Laaltain

کسی کے سمجھدار ہونے تلک

شارق کیفی:کوئی رکتا نہیں ہے کسی کے سمجھ دار ہونے تلک
سچ کی تہہ میں اترنے کے لائق گنہ گار ہونے تلک

انا کا کون سا چہرہ تھا وہ

شارق کیفی: کہا پورا نہ ہو نے کی مری
بے عزتی
کسی کی جان سے بڑھ کر بھی ہو سکتی ہے
مجھ کو یہ نہیں معلوم تھا

قبرستان کے نل پر

شارق کیفی:
سو کون کتنا برا ہے یہ بات بھول کر
صرف نل چلاؤ
چلائے جاؤ
کہ جب تلک بھیڑ میں ہر اک خاص و عام کے
پاؤں نہ دھل جائیں

کھرے عشق کا المیہ

شارق کیفی: محبت کا حد سے گزرنا ہی بے کیف کرتا ہے اس کو
کھرا عشق یوں بھی اداسی ہے

بس بہت جی لیے

شارق کیفی: حاضری کے بغیر
اس زمیں سے مرا لوٹنا ہی یہ ثابت کرے گا
کہ میں اک فرشتہ تھا
اور اس جہاں میں غلط آ گیا تھا

ضبط کا خرچ

شارق کیفی: کوئی یہ سوچتا ہے اگر
کہ اس نے مجھے اپنے غم میں رلا کر
بڑا معرکہ کوئی سر کر لیا ہے
تو پاگل ہے وہ

روتا ہوا بکرا

شارق کیفی: وہی بکرا
مرا مریل سا بکرا
جسے ببلو کے بکرے نے بہت مارا تھا وہ بکرا
وہ کل پھر خواب میں آیا تھا میرے
دھاڑیں مار کر روتا ہوا
اور نیند سے اٹھ کر ہمیشہ کی طرح رونے لگا میں

عبادت کا سچ

شارق کیفی: تھکن اب اِس قدر حاوی ہے مجھ پر
کہ وہ اسٹول میرے خواب میں آنے لگا ہے
سہارا دے كے بٹھاتا ہوں میں جس پر
مریضوں کو برابر ڈاکٹر كے