس عمل پر کتنا پریشان ہو گیا تھا۔ اُسے معلوم تھا،اگر یہ رپورٹ کمشنر صاحب کو پہنچ گئی تو ولیم کے لیے کیا خرابی پیش آ سکتی ہے۔ جانسن کو اُس وقت ہر گز کوئی پریشانی نہ ہو تی،اگر یہ کام ولیم کی بجائے کوئی دوسرا انگریز افسر کرتا۔ ولیم اُس کا بیٹا تھا اور یہ بات ولیم بھی جانتا تھا کہ اُس کا باپ ڈپٹی کمشنر ہوتے ہوئے اس عمل کو کتنا ناگوار سمجھ رہا ہے۔ اب گھر میں خلوت کے دوران اُس کی سرزنش ہونے کا وقت قریب تھا۔ اِس کے باوجود اسے یہ حوصلہ تھا کہ ابھی اُسے اپنے ہی باپ سے واسطہ تھا،جو سر زنش کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتا تھا۔ اُسے اس بات پر بھی حیرت ہو رہی تھی کہ آخر اُس سے اچانک یہ غیر معمولی حرکت سر زد کیسے ہو گئی تھی۔

کوٹھی کے ڈرائنگ روم میں داخل ہو کر صوفوں اور کرسیوں پر بیٹھ چکے تو ولیم اپنے باپ کی زبان سے شکوہ سننے کو تیار ہو گیا۔ وہ مدت کے بعد نولکھی کوٹھی میں داخل ہوا تھا اور نہیں چاہتا تھا اُس کا باپ ایسی بات کرے جو سارے مزے کو کر کرا کر دے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ اُسے اپنے باپ سے نصیحتوں کا باب سنتے ہی بننی تھی۔ اِس کے بر عکس جانسن نے ولیم کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی بیگم کو مخاطب کیا اور بولا،حنا باورچی سے کہو چائے کا سامان لگائے،اِتنے میں میں نہا لوں۔ یہ کہ کر جانسن باتھ روم میں داخل ہو گیا۔ ولیم وہیں بیٹھا لورین سے باتیں کرنے لگا۔ ولیم جانتا تھا جانسن صاحب نے نصیحت فی الحال معطل کی ہے بھلائی نہیں۔ لیکن فی الوقت تو جان چھٹی۔ حِنًانے باورچی کو چائے لگانے کے لیے آواز دی۔ پھر بیٹے اور بیٹی کے پاس آ بیٹھی۔ ولیم نے بھر پور نظر سے ماں کی طرف دیکھا اور متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ حِنًا کی عمر پچاس سے تجاوز کر چکی تھی لیکن اُس کے جسم میں ابھی اتنی جازبیت اور کشش تھی جو کسی بھی مرد کو ایک دفعہ چونکا دینے کے لیے کافی تھی۔ وہ ایک لحظے کے لیے باپ کی قسمت پر رشک کرنے لگا۔ لیکن چند ثانیوں بعد ہی ایک لرزش سی لے کر اُس نے یہ خیال جھٹک دیا اور لورین سے بولا،لورین کیوں نہ ہم آج ایشلے،سمتھ اور ڈینی کو بھی یہیں بُلا لیں،مل کر فلاش کھیلیں اور ایشلے سے شاعری سنیں؟

لورین نے نہایت جوش میں آکر ولیم کی بات سے اتفاق کیا اور کہا،ولیم یہ آئیڈیا آپ نے بہت عمدہ پیش کیا ہے لیکن اِس کے ساتھ ایک اورکام بھی ہو جائے،آج رات طوفانی قسم کی چاندی ہو گی۔ کیوں نہ نہر دواب کے بہتے پانی میں تختے بچھا کر رات وہاں پر ہی چاندنی کا نظارہ کیا جائے،وہیں پر فلیش کھیلی جائے اور ایشلے سے شاعری سنی جائے؟

لورین کیا دن یاد کرا دیے،ولیم نے بالکل لڑکپن کا سا انداز اپناتے ہوئے لورین کے شانے پر ہاتھ مارا۔
دونوں کی گرم جوشیاں دیکھ کر حِنًا بھی گفتگو میں شریک ہو گئی اور بولی،تم دونوں اپنے باپ پر بالکل نہیں گئے۔ عین میرا دماغ پایا ہے،مکمل عیاش اور بے تکا،لیکن پیارو یہی زندگی ہے۔

حِنًا کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ جانسن صاحب باتھ روم سے وارد ہوگئے۔ انہوں نے حنا کی قریباً پوری بات سُن لی تھی۔ مسکراتے ہوئے بولے،ڈارلنگ حِنًا عیاشیاں تو ہم نے آپ کو کرائی ہیں۔ یاد کرو جب تم لندن چھوڑنے پر آمادہ ہی نہیں تھی اور ہم کتنی مشکل سے آپ کو بہلا پھسلا کر یہاں کھینچ لائے۔ اب ہمیں اتنا بھی خشک نہ جانو۔ یہ سب کچھ آپ کو اور آپ کے بچوں کو ہمیں نے سکھایا۔ یہ میرا پردادا مارٹن ہی تھا،جو سوتی کپڑا لینے آیا اور کمپنی کا داماد بن گیا۔ پھر ایک دنیا نکل گئی لیکن ہم نے دیکھ لیا تھا کہ اصل میں ملٹن کی جنت گم گشتہ یہی ہے۔ جو اب ہماری پشتوں میں چلے گی۔ اِس لیے ہم نہ نکلے اور دانتوں سے ہندوستان کی ریشمی گرہ پکڑلی۔ اِسی کا نتیجہ ہے کہ تم باغوں میں بیٹھی ہو۔ ورنہ کئی انگریز تو ابھی بھی ممبئی میں ٹین کے ڈِبوں میں بیٹھے ہیں اور دن رات بدبو اور پسینے سے کھیلتے ہیں۔

جانسن صاحب کی بات سن کر حِنًا سمیت سب ہنس دیے۔ اتنے میں باورچی چائے لگا کر ہاتھ باندھے ایک طرف کھڑا ہو گیا تھا۔ جانسن صاحب سیدھے چائے کی میز ہی کی طرف لپکے اور ایک نشست پر بیٹھ گئے۔ اُن کے بعد حنا،ولیم اور لورین بھی میز کی طرف بڑھے۔ اِس وقت سب کا موڈ خوش گوار تھا،اسلیے کھل کر باتیں ہونے لگیں۔ لورین نے جانسن صاحب سے کہا،پاپا آج ہمارا پروگرام فلیش اور شاعری کا بنا ہے۔ وہ بھی نہر دواب کے بہتے پانی پر تخت بچھا کر کینال بنگلہ کے پاس پیپلوں کی چھاؤں میں۔ کیسا رہے گا؟

بھئی آپ نے خیال تو کمال کا سوچا ہے،جانسن صاحب نے کہا،میرا خیال ہے یہ منصوبہ بھی برخوردار اسسٹنٹ کمشنر جناب ولیم صاحب کی اختراع ہے۔ یہ ہمارا شاعر مزاج بیٹا کچھ نہ کچھ کر کے رہے گا۔
نو پاپا،ولیم بولا،یہ شاعرانہ اختراع آپ کی بیٹی کی ہے،ولیم شاید جانسن کی طرف سے اس منصوبے کی ذمہ داری قبول کر لیتا لیکن وہ جانتا تھا دراصل جانسن صاحب نے ولیم پر چوٹ کی تھی۔ جو اُس نے اپنے مزارعین کو سلام کرنے کی ایجاد کی تھی۔
جی،لورین نے مُکا لہراتے ہوئے کہا،پاپا یہ منصوبہ میرے دماغ کا سرمایہ ہے،جو میں نے جناب میں گزار اہے۔
حِنًابولی،لوبھئی اب تو سارا گھر ہی شاعر ہو گیا ہے۔ ایشلے کی صحبت میں کچھ تو ہونا ہی تھا۔

جبکہ سارا گھر نواب پہلے ہی تھا۔ اب لکھنؤ لُٹنے میں کیا کسر باقی رہ گئی؟ جانسن صاحب نے لقمہ دیا،اس کے بعد ایک اور قہقہ لگا۔
چائے ختم ہو چکی تو جانسن صاحب نے نائب تحصیل دار کو طلب کیا جس کی ڈیوٹی جانسن صاحب اور اُس کی فیملی کے اوکاڑہ میں قیام تک اُن کے ساتھ لگ چکی تھی۔ نائب تحصیلدار جانسن صاحب کا بلاوا سنتے ہی بھاگتا ہوا اندر داخل ہواور حکم سننے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ جانسن کے چہرے پر نہایت سنجیدہ افسرانہ تمکنت سمٹ آئی،جو ایک ڈپٹی کمشنر کی طبیعت کواِس وقت لازم تھی۔ مسٹر،لورین جوکچھ کہتی ہے،وہ غور سے سنو اور اُس پر جلدی عمل کرو۔ اب جانسن صاحب نے لورین کی طرف دیکھا جس کا مطلب تھا کہ وہ اپنی بات تحصیل دار کو سمجھادے۔ لورین نے تحصیل دار کو وہ تمام ہدایات جاری کردیں جس کا آئیڈیاپہلے وہ بیان کر چکی تھی۔ تحصیل دار ہدایات سن کر جیسے ہی مڑا ولیم نے اُسے دوبارہ آواز دی،سنیے مسٹر،رینالہ سے ایشلے اورڈینی کو اطلاع کر دو،اُن کے دوست ولیم اور لورین نولکھی کوٹھی پہنچ گئے ہیں اور آپ کو یاد کر رہے ہیں۔ سہ پہر تک آ جائیں ہم کھانا اُن کے ساتھ کھائیں گے۔ اس کے علاوہ کچھ بٹیروں اورمر غابیوں کے گوشت کا بندوبست بھی کرا دو۔

جی بہتر سر،تحصیل دار نے فرمانبرداری سے حکم سنا۔

حکم دینے کے بعد جانسن پھر حِنًاکی طرف متوجہ ہو گیا اوراُس کے ساتھ دوبارہ بات کرنے لگا،اس کا مطلب تھا کہ تحصیل دار صاحب جا سکتا ہے۔ اُس نے ہلکاسا ہاتھ اُٹھا کر ماتھے پر رکھا اور صحن سے باہر نکل گیا۔

اس وقت تک ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔ اب جانسن نے اپنے خاص منشی تفضل شاہ کو بلانے کا ارادہ کیا،جو جانسن کی تمام زمینوں کا ذمہ دار تھا اور مزارعین کے ساتھ سارے حساب کتاب کا کھاتہ بھی اُسی کے پاس تھا۔ خانساماں نے کچھ ہی دیر بعد تفضل شاہ کو بلا لیا۔ تفضل شاہ پچاس پچپن سال کا نہایت شستہ آدمی تھا۔ وہ جانسن کے سامنے اپنے سادات پن کا وقار بر قرار رکھنے کے لیے جھکنے سے گریز ہی کرتا،جس کا احساس جانسن کو بھی تھا۔ اورجانسن کو شاہ صاحب کا اتنا سا نخرہ اُن کی ایمانداری کی وجہ سے قبول تھا۔ ویسے بھی ہندوستان میں سادات کا جو احترام تھا،جانسن اُس سے خوب واقف تھا۔ اِدھر جانسن شاہ صاحب سے زمینوں کے حساب کتاب میں جُت گئے اُدھر ولیم،لورین اور اُن کی والدہ حِنًا مویشی فارم کا دورہ کرنے کے لیے چل پڑے،جو صرف دو سو قدم کے فاصلے پر نولکھی کوٹھی کے پچھواڑے واقع تھا۔ اِس فارم میں اعلی قسم کی ساہیوال نسل کی گائیں اور نیلی کی سینکڑوں بھینسیں تھیں۔ ان گائیں اور بھینسوں کا دودھ اور مکھن سارا سال ہندوستان کے انگریز دوست احباب کے علاوہ انگلنڈ تک بھی جاتا۔ اکثر دفعہ نوابوں اور مہاراجاؤں کی خدمت میں بھی مکھن مہر بستہ بھیجا جاتا۔ جس کے عوض داد اور صلے حاصل کیے جاتے۔ فارم میں گائیں اور بھینسوں کے علاوہ شرطوں پر دوڑنے والے بیل اور گھوڑے بھی تھے۔ جن میں میم صاحبہ کی تو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ البتہ وہ جانسن کے شوق تھے اور بھرپور شوق تھے۔ فارم اور اُس کے مضافات میں پھیلی ہوئی تمام چیزیں باور کراتی تھیں کہ صاحب نوابوں سے کسی طرح بھی کم نہ تھے۔ بہت سے انگریز افسروں کو اس فیملی کے یہ نخرے اور نوابی انداز کھٹکتے تھے لیکن جانسن صاحب اور اُس کا باپ اور دادا ایسے چالاک تھے کہ جس افسر کی طرف سے اُنہیں حسد اور نقصان کا اندیشہ ہوتا اُسے اتنے زیادہ تحفے اور گھی مکھن بھیج دیتے کہ اُس بچارے کو مروتاً خاموش ہونا ہی پڑ جاتا۔ ایک دو دفعہ تو انتہائی مہنگے قسم کے دو گھوڑے بھی گورنر لاہور کی نذر کیے گئے۔ اصل پوچھو تو اسی کی وجہ سے جانسن صاحب اتنی جلدی اس اہم عہدے پر جا کر کھڑے ہو گئے تھے اور انہیں اُن کی مرضی کے بغیر کہیں ہلایا بھی نہیں گیاتھا۔

تینوں برٹش ماں،بیٹا اور بیٹی فارم کا دورہ کرتے جا رہے تھے جبکہ ملازم اُن کے ادھر اُدھر دوڑتے ہوئے ایک ایک مویشی کے متعلق معلومات دیتے جاتے۔ لیکن وہ ان سے ذرا فاصلے پر ہی چلتے،مبادا بدبو یا کسی دوسری حرکت سے میم صاحب اور ولیم صاحب ناراض نہ ہو جائیں۔ نیم اور پیپلوں کے لا تعداد درختوں کے سائے میں نہر کے کنارے کنارے یہ فارم ایک مثالی حیثیت رکھتا تھا۔ جس کو دوسری طرف دور تک آموں،مالٹے،امرود اور جامنوں کے باغوں نے اپنی پناہ میں لے رکھا تھا۔ اِن باغوں کے درمیان سے لہریں لیتی صاف پانی کی ایک چھوٹی سی نہر تھی۔ جس کا بیان پہلے ہو چکا ہے۔ اُس کے کناروں پر بھی نیم اور پاپلر کے اُونچے پیڑوں کی سبز چھاؤں نے نہر کا دماغ نہر شداد کے پلے تک پہنچا رکھاتھا۔ یہی وجہ تھی ولیم اپنی زندگی کے فسانے انہی بستیوں کے حوالے رکھنا چاہتا تھا۔ فارم کے تمام مویشی انتہائی صحت مند تھے۔ نہ تو کسی کی ہڈیاں نظر آ رہی تھیں اور نہ ہی کسی جانور کے جسم پر میل کچیل تھا۔ ہر ایک مویشی لکڑی کی بنی ہوئی کُھرلیوں میں منہ دیے چارہ کھانے میں اور لمبی پوچھلیں ادھر اُدھر چلانے میں مگن تھا۔ اِسی طرح چھوٹے کٹوں اور بچھڑوں کی کُھرلیاں الگ تھیں۔ جن پر یہ اگرچہ بندھے تھے لیکن بندھے ہوئے بھی دڑنگے مارنے سے باز نہیں آتے تھے۔ اس طرح یہ اور بھی زیادہ بھلے لگتے تھے۔ بھینسوں کے جسم اتنے کالے اور شفاف تھے،چاہے تو منہ دیکھ لو۔ جبکہ گائیں گلابی رنگ کی بڑی بڑی ہرنیاں لگتی تھیں۔ لورین چلتے چلتے کسی جانور کی دم کو ہاتھ لگاتی تو وہ ایک دم اچھل پڑتا مگر اتنے میں لورین شرارت کر کے پیچھے ہٹ چکی ہوتی۔ دور کھڑے ملازمین کے لیے ہر چند یہ معمولی بات تھی لیکن وہ محض لورین کو خوش کرنے کے لیے ایک بڑاسا قہقہ لگا دیتے۔ جیسے اُس نے کوئی بڑاکارنامہ سر انجام دے دیا ہو۔

فارم کو عبور کر کے ولیم،لورین اور حنا نہر کے دامن میں چلنے لگے تو ایسے لگا جیسے تین گلابی سرو باغوں کے سائے سائے چلے جاتے ہوں۔ مقامی وہیں رک گئے تھے کہ وہ اِس سیر میں ہم قدمی کے قابل نہیں تھے۔ یہ بات ولیم اور دیسی سب ہی جانتے تھے۔
ولیم کے ذہن میں بچپن ہی سے ایک خیال تھا لیکن اُس پر واضح نہیں ہو رہاتھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے اور جو سوچ رہا ہے وہ ٹھیک بھی ہے کہ نہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ گاہے گاہے کرتا بھی رہا ہے۔ اِسی ذہنی کیفیت کے تحت یا مقامی لوگوں کے چہروں کو دیکھتے ہوئے اُس نے چلتے چلتے حناًسے ایک سوال کر ہی دیا،ماما کیا ایسا نہیں ہو سکتا اِن دیسی لوگوں کے لیے ایک انگریزی سکول قائم کر دیں،جہاں اِن کی جاہل اولاد یں کچھ پڑھ لکھ کر اپنی حالت سیدھی کر لیں؟ پھر حناًکے جواب دینے سے پہلے ہی خود دوبارہ بولا،میرا مطلب ہے اُس کی نگرانی ہم کیتھی کے حوالے کر دیں،کہ وہ یہاں آکر فارغ تو نہیں بیٹھے گی،گویا ثابت کرنا تھا کہ دراصل وہ یہ مقامیوں کے لیے نہیں کیتھی کے لیے کرنا چاہتا ہے۔

حنا نے ایک نظر ولیم کی آنکھوں میں جھانکا اور بولی،ولیم میرا خیال ہے تمھیں کیتھی سے زیادہ ان کالوں فکر ہے۔ تم ان کے بارے میں حاکم بن کر کیوں نہیں سوچتے؟خدا وند یسوع مسیح نے تم پر ایک برکت ناز ل کر کے کمشنر بنا دیا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو وہ اپنی برکت واپس لے لے اور تم انہی کالوں کے ساتھ عذاب میں گرفتار ہو جاؤ۔ کیونکہ اِنہیں ایسی حالت میں ہم نے نہیں خدا وند یسوع مسیح نے رکھا ہے۔ اب اِن کو نہ یسوع مسیح جانتا ہے اور نہ یہ اُس کو جانتے ہیں۔ اس لیے ان سے دور رہو اور خدا برکتوں کو ضائع نہ کرو۔ جانسن صاحب تمھارے بارے میں بہت فکر مند ہیں۔ وہ کہ رہے تھے فیروز پور سے بھی ان کی رپورٹس اچھی نہیں آ رہیں اور یہ کہ ولیم گورنمنٹ سے زیادہ رعایا کا وفادار ہے۔ اِس بات کے اثرات اِس کی ملازمت پر بُرے پڑیں گے۔

ولیم کو اپنی ماں کی بات سمجھ نہیں آرہی تھی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے یسوع مسیح غریبوں اور ناداروں کا ساتھ دینے کے خلاف ہو۔ اگر یہ بات ٹھیک تھی تو پھر ہندوستان کے جتنے شودر اور دلت ہیں،یسوع مسیح کو مان کر اُن کی حالت کیوں ٹھیک نہیں ہوئی؟ وہ تو اِن مسلمانوں اور سکھوں سے کہیں زیادہ بدترحالت میں ہیں۔ اور یہ ہندوستان کے نوابین،جن کی حالت ہم سے بھی کہیں بہتر ہے،یہ کس یسوع مسیح کو مانتے ہیں؟لیکن یہ وہ باتیں تھیں،جن کے سمجھنے کی حناً صاحبہ کو ضرورت نہیں تھی۔ اِس لیے ولیم نے اپنی ماں کی بجائے چلتے چلتے ایک لمحے کے لیے لورین کی طرف دیکھا اور بولا،لورین میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر پورا ہندوستان اِسی طرح کا ہو جائے،جس طرح ہمارا یہ فارم اور زمینیں اور باغات ہیں تو گورنمنٹ کا کیا نقصان ہو گا۔ میں تو یہی سمجھتا ہوں اُس کے خراج اور مالیے میں اضافہ ہو گا۔ اور جہاں برطانیہ میں آج یہاں سے دس روپے جاتے ہیں،وہاں اسے سو پونڈ جانے لگیں گے۔

لورین نے ولیم کی اس بات پر غیر استفہامی انداز میں سر جھٹکا اور بولی،ولیم مجھے ایسی باتیں سمجھ نہیں آتی۔ تم یہ بتاؤ کیتھی کو کب یہاں لا رہے ہو؟ اب وہ بے چاری کب تک سردی میں ٹھٹھرتی رہے گی۔ میں چاہتی ہوں اُسے ان آموں کے موسم تک بیاہ کر لے ہی آؤ۔
ولیم نے کاندھے اُچکائے اور حِنًا کی طرف دیکھا اور بولا،یہ بات تو ماما ہی طے کریں گی،اُسے کب لانا ہے؟ پھر مسکراتے ہوئے،میں نے تو اپنا کام مکمل کر دیا ہے۔

حنا نے ولیم کی طرف دیکھا اور بولی،ولیم تمھارے اشارے کی بات ہے۔ مَیں کمشنر صاحب سے ابھی بات کر لیتی ہوں لیکن پہلے یہ طے کرو اُس کے لیے کون سی قیام گاہ آپ کے حوالے کی جائے؟

ماما میرا تو خیال ہے اِس جگہ سے بہتر کوئی ٹھکانہ نہیں۔ وہ یہاں بہت خوش رہے گی۔ میں چاہتا ہوں میں اُس کے لیے یہاں ایک جدید اسکول قائم کر دوں،جہاں چھوٹے پیمانے پر مقامی عیسائی اور مسلمان بچوں کی تعلیم کا انتظام ہو جائے۔ وہ ویسے بھی اس کام کو پسند کرتی ہے۔

اوکے،جیسے آپ کی مرضی،لیکن میرا خیال ہے آپ پہلے اُسے بیاہ لاؤ۔ اُس کے بعد دوسرے منصوبوں پر عمل کر لینا،حنا نے ولیم کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔

نہر اب مالٹوں کے باغ سے آموں کے باغ کی طرف نکل گئی تھی۔ اِس لیے ولیم،لورین اور حنا نے اپنا راستہ بدل کر شرینہہ کے بڑے بڑے درختوں کے درمیان سے دوبارہ نولکھی کوٹھی کی طرف پھیر لیا۔ بہار شروع ہورہی تھی۔ شرینہہ کی شاخوں پر پھوٹتی ہوئی تازہ پتوں کی کونپلیں ایسی میٹھی خوشبو چھوڑ رہیں تھیں،جن کے آگے سارے جہان کے پرفیوم ماند تھے۔ ولیم اور لورین اِن دھیمی خوشبووں کے درمیان لمبے لمبے سانس لینے لگے اور سینہ پھلا کر آکسیجن اندر کھینچنے لگے۔ آہستہ آہستہ اِسی طرح سیر کرتے ہوئے وہ سرسوں اور برسن کے کھیتوں میں کھڑے ہوئے میٹھے کے پیڑوں کے بیچ سے نولکھی کوٹھی میں آ نکلے۔ جہاں میٹھے کے پیڑ کے تیز خوشبو والے سفید سفید پھول لورین کو اتنے بھائے کہ اُس نے مٹھی بھر پھول توڑ کر اپنی ہتھیلی پر رکھ لیے اور نولکھی کوٹھی کے صحن میں پڑی خوبصورت لکڑی کی کرسیوں پر ایک دم گر کے بیٹھ گئی۔ اِسی صحن میں کچھ فاصلے پر جانسن صاحب تفضل شاہ سے حساب کتاب کر کے ابھی ابھی فارغ ہوئے تھے اور اب وہ اُٹھ رہے تھے۔ ڈیڑھ بج چکا تھا اور بھوک بھی خوب چمک گئی تھی،جس پر فارم کے بیچوں بیچ لمبی سَیر نے سونے پر سہاگے کا کام کیا۔ لورین نے وہیں باورچی کو طلب کر کے لنچ کے بارے میں پوچھا،باورچی نے نہایت ادب سے جواب دیا،میم صاحبہ آپ کا ہی انتظار ہے،لنچ تو کافی دیر کا لگ چکا ہے۔ باورچی کی طرف سے کھانے کا سن کر سب ایک ہی دفعہ کوٹھی کے وسیع ڈائیننگ ہال کی طرف اُٹھ کھڑے ہوئے۔

ڈائیننگ ہال کم از کم تیس فٹ لمبا اٹھارہ فٹ چوڑا اور پچیس فٹ اُونچی چھت پر محیط تھا۔ دیواروں کے ساتھ بڑے بڑے طاق اور طاقوں میں سجے ہوئے فانوس،جھاڑ اورآتش دان لگے تھے۔ آتش دان کی خاص ضرورت تو نہیں تھی۔ کبھی کبھی ہی سخت سردی میں جلتا تھا لیکن انگریزی طرز تعمیر کے مطابق اُس کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ کمرے کے درمیان میں ایک بڑی اور صندلی ٹیبل،جس پر ریشمی دسترخوان اِس طرح بچھا تھا کہ اُس کے کنارے نیچے پاؤں تک چُھوتے تھے۔ چھت پر لٹکے ہوئے فانوس اور اُن کے درمیان بجلی کے پنکھے ڈائیننگ ہال کو ایک نوابی شان سے دو چار کرتے تھے،بجلی رینالہ بجلی گھر بن جانے سے کافی مقدار میں دستیاب تھی۔ اِس لیے بعض اور بھی چیزیں بجلی پر چلنے والی مہیا کی گئیں۔ جن میں سے اکثر اِسی ڈائیننگ ہال اور ڈرائنگ روم میں موجود تھیں۔ مثلاًگراموں فون،ریکارڈر سسٹم،بھاپ دان،کھانا پکانے کے لیے ہیٹر اور اِسی طرح کی بیشتر چیزیں۔ ڈائننگ ہال میں بچھا ہوا قالین بھی اپنی مثال آپ تھا،جو سپیشل نواب صاحب آف بہاولپور نے جانسن صاحب کو اُن کی بہاولپورریاست میں تعیناتی پر تحفہ دیا تھا۔ اِس کے علاوہ بھی بہت ساری چیزیں مختلف جگہوں سے تحفہ میں آئی ہوئی ڈائننگ ہال اور ڈرائنگ روم میں موجود تھیں۔ اِن سب چیزوں کو انہی دو کمروں میں رکھنے سے جانسن صاحب کے نوابوں اور مہاراجوں سے تعلقات اپنے شریکے کے انگریزوں پر اچھی طرح کھل جاتے تھے۔ جن کی بعض انگریز افسر حسرت ہی کر کے رہ جاتے۔ کھانا میز پر دور تک چینی،کانچ اور سٹیل کے برتنوں میں سجا تھا۔ دوپہر کا یہ کھانا دودھ،مکھن،جیم،اچار،پلاؤ،روغنی روٹیاں،کھیر،جوس اور دو تین قسم کے گوشت پر منحصر تھا۔ سوئر کا گوشت اِس خاندان نے عرصہ پہلے چھوڑ رکھا تھا۔ اِس لیے اُس کا میز پر کوئی انتظام نہیں تھا۔ اِس معاملے میں جانسن اور ولیم کے اُن انگریز دوستوں کو کوفت ہوتی تھی جنہیں یہ گاہے بگاہے کھانے پر بلاتے لیکن باقی چیزیں کافی مزیدار ہوتیں اور کھانا بد مزانہ ہو پاتا اور سوئر کے بغیر بھی اُن کا گزارا چل ہی جاتا۔ ویسے بھی نولکھی کوٹھی پر اکثر اُن کے رینالہ اسٹیٹ،ستگھرہ اسٹیٹ اور مچلز والے انگریز مہمان ہی آتے تھے،جو خود بھی دیسی کھانوں میں رچ بس گئے تھے۔

کھانے کی میز پر بھی کافی گپ شپ رہی لیکن یہاں بھی جانسن صاحب نے ولیم سے اُس کی جلال آباد میں تعیناتی اور ملازمت کے تجربات سے متعلق کوئی سوال نہیں کیا۔ اِس پر ولیم حیران تھا لیکن خوش بھی تھا کہ ایسے خوشگوار ماحول میں اِس طرح کی گفتگونامناسب تھی۔

دس پندرہ منٹ میں ہلکی وائین کے ساتھ مزیدار کھانا کھا کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے اور تھوڑی دیر کے لیے آرام کرنے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے کیونکہ چار بجے رینالہ سے ولیم کے بچپن کے دوست ایشلے کے آ جانے پر اُس کا استقبال بھی کرنا تھا۔ جس سے پچھلے سات سال سے ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔ لندن سے آنے کے بعد ولیم کو مسلسل نوکری کے بکھیڑوں میں اتنا وقت ہی نہ مل سکا کہ وہ دوستوں کے ساتھ مل کر کچھ دیر گپ شپ کی چہلیں کر لے اور ایشلے سے اُس کی شاعری سن لے،جو بچپن کے وقت تو محض دل بہلانے کی ہوتی تھی لیکن بعد میں جب اُس نے ولیم کو اپنی نظمیں لندن بھیجیں تو وہ بہت عمدہ تھیں۔ آج ایشلے سے ہونے والی ملاقات کے تصور میں اُسے عجب سرشاری کا لطف محسوس ہو رہا تھا۔ لندن میں اُسے کیتھی نے کسی بھی قسم کی کمی محسوس نہ ہونے دی تھی لیکن ایشلے کی بات ہی کچھ اور تھی۔ اِنہی احساسات میں اُسے اپنے اور ایشلے کے ساتھ گزارے ہوئے ایسے وقت کی جھلکیاں یاد آنے لگیں،جنہیں یاد کر کے وہ کچھ شرما سا گیا لیکن وہی جھلکیاں اُسے مزید لطف اندوز کرنے لگیں اور وہ ایشلے کی ملاقات کے لیے بے چین سا ہو گیا۔ لندن سے آنے کے بعد اُس سے ملاقات اس لیے بھی نہ ہو سکی تھی کہ وہ جب ہندوستان آیا تو ایشلے کلکتے میں ایک کالج میں بطور پروفیسر تقرری کے لیے اپنے آڈر لینے جا چکا تھا۔ اُس کے بعد ولیم لاہور سے فیروز پور چلا گیا۔ یوں اب تک دونوں میں دوری بر قرار رہی تھی لیکن خوش قسمتی سے اب دونوں ہی اوکاڑہ میں موجود تھے اور ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کے لیے بے چین تھے،جو چند لمحو ں کے بعد ہونے والی تھی۔ جانسن صاحب قیلولے کے لیے جاچکے تھے لیکن ولیم باہر نکل کر صحن میں ٹہلنے لگا۔ ،تھوڑی دیر ٹہلتے ٹہلتے اُس نے باورچی کو آواز دے کر کافی بنانے کے لیے کہا اور پھر اُسی طرح ٹہلنے لگ گیا۔ اگرچہ اُس کا چہل قدمی کرنے کو دل نہیں چاہ تھا لیکن اُسے بس ایشلے سے ملنے کی بے چینی لگی ہوئی تھی۔ اِسی کیفیت میں ولیم کو پندرہ منٹ گزرگئے۔ اتنے میں باورچی کافی بنا کر لے آیا اوروہ کوٹھی کے وسیع لان میں پڑی ہوئی کُرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ کر کافی کی چسکیاں لینے لگا۔ ابھی اُس نے دو ہی گھونٹ لیے تھے کہ دور سے گاڑی کے ا ٓنے کی آواز سنائی دی۔ ولیم کافی کا کپ وہیں رکھ کر اُٹھ کھڑا ہوا اور آموں کے باغ کے دوسری طرف سے آنے والی گاڑی کا انتظار کرنے لگا۔ چند ہی لمحوں میں اُسے ایشلے اور ڈینی کے چہرے نظر آ گئے جنہیں اِتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی پہچاننے میں دقت نہیں ہوئی۔ اُس نے دور ہی سے دونوں کی شکلوں میں واضع فرق کو محسوس کر لیا تھا۔ جیسے ہی جیپ پیپل کے درخت کے نیچے پکی انیٹوں کی سڑک پر آکر رُکی،ولیم ملنے کے لیے تیز ی سے اُس طرف چل پڑا۔ اُدھر سے ایشلے اور ڈینی بھی گاڑی سے چھلانگ مارکر ولیم کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ اِس تیزی میں ڈینی کا کنٹوپ سر سے گرتے گرتے بچا۔ اِس اشتیاق میں سب نے ملازموں کے سامنے اپنے پورے انگریزی وقار کو پاؤں کی ٹھوکر پر رکھ دیا اور ایک دوسرے کو بے انتہا جوش کے ساتھ گلے ملنے لگے۔ رہ رہ کر لپٹنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کے بوسے بھی لے لیے۔ ان کے اس انداز کو دیکھ کر ملازم حیران رہ گئے۔ اُن کی نظر میں یہ فعل انتہائی غیر اخلاقی اور تعجب انگیز تھا اور یہ بات راسخ کر دینے کے لیے کافی تھا کہ فرنگی قوم بہت زیادہ فحاشی پھیلانے والی ہے۔ کچھ دیر وہیں کھڑے اپنے اشتیاق کو کم کرنے کے بعد تینوں اسی جگہ لان میں بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے۔ اِس جذباتی ملاقات میں ولیم کو یہ بھی نہ یاد رہا کہ دوستوں کو چائے ہی پوچھ لے۔ کچھ دیر چہلیں کرنے کے بعد اُس کو خیال آہی گیااور اُس نے ملازم کو آواز دے کر کافی بنانے کے لیے کہا۔ ایشلے جو ولیم کا اصل میں جی کا دوست تھا،کچھ دیر جی بھر کے ولیم کی طرف دیکھتے ہوئے بچپن کے نظاروں میں کھو گیا پھر بولا،دوست میں نے تو خیال کیا تھا،آپ لندن کے ہو کر رہ گئے،ہندوستان نہیں لوٹو گے اور یہاں ہم آپ کی روح ہی تلاش کریں گے۔

ولیم ایشلے کی سبزی مائل نیلی آنکھوں میں دیکھ کر بولا،ڈیئر میں آپ کو ایک بات بتا دوں،آپ صر ف شاعری کرتے ہیں لیکن اُس پر عمل مَیں کرتا ہوں۔ دیکھنا ایک روز آئے گا آپ میری روح ہندوستان کی خوشبووں میں ڈھونڈو گے (پھر آموں کے باغ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )اِن درختوں کے پتوں کی رگوں میں میری سانس چلتی ہے۔

ڈینی ولیم کو جذباتی ہوتے دیکھ کر بولا،چھوڑ یار آپ تو شاعری میں بات کرنا شروع کر دیتے ہو۔ یہ کام ایشلے کے لیے رہنے دے۔ تم نے ایک سال سول سروس میں گزار لیا ہے۔ کوئی اُن تجربوں کا حال سنا،کیسا لگا اِس نوکری میں آنا آپ کو؟ ولیم نے ڈینی کی بات کامزالیتے ہوئے ایشلے کی طرف دیکھا اور بولا،ایشلے،یہ ڈینی عجیب آدمی ہے،کوئی موضوع چھیڑو،یہ بات دوسری طرف گھمانے کی کرتا ہے۔ اچھی بھلی بچپن کی محفل جمنے لگی ہے تو یہ چاہتا ہے،مَیں ملازمت کے کریہہ پیشے کی الف لیلیٰ چھیڑ دوں۔ دوست یہ ایک ایسی ملازمت ہے جس میں اپنی طرف سے صر ف ڈانس کر سکتے ہو۔ ہدایات کہیں اور سے ملتی ہیں۔ تم اِس ساری بکواس کو ایک طرف رکھو اور میری سنو،لورین بھی آئی ہوئی ہے۔ ہمارا پروگرام آج نہر کے پانی پر تخت بچھا کر رات کی سفید چاندنی میں فلاش کھیلنے اور ایشلے سے شاعری سننے کا ہے۔ یہ وہی نہر ہے ایشلے،جس میں آپ آٹھ سال کی عمر میں یسوع مسیح کے حوالے ہونے لگے تھے۔ پھر میری چیخ نے ایک ملازم کو چھلانگ لگانے پر مجبور کر دیا تھا۔ اِسی نہر میں آج رات ہم لکڑی کے تختوں پر جھولا جھولیں گے۔ یہ آئیڈیا لورین نے پیش کیا ہے۔ بتاؤکیسا رہے گا؟

ایشلے اُچھلتے ہوئے کھڑا ہو گیا اور بولا،ارے کمال ہے ولیم،لورین کے آنے کی خبر دے کر آپ نے صحرا ئے دل میں شبنم بھر دی۔ بہتی ہوئی نہر کے درمیان بیٹھ کر لورین سے باتیں کرنے کا لطف تو خوب آئے گا۔ لیکن یہ بتاؤ،اُس کا خاوند تو ساتھ نہیں ہے؟پھر باتیں کھل کر نہیں ہو سکیں گی( چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے )لیکن وہ نظر نہیں آرہی۔
اِس وقت سو رہی ہے۔ تھکی ہوئی تھی۔ ولیم نے وضاحت کی،اُس کاخاوند اُسے کچھ دنوں کے لیے یہاں چھوڑ کر بنارس گیا ہے کسی نواب کے کیس کی تاریخ پر عدالتی معاملے میں۔ اور ہاں آپ کو اگر نہانا دھونا ہے اور آرام کر نا ہے تو کر لیں۔ ابھی ساڑھے تین ہوئے ہیں،رات آٹھ بجے ہم وہاں جائیں گے۔

آرام کی ضرورت نہیں ہے جناب کمشنر صاحب،ایشلے نے ولیم کو طنز کرتے ہوئے کہا،اِس طرح کے چونچلے سول سروس والوں کے ہوتے ہیں۔ ہم تو ٹھہرے مست شاعر۔ رات کی تنہائیوں میں پہروں پھرنے والے اور خوبصورت شکلوں پر نغمے کہنے والے۔ یاد ہے ناآپ کو؟ آپ پر اور لورین پر بھی کئی کئی نظمیں کہ رکھی ہیں۔ کیا لورین ویسی ہی ہے؟ مجھے تو اُس کو دیکھے بھی تین سال ہو گئے۔ ممبئی کیا گئی ہماری ذات ہی بھول گئی۔
ہاں ہاں ویسی ہی ہے،ولیم نے زور دے کر کہا۔

تینوں دوست کوٹھی کے صحن میں بیٹھے کافی کے ساتھ باتوں کے طوطے اُڑاتے رہے۔ بیچ بیچ میں ایشلے اپنی نظمیں بھی سناتا رہا،جن میں یورپ اور ہندوستانی فضاؤں کا امتزاج تھا۔ اِتنے میں دور سے آوازے لگاتی ہوئی لورین بھاگی آئی اور ایشلے کے آتے ہی گلے لگ گئی۔ اُس کے بعد ڈینی کو ملی اور بیٹھتے ہی ایشلے سے بولی،ایشلے آپ بہت یاد آتے ہو،ممبئی میں آپ کی نظمیں اکثر گنگناتی ہوں۔

ایشلے نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا،لیجیے ایک اور جھوٹ سن لیں۔ ایک خط تک لکھا نہیں اور لگیں مجھے یاد کرنے۔
لورین نے ڈینی کی ایک چٹکی لیتے ہوئے کہا،ڈینی،یہ ایشلے نرا شاعر ہے،احمق شاعر۔ ہم سے شادی کر لیتا،شاعری کے لیے اِسے دوسرے موضوع کی تلاش نہ کرنی پڑتی۔ جتنی چاہتا ہم پر نظمیں کہہ لیتا۔

لورین کے اس چھیڑخانی والے جملے پر سب نے بلند قہقہ لگا یا۔ اِس کے بعد لورین نے ولیم کی طرف دیکھ کر کہا،ولیم،ایشلے سے ذرا وہ کبوتروں والی نظم سنیے،بہت عمدہ ہے۔ جب آپ لندن میں تھے اِس نے مجھے سنائی تھی۔

ارے ایشلے کوئی ایسی نظم بھی لکھی ہے جو لورین کو بھی پسند آگئی؟،ذرا سنیں تو سہی،ڈینی نے ایشلے سے کہا۔
ایشلے نے اپنا ہیٹ اُتار کر میز پر رکھا اور شاعرانہ انداز سے ایک طرف پہلو بدلتے ہوئے نظم شروع کردی۔ ڈینی،لورین اور ولیم ہمہ تن گوش ہو گئے۔

اپریل کا آسمان بلند ہے
ایک بڑے زمرًد کے انڈے کی طرح
نیلا اور شفاف
اس کی پہنائیوں میں اُڑتے کبوتروں کا
سفید رنگ سفید ہی نظر آتا ہے
اور پنجوں کے ناخن گلابی
مجھے اپنی آنکھوں پر کبھی اعتبار نہیں رہا
مگر میں اپریل کے آسمان سے دھوکا نہیں کھا سکتا
میں نے اسے پچیس بہاروں میں دیکھا
اُس وقت جب پرندے اُڑتے ہیں
اور پریاں ہواؤں میں پَر پھیلاتی ہیں
تمھیں خبر ہے،مَیں اِسے کبوتروں والا آسمان کہتا ہوں
چراگاہوں میں چرتے مویشوں کے درمیان دیکھتا ہوں
جب وہ چرتے چرتے اپنامنہ سبز چارے سے اُوپر اٹھا کر
خدا کو دیکھتے ہیں
کبوتروں کی پرواز کو دیکھتے ہیں
یہ کبوترہمیشہ اُڑتے رہیں گے
اُس وقت بھی جب میں نہیں ہوں گا
میرا یقین اعلان کرتا ہے
بڑے آسمان کے کبوتر ہی خدا ہیں

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اب شام کے پانچ بج چکے تھے اورشفق کا سورج لال روشنی چھوڑ رہا تھا۔ اِس کے ساتھ ہی لان کے سبزے میں سیاہ مچھر تیرنے لگے جو اُڑ اُڑ کر آنکھوں کو آتے تھے لیکن ہوا ایسی خوشگوار اور رومان پرور تھی کہ ہر ایک کو غش آرہا تھا۔ اتنے میں جانسن صاحب بھی باہر نکل آئے۔ اُن کے ساتھ حنا بھی تھیں۔ جانسن کے لان میں آتے ہی تمام لوگ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ ڈینی اور ایشلے نے آگے بڑھ کر جانسن صاحب کو سلام کیا اور ہاتھ ملایا،۔ جانسن نے اُنہیں مربیانہ انداز میں سلام کا جواب دیا اور کہا،لڑکو ! آپ کے لیے نہر پر تخت بچھا دیے گئے ہیں۔ مَیں اور حَنًا بھی ڈنر آپ کے ساتھ ہی نہر پر کریں گے۔ اِس لیے تیار ہو جاؤ۔ اِتنا کہ کر جانسن صاحب نے آگے قدم بڑھائے اور مالٹوں کے سفید چمکتے ہوئے پھولوں کی طرف بڑھ گئے جبکہ باقی دوبارہ وہیں بیٹھ گئے۔ اُن کے ساتھ حَنًابھی وہیں بیٹھ گئی،پھر دوبارہ باتیں اور شاعری شروع ہو گئی۔ مدتوں کے بعد ولیم کو اس طرح کی محفل پہلی دفعہ میسر آئی تھی۔ اِس لیے وقت گزرنے کا اندازہ ہی نہ ہوا۔ حتیٰ کہ جانسن صاحب جو کچھ دیر ہی پہلے مالٹوں کے باغ میں نکل گئے تھے،دوبارہ نمودار ہوئے اور بولے،آپ ابھی تک یہیں بیٹھے ہیں؟ بھلے آدمیو اب تو ساڑے چھ بج چکے ہیں۔ جانسن صاحب کے ہوش دلانے پر سب ایک ہی دم کھڑے ہو گئے۔ دیکھا تو صحن کے باہر خادمان اور مامائیں اور انتظامیہ کا عملہ اُن کے انتظار میں کھڑا تھا۔ ایشلے نے جانسن صاحب کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا،سر،ہم آپ کے غصہ سے مستثنیٰ ہیں کہ شاعر ہونے کے ناتے اتنا تو حق رکھتے ہیں (پھر ولیم کی طرف دیکھ کر) جناب کمشنر صاحب،کیا ہم آپ کی اجازت سے نہا کر کپڑے بدل لیں۔

ولیم نے سر سے ہیٹ اُتار کر جواب دیتے ہوئے سر جھکایا اور کہا،مہاراج اب جلدی کریں ورنہ میں آپ کی اسٹیٹ ضبط کر لوں گا۔ سول سروس آپ کے خیال میں مذاق ہے؟اس فقرے پر سب ہنس دیے۔

اسکے بعد ولیم،جانسن،ڈینی اور لورین تیار ہونے کے لیے کوٹھی میں چلے گئے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

رات کے دو بجے تک نہر کے چلتے پانی پر چاندنی رات میں شراب،بٹیروں اور مرغابیوں کے کباب،فلیش اور شاعری کرتے اور گاہے گاہے ہندوستان اور یورپ کی زندگی کا جائزہ لیتے سب ہی اتنا تھک چکے تھے کہ صبح گیارہ بجے آنکھ کھلی۔ البتہ جانسن صاحب صبح چھ ہی بجے دوبارہ جاگ گئے تھے اور فارم کی سیر کرتے ہوئے دور تک نکل گئے۔ گیارہ بجے اُٹھ کر سب نے نہایا اور کافی لی۔ حتیٰ کہ لنچ کا وقت ہو گیا۔ لنچ کے بعد ولیم نے اعلان کیا،دوستومیں نے ابھی براستہ ہیڈ سلیمان کی جلال آباد نکلنا ہے،اِس لیے میری رخصت کا وقت آرہا ہے۔ انشاء اللہ اگلے سینچر دوبارہ ملاقات ہو گی۔ آپ چاہیں تو یہاں رہیں اور چاہیں تو رینالہ جائیں۔ یہ کہ کر تیاری میں مصروف ہو گیا۔ دو بجے کے قریب جب ولیم بالکل تیار ہو گیااور ڈینی اور ایشلے کو ملنے کے لیے باہر نکلا تو وہ دو نوں بھی پیپل کے سائے تلے کھڑی اپنی گاڑی کے پاس رینالہ جانے کے لیے تیار تھے۔ ولیم دوستوں کے پاس جا کھڑا ہوگیا،جہاں لورین پہلے ہی موجود تھی۔ جانسن صاحب نے ولیم کو مخاطب کر کے کہا،ولیم دوستوں کو رخصت کر کے ذرا اندر آئیں۔

ولیم ڈرائینگ روم میں پہنچا تو جانسن صاحب اور حَنًا دونوں بیٹھے اُس کا انتظار کررہے تھے۔ ولیم ہیٹ اُتار کر سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا اور جانسن کی بات سننے کے لیے تیار ہو گیا۔

جانسن نے بلا کسی تمہید کے بات شروع کی،ولیم یہ ڈرانئگ روم میں جتنی تصویریں دیکھ رہے ہو،یہ سب آپ کے اجداد کی ہیں۔ اِن میں سے کوئی ایسانہیں جس کی خدمات خاندان اور گورنمنٹ کے لیے یکساں فخر کا باعث نہ ہو۔ یہ ہندوستان،جس کے رومان میں آپ مبتلا ہو،یہ ہمیں بھی اتنا ہی اپنی طرف کھینچتا ہے جتنا آپ کو،لیکن اِس کی محبت کے کچھ آداب ہیں اور وہ آداب تمھارے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں۔ تمھیں معلوم ہونا چاہیے،کالے اور سفید لوگوں کے درمیان ایک لکیر ہے۔ اُسے جب بھی عبور کیا جائے گا،اُسی وقت یہ زمین اپنے گلے سے ہمارے اقتدار کی رسی کاٹ دے گی۔ میں بھی اِس حق میں ہوں کہ کالوں کی غربت اور جہالت ختم ہونی چاہیے۔ اُسے بہت حد تک ہم نے ختم کیا بھی ہے،لیکن کیا آپ اِس بات کو بھول گئے کہ ہماری اِن پر حکومت کا سبب اِن کی یہی جہالت ہے۔ چنانچہ اُسے ایک حد تک ان پر مسلط رکھنا ضروری ہے۔

ولیم نے جانسن کی بات سنتے سنتے اپنا پہلو بدلا، جسے دیکھ کر جانسن نے بات جاری رکھی،آپ کے جانے کا وقت ہو رہا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایک دو باتیں اس وقت آپ کو بتا دینا بہت ضروری ہیں۔ ہم کچھ کام میں آزاد ہیں اور کچھ میں مجبور۔ یہ فارم اور یہاں جگہ جگہ ہماری نشانیاں،جو ہم نے اِس زمین پر ثبت کی ہیں،ہم چاہتے ہیں وہ ہمارے نام پر برقرار رہیں۔ حالات کے فیصلے ضروری نہیں ہمارے فیصلوں سے اتفاق کریں مگر ہم اپنی کوشش جاری رکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم خود اپنے پاؤں کاٹناشروع کر دیں،جیسا کہ آپ کی طرح انسانیت کا درد رکھنے والے کئی انگریزافسر کر رہے ہیں،تو ہمیں اپنی قسمتوں پر شکوہ نہیں کر نا چاہیے۔ مجھے آپ کے متعلق کمشنر ہاؤس سے کچھ شکایات وصول ہوئی ہیں،جو بہت خطرناک ہیں۔ اپنے پیروں کی زمین دیکھ کر قدم اُٹھاو۔ ایسا نہ ہو اگلے قدم پر زمین ختم ہو جائے۔ تمھارا کام اِس وقت صرف نوکری کرنا ہے۔ فیصلے کرنا گورنمنٹ کے بڑوں کا کام ہے۔ میں چاہتا ہوں،آپ بڑوں میں شامل ہو جاؤ لیکن اُس وقت کا انتظار کرو۔ جو آپ کے پاس موجود ہے،اُس کو بچاؤ۔ میری نوکری تین سال رہ گئی ہے۔ اُس کے بعد مَیں بھی تمھارے رحم و کرم پر ہوں۔ اِس سے آگے میں آپ کو کچھ نہیں سمجھا سکتا۔ (پھر بات بدلتے ہوئے ) میں یہ چاہتا ہوں،کیتھرین کو جلد بیاہ لیا جائے۔ یہ کوٹھی آپ کی ہے۔ آپ اس کے وارث ہو۔ جب چاہو،اُسے یہاں اُتار سکتے ہو۔ جلال آباد جاکر پہلا کام اُسے تار بھیج کر بُلانے کا کرو۔ میں اگست تک اُسے یہاں دیکھنا چاہتا ہوں۔ اِتنا کہ کر جانسن اُٹھ کھڑا ہوا۔ اُس کے بعد ولیم بھی باہر نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا،جو سفر کے لیے تیار کھڑی تھی۔

Categories
فکشن

نولکھی کوٹھی – سولہویں قسط

[blockquote style=”3″]

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔

 

ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

[/blockquote]

علی اکبر ناطق کے ناول “نولکھی کوٹھی” کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

(۳۱)

 

غلام حیدر کو ڈپٹی پولیس آفیسر کی ملاقات کے لیے پیغام پہنچا توحویلی میں رنگ رنگ کے افسانے کھل گئے۔ ہفتہ پہلے سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر کے بندوں کی گرفتاری اور مال کی ضبطی ہوئی۔ اِس کام نے غلام حیدر کی طاقت اور بڑے صاحب تک پہنچ کو سب پر روشن کر دیا تھا۔ اب اس بات میں کس کو شک تھا کہ پولیس کے بڑے افسر نے غلام حیدر کو دفتر میں بلا کر یہی کہنا تھا،بھائی ہم آپ کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں اور حکم کے بندے ہیں، دوبارہ بڑے صاحب کی طرف مت جائیں۔ ہماری نوکریوں کے لیے خطرہ ہے۔

 

غلام حیدر کی حویلی میں بیٹھے سب لوگ اپنی اپنی قیاس آرائیوں میں لگے انگریزی سرکار اور جھنڈو والا کی خبریں نون مرچ لگا کر اورایک دوسرے کو سنا کر آنے والے وقت کے متعلق فیصلے صادر کر رہے تھے۔ سب سے زیادہ امیر سبحانی جوش میں تھا۔ امیر سبحانی بیس بائیس سال کا کوتاہ قامت مگر نہایت باتونی اور چرب زبان تھا۔ باتوں کی لشکر کشی ایسے کرتا کہ بڑے سے بڑا سیانا بھی قبول کر اُٹھتا۔ قصہ گوئی کا فطری مادہ اُس میں موجود تھا۔ وائسرائے کی بیٹی سے غلام حیدر کا ناطہ ثابت کرنے کے بعد اُس کی قدر میں بہت اضافہ ہو چکا تھا۔ اِس لیے اُس کی باتوں پر پہلے سے زیادہ دھیان دیا جانے لگا۔ اُس کا اپنا علاقہ جلال آباد نہیں تھا۔ وہ فیروزپور شہر سے آوارہ گردی کرتے ہوئے یہاں پہنچا۔ اُس وقت اُس کی عمر پندرہ سال تھی۔ شیر حیدر نے اس کی چرب زبانی دیکھ کر اور لطیفہ گوئی سن کر یہیں رکھ لیا۔ کام وغیرہ کچھ نہیں لیا جاتا تھا۔ پچھلے چھ سات سال سے جلال آباد میں تھااور زبان کا کھٹیا کھا رہا تھا۔ اِس وقت بھی اپنے دیسی چمڑے کے جوتے کے تلووں سے لگی ہوئی مٹی ایک سخت تنکے سے کرید کرید کر جھاڑتا جاتا اور باتوں کے توتے مینا اُڑاتا جا رہا تھا۔

 

،یارو میری تو بات کو ہر ایک چوتڑوں میں دبا لیتا ہے اور سمجھتا ہے امیر سبحانی نے واہی بَک دی۔ حالانکہ میں نے پہلے دن سب کو خبردار کر دیا تھا کہ اپنے غلام حیدر کی منگ میں جب واسرائے کی چھوکری آ گئی ہے تو گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ انگریز سرکار سودھا سنگھ کے دونو ں ہا تھ باندھ کے چکی کے پُڑوں کے نیچے دے دے گی اور اُس کی داڑھی کا رسہ وٹ کے سکھڑے کی ٹانگیں باندھ دے گی۔ اگر اب بھی میری بات کا یقین نہیں تو پھر کوڑھ مغزوں کے لیے بادام روغن کی ضرورت ہے،جو جلال آباد میں تو ملتے نہیں، کشمیر سے ہی منگواؤ تو منگواؤ۔

 

رشید ماچھی امیر سبحانی کی طرف رشک سے دیکھ کربولا،میاں سبحانی پہلے یہ بتا،کس لدھونے تیری بات کو چوتڑوں میں دبایا تھا اور یقین نہیں کیا تھا؟میں نے تو اُسی وقت کہہ دیا تھا،اگر خبر امیرے نے دی ہے تو پکی سمجھو ( آنکھ دبا کر خوشامد کرتے ہوئے) لیکن یار سبحانی اب تو بتا دے تجھے کیسے پتا چلا تھا کہ اپنے چوہدری غلام حیدر کے ساتھ وائسرائے کی بیٹی کا یارانہ ہے؟

 

لو اور سنو بھائی فیقے،امیر سبحانی نے رفیق پاؤلی کی طرف دیکھ کر کہا،او شیدے بونگے تُو بھی کٹوں سے دودھ نکالتا ہے۔ یہ باتیں کوئی پوچھنے کی ہیں؟ پھر اپنی چھدری کالی سیاہ داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے،یہ داڑھی کیا دھوپ میں سفید کی ہے؟ میاں،امیر سبحانی نے صرف کبوتر نہیں اُڑائے،لوگوں کے کانوں کے فیتے کاٹے ہیں فیتے۔ لیکن تجھے بتا بھی دوں تو سمجھ نہیں آئے گا،اِس لیے فائدہ نہیں۔

 

رفیق پاؤلی نے امیر سبحانی کی بات سُن کر کہا،سبحانی کچھ ہمیں بھی تو پتا چلنا چاہیے،اِس بات کی خبر تجھے کیسے ہوئی؟

 

بھائی کبھی آل انڈیا ریڈیو دیکھا؟ امیر سبحانی جوش اور غصے کی ملی جُلی کیفیت میں بولا،لیکن رفیق کے جواب دینے سے پہلے ہی،اچھا دیکھا تو خیر نہیں ہو گا کبھی نام بھی سنا ہے؟ جب تم نے نام بھی نہیں سنا تو تمھیں سمجھ خاک آئے گی۔ چاچا فیقے،یہ ایک جادو کا ڈبہ ہو تا ہے (ہاتھوں کے اشارے سے)اِتنا چوڑا اور اِتنا لمبا۔ اِس میں ایک جِن بیٹھا ہوتا ہے،جو غیب کی باتیں پڑھ پڑھ کے سناتا ہے۔ سننے والے حریان،پریشان دیکھتے ہیں یہ کیا ہے؟ مگر یہ بولتا جاتا ہے،بولتا جاتا ہے۔ بس میں نے بھی وائسرائے کی بیٹی اور غلام حیدر کی بات اِسی سے سُنی تھی۔ پر دیکھو یہ ڈبہ ہر ایک کو نہیں سناتا۔

 

امیر سبحانی کی بات سن کر سب ہکا بکا رہ گئے۔ جانی بولا،اچھا چل اس بات کو چھوڑ،اب یہ بتا ڈپٹی صاحب نے غلام حیدر کو اپنی سرکار میں کیوں بلایا ہے؟ ذرا قیاس کر کے بتا؟
امیرسبحانی نے اِتنی عزت افزائی دیکھی تو نئی نئی چھوڑنے لگا۔ اُس نے ایک دفعہ جوتے پاؤں سے اُتار کے زمین پہ پھینکے اور دونوں ٹانگیں چارپائی کے اُوپر رکھ کر بولا،لو جی اگر تم کو اتنی ہی بے چینی ہے تو سنو،یہ تو تمھیں پتا چل ہی گیا ہے چوہدری غلام حیدر کی اُوپر تک پہنچ کی وجہ سے کمشنر صاحب نے پولیس کے بڑے سنتری کے کان کھینچے ہیں،جس پر اُس نے مجبور ہو کر جھنڈو والا اور میگھا پور کی صفائی پھیری ہے۔ اب یہ بات تو سادھو کو بھی پتا چل جائے گی کہ بڑا سنتری چوہدری غلام حیدر سے یاری دوستی لگانا چاہتا ہے تاکہ چوہدری صاحب سے بڑی سرکاروں میں سفارش کروا کے نوکری میں ترقی کروا لے۔ او بھائی یہ انگریز بہادر بڑے سیانے ہوتے ہیں۔ بغیر مطبل کے کسی کے کام نہیں آتے۔ دیکھنا یہ بات نہ ہو تو میری داڑھی مونڈ دینا اِسی پتھورے پر۔

 

امیر سبحانی کا نیا انکشاف سُن کر سب عش عش کر اُٹھے۔ یہ بات تو کسی کو بھی نہیں سوجھی تھی کہ انگریز بہادر نے غلام حیدر سے ملاقات کیو ں کرنا چاہی ہے۔ واقعی امیر سبحانی کی وہاں تک سوچ جاتی تھی جہاں تک رفیق پاؤلی اتنا سیانا ہونے کے باوجود بھی نہیں پہنچ سکا تھا۔
سب حویلی کے صحن میں بیٹھے قیاس آرائیاں کرتے کرتے اصل نتیجے تک پہنچے ہی تھے،اِتنے میں غلام حیدر زنان خانے سے نکل کر حویلی کے بیرونی صحن میں آتا دکھائی دیا۔ اُس نے ریشمی لاچے کے ساتھ پاؤں میں اُونچی کنی والا دیسی کھسہ ڈال رکھا تھا جس کی چرر چرر کی آواز سے عجیب سُر نکل رہے تھے۔ اِسی طرح سفید لٹھے کا کُھلا کُرتا اور کاندھے پر وہی پکی ریفل جو سرداری کے مزاج کو اور بھی آسمان پر لے جاتی تھی۔ اُس پر قدم اُٹھانے کا انداز،سب کچھ بڑا شاندار لگ رہا تھا۔ غلام حیدر کودیکھ کر سب خاموش ہو گئے اور اُٹھ کرسلام لینے لگے۔ غلام حیدر نے سب کو ایک ہی سلام میں بھگتا کر رفیق پاؤلی سے کہا،چاچا رفیق کیا تحصیل جانے کی تیاری مکمل ہو گئی؟

 

جی تیاری تو مکمل ہے بس تمھارا ہی انتظار تھا،رفیق پاؤلی نے جواب دیا۔

 

تو چلیں؟ غلام حیدر بولا،اِس کے بعد بگھی کی طرف چل دیا،جو حویلی کے صحن میں دروازے کے ساتھ ہی کھڑی تھی۔ جب بگھی پر بیٹھ چکا تو دوسرے لوگ بھی اپنی اپنی سواری پر چھویوں اور ڈانگوں پر کسی کرپانوں کے ساتھ چڑھ گئے۔ پھر چند وقفوں کے بعد یہ سواریاں جلال آباد کی تحصیل میں پولیس کے بڑے صاحب کے دفتر کی طرف چل دیں،جو غلام حیدر کے مکان سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ رستے میں آگے پیچھے چلتی سواریاں اور سواریوں میں بیٹھے غلام حیدر کے آدمیوں کے چٹکلے اور ہنسی دور تک چلتے راہیوں کو رُکنے پر مجبور کر رہی تھیں۔ لوگ غلام حیدر کی سواری کو دیکھ کر کچھ دیر کھڑے رہ جاتے۔ صبح دس بجے یہ سواریاں ڈی ایس پی لوئیس صاحب کے آفس کے سامنے جا کر رُک گئیں۔ لوئیس صاحب کے دفتر کی ساری عمارت پر پیلے رنگ کا چونا پھیرا گیا تھا۔ عمارت کے سامنے بڑا صحن تھا۔ جس کو ایک چھوٹے قد کی دیوار سے گھیر کر اُس میں لکڑی کا پھاٹک لگا دیا گیا تھا۔ صحن میں بڑے گراؤنڈ کے بیچ بڑی بڑی داڑھیوں والا آسمانی چھتری نما بوڑھ کا درخت عمارت کی شان و شوکت کا گواہ تھا۔ اس بوڑھ سے تھوڑا آگے ڈپٹی صاحب کے دفتر کی عمارت شروع ہوجاتی تھی۔ سب سے پہلے عمارت کا ہاتھی دروازہ اور اُس کی بڑی ڈاٹ کے سِرے پر بانس کے ڈنڈے کے ساتھ لہرا تا ہوا برطانوی سلطنت کا پھریرا سلطنت کی ہیبت کا مدعی تھا۔ غلام حیدر نے بگھی سے اُتر کر اپنی رائفل کاندھے سے اُتار کر رفیق پاولی کے حوالے کردی اور عمارت کی طرف بڑھ گیا۔ جبکہ اُس کے تمام بندے وہیں گراؤنڈ میں ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ بڑے صاحب کے کمرے میں صرف غلام حیدر ہی کو جانے کی اجازت تھی اور یہ بات قدرتی طور پر ہی تمام ملازمین جانتے تھے۔

 

غلام حیدر پھریرے والے دروازے سے گذر کر عمارت میں داخل ہوا تو کئی راہداریوں نے اُس کا سامنا کیا،جنہیں نیلے اور لال رنگ سے پینٹ کیا گیا تھا۔ ایک حوالدار غلا م حیدر کے ساتھ تھا۔ وہ رہنمائی کرتا ہوا اُسے ایک کمرے میں لے گیا۔ یہ کمرہ ویٹنگ روم تھا۔ جس میں پہلے بھی کئی لوگ بیٹھے تھے۔ کچھ دیر بعد ایک کُلے والے چوکیدار نے غلام حیدر کے نام کی آواز دے کر اُسے صاحب کی ملاقات کی اجازت دی۔ غلام حیدر اپنے کُھسے کی چرچراہٹ کے ساتھ کمرے میں داخل ہوا تو لوئیس نے اُٹھ کر غلام حیدر سے ہاتھ ملایا اور اُسے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ غلام حیدر خوش دلی سے ڈی ایس پی لوئیس کا شکریہ ادا کر کے کُرسی پر بیٹھ گیا۔ اُس کے ایک طرف ایک تھانیدار بیٹھا تھا،جس سے غلام حیدر بالکل ناواقف تھا۔ واقف تو وہ ڈی ایس پی صاحب سے بھی نہیں تھا لیکن ایک ہفتہ پہلے جو کارروائی جھنڈو والا اور میگھا پور میں لوئیس کی نگرانی میں ہوئی تھی اور اُس کی خبر پوری تحصیل میں ہوا کی طرح پھیل گئی تھی،اُس وجہ سے ڈی ایس پی لوئیس کا نام نہ صرف جھنڈووالا اور میگھا پور میں بلکہ غلام حیدر کی پوری رعیت کی زبان کا ورد ہو گیاتھا۔ صاحب بہادر نے جس طرح کارووائی کر کے جھنڈو والا کی تباہی پھیر کر سودھا سنگھ کی چوہلیں ہلائیں تھیں،اُس سے غلام حیدر کو ایک گونہ اطمنان سا ہو گیا تھا۔ اُسے جو انگریز سرکار سے شکایتیں تھیں،وہ بھی دور ہو گئیں۔ اِس کاروائی سے لوگوں کو ذرا بھی شک نہیں رہا تھا کہ غلام حیدر کے لاہور میں بڑی سرکاروں کے ساتھ رابطے ہے۔ ورنہ کہاں مہاراجہ پٹیالا کے وزیر کا چہیتا سودھا سنگھ اور کہاں ایک پڑھاکو لڑکا چوہدری غلام حیدر۔

 

چنانچہ جب غلام حیدر کو لوئیس صاحب کا پیغام ملا تو اِس میں شک نہ رہا کہ صاحب نے اُسے انصاف کی یقین دہانی کے لیے بُلایا ہے۔ حالانکہ ملک بہزاد نے غلام حیدر کو باور کرادیا تھا کہ انگریز افسر کے سامنے اُس وقت تک نہ جانا جب تک تمھاری جان کسی بھی جھگڑے سے بالکل پاک نہ ہو اور اُس میں بھی اپنے اسلحے کا خاص خیال رکھنا۔ یہ بات غلام حیدر کو یاد تھی لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ لوئیس صاحب،جس کے پاس ابھی تک غلام حیدر کے خلاف نہ کوئی ثبوت تھا اور نہ ہی اُس نے قانون کی بساط سے قدم باہر اُٹھا یا تھا،وہ افسر غلام حیدر کے خلاف کچھ ناروا حکم دیتا۔ وہ لوئیس کے دفتر میں داخل ہوا تو اُس کے مشفقانہ رویے نے مزید اچھا اثر ڈالا۔ اِس سے متاثر ہو کر غلام حیدر نے کہا،سر جس طرح جناب نے مجرموں کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے،اُس پر آپ کی نذر کرنے کو سوائے شکریے کے میری گرہ میں کچھ نہیں ہے۔
مسٹر غلام حید ر! لوئیس بولا،کیا کبھی ایسا ہوا ہے،لڑکا اپنے گھر میں پیدا ہو اور مبارک پڑوسیوں کودی جائے؟اِس میں گورنمنٹ کا شکریہ ادا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ جب جلال آباد میں سرکا ر برطانیہ کی ہے تو امن و امان کی ذمہ داری بھی اُسی کی ہے۔ آپ بے فکر رہیں اور گورنمنٹ کے ساتھ تعاون جاری رکھیں۔ اِس میں شک نہیں کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ جس میں کچھ شر پسندوں نے انگریزی قانون کو ہلکا سمجھ کر اُس کا مذاق اُڑایا ہے۔ اب اِس کا نتیجہ تو اُنہیں بہر حال بھگتنا تھا۔ اب آپ کو تشویش نہیں ہونی چاہیے۔ دل سے تمام خدشے دور کر کے مکمل طور پر گورنمنٹ پر بھروسا رکھواور دل و دماغ سے دشمنی کی ہوا نکال کر صرف رعایا کی خبر گیری کی طرف دھیان دو۔

 

غلام حیدر نے لوئیس کی بات سُن کر تشکر آمیزلہجے میں کہا، ڈپٹی صاحب جب آپ جیسے آفیسر ہماری حفاظت کے لیے موجود ہیں تو تشویش کیسی؟آپ جس قسم کا تعاون چاہیں گے،وہ میری طرف سے حاضر ہے۔

 

لوئیس نے اب ایک لمحہ غلام حیدر کی طرف دیکھا،پولیس کیپ میز سے اُٹھا کر اپنے سر پر رکھی۔ اُس کے بعد اپنی بیددائیں ہاتھ میں لے کر اُٹھااور بولا،ویل غلام حیدر،ہمیں آپ سے یہی توقع تھی۔ آپ کو دفتر میں بلانے کا کوئی خاص مقصد نہیں تھا۔ بس یونہی کچھ امن و امان کے حوالے سے گزاراشات واضح کرنا تھیں۔ آپ اپنی رائفل اور اپنے آدمیوں کا تیز لوہا کم از کم تین ماہ کے لیے گورنمنٹ کو جمع کرا دو۔ تم اور تمھارے آدمی سوائے لکڑی کے کوئی چیز ہاتھ میں لے کر نہیں چل سکتے۔ فی الحال ہم آپ سے اس سے زیادہ نہیں چاہتے۔ میرا خیال ہے یہ بات آپ کے لیے زیادہ وزنی بھی نہیں ہے۔

 

سر یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟غلام حیدر لوئیس کا حکم سن کر حیران رہ گیا۔ اُسے یقین نہیں آ رہا تھا لوئیس،جو ابھی ابھی اتنا شفیق نظر آ رہا تھا،وہ اس قدر کڑوا حکم دے گا۔ چنانچہ اپنی کرسی سے اُٹھتے ہوئے بولا،آپ جانتے ہیں میری کس قدر خطرناک دشمنی پیدا ہو چکی ہے۔ میرے باپ کے مرنے کے بعد جلال آباد کا سایا بھی میرے لیے بھوت بن چکا ہے۔ میرے دو گاؤں پر حملہ ہوا،تین بندے قتل ہو گئے،مال کا نقصان الگ ہوا۔ پھر بھی گورنمنٹ پر بھروسا کرتے ہوئے قانون کی ذرہ برابر نافرمانی نہیں کی۔ لیکن حیرت ہے،ابھی گورنمنٹ کو مجھ پر بھروسا نہیں۔
ڈی ایس پی لوئیس صاحب نے ایک قدم مزید آگے بڑھ کر کہا،غلام حیدر گورنمنٹ کے پاس اتنا وقت نہیں وہ اپنے فیصلوں کی وضاحت کر ے۔ آپ سے جو کہا گیا ہے وہ کرو۔ جھنڈووالا سے لے کر جودھا پورتک،سب کی مالک گورنمنٹ ہے۔ اِس لیے آپ کا اسلحہ تین ماہ تک ضبط کیا جاتا ہے۔ اِسے گورنمنٹ کو جمع کروا دیں۔

 

یہ کہ کر لوئیس صاحب کمرے سے نکلنے کے لیے آگے بڑھ گئے۔ جبکہ غلام حیدر وہیں ہکا بکا کھڑا سوچنے لگا کہ صاحب نے کیسا گرگٹ کی طرح رنگ اور سانپ کی طرح کینچلی بدلی ہے۔ لوئیس صاحب نے دروازہ سے نکلنے سے پہلے ایک ثانیے کے لیے مڑ کر دوبارہ غلام حیدر کی طرف دیکھا اور بولا،مسٹر آپ کو یہ بات سمجھانے میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہیے،جو بھی گورنمنٹ کے حکم کی سرتابی کرنے کی زحمت کرتا ہے،ہم اُس کی گردن باندھ دیتے ہیں۔
آخری فقرہ لوئیس نے اِس کٹیلے لہجے میں کہا کہ غلام حیدر کو کھڑے کھڑے پسینہ آ گیا۔

 

لوئیس غلام حیدر کا جواب سنے بغیر باہر نکل چکا تھا۔ ویسے بھی غلام حیدر میں جواب دینے کی سکت کہاں رہی تھی۔ اُس کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور محسوس ہوا کلیجہ مسوس دیا گیا ہے۔ پھراس سے پہلے کہ اُس کی طبیعت میں پھیلے انتشار کا کسی کو پتا چلتا،وہ خود بھی لوئیس کے کمرے سے نکل پڑا۔ اُس کے ساتھ ہی کمرے میں موجود تھانیدار بھی چل پڑا جو غالباًاُسی لیے وہاں بیٹھا تھا۔

 

غلام حیدر بھاری قدموں سے چلتا اپنی بگھی کے پاس پہنچا تو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اُس کے بندے بھی خالی ہاتھ ہو چکے تھے۔ پولیس نے اُن سب سے اسلحہ قبضے میں لے لیا تھا۔ اب اُس کا اندراج ایک حوالدار رجسٹر میں کر کے اور انگوٹھوں کے نشان لے کر اُن کے رسیدی ٹکڑے واپس کر رہا تھا۔ بہت سے سپاہی بندوقیں پکڑے اُن سب کو گھیرے میں لیے ہوئے تھے۔ غلام حیدر کی رفیق پاؤلی اور اپنے بندوں سے آنکھیں چار ہوئیں تو ہر دو طرف سے شرمساری کی پکھیوں نے اُن پر سایا کر دیا۔ اِسی اثنا میں ایک سپاہی نے،جس کے ہاتھ میں غلام حیدر کی رائفل تھی،جو اُس نے رفیق پاؤلی سے قبضے میں لی تھی،غلام حیدر کے سامنے دستخط کے لیے وہ رجسٹر آْگے کر دیا۔ جس میں اُس کی رائفل کا اندراج ہوا تھا۔ غلام حیدر مکمل طور پر بے بس ہو چکا تھا اور مزاحمت میں سوائے بے عزتی کے کچھ ہاتھ نہیں آ سکتا تھا۔ اِس لیے اُس نے آرام سے دستخط کر دیے۔ دستخط کے بعد اُسے بھی حوالدار نے رائفل کے بدلے ایک رسید تھما دی۔ اُس پر صاف لکھا تھا،غلام حیدر ولد شیر حیدر سکنہ شاہ پور جلال آباد سے اُن کی رائفل دفعہ تیس کے تحت تین ماہ کے لیے حکومت پنجاب اپنے قبضے میں لیتی ہے۔ رائفل ہذا تین ماہ بعد اُس کے وارث غلام حیدر ولد شیر حیدر کے حوالے کر دی جائے گی۔

 

اسلحہ کے ضبط ہونے کی کارروائی ختم ہو چکی تو غلام حیدر نے دوبارہ ایک نظر اپنے بندوں پر ڈالی اور ہلکی سی خجالت کی ہنسی ہنس کر اپنی بگھی کی طرف چل دیا۔ اُس کے پیچھے ہی رفیق پاؤلی اور اُس کے بندے بھی۔

 

بگھی پر بیٹھتے ہوئے غلام حیدر کو شدت سے ملک بہزاد کی یاد آئی اور اُس کے وہ جملے،خبردار کسی بھی و قت انگریز بہادر کو اپنا دوست سمجھ کر اُس کے ساتھ بے تکلف ہونے کی کوشش مت کرنا۔ کیونکہ حکومت اگر اپنی رعایا کے ارادوں کی رعایت کرنے لگے گی تو ایک دن ضرور ذلت کا منہ دیکھے گی۔ اور اس کی توقع فرنگی سرکار سے نہ رکھنی چاہیے۔ کبھی اپنا اسلحہ لے کر انگریز بہادر کے سامنے نہ جانا۔

 

غلام حیدر کے دماغ پر شدید کوفت اور بیزاری کے جھکڑ چلنے لگے۔ اُس نے جان محمد بگھی کوچ کو حکم دیا،جان محمد سیدھے چک عالمکے چلو۔

 

اسلحہ چھن جانے کی وجہ سے سب کو پتا چل چکا تھا کہ غلام حیدر کی بڑے سنتری صاحب سے کوئی کھٹ بٹ ہو چکی ہے۔ اس لیے چوہدری صاحب کے موڈ اس وقت سخت خراب ہیں۔ لہذا کسی نے بھی یہ نہیں پوچھا کہ اس وقت ملک بہزاد کے گاؤں کی طرف جانے کا کیا مقصد ہے۔ بغیر اسلحہ یہ قافلہ لوئیس صاحب کے دفتر سے نکلنے کے بعد سیدھاچک عالمکے کی طرف روانہ ہو گیا۔ گھوڑوں کے مسلسل دوڑنے کی آواز میں تمام لوگ ایک دوسرے سے نظریں چراکر خموشی سے اپنی اپنی ذات کے ساتھ گفتگو کرنے لگے اور گھوڑے دوڑتے گئے۔ حتیٰ کہ سہ پہر تین بجے یہ قافلہ چک عالمکے میں ملک بہزاد کے ڈیرے میں داخل ہو رہا تھا۔

 

ملک بہزاد کا ڈیرہ عام ڈیروں ہی کی طرح تھا۔ اُس کے نہ تو احاطے کی دیواریں اُونچی اور پائیدار تھیں اور نہ ہی ڈیرے کے مکانوں میں کوئی خصوصیت تھی،جسے بیان کیا جائے۔ البتہ احاطہ کافی کُھلا اور پُرسکون تھا۔ اُس کے صحن میں سرکنڈوں کے بان کی پندرہ سولہ کھری چارپائیاں بچھی تھیں۔ اُن میں سے ایک چار پائی پر ملک بہزاد بیٹھا حقے کے ٹکارے لے رہا تھا۔

 

ارد گرد گاؤں کے لوگ بیٹھے ملک بہزاد سے اُس کے کارناموں کی کوئی داستان سُن رہے تھے،جو اُس نے اپنی جوانی کے دنوں میں سرانجام دی ہو گی۔ ملک بہزاد غلام حیدر کو ڈیرے میں داخل ہوتے دیکھ کر حیران ہوا اور فوراً اُٹھ کر استقبال کرنے کے لیے آگے بڑھا،او میرا بھتیجا غلام حیدر آیا،کہ کر باہیں پھیلا دیں۔ ملک بہزاد کے ساتھ دوسرے لوگ بھی اُٹھ کر کھڑے ہو گئے اور غلام حیدر کے بندوں سے سلام دعا لینے لگے۔ غلام حیدر کے ڈیرے میں داخل ہونے کی وجہ سے لوگوں کی تعداد دگنی ہو گئی تھی۔ اس لیے نوکر مزید چارپائیاں بچھانے میں مصروف ہو گئے۔ کچھ لوگ بڑھ بڑھ کر غلام حیدر سے سلام لینے کی کوشش کرنے لگے۔ اُنہوں نے اُس کا نام تو سنا تھا کہ چوہدری شیر حیدر کا مُنڈا بڑے اسکولوں میں پڑھتا ہے اور ولایت بھی گیا ہے لیکن اُنہیں کبھی توقع نہیں تھی کہ ولایت جا کر پڑھنے والا غلام حیدر کبھی اُن کے گاؤں بھی آئے گا۔ نیم کے بڑے سے درخت (جس کی اکثر ٹہنیاں سردی کے موسم میں چھانگی جاچکی تھیں ) کے نیچے چارپائیاں بچھی ہوئیں تھیں۔ موسم گرم نہیں تھا،اس لیے سائے کی ضرورت نہیں تھی۔ ملک بہزاد نے اپنے ساتھ ہی ایک چارپائی غلام حیدر کے لیے رکھوا لی،جس کے پائینتی سفید کھدر کی دوہر اور سرہانے پھولوں کے ساتھ کڑھا ہوا ریشمی تکیہ تھا۔ تھوڑی دیر میں تمام آدمیوں کے لیے لسی بھی آگئی۔ پیتل کے بڑے بڑے گلاسوں میں بھری ہوئی سفید لسی جب منہ سے لگاتے تو اُس کی سفیدی مونچھوں کے کناروں پر جم جاتی۔ غلام حیدر کے لیے بھی لسی سامنے رکھ دی گئی۔ جس میں برف تو نایاب ہونے کی وجہ سے نہیں تھی لیکن کوری چاٹی اور سرد موسم کی ٹھنڈک نے اُسے اتنا مزیدار ضرور کر دیا تھا کہ غلام حیدر نہ چاہتے ہوئے بھی دو گلاس پی گیا۔ لسی پینے کے بعد کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ ملک بہزاد نے اتنا اندازہ کر لیا تھا کہ غلام حیدر کے ساتھ کوئی خیر نہیں ہے۔ کیونکہ اطلاع دیے بغیر اچانک اور بالکل ہتھل ہو کر آنا خیر سے خالی تھا۔ لیکن ملک بہزاد نے غلام حیدر سے بات پوچھنے میں جلدی نہیں کی۔ قریباً ایک گھنٹے تک وہ اسی طرح بیٹھے ادھر اُدھر کی ہانکتے رہے۔ پھر اچانک غلام حیدر نے ملک بہزاد کو اُٹھنے کا اشارہ کیا اور خود بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔ دونوں اُٹھ کر ڈیرے کے ایک کمرے میں چلے گئے تاکہ تنہائی میں بات کر سکیں۔

 

کچھ دیر خاموش بیٹھے رہنے کے بعد غلام حیدر بولا،چاچا بہزاد سب عزت خاک میں مل گئی۔ کوئی کام توقع کے مطابق نہیں ہو رہا۔ مَیں انگریز سرکا ر پر اچانک اندھا بھروسا کر گیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دم اپنے بندوں کے سامنے ذلیل ہو گیا۔ پھر غلام حیدر نے سر جھکا کر اپنے ساتھ ہونے والی پولیس کی تمام کارگزاری ملک بہزاد کے سامنے رکھ دی۔

 

ملک بہزاد غلام حیدر کی داستان نہایت حوصلے اور تحمل سے سنتا رہا۔ درمیان سے اُس نے نہ تو ٹوکا اور نہ ہی بات بات پر اپنے تجربات کے افسانوں کے تڑکے لگائے۔ وہ جانتا تھا،غلام حیدر غلطی کر چکا ہے،جس پر اُسے پہلے سے خبر دار کیا گیا تھا۔ لیکن اب اُسے اپنی غلطی کا احساس شدت سے ہے،جس کی وجہ سے وہ ڈپٹی کے دفترسے اپنے گھر نہیں گیا،سیدھا اُس کے پاس آیا ہے۔ اِس کا مطلب ہے،وہ اعتراف کا طوق گلے میں لٹکائے ہوئے آیا ہے۔ لہذا غلطی جتانے سے سوائے بیزاری بڑھانے کے فائدہ نہیں۔ اِسی کے پیش نظر ملک بہزاد خاموش بیٹھا سوچتا رہا۔ با لآخر سفید کھچڑی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر بولا،غلام حیدر ایک بات بتا،سُنا ہے تیری نواب افتخار کے ساتھ دوستی ہے،کیا یہ بات ٹھیک ہے؟

 

ہاں وہ دوست تو ہے،غلام حیدر نے جواب دیا،لیکن وہ لندن میں ہے۔ میں نے اُسے ساری صورت حال کے بارے میں خط لکھ دیا ہے۔ مگر اُس کا ابھی تک جواب نہیں آیا۔ بلکہ ابھی تو میرا خط بھی نہیں پہنچا ہو گا۔

 

ایسا کر تُو اُسے تار بھیج دے،ملک بہزاد نے آہستہ سے کہا، اور یہ کام لاہور جا کر وہاں سے کر۔ فیروزپور یا جلال آباد سے ہرگز نہیں۔ دوسرا کام یہ کر،تین مہینے کے لیے تسلی سے بیٹھ جا۔ حویلی سے باہر بھی نہ نکل اور ایک درخواست عدالت میں جمع کروا دے کہ مجھے دشمنوں سے اپنی زندگی کا خطرہ ہے۔ لہذا جو پولیس نے میرا اسلحہ ضبط کیا ہے،وہ گورنمنٹ مجھے واپس کرے۔ اس کے علاوہ یہ خبر جھنڈو والا اور عبدل گجر تک بھی مشہور کر دے کہ تیرا اسلحہ ضبط ہو چکا ہے۔

 

اِس کا کیا فائدہ ہوگا؟ غلام حیدر نے حیرانی سے پوچھا

 

اِس کا یہ فائدہ ہو گا کہ جب تجھے تین مہینے سے پہلے بطور مدعی عدالت میں طلب کیا جائے تو تم عدالت کو باور کرا سکتے ہو کہ مجھے دشمنوں سے خطرہ ہے اس لیے میں بغیر اسلحے کے کسی بھی جگہ آنے جانے سے قاصر ہوں۔ اِس سلسلے سے متعلق میں ایک درخواست بھی جناب میں پیش کر چکا ہوں۔ چنانچہ اِسی خطرے کی وجہ سے میں عدالت بھی حاضر نہیں ہو سکتا۔ تمھاری اِس معذوری کی بنا پر عدالت یا تیرا اسلحہ بازیاب کرائے گی یا تین مہینے تک تمھیں عدالت میں حاضر نہ ہونے سے معذور قرار دے گی۔ اِدھر اِس درخواست کی وجہ سے انگریزی پولیس آپ کی رائفل تین مہینے کے بعد تمھیں واپس کرنے کی پابند ہو گی اور مزید ضبطی کے آڈر جاری نہ کر سکے گی۔ کیونکہ اِن سابقہ تین ماہ میں آپ کا کردار بالکل صاف رہا ہو گا۔ رہا آپ کے ہتھل ہونے کی خبر سردار سودھا سنگھ اور عبدل گجر وغیرہ تک پہنچانے کا فائدہ،تو اِس سے یہ ہو گا،وہ تینوں بے خطر فیروزپور کی عدالت میں تاریخیں بھگتنے چلے آئیں گے۔ یہی وقت ہو گا ہماری کارروائی کرنے کا۔ تم اِس عرصے میں نواب افتخار کی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اُس کی کان و کان کسی کو خبر نہ ہو۔

 

غلام حیدر دل ہی دل میں ملک بہزاد کی عقل کو داد دینے لگا اور تہیہ کیا کہ کبھی ملک بہزاد کے مشورے کے خلاف نہیں کرے گا۔ پھر سوچ کر بولا،لیکن چاچا بہزاد آپ کو میرے ساتھ ہر معاملے میں چلنا ہو گا۔ خرچے کی کوئی بات نہیں۔ میں سب دینے کو تیار ہوں،جتنا بھی آئے گا۔ تم کل میرے ساتھ جلال آباد چلو اور یہ درخواست بازیوں کے معاملات کو سنبھالو۔ اگر مجھ پر چھوڑو گے تو میں یہ کام نہیں کر سکوں گا۔ اِس کے بعد غلام حیدر نے اپنے کُرتے کی جیب میں ہاتھ ڈال کے پانچ سو روپے کی ایک تھیلی نکالی اور ملک بہزاد کے سامنے رکھ دی۔
ملک بہزاد نے وہ تھیلی پکڑ کر واپس غلام حیدر کی جھولی میں رکھ دی اور بولا،بھتیجے تُو فکر نہ کر۔ مَیں کل تیرے ساتھ چلتا ہوں اور عدالت میں وکیل اور دوسرے معاملات کو دیکھتا ہوں۔ یہ پیسے میرے پاس بہت ہیں۔ اللہ کا دیا بڑا فضل ہے۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔

 

اس گفتگو کے بعد دونوں اُٹھ کر باہر آگئے۔ اُنہیں دیکھ کر سب ایک مر تبہ پھر اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔ جب دونوں بیٹھے تو دوسرے بھی اپنی جگہ آرام سے بیٹھ گئے۔ شام کے سات بج گئے تھے۔ یہ وقت غلام حیدر کے جلال آباد جانے کا نہیں رہ گیا تھا۔ اِس لیے رات کے کھانے اور رات کے بسر کرنے کا سامان ہونے لگا۔ ملک بہزاد نے اُٹھ کر اپنے ملازموں کو حکم جاری کرنے شروع کر دیے۔