کافور کی مہک اور دیگر نظمیں (حسین عابد)

میں اس پگڈنڈی سے نہیں گزرتا
جہاں میں نے
تمہارے نام کی سرگوشی کی
محبت تمہارے لیے تھی ہی نہیں (نصیر احمد ناصر)

کیا تمہارے لیے
محبت کھلا دروازہ نہیں تھی
بے کار مشغلوں کا گیت (سرمد صہبائی)

پرندے کی چہک لے کر اسے سیٹی بنا لینا
ہوا کے ایک جھونکے کو کبھی موسم بنا لینا
جو کچھ بیاں کیا گیا — تالیف حیدر

تالیف حیدر: آپ تصور کیجیے کہ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ اس بہتی ہوئی کائنات میں آپ ایک مٹی کا ڈھیلا، درخت کا تنا، شیر کا پنجہ یاچیزوں کا سایا بن کے بھی وجود میں آ سکتے تھے۔
دل پہ بوجھ ڈالتی نظم (ثاقب ندیم)

میں تمہارے خوابوں کو بھٹکنے سے نہیں روکتا کیونکہ اِن کی سکونت کے لئے جو آنکھیں بنی ہیں وہ صرف میرے پاس ہیں میں اپنے خوابوں کی ریز گاری تمہاری جیبوں میں نہیں ڈالتا کہ تمہیں اِن کے بوجھ سے گھبراہٹ ہوتی ہے میں تمہارے درد کی صراحی سے روزانہ چِلوُ بھر درد پی جاتا […]
شاعری، امکانات اور بے کرانیت

ایک شاعر ناممکن سے ممکن کی راہ نکالتا ہے۔ ہر وہ خیال جسےایک عام ذہن بنجر اورخشک تصور کر لیتا ہے، شاعر اس میں نمی کی موجودگی کا خیال پیش کرتا ہے۔ بظاہر یہ اتنا مشکل معلوم نہیں ہوتا،لیکن جب خیال کی سطح پر ایک بنجر خیال سے نئی زمینیں آباد کرنے کی کوشش کرو […]
اب جان کر کیا کرو گے؟

نصیر احمد ناصر: درد کی لَے میں
ہوا صدیوں پرانا گیت گاتی ہے
شاعر

حسین عابد: دروازوں، رستوں اور پرندوں نے
مجھ سے ایسی باتیں کیں
جو مسحور آپس میں کرتے ہیں
گیت بنتا رہتا ہے

سوئپنل تیواری: انتظار سُر ہے اک
مدّتوں جو اک لے میں
خامشی سے بجتا ہے
مجھے تم سے محبت ہے

ثروت زہرا: مجھے تماری سماعتوں سے محبت ہے
جو ہزار گدلے خیالات کے دریاؤں کو
سمندروں کی طرح خود میں جگہ دے کے تازہ دم کردیتی ہے
وقت کی بوطیقا

نصیر احمد ناصر: وقت کی اپنی کوئی شکل بھی نہیں ہوتی
ہم ہی اس کا چہرہ ہیں
ہم ہی آنکھیں
میرے پاس کیا کچھ نہیں

ابرار احمد: تمھاری اس دنیا میں میرے پاس کیا کچھ نہیں ہے
وقت
اور تم پر اختیار کے سوا
وہ ایک پُل تھا

سوئپنل تیواری: وہ ایک پُل تھا
جہاں ملا تھا
میں آخری بار تم سے جاناں
الفاظ سے آگے

جلیل عالی: میں ان پہاڑوں، چٹانوں، ہواؤں،
ندی نالوں،چشموں، گھٹائوں،
پرندوں، چرندوں،
گھنے جنگلوں ہی کا حصہ ہوں
قرنوں کا قصہ ہوں
یہ رسم الخظ اگر میں جانتا تو—

گلزار: چمکتی دھوپ میں دیوار کے کونے سے اک پتی نے جھانکا ہے
بہت سینچی ہیں تم نے درد سے مٹی کی دیواریں
اُپج کی کونپلیں اُگنے لگی ہیں!