شاعر

حسین عابد: دروازوں، رستوں اور پرندوں نے مجھ سے ایسی باتیں کیں جو مسحور آپس میں کرتے ہیں

مجھے تم سے محبت ہے

ثروت زہرا: مجھے تماری سماعتوں سے محبت ہے جو ہزار گدلے خیالات کے دریاؤں کو سمندروں کی طرح خود میں جگہ دے کے تازہ دم کردیتی ہے

الفاظ سے آگے

جلیل عالی: میں ان پہاڑوں، چٹانوں، ہواؤں، ندی نالوں،چشموں، گھٹائوں، پرندوں، چرندوں، گھنے جنگلوں ہی کا حصہ ہوں قرنوں کا قصہ ہوں