Categories
نان فکشن

“شعر” اور “واہ” کا رشتہ (تالیف حیدر)

میں عام طور پر اپنے حلقہء احباب میں کسی بھی شعر کی تعریف میں لفظ واہ بہت سنتا ہوں۔ یقیناً !یہ صرف میرے ہی حلقہء احباب تک محدود نہیں، بلکہ ایک عام رواج ہے۔لوگوں کا تاثر اکثر کسی اچھی چیز کو دیکھ کر یا کسی اچھی بات کو سن کر یہ ہی ہوتا ہے، اس کے باوجود شعر کے ساتھ واہ کا جو رشتہ ہے، وہ دیگر معاملات میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ میرا مشاہدہ ہے کہ لوگ اکثر کسی تصویر کو دیکھ کر یا کسی اچھی عمارت کو دیکھ کر ایک دم سے واہ اس طرح نہیں کہتے جیسے شعر کو سن کر کہتے ہیں، عین ممکن ہے کہ کوئی اس صورت میں بھی واہ کو ایسے ہی ادا کرتا ہو جس طرح سماعتِ شعر کے بعد کیا جاتا ہے، لیکن یہ میرے مشاہدے میں کم ہی آیا ہے۔البتہ شعر پہ واہ کہنے والوں کو میں روز دیکھتا اور سنتا ہوں۔ اکثر میں اس بات پر غور بھی کرتا ہوں کہ کیا صرف ایک واہ سے کسی بھی شعر کی تاثیر کا مکمل اظہار ہو جاتا ہے؟ کیا واہ ایک ایسی طلسمی چھڑی ہے جس سے کسی بھی شعر کو ہانکا جا سکتا ہے؟ یقیناً! لفظ واہ کہنے کے لیے کسی لیاقت کی ضرورت نہیں، یہ بس لبوں سے یوں ادا ہوتا ہے جیسے ہر شعر کی غذا ہو۔

اگر آپ کو شعر گوئی اور شعر فہمی کا ملکہ حاصل ہے تو آپ نے اپنی زندگی میں کئی بار یہ تجربہ کیا ہوگا کہ کسی بھی شخص کو کیسا ہی کوئی شعر سنا یئے وہ یا تو خاموش رہے گیا یا اپنی گردن اثبات میں ہلا کر اس پر واہ کہہ دے گا۔ ایک واہ اور شعر کی ترسیل کے سارے مراحل طے۔ میں نے بہت سے شعر سنانے والے تو ایسے بھی دیکھے ہیں جو اپنے سامع یا قاری سے صرف واہ کی طلب کے لیے شعر پڑھتے ہیں۔ ایسے شعرا اپنا شعر پڑھ کر اکثر اپنے سامعین پر ایک طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ کس کس کونے سے واہ کی صدا بلند ہوئی ہے اور کون سا کونہ خاموش ہے۔

واہ ایک اظہار کیفیت ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس میں ایک بھر پور تاثر کی جھلک پوشیدہ ہے۔ خواہ آپ نے واہ کو ایمانداری سے ادا کیا ہو یا بے ایمانی سے مگر یہ لفظ ہمیشہ اپنا اظہار ایک جیسا رکھتا ہے۔ اس کی جعل سازی کو پکڑنا مشکل ہی نہیں بلکہ تقریباً نا ممکن ہے۔ ادھر کی بستیوں میں(میری مرا د بر صغیر سے ہے) جہاں اکثر اشیاء اور جذبات میں ملاوٹ پائی جاتی ہے واہ کی ایماندارانہ جھلک کم ہی دیکھنے کو ملے گی۔ مشاعرے بازوں کے یہاں تو یہ بالکل ہی مفقود ہے۔ ہر وہ شخص جو سچے دل سے واہ کہتا ہے، یقیناً اسے کسی سادےسے سادے شعر کو بھی بڑی باریکی سے سننا پڑتا ہے۔ اس کی کیفیت کے مکمل تاثر کو واہ کے لفظ میں تبدیل کرنے سے پہلے اس کی فنی باریکیوں کا معائنہ کرنا پڑتا ہے اور اس کے تمام محاسن و معائب کا حساب لگا کر اس لفظ کی ادائیگی کرنی ہوتی ہے۔ یہ ایک لمبا پروسس ہے، لہذا ایسے واہ کی ادائیگی میں اتنی تیزی جتنی عام طور پر دیکھنے میں آتی ہے، مشکل سے ملے گی۔ عین ممکن ہے کہ اس عمل میں بھی تیزی دیکھنے میں آ جائے، لیکن اس کا ادراک ہونا مزید مشکل کام ہے۔ کون شخص کس شعر میں کیا دیکھ رہا ہے اور کس وجہ سے اس کے منہ سے کسی شعر پر واہ نکل رہا ہے؟ یہ بھی سمجھنا ایک پیچیدہ عمل ہے۔ میرے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے کسی خاص نشست یا مشاعرے میں بہت اہم اہم لوگوں کو کسی شعر پر واہ کہتے سنا اور ان کا منہ تکتا رہا۔بعض سے اس تجسس کی بنیاد پر نظروں ہی نظروں میں یہ دریافت بھی کرنے کی کوشش کی کہ آپ نے شعر سنتے ہی فوری طور پر واہ کیوں کہا۔ مگر اکثر جواب ندارت رہا۔ ایسی صورت میں جبکہ میں کسی سے اس کی واہ کی وجہ طلب کرنے کے لیے اسے غور سے دیکھتا تو مجھے بدلے میں مزید ایک واہ سنائی دیتی۔ کچھ بے تکلف قابل اور شعر فہم دوستوں کے منہ سے یہ لفظ سن کر ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کبھی کسی ایک لفظ کو قابل تحسین گردانہ، کبھی شعر کے صوتی نظام کو اپنی واہ کی وجہ بتایا، کبھی کسی بحر کو اور کبھی کسی تلمیح، استعارے اور تشبیہ کو۔بے شمار مرتبہ ایسا ہوا کہ کسی نے شعر سے اپنے کسی تجربے کو ملا دیا اور بعض مرتبہ اس کی پوری شرح بیان کرتے ہوئے اپنی واہ کی وجہہ بتائی۔ مجھے ان سب سے کوئی شکایت نہیں کہ واہ تو ان سب باتوں پہ بھی کی ہی جا سکتی ہے۔ مگریہ ذرا سوچنے کی بات لگی کہ کیا کسی ایک شعر میں ایسے ایک یا دو ہی نکتے ہوتے ہیں جن پر کوئی بھی شخص اولین صورت میں واہ کہہ دیتا ہے۔ یہ تو کسی شعر فہم شخص کا حال ہے کہ اس کو کم سے کم ایک یا دو چیزوں کی بہتری کا احساس ہوجاتا ہے۔ زیادہ تر تو واہ اس روایت کے تحت کہا جاتا ہے جو کہ شعری متن کے اظہار سے وابستہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کسی ایک ایسے شعر میں جس میں لفظ کی تہہ میں معنی کا ایک نظام گردش کر رہا ہو، اس کے جتنے نکتے قاری یا سامع پر کھلتے جائیں گے اس کے منہ سے واہ کا لفظ ادا ہوتا رہے گا۔ لیکن اس عمل کے لیے ہمیں کسی ایک شعر کی قرات کم سے کم تین سے چار بار کرنی ہوگی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اہم سماعتوں نے مشاعرے میں مکرر ارشاد کا نظام وضع کیا۔ ایک شعر جس کی کئی پرتے ہیں، جسے کئی معاملات سے جوڑا جا سکتا ہے، جو زندگی کے مختلف حالات و واقعات سے لگا کھاتا ہے، جو اپنی فنی باریکیوں کی وجہ سے دل پر اضطرابی کیفیت مرتب کرتا رہتا ہے، جس کا صوتی نظام اور آہنگ لرزہ دینے والا ہے وہ یقیناً مکرر کا حق دار ہے۔ ایسے شعروں پر وہ سماعتیں جو بالکل خالص ہیں وہ ہر بار نئے انداز میں واہ کہتی ہیں اور مختلف کیفیات کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ کسی تیلی، نائی اور پارچہ باف، کسی انجینئر، ڈاکٹر اور آرکیٹیک، کسی مزدور بھانڈ اور متشاعر کو کوئی شعر سناو، وہ واہ کہہ کر اپنا فرض پورا کر دیتا ہے۔گویا کہ شعر کسی تفہیم کا نہیں بلکہ واہ کا محتاج ہے۔ میں صرف اپنی بات کروں تو شعر پر واہ کہنا میرے لیے ہمیشہ سے ایک مشکل امر رہا ہے، یوں تو میں نے بھی اپنے بے تکلف دوستوں کی محفلوں میں بہت سے شعروں پر سر ہلا ہلا کر اور جھوم جھوم کر واہ واہ کا گیت گایا ہے، مگر یہاں بات انجم باہمی سے آگے کی ہے۔ مثلاً غالب اور میر کے اشعار کسی موسیقار کے منہ سے سن کر ایک دم سے واہ نکنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ میں یہاں مثال کے لیے اپنے ایک من پسند شاعر زیب غور ی کا ایک شعر لیتا ہوں:

ایک جھونکا ہوا کا آیا زیب
اور پھر میں غبار بھی نہ رہا

اس شعر پر میں واہ کہنے سے پہلے شاعر کے غبار نہ رہنے کی معنوی جہت پہ غور کروں گا، کیا وہ ہوا کہ چلنے سے پہلے غبار تھا، غبار اور بدن کے معنوی تقرب اور بعد پر غور کروں گا۔ پھر ہوا کے جھونکے کی تعبیر پہ سوال قائم ہوگا، شعر کی زمانی حیثیت پہ نظر جائے گی، اس اسلوب کی باریکیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ عروض کا نظام ذہن میں گردش کرے گا۔ شعر کے دونوں مصرعوں کے صوتی آہنگ پہ نظر گاڑنا ہوں گی۔ ان سب مرحلوں سے گزرنے کے بعد جب شعر کو صحیح یا پھر قرین قیاس معنی کے سانچے میں ڈھالوں گا تب واہ کا لفظ شائد منہ سے ادا ہو۔ اس عمل میں برجستگی کی خواہش عبث ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے، خواہ ذہن کتنی ہی تیزی کا مظاہرہ کرے مگر کشاکشی میں جو وقت صرف ہونا ہے وہ مجھے مصنوعی واہ سےحتی الامکان دور رکھے گا۔ واہ کہنا کوئی شوخی نہیں اور نہ کوئی فیشن ہے۔ یہ تو ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ غور سے دیکھو تو اس واہ کی لالچ نے ہی ہمارے مشاعروں کا معیار پست کیا ہے۔ غالب سے جو آسان کہنے کی فرمائش کی گئی تھی اس کے پیچھے بھی یہ ہی واہ واہی کار فرما تھی۔ ایک جملہ ہم اکثر ادیبوں کے منہ سے سنتے ہیں کہ میاں مرزا رفیع سودا واہ کے شاعر تھے۔ اس واہ سے غالباً ایک عام ذہن طربیہ مراد لے مگر ایک سوچتا ہوا ذہن اس سے تحسین کی فنی باریکیوں کی شناسائی مراد لے گا۔ یقیناً سودا واہ کے ہی شاعر ہیں کیوں کہ وہ نکتہ سنجی اور نکتہ فہمی کے متمنی ہیں۔ ان کی شاعری کی مثال واہ کا ایک اعلی نمونہ ہے۔ اس تناظر میں میر کا کلام جس آہ کے خانے میں فٹ کیا جاتا ہے وہ بھی واہ کی ہی ایک ارتقائی صورت ہے۔ شعر پر واہ کہنا ہر اس امر سے مشکل ہے جس حالت میں آپ کو کسی پیڑ کے نیچے لیٹے لیٹے کشش ثقل کی موجودگی کا احساس ہوجائے۔ جس طرح کوئی ایک نیا تجربہ انسانی زندگی میں ایک نئی بہار لاتا ہے اسی طرح ہر اس شعر پر جس پر قاری یا سامع واقعتاً واہ کہنے پر مجبور ہوجائے ایک نئے احساس سے وابستہ ہوتا ہے۔ واہ کہنا کسی انوکھی کیفیت سے دوچار ہونا ہے۔ کیوں کہ ہر وہ کیفیت جو انسانی قلوب پر اکثر گزرتی ہے وہ اس کے لیے اتنی متاثر کن نہیں رہتی کہ اس سے کسی نئی کیفیت متشکل ہو۔ شعر کا کام انسانی قلوب کی منجمد گرد کو ہٹا کر وہاں تحریک کیفیت پیدا کرنا ہوتا ہے اور جب وہ تحرک اپنے عروج پر پہنچتا ہے تب ہم بے ساختہ ایک واہ کے ذریعے اس کیفیت کا اظہار کرتے ہیں۔ لہذا پلک جھپکے ہی کسی شعر پر واہ کہنا اور کسی ایک شعر کی جھلک پاتے ہی اس سے مجموعہ کیفیت ظاہر کرنا ایک جعلی عمل ہے اور ہر سچا قاری اور سامع ایسی جعلی واہ سے کبھی اپنا رشتہ استوار نہیں کرتا۔

Categories
نان فکشن

اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظر نامہ

(دوسری قسط)
اکیسویں صدی کی غزل کا اگر اجتماعی سطح پر بغور مطالعہ کیا جائے تو اس معاصر منظر نامے میں جو نمایاں لوگ نظر آتے ہیں ان کے ہاں معاصر زندگی کے ذاتی تجربات و انکشافات کی تخلیقی شکل مختلف اسلوبیات کے ساتھ اور مختلف تہذیبی رنگوں کی آمیزش کے ساتھ واضح ہوتی ہے۔ مابعدجدید عہد کا عطا کردہ فشار و اضطراب اور احساسِ محرومی تخلیقی عمل پر اتنی شدت سے اثر انداز ہوتا ہے کہ بعض اوقات کسی تخلیق کار کی اپنی انفرادیت بھی داؤ پر لگتی محسوس ہوتی ہے۔
مابعدجدید عہد کا عطا کردہ فشار و اضطراب اور احساسِ محرومی تخلیقی عمل پر اتنی شدت سے اثر انداز ہوتا ہے کہ بعض اوقات کسی تخلیق کار کی اپنی انفرادیت بھی داؤ پر لگتی محسوس ہوتی ہے

 

مقامی تہذیبی استعارے، استفہام، کرب، وجودی مسائل، تشکیک، لسانی اجتہاد، تجریدی ابہام، رومان اورسریت کے امتزاج سے طلسماتی ٖفضا بندی، مابعدالطبیعاتی انفعالیت، بے معنویت، لا یعنیت، اجنبیت، جنسی ناآسودگی، اجتماعی لاشعور میں برپا نفسیاتی کشمکش جیسے عوامل اکیسویں صدی کی غزل کے منظر نامے کی ابتدائی تصویر مرتب کرتے ہیں۔

 

صنعتی شہری منظر نامے کی تہذیبی، معاشرتی، ثقافتی اور انفرادی زوال خوردگی کا اظہار جہاں اکیسویں صدی کی غزل کے ایسے آہنگ کی آبیاری کرتا ہے جو اپنے ماقبل بیانیے سے کہیں بغاوت کا اظہار کرتا ہے وہیں وہ لا یعنیت کی گرد میں انسانی تخلیقی نشاط کے اپنے تخلیق کردہ رستوں کی دریافت کو ضروری سمجھتا نظر آتا ہے ۔ آج کا شاعر زندگی کو ایسے تماشائی کی نگاہ سے دیکھنے پر کبھی کبھار راغب دکھتا ہے جو خود اپنے آپ کو تماشے کا حصہ بنا لیتا ہے۔
بقول نظام صدیقی

 

” مابعد جدید غزلیہ شاعری نئے عالمی اور قومی تناظر میں بین الاقوامی سامراجی تہذیب اور قومی فسطائیت کے نفسیاتی، اخلاقی، عمرانی اور ثقافتی مظاہر کے آکٹو پسی گرفت میں آج کے آدمی اور زندگی کے پھڑپھڑانے کے باوجود بھی بہرِ نوع جشنِ زندگی اور جشنِ تخلیقیت کا نگارخانہ رقصاں ہے جس میں ‘دو شیزہء امکان’ کے خمیازہ کی ادائیگی کے لیے آج بھی کلاسیکیت کی ‘رقاصہء دیروز’ بے پیرہن آتی ہے”۔
اس روایت میں چند لوگ ایسے ہیں جن کے لحن اور تخلیقی اظہاریے کی مختلف جہات سے اسلوبیاتی اور موضوعاتی سطح پر نئے رجحانات برآمد ہوئے ہیں اور ان رجحانات کی گونج بعد میں آنے والی غزل کی آوازوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔

 

معاصر غزل اور بالخصوص اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی منظر نامہ پیش کرنے سے پہلے عمومی روایت جو کہ سترہویں صدی سے چلی آ رہی ہے اس کا عمومی تذکرہ کرنے کی بجائے میں آج کی غزل کو بیسویں صدی کی 60 کی دہائی کے بعد کی غزل کی رویت کے تناظر میں دیکھتا ہوں۔ اس روایت میں چند لوگ ایسے ہیں جن کے لحن اور تخلیقی اظہاریے کی مختلف جہات سے اسلوبیاتی اور موضوعاتی سطح پر نئے رجحانات برآمد ہوئے ہیں اور ان رجحانات کی گونج بعد میں آنے والی غزل کی آوازوں میں محسوس کی جا سکتی ہے۔ سو جب ہم موجودہ غزل کو اس تناظر میں دیکھتے ہیں تو چند نام ایسے ہیں جن کے اثرات ہماری نئی غزل نے اپنے اندر نفوذ کیے ہیں ان میں ناصر کاظمی، شکیب جلالی، ظفر اقبال، ثروت حسین، احمد مشتاق اور عرفان صدیقی کے علاوہ چند دیگر نام قابلِ ذکر ہیں۔
(جاری ہے)
Categories
نقطۂ نظر

جالب کی برسی یا سیاسی جلسہ

تیرہ مارچ کو حبیب جالب کی برسی تھی، ایک ایسے شاعر کی برسی جو صحیح معنوں میں عوامی شاعر تھا جس کے بارے میں سید سبطِ حسن نے لکھا تھا کہ نظیر اکبر آبادی کے بعد کوئی عوامی شاعر تھا تو جالب ہی تھا۔ جالب ہر لحاظ سےعوامی شاعر تھے اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ کوئی پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ ،جالب کا نظریے سے واقف ہو یا نہ ہو اس نے جالب کا کلام ضرور سن رکھا ہو گا؛
جوں ہی عوامی ورکرز پارٹی اور پی پی کے رہنما سٹیج پر آئے تو جالب کے واجبی سے ذکر کے بعد ان کی سیاسی تقاریر اور حریف سیاسی جماعتوں پر شدید طنز نے جالب کی برسی کو ایک سیاسی جلسے میں تبدیل کر دیا
ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں مانتا

جالب کے نظریات اور ان کی شاعری کی وجہ سے میں بھی ان کا قاری ہوں ۔ گزشتہ برس ایک کامریڈ دوست کے باعث تاخیر کی غلطی دہرانے سے بچنے کے لیے رواں برس ان کی برسی کی تقریبات میں شرکت کو ایک روزقبل ہی تیار ہوگیا ۔ برسی کی تقریب میں عاصمہ جہانگیر اورناہید خان کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی ورکرز پارٹی اور ریلوے ورکرز پارٹی کے کئی رہنما اور کارکنان بھی شامل تھے۔ پروگرام کا آغاز ہوا اور جالب پہ کچھ بات چلی؛ کامریڈ زوار نے جالب کی سیاسی اور شعری بصیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کے نظریات اور کاوشوں کا ذکر کیا اور اس دور کے دوسرے سیاسی رہنماوں کے کردار کو عموماً اور بے نظیر اور پی پی پی کے کردار کو خصوصاًسراہا۔ اس کے بعد جالب صاحب کے کچھ دوستوں نے جالب کے ساتھ گزرے شب و روز کی یادوں کو تازہ کیا، طاہرہ جالب نے جالب مرحوم کے انداز میں “ظلمت کو ضیا کیا لکھنا ” ترنم کے ساتھ پیش کی اور خوب داد پائی۔اس کے بعد شجاعت بوبی نے جالب کا ایک گیت اور ایک نظم پیش کی۔ موسیقی کا ایک اور دور چلا جس میں ڈاکڑ تیمور رحمان نے سامعین کو جالب کے کلام سے محظوظ کیا۔
قصہ یہاں تک تو بخیر تھا مگر اس کے بعد جوں ہی عوامی ورکرز پارٹی اور پی پی کے رہنما سٹیج پر آئے تو جالب کے واجبی سے ذکر کے بعد ان کی سیاسی تقاریر اور حریف سیاسی جماعتوں پر شدید طنز نے جالب کی برسی کو ایک سیاسی جلسے میں تبدیل کر دیا، پھر کیا تھا عوامی ورکرز پارٹی ہو یا پی پی پی جس جماعت کا بھی کوئی نمائندہ سٹیج پر آیا اس نے ایک منٹ جالب پر اور دس منٹ اپنی اور اپنی پارٹی کی تعریفوں کے پل باندھنے میں صرف کیا۔ ہر مقرر اور جماعت کی کوشش تھی کہ جالب کا تعلق اپنی جماعت سے ثابت کرے۔ اس پر مزید ظلم یہ کہ شاید منتظمین نے زیادہ تر شرکاء پیپلز پارٹی سے بلا رکھ تھے یہی وجہ ہے کہ جتنے نعرے جالب کے لگائے گئے اتنے ہی نعرے” زندہ ہے بھٹو” کے بھی لگے۔ اس سے بڑی زیادتی کیا ہو گی کہ خود کو رہبر کہلوانے والے جالب پہ بات کرنے کی بجائے اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کاپرچار کرنے اوراپنی ذات کو نمایاں کرنے میں مصروف رہیں ۔
ایک دور بار تو راقم نے سٹیج پہ لگی تصویر دیکھ کر خود کو حوصلہ دیا کہ بھئی یہ سیاسی جلسہ نہیں بلکہ جالب کی برسی ہے۔ جب تقریب ختم ہونے کو تھی تو معروف گلوکار اور انٹرنیشنل یوتھ اینڈ ورکرز موومنٹ کے “مالک” جواد احمد تشریف لائے۔ ان کی باری آئی تو انھوں نے آتے ہی کہا کہ مجھے لگ رہا ہے کہ یہاں جالب کی برسی نہیں بلکہ سیاسی جلسہ ہو رہا ہے (مجھے کچھ حوصلہ ہوا کہ چلو اب جواد ضرور جالب پہ بات کریں گے) لیکن جواد نے جالب کا ذکر بھی مناسب نہیں سمجھا اور لگی لپٹی رکھے بغیر پی پی پی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کے خلاف محاذ کھول دیا جس پر پی پی پی کے ورکرز آگ بگولا ہو گئے اور جواد کو تنقید سے باز رکھنے کی کوشش کرنے لگے( مجھے بے حد افسوس ہوا کہ پچھلے دو گھنٹے سےپی پی پی کی تقریریں اور جئے بھٹو کے نعرے سننے والوں پر پہلے کسی کو کیوں رحم نہیں آیا)۔ جواد نے اپنی تقریر جاری رکھی اور آخر میں مائیک چھوڑنے سے پہلے جب انہیں یاد آیا کہ وہ جالب کی برسی پر آئے ہوئے تھے تو جلدی جلدی دوچارجملے جالب کے حق میں بول کرہال سے باہر تشریف لے گئے۔

جالب کی برسی پران کی شاعری پر گفتگو کی بجائے روایتی سیاسی بیان بازی کرنااور اپنی جماعت اور شخصیت کے بالمقابل جالب کے شعری فن کو ثانوی حیثیت دینا یقیناً ان کے ساتھ زیادتی ہے ۔
مجھے اس بات پر ذرہ برابر اعتراض نہیں کہ جالب کے ذکر کے ساتھ سیاسی بحث کی جائے اور نہ ہی میں جالب کی سیاسی جدو جہد سے انکار کرنے کی گستاخی کر سکتا ہوں، ہر شخص کا جالب پہ اتنا ہی حق ہے جتنا کسی بھی دوسرے فنکار پر ۔مجھے اختلاف ہے تو صرف اس بات پہ کہ جالب کی برسی اورجو دن جالب کے لیے مخصوص ہے اس پر بھی لوگوں نے اپنی پارٹی ،ذاتی جدوجہد اور نظریات کا خوب اور بلاوجہ پرچار کیا۔ یوں تو ہال میں عاصمہ جہانگیر اور جالب کے ساتھ لاٹھیاں کھانے والے کئی نامور لوگ بیٹھے تھے اورمیں ان کی جدوجہد کو بھی جالب سے کم نہیں مانتا مگر سوال یہ ہے کہ جالب میں ایسا کیا تھا جس نے اتنے بہت سے انقلابیوں کے ہوتے ہوئے بھی انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا ؟ جواب سادہ سا ہے کہ جالب ایک شاعر تھے، یہ ان کا فن ہی تھا جو ان کو اس وقت سے لے کرآج تک ممتاز کیے ہوئے ہے۔ ایسے میں جالب کی برسی پران کی شاعری پر گفتگو کی بجائے روایتی سیاسی بیان بازی کرنااور اپنی جماعت اور شخصیت کے بالمقابل جالب کے شعری فن کو ثانوی حیثیت دینا یقیناً ان کے ساتھ زیادتی ہے ۔ایسے ملک میں جہاں ادب اور آرٹ سے زیادہ لاشوں اور ملاؤں پر گفتگو ہو وہاں کسی شاعر یا پورے ادب کا مر جانا بھی کسی کے لیے کوئی بڑی بات نہیں۔
مجھےاس سارے معاملے پر شدید دکھ بھی ہے اور سخت پریشانی بھی کہ ایک شاعر کی برسی پر سب اپنی سیاست چمکا کر چلے گئے نہ تو کسی نے جالب پر مضمون پیش کیا نہ ہی کسی نے جالب کے شعری فن پر کوئی بات کی۔ مجھے جالب صاحب کی بیٹی پر شدید پیار آیا کہ کس محنت سے طاہرہ آپا پورا سال ڈرائیونگ سکول چلا کر پیسے بچاتی ہیں کہ ان کے والد کی برسی پر لوگوں کو ان کی خدمات اور فن سے متعارف کرائیں۔ سنتے تھے کہ فلاں شاعر کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی کہ اس کو ادب میں وہ مقام نہیں ملا جو ملنا چاہیے تھا مگر یہاں تو جالب اور ان کے خاندان کے ساتھ ناانصافی کرتے ہوئے ان کی برسی کو ایک سیاسی جلسے میں تبدیل کر دیا گیا۔
Categories
شاعری

شناخت نامہ

فلسطین کے شاعر محمود درویش کی ایک نظم کا ترجمہ
لکھو!!
میں ایک عربی ہوں
اور میرا شناختی نمبر پچاس ہزار ہے
میرے آٹھ بچے ہیں
اور گرمیوں کے بعد نواں ہوگا
کیا تم غضبناک ہو گے؟

لکھو
میں عربی ہوں
میں ایک کان میں مزدوری کرتا ہوں
ہمراہ دوست کارکنوں کے
آٹھ بچے ہیں میرے
مہیا کرتا ہوں میں انہیں
چٹانوں سے
روٹی،لباس اور کتابیں
میں منت سماجت نہیں کرتا تمہارے دروازوں پر
بھیک اکٹھی کرنے کے لیے
نہ خود کو ذلیل کرتا ہوں
تمہارے ایوانوں کے چوکھٹ پر
تو کیا غضبناک ہو جاؤ گے تم؟

لکھو
میں عربی ہوں
میری ایک شناخت ہے بغیر کسی نام کے
ضبط کیے ہوئے ہوں ایک سرزمین پر
خود کو طیش زدہ لوگوں کے درمیان
میری جڑیں پھیل چکی تھیں
وقت کی نمود اور قرن نمائی سے پہلے
زیتوں اور انناس کے بور اور سبزے کی دمیدگی سے قبل
میرا باپ ہاریوں کی قبیل سے ابھرا
طبقہ جلیل سے نہیں
اور میرا دادا دہقان تھا
نہ ٹھیک سے جنما، نہ ٹھیک سے پلا
مجھے پڑھایا جاتا ہے سورج کا غرور
قرات سیکھنے سے پہلے
میرا گھر ہے پہرےدار کے جھونپڑے کے مانند
بانس اور شاخچوں سے تعمیر شدہ
کیا یہ تعارف کافی ہے تمہارے لیے؟
میری ایک شناخت ہے بغیر کسی نام کے

لکھو
میں عربی ہوں
چوری کر لیے ہیں تم نے میرے اجداد کےباغات
اور وہ کھیت جنہیں میں نے زرخیز رکھا
اپنی اولاد کے ساتھ
اور تم نے کچھ نہیں چھوڑا ہمارے لیے
ان چٹانوں کے سوا
تو کیا ریاست قابض ہو جائے گی ان پر
جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے؟
خیر!!
سرنامے پر تحریر کر دو
میں عداوت نہیں کرتا
نہ مداخلت کرتا ہوں
لیکن جب مجھے بھوک لگی
تو میں نوچ کھاؤں گا غاصبوں کا ماس۔۔۔۔
آگاہ رہو
خبردار رہو
میری بھوک سے
اور میرے غصے کی تھوک سے