Categories
نان فکشن

میں، مصنف اور افسانہ (چوتھا حصہ) – تالیف حیدر

معنی کی ترسیل پہ غور کیجیے تو اور زیادہ مسائل سامنے آتے ہیں۔ جیسا کہ میں اوپر بھی ذکر کر چکا ہوں کہ کہانی میں معنی گندھی ہوئی شکل میں ابھر تے ہیں، جبکہ معنی کی باطنی خصوصیات پہ غور کیا جائے تو یہ حالت میں ظاہری معلوم ہوتی ہے۔ لفظ کے معنی، پھر جملے کے معنی، پھر اقتباس کے معنی اور آخر میں کہانی کے معنی۔ یہ موٹی تفریق ہمیں بتاتی ہے کہ معنی کا نظام مقناطیسی انداز میں کام کرتا ہے۔ یعنی ایک معنی دوسرے معنی کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور اختتام میں یہ حالت ایک ٹھوس شکل اختیار کر رہی ہے۔ بظاہر یہ عمل آسان اور سہل ہے۔ مگر اصل اس میں اچھی خاصی معرکہ آرائی نظر آتی ہے۔ معنی کا تصادم کہانی کو کسی نہج پر سالم نہیں رہنے دیتا۔ مثلاً آپ کسی ایک لفظ کے معنی پہ غور کیجیے تو کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ معنی تہہ در تہہ کام کرتے ہیں۔ ایک لفظ کے ایک معنی ہوتے ہیں، جو ایک اور معنی کو خلق کرتے ہیں جس کی تہہ میں ایک اور معنی بیٹھا ہوتا ہے اور جس کی وضاحت مزید کچھ معنی مل کر کرتے ہیں۔پھر یہ عمل بکھرتا چلا جاتا ہے۔

کہانی میں اس کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے تاکہ ہم کسی ایک زاویہ میں الجھ کر نہ رہ جائیں۔ شاعری میں بھی معنی کا یہ تصادم کار فرما ہوتا ہے، مگر کہانی میں معنی کا یہ تصادم الفاظ کی بڑھت اور اس کی کھپت سے کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہاں میں کسی ایک لفظ یا جملے سے معنی کے تصادم کو بیان کر سکتا ہوں۔ مگر اس کی مزید توضیح کرنے کا موثر طریقہ یہ ہے کہ کسی مقدمے کو غائبانہ طور پر فرض کر لیجئے اور اس میں معنی کے تصادم کی تہوں کو محسوس کرتے جائیے۔ روایت یہاں بھی ایک مانع محرک کے طور پر کام کرے گی۔ حالاں کہ ہم اس امر سے واقف ہیں کہ تخلیق میں الفاظ کی حالتوں کو معنیاتی سطح پہ تبدیل کرنے کا چلن عام ہے، اس کے باوجود ہم کہانی میں اس عمل کو فراموش کر دیتے ہیں۔ کہانی کا بیانیہ سادہ ہو یا تہہ دار معنی کی کی ترسیل کا مسئلہ دونوں طرح کے بیانیوں میں ایک جیسا ہوتا ہے۔ لاٹھی سے سانپ اور سانپ سے زلف مراد لینے والا متن بھی کہانی کی سطح پہ معنیاتی نظام میں اتنا ہی پیچیدہ ہوتا ہے جتنا لاٹھی سے لاٹھی اور سانپ سے سانپ مراد لینے کا عمل ہے۔

معنی چونکہ ایک متحرک غیر وجودی حقیقت ہے اس لیے اس کا ہماری ذہنوں کی یکسانیت سے مطابقت پیدا کرنے کا عمل بہت الجھا ہوا ہے۔ کوئی سادہ بیانیہ اس ترسیلی عمل کو سمجھنے میں ممد ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر ہم معنی کی ایک جہت کو کل سمجھیں تو بھی اس بات کا امکان ہر صورت میں باقی رہتا ہے کہ وہ جہت ہماری تفہیم کے مطابق نہ ہو اور ہم جس معنی کو مراد لے رہے ہوں وہ یکسر غلط ہو۔ مثلاً آسمان یہ کسی بھی کہانی کے بیانیے میں ایک سادہ لفظ کی صورت میں ابھرے گا اور کہانی کی ترسیل میں اولاً اکہری معنویت خلق کرے گا۔ لیکن معنی کا ایسا نظام ہماری تفہیم کو متاثر کرنے کا سبب بنتا چلا جائے گا۔ اس سے استدلال کی سطح پہ ہم معنی کا کوئی مستحکم وجود خلق کرنے سے مبراہو جائیں گے۔ اس سے عمومی تفہیم وجود میں آئے گی جو تہہ دار معنی کو بھی اسی طرح تسلیم کرے گی جس طرح اکہری معنویت والے لفظ کوکرتی ہے۔

معنی کے نظام کی تہہ میں داخل ہونے والا ذہن یہ استفسار کرتا ہے کہ معنی کی عمومی تفہیم پہ سوالیہ نشان لگانے والی بصیرت ہر شئے کے باطن کو ایک مفروضہ سمجھ کر اس کی کھوج میں لگتی ہے اور عمومی تفہیم کے برعکس ایک صیقل اور معنی تک رسائی حاصل کرتی ہے۔ کہانی میں اس کا عمل کسیر ہوتا ہے۔ میرا کہانی کی قرات کا تجربہ مجھے سکھاتا ہے کہ معنی کی ایسی ترسیل جس میں ہر معنی کو ایک مفروضے کے طور پر تسلیم کیا جائے، قاری، مصنف اور متن کو تین خانوں میں بانٹ دیتا ہے۔ یہ تجربے کی مختلف منزلوں کا معائنہ کرتا ہے اور اس کو مختلف حالتوں سے روشن کر کے کسی ایک اکائی کے بجائے مختلف اکائیوں کے ساتھ بیک وقت قبول کرتا ہے۔ شاعری میں ایسا نہیں ہو پاتا، کیوں کہ شاعری میں لفظ جس رفتار سے بہتے ہیں وہ اس کے نظام کو بڑی حد تک یک رخا کر دیتے ہیں، اس وقت تک تو یہ نظام ہر گز تبدیل نہیں ہوتا جب تک شاعر خود شعوری کوشش سے معنی کے نظام کو کہانی کے نظام کی طرح مزین نہ کرے۔ اس سے حاصل یہ آتا ہے کہ لفظ کی سطح پہ شاعری کی ترتیب تو وضع ہو جاتی ہے، لیکن معنی کی سطح پہ شاعری کا عمل کبھی وجود میں نہیں آتا ہے اور یہ ہی وجہ ہے کہ کہانی معنیاتی ترسیل میں شاعرانہ طرز اظہار سے مقدم ہے۔

اب ذرا معنی کے ایسے نظام پہ غور کیجیے جو کہانی کے متن کو دو مختلف سطحوں پہ بو قلمونی بخشتے ہیں۔ ایک نظام وہ جس میں لفظ معنی کے مرکز میں ہوتا ہے اور ایک نظام وہ جس میں لفظ معنی کے حاشیے پہ ہوتا ہے۔ ہم نے اور آپ نے ایسی بہت سی کہانیاں پڑھی ہوں گی جس میں لفظ کی تکرار سے ایک دلکش تصویر تو بنتی ہے مگر معنی ندارت ہوتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ معنی ہماری گرفت میں نہیں آ پاتے۔ پھر ہم ایسے متن کے دام میں پھنستے ہیں جس میں لفظ اور معنی ایک تصویر وں کا جال بناتے ہیں اور کہانی کی ترسیل ہو جاتی ہے۔ ایسی قرات سے آپ بتدریج ارتقا کرتے ہوئے جب ابہام کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو معنی کا نظام پھیلے ہوئے سمندر کی مانند وسیع نظر آتا ہے، جس میں کوئی سطح نہیں ہے جس پر پیر جمائے جا سکیں۔ لفظ حاشیے پہ پڑا ہوتا ہے اور قاری متن کے اندر بہنے والے معنی کے سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔ ایسی حالت میں کئی ہم خود بہت سے کچے تودے تشکیل دیتے ہیں اور کہانی کے معنیاتی نظام کو اپنے تجربات سے مزین کرتے ہیں۔ معنی کی ترسیل کا عمل اس امر میں منقلب ہو جاتا ہے، یعنی معنی کی ترسیل ہم پہ نہیں ہوتی بلکہ ہم معنی کو ایک ارسال بخشتے ہیں۔ لفظ کی حیثیت کو یکسر نظر انداز کر کے۔ دوسری حالت میں لفظ کی اہمیت کو ہم اتنا بڑھا دیتے ہیں کہ معنی کی ترسیل کا عمل وجود میں ہی نہیں آتا، ایسی حالت میں ہم لفظوں کی تکرار سے محظوظ ہوتے ہیں۔ سادہ بیانیے میں ایسا ہونے کا گمان بہت زیادہ ہوتا ہے بمقابلہ پیچیدہ بیانیے کے۔ معنی کے ساتھ ایک بڑی الجھن یہ ہے کہ آپ اسے کوئی صورت عطا نہیں کر پاتے، کیوں کے یہ تصویر کے اند ر سفر کرتی ہے۔ لفظ کے ساتھ یہ آسانی ہے، بلکہ اسے میں چھلاوا کہوں تو زیادہ بہتر ہے کہ لفظ کو آسانی سے قبول کرتے وقت ہم یہ بھول جانے میں کچھ مضائقہ نہیں سمجھتے کہ اس کے پس منظر میں جو تصویر ابھر رہی ہے آیا وہ حقیقت سے کچھ مطابقت رکھتی بھی ہے یا نہیں اور پھر ایسے الفاظ جس کے مرقوموں میں کئی تصاویریں یکجا ہو جاتی ہیں یا جن کی تصویریں دھندلی ہوتی ہیں ہم انہیں ایک آسان پیکر عطا کر کے قبول کر لیتے ہیں۔ کسی کہانی میں ترسیل کا اس سے بڑا المیہ کچھ نہیں ہو سکتا کہ ہم اس کے بنیادی نکات کو نظر انداز کر کے اس کی ایک من چاہی تصویر بنائیں اور اسے خود پر اس طرح روشن کریں جس طرح ہم اس تصویر کو روشن کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ہم عمومی باتوں یا سیاسی و تاریخی مقدمات میں بھی ایسا کرتے ہیں، مگر ادب میں اس کی گنجائش اس لیے نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اس میدان میں حقیقتوں کو تبدیل کرنے سے کسی بھی نوع کا کوئی نفع حاصل نہیں ہوتا۔ اگر ہم کہانی کے سچے قاری ہیں تو مقدمات کی من چاہی ترسیل کے بجائے اس کی حقیقت اور تنوع سے اپنا رشتہ قائم کرنے پر توجہ مرکوز کریں گے۔ تاکہ متن کی ترسیل کے دوبنیادی نکات لفظ اور معنی کی ترسیل میں مانع ہونے والے مسائل سے شناسائی حاصل ہو جائے۔پھر اس کے بعد ایک بڑا مسئلہ جو کہ جملے کی ترسیل کا مسئلہ ہے اس کو بھی کم نہ آنکا جائے۔ جملہ ایک مقدمہ ہوتا ہے جو کہانی میں بیشتر ترسیل کی کلید ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہم لفظوں کے مجموعے سے کسی ایسی ترسیل تک پہنچنے میں ناکام ہو رہے ہیں جو متن کے مقاصد ارسال سے وابستہ ہے تو ہم کہانی کی ایک ایسی توضیح تک پہنچ جاتے ہیں جس کا امکان بھی کہانی میں دور دور تک نہیں ہوتا ہے۔

جملہ بھی ایک اکائی ہے۔ ظاہر ہے کہانی میں جملے کا ایک اہم مقام ہے۔ اگر کوئی جملہ آپ سے تقاضہ کرتا ہے کہ اس کی ترسیل اس طرح ہو کہ آپ کسی خاص معنی تک پہنچیں تو اس کے لیے مصنف کچھ خاص قسم کی لفظیات کا استعمال کرے گا تاکہ آپ کی ترسیل میں کوئی امر مانع نہ آئے، لیکن اگر کسی جملے کواس خیال کے تحت مزین نہ کیا گیا ہو تو ترسیل کے لیے قاری آزاد ہوتا ہے، ایسی حالت میں قاری اس پس منظر میں کسی جملے کی ترسیل کے عمل سے گزرتا ہے جو پس منظر کہانی کی فضا قائم کرتی ہے۔ کہانی میں پہلے جملے سے آخری جملے تک ترسیل کی اس اکائی کو ہم انجانی حالت میں خاصہ اہم تصور کرتے ہیں یہ واحد ایسا دائرہ ہے جس میں کہانی اپنی وحدت کی پابند بھی ہوتی ہے اور آزاد بھی۔ جملے کی ترسیل کا عمل ہماری قرات کی مشق سے بڑی حد تک سنورتا ہے۔ ہم جس جملے سے کیا معنی مراد لے رہے ہیں اور لفظ و معنی کی ایک پر کیف تکرار ہمیں کس نہج پر لے جارہی ہے اس کا فیصلہ قاری کے غیر محسوس تجربات کی بنا پر ہوتا ہے۔ اگر کہانی میں کوئی جملہ ایسا ہے جس کی ترسیل یکبارگی نہیں ہو پار رہی ہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ مصنف نے کہیں کسی ایسی شکل کو وضع کیا ہے جو ہمارے لیے بالکل نئی ہے۔ معنی خیز جملے اور سادہ جملے کی تفریق اس امر میں بھی داخل نظر آتی ہے۔ سادے جملے اپنی ترسیل کے لیے پس منظر کے محتاج ہوتے ہیں اور تہہ دار یا معنی خیز جملے کہانی میں تخلیقیت کے ایسے دائرے بناتے ہیں جس سے اس کی وقعت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ہم کیا کہنا چاہتے ہیں اس کا تعین جملہ کرتا ہے، مگر قاری کیا مراد لے گا اس کا تعین تجربات کرتے ہیں۔ ترسیل کے عمل میں اسے نامیاتی محرکہ بھی کہا جا سکتا ہے۔تخلیق قار جو کہ جملے کی اولین ترسیل کا پیکر ہوتا ہےوہ اس کا مجاز نہیں ہوتا کہ کسی جملے کو قاری تک بھی اسی طرح پہنچا دے۔ الفاظ کی کھپت جملے میں جتنی زیادہ ہو گی اس کا امکان اتنا ہی زیادہ بڑھتا چلا جائے گا کہ قاری یا سامع جملے سے ایک نئی دنیا خلق کر رہا ہے، وہ دنیا جس کا تصور مصنف کے ذہن میں یا تو قطعی موجود نہ تھا یا اگر تھا بھی تو ایک ایسی لا شعوری حالت میں جس کا احساس اسے اس وقت ہوگا جب اسے قاری اپنے ترسیل کے تجربے سے آگاہی بخشے گا۔ نامیاتی ترسیل قاری سے بھی اس امر کا مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مصنف سے بڑی حد تک مختلف ہو تبھی کوئی مرقومہ اس کی بصیرت میں ایک نئے جہان کا تانا بانا بنے گا۔ ایک حالت میں پائی جانے والی دو مختلف بصیرتیں کسی متن سے کافی حد تک یکساں معنی مراد لے سکتی ہیں، مگر ان میں بھی ایک اختلاف پایا جائے گا جو انسانی وجدان سے متعلق ہوتا ہے۔ یعنی سورج کو سورج تصور کرنا ایک عمومی جواز ہے لیکن کسی جملے میں لفظ سورج کو سورج تصور کرنے کا جواز دو یکساں حالتوں کی بصیرتوں میں بھی اختلاف پیدا کر سکتا ہے۔ چونکہ الفاظ کی کثرت سے معنی کی سطح پر مرقومے میں ایک لوچ پیدا ہوتا ہے جو ترسیل کے عمل کو گنجلک بنا دیتا ہے۔ جس میں چھوٹے چھوٹے محرکات کام کرتے ہیں۔ جن میں رنگوں کے نام، خوشبووں کے احساس، دماغی حالتوں کے بیان اور اسی طرح کی مختلف النوع چیزیں کچھ ایسی ڈھلانیں تراشتی ہیں جس سے معنی مختلف خانوں میں فٹ ہو کر قاری تک پہنچتے ہیں۔ ایک بصیرت افروز قاری ہمیشہ ایسی مختلف خانوں سے آگاہی حاصل کرنے میں لگا رہتا ہے اور کسی جملے کی ترسیل کے گراف کو اپنی امکانی صلاحیتوں سے بڑھاتا چلا جاتا ہے۔

اب ذرا اس مسئلے پہ غور کیجیے کہ مصنف کا رشتہ ترسیل سے کس نوع کا ہوتا ہے، کیا کوئی مصنف جو کہانی خلق کرتا ہے وہ ان مسائل پہ غور کرے گا کہ اس کی لکھی ہوئی کہانی کے، لفظ اور معنی اور جملے اور اقتباسات اور مکمل کہانی کی ترسیل قاری پہ کس طرح ہو گی؟ میرا ذاتی تجربہ کہتا ہے کہ مصنف خود ترسیل کے الجھاوے میں پھنسا ہوتا ہے، اس امر سے واقف ہوئے بنا یا اس امر کے متعلق غور کرنے سے قاصر ہوتے ہوئے کہ قاری پر اس کے متن کی ترسیل کس طرح ہو گی۔ مصنف کی ترسیل کا مسئلہ ایک ایسے واقعاتی سوتے سے وابستہ ہوتا ہے جہاں سے اس کے امکان میں کہانی داخل ہوتی ہے۔ یقیناً کہانی کوئی ایسی شئے نہیں جو کسی جامد حالت میں ذہن پہ روشن ہو جائے، یہ ایک جزوی حالت میں اترتی ہے، جس کی ترتیب میں مصنف ایک محرکہ کی شکل میں کام کرتا ہے۔ ترسیل کا الجھاو مصنف کو اپنے فسوں سے سب سے پہلے واقف کروا دیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کہانی کا کون سا حصہ اس کی گرفت میں آیا ہے اور کون سا حصہ اسے اپنے معلوم بیانیے سے خلق کرنا ہے۔ کہانی ایک ادھوری یا یوں کہا جائے کے منتشر حالت میں ارسال ہوتی ہے۔ مصنف اس کو مکمل کرتا ہے اپنی اخذ کرنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر۔ اگر کوئی واقعہ جو ایک ایسی حالت میں مصنف کی بصیرت تک پہنچا ہے جس کے حشو و ضوائد خود اسے تراشنا ہیں تو اس میں مصنف کسی دوسرے واقعے سے مدد لیتا ہے۔ ایسے میں وہ دو ترسیلی حالتوں کو جمع کر کے کہانی کو ایک اکائی کی صورت عطا کرتا ہے۔ وجدان کے ذریعے ارسال ہونے والا نکتہ یا واقعہ کہانی کو ایک مجموعی صورت عطا کرنے کا بیشتر سامان مہیا کرتا ہے، مگر ہمیں اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ تخلیق کار ایک ذریعہ ہے جوغیر وجدانی علامتوں کا سہارا لیے بنا کسی بھی کہانی کی بنت کے عمل سے نہیں گزر سکتا۔ کہانی میں ترسیل کی کے المیے کا احساس اس کے لیے انفرادی نوعیت کا ہوتا ہے، خالق یہ محسوس کرتا ہے کہ اسے کہانی ایک ایسی حالت میں آگے پہنچانی ہے جس میں ایک معنیاتی نظام وضع کیا گیا ہو۔ لہذا یہ عمل اس کا شعوری عمل ہوتا ہے جس میں وجدان کو دخل نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں ان دونوں صورتوں کا احساس مصنف کے لیے دوطرفہ ترسیل کے المیے کو وجود میں لاتا ہے، پہلا یہ کہ وہ خود اس بات کو سمجھے کہ کہانی کن حالتوں میں اس تک پہنچ رہی ہے اور دوسرا یہ کہ وہ متن کی بساط تک پہنچنے کا عمل کس انداز میں پورا کر رہی ہے۔ کیوں کہ اپنی کہانی کا پہلا قاری خود مصنف ہوتا ہے اس لیے۔ قاری کی الجھنوں سے بھی یک گنا وابستگی اسے ہوتی ہے۔ مگر بصیرتوں ایسا الجھاو جو عمومی ہوتا ہے اس کا ادراک کسی مصنف کے لیے مسئلہ نہیں بنتا اور شائد بننا بھی نہیں چاہیے۔ میرا تجربہ مجھے بتاتا ہے کہ اگر مصنف یہ غور کرنے لگے کہ اس کی تخلیق کردہ کوئی کہانی کن حالتوں میں قاری تک پہنچے گی تو شائد وہ لکھنا ہی ترک کر دے۔ یہ مصنف کا مسئلہ نہیں۔ قاری کے لیے ترسیل کی الجھن مصنف پیدا کر دے یہ بھی مصنف کی کامیابی ہی ہوتی ہے۔ میں نے اکثر محسوس کیا ہے کہ بہت سی کہانیاں اس نوع کی ہوتی ہیں جن میں خود مصنف قاری کے لیے ایک الجھن پیدا کر دیتا ہے کہ آیا کسی متن کی ترسیل کس جذبے کے تحت ہو۔ ایسی حالت میں قاری پہ کیا گزرتی ہے اس سے مشاق مصنف اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ کہانی میں الجھاو پیدا کرنا۔اس میں بصیرتوں کے ایسے نکات جمع کر دینا جن سے باتیں وجود میں آئیں، وہ بھی مختلف المزاج یہ مصنف کی مہارت کا ثبوت ہے۔ وہ ترسیل کے الجھاو سے نکلتے ہی ایسی الجھن متن کے باطن میں پھونک دیتا ہے جس سے متن مختلف معنیاتی ترسیلوں سے مزین ہو جا تا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ مصنف جہاں دیدہ ہو اور مختلف تجرباتی اور نفسیاتی حالتوں سے آگاہ۔

Categories
نان فکشن

میں، افسانہ اور مصنف (تیسرا حصہ) – تالیف حیدر

میں جب اصولی طور پر افسانے کی ترسیل کے مسئلے پر غور کرتا ہوں تو لفظ ایک دیو قامت جن کی مانند میرے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے، اس کی مختلف حالتیں اور نوعیتیں مجھے مجبور کرنے لگتی ہیں کہ اس کے مشتقات پر غور کروں، اس کی مختلف ہئیتوں کو سمجھوں اس کی ترتیب اور وضع کے پیرائے کو عمیق انداز میں جانوں۔ لفظ کا کاروبار افسانے میں سب سے اہم اور بنیادی ہے۔ اپنی اصطلاحی اور استعاراتی حیثیت سے کم اپنی روایتی شکل میں زیادہ۔

افسانہ اور شاعری میں یہ فرق ہے کہ شاعری میں لفظ لطیف انداز میں ظاہر ہوتا ہے جبکہ افسانے میں اس کی کھردراہٹ کو ہم متن کےتسلسل میں محسوس کر لیتے ہیں۔ اس صنف میں الفاظ کی نشست و برخاست کا زیادہ دھیان رکھنا پڑتا ہے اور تخلیقیت کے لسانی بہاو کو اس طرح تشکیل دینا ہوتا ہے کہ کوئی لفظ غیر شعور ی طور پر بھی ایسا داخل نہ ہو جس کی روایت میں معنی کا تصادم موجود ہو۔ افسانہ ایسے الفاظ کو اپنی صف میں شامل نہیں ہونے دیتا۔

روایت اور لفظ کا ظاہری رشتہ بہت قدیم ہے۔ اس لیے لفظ اس رشتے کی قواعد میں ڈھلتے ڈھلتے ہمارے لیے بعض اوقات اتنا سہل ہو جاتا ہے کہ ہم کسی پس منظر کو تشکیل دیے بنا لفظ کی روایتی حیثیت کے ظاہری وجود کو بلا دلیل قبول کر لیتے ہیں۔ مثلاً اگر میں یہ سمجھوں کہ افسانہ ایسی صنف ہے جس کا مقصد کہانی ہے، خواہ وہ زندگی کے کسی ماخذ سے متعلق ہو، تو میں اس کہانی میں موجود الفاظ کی انہیں حیثیتوں پر غور کروں گا جس سے مجھے میرے مقصد تک رسائی حاصل ہو سکے، میری بلا سے لفظ خواہ مجھ سے کیسا ہی تقاضہ کیوں نہ کرے اور روایت میں ڈھلے ہوئے الفاظ مجھے میرے فعل میں کامیاب بنانے میں معاون بھی ثابت ہوں گے۔

میں بالخصوص یہ عرض کر دوں کہ یہ کیفیت شاعری میں نہیں پائی جاتی۔ کیوں کہ شاعری میں کسی خیال کی ترسیل کے لیے الفاظ کا جیسا استعمال کیا جا تا ہے وہ اگر ذرا بھی روایت سے لگا کھاتا ہو تو اس کے معنی پوشیدہ رکھ پانا ممکن نہیں رہتا، اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ شاعری میں کم سے کم الفاظ میں زیادہ سے زیادہ باتیں کہنے کا چلن رائج ہے، اور غزل کی شاعری میں تو اس صورت حال کی قید اور زیادہ لگائی جاتی ہے۔ مگر افسانے میں ا لفاظ بہت سلیقے سے استعمال ہوتےہیں ساتھ ہی کثرت میں پائے جاتے ہیں اس لیے یہاں الفاظ کی روایت لفظ کی ظاہری حیثیت کے بجائے اس کے باطن میں ضم ہو جاتی ہے۔ جس کے باعث قاری کو اس روایت کی تلاش میں سر گر داں رہنا پڑتا ہے۔ یہاں لفظ چونکہ ایک ایسے کتھا ساگر میں بہہ رہا ہوتا ہے جس پر قدم رکھ کر قاری منزل کے منارے کی طرف بڑھ جاتا ہے اس لیے اسے اس امر کا احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ ان الفاظ نے کہانی کو جس ظاہر معنی کی طرف دکھیلا ہے وہ اصل میں کہانی کے سطحی معنی ہیں۔ اصل شئے تہہ میں ہے جو الفاظ کی ماہئیت اور اس کے چلن کو سمجھنے کے بعد حاصل ہو گی۔

میں نے کسی بھی کہانی کو ہمیشہ ایک اکائی کے طور پر پڑھا ہے، عین ممکن ہے کہ عموماً افسانے کا قاری اسی طرح پڑھتا ہو، لیکن کہانی کو اس طرح پڑھنے سے یا سمجھنے سے ایک بڑا مسئلہ اس کی ترسیل کا وجود میں آتا ہے۔ ترسیل کیا ہے ؟ اس پہ آپ غور کیجیے تو یقیناً کہانی کے مطالعے کے بعد بھی آپ کہانی کی دلچسپ دنیا سے دیر تک محظوظ ہوتے رہیں گے۔ ترسیل کوئی چھلاوا نہیں، یہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ کسی کہانی کا متن جو مصنف کی ذات تک کسی انجان حوالے سے پہنچتا ہے اور پھر الفاظ کی شکل میں ڈھل کے قاری تک پہنچتا ہے۔ الفاظ میں معنی کی ترسیل ایک معنیاتی نظام کے تحت ہوتی ہے۔ جو نظام زبان کا تشکیل کردہ ہے۔ اگر کوئی شخص اس روایتی نظام کو نہ بھی مانے تو بھی معنی کے نئے معنیاتی نظم کے تحت سے الفاظ کی باطنی حرکت کو ایک اکائی کے تحت قبول کرنا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کہانی کا ایک وجود ہے جو ایک مکمل معنی کے بغیر ادھورا تصور کیا جائے گا۔ ان مسئلوں میں ترسیل ہر مقام پر ایک ایسے سیال کی مانند کام کرتی ہے جو لفظ اور معنی اور مصنف اور قاری کے اندور میں متحرک رہتا ہے۔

ترسیل کے لفظی معنی اور اصطلاحی معنی دو مختلف صورتوں میں بٹے ہوئے ہیں، یعنی جب آپ یہ کہتے ہیں کہ کسی شئے کی ترسیل ہوئی تو اس کے مادی معنی مراد لیے جاتے ہیں، لیکن جب آپ یہ کہتے ہیں کہ کسی خیال کی ترسیل ہوئی تو اس کے معنی بہت وسیع ہو جاتے ہیں۔حالاں کہ یہ مسئلہ شاعری کی حد ود میں بھی خاصہ پیچیدہ ہے، لیکن کہانی میں اس کا فسوں مختلف نوعیت کا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کہانی میں سہل معلوم ہوتا ہے جبکہ ہوتا زیادہ مشکل اور دلچسپ ہے۔ میرا کہانی کو پڑھنے کا تجربہ بتاتا ہے کہ میں اس لفظ کے باطن میں اکثر داخل ہونے سے گریز کرتا ہوں۔ مثلاً میں نے کہانی سے کیا حاصل کیا یا یوں کہوں کہ کہانی نے مجھ تک کس غیر مادی وجود کی ترسیل کی اس کو میں بہت دیر تک نہیں سمجھ پاتا۔

غور کرنے والی بات ہے کہ کیا کہانی میں ترسیل کا مسئلہ اس کے اختتام سے وابستہ ہے۔ یعنی کہانی اس وقت تک مجھ میں کچھ رد و بدل نہیں کرے گی یا تحریک پیدا نہیں کرے گی جب تک میں اسے از اول تا آخر پڑھ نہ لوں۔ یہ استفسار اس لیے ضروری ہے کیوں کہ میں بض اوقات کہانی کو کئی مرتبہ ختم ہوتا ہوا محسوس کرتا ہوں، اور اس سے خود میں ایک نوع کی تبدیلی بھی محسوس کرتا ہوں۔مادی وجود تو لفظ اور جملے کی ترسیل کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ مثلاً ایک لفظ ہے” ردا” میں نے کہانی کے دوران اس کا مطالعہ کیا اور فوراً اس کی ترسیل ہو گئی۔ اس کی ترسیل کے لیے میں نے ایک شکل کی مدد لی اور پھر معنی کے نظام میں داخل ہو کر اسے ایک طے شدہ معنی میں ڈھالا اور مسئلہ حل ہو گیا یا اس کے برعکس ایک جملہ ہے کہ “عصمت نے ردا کھینچی۔”یہاں لفظ کی اکائی بے معنی ہو گئی اور جملہ اس طرح اپنی ترسیل میں کامیاب ہو کہ کئی تصویروں نے مل کر ایک فریم بنایا جو اصل میں ایک اکائی کی صورت میں ڈھل گیا اب آپ اس فریم کو مزید بڑا کیجیے اور اسے کہانی کے پورے وجود پر پھیلا دیجیے، پھر جو خیال یا تصویر بنے گی اس کو ایک اکائی میں ڈھال لیجیے۔

افسانے کا یہ چھلاوا آپ کو محسوس کرائے گا کہ کہانی کے جس نکتے کو آپ اہمیت دینا چاہتے ہیں اس کی ترسیل ہو گئی ہے۔ ایک فریم جس میں کہانی کی تمام اکائیاں آ کر جمع ہو گئی ہیں۔ لیکن واقعتاً ایسا ہے نہیں اسی لیے میں نے شعر کی ترسیل کو افسانے کی ترسیل کے مقابلے آسان کہا تھا۔ یہ واقعہ ہے کہ لفظ جس کی ایک اپنی کائنات ہوتی ہے وہ جس صنف میں جتنا زیادہ کھپے گا اس کا صنف کی ترسیل اتنی ہی وسیع ہوتی چلی جائے گی۔ کہانی کو اس طرح پڑھنا کہ اس سے ایک خیال تک رسائی حاصل ہو یہ کوئی کامیاب مطالعہ نہیں ہو سکتا، خواہ کہانی دو صفحات کی ہو یا سو۔

کہانی میں ترسیل کا نظام مختلف اکائیوں میں بٹا ہوتا ہے۔ جس کو صرف نظر کرنے سے کہانی کی غیر مادی فضا متاثر ہوتی ہے۔ مصنف ایک آلے سے بڑھ کر کہانی کو تخلیق کرنے والا ایسا وجود ہوتا ہے جو نامعلوم دنیا کی انجانی روشنیوں سے پُر ہوتا ہے۔ اگر کوئی مصنف یہ دعوی کرے کہ اس کی تصنیف کسی ایک معنی تک قاری کو پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے تو اس کے یہ معنی ہر گز نہیں ہوں گے کہ کہانی کا ارتکازی نکتہ جو مصنف کی نظر میں جلی ہو رہا ہے وہ کہانی کا واحد نکتہ ہے۔ مصنف نے جس طرح توجہ دلائی اس طرف قاری نے نظریں نہ بھی جمائیں تو بھی اسے کہانی کے بطن میں پلنے والے بے شمار نکتوں سے ہم آہنگ ہونے کا موقع ملتا ہے اور ایسا ہوتا بھی ہے کہ قاری اپنی مرضی سے کسی ایک نکتے کو کہانی کا حاصل تصور کرتا ہے جو مصنف سے مختلف ہے۔ اس سے حاصل یہ آتا ہے کہ ایک کہانی میں بیک وقت دو نکتے ابھر کے سامنے آ جاتے ہیں۔ جس سے کہانی کے وجود کی ظاہری توسیع ہو جاتی ہے۔ اس توسیع کو مزید کرنا ہو تواجتماعی قرات کا تجربہ کرنا چاہیے، جس میں بیک وقت کئی لوگ مختلف نکات کو کہانی کا مرکزی نکتہ قرار دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں مسئلہ کہانی سے زیادہ طباع کا ہو جاتا ہے۔ ایک مرقومہ نکتے کی مختلف حالتوں کا بیان مختلف تجربوں کا بیان ہوتا ہے اس میں ترسیل اپنی مختلف شکلوں میں کام کرتی ہے۔ وہ الفاظ اور ان کے معنی کی حالتوں کو انسانی ذہنوں کے مطابق بنا لیتی ہے۔ کہانی آگے کی طرف بڑھتی جاتی اور لوگ جملوں اور پھر اقتباسوں سے ایک ایک اکائی اخذ کر کے انہیں دوسری اکائیوں سے ملاتے جاتے ہیں،اس طرح جیسے ایک تھال میں پڑے ہوئے مختلف آنٹے کے ذرے پانی کی دھار سے ایک دوسرے سے لپٹتے جاتے ہیں اور پھر گندھتے جاتے ہیں کئی ذرے پہلے آنٹے سے پینڈ کی شکل اختیار کرتے ہیں اور پھر پینڈ سے ایک سخت گولے کی جو ایک جامد شئے بن جاتا ہے۔ خیال کے مدغم ہونے کا عمل بھی ایسا ہی ہے۔

کہانی کے اختتام پہ ترسیل کی جلد بازی میں الجھے ہوئے بیش تر ذہنوں کو کہانی کے اختتام میں ایک گندھا ہوا ٹھوس خیال نصیب ہوتا ہے جس سے لطف اندوز ہونے کا عمل بھی ویسا ہی گاڑھا اور سخت ہوتا ہے جیسا کہ و ہ خیال۔ یہ ہی وجہ ہے کہ کہانی کی ترسیل کے مسئلے پہ غور کرنا کہانی کے مطالعے کے بعد سب سے زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔ میں نے بھی ایک عرصے تک کہانی کی ایک اکائی سے محظوظ ہونے کو ہی کہانی کا حاصل سمجھا، مگر اس امر نے مجھے غیر مطمئن کیا اور میرے اندر یہ ارتعاش پیدا کیا کہ کہانی اتنی آسانی سے اپنی ترسیل نہیں ہونے دے سکتی۔ اس میں کہیں کوئی ترسیلی فسوں ہے جو مجھے اس کے چو طرفہ حلقوں تک پہنچنے سے روک رہاہے۔ اس ترسیل کے عمل میں مانع ہونے والی مختلف حالتیں اس غورو فکر کے بعد مجھ پہ روشن ہونا شروع ہوئیں جن میں سب سے دلچسپ اکائی لفظ کی ہے۔

یہاں یہ بحث بے معنی ہے کہ شاعری میں استعمال ہونے والا لفظ اور کہانی میں استعمال ہونے والا لفظ کس طرح سے دو مختلف حالتوں میں اپنی معنیاتی فضا تشکیل کرتا ہے۔حالاں کہ اس کی کئی مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں، لیکن یہ میرا موضوع نہیں، میں صرف اتنا کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ لفظ ہر صنف کے تقاضوں کے تحت کام کرتا ہے اگر شاعری میں ہے تو شاعرانہ تقاضے کے تحت کام کرے گا اور اگر نثر میں ہے تو نثریہ تقاضے کے تحت۔ بہر کیف کہانی میں لفظ کئی اقسام میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ جن میں سادہ اور اکہرے لفظ، تشبیہاتی اور استعاراتی لفظ، گہرے اور تہہ دار لفظ اور کلیدی وذوی معنی لفظ۔ ترسیل کے عمل میں ہر لفظ جس طرح ایک مقدمے کے ساتھ پیوست ہوتا ہے اس مقدمے کی شکل کو بنانے اور بگاڑنے کا عمل لفظ کی حالت کو مختلف صورتوں میں بدل دیتا ہے۔ مثلاً میں نے اوپر لفظ کے ایک پہلو کی طرف اشارہ کیا تھا کہ لفظ”ردا” کی ترسیل کہانی میں کیسے ہوتی ہے۔ اب دوسری حالت دیکھیے کہ اگر کوئی لفظ کہانی میں گہرے یا تہہ دار معنی میں استعمال ہو رہا ہے تو وہ کس طرح ترسیل کے عمل کو پیچیدہ بنا دیتا ہے۔اگر کسی کہانی میں ایک لفظ استعمال ہو رہا ہے “منجنیق “تو آپ اس سے کیا مراد لیں گے۔ کہانی کا بیانیہ آپ سے مطالبہ کرے گا کہ آپ ا س کے لغوی معنی مراد لیجیے، لیکن ترسیل کا عمل اس کے اصطلاحی معنی سے محظوظ ہو رہا ہے۔ مغربی کہانیوں میں ایسے بیشتر الفاظ استعمال ہوتے ہیں، روایت کی پاسداری آپ سے تقاضہ کرتی ہے کہ کسی لفظ کے وہ معنی مراد لیے جائیں جو زبان کے بہاو کو مجروح نہ کریں، لیکن وقت معنی کے باطنی نظام کو بالکل تبدیل کر رہا ہے۔ ایسی حالت میں ترسیل کا عمل کبھی ذہانت کا مظاہرہ کرتا ہے اور معنی کی ترسیل میں دونوں رکاوٹیں ختم کر دیتا ہے اور کبھی کند ذہنی کا مظاہرہ کرتا ہے اور لفظ کو مردار بنا دیتا ہے۔ یہ لفظ کی تہہ داری کا مسئلہ ہے۔

اگر آپ ایک قاری ہیں ایسے جو الفاظ کو کم نہیں آنکتے تو یقیناً آپ لفظ کے مختلف معنی کے ترسیل کے مختلف زاویے تراشیں گے اور کہانی کے کینوس پہ بکھرے ہوئے مختلف رنگوں کا مظاہرہ کریں گے۔ لیکن اگر آپ الفاظ کی ترسیل کے عمل کو اہمیت نہیں دیتے تو اختتام میں لفظ بھی آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ لفظ کی ترسیل اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ کہانی میں اس کے معنی کی تلاش میں سرگرداں رہا جائے۔ تاکہ ہر لفظ کے ایک سٹیک معنی کے ساتھ ساتھ مختلف پیچیدہ اور گھماو دار معنی بھی متن کے بین السطور پہ ابھر سکیں۔ سوچنے والا ذہن متن کے اندور میں چھپے معنی کو اسی طرح روشن کرتا ہے۔ کیوں کہ کہانی کا کل سرمہ متن ہوتا ہے اس لیے لفظ کی ترسیل کے لیے ہمیں اس کے معنی کے نظام میں داخل ہونے کی ہر کوشش کو اہمیت دینا پڑتی ہے۔ لفظ اپنی مجموعی حالت میں کس طرح ایک معنی کی ترسیل کریں کے اس کا انحصار ہماری فکر پہ ہوتا ہے۔ میں لفظ کو ایک ایسے شیشے سے دیکھنے کو اہمیت دیتا ہو ں جس سےا س کی رگوں میں بہتےہوے مختلف معنوں کا لہو نظر آ جائے۔ تاکہ ترسیل کے عمل میں سب سے پہلی اکائی ہی مانع نہ ثابت ہو۔

Categories
گفتگو

آصف فرخی سے کچھ آپس کی باتیں (تالیف حیدر)

یہ بات تو سچ ہے کہ کسی کی موت کی خبر کوئی واقعہ نہیں ہے۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اور اپنی عملی زندگی میں اس کا نمونہ بھی خوب دیکھا ہے۔ ہزاروں موتیں ایسی ہیں جن کی خبر سن کر یہ خیال آیا ہے کہ ارے یہ شخص اتنی جلدی کیسے چلا گیا، پھر خود کو سمجھا بھی لیا ہے کہ جانے والے کو کون روک سکتا ہے۔ عزیز دوست چلے گئے، بھائی چلے گئے، خاندان والے چلے گئے، آخر ہم نے کیا کر لیا۔لیکن بہت کم لوگ ایسے ہیں جن کی موت کی خبر ایک واقعہ بن کر آئی اور ایک کہانی بن کر زندگی کے معمولات میں گھل گئی۔ مثلاً مولانا اسید الحق کی موت کی خبر یاروف بھائی کے انتقال کی بات، آصف فرخی کے انتقال کی خبر بھی ایسی ہی ہے کہ یہ میری زندگی کے معمولات میں شامل ہو گئی ہے۔ کس طرح میں اس کی وضاحت کرتا ہوں۔ میں نے جن دوستوں اورعزیزوں کو کھویا ان سے میرا قلبی تعلق تھا اور وہ میرے نجی مسائل میں زندہ ہیں، جب ان کی ٹوکری کھلتی ہے تو وہ بھی ایک ایک کر کے سامنے آنے لگتے ہیں۔ اسی طرح خاندان والوں کا معاملہ ہے۔ لیکن علم و ادب میں دن رات غرق رہنے والی وہ عظیم ہستیاں جن کا تعلق میری کل وقتی فکر سے ہے، میں ان سے کسی لمحہ الگ ہو ہی نہیں پاتا، سوائے ان لوگوں کے جو ابھی با حیات ہیں۔ ان کے تعلق سے مجھے یہ محسوس ہوتا رہتا ہے کہ ان کا ہونا ہی ایک ایسی حقیقت ہے جو مجھے کسی پیچیدگی کا شکار نہیں ہونے دے گی۔ مثلاً اگر میں شمس الرحمن فاروقی کے متن کے ساتھ ہوں تو وہ مجھے نہیں الجھائے گا، کیوں کہ اس کے سلجھنے یا منشا و معیار کی تکنیک کو تراشنے والا ابھی بقید حیات ہے، لیکن اگر اسید صاحب کی کوئی تحریر ایسی ہوئی جس میں میں پھنس گیا تو وہ بالکل میرے سامنے آ کر کھڑے ہو جائیں گے اور میں بے بسی سے بس ان کا منہ تکا کروں گا کہ تا ویل کے علاوہ میرے پاس کوئی چارہ نہیں۔ اب یہ ہی معاملہ آصف فرخی کے ساتھ بھی ہے۔ میں بہت اطمینان میں تھا کہ میں نے آصف فرخی کو ابھی چند برسوں قبل دریافت کیا ہے۔ اسلم صاحب ابھی زندہ تھے، کچھ دنوں پہلے ہی ان کا ہاتھ چھوٹا ہے۔ لہذا آصف صاحب اپنی تحریروں کے ساتھ مجھ میں اتر رہے ہیں اور میں ان کے وجود کی گتھیوں کو خود میں گھلتا ہوا محسوس کر رہا ہوں۔ اس میں کیا مظائقہ ہے کہ جہاں کوئی گانٹھ سخت ہوئی دو ہاتھ بھر کے فاصلے پہ ادیب اسے سلجھانے کے لیے موجود ہے۔ یہ کسی بھی شخص سے میرے بنیادی تعلق کی کڑی ہوتی ہے۔ پھر آصف صاحب کے ذیل میں اگلے عوامل بھی رو نما ہو رہے تھے۔ وہ اپنے افسانوں، مضامینوں، مکالموں کے ذریعے میرے دل کے نہاں خانے تک اتر رہے تھے۔ شناسائی تو اسی کا نام ہے کہ کوئی انجان راستے سے آئے اورآپ کے دل کی گہرائیوں میں اترتا چلا جائے، وہ شناسائی بھی کیا کہ بغل میں آباد ہیں اور سلام کلام تک کا مرحلہ ہے۔ آصف صاحب مجھ میں روشن ہونے کے عمل میں تھے۔ ان کی باتیں مجھے بہت حد تک مرزا حامد بیگ کی تحریریں بھی سمجھا دیا کرتی تھیں، یا وارث علوی کے خیالات۔ ایک لمبی ادیبوں کی فہرست ہے جن کے بازوں میں بازو جکڑائے وہ میرے وجود میں تحلیل ہوتے جاتے تھے۔

پھر وہ دن بھی آ گیا کہ جب ان سے ملاقات ہو گئی۔ سید کاشف رضا کو یاد ہے، جس برس وہ ہندوستان آئے تھے آصف فرخی بھی جشن ریختہ میں تھے۔ میں ان سے ملا ان کا چہرا کا فی دیر تک تکتا رہا جیسے میرے سامنے کی کرسی پر کوئی اور نہیں میرا اپنا ہی عکس ہو، جو شخصی اعتبار سے مجھ سے سر بلند ہو، جو میرے ہی خیال کا حصہ ہو کر مجھی پہ چھا رہا ہو۔ بھائی صاحب ساتھ تھے۔ ان سے بات چیت شروع ہوئی تو شروعات میں کچھ اکھڑے اکھڑے مزاج کے لگے، کچھ شہانہ انداز کہ بس انتظار حسین کی بات کا پورا جواب دیتے ہیں اور علی اکبر ناطق، اسد محمد خاں، بھائی صاحب اور مجھ پہ طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔ ان کا وہ انداز نہیں بھولتا، پھر خالد اشرف بھی آگئے، وہ بڑھ بڑھ کر آصف صاحب کی موجودگی کو غنیمت جانتے ہوئے ان سے سوالات کرتے اور وہ اسی انداز میں جس سے ظاہراً بے رخی جھلکتی تھی جواب دیتے اور فوراً خاموش ہو کر کھڑکی کے باہر جھانکنے لگتے۔ تصنیف نے میرا تعارف کروایا تو کہنے لگے میں انہیں جانتا ہوں۔ میں نے آہستگی سے ان سے بات کرنا شروع کی دو ایک باتیں جس کا انہوں نے اسی طرح بے رخی سے جواب دیا اور خاموش ہو گئے۔ یہ بے رخی کیا تھی یہ اول ملاقات میں کیسے معلوم ہوتا۔ کیوں کہ یہ تو آصف فرخی کی ذات تھی۔ بعد اور بعداور ا س کے بھی بعد جب چار پانچ ملاقاتیں ہو گئیں، پھر فیس بک پہ اور کال پہ بات ہوئی تب معلوم ہوا کہ یہ شخص جو اپنی تحریروں میں بھی آہستہ آہستہ سلجھتا ہے اور اپنا مافی الضمیر دیر میں کھولتا ہے وہ اصل زندگی میں بھی ویسا ہی ہے۔

تقسیم کا نقصان کچھ کم نہیں اور اردو والوں کے لیے تو یہ غم آج بھی تازہ ہے۔ وہ تو بھلا ہو ریختہ کا کہ ہم نے آصف فرخی کی آنکھیں دیکھ لیں۔ تیسرے روز جب ادیبوں کے خاص پنڈال سے نکل رہے تھے تو میں باہر ہی ٹکرا گیا جلدی میں کہیں جا رہے تھے، مجھے دیکھا تو میرے کندھے پہ ہاتھ رکھ کہ بولے آپ کے والد ابھی یہیں تھے آپ کہا گھوم رہے ہیں۔ میرے جواب کی کیا اہمیت وہ تو بس آگے بڑھ گئے۔ پھر میں پنڈال میں داخل ہوا تو جشن ریختہ کے لیے دل سے دعا نکلنے لگی۔ چاروں طرف بڑے بڑے اردو، ہندی اور انگریزی زبان کے ادیب بیٹھے ہوئے تھے۔ ملک اور بیرون ملک کے۔ میں نے سب کو باری باری دیکھا جیسے وہ سب کوئی اور نہیں بلکہ میرے ہی وجود کے سائے ہوں، کہیں فاروقی، کہیں نارنگ، کہیں شمیم حنفی، کہیں خالد جاوید، کہیں گلزار اور کہیں واجپائی صاحب ان کے بالوں، کپڑوں اور بول چال نے مجھے چونکا دیا، منظر دھیرے دھیرے کشادہ ہوا تو محمد حمید شاہد، سید کاشف رضا اور دیگر ادیب بھی نظر آئے، اسی دوران ہمارا عظیم افسانہ نگار اور مدیر آصف فرخی پنڈال میں داخل ہوا اور ایسا لگا جیسے پنڈال مہکنے لگا ہو۔ مجھے وہ لمحہ نہیں بھولتا اور شاید زندگی بھر نہ بھولے۔

آصف فرخی ایک جادو کی طرح مجھ میں پائے جاتے تھے ایک انجانہ طلسم جو کاغذی پیراہن لیے ہوئے تھا اور اب وہ تصویر اور اوراق سے باہر زندہ بولتے چالتے میری آنکھوں کے سامنے تھے، مجھے لگا کہ شاید یہ شخص اپنی تحریر کا زینہ بنا کر میرے اندر اتر گیا ہے اسی لیے برسوں کا شناسا محسوس ہوتا ہے۔ وہ خواہ میری طرف بے رخی سے دیکھے اور خواہ سب سے روٹھا ہوا معلوم ہو، پھر بھی مجھ میں مسکرا رہا ہے۔ میرے لہو میں دوڑ رہا ہے اور شاید ہمیشہ جب جب میں افسانے کی بساط کھولوں گا یہ اسی طرح میرے سامنے آ موجود ہوگا اور شاید ان افسانوں کی بساط سے اس کا تعلق ہے جس کے ٹکڑے کو میں نے کبھی لپیٹا ہی نہیں۔ وہ میرے رو برو ہے اور ہمیشہ رہے گا۔

پھر آصف فرخی پاکستان گئے اور دوبارہ ورچیول دنیا میں ان کا اور میرا رشتہ استوار ہو گیا۔ میں کوئی تحریر لکھتا تو انہیں ٹیگ کرتا کوئی کتاب آتی تو انہیں خبر دیتا۔ خواجہ میر درد والی کتاب کے ابتدایئے میں ان کے والد کے دو اقتباسات رکھنے کے لیے ان سے اجازت مانگی تو بہت خوش ہوئے۔ انہیں اپنی مضامین کی کتاب کا کور بھیجا تو شاباشی دی۔ ایسے خوش ہو کر میسج کیا گویا کوئی سر پرست پیٹھ ٹھونک رہا ہو۔ پھر وہ لمحہ بھی آ گیا جب میں نے اپنی چوتھی کتاب کے بیک کور کے لیے ان سے رائے کی التجا کی تو ان کا جواب آیا کہ بہت شکریہ میرے دوست مگر میں ان دنوں بیمار ہوں اس لیے لکھ نہیں سکوں گا۔ان کا یہ جواب ایک ماہ پرانا تھا میں نے ان کی صحت کے لیے دعا کی۔ مگر وہ دعا رنگ نہ لائی اور ایک ایسی خبر آئی جو میرے لیے نہ صرف واقعہ تھی، بلکہ انتہا درجے کی مایوس کہانی جو اس بار بھی آصف فرخی نے ہی لکھی تھی۔ وہ نہیں رہے۔ ان کے انتقال کی خبر مجھ پہ بجلی بن کر گری اور وہ بجلی میں بدن میں ہی کہیں ٹھہر گئی۔ میں جذباتی ہو گیا۔ ان کا خیال ذہن میں ابھرتا اور ان کی موت کے لمحوں کو روشن کر دیتا۔

آج جب وہ نہیں ہیں تو ان کا وجود مجھ میں سانس لینے کو تڑپ رہا ہے۔ میں اپنے اندر ہی ان کو تلاش کر تا ہوں، ان کی کتابیں کھولتا ہوں ان کے مضامین ٹٹولتا ہوں اور ان کے قائم بالذات ہونے کی دلیل تلاش کرتا ہوں، مگر وہ کہیں نہیں ملتے بس نظر آتا ہے تو اپنا ہی وہ سایا جیسے اس روزز جشن ریختہ میں بے رخی سے کھڑکی کے باہر جھانکتے ہوئے دیکھا تھا۔

Categories
فکشن

میں، مصنف اور افسانہ (دوسرا حصہ) – تالیف حیدر

میرے افسانے پڑھنے کا تجربہ انفرادی نوعیت کا رہا ہے۔ اس لیے میں نے اپنے اکثر افسانوں میں خود کو مظلوم اور مترحم پایا ہے۔ وحشی اور عاشق کی شکل میں دیکھا ہے، انسان اور جانور کی طرح پایا ہے۔ انفرادی قرات کی یہ آزادی ہے کہ آپ کو جو کردار ٹھیک لگا، جو جذبہ بہتر پایا اسی کو اپنا بنا لیا۔ انسانی ذہن زیادہ تر اپنے لیے آسانی، نمائندگی اور گدازی تلاش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جو طبائع ایسےہوتے ہیں جن کو اس سے متضاد کیفیت میں لطف آتا ہے وہ اس قالب میں خود کو ڈھال لیتے ہیں۔

افسانہ کیوں وجود میں آیا ہے اس پر ہمارا دھیان بہت کم جاتا ہے۔ مشرقی ذہن کا عام میلان یہ بھی ہے کہ وہ نصیحت کی باتوں کے پیچھے خوب دوڑتا ہے۔ کہانی میں اول صورت میں جہاں کوئی ایسی بات نظر آئی جس سے معاشرے یا تہذیب کے لیے کوئی مثالی واقعہ مل جائے اسے ذہن کے گوشے میں محفوظ کر لیتا ہے تاکہ وقت ضرورت کام آئے۔ جنسیت سے ذرا گھبرانے کے باوجود اس کے تذکرے سےقاری کے اندر فرحت و انبساط کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ لاکھ چھپائے مگر افسانے کے اس حصے کو بھوکے شخص کی طرح بڑے بڑے نوالوں میں غٹک جاتا ہے۔

کہانی کے تسلسل کو شاعرانہ نگاہ سے دیکھنے کا وصف بھی ہمارے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ یوں عام اور غیر تخلیقی نثر میں بھی ہم شاعری زیادہ تلاش کرتے ہیں اور اس کے بنا نثر کے حسن کو ادھورا سمجھتے ہیں۔ مگر تخلیق میں اس کی ضرورت اور اہمیت کو ناگزیر تصور کرنے لگتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعری ہمارے لاشعور سے عرصہ دراز سے چپکی ہوئی ہے۔ افسانے کی ترتیب سے بھی ہمارا ایک ازلی رشتہ ہے ہم کہانی کو ایک کرم میں دیکھنے کے عادی رہے ہیں۔ اس لیے انفرادی نوعیت کی قرات میں زیادہ تر ان واقع سے زیادہ لطف اندروز ہوتے ہیں جن میں تسلسل مربوط ہو یا یوں کہا جائے کہ ہماری منشا کے مطابق ہو۔ کہانی خواہ کہیں سے شروع ہو کر کہیں ختم ہو مگر واقعات کی ڈور سلیقے سے بنی گئی ہو اور ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کے لیے زیادہ محنت نہ کرنا پڑے یہ اکثر ہماری خواہش ہوتی ہے۔

میں اپنے افسانے کے سفر سے کچھ زیادہ خوش نہیں ہوں کیوں کہ میں جب افسانے کی قرات کی طرف مائل ہوا تو اس وقت میری عمر کچھ سولہ، سترہ برس تھی اور آج تقریباً اپنی قرات کے سولہ برس بعد میں اس بات پر کف افسوس مل رہا ہوں کہ افسانے کے پڑھنے کا جو نظام میں نے خود بنایا تھا وہ کتنا ناقص تھا، اس نقص کا احساس مجھے اس لیے نہیں کہ میں نے کہانیوں کا انتخاب کرنے میں کسی نوع کی کوتاہی کی ہے یا افسانے کو وقت گزاری کے لیے پڑھا ہے۔ بلکہ افسانے سے اپنا ایک با قاعدہ رشتہ بنانے میں کبھی دلچسپی نہیں لی۔ میں نے بتدریج مطالعے کو یکسر غیر اہم سمجھا اس لیے کبھی مغربی افسانہ نگاروں کے افسانے طبیعت کو بھائے تو کبھی مشرقی۔ اردو، عربی، فارسی، ہندی، انگریزی اور نہ جانے کتنی زبانوں کے افسانے جن سے بس ایک سلسلے کے تحت ہم آہنگ ہوتا گیا۔ کوئی کہانی دیکھی، اسے اٹھا کر پڑھنے لگا اور تقابل کی سطح پر کبھی ایک کو دوسرے سے بہتر گردانہ اور کبھی دوسرے کو تیسرے سے۔ اب میں اسے کئی وجوہات کی بنا پر حماقت کا عمل تصور کرتا ہوں۔ مثلاًجس زمانے میں مجھے روسی ادب کاشوق سوار تھا تو میں ٹالسٹائی کے افسانوں کے تراجم تلاش کر کے پڑھا کرتا تھا۔ اسے پڑھ کر اپنے نفس کو یہ تسکین پہنچاتا کہ میں نے روسی افسانے بھی پڑھے ہیں، جن کا اثبات میں مجمع عام میں کر سکتا ہوں، کوئی امتحاناً دریافت کرے تو ٹالسٹائی کی کہانیوں کے نام بتا سکتا ہوں، ان کے کردار اور کہانیوں کا خلاصہ بھی بیان کر سکتا ہوں۔ اسی کو میں اپنے افسانوی سفر کا حاصل سمجھ رہا تھا اور دو چار برس تک نہیں بلکہ پورے پندرہ برس تک۔ کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ جسے میں روسی ادب کا مطالعہ کہتا ہوں آخر وہ بلائے جاں ہے کیا چیز۔

کسی بھی غیر زبان کا ادب پڑھنا کیا ہوتا ہے وہ بھی بالخصوص افسانہ جس کی تہہ اور واقعاتی لہر ہمیں کسی بھی معاشرت کی کتنی گہری تفہیم عطا کر سکتی ہے۔ اس معاشرت کے ان باریک نکات سے آگاہ کر سکتی ہے جس کی بنا پر ہم انسانی نفسیات میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔ میں نے کبھی ٹالسٹائی کے افسانوں کو اس نظر سے نہیں پڑھا کہ وہ دنیا کی ایک عظیم معاشرت کی ترسیل کا تکملہ ہیں۔ صرف اس نظر سے کہ کہانی میں کیا ہے۔ کس طرح اسے جانا جا سکتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ایک عرصے تک ٹالسٹائی کی بعض کہانیاں مجھے اپنے معاشرے میں موجود ان کہانی نگاروں سے بھی کہیں زیادہ کمزور لگیں جو ہمارے یہاں بہت زیادہ اہمیت کی نگاہ سے نہیں دیکھے جاتے۔

کوئی بھی بڑا ادیب افسانے کی زمین پر کیا شاہ کار تعمیر کر رہا ہے اس کا ادراک اسی وقت ہو سکتا ہے جب ہم اس کی معاشرت کے کماحقہ ادراک سے لبریز ہوں۔ کسی قوم کی تاریخ۔ اس کے وجود میں آنے، مہذب ہونے، ثقافتی سطح پہ تنوع اختیار کرنے اور زندگی کے ہر شعبے میں بڑھتے چلے جانے کے رازوں سے آگاہ ہوں۔ مثلاً جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں روسی افسانہ پڑ ھ رہا ہوں تو مجھے یقین ہونا چاہیے کہ میں ایک ایسی زبان میں لکھی جانے والی کہانی کا متن پڑھ رہا ہوں جس کی تاریخ اور جغرافیہ سے میں واقف ہوں۔ جس کی سیاسی تاریخ کا مجھے علم ہے۔ جس کے تہذیبی اور اعتقادی اعمال سے آشنائی حاصل ہے۔ جہاں کے انفرادی نوعیت کے معاملات میں دخیل ہونا میرا منشا بن گیا ہے۔ اس کے بعد جب میں ادب کی زمین پر کھڑا ہوا کر افسانے کے حوالے سے کسی عظیم تخلیق کار کا متن پڑھتا ہوں تو اس معاشرت کی ترسیل کے تکملے تک رسائی حاصل کرتاہوں۔ وہاں کی زبان کےنظام کو جانتا ہوں، وہاں کے معاملات زندگی میں استعمال ہونے والے محاورات سے آگاہ ہو تا ہوں۔ جس سے نہ صرف یہ کہ میں سمجھ پا رہا ہوں کہ منشائے مصنف کیا ہے بلکہ مجھے اس کا بھی علم ہے کہ کس جملے کی تطبیق کس پر ہو گئی اور معنی کے اخذ کرنے کا نظام کیا ہوگا۔

میرا افسانوی تجربہ مجھے ہر لحاظ سے بعض بہت ہی بنیادی باتوں کے متعلق غور کرنے کی دعوت دیتارہتاہے۔ جس میں افسانے کی ترسیل کا مسئلہ سب سے اہم ہے کہ میں نے افسانے کو کس طرح اس کی مختلف شکلوں میں پایا اور وہ کن کن صورتوں میں مجھ سے دو چار ہوا یا مجھ تک پہنچا۔ یہ پہنچنے کی حالت بعینہ مجھ تک پہنچنے کی نہیں بلکہ میرے احساس تک پہنچنے کی ہے۔ اسی طرح ایک دوسرا اہم معاملہ افسانے کی مجھ میں تحلیل کا ہے کہ افسانہ میرے شعور میں گھل کر کس طرح مرے اعمال و افکار میں شامل ہو گیا۔ آخر میں اس کی تاثیر کا مسئلہ کہ وہ ماحصل کس نوعیت کا ہے جو گذشتہ دونوں اعمال کے اختلاط سے ظاہر ہو رہا ہے۔ ایک بنیادی بات کی طرف مزید اشارہ کرتے ہوئے میں اپنے اصل موضوع کی طرف بڑھوں گا کہ میرا یہ تجربہ رہا ہے کہ جب میں نے اپنی زبان میں لکھی ہوئی کوئی افسانوی تحریر پڑھی ہے تو اس سے رشتہ قائم کرنے،اس کی تہہ میں موجود افکار کی نفسیاتی وجوہات معلوم کرنے اور اس کی تخلیق کے اسباب جاننے میں مجھے کچھ زیادہ ہی مسائل کا سامنہ کرنا پڑا جس کی بہ نسبت دوسری زبان میں لکھے ہوئے افسانے کے متن سے میں جلد ہی گھل مل گیا۔ بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کچھ غیر زبان کے افسانوں نے مجھے پریشان کیا ہو، اس کی وجہ مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ میں اپنی ہر ممکن کوشش کے باوجود غیر تہذیبی اور لسانی متن کی ان باریکوں تک رسائی حاصل نہیں کر پایا ہوں جو میری اپنی تہذیب کی علامتوں کے ادراک کی صورت میں میرے اندر سوالات کا ایک ڈھیر لگا دیتی ہیں۔ یقیناً میں غیر تہذیبی و لسانی متن کو ایک نوع کی آسانی کے ساتھ ہی قبول کرتا ہوں، جب تک کہ اس میں کوئی بہت گہری علامت واضح طور پر رقم نہ کی گئی ہو یا وہ ابہام کی شکل میں تخلیق نہ کیا گیا ہو۔ اس سے مجھے یوں بھی محسوس ہوتا ہے کہ دوسری زبانوں کو پڑھتے وقت ہم بہت سے نکات میں مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال یہ ہے یہ کہ اپنی زبان کے افسانہ نگار سے میرے مطالبے زیادہ ہوتے ہیں۔ چوں کہ وہ ایک ایسے ماحول میں تحریر لکھ رہا ہے جو میرا جا نا پہچانا ہے، جس کی جزیات پر میں اپنی نظریں جمائے رہتا ہوں، لہذا تخلیقی وفور کے باوجود میرے اپنے ادیب سے جہاں کہی جزوی بیانیہ میں بھی غلطی ہوتی ہے تو میرے لیے وہ متن غیر دلچسپ یا غیر اہم سا ہو جا تا ہے۔ یہ مایوسی اس بات کی دلیل ہے کہ میں ان لوگوں کی نگاہوں کا مداح ہوں جو اپنے اطراف کو غور سے دیکھتے ہیں، ان میں پوشیدہ بہت ہی معمولی اجزا کو بھی اتنا بڑا بنا کر پیش کرتے ہیں کہ مجھے ان کی تفہیم میں مزید آسانی پیدا ہو جاتی ہے، یہاں تخلیق کی سطح سے زیادہ اطراف کی اٹکھیلیوں پر دھیان لگا رہتا ہے۔ کوئی ایک بے ترتیب بات، کوئی غچہ کھانے والا جملہ، کوئی غلط تشبیہ، ایک ہلکی سی بے معنویت تخلیق کار کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔ اگر میں ایسے متن کو جس میں خواہ معمولی سے معمولی باتوں میں اعتقاد اور رسومات کی سطح پر بھی سقم نظر آتا ہے کلیتاً غیر اہم نہ بھی گردانوں تو بھی اس کی وہ اہمیت نہیں رہتی جو ایک کامل متن کی ہو نا میرے نزدیک شرط ہے۔ اسے آپ مجھ جیسے قاری کی کسوٹی بھی کہہ سکتے ہیں اور زیادتی بھی۔ لیکن اس میں تخلیق کار کو بھی اتنا تو دخل ہے کہ وہ اپنی بصیرت کی آنکھ کو کہیں نہ کہیں بند کیے ہوئے ہے یا کسی اتفاقی صورت حال میں وہ چوک گیا ہے جس کے باعث متن میں ایسے اجزا شامل ہو گئے ہیں جنہیں میں معیوب تصور کرتا ہوں۔ لا محالہ یہ میرا اپنا پیمانہ ہے، ہر قاری کا ہوتا ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ عیوب کے معیارات جدا ہیں اور حسن بھی، لہذا ہر قاری کے نزدیک متن کی کچھ شکل بہتر یا بد تر ہو جاتی ہے۔ ایک افسانوی متن سے یہ تضاضہ بالکل انفرادی سطح پر کیا جاتا ہے، مگر اس کے بالمقابل اجتماعی نوعیت کی قرات میں بھی عیوب اور حسن کی تحلیل انفرادی طور پر ہی منقسم ہوتی ہے۔ غیر ملکی متن کو یہ آزادی حاصل ہوتی ہے کہ اس کی جزیات اس کے کل میں ضم ہو جاتی ہیں۔ لہذا نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری والا معاملہ ہے کہ اگر مجھے علم ہی نہیں کہ فرانس میں فلاں روایت کو کس طرح سے عوام دیکھتی ہے قبول کرتی ہے یا رد کرتی ہے تو میں اسکا اپنا ایک مقامی ترازو بنا لیتا ہوں، جس میں روایت کا بری طرح قلع قما ہو جاتا ہے اور حاصل نہ عیب آتا ہے اور نہ ہنر۔

افسانے کی ترسیل کا عمل کیا ہے ہوتا ہے، یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں، لیکن ترسیل کے کئی ایک معنی ہونے کے باعث میں یہ واضح کر دینا بہتر سمجھتا ہوں کہ میری مراد اس لفظ سے یہاں میرے احساس تک افسانے کی رسائی سے ہے۔ جسے آپ ابلاغ تصور بھی کہہ سکتے ہیں۔ افسانے کی ترسیل خواہ ظاہری طور پر چھوٹی چیز معلوم ہو مگر جب کہانی کے تنوعات کے ساتھ اس پر غور کیا جائے تو لا محالہ یہ بہت بڑی اور اہم شئے ہو جاتی ہے۔ کوئی اگر یہ سمجھے کہ اس کے یہاں افسانے کی درجہ بندی کسی مرحلے پر نہیں ہوتی تو یہ ایک منفی (غلط)خیال ہوگا۔افسانہ اتنی چھلاوے والی شئے ہے کہ اس کو معلوم ہے کہ کس طرح کن کن مرحلوں سے گزرتے ہوئے قاری کے احساس تک پہنچنا ہے۔ اگر آپ ایک باشعور قاری ہیں توافسانے کے اس چھلاوے کو جلد ہی گرفت میں لے لیں گے۔ کیوں کہ افسانہ جب جب اپنے اسالیب کے مختلف ناگ آپ کی چھاتی پر رنگنے کے لیے چھوڑ دے گا تب تب آپ مچل مچل کر اس کی الگ الگ پھنکاروں سے واقف ہونے لگیں گے۔ افسانے کا اسلوب اس کی ترسیل کے دامن سے پیوست ہوتا ہے۔ ہر افسانہ کئی کئی صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اور کئی کئی شکلوں میں اپنی پسند اور نا پسند کے معیارات قائم کرنے کی سعی کرتا ہے۔ یہ افسانے کا چھلاوا ہی ہے کہ اگر آپ کسی افسانوی متن کو اس کی بعض غیر مانوس یا علامتی نوعیتوں سے گھبرا کر اپنے احساس میں ضم نہیں کر پائیں گے تو بھی وہ یک گنا آپ کو محظوظ کر ے گا۔ کہانی یا تو آپ کے حسیاتی پہلووں کو مس کرے گی یا آپ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتی ہوئی نکل جائے گی۔

Categories
نان فکشن

میں، مصنف اور افسانہ (پہلا حصہ) – تالیف حیدر

ادب کھیل تماشا نہیں، نہ ہی تفنن طبع ہے۔ ادب ایک ذمہ داری ہے، ہر اس پڑھنے والے کے لیے جو اس کے مسائل پہ غور کرتا ہے، جو جاننا چاہتا ہے کہ ادب کی ماہئیت کیا ہے؟ اس کے وجود میں آنے کی اسباب و علل کیا ہیں اور اس کے قائم اور دائمی ہو جانے کی وجوہات کیا ہیں۔ یہ خواہ بادی النظری میں تفنن طبع معلوم ہو، مگر اس کی جہات اور شقوں پر غور کیا جائے، اس کے مقاصد اور اثرات کو سنجیدگی سے جانچا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ اس کے تفنن میں کاری گری اور فکر و نظر کی جلوہ سامانیاں پائی جاتی ہیں۔ میرا موضوع اس مضمون کی حد تک افسانہ ہے، افسانے کا وجود، اس کی ترسیل، اس کی تحلیل، میرا اس سے رشتہ اور میرے اطراف میں افسانے کا پھیلاو وغیرہ۔لیکن اس پر گفتگو کرنے سے قبل میں چند ایک باتیں واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ کن سوالات سے میرے افسانوی استفہامے کا رشتہ جڑتا ہے اور کیوں میں اس خیال کے بھنور میں خود کو پھنسا پاتا ہوں کہ افسانے کی شعریات سے الجھوں اور اس کے وجود اور اپنے وجود کے رشتے کی گتھیوں کو ظاہر کروں۔

ادب ہی اس مضمون کا پیش خیمہ ہے۔ ادب جس کا وجود اور جس کے اثرات مجھے پریشان کرنے میں گذشتہ دس برس سے مستقل لگے ہوئے ہیں۔ شاعری، نثر، تخلیق، تنقید، تحقیق یہ سب کیا ہے اس کے ہونے سے ہمیں کیا حاصل ہو رہا ہے۔ اس پر مستقل غور کرنے سے ہمارا کیا نفع ہے اور کیا نقصان ہے یا کون سی شئے ہے جو مجھے سر گرم رکھتی ہے ادب کی تحصیل میں۔ میں اکثر اپنے دوستو ں سے اس بات کا تذکرہ کرتا ہوں کہ ادب وہ خواہ شاعری ہو یا نثر ایک مسلسل عمل ہے، ظاہری نہیں بلکہ باطنی، اس عمل کو روایتی زبان میں بیان کیا جائے تو واردات کا لفظ اس کے لیے خاصہ موزوں معلوم ہوتا ہے۔ شعر ا س کی تکرار،اس کاجنون، اس میں پوشیدہ دل بستگی کا سامان، یہ سب معمہ ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں کہ آخر یہ کون سی آوازوں کی تکرار ہے جو ہمیں زندہ رکھنے میں اور ہمارے تحرک میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ کاروباری نوعیت کے لوگ ہوں یا غور کرنے والے اذہان۔ سب اس کی گرفت میں ہیں۔ پھر مزید یہ کہ تخلیق کی سطح پر ہم صیقل کیوں ہو تے چلے آئے ہیں اور مستقل ہو رہے ہیں۔ ہمیں ابہام اور الجھی ہوئی گتھیاں لبھا رہی ہیں۔ نثر کی لٹھ چلاتی ہوئی تخلیقات اپنے حلقہ اثر میں لے رہی ہیں۔ موزونیت کے روز بروز نئے قائدے مرتب ہو رہے ہیں، مگر اس بلائے بے اماں سے ہمارا پیچھا نہیں چھٹ رہا ہے۔

موجودہ عہد پہ غور کرو تو معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک انتشار کی لہر ہے جو زندگی کے بے شمار خانوں میں بٹی ہوئی ہے۔ جو انسان کو انسان سے غیر متعلق کرنے میں کوشاں ہے۔ جو زندگی کے معمے کو حل کرنے کی جستجو میں، نئی دنیاوں، خلاوں اور کائناتوں کی تلاش میں سر گرم ہے۔ سیاسی بازار میں رقابتوں کا خونی کھیل جاری ہے، زمینیں تنگ ہو رہی ہیں، انسانی نفوس کے حلقوم پرمسائل کی مٹھیوں کی گرفت تنگ سے تنگ تر ہوتی چلی جا رہے، مگر انسان نے ایسے عالم میں بھی شعر، افسانہ، ناول اور تخلیق سے اپنا رشتہ غیر مستحکم نہیں ہونے دیا ہے۔ سب ہو رہا ہے اور یہ بھی ہو رہا ہے کہ ہم خود غرضی کی چادر تلے انسان دوستی،امن و آتشی کے خواب دیکھنے کی آنکھیں نہیں بند کر پا رہے ہیں۔ مظالم اور افلاس کے نعروں میں جھوم جھوم کر آزادی کے ترانے گا رہے ہیں۔ ادب جی رہے ہیں اور اس کے حلقہ اثر کو جسے کم یا اب تک انسانی زندگی سے ختم ہو جانا چاہیے تھا اس کے دائرے کو وسیع سے وسیع تر کر رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں کوئی لاکھ صرف نظر کرے مگر میں اپنے اطراف کی ایک اہم صنف ادب ایک فکری ترنگ کے مالہ و ما الیہ پہ غور کرنے پر مجبور ہوں اور خود سے اس طلسم بے فسوں کا تعلق ظاہر کرنے پہ آمادہ معلوم ہوتا ہوں۔ یہ کوئی فریضہ نہیں بلکہ جبر ہے، میرے باطن کا میری ذات پر اور میرے فسون دروں کا میرے اظہار پر۔ اس لیے افسانے کی شعریات سے میں الجھ رہا ہوں اور اس کے اصول و افتراق کو بیان کر رہا ہوں کہ اپنی ذات کی گتھیوں کو سلجھانے میں معاونت حاصل کر سکوں اور جان سکوں کہ افسانہ میرے درون ذات کی ظلمتوں میں تحلیل ہو کر مجھے کن سطحوں پر روشنی بخش رہا ہے۔

افسانے کی تخلیق کا عمل کب شروع ہوا یا کیوں شروع ہوا، یہ سوال میرے لیے اب کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ ایک پیرایہ بیان جو وجود میں آیا، جس نے ترقی کی، انسانی زندگی میں اپنی جگہ بنا لی، اس کے وجود میں آنے کی تاریخ جاننے سے یا اسکے اسباب جاننے سے اتنی دور آ کر ہم کچھ حاصل نہیں کرسکتے۔ مغرب اور مشرق کے جھگڑوں میں الجھنے سے یا یہ سمجھنے میں اپنا وقت صرف کرنے سے کہ اس کا وجوداول اول کن لوگوں کے درمیان پنپا۔ میں نے جس معاشرت میں آنکھ کھولی، جس ماحول میں پلا بڑھا وہاں افسانہ اپنی مکمل جامعیت کے ساتھ موجود تھا۔ اس کی گھنٹیوں کا شور چاروں جانب پھیلا ہوا تھا۔ کیا مغرب اور کیا مشرق اب تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے دیکھتے دیکھتے سرحدوں کی لکیروں کو اتنا مٹتے دیکھا کہ سب ایک دوسرے میں گھل مل گیے۔

یہ میرا بھی معمول رہا ہے کہ کبھی افسانے کی کسی کتاب میں ٹالسٹائی کا افسانہ پڑھ لیا، کبھی، منٹو وبیدی کا۔ کبھی کسی ہندی افسانوی متن میں کھو گئے تو کبھی بنگالی۔ کبھی ایڈگر کو اٹھا لیا تو کبھی بالکل ہی نامعلوم قسم کے کسی غیر معروف افسانہ نگا ر کو جس کا نام بھی کبھی نہیں سنا تھا۔ کسی بھی صنف کو پڑھنے کا کوئی قاعدہ نہیں ہوتا۔ لہذا اسی طرح افسانے سے ایک رشتہ قائم ہوا اور افسانے کی رنگینیوں کو جانا اس کے مختلف چوکھٹے دیکھے اور سمجھنے لگے کہ افسانہ ہماری صنف ہے، ہماری سے مراد ہماری طبیعت کے موافق اور اس میں واقعات کا جو سلسلہ ہوتا ہے اس کو جان لینے سے افسانے کی قرات کے مسائل خود بہ خود ہم پر روشن ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ زندگی کا ایک ادنی واقعہ ہی تو ہے جو وحدت تاثر کی شکل میں ہم سے روبرو ہوتا ہے، ہم اس میں کھو جاتے ہیں اور آخر کی دو چار سطروں میں اپنے بدن میں اک جنبش یا تھرتھراہٹ محسوس کرتے ہوئے افسانے کے قفس مزینہ سے باہر آ جاتے ہیں۔ واقعی اس کی قرات کی قواعد پر کبھی غورنہیں کیا کہ آخر یہ گل بدن، شیشہ رو صنف جس کے جسم پر پتھر سے مینا کاری کی گئی ہے اس کا ہم سے کیا مطالبہ ہے۔ صنف کا مطالبہ تو تب سمجھ میں آتا جب ان حقائق سے آگاہ ہوتے کہ یہ بلا صرف لفظوں کی بازی گری نہیں اور نہ واقعے کی آماج گاہ ہے۔ یہ تو تہہ داری کاایک روشن سائبان ہے جس سے یکباری آنکھیں ملانا اپنی بینائی کو خیر باد کہنا ہے۔ جس کی تحلیل کے لیے ایک ریاضت درکار ہے۔ زندگی جس کے تنوع کو سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی نہایت الجھی ہوئی ڈور کے ریشوں کو گننا۔ اس کا طریقہ کار جب تک نہیں آیا۔ اس وقت تک افسانے کی دیواروں سے سر مارتے ہی بنے گی۔

میں نے افسانے کا مطالعہ بے ترتیبی سے شروع کیا۔ اس کا ادراک مجھے اب ہوتا ہے کہ افسانے کی قرات کے قواعدِکا تعین اس لیے ضروری ہے تاکہ ہم افسانے کا ماحصل صرف ظاہری واقعے کی مرتب کڑیوں کو ہی نہ سمجھیں۔ افسانہ میری ذاتی کوششوں سے مجھے اچھا نہیں لگا۔ یہ افسانے کا مجھ پر ایک غیر شعوری تاثر ہے کہ اس نے مجھے اپنی گرفت میں لینا شروع کیا۔ ایک کہانی، دوسری کہانی، ایک معاشرت کا بیان، ایک اور معاشرت کا بیان، کچھ نئے مسائل اور کچھ مختلف حالات یہی سب افسانے کا فسوں کدہ بنے۔ کرداروں کی کیفیت، ان کے ذاتی معاملات کا انشراح اور ان کا الجھاو اس نے مزید رسی ڈال کر اپنی طرف کھینچا۔ جب ذرا صاف اور دو ٹوک باتوں سے جی گھبرانے لگا تو کچھ نفسیاتی حالت نے اپنا اسیر بنالیا۔اس سے بھی کچھ اوبےتو علامت نے اپنے دام میں لے لیا۔ وہ بھی ناقص معلوم ہونے لگی تو واقعہ در واقعہ اور استعاراتی در استعاراتی تففن میں گرفتار ہونے لگے۔ سبھی کچھ دیکھ لیا تو پھر فن کے نام پر سادی اور اکہری تحریروں سے سر ٹکراکر خود کو جنون فسانہ شوقی کا مداح ٹھہرا لیا۔ یقیناً یہ ایک عمل ہے بہنے کا۔ جس میں سب بہتے ہیں۔ یہ ایک راہ ہے جس پر چلے بنا افسانے کی تفہیم تک پہنچنانا ممکن ہے۔ اس عمل سے مفر افسانے کی بساط سے مفر ہے۔ لیکن حاصل تو کچھ نہیں وہی ڈھاک کے تین پات۔ افسانہ ایک کان سے آتا ہے اور دوسرے سے نکل جاتا ہے۔ اب مان لیجئے کہ اسے کوئی افسانے کی قرات کا عمومی عمل کہے یا اسی کو سب کچھ سمجھ کر اس راستے پر سفر کرتا رہے اور دلیل یہ لائے کہ اس کے علاوہ کسی طرز عمل سے افسانے کی ماہئیت روشن نہیں ہو سکتی۔ قاعدے بے سود ہیں۔ یہ تخلیق کے لیے غیر ضروری اور خرافات کے لیے ناگزیر ہیں تو اس میں بھی کچھ مضائقہ نہیں کیوں کہ افسانے کی ترسیل اور تفہیم کوئی ایسا کام نہیں کہ جس سے شرعی قوانین متاثر ہو جائیں۔ انسانی زندگی تھم جائے اور ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں کے دروازوں پر تالا پڑ جائے۔ یہ عمل ہے راست بازی کا یا فکر بسیار کا۔ اگر ماضی میں یہ نہ سوچا گیا ہو کہ افسانے کی قرات کا کوئی قاعدہ ہونا چاہیے تو حال یا مستقبل بھی اس خیال سے خالی رہے اس میں کچھ حسن تو نہیں۔ افسانے کی قواعد کا علانیہ اظہار عین ممکن ہے معیوب ہو، مگر جو اس صنف کی چہار دیواری میں سانس لیتی ہوئی کہانی کو اپنا مسئلہ سمجھتا ہے اور غور کرنا چاہتا ہے کہ انفرادی سطح کا قاعدہ وجود میں آئے، جس سے اظہار کے سوتوں کی رنگینی کا ادراک ہو۔ اس کی تحلیل و ترسیل کا مسئلہ حل ہو تو میری ذاتی رائے میں وہ حق بجانب ہے۔

افسانے کی مکاری اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اسے دام اثر میں لے پانا نہایت مشکل ہے۔ کہانی وہ بھی گڑھے ہوئے قصوں سے سجی ہوئی کہانی اپنا کوئی احاطہ نہیں بننے دیتی۔ وہ ایک نوع کی آزادی کی قائل ہوتی ہے۔ جس میں کلو اور نتھو بھی سما سکیں اور سیٹھ دینا ناتھ اور کروڑی مل بھی۔ ہم افسانے کا مطالعہ اپنے تجربات کی روشنی میں کرتے ہیں، ایک پس منظر بناتے ہیں، لفظوں کے معنی کا ایک خاص نظام قائم کرتے ہیں، کرداروں کی آوازوں کو اپنے ماضی کے انسانی لہجے عطا کرتے ہیں۔ بین السطور کو اپنی منشا کے مطابق سجا سنوار کر اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اس سے افسانہ لکھنے والے کی مٹھی سے نکل کر ہماری مٹھی میں آ جاتا ہے۔ اس سے جو کچھ ہمیں اخذ کرنا ہے کیا اور اس کے متن کو اپنے اصول زندگی کا متن بنا کر اس کی خود پر ترسیل کے مرحلے سے گزر گئے۔ میں نے یوں بھی اکثر کچھ کہانیوں کی گہری قرات کے بعد یہ سوچا ہے کہ اگر اسے میں نہ پڑھتا تو کیا ہوتا اور اگر کبھی اس کہانی میں موجود کرداروں کی حالت مجھ پر ظاہر نہیں ہوتی تو میں خود کو اس کردار کے قالب میں کیسے ڈھالتا۔ میرے خیال کی معراج افسانے کی معنوی سطح کوایک حد تک لے جاتی ہے اور پھر اس کے متن کو بے سود بنا دیتی ہے۔ لہذا افسانے کے متعلق مجھے یہ خیال زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ یہ انفرادی مطالعے سے زیادہ اجتماعی مطالعے کی چیز ہے۔ کوئی پڑھے گا اور دس بارہ لوگ سنیں گے۔ سب کا اپنا ایک تاریخی شعور ہوگا، ماضی ہوگا، تجربے ہوں گے اور افسانے کی زمین کو کئی رنگوں کی ذہنیت سے رنگا جائے گا۔ ایک شخص کا کسی ایک نتیجے پر پہنچنا ممکن نہ ہوگا۔ یوں تو بعض معنوی گمراہیوں سے بچنے کا امکان قوی ہے۔ پھر یہ بھی ہوگا کہ افسانے کے درمیان موجود ظلم مجھے لبھائے گا نہیں اور نہ میں کسی ایک واقعے کو اپنی ملکیت سمجھ لوں گا کہ یہ وہ ہی کچھ ہے جو میری زندگی میں گذرا ہے اور گذر رہا ہے۔ میں نے افسانے کی اجتماعی قرات کبھی نہیں کی، البتہ دیکھا ہے کہ اس نئی معاشرتی فضا میں جب کبھی کوئی افسانہ نگار کسی بزم میں عزت و احترام سے بلایا گیا ہے تو وہ اپنا بستا کاندھے پر ڈال کر وہاں پہنچا ہے، لوگوں نے اس کی کہانیاں اس کے منہ سے سنی ہیں اور اسے افسانے سے جدا کر کے کہانی کی چاشنی سےلطف اندوز ہوئے ہیں۔ اجتماعی قرات میں لہجے سے مصنف یا قاری یہ کتنا ہی باور کرنے کی کوشش کیوں نہ کرے کہ افسانے کو اس کی آواز نصیب ہو رہی ہے اس لیے لفظوں کا زور بیان اسے اس کہانی کا نا نظر آنے والا بنیادی کردار بنا دے گا، مگرایسا ہو نہیں پاتا۔ لفظ سننے میں اور پڑھنے میں چھلاووں کے دو مختلف قائدے کام کرتے ہیں، ہم جب کسی کہانی کے متن کو سنتے ہیں تو اسے اپنی مرضی کے مطابق اس خوف کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ اطراف میں موجود اشخاص بھی اسے اپنی مرضی کے مطابق قبول کر رہے ہیں، اس نفسیاتی شعور کی بنا پر لفظوں کا دھاگا ذہن کی چادر پہ ویسے ہی نقش مرتب کرتا ہے جیسے اسے اجتماعی حالت کے ادراک کی صورت میں مرتب کرنا چاہیے۔ اس حالت میں نہ متن اپنا ہوتا ہے، نہ مصنف کا نہ اطراف میں موجود کسی شخص کا۔ کہانی کی فضا ایک سوالیہ کردار سے شروع ہو کر ایک نوع کی فرضی مخلوق تک ہی محدود رہتی ہے۔ جس کی تطبیق کسی پر نہیں ہوتی اور سب پر ہو جاتی ہے۔
(جاری ہے)

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (آخری حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

اس کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ زمین کی تعمیر سات روز میں ہوئی تھی۔ جب زمین بنی تو اس کے پڑوسی وہاں تھے اور وہ بھی تھا۔ ہوا یہ تھا کہ جب زمین کا نام و نشان نہ تھا تو انسان اور دیو خلا میں رہا کرتے تھے، انسان اور دیو ایک دوسرے کے رشتے دار تھے، یہاں کی عورتیں وہاں اور وہاں کی عورتیں یہاں بیاہی جاتیں، دیو نیوں کے بچوں کو انسانی عورتیں دودھ پلاتیں اور پالتیں۔ انسانوں کے بچوں کو دیو خلا کی سیر کراتے۔ سب خوش حالی سے ساتھ میں رہتے تھے، پھر ایک روز دیو زاد مردوں نے دیکھا کے ان کے بچے غائب ہو رہے ہیں، پہلے ایک غائب ہوا پھر دوسرا ہوا پھر تیسرا ہوا۔ انہوں نے خلا میں دور دور تک انہیں ڈھونڈا مگر وہ کہیں نہ ملے۔ انہوں نے انسانوں سے اس بات کا تذکرہ کیا تو وہ بھی پریشان ہو گئے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا اور اپنے بچوں کی حفاظت مستعدی سے کرنے لگے۔

کچھ دنوں بعد جب یہ سلسلہ بہت بڑھ گیا تو دیو زادوں کے بڑے بڑے سرداروں نے انسانوں سے چند انسانی سراغ رساں خلا کے مغرب میں جہاں سورج کی حکومت تھی اور جہاں دیو زاد جاتے ہوئے گھبراتے تھے کیوں کہ انہیں روشنی سے بیر تھا بھیجنے کی خواہش ظاہر کی۔ انسانوں نے ادھر کا سفر کبھی نہیں کیا تھا، مگر دیو زادوں کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے انہوں نے حامی بھر لی۔ چند انسانی سراغ رساں چھ ماہ کی مسافت طے کر کے جب سورج کی بستی میں پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہاں ایک بہت بڑا روشن آگ کا گولا ہے جس کے ارد گرد بے شمار سونے،چاندی، ہیرے، موتی کے پہاڑ ہیں جو خلا میں تیر رہے ہیں۔

جب وہ ذرا نزدیک گئے تو انہیں شیطانوں کی بستی نظر آئی۔ جہاں لاکھوں شیطان اور ان کی بیویاں اور بچے خلا میں سورج کی تپش میں دیو زاد بچوں کی لاشیں پکا رہے ہیں اور مزے لے لے کر کھا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا تو بہت حیران ہوئے۔ ابھی وہ یہ منظر دیکھ ہی رہے تھے کہ ایک شیطان کی ان پہ نگاہ پڑ گئی۔ وہ دوڑے مگر شیطانوں نے انہیں جا لیا۔ فوراً انہیں قید کر کے شیطانوں کے سردار کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس نے انسانوں کو دیکھا تو بہت خوش ہوا۔ ان کی بیڑیاں کھلوائیں اور ان کی تعظیم میں جھک گیا۔ انسان یہ منظر دیکھ کر بہت حیران ہوئے۔ اس نے ان سراغ رساں انسانوں کی دعوت کی جس میں خلائی میوے، پھل، سبزیاں اور دیوزاد بچوں کا پکا ہوا گوشت ان کے سامنے سجا دیا۔ انہوں نے سارے کھانے قبول کر لیے اور بچوں کا گوشت لینے سے انکار کر دیا۔ تب شیطان کے سردار نے ان سے کہا کہ کیا تم دیوزاد بچوں کی خاطر یہاں آئے ہو۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ سردار بولا۔ تمہیں دیو زاد کیا دیتے ہیں جو تم ان کے دوست ہو اور اس خبر کوحاصل کرنے یہاں تک آ گئے ہو۔ انہوں نے بتایا کہ دیو زاد اور ہم ہزاروں سال سے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کے بچے ہمارے بچے ہیں۔ تمہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کر نا چاہیے۔ اس پر شیطانوں کے سردار نے ان سے کہا کہ تم کیا جانو کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں۔ انسان بولے اپنی بھوک اور مزے کی خاطر۔ شیطان نے کہا ایسا ہرگز نہیں ہے۔ پھر وہ انہیں اپنے ساتھ ایک جگہ لے گیا جہاں سورج کی تپش بھی معتدل تھی اور خلا کی ٹھنڈ بھی۔ اس مقام کو دیکھ کر انسان حیران رہ گئے۔ پھر شیطان کے سرداروں نے ایک دیو زاد کا بچہ منگوایا اور کی گردن دھڑ سے الگ کر دی۔ یہ دیکھ کر انسان کانپ گئے۔ شیطان نے کہا کہ ڈرو نہیں اب جو میں دکھاتا ہوں وہ دیکھو۔ اس نے دیوزاد بچے کا پیٹ پھاڑا اور اس کا معدہ نکال کر سورج کےاس معتدل مقام پر اچھال دیا۔ جو آن واحد میں سوکھ کر اتنا سخت ہو گیا کہ انسان اسے ہلا نہ سکے پھر اس کے بیچ سے ایک ترل بہہ کر اس کے چاروں طرف پھیل گیا۔

شیطان کے سردار نے ایک اور بچہ منگوایا اور اس کابھی سر ڈھر سے الگ کر دیا اور اس کا پیٹ پھاڑ کے جوں ہی اس کا معدہ نکال کر اس معتدل مقام پر اچھالا تو انسان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہ معدہ دوسرے معدے سے چپک گیا اور اسی طرح ٹھوس ہو گیااور پھر اس میں سے بھی ویسا ہی ترل بہہ کر اس کے چاروں طرف پھیل گیا۔ تب شیطان کے سرداروں نے کہا کہ اسے پتھر اور پانی کہتے ہیں جو صرف پوری کائنات میں دیوزاد کے پیٹ میں پایا جاتا ہے۔ اگر ہم کسی طرح تمام دیو زادوں کے پیٹ پھاڑ کر ان کے معدے اس معتدل مقام پر اچھال دیں تو ہمیں کبھی خلا کی ٹھنڈ میں نہیں رہنا پڑے گا۔ انہوں نے انسانوں سے کہا کہ دیو بہت طاقت ور ہیں اگر وہ کسی طرح انہیں یہاں تک لے آئیں اور شیطانوں کے ساتھ مل کر ان کا قتل کر دیں تو وہ اور شیطان ہمیشہ خوشی سے زمین کے مالک بن کر رہیں گے۔

انسانوں کے سراغ رساں اس پر فوراًراضی ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے سرداروں کو بھی اس پہ راضی کر لیں گے۔ پھر شیطانوں نے انسانوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ بنایا اور انسان وہاں سے روانہ ہو گئے۔ ایک رات جب تمام دیو زاد گہری نیند سو رہے تھے اور انسانی سراغ رسانوں نے انسانوں کے بڑے بڑے سرداوں کو بلا کر اس معتدل مقام، زمین اور پانی کے متعلق بتایا تو سارے سردار خوشی سے جھوم اٹھے پھر شیطانوں کا منصوبہ بتایا جس پہ عمل کرنے کے لیے انہیں دیو زادوں سے یہ کہنا تھا کہ ان کے بچے کس طرح کی پریشانیوں کا شکار ہو رہے ہیں اور انہیں یہ یقین دلانا تھا کہ وہ روشنی کی طرف چلیں جہاں ان کے بچے بھی ہیں۔ بنا ڈرے وہ اور انسان مل کر شیطانوں کا مقابلہ کریں گے اور انہیں ختم کر کے ان کے بچوں کو چھڑا لائیں گے۔سارے سرداروں نے ایسا ہی کرنے کی قسم کھائی۔ پھر دوسرے روز تمام انسانوں تک یہ خبر پہنچا دی گئی۔ دیو زادوں کو صورت حال سے آگاہ کیا گیا اور انہیں غیرت دلائی گئی کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر وہاں چلیں اور انسان ان کے کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔ جب دیو زاد اور ان کی عورتیں سب اس پہ راضی ہو گئے تو انسانوں اور دیو زادوں کا ایک لشکر روشن نگری تک پہنچا۔

دیو زادوں کی مدد سے چھ ماہ کا راستہ دو دن میں طے ہو گیا۔ مگر جوں ہی وہ شیطانوں کی بستی تک پہنچے تمام انسانوں نے دیو زادوں سے بغاوت کر دی اور شیطانوں سے جا ملے۔ دیو زاد یہ صورت حال دیکھ کر بوکھلا گئے۔ انہوں نے انسانوں کے اور اپنے تعلقات کے ہزاروں برسوں کے واسطے دیے، رو ئے گڑ گڑائے مگر انسانوں نے ان کی ایک نہ سنی اور شیطانوں کے ساتھ مل کر ان کے سر دھڑ سے الگ کر کے ان کے پیٹ چا ک کیے اور ان کے معدے نکال کر اس معتدل مقام پر اڑا دیے۔ یہ قتل و غارت گری چھے روز تک چلتی رہی اور پھر ساتویں روز جب سارے دیو ختم ہو گئے تو خلا کا وہ معتدل مقام ایک شاندار زمین سے سج گیا۔

سارے انسان اور شیطان یہ منظر دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور باری باری زمین پر آنے لگے۔ جوں ہی ایک انسان یا شیطان زمین پہ قدم رکھتا تو ایک دھماکے کی آواز خلا میں بلند ہوتی جو دیو زاد کی چیخوں کی طرح ہوتی۔ دھیرے دھیرے انسان اور شیطان زمین تک پہنچتے رہے اور یہ چیخیں خلا میں گونجتی رہیں۔ پھر اچانک ان چیخوں نے ایک ساتھ اٹھنا شروع کر دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے ساری خلا چیخوں سے پھٹ جائے گی۔ آواز کی شدت جب بہت بڑھ گئی تو اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ اس کے ماتھے پہ پسینے کی بوندیں ابھر آئی تھیں۔ کچھ دیر کے لیے ان چیخوں کی آوازیں کم ہوئی اور پھر دوبارہ بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے دیو زادوں کی چیخوں سے اس کا دماغ پھٹ جائے گا۔
(13)
بڑی مذہبی طاقت والوں کا جلوس پیتل منڈی سے نکلناشروع ہوا،ہزاروں کی تعداد میں لوگ ہاتھوں میں جھنڈے اور اپنا مذہبی ہتھیار لیے لال چوک کی طرف بڑھ رہے تھے۔ نعرے لگاتے، چیختے چلاتے۔ اپنے دشموں کو للکارتے۔ آج ان پہ ایسا جنون طاری تھا کہ اگر وردی والے بھی انہیں روکنے کی کوشش کرتے تو وہ انہیں بھی ختم کر دیتے۔ ان کا نشانہ دو سری مذہبی طاقت تھی، وہ اپنے نعروں میں انہیں گالیاں دیتے، ڈرپوک اور بزدل کہتے ہوئےآگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس جلوس میں ہر عمر کی مرد اور عورتیں شامل تھیں۔ عورتوں کے نعروں کی آواز سے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اپنی مد مقابل پارٹی والوں کا کلیجہ نوچ لیں گی۔ آج ان کا کوئی باپ،بھائی اور شوہر نہ تھا۔ سب ایک شدید غصے کی لہر میں شہر سے چھوٹی مذہبی طاقت کو ختم کر دینا چاہتے تھے۔

جلوس جوں جوں آگے بڑھتا گلیوں، کوچوں اور بازاروں سے لوگ اپنے مذہبی ہتھیاروں سمیت ا س میں شامل ہو تےجاتے۔ وردی والے اس جلوس کے آگے پیچھے بندوقیں لیے چل رہے تھے۔ نعرے بازوں کی آواز جلوس میں موجود لوگوں میں جوش پیدا کر رہی تھی۔وہ آگے، پیچھے اور درمیان میں بکھرے ہوئے تھے۔ پہلے آگے والا نعرہ لگاتا، پھر اس کے پیچھے والا اور پھر سب سے پیچھے والا۔ ابھی یہ جلوس شہر کی گلیوں سے گزر ہی رہا تھا کہ چھوٹی طاقت والوں نے دھیر ےدھیرے جنوبی علاقے میں ایک جگہ جمع ہونا شروع کر دیا۔ وردی والوں کو اس بات کا علم نہ تھا کہ چھوٹی طاقت والے اس جلوس کے دن شہر کے ہر حصے میں جمع ہو کر ایک جگہ آ کر ملیں گے۔ ان کا بھی رخ لال چوک کی طرف تھا۔ شہر کی چاروں سمتوں میں ایک اوربھیڑ اکھٹا ہونے لگی۔ وردی والوں نے جب مختلف علاقوں میں چھوٹی طاقت والوں کو اکھٹا ہوتے دیکھا تو دھیرے دھیرے پیچھے کی طرف کھسکنے لگے۔کیوں کہ چھوٹی طاقتیں ہاتھوں میں اپنے مذہبی جھنڈوں اور ہتھیاروں کے علاوہ بندوقیں بھی لیے ہوئے تھے۔ وردی والے وائر لیس پہ ہر علاقے کے ذمہ داروں کو اطلاع دیتے اور لال چوک کی طرف بڑھتے چلے جاتے۔

چھوٹی مذہبی طاقتیں جنوبی اور مغربی علاقوں سے نکل کردائرہ شاہراہ پہ مل گئیں۔ دونوں جماعتوں نے جب دیکھا کہ اتنی تعداد میں لوگ اسلحہ کے ساتھ ہیں تو ان کے حوصلے بلند ہو گئے۔ اب وہ بھی بڑی مذہبی طاقت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔ دوسری جانب یہ بڑی طاقتوں کا جلوس بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ انہیں جلد ہی یہ خبر مل گئی کہ چھوٹی طاقتیں بھی لال چوک کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ یہ خبر سنے ہی وہ اس طرح آگ بگولا ہوئے جیسے ایک آٹھ برس کے بچے نے کسی پہلوان کو گالی دے کرللکار دیا ہو۔ ان کا مجمع تیزی سے آگے کی طرف بڑھ نے لگا۔ وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے اور وردی والے کہیں دور دور تک نظر نہیں آ رہے تھے، جیسے آج انہوں نے شہر کو اپنے حال پہ چھوڑ دیا ہو۔ بڑی مذہبی طاقتوں کا جلوس جب لال چوک سے ایک میل کے فاصلے پہ پہنچ گیا تو تمام وردی والے انہیں لال چوک پہ اکھٹا نظر آئے۔ وہ مائک ہاتھوں میں سنبھالے عوام سے چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے۔

” آپ لال چوک تک پہنچ گئے ہیں اس کے آگے مزدوروں کی جماعت کا علاقہ شروع ہوتا ہے، آپ یہاں سے لوٹ جائیں۔”

مگر بڑی مذہبی طاقتیں ٹس سے مس نہ ہوئیں اور مستقل آگے بڑھتی رہیں۔ دوسری جانب چھوٹی مذہبی طاقتوں کا جھنڈ بھی وہاں پہنچ گیا تھا۔ وہ شہر کی دوسری طرف سے آئے تھےاس لیے بڑی مذہبی طاقتیں اور مزدوروں کا جھنڈ ان کے بالکل سامنے تھا جن کے درمیان وردی والے گھڑے تھے۔ انہوں نے چھوٹی مذہبی طاقتوں کی طرف رخ کر کے بھی وہی اعلان کیا۔ مگر ان کے بھی سر پہ جیسے جنون سوار تھا۔ دونوں گروہ نعرے بازیوں کے ساتھ آگے بڑھتے رہے اور مزدور اس طرح کسمسا کر وردی والوں کے پیچھے دبک رہے تھے جیسے دونوں طاقتیں انہیں پیس کے رکھ دیں گے۔ ایسا لگتا تھا جیسے سارا شہر سڑکوں پہ اتر آیا ہے۔

وردی والوں نے حالات کو سنبھالنے کے لیے ایک آخری وارننگ دی کہ اگر اب کوئی آگے آیا تو وہ گولی چلا دیں گے۔ انہوں نے اتنا کہا ہی تھا کہ چھوٹی مذہبی طاقت والوں میں سے کسی نے ان پہ گولی داغ دی۔ وردی والے بلڈ پروف جیکٹ میں تھے، ہاتھوں میں ڈھالیں اور سر وں پہ ہیلمٹ پہنے۔وہ گولی کسی وردی والے کو لگی تو نہیں مگر اس حرکت نے ہر طرف ایک ہلچل مچا دی۔ وردی والوں نے بھی چھوٹی مذہبی طاقتوں پہ فائرنگ شروع کر دی۔ کئی لوگوں کی فلک شگاف چیخیں اٹھیں اور وہ وہیں ڈھیر ہو گئے۔ چاروں طرف بھگدڑ مچ گئی۔ چھوٹی مذہبی طاقت والوں میں جن کے پاس بندوقیں تھیں وہ وردی والوں پہ گولیاں برسا رہے تھے اور بقیہ ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔

بڑی مذہبی طاقت والوں میں سے بہت سے لوگ چیخ چیخ کر اپنے لوگوں کو آگاہ کر رہے تھے کہ چھوٹی مذہبی طاقت والوں کے پاس بندوقیں ہیں۔ وہ اپنے ہتھیار لے کر آگے بڑھ رہے تھے، جب بعض وردی والوں نے انہیں آگے کی طرف بڑھتے دیکھا تو فائرنگ کا رخ ان کی طرف بھی مڑ گیا۔ کچھ لوگ رخمی ہوئے اور کئی سو وردی والوں پہ ٹوٹ پڑے، اس ریلے نے کئی وردی والوں کی بندوقیں چھینیں اور ان پہ گولی چلا دی۔ ان کی آنکھوں سے شعلے برس رہے تھے۔ جب وردی والوں نے یہ ہنگامہ مزید بڑھتے دیکھا تو چاروں جانب سے گیس کے گولے برسانا شروع کر دیے۔ وہ بڑی مذہبی طاقتوں اور چھوٹی مذہبی طاقتوں کے درمیان کھڑے تھے مگر دونوں طاقتیں ا س کوشش میں تھیں کہ کسی طرح وہ ان دونوں کے اور مزدوروں کے منہ پر سے ہٹ جائیں۔ آنسو گیس کے گولے۔ پانی کے ٹینکر اور بندوقیں، مشین گنیں، یہ سب آزمایا گیا۔ جگہ جگہ لوگوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ مگر دونوں جانب مرنے مارنے کا جنون سوار تھا۔ وہ کسی طرح ایک دوسرے میں گتھ جانا چاہتے تھے۔ ایسے جیسے کبھی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نہ رہے ہوں۔ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے عرصے سےبے انتہا نفرت کرتے رہے ہوں۔ جیسے یہ واقعہ ایک بہانہ ہو جس نے ان دونوں کے اندر کی ساری مروت اور برداشت کو بالکل ختم کر دیا ہو۔ وہ ایک دوسرے سے لڑنا چاہتے تھے۔ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹنا چاہتے تھے تاکہ اپنے مذہبی جذبات کو سچا ثابت کر سکیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ہی ایک موقع ہے جب وہ شہر کو دوسری گندگی سے صاف کر سکتے ہیں۔ اس وقت جب وہ دونوں ظاقتیں آمنے سامنے ہیں جب شہر ان کے لیے میدان جنگ بن گیا ہے۔

بڑی مذہبی طاقت اب اپنے مقدس جانور کی موت کے غم میں گرفتار نہ تھی، نہ اس کی عقیدت اور محبت اس کے دل میں باقی رہ گئی تھی۔ اس وقت وہ صرف ایک جذبے سے سرشار تھے اور وہ تھا اپنے مد مقابل سے نفرت کا جذبہ۔ اگر انہیں کسی سے عقیدت ہوتی تو وہ لوگوں کے خون کے پیاسے نہ ہوتے، یہ ہی حال چھوٹی مذہبی طاقتوں کا تھا جو اپنے اصلی رنگ پہ اتر آئے تھے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ وہ ویسے نہیں جیسے ان کے مد مقابل انہیں سمجھتے ہیں وہ ظلم کر کے ظلم کی شناخت کو مٹانے پر کمر بستہ تھے۔ بڑی طاقت والے ان کی جس خونی تاریخ سے نالاں تھے، جس الزام کو وہ یہ کہہ کر ایک عرصے سے ٹال رہے تھے کہ یہ جھوٹی تاریخوں کاپروپگنڈا ہے انہوں نے کبھی اپنے حریفوں پہ ظلم نہیں کیا ان کے گلے نہیں کاٹے۔ اس بات کا یقین دلانے کے لیے آج وہ شہر کے چاروں کونوں سے ایک جگہ جمع ہو کر سب کی گردنیں کاٹ دینا چاہتے تھے۔ ہر وہ شخص جو انہیں ظالم کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا وہ اس کی آنکھیں نوچ کر یہ ثابت کر نا چاہ رہے تھے کہ وہ ظالم نہیں ہیں انہیں ان نظروں سے نہ دیکھا جائے۔

مزدور اور غریب عوام جو نہ اس دل میں شامل تھے اور نہ اس دل میں وہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان ان وردی والوں کے سائے میں زندہ تھے جن کے حکام نے ان کی حفاظت کا ڈھونگ رچانے اور دونوں جماعتوں کی نفرت کو ابھارنے کے لیے مقدس جانور کے ٹکڑے کروا کر سارے شہر میں پھیلوائے تھے۔ یہ ہنگامہ اسی طرح اس وقت تک جاری رہا جب تک ہزاروں کی تعداد میں مزید وردی والے لال چوک پہ نہ پہنچ گئے اور انہوں نے دونوں جماعتوں کے لوگوں کو وہاں سے کھدیڑ کر شہر بھر میں کرفیو نہ لگا دیا۔

(14)

آج پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا کہ وہ کار خانے نہیں گیا تھا۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ اب اس علاقے کے تمام کار خانوں کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ مگر وہ ان باتوں پہ دھیان دیے بنا تین دن سے روز ادھر جا رہا تھا اور روز اسے سارے کار خانے بند نظر آتے تھے۔ وہ اس دوران اکتا گیا تھا۔ دن بھر گھر میں پڑا رہتا۔ نہ کہیں جا سکتا تھا اور نہ کوئی ایسا تھا جسے بلا سکتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ دوو قت کے کھانے کے علاوہ دن میں تین مرتبہ چائے خانے تک کا چکر لگا لیتا۔ وہ گھر میں دیر دیر تک بیٹھا سگر ٹوں کا دھواں اڑاتا رہتا اور کبھی اس لڑکی کے متعلق سوچتا جو حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ نظر آئی تھی اور کبھی ان لڑکیوں کے بارے میں جنہیں وہ ان دنوں گھور گھور کے دیکھا کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ جا کر روز شام کو وہاں کے چکر لگائے۔ مگر شہر ابھی تک معمول پہ نہ آیا تھا۔

جنگی صورت حال کے بعد وردی والوں نے شہر میں سخت ناکہ بندی کر دی تھی۔ کوئی شہر کےایک حصے سے دوسرے حصے میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ شہر کا سارا نظام ٹھپ پڑا تھا۔ ایک ہفتے سے نہ کوئی حکومتی ادارہ کھلا تھا اور نہ کوئی پرائیوٹ کمپنی۔ وردی والوں کے بڑے حکام شہر کے دونوں گروہوں کے سیاسی لیڈوں سے میٹنگیں کر رہے تھے اور شہر کے حالات کو معمول پہ لانے میں کوشاں تھے۔ لال چوک پہ اب تک خون کے دھبے جگہ جگہ چمک رہے تھے۔ مزدوروں کو شہر سے متصل شاہراہ کے کنارے ایک زمین کا ٹکڑا دے دیا گیا تھا، جہاں حکومت نے انہیں جھونپڑے بنانے کا ساز و سامان مہیاکر وا کے انہیں ان کی ذمہ داری پہ چھوڑ دیا تھا کہ وہ خود اپنے معاشی معاملات سنبھالیں۔ سیاسی لیڈروں کے بیانات لگاتار عوام کے غصے کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ جس کے لیے دونوں جماعتوں کے لیڈر کبھی ایک دوسرے سے گلے ملتے اور ایک دوسرے کو پھولوں کی مالا پہناتے ہوئے تصویریں جاری کرتے۔ کبھی ایک دوسرے کو کچھ میٹھا اور نمکین کھلاتے ہوئے۔ شہر والوں کا غصہ بھی اب دھیرے دھیرے کم ہو رہا تھا اور ان کو اپنے نقصان کا احساس ہو چلا تھا جو انہیں فساد کے حاصل کے طور پر مل رہا تھا۔

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (پانچواں حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

شہر کے اس علاقے کو وردی والوں کے آقاوں نے ایک عرصے سے اپنے منصوبوں کی ابتدا کہ لیے چن رکھا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہاں سے شروعات کرنا سب سے آ سان ہوگا۔ اس شہر میں دو بڑی طاقتوں کو ایک دوسرے سے لڑوانے کے لیے انہوں نے جنوبی علاقے میں فساد کا ماحول پیدا کر دیا۔ وہ لوگ جو ٹیلے کی بستی میں رہتے تھے ان کے گھروں کو جلا کر وردی والوں نے ان کے دلوں میں ایسی آگ لگا دی تھی جس کا بجھنا اب ممکن نہ تھا۔ اس ہنگامے کے بعد ٹیلے کی طرف کر فیو لگ گیا۔ مگر بستی سے بھاگے ہوئے لوگ جنوبی علاقے کے مختلف گھروں کے سامنے آ بیٹھے۔ وہاں سیاسی لیڈروں نے یہ افراتفری دیکھی۔ تو ہنگامہ مچانا شروع کر دیا۔ وہ اس بات پر شہر کے انتظامیہ سے ناراض سے تھے کہ انہیں کسی قسم کی اطلاع دیئے بغیر اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا گیا۔ وہ وردی والوں کے خلاف کچھ نہیں کہہ سکتے تھے اس لیے اپنی انتظامیہ کو گالیاں دے رہے تھے۔

شہر کے جنوبی حصے میں جگہ جگہ جلوس نکلنے لگے۔ لوگ اپنے اپنے سیاسی دلوں کی بیٹھک بلاتے۔ ان کے ساتھ میٹنگ کر کے بکھری اور بد حال عوام کو اپنے دل میں شامل کرنے کی کوششیں کرتے۔ نعرے لگاتے اور پر زور تقریریں کرتے۔ کچھ مقررین انتظامیہ سے مانگ کر رہے تھے کہ بے گھروں کو چھت دی جائے اور مصبت زدہ بیمار اور زخمیوں کا مفت علاج کیا جائے۔ ایک مقرر نے اپنی تقریر کے دوران اپنی مد مقابل طاقت کے لیڈوں کو گالی دیتے ہوئے انہیں وردی والوں کا دلال کہا شہر کی جنوبی حالت کا ذمہ دار انہیں بتایا تو ہنگامے نے مزید آگ پکڑ لی۔ اب دوسری طاقت ور پارٹیاں اپنا زور دکھانے کے لیے پہلی کو اس کا ذمہ دار بتا رہی تھیں۔ جس کی معقول وجہ انہوں نے مذہبی بنیاد کو بنایا۔ سب جانتے تھے کہ ٹیلے کے قریب جس مذہب کے ماننے والے آباد تھے شہر کا زیادہ تر حصہ انہیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا۔ اولاً تووہ شہر کی اقلیت تھی اور دوسری وجہ ان کی مذہبی تاریخ تھی جس نے دیگر مذہبی عقائد کے ماننے والوں کے ساتھ کئی سو سال تک ظالمانہ سلوک روا رکھا تھا۔

مقررین کی تقریریں روز صورت حال کو ایک نیا رنگ دیتی تھیں اور بد حال بے گھر مزدور شہر کی سڑکوں پہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ وہ سیاست داں جو عوام کے غم کو سمجھنے کی بات کر تے تھے ان کے گھروں میں ایک کمرہ بھی ان بے گھروں کے لیے نہ نکلا تھا۔ انتظامیہ سے کچھ لوگ آئے تھے جنہوں نے صورت حال کا جائزہ لے کر جلد ہی سب کچھ ٹھیک ہو جانے کا یقین دلایا تھا۔ بے گھر عوام انہیں امید کی نگاہ سے دیکھتی، مگر وہ دن پہ دن بڑھائے جاتے۔ وردی والوں نے ایک ماہ کے بعد وہ علاقہ خالی کر دیا مگر ایک بورڈ وہاں چسپاں ہو چکا تھا۔ جس میں یہ اپیل کی گئی تھی کہ یہاں سے لنک روڈ سے الفسٹن روڈ تک جانے کی سیدھی شاہراہ بنے گی۔یہ رہائشی علاقہ نہیں ہے، اگر یہاں کسی نے رہائشی مکانات بنائے تو انتظامیہ اس کے خلاف سخت قدم اٹھائے گا۔ مزدور عوام نے اپنے جتنے ساتھیوں کو اس ہنگامے میں کھویا تھا اس کے بعد یوں بھی ان کی ہمت نہ تھی کہ ٹیلے کی طرف دوبارہ مڑ کر دیکھتے۔

ان میں سے زیادہ تر لوگ جنوبی علاقوں کے کار خانے میں مزدور تھے جہاں وہ بھ کام کیا کرتا تھا۔ اسے ٹیلے کے حشر پہ افسوس ہوا تھا، مگر اس سے زیادہ افسوس اس بات پہ تھا کہ مزدور بے گھر ہیں اور حکومت ان کے لیے گھروں کا انتظام نہیں کر رہی ہے۔ اس نے سوچا کہ ٹیلے پہ جو شاہراہ بنے گی کیا وہ ان ہزاروں لوگوں کی زندگی سے زیادہ قیمتی ہے۔ یہ لوگ جو دن بھر مزدوری کرتے ہیں اور شام کو کار خانوں سے نکل کر شہر کی فٹ پاتھوں پہ بکھر جاتے ہیں۔ ان دنوں کئی سیاسی مقررین کی تقریروں نے اس کی ڈھارس بندھوائی تھی۔ مگر آخر آخر وہی ڈھاک کے تین پات۔ نہ انہیں کوئی گھر ملتا اور نہ انتظامیہ کی طرف سے کچھ امداد آتی۔ مزدوروں نے اپنا جو یونین قائم کیا تھا اس کی میٹنگیں روز شام کو لال چوک کے پرانے کنویں والی عمارت میں ہوا کرتی۔ جہاں کار خانے کے تمام مزدور بھی جمع ہوتے تھے۔ وہ بھی گزشتہ تین روز سے ان میٹنگوں میں حصہ لے رہا تھا۔ یہاں نوجوان مزدور لیڈروں کی باتیں سن کر اور ان کا دکھ جان کر اس کا دل بھر آتا۔ وہ سوچتا کہ وہ جتنے لوگوں کو اپنے گھر لے جا سکتا ہے لے جائے۔ مگر پھر اسے اپنے گھر کی تنگی یاد آتی تو اس خیال پہ عمل نہ کر پاتا۔ آج اس میٹنگ میں اس کا چوتھا دن تھا۔ وہ نوجوان لیڈر جو کل تقریر کر رہا تھا آج خاموش ایک کونے میں کھڑا تھا اور اس کی جگہ ایک ادھیڑ عمر شخص مزدوروں سے مخاطب تھا۔

“یہ ہمارا غم نہیں سمجھ سکتے، اگر کبھی ان کا اپنا کوئی جلا یا مرا ہوتا۔ ان کا اپنا گھر توڑا یا ڈھایا گیا ہوتا تب یہ جانتے کہ ہم پہ کیا گزر رہی ہے۔ ہم نے انتظامیہ سے کھانے پینے کو نہیں مانگا۔ ان کے آگے ہاتھ پھیلا کے روپیہ یا دولت نہیں مانگی۔ ہم ایک جگہ اپنا سر چھپانے کے لیے زمین کا مختصر ٹکڑا مانگ رہے ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ شہر میں زمین کی کمی ہے۔ جن زمینوں پہ ان انتظامہ کے دلالوں کی کوٹھیاں بنی ہوئی ہیں، ان کے لیے زمین کی کمی نہیں۔ ان کے رہنے، سونے، کھانے اور لوگوں سے ملنے، کھیلنے کودنے اور نہانے دھونے کے الگ الگ کمرے ہیں۔ ان کی حویلیوں میں جانوروں کے لیے اتنی زمین محفوظ کی جاتی ہے جس میں ہم جیسے لوگوں کے دس گھر بن جائیں گے۔ پھر ان وردی والوں کے رہنے کے لیے حکومت نے جو عالی شان کمرے تعمیر کیے ہیں، کیا یہ ہمارے اپنے ہیں۔

میں اس شہر میں پچپن برس سے رہ رہا ہوں اور اب سوچتا ہوں کہ بڑھاپے میں ایک فٹ پاتھ پہ لیٹ کر مروں گا۔ مجھے اس کا غم نہیں، مگر ہمارے بچے اور نوجوان لڑکے جنہوں نے ابھی اپنی زندگی کی شروعات کی ہے کیا وہ اسی طرح سڑکوں پہ زندگی گزاریں گے۔ ہم انتظامیہ سے روز ملنے کی کوشش کر تے ہیں، مگر انتظامیہ کے ذمہ دار ہمیں وقت نہیں دیتے۔ ہم پہ کیے جانے والے ظلم کو وہ انصاف سمجھتے ہیں کہ شہر سے نشے کی کالا بازاری ختم ہو گئی۔ کیا انتظامیہ اس بات کے لیے ذمہ دار نہیں کہ ہمیں پڑھنے اور بڑھنے کے مواقع نہیں ملتے۔ ہمارے بچوں کو ترقی کرنے کا راستہ ہی نظر نہیں آتا۔ہم نشے میں دھت ہیں تو وہ بھی نشے میں دھت ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ہم اپنے غموں کو بھلانے کے لیے نشہ کرتے ہیں اور یہ اپنی خوشیاں منانے کے لیے۔ بھائیوں! یہ ایک بڑا ظلم میں ہمارے ساتھ اور ہم جب تک اس کا احساس انتظامیہ کو نہیں دلاتے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ہمارے کچھ نوجوان شہر کی ایک بڑی مذہبی طاقت کے خلاف غصے سے بھرے بیٹھے ہیں۔ میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جوش میں کوئی غلط قدم نہ اٹھائیں۔ ہم جانتے ہیں کہ نوجوانوں کا غصہ ٹھیک ہے، مگر سوجھ بوجھ سے کام لے کر ہم ایک ہو کر اس انتظامیہ کے فیصلے کے خلاف لڑیں گے۔ جو سیاسی لیڈر ہماری طرف داریاں کرتے ہیں ہم نے ان کے حوصلے دیکھ لیے ہیں۔ اس سے کچھ نہیں ہوگا۔وہ ہمیں مذہبی بنیادوں پہ بانٹتے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو بھڑکاتے ہیں کہ وہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں جس سے ہم اور ذلیل ہو ں اور انہیں چمکنے کا موقع ملے۔ ہم شہر کی سڑکوں پہ زندگی گزار لیں گے، مگر اس شہر کو جس نے ہمیں اتنے برسوں تک اپنے دامن میں محبت سے رکھا کبھی جلائیں گے نہیں۔ یہ کام وردی والوں اور ان کے ملک کے حکمرانوں کا ہے، ہمارا نہیں۔ مجھے امید ہے آپ سب میرا ساتھ دیں گے۔ کل ہم پھر کار خانوں سے آدھے دن میں لوٹ کر انتظامیہ کی عمارت تک جائیں گے۔ ان کے ذمہ داروں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کریں گے کہ ہماری مجبوریوں اور پریشانیوں کو سمجھیں۔”

ادھیڑ عمر شخص کی تقریرجاری رہی اس نے سوچا کہ یہ کس مٹی کہ بنے لوگ ہیں کہ اس حالت میں بھی امن کی بات کر رہے ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ اگر یہ دس برس بھی اسی طرح حکومت سے اپیل کرتے رہے تو بھی کچھ نہ ہوگا اور شائد اس کی عمر کے تمام لوگوں کا یہ ہی خیال تھا۔ مگر اس ادھیڑ عمر شخص کی باتوں سے اس کی عمر کے تمام لوگ متفق معلوم ہوتے تھے، کیوں کہ انہیں علم تھا کہ وہ اس وقت کتنے دبے کچلے حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر انہوں نے کوئی غلط قدم اٹھا یا تو ممکن ہے کہ انہیں شہر کی سرحد سے ہی باہر پھنکوا دیا جائے۔ جو کام وردی والوں کے لیے نہایت آسان تھا۔

(10)

رات کے تین بج رہے تھے۔ایک گاڑی شہر کے مختلف علاقوں میں سفر کرتی ہوئی انتظامیہ کی سرکاری عمارت کے پاس رکی۔ اس میں سے دو لوگ باہر آئے اورایک جانور کی لاش عمارت کی سیڑھیو ں پہ پھینک کر دوبارہ گاڑی میں سوار ہو گئے۔ گاڑی تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے شہر کی اس شاہراہ پہ آ گئی جہاں سے گاڑیاں شہر کے باہر جاتی تھیں۔ گاڑی کے اندر تین لوگ سوار تھے۔ اپنی اپنی جگہ پہ خاموشی سے بیٹھے ہوئے تینوں سوار باری باری اس طرح ایک دوسرے کو دیکھتے جیسے انہوں نے کسی سے بدلا لے کر اطمینان کا سانس لیا ہو۔ایک جگہ سڑک کے کنارے گاڑی رکی اوردو لوگ اس میں سے اتر گئے، ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا ہوا شخص گاڑی لے کر آگے نکل گیا۔

(11)

پچھلی رات وہ دیر تک جاگتا رہا تھا، مزدوروں کی پریشانیوں کو نزدیک سے جاننے کے بعد اسے یوں بھی دیر رات تک نیند نہ آتی تھی۔ اس نے سوچا کہ آج کار خانے نہ جائے، مگر دن بھر گھر میں پڑے پڑے اکتا جانے کے خیال سے اس نے یہ ارادہ ملتوی کر دیا۔ وہ کارخانے جانے کے لیے تیار ہو کر نیچے اترا تو اسے جگہ جگہ لڑکوں کے گروہ جمع نظر آئے۔وہ کسی بات پہ چہ مگویاں کر رہے تھے۔ اس نے ان کی باتوں پہ کان دھرے بنا چائے خانے کا رخ کیا۔ جہاں آج معمول سے زیادہ لوگ تھے۔ چائے خانے میں مزدور طبقے کے وہ دو چار نوجوان بھی بیٹھے ہوئے تھے جنہیں اس نے اکثر میٹنگوں میں دیکھا تھا۔ وہ خاموشی سےان کی طرف بڑھ گیا۔ ان میں سے ایک لڑکا دوسرے سے کہہ رہا تھا:

“یہ ہم کو کرنا ہوتا تو بہت پہلے کر چکے ہوتے۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہم میں سے کسی کا بھی کام ہے۔”اس نے جملہ مکمل کر کے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا۔

“تو ہمارے پاس کو ن سی دولت دھری ہے جو اتنے جانور خرید کے انہیں قربان کرتے پھریں۔”
تیسرا بولا”اور خریدیں گے کہاں سے۔ کیا کہیں بک رہے ہیں۔”
اسے لگا جیسے کوئی حادثہ ہوا ہے۔

“کیا یہ جانور ہمارے لیے مقدس نہیں۔بستی میں ہر طرح کے لوگ رہتے تھے۔یہ بات لیڈر بھی جانتے ہیں۔ وہ تو خود دن رات کہتے رہتے ہیں کہ کوئی غلط قدم نہ اٹھایا جائے۔”

“یہ ساری باتیں ایک طرف، مگر اس کا یقین عوام اور حکومت کیوں کرے گی۔ وہ تو یوں بھی ہمیں شہر سے نکال کر باہر پھینک دینا چاہتے ہیں۔”

“ہو نہ ہو یہ کام وردی والوں کا ہی ہے۔”

وہ اپنا ناشتا اور چائے ختم کر چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ اگر شہر پہ کوئی نئی مصیبت آئی تو ان غریبوں کی کمر پھر توڑی جائے گی۔اس نے انہیں باتیں کرتا چھوڑ کار خانے کی راہ لی۔ وہ کار خانے کی گلی میں پہنچا تو اسے سارے مزدور اپنے اپنے کار خانوں سے باہر کھڑے نظر آئے۔ لوگ مجمع لگائے اسی واقعے کا تذکرہ کر رہے تھے۔ وہ بھیڑ میں سے جگہ بناتا ہوا اپنے کار خانے تک پہنچا تو اس کے تمام ساتھی بھی باہر کھڑے دکھائی دیے۔اس نے سوچا ان میں سے تو کوئی بھی ٹیلے والی بستی کا نہیں ہے پھر یہ کیوں باہر ہیں۔ تھوڑی دیر میں ان کا مالک بھی آ گیا۔ وہ دو لڑکوں سے کہہ رہا تھا کہ کار خانے کو تالا لگا دو اور پھر اس نے سارے لڑکوں سے مخاطب ہو کر کہا:”دو روز تک کار خانہ بند رہے گا۔ یہاں کے حالات ٹھیک نہیں کسی بھی وقت وردی والے آ سکتے ہیں۔ بہتر یہ ہی ہے کہ تمام لوگ اپنے اپنے گھر لوٹ جائیں۔” یہ کہہ کر اس نے ایک لڑکے سے تالے کی چابی لی اور وہاں سے رخصت ہو گیا۔

مزدور اب زور زور سے نعرے لگا نے لگے تھے۔ وہ چیخ چیخ کرکہہ رہے تھی کہ اپنے خلاف انتظامیہ کی یہ سازش ہم برداشت نہیں کریں گے۔آج ہم پھر سب مل کر انتظامیہ کی عمارت کی طرف جائیں گے اور وہاں بھوکے، پیاسے بیٹھ کر انہیں اپنی پریشانی کا احساس دلائیں گے۔ اس نے سو چا کہ وہ یہاں رک کر کیا کرے گا۔وہ دن بھر گھر میں بھی پڑا رہنا نہیں چاہتا تھا اس لیے شہر کے وسطی علاقے کی طرف نکل جائے جہاں دریا کے قریب شہر کی انتظامیہ عمارتوں کے پاس اسے صحیح حالات کا علم بھی ہو جا ئے گا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اب تک شہر میں وردی والوں نے اپنے دستوں کو اتنا پھیلا دیا تھا کہ جگہ جگہ روک کر لوگوں کی تلاشی لی جارہی تھی۔ انہیں گھروں میں بند رہنے کی اپیل کی جا رہی تھی اور شہر کے وسطی علاقے میں کرفیو لگ گیا تھا۔ وردی والے مقدس جانوروں کی لاشوں کو ہٹوا چکے تھے، مگر اس کی خبر شہر میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ مقدس جانور کی موت کا غم شہر کے طاقتور گروہ کی برداشت سے باہر تھا۔ انہیں اس بات سے قطعی لینا دینا نہ تھا کہ یہ کسی کی سازش ہے یا بے گھر مزدور کی حرکت۔ وہ تو اس کا ذمہ دار اپنے مذہبی حریفوں کو سمجھتے تھے۔ اس گروہ میں انتظامیہ کے بڑے افسران بھی شامل تھے۔ جن کی پہنچ وردی والوں کے آقاوں تک تھی۔ انہوں نے شہر میں ایک زور دار جلوس نکالنے کا ارادہ کر لیا تھا۔ وہ اپنی مقدس ماں کی موت کا تماشا نہیں دیکھ سکتے تھے۔

اس نے جوں ہی کار خانے کے علاقے سے شاہراہ کی جانب جانے والی سواری کی اسی وقت وردی والوں کا ایک دستہ اسے کار خانے کی گلیوں کی طرف بڑھتا ہوا نظر آیا۔ جلد ہی اس دستے نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ وردی والے مائک پر لوگوں کے لیے حکم جاری کر رہے تھے کہ وہ اپنے گھروں کی طرف لوٹ جائیں۔ دو وردی والے جوا س کے قریب تھے انہوں نے اسے روک کر اس کی تلاشی لی اور ڈانٹ کر اسےگھر لوٹنے کا حکم دیا۔ وہ مزدور جن کا کوئی گھر نہ تھا وردی والے انہیں لال چوک پر جمع ہونے کا حکم دے رہے تھے۔ لال چوک کے قریب انتظامیہ نے ایک نیلی پلاسٹک کی چارد جس پر ہزاروں لوگ بیٹھ سکتے تھے بچھوا دی تھی۔ شہر کے حالات بگڑنے سے پہلے بے گھر مزدوروں کو ایک جگہ اکھٹا کیا جا رہا تھا، تاکہ وہ بڑی مذہبی طاقت کے غصے کا شکار نہ ہو جائیں۔ مزدوروں کو لال چوک کی طرف لے جانے لے لیے پورے جنوبی علاقے میں وردی والوں کو تعینات کر دیا گیا تھا۔اس مرتبہ وردی والوں کو یہ تاکید کی گئی تھی کہ کسی مزدور پہ ہاتھ نہ اٹھا ئیں۔ لاٹھی کے استعمال کے بنا انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ یہ قدم ان کی بھلائی کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔

مزدوروں کے گروہ کو وردی والوں نے جب لال چوک کا رخ کرنے حکم سنایا تو کئی نوجوانوں نے اس کی مخالفت کی۔ ان کی خواہش تھی کہ انتظامیہ کی عمارتوں کے درمیان وہ بھوکے پیاسے مظاہرہ کریں خواہ اس میں ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ مگر گروہ کے بعض بزرگ لیڈروں نے ان کی یہ تجویز مانتے ہوئے نوجوانوں کو ان کی بیویوں اور بچوں کی زندگیوں کے خطرے میں ہونے کا احساس دلایا۔ انہیں معلوم تھا کہ جس مقدس جانور کو کاٹ کر شہر کی مختلف عمارتوں کے باہر پھنکا گیا ہے اس سے شہر کی بڑی مذہبی طاقتیں کس درجہ ناراض ہیں۔ ایسے میں وہ مزدور جو خود کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے، بلاوجہ شہر کی بڑی طاقت سے ٹکرانا غیر ضروری تصور کر رہے تھے۔ یوں بھی انہیں اگر شہر سے نکال بھی دیا جاتا تب بھی وہ حالت ان کی موت سے بہتر ہوتی۔ انہوں نے سوچا کہ اگر انتظامیہ اور شہر کی بڑی مذہبی طاقتوں کو وہ یہ یقین دلانے میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں کہ اس حرکت میں ان کا ہاتھ نہیں ہے تو فی الحال انہیں وردی والوں کی حفاظت میں ہی رہنا چاہیے۔

Categories
نان فکشن

پنڈت ہری چند اخترؔ: “کفر و ایمان” کا شاعر: جدید و قدیم کے درمیان (تالیف حیدر)

“کسی شاعر کی تعین قدر اور اس کے متن کی تحلیل سےبہت پہلے جو بنیادی سوال قائم ہوتا ہے وہ شعر کی ماہئیت اور اس کے وجودیاتی مباحث سے متعلق ہوتا ہے۔جب تک ہم شعر کے مسئلے کو حل نہ کریں کسی شاعر کی قدر کا تعین ہر گز نہیں کر سکتے۔ شعر یقیناً ایک فلسفہ ہے جس کی لا تعداد شقیں ہیں۔ جن میں سے ہر شق کی ایک طویل بحث ہے کہ کس طرح وہ شعر کی وجود کا حصہ بنتی ہے؟ کس طرح شعر کے اجزا کا نقش مرتب کرتی ہے اورکس طرح شعر کے باطن میں اپنا اثبات حاصل کرتی ہے۔ اس فلسفیانہ نظام سے شعر کی تشکیل ہوتی ہے جس کے بعد ظاہراً شعر کےاَبعاد وجود میں آتے ہیں۔اس ظاہری نظم میں جو شئے سب سے نمایاں ہے وہ شعر کااسلوبیاتی تناظر ہے۔”
(اپنے ایک پرانے مضمون سے مقبس)

کسی اچھی تخلیق کا کوئی عہد نہیں ہوتا، نہ تووہ صرف اس عہد کی ہوتی ہے جس عہد میں تخلیق کی گئی ہو، نہ اس سے قبل کی اور نہ بعد کی۔ اچھی تخلیق زمانی اور مکانی قید سے آزاد ہوتی ہے۔ تخلیقیت کے اس معیار کی وجہ سے ہم ہر عہد میں ہر عہد کے شاعر کے کلام کا مطالعہ کرتے ہیں، اس سے محظوظ ہوتے ہیں اور اس میں موجود زندگی کے حقائق کا اپنے اطراف پر اطلاق کرتے ہیں۔کسی نوع کی تحدید یا حد بندی تخلیق کے لیے رکاوٹ کا کام کرتی ہے، اس سے معنی میں توسع پیدا نہیں ہو پاتا۔ الفاظ کی سطح پہ خواہ کوئی تخلیق کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہو جائے، معنی کی سطح پہ اس کا جد ید ہونا ہی اس کی اصل شناخت ہے۔

ادبی لحاظ سے غور کیا جائے تو یہ امر ہمیں نثر اور نظم دونوں جانب دکھائی دیتا ہے، لیکن شاعری میں اس کی جلوہ سامانیوں کا ظہور زیادہ نظر آتا ہے۔ شعر کا حسن اس کی قدامت میں پوشیدہ جدت میں ہوتا ہے، اس بات کی اگرہم اپنی شاعری سے مثال پیش کریں تو میرؔ صاحب کا نام سب سے پہلے لبوں پر آئے گا۔ میر ؔصاحب کو گذرے آج تقریباً دو سو برس سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، لیکن ان کا بیش تر کلام ایسا ہے جس میں نئے خیالات، جنہیں ہم آج ان کے دو سو برس بعد بھی نیا کہنے پر مجبور ہیں کثرت سے موجود ہیں۔ یا پھرخواجہ میر دردؔ،سراج ؔاورنگ آبادی، ولیؔ دکنی، قلیؔ قطب شاہ، امیر خسروؔ،مولانا رومؔ اور امرالقیسؔ وغیرہ۔ان تمام لوگوں نے ایسی ہی شاعری کے نمونے وضع کیے ہیں، جنہیں ہم جدید کہہ سکتے ہیں یا کہہ رہے ہیں۔ مثلاً امیر خسرو ؔکا ایک مشہورشعر ہے:

درمیان قعر دریا تختہ بندم کردہ ای
باز می گوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش

اس کا استعمال عالموں کی تقریر میں اور ادیبوں کی تحریر میں کثرت سے ہوتا ہے اور ایک نہایت دلچسپ نکتے کی ترسیل کے لیے اکبرؔ الہ آبادی نے اپنی مزاحیہ نظم “مس سمیں بدن” میں بھی اس کا معقول استعمال کیا ہے۔یہ شہادتیں بتاتیں ہیں کہ اس شعر کا کوئی عہد نہیں، ہر وہ عہد جس عہد میں اس کا استعمال ہو یہ شعر اسی عہد کا ہے،لہذایہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس شعر کو تخلیق کرنے والا ذہن بھی ہر عہد میں جدید ذہن کہلائے گا۔ بالکل یہی نوعیت پنڈت ہری چند اختر ؔکے ساتھ ہے کہ ان کے بہت سے اشعار ایسے ہیں جو عالموں کی مجلسوں اور ادیبوں کی محفلوں میں ہمیں اکثر سنائی دیتے ہیں۔ مثلاً

شباب آیا کسی بت پر فدا ہونے کا وقت آیا
مری دنیا میں بندے کے خدا ہونے کا وقت آیا
یا
ملے گی شیخ کو جنت ہمیں دوزخ عطا ہوگی
بس اتنی بات ہے جس بات پر محشر بپا ہوگی

لہذا ہم انہیں جزوی طور پر ہر عہد میں جدید شاعر کہہ سکتے ہیں۔ ان کا جدید ہونا ان کے شعری ہنر سے ثابت ہوتا ہے، ہر اس مقام پر جہاں ان کی شاعری زمانی اور مکانی قید سے آزاد نظر آئے گی ان کی قدر کا تعین جدید شاعرانہ اصول و ضوابط سے ہوگا اور جہاں وہ زمانی و مکانی قید کی گرفت میں نظر آئیں گے اسے ہم از کار رفتہ کے ذیل میں شامل کریں گے۔

پنڈت جی کی شاعری کی یہ خاص بات ہے کہ وہ کسی بھی نکتے کو شاعرانہ لطافت کے ساتھ بیان کرتے ہیں، ان کی شاعری میں مختلف نوعیتوں کے المیوں کی مقدار بہت زیادہ ہے، “کفر و ایمان” جو میرے علم کی حد تک ان کا واحد شعری مجموعہ ہے اس کے ہر صفحے پر جتنے اشعار ہیں ان سب میں الگ الگ جذبے اور احساس کی ترجمانی کی گئی ہے۔ مگر ہر شعر میں قدر مشترک ان کی شاعرانہ اظہار کی شگفتگی ہے۔ وہ باتوں کو ژولیدہ بنا کر پیش کرنے کے بجائے عام الفاظ میں سادہ لہجے میں بیان کرنا پسند کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں بظاہر جو طربیہ نظر آتا ہے وہ ان کے مزاج کا حصہ ہے۔ ان کی غزلیں ان کے مزاج اور ان کے المیہ حیات کی صداقتوں کا مرکب نظر آتی ہیں۔ مثلاً ان کا ایک مشہور شعر ہے:

خدا توخیر مسلماں تھا اس سے کیا شکوہ
مرے لیے مرے پرماتما سے کچھ نہ ہوا

یہ شعر ظاہراً ان کی بذلہ سنجی کا ثبوت معلوم ہوتا ہے، مگر اس متن کے بین السطور میں ایک نوع کا المیہ کار فرما نظر آتا ہے، جس سے زندگی کی سفاکی مترشح ہورہی ہے۔یہ معاملہ صرف ان کےایک، دو اشعار کے ساتھ نہیں ہے بلکہ کفرو ایمان میں جتنا کلام موجود ہے اسمیں سے زیادہ تر اشعار اسی نوعیت کے ہیں۔

پنڈت جی کی شاعری کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ایک اور امر کا احساس شدت سے ہوتا ہے کہ وہ اردو شاعری کے ایسے عہدمیں شعر کہہ رہے ہیں جہاں اردو زبان و ادب کے دو مختلف المزاج ادوار کا اختلاط ہو رہا ہے۔ مثلاًانہوں نے ترقی پسند شعرا کا عہد پایا تھا، جہاں زندگی کی جدید قدروں کو وضع کرنے کا عمل شاعری کی سطح پر مختلف انداز میں کیا جا رہا تھا۔ انسان کو اس کےحقوق کا ادراک کراتے ہوئے ادیبوں نے عوام میں انقلابی جذبے کی روح پھونکنے کا علم اپنے ہاتھوں میں تھاما ہوا تھا۔ ایسے عہد میں اگرکسی شخص کی شاعری کلاسکی رنگ و آہنگ کے قریب نظر آ تی ہے تو اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اختر ؔنے خواہ اپنے عہد کے چند واقعات سے متاثر ہو کر کچھ اشعار کہے ہوں، مگر ان کا غالب رجحان ایک ایسا اسلوب وضع کرتا ہے جس میں ہمیں اردو شاعری کا روایتی مگر تازہ کار آہنگ نظر آتا ہے۔ ان کے اشعار میں جذبات کو زندگی کے خارجی عناصر کے بالمقابل زیادہ اہمیت دی گئی ہے مثلاً

تکلم کی خموشی کہہ رہی ہے حرف مطلب سے
کہ اشک آمیز نظروں سے ادا ہونے کا وقت آیا
یا
میں اپنے دل کا مالک ہوں مرا دل ایک بستی ہے
کبھی آباد کرتا ہوں کبھی برباد کرتا ہوں

ان کے مزاج کی شوخی اور آزاد خیالی ان کے اشعار میں جا بہ جا نظر آتی ہے۔ وہ کسی امر کے پابند ہو کر رہنا پسند نہیں کرتے اور اسی مزاج نے ان کی شاعری کو ہنر کی سطح پر جلا بخشی ہے۔ وہ روایتی الفاظ کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں، نیا لفظ وضع کرنا یا اپنی ایک نمایاں لغت تراشنا ان کا خاصہ معلوم نہیں ہوتا، بعض جگہ تو اپنی فکر کا اظہار کرنے میں اتنی سادگی اور روایتی انداز کو اپناتے ہیں کہ شعر برا معلوم ہونے لگتا ہے۔ ان کے لہجے میں اقبال جیسی روانی نظر نہیں آتی۔ ا س کے باوجود کہ انہیں ایک عرصے تک اقبال کا قرب حاصل رہا، حفیظ جالندھری کی شاعری کا عکس کہیں کہیں نظر آتا ہے، مگر ادبی جلالت اورجذباتی دقت آفرینی میں وہ اپنے استاد سے کہیں زیادہ آگے نظر آتے ہیں۔ اختر کی شاعری کا مطالعہ کرو تو احساس ہوتا ہے کہ ان کا مطمع نظر خود انہی کی ذات ہے۔ وہ کسی باطنی شئے کی تلاش میں سرگرداں نظر نہیں آتے۔ یہ ہی وجہ ہے ان کے کلام میں لفظ “میں ” کا استعمال بہت زیادہ ہوا ہے۔مثلاً

وہ کہتے ہیں تم مجھ سے کیا چاہتے ہو
یہی کچھ تو میں جاننا چاہتا ہوں
ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں ملاقاتوں کے بعد اکثر
وہ مجھ کو بھول جاتے ہیں میں ان کو بھول جاتا ہوں
یا
بتوں کے عشق میں کھویا گیا ہوں ورنہ اے اختر
خدا شاہد ہے میں اکثر خدا کو یاد کرتا ہوں

اپنے عرفان اور اپنے اطراف کے عرفان میں غلطاں رہنا یہ ایک خلاق ذہن کی علامت ہے۔ اختر کےمزاج میں بظاہر ہمیں کیسی ہی بے تکلفی اور شوخی نظر آئے، ان کا ہنر اس بات کی شہادت پیش کرتا ہے کہ وہ ایک قسم کے مزاجی تضاد کا پیکر تھے۔ وہ ایک سوچتاہوا ذہن تھا جس کے لیے کائنات کا ادراک ان کی اپنی ذات کے ادراک میں پوشیدہ تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انہیں ظاہری رسوم و قیود اسفل معلوم ہوتی تھی، جس کا اظہار انہوں نے اپنی شاعری میں کیا ہے۔ان کے یہ تین شعر دیکھیے:

شیخ و پنڈت دھر م اور اسلام کی باتیں کریں
کچھ خدا کے قہر کچھ انعام کی باتیں کریں
یہ سنائیں پاک نغمے اولیں الہام کے
وہ خدا کے آخری پیغام کی باتیں کریں
ہم کھڑے سنتے رہیں اور دل میں یہ کہتے رہیں
اب یہ رخصت ہوں تو ہم کچھ کام کی باتیں کریں

پنڈت جی کی شاعر ی میں مشاہدات کی اہمیت کا معائنہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ وہ تجربات اس کثرت سے بیان کرتے ہیں غالباً یہ ہی ان کی شاعری کا اصل ماخذ ہے۔ ان کا تجربہ انہیں دوسروں سے مختلف دنیا دکھاتا ہے۔ وہ عمومی رائے کو اپنی رائے میں شامل نہیں ہونے دیتے، یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہیں بعض معاملات میں ایک خاص قسم کے روایتی بیانیے سے اتنی چڑ ہے کہ اس سے اختلاف کرنا وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ یہ بھی ان کی شاعری کی شناخت کا ایک جز ہے کہ اختلاف کو وہ بہت اہمیت دیتے ہیں، واعظ اور ملا سے اختلاف تو خیر اردو شاعری کی روایت کا حصہ رہا ہے،مگر انہوں نے بہت سے مقامات پر خود سے اختلا ف کیا ہے۔ مثلاً ان کا یک شعر ہے ؛

بڑا ارمان تھا دیکھیں کبھی غالب کا کلکتہ
خدا کا شکر ہے دامن چھڑا کر لوٹ آئے ہیں

ان کے یہاں معمولی لطیفہ گوئی اور لطیفہ بیانی کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے، وہ زندگی کے پیچیدہ مسائل میں لطیفے تلاش کر لینے میں مہارت رکھتے ہیں،یہ ہی وجہ ہے کہ وہ بعض مسائل کے حقائق کی سنجیدگی کو بر قرار رکھ پانے میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔اسے ان کے بیانیے کی کمزوری بھی کہا جا سکتا ہے۔

اختر کی چار نظمیں بھی ان کے مجموعہ کلام کفر و ایمان میں شامل ہیں جن کے عنوان اوج رسالت، فریب آزادی، گوکل کی ایک شام اور سلام شوق ہیں۔ حالاں کہ صرف چار نظموں سے ان کی نظمیہ شاعری پہ کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی، اس کے باوجود اگر ہم ان چاروں نظموں کو بغور پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کا غزلیہ انداز بیان ان کی نظموں میں بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ یہاں بھی وہ باتوں کو شاعرانہ ابہام کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ بیانیے کا حسن زائل نہ ہو۔ نظمیہ شاعری میں جس نوع کا تسلسل پایا جاتا ہے اس کی موجودگی کے باوجود غزل کا بکھرا و اپنی شاخت قائم رکھتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا شاعرانہ طرزیکساں ہے۔ الفاظ کی نشست و برخاست بھی اسی نوع کی ہے۔ تشبیہات اور استعارات کی بھرمار کہیں نظر نہیں آتی۔ سادہ تلمیحاتی اشعار ہیں جن سے معنی میں کچھ خاص گیرائی پیدا نہیں ہوتی۔ اپنی دوسری نظم فریب آزادی میں اس تصور کواپنے عہد کے شعرا کے بالمقابل انہوں نے مختلف انداز نظر سے دیکھنے کی کوشش کی ہے اور ان کی شاعری کا اضافی عنصر بھی تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ جس عہد میں آزادی سے متعلق حق اور جستجو کے نعرئے لگائے جا رہے تھے اس عہد میں وہ تصور آزادی کو ایک بیماری کہتے نظر آرہے ہیں۔ یہ ان کا عمومی رائے اظہار سے اختلاف کا جذبہ ہی تھا جو انہیں اس ضمن میں سب سے الگ لا کھڑا کرتا ہے۔ لیکن گوکل کی شام میں ان پر اپنے معاصرین کا رنگ غالب نظر آتا ہے جن میں اقبال کا نام سب سے نمایاں ہے۔ سلام شوق اس مجموعے کی آخری نظم ہے جو افغانستان جانے والے ہندوستانی وفد کے نام لکھی گئی ہے۔ اس نظم میں کل چودہ اشعار شامل ہیں، جس میں افغانیوں کی شرافت اور خداری کاقصیدہ پڑھا گیا ہے۔ نظم کا بیانیہ مربوط اور مسلسل ہے اور یہ واحد نظم ہے جو ان کی نظمیہ شاعری کی دلیل کے طور پر پیش کی جا سکتی ہے۔

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (چوتھا حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

آج سرخ قمیض اور نیلی جینز والی لڑکی نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور اس کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں خوف اتر آیا۔اس لڑکی کے چہرے پر غصے کی لہر صاف دیکھی جا سکتی تھی۔ اس کی ساتھی نے جب لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر آہستہ سے کان میں کہا۔ ” رہنے دو۔” تو لڑکی نے اپنی ساتھی کا ہاتھ جھٹک دیا۔

” کیوں رہنے دوں۔ انہیں بھی تو معلوم ہو کہ ہم پندرہ دنوں سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔ آخر کسی بات کی کوئی حد بھی ہوتی ہے۔”

اس کی ساتھی ذرا سہمی ہوئی تھی۔ مگر لڑکی کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اسے کسی کا خوف نہیں ہے۔ اس نے لڑکے کی طرف غور سے دیکھا۔ وہ ایک صاف ستھراسفید رنگ کا شارٹ کرتا اور کالی پتلون پہنے ہوا تھا۔ اس کے بال گھنگریالے تھے اور رنگت سانولے پن سے ذرا زیادہ سیاہی مائل۔ لڑکے کے حلیے سے لگ رہا تھا جیسے وہ ابھی شاور لے کر آیا ہے۔

“کیوں بھئی آپ ہمارا پیچھا کیوں کر رہے ہیں۔ میں پچھلے پندہ روز سے دیکھ رہی ہوں کہ آپ روز ہمارے پیچھے پیچھے نئی سٹرک کے چوراہے تک آتے ہیں۔”
اس نے محسوس کیا کے لڑکی کی آنکھوں اور لہجے میں غصہ ضرور ہے، مگر اس کے بولنے کا انداز بہت شگفتہ ہے۔ وہ جب پلٹی تھی تو اسے لگا تھا کہ آج تو شامت آ گئی۔ مگر اب جب کہ لڑکی اس سے اس کی حرکت کی شکایت کر رہی ہے تو اس کا خوف کچھ کم ہونے لگا تھا۔

“ہو سکتا ہے یہ ہمارا وہم ہو۔”

لڑکی کی ساتھی نے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے اس کو چلنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

“وہم! تمہارا داماغ تو ٹھکانے پر ہے۔ یہ مسٹر پچھلے پندرہ دنوں سے ہمارا پیچھا کر رہے ہیں اور تم کہتی ہو کہ یہ میرا وہم ہے۔ ”

لڑکی نے پھر سفید شارٹ کرتے والے لڑکے کی جانب دیکھا۔ “کیا آپ گونگے ہیں، میں آپ سے کچھ پوچھ ہی ہوں۔سنائی نہیں دیتا۔”

اس بات پر اسے ہنسی آ گئی۔ اس نے سوچا کہ یہ لڑکی شاید اتنے بھی غصے میں نہیں ہے جتنا میں اسے سمجھ رہا ہوں۔

لڑکی اور اس کی ساتھی نے جب اسے ہنستے ہوئے دیکھا تو حیرانی سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں۔ اس بار لڑکی کی ساتھی نے۔ تیزی سے اپنی دوست کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور یہ کہتے ہوئے نئی سٹرک کے چوراہے کی طرف بڑھنے لگی “ہو سکتا ہے کہ اس کا دماغ خراب ہو تم کیوں بلا وجہ کسی کے بھی منہ لگتی ہو۔ اگر پیچھا بھی کر رہا ہے تو کرنےدو کون سا ہمیں کھا لے گا۔ “لڑکی اس دوران اپنا ہاتھ چھڑا نے کی کوشش کرتی رہی۔ وہ پلٹ پلٹ کر اس لڑکے کی جانب بھی دیکھے جا رہی تھی جو ابھی تک اسی جگہ مبہوت انداز میں کھڑا تھا۔

وہ کافی دیر تک اسی جگہ کھڑا جاتی ہوئی لڑکی اور اس کی ساتھی کو گھورتا رہا۔ اسے اپنی بد اخلاقی کا بھی احساس ہو رہا تھا کہ اس نے لڑکی کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور یہ بھی کہ اس طرح کسی لڑکی کے پیچھے روز لپکناک ون سی اچھی بات ہے۔ حالاں کہ اسے آخری درجے تک یقین تھا کہ وہ دونوں لڑکیاں اس بات سے نا واقف ہیں کہ وہ ان کے پیچھے پیچھے حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ سے نئی سڑک کے چوراہے تک آتا ہے۔ لیکن اب جبکہ وہ یہ جان گیا تھا اسے ندامت کا احساس ہو رہا تھا۔ وہ خاص کر کسی ایک لڑکی کا پیچھا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسے تو صرف مختلف خوشبووں کا تعاقب کرنا تھا، جس سے اسے مسرت ملتی تھی۔ مگر ہوا یہ تھا کہ جس روز اس نے اپنی سینٹ کی شیشی کھولی اور اس کی خوشبو اپنے بدن پہ لگائی اسی روز وہ لڑکیاں ایک ایسی خوشبو لگا کر حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پر آئی تھیں جن خوسے اس کے سینٹ کی خوشبو مل کر ایک بالکل ہی انوکھی مہک پیدا کر رہی تھی۔ جس سے اسے ایسا سرور ملتا کہ وہ دوبارہ گھر پہنچ کر بھی اسی سرور میں کھویا رہتا۔ اس نے شائد گزشتہ پندرہ روز میں ایک دن بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا ہوگا کہ اس کے خد و خال کیسے ہیں یا وہ کن رنگوں کے کپڑے پہن کر آتی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس نے ان لڑکیوں کے سامنے اپنی زبان نہیں کھولی۔ آخر وہ بولتا بھی تو کیا۔ اسے یہ بات سمجھا پانا بھی مشکل معلوم ہوئی تھی کہ وہ ان کا نہیں بلکہ ان کے اندر سے اٹھنے والی ایک خاص مہک کا پیچھا کر تا ہے۔ نئی سڑک پہ جب وہ لڑکیاں مڑ جاتیں تو وہ وہیں سواری لے کر اپنے گھر لوٹ آتا۔ اسے روز کے اسی روپے مل رہے تھے۔ اس لیے صبح سے شام تک اپنا کام کرنے کے بعد ایک نئی اور دلچسپ مصروفیت اس کے ہاتھ آ گئی تھی۔ پہلے تو چند روز تک وہ انہی پرانے کپڑوں میں حکومتی عمارتوں کے فٹ پاتھ تک جاتا تھا۔ پھر اس نےخود کو مزید سنوارنے کا عزم کیا اور ایک دن جب اس کی کارخانے کی چھٹی تھی وہ اپنے علاقے کے اختتام پر واقع بازار تک گیا اور اپنے لیے تین نئے شارٹ کرتے اور تین جینز خرید لایا۔ ان کرتوں کا آئیڈیا اسے اپنے مالک سے ملا تھا۔ ان دنوں وہ اسی طرح کے کرتے پہن کر کار خانے میں آیا کرتا تھا۔ وہ سلیقے سے اپنے تینوں جوڑ نئے کپڑوں کو اپنے بکس میں ایک سفید پنی میں رکھتا اور شام کو کا ر خانے سے لوٹنے کے بعد نہا دھو کر ان میں سےکسی ایک کو پہنتا اور حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ کے طرف روانہ ہو جاتا۔ واپسی پر اسی سلیقے سے انہیں تہہ کر کے پنی میں لپیٹ کر دوبارہ اپنے صدوق میں رکھ دیتا۔

دو ماہ سے یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ مگر آج جب وہ لوٹا تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کل سے ان فٹ پاتھوں کی طرف ہر گز نہیں جائے گا۔ اسے کسی انجان لڑکی کے پیچھے اس طرح سے ٹہلتے پھرنا ٹھیک نہیں لگا۔ اب اسے یقین تھا کہ اگر وہ دوبارہ ان لڑکیوں کے پیچھا گیا تو وہ سخت قدم اٹھائیں گی اور وہ اس شرمندگی کے لیے تیار نہ تھا۔ اس نے سوچا کہ ادھر جانا ترک کردینا ہی بہتر ہے۔ مگر آج اسے ایک اور نیا احساس نصیب ہوا تھا۔ اس نے کسی خوبصورت لڑکی کواتنی نازک آواز میں خود سےکبھی مخاطب ہوتے نہ سنا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر وہ غصے میں اتنے آہستہ لہجے میں بات کر ر ہی تھی تو اس کا محبت بھرا لہجہ کیسا ہو گا۔ اس خیال سے اس کے ہونٹوں پہ دوبارہ ہنسی بکھر گئی۔ پل بھر کے لیے اسے محسوس ہوا کہ اس لڑکی نے اپنی خفگی کا اظہار کر کے اس کے اندر کچھ بدل دیا ہے۔ مگر وہ بدلی ہوئی چیز کیا تھی ابھی وہ خود شناخت نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے آثار رہ رہ کر اس کے دماغ میں روشن ہوتے۔ گوراچہرہ، بڑی بڑی آنکھیں، پتلے پتلے ہونٹ، کھلی گردن اور بھرا بھرا سینہ جو اس قمیض سے باہر کی طرف کھنچا چلا آ رہا تھا۔ اسے لڑکی کا حلیہ اوپر سے نیچے تک رٹ گیا تھا اور جب وہ اس کے ہلتے ہوئے ہونٹ اور چلتی ہوئی سانسوں کو تصور کرتا جو خفگی کے باعث نمایاں ہو رہی تھیں تو ایک دم ہڑ بڑا جاتا۔

(8)

آج صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو تھکا ہوا پایا۔ بدن اس سے اصرار کر رہا تھا کہ وہ کچھ دیر اسی طرح آنکھیں میچے پڑا رہے، کل کی رات اس پہ نہ جانے کیسی گزری تھی۔ اس نے خود سے الجھنا ٹھیک نہیں سمجھا اور چادر منہ تک اوڑھ کر سو گیا۔ دوبارہ جب اس کی آنکھ کھلی تو محسوس ہوا کہ سورج سر پہ آ چکا ہے۔ آج وہ کارخانے نہیں گیا تھا۔ صبح آنکھیں موندتے وقت اسے اس بات کا احساس تھا کہ اگر وہ دوبارہ سو گیا تو اٹھ نہیں پائے گا۔ اس نے آنکھیں کھول کر چاروں طرف دیکھا۔ اب اس کی طبیعت میں وہ بوجھل پن نہ تھا جو وہ صبح میں محسوس کر رہا تھا۔ اس نے بستر سے اٹھ کر کھڑ کی سے منہ باہر نکالا تو سورج کی شعاعوں سے اس کی آنکھیں چوندھیا گئیں۔ کل شام کا منظر پھر اس کے ذہن میں تازہ ہونے لگا اور لڑکی کی شکل ذہن میں صاف ہوتے ہی اس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔ نہ جانے کیوں اس نے خوشی کے عالم میں سوچا کہ آج ٹیلے کی طرف چلا جائے۔ حالاں کہ وہ یہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اب ٹیلے کی طرف کبھی نہ جائے گا۔ اس نے جلدی جلدی منہ دھویا۔ کھونٹی پہ ٹنگے کل شام والے کپڑے پہنے اور ٹیلے کی طرف نکل گیا۔ راستے میں ایک چائے خانے پہ رک کر اس نے چائے پی اور تھوڑا بہت ناشتہ کیا۔ ایک پان کے کھوکھے سے کچھ سگریٹیں خریدیں اور ٹیلے کی طرف چل دیا۔ راستے میں اسے احساس ہوا کہ آج اس طرف وردی والے کچھ زیادہ ہی نظر آ رہے تھے۔ اس نے کبھی اتنے وردی والوں کو اس علاقے میں گھومتے نہ دیکھا تھا۔ اسے کسی وردی والے نے روکا تو نہیں، مگر اس کی چھٹی حس اسے احساس دلا رہی تھی کہ ماحول کچھ بدلا بدلا سا ہے۔ وہ ٹیلے پہ پہنچا تو ٹیلا دھوپ کی تپش سے جل رہا تھا۔ ہر وہ چیز جس میں سے بد بو آرہی تھی وہ مزید بدبو دار محسوس ہو رہی تھی۔ وہ سیدھا زمین کے اس بنجر ٹکڑے کی طرف گیا جہاں سے سامنے کی شاہراہ صاف دکھائی دیتی تھی۔ وہاں بیٹھ کر اس نے سگریٹ جلا یا اور روڈ کی طرف دیکھ کر رات والی لڑکی کے خدو خال کے متعلق سوچنے لگا۔ کیا اگر میں اس سے دوبارہ جا کر ملوں تو وہ مجھے مارنے لگے گی ؟ اچانک اس سے ملنے کی خواہش کہیں اند ر ہی اندر سر ابھارنے لگی۔ لیکن وہ تو اسے جانتی تک نہیں ہے اور پھر اس کے لہجے میں لاکھ نرمی سہی، تھی تو وہ غصے میں ہی۔اسے یہ بات پسند نہ آئی تھی کہ وہ گزشتہ کئی دنوں سے اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ لیکن وہ اس کا پیچھا کر ہی کہاں رہا تھا؟ وہ اس خاص خوشبو کے پیچھے تھا جس کی کشش اب اس کے خدو خال کے سامنے ماند پڑ گئی تھی۔ اگر اسی کا پیچھا کرنا ہے تو وہ اب کرے گا۔

وہ یہ سب سوچ ہی رہا تھا کہ ایک جوان عورت ہاتھ میں پلاسٹک کا لوٹا لیے دور سے آتی دکھائی دی۔ وہ جانتا تھا کہ ٹیلے کے قریب کے جھونپڑوں میں رہنے والے مرد، عورت اور بچے ٹیلے پہ رفع حاجت کے لیے آیا کرتے تھے۔ لیکن اس نے اس بات پہ کبھی غور نہیں کیا تھا کہ اس کی موجودگی میں کتنے مرد، عورتیں یا بچے ٹیلے کی بدبووں میں اضافہ کر رہے ہیں۔اس نے دیکھا کہ وہ عورت اس سے خاصے فاصلے پہ لوٹا لے کر بیٹھ گئی ہے۔ عورت کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ جس سے وہ اس کے کولہے اور اس سے نکلتا ہوا مل دیکھ سکتا تھا۔ وہ حالیہ دنوں جن خوشبووں کا عادی تھا اس کے پیش نظر اس عمل سے اس کا گھنا جانا لازمی تھا، مگر ایسا ہوا نہیں، نہ جانے کیوں اس کی نگاہ عورت کے پٹھے سے نکلنے والے مل کے بجائے اس کے کولہوں کی گولائی پہ جمی ہوئی تھی۔ اسے یہ منظر بہت لبھا رہا تھا۔ وہ تھوڑی دیر کولہوں کو دیکھتا رہا، پھر اپنی نگاہیں وہاں سے ہٹا کر شاہراہ کی جانب کر لیں۔سگریٹ کے دو تین کش لیے اور پھر کولہوں کی گولائی پہ نظریں جما دیں۔ اسے لگ رہا تھا جیسے یہ عورت اس بھری دوپہری میں صرف اسی لیے ٹیلے پہ ہگنے آئی ہے تاکہ اسے اپنے کولہے دکھا سکے۔ جب تک عورت بیٹھی رہی وہ اس کے کولہوں سے لطف اندوز ہوتا رہا اور عورت اس سے بے خبر اپنے عمل میں لگی رہی۔ پھر اس نے اپنے کولہوں پہ پانی ڈالا اپنے بائیں ہاتھ سے کولہوں کے بیچ کی گندگی صاف کی اور لوٹا اٹھا کر ادھر ادھر دیکھے بنا ٹیلے سے رخصت ہو گئی۔

وہ اب سے پہلے کبھی اس احساس سے دوچار نہیں ہوا تھا۔ ننگی عورتوں کے دیکھنے کا شوق تو کجا اسے لڑکیوں میں ہی کچھ خاص دلچسپی نہیں تھی، حالاں کہ اس کے بہت سے ساتھیوں نے بچپن سے اسے کئی بار ننگی عورتوں کی تصویریں اور پورن فلمیں دکھائی تھیں، لیکن وہ انہیں دلچسپی سے نہیں دیکھتا تھا۔اسے اس عمل سے ایک انجانی گھن کا احسا س ہوتا تھا۔ مگر کل شام کے واقعے سے اس کے اندر ایک بڑی تبدیلی پیدا ہوئی تھی۔ اس نے جب دوبارہ کل والی لڑکی کے خدو خال یاد کیے تو اس بار اس عورت کے کولہے بھی اس کے ذہن میں گردش کرنے لگے جن کی گولائیوں سے وہ محظوظ ہو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد جب بدبو کی شدت بڑھنے لگی تو وہ وہاں سے اٹھ گیا۔ علاقے کی طرف لوٹا تو پھر اسے وردی والوں کی سر گرمیوں پر شبہ ہوا۔ وہ بڑ ھ رہے تھے ایسے جیسے وہ شہر کو اپنی گرفت میں لینا چاہتے ہوں۔ اس نے چائے خانے کے قریب سگریٹ کے کھوکے سے دو سگرٹیں اور خریدیں اور انہیں جیب میں ڈال کر اپنے گھر کی طرف بڑھ گیا۔
آج شام تک وہ گھر کے اندر ہی رہا مختلف لڑکیوں اور عورتوں کے متعلق طرح طرح کی باتیں اس کے ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔ کسی کسی صبح وہ جس دودھ والی دکان پہ بیٹھی موٹی لڑکی سے دودھ خریدا کرتا تھا یا کار خانے کے برابر میں رنگائی کی دکانوں پہ جو لڑکیاں اس کی نگاہوں سے روز گزرتی تھیں۔ اس نے سوچا کے وہ ان ساری لڑکیوں کو نہ جانے کتنی مرتبہ دیکھ چکا تھا، مگر آج ان کے متعلق سوچ کر جانے کیوں اسے لطف مل رہا تھا۔ اسی دوران اسے یاد آیا کہ جب وہ پچھلی مرتبہ کسی کام سے شہر کے باہر گیا تھا تو ایک بس اڈے پہ اسے ہتھا کھینچتی ہوئی ایک جوان اور خوبصورت لڑکی دکھی تھی۔وہ اپنے اطراف کے لیے ایک عجوبہ بنی ہوئی تھی جسے اس کے ارد گرد بیٹھے ہوئے سارے مرد گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔ جب اس نے اس لڑ کی کی ان دو بڑی بڑی چھاتیوں پہ نظر ڈالی تھی جو اس کے ہتھا چلانے کی وجہ سے رہ رہ کر ابھر رہی تھیں تو اسے عجیب سا محسوس ہوا تھا۔ اس نے ایک بھر پور نظر ڈالی تو اسے اس کی دونوں چھاتیوں کی ہری ہری رگیں جو دانوں کے مقام پر زور پڑنے کی وجہ سے ابھر رہی تھیں صاف نظر آئی تھیں۔ مگر وہ ان چھاتیوں کو ویسی للچائی ہوئی نگاہوں سے نہیں دیکھ رہا تھا جس طرح اس کے اطراف کے نوجوان لڑکے اور مرد دیکھ رہے تھے۔ ان کی شکلوں سے محسوس ہوتا تھا کہ اگر یہ چھاتیاں انہیں ایک لمحے کے لیے بھی مل جائیں تو وہ انہیں اتنی زور سے دبائیں کہ ان چھاتیوں میں موجود دیدار کی لذت ان کے بدن میں سرایت کر جائے۔ اس نے یہ سوچ کر آنکھیں میچ لیں۔ اس کے بدن میں ایک لہر سی دوڑ رہی تھی اس کا ہاتھ دھیرے دھیر اپنی پتلون کے اندر کھسک گیا۔ اچانک اس کا ہاتھ تیزی سے چلنے لگا۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ دونوں چھاتیاں کہیں خلا سے نمادار ہو کر اس کے ہاتھوں میں آ جائیں اوروہ انہیں مسل کر اپنی انجان اور دبی ہوئی خواہش کو پورا کر لے۔

(9)

وردی والے ہزاروں کی تعداد میں ٹیلے کے اطراف جمع تھے۔لوگوں کی چیخ پکار کی آوازیں پورے جنوبی شہر میں گونج رہی تھے۔ آسمان پہ کالے دھوئیں کے بادل بڑھتے جارہے تھے۔ ودری والوں نے ٹیلے کے آس پاس کی تمام جھونپڑوں میں اور ٹیلے کے کچرے میں آگ لگا دی تھی۔ اس کا حکم اس ملک کی انتظامیہ کی طرف سے آیا تھا جس کا قرض اس شہر پہ چڑھتا چلا جا رہا تھا۔ شہر کے جنوبی علاقے کو ایک عرصے سے نظر میں رکھا جا رہا تھا۔ یہاں نشے کا کاروبار زوروں پہ تھا اور عورتوں اور بچوں کی کالا بازاری بھی ہوتی تھی۔ مگر آگ لگانے کا فیصلہ ان وجوہات کی بنا پر نہیں لیا گیا تھا۔ یہ پورے شہر میں مذہبی جھگڑے بڑھانے کی شروعات تھی۔راتوں رات پورے شہر میں وردی والے چار گنا ہو گئے تھے۔ جنوبی علاقے میں آگ لگا کر یہاں کے وردی والوں نے ہزاروں کی تعداد میں مزدور اور غریب شہریوں کو بے گھر کر دیا تھا۔ ان کو اطلاع دی جا رہی تھی کہ اس کا آڈر سیدھا ان کے ملکوں سے آیا ہے۔ جنوبی علاقے کے عوام پریشان تو تھے مگر ان میں غصے کی شدید لہر دوڑ رہی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ جن ملکوں کے حکم پہ ان کے گھروں کو جلایا گیا وہاں کے عقیدت مندوں کے گھروں اور دکانوں کو بھی اسی طرح جلا کر راکھ کر دیا جائے۔ ایک طرف وردی والے لاٹھیاں اور بندوقیں لیے عوام کے ریلے کو دھیرے دھیرے ٹیلے سے شہر کی طرف دھکیل رہے تھے اور باری باری بستی کے چھونپڑوں پہ بلڈوزر چلا کر ان میں آگ لگا رہے تھے۔ دوسری طرف نوجوان لڑکے اور بستی کے غصے سے بھرے مرد یہ منصوبہ تیار کر رہے تھے کہ کسی طرح ان وردی والوں کی بندوقیں چھین کر اس تماشے کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ عورتوں کی چیخ پکار تھمنے کا نام نہ لیتی تھی۔ بچے بلک بلک کر رو رہے تھے۔ ایک لڑکا جو ان مردوں اور نوجوانوں کی باتیں کا فی دیر سے سن رہا تھا اس نے دانت پیس کے ایک وردی والے کو گالی دی اور ایک پتھر اس پہ کھینچ مارا۔پتھر وردی والے کے جبڑے پہ لگا جس سےاس کی آنکھوں میں تارے ناچ گئے۔ اس کے منہ سے بھل بھل خون بہنے لگا۔ وہ اس صورت حال کی امید نہیں کر رہا تھا، لہذا اس نے اپنا ہیلمٹ اتار کرہاتھوں میں تھاما ہوا تھا۔ جوں ہی اسے ہوش آیا اس نے فوراً اپنا ہیلمٹ پہنا۔ اسی دوران اس کے اطراف کے وردی والے بھی سنبھل گئے۔ جس لڑکے نے پتھر پھینکا تھا۔ تین، چار وردی والے اس کی جانب ڈنڈے اور بندوقیں لے کر بڑھے جس کے جواب میں وہاں کھرے کئی نوجوانوں اور مردوں نے پتھروں کی بارش کرنا شروع کر دی۔ وردی والوں نے اپنی ڈھالیں سنبھال لیں اور آن واحد میں کئی سو وردی والے وہاں جمع ہو کر پتھراو کرنے والوں پہ ٹوٹ پڑے۔ پہلے کچھ گولیاں چلیں، پھر لاٹھیا ں برسی اور دیکھتے ہی دیکھتے آنسو گیس کے گولے اور پانی کے ٹینکروں سے وردی والوں نے چاروں طرف سے حملہ کر دیا۔ افراتفری کا ماحول تو پہلے ہی سے تھا۔ اس لاٹھی چارج نے ٹیلے کے اطراف کی بستی کو ویران بنا دیا۔ عورتیں اور مرد سب شہر کی طرف بھاگ گئے تھے۔ جو ڈٹے ہوئے تھے وہ خون سے لت پت تھے اور جگہ جگہ پڑے سسکیاں لے رہے تھے۔ وردی والوں نے بہت سے لڑکوں کو اٹھا کر اپنی گاڑیوں میں بند کر دیا تھا اور ان پہ گاڑی کے اندر لاٹھیا ں چل رہی تھیں۔

Categories
نان فکشن

انجانے خوف کی نفسیات – تالیف حیدر

کسی رات آپ کو اگر اچانک محسوس ہو کہ آپ کی سانسیں رک رہی ہیں، دل کی دھڑکن دھیمی ہوتی چلی جا رہی ہے، بدن میں ایک جھنجھناہٹ ہے جو رہ رہ کہ اٹھتی ہے، اس بات کا احساس دلانے کے لیے کہ آپ کی زندگی کا چراغ گل ہونے والا ہے تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟ یقیناً اس سوال کا جواب دینا مشکل ہوگا یا تقریباً نا ممکن۔ پھر اس حالت سے گزرتے ہوئے آپ کسی ہسپتال کی طرف بھاگیں، گھر والوں کو لگنے لگے کہ اب ان کی دنیا اجڑنے ہی والی ہے اور ہسپتال تک پہنچنا بھی دشوار ہو جائے۔ پھر وہاں پہنچنے پہ نرسیں آپ کا بھاگ بھاگ کر چیک اپ کریں، ڈاکٹر آئے دل کی دھڑکن اور خون کی روانی جانچے اور چند ہی لمحوں میں آپ سے کہہ دے کہ کوئی بڑی یا گھبرانے کی بات نہیں ہے انہیں انزائیٹی ایشو ہے۔ آپ تو خود بھی حیران رہ جائیں گے کہ آخر یہ سب کیا تھا، چند لمحے پہلے جو آپ کو محسوس ہو رہا تھا کہ آپ اگلے کچھ لمحوں کے مہمان رہ گئے ہیں اس کی کوئی حقیقت نہیں، یہ سب بے معنی ہے، ایک طرح کا جھوٹ یا ذہنی بہکاوا۔

میں ان دنوں بالکل اسی طرح کی الجھن سے گذر رہا ہوں۔ وہ انگزائیٹی اٹیک جو اب سے تقریباً دو ماہ قبل مجھے پڑا تھا اس نے اب تک میرا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔ اس بات کا اعتراف کرنے میں کچھ برائی نہیں کہ میں ان دنوں ایک نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہوں، مجھے خود نہیں پتا کہ یہ بیماری کیسے میرے وجود میں پیر پھیلانے لگی اور ایک دن اتنی بڑی ہوگئی کہ مجھے اس سے اپنی زندگی کا خطرہ محسوس ہونے لگا۔ گھر والوں، دوستوں، رشتے داروں اور چند ایک مخصوص لوگوں میں سے کسی کو یہ نہیں لگتا کہ یہ کوئی بیماری ہے، سب نے جب یہ سنا کہ میں ہسپتال گیا تھا وہ بھی رات کو تین بجے تو سب پریشان ہوئے، لیکن جوں ہی سب کو معلوم ہوا کہ مجھے ایک انزائیٹی اٹیک آیا تھا تو سب اس طرح نارمل ہو گئے جیسے کہ کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ پھر مجھے بھی کچھ دنوں میں یہ لگنے لگا کہ شائد یہ نفسیاتی بیماری کوئی بہت بڑی چیز نہیں ہے، بہن، بھائی نے سمجھایا کہ وہ کس طرح اس بیماری کا شکار رہے ہیں اور چند دنوں میں ٹھیک ہو گئے ، محبوبہ نے یقین دلایا کہ اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، ایک دور کی رشتے دار نے تو اپنا کئی دنوں کا تجربہ بیان کرتے ہوئے پوری کہانی سنا دی، کہ کس طرح وہ اس بیماری میں مبتلا ہو کر ہزاروں روپیہ صرف جانچ پہ خرچ کر بیٹھیں اور آخر میں معلوم ہوا کہ اصل میں کوئی بیماری نہیں ہے بلکہ ایک طرح کا دماغی خلل ہے۔

عجیب خلل ہے صاحب۔ میں سوچتا ہوں کہ آخر میں کیوں روز رات کو اس عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہوں کہ میری زندگی کا چراغ گل ہونے والا ہے۔ میں اب نہیں بچوں گا اور بلا وجہ مجھے ہر طرف سے صرف موت کی خبر آتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ذرا آنکھ میچی تو دم نکل جائے گا۔ گلے میں بلغم پھنسا تو سانس نہیں آئے گی۔ کھانسی آئی تو وہ آخری ہچکی میں بدل جائے گی یا اگر میں نے دیر تک اس بارے میں سوچا تو کہیں دل نہ رک جائے۔ پھر میں ڈاکٹروں، دواوں اور دعاوں کی طرف بھاگتا ہوں۔ ہمارے ایک عزیز نے بتایا تھا کہ اسے انجانا خوف کہا جاتا ہے جو شہری زندگی میں بے شمار لوگوں کو ہوتا ہے۔ ان کی بات سن کر میں حیران ہوا کہ آخر مجھے کس بات کا خوف ہے۔ میرے والد میرے دوست ہیں، بڑے بھائی نہایت شفیق، ایک جیون ساتھی جو ہمیشہ مجھ پہ مہربان رہتی ہے۔ ماں جو ہر تکلیف اپنے سر اوڑھنے کے لیے کمر بستہ رہتی ہے، بہن سے کبھی کبھی جھگڑا ہوتا ہے، مگر وہ اتنا بھی سنگین نہیں کہ میں اس سے ڈروں، دو چار بلٹیں کھا کھو کر سب ٹھیک ہی ہو جاتا ہے۔ پھر کس بات کا خوف ہے۔ تعلیم مکمل ہے، روپیہ، پیسہ جتنا ضروری ہے اتنا دستیاب ہے۔ مستقبل کے متعلق میں کبھی فکر مند رہا ہی نہیں۔ جو قسمت نے دیا اسے ہنس کے قبول کر لیا، پھر کس بات کا خوف ہے۔ تو یہ سوال قائم ہوا کہ کیا میں واقعی موت سے ڈرتا ہوں۔

مجھے معلوم ہے کہ کسی بھی شخص کو موت کبھی بھی آ سکتی ہے، لہذا اس سے ڈرنا کیسا، گھر میں ستتر برس کے والد اور ساٹھ برس کی والدہ ہیں وہ تو اس عمر میں بھی موت سے خائف نہیں تو میں کیوں ہوں۔ میں یہ سب جانتا سمجھتا ہوں،لیکن اس کے باوجود یہ انجانہ خوف ہر رات میرے سامنے آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ذرا سی گیس مجھے الجھا دیتی ہے۔ کوئی شوقین چیز کھالوں تو وہ عذاب بن جاتی ہے۔ نیند آنکھوں سے اوجھل رہتی ہے۔ پڑھنے لکھنے پہ زور دوں تو میدہ خراب ہونے لگتا ہے۔ حتی کہ رات کے وقت یہ عذاب مجھ پہ ایسا نازل ہوتا ہے کہ میں زور سے ہنس بھی نہیں سکتا ہے۔ بڑے بھائی نے ایک رات سمجھایا کہ آخر موت آنی ہوگی تو کون روک لے گا، تو وہ رات اس خیال پہ گزر گئی۔ اگلی رات بہن نے کہا کہ تم اللہ کا نام لیتے رہو سب ٹھیک ہو جائے گا، اگلی اس پہ کٹ گئی۔ اس کے بعد والی میں والد نے آیت الکرسی پڑھ کے پھونک دی اور میں اس کے سہارے رہ لیا، اگلی رات والدہ نے دور کا ورد کرنے کی ہدایت دی تو کچھ اس سے بہل گیا۔ روز ایک بہانہ چاہیئے کہ اس سے میں خود کو سمجھاوں کہ ابھی آخری وقت نہیں آیا۔ دوا چل رہی ہے، مگر اس کا اثر بھی رات کے ایک لمحے کے بعد غائب ہو جاتا ہے۔ ڈر جب اپنا زور مارتا ہے تو یقین جانیئے کہ کسی شئے کی گنجائش نہیں رہتی۔

میں ایسے لمحوں میں صرف خود سے لڑتا رہتا ہوں۔ وہ ہی انجانا خوف جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے، جس کے تعلق سے میں جانتا ہوں کہ وہ ایک لمحہ بن کر کبھی نہیں آئے گا۔ موت آئے گی لیکن کسی خوف کے ساتھ نہیں۔ انسان کا جینا، مرنا لگا ہوا ہے۔ لیکن ایک انجانے ڈر کے ساتھ زندگی گزارنا کسی عذاب سے کم نہیں۔ جس ہومیو پیتھک کے ڈاکٹر نے مجھے یہ بتایا تھا کہ شہر میں رہنے کا اسے ایک عذاب ہی سمجھنا چاہیے تو میں اس سے کیا کہتا میں سمجھ نہیں پایا۔ کیا میں نے اب تک کی زندگی شہر میں نہیں گزاری؟ کیا حقیقی پریشانیوں کا سامنا نہیں کیا ؟ پیسے کی تنگی، محبوباوں کی بے وفائی، گھر کی خستہ حالی، نوکری کی الجھنیں اور بیماریوں کے قہر کیا نہیں دیکھے۔ لیکن کبھی اس طرح ڈرا نہیں۔ تو اگر اب میں ڈر رہا ہوں کسی انجان سے خیال سے تو اسے شہری زندگی کا عذاب کیسے تصور کروں۔ ہو سکتا ہے کہ میں رات کو جلدی نہ سوتا ہوں، دن میں ٹھیک سے نہ کھاتا ہوں، جس طرح سے جینا ہو نہ جیتا ہوں تو کیا میں اس سے اتنا بڑا گنہ گار ہو جاتا ہوں کہ ایک ایسے خوف میں مبتلا رہوں۔ انجانے خوف کی نفسیات مجھے اب تک نہیں ہوئی تو اب کیوں ؟ میں خود کو آئینے میں دیکھ کر اب تک ہزاروں مرتبہ یہ خود سے پوچھ چکا ہوں کہ یہ بلا دن میں کہاں جاتی ہے۔ دن میں نہ کوئی ڈر ہوتا ہے اور نہ موت کی آہٹ۔ دل گھبراتا ہے تو خود بہ خود سنبھل جاتا ہے۔ الجھن ہوتی ہے تو خود رفع ہو جاتی ہے، لیکن رات تو جیسے ایک پہاڑ ہے اور یہ سوچ کر دل مزید گھبراتا ہے کہ یہ پہاڑ ہر بارہ گھنٹے بعدپھر نمودار ہو جاتا ہے۔

میں نے اپنی اب تک کی زندگی میں بے شمار نفسیاتی الجھنوں کے متعلق سنا ہے، ان کے اوپر بنی ہوئی فلمیں اور لکھی ہوئی کہانیاں پڑھی ہیں، لیکن اب جب کہ میں خود ایک بیماری میں مبتلا ہوں جو خالصتاً نفسیاتی ہے تو میں اس کی قوت کو محسوس کر پا رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ میں اسے خود سے جیتنے نہیں دوں گا۔ ایک نہ ایک روز جب یہ مجھے بے انتہا ڈرا چکے گی تو خود بہ خود میری طاقت بن جائے گی۔ لیکن مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ اس وقت تک مجھے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں، ماں، بہن اور بھائیوں، شریک حیات اور ہمسائیوں کی مدد درکار رہے گی۔ نفسیاتی الجھن سے میں کب تک لڑوں گا یہ بھی میں نہیں جانتا، لیکن یہ جانتا ہوں کہ جب تک لڑوں گا، میں اکیلا نہیں ہوں، میرے ساتھ کچھ لوگ ہیں جو مجھے اس سے مل کر نکالنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ کوئی دوا ایسی نہیں جو اس سے زیادہ طاقت ور ہو جتنا ان کا ساتھ ہے۔ یہ انجانا خوف مجھے اس وقت تک ڈرا رہا ہے جب تک میں اس نفسیاتی الجھن سے لڑتے لڑتے اتنا سخت نہ ہو جاوں کہ یہ بیماری میری قوت مدافعت سے ٹکرا کر ہار جائے۔ میں اس وقت کے انتظار میں ہوں، اسی طرح کچھ ڈر اور کچھ ہمت کے درمیان جھولتا ہوا۔ لیکن اس حقیقت سے آشنا کہ کوئی بھی بیماری خواہ وہ دانت کا بھیانک درد ہی کیوں نہ ہو نفسیاتی الجھن سے بڑا ہرگز نہیں ہوتا۔

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (تیسرا حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

اس کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ آسمان کی تعمیر سات روز میں ہوئی تھی۔ جب آسمان بنا تو اس کے پڑوسی وہاں تھے اور وہ بھی تھا۔ ہوا یہ تھا کہ بہت سے انسانوں اور بہت سے شیطانوں نے مل کر ایک رات یہ سوچا کہ زمین کی دوسری طرف سے جو روشنی آتی ہے اسے ایک پردے سے ڈھک دینا چاہیے۔کیوں کہ اس روشنی سے ان کے بچے اندھے ہو جاتے تھے۔ اس وقت انسان اور شیطان ساتھ مل کر رہتے تھے۔ انسانوں نے شیطان کے کندھے سے کندھا ملا کر ایک بڑا سا پل بنا یا، جو پل سیدھا تھا اور آسمان کی طرف جاتا تھا۔ اس پل کو بنانے میں شیطانوں نے اپنی ریڑ ھ کی ہڈیوں کو زخمی کیا اور اوپر جاتے ہوئے پل کو گرنے سے بچائے رکھا۔ حالاں کہ زمین کی دوسری طرف سے جو روشنی آ رہی تھی وہ بہت تیز تھی مگر شیطانوں کے پاس آنکھوں پر باندھنے کی ایسی پٹیاں تھیں جن سے انسان کو اس روشنی سے آنکھیں ملانے میں پریشانی نہیں ہوتی تھی۔ انسان اینٹ پہ اینٹ رکھتے اور شیطان انہیں سہارا دیتے۔ جب پل ذرا اور اونچائی پر جاتا تو ایک شیطان کے کندھے پہ دوسرا شیطان کھڑا ہو جاتا۔ یہ کام زور و شور سے چھے روز تک چلتا رہا۔ اس پل کی تعمیر کے لیے دنیا کے ہر حصے سے اینٹیں لائی گئیں۔ جب اینٹوں کی قلت ہونے لگی تو زمین کو کھود کر اس کی مٹی سے اینٹوں کو تعمیر کیا گیا۔ اس عمل سے جلد ہی زمین کے نیچے کا پانی سطح آب پر آ گیا اور دنیا میں پانی کی مقدار بڑھنے لگی۔ جب شیطانوں نے یہ منظر دیکھا تو انہوں نے اپنے بدن کی نکلی ہوئی اضافی ہڈیاں انسانوں کو کاٹ کاٹ کر دیں تاکہ وہ پل کی تعمیر کا کام جاری رکھ سکیں۔ انسانوں نے دھیرے دھیر ےاتنا اونچا پل بنا لیا جہاں سے پردہ کھینچ کر آنے والی روشنی کو روکا جا سکتا تھا۔

جب انسانوں اور شیطانوں کے مرد پل تعمیر کر رہے تھے تو ان کی عورتیں مل کر آسمان کی ناپ کا پردہ سی رہی تھیں۔ اس پردے کی تعمیر میں کئی طرح کے درختوں کی چھالوں، پھولوں کی پنکھڑیوں، نازک پیڑ کی پتیوں، شیطانی عورتوں کی جلد کے اضافی حصوں، جانوروں کی کھالوں اور سانپ کی کیچلیوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ دھاگے کے طور پر بیلوں اور جٹھاوں سے کام لیا گیا تھا۔ ادھر چھے دنوں میں مردوں نے پل تیار کیا اور ادھر چھے روز میں عورتوں نے پردہ سیا۔ اس سلائی میں شیطانی عورتوں نے اتنی صفائی کا مظاہرہ کیا کہ ایک پیوند سے دوسرے پیوند کا جوڑ نظر نہ آتا تھا۔ انسانی عورتیں اشیا جمع کرتیں اور شیطانی عورتیں انہیں سیتیں۔ دن بھر انسان مرد اور شیطان مرد مشقت کرتے اور رات کو شراب پیتے۔ دن بھر انسان عورتیں اور شیطان عورتیں سلائی کرتیں اور رات کو اپنے مردوں کے پہلو میں برہنہ ہو کر لیٹ جاتیں۔ جب عورتوں نے چھٹے روز آسمان پر تانے جانے والا پردہ مردوں کے حوالے کیا تو انہوں نے خوشی سے اپنی عورتوں کے ماتھے چوم لیے۔ سب خوش تھے۔ پردہ اور پل دونوں تیار ہو چکے تھے۔ انسانی مردوں نے جوں ہی اس پردے کو کھولا تو چاروں جانب سے آنے والی روشنی غائب ہو گئی وہ تیز نیلی روشنی جو انسان اور شیطان کے بچوں کو اندھا کر دینے والی روشنی تھی اب ایک مدھم اور ہلکی روشنی میں بدل گئی۔ انسانوں اور شیطانوں نے جب یہ منظر دیکھا تو ان کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ انسانوں نے اپنی آنکھوں پر لپٹی ہوئی وہ پٹیاں نوچ پھینکیں جو انہیں شیطانوں نے دی تھیں پردے کو آسمان کے چار الگ الگ کونوں میں چار ستاروں سے باندھ کر جب انسان پل سے زمین پر آئے تو شیطانوں نے اپنی پیٹھ کاسہارا پل سے ہٹا دیا۔ جوں ہی شیطان ہٹے پل آن واحد میں زمین پر آ گرا۔ پل کی اینٹیں دنیا میں چاروں طرف پھیل گئیں سمند ر کا پانی پھر زمین کے نیچے چلا گیا۔ شیطانوں کی ہڈیاں پل کی اینٹوں میں مل کر خاک کا ڈھیر بن گئیں جس سے زمین کے دلدلی علاقے سخت اور ٹھوس ہو گئے۔

اس واقعے کے بعد چند روز تک سب معتدل رہا انسانوں نے شیطانوں کی دعوت کی اور شیطانوں نے انسانوں کی۔ مگر جلد ہی شیطانوں کو یہ محسوس ہونے لگا کہ اتنی کم روشنی میں انہیں کچھ صاف دکھائی نہیں دیتا ہے۔ ان کی آنکھیں کمزور ہو رہی ہیں۔ انہوں اس بات کا احساس انسانوں کو دلایا تو انسانوں نے اسے شیطانوں کا وہم قرار دیا۔ پھر کچھ دنوں میں شیطانوں کے بڑے بڑے سردار اندھے ہونے لگے یہ دیکھ کر شیطانوں کے گروہ میں ہلچل مچ گئی۔ انہوں نے انسانوں سے کہا کہ وہ اس حالت میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ انہیں آسمان پر کھنچا ہوا پردہ اتارنا ہوگا جس کے لیے انہیں انسانوں کی مدد درکار تھی۔ انسانوں نے انہیں اپنے اور ان کے بچوں کا واسطہ دیا تو انہوں نے اپنے بچوں کے گلے گھونٹ کر ان کی لاشیں انسانوں کے سامنے بچھا دیں۔ اس منظر نے انسانوں کے دل میں شیطانوں کے لیے نفرت پیدا کر دی۔ انہوں نے اپنے بچوں کا گلا گھونٹنے سے اور ان کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ شیطانوں کے گروہ میں ہاہاکار مچ گئی، کیوں کہ وہ انسانوں کی مدد کے بغیر آسمان تک پہنچنے کا پل تیار نہیں کر سکتے تھے۔ دھیرے دھیرے روشنی کی کمی کے باعث شیطانوں کی موت ہونے لگی۔ وہ انسانوں کے آگے ہاتھ جوڑ جوڑ کر گڑ گڑاتے مگر انسان ان کی ایک نہ سنتے۔

آخر کار بچے کھچے شیطانوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک کے کندھے پر دوسرا کھڑا ہو اور آسمان کی اونچائی تک پہنچ کر اس پرد ے کو نوچ دیں۔ انہوں نے ایک رات جب سارے انسان گہری نیند سو رہے تھے تو ایک دوسرے کے کندھے پر سوار ہو کر آسمان کےپردے تک پہنچنے کی کوشش کی مگر بڑی مشکل سے صرف سب سے اوپر والا جو اندھیرے کے باعث بہت لاغر اور کمزور ہو چکا تھا آسمان کے پردے تک پہنچ پایا۔ اس نے چاروں کونوں کے ستاروں سے رسی کھینچ کر اسے کھول دینا چاہا مگر بری طرح ناکام رہا۔ رات بھر کی کوشش کے باوجود کچھ ہاتھ نہ آیا۔تھکن اور کمزوری کے باعث جب شیطانوں کامینار ڈگمگانے لگا تو سب سے اوپر والا شیطان ایک ستارے کی رسی پکڑ کر اس میں لٹک گیا اور سارے شیطان زمین پہ گر کر نیست و نابود ہو گئے۔ دوسرے روز جب انسانوں نے دیکھا تو انہیں چاروں طرف شیطانوں کی لاشیں بکھر ی ہوئی نظر آئیں۔ یہ منظر دیکھ کر انہوں نے خوب جشن منایا اور آسمان کے ستارے سے لٹکا ہوا آخری شیطان ان کی ظالمانہ حرکت کو دیکھ کر بہت رویا۔ اس کے دل میں انسانوں کی نفرت بیٹھ گئی اور اس نے سوچا کہ آج سے زندگی کی آخری سانس تک یہا ں سے لٹکا ہوا انسانوں کی بستی پر اپنے پیشاب کی بارش کرتا رہوں گا تاکہ اس کی بوندیں ان کےمعدوں میں جائیں اور ان میں بھی شیطانی صفات پیداہونے لگیں۔ اس نے قسم کھائی کہ انسانوں نے جس طرح اپنے ظلم سے شیطانوں کو خاک میں ملایا ہے ویسے ہی میں اپنے پیشاب سے انسانوں کو خاک میں ملا کر شیطانوں کی ایک نئی دنیا پیدا کروں گا۔ یہ کہہ کر اس نے ایک روز دار چیخ ماری۔ جس چیخ کی آواز دھیرے دھیرے تیز ہوتی چلی گئی۔ وہ آواز اتنی تیز ہوئی کہ اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ اس کے ماتھے پہ پسنے کی بوندیں ابھر آئی تھیں اور ابھی تک اس چیخ کی آواز اس کےکانوں میں گونج رہی تھی جو کچھ لمحے کے لیے دھیمی ہوئی اور پھر تیز ہوتے ہوتے اتنی تیز ہو گئی کہ اس کی آنکھیں سرخ ہو کر ابل پڑیں۔

(6)

شہر کے جنوبی علاقے میں مختلف اخباروں کے پرنٹگ پریس لگے ہوئے تھے۔ ان تنگ گلیوں کے درمیان روز صبح پورے شہر کی کرتوتوں کا نقشہ تیار ہوتا تھا ۔ہر صبح کئی گاڑیاں اخباروں کے ہزاروں گٹھڑ لاد کر پورے شہر میں پہنچاتیں، ہر عمر کے اخبار والے اپنی سائیکلوں پر سوار ہو کر آتے اور لائن لگا کر کھڑے ہو جاتے۔ اپنی باری آنے پر ہر شخص اپنی روز کی تعداد کے حساب سے اخبارات جمع کرتا، انہیں سائیکلوں کی پشت پر بنے کیریر میں دباتا اور شہر کی جانب نکل جاتا۔تمام سائیکل والے جب یکے بعد دیگرے جنوبی علاقے سے نکلتے تو ایسا لگتا جیسے شہر میں سائیکل ریس ہو رہی ہے۔ اکثر وہ صبح پانچ،چھ بجے قریب اٹھ کر ٹہلتا ہوا شہر کے میدانی علاقے کے پاس بنے لوہے کے پل پر آ کر کھڑا ہوجاتا۔ جب آوازیں اسے بہت زیادہ پریشان کرتیں یا دیر رات تک نیند نہ آتی تو وہ اس لوہے کے پل پر کھڑا ہو کر شہر کے چوڑے راستوں کو دیکھتا۔ اخبار والوں میں اسے اپنی عمر کے لوگ بھی دکھائی دیتے تھے۔ وہ سب بہت جلدی میں ہوتے۔ سائیکل کے پیڈلوں پہ پیر جمائے تیزی سے لوگوں کے دروازوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔ انہیں معلوم تھا کہ شہر کا صاف ستھرا علاقہ صبح کی چائے پہ اپنے ارد گرد کے حالات جاننے کا کتنا شوقین تھا۔ ایک اخبار یعنی ان کا مہینے بھر کا ایک کسٹمر جسے اخبار اگر وقت پہ نہ پہنچا تو وہ روپیہ کی ادائیگی میں آنا کانی کر سکتا ہے جس سے اس کی محنت ضائع جائے گی۔ وہ جانتے تھے کہ ہر گھر تک پہنچنے کا ایک وقت ہے اگروہ ایک گھر پہ صحیح وقت پہ نہ پہنچے تو یقیناً انہیں ہر گھر تک پہنچنے میں دیر ہو جائے گی۔

وہ انہیں دیکھ کر سوچتا کہ اس زندگی سے بہتر تو اس کا چمنی کے منہ پر کھڑے ہو کر بوتلیں کھینچنا ہے۔ جس میں چمنی خود بتا دیتی ہے کہ اب بوتلیں باہر کھینچی جانی ہیں۔ اسے صرف لوہے کا ایک اوزار اپنے ہاتھوں میں تھامنا ہوتا ہے۔ کسی کو جواب دیے بنا۔ کہیں پہنچنے کی خواہش سے دور صرف ایک جگہ دونوں ٹانگیں مضبوطی سے جمائے کھڑے رہنا ہے۔ مگر پھر اسے شہر کے راستے نظر آتے جن پہ رنگ برنگی گاڑیاں بھی چلا کرتی تھیں۔ لوگوں کے رنگین اور خوشبو دار کپڑے۔پھر وہ خود کے کپڑوں کو سونگھتا جن میں کارخانے کی مہک بسی ہوئی تھی۔ اس نے کارخانے کی مہک کو ہمیشہ بہت دیر دیرتک سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ وہ پہچان ہی نہیں پاتا تھا کہ کار خانے میں کس چیز کی مہک آتی ہے۔ جب اسے لگتا کہ کانچ کی بوتلیں یا چمنی مہکتی ہے تو وہ باری باری سب کو سونگھتا۔ مگر کسی بھی شئے سے مہک اٹھتی محسوس نہ ہوتی۔ یہ اشیا کے ملے جلے تعفن کی مہک تھی۔ اسے لگتا جیسے کارخانہ کہیں اندر سے سڑ رہا ہے جس کی ہر شئے ابھی تک ظاہری طور پر سلامت ہے۔ مگر اس کا علم شائد مالک کو نہیں ہے کہ کار خانے میں ساری چیزیں اند رسے سڑ رہی ہیں۔ اسے اپنے وجود کے سڑنے کا احساس بھی ہوتا۔ مگر خود اعتمادی سے وہ اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیتا اور لوہے کے پل کا ہتھا تھام کر صبح کے اگتے سورج سے نظریں ملانے کی کوشش کرتا۔ اسے صبح کا سورج پسند تھا وہ اکثر غور کرتا تھا کہ اس میں بہت اپانیت ہے۔ اس نے کئی مرتبہ اپنے پڑوسیوں سے صبح کے سورج کی کشش کے متعلق جاننے کی کوشش بھی کی تھی۔ مگر اس معاملے میں وہ خاموش ہی رہتے تھے۔ وہ اس معاملے میں اخبار بیچنے والوں کو خوش نصیب سمجھتا تھا کہ وہ روز صبح کے سورج کا استقبال کرنے کے لیے سائیکلوں پہ سوار ہو کر شہر کی سڑکوں پہ چکر لگاتے ہیں۔ اچانک اسے خیال آیا کہ اسے بھی کچھ دنوں تک اخبار بیچنا چاہیے، کم سے کم صبح کے سورج کی محبت میں۔مگر اس نے اسے خیال کو فوراً جھٹک دیا۔ اس نے سوچا کہ جب تک وہ چمنی کی مہک کا راز نہیں جان لے گا تب تک کار خانے کو ہر گز الودعی نہیں کہے گا۔

آج وہ کارخانے پہنچا تو سینٹ سے بھری بوتلوں کا ایک ڈبہ اسے مالک کے کاونٹر کے پاس رکھا دکھائی دیا۔ مالک نے اس پہ نظر ڈالی اس کی حاضری کا اندراج کرتے ہوئے اسے آواز دی۔ اس نے مالک کی آواز سن کر اپنے بڑھتے قدم روک لیے۔”اس ڈبے میں سے ایک بوتل تیری ہے۔” وہ کچھ سمجھ نہ سکا۔ مالک نے پھر کہا” آج سینٹ کی بوتلوں کے چار نئے کنسائنمنٹ ملے ہیں۔اب ہمیں الگ الگ طرح کی بوتلیں بنانی ہیں اور کمپنیوں تک پہنچانی ہے۔ یہ سینٹ ہمیں اپنی ایک نئی کمپنی نے گفٹ کیا ہے۔ ان میں سے ایک تیرا ہے۔ دیکھ لے اب ایسی ہی بوتلیں بنیں گی۔ “و ہ مالک کی یہ بات سن کر خوش ہو گیا۔ اسے یقین آ گیا کہ اس کا مالک اس کے کام سے خوش ہے۔ “آج سے تجھے ساٹھ کے بجائے اسی رپیہ روز کا ملا کرے گا۔یہ لے اور جا کام کر۔” اسے بہت حیرانی ہو رہی تھی۔ نہ جانے اس نے ایسا کیا کیا کہ اس کے پیسے بھی بڑھا دیے گیے اور مالک نے اس سے اتنی باتیں بھی کیں۔ وہ اسی روپے سے زیادہ خوش اپنے مالک کے رویے سے تھا۔

اسے لگا جیسے یہ کار خانہ ایسی جگہ ہے جہاں وردی والے اس کا احترام کرنے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔ جیسے شہر کے تمام رئیس اسے اپنے برابر کا تصور کرنے لگے ہیں۔ اس کا مالک اس کا اپنا دوست بن گیا ہے اور وہ رنگ برنگی گاڑیاں جو ٹیلے کے سامنے والی سڑک سے گزرتی ہیں انہوں نے اسے دیکھ کر منہ چڑھانا بند کر دیا ہے۔ اس نے سینٹ کی بوتل کو غور سے دیکھا جیسے یہ کوئی غیر نہیں بلکہ اس کی اپنی اولاد ہو۔جس نے اس کا نام فخر سے اونچا کر دیا ہو۔ اس نے اسے اپنی قمیض کی اوپری جیب میں رکھا اور چمنی کے منہ پر کھڑے ہونے والے موٹے دستانے پہن کر لوہے کی روڈ ہاتھوں میں اٹھا لی۔ آج وہ دن بھر اندر ہی اندر گنگناتا ہوا چمنی کے پیٹ سے بوتلیں نکالتا رہا اور انہیں دفتی کے ڈبوں میں بند کر کے محبت بھرے انداز میں آگے کی طرف کھسکاتا رہا۔

شام کو جب وہ کارخانے سے نکلنے لگا تو اس کے مالک نے اسے اسی روپے دیئے اور روز والا سوال پوچھا۔ اس نے دوسرے دن آنے کا وقت بتایا اور باہر نکل گیا۔ وہ کار خانے سے باہر نکلا تو جھٹپٹے کا وقت ہو چلا تھا۔ سورج تیزی سےاندھیروں کی گپھا کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ اپنے گھر تک پیدل ہی جاتا تھا، کیوں کہ کار خانے کی گلیوں میں کسی سواری کو لانے کا مطلب تھا منٹوں کی مسافت گھنٹو میں طے کرو۔ وہ آہستہ آہستہ چلتا ہو ا گھر کی جانب بڑھ رہا تھا اور بار بار اپنی قمیض کی جیب سے سینٹ کی بوتل نکال کر اسے اپنے ہاتھ میں تھام لیتا تھا۔ پھر کچھ سوچ کر قمیض کی جیب میں رکھ دیتا اور پھر نکال لیتا۔ اس نے اب سے پہلے کبھی سینٹ کی بھری ہوئی بوتل استعمال نہیں کی تھی۔ کانچ کی خوبصورت بوتل جس میں ہلکے کتھئی رنگ کا سیال بھرا ہوا تھا۔ وہ اسے استعمال کرنا چاہتا تھا اور کیسے کیا جاتا ہے اسے یہ بھی معلوم تھا، مگر اس کے لیے اسے ایک صحیح موقع کا انتظارکرناتھا۔ اسے آج تک خوشبو لگانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔ یوں بھی زندگی میں جتنے قسم کی بد بووں سے اس کا واسطہ پڑا تھا ااس کی ایک چوتھا ئی خوشبوئیں بھی اس نے نہیں سونگھی تھیں۔ وہ ٹیلے کے متعلق سوچنے لگا جہاں طرح طرح کی بدبووں سے اس کی ناک بھر جاتی تھی۔ سڑے ہوئے پانی، نشہ آور اشیا، جلے ہوئے ٹائر، مرے ہوئے پرندے، گائے اور بھینس کے گوبر اور انسانی پاخانے، پیشاب کی ملی جلی بدبو۔ اسے لگتا جیسے ہزاروں انسانی لاشوں کو جلا کر ان کا دھواں ٹیلے کی مٹی میں ملا دیا گیا تھا جس وجہ سے اس کے چپے چپے سے سڑتی ہوئی انسانی آنتوں کی مہک آتی تھی۔ اس کے باوجود وہ ٹیلے کو ایک پر سکون مقام سمجھتا تھا جہاں سگرٹ کے کشوں سے اسے زندگی کے بوجھل لمحوں اور وردی والوں کے جبر سے راحت ملتی تھی۔

اس نے گھر پہنچ کے اپنی سینٹ کی بوتل کو بہ حفاظت تمام اپنے صندوقچے میں رکھا۔ اپنی قمیض تبدیل کی اور دوبارہ گھر کے باہر آ گیا۔ اب اس کی رفتار سے لگتا تھا جیسے اسے کہیں پہنچنے کی جلدی تھی۔ اس کی جیب میں اس وقت اسی روپے تھے۔ وہ شہر کے ایک سرے سے دوسرے سے تک سواری سے آ جا سکتا تھا۔ اس نے سڑک پہ آ کر سواری روکی اور شہر کے شمال مغربی حصے میں جو کالج تھا اس کی طرف چل دیا۔ جب وہ کالج کے گیٹ پہ پہنچا تو کالج کا دروازہ اسے مقفل نظر آیا۔ اس نے سواری چھوڑ دی۔ کچھ دیر تک کھڑا کالج کے گیٹ کو تکتا رہا پھر ان گول سرکاری عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ آ گیا جہاں پیدل چلنے والے لڑکے لڑکیوں کاریلا دائیں سے بائیں اور بائیں سےدائیں کی طرف آ جا رہا تھا۔ وہ بھی اسی بھیڑ میں شامل ہو گیا۔ اس نے کچھ آگے جا کر دوبارہ پلٹ کے کالج کے گیٹ کی طرف دیکھا۔ اس طرح جیسے اپنے دیکھے پر یقین کرنا چاہ رہا ہو اور پھر اس ریلے کے پیچھے چلنے لگا۔ وہ چلتے چلتے آتی جاتی لڑکیوں پہ نظریں جماتا ان کے قریب سے گزرتے ہوئے زور سے اپنی سانس کھینچتا اور ان کے کھولے ہوئے بالوں سے اٹھنے والی مہک کو اپنے نتھنوں میں جمع کرنے کی کوشش کرتا وہ کافی دیر تک اسی طرح حکومتی عمارتوں کی فٹ پاتھ پہ ریلے کے پیچھے چلتا رہا۔ کچھ لوگ کسی فٹ پاتھ سے ایک خاص گلی میں مڑجاتے تو کچھ لمحوں میں دوسری گلی سے کچھ نئے چہرے نکل کر اس بھیڑ کا حصہ بن جاتے۔ اس نے سوچا کے یہ مہکتا ہوا شہر اوپر سے کتنا خوبصورت ہے۔ نہ جانے کیوں اسے یہ سب ڈھونگ لگا، مگر وہ اس ڈھونگ سے لطف اندوز بھی ہو رہا تھا۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ مختلف لوگوں کے کپڑوں اور بالوں سے اٹھنے والی مہک اسے پل بھر کے لیے زندگی کا ایک نیا احساس عطا کرتی ہے۔ جب جب وہ کسی لڑکے یا لڑکی کے قریب سے گزرتا ہے تو اس کی مہک کے تجربات میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے ذہن کوان خوشبو وں کے درمیان گردش کرتا ہوا پا کر خوش ہو رہا تھا۔ اسے لگتا جیسے چمنی کی مہک جس کا سراغ لگانے کے لیے وہ اتنا پریشان تھا اس کے ان خوشبووں کے مقابلے میں اس پہ وقت صرف کرنا خود کو اندر سے سڑانے کی طرح ہے۔

اسے ٹیلے کی بدبو اور دھلے دھلائے صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس لوگوں کی خوشبوں میں ایک بڑا فرق معلوم ہوا۔ اسے لگا کہ ٹیلے پہ اٹھنے والی خوشبویں اسے سکون تو عطا کرتی ہیں مگر اس میں غم کی ایک لہر ہو تی ہے ایسی جو اسے اندر سے مرجھا دیتی ہے، جبکہ یہاں کی خوشبوں میں اسے انجانی خوشی کا احساس ہو رہا تھا۔ جیسے پیپر منٹ کی گولیاں اس کی سانس میں گھل کر انہیں تازہ کر رہی ہوں۔ اس نے سوچا کہ یہاں کی خوشبووں سے لطف اندوز ہونے کے لیے اب وہ روز شام کو یہاں آیا کرے گا۔ ان سڑکوں پہ چلنے والے صاف ستھرے لوگوں کے بدن سے اٹھنے والی خوشبوں میں ڈوب کر زندگی کا نیا احساس حاصل کرے گا۔ اسے اپنا ٹیلے پہ جانا فضول معلوم ہونے لگا۔ اس نے سوچا کہ اگر اسے سگریٹ کے کش ہی لینا ہیں تو وہ لوہے کے پل پہ جا کر بھی لے سکتا ہے یا ان سڑکوں پہ گردش کرتے ہوے بھی سگریٹ پی سکتا ہے۔ پھر اچانک کچھ سوچ کر اس نے اپنے آخری فیصلے کو غلط تصور کیا اور ہولے کے پل کو سگریٹ کا اڈا بنانے کی ٹھان لی۔ مگر اسے اپنے ٹیلے سے نفرت سی ہو رہی تھی جہاں سے سوائے زندگی کے افسردہ رنگوں کے اس نے کچھ حاصل نہ کیا تھا۔

Categories
نان فکشن

ساقی فاروقی کی نظم: وجودیت و آفاقیت کے مابین (پہلا حصہ) – تالیف حیدر

نئی نظم کی سب سے بڑی پہچان اس کی زبان ہے، لفظ کا نپا تلا استعمال، ایسا جس میں نئے رنگ کی آمیزش ہو۔ یہ نیا پن کیا ہے؟ اس کا جواب ہمیں ساقی کی شاعری میں ملتا ہے۔ یوں تو ہم نظم کی کوئی واضح سرحد کبھی نہیں بنا سکتے کہ کس وقت اور کن حالات میں نظم نے پرانا لہجہ ترک کیا اور نئے لہجے کو خوش آمدید کہا، کیوں کہ الفاظ کی نشست و برخاست کا عمل شاعری میں مسلسل جاری رہا ہے۔ کوئی شاعر جب زندگی کے نئے تجربات سے گزرتا ہے تو اس کی شاعری میں خود بہ خود نئے الفاظ آہستگی سے جگہ بنانے لگتے ہیں، اردو نظم کی تاریخ کے تناظر میں اس امر کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں حالی اور آزاد سے اپنا سفر شروع کر کے راشد اور میراجی تک کئی مرحلوں پہ یہ محسوس ہوتا ہے کہ بے شمار الفاظ کبھی بالکل غائب ہو جاتے ہیں اور کبھی اتنے زیادہ نظر آنے لگتے ہیں کہ ہم ان کے استعمال اور عدم استعمال کے متعلق کوئی فیصلہ سنا ہی نہیں پاتے، لہذا ہمیں زبان کی سطح پہ نئے پن کو پرانے سے ممیز کرنے کے لیے ایک خاص وضع کو پیش نظر رکھنا ہوتا ہے جس میں شاعر کے تجربات لفظ کے تجدید معنی یا اثر کا کام کرتے ہیں۔ نظم کی تاریخ میں یہ کام بہت واضح انداز میں ساقی کے یہاں نظر آتا ہے۔ خاص کر ہم جس عہد کی نظم کی بات کر رہے ہیں، یعنی وہ نظم جس نے اسی (80ء) کی دہائی سے اپنے مختلف الجہت ہونے کا احساس دلایا۔ ساقی کا لہجہ بہت سے مرحلوں میں کمزور صحیح لیکن اس کی مجموعی حیثیت ایک اچھوتی شناخت قائم کرنے میں کامیاب نظر آتی ہے، جس کی وجہ اس کا لہجہ ہے جو زبان کے جز معنوی حصار سے باہر ہے۔ ساقی کی نظم کا حاصل مطالعہ اس بات کا ثبوت پیش کرتا ہے کہ اردو نظم کے نئے معیار قائم کرنے میں اس کا لہجہ معاونت کر رہا ہے، کیوں کہ اس میں فکر بھی ہے اور فنی لوازم بھی۔ ساقی کی نظم یا فلسفہ خیال کن باتوں سے مرتب ہوا ہے اسے بیان کرنے سے قبل میں یہ کہہ دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا شاعر ہر گز نہیں جس کی نظموں کے انتخاب سے اس کے متعلق کوئی فیصلہ سنایا جا سکے۔

نظم کی سطح پہ ہم ساقی کے کلام کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی شاعری میں کئی مختلف رنگوں کی کائنات تراش رہا ہے، جس میں خاصی گیرائی پائی جاتی ہے۔ ہر اچھے یا بڑے شاعر کی طرح ساقی کے یہاں نظم کی ابتدا میں استعارہ اور استعارہ در استعارہ باتوں میں معنی کی گیرائی پیدا کرنے میں کوشاں معلوم ہوتا ہے۔ وہ استعارہ خلق کرنے کا ہنر جانتا ہے، ایسا جس میں دلکشی ہے، اس کی نظم میں سادے استعاروں میں بھی شاعرانہ رمز کی کمی نہیں ہے اس لیے اس کے استعارے ہمیں بوجھل معلوم نہیں ہوتے۔ حالاں کہ اس میں معنی کی سجی ہوئی کائنات کارفرما ہوتی ہے، جو ہمیں کچھ دیر اپنے چھلاوے میں الجھائے رہتی ہے، لیکن اس سے ہمارا شاعرانہ تعلق اولاً ہی قائم ہو جاتا ہے اس لیے اس کا الجھاو ہمیں اکھرتا نہیں ہے۔ ساتھ ہی اس میں استعارہ در استعارہ کی کیفیت ایک متضاد معنویت پیدا کر دیتی ہے، جس پہلو سے ساقی کے کلام کو دیکھنے کے لیے ہمیں اس کی نظموں کو ٹھہر کر پڑھنا پڑتا ہے۔ اس متضاد کیفیت کا اثر اس بات کی شعوری کوشش معلوم ہوتی ہے کہ جو کچھ امکان سے باہر ہے اسے اپنی سعی و جستجو سے امکان میں لایا جائے۔ خواہ اس سے بات کے بنتے ہی بگڑ جانے کا خدشہ ہی پیدا کیوں نہ ہو جائے، لیکن ساقی اس امر کو اپنی نظم میں جزو لاینفک کی طرح شامل رکھتا ہے۔

اس کی نظم کا بنیادی اور مرکزی نقطہ تنہائی ہے، ظاہر ہے کہ یہ ہمارے عہد کا ایک بڑا موضوع ہے جسے ہر شاعر نے اپنے طور پہ برتا ہے، لیکن ساقی کی تنہائی میں بے شمار رنگینیاں ہیں۔ وہ صرف ایک نوع کی تنہائی کا راگ نہیں الاپتا، بلکہ تنہائی کے مختلف پہلووں کی تلاش میں سر گرداں رہتا ہے، جس کے باعث اس کے یہاں تنہائی کے فکری ابعاد پیدا ہو گئے ہیں۔ وہ اس کی اداسی اور تھکن کو بھی بیان کر تا ہے جس میں زندگی کی یاسیت اور تھکاوٹ کو شامل کر دیتا ہے، لیکن ساتھ ہی اسی اداسی سے ایک نئی امنگ بھی وجود میں لاتا ہے جس سے تنہائی کا عذاب ایک نعمت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کی نظموں کی بعض نمایاں شناختوں میں امید بھی اسی لیے ایک اہم شناخت ہے، اس نے اپنی نظم میں اعتدالی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس سے کبھی امید کا چراغ روشن ہوتا ہے اور کبھی نو میدی کی تپش محسوس ہوتی ہے۔ حالاں کہ کل نظموں میں یہ اعتدال برقرار نہیں رہ پاتا ہے، بعض نظموں میں ساقی کشمکش کا شکار ہوتے ہوئے اتنا الجھا ہوا محسوس ہوتا ہے کہ معنی کی ترسیل ہی نہیں ہوپاتی اور کچھ نظمیں اسی وجہ سے بہت معمولی درجے کی بھی ہو گئی ہیں۔ ایسی معمولی نظموں میں “نایافت” کو شمار کیا جا سکتا ہے اور کشمکش کی کیفیت میں مبتلا رہنے والی نظم کی اچھی مثال “پری کا سایہ” ہے۔

ساقی کی نظموں میں خواب کی اہمیت بہت زیادہ ہے، خواہ وہ زندگی کا خواب ہو یا کسی ایسے سچ کا جس کو پانا امکان سے پرے ہو۔ چوں کہ اس کے یہاں ایک ایسےفکری نظام کا تسلسل ہے جس میں بدلاؤ بڑی حد تک پیدا ہوتا چلا جا رہا ہے اسی وجہ سے اس کے خوابوں کی شناخت بھی تبدیل ہوتی چلی جاتی ہے، ابتدائی کلام میں جو خواب صرف زمینی حقیقت سے وابستہ معلوم ہوتے ہیں وہ دھیرے دھیرے ایک غیر معروضی حقیقت میں ضم ہوتے چلے جاتے ہیں، ایسے خواب جن کی کشش ہمیں شاعر کے لہجے سے زیادہ اس کی فکری نہج کی طرف کھینچتی ہے۔ اس کے یہاں خواب کی اہمیت سحر آلود ہے اسی لیے وہ اپنے خوابوں کو نظم کی مختلف اجزا میں بکھیر دیتا ہے تاکہ ان میں سطحیت کا گزر نہ ہو پائے۔ ساقی اپنے مشاہدے سے بہت زیادہ کام لیتا ہے، اسی کی نظم کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہ مستقل کسی نئے خیال کی تلاش میں سرگرداں ہے، خواہ وہ خیال خود اس کے وجود سے پھوٹے یا وراء الورا سے۔ حالاں کہ اس کے یہاں جسم ایک بڑی حقیقت کی مانند ابھرتا ہے جس کے تقاضوں کو بیان کرنے میں اس نے کمال فن کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ ہوس کو شاعرانہ تخاطب میں لا کر ایک ایسی پرکشش شئے میں تبدیل کر دیتا ہے جس سے انسانی کج فہمی جو ہوس کو سفلی تصور کرتی ہے وہ کلیتاً ہوا ہو جاتی ہے اور اسے انسانی جذبہ جنس کی اثر انگیزی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ساقی کے یہاں بدنی جذبات کے باریک نکات کا بیان ملتا ہے، جس میں انتشار کی کیفیت ہے، جو ایک ایسی کسک کو جنم دیتی ہے جو شاعر کی جنونیت کا احساس دلاتی ہے کہ وہ اپنے فکری عمل میں کس قدر غلطاں ہے۔ وہ اپنے وجود میں کھویا ہوا بھی نظر آتا ہے اور اس سے بالکل کٹا ہوا بھی، نئے خیال کی تلاش اسے کسی شئے کے کھو جانے کی کیفیت میں مبتلا رکھتی ہے، جس کے باعث وہ اپنے اطراف کو ٹٹولتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

ساقی کے یہاں بعض الفاظ بہت زیادہ استعمال میں آئے ہیں مثلاً روح، بدن، پانی، رنگ اور صحرا وغیرہ وہ ان لفظوں سے ہر بار ایک نئی معنویت پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے، کبھی روح کا اثبات کرتا ہے اور کبھی انکار۔ کبھی اپنے بدن کی دیوار گرا کر روح کو اس میں ملا دیتا ہے تو کبھی روح کو اپنے وجود سے باہر کھینچ لاتا ہے۔ رنگ کے متعلق بھی اس نے اپنے ہی تجربے کیے ہیں، وہ کسی خاص رنگ کا نام استعمال نہیں کرتا، بلکہ لفظ رنگ کو استعمال کر کے اس سے معنی کا نیا نظام پیدا کرنے میں کوشاں نظر آتا ہے۔ کہیں کہیں وہ رنگ کے معنی اتنے مبہم بنا دیتا ہے کہ سادہ بیانی کے باجود اس کے اصل معنی تک ترسیل مشکل ہو جاتی ہے، مثلاً اس کی مشہور نظم “رنگ اور آگ” میں رنگ کن معنی میں استعمال ہو رہا ہے اس کے متعلق کوئی فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

متذکرہ بالا الفاظ سے قطع نظر ساقی نے عام طور پر الفاظ کو اس طرح استعمال کرنے کا ہنر خود میں پیدا کر لیا تھا کہ اس کا بیان ذو معنی معلوم ہوتا تھا، مثلاً وہ جس طرح اپنے خیال کو نظم کرتا ہے اس سے واقعے کو الٹ کے دیکھنے کی بصیرت بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس کی نظم کا فکری بہاو ہمیں کسی ایک چشمے پہ اکتفا نہیں کرنے دیتا۔ مثلاً وہ خوشی میں غم کا پہلو تلاش کرتا ہے اور اسے اس طرح نظم کرتا ہے کہ اسی غم میں دوبارہ خوشی تلاش کرنے کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔ حالاں کہ اس کی نظموں میں دکھ کا رونا بہت رویا گیا ہے ساتھ ہی عامیانہ جذبات بھی بہت ہیں، لیکن حزن و یاس کے مختلف پہلووں کو بیان کرنے میں اس نے اس قدر زاویے بنائے ہیں کہ ایک کا دوسرے میں ضم ہو جانا کوئی معیوب بات معلوم نہیں ہوتی۔ اس کے غم عام ہیں، ویسے ہی جیسے ہر انسان کے ہوتے ہیں، ساقی کا کمال یہ ہے کہ اس نے ان عام دکھوں کو خاص انداز میں بیان کر دیا ہے۔ انسانی دکھوں کا علاج تلاش کرنے کہ بجائے انہیں معصومانہ اور استفساریہ نگاہوں سے دیکھا ہے جس کے باعث ایک ایسی حیرانی نے جنم لیا ہے جس میں ایک نوع کی تکرار پیدا ہو گئی ہے۔ میں اسے ساقی کی کمزوری نہیں سمجھتا، بلکہ اسے انسانی دکھوں سے اس کے لگاو پہ محمول کرتا ہوں کہ اس نے اپنی بصیرت کو اس رخ پہ جمائے رکھا اور اسے ظاہر کرنے کی متاثر کن زبان ایجاد کی۔ انہیں دکھوں میں جنس کا دکھ بھی شامل ہے جو ایک توانا خواہش کی شکل میں نمودار ہوتا ہے۔ ساقی نے اس جنسی خواہش کا محور خود کی ذات کو بنا کر انسانی جنس کے المیے کو ظاہر کیا ہے کہ جنس انسان کے حواس پہ کس طرح غالب ہوتی ہے اور اسے کس طرح اپنے شکنجے میں لے لیتی ہے۔ اس کی نظموں میں جس محرومی کا تصور رہ رہ کہ بیدار ہوتا ہے اس میں جنسی تسکین کی محرومی بھی شامل ہے۔ اس کی نظموں کے یہ دونوں پہلو دیدنی ہیں کہ وہ کہیں تو جنس کو حسن و جمال کی تصویر بنا دیتا ہے اور اس میں کشش پھونک دیتا ہے اور کہیں اسے ایک اندرونی جبر کی طرح ابھار کے اس کی سوزش کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کی نظموں میں حسین لمحوں کو مقید کرتے ہوئے اشعار بھی ہیں، جن میں مناظر کی تازہ کاریاں ہے، اپنے وجود کا بھر پور لہجے میں اثبات ہے، احساس کی ترنگ ہے اور ایسے کلاسیکی رنگ کے اشعار ہیں جن سے میر اور سودا کی تاد تازہ ہو جاتی ہے۔ لیکن جہاں ایک طرف یہ سب ہے، وہیں دوسری طرف ایسا بے باک لہجہ بھی ہے جس سے معاشرے کا توہم بے نقاب ہو کر سامنے آ جاتا ہے، انسانی منافقت کی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے اور شاعر اپنے کلام میں اپنی ذات سے فرار کی کہانیاں سنانے لگتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ساقی کو خوف کو مسرت بنانے کا ہنر آتا ہے اور اس نے اپنی بعض نظموں میں ایسا کیا بھی ہے، لیکن جہاں اس کا لہجہ کرخت ہوتا ہے وہ انبساط کو کلیتاً فراموش کر دیتا ہے۔ ساقی اپنی نظموں میں اختر شیرانی کی طرح ادھوری جنسیت کو بیان کرتا ہے اور نہ فیض کی مانند منہ بسوری ہوئی مظلومیت کو۔ وہ حقیقت پسند بھی ہے اور اسے معنی آفرینی کا ہنر بھی آتا ہے اس لیے وہ کوئی بات کہنے کے لیے وہ لہجہ اختیا ر کرتا ہے جس میں لطف بھی ہوتا ہے اور فکر بھی۔ اس کی جمالیاتی حس بھی خاصی بیدار ہے، جس کے بے شمار نمونے ہمیں اس کی تشبیہات میں نظر آتے ہیں۔ ظاہراً اس کی تشبیہات اردو غزل سے مستعار لی ہوئی معلوم ہوتی ہیں، لیکن ایک نوع کی تازگی ان میں خود ساقی کے ہنر اور فکری نظام نے بھری ہے۔ ساقی اپنی نظموں میں وجودیت اور آفاقیت کے درمیان توازن قائم رکھتا ہے، اسی لیے نہ اس کے کلام میں مناظر فطرت کی بھرمار ہے اور نہ ہی عشق و محبت کی۔ اس کی نگاہ اگر سب سے زیادہ کہیں مرکوز نظر آتی ہے تو اپنے اطراف پہ جس میں خود اس کا وجود بھی شامل ہے۔ لہذا جب وہ اپنے اطراف کی معمولی سے معمولی شئے کو اپنی نظم کا موضوع بناتا ہے تو ہم ششدر رہ جاتے ہیں کہ کسی عام سے خیال کو یوں بھی پیش کیا جا سکتا ہے؟ یہ ہنر اس کے کلام میں تہہ داری کے باعث پیدا ہوا ہے، حالاں کہ بعض مقامات پہ وہ کسی واقعے کو بیان کرنے میں اتنا سہل ہو جاتا ہے کہ اس کا رویہ سطحی معلوم ہونے لگتا ہے، بعض اوقات وہ شعوری طور پہ کسی نظم میں گیرائی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہوا نظر آتا ہے، اس کے باوجود اس کے کلام کا بڑا حصہ اسی نوع کی تہہ داری سے مزین ہے جس کا تذکرہ اوپر کیا گیا ہے۔

ساقی کا ایک بڑا کمال یہ بھی ہے کہ اسے معمولی واقعات میں تاریخ انسانی کی جھلکیاں دیکھنے کا ہنر آتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس کی نظموں میں بیان کی گئی کہانیوں میں طاقتور امیجری قائم ہو گئی ہے۔ اس نے روایتی قصوں کو اپنی زبان میں بیان کیا ہے، جس کامختلف بیانیہ اردو شاعری کو ایک نیا طرز دیتا ہے۔ ساقی کی نظموں میں موت کا خوف بھی رہ رہ کر ابھرتا ہے، لیکن موت کا بیان وہ اس طرح کرتا ہے کہ واقعات کی کڑیاں ایک دوسرے میں الجھ کر حسین بن جاتی ہیں، وہ منظر نگاری کرتا ہے تو اس کے درمیان زندگی کی حقیقت تلاش کرتا نظر آتا ہے، اس کے اکیلے پن کا احساس ایسے ابہام سے مزین ہوتا ہے کہ اس میں منافرت کا جذبہ ہونے کہ باوجود وہ بھلا معلوم ہوتا ہے۔ اس نے عشقیہ جذبات سے بھی دامن نہیں بچایا ہے، بعض نظموں میں یہ جذبہ عشق بہت ستھرے ہوئے لہجے کے ساتھ سامنے آتا ہے، جس میں ڈرامائیت بھی ہوتی ہے، ہذیانی تصنع بھی، داخلی رنج بھی اور زمانی خلفشار بھی۔ وہ اچھوتی تراکیب استعمال کرتا ہے جو زیادہ تر فارسی زدہ ہوتی ہیں اور جن میں نئے دور کا المیہ اور نئی زندگی کے عذاب کی عکاسی ہوتی ہے۔ وہ اپنی نظموں میں زیادہ تر عام زندگی کے تجربات مثلاً وصل، عقدہ کشائی کی خواہش، آگہی، دیوانگی اور نجی مسائل کے ادراک کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ جن میں کچھ جذبے ناتراشیدہ اور نشہ آمیز ہوتے ہیں جو کبھی کبھی بے ربط بھی معلوم ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ساقی کا بیانیہ بڑی حد تک پختہ اور پر اسرار ہے۔ ساقی کی ایک بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہ اس نے اپنی نظموں میں مشرقی زندگی کے ایسے تجربات کو بیان کیا ہے جو مغربیت میں ضم ہو گئے ہیں۔

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (دوسرا حصہ) – تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آوازوں والا کردار:حصہ دوم
اس کار خانے میں اس کے علاوہ بارہ لڑکے اور کام کرتے تھے، کچھ اس سے عمر میں بڑے تھے اور کچھ چھوٹے۔ اس نے کسی سے جان پہچان بڑھانے کی کوشش نہیں کی تھی، لیکن اتنا ضرور محسوس کیا تھا کہ زیادہ تر لڑکے ایک دوسرے سے انجان ہیں۔ شائد سب صرف شام کے اس لمحے کے لیے اپنا اپنا کام سر جھکا کر کرتے رہتے تھے جب مالک انہیں مزدوری عطا کرے۔ جب کئی دن کام کرتے ہوئے ہو گئے تو ایک نئے لڑکے نے جو اس کے بعد کار خانے میں داخل ہوا تھا اس سے پوچھا تھا کہ “مالک روز پیسے کیوں دیتا ہے۔” جس کے جواب میں وہ خاموش رہا۔ نہ اس نے کوئی جواب دیا اور نہ پوچھنے والے لڑکے نے دوبارہ پوچھا۔

اس کی توجہ کار خانے میں کام کرنے والے تمام لڑکوں کے مقابے میں مالک پر زیادہ تھی، نہ جانے کیوں وہ اپنے مالک میں ایک خاص کشش محسوس کرتا تھا۔ اسے لگتا کہ یہ شخص جو روز شام کو ہم لوگوں میں روپیہ بانٹتا ہے خود کتنے عالی شان طریقے سے زندگی گزارتا ہوگا۔ وہ جب اپنے ساٹھ رپیہ کے شاہانہ خرچ کے متعلق سوچتا جس میں اس کی مزدوری، سگریٹ، بیڑی، الم غلم سمیت سب آ جاتا تھا تو مالک کا کردار اسے اور زیادہ متاثر کن لگتا۔ جو شخص روز کے ہزار دو ہزار بانٹ دے وہ کم سے کم پانچ ہزار روزانہ تو کماتا ہی ہوگا۔ یہ خیال اسے مالک کا دیوانہ بنا دیتا۔وہ کوشش کرتا کہ اور محنت سے کام کرےتاکہ مالک کی خوشنودی حاصل ہو سکے، مگر مستقل کئی روز کی محنت کے باوجود اسے محسوس ہوا کہ مالک کا اپنے لڑکوں سے صرف اتنا رشتہ ہے کہ وہ صبح میں ان کے داخلے کا وقت لکھے سب پر ایک نظر ڈالے کون آیا اور کون نہیں اسے نوٹ کرے اور شام کو تنخواہ دے کر رخصت کر دے۔ کبھی جب وہ کام پر نہ جاتا تو دوسرے روز مالک صرف اتنا اور پوچھتا کہ ” کل کیوں نہیں آیا تھا۔” وہ بتاتا اور مالک مطمئن ہو جاتا۔پھر شام کو پیسے دیتا اور روز والا سوال دہراتا “کل کتنے بجے آئے گا۔” وہ جواب دیتا اور مالک اگلے کی طرف متوجہ ہو جاتا۔

ہفتے میں ایک دن جب اس کی چھٹی ہوتی تو وہ اپنی جیب میں تین چار سگرٹیں بھر کر ٹیلے پر چلا جاتا۔ شفاف سڑک کو گھور کر دیکھتا رہتا اور سگرٹوں کے کش لے لے کر مالک کے متعلق سوچنے لگتا۔ اس نے کام کے دوران کئی مرتبہ دیکھا تھا کہ اس کا ما لک جو گورے رنگ کا ایک گگدے بدن والا چھوٹے قد کا شخص تھا وہ رنگین شرٹ اور نیلی جینز میں کتنا خوب رو معلوم ہوتا تھا۔ وہ اپنے احباب سے بھی خوب ہنس ہنس کر باتیں کرتا، اس کے دوست جو اس چمنی کے قریب واقع کار خانوں کے مالکان تھے اکثر دو پہر میں کھانے کے وقت اس کے پاس آ جاتے اوروہ ان سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا۔ کسی لڑکے کی طرف آنکھ بھی اٹھا کر نہیں دیکھا۔ اسے یہ بات بہت ناگوار گزرتی تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ اس کا ملک جس طرح اپنے احباب سے بات کرتا ہے اس سے بھی کرے اور وہ بھی بتائے کہ وہ شہر کے کس حصے سے یہاں آتا ہے اور وہاں کیسی کیسی عجیب و غریب چیزیں پائی جاتی ہیں۔ مگرایسا ہوا نہیں تھا اس نے ایک آدھ مرتبہ اپنی روز کی مقررہ رقم کو لینے سے انکار بھی کیا تھا تا کہ اس کا مالک اسے اپنے بقیہ لڑکوں سے مختلف سمجھے،مگر اس نے ڈانٹ کر اس کے ہاتھ پر پیسے رکھے اور روز کا سوال داغ دیا۔ اس نے وقت بتا یا اور چل دیا۔

جب سے اس چمنی میں اس کی نوکری لگی تھی وہ شہر کو کچھ بدلا ہوا محسوس کر رہا تھا۔ حالاں کہ اس دوران چمنی تک جاتے ہوئے اسے دو بار سڑک کے کنارے وردی والوں نے روکا تھا اوراس کی تلاشی بھی لی تھی۔ مگر اسے یہ ایک معمولی واقعہ لگا تھا۔ اسے محسوس ہورہا تھا کہ اس نے دھیرے دھیرے چمنی میں کام کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس قابل بنا لیا ہے کہ اس کارخانے والی گلے سے آگے بڑ ھ سکے۔ چمنی کی ملازمت کے دوران چھٹی کے روز وہ شہر کے جنوبی علاقے سے سواری کر کے خربوزے والی گلی تک بھی گیا تھا جہاں۔ شہر کا سب سے بڑا بازار لگتا تھا۔ یہ شہر کا ایسا واحد بازار تھا جہاں امیر و غریب ہر طرح کے لوگوں کے آنے کی اجازت تھی۔ ورنہ شہر میں جب سے وردی والوں کا قبضہ ہوا تھا انہوں نے غریبوں اور امیروں کے بازار الگ کروا دیے تھے تاکہ انہیں یہ شناخت کرنے میں آسانی ہو کہ شہر میں کن لوگوں کے پاس روپیہ ہے۔ غریبوں کے بازار کی اشیا نہایت خراب کوالٹی کی ہوتیں، جو متوسط طبقے کے لوگ بھی استعمال نہیں کر سکتے تھے۔ کپڑے سے لے کر کھانے تک ہر چیز تیسرے درجے کی تھی جو شہر والوں کے استعمال سے خارج ہو چکی تھی وہ یہاں پائی جاتی تھی۔ خربوزے والی گلی تک جانے والے غریب اس فرق سے اچھی طرح واقف تھے کہ شہر کے اصلی مالکوں سے کس طرح پیش آنا ہے۔

(4)

یہ گلی شہر کے شمال مغربی حصے میں تھی۔ اسے خربوزے والی گلی کیوں کہا جاتا تھا اس کا راز گلی کے اتیت میں کہیں دفن تھا اور لوگوں کو اتنی فرصت نہیں تھی کہ وہ ماضی کے پنّے پلٹ کر اس کی وجہ تسمیہ جاننے کی کوشش کرتے، یوں بھی گلی محلے کے ناموں کی تاریخ پہ اب لوگ کم ہی غور کرتے تھے۔ ان ناموں پہ زیادہ غور کیا جاتا تھا جو کسی طرح کا سیاسی فائدہ پہنچا سکتے ہوں۔ شہر کے اس حصے کو خربوزے والی گلی کہا ضرور جاتا تھا، لیکن یہ کوئی گلی نہ تھی بلکہ اسی سے سو فٹ چوڑا راستہ تھا جہاں مختلف اشیا کی دکانیں قطار اند قطار سجی ہوئی تھیں۔ خربوزہ یہاں صرف پھلوں کی دکانوں پر پایا جاتا تھا۔ یہ علاقہ وردی والوں کی نظر میں اس لیے بھی مشکوک نہ تھا کیوں کہ یہاں کی زیادہ تر دکانیں اس ملک کے مالکوں کی تھیں جن کے حکم سے شہر میں وردی والے داخل ہوئے تھے۔ وردی والوں کا رعب اس گلی کی سرحد کے اندر داخل ہوتے ہی کمزور پڑ جاتا تھا۔ یہ بازار خاصہ پرانا تھا تین طرف سے شہر کی شاہراہوں سے متصل اور ایک طرف شہر کا بیرونی راستہ۔ شہر کا ہرنیا تہذیبی رواج یہیں سے عام ہوتا تھا۔ کوئی بھی چیز جو مہنگے سے مہنگے اور سستے سے سستے داموں پر دوسرے شہروں سے یہاں آتی تھی بنا کسی مول بھاو کے بیچی جاتی۔ ہر شخص کو اپنی استطاعت کے مطابق اشیا خریدنے کی آزادی تھی۔ اس بازار کا سب سے بڑا عجوبہ یہاں کی رومال والوں کی دکانیں تھیں جہاں انسانی شکل کے رومالوں کی بھر مار تھی۔ کسی بھی شخص کی شکل کا کڑھا ہوا رومال یہاں دستیاب تھا۔ لوگ اپنی پسندیدہ شخصیات کے کڑھے ہوئے رومال درجنوں کی تعداد میں یہاں سے لے جایا کرتے تھے۔ یہ رومال نہ صرف اس شہر میں بلکہ دنیا کے مختلف شہروں میں یہاں سے منگوائے جاتے تھے۔ کسی شخص کو اگر اپنی شکل کا رومال کڑھوانا ہوتا تو وہ دس منٹ میں رومال کڑھوا لیتا۔ رومال کڑھائی کے درجنوں کار ی گر صبح سے شام تک رومال کی دکانوں کے درمیان لوگوں کی شکلوں والے رومال کاڑھتے اور بیس روپیہ فی رومال مزدوری لے کر خوشی سے جھوم اٹھتے۔ وردی والے بھی رومال کڑھائی کاریگروں سے اپنی شکلوں کے رومال کڑھواتے اور انہیں پوری قیمت ادا کرتے۔ اگر یہ کڑھائی والے شہر کے کسی اور علاقے میں پائے جاتے تو یقیناً انہیں وردی والوں کے لیے مفت میں یہ خدمت انجام دینا ہوتی، لیکن یہاں وہ وردی والوں سے پوری قیمت وصولتے تھے۔ رومال کے علاوہ اس بازار کا چاندی کازیور بھی پورے شہر میں مشہور تھا۔ چاندی کا اصلی زیور جس پہ چاہو تو سونے کے پانی کی قلعی بھی کروائی جا سکتی تھی۔ اس کام کے لیے دوسرے شہر سے لوگوں نے آ کر یہاں اپنا ڈیرہ جمایا تھا۔ مشرقی علاقوں کے شہر والے اس کام میں ماہر تھے جو اب خربوزے والی گلی کے سنار کہلاتے تھے۔

اس کا اس بازار میں آنے کا مقصد اپنی شکل کارومال کڑھوانا تھا اور ساتھ ہی وہ یہ جائزہ بھی لینا چاہتا تھا کہ اگر اس نے کارخانوں میں کام مانگنے والی ترکیب یہاں آزمائی تو اسے کس حد تک کامیابی مل سکتی ہے۔ بازار میں داخل ہونے کا شہر والا دروازہ بہت چوڑا تھا جہاں اندر داخل ہونے والوں کو اپنی اور اپنے سامان کی تلاشی کروانی ہوتی۔ اگر کسی کے پاس کوئی دھار دار چیز پائی جاتی خواہ وہ گلے میں لٹکی ہوئی چین سے جڑا ہوا چھوٹا دکھاوے کا خنجر ہی کیوں نہ ہو تو اسے جمع کروا لیا جاتا اور انہیں ایک ٹوکن دے دیا جاتا کہ واپسی پہ وہ ٹوکن دے کر اپنی چیز حاصل کر لیں۔ اس کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی، وہ خالی ہاتھ آیا تھا۔ داخلے کے وقت جب اس کی تلاشی لی جا رہی تھی تو اس نے محسوس کیا کہ گذشتہ جتنی مرتبہ شہر میں اس کی تلاشی لی گئی ہے اس میں جو جبریہ رویہ پایا جاتا تھا وہ یہاں کے تلاشی لینے والوں میں نہ تھا۔ اس نے سکون سے اپنی جیبیں چیک کروائیں اور بازار میں داخل ہوگیا۔ شہر کے اندر آ کر وہ سیدھا رومالوں کی دکان کی طرف گیا اور ان میں ایک دکان کے سامنے پڑی پٹریوں پر بیٹھے کاری گر سے اپنی شکل کا رومال تیار کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ کاری گر خوشی خوشی اپنی جگہ سے اٹھا اور برابر میں رکھے ہوئے بستے میں سے دو تیلیاں نکال کر ایک سفید کپڑے پر رومال کڑھنے لگا۔ اس دوران وہ بڑی دلچسپی سے کبھی کڑھائی کو دیکھتا اور کبھی کڑھنائی کرنے والے کو۔ اگلے دس منٹ میں جب کڑھائی کاری گر نے اس کی تصویر رومال پر اتار کر رومال اس کے حوالے کیا تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے آج تک صرف ان کڑھنے والوں کا تذکرہ سنا تھا اور کچھ کڑھے ہوئے رومال دیکھے تھے۔ اسے لگتا تھا کہ یہ گھنٹوں کی محنت کا صلہ ہوگا کہ کسی شخص کی ہو بہو تصویر ایک کپڑے کے رومال پر اتار دی جائے۔ مگر دس منٹ کے وقفے میں اپنی نظروں کے سامنے خود کی تصویر کو رومال پر اترتا ہوا دیکھ کر اسے ایک انجانی خوشی کا احساس ہوا تھا جس میں حیرت کے آثار ملے جلے تھے۔ اس نے سوچا کہ یہ کتنا بڑا ہنر ہے کہ کسی کو دوچار مرتبہ دیکھا اور اس کی شکل کو رومال پر کڑھ دیا۔ اس کی قیمت صرف بیس روپیے تو ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اس نے اپنی جیب سے چالیس روپے نکال کر اس کاری گر کو دیے تو اس نے لینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ” اس کا صرف بیس روپیہ ہوتا ہے۔” اس پر اسے برا محسوس ہوا اور اس نے مالک کی طرح خفگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کاری گر کو چالیس روپے تھما دیے۔ کاری گر خوش بھی تھا اور حیران بھی۔جس سے نظریں ملا کر اسے پہلی بار مالک ہونے کا احساس ہوا۔ اس واقعے سے اس نے جانا کے کسی کو کچھ دینے کا سکھ بڑی سے بڑی چیز لینے سے ہزار گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اس احساس سے وہ پہلی بار دوچار ہوا تو اسے اپنے مالک پہ رشک آنے لگا جو اسے اور اس جیسے کتنے لڑکوں کو روز ساٹھ ساٹھ روپے دیا کرتا تھا۔

رومال کڑھوا کر وہ بازار کے دکانوں کے سامنے چکر لگانے لگا۔ مختلف اشیا کی دکانوں پر اسے روشنوں کے جھماکے نظر آئے جہا ں دن میں بھی مختلف سائزوں کے بجلی کے قمقمے روشن تھے۔کہیں اس میں سفید روشنی نکل رہی ہو تی اور کہیں پیلی۔ کانچ کی خوبصورت برتنوں، گھڑیوں، کپڑوں، الیکٹرانکس کی دکانیں جن میں صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے دکان دار اور ان کے ملازم موجود تھے۔ کئی دکانوں کے قریب سے گزرتے ہوئے اس میں اتنی ہمت بھی پیدا نہ ہو سکی کہ وہ ان میں داخل ہو کر کام مانگنے کی کوشش کرے۔ اسے اپنا ٹیلا یاد آیا جہاں دنیا جہان کے کچرے کا ڈھیر تھا وہا ں پہنچتے ہی اس کی خوداعتمادی کئی گنا بڑھ جاتی تھی۔ جہاں موجود لڑکوں سے وہ خود کو ہزار گنا بہتر سمجھتا تھا۔ مگر یہاں معاملہ بالکل الٹ تھا۔ یہاں اس کے منہ میں زبان لکڑی کی طرح سخت ہوگئی تھی۔ وہ دو چار کپڑے کی بنا شیشوں والے دروازے کی دکانوں پر رکا، مگر ان میں داخل ہو کر کام مانگنے کی جرات نہ کرسکا۔ اس نے سوچا کہ خربوزے والی گلی شائد ابھی اس کی پہنچ سے آگے کی دنیا ہے لہذ ا اسے اپنے مالک کی دنیا سے نکل کر کسی درمیانی دنیا میں جانا چاہیے جہاں سے وہ یہاں تک آنے کے آداب سیکھ سکے۔
اس خیال کے بعد اسے خربوزے والے گلی میں رکنا بے سود معلوم ہونے لگا۔وہ وہاں سے نکلا اورداخلی دروازے سے اپنا سامان لیتا ہوا پیدل شہر کی سڑک پہ آ گیا۔ بازار کے سامنے کچھ عمارتیں تھیں جن پر نیلی تختیاں لگی ہوئی تھی اور مختلف زبانوں میں کچھ لکھا تھا۔ بڑی بڑی نئی طرز کی پرانی عمارتیں۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی سرکاری دفتر ہے جہاں حکومتی کام کاج آہستہ روی سے انجام دیا جاتا ہے تاکہ عمارت کی بوسیدگی مزید متاثر نہ ہو۔ عمارت گول چکر نما دائروں میں بنی ہوئی تھی جس کے گرد فٹ پاتھ تھا۔ وہ سڑک چھوڑکر اس فٹ پاتھ پر آگیا۔ شہر کی گلیوں میں گھومنا اسے یوں بھی پسند تھا لہذا بنا کسی مقصد کے وہ دیر تک ایک عمارت سے دوسری عمارت اور دوسری سے تیسری عمارت کی فٹ پاتھ پر چلتا رہا۔ کہیں کہیں پھلوں اور آئس کریموں کے ٹھیلے لگے دکھائی دیتے تو وہ رک کر کوئی پھل یا آئس کرئم خرید لیتا۔ الم غلم کھاتا ہوا وہ شہر کے جنوب کی جانب جا رہا تھا۔ مگر جنوبی حصہ یہاں سے خاصہ دور تھا۔ وہ چلتے چلتے ایک کالج کے سامنے سے گزرا تو چند خوبصورت لڑکیاں ہاتھوں میں کتابیں تھامے اس کےقریب سے گزریں۔ پھر کچھ لڑکے ۔ سب آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ وہ انہیں دیکھ کر خوش تھا۔ اس نے دیکھا کہ کالج کےگیٹ پہ کچھ لوگ جمع ہیں۔ ایک شخص چیخ چیخ کر بھیڑ سے کچھ کہہ رہا تھا۔ وہ تماشا دیکھنے آگے بڑھا تو آوازوں کا شور کچھ نزدیک آ گیا۔ جو لڑکا بھیڑ سے مخاطب تھا اس کی آواز میں اتنی کرختگی اور بھاری پن تھا کہ وہ اسے نئی معلوم ہوئی۔ اس نے آج سے پہلے ایسی آواز نہیں سنی تھی۔ اسے فوراً مجمعے کے نزدیک جانے کااپنا غلط فیصلہ لگنے لگا۔ وہ بھیڑ میں کھڑا ہو گیا اور اب چیختے ہوئے لڑکے کی آواز وہ صاف سن سکتا تھا۔ مگر وہ کیا کہہ رہا تھا اسے بالکل سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ زبا ن اس کے لیے اجنبی نہیں تھی مگر وہ جس موضوع پر بات کر رہا تھا وہ اس سے بالکل انجان تھا۔ اس نے محسوس کر لیا کہ یہ لڑکا کوئی سیاسی لیڈر ہے جو اپنے قریب کھڑے لوگوں کو جگانے کی کوشش کر رہا ہے یا پھر بڑھکانے کی۔ وہ اسے غصے میں دکھائی دے رہا تھا وہ بار بار ہاتھ اٹھا کر گیٹ کی طرف اشارہ کر تااور کچھ کہتا پھر ان چکردار حکومتی عمارتوں کی جانب اشارہ کرتا اور پھر کچھ کہتا۔ اس نے سمجھا کہ یہاں کسی پر ظلم ہوا ہے اور جو شخص چلا رہا ہے اس ظلم کو ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر تھوڑی ہی دیر میں وردی والوں کا ایک دستہ وہاں آن پہنچا۔ ان کے ہاتھوں میں لٹکی ہوئی بندوقیں دیکھ کر بھیڑ پوری طرح چھٹ گئی۔ وہ بھی راستے کی دوسری طرح گول چکر دار عمارتوں کی فٹ پاتھ پر آگیا۔ اب اس لڑکے کو پیٹا جا رہا تھا اور وہ اس پٹتے ہوئے عالم میں بھی چلا چلا کر پہلے کالج کے گیٹ کی طرف اشارہ کرتا اور پھر ان گول چکر دار عمارتوں کی جانب۔ وردی والے اسے کھنچتے ہوئے اپنی گاڑی تک لے گئے۔ اسے اس میں ڈالا اور گاڑی دوڑا دی۔ آخری بار اس کی نظر جب اس چیختے ہوئے لڑکے پر پڑی تو اس کے منہ سے ایک خون کی لکیر بہہ رہی تھی جس سے اس کی قمیض جگہ جگہ سے لال ہو گئی تھی۔ اس نے آسمان پر نظر ڈالی وہ بھی کہیں کہیں سے لال نظر آرہا تھا۔ اس نے سوچا کہ شام ہونے سے پہلے شہر کے جنوبی علاقے تک پہنچ جانا بہتر ہے ورنہ وردی والے سختی سے اس کی تلاشی لیں گے ۔یہ سوچ کر اس نے ایک سواری روکی اور اس پہ سوار ہو گیا۔

(جاری ہے)

Categories
فکشن

آوازوں والا کردار (پہلا حصہ) : تالیف حیدر

اس طویل کہانی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کریں۔

(1)

کہانی کی ابتدا ہو چکی تھی۔ سارے کردار ایک دوسرے میں گندھے ہوئے زور زور سے چیخ رہے تھے، ایسا لگتا تھا کہ سب کو اپنے ہونے کا احساس دلانا ہے، کبھی گاڑی کے گزرنے کی آواز پس منظر سے ابھرتی تو کبھی ہوا میں جہازوں کے تیرنے کا شور سنا ئی دیتا۔ اچانک انسانی آوازوں کے درمیان سے گولی چلنے کی صدا بلند ہوئی۔ منظر میں لوگ تتر بتر ہونے لگے۔ جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں وہ زیادہ تیز ی سےدوڑ رہے تھے۔ شائد سبھی کوخود کوچھپنانے کے لیے ایک محفوظ مقام کی تلاش تھی۔ پھر اچانک دوبارہ گولی چلی اور چیخ و پکار اور تیز ہو گئی۔ اب آوازوں کا شور اتنا بڑھ گیا تھا کہ کان پڑے آواز نہیں ٹھہرتی تھی،اس بھگدڑ میں ٹین کے پتروں،لکڑی کے دروازوں، مرغیوں کی چیخوں اور کووں کی کائیں کائیں کہاں سے شامل ہو رہی تھی اس پہ غور کرنا مشکل تھا۔ بہت سے لوگوں نے اب خود کو پھوس کے ڈھیروں، مٹی کے تودوں، آدھی ٹوٹی ہوئی دیواروں، بیل گاڑی کے زنگ آلود چکروں کے پیچھے چھپا لیا تھا،پھر بھی وہ چیخے جا رہے تھے۔ گولی جب تیسری مرتبہ چلی تو لوگوں کی آواز اچانک رک گئی اور ہوا میں کسی کے پر پھڑ پھڑانے کی آواز تیز ہو نے لگی۔ کووں یا بازوں یا گدھوں کے پر یا کچھ ان سے بھی بڑے یعنی مور اور شتر مرغ کے پروں کی۔ اب منظر بھی بدل چکا تھا،لوگوں کی جگہ پرندوں سے بھرے آسمان نے لے لی تھی۔ یہ آوازیں انسانوں کی آواز سے زیادہ اکتا دینے اور ڈرانے والی تھی۔ پھر پرندے گرنے لگے اور ان کی آوازوں کے شور میں ایسی دھبدھباہٹ بڑھی کے اسے چونک کر چاروں طرف دیکھنا پڑا۔زمیں سمتل تھی، ہوامعتدل۔سورج کی تپش نے ہر شئے کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا۔ دور دور تک نہ کوئی انسان تھا، نہ پرندہ۔ آسمان بالکل صاف تھا مگر پرندوں کے گرنے کی دھبددھباہٹ اب تک جارہی تھی۔ لمحے بھر کے لیے اس کا شور کچھ کم ہوا اور پھر بڑھتا چلا گیا۔ اس نے لاکھ چاہا کہ یہ آوازیں بند ہو جائیں مگر وہ جانتا تھا کہ یہ سلسلہ کب تک چلے گا۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک منظر ابھرا اس منظر میں کچھ چہرے نمایاں ہوئے۔ کچھ دلکش تصویریں جن کی کشش نے اسے محو کر دیا۔ جیسے یہ منظر اور تصویریں ایک جال ہوں جو اسے آہستہ آہستہ اپنے پھندے میں پھانس رہی ہوں۔ پھر وہ ان میں کھوتا چلا گیا۔”نا عاقبت اندیش۔”

کسی نے گالی دی تو اسے لطف ملا، کسی نے منہ چڑایا تووہ مسکرا دیا اور پھر اسی طرح کبھی زمین پر الٹی رکابی کےرگڑنے کی آواز، کبھی شادیانوں کے بجنے کی صدا۔ کبھی بارش کی بوندوں کا شور اور کبھی بجلی کے تاروں میں دوڑتے ہوئے کرنٹ کا نغمہ۔ اس پر ایک رعشہ سا طاری ہو جاتا۔ وہ ان آوازوں سے اتنا خوف زدہ تھا کہ اب کسی بھی نئی آواز کو اپنے تجربے میں شامل کرنے سے بچنا چاہتا تھا۔ اس کے کانوں میں پڑنے والی ہر چھوٹی بڑی آواز اس کے لیے صدائے صور ثابت ہوتی تھی۔ اسے بچپن کی حکایت یاد آتی جو صور کے متعلق اس نے اپنے پڑوسیوں سے سنی تھی۔ وہ چاہتا کہ ہر طرف سے کان موڑ کر بیٹھ جائے۔ مگر پھر اچانک سب خود ہی ٹھیک ہو جاتا۔ ایسا کسی بھی وقت ہو سکتا تھا۔ کسی طے شدہ لمحے میں وہ آوازیں نہیں آتی تھی۔ بس وہ اٹھتیں، بڑھتیں اس کے خوف کو بڑھاتیں اس کی دل کی دھڑکنوں کو تیز کرتیں۔پھر اسے نڈھال کرتی ہوئی خود ہی ختم ہونے لگیں۔ وہ چاہے دیواروں سے سر مارے چاہے ان آوازوں کے پیداہونے اور بڑھتے چلے جانے پر غور کر ے، دونوں حالتوں میں اس کا انجام نڈھال ہوتابدن اور تھکادینے والا احساس ہی ہوتا۔ اس کی شدید خواہش تھی کہ وہ اب ان آوازوں کا عادی ہو جائے، مگر ایسا ہر گز نہ ہوااور اس کی وجہ ہر بار آوازوں میں پیدا ہونے والی تبدیلی ثابت ہوئی۔ اس مرتبہ جب اسے ہوش آیاتو اس نے سوچا کہ نہ جانے اگلی مرتبہ کون سا شور اس کے گلے پر چھری پھیرے گا۔

(2)

حفاظتی دستے شہر کے چاروں جانب پھیلے ہوئے تھے، ہر شئے اور ہر انسان کو مشکوک نگاہوں سے دیکھنے کے لیے انہیں حکومت ایک موٹی تنخواہ دیتی تھی۔ انہیں یہ حق حاصل تھا کہ وہ کسی بھی شخص کو روک کر اس کے کپڑے اتروائیں اس کے بدن کے سوراخوں کی جانچ کریں،جس کے لیے حکومت نے انہیں تربیت دی تھی، کچھ پائیں تو وہیں گولی مار دیں۔ شہر میں چتکبری وردی پہنے، چوڑے کندھوں والے بندوق لٹکائے سفاک چہروں کا زور اتنا بڑھ گیا تھا کہ اس کی آبادی متاثر ہونے لگی تھی۔ کہیں کوئی سیدھے منہ بات کرنے والا نوجوان وردی پوش کسی شہری سے ٹکرا جاتا تو شہر کے چند لوگوں پر ظاہرہوتا کہ یہ عہد ہی دہشت گردی کا ہے۔ ہر طرف ایک خوف ہے کہ لوگوں کو ایک ساتھ راکھ کا ڈھیر بنا دینے والی جماعتیں اپنے منصوبوں کو انجام تک پہنچانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہیں۔ ان دنوں شہر میں کئی حادثے بھی ہوئے تھے، مگر شہر والوں کو ایسا لگتا تھا کہ آگ کی لپٹوں میں ایک ساتھ بھسم ہو جانے والے لوگ ان سے زیادہ خوش نصیب تھے۔ انہیں جن نگاہوں کا سامنا کرنا تھا وہ ان کی روح میں ارتعاش پیدا کر دیتی تھیں۔ ہر شہری کو ایسا محسوس ہوتا کہ شائد وہ ہی اس دہشت گردی کے ماحول کو پیدا کرنے کا ذمہ دار ہے۔ وردی والے شہر کی گلیوں میں چکر لگاتے ہوئے کسی کے بھی گھر میں داخل ہو جاتے۔ ان گھروں کی بنا کسی کاغذ پتر دکھا ئے تلاشی لیتے اور اسی تلاشی کے دوران اپنے اندر چھپی حکومت کے خلاف نفرت کو گھر کے مکینوں پر انڈیل دیتے۔ اس آگ سے وہ ایک بار میں جل کر بھسم تو نہیں ہوتے تھے، مگر ان کے ہاتھ، پاوں ضرور جھلس جاتے۔ کسی بھی گھر میں برتنوں کے بجنے کی آواز بھی وردی والوں کو اس گھر میں داخل ہونے کا پرمٹ عطا کر دیتی تھی۔
آخری مرتبہ پچھلے مہینے ایک دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس نے شہر کی تین عمارتوں کو مٹی کے ڈھیر میں بدل دیا تھا۔ شہر کے حفاظتی دستوں کو اس حادثے کی خبر اس وقت ملی جب دھواں آسمان میں تحلیل ہونے لگا۔ شہر کی خوبصورتی کی ذمہ داری اب ہاتھوں میں بندوق تھامے جمالیاتی حس سے نابلد انسانوں کے ہاتھوں میں تھی۔ وہ مجبور تھے، انہیں حکومت کا سونپا ہوا فرض پورا کرنا تھا اور حکومت کو عالمی منڈی میں اپنے جلتے ہوئے شہر کی جھولی پھیلا کر سرمایہ داروں سے رقم وصول کرنا تھی۔ اس لیے کبھی شہر بد نیتوں کی کار گزاریوں سے جلتا اور کبھی ہمدردوں کے بھوکے پیٹوں میں لگی ہوئی آگ سے۔یہ روز کا قصہ تھا۔ صبح سے شام تک شہر چھاونی بنا رہتا۔ اوپر سے لی ہوئی تصویروں میں یہ انجان وردی والے شہر کی حفاظت کرتے ہوئے معلوم ہوتے۔ مگر اس کے درمیان میں پلنے والے آٹھ، دس برس کے بچے انہیں دبے منہ گالیاں دیتے جو انہوں نے اپنے خاموش کمروں میں آدھی رات کو اپنے بڑوں کے منہ سے سنی تھیں۔

یہ زمانہ 9\11کے بعد کا تھا۔ وہ بھی اسی شہر میں رہتا تھا۔ شہر کے مغربی کونے میں جہاں تک خوش حالی کا سورج سب سے آخر میں پہنچتا تھا۔ شہر کا یہ حصہ بقیہ شہر سے مختلف تھا۔ یہاں خوبصورت عمارتیں کم نظر آتی تھیں۔ مگر چکنے اور چوڑے راستوں کی بھر مار تھی۔ جگہ جگہ مٹی کی کھچی چار دیواریوں پر کچی انیٹوں کی کھپریلیں پڑی تھیں۔ضرورت کی اشیا کے نیم تاریک کارخانے تھے۔ گھنی آبادی کے درمیان سلائی مشینوں کا بازار تھا اور کارچوبی کے اڈے جگہ جگہ لگے ہوئے تھے۔ شہر کا سب سے زیادہ تمباکو یہیں کھایا، چبایا اور اڑیاجاتا تھا۔ مختلف قسم کی نشہ آور چیزیں پان کے کھوکھوں اور پرچون کی دکانوں پر بکتی تھیں۔ جو زیادہ نظر میں آنے والی اشیا تھیں ان کا بازار ریت کے ٹیلے کی جانب تھا جہاں کا دریا اب بدبو دار نالا بن چکا تھا جس میں کوڑے کی مقدار اتنی بڑھ گئی تھی کہ دریا کی زمین کالی اور دلدلی ہوچکی تھی۔ اس دریا کے اطرف کی زمین جہاں بنجر کھیت نما مربعےابھرے ہوئے تھے ان میں نشے کا قیمتی کاروبار ہوتا تھا۔ اس کا گھر اس دریا سے تین کوس شمال کی جانب تھا۔ وہ بھی کبھی کبھی شہر کے وردی والوں سے اکتا کر ادھر چلا آتا جہاں کی دنیا اسے ملبے میں دبے سامان کی مانند لگتی تھی۔ جس پر اتنی گرد جم گئی تھی کہ اسے چھونے کا خیال بھی صاف اور دھلی ہوئی وردیوں میں ملبوس سپاہیوں کو نہیں آتا تھا۔ وہ یہاں اکثر ایک کونے میں بیٹھے دس، بارہ برس کے بچوں کو دیکھتا جو مہنگے نشے کا لطف لینے سے محروم دروازوں پہ کی جانے والی پالش کے رنگوں کو مٹھی بھر کپڑوں میں بھگو کر سونگھتے تھے۔جس سے انہیں ویسا ہی نشہ ملتا جیسا افیم اور چرس کے نشے میں ڈوبے جوان امیر زادوں کوحاصل ہوتا۔ انہیں میں کچھ کچرے کے ڈبوں میں پڑی ہوئی خالی وکس اور آیو ڈیکس کی شیشیوں کو جمع کر کے ان کو سونگھتے دکھائی دیتے اور کچھ کھانسی کے ایکسپائر سیرپوں سے اپنے نشے کی طلب کو بجھاتے ہوئے۔ وہ کبھی کبھی اسی بنجر زمین کے ٹکڑے پر بیٹھ کر ایک آدھا سگریٹ پیتا یا وہ دستیاب نہ ہوتی تو دو تین بیڑیاں پی کر شہر کےاس چوڑے راستے پر اپنی نظریں جما دیتا جہاں سے بڑی بڑی گاڑیاں ان بستیوں کو منہ چڑھاتے ہوئے تیزی سے گزر جاتیں۔

اسے بعض مرتبہ پورا شہر ایک بڑے کوڑے دان کی مانند لگتا تھا۔ جہاں گندگی اور غلاظت کا دھیر ہے اور طرح طرح کی بد بوئیں اٹھ رہی ہیں۔ وہ جانتا تھا کہ شہر اصل میں ویسا نہیں ہے جیسا اس کے جنوبی علاقے کے بعض حصے ہیں، مگر اس کے باوجودوہ اپنے اس خیال سے فرار حاصل نہیں کرپاتا تھا۔بس وہ یہ سوچ کر خوش ہو جاتا تھا کہ اس کا جواز اسے انسانوں کے اندر پلنےوالے خوف اور ڈر کی شکل میں بھی مل جاتا ہے۔ یہ شہر جہاں عالی شان کوٹھیاں بھی تھی اور فلک بوس عمارتیں بھی، صاف اور شفاف جھیلیں بھی تھیں اور خو ش فضا پہاڑی علاقے بھی وہ اسے اپنی طرح بنا نے کے لیے قدر مشترک کے طور پر ڈر کا استعمال کرتا۔ اسے معلوم تھا کہ گزشتہ برس اس ملک کی ایمبسی میں جس کا بہت سا قرض اس شہر پہ چڑھا ہوا تھا ایک دھماکے کے بعد یہ شہر خوف کی چپیٹ میں آ گیا تھا۔ عمدہ قالینوں اور صاف ستھر ےخوشبو دار کمروں میں رہنے والے نرم و نازک لوگ اب عام وردی والوں سے ویسے ہی ڈرتے تھے جیسے اس کے علاقے والے ان دکان داروں سے خوف کھاتے تھے جہاں سے ان کے گھروں میں ادھار اناج آتا تھا،وہ دکان دار اپنی موٹی توند لیے ہڈیوں سے بھری ہوئی شکلوں والے جوان، بوڑھے اور ادھیڑ عمر کے لوگوں کو موٹی گالیاں دیتے، ان سے اپنے قرض کی وصولیابی کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے اور پھر اگلا ادھار دیتے تاکہ ان کی حکومت قائم رہے۔ تھیلی بھر اناج اور ایک بوتل تیل کی بدبو میں لپٹے ہوئے اپنے اطراف کے لوگ اسے ان سیٹھوں کی طرح لگتے جن کا چہرہ بندوق کی نالیوں کو دیکھ کر پیلا پڑجاتا تھا۔ وہ امیر زادے اپنی گاڑیوں سے شہر کی صاف سڑکوں سے یوں گزرتے جیسے انہوں نے گاڑیاں خرید کر غلطی کی ہو۔ وردی والے انہیں کہیں بھی روک سکتے تھے۔

شہر کی حالت اب اپنے ماضی سے بالکل مختلف تھی، اس نے سوچا کہ یہ جنوبی علاقہ جس کے متعلق اس کے پڑوسیوں نے اسے بتایا تھا کہ کبھی یہ شہر کا دل ہوا کرتا تھا، مگر اب یہاں کچرے کا راج ہے اور وہ علاقہ جہاں تم اب لمبی اور چکنی عمارتیں دیکھتے ہو کبھی خاک کا ڈھیر تھا۔ وہ سوچتا کہ ایسا ہی ہوگا۔ کیوں کہ اس نے اکثر شہر میں داخل ہوتے ہوئے صاف ستھرے علاقوں کی سر حد پہ بھر بھرے لال مٹی کے میدان دیکھے تھے۔ اسے لگتا کہ یہ مٹی نئے شہر نے پرانے شہر کے گلی کوچوں سے چرائی ہے۔ وہ اسی مٹی سے نیا شہر تعمیر کر رہے ہیں اور جتنا شہراسے بد نما نظر آتا ہے وہ اس مٹی سے محروم ہونے کی وجہ سے ہی بد نما ہوا ہے۔ اس نے سوچا کہ اسی لیے ہم شہر کے جنوب میں آباد ہیں کیوں کہ شہر والوں نے انہیں نیچے کی طرف دھکیل دیا ہے جہاں مٹی نکلنے کی وجہ سے گڑھا بن گیا تھا۔ اسے اپنا علاقہ گڑھا نما لگتا اور پھر وہ جس سواری سے شہر میں داخل ہو رہا ہوتا وہ اچانک اسے نیچے کی طرف گرتی ہوئی معلوم ہونے لگتی۔ وردی والوں کے آنے سے پہلے اور بہت پہلے اس جنوبی علاقے میں ایک نہر تھی جس میں شفاف پانی بہتا تھا۔ پرانی طرز کی رنگین عمارتیں تھیں۔ چھوٹی گلیاں ایسے شہر کو سجائے ہوئے تھیں جیسے کسی مصور نے اپنے کینوس پر درخت کی پتلی شاخیں بنائی ہوں۔ گلیوں کے تنگ ہونے کا جواز یہ تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے قریب رہنا چاہتے تھے۔ ان میں محبت تھی وہ صبح کے ناشتے سے رات کے کھانے تک کھڑکیوں سے منہ نکال کر ایک دوسرے سے باتیں کیا کرتے۔ رنگوں اور خوشیوں کے تہواروں میں گھر سے لگی کھڑکیوں سے ایک دوسرے کے گھروں میں داخل ہوتے۔ کسی کے گھر میں شادی بیاہ ہوتی تو پورا علاقہ اس گھر کو اپنی بانہوں میں لے لیتا۔ باہر مسجدیں تھیں، مندر تھے گرودوارے تھےاور بھی مختلف قسم کے عبادت گھر جو قطار اندر قطار آبادتھے۔ فقیرو ں کی ٹولیاں ان عبادت گھروں کے باہر جمع رہتی تھی، مگر لوگ انہیں حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے، بلکہ انہیں عبادت گھروں کا محافظ تصور کیا جاتا تھا۔ بازار اور چوراہوں پر قندیلیں اتنے سلیقے سے لٹکی ہوئی تھیں کہ پورا شہر رات میں نگار خانہ معلوم ہوتا تھا۔ لڑنے کے مواقع اور موضوعات کم تھے۔ جن کا پیشہ سپاہ گری تھا وہ بھی عوام کے گلوں میں ہاتھ ڈال کر گھومتے تھے۔

مگر اب شہر کا منظر تبدیل ہو چکا تھا لوگ کہتے تھے کہ نیا زمانہ آ گیا ہے۔ اسے اپنے بدبو دار علاقے میں نیا زمانہ کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ نیا زمانہ ہی اس کے کانوں میں شور گھولتا تھا اس نئے زمانے کی ہیبت سے اس کا دل گھبرانے لگتا اور وہ اسی ٹیلے پر چلا جاتا جہاں سے صاف شفاف سڑک اور اس پر دوڑتی ہوئی رنگ برنگی کاریں نظر آتیں۔ وہ جب شاہراہ کے اس منظر کا لطف لے رہا ہوتا تو آسمان اسے پس منظر میں رقص کرتا نظر آتا جیسے سب کچھ ٹھیک ہے، ہر طرف امن ہے اور وردی والے یہاں سے کوسوں دور دور تک کہیں نہیں ہیں۔

(3)

آج صبح جب آنکھ کھلی تو اس کے چہرے کا رنگ اڑا ہوا تھا، اس نے خواب میں پھر ایک نئی قسم کی آوازوں کا شور سنا تھا، چمنی کے ٹوٹنے کی آوازیں۔ ان آوازوں نے اس کے کان میں ایسی قیامت برپا کی کہ اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے اپنے ماتھے پہ ابھرا ہوا پسینہ پوچھا۔ وہ جانتا تھا کہ یہ آواز اس کے تجربے کا حصہ کیسے بنی تھی۔ ابھی دو روز پہلے اس نے ایک چمنی کے کار خانے میں نوکری حاصل کی تھی جہاں چمنی بننے کے علاوہ کانچ کی مختلف چیزیں بنتی تھیں۔ یہ کا ر خانہ اس کے گھر سے اتنی ہی دور تھا جتنا وہ ٹیلا جہاں نشے کی دکانیں آباد تھیں۔ بس فرق یہ تھا کہ یہ ایک گھنے اور کاروباری علاقے میں تھا، جہاں شراب کی بوتلیں، کاغذ کے رنگین صفحے، پلاسٹک کے برتن اور لوہے کے اوزار بنتے تھے۔ اس نے یہ نوکری خود حاصل کی تھی۔ دو، چار روز قبل وہ اپنے گھر سے ٹہلتا ہوا ادھر آ نکلا تھا اور مختلف کارخانوں میں پوچھ تاچھ کرتے ہوئے اس کارخانے تک رسائی حاصل کر لی تھی جہاں سینٹ کی بوتلوں کو چمنی سے کھینچ کر نکالنے کے لیے ایک آدمی کی ضرورت تھی۔ جب چمنی کے مالک نے اسے کام کی نوعیت بتائی تو وہ نوٹ گن رہا تھا۔ اس نے کام بتایا، ایک لڑکے کو آواز دے کر اسے چمنی دکھوائی اور نوٹوں پر نظر یں جمائے ہوئے پوچھا کہ اس کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نے جھٹ سے اثبات میں سر ہلا دیا یہ جانے بنا کہ چمنی سے بوتلیں نکالنے اور انہیں لوہے کی کھپچیوں سے کھینچ کر گتے کے ڈبوں میں بند کرنے میں اسے کتنی مشقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جس کے عوض میں اسے ساٹھ روپیہ دن کا ملے گا۔ اس کی نگاہ چمنی کے مالک کے ہاتھوں میں پھنسے نوٹوں اور اپنے ساٹھ روپیوں پر تھی۔ یہ سوچنا بھی اس کے لیے غیر ضروری تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ وہ کئی طرح کے ایسی ہی کام اس سے پہلے بھی کر چکا تھا لہذا اس کے لیے یہ کوئی بڑا مشکل مرحلہ نہ تھا۔

دوسرے روز سے اس نے کار خانے جانا شروع کر دیا تھا۔ دن بھر وہ کئی سو ڈگری سیلسیس گرم بھٹی کے منہ پر کھڑا رہتا ایک لوہے کے لمبے سریے سے جس کے منہ پر کسی مضبوط دھات کا کنڈہ جڑا ہوا تھا ان ریکوں کو باہر کھینچتا جن میں کانچ کی پکی ہوئی سینٹ کی بوتلیں لوہے کی کھپچیوں میں پھنسی ہوئی ہوتیں۔ ایک موٹے کپڑے کا جس کے منہ پر چمڑے نما تھیلی کا تلا بنا ہوا تھا دستانہ پہن کر اس ریک سے بوتلوں کو کھینچ کر دفتیوں کے ڈبوں میں ڈالتا اور انہیں بند کر کے آگے سرکا دیتا۔ صبح سے دو پہر اور دو پہر کے کھانے کے بعدسے شام تک وہ اسی کام میں جٹا رہتا تو شام کو چھے بجے اس چمنی کا مالک اس کی ہتھیلی پر ساٹھ روپیہ رکھتا۔ وہ ساٹھ روپیہ اسے اپنی اوقات سے زیادہ معلوم ہوتے۔ جب وہ مالک سے پیسے وصول کرتا تو اسے لگتا کہ چمنی کا مالک کتنا احمق ہے کہ اتنے ہلکے کام کے اسے ساٹھ روپیے روز دیتا ہے جب کہ یہ کام وہ اس سے آدھی رقم میں بھی کر سکتا ہے۔ چمنی کا مالک اسے روز پیسے دیتے وقت یہ پوچھنا نہیں بھولتا تھا کہ کل وہ کس وقت آئے گا۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ ہر مرتبہ پوچھ کر یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ کل سے وہ کام پر آئے گا بھی یا نہیں۔ وہ دوسرے دن آنے کا وقت بتاتا اور مالک اگلے لڑکے کی طرف متوجہ ہو جاتا۔

(جاری ہے)

Categories
نان فکشن

جو کچھ بیاں کیا گیا – تالیف حیدر

میں ادب کا طالب علم ہوں، لیکن کبھی اس بات پہ افسوس نہیں کرتا، ادب اور غیر ادب اس کی تقسیم ہی مجھے کبھی سمجھ میں نہیں آئی۔ ایک موٹی تقسیم سے اگر ہم یہ سمجھنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں کہ کسے ادب کہا جائے اور کسے نہیں تو آسانی کے لیے یہ ٹھیک ہی ہے۔ مگر میں خود کو کبھی ادب کی سرحدوں میں قید نہیں رہنے دیتا یا یوں کہیے کہ میں رہ ہی نہیں سکتا۔ میرے لیے تاریخ، مذہب اور زندگی سے متعلق ہر علم اہم ہے۔ روز کی شام کی چائے یا رات کے کھانے کے بعد کی چہل قدمی کے دوران میں مختلف مضامین پہ غور کرتا ہوں، اپنے ناقص مطالعے کی روشنی میں اس الجھی ہوئی کائنات کی گتھیوں کو سلجھانے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ آپ اس کے متعلق کیا تصور کرتے ہیں مگر میرے لیے یہ کائنات جو تقریباً میرے آس پاس بستی ہے، جسے میں دیکھ، چھو اور محسوس کر پاتا ہوں، ہزاروں، لاکھوں قسم کی حیرانیوں کا بند ڈبہ ہے، میں اس ڈبے کو کھول کر اسے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کسی ایک واقعے کو کسی ایک بات کو۔ میں جانتا ہوں کہ ابدی یا ازلی حقیقت کچھ نہیں، نتائج کی تلاش بھی بے سود ہے، لیکن اس کے باوجود میں کسی کھوج میں ہوں۔ ایسی تسکین کی جو مجھے یہ محسوس کرائے کہ میں نے اپنے حصے کی کائنات کو جاننے کی کوشش کی۔

میں نے سوال قائم کیے، اسے سمجھنے کے لیے کتابوں اور اپنے آس پاس موجود عالموں کے خیالات کو کھنگالا اور جو بھی جانا سمجھا اس سے علم کے وجود کی ا ہمیت کو اثبات عطا کیا۔ میں غور کرتا ہوں۔ وقت پہ، اشیا کی ماہئیت پہ، قدیم واقعات کی رونمائی کے اثبات پہ، انسانی رویوں پہ اور فکر کی آخری چھور پہ کھڑی سچائی پہ۔ کئی مرتبہ اس غور کا نتیجہ کچھ بھی نہیں ہوتا، مگر کئی بار انہیں میں سے مجھے نئے خیالات ملتے ہیں، ایسے جن سے میں خوش ہوتا ہوں،پر سکون ہوتا ہوں۔ اپنے فکر ی بہاو میں ایک قدم آگے بڑھنے پہ خود کو مبارک باد دیتا ہوں۔

ادب کے وجود پہ میرا غور اکثر چوطرفہ ہوتا ہے۔ یعنی میں ادب کی ماہئیت پہ غور کرتے ہوئے کائنات کے راستے پہ نکل جاتا ہوں اور کبھی اشیائے کائنات پہ غور کرتے ہوئے اس میں ادب کی جھلک دیکھنے لگتا ہوں۔ آپ کو یہ سب عجیب لگے گا، مگر میں اس فکری نہج پہ بہت سی چیزوں کے جواز پا لیتا ہوں۔ مثلاً کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہم کسی بھی قسم کے بیان کو کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں؟ کوئی شاعر، کوئی مورخ، کوئی ادیب یا افسانہ نگار بس ایک بات ہی تو کہتا ہے۔ جسے ہم کبھی سمجھتے ہیں اور کبھی نہیں بھی سمجھتے۔ تو کیا یہ اتنی اہم چیز ہے کہ اسے سر آنکھوں پہ رکھا جائے۔ اسے اہمیت دینے والے لوگ اہمیت دیتے ہیں، لیکن جو نہیں دیتے وہ کیوں نہیں دیتے؟ یا آپ اس طرح سے سوچنے کے قائل ہیں کہ کتابیں آخر کیا کرتی ہیں یا کسی بھی طرح کا علم جس پہ انسانیت ناز کرتی ہے اس کی اہمیت ہی کیا ہے؟ میں نے اس پہ غور کیا ہے۔ گھنٹوں، دنوں اور مہینوں۔

انسان کچھ لکھتا ہے۔ کچھ کہنا چاہتا ہے اور اپنے حصے کا جو کچھ اسے محسوس ہو تا ہے وہ کہتا بھی ہے۔ پھر وہ ایک وقت کے بعد خاموش ہو جاتا ہے اور اس دنیا سے رخصت بھی۔ اس کا کہا، لکھا، باقی رہتا ہے اور وہ نہیں ہوتا۔ ہم اسے پڑھتے، سنتے اور جانتے ہیں، اسے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کہ خیالات کتنے مختلف ہیں۔ ان کے تجربات جسے انہوں نے زندگی سے جو کچھ اچھا برا سیکھا، جو جانا یا جو دیکھا اس شکل میں بیان کیا۔ اس سے ہم آشنا ہوتے ہیں۔ اس نظر سے چیزوں کے دیکھتے ہیں جو نظریں ہمارے پاس نہیں ہیں، اس سے کبھی اکتاتے ہیں اور کبھی محظوظ ہوتے ہیں۔ یہ سب کچھ کرتے وقت ہم کتابوں اور لکھی ہوئی عبارتوں، سوچی ہوئی باتوں کی دنیا میں ہوتے ہیں۔ یہ جان کہ آپ کو کیسا لگے گا کہ وہ کائنات جسے کسی بھی ایک شخص نے نہایت فرصت سے تعمیر کیا ہے، جسے اس نے اپنے رنگوں سے بنایا ہے وہ بالکل آپ جیسی ہے۔ ہم اپنی جیسی کائنات کی تلاش میں رہتے ہیں۔ یقیناً یہ کوئی خوشی کی بات نہیں۔ لیکن ہمیں لوگوں کے خیالات میں ایسی رنگین کائنات نظر آتی ہے، لیکن یہ اس وقت اور دلچسپ ہو جاتا ہے جب ہم اسی کائنات میں مزید مختلف رنگوں سے سجی ہوئی دنیا دیکھتے ہیں۔اس کی حیرانیوں میں کھو جا تے ہیں اور ایک نئے احساس سے دو چار ہوتے ہیں۔ میں اس احساس کو ایک نعمت سمجھتا ہوں، جو مجھے کسی بھی وجہ سے ایک نئے پن کا تازگی بخشتا ہے۔ ضروری نہیں کے آپ بھی اسی طرح سوچیں، لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ تصویروں، کتابوں اور نغموں سے میں ایسی بے شمار نئی تازگیوں سے دوچار ہوتا رہا ہوں۔

آج ہی شام کی بات لے لیجیےکہ آج میں نے کائنات کو سمجھنے دیکھنے اور جاننے کا ایک نیا رخ پایا۔ میں جو کل تک نہیں جانتا تھا، یا جن باتوں سے جان کر بھی انجان تھا، وہ آج کے غور و فکر سے مجھ پہ روشن ہوئیں۔ایک سادہ سی شام میں، جہاں میں اپنے روز کے دو دوستوں کے ساتھ چائے پینے گیا۔ پھر ٹہلتا ہوا ایک سنسان پتھریلے راستے پہ ایک چٹان پہ بیٹھ گیا۔ ڈوبتے سورج کو دیکھتا رہا، دوستوں کو اپنے لمحہ موجود ہ میں امنڈنے والے جذباتوں اور سوالوں سے پریشان کرتا رہا اور ایک خیال کی گہرائی میں کھو گیا کہ اشیا کی ماہئیت کا راز کس طرح وا ہو سکتا ہے۔ ادب اس معاملے میں کوئی مدد نہیں کرسکتا تھا تو فزکس کی راہ سے اسے جاننے کی کوشش کی۔ جہاں تک اپنی معلومات نے ساتھ دیا وہاں تک خود غور کیا اور پھر اپنے ماموں جو فزکس کے پرو فیسر ہیں انہیں فون ملا دیا۔ آدھے گھنٹے تک اس موضوع پہ ان سے لیکچر سنا اور اس کے بعد اس چٹان سے اٹھ کر دوبارہ اپنے کمرے پہ آ گیا۔ یہ سب بہت عام سا معمول تھا، مگر اس معمول کے دوران مجھ میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ میں نے اشیا کی ماہئیت پہ غور کرتے ہوئے، چیزوں کو جاننے اور اس پہ نظر یں مرکوز کرتے ہوئے جس خیال کو اپنے وجود میں پاوں پھیلاتا ہوا محسوس کیا وہ اس معمول میں ایک نئی بات تھی۔ کیا ہو اگر ہم یہ سمجھیں کہ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اشیا کی ماہئیت پہ غور کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

میرے ماموں جنہوں نے مجھے یہ بتایا کہ ہم ایک بنیادی حقیقت سے اشیا کو سمجھتے ہیں جو خود ہماری طے کی ہوئی ہے۔ جس کی موجودگی ایک آفاقی اصول کے تحت سچ ثابت کی جا سکتی ہے، جسے آلوں سے ناپا اور جانچا جا سکتا ہے۔ ایک ٹھوس حقیقت جو ہمیں اصل سے دور کر کے ایک اصل عطا کرتی ہے۔ میں نے سمجھا کہ یہ کوئی دہری اصل نہیں، دراصل فزکس ہمیں کائنات کے جن اصولوں سے آگاہ کرتی ہے اس میں جس تحرک کا عمل دخل ہے وہ ادب کے قاعدوں سے بہت مختلف ہیں۔ یہ بات اسی سےواضح ہو جاتی ہے کہ میں خود یہ محسوس کر پا رہا ہوں کہ خیال کی حقیقت زاویوں کی موجودگی سے تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ میں نے فزکس بھر پور نہیں پڑھی، بس اس کے چند قاعدوں کو سمجھا ہے، لیکن ادب کی دنیا میں داخل ہوتے ہی یہ قاعدے بہت عجیب و غریب انداز میں دلچسپ محسوس ہونے لگتے ہیں، انہیں دلچسپ قاعدوں کی بنیاد پہ لگتا ہے کہ کسی بھی فعل کو بیان کرنا اتنا بھی غیر اہم نہیں جتنا وہ ادب کی حد میں رہتے رہتے معلوم ہونے لگتا ہے۔ یہ بحث اس بات کی نہیں کہ آپ کچھ کامیابی سے بیان کر پا رہے ہیں یا نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ بیان کی اہمیت انسانی زندگی میں کتنی زیادہ ہے۔ میں نے فزکس کے قاعدوں سے یہ ادراک حاصل کیا کہ اشیا میں مجموعی طور پر ایک لہر پائی جاتی ہے، یعنی ایک نوع کی مجموعی تحریک ہے جو کائنات کو وجود میں لا رہی ہے اور اسے مزید بڑھاتی چلی جا رہی ہے۔ اس تھیوری پہ لاکھ مباحث سہی لیکن ذرا اسے اس نظر سے دیکھنے کی کوشش کیجیے کہ اشیا کی مجموعی حالت جب تقسیم ہو کر مختلف خانوں میں بٹ جاتی ہے اور زندگی اسی کے در میان اپنے پاوں پھیلانا شروع کرتی ہے تو لہر کے اندرکتنی مختلف نوعیتوں کی لہریں وجود میں آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مثلاً کائنات کے وجود میں آنے کا سبب خواہ کچھ بھی ہو، انسان، حیوان، نباتات اور جمادات خواہ کسی وجہ سے صفحہ ہستی پہ ابھرے ہوں، لیکن اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جا سکتا کے وہ ایک مجموعی حالت میں ہوتے ہوئے، ایک انفرادی کائنات کو مرتب کرنے کے مجاز ہیں۔ زندگی کی تحریک کائنات کے پھیلاو کی تحریک سے جدا صحیح لیکن اس کا ہونا ایک سچ ہے، مثلاً اگر کائنات کے پھیلاو سے کوئی مادہ ایسا وجود میں آیا ہے جس میں زندگی مفقود ہے تو وہ اس تقسیم کو اجاگر کرتی ہے کہ زندگی کا موجود ہونا کسی انعام سے کم نہیں۔ اس پہ مزید یہ کہ زندگی کا وجود ہمیں ایک ایسی تحریک بخشے جس میں ہم دیکھنے، محسوس کرنے اور اس کے بعد بیان کرنے پہ بھی قادر ہوں تو یہ اس سے بھی بڑا انعام ہے۔

آپ تصور کیجیے کہ کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ اس بہتی ہوئی کائنات میں آپ ایک مٹی کا ڈھیلا، درخت کا تنا، شیر کا پنجہ یاچیزوں کا سایا بن کے بھی وجود میں آ سکتے تھے۔ کچھ ایسا بھی بن سکتے تھے جس سے آپ کے ہونے کا احساس انفرادی تو ہو، لیکن یہ اثبات کبھی مجموعی نہ ہو پائے، خواہ وہ کتنے ہی تنگ دائرے میں ہی کیوں نہ ہو۔ آپ کسی کے پاوں کی دھول بھی ہو سکتے تھے یا پانی کی ایک گدلی بوند بھی۔ مگر یہ خیال کتنا تقویت بخش ہے کہ ہم اور آپ ایک انسان ہیں۔ وہ جو نہ صرف دیکھ، چھو اور محسوس کر سکتا ہے بلکہ بول بھی سکتا ہے۔ اب اس انعام کے حوالے سے انسانی وجود میں آنے والی آوازوں کو دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی جائے تو ہمیں کتنی مختلف کائنات نظر آتی ہے، جس میں ہم ایک ایسے متحرک وجود کے ساتھ پائے جاتے ہیں جہاں ہم کسی ایک زاویے سے نہیں بلکہ اپنے اطراف کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں اور وہ بھی کائنات کی ہر شے کے انفراد کے ساتھ۔ سب کچھ آپ کے آس پاس ہے، مگر وہ سب آپ کے ہونے سے جڑا ہوا ہے۔ آپ اگر شمال سے جنوب کی طرف دیکھیں تو ایک دنیا دکھے اور جنوب سے شمال کی جانب دیکھیں تو دوسری۔ کائنات کا ایسا اثبات کسی فسوں سے کم نہیں اور پھر آپ اسے بیان میں لاتے ہیں تو اس کی اہمیت وقت کے بہتے ہوئے دھارے میں آکر مزید معنی خیز ہو جاتی ہے۔ میں ان تمام باتوں کو ادب کی ناگزیر حالت کے ذیل میں رکھتا ہوں۔ جس سے مجھے اس کے مطالعے یا علم کے وجود میں آتے چلے جانے کا جواز ملتا ہے۔ آپ اس سے مختلف انداز میں سوچ سکتے ہیں۔ اس سے کائنات میں کوئی تبدیلی تو نہیں آتی، بس ہم پہ کچھ باتیں اجاگر ہو جاتی ہیں کہ کچھ بھی کہنا جو آپ محسوس کر رہے ہیں وہ کتنا ضروری ہے اور علم کا بڑھتے چلے جانا بھی کس قدر ضروری ہے، اس احساس کے باوجود کے آپ کبھی کسی انتہائی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ہیں۔
Image: Duy Huynh