Categories
تبصرہ

کوہ ققنس کے عجوبے: لیو، پری پیکر، چہار چشم اور میں (تالیف حیدر)

Dai Seiji کے ناول “Balzac and the Little Chinese Seamstress”کا تجزیاتی مطالعہ
مترجم : عاصم بخشی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بالزاک اور پری پیکر چینی درزن، یقیناً یہ نام کسی بھی فکشن پڑھنے والے کو اس ناول کی جانب کھینچنے کے لیے کافی ہے،کیوں کہ کسی چینی پری پیکر درزن اور ایک مشہور فرانسسی ناول نگار کے درمیان کس رشتے کی کہانی پر یہ ناول آدھارت ہے؟ یہ سوال ایک طرح کا تجسس پیدا کرتا ہے،لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کہانی کو کوئی پڑھنے والاناول کوصرف ان دونوں کے درمیان قید کرتا ہے تو وہ ناول میں پائی جانے والی عجیب و غیریب وسیع دنیا کو بہت محدود کردےگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بالزاک اس ناول کا بنیادی کردار ہے۔ میں تو یہ ہی سمجھتا ہوں کیوں کہ بالزاک کے اس کہانی میں موجود نہ ہونے کے باوجود اس کے کہانی میں ہونے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اسی طرح چینی درزن جو اس ناول کے چاربنیادی کرداروں میں سے ایک ہے،ان کا قصہ بس ناول کے ایک حصے تک محدود ہے۔ اصل میں یہ ناول ایک ملک کی سیاسی صورت حال، وہاں کے جابرانہ فیصلوں، حماقتوں،الھڑ تہذیبی حرکتوں، جہالتوں، مذہبی شکایتوں، عدم مساوات، بھید بھاؤ، ظلم، عشق، خیانت، جھوٹ، چوری، دوستی، ایماندارانہ رویوں اور نسائی الجھنوں وغیرہ جیسےبے شمار معاملات پر مشتمل ہے۔ کوئی ایک خیال پورے ناول میں گردش کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔ اس میں زندگی کے بدلتے رنگوں کی طرح واقعات کا بے ہنگم بہاؤ ہے۔ جو ناول کے چار کرداروں لیو، پری پیکر، چہار چشم اور اس شخص (جو کہانی بیان کر رہا ہے) کے ارد گرد گھومتا رہتا ہے۔
دائی سیجی کا یہ پہلا تخلیقی کارنامہ جسے انہوں نے سن2000میں لکھا تھا۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چین میں سیاسی حالات کے پیش نظر عوام کس طرح کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ وہاں آواز بلند کرنے کا کوئی قانون نہیں ہے، جہاں صرف حکم ماننے والوں اور انقلابی صورت حال سے دور رہنے والوں کو ہی سکون کی زندگی گزارنے کا موقع نصیب ہو پاتا ہے۔ میں اسے دائی سیجی کی بصیرت ہی کہوں گا کہ انہوں نے اس ناول کی ابتدا ایک المیہ کی طرح کی تھی، مگر اس ناول کا زیادہ تر حصہ مجرموں کے تلخ تجربات کو بیان کرنے میں برباد نہیں کیا، بلکہ ان تین نوجوان لڑکوں جن کی زندگیاں ان کی بورژوائی حالت کے باعث ایک عذاب کا شکار ہو گئی ہیں ان کے دلچسپ اور متحرک سفر کو بیان کرنے پر توجہ صرف کی۔

اس ناول کی کہانی میں بے شمار موڑ ہیں۔ بہت سے حیرات ناک لمحے، کئی دلچسپ جملے،عجیب و غریب واقعات، متاثر کن قصے اور نئی دنیاوں کی حکایتیں۔ میں اسے ایک ناول نہیں، بلکہ کئی ناولوں کے اشتراک سے وجود میں آنے والی ایک چھوٹی داستان کہنا زیادہ مناسب سمجھتا ہوں۔ جس نے بھی داستان الف لیلہ، داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا کی مسحور کن دنیا کا نظارہ کیا ہے وہ اگر پہاڑی زندگی کی زمینی حقیقتوں کا جادو دیکھنا چاہتا ہے یا ملک چین کی انوکھی سیاسی صورت حال میں پھنسی عوامی زندگی کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے تو دائی سیجی کا یہ ناول ضرور پڑھے۔

بالزاک اور پری پیکر چینی درزن کا قصہ:

بیانیہ انداز تحریر پر مشتمل دائی سیجی کے ناول بالزاک اور پر پیکر چینی درزن کا قصہ تین حصوں میں منقسم ہے، مگر ان تین حصوں میں مزید مختلف حصے شامل ہیں۔جن میں سے زیادہ تر کو کسی سرخی سے واضح نہیں کیا گیا ہے۔ ناول کی شروعات ایک گاؤں سے ہوتی ہے جہاں لیو اور اس کا دوست( جو کہانی بیان کر رہا ہے یعنی راوی) تعلیم نو کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ یہ تعلیم نو زراعت، گلہ بانی، کان کنی اور دیگر مزدوری کےفرائض پر مشتمل ہے۔ یہ دو طالب علم جن کے والدین باغی قرار دیئے گئے ہیں اور انہیں حکومت کی طرف سے سزا دی گئی ہے بورژوا طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ڈاکٹر ہیں۔ ان بچوں کو سینئر سکنڈری کی تعلیم سے برخاست کر کے ایک چھوٹے سے پہاڑی گاؤں میں ایک کمیونسٹ ماؤ معتقد مکھیا کے دیکھ ریکھ میں بھیج دیا گیا ہے۔ یہ حالت صرف لیو اور راوی کی ہی نہیں ہے، بلکہ ان کی طرح ہزاروں نوجوان طالب علموں کے ساتھ انقلاب چین کے عظیم نا خدا چیئر مین ماؤنے یہ ہی سلوک کیا ہے۔

جس گاؤں میں لیو اور راوی کو بھیجا گیا ہے اسی سے لگے ایک اورگاؤں میں ان کا ایک دوست چہار چشم بھی اسی تعلیم نو کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس کانا م چہار چشم کیوں ہے، یہ راز ناول میں کہیں بیان نہیں کیا گیا ہے، بس ایک مقام پر راوی کے ایک جملے سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی آنکھیں بہت کمزور ہیں اورعینک کے استعمال کے بنا اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا، اس لیے اسے چہار چشم کہا گیا ہے۔

یہ 1971 کا زمانہ ہے اور چین میں ہر ذی روح پر ماؤ کا حکم چلتا ہے۔ جس گاؤں میں یہ دونوں نوجوان پہنچے ہیں وہ علاقہ کوہِ ققنس کہلاتا ہے۔ جہاں پہاڑیوں کا دور تک پھیلا ہوا ایک سلسلہ ہے۔ کوہ ِققنس میں کئی گاؤں آباد ہیں اور تمام گاؤوں میں ملا جلا کر دس لاکھ لوگ آباد ہیں۔لیو اور روای جلد ہی ان مصیبتوں کاحصہ بن جاتے ہیں جن مسائل میں گاؤں کے لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں رہنے کے لیے کوئی ڈھنگ کا مکان بھی نہیں دیا جاتا ہے اور وہاں کھانے پینے کا بھی کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔

راوی ایک اچھا موسیقار ہے جس کے پاس ایک وائلن ہے اور لیو داستان گوئی میں ماہر ہے۔دونوں نوجوان لڑکے اپنے اپنے فن کی بنیاد پر جلد ہی گاؤں میں نمایاں حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔ کوہِ ققنس میں دلچسپی اور بہلاوے کے لیے کوئی موثر ذریعہ موجود نہیں ہے۔ لہذا ایسے میں لیو کا داستان گوئی کا فن اپنا خوب رنگ جماتا ہے، جس میں راوی بھی اس کا شریک ہے۔ان کا جادو بستی والوں پر اس حد تک چڑھ جاتا ہے کہ گاؤں کا مکھیا ان کو گاؤں کے نزدیک ترین واقع چھوٹی سی شہری آبادی میں فلمیں دیکھنے جانے کی اجازت عطا کر دیتا ہے، لیکن صرف اس شرط پہ کہ وہ واپسی پر پورے گاؤں کو فلم کا پورا قصہ اسی طرح سنائیں گے جس طرح فلم میں دکھایا گیا ہے۔لیو اورراوی اپنے اس کرشمے سے بہت خوش ہیں اور ان کی شہرت آس پاس کے گاؤوں میں بھی پھیل جاتی ہے۔

ان کے برابر والے گاؤں میں ایک مشہور درزی رہتا ہے، جس کی شہرت بہت زیادہ ہے، وہ جہاں جاتا ہے وہاں میلا لگ جاتا ہے اور ہر گاؤں میں لوگ اس کی بہت عزت کرتے ہیں۔ اس درزی کی ایک نہایت خوبصورت بیٹی ہے، جسے ناول میں پری پیکر چینی درزن کہا گیا ہے۔ اسے لیو اور راوی کے اس فن کا علم ہوتا ہے تو وہ بھی ان سے قصے سنے کی مشتاق ہو جاتی ہے۔ لیو کی زبانی قصہ سن کر وہ بہت متاثر ہوتی ہے اور لیو سے اس کا معاشقہ شروع ہو جاتا ہے۔ راوی بھی پری پیکر سے محبت کرتا ہے، مگر وہ اس حقیقت سے جلد ہی آشنا ہو جاتا ہے کہ لیو اس کا محبوب ہے۔ خود درزی بھی لیو اور راوی کے قصہ گوئی کے فن کا عاشق ہے اور وہ ان سے قصہ سننے کے لیے خاص طور پر ان کے گاوں آتا ہے۔

کہانی میں ایک دلچسپ کردار چہار چشم کا ہے جو لیو اور راوی کا دوست ہے اور ان کے قریبی گاؤں میں تعلیم نو حاصل کر رہا ہے۔ اس کے پاس مغربی ناولوں، قصے کہانیوں کی بہت سی کتابیں ہیں۔ جو اسے اس کی والدہ نے اسے دی ہیں اور وہ انہیں خفیہ طور پر اپنے پاس رکھتا ہے۔ماؤ کی حکومت میں کسی طرح کی مغربی کتاب رکھنا ایک بڑے جرم کے متردف ہے۔ اس کے راج میں سوائے ماؤ کے انقلابی قصوں اور کمیونسٹ مواقف کتابوں کے ہر طرح کے لٹریچر پر پانبدی ہے۔

ایک روز راوی کو کسی طرح اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ چہار چشم کے پاس ایسا کوئی بستہ ہے جس میں اس نے مغربی کتابیں چھپائی ہیں۔ وہ اس کا تذکرہ چہار چشم سے کرتے ہیں تو چہار چشم اس بات سے صاف انکار کر دیتا ہے، مگر ایک موقع پر جب لیو اور راوی اس کی مدد کرتے ہیں تو وہ انعام کے طور پر انہیں بالزاک کے ایک ناول” ارسولے میرو” کا چینی ترجمہ دیتا ہے۔ تعلیم نو کی تھکا دینے اور تاریک زندگی میں یہ رومانی ناول ان کے لیے نئی روشنی بن کر آتا ہے۔ لیو اور راوی اس کر پڑھ کر بہت خوش ہوتے ہیں۔ لیو اس کی کہانی اپنی محبوبہ پری پیکر درزن کو بھی سناتا ہے۔ جس سے وہ بہت متاثر ہوتی ہے۔ وہ ناول واپس کرتے ہوئے لیو اور راوی،چہار چشم سے جب دوسرے ناول کا مطالبہ کرتے ہیں تو چہار چشم انہیں صاف انکار کر دیتا ہے۔ اس پر لیو کو بہت غصہ آتا ہے۔ اس کے بعد کئی مواقع پر لیو اور راوی دوسری کتابیں حاصل کرنے کوشش کرتے ہیں مگر ناکام رہتے ہیں۔ اسی دوران چہار چشم کو اپنی آزادی کا ایک موقع نصیب ہوتا ہے۔اس کے لیے اسے پہاڑی گیت جمع کرنے کےلیے کہا جاتا ہے۔ مگر وہ لاکھ کوششوں کے باوجود بھی اس میں ناکام رہتا ہے، جب وہ لیو اور راوی سے اس بات کا ذکر کرتا ہے تو وہ اس کے لیے پہاڑی گیت جمع کرنے میں مدد کرنے کا وعدہ کرتے ہیں، مگر بدلے میں چہار چشم سے مزید کتابیں حاصل کرنے کا قصد لیتے ہیں۔انہیں پہاڑوں پر ایک بہت بوڑھا شخص ہوتا ہے جس سے لیو اور راوی کو وہ پہاڑی گیت حاصل کرنا ہوتے ہیں۔ وہ اس بوڑھے کے پاس جاتے ہیں۔ بوڑھا ناول کا ایک دلچسپ کردار ہے۔ بے انتہا کوششوں اور اداکاریوں سے وہ پہاڑی بوڑھے سے گیت حاصل کر لیتے ہیں اور چہار چشم کے حوالے کر دیتے ہیں۔ اس کے باوجود چہار چشم انہیں مزید کتابیں دینے سے انکار کر دیتا ہے۔ جس پر راوی اس کی پٹائی کرتا ہے۔ لیو اور راوی بہت مایوس ہوتے ہیں، مگر پری پیکر انہیں مشورہ دیتی ہے کہ چہار چشم کی کتابوں کا بستہ انہیں چرا لینا چاہیے۔
اس کے فوراً بعد ناول میں چہار چشم کی والدہ کی انٹری ہوتی ہے، جو چہار چشم کو تعلیم نو کے ختم ہوجانے پر گھر لے جانے آئی ہے۔ تعلیم نو کے اختتام کا مسئلہ بھی نہایت دلچسپ ہے۔ یہ خوش قسمتی صرف ہزار میں تین طالب علموں کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ جب راوی کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ چہار چشم ان میں سے ایک ہے تو اسے بہت غصہ آتا ہے۔ دوسری طرف لیو اور پری پیکر کا عشق اپنی حدیں پار کرنے لگتا ہے۔ وہ ہم بستری کی منزلوں تک آ جاتے ہیں اور برہنہ پہاڑ کی جھیلوں میں نہاتے، فلمیں دیکھتے اور قصے کہانیاںسنتے، سناتے وقت گزارنے لگتے ہیں۔

چہار چشم کی واپسی کا وقت جب بالکل قریب آجاتا ہے تو لیو اور راوی آخری دعوت کی رات اس کے گھر میں گھس کر وہ کتابوں کا بستہ چرا لیتے ہیں۔ یہ چوری پورے ناول میں سب سے زیادہ متجسس واقعات پر مشتمل ہے۔ اس بستے سے ان دونوں کو بالزاک کی کئی کتابیں ملتی ہیں ساتھ ہی وکٹر ہیو گو، ستاں دال،فلو بیر، بودلیر،رو میں رولاں،روسو، ٹالسٹائی، گوگول، دستو وسکی، ڈکنز کپلنگ، اور ایملی بروٹنے وغیرہ کی کتابیں بھی ہاتھ آتی ہیں۔ لیو اور راوی اسے پا کر ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے ان کے ہاتھ کوئی خزانہ لگ گیا ہو۔ چہار چشم اور اس کی والدہ اس چوری کی کسی کو خبر دیئے بنا گاؤں سے چلے جاتے ہیں اور لیو اور راوی اپنے مکھیا کے گاؤں سے غیر حاضر ہونے کافائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ماہ تک اپنے کمرے میں بند ان کتابوں کے مطالعے کا لطف لیتے رہتے ہیں۔ لیواپنی معشوقہ کو بھی ان میں سے ہر کتاب کی کہانیاں سناتا ہے اور اسے ایک سیدھی سادی پہاڑن سے ایک سوجھ بوجھ رکھنے والی عورت بنا دیتا ہے۔ جس کا علم کہانی کے اختتام پر ہوتا ہے۔

یہیں مصنف نے رو میں رولاں پر ایک مفصل حصہ لکھا ہے۔ ساتھ ہی یہاں ناول میں بہت سے ناول نگاروں کے کرداروں کے استعارے بھی شامل ہوتے نظر آتے ہیں۔ جب میں بالزاک کے کردار سب سے زیادہ ہیں اس کے علاوہ کرسٹو فر، مادام بواری اور فرانسسی جہاز راں وغیرہ کرداروں کا ذکر بھی گاہے بہ گاہےآتا رہتا ہے۔ ناول اب اختتام پر ہے اور کہانی میں مکھیا کی واپسی ہوتی ہے، جو دانت کے درد میں مبتلا ہے اور لیو سے مدد چاہتا ہے، کیوں کہ اس کے والد ایک مشہور دانتوں کے ڈاکٹر ہیں اور اس کا یقین ہے کہ لیو کو بھی اس معاملے میں مہارت حاصل ہوگی۔ مکھیا اور لیو کے مسئلے میں راوی پر بھی کچھ مصیبتیں آجاتی ہیں۔ جن کا لیو اور راوی مل کر مقابلہ کرتے ہیں۔

مکھیا کی کہانی کے فوراً بعد ایک بالکل غیر متعلق قصہ بوڑھے پن چکی والے کا ہے۔ جس کی کہانی سے نسبت اس سے اگلے قصے یعنی پری پیکر درزن کے ایک خاص حصےمیں سمجھ میں آتی ہے۔لیو اس حصے کے بعد اپنی ماں کی بیماری کی خبر ملتے ہی گاؤں سے ایک ماہ کے لیے چلا جاتا ہے اور پری پیکر درزن کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے دوست راوی کو سونپ دیتا ہے۔ یہاں سےناول ایک نیا موڑ لیتا ہے اور راوی جس کی دیرینہ خواہش ہے کہ اسے پری پیکر کا قرب نصیب ہو وہ پوری ہو جاتی ہے۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ درزن اسے بتاتی ہے کہ وہ پیٹ سے ہے۔ جس کا جلد ہی ظہور ہونے والا ہے۔ یہ بات درزن اور راوی کو بہت پریشان کرتی ہے، کیوں کہ پچیس برس سے قبل کسی لڑکی کاماں بننا وہ بھی غیر شادی شدہ لڑکی کا،یہ چیئر مین ماؤ کی حکومت میں ایک سنگین جرم ہے۔جس کی سزا موت ہے۔ راوی یہاں سے محبت اور رحم کے نئے جذبے کے تحت پری پیکر کی مدد کرتا ہے اور اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ترکیبوں سے اس کا اسقاطِ حمل کرواتا ہے۔اسی حصے میں ایک اور بوڑھے کی کہانی ہے۔

یہاں ناول کا اختتام ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد راوی نے کچھ باتوں کی مزید وضاحت کی ہے جس میں لیو کی واپسی اور پری پیکر کااسے اور گھر چھوڑ کر نئی دنیا کی تلاش میں نکل جانے کا واقعہ ہے ساتھ ہی راوی اور لیو کا مل کر تمام کتابوں کو جلا کر راکھ کرنے کا منظر۔ اختتام ایک نہایت جذباتی اور متاثر کن جملے پر ہوتا ہے جس میں لیو راوی کو بتا رہا ہے کہ پری پیکر نے جاتے جاتے اس سے کہا کہ اس نے بالزاک سے ایک چیز سیکھ لی ہے کہ عورت کا حسن ایک انمول خزانہ ہے۔

کہانی کا تجزیہ:

کسی بھر پورکہانی کی خصوصیات کیا ہوسکتی ہیں ؟ اگر میں اس سوال پر غور کروں تو مجھے جواباً خود سے یہ کہنا پڑے گا کہ کسی کہانی میں اس وقت تک تکمیلیت کا احساس جذب نہیں ہوتا جب تک اس میں زندگی کے بے شمار رویوں کا جزو شامل نہ ہو۔ یہ زندگی کے بے شمار رویہ کیا ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس میں خوشی، غم، حیرانی، یقین، بے یقینی، اعتدال، بے اعتدالی، جنون، دیوانگی، خرد مندی، ڈر، تفکر، ترشی، لطافت اور کثافت جیسے بے شمار جذبوں کی جھلکیاں ہوں۔ یقیناً ایسی کہانیاں کم ہوتی ہیں۔ میں یہ فیصلہ نہیں سناؤ گا کہ کسی کہانی میں اگر یہ سب نہیں ہے تو وہ کہانی ہی نہیں، بس یہ کہوں گا کہ ایسی کہانیوں کو زندگی کا مکمل استعارہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔دائی سیجی کا ناول ایسی ہی مکمل کہانیوں میں سے ایک ہے جس میں فلسفہ، جمالیات، الف لیلوی رنگ،منظر کشی، مزاح، جذبات، ہیجانی کیفیات،جنس،مطالعے کا شوق،خاکہ نگاری،کریہہ مناظر، تجسس،انتقام،حکایتیں، خواب،ہنگامی صورت حال، تخیل، المیہ،تہذیبی استفسار،جہالت، انوکھی خواہشات، بے ہنگم قوانین،حیران کن احساسات اور مذہبی کشمکش وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔ عین ممکن ہے کہ آپ نے اس ناول کو نہ پڑھا ہو اور اس پر بنی ہوئی فلم دیکھی ہو اور میرے دعوے کا انکار کریں۔ ایسی صورت میں میں آپ کو اس ناول کا متن پڑھنے کی دعوت دوں گا۔ اس ناول نے مجھے زندگی کی بہت سی ان دیکھی حقیقتوں سے آگاہ کیا ہے۔ لہذا مجھے ہر حال میں اس کی تکمیلیت کا احساس ہوتا ہے۔ جن حالات کا بیان اس ناول میں کیا گیا ہے، میں ان حالات میں زندگی نہیں گزار رہا ہوں، یعنی میرے پاس بے شمار مواقع ہیں کہ میں انگنت کتابوں کے مطالعے کا شرف حاصل کر سکتا ہوں، میں کسی بھی لڑکی سے بنا شادی کیے عشق کر سکتا ہوں، حکومت کو گالیاں دے سکتا ہوں، روشنی کے جھماکوں کا مظاہرہ کر سکتا ہوں، لوگوں سے اپنی مرضی کے مطابق تبادلہ خیال کر سکتا ہوں اور گھنٹوں کا سفر بنا کسی خطرے کے منٹوں میں طے کر سکتا ہوں۔ اس کے باوجود یہ ناول میری روح کو جھنجھوڑ کر یہ کہتا ہے کہ اصل میں میں بھی ایک ایسی ہی حالت کا شکار ہوں جس حالت میں لیو، راوی،چہار چشم اور پری پیکر زندگی گزار رہیں ہیں۔ میرے مسائل بظاہر کچھ نظر آتے ہیں مگر واقعتاً وہی ہیں۔ کیوں کہ میں نہ اپنی مرضی سے کچھ بول سکتا ہوں، نہ پڑھ سکتا ہوں، نہ عشق کرسکتا ہوں، نہ جی سکتا ہوں اور نہ ہی کسی سے تبادلہ خیال کر سکتا ہوں۔ آج کوئی چیئرمین ماؤ مجھ پر نگاہیں نہیں گاڑے ہے۔ مگر معاشرے کا سب سے بڑا ماؤ یعنی سیاست مجھے اپنی گرفت میں لیے ہوئے ہے۔ اس ناول میں ہر اس مقام پر جہاں مجھے متذکرہ بالا کوئی بھی جذبہ، احساس یا تاثر نظر آیا اسے میں نے حقیقی بنیادو ں پر خود کے قریب محسوس کیا۔ مثلاً وہ مقام جہاں دائی سیجی نے فلسفیانہ طرز بیان اختیار کیا ہے یا ہیجانی کیفیات بیان کی ہیں،جذباتی کشمکش کا اظہار کیا ہے یا مذہبی آزادی کا تذکرہ کیا ہے،ہنگامی حالات بیان کیے ہیں یا تہذیبی استفسارات قائم کیے ہیں یہ سب مجھے اپنے عہد اور ماحول کی زندہ حقیقتیں معلوم ہوتی ہیں۔

ناول کے کرداروں سے مصنف نے عالمی سطح پہ ہونے والی طبقاتی کشمکش کو علاقائی کہانی میں بیان کر دیا ہے۔ لیو اور پری پیکر کے کردار کا تجزیہ کرو تو احساس ہوتا ہے کہ یہ چھوٹی سی عشقیہ داستان کتنی سچائیوں کا اظہار کر رہی ہے۔ ایک مصنوعی عشق جس میں خوشی اور غم کے بنتے،بگڑتے دھارے مرد اور عورت کی نفسیاتی حالتوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ جدید دنیا کے تہذیبی المیوں کا اظہار کرتے ہیں اور لیو جیسے کردار سے فن کی اہمیت کو ظاہر کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ مکھیا جو ایک سخت دل اور جابر شخص ہے اس کا کردار ہمیں مصیبتوں میں پھنسے سفاک حاکموں کی کمزوریوں سے روشنا کرواتا ہے کہ کس طرح بر سر اقتدار سفاک حکمراں عام انسانوں کو چھوٹی چھوٹی لالچوں سے ٹھگتے ہیں۔پہاڑی بوڑھے کا کردار بتاتا ہے کہ کیسے وہ بوڑھے، مجبور فن کار جن کے باطن میں روایتوں کی وراثت پوشیدہ ہے وہ معاشرہ کی حقارتوں کا شکار ہوتے ہیں۔راوی کا کیرکٹر یہ منظرپیش کرتا ہےکہ کس طرح لوگ حسد، لالچ، ایمانداری اور محبت کے جذبوں کے درمیان اپنی حقیر خواہشوں میں زندگی گزارتے رہتے ہیں اور اسی کو سب کچھ سمجھتے ہیں۔ درزی کے کردار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ہم شہرت اور تعظیم سے اپنی تسکین کا سامان تلاش کرتے رہتے ہیں اورچہار چشم کا کردار بتاتا ہےکہ ہم کتنے خود غرض ہیں اور زندگی کے ہر ہر قدم پرا پنی خود غرضی کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح ناول کے مختلف کردار ہمیں زندگی کی مختلف حالتوں اور صورتوں سے واقف کراتےہوئے انسانی برادری کے مشترکہ مسائل کی جانب ہماری توجہ مبذول کراتے ہیں۔

کہانی کی زبان:

کہانی کی زبان سادہ اور سلیس ہے۔ اصل متن میں بھی غالباً اسی نوع کا اسلوب ہوگا، کیوں کہ مترجم نے جہاں جہاں قصوں کو روانی سے بیان کیا ہے اس سے احساس ہوتا ہےکہ چینی زبان میں بھی یہ قصے اتنے ہی سادہ اور رواں دواں ہوں گے۔ کچھ مقامات ناول میں مبہم زبان میں ہیں ایسے میں مترجم کا کام مشکل ہوجاتا ہے۔ ترجمہ شدہ متن میں تو ایسے مبہم حصوں کو عاصم صاحب نے اتنا دلکش بنا دیا ہے کے پڑھنے والاابہام میں بھی شاعرانہ لطف محسوس کرتا ہے۔ جن واقعات کی ترسیل کہانی کے ایک حصے تک نہیں ہوتی وہ کچھ آگے چل کر ہو جاتی ہے۔ اس لیے ترسیل کی الجھن سے زیادہ سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ غیر مانوس الفاظ ناول میں بہت زیادہ ہیں،جن میں سے سیاق کے ذریعے کچھ سمجھ میں بھی آ جاتے ہیں، لیکن اصل معنی تک رسائی نہیں ہوپاتی۔ ایسے الفاظ میں صوت دانوں، تانت، مزارعوں، موزارٹ، سوناٹا، پاکینہ، ققنس،سہارتے،کروی، برامز،بیتھوون،یاآن،جڑن،چوپ سٹک،بید مجنوں،اودیاتی، جام شکستہ،برقانے،ریگھاریاں،پھالے،سموں،جنگور،منبت،توبنا، بلسم، سحلب، مارسائی، برقشوں، کگرے، یشم، بدرقے، نوڈل اور کلو طنجوی شامل ہیں۔ دو،چار مقامات پہ چھپائی کی اغلاط سے بھی لفظ ادھورے رہ گئے ہیں یا بگڑ گئے ہیں۔

دلچسپ جملے:

ناول میں موجود دلچسپ جملوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔اس سے ایک اچھی صورت یہ نکلتی ہے کہ پڑھنے والا قدم قدم پر چونک جاتا ہے، یہ چونکنا تجسس والا نہیں، بلکہ متاثر کن جملوں کی غیر متوقع آمد پہ حیران، پر مسرت اور مضطرب ہونے والا ہے۔میں یہاں کچھ جملے نقل کر رہا ہوں، مگر یہ بتا دوں کہ یہ جملے صرف اس وجہ سے یہاں رقم کئے دے رہاں ہوں کیوں کہ طویل نہیں ہیں، بعض بعض اقتباسات جو خاصے لمبے لمبے ہیں ان میں اسی طرح کی دلکشی اور تاثیر بھری ہوئی ہے۔ صرف طوالت کے خوف سے انہیں یہاں لکھنا ممکن نہ ہو سکا ورنہ آدھے کے قریب ناول یوں ہی اتر جاتا۔

• وہ اپنے ابا کا پانچواں بیٹا اور اماں کی واحد اولاد تھا۔
• اوپر اپنے ارد گرد چکر دار ڈھلوانوں کو دیکھتے ہوئے مجھے چٹان کے اندر سایہ دار دراڑوں میں سے ایک پگڈنڈی کے خدو خال نظر آتے تھے جو آسمان کی جانب کہر آلود ہوا میں پگھلتی محسوس ہوتی تھی۔
• اپنے اپنے پچھواڑے اٹھانے کا وقت ہو گیا ہے۔ سست الوجود مسخرو، سانڈ کی اولاد ! تم کس چیز کے منتظر ہو؟
• اپنا سگریٹ تیار کر کے لیمپ بجھا دیتا اور اندھیرے میں رات کے سکون سے کان لگائے سگریٹ پیتا رہتا، ایک ایسا سکوت جو صرف نیچے سے آتی دبی دبی غراہٹ سے ہی ٹوٹتا جہاں سؤرنی اپنی تھوتھنی سے کیچڑ کو کرید نے میں مصروف رہتی۔
• جدید انسان الف لیلہ کے زمانے سے آگے نکل چکا ہے اور جدید معاشرے، چاہے وہ اشتراکی ہوں یا سرمایہ دارانہ، اپنے اپنے کہانیاں سنانے والوں کو فارغ کر چکے تھے۔
• منظر سے غائب ہونے سے ذرا پہلے وہ مڑا اور ایک بار پھر چیخا:”وائے-او-لن!”
• اس کی آنکھوں میں نا تراشیدہ ہیروں اور خام دھاتوں کی سی چمک تھی جو پلکوں کی لمبائی اور لطیف خم کے باعث مزید بڑھ گئی تھی۔
• چہار چشم کی نظر واپس لوٹی تو وہ لیو کی حالت دیکھ کر حیران رہ گیا۔ “تم تو کسی کتے کی طرح بیمار لگتے ہو!” وہ بولا۔
• “یہ جنگو درخت کے پتے ہیں،” لیو نے اکھڑتےسانس کے ساتھ کہا۔ “ایک شاندار اونچا درخت جو پری پیکر درزن کے گاؤں کے مشرق میں ایک خفیہ وادی میں اگتا ہے۔ ہم نے وہاں درخت کے ساتھ لگ کر محبت کی۔ کھڑے کھڑے۔ وہ کنواری تھی اور اس کا خون نیچے بکھرے ہوئے پتوں پر گر پڑا۔”
• “یہ شخص بالزاک کوئی ساحر ہے۔” اس نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔” اس نے کسی نادیدہ انگلی سے اس پہاڑی لڑکی کے سر کو چھوا اور وہ جیسے کسی خواب میں منتقل ہو گئی۔
• “ایک جام آپ کے نا قابل یقین پیٹ کے نام ہو جائے،” لیو نے تجویز دی۔
• ہمیں بس اپنی محنتوں کے صلے میں ایک دو کتابیں ہی در کار تھیں۔
• اس کی کھکھلاہٹ میں مجھے جنگلی گل سحاب کی مشک بار خوشبو محسوس ہوئی جو اس کے قدموں میں پڑے پھولوں سے بھی تیز تھی۔
• شاعرہ کہیں بھی نظر نہیں آ رہی تھی۔ اگر وہ ہمارے ساتھ وہاں موجود ہوتی تو اپنے بیٹے کو پیالہ بنے ہاتھوں میں منہ چھپائے بھینسے کا جما ہوا خون پیتے دیکھ کر کیا سوچتی، جیسے کوئی سؤر کیچڑ میں تھوتھنی مار رہا ہو؟
• سب سےاوپر ہمارا دوست بالزاک اپنے پانچ،چھے ناولوں کے ساتھ موجود تھا۔
• لا محالہ اس فرانسسی کہانی سے اخذ کی گئی کچھ تفصیلات کا خفیف سا اثر اس کے سلے کپڑوں میں بھی نظر آنے لگا۔
• مکھیا کے دانت کسی اونچے نیچے پہاڑی سلسلے کی طرح تھے۔سوجے ہوئے مسوڑھوں میں سے تین سامنے والے واطع دانت ماقبل تاریخ کے سنگ سیاہ کے آتش فشانی تودوں کی طرح تھے، جبکہ جبڑوں کے دونوں طرف تمباکو سے داغدار کچلے دانت جا بجا بکھری ہوئی قبل نوح کلسی تف چٹانوں کی طرح معلوم ہوتے تھے۔
• ایک ایسا بوڑھا جسم جو اس جگہ سے بالکل ڈھیلا تھا جہاں ہڈی نہیں تھی۔
• “مت بھولنا،” اس نے تنبیہہ کی،” کہ کووہ کوہ ققنس آسمان کا حسین ترین ستارہ ہے۔”
• اپاہج اب میراراستہ روکے کھڑا تھا۔ اس نے اپنی پتلون نیچے سرکادی، پھر اپنا زیر جامہ نیچے کیا اور بالوں بھرے لچکیلے اعضا ظاہر کر دیے۔”یہ لو، پکڑ و۔تم میرا بھی دھو سکتے ہو!”
• کہتے ہیں کہ ایک دفع عورت جب اپنی ماہواریاں چھوٹنے پر رونا شروع کردے تو اسے چپ کرانا نا ممکن ہو تا ہے۔
• اس نے کہا کہ اس نے بالزاک سے ایک چیز سیکھ لی ہے: کہ عورت کا حسن ایک انمول خزانہ ہے۔

مترجم کا فن:

عاصم بخشی نے اس ناول کا اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ وہ مبارک باد کے مستحق ہیں، بلکہ ہمیں ان کا شکر گزار ہونا چاہئے۔ ناول کے ترجمے میں انہیں مہارت حاصل ہے۔ وہ کسی بھی صورت حال کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ زبان اور ماحول کی اجنبیت بالکل ختم ہو جاتی ہے، آپ اس ناول کو پڑھتے ہوئے کئی مقامات پر یہ محسوس بھی نہیں کر پاتے کہ ایک ایسا ناول پڑھ رہے ہیں، جو آپ کی اپنی زبان میں نہیں ہے۔ اس طرح کا کام عالمی سطح کا کارنامہ کہا جا سکتا ہے، جس سے دو بالکل مختلف تہذیبوں، زبانوں،قوموں اور جماعتوں میں یکسانیت پیدا ہو جاتی ہے۔کہیں کہیں ترجمے میں کچھ کمی بھی محسوس ہوتی ہے یا یوں لگتا ہے کہ متن کی وہ روانی جو بیش تر ناول کا حصہ ہے وہ یہاں قائم نہیں رہ سکی، لیکن مترجم کی مجبوریوں کا خیال بھی ہمیں اپنے تئیں کرنا چاہیے۔ بہت سے الفاظ اور خیالات ایسے ہوتے ہیں جن کی ترجمانی ممکن ہی نہیں ہوتی، ایسی حالت میں بھی اگر عاصم بخشی جیسے ماہر ین فن ہمیں اصل حالت کے قریب بھی لے جائیں تو ہمیں ان کا ممنون ہونا چاہیے۔ جن مقامات پر مجھے لگا کہ یہاں ترجمے کا تسلسل مجروح ہوا ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

• لیو اور میں، یعنی اس پہاڑی گاؤں والوں کی نظر میں ہم دو شہری لڑکوں کے سامان۔۔(اس جملے میں “یعنی” اضافی ہے۔)
• تعلیم نو کا کچھ ذکر کروں تو 1948 کے اواخر میں انقلاب چین کے عظیم ناخداچیئر مین ماو۔(عبارت میں تصنع پیدا ہو گیاہے۔)
• لیو کی الارم گھڑی کے خاک آلود سے کانچ کے ڈھکنے کے تلے اسے تیز آبنوسی چونچ سے نادیدہ زمین پر ٹھونگیں مارتے دیکھاجا سکتا تھا۔(عبارت بہت گنجلک ہو گئی ہے۔)
• سگرٹ کے تکڑے تلاش کرنے لگ جاتا۔(کرنے لگ جاتا جملے کی روانی کو متاثر کرتا ہے۔)
• گھر واپس لوٹنے کے امکانا ت لامتناہی طور پر محدود تھے۔(یہاں محدوددرست معلوم نہیں ہوتا۔)
• مذاق نے اس وقت وحشیانہ شدت اختیار کر لی جب ان میں سے ایک نے مجھے انگلی لگا کر گندی گالی نکالی۔(گالی نکالنا غلط ہے۔)

Categories
تبصرہ

بکر بیتی: صحرا کی داستان غم

بن یامین کے ناول Goat Daysکاتجزیاتی مطالعہ

تمہید:

اگر آپ نے بن یامین کا ناول Goat Daysنہیں پڑھا ہے، تو پڑھ لیجیے، اصل متن ملیالم میں ہے، مگر انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں اس کاترجمہ موجود ہے۔ آج کے شمارہ نمبر 101 میں اس کا اردو ترجمہ موجود ہے، عاصم بخشی نے نہایت صاف اور سلیس زبان میں انگریزی سے اس ناول کا ترجمہ کیا ہے۔
اس ناول کو کیوں پڑھنا چاہیے؟

اگر یہ سوال آپ کے ذہن میں آتا ہے تو میں اپنے تجربے کو آپ کے ساتھ بانٹ سکتا ہوں کہ مجھے اس ناول کو پڑھ کر کیا حاصل ہوا اور کسی بھی شخص کو یہ ناول کیوں پڑھنا چاہیے۔

سب سے بنیادی بات تو یہ کہ فکشن کا مطالعہ کسی بھی انسان کو اپنے محدود دائرہ نگاہ سے باہر نکال کر ایک ایسی دنیا میں لاتا ہے جہاں زندگی کی بے شمار تصویریں موجود ہوتی ہیں۔ لاتعداد آئینے جن میں زندگی کا عکس الگ الگ انداز میں پایا جاتا ہے۔ ہم اور آپ جب تک فکشن کی دنیا میں داخل نہیں ہوتے اس وقت تک اپنی معمولی معمولی خواہشوں کو زندگی کی سب سے بڑی حقیقت سمجھتے رہتے ہیں۔ اپنے فیصلوں، صداؤں، المیوں اورعمومی باتوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ جذباتی انداز میں سوچنے کو سب کچھ سمجھتے ہیں اور زندگی کی ان سچائیوں سے ناواقف رہتے ہیں جو موجود تو ہیں، مگر ہمارے تجربے کا حصہ نہیں بنی ہیں۔

میں بھانت بھانت کا فکشن زیادہ تر انہیں وجوہات کی بنا پر پڑھتا ہوں، کیوں کہ زندگی کے اس پھیلاو سے آشنا ہونا چاہتا ہوں جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں یا جس کا ذکر سنتے رہتے ہیں۔

دنیا حقیقت میں کوئی چھوٹی جگہ نہیں اور نہ اتنی معمولی ہے جتنا اسے مذہبی پیشوا سمجھتے ہیں۔ دنیا کے لا تعداد رنگ ہیں، بے شمار چہرے، جن کا احساس ہمیں فکشن کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ آپ کسی شخص کو جاننا چاہتے ہیں تو کہانی آپ کی مدد کر سکتی ہے، کسی کے متعلق کوئی رائے قائم کرنا چاہتے ہیں تو بھی کہانی آپ کی مدد کر سکتی ہے، کسی سے نزدیک یا دور ہونا چاہتے ہیں تو ان معاملات میں بھی کہانیاں ہی آپ کی سب سے بڑی مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ انہیں آپ کسی کے دل کا غبار کہیں، جھوٹ کہیں، تجربہ کہیں، افسانہ کہیں یا کچھ اور کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کہانی تو بس کہانی ہے جس سے اگر آپ کو عشق ہے تو آپ زندگی کے اس پھیلاؤ سے آشنا ہوتے چلے جائیں گے جہاں انسانی احساس،جذبات، شعوراور ادراک کا ٹھاٹھے مارتا سمند ر موجود ہے۔آپ کو بڑی سے بڑی حقیقت افسانہ معلوم ہونے لگے گی اور بڑے سے بڑا افسانہ حقیقت۔

بکر بیتی کا قصہ:

اس سے پہلے کہ میں یہ بتاوں کہ یہ کہانی ہمیں کیوں پڑھنا چاہیے، مختصراً اس ناول کا قصہ بیان کیے دیتا ہوں:
بکر بیتی ایک شخص نجیب محمد کی کہانی ہے جو بنیادی طور پر مالابار کا رہنا والا ایک غریب مسلمان ہے۔ اس کے بہت سے خواب ہیں، بہت سی خواہشیں ہیں، مگر وہ ان خواہشوں کو پورا کرنے سے قاصر ہے، کیوں کہ اس کے حالات اور کمائی اس بات کی اجازت نہیں دیتے کہ وہ ان خوابوں کو پورا کر سکے۔ نجیب ایک شادی شدہ شخص ہے جس کی بیوی سینو ایک صابر اور سمجھ دار عورت ہے۔نجیب کو ایک روز اپنے ایک ساتھی سے خلیجی ملک جانے کے ایک عدد ویزے کے متعلق معلوم ہوتا ہے، یہ ویزا خلیجی ملک میں مزدوری کے لیے ہے۔ جس کی قیمت تیس ہزار ہے۔ نجیب اس ویزے کے متعلق اپنی بیوی سینو سے بات کرتا ہے اور اسے حاصل کر کے عرب ملک جا کر مزدوری کرنے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ سینو اس بات سے بہت خوش ہوتی ہے اور اس کا حوصلہ بڑھاتی ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہتی ہے کہ ہمیں بہت زیادہ دولت جمع نہیں کرنی ہے، بس کسی نہ کسی طرح اتنا ہو جائے کہ ہم اپنے بچوں کا مستقبل سنوار لیں اور ایک متوسط زندگی گزار سکیں۔

نجیب ویزا کے لیے تیس ہزار رپیوں کا انتظام کرتا ہے اور ادھار قرض لے کر ویزا حاصل کرلیتا ہے۔ سفر کی شروعات میں بمبئی پہنچتا ہے اور وہاں ایک نوجوان لڑکے حکیم سے اس کی ملاقات ہوتی ہے،جو نجیب کا ہم سفر ہے اور اس کے ساتھ مزدوری کر نے عرب جارہا ہے۔ حکیم کی ماں نجیب کو بڑا سمجھ کر حکیم کا دھیان رکھنے کے لیے کہتی ہے۔ یہ دونوں خوشی خوشی عرب پہنچتے ہیں اور ایر پورٹ کے باہر آکر اپنے ارباب کا انتظار کرنے لگتے ہیں، مگر انہیں لے جانے کوئی نہیں آتا، بہت دیر تک انتظار کرنے کے بعد ایک گاڑی آتی ہے جس میں سے ایک بد بو دار عرب اتر کر ان سے کسی عبداللہ کے متعلق پوچھتا ہے،جس کے جواب میں وہ انکار میں سر ہلا دیتے ہیں، وہ عرب غصے میں ایر پورٹ پر ٹہلنے لگتا ہے، پھر کچھ دیر بعد وہ حکیم کے پاس آکر اسے گاڑی میں بیٹھے کے لیے کہتا ہے اور حکیم اور نجیب اسے اپنا ارباب سمجھ کر گاڑی میں بیٹھ جاتے ہیں۔ وہ ارباب انہیں شہر سے دور ایک ریتیلے میدان کے بیچوں بیچ لا کر ایک بدبو دار جگہ پر اتار دیتا ہے اورارباب، نجیب اور حکیم دونوں کے پاس پورٹ ضبط کر لیتا ہے۔

پہلے حکیم کو ایک ٹینٹ کے پاس اتارتا ہے اور نجیب کو گاڑی میں ہی بیٹھے رہنے کا حکم دیتا ہے، پھر ایک کلو میٹر کے فاصلے پر نجیب کو بھی اتار کر اسی طرح کے ٹینٹ میں بھیج دیتا ہے۔وہاں ایک اور ارباب سے نجیب کی ملاقات ہوتی ہے۔ جو اس سے بات تک نہیں کرتا اور ٹینٹ کے باہر بھیج دیتا ہے۔ گاڑی میں لانے والا ارباب انہیں وہیں صحرا میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔

نجیب کو یہاں بڑا عجیب سا محسوس ہوتا ہے، دوسرے دن صبح میں نجیب کی ملاقات وہیں ٹینٹ میں ایک اور شخص سے ہوتی ہے جو نہایت بدبو دار ہے، اور اس کی شکل بہت خوف ناک ہے۔ نجیب اسے دیکھ کر کراہت محسوس کرتا ہے۔ یہاں سے اصل کہانی کی شروعات ہوتی ہے۔

نجیب کو اس ٹینٹ کے پاس موجود بکریوں،بھیڑوں اور اونٹوں کی گلہ بانی کے کام پر لگایا جاتا ہے۔ جہاں اسے بہت سختیاں جھیلنا پڑتی ہیں۔ وہ بے انتہا بدبودار ماحول میں رکھا جاتا ہے۔ جہاں نہ پینے کے لیے پانی ہے نہ کھانے کے لیے اچھا کھانا۔ صرف ایک عدد پکوان پہ اس کا گزارا ہوتا ہے اور جب وہ بے انتہا تھک جاتا ہے تو اسے زندہ رہنے کے لیے ایک پیالہ پانی ملتا ہے۔ ارباب اس پر بے انتہا مظالم کرتا ہے، اسے مارتا پیٹتا ہے اور گدھوں کی طرح اس سے کام لیتا ہے۔ وہ بد شکل شخص جو نجیب کو پہلے دن اس بکروں کے ریوڑ میں ملتا ہے۔ وہ وہاں کا پرانا ملازم ہوتا ہے جو نجیب کے آتے ہی وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ نجیب وہاں، بکرے،بکریوں کو چرانے، ان کا دودھ نکالنے، انہیں بھونسا ڈالنے، ان کی دیکھ بھال کرنے اوربھیڑوں کے چرواہے کے فرائض انجام دینے وغیرہ جیسے کاموں پر معمور کیا جاتا ہے، جہاں صرف وہ ہے اور اس کا ارباب۔

ارباب ایک خیمے میں رہتا ہے جہاں جانے کی نجیب کو اجازت نہیں ہے اور وہ سردی گرمی برسات میں کھلے آسمان کے نیچے ریت پر پڑا رہتا ہے۔ نہانے دھونے، غسل، رفع حاجت یا کسی صفائی کے لیے پانی میسر نہیں ہے۔ پانی ایک قیمتی چیز ہے جس کو ان بے کار کاموں پر صرف کرنے پر سزا دی جاتی ہے۔ ارباب کے بے شمار مظالم، موسم اور محنت، مزدوری کی وجہ سے نجیب بہت جلد کمزور ہوجاتا ہے۔ وہ تین سال تک اسی حالت میں رہتا ہے۔ اسی طرح حکیم بھی اسی عالم میں اس سے ایک کلو میڑ کی دوری پر زندگی گزارتا رہتا ہے۔ نجیب اور حکیم موت کی دعائیں مانگتے ہیں، مگر انہیں موت نہیں آتی،بس زندگی ان پر ظلم کرتی رہتی ہے۔

حکیم کے جائے کار پر بہت عرصے بعد ایک اور ملازم ابراہیم خضری آتا ہے، جو ایک دیو قامت شخص ہے۔ وہ نجیب اور حکیم کو بتاتا ہے کہ وہ اس علاقے سے اچھی طرح واقف ہے اور کسی روز انہیں یہاں سے بھگا لے جائے گا۔ حکیم اور نجیب یہ سن کر بہت خوش ہوتے ہیں اور ان میں زندگی کی امید پختہ ہو جاتی ہے۔ ایک روز جب تمام ارباب ایک شادی میں گئے ہوئے ہوتے ہیں، حکیم، نجیب اور ابراہیم خضری وہاں سے بھاگ نکلتے ہیں۔ یہاں سے داستان غم کا ایک دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔

صحرا میں بھاگتے بھاگتے ان کی حالت بہت بری ہو جاتی ہے، حکیم راستے ہی میں پاگل ہو کر مر جاتا ہے۔ نجیب کو اس کا بہت دکھ ہوتا ہے۔ نجیب اور ابراہیم خضری ایک ایسے مقام کو تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جہاں سے سڑک نزدیک ہے، لیکن ایک صبح جب نجیب کی آنکھ کھلتی ہے تو ابراہیم خضری غائب ہوتا ہے۔ وہ خضر کی صورت نجیب کو صحیح راہ پر لگا کر غائب ہو جاتا ہے۔ نجیب سڑک پر آکر بہت سی لاریاں اور ٹرک روکنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کی حالت اتنی بھیانک اور بدبو دار ہے کہ کوئی گاڑی نہیں رکتی۔ ایک بہت شفاف گاڑی جس پرنجیب کو یقین بھی نہیں ہوتا کہ وہ رکے گی اس کے ہاتھ دکھانے پر رک جاتی ہے۔ وہ ایک امیر عربی کی گاڑی ہوتی ہے جو اسے شہر تک لا کر چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں سے وہ ایک ملیالی کے ہوٹل جس کا نام کنجیکا کا ہوٹل ہے وہاں اتفاق سے پہنچ جاتا ہے۔ کنجیکا کے ہوٹل کی سیڑیوں پر ہی وہ بے ہوش ہو جاتا ہے، جہاں سے کنجیکا کے ملازم اسے اٹھا کر ایک کمرے میں لاتے ہیں اور اسے نہلا دھلا کر اس کا علاج کرواتے ہیں۔ نجیب کو ہوش آتا ہے تو وہ اپنے قریب ملیالیوں کا ایک جمگٹھا دیکھتا ہے اور رونے لگتا ہے۔ کنجیکا اس کا حوصلہ بڑھاتا ہے او ر اس کے غموں کی داستان پوچھتا ہے۔ نجیب اسے سب کچھ بتاتا ہے جس پر سب حیران ہو جاتے ہیں۔نجیب کنجیکا کے ہوٹل میں تین ماہ رہتا ہے اور یہیں سے اپنی بیوی سے فون پر بات کرتا ہے۔ وہاں یہ طے ہوتا ہے کہ نجیب خود کو پولس کے حوالے کر دے تاکہ پولس اسے بنا پاس پورٹ انہیں ان کے ملک بھیج دے۔ جیل کے واقعات بھی بہت دلچسپ ہیں۔ کنجیکا میں اپنی طرح کے ایک دوسرے مظلوم شخص حمید سے اس کی ملاقات ہوتی ہے، جس کے ساتھ نجیب جیل جاتا ہے۔ سب سے آخری سین میں یہ سسپنس بھی کھل جاتا ہے کہ نجیب کا وہ ارباب جو اسے اپنے ساتھ گاڑی میں بٹھا کر صحرا میں لے جاتا ہے وہ واقعتاً نجیب کا ارباب ہوتا ہی نہیں ہے، بلکہ اس رات نجیب اور حکیم کو ایک عرب شخص اغوا کر لیتا ہے اور نجیب اور حکیم یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ وہ اسی کام کہ لیے خلیجی ملک آئے تھے۔

اس ناول کو کیوں پڑھا جائے:

یہ ناول 43 حصوں پر مشتمل ہے، جس میں سے زیادہ تر حصے نجیب کی مسارے میں ملازمت اور ریگستان کے سفر پر مشتمل ہیں۔ یہ ہی حصے کہانی کی جان ہیں۔ بن یامین کے بقول انہوں نے نجیب نامی ایک شخص سےملاقات کر کے یہ کہانی سنی تھی، جسے بنا کسی مبالغے انہوں نے من و عن بیان کر دی۔ ایک سچا واقعہ جس میں انسانی زندگی پر ہونے والے مظالم کی انتہا دکھائی گئی ہے۔ کہانی فلیش بیک تکنیک میں لکھی گئی ہے، جس سے پڑھنے والا مزید لطف اندوز ہوتا ہے۔ یہ بات کہانی کی شروعات میں ہی طے ہو جاتی ہے کہ جو شخص کہانی سنا رہا ہے وہ مرا نہیں ہے، لہذا وہ تمام مناظر جہاں مظالم کی انتہا دکھائی گئی ہے وہاں بھی پڑھنے والے کے ذہن میں یہ بات رہتی ہے کہ جس پر یہ سب کچھ گزر رہا ہے وہ اتنے قہر کے باوجود بھی جیتا رہا۔اس سے پڑھنے والے کو زندگی کے مشکل ایام میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ ملتا ہے، ساتھ ہی انسان کی قوت برداشت کا علم ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص مشکل سے مشکل حالات میں یہ ٹھان لےکہ اسے زندگی سےلڑتے رہنا ہے اور شکست کا منہ نہیں دیکھنا تو قدرتی طور پر اس کے اندر چھپی ہوئی توانائی باہر آنے لگتی ہے اور وہ ایسے مشکل ترین حالات کا بھی سامنا کر لیتا ہے جس کے متعلق سوچ کر بھی ا س کی روح کانپ جائے۔
ناول میں بے شمار مقامات پر ہمیں اس کا درس ملتا ہے، مثلاً وہ منظر جب ارباب نجیب سے اس کے نئے کپڑے اتارنے کے لیے کہتا ہے اور اسے ایک نہایت بدبو دار چوغہ دیتا ہے جسے دیکھ کر نجیب کو قے آنے لگتی ہے، پھر بھی نجیب اسے پہنتا ہے، یا وہ منظر جس میں نجیب کا ہاتھ بکرے کی ٹکر سے ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی چھاتی پر بھی ورم آجاتا ہے اس کے باوجود ارباب اس سے بکری کا دودھ دوہنے کے لیے کہتا ہے اور نجیب بے انتہا تکلیف میں بھی اس کام کو کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ صحرا میں پانچ کلو میٹر تک بکھری ہوئی بکریوں کو جمع کرنے والا منظر، اپنے بیٹے نبیل کی طرح پالے ہوئے بکری کے بچے کی مردانگی کو قطع کرنے والا منظر، مسارے میں گھسےسانپ کو مارنے والا منظر، گرم ریت میں کوئے کے پر کے برابر سایہ ڈھونڈنے والا منظر اوروہ تمام مناظر جن میں نجیب پر اسی طرح کے کرب ناک مظالم ہوتے ہیں۔

ایسے کرب ناک حالات کو بیان کرنے والے ناول کے متن میں داخل ہونے والا قاری خود بہ خود نجیب کی طرح اپنے آپ کو حالات کا شکار ہوتا ہوا محسوس کرنے لگتا ہے اور جب وہ مسارے کی زندگی میں خود کو نجیب کی طرح بالکل پھنسا ہوا پاتا ہے تو اس کےا ندر ایک نئی نفسیاتی حالت جنم لینے لگتی ہے۔ جس حالت میں وہ کبھی خود کو خوش رکھنے کے لیے طرح طرح کی حرکتیں کرتا ہے، کبھی اپنے ماضی کے اہم کرداروں کو مصنوعی طور پر اپنے آس پاس زندہ کر لیتا ہے، کبھی خوشی کے حصول کے لیے جانوروں کی کسی حرکتیں کرنے لگتا ہے، کبھی غم کی انتہا کو خود سے چھپانے کے لیے اپنے ضمیر سے دروغ گوئی کرنے لگتا ہے۔

اس ناول میں انسان کی ذہنی حالت کے مختلف رویوں کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے اور ہمیں یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ انسان خواہ آبادی میں رہے یا ویرانے میں اس میں اگر زندہ رہنے کا حوصلہ ہے تو وہ مصیبتوں اور پریشانیوں کے باوجود اپنے ارد گرد ایک تماشا پیدا کرلیتا ہے۔ صحرا کی وہ کرب ناک زندگی جہاں نہ پانی ہے نہ کھانا، جہاں نہ انسان ہے نہ بھیڑ، بکریوں اور اونٹو ں کے علاوہ کوئی جانور۔ وہاں بھی نجیب خود کو کس طرح اپنے لوگوں میں شامل رکھتا ہے، وہ اپنے مسارے کی بکریوں اور بکروں میں اپنے محلے کے انسانوں کی صفات تلاش کر لیتا ہے اور انہیں ایک انسانی ہیولے میں ڈھال کر اپنے قریب ماضی کا میلا لگا لیتا ہے۔ وہ کسی کو میری میمونہ سمجھتا ہے تو کسی کو اراووتھر، کسی کو پوچا کری رامنی بنا دیتا ہے تو کسی کو پھراندی پوکر، اس کے نزدیک کوئی جاندوراگھون ہے تو کوئی پریپو وجیبا، کوئی نبیل ہے تو کوئی رافت کوئی کاسو ہے تو کوئی اور آمنی۔ان سب میں سب سے زیادہ پر لطف قصہ پوچا کری رامنی کا ہے، جس کے کردار کی اصلی جھلک دیکھ کر قاری تمام المیے سے باہر آجاتا ہے۔

بن یامین کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے ناول میں المیے اور طربیے ان دونوں صورتوں کو پوری طرح قائم رکھا ہے۔ بہت سے صحرائی واقعات ایسے ہیں جن میں حالات کی سفاکی کے باوجود غم کی لہر نہیں ہے بلکہ حیرانی کا سحر ہے۔مثلاً وہ منظر جس میں سانپوں کا ایک غول کا غول چلا آرہا ہے اور نجیب اور ابرہیم خضری ان سے بچنے کے لیے شتر مرغ کی طرح ریت میں اپنا منہ دبا لیتے ہیں یا وہ مقام جہاں نجیب اڑتے ہوئے گرگٹوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ ایسے تمام مناظر میں ارباب کا پانی سے ڈرنے والا منظر ایسا ہے جس پر قاری بھونچکا رہ جاتا ہے۔ ارباب جو پورے ناول میں ظلم کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ جو آخری درجے تک سفاک ہے، جسے سوائے ظلم کے کچھ نہیں آتا اور جو کسی جری مرد کی طرح پورے ناول میں طاقت کی مثال نظر آتا ہے وہ پانی سے وہ بھی بارش کے پانی سےڈر کر ایسا سکڑا پڑا ہے جیسے ہزاروں شیروں نے اسے گھیر لیا ہے۔ نجیب جو خود اس کے ظلم کا شکار ہے ارباب اس کی موجودگی پر اللہ کا شکر ادا کر رہا ہے اور پانی کی ایک ایک بوند سے ایسے ڈر رہا ہے جیسے آسمان سے شعلے برس رہے ہوں۔نجیب اس مقام پر جب یہ کہتا ہے کہ ارباب پوری زندگی میں ایک مرتبہ بھی نہیں نہایا تو ناول میں ایک نئی تاثیر پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے چھوٹے بڑےکئی مناظر ہیں جن سے کہانی میں مختلف حالتوں کا ظہور ہوتا ہے اور ایک مکمل المیہ ہونے کے ساتھ ساتھ ناول میں دیگر اجزائے تاثیر بھی شامل ہو جاتے ہیں۔

فلیش بیک تکنیک:

ایک خاص بات اس ناول کا فلیش بیک کی تکنیک میں ہونا بھی ہے،اس سے ناول کی ابتدا میں ایک تجسس کی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ دو لوگ حمید اور نجیب عربی ملک میں کئی دنوں سے سڑکوں پر بھٹک رہے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ انہیں کسی نہ کسی طرح پولس گرفتار کر لے۔ اس کے لیے وہ کچھ کوششیں بھی کرتے ہیں، مگر ناکام رہتے ہیں۔ بہت مشکل سے انہیں جیل کی راہ ملتی ہے جس پر وہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ اس فضا سے قاری کا ذہن ایک مخمسے میں پڑ جاتا ہے کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے جس کی وجہ سے کوئی جیل میں جانے کو اپنی منزل تک پہنچنا تصور کر رہا ہے۔ فلیش بیک کی وجہ سے بعض ایسی باتوں کی طرف بھی اشارہ کرنا ممکن ہوا جن کا ناول کی کہانی سے کوئی راست تعلق تو نہیں، مگر کہانی کے موثر ہونے سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ مثلاً پوچا کری رامنی کی کہانی۔

فلیش بیک تکنیک سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ کہانی کے بعض اہم کردارمثلاً حمید، حکیم، ارباب، ابرہیم خضری، سینو، بدنما بدبو دار شخص اور کنجیکا کی عادات و اطوار اور خصائل کی بہتر انداز میں وضاحت ہو گئی۔اسی طرح جیل کے حالات کا بیان بھی کامیابی سے ہو سکا۔ اگر یہ ناول فلیش بیک بیانیہ تکنیک میں نہ ہوتا تو غالباً اس کے تمام حصے جہاں قاری کو بوریت محسوس ہوتی ہے وہ بہت زیادہ بوجھل ہو جاتے اور ناول کا پھیلاو غیر ضروری معلوم ہونے لگتا۔

منظر نگاری:

منظر نگاری میں مصنف کو مہارت حاصل ہے۔ ناول میں بہت سے حصے ایسے ہیں جہاں مصنف نے اس ضمن میں کمال کیا ہے۔میں یہاں مثال کے طور پر ایک پیش کرتا ہوں:

“سینکڑوں عرب ادھر ادھر گھوم پھر رہے تھے۔ مرد اور عورتیں۔ میں نے اپنی توجہ ہٹانے کے لیے تصور کیا کہ میں قطب جنوبی پر ہوں اور میرے سامنے سیاہ و سفید پینگوئن پھر رہے ہیں۔ میں ملتجی نظروں سے ہر پینگوئن کی شکل (ان مادہ پینگوئنوں کی آنکھیں جن کی شکل نظر نہیں آرہی تھی) دیکھ رہا تھا۔ میں وہی نجیب ہوں جسے تم ڈھونڈ رہے ہو۔ میرے ساتھ یہ چھوٹا سا لڑکا وہی حکیم ہے جس کی تمھیں تلاش ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں اور درخواست گزار چال ڈھال کی مدد سے ہر ایک سے مواصلاتی تعلق قائم کیا۔ لیکن کوئی میری التجا پر مائل نہیں ہوا۔ ہو کوئی دور جاتے ہوئے اپنی مصروف زندگی میں گم ہو رہا تھا۔”(حصہ نمبر 6)

جذبات نگاری:

ناول میں جذبات نگاری کو بھی متاثر کن انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے ہر اس مقام پر قاری کی آنکھیں نم کر دی ہیں جہاں ذرا بھی جذباتی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ بعض مواقع تو ایسے ہیں کہ پڑھتے پڑھتے آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور حلق میں الفاظ پھنسنے لگتے ہیں۔ مثلاً وہ مقام جہاں نجیب خیالی انداز میں سینو کو خط لکھ رہا ہے یا وہ موقع جہاں سینو،اکایعنی نجیب کو لائق گزارہ کما کر واپس لوٹ آنے کی تلقین کر رہی ہے۔اسی طرح حکیم کی ماں کا نجیب سے التجا کرنے والا منظر اور نجیب کا سینو سےتین برس چار ماہ بعد فون پر بات کرنے والا منظر۔یہ تمام مناظر جذباتیت سے بھرے ہوئے ہیں۔

مزاح نگاری:

ناول کے بعض مقامات پر مزاح بھی پیدا کیا گیا ہے، جس سے ناول کی بوجھل فضا میں لطف پیدا ہو جاتا ہے۔ایسے مناظر میں پوچا کری رامنی کا قصہ سب سے اہم ہے۔ اس کے علاوہ مسارے کا ایک منظر جو بظاہر المیہ ہے مگر یامین کے بیانیہ نے اسے طربیہ بنا دیا ہے۔ملاحظہ کیجیے:

“میں آہستگی سے جھکتے ہوئے ایک بکری کے پیچھے بڑھا،برتن قریب کیا اور تھن کو کھینچا۔ دودھ تو خیر کیا نکلنا تھا، بکری کو ایک جھٹکا سا لگا اور وہ چھلانگ مار کر برتن اور مجھے لات مارتی ہوئی ریوڈ سے دور بھاگ گئی۔ اسے پاگلوں کی طرح بھاگتے دیکھ کردوسری بکریوں میں بھی افراتفری پھیل گئی۔ ایک تو میری کمر کو روندتی ہوئی نکل گئی۔ میں درد سے جھنجھلا اٹھا۔ کسی نہ کسی طرح سنبھلتے ہوئے ایک اور ایسی بکر ی کے پیچھے بڑھا جو اب دوڑتے دوڑتے رک چکی تھی۔ چوچیوں کو ہاتھ لگانا تھا کہ وہ بھی بھڑک کر دوسری طرف چھلانگ مار گئی۔ ایک اور سے دودھ حاصل کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی بھاگ گئی۔ میں نے سوچا، یا میرے مالک! بھاگتی ہوئی بکری سے دودھ کیسے نکالا جاسکتا ہے؟ میں حیران و پریشان تھا۔”(حصہ نمبر ق13)

کردار نگاری:

ناول میں کردار نگاری پر بہت توجہ دی گئی ہے۔ کہانی خواہ حقیقت پر مبنی ہو یا افسانہ ہو اس میں کردار نگاری کا سب اہم رول ہوتا ہے۔ بن یامین نے ناول کے کرداروں میں اپنے بیانیے سے جان ڈال دی ہے۔ناول کے کرداروں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ سب کے سب مختلف رویوں کا شکار ہیں۔ جس طرح عام زندگی میں ہم کسی بھی ایک معاملے میں کمزوراور ایک میں مضبوط ہو تے ہیں اسی طرح ناول کے کرداروں کا بھی معاملہ ہے۔ بنیادی کرداروں میں نجیب اور ارباب اس طرح کی صفات سے مزین نظر آتے ہیں۔ جو اپنے فیصلوں میں مضبوط بھی ہیں اور کمزور بھی۔ ڈرتے بھی ہیں اور ڈراتے بھی ہیں۔ خود سے جھوٹ بھی بولتے ہیں اور سچے بھی ہیں۔ لالچی بھی ہیں اور رحم دل بھی۔ منافق بھی ہیں اور ایمان دار بھی۔ الگ الگ مواقع پر ان کی الگ الگ صفات ابھر کر سامنے آتی ہیں۔اس ناول میں نجیب ایک سیدھا، سچا اور مظلوم کردار ہے، لیکن اسی کے ساتھ اس کے ظلم، حسد اور کمینے پن کی واضح تصاویر بھی ناول میں موجودہیں۔ مثلاً ایک موقع پر جب اسے لگتا ہے کہ حکیم اور ابراہیم خضری اسے چھوڑ کر چلے گئے ہیں تو وہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کرتا ہے:

“میں حسد کے مارے سکڑ کر رہ گیا۔ دل میں ساری دنیا کے لیے نفرت اور عداوت کی آگ سلگنے لگی۔ میں نے اپنی ساری کڑواہٹ مسارے میں موجود بکریوں پر نکالی، یعنی نو مولود بکریوں کے خصیے دبانا، اپنی چھڑی دودھ دینے والی بکریوں کے تھنوں پر مارنا اور بھیڑوں کے پچھواڑے میں لکڑیاں گھسیڑنا۔”(حصہ نمبر 29)

حکیم ایک لڑکا ہے اس لیے اسے بہت کمزور اور جذباتی دکھایا گیا ہے، ساتھ ہی وہ اپنے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے مضبوط بھی ہے۔ مثلاًجب ابراہیم خضری اسے مسارے سے بھگا لے جانے کی بات کرتا ہے تو اس میں توانائی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے اور وہ پر مسرت نظر آنے لگتا ہے۔ اس وقت اس کے کردار میں ہمیں قوت کی ایک لہر دوڑتی نظر آتی ہے۔

ناول کا ایک متاثر کن کردار ابراہیم خضری بھی ہے۔ یہ خضر کی طرح دو مظلوموں کی مدد کے لیے اچانک کہانی میں داخل ہو جاتا ہے اور اپنے مقصد کو پورا کر کے اسی طلسماتی طریقے سے غائب ہو جاتا ہے۔ ابراہیم خضری کا کردار الف لیلوی کردار ہے جس کے واقعات سے ناول میں داستانی رنگ پیدا ہو گیا ہے۔ مثلاً اس کا جانوروں، درختوں، پودوں، صحراوں اور وادیوں کی خصوصیات سے آگاہ ہونا۔ حالات کی نزاکت کو جاننا اور صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لینی کی صلاحیت کا پایا جانا اس کے کردار کو ایک معمہ بنا دیتے ہیں۔ وہ ایک مکمل راہ نما ہے جو نجیب اور حکیم کی مدد کے لیے آسمانی مخلوق بن کر آتا ہے۔

کنجیکا اور حمید کے کردار ذرا کمزور ہیں یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کا کہانی میں زیادہ عمل دخل نہیں۔
سینو ایک جذباتی عورت ہے جو بہت مختصر وقفے کے لیے ناول کاحصہ بنتی ہے، مگر اس سے عورت کی وفا شعاری کادرس ملتا ہے۔
ان کے علاوہ ایک عربی جو نجیب کو شہر تک لا کر چھوڑتا ہے وہ انسانیت کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ حالاں کہ ایسا عام زندگی میں نہیں ہوتا کہ کوئی امیر ترین شخص کسی نہایت بھیانک اور بدبودار انجان شخص کو اپنی چمچماتی گاڑی میں بٹھائے،لیکن پھر بھی استثنائی صورت میں ایسے لوگ کبھی کبھی ٹکرا جاتے ہیں۔ اس کردار کی ناول میں کیا اہمیت ہے اس کےلیے صرف مصنف کے یہ جملے ہی کافی ہے کہ:

“میں کیسے اس عظیم آدمی کا شکریہ ادا کر سکتا تھاجس نےمجھے اتنی دیر برداشت کیا۔ اس کے احسان کی قیمت میں بس ایک قطرہ اشک کے ذریعے ہی چکا سکا۔ اس نے کچھ بھی نہ پوچھا۔ ایک لفظ بھی نہ کہا۔میں گاڑی سے نکلا اور دروازہ بند کردیا۔ مجھے شہر کے بیچوں بیچ چھوڑ کر عرب نے اپنی راہ لی۔ میں کافی دیر روتا رہا۔ اس دن مجھے معلوم ہوا کہ خدا پر تعیش گاڑیوں میں بھی سفر کرتا ہے۔”(حصہ نمبر 40)

جمالیات:
ناول میں بعض مقامات پر جمالیات کا بھی بھر پور اظہار ملتا ہے۔ ایسے موقعوں پر بن یامین کی ناول نگاری اور جمالیاتی حس کی طرف ذہن مبذول ہوجاتا ہے اور نجیب کی کہانی ذہن سےیکسر غائب ہو جاتی ہے۔ مثلاً اونٹ کی شبیہ کا یہ بیان دیکھیے:

” اونٹ میرے قریب آئے تو میں حیرانی سے انہیں دیکھنے لگا۔یوں لگتا تھا جیسے ان کی بھاری پلکیں صحرا کی شدت کا کامل استعارہ ہوں۔پھیلتے سکڑتے مچھلی کے گلپھڑوں جیسے نتھنے۔کشادہ کھلا منھ،مضبوط گردن،گھوڑے کی ایال جیسے کھردرے بال،کان سینگوں کی طرح کھڑے ہوئے۔ان کی الگ تھلگ سی بے تعلقی میرے لئے سب سے زیادہ کشش اور دہشت کا باعث تھی۔”(حصہ نمبر 11 )

جنسیت

جنسیت انسانی زندگی کا ایک لازمی جز ہے، مگر اس ناول میں اس کی جھلکیوں کے پائے جانے کی امید کم تھی۔اولاً تو نجیب کے حالات اس کی طرف اشارہ نہیں کرتے اور پھر اس ناول کا یہ موضوع نہیں کہ اس میں جنسیت کا ذکر کہیں تلاش کیا جائے۔ رہی سہی کسر اس منظر میں پوری ہو جاتی ہے جہاں نجیب خود اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ اس کےبیٹے نیبل کی مانند جس بکری کے بچے کو خصی کیا گیا،تو اس واقعے سے خود اس کی مردانگی بھی بکری کے بچے کے ساتھ سلب ہو گئی۔ اس کے باوجود ایک مقام پر نجیب اس جذبے کو ابھرنے سے نہیں روک پاتا، وہ منظر اتناحیران کن ہے کہ قاری اسے پڑھ کر کچھ دیر کے لیے ساکت ہوجاتا ہے۔یہ اقتباس دیکھئے:

“ان دنوں جب میرے ساتھ بس بکریاں ہی تھیں، ایک واقعہ ایسا ہواکہ میں نے نہ صرف اپنے غم و الم بلکہ اپنا جسم بھی ان کے ساتھ بانٹا۔ ایک رات لیٹا تو نیند آنکھوں سے کوسو دور تھی۔ نہ جانے کیوں پورا جسم پسینے میں شرابور تھا۔ ایک عجیب سی شدت طلب تھی، بدن میں ریگستانی بگولےسے چل رہے تھے۔ کافی عرصے سے میں خود کو نامرد ہی سمجھ رہا تھا۔ گمان نہیں تھا کہ کبھی دوبارہ جنسی طور پر فعال ہو سکوں گا۔ لیکن یہ کیا ہوا؟ اندر پڑی کوئی ساکت اور جامد خواہش کسمسانے لگی۔ اسے دبانے کی تمام کوششیں بد ستور اس کے بھڑکنے کا سبب بن رہی تھیں۔ پردہ چشم کے سامنے کچھ برہنہ شبیہیں ظاہر ہو کر ورغلانے لگیں۔ میں جذبے کی حدت سے پگھل رہا تھا۔ کسی جسم کی قربت کی خواہش تھی۔ کسی غار میں پناہ درکار تھی۔ میں پاگل ہو رہا تھا۔ اسی غلبہ دیوانگی میں باہر بھاگا۔ صبح جب تھکی تھکی آنکھیں کھلیں تو میں مسارے میں تھا۔ پوچا کری رامنی(بکری) میرے قریب ہی نیم دراز تھی۔”(حصہ نمبر26)

فلسفہ

ناول میں مصنف نے بہت سے مقامات پر اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے۔ چونکہ ناول بیانیے کی تکنیک میں ہے اس لیے مصنف کا فلسفہ گاہے بہ گاہے نظر آتا رہتا ہے۔ وہ کسی بھی حالت پر اپنی رائے کا اظہار کر کے انسانی نفسیات اور اس کی صفات کے متعلق فلسفہ پیش کرتا ہے۔ کچھ مقامات پر قدیم فلسفوں کا اظہار کرتا ہے اور کچھ دقیانوسی باتوں کو فلسفے کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ مذہبی فلسفہ ناول میں بیش تر مقامات پر نظر آتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نجیب جس کی کہانی ہے اس کے خیالات سے مصنف کے خیالات کہیں کہیں متصادم ہوتے ہیں، مگر ان میں بہت زیادہ اختلاف کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ اسی طرح مصنف بیانیہ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بے تکلفانہ انداز میں بعض جگہ اپنی بات کہہ جاتا ہے جہاں مصنف اور نجیب ان دونوں کے مختلف شخصیات واضح ہو جاتی ہیں۔ مثلاًیہ جملے کہ:

• نامعلوم دنیاوں کے خواب کسی کو راس نہیں آتے، دور کے ڈھول سہانے ہوتے ہیں۔ جب خواب حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں تو اکثر نا قابل برداشت ہو جاتے ہیں۔(حصہ نمبر18)
• سچ اس خط میں نہیں بلکہ میری آنکھوں میں تھا۔ سچ کون پڑھ سکتا ہے۔(حصہ نمبر 19)
• اس دن مجھے معلوم ہو ا کہ خدا پر تعیش کاروں میں بھی سفر کرتا ہے۔(حصہ نمبر 40)

مذہبی جذبات:

نجیب ایک کٹر مسلمان ہے، جسے اللہ کی ذات پر بہت زیادہ بھروسا ہے۔ وہ جتنے مشکل حالات میں زندگی گزارتا ہے اس کا ایمان اتنا ہی مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ ناول میں اللہ کو پکارنے اور اس کی مدد چاہنے کے بے شمار مناظر ہیں۔ اس کی حمد و ثنا کے مناظر بھی ہیں، ساتھ ہی ساتھ بعض مواقع پر نجیب اللہ کو برا بھلا بھی کہتا ہے۔لیکن اس کا انکار نہیں کرتا اور اپنے مذہبی جذبات کو اپنے مشکل حالات کا سامنا کرنے کا سب سے بڑا ہتھیار تصور کرتا ہے۔

غیر مانوس الفاظ:

ناول میں بہت سے الفاظ قاری کے لیے غیر مانوس ہیں۔ ان میں بعض عربی بعض ملیالی اور بعض اردو کے ثقیل الفاظ ہیں۔ ایسے الفاظ میں سے زیادہ تر الفاظ کے معنی ناول میں کہیں نہ کہیں معلوم ہوجاتے ہیں، کچھ کے معنی خود مصنف نے بتا دیئے ہیں اور کچھ سیاق سے سمجھ میں آجاتے ہیں۔ پھر بھی یہ ایک عام قاری کے لیے نئے ہیں۔ مثلاً:

بطاقہ،مطوع،عقال،کاروتا،ساسی،اپیری،چمنتی پوری،موپلوں،ارباب،چچڑ مکھی،ماہ مکارم،چڑی مڑی، ثوب، شیلادی، مسارا، سمانے،شف،ماعن،حوائج،قلما،خنز،کاڈی،شڑپ،ساوا،مونجی،غنم،حلیب،تبن،برسی،یلا،تناقضات اورگوہ۔

زبان اور چھپائی کی اغلاط:

بہت سے مقامات پر چھپائی کی غلطی سے کچھ حرف چھوٹ گئے ہیں اور کہیں کہیں جملہ ہی غلط ہے۔ ایسے الفاظ اور جملوں کی مثالیں مندجہ ذیل ہیں:
• کوئی مجھے تلاش کرنے نہیں آیا۔ شایہ یہ مسلسل تکرار کا نتیجہ تھا۔(غلطی: شایہ کی جگہ شاید ہوگا/حصہ نمبر 3)
• مہمان نوازی کے انعام کے طور پر میں نے ساسی کو وہ اپنی وہ گھڑی اتار کر دے دی۔(وہ۔ دو مرتبہ ہے/حصہ نمبر 5)
• اب آنتیں قل ہو اللہ احد پڑھ رہی تھیں۔(اس میں صرف قل ہو اللہ آئے گا احد اضافی ہے/ حصہ نمبر 7)
• اپنے ذہن میں اسے گالیاں نکال رہا تھا۔(غیر فصیح ہے۔ گالی دینا، بکنا،داغنا، سنانااور ٹکانا محاورہ ہے۔ نکالنا نہیں/حصہ نمبر 18)
• چہرہ صاف کیا اور ہم دونوں سے اسے زبر دستی بٹھا دیا۔(سے کی جگہ نے ہوگا/حصہ نمبر 35)
• آخر کار جب کافی پانی چکا تو تھک کر زمین پر گر پڑا۔(پی۔ چھوٹ گیا ہے/حصہ نمبر 37)

فن ترجمہ نگاری:

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عاصم بخشی نے بکر بیتی کا نہایت آسان زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ ان کی زبان شستہ اور معیاری ہے۔ وہ الفاظ اور جملوں کو اس طرح سجا بنا کر بیان کرتے ہیں کہ پڑھنے والے کو تر جمے کے اصل متن ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔مختلف مقامات پر ان کی فن ترجمہ نگاری کے جوہر کھلتے ہیں۔مثلاً کچھ مناظر ایسے ہیں کہ اگر میں ان کا اردو سے ہندی میں ترجمہ کرنے کی کوشش کروں گا تو مجھے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑےگا۔ عاصم بخش زیادہ تر مواقع پر ناول کے متن کو اردو کاحقیقی متن بنا کر اسے یوں تحریر کرتے ہیں کہ وہ دوزبانوں میں ایک معنی رکھنے والے دو متن بن جاتے ہیں۔ ان کی زبان شناسی کی یہ خاصیت ہے کہ کسی مطلب کی ادائیگی کے لیے ان کے پاس بے شمار الفاظ ہیں، اسی لیے کسی بھی حالت کو بار بار ایک ہی لفظ کے ذریعے ظاہر نہیں کرتے۔ الفاظ کا بر محل استعمال کرتے ہیں جس سے روانی پہ حرف نہیں آتا۔ مطلب کی ادائیگی کے لیے قریب الفہم لفظ کا استعمال کرتے ہیں۔ کچھ جگہوں پر انہوں نے ماہ مکارم جیسے ثقیل الفاظ کا استعمال بھی کیا ہے، لیکن ایسے مقامات بہت کم ہیں۔ ملیالی زبان کے ان الفاظ کا تلفظ جو اس ناول میں استعمال ہوئے ہیں کتنا درست ہے میں اس سے ناواقف ہوں، لیکن ایک جگہ جہاں لفظ کاڈی کا استعمال ہوا ہے وہاں مجھے کچھ احتمال ہوا کہ غالباً یہ لفظ کڑھی ہے۔ کیوں کہ یہ بھی ایک مشروب ہے اور مصنف نے بھی کسی مشروب کے لیے ہی یہ لفظ استعمال کیا ہے۔

Categories
فکشن

تاثیر کا متن خانہ (تالیف حیدر)

“اتالو کالوینو” کی تحریر “A King Listens” کا طلسم کدہ”بادشاہ سنتا ہے”،”عاصم بخشی“کی زبان میں
آج شمارہ نمبر:101

میں نشے میں ہوں:
میں کہانیوں کو تلاش کرتا ہوں ، انہیں پڑھتا ہوں ، ان میں کھو جاتا ہوں اور حسن اتفاق یہ ہے کہ پھر اس دنیا میں واپس لوٹ آتا ہوں جہاں کہانیوں کا وجود عرضی حقیقتوں کی خاک میں پیوست، رلتا ہوا نظر آتا ہے۔ بعض قصے میری روح سے ٹکراتے ہیں۔ میں انہیں اپنی روح سے ٹکراتا ہوا قصہ کہنے پر مجبور ہوں، اس لیے کیوں کہ میرے پاس وہ زبان نہیں جس میں ان کی کسک کو بیان کر سکوں۔ ایسی کہانیاں جن میں جیون کا تازہ ، گھلاہوا اور گرم امرت پایا جاتا ہے۔ جس کے شوق سے میں زندگی کے پھیلاو سے آنکھیں ملانے کے قابل ہوتا ہوں۔ ایسی کہانیاں مجھے اپنے حصار میں رکھتی ہیں، مجھے اس بات کا احساس دلاتی ہیں کہ بے ثباتی دہر اور زندگی کی نغمگیوں اور تراوٹوں کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ ہے۔ میں ان قصوں کا ممنون ہوتا ہوں، انہیں سجدے کرتا ہوں۔ انہیں قصوں سے بڑھ کر سمجھتا ہوں، ان کے متن کی رگوں میں داخل ہو کر اپنی لاچاریوں سے بے نیاز ہونے کا غل مچاتا ہوں ۔ زندگی کے پھیلاو کے مکمل ادراک کے نہ حاصل ہونے کا احساس مجھے ان کہانیوں میں داخل ہونے کے بعد باطل لگنے لگتا ہے۔ ایسی کہانیاں میرے لہو کی تصویر بناتی ہیں، میرا کھیل درست کرتی ہیں۔ اس وجدان کو بھلاوے میں ڈال کر جس پر میں ناز کرتا ہوں مجھے ایک بچے کی مانند لوریاں سناتی ہیں۔
یہ ساری باتیں میں یوں ہی نہیں کہہ رہا ہوں، بلکہ “اتالو کالوینو” کی تحریر “بادشاہ سنتا ہے” جس کا ترجمہ عاصم بخشی نے کیا ہے، اس کو پڑھ کر اپنے ان ملے جلے جذبات کا اظہار کر رہا ہوں جو مجھ میں اکثر تنہائی میں اور ایسی کہانیوں کو پڑھنے کے بعد رقص کرنے لگتے ہیں ۔ یہ کہانی ایک ادھورے یا یوں کہیے کہ زندگی کے مختلف ادھورے فریمس کو یکجا کر کے مکمل کی گئی ہے۔ ایک ایسا متن جس کی کثرت میں انتہا کی لامتناہی وحدت ہے۔ وہ ساری باتیں کہ یہ کہانی کیا ہے؟ شائد میں کسی زبان میں بیان نہ کر پاوں۔ ایسی کہانیاں جن کا تجزیہ نا ممکن ہو، جن پر تنقید لا حاصل ہو اور جن کا تعارف محال ہو۔ ان پر زیادہ بات کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔مجھے اس کے پڑھ لینے کے بعد یقیناً اس بات سے بھی زیادہ سروکار نہیں رہا کہ یہ اتالو کالوینو نے لکھی ہے یا کسی اور نے ، یہ عاصم بخشی کا ہنر ترجمہ نگاری ہے یا کسی اور کا۔اس میں کتنے کردار ہیں؟ یہ کون سا بیانیہ ہے؟ اس میں کون سی تکنیک استعمال کی گئی ہے؟ کس معاشرت کی عکاسی کی گئی ہے یا کن مسائل سے اس کا علاقہ ہے؟ یہ ساری باتیں ایسی دلچسپ تحریروں کو پڑھنے کے بعد بے کار معلوم ہوتی ہیں۔ میں تو صرف اتنا جانتا ہوں کہ یہ تحریر ایک ایسا “متن خانہ” ہے جہاں مجھے اپنی تاریخ اور سیاسیات کے بے شمار کالے بت نظر آئے ، جہاں میرا بچپن ہے، بادشاہوں کی بے بسی ہے، مصنفوں کے جھوٹ ہیں ، آقاوں کی غلامی ہے، معجزوں کی شعبدہ بازیاں ہیں۔ جہاں خیالات کی اور مناظر کی ایک دوڑتی ہوئی فوج ہے، جو ہمیں کسی انجان چوٹی سے کبھی دل کے نہا ں خانے میں دھکیل دیتی ہے اور کبھی بدن کی سرگوشیوں سے ایوان زیریں و بالا کی چشمکوں میں کھیچ لاتی ہے۔ مجھے اس تحریر میں بہت دبیز لہریں ملی ہیں ان سچائیوں کی جو عام زندگی کے گدلے پانی میں پیدا ہوتی ہیں ۔بے شمار الہامی ستون ملے ہیں،ایسے جن سے صدائے احتجاج بلند ہوتی ہے۔یہ تحریر کسی علاقے یا کسی شخص کی نہیں ، بلکہ ایک حصار کی ہے۔ ایسا حصار جس میں تہذیبوں کے بے شمار مسکن سما جاتے ہیں ، جس میں زمینوں کے لا تعداد ٹکڑے جذب ہو جاتے ہیں۔ حکمرانوں کی اندھی بصیرتیں اور لاچاریاں پیوست ہوتی ہیں اور چشم کشاؤں کےٹوٹے ہوئے خواب دفن ملتے ہیں۔عین ممکن ہے کہ آپ کو یہ تحریر کسی مجذوب کی بڑ لگے ، مگر میرا سفر مجھے اس بڑ میں بڑا آشچریہ لگا۔ ہو سکتا ہے کوئی شخص اس کہانی کے متن سے لپٹ کر اس کی گہری حقیقتوں کو پا لے ، مگر مجھے تو اس میں ایسے ٹوٹے ہوئے تسلسل کے رنگین کنوئیں نظر آئے جن میں گر کر میں ایک تاثیر سے دوسری تاثیر میں تحلیل ہوتا چلا گیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کہانی کی بے شمار کڑیاں کسی کو ایک ایک تاگھے میں پروئی ہوئی محسوس ہوں ، مگر مجھے تو اس کی غیر منتظم حالت پر رشک آیا۔ اس تحریر کو پڑھتے ہوئے مجھے کسی مقام پر اس کے متن سے اجنبیت کا احساس نہیں ہوا، ہر وہ جذبہ جو کسی جملے یا لفظ سے میرے اندر پیدا ہوا وہ مجھے اپنا ازلی حصہ معلوم ہوا۔ پھر خواہ وہ سنجابی چوغے کی شرارتوں کا بیان ہو یاموٹے کمر بند کے سنہرے قبضے کا اعجاز۔دمدموں کا سرور ہو یاتُرم کی ترشیدہ آواز۔
اس تحریر کی یہ خاصیت ہے کہ یہ میرے قدموں کو پکڑتی ہے، مجھ سے لپٹ جاتی ہے اور ان بے شمار جملوں پر مجھ سے ہم آغوش ہو جاتی ہے جن پر میرےمنہ سے ایک بے ساختہ کلمہ ادا ہوتا ہے۔مثلاً یہ سطور کہ:
1. اصطبل سے کبھی کبھار آنے والی ہنہناہٹ یہ بتاتی ہے کہ کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔
2. گھبراہٹ اُس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک چاکِ سماعت سل نہ جائے۔
3. قدموں کی ایک ایک آواز، کسی تالے کی ایک بھی کھنک، ہر چھینک کی آواز گونجتی اور ٹکرا کر پلٹتی ہے، اور افقی سمت ایک دوسرے سے متصل کمروں، دالانوں، ستونوں کی قطاروں، داخلہ گاہوں، اور اسی طرح عمودی سمت میں گردشی زینوں، کھلی جگہوں، روزنوں، پائپوں، چمنیوں اور سامانِ طعام کے خودکار ترسیلی راستوں میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔
4. محل بادشاہ کا بدن ہے۔ تمھارا بدن تمھیں پُراسرار پیغامات بھیجتا ہے جو تم خوف اور پریشانی سے وصول کرتے ہو۔ اسی بدن کے ایک نامعلوم حصے میں ایک عفریت گھات لگائے بیٹھا ہے۔
5. کیا کوئی کہانی ایک آواز کو دوسری سے جوڑتی ہے؟ تم معنی تلاش کیے بغیر نہیں رہ سکتے، جو شاید کسی ایک آواز میں نہیں، اکیلی اکیلی آوازوں میں بھی نہیں، بلکہ ان درمیانی وقفوں میں ہیں جو انھیں الگ الگ کرتے ہیں۔
6. ہر وہ قصہ جو تمھاری جانب سے ظہور میں آتا معلوم ہوتا ہے، خود تمھیں تمھارے ہی پاس واپس لے آتا ہے۔
7. گلیاں کیا ہیں، گھومتی چرخیوں کے ارّے ہیں۔
8. وہ بھی ایک وقت تھا جب خوش ہونے کے لیے تمھیں صرف اپنے ذہن یا لبوں سے ایک ’’ترالالالا‘‘ کرتے ہوے اس سُر کی نقالی کرنا ہوتی تھی جو کسی عام سے گیت یا پھر کسی پیچیدہ سمفونی سے تمھارے ذہن میں اٹک گئی ہوتی تھی۔ اب ’’ترالالالا‘‘ کی جتنی بھی کوشش کر لو، کوئی سُر تمھارے ذہن میں نہیں آتا۔
یہ جملے کوئی کلیہ نہیں اور نہ ہی انتخاب بس میرے سرور کا ایک حصہ ہیں اور اس تحریر میں ایسے بے شمار حصے بکھرے پڑے ہیں ۔ یہ خیال کہ اس کہانی سے کسی شخص کا رشتہ کیسا ہو سکتا ہے یہ میرے لیے معمہ ہے ، لیکن اس کے باوجود اس کاتسلسل اور گھماو ہر اس پڑھنے والے کو جوکسی مسحور کن تحریر کی تلاش میں سر گرداں ہے جو سچی کہانی کا عاشق ہے، جس میں حقیقت کو کہانی کی دنیا میں مزید حقیقت کی صورت میں دیکھنے کی جستجوہے، جو واقعات کے لطافت اور زور بیان کے بلند آہنگی کو ایک جگہ دیکھنے کا خواہش مند ہے وہ اس تحریر کے وصال پر اپنی امید کو پہنچے گا۔بشرط کہ اس تحریر کو وہ کسی شاعر کا ترنم سمجھ کر نہ پڑھے اور نہ کسی مصلح کا ہدایت نامہ۔ اس میں کسی علاقے کی معاشرت کو نہ ڈھونڈے اور نہ کسی تخلیق کار کے شاہکار کو۔ بس پڑھے ، بڑھے اور متن کے تاروں سے الجھتا چلا جائے۔

سخنور بہت اچھے:
فن ترجمہ نگاری فن سخنوری کی اولاد ہے۔ ایسی اولاد جو بعض اوقات اپنی کرشمہ سازیوں سے اپنی ماں کو شرما دیتی ہے۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اتالو کالوینو کی لکھی ہوئی تحریر یں شاہ کا ر ہوتی ہیں ، ان کی چندتحریر یں میں آج کے گذشتہ شماروں میں بھی پڑھ چکا ہوں ۔لیکن اردو والوں کے لیے یہ تحریریں اپنی اصل صورت میں نہیں، بلکہ اردو زبان میں شاہ کار کا درجہ رکھتی ہیں ۔ ایسی صورت حال میں اتالو کالوینو اور مترجم کا فن ایک مقام پر آ کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ عاصم بخشی نے اس تحریر کے ترجمے میں جو طرز اختیار کیا ہے اس کو پڑھنے کے بعد میرا ذہن فوری طور پر عبدالحلیم شرر کی گذشتہ لکھنو کی طرف گیا۔ یقیناً اس تحریر کا اور گذشتہ لکھنو کاایک دوسرے سے موضوع کے اعتبار سے کوئی خاص رشتہ نہیں ، لیکن ان دونوں تحریروں میں یکساں تاثیر کا بڑا گہرا رشتہ ہے۔ گذشتہ لکھنو کے بعد جس کتاب کی طرف ذہن جاتا ہے وہ طلسم ہوش ربا اور اقبال کی بعض نظمیں ہیں ۔ اقبال کا شاعرانہ بہاو عاصم صاحب کی نثر کی جڑوں میں اتر گیا ہے۔ یقیناً یہ میرا، اس ترجمے کا اور اقبال کی شاعری کا رشتہ بول رہا ہے۔ مثلاً بعض اقتباسات تو ایسے رواں نثر میں ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ طلوع اسلام کےبند زبان پر جاری ہو گئے ہوں ۔ اس ترجمے سے دو نسبتوں کا اور تعلق مجھے نظر آیا ایک تو راشد اور اختر الایمان کی بعض نظموں کا اورناصر نذیر فراق کی تحریروں کا۔ میں عاصم بخشی سے واقف نہیں اور نہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ان شاعروں اور کتابوں کا مطالعہ کر کے اس تحریر کا ترجمہ کیا ہے، بس میرا اس تحریر سے جو رشتہ قائم ہوا اس میں عاصم بخشی مجھے ان ادیبوں کی طرز نگارش کی تاثیر سے وابستہ نظر آئے۔

انشائیہ نگاری کے فن سے وہ کماحقہ واقف ہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ بے شمار جملے جو یقیناً اصل متن میں اتنے متاثر کن نہ رہے ہوں گے جو ترجمے کی صورت میں ہو گئے ہیں یا کم سے کم درجے میں اردو والے تو ہر گز اس کے اصل متن سے واقفیت کے باوجود ویسا لطف نہ لے پائیں گے جیسا کہ ان جملوں کوعاصم بخشی کےفن ترجمہ نگاری نے بنا دیا ہے۔اردو لغت اور محاورے سے ان کی واقفیت بھی بلا کی ہے۔ کون سا لفظ کس جگہ زیادہ بااثر معلوم ہوگا یا کس محاورے کے استعمال سے پڑھنے والے کا تسلسل منقطع نہیں ہوگا اس کا انہیں بھرپور ادراک ہے۔ قدیم و جدید اصطلاحات اور جدید استعاراتی نظام سے بھی ان کی کماحقہ شناسائی ہے۔ لہذا یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اپنے ترجمے کو اصل سے دو ہاتھ آگے لے جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ کوئی اردو والا ان کی اس تحریر کو پڑھتے وقت بہت کم اس بات پر غور کر پائے گا کہ وہ کسی ترجمہ شدہ متن کا مطالعہ کر رہا ہے۔بعض اقبتاسات کی منظر کشی اور جذیات نگاری میں تو پڑھنے والا اس قدر کھو جاتا ہے کہ متن پڑھنے کا خیال تک ذہن سے محو ہوجاتا ہے ، بلکہ یو ں معلوم ہوتا ہے کہ گویا وہ غیر حقیقی حالات کا چشم دید گواہ بن گیا ہے۔ پھر جہاں وہ جملوں کو ایسی وضع میں تراشتے ہیں کہ اس سے دلوں کے دہلنے کا سما بندھے اور سماعتیں فکر کے روشن دانوں سے کان لگا گر محو ہو جائیں یا انسانی تہذیب کی تازہ کاریوں کے راز کھلتے چلیں جائیں اور شاعری کو نئی زبان مل جائے تب تو پڑھنے والے پر وجد طاری ہو جاتا ہے۔ کہیں کہیں مزاح جو یقیناً اتالوکالوینو کی ذات کا نقش ہے وہ عاصم بخشی کی لفظیات میں گھل کر ایسا نمایاں ہوتا ہے کہ بانچھیں کھل جاتی ہیں اور آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں ۔ طنز کی طعن کے لیے عاصم بخشی مزاح سے بالکل مختلف زبان استعمال کرتے ہیں اور لفظوں کی انی سے مزاح کو طنز سے یکسر جدا کر دیتے ہیں۔ ترکیبیں استعمال کرتے ہیں تو انیس کی چوکڑ منڈی یاد آ جاتی ہے جہاں طرح طرح کی زمانی و مکانی حالتوں کو ترکیبوں کے قالب میں ڈھال کر مقید کر لیا گیا ہے۔ علامتوں کو نمایاں کرتے ہیں تو ابہام کا رنگ نکھرنے لگتا ہے۔ ان کے بساط لفظ پر ہر حرف اشاروں کی معنوی دنیا کو مزید معنی خیز بنانے کے استعمال میں آتا ہے ۔ خواہ پھر وہ جنوب کے قصے ہوں یا شمال کے، یہ اتالو کالوینو کا کمال کم عاصم بخشی کا زیادہ ہے کہ انہوں نے تحریر کے تانوں بانوں کو مشرقی لفظیات کے ایسے ذخائر سے مرصع کیا ہے کہ پڑھنے والا اتالو کی معنیاتی تفہیم کا بھی لطف لیتا ہے اور عاصم بخشی کی معجزاتی ترسیل کا بھی۔ میں سیکڑوں لفظوں، ترکیبوں، استعاروں ،علامتوں اور کنایوں کی مثال دے سکتاہوں جہاں جہاں عاصم کا فن ہمیں عروج پر نظر آتا ہے ، لیکن پھر بھی اس صورت حال کو واضح نہیں کر سکتا جو لطف متن کے ساتھ ابتدا سے انتہا تک بہتے چلے جانے میں آتا ہے۔ صرف اتنا اشارہ کر سکتا ہوں کہ تحریر کی مکمل زبان انتخاب کلام کا درجہ رکھتی ہے۔ تمت باالخیر۔

Categories
فکشن

بادشاہ سنتا ہے

[blockquote style=”3″]

اتالو کلوینو کی کہانی A King Listens کا ترجمہ عاصم بخشی نے کیا ہے۔ یہ ترجمہ اس سے قبل معروف ادبی جریدے “آج” کے شمارہ نمبر 101 میں بھی شائع ہو چکا ہے۔ “آج” اجمل کمال کی زیر ادارت شائع ہونے والا سہ ماہی کتابی سلسلہ/ادبی جریدہ ہے جو اپنے معیار اور افرادیت کے لئے معروف ہے۔ اس رسالے کو سبسکرائب کرنے کے لئے سٹی پریس بک شاپ کے فیس بک صفحے یا اس نمبر پر رابطہ کیجیے: 03003451649

[/blockquote]

عصائے شاہی تمہیں اپنے داہنے ہاتھ میں تھامنا ہے، بالکل سیدھا اور تنا ہوا۔ اسے کسی صورت نیچے نہیں رکھنا۔ خیر، تم اسے رکھو کے بھی کہاں؟ تخت کے ساتھ کوئی میز نہیں، نہ ہی کوئی طاق یا تپائی جہاں کوئی گلاس، ایش ٹرے یا ٹیلی فون رکھا جاسکے۔تختِ شاہی تنگ اور اونچی سیڑھیوں کی چوٹی پر تنِ تنہا موجود ہے۔ اگر کوئی شے اوپر سے نیچے پھینکی جائے تو وہ لڑھکتے لڑھکتے کہیں غائب ہو جائے گی اور کبھی نہ ملے گی۔ خدانخواستہ اگر عصا تمہاری گرفت سے پھسلا تو اسے اٹھانے کے لئے تمہیں ہی تخت سے اتر کر نیچے آنا پڑے گا، آخر بادشاہ کے علاوہ اسے کوئی چھو بھی تو نہیں سکتا۔ اور پھر نگاہیں اس نظارے کی تاب بھی کہاں لا سکیں گی کہ ایک بادشاہ زمین پر لمبا ہو کر سازو سامان کے نیچے سے اپنا عصا یا پھر تاج نکالنے کی کوشش کر رہا ہے ، جو نیچے جھکنے کے باعث باآسانی تمہارے سر سے گر سکتا ہے۔ چاہو تو کلائی کو تھکن سے بچانے کے لئے کرسی کے بازو پر ٹکا سکتے ہو۔ ہاں میں تمہارے دائیں ہاتھ ہی کی بات کر رہا ہوں، وہی جس میں عصا موجود ہے۔ جہاں تک بائیں ہاتھ کا تعلق ہے تو وہ آزاد رہ سکتا ہے، تم چاہو تو اسے کھجلانے کے لئے استعمال کر سکتے ہو۔ کبھی کبھار سنجابی چوغہ گردن میں خارش کرتا ہے اور پھر وہ بڑھتے بڑھتے کمر اور پورے بدن میں پھیل جاتی ہے۔ مخملیں مسند بھی گرم ہو کر کولہوں اور رانوں میں تکلیف دہ سوزش پیدا کرتی ہے۔ اپنے موٹے کمر بند کا سنہرا قبضہ کھولتے ہوئے، گلوبند، سینے پر سجے تمغے اور اطراف میں موجود اعزازت اِدھر اُدھر سرکاتے ہوئے، تم اپنی انگلیاں بلاتردد کسی بھی خارش زدہ جگہ پہنچاسکتے ہو۔آخرتم بادشاہ ہو، تم پر بھلا کون اعتراض کرسکتا ہے۔یہ تو طے ہے۔

سر ساکت رہنا چاہئے، ہمیشہ یاد رکھو کہ تاج تمہاری منڈیا پر ٹکا ہے، تم اسے کسی گرم ٹوپی کی طرح کانوں پر نہیں کھینچ سکتے۔تاج اوپر اٹھتے اٹھتے ایک مخروطی گنبد میں ڈھل جاتا ہےجو نچلے حصے سے زیادہ چوڑا ، یعنی غیرمتوازن ہے۔ اگر اونگھ آ جائے اور ٹھوڑی سینے سے جا لگے تو تاج نیچے لڑھک جائے گا اور نازک ہونے کے باعث ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا، خاص طور پر ہیرےجڑی سنہری زردوزی ۔ اگر کبھی محسوس ہو کہ یہ پھسلنے والا ہے تو تمہیں بڑی ہوشیاری سے سر کے پٹھوں کو جنبش دیتے ہوئے اسے واپس اپنی جگہ بٹھانا ہے، لیکن خبردار! ایک دم سیدھے نہیں ہونا ورنہ تاج تختِ شاہی کی چھتر سے جا ٹکرائے گا جس کی جھالریں اسے چھو رہی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں تمہیں شاہانہ ڈیل ڈول برقرار رکھنا ہے جو کہ تمہاری شخصیت کا اٹوٹ انگ ہے۔

اور پھر تمہیں اتنا کشٹ اٹھانے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ تم بادشاہ ہو، جس شے کی خواہش کرو وہ پہلے ہی تمہاری ہے۔ انگشت کے ایک اشارے پر ماکولات و مشروبات، چیونگم، دانتوں کا خلال، ہر قسم کے سگریٹ، غرض جو چاہو ایک نقرئی تھال میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ نیند کی حاجت ہو تو تخت آرام دہ اور دبیز ہے، تمہیں بظاہر اپنی حالت قائم رکھتے ہوئے بس کمر تختۂ پشت سے لگا کر آنکھیں بند کرنی ہیں۔ سونا یا جاگنا برابر ہی ہے، کوئی فرق نہیں کر سکے گا۔ جہاں تک حوائجِ ضروریہ کا سوال ہے تو یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ تخت میں کسی بھی خوددار تخت کی طرح ایک بڑا سا سوراخ موجود ہے ، دن میں دو بار برتن تبدیل کیا جاتا ہے۔ بدبو کی صورت میں زیادہ بار۔

قصہ مختصر، تمہیں حرکت سے بچانے کے لئے پہلے ہی سب بندوبست کر دیا گیا ہے۔ حرکت سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں، بلکہ سب کچھ چھن جائے گا۔اگر تم اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہو، دو چار قدم ہی لو یا ایک لمحے کے لئےبھی تخت کو اپنی نگاہوں سے اوجھل ہونے دو تو کون ضمانت دے سکتا ہے کہ واپسی پر تمہیں کوئی اور اس پر براجمان نہ ملے؟ شاید کوئی تم سے ملتا جلتا، بالکل تمہارے ہی جیسا۔ پھر کون یہ ثابت کرتا پھرے گا کہ بادشاہ وہ نہیں، تم ہو! بادشاہ اس حقیقت سے پہچانا جاتا ہے کہ وہ تخت پر براجمان ہے، تاج سر پر رکھے ،عصا تھامے ہے۔اب چونکہ یہ صفات تمہاری ہیں تو تمہیں ایک لمحے کے لئے بھی ان سے جدا نہیں ہونا چاہئے۔

اب بھی اکڑتے ہوئے پٹھوں کو سُن ہونے سے بچانے کے لئےٹانگیں پھیلانے کا مسئلہ رہتا ہے، یقیناً یہ ایک اچھی خاصی تکلیف ہے۔ لیکن تم ہمیشہ لاتیں مار سکتے ہو، گھٹنے اوپر کر سکتے ہو، تخت پر چوکڑی مار سکتے ہو، ترکی طرز پر اکڑوں بیٹھ سکتے ہو، یقیناً مختصر وقفوں کے لئے جب ریاستی معاملات سے ذرا فرصت ہو۔ ہر شام پیر دھلانے والے خدمت گار آ جاتےہیں اور پندرہ منٹ کےلئے جوتے اتار دیتے ہیں، صبح عفونت ربائی کے لئے آئی خدمتگاروں کی ایک جماعت معطر روئی سے بغلوں کی عطر پاشی کر دیتی ہے۔ تمہارے وجود پر جسمانی خواہشات کے غلبے کے امکانات کو بھی پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔تنومند بدن سے لے کر نہایت نازک اندام جسمانی خطوط والی قابل کنیزیں منتخب کی گئی ہیں تاکہ وہ باری باری اپنی جالی دار ، لہراتی قبائیں لئے سیڑھیوں کے راستے تمہارے تھڑدلے گھٹنوں تک حاضری دیں۔ ان کے لئے ممکن ہے کہ وہ تمہارے تخت پر بیٹھے بیٹھے خود کو سامنے، عقب یا اطرافی زاویوں سے پیش کریں، اور تم کچھ ہی لمحوں میں ان سے لطف اندوز ہو سکتے ہو، ہاں اگر اقلیمِ سلطانی کی مصروفیات اجازت دیں تو کچھ زیادہ وقت جیسے آدھا یا پون گھنٹہ بھی صرف کیا جا سکتا ہے ۔ اس صورت میں بہتر ہے کہ شاہی چھتر کے پردے گرا دیا جائیں تاکہ بادشاہ بیرونی نظروں سے اوجھل رہے اور موسیقار لطیف دُھنیں بجاتے رہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ ایک بار تاج پوشی کے بعدتخت بس وہی ہے جہاں تم دن رات حرکت کے بغیر جمے رہو۔ تمہاری ساری پچھلی زندگی بادشاہت کے انتظار ہی پر مشتمل ہے، اور اب جب کہ تم بادشاہ ہو تو تمہیں بس بادشاہت ہی کرنی ہے۔ اگر یہ طویل انتظار نہیں تو پھر بادشاہت اور کیا ہے؟ اس لمحۂ معزولی کا انتظار جب تمہیں تخت و تاج، عصائے شاہی اور اپنے سر سے جدا ہونا پڑے گا۔

ساعتیں سست رفتار ہیں۔ حجرۂ شاہی میں چراغوں کی روشنی ہمیشہ ایک جیسی ہی رہتی ہے۔وقت کے بہاؤ کی سنسناہٹ ہوا کے ایک جھونکے کی طرح ہے، محل کی گردشی راہداریوں یا تمہارے گوشِ سماعت کی گہرائیوں میں جھکڑ سے چلتے ہیں۔ بادشاہوں کے پاس گھڑیاں نہیں ہوتیں، مفروضہ یہی ہوتا ہے کہ وقت کا بہاؤ ان کے قبضۂ قدرت میں ہے، مشینوں کے میکانکی قوانین کے آگے سرنگوں ہونا بادشاہوں کے شایانِ شان نہیں۔ ساعتوں کا مسلسل پھیلاؤ کسی ریتلے تودے کی طرح تمہیں دفنانے کی کوشش کرتا ہے لیکن تم جانتے ہو کہ اسے کیسے جُل دیناہے۔محل کی ہر گھنٹہ بدلتی آوازیں پہچاننے کے لئے تمہیں صرف چوکنا رہنا ہے: دن کے وقت پرچم کشائی کا تُرم بجتا ہے، شاہی خاندان کی مال بردار گاڑیاں گوداموں میں بید کی ٹوکریاں اورتیل کے پیپے اتارتی ہیں، خادمائیں چھتّوں پر ٹنگے قالینوں پر ضرب لگاتی ہیں، شام کو آہنی دروازے بند ہوتے ہوئے چرچراتے ہیں، باورچی خانوں سے برتنوں کی کھنکھناہٹ سنائی دیتی ہے ، اصطبل سے کبھی کبھار آنے والی ہنہناہٹ یہ بتاتی ہے کہ کھانے کا وقت ہو گیا ہے۔

محل ایک گھڑیال ہے، اس کی خفیہ آوازیں سورج کا تعاقب کرتی ہیں، تیر کے نادیدہ نشان میخ لگے بوٹوں کی گھسٹتی آوازوں کے ساتھ دمدموں پر محافظوں کی تبدیلی کی خبر دیتے ہیں، رائفل کے بٹ پر لگی ہاتھوں کی ضرب کے جواب میں احاطے سے ٹینکوں کے نیچے روندی جانے والی بجری کی چرمراہٹ سنائی دیتی ہے۔ اگر یہ تمام آوازیں ایک باربط تسلسل سے، برابر وقفوں کے بعد سنائی دیتی رہیں تو تمہیں یقین رکھنا چاہئے کہ تمہارے اقتدار کو کوئی خطرہ نہیں، کم از کم اس لمحے، اس گھنٹے اور اس دن۔

تخت میں دھنسے ہوئے تم اپنا ہاتھ کان تک لےجاتے ہو، چھتر کے پردوں کو سرکاتے ہو تاکہ وہ کسی مدھم سی سرسراہٹ، کسی خفیف ترین گونج تک کا گلا نہ گھونٹ دیں۔ دن تمہارے لئے آوازوں کا تسلسل ہے۔ کچھ واضح ، کچھ تقریباً مبہم۔ تم نے ان میں امتیاز کرنا ، ان کےمنبع اور دُوری کو جانچنا سیکھا ہے، تمہیں ان کے تسلسل کی پہچان ہے، تم جانتے ہو کہ وقفوں کی معیاد کیا ہے، تم تو پہلے ہی سے ہر اس تھرتھراہٹ، چرمراہٹ یا کھنکھناہٹ کے منتظر ہو جو تمہارے پردۂ سماعت سے ٹکرائے، اپنے تصور میں اس کی توقع باندھے رکھتے ہو، اگر تاخیر ہو تو صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگتا ہے۔ گھبراہٹ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک چاکِ سماعت سل نہ جائے ، جب تک مانوس آوازوں میں پیدا ہونے والا خلا پُر نہ کر دیا جائے۔ محل کے ڈیوڑھیوں، زینوں، بالکونیو ں اور غلام گردشوں میں بہت اونچی محرابی چھتیں ہیں،قدموں کی ایک ایک آواز، کسی تالے کی ایک بھی کھنک، ہر چھینک کی آواز گونجتی اور ٹکرا کر پلٹتی ہے، اور افقی سمت ایک دوسرے سے متصل کمروں، دالانوں، ستونوں کی قطاروں، داخلہ گاہوں ، اور اسی طرح عمودی سمت میں گردشی زینوں، کھلی جگہوں، روزنوں، پائپوں، چمنیوں اور سامانِ طعام کے خودکار ترسیلی راستوں میں پھیلتی چلی جاتی ہے۔ غرض تمام صوتی راستے حجرۂ شاہی میں ہی مرتکز ہوتے ہیں۔ ہواؤں کے دریا خود کو سکوت کی اس عظیم جھیل میں خالی کرتے ہیں، جس میں تم مسلسل تھپیڑوں کے ہاتھوں ہچکولے کھاتے ہوئے تیر رہے ہو۔ ہوشیاری سے، چوکنے ہو کر ان کا سامنا کرتے اور ان کی تہیں کھولتے ہو۔ محل کیا ، ایک مرغولہ،گردشیں ہی گردشیں، ایک گوشِ جسیم، جس کی ماہیت و ساخت نام اور کام بدلتی رہتی ہے: مخروطی خیمے، سرنگیں،محرابیں، بھول بھلیاں۔تم تہہ میں دبکے ہوئے ہو، گوشِ محل کے سب سے اندرونی حصے میں، یعنی اپنے ہی کان کے اندر۔ محل بادشاہ کا کان ہے۔

یہاں دیواروں کے بھی کان ہیں۔ ہر چلمن، ہر پردے، ہر منقش دیوار کے پیچھے جاسوس موجود ہیں۔ تمہارے جاسوس، تمہاری خفیہ تنظیم کے ایجنٹ، جن کا کام محلاتی سازشوں کی تفصیلی رپورٹ دینا ہے۔محل دشمنوں سے اس طرح بھرا ہے کہ دوستوں دشمنوں میں فرق مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ فیصلہ کن سازش میں تمہارے وزراء اور عہدیدار شامل ہوں گے۔یہ تو تم جانتے ہو کہ ہر خفیہ تنظیم میں مخالف خفیہ تنظیم کے ایجنٹ اپنی جگہ بنا ہی چکے ہوتے ہیں۔ شاید تمہارے تمام وظیفہ خوار ایجنٹ سازشیوں کے لئے بھی کام کرتے ہوں جس صورت میں وہ خود بھی سازشی ہوئے، لہٰذا تم ان کا وظیفہ جاری رکھنے پر مجبور ہو تاکہ جب تک ہو سکے انہیں خاموش رکھا جا سکے۔

برقی مشینوں سے نکلے خفیہ رپورٹوں کے ضخیم بنڈل روزانہ تمہارے پایۂ تخت کے آگے ڈھیر کر دئیے جاتے ہیں۔انہیں پڑھنا کارِ عبث ہے: تمہارے جاسوس صرف سازشیں ہونے کی تصدیق ہی کر سکتے ہیں تاکہ جاسوسی جاری رکھنے کا جواز قائم رہے، اگلے ہی سانس میں وہ اپنی سرگرمیوں کو پُراثر ثابت کرنے کے لئے کسی فوری خطرے کا بھی انکار کر دیتے ہیں۔ خیر کوئی بھی یہ گمان تو نہیں رکھتا کہ تم ان رپورٹوں کو پڑھتےہو گے، حجرۂ شاہی میں اتنی روشنی نہیں کہ کچھ پڑھا جا سکے، مفروضہ یہی ہے ایک بادشاہ کو پڑھنے کی کیا ضرورت، جو اسے معلوم ہونا چاہئے وہ پہلے ہی جانتا ہے۔اپنی یقین دہانی کے لئے تمہیں بس معمول کے آٹھ گھنٹوں کے دوران خفیہ تنظیم کے دفاتر سے آتی برقی مشینوں کی آوازیں ہی سننی ہیں۔ کارندوں کا ایک لشکر میموری بینکوں میں نیا آنے والا ڈیٹا بھرتا رہتا ہے، اسکرینوں پر پیچیدہ جدول بھرے جاتے ہیں، پرنٹروں سے وہی پرانی رپورٹیں بس بارش یا صاف موسم کی خبروں کے ردوبدل کے ساتھ نکالی جاتی ہیں۔ یہی پرنٹر کم از کم ردوبدل کے ساتھ سازشیوں کے خفیہ اخبار برآمد کرتے ہیں، غداریوں کے روزمرہ حکم نامے، تمہاری معزولی اور قتل کے تفصیلی منصوبے۔

تم اگر چاہو تو انہیں پڑھ سکتے ہو۔ یا پھر یوں ظاہر کرو کہ پڑھ چکے ہو۔تم یا تمہارے دشمنوں کے نمک خوار جاسوسوں کی سُن گُن پر مشتمل روزنامچے خفیہ فارمولوں میں ڈھالے جاتے ہیں اور پھر اُن کمپیوٹر پروگراموں میں داخل کر دئیے جاتے ہیں جو سرکاری سانچوں کے مطابق خفیہ رپورٹیں تیار کرنے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔ چاہے خطرناک ہویا اطمینان بخش، یہ مستقبل جو ان صفحات میں منتقل ہو رہا ہےتمہارے کسی کام کا نہیں کیوں کہ یہ تمہاری بے یقینی کی کیفیت ختم نہیں کرتا۔ تم جس راز سے پردہ اٹھنے کے خواہش مند ہو وہ کافی مختلف ہے، وہ خوف اور امید جو تمہاری راتوں کی نیند اڑائے رکھتی ہے، تمہاری سانسیں روکے رکھتی ہے، تمہارے کان جو سننے کے خواہش مند ہیں، اپنے بارے میں، اپنی تقدیر کے بارے میں۔

اسی لمحے جب تم نے تخت سنبھالا، وہ گھڑی جب یہ محل تمہارا ہوا،یہ تمہارے لئےاجنبی ٹھہرا ۔ رسمِ تاج پوشی کے جلوس کے آگے چلتے ہوئے، تم مشعل اور مورچھل برداروں کے درمیان سے گزرتے ہوئے آخری باراس دالان میں پہنچ گئے جہاں سے نکلنا اب نہ تو معقول ہے اور نہ ہی شاہی رسم و رواج کے مطابق ہے۔ ایک بادشاہ کا کیا کام کہ وہ راہداریوں، دفاتر، رسوئیوں میں چہل قدمی کرتا پھرے! اس حجرۂ شاہی کے علاوہ اب محل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں۔

تمہارے تصور میں محفوظ ان کمروں کی آخری شبیہ تیزی سے محو ہو چکی ہے، لیکن خیر چونکہ وہ تو جشن و تقریبات کے لئے سجائے جانے کے باعث پہلے ہی ناقابلِ شناخت تھے، تم ویسے بھی ان میں کھو چکے ہوتے۔

ہاں اُس لڑائی کے کچھ بچے کھچے مناظر اب بھی تمہاری یاداشت میں تازہ ہیں جب تم اپنے اُس وقت کے وفادار (اور اب یقیناًتم سے غداری پر مائل) ساتھیوں کے ہمراہ محل پر حملے کے لئے بڑھے تھے: مارٹر گولوں سے خستہ ہوتی چھتیں، گولیوں کی بوچھاڑ سے دیواروں میں چھید اور دراڑیں۔ تم اب اُس کو یہ محل نہیں سمجھ سکتے جس میں تم ابھی اس تخت پر براجمان ہو، اگر تم ایک بار پھر خود کو اُسی محل میں پاؤ تو یہ اشارہ ہو گا کہ ایک پورا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے اور اب تمہاری بربادی تمہیں منتخب کر چکی ہے۔

اس سے بھی پہلےاُن سالوں میں جب تم اپنے پیش رو کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے ، تم نے ایک اور محل دیکھا تھا کیوں کہ تمہارے مصاحبوں کو کچھ مخصوص کمروں کی بجائے دوسرے دئیے گئے، اور تم یہی منصوبہ بندی کرتے رہتے تھے کہ بادشاہ بننے کے بعد ان جگہوں کی حالت میں کیا تبدیلیاں لاؤ گے۔تخت پر براجمان ہوتے ہی ہر بادشاہ کا پہلا حکم تمام کمروں، سازو سامان، آویزاں تصاویر ، سجاوٹ وغیرہ میں تبدیلی ہوتی ہے۔تم نے بھی یہ سوچتے ہوئے ایسا ہی کیا کہ یہ تمہاری ملکیت کی اصل علامت ہے۔لیکن اس کے برعکس تم نے مزید یادوں کو فراموشی کی اس چکّی میں ڈال دیا جس سے کچھ واپس نہیں آتا ۔

یقیناً محل میں کچھ نام نہاد تاریخی حجرے بھی ہیں جنہیں تم ایک بار پھر دیکھنا چاہو گے، حالانکہ انہیں اوپر سے نیچے تک تبدیل کر دیا گیا ہے تاکہ ایامِ رفتہ کے ساتھ کھو جانے والی قدامت انہیں واپس لوٹائی جا سکے۔لیکن وہ کمرے ابھی حال ہی میں سیاحوں کے لئے کھولے گئے ہیں۔ تمہیں ان سے کافی فاصلے پر ہی رہنا چاہئے۔ اپنے تخت میں سمٹے ہوئے تم چوک میں رکنے والی بسوں کے شور ، گائیڈوں کی یاوہ گوئی اور بھانت بھانت کی بولیوں سے اپنے صوتی کیلنڈر میں گزرتے دنوں کی شناخت کرتے ہو۔ تمہیں اُن دنوں بھی وہاں نہ پھٹکنے کی باقاعدہ تجویز دی گئی ہے جب وہ کمرے مقفل ہوتے ہیں: خاکروبوں کے جھاڑوؤں ، بالٹیوں اور صابن کے کنستروں سے ٹکراؤ گے۔رات کو کھو جاؤ گے، اپنے راستے میں آنے والے خطرے کی انگارہ چشم علامتیں تمہارے لئے رکاوٹ ہوں گی، صبح تم خود کو ویڈیو کیمروں سے لیس جتھوں، اصل پر نیلے غلاف چڑھائے نقلی دانتوں والی بڑی بوڑھیوں کے لشکروں اور پتلونوں سے باہر لٹکتی پھول دار قمیصوں اور سروں پر تنکوں کے چوڑے ہیٹ پہنے فربہ مردوں کے نرغے میں پاؤ گے۔

تمہارے لئے اپنا محل اجنبی اور نامعلوم ہونے کے باوجود تم ہر سرسراہٹ کے تعین ، کھانسی کی ہر آواز کی کسی نقطۂ مکان میں تحدید ، ہر صوتی علامت کے ارد گرد دیواروں کا تصور باندھ کراس کی ذرہ ذرہ تعمیرِ نو کر سکتے ہو، چھتیں، بغلی راستے، ہر اس خلا اورہر اس رکاوٹ کو شکل بخش دو جہاں آوازیں پھیلتی یا ٹکراتی ہیں، خود آوازوں کو اجازت دو کہ وہ تصویروں کو جنم دیں۔ایک نقرئی کھنک محض کسی چمچ کے تھالی سے گرنے کی آواز نہیں جہاں اسے ٹکایا گیا تھا بلکہ ایک ایسی میز کا کونا بھی ہے جس پر گوٹا کناری والا سوتی کپڑا بچھا ہے، جس پر ایک ایسے اونچے روزن سے چھنتی روشنی پڑ رہی ہے جہاں تخم دان پھولوں کی بیلیں معلق ہیں۔ ایک مدھم دھمک صرف کسی چوہے پر جھپٹتی ایک بلی نہیں بلکہ میخ دار تختوں سے بند سیڑھیوں کے نیچے ایک مرطوب کیچڑ والی جگہ بھی ہے۔

محل ایک صوتی تشکیل ہے جو ایک لمحہ پھیلتی ہے تو دوسرے ہی لمحے سکڑتی ہے، زنجیروں کی لڑی کی طرح تن جاتی ہے۔ تم گونجتی صداؤں کی بیساکھی کے سہارے اس میں چل پھر سکتے ہو، دراڑوں ، جھنکاروں، بدکلامیوں، سانسوں کے اتار چڑھاؤ، سرسراہٹ، بڑبڑاہٹ، غرغراہٹ کا تعین کرتے ہوئے۔

محل بادشاہ کا بدن ہے۔ تمہارا بدن تمہیں پُراسرار پیغامات بھیجتا ہے جو تم خوف اور پریشانی سے وصول کرتے ہو۔ اسی بدن کے ایک نامعلوم حصے میں ایک عفریت گھات لگائے بیٹھا ہے، تمہاری موت وہاں پہلے ہی سے قیام پذیر ہے، تم تک پہنچنے والے اشارے شاید تمہیں تمہارے ہی اندر دفن ایک خطرے سے خبردار کرتے ہیں۔ تخت پر بیٹھا ترچھا جسم اب تمہارا نہیں ، جب سے تاج نے تمہارے سر کا گھیراؤ کیا ہے بدن تمہارے لئےقابلِ استعمال نہیں ، اب تمہاری ذات تم سے پہیلیوں میں باتیں کرنے والی ایک اندھیری، اجنبی رہائش گاہ کے طول و عرض میں پھیلی ہے ۔لیکن کیا واقعی کچھ بدلا ہے؟ پہلے بھی تو تم اپنے بارے میں کم کم بلکہ شاید کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔اور اسی طرح خوف زدہ تھے جیسے اب ہو۔

محل آوازوں کا ایک باقاعدہ تانا بانا ہے، دل کی دھڑکن کی طرح ہمیشہ یکساں، جس سے باقی تمام غیرمتوقع، بے ربط آوازیں ابھرتی ہیں۔ ایک دروازہ بند ہوتا ہے۔ کہاں؟ کوئی دوڑتے ہوئے سیڑھیاں اترتا ہے، ایک گھٹی گھٹی چیخ سنائی دیتی ہے۔ طویل، تناؤ کی کیفیت سے لبریز ساعتیں گزرتی ہیں۔ سیٹی کی ایک لمبی کٹیلی آواز دوبارہ سنائی دیتی ہے، شاید کسی کھڑکی یا منارے سے۔ نیچے سے ایک اور سیٹی جواب دیتی ہے۔ پھر خاموشی۔
کیا کوئی کہانی ایک آواز کو دوسری سے جوڑتی ہے؟ تم معنی تلاش کئے بغیر نہیں رہ سکتے، جو شاید کسی ایک آواز میں نہیں، اکیلی اکیلی آوازوں میں بھی نہیں، بلکہ ان درمیانی وقفوں میں ہے جو انہیں الگ الگ کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی کہانی ہے تو کیا وہ کہانی تم سے متعلق ہے؟ کیا نتائج کا کوئی سلسلہ آخرکار تم سے متعلق ٹھہرا؟ اور کیا یہ اُسی سلسلۂ حوادث سے جڑی بس ایک اور غیرمتعلق واردات ہے جو محل کے روزمرہ کا معمول ہیں؟ ہر وہ قصہ جو تمہاری جانب سے ظہور میں آتا معلوم ہوتا ہے خود تمہیں تمہارے ہی پاس واپس لے آتا ہے، محل میں کچھ ممکن نہیں جب تک اس واقعے میں بادشاہ کا کوئی امر شامل نہ ہو، چاہے فعال یا پھر غیر فعال۔ کسی مبہم ترین سراغ سے بھی تم اپنا زائچہ بناسکتے ہو۔

شاید خطرہ آوازوں کی بجائے سلسلۂ سکوت سے ہے۔ سنتریوں کی تبدیلی کی آواز سنے کتنے گھنٹے ہو گئے؟ اور اگر تمہارے وفادار محافظ سازشیوں نے گرفتار لئے ہوئے تو؟ باورچی خانوں سے برتنوں کے ٹکرانے کی مانوس آوازیں کیوں نہیں سنائی دے رہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ تمہارے بھروسے کے باورچیوں کی جگہ قاتلوں کے کسی ایسے گروہ نے لے لی ہو جو خاموشی سے واردات کرنے میں ماہر ہوں، پکوانوں میں چپکے چپکے زہر ملا رہے ہوں۔۔۔؟
شاید خطرہ خود باقاعدگی میں ہے۔ تُرمچی روز کی طرح ٹھیک معمول کے مطابق تُرم بجا دیتا ہے، لیکن کیا تمہیں محسوس نہیں ہوتا کہ وہ غیرمعمولی تعین سے یہ کام کر رہا ہے؟ کیا تمہیں ڈھول کی تھاپ میں ایک عجیب سا زور، جوش و خروش کی ذرا سی زیادتی محسوس نہیں ہوتی؟ آج پریڈ کرتے ہوئے دستوں کی گونج میں میں ایک مغموم سا زیرو بم ہے، جیسے کوئی فائرنگ اسکواڈ چلا جا رہا ہو۔۔۔ٹینکوں کے پہیے کسی چرچراہٹ کے بغیر بجری پر سے گزر جاتے ہیں جیسے انہیں معمول سے زیادہ تیل دیا گیا ہو، کیا کسی آنے والی لڑائی کے پیشِ نظر؟

شاید حفاظت پر مامور سپاہی اب وہ نہیں جو تمہارے وفادار ہیں۔۔۔یا شاید وہ کسی تبدیلی کےبغیر ہی سازشیوں سے جا ملے ہیں۔۔۔شاید ہر چیز پہلے کی طرح ہی چلتی رہے،لیکن محل تو پہلے ہی غاصبوں کے ہتھے چڑھ چکا ہے، انہوں نے تمہیں اب تک اس لئے گرفتار نہیں کیا کہ آخر اب تم کسی گنتی میں ہی نہیں آتے۔ وہ تمہیں ایک ایسے تخت کی سپردگی میں فراموش کر چکے ہیں جو اب مزید ایک تخت نہیں۔ محلاتی زندگی کا روزمرہ معمول اس حقیقت کی علامت ہے کہ تختہ الٹا جا چکا ہے، ایک نئے تخت پر ایک نیا بادشاہ براجمان ہے، تمہیں سزا سنائی جا چکی ہے اور وہ اتنی ناقابلِ تنسیخ ہے کہ اس پر جلد عمل درآمد کی کوئی ضرورت ہی نہیں۔۔۔

اس ہذیانی کیفیت کو چھوڑو۔ محل میں سنائی دینے والی ہر حرکت ٹھیک ٹھیک انہیں قواعدو قوانین کے مطابق ہے جو تم نے وضع کئے ہیں: فوج کسی چالو مشین کی طرح تمہارا حکم بجا لاتی ہے، محل کے رسم و رواج دسترخوان لگانے اور سمیٹنے میں رتی برابر تبدیلی کی اجازت نہیں دیتے، پردوں کا گرانا اور تقریباتی قالینوں کا کھولنا ہدایات کے مطابق ہے، ریڈیو پروگرام وہی ہیں جن کا حکم تم نے پہلی اور آخری بار دیا تھا۔ حالات تمہارے قابو میں ہیں، کوئی بھی تمہارے ارادے یا اختیار کوجُل نہیں دے سکتا۔ نالی میں ٹراتا مینڈک، آنکھ مچولی کھیلتے بچوں کا شور، بوڑھے خزانچی کا پھوہڑ پن، غرض ہر شے تمہارے منصوبے کے مطابق رہتی ہے، اس سے پہلے کہ وہ تمہارے کان کو سنائی دے، تمہارا ذہن ہر شے سوچ چکا ہوتا ہے، غوروفکر کر چکا ہوتا ہے، فیصلہ کر لیتا ہے۔ ایک مکھی بھی تمہاری خواہش کے بغیر نہیں بھنبھنا سکتی۔

لیکن شاید تم پہلے کبھی سب کچھ گنوا دینے کے اتنے قریب نہ تھے جتنے اب جب تمہارے خیال میں سب کچھ تمہاری گرفت میں ہے۔ محل کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ تصور کرنے کا فریضہ، اسے اپنے ذہن میں قید رکھنے کی ذمہ داری تمہیں ایک تھکا دینے والے دباؤ میں رکھتی ہے۔ وہ ڈھٹائی جو طاقت کی بنیاد ہے، کبھی اتنی نازک نہیں ہوتی جتنی لمحۂ فتح میں۔

تخت کے قریب دیوار کا ایک ایسا زاویہ ہے جہاں وقفے وقفےسے ایک بازگشت سنائی دیتی ہے: دور سے آتی ہوئی دھمک جیسے کوئی دروازہ کھٹکھٹا رہا ہو۔ کیا کوئی دیوار کے دوسری طرف ضربیں لگا رہا ہے؟ لیکن یہ شاید دیوار سے زیادہ ایک ستونچہ ہے، باہر کو نکلتا ہوا ایک سہارا، کوئی کھوکھلا ستون، شاید ایک عمودی نلی جو محل کی تمام منزلوں میں تہہ خانوں سے چھتوں تک جاتی ہے، مثال کے طور پر ایک ایسا بادکش جو آتش دانوں سےشروع ہوتا ہے۔یہ وہ گزرگاہ ہے جہاں عمارت کی مکمل اونچائی تک آوازیں سفر کرتی ہیں۔ نہ جانے کس منزل پر، لیکن حجرۂ شاہی سے متصل بالائی یا زیریں کمرے میں کوئی نہ کوئی شے اس نلی سے ٹکرا رہی ہے۔کوئی شے یا کوئی ذی روح۔ کوئی نہ کوئی وقفے وقفے سے ضرب لگا رہا ہے، گھٹی گھٹی تھرتھراہٹ یہی ظاہر کرتی ہے کہ فاصلہ کافی زیادہ ہے۔ ضربیں جو کسی اندھیری گہرائی سے ابھرتی ہیں، ہاں ہاں نیچے سے، زیرزمین ابھرتی ہوئی کھٹکھٹانے کی آواز۔ کیا یہ کوئی اشارے ہیں؟

ایک بازو پھیلا کر تم کونے میں مکا مار سکتے ہو۔ ضربوں کو بالکل ویسے ہی دہراتے ہو جیسے وہ سنائی دے رہی ہیں۔ خاموشی۔ اے لو! پھر آواز آئی۔ وقفوں اور تکرار کا سلسلہ تھوڑا تبدیل ہوا ہے۔ تم بھی اسی طرح پھردہراتے ہو۔ پھر انتظار۔ اب ایک بار پھر۔ لیکن اب جواب کے لئے بہت انتظار نہیں کرنا پڑا۔ کیا یہ کوئی بات چیت شروع ہو گئی ہے؟

مکالمے کے لئے زبان جاننا ضروری ہے۔ضربوں کا ایک سلسلہ، ایک کے بعد ایک، ایک وقفہ، پھر کچھ ایک ساتھ اور علیحدہ علیحدہ ضربیں: کیا یہ اشارے کسی کوڈ میں ڈھالے جا سکتے ہیں؟ کیا کوئی حرف بُن رہا ہے، یا لفظ؟ کیا کوئی تم سے رابطہ کرنا چاہتا ہے، کیا اس کے پاس کچھ اہم خبریں ہیں؟ سادہ ترین علامت کو آزماؤ: ایک ضرب ’’الف‘‘، دو ضربیں ’’با‘‘۔۔۔یا پھر مورس کوڈ آزما لو، مختصر اور طویل آوازوں میں امتیاز کی کوشش کرو۔۔۔کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ بھیجا جانے والا پیغام ایک نغمگی رکھتا ہے، جیسے موسیقی کی کوئی عبارت، یہ تمہاری توجہ حاصل کرنے کی خواہش بھی ہو سکتی ہے، تاکہ رابطہ قائم ہو، تم سے بات ہو سکے۔۔۔لیکن یہ تمہارے لئے کافی نہیں: اگر ضربوں کی آواز میں باقاعدگی ہے تو ان سے کوئی لفظ ضرور بننا چاہئے، اور ظاہر ہے کہ پھر جملہ۔ ۔۔اور اب تم محض ان ٹپ ٹپ گرتےصوتی قطروں پر اپنے من چاہے معانی کا غلاف چڑھانے کے لئے مچل رہے ہو گے: ’’جہاں پناہ۔۔۔ہم۔۔۔آپ کے وفادار نمک خوار۔۔۔تمام سازشوں کو بے نقاب کر دیں گے۔۔۔عمر دراز ہو۔۔۔‘‘ کیا وہ تم سے یہ کہہ رہے ہیں؟ کیا تم تمام قابلِ تصور علامتوں کے اطلاق کے بعد یہی سمجھ سکے ہو؟ نہیں، اس قسم کی تو کوئی بات تھی ہی نہیں۔ اگر کچھ تھا بھی تو بھیجا جانے والا پیغام بہت مختلف تھا، کچھ اِس سے ملتا جلتا:’’حرامی غاصب کتے۔۔۔انتقام۔۔۔تمہارے دن گنے جا چکے ہیں۔‘‘

شانت ہو جاؤ۔ شاید یہ سب تمہارا تخیل ہی ہے۔ صرف حادثہ ہی حروف اور الفاظ کو اس طرح ملا سکتا ہے۔ شاید یہ اشارے ہی نہ ہوں: ایک دم دروازہ بند ہونے کی آواز ہو سکتی ہے، یا کوئی بچہ گیند اچھا ل رہا ہو، یا کوئی کیل ٹھونک رہا ہو۔ کیل۔۔۔’’تابوت۔۔۔تمہارا تابوت۔۔۔‘‘ اب ضربیں یہ الفاظ تشکیل دے رہی ہیں: ’’میں اس تابوت سے نکلوں گا۔۔۔تم اس میں داخل ہو گے۔۔۔زندہ درگور۔۔۔’’ وہی بے معنی الفاظ۔ صرف تمہارا تخیل ہی اس بے شکل ارتعاش پر ہذیانی الفاظ کو مسلط کر سکتاہے۔

یہ تصور بھی کر سکتے ہو کہ اگر تم محل میں خدا جانے کہاں موجود کسی سننے والے کو بے ترتیبی سے اپنی مٹھی کے جوڑ مار کر مخاطب کرو تو وہ الفاظ اور جملے سمجھ سکتا ہے۔کوشش کرو۔ ذرابھی توقف کے بغیر۔ اب کیا کر رہے ہو؟ اس طرح کیا غور ، جیسے ہجے کر رہے ہو؟ تمہارے خیال میں تم اس دیوار کے دوسری جانب کیا پیغام بھیج رہے ہو؟’’غدار! تم بھی! میرے سامنے یہ مجال۔۔۔میں تمہیں شکست دے چکا ہوں۔۔۔میں تمہیں قتل کر سکتا تھا۔۔۔‘‘ یہ تم کیا کر رہے ہو؟ کسی نادیدہ آواز کے سامنے کیا جواز تراشیاں کر رہے ہو؟ کس کے سامنے گڑگڑا رہے ہو؟ ’’میں نے تمہاری جان بخشی تھی۔۔۔تمہاری باری آئی تو۔۔۔یادرکھنا۔۔۔‘‘ تمہارے خیال میں زیرِ زمین کیا چیز دیوار پر یہ ضربیں لگا رہی ہے؟ کیا تمہارا پیش رو ا ب تک زندہ ہے، وہی بادشاہ جسے تم نے اس تخت سے بے دخل کیا تھا، ہاں یہی تخت جس پر تم بیٹھے ہو؟ کیا یہ وہ قیدی ہے جسے تم نے محل کے گہرے ترین زندان میں قید کیا تھا؟
تم ہر رات اسی بے سود امید پر اِس زیرِ زمین ڈھول کی تھاپ پر کان لگائے رکھتے ہو کہ شاید کوئی پیغام پلے پڑ جائے۔ لیکن یہ شک بھی کہیں اندر ہی اندر کلبلا رہا ہے کہ یہ صرف تمہارے کان بج رہے ہیں، یا پھر دل بلّیوں اچھل رہا ہے، یا پھر یہ وہ کھوئی ہوئی نغمگی ہے جو کبھی کبھار یاداشت میں لوٹ کر خوف جگادیتی ہے۔ وائے پشیمانی!آنکھ لگتی ہے تو رات کو گزرنے والی ریل گاڑیوں کے پہیوں کی گڑگڑاہٹ ہمیشہ الفاظ کی ایک ہی تکرار میں کسی یک سُرےلحن کی طرح ڈھل جاتی ہے۔نہیں! بلکہ یہ بھی تو ممکن ہے کہ آوازوں کی ہر تال تمہارے کانوں میں کسی قیدی کی آہ و بکا بن کر ابھرے، تمہارے ۔۔۔شکاروں کی گالیاں، کسی وجہ سے کام تمام نہ ہو سکنے والے دشمنوں کے سانسوں کی منحوس دھونکنی۔

عقل مند ہو کہ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر بھی سب کچھ سن رہے ہو، لیکن اتنا یقین رکھو: تم دراصل خود ہی اپنے سامع ہو، یہ بدروحیں تمہارے اندر اتر کر ہی قوتِ گویائی پاتی ہیں۔ کوئی ایسی بات خود کو قربِ سماعت کے لئے کرب سے مچل رہی ہے جو تم خود تک سے کہنے کے قابل نہیں۔۔۔نہیں مانتے؟ تمہیں حتمی ثبوت درکار ہے کہ جو تم سن رہے ہو وہ اندر سے اٹھ رہا ہے نہ کہ باہر سے؟ حتمی ثبوت تو خیر کبھی نہیں ملے گا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ محل کے زندان قیدیوں، معطل بادشاہوں، غداری کے ملزم وزراء اور اُن اجنبیوں سے بھرے پڑے ہیں جو پولیس کی روزمرہ پکڑ دھکڑ کے دوران ہتھے چڑھے ہیں، پھر وہ شکار بھی ہیں جو انتہائی محفوظ کوٹھڑیوں میں پھینک کر بھلا دئیے جا چکے ہیں۔۔۔چونکہ یہ تمام لوگ احتجاجی نعروں اور باغی نغموں کے ساتھ رات دن اپنی بیڑیاں ہلاتے یا جیل کی سلاخوں سے اپنے چمچ ٹکراتے رہتے ہیں، لہٰذا یہ ایک فطری بات ہے کہ اس شور شرابے کی گونج اوپر تم تک پہنچ جائے، حالانکہ تمہاری دیواروں اور چھتوں کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ آواز کا گزر ممکن نہیں اور اس حجرے کے گرد بھی دبیز پردے گرائے گئےہیں۔ یہ ناممکن نہیں کہ انہی زندانوں میں سے آتی ہوئی آوازوں کا تسلسل جو پہلے تمہیں کسی کھٹکھٹاہٹ کا زیروبم محسوس ہوتا تھا اب ایک گہری ، ہولناک گڑگڑاہٹ میں تبدیل ہو چکا ہو۔ ہرمحل کی بنیادوں میں کچھ ایسے تہہ خانے موجود ہوتے ہیں جہاں کوئی نہ کوئی زندہ درگور ہوتا ہے یا کوئی مردہ شخص ابدی سکون حاصل کر لیتا ہے۔تمہیں ہاتھوں سے اپنےکانوں کو ڈھکنے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ آوازیں اسی طرح آتی رہیں گی۔

اگر تم کسی گھن چکر کی طرح ان میں پھنس نہیں جانا چاہتے تو محل کی آوازوں کو اپنے سر پر سوار کرنے کی ضرورت نہیں! باہر نکلو! دور نکل جاؤ! آوارہ گردی کرو! اندھیرے محل کے باہر شہر پھیلا ہوا ہے، راجدھانی کا دارالخلافہ، تمہاری اقلیمِ سلطانی۔ تم اس یاسیت کی سیاہی میں ڈوبے ہوئے محل نہیں بلکہ شہنائیوں جیسی سینکڑوں آوازوں سے مترنم، رنگا رنگ شہروں کے مالک ہونے کے لئے بادشاہ بنے ہو!

شہر رات گئے پیر پسارے لیٹا ہے، خمیدہ پڑا سوتا، خراٹے لیتا، خواب میں بڑبڑاتاہے: وہ اِدھر سے اُدھر کروٹ لیتا ہے توسایوں اور روشنیوں کے قطعے اپنی جگہوں سے سرکتے ہیں۔ ہر صبح شادمانی، انتباہ یا خطرے کی گھنٹیاں بجتی ہیں: وہ پیغامات بھیجتے ہیں لیکن تم کبھی یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ وہ دراصل تمہیں کیا بتانا چاہتے ہیں۔مرنے والوں کے لئے جاری آوہ و بکا میں تمہاری سماعت سے پُرجوش رقص و موسیقی کی آوازیں بھی ٹکراتی ہیں، پھر مسرت و شادمانی کےاس گجر کے درمیان ہی غضبناک آوازوں کا ایک دھماکہ سنائی دیتاہے۔ تمہیں تنفسِ شہر کی سماعت پر کان لگانے چاہئیں ، سانسیں جوخستہ و شکستہ ہیں یا پھر مطمئن اور گہری ۔

شہر تہہِ گوش سے اٹھتی ایک مدھم گڑگڑاہٹ ہے، آوازوں کی ایک بھنبھناہٹ، پہیوں کا ایک شور۔ جب محل میں ہر طرف سکوت ہوتا ہے تو شہر حرکت کرتا ہے، گلیوں میں پہیے دوڑتے ہیں، گلیاں کیا ہیں گھومتی چرخیوں کے ارّے ہیں، گراموفون پر قرص گردش میں ہے ، کسی پرانے ریکارڈ پر سوئی رگڑ کھاتی ہے، وقفوں وقفوں سے موسیقی کے لہری جھونکے چلتے ہیں، گلیوں کی گرجتی دراڑوں میں ڈوبتے ہیں اور پھر چمنیوں پر نصب سمت نماؤں کو گھمانے والی ہواؤں کےساتھ ابھرتے ہیں۔ شہر ایک ایسا پہیہ ہے جس کے مدار پر ساکت بیٹھے تم محوِ سماعت ہو۔

گرمیوں میں شہر محل کی کھلی کھڑکیوں سے اندر داخل ہو جاتا ہے، اپنی صداؤں، قہقہوں اورآنسوؤں کے دوروں، ہوائی چرخیوں کے شور اور ٹرانسسٹروں کے ناگوار پٹاخوں کے ساتھ تمام کھلی کھڑکیوں سے اڑتا ہوا اندر آ پہنچتا ہے۔ تمہارے لئے بالکونی سے باہر جھانکنا بے معنی ہے، اوپر سے چھتوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے تم ان گلیوں کو کیا خاک پہچان پاؤ گے جن میں تم نے تاج پوشی کے روز سے آج تک قدم بھی نہیں رکھا، جب جلوس اعلام و آرائش اور محافظوں کی قطاروں میں سے گزررہا تھا اور اسی وقت سے ہر شےدور، بہت دور جاتی ہوئی دھندلی محسوس ہو رہی تھی۔

شام کی سرد لہر حجرہ ٔ شاہی تک تو نہیں پہنچتی لیکن تم اسے شامِ گرما کے اس مدھم شور سے پہچان لیتے ہو جس کی پہنچ تختِ شاہی تک ہے۔تمہیں تو بالکونی سے باہر جھانکنے کا خیال تک ترک کر دینا چاہیے: مچھروں کے کاٹنے کے علاوہ تمہیں کچھ حاصل نہ ہو گا،کچھ ایسا نہیں جو پہلے ہی اس گرج میں شامل نہ ہوجو کان اوپر کسی خول کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ شہر کسی گھیرے دار خول یا پھر کان کی طرح اپنی گہرائی میں کسی سمندر کی سی گھن گرج رکھے بیٹھا ہے: اگر تم لہروں کی آواز پر کان لگاؤ تو محل کیا ہے ، شہر کیا ہے، کان، خول ، غرض سب کچھ گڈمڈ ہو جائے گا۔
شہر کی آوازوں میں تمہیں ہر کچھ دیر کے بعد ایک تال، سُروں کا ایک سلسلہ، ایک دُھن سنائی دیتی ہے: نفیریوں کے باجے، جلوسوں کے نعرے،ا سکول کے بچوں کے اجتماعی نغمے، جنازے، احتجاجیوں کے بڑھتے قدموں کی تاپ میں رچے بسے انقلابی گیت، احتجاجی جلوس کو رفع دفع کرتے تمہارے مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے سپاہیوں کے تعظیمی ترانے ، ہر کسی کو یہ باور کرانے کے لئے کہ شہر اپنی مسرتوں میں ڈوبا ہے، کسی نائٹ کلب کے لاؤڈ اسپیکر سے اونچی آواز میں بجتی موسیقی، بلوے میں مارے جانے والی کسی غریب کی موت پر عورتوں کے نوحے۔یہی وہ موسیقی ہے جو تم سنتے ہو، لیکن کیا اسے موسیقی کہہ سکتے ہیں؟ تم آواز کی ہر ٹھیکری سے اس طرح اشارے اور معلومات جمع کرتےہو جیسے اس شہر میں تمام گانے بجانے اورموسیقی سننے والے تمہیں واضح اور غیر مبہم پیغامات بھیجنا چاہتے ہیں۔ تمہاری تاج پوشی کے دن سے تم موسیقی نہیں بلکہ موسیقی کے استعمال کی بابت خبریں سن رہے ہو: اشرافیہ کے رسوم و رواج میں، عوام کے میلوں ٹھیلوں میں، روایات، ثقافت، اور فیشن کے تحفظ میں۔ اب تم خود سے پوچھتے ہو کہ تمہارے لئے تب سماعت کے کیا معنی ہوا کرتے تھے جب تم سُروں کو صرف اور صرف اپنی روح میں اتارنے کے لئے موسیقی سنا کرتے تھے؟

وہ بھی ایک وقت تھا جب خوش ہونے کے لئے تمہیں صرف اپنے ذہن یا لبوں سے ایک ’’ٹرا لالالا‘‘ کرتے ہوئے اس سُر کی نقالی کرنا ہوتی تھی جو کسی عام سے گیت یا پھر کسی پیچیدہ سمفونی سے تمہارے ذہن میں اٹک گئی ہوتی تھی۔اب ’’ٹرالالالا‘‘ کی جتنی بھی کوشش کر لو، کوئی سُر تمہارے ذہن میں نہیں آتا ۔

یاد ہے وہ آواز، وہ نغمہ ، وہ نسوانی آواز جو کبھی کبھار ہوا کے دوش پر کسی کھلی کھڑکی سے تم تک پہنچ جاتی تھی، یاد ہے وہ محبت کا گیت جو گرمیوں کی راتوں میں ہوا کے جھونکے تم تک لاتے تھے، یاد ہے وہ لمحہ جب تمہارے اس گمان کے ساتھ ہی کہ تم نے اس کی کوئی سُر پکڑ لی ہے ، وہ کھو چکا ہوتا تھا، اور تمہیں کبھی یاد ہی نہیں ہوتا تھا کہ آیا وہ تم نے واقعی سنا تھا یا وہ محض تمہارے تخیل ، تمہاری تمنا کی پیداوار تھی ، تمہاری طویل شب بیداری کے ہیبت ناک خواب میں اسی عورت کے گانے کی آواز گونجتی ہے۔ تم خامشی و ہوشیاری سے اسی کے منتظر ہو: اب تمہارے کان خوف کے مارے تو ہرگز نہیں کھڑے۔اب ایک بار پھر تم وہی نغمہ سن رہے ہو جو اپنی ہر جداگانہ سُر، ہر رنگ و آہنگ کے ساتھ ایک ایسے شہر سے تم تک پہنچ رہا ہے جسے ہر قسم کی موسیقی اکیلا چھوڑ چکی ہے۔

کسی شے کی کشش محسوس کئے بھی تمہیں ایک عرصہ گزر چکا، شاید اس وقت سے جب تم نے اپنی تمام تر قوتیں تخت کے حصول میں لگا دیں۔ اب تمہیں بس یہی یاد ہے کہ اپنے دشمنوں کو زیر کرلینے کی تمنا کیسے تمہیں نگل رہی تھی کہ کسی دوسری چیز کی خواہش اور خیال تک نہ تھا۔ لیکن اس وقت بھی دن رات موت کا خیال اسی طرح تمہارے ساتھ تھا جیسے آج جب تم رات کے سناٹے اور اپنے خلاف جنم لیتی بغاوتوں سے بچاؤ کی خاطر نافذ کئے گئے کرفیو کی خامشی میں شہر کو گھورتے ہو، اور سنسان گلیوں میں محافظ گشتی دستوں کے دھپ دھپ کرتے قدموں کا تعاقب کرتے ہو۔ پھر جب سناٹے میں کسی بے نور روزن کی دہلیز پر موجود وہ نادیدہ نسوانی آواز اپنے سُر بکھیرتی ہے تو اچانک زندگی کی بھولی بسری یادیں واپس لوٹ آتی ہیں، تمہاری تمنا ئیں کسی شے کو پا لیتی ہیں۔ یہ کیا ہے؟ یہ وہ نغمہ نہیں جو تم نے نہ جانے کتنی بار سنا ہو گا، نہ ہی یہ عورت جو تم نے کبھی نہیں دیکھی: تم تو دراصل اس آواز کے قتیل ہو جس طور وہ خود کو گیت میں پیش کرتی ہے۔

یہ آواز یقیناً کسی انسان کی ہے، کسی بھی جیتےجاگتے، یکتا، بے مثل انسان کی طرح ایک انسان، لیکن پھر بھی آواز انسان تو نہیں ہوتی، یہ تو اشیاء کے انجماد سے جدا، ہوا میں معلق کوئی چیز ہے۔آواز بھی یکتا اور بے مثل ہوتی ہے لیکن شاید انسان کے مقابلے میں ایک مختلف طور پر: یہ ممکن ہے کہ آواز اور انسان میں مماثلت نہ ہو۔ یا پھر وہ کسی ایسی خفیہ طرز پر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں جس کا ادراک پہلی نظر میں ناممکن ہو: ممکن ہے کہ آواز کسی انسان کا پوشید ہ اور اصل ترین جزو ہو۔ کیا وہ تمہارا غیر مجسم جزو ہے جو اس غیر مجسم آواز کو سنتا ہے؟ اس صورت میں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ تم نے وہ آواز اصل میں سنی یا محض تمہاری یاداشت یا تخیل کا کرشمہ تھا۔

لیکن پھر بھی تم یہی چاہتے ہو کہ تمہارا کان اس آواز کا ادراک کرے لہٰذا تمہیں اپنی جانب کھینچنے والی شے صرف کوئی یاد یا پُرفریب سراب نہیں بلکہ ایک گوشت پوست کے حلق میں اٹھتا ارتعاش ہے۔ ایک آواز کے معنی یہ ہیں:ایک زندہ شخص، حلق، سینہ، احساسات، یعنی وہ جو اس آواز کو ہوا کے سپرد کرتا ہے، تمام آوازوں سے مختلف ایک آواز۔ایک آواز میں حلق، لعاب، نوزائیدگی، تجرباتِ زندگی کا ملمع، ذہن کی مرادیں اور صوتی لہروں کو ایک ذاتی تشخص دینے کی مسرت شامل ہوتی ہے۔تمہارے لئے اصل کشش اس مسرت میں ہے جو یہ آواز ایک ہستی کو دیتی ہے، یعنی ہستی بطور آواز۔ لیکن یہ مسرت تمہیں اس تصور پر ابھارتی ہے کہ فلاں شخص فلاں سے اس لئے مختلف ہے کیوں کہ دونوں کی آواز مختلف ہے۔

کیا تم اِس مغنیہ کو تصور میں لانے کی کوشش کر رہے ہو؟ یاد رکھو تم اپنی چشم ِ تصور سے ا س کا جو بھی سراپا دیکھو ، صوتی سراپا اس پر بھاری ہو گا۔ یقیناً تم اس میں موجود امکانات کو ضائع تو نہیں کرنا چاہو گے، تو بہتر یہی ہے کہ آواز کو تھامے رکھو اور محل سے باہر بھاگ نکلنے اور اس ڈومنی کی تلاش میں شہر کی سڑکیں ناپنے کی خواہش پر قابو پانے کی کوشش کرو۔

لیکن تمہیں روکنا ناممکن ہے۔ تمہارا ایک حصہ اس نامعلوم آواز کی جانب بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ اُس کی اپنی سماعتوں تک رسائی کی مسرت سے سرشار، تم اب اپنی سماعت اُس کے کانوں تک پہنچانا چاہتے ہو، تم بھی اب ایک آواز بننا چاہتے ہو تاکہ و ہ تمہیں اسی طرح سن سکے جیسے تم اسے سنتے ہو۔

کیا بدنصیبی ہے کہ تم گا نہیں سکتے۔ اگر تم گانا جانتے تو شاید تمہاری زندگی مختلف ہوتی،اس سے زیادہ خوش یا پھر ایک منفرد سی اداسی ، ایک نغمگی بھری یاسیت۔ شاید تم بادشا ہ بننے کی ضرورت ہی محسوس نہ کرتے۔ اس چرچراتے تخت پر بیٹھے یوں سایوں کو نہ گھور رہے ہوتے۔
شاید تمہاری اصل آواز کہیں تمہارے بہت اندر دفن ہے، ایک ایسا نغمہ جو تمہارے جکڑے ہوئے حلق ، تمہارے خشک اور بھنچے ہوئے ہونٹوں کی قید سے آزاد نہیں ہو سکتا۔ یا پھر تمہاری بکھری ہوئی آواز اپنی بھنبھناہٹ سے اِدھر اُدھر سر اور تال بکھیرتی ،قریہ بہ قریہ آوارہ پھرتی ہے۔وہ انسان جو تم ہو، تھے یا ہو سکتے تھے یعنی تم جیسے تمہیں کوئی نہیں جانتا اس آواز میں ظاہر ہوتے ہو ۔

کوشش کرو، زور لگاؤ، اپنی خفیہ قوت کو حاضر کرو۔ زور لگا کر ہیّا! نہیں ، یہ بھی نہیں چلا۔ ہمت نہ ہارو، دوبارہ کوشش کرو۔ اے لو! ہو گیا نہ معجزہ! تمہیں تو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا! کس کی ہے یہ آواز جو اونچی تیز تال کے ساتھ اٹھتی ہے، اپنے نقطۂ اوج کو جا لیتی ہے اور پھر اُس نسوانی آواز کی نقرئی جھلملاہٹ میں مل جاتی ہے؟ کون اُس کے ساتھ اس دوگانے میں اس طرح شریک ہے جیسے دونوں ایک ہی صوتی ارادے کے دو تکمیلی و تشاکلی چہرے ہوں؟ یہ تم ہی گا رہے ہو، اس میں کوئی شک نہیں: یہ تمہاری ہی آواز ہے جو آخر کار تم کسی اجنبیت یا اضطراب کے بغیر سن سکتے ہو۔

لیکن تم یہ سُر کیسے پیدا کر سکتے ہو جب تمہارا سینہ سکڑا اور دانت بھنچے ہوئے ہیں؟ تمہیں یقین ہے کہ شہر اس ذاتِ نسوانی کے طبعی پھیلاؤ سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر اپنی راجدھانی کے دارلخلافہ سے بھی نہیں ،تو پھر ایک بادشاہ کی آواز آخر کہاں سے آئے؟ اپنی سماعت کی وہی تیزی جس نے تمہیں اب تک اس نامعلوم عورت کے گیت سے جوڑے رکھا، اب اس آواز کی سینکڑوں کرچیاں چن رہی ہے جو یکجا ہو ایک قطعی غیر مبہم آواز کی شکل اختیار کر لیتی ہیں، ایک ایسی آواز جو صرف اور صرف تمہاری ہے۔

بس اب اپنی سماعت میں ہر خلل اور رکاوٹ کو دور کر دو ۔غور کرو! تمہیں خود کو بلاتی اُس عورت کی پکار اور اسے بلاتی اپنی پکار کو اکھٹے ایک ہی ارادۂ سماعت میں پرونا ہے (یا تم اسے تصورِ سماعت کہنا چاہو گے؟)۔ اے لو! نہیں، اتنی جلدی نہیں۔ ہمت نہ ہارو۔ دوبارہ کوشش کرو۔ اگلے ہی کسی لمحے میں اس کی اور تمہاری پکاریں ایک دوسرے کو جواب دیں گی اور ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جائیں گی کہ انہیں علیحدہ کرنا ناممکن ہو گا۔۔۔
لیکن بہت سی آوازیں حملہ آو ر ہوتی ہیں، چیختی چنگھاڑتی، وحشی آوازیں: اُس کی آواز خارج سے لشکر کشی کرتی موت کی دھاڑ سے گھبرا کر ٹھٹکتی اور غائب ہو جاتی ہے، یا پھر تمہارے اندر مکرر گونجتی ہے۔ تم اسے کھو چکے ہو، تم کھو چکے ہو، تمہارا صوتی خلاؤں میں اڑتا جزو اب کرفیو لگی گلیوں میں شب گردی کرتے گشتی دستوں کے درمیان دوڑ رہا ہے۔ آوازوں کی زندگی بس ایک خواب تھا، شاید کچھ ہی لمحے زندہ رہا جیسے خواب رہتے ہیں ، جب کہ خارج میں وہ ہولناک خوابیدہ داستان اب بھی جاری ہے۔

لیکن اس کے باوجود تم بادشاہ ہو: اگر تم دارالخلافہ میں رہنے والی کسی ایسی عورت کی تلاش میں ہو جو اپنی آواز سے پہچانی جاتی ہے تو یقیناً تم اس قابل ہو گے۔ اپنے جاسوسوں کو کھلا چھوڑ دو، حکم دو کہ وہ شہر کا چپہ چپہ چھان ماریں۔ لیکن اس آواز کو کون پہچانتا ہے؟ صرف تم۔ صرف تم ہی اس تلاش کے قابل ہو۔ اور یوں جب کوئی تمنا آخرکار خود کو تمہارے سامنے پیش کرتی ہے تو تمہیں معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ ہونا کسی کام کا نہیں۔

ذرا ٹھہرو، اتنی جلدی ہمت ہارنے کی کوئی وجہ نہیں، ایک بادشاہ کےپاس وسائل کی کیا کمی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ تم ایک ایسا نظام نہ بنا سکو جو من چاہی چیز حاصل کر لے؟ تم ایک مقابلۂ موسیقی کا اعلان کر سکتے ہو: بادشاہ کے حکم سے سلطنت کی تمام خوش نوا ڈومنیاں محل میں حاضر کی جائیں۔ بلکہ یہ تو ایک بہت ہی اہم سیاسی چال ہو گی کہ اِس افراتفری کے زمانے میں رعایا کے حوصلے بلند کئے جائیں اور شہریوں اور تاج ِ شہنشاہی کے درمیان رشتوں کو مضبوط کیا جائے۔تم باآسانی یہ منظر تصور میں لا سکتے ہو:یہی آراستہ و پیراستہ دالان، سجا سجایا چبوترا، سازندوں کا طائفہ، اہم ترین درباریوں پر مشتمل سامعین، اور تم تخت پراپنے سپاٹ چہرے کے ساتھ براجمان، ایک ایک اونچے سُر، ایک ایک گٹکری پر کسی غیرجانبدار جج کی طرح بغور کان لگائے، یہاں تک کہ اچانک تم اپنا عصا اٹھاتے ہوئے اعلان کرتے ہو:’’یہی وہ عورت ہے!‘‘

تم اسے پہچاننے میں کیسے غلطی کر سکتے ہو؟ جگمگاتے بلوری فانوسوں ، گملوں میں لگے چوڑے چکلے پام جیسے پودوں کے پتوں بیچ گانے والی کوئی بھی آواز اس سے کم ملتی جلتی نہیں ہو سکتی جو عام طور پر بادشاہ کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ تم اپنے اعزاز میں منعقد کی جانے والی شاندار سالانہ تقریبات کے دوران سنگت کی کئی محفلوں میں موجود رہے ہو۔ سماعت ِ شہنشاہی کا ادراک رکھنے والی ہر آواز خود پر ایک سرد ملمع، ایک کانچ کا سا تصنع طاری کئے رہتی ہے۔ اس کے برعکس یہ آواز کسی دھندلکے سے آتی محسوس ہوتی تھی، جیسے خود کو اندھیروں کی اوٹ سے نکالے بغیر ظاہر کرنے پر خوش ہو، انہی اندھیروں میں لپٹی ہر موجودگی کی جانب ایک پل سا بنا رہی ہو۔

لیکن کیا تمہیں یقین ہے کہ پایۂ تخت کے سامنے موجود آواز بھی وہی تھی؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ درباری مغنیاؤں کی نقالی کی کوشش کرے؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ تم اسے ان بہت سی آوازوں سے خلط ملط کر بیٹھو جنہیں تم آئے دن ایک شاہانہ التفات سے کسی اڑتی مکھی کی پرواز کو تکتےہوئےسنتے ہو؟

اُسے خود کو ظاہر کرنے پر مجبور کرنے کا واحد طریقہ اپنی اصل آواز سے اُس کا ٹکراؤ ہے، وہی مبہم سا صوتی پیکر جسے تم نے شہر میں اٹھنے والے آوازوں کے طوفان سے طلب کیا ہے۔ یہی کافی ہو گا اگر تم گاؤ، اس آواز کو آزادکرو جسے تم نے ہمیشہ ہر ایک سے چھپائے رکھا، اور وہ تمہیں فوراً اس انسان کے طور پر پہچان لے گی جو تم حقیقتاً ہو، اپنی آواز، اپنی حقیقی آواز تمہاری آواز سے ملا دے گی۔

لیکن آہ! پھر پورے محل میں ایک حیرت زدہ واویلا سا مچ جائے گا: ’’جہاں پناہ گا رہے ہیں۔۔۔سنو تو ظلِ الہی کیسے گاتے ہیں۔۔۔‘‘ لیکن پھر جلد ہی وہ سکوت ایک بارپھر چھا جائے گا جو ،اُس کے قول و فعل سے قطع نظر، کسی بھی بادشاہ کے دربار میں سماعت کا خاصہ ہے۔ تمام چہرے اور انداز ایک لگا بندھا سا اطمینان ظاہر کریں گے جیسے کہہ رہے ہوں: ’’جہاں پناہ ہمیں ایک گیت سے نواز رہے ہیں۔۔۔‘‘ اور سب اس پر متفق ہوں گے کہ صوتی مظاہرہ کسی بھی مطلق العنان ہستی کا استحقاق ہے (اس شرط کے ساتھ کے اس کے بعد وہ طنز و دشنام سے بھری سرگوشیاں کر سکتے ہیں)۔

قصہ مختصر، تمہارے لئے گانا بہت ہی خوب ہے: تمہیں کوئی نہیں سنے گا، ہاں وہ تمہیں نہیں سنیں گے، تمہارا گیت، تمہاری آواز۔ وہ بادشاہ کو اسی طرح سنیں گے جیسے کسی بادشاہ کو سننے کا حق ہے، یعنی ہر اس چیز کو قبول کیا جائے جو اوپر سے نازل ہو اور جس کے اس سے زیادہ کوئی معنی نہ ہوں کہ وجود ِ بالا اور وجود ہائے زیریں کے بیچ غیرمتغیر رشتے کو برقرار رکھا جائے۔ یہاں تک کہ وہ بھی تمہیں نہیں سن سکتی جو تمہاری واحد مخاطب ہے: تمہاری آواز نہیں بلکہ وہ تو بادشاہ کو سُنے گی، اس کا جسم کورنش کی حالت میں منجمد اورہونٹوں پر درباری آداب کے مطابق متوقع نامنظوری کو چھپاتی ایک مسکراہٹ ہو گی۔

پنجرے سے نکلنے کی ہر کوشش کی تقدیر میں ناکامی ہے: خود کو ایک ایسی دنیا میں تلاش کرنے کا کیا فائدہ جو تمہاری ہے ہی نہیں، جو شایدسرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ تمہارے لئے تو صرف محل ہے،گونج در گونج باز گشت پیدا کرتی محرابیں، سنتریوں کی گھڑیاں، بجری کو روندتے ٹینک، سیڑھیوں پر جلدی میں اٹھتا ہر قدم جو شاید تمہارے خاتمےکا اعلان کر رہا ہے۔ یہی وہ واحد علامتیں ہیں جن کے ذریعے دنیا تم سے ہم کلام ہوتی ہے، ایک لمحے کے لئے بھی ان سے اپنی توجہ نہ ہٹاؤ، اِدھر تمہاری توجہ ہٹی اُدھر تمہارے ارد گرد اپنے تفکرات کی حفاظت کے لئے تخلیق کی گئی فصیل دھڑام سے زمین بوس ہو کر ریزہ ریزہ ہو جائے گی۔

کیا یہ تمہارے لئے ناممکن ہے؟ کیا تمہارے کان ان نئی اجنبی آوازوں سے بہرے ہو رہے ہیں؟ کیا تم مزید اس قابل نہیں رہے کہ اندر اور باہر اٹھتے شوروغوغامیں فرق کر سکو؟ شاید اب مزید کوئی اندر یا باہر رہا ہی نہیں: جس دوران تم آوازوں پر کان لگائے بیٹھے تھے، غداروں نے پہرے میں کمزوری کا فائدہ اٹھایا تاکہ بغاوت کر دیں۔

اب تمہارے ارد گرد محل نہیں بلکہ چیخوں اور گولیوں کی آوازوں سے بھری رات ہے۔ تم کہاں ہو؟ کیا اب تک زندہ ہو؟ کیا تم حجرۂ شاہی میں داخل ہوئے قاتلوں کو چکمہ دینے میں کامیاب ہوئے؟ کیا خفیہ سیڑھیوں نے تمہیں بچ نکلنے کاموقع دیا؟

شہر اب شعلوں اور چیخ و پکار سے پھٹا جا رہا ہے۔ شب کی اندرونی تہہ ادھڑ کر باہر آ گئی ہے۔ سیاہی اور سناٹا باہم غوطہ زن ہیں اور ایک دوسرے کی تہہ میں سے آتش و غوغا نکال کر باہر پھینکتے ہیں۔ شہر کسی جلتے ہوئے کاغذ کی طرح شکن زدہ ہے۔ بھاگو! تاج کے بغیر، عصا کےبغیر، کسی کو خبر نہیں ہو گی کہ تم بادشاہ ہو۔ شبِ آتشیں سے اندھیری کوئی رات نہیں۔ اس آدمی سے تنہا کوئی نہیں جو ایک نوحہ کناں ہجوم کے بیچ سے گزر رہا ہو۔
مضافاتی علاقے کی رات شہر کی حالتِ نزاع پر نظر رکھے ہے۔ طیورِ شبانہ کی دلدوز چیخوں کے ساتھ ایک خطرے کا گجر بجتا ہے، لیکن جوں جوں وہ دیواروں سے باہر نکلتا ہے ، توں توں تاریکی کی عمومی سرسراہٹ میں گم ہو جاتا ہے: پتوں سے گزرتی ہوا، ندیوں کا بہاؤ، مینڈکوں کی ٹراہٹ ۔ رات کے پُرشور سکوت میں ایک خلا سا پھیلتا ہے، تمام واقعات ایک آناً فاناً شعلے کے سے ہیں جو جلتے ہی بجھ جائے، کسی ٹوٹی شاخ کے چٹخنے کی آواز، کسی خرموش کی کٹیلی چیخ جب سانپ اس کی کھوہ میں آ گھسے، دو محبت میں لڑتی بلیاں، تمہارے مفرور قدموں تلے گھسٹتی کچھ کنکریاں۔
تم ہانپتے ہو، کچھ اس طرح کہ سیاہ آسمان تلے صرف تمہاری سانس اور تمہارے لڑکھڑاتے قدموں تلے چرچراتے پتوں کی آواز ہی سنی جا سکتی ہے۔ مینڈک اب چپ کیوں ہیں؟ ارے نہیں، یہ لو، وہ دوبارہ شروع ہو گئے۔ کوئی کتا بھونکتا ہے۔۔۔ذرا ٹھہرو۔کتے ایک دوسرے کو دور سے جواب دیتے ہیں۔ کچھ دیر سے تم دبیز اندھیرے میں چل رہے ہو، تمہیں کچھ معلوم نہیں کہ تم کہاں ہو۔ اپنے کان کھڑے کرتے ہو۔ تمہاری ہی طرح کوئی اور بھی ہانپ رہا ہے۔ کہاں؟
رات سانس کی دھونکنی ہے۔ ہلکی ہوا یوں چلتی ہے جیسے گھاس سے جنم لے رہی ہو۔ چار سو جھینگر وں کا شورتھمنے کا نام نہیں لیتا۔اگر تم ایک آواز کو دوسری سے علیحدہ کرو تو وہ یک دم نکلتی محسوس ہوتی ہے، بہت واضح ، لیکن وہ تو اس سے قبل بھی یہاں تھی، دوسری آوازوں میں چھپی ہوئی۔
تم بھی وہاں پہلے موجود تھے۔ اور اب؟ جواب نہیں بن پڑتا۔ نہیں جانتے ان سانسوں میں سے کون تمہارا ہے۔ نہیں جانتے کہ کیسے سننا ہے۔ اب مزید کوئی کسی کو نہیں سن رہا۔ صرف رات خود اپنی ہی سامع ہے۔

تمہارے قدموں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ تمہار ے سر پر اب آسماں نہیں۔ دیوار چھوتے ہو تو کائی کالیپ اور بھربھرا پن ہے ، اب تمہارے ارد گرد چٹانیں ہیں، ننگے پتھر۔ اگر پکارو تو تمہاری ہی آواز ٹکرا کر واپس آتی ہے۔ کہاں؟ ‘‘اوہووووو۔۔۔اوہوووو۔۔۔’’ شاید تم کسی پہاڑ کی کھوہ میں پہنچ چکے ہو: ایک ناختم ہونے والی غار، ایک زیر زمین راستہ۔۔۔

کئی سال تم نے محل میں ایسی سرنگیں کھدوائیں جن کی شاخیں شہر تلے گزرتی ہوئی کھلے میدانوں تک پہنچ جاتی ہیں۔۔۔ خود کو امکانی طور پر یقین دلانا چاہتے تھے کہ نظر آئے بغیر کہیں بھی پہنچ سکو، خیال تھا کہ صرف زمین کی آنتوں ہی میں رہتے ہوئے اپنی راجدھانی پر غلبہ قائم رکھ سکو گے۔ پھر تم نے کھدائی کو کھنڈر ات تلے دبا رہنے دیا۔ اور اب تم یہاں اپنی کچھار میں پناہ گزیں ہو۔ یاا پنے ہی جال میں پھنس چکے ہو۔ خود سے پوچھو کہ کیا کبھی یہاں سے باہر نکلنے کا رستہ ڈھونڈ سکو گے۔ باہر نکلو گے: کہاں؟

کھٹکھٹانے کی آواز۔ پتھر میں سے۔ مدھم۔ زیر وبم۔ کسی اشارے کی طرح! تھپ تھپ کی آواز کہاں سے آ رہی ہے؟ تم تو یہ تال پہچانتے ہو۔ یہ تو قیدی کی پکار ہے! جواب دو۔ خود بھی دیوار کو تھپتھپاؤ۔ چیخو۔ اگر تمہیں یاد ہو تو یہ سرنگ سیاسی قیدیوں کی کوٹھڑیوں سے منسلک ہے۔۔۔

وہ نہیں جانتا تم کون ہو: رہاکرانے والے یا داروغہ؟ یا شایدوہ جو زیر زمین گم چکا ہے ، خود اسی کی طرح، ،شہر کی خبروں اور اس لڑائی سے کٹا ہوا جس پر اس کی تقدیر کا انحصار ہے؟

اگر وہ اپنی کوٹھڑی کے باہر پھر رہا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اس کی بیڑیاں کھولنے، سلاخیں ہٹانے آئے ہیں۔ وہ اس سے کہتے ہیں: ‘‘غاصب ہٹ چکا ہے! تم تخت پر واپس لوٹو گے! محل کو واپس حاصل کر لو گے!’’ایک اور گجر، شاہی سپاہیوں کی جانب سے جوابی حملہ اور رہا کرانے والے اسے تنہا چھوڑ کر سرنگوں میں کہیں نکل جاتے ہیں۔ ظاہر ہے اب وہ گم چکا ہے۔ان پتھر کی محرابوں تلے کوئی روشنی ، اوپر ہونے والے شور کی کوئی گونج نہیں پہنچتی۔

اب تم ایک دوسرے سے بات چیت کےقابل ہو تاکہ ایک دوسرے کی آوازیں پہچان سکو۔ کیا تم اسے بتاؤ گے کہ تم کون ہو؟ کیا یہ کہ تم اسے اس آدمی کے طور پر پہچان چکے ہو جسے تم نے اتنے سال جیل میں رکھا؟ وہ آدمی جسے تم نے لعنت ملامت کرتے، انتقام کی قسمیں کھاتے سنا؟ اب تم دونوں ہی زیرِ زمین کھو چکے ہو اور نہیں جانتے کہ کون بادشاہ ہے او رکون قیدی۔ تمہیں کچھ کچھ گمان ہے کہ اصل چاہے جو بھی ہو، کچھ نہیں بدلے گا: تم اس کوٹھڑی میں ہمیشہ کے لئے مقفل معلوم ہوتے ہو، پیغامات بھیج رہے ہو۔۔۔تمہارا گمان ہے کہ تمہاری تقدیر اسی طرح ہمیشہ امید و بیم کی کیفیت میں معلق رہی ہے۔ تم میں سے ایک یہیں نیچے رہےگا۔۔۔دوسرا۔۔۔

لیکن شاید اس نے، یہاں نیچے ، ہمیشہ یہی محسوس کیا کہ وہاں اوپر تخت پر ہے، سر پر تاج ، ہاتھ میں عصا ہے۔ اور تم؟ کیا تم نے ہمیشہ خود کو قیدی محسوس نہیں کیا؟ تمہارے درمیان مکالمہ کیسے ممکن ہے جب تم دونوں میں سے ہر ایک یہی سوچ رہا ہو کہ جو وہ سن رہا ہے وہ دوسرے کے الفاظ نہیں بلکہ اس کی اپنی آواز کی گونج ہیں؟

تم میں سے ایک کے لئے چھٹکارے کی ساعت قریب آ رہی ہے، دوسرے کے لئے تباہی کی۔ اور پھر بھی وہ پریشانی جس نے کبھی تمہارا پیچھا نہیں چھوڑا اب غائب محسوس ہوتی ہے۔ تم اب گونجوں اور سرسراہٹ کی آواز سنتے ہوئے انہیں علیحدہ کرنے اور ان کے معانی سمجھنے کی مزید کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے جیسے وہ کوئی موسیقی ترتیب دے رہی ہوں۔ ایک ایسی موسیقی جو اس نامعلوم نسوانی آواز کی یاد یں واپس لے آتی ہے۔ لیکن کیا تم اسے یاد کر رہے ہو یا واقعی سن رہے ہو؟ ہاں یہ وہی ہے، یہ اسی کی آواز ہے جو چٹانی محرابوں تلے ابھرنےوالی کسی پکار کی طرح ایک سُر میں ڈھل جاتی ہے۔ شاید وہ بھی کائنات کے ابدی کنارے کی طرح اسی رات میں کھو چکی ہو۔اسے جواب دو، اپنی آواز سناؤ، اسے پکارو تاکہ وہ سیاہی میں راستہ تلاش کرتی ہوئی تم تک پہنچ جائے۔ خاموش کیوں ہو؟ کیا تمہیں سارے زمانے میں اسی لمحے گنگ ہونا تھا؟

لو وہاں اندھیرے سے ایک اور پکار اٹھتی ہے، عین اسی جگہ جہاں سے قیدی کے الفاظ سنائی دئیے تھے۔ یہ ایک آسانی سے پہچان لی جانے والی پکار ہے جو عورت کو جواب دیتی ہے، یہ تمہاری آواز ہے، وہی آواز جو تم نے اسے جواب دینے کے لئے تخلیق کی، شہر کی آوازوں کی خاک میں سے اسے چنا، وہی آواز جو تم نے حجرۂ شاہی کے سکوت سے اس کی جانب روانہ کی! قیدی تمہاراگیت گا رہا ہے جیسے اس نے کبھی یہ گیت گانے کے علاوہ کوئی کام ہی نہ کیا ہو، جیسے یہ گیت کبھی کسی اور نے نہ گایا ہو۔۔۔

وہ اپنی باری پر جواب دیتی ہے۔ دونوں آوازیں اک دوجے کی جانب بڑھتی ہیں،اک دوجے پر منڈھ دی جاتی ہیں، مدغم ہو جاتی ہیں، جیسے تم نے انہیں شہر کی رات میں ایک ساتھ سنا، اسی یقین کے ساتھ کہ اس کے ساتھ یہ گیت گانے والے تم ہو۔ اب وہ یقیناً اس تک پہنچ چکی ہے، تم ان دونوں کی آوازیں سنتے ہو، تمہاری آوازیں، ایک ساتھ۔ ان کا تعاقب تمہارے لئے بیکار ہے: وہ ایک بڑبڑاہٹ، ایک سرگوشی بن رہے ہیں، باالآخر غائب ہو جاتے ہیں۔
نظریں اٹھاؤ تو تمہیں ایک چمک نظر آئے گی۔افق پر نمودار ہوتی صبح آسمان کو روشن کر رہی ہے: تمہارے رخساروں کو چھوتی یہ سانس دراصل پتوں کو جنبش دینے والی ہوا ہے۔

اب تم پھر باہر ہو، کتے بھونک رہے ہیں، پرندے جاگتے ہیں، دنیا کے چہرے پر رنگ واپس لوٹ رہا ہے، چیزیں دوبارہ جگہ پر واپس آ رہی ہیں، جاندار ایک بار پھر زندگی کی علامت پیش کرتے ہیں۔ اور یقیناً تم بھی یہیں ہو، اس سب کے بیچ، تمام اطراف میں امڈتی ہوئی آوازوں کے بیچ، برقی رو کی بھن بھن میں، پسٹنوں کے ارتعاش میں، چرخیوں کے چھناکوں میں۔ زمین کی تہوں میں کہیں نہ کہیں شہر ایک بار پھر جاگ رہا ہے، دھماکے، ہتھوڑے ، رگڑ کی آواز جو بڑھتی ہی جاتی ہے۔ اب ایک شورو غوغا ، ایک گرج کڑک تمام جگہ پر پھیل رہی ہے، تمام آہیں، پکاریں اور ہچکیاں اپنےاندر جذب کر لیتی ہے۔۔۔

Categories
شاعری

ایک ندیدے فیکٹری مزدور کی آخری نظم

[blockquote style=”3″]

کلیدی نوٹ: اس نظم کا مرکزی خیال عمومی طور پر چینی الیکٹرانک مصنوعات کی مشہور و معروف فیکٹری ’’فاکس کان‘‘ (Foxconn) میں 2010 سے لے کر 2016 تک ہونے والے 18 خودکشی کے واقعات سے ماخوذ ہے جنہیں عرف عام میں ’’فاکس کان خودکشیاں ‘‘ (Foxconn Suicides) کہا جاتا ہے۔ ان واقعات میں چودہ مزدور اپنی جان سے گئے جن میں سے زیادہ نے فیکٹری عمارت کی کسی اونچی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کو الوداع کہا۔ گمان غالب ہے کہ یہ اٹھارہ واقعات وہ ہیں جن کا راز کسی نہ کسی طرح افشا ہوگیا اور شاید اس قسم کے اور بھی کئی واقعات ہوں جو منظر ِعام پر نہ آ سکے ہوں۔ کئی مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس کی وجہ فیکٹری مالکان کا ظالمانہ سلوک، کام کی طویل ساعتیں اور چین میں عمومی طور پر مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔ ان خودکشیوں میں سب سے زیادہ دلدوز واقعہ چوبیس سالہ شو لیزی کا ہے جس نےستمبر 2014 میں چھت سے چھلانگ لگا کر موت کو گلے لگا لیا۔ شولیزی کی ذہنی کشمکش اور اضطراب کا پتہ اس کی درجن بھر سادہ و مختصر لیکن وحشت ناک نظموں سے چلتا ہے جو چینی شہر شین زین کے مختلف رسالوں میں شائع ہوئیں۔ میں اپنی زیرِ نظر نظم میں موجود استعاروں اور مرکزی خیال کے لئے شولیزی کا مقروض ہوں بلکہ اگر مان لیا جائے کہ ترجمہ بس دوسری زبان میں پھیلاؤ اور معنی کی تہہ کا اضافہ کرتے ہوئے اصل کیفیات کو برقرار رکھنے کا نام ہے تو یہ شولیزی ہی کے تخیل کا پھیلاؤ ہے جو اس کی 2013 میں لکھی گئی ایک نظم “میں نے ایک لوہے کا چاند نگل لیا” میں بدرجہ اتم نظر آتا ہے۔ نظم کا لفظی ترجمہ کچھ یوں ہے:

میں نے لوہے کا ایک چاند نگل لیا
وہ اسے کیل کہتےہیں
میں صنعتی اخراج، یہ نوکری کی ٹھکرائی ہوئی عرضیاں نگل چکا ہوں
مشین پر جھکے ہوئے نوجوان وقت سے پہلے مر جاتے ہیں
میں شوروغوغا اور تہی دستی نگل چکا ہوں
پیادہ رو پُل اور زنگ آلود زندگی بھی نگل لی ہے
اب مزید نہیں نگل سکتا
نگلا ہوا سب کچھ میرے حلق سے باہر آ رہا ہے
میرے آباؤ اجداد کی دھرتی پر پھیل رہا ہے
ایک بے توقیر نظم کی صورت۔

[/blockquote]

ایک ندیدے فیکٹری مزدور کی آخری نظم
اُفق کے پیالے کو پوری رغبت سے چاٹتے چاٹتے میں کل رات
بے خیالی میں ایک لوہے کا ماہِ تاباں نگل گیا تھا
مرے عقیم النظر رفیقوں کا ماننا ہے کہ میری وحشت اثر خیالی
رہِ بقا پر کہیں مجھے خاک پانہ کر دے
فنا نہ کر دے

اگر مصر ہیں رفیق میرے تو مان لیتے ہیں
استعاروں کو ترک کر کے
پسِ تخیل چھپی حقیقت کو جان لیتے ہیں

کیا تعجب ہے؟
آہنی چاند کو نگلنے کا واقعہ کوئی سانحہ ہے؟

یہ سچ نہیں کیا کہ اس سے پہلے
محافظوں سے نظر بچا کے
میں صنعتی آب رومیں بہتی ہوئی شرابیں بھی پی چکا ہوں؟

سُنا نہیں تم اے رفیقو!
چبا چکا ہوں نہ جانے کتنے لذیذ دفتر میں کاغذوں کے!

فلک نہیں تھا تو “کوزۂ ٹِن” کی تہہ میں چپکی ہوئی ستارہ سی میخ ہو گی!
صنوبریں میخ چو سے پک کے گرا ہوا کوئی ننھا میوہ!
نگل چکی ہے مری بصارت
ہزارہا خواب دیدہ منظر
کہ جن میں ہم رقص ہیں مشینیں اور آدمی
اس طرح کہ آدم مشیں میں ضم ہے
مشین آدم میں ڈھل چکی ہے
مری سماعت نے خوب چکھی ہے
پردۂ گوش چاک کرتی
وہ سیٹیوں کی سی سنسناہٹ کہ جس میں
انساں قطار اندر قطار خود کو پھلانگتے
بے زباں مشینوں کے اپنی جانب بڑھے ہوئے دیوتائی ہاتھوں کو چومتے ہیں
نگل چکا ہوں میں اپنی زنگار آرزوئیں،
ہڑپ کئے ہیں
مشیں حمائل رسائیوں، نارسائیوں کے ملے جلےزشت رو تصور
نہ جانے کتنے خیال،
کتنے ہی خواب،
اب آتشیں ملیدے میں ڈھل کے
میرے شکم کی گہرائی کھوجتے ہیں

مرے رفیقو، معاف کرنا!
دہن بریدہ ہوں،
جسم سے روح تک بھرا ہوں
سو یہ کریہہ الخصال،
مکروہ نظم،
میرے نحیف و خستہ گماں کی باچھوں سے زہر بن کے ٹپک رہی ہے
مجھے اب اک کاسنی قبائے حقیقتِ نم سے
آخری بار ڈھک رہی ہے
Categories
شاعری

خشک نمی

خشک نمی
شامِ تجدیدِ وفا اب کے برس مثلِ خزاں آئی ہے
نہ کوئی تحفۂ گل سرخیٔ رخسارِ تمنا کو عیاں کرتا ہے
نہ کوئی سبز خطِ قصۂ پارینہ
رہِ یاد کے غنچوں کو ہرا کرتا ہے
نہ تو تشبیب،
نہ توصیف،
نہ رنگینی و زیبائی ہے
فاصلہ موسمِ ہجراں کا تماشائی ہے

فاصلہ کیا ہے مگر؟
زود گزر تین حبابوں کا تراشیدہ تعلق ہے فقط
“اک معما ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا”
سرمدی موجِ گزشتہ
جو کسی قطرۂ آئندہ کو
موجودہ میں ڈھلنے کی صدا دیتی ہے
کل، ابھی، آج، کبھی،
موجِ زماں، طولِ مکاں،
شعبدۂ دستِ اجل ہے مری جاں

فاصلہ زہرِ جدائی تو ہے
پر ایسا بھی اب اژدرِ سفاک نہیں
پہلوئے یاد ترا لمس گزیدہ تو ہے
پر درد کا محتاج نہیں
ہے زمیں خشک
مگر اتنی بھی تاراج نہیں

سُن مری جانِ وفا
گرچہ صبا لائے گی تجھ تک
مرےاس شہرِ شکستہ پہ برسنے کی خبر
ایسی افواہوں پہ یوں کان نہ دھر
ایک لحظے کو ٹھہر،
غور تو کر،
بات اتنی سی ہے
امکان کی میچی ہوئی آنکھوں سے یہی چار گہر پھسلے ہیں
اِن کو برکھا نہ سمجھ
یہ تو فقط اشکِ شکیبائی ہیں
اتنی جلدی بھی کبھی چرخِ تمنا پہ گھٹا چھائی ہے؟
اتنی سرعت سے کبھی نخلِ بیاباں پہ شگوفوں کے ابھرنے کی خبرشوق کی بے جان زمینوں میں نمی لائی ہے؟

تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
کیسے ممکن ہے کہ گلشن میں بہار آ جائے
اور سلگتی ہوئی نظروں کو قرار آ جائے
یہ جو کل صبح ذرا گرم شتابی سے فلک ایک گھڑی برسا ہے
ہو نہ ہو یہ بھی کسی غفلت وانکار کی مٹی میں گندھے ابر کی سازش ہو گی
تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی

Image: Duy Huynh

Categories
نقطۂ نظر

اگر یہ انسان ہے (انتخاب)

[blockquote style=”3″]

تعارف: “ہم جو بچ گئے اصل گواہ نہیں ہیں۔” یہ ہیں وہ الفاظ جواطالوی کیمیادان پریمو لیوی (م۔1987) کے مکمل ادبی ورثے کی کامل ترجمانی کرتے ہیں۔ وہ 1919 میں اٹلی کے شہر ٹیورن میں پیدا ہوئے اور کیمیا کے شعبے سے منسلک رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران (1944) پچیس سال کی عمر میں وہ اطالوی فسطائیت کے خلاف تحریک کے ایک سرگرم رکن کی حیثیت سے گرفتا ر ہو کر آشوِٹز کے کیمپ میں بھیج دیئے گئے۔ ان کی اس زمانے کی یاداشتیں اور تجربات ان کی دو سوانحی کتب “اگر یہ انسان ہے” (If This is Man, 1958) اور “صلح” (The Truce, 1963) کا حصہ ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد ناول اور مضامین بھی تحریر کئے جن میں “اگراب نہیں تو کب” (If Not Now, When?) اور “التوا کی ساعتیں‘‘(Moments of Reprieve)وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان کی انتہائی دلچسپ اور آخری تصنیف “جو غرق ہوئے اور جو محفوظ رہے” (The Drowned and the Saved, 1986) آٹھ تجزیاتی مضامین کا مجموعہ ہے جو جرمنوں کے ہاتھوں یہودیوں کے قتلِ عام، کیمپوں میں قیدیوں کی انفرادی و اجتماعی نفسیات اور ان کی سوانح کے متعلق جرمن قوم کے رد عمل کی کثیر الجہت تعبیرات پر مشتمل ہے۔ اس آخری مجموعہ کے منظر عام پر آنے کے کچھ ہی مدت بعد سیڑھیوں سے گر کران کی موت واقع ہوئی جسے کافی بحث مباحثے کے بعد خود کشی تسلیم کیا گیا۔ گمان غالب ہے کہ ان کی خود کشی کی وجہ وہ شدید احساس ندامت تھا کہ وہ آشوٹز میں ہلاکت سے بچ گئے اور موت ان سے کہیں بہتر اور قابل لوگوں کا مقدر ٹھہری۔ لہٰذا یہی وہ لوگ تھے جو لیوی کے نزدیک اس قتل عام کے اصل گواہ تھے۔

 

آج جبکہ ایک طرف تو دہشت گرد صیہونی ریاست آگ اگلتے ہتھیاروں کے ذریعے نہتے اور مظلوم فلسطینیوں کے بے دریغ قتلِ عام میں مصروف ہے اور دوسری طرف چاہے ڈھیلے ڈھالے طنزیہ انداز میں ہی سہی، سادہ لوح جذباتی مسلمانوں سے ہٹلر کے لئے تعریفی کلمات سننے کو ملتے ہیں، لیوی اور اس جیسے دوسرے متون کی اہمیت اور بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ تاریخ کا نفسیاتی اور انسانی پہلو زندہ رکھے ہوئے ہیں، اور ہمیں یہ حقیقت فراموش کرنے سے روکتے ہیں کہ ہم انسان ہیں اور انسانی زندگی کی تقدیس و تکریم ہمارا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔

 

ذیل میں لیوی کی پہلی کتاب کے کچھ منتخب حصوں کا ترجمہ پیشِ خدمت ہے۔خود مصنف کے دیباچے کے مطابق متن کی ساخت قاری سے ایک مخصوص مروت کا تقاضا کرتی ہے کیوں کہ اس کے مآخذعملی طور پر نہیں بلکہ تصوراتی طور پر کیمپ کی زندگی کی طرف لوٹتے ہیں۔ یہ ضرورت کہ اپنی کہانی کو دوسروں تک پہنچایا جائے آزادی کے بعد ایک فوری اور شدید فطری محرک کے طور پرمصنف کے سامنے آئی۔ لہٰذا کتاب کے ابواب کسی منطقی تسلسل کی بجائے ابلاغ کے اسی تقاضے کی پابندی کرتے ہیں۔ہم نے کوشش کی ہے کہ ابواب کی ترتیب قائم رکھتے ہوئے، ہر باب میں سے کچھ مختصر اور دلچسپ حصوں کا ترجمہ قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے مگر ظاہر ہے کہ اس مختصر مگر جامع انتخاب کی حیثیت محض ایک خاکے کی سی ہےجو مکمل کتاب کا ادنٰی سا نعم البدل بھی نہیں، لیکن امید ہے کہ قاری کو زیرِ نظر کتاب اور پریمو لیوی کی دوسری تصانیف کے مطالعے پر اکسائے گا۔

[/blockquote]

1۔ سفر
میں فسطائی ملیشیا کے ہاتھوں 13 دسمبر 1943 کو گرفتار ہوا۔ میں چوبیس سال کاایک ایسا کم عقل، غیر تجربہ کار نوجوان تھا جو پچھلے چار سال کے نسلی قوانین کے مرہون منت، جبری تنہائی کا شکا رہو کر اپنی ہی تخلیق کردہ ایک تخیلاتی دنیا میں رہنا چاہتا تھا، ایک ایسی دنیا جو مہذب کارتیزی (Cartesian) بھوتوں، اور پرخلوص مردانہ اور بے حس زنانہ دوستیوں کا مسکن تھی۔ پس میں نے ایک معتدل اور مجرد سرکشی کا احساس پال لیا۔

 

پہاڑوں میں راہِ فرار اختیار کرنا اور ایک ایسے گروہ کی تشکیل کسی بھی درجے میں سہل نہ تھی جو میری اور مجھ سے کچھ ہی زیادہ تجربہ کار دوستوں کی رائے میں “انصاف وحریت” نامی مزاحمتی تحریک کا ایک حمایتی جتھہ بننے جا رہا تھا۔ تعلقات، اسلحہ، روپیہ اور تجربہ جو ایسے کاموں کے لئے عام طور پر درکار ہوتا ہے ناپید تھا۔ ہمار ے پاس قابلیت کا فقدان تھا اور یہ ایک ایسے وطن بدر بے خانماں افراد کا سیلاب تھا جو اچھی یا بری نیت سے میدانوں کو چھوڑ کر کسی بے وجود فوج یا سیاسی تنظیم کی تلاش میں، یا پھر محض اسلحے، تحفظ، کسی پوشیدہ مقام، آگ یا جوتوں کے جوڑے کی خاطر ہم سے آن ملے تھے۔

 

camps

اس وقت تک میں اس نظریہ سے جس کی باقاعدہ تعلیم مجھے کیمپ میں عجلت میں حاصل ہوئی واقف نہ تھا: انسان اپنے مقاصد کے حصول کے لئے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے پر مجبور ہے اوروہ انسان جو صرف ایک بار غلطی کا مرتکب ہوتا ہے، اس کی بھاری قیمت ادا کرتا ہے۔ لہٰذا میں صرف واقعات کی اس ترتیب کو با جواز مانتا ہوں: فسطائی ملیشیا کی تین کمپنیاں جو رات کو ہم سے کہیں زیادہ طاقت ور اور خطرناک جتھے کے شکار کے لئے نکلیں تھیں ایک برفانی صبح ہماری جائے پناہ میں آ دھمکیں اور مجھے ایک مشتبہ شخص کے طور پر گرفتار کر کے نیچے وادی میں لے گئیں۔

 

دوران تفتیش میں نے خود کو “یہودی النسل اطالوی شہری” تسلیم کیا۔ میں خیال کرتاتھا کہ ایسا کیے بغیر میں اتنی الگ تھلگ جگہوں پر اپنی موجودگی کا جواز کیسے پیش کروں گا اور یہ بھی کہ ( بعدمیں ثابت ہوا کہ میں غلط تھا) اپنی سیاسی جدوجہد کے اقرار کا مطلب تشدد اور یقینی موت تھی۔ ایک یہودی کی حیثیت سے مجھے موڈینا (Modena) کے قریب فوسولی (Fossoli) نامی جگہ پر واقع ایک قیدی کیمپ میں بھیج دیا گیا جو اصل میں برطانوی اور امریکی جنگی قیدیوں کے لئے قائم کیا گیا تھا مگر اب ان تمام مختلف افراد کی منزل تھی جو نو مولود فسطائی ریاست کے زیر عتاب تھے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

20فروری کو جرمنوں نے بہت اہتمام سے کیمپ کا معائنہ کیا اور کھانے کے انتظامات اور آگ کے لئے لکڑی کی کمی پر کھلم کھلا اطالوی منتظم کی سرزنش کی۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ عنقریب ایک شفاخانہ بھی قائم کیا جائے گا۔ لیکن اگلی صبح یعنی 21 فروری ہمیں خبر ملی کہ یہودی اگلے دن کوچ کر جائیں گے،تمام یہودی، کسی استثناء کے بغیر، یعنی بچے، بوڑھے اور بیمار، سبھی۔ ہماری منزل ؟ کسی کے علم میں نہ تھی۔ہمیں تقریباً پندرہ دن کا سفر درپیش تھا۔حکم یہ تھاکہ گنتی کے وقت غائب ہر شخص کی جگہ دس افراد کو گولی مار دی جائے گی۔

 

صرف کچھ معصوم اور خودفریبِی کے شکار نفوس پر مشتمل ایک قلیل تعداد اب بھی پُر امید تھی۔ ہم جیسے دوسرے جو پولینڈ اور کروشیا کے مہاجرین سے اکثر بات چیت کرتے رہتے تھے جانتے تھے کہ “کوچ کرنے “کے کیا معنی ہیں۔

 

نازی کیمپوں کے محسورین کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو جاتی تھی۔
نازی کیمپوں کے محسورین کی ایک بڑی تعداد ہلاک ہو جاتی تھی۔
ان لوگوں کے لئے جنہیں موت کا مژدہ سنایا جا چکا ہوروایت ایک سادہ سی رسم تجویز کرتی ہے تاکہ یہ باور کرایا جا سکے کہ تمام جذبات اور غصہ ختم ہو چکا ہے اور انصاف کا عمل معاشرہ کی طرف سےمحض ایک ایسے افسردہ فرد کی نمائندگی کرتا ہے جو جلاد کو بھی اپنے شکار پر ترس کھانے پر مجبور کر دے۔لہٰذا سزا کے مستحق شخص کو تمام بیرونی پریشانیوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے، اسے تنہائی عطا کی جاتی ہے اور اگر وہ چاہے تو روحانی آسودگی بھی،مختصراًیہ کہ اس بات کا لحاظ رکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کو ئی نفرت یا من مانی محسوس نہ کرے بلکہ صرف احتیاج اور انصاف، اور بالآخر سزا کے ذریعے بخشش۔ مگر ہمیں یہ عطا نہ کیا گیاکیونکہ ہم کئی لحاظ سے کوتاہ تھے۔ اور اگر ایسا کیا بھی جاتا تو ہمیں کس گناہ کی توبہ مقصود تھی، ایسا کون سا جرم تھا جو معافی کا متقاضی تھا؟ اطالوی منتظم نے فیصلہ سنایا کہ آخری اعلان تک تمام انتظامات برقرار رکھیں جائیں گے: باورچی خانے کھلے رہے، بیگار کے ملازمین نے اسی طرح صفائی ستھرائی کی، یہاں تک کہ اساتذہ نے دوسرے دنوں کی طرح شام تک دروس کا سلسلہ جاری رکھا۔ مگر اس شام بچوں کو گھر کا کام نہ دیا گیا۔

 

پھر رات آ گئی اور وہ ایسی رات تھی کہ ہر کوئی جانتا تھا کہ انسانی آنکھ اس کا مشاہدے کی تاب نہیں لا سکتی۔یہ حقیقت ہر ایک نے محسوس کی: اطالوی یا جرمن کسی محافظ تک میں یہ جرأت نہ تھی کہ آئے اور دیکھے کہ جب لوگوں کومعلوم ہوجائے کہ وہ مرنے والے ہیں تو وہ کیا کرتے ہیں۔ ہر ایک جس طرح مناسب سمجھتا تھا زندگی سے رخصت لے رہا تھا۔ کچھ دعا میں مشغول تھے اور کچھ قصداً شراب کے نشے میں مخمور، اور کچھ آخری بار شہوت سے مست۔ مگر مائیں سفر کے لئے کھانا تیار کرنے، بچوں کو نہلانے اور سامان باندھنے میں رات گئے مصروف رہیں اور علی الصبح تاروں کی باڑھ بچوں کے سوکھتے ہوئے کپڑوں سے بھری ہوئی تھی۔ نہ ہی وہ بچوں کے پوتڑے، کھلونے اور تکیے بھولیں، اور نہ ہزاروں دوسری ایسی چھوٹی چھوٹی اشیاء جو مائیں ہی یاد رکھ سکتی ہیں اور جو بچوں کی ضرورت ہوتی ہیں۔
کیا آپ ایسا نہیں کرتے؟ اگر آپ اور آپ کا بچہ کل قتل کئے جانے والے ہوں تو کیا آپ اسے آج رات کا کھانا نہیں دیں گے؟

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

اس بے معنی درستگی کے ساتھ جس سے ہمیں بعد میں مانوس ہونا تھا، جرمنوں نے حاضری لی۔ آخر میں افسر نے پوچھا “کتنی تعداد؟”۔ حوالدار نے خوبصورتی سے سیلوٹ کرتے ہوئے جواب دیا کہ چھ سو پچاس “ٹکڑے” ہیں اور سب کچھ درست ہے۔ پھر ہمیں بسوں میں سوار کر کے کارپی (Carpi)کے اسٹیشن لےجایا گیا۔ یہاں ٹرین سفر کے محافظوں کے ہمراہ ہماری منتظر تھی۔ یہاں ہم نے پہلی ضربیں کھائیں اور یہ اتنا نیا اور بے معنی تھا کہ ہمیں کوئی کرب محسوس نہ ہوا، نہ جسم اور نہ ہی روح میں۔صرف ایک شدید حیرانی کا احساس: کسی انسان کو غصہ کے بغیر کس طرح مارا جا سکتا ہے؟

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

زندگی میں جلد یا بدیر ہر کوئی یہ دریافت کر لیتا ہے کہ کامل مسرت ناقابل فہم ہے مگر کچھ لوگ توقف کر کے جوابِ دعوٰی پر غور کرتے ہیں کہ کامل غم بھی اتنا ہی ناقابل حصول ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کے حصول کی راہ میں حائل رکاوٹیں ایک ہی نوعیت کی ہیں:ان کا ماخذ ہماری وہ انسانی کیفیت ہے جو ہر لامتناہی شے سے غیر موافق ہے۔ مستقبل کے متعلق ہماری دائمی لاعلمی اس سے متضاد ہے : ہم اسے ایک حوالے سے امید اور دوسرے حوالے سے آنے والے کل کے متعلق عدم یقین کے نام سے منسوب کرتے ہیں۔ موت پریقین اس سے متضاد ہے: کیونکہ یہ ہر مسرت کو محدود کر دیتا ہے، اور اسی طرح ہر غم کو بھی۔ ناگزیر مادی تفکرات اس سے متضاد ہیں :کیونکہ جہاں وہ ہر دائمی مسرت کو زہر آلود کر دیتے ہیں وہاں وہ اتنی ہی مستقل مزاجی سے ہمارا رخ اپنی بد نصیبیوں سے بھی پھیر دیتے ہیں اور ان کے متعلق ہمارے شعور کو غیر مسلسل،لہذا قابل ِبرداشت بنا دیتے ہیں۔

 

کیمپوں میں حالات ناسازگار تھے
کیمپوں میں حالات ناسازگار تھے
وہ ایک شدید بے آرامی یعنی ضربوں، خنکی، پیاس وغیرہ کا احساس ہی تھا جس نے ہمیں دورانِ سفر اور اس کے بعد ایک اتھاہ شکستہ دلی کے خلا سے کچھ اوپر ہی اٹھائے رکھا۔یہ نہ تو کوئی زندہ رہنے کی امنگ تھی اور نہ ہی کوئی شعوری قناعت کا جذبہ کیونکہ چند ہی انسان ایسے عزم و استقلال کے اہل ہو سکتے ہیں اور ہم تو محض انسانیت کا ایک عمومی نمونہ تھے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ہم پیاس اور سردی کی اذیت میں مبتلا ہر پڑاؤ پر پانی یا تھوڑی سے برف ہی کے لئے دہائی دیتے رہے، مگر ہماری آواز کم ہی سنی گئی۔ جو بھی قریب آنے کی کوشش کرتا ریل گاڑی کے محافظ سپاہی اسے دور بھگا دیتے۔ دو جوان دود ھ پلاتی مائیں رات دن پانی کے لئے آہ وبکا کرتی رہیں۔ اعصابی دباؤ نے بھوک، تھکن اور نیند کی شدت کو کم کر دیا۔ مگر رات کے اوقات کسی نہ ختم ہونے والے ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھے۔

 

کیمپوں میں سردی کی شدت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا
کیمپوں میں سردی کی شدت کا مقابلہ کرنا آسان نہیں تھا
چند انسان ہی جانتے ہیں کہ اپنی موت کی جانب خودداری سے سفر کیسے ممکن ہے، اور اکثر وہ لوگ ہماری امیدوں کے برعکس ہوتے ہیں۔چند انسان ہی خاموشی کے ہنر سے واقف ہوتے ہیں اور دوسروں کے سکوت کا احترام کرنا جانتے ہیں۔ ہماری بے آرام نیند کئی بار شور و غل اور لا حاصل تنازعات، گالیوں اورمداخلت پر آمادہ ناگزیر لمس کو روکنے کے لئےلاتوں اور مکوں کی وجہ سے ٹوٹی۔ پھر کوئی موم بتی جلا دیتا اور اس کا غمگین شعلہ ایک مبہم ہیجان کو ظاہر کرتا، زمین پر پھیلا ہوا ایک انسانی انبار، منتشر اور مسلسل، جامد اور ٹیسوں سے بھرپور، اچانک ہلچل سے یہاں وہاں ابھرتا اور پھریک دم تھکن سے نڈھال ہو کر دوبارہ ڈھیر ہوتا ہوا۔

 

ریل گاڑی کی درز سے جانے پہچانے اوراجنبی آسٹریائی شہروں، سالزبرگ (Salzburg)، وی اینا (Vienna)وغیرہ کے نام نظر آتے رہے، پھر چیکو سلواکیہ اور آخر کار پولینڈ۔ چوتھے دن شام کے وقت سردی مزید شد ت پکڑ گئی۔ ریل گاڑی ناقابل ِاختتام، کالے صنوبر کے جنگلات سے گزرتی ہوئی چڑھائی پر گامزن تھی۔برف اونچی ہو رہی تھی۔ یہ شاید کوئی ذیلی لائن تھی کیوں کہ اسٹیشن چھوٹے چھوٹے اور تقریباً غیر آباد تھے۔ پڑاؤ کے دوران کسی نے باہر کی دنیا سے رابطے کی مزید کوشش نہیں کی۔ اب ہمیں خود بخود محسوس ہو رہا تھا کہ”دوسری جانب” پہنچ گئے ہیں۔ کھلے میدان میں ایک طویل پڑاؤکے بعد ریل گاڑی نہایت آہستگی سے روانہ ہوئی اور پھر قافلہ رات کے سکوت میں ایک خاموش تاریک میدان میں آخری دفعہ رک گیا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ایک درجن ’ایس ایس‘ سپاہی کولہوں پر ہاتھ رکھے ایک لاتعلقی کے ساتھ کھڑے تھے۔کسی خاص گھڑی وہ ہمارے درمیان گشت کرنا شروع ہوئے اور پتھر صفت چہرے کے ساتھ سخت مگر سپاٹ لہجے والی ٹوٹی پھوٹی اطالوی میں ہم سے ایک ایک کر کے سوالات کرنے لگے۔ انہوں نے سب افراد کی بجائے چند ہی لوگوں سے پوچھ گچھ پر اکتفا کیا:”کیا عمر ہے؟ صحت مند یا بیمار؟” اور جواب کی بنیاد پر دو مختلف سمتوں میں اشارہ کرتے رہے۔

 

ہر چیز کسی تالاب کی طرح ساکت تھی، یا اسی طرح جیسے کچھ خوابوں کے سلسلو ں میں ہوتا ہے۔ہمیں کچھ زیادہ غارت گری کی توقع تھی اور یہ تو سادہ سے پولیس کے سپاہی لگتے تھے۔ سب کچھ بے ترتیبی کو دعوت دے رہا تھا اور شبہات کو رفع کر رہاتھا۔ کسی نے اپنے سامان کے بارے میں پوچھنے کی جرأت کی: جواب ملا “سامان بعد میں”۔ کسی نے کہا کہ وہ اور اس کی بیوی اکھٹے رہنا چاہتے ہیں : انہوں نے جوب دیا “اکٹھے بعد میں”۔ کئی مائیں اپنے بچوں سے جدا نہیں ہونا چاہتی تھیں : انہیں جواب دیا گیا “اچھا، اچھا، بچے کے ساتھ رہو”۔ مگر رینزو اپنی منگیتر فرانسیسکا کو الوداع کہنے کے لئے ایک ساعت زیادہ رکا اور ایک ہی ضرب میں انہوں نے اسے زمین چاٹنے پر مجبور کر دیا۔ یہ ان کا روزمرہ کافرض تھا۔

 

دس منٹ سے بھی کم عرصے میں تمام صحت مند آدمی ایک جگہ جمع کئے جا چکے تھے۔دوسروں یعنی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے بارے میں ہمیں نہ تو اس وقت کچھ خبر ملی اور نہ ہی بعد میں، بس رات نے انہیں نگل لیا۔ تاہم آ ج ہمیں معلوم ہے کہ اس تیز رفتار اور مختصر چناؤ میں ہم میں سے ہر کسی کو نازی حکومت کے لئے مفید یا غیر مفید ہونے کی حیثیت سے جانچا جا رہا تھا۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے قافلے میں سے چھیانوے آدمی اور اور انتیس عورتیں بالترتیب مونووٹز بونا (Monowitz-Buna)اور برکیناؤ (Birkenau) کے کیمپوں میں داخل ہوئے اور دو دن کے بعد باقی بچ جانے والوں، یعنی پانچ سو سے زیادہ میں اسے ایک بھی زندہ نہ تھا۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ صحت مند اور غیر صحت مند کے مابین امتیاز کا یہ نازک اصول بھی ہمیشہ نہیں اپنایا گیا اور بعد میں ایک مزید سادہ طریقہ جو اکثر اپنایا گیا یہ تھاکہ محض گاڑی کے دونوں دروازے کسی انتباہ یا فرمان کے بغیر نوواردوں کے لئے کھول دئیے جائیں۔ جو کسی اتفاق کی وجہ سے ایک جانب اترے وہ کیمپ اور دوسری جانب والے گیس چیمبر میں داخل ہو گئے۔

 

یہی وہ وجہ تھی کہ تین سالہ ایمیلیا موت سے جا ملی۔ اولاد ِ یہودکے قتل کی تاریخی ناگزیری جرمنوں پر فی نفسہٖ عیاں تھی۔ ایلڈو لیوی کی بیٹی ایمیلیا ایک پُر تجسس، پُرامنگ، خوش مزاج اور ذہین بچی تھی۔ دورانِ سفر اس کے والدین اسے نیم گرم پانی سے بھرے ایک ٹب سے نہلانے میں کامیاب ہو گئے تھے جو ایک ناخلف جرمن انجینئر نے انہیں اسی انجن سے نکالنے دیا جو ہم سب کو موت کی سمت گھسیٹ کے لے جا رہا تھا۔

 

پس اسی طرح ایک ہی گھڑی میں ہماری عورتیں، والدین اور بچے غائب ہو گئے۔ ایک ساعت کے لئے وہ ہمیں پلیٹ فارم کے اُس پار ایک مبہم ہجوم کی صورت نظر آئے لیکن اس کے بعد نگاہ سے اوجھل ہو گئے۔
ان کی جگہ لیمپوں کی روشنی میں عجیب و غریب افراد کے دو گروہ ظاہر ہو گئے۔ وہ تین قطاروں پر مشتمل دو دستوں میں ایک عجیب الجھے ہوئے قدم کے ساتھ، سر آگے کو جھولتے ہوئے، ساکت بازوؤں کے ساتھ چل رہے تھے۔ ان کے سروں پر مضحکہ خیز فوجی ٹوپیاں تھیں اور وہ دھاری دار لمبے اوورکوٹوں میں ملبوس تھے، جو رات میں بھی اور کافی فاصلے پر ہونے کے باوجود غلیظ چیتھڑے معلوم پڑتے تھے۔وہ ایک بڑے دائرے میں ہمارے گرد گھومنے لگے اور خاموشی سے ہمارے سامان کے ساتھ مصروف خالی ڈبوں سے اندر باہر جاتے رہے۔

 

ہم نے کوئی بات کئے بغیر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ یہ سب کچھ ایک ناقابل فہم پاگل پن لگتا تھا، مگر ایک بات ہمیں سمجھ آ گئی۔ یہ وہ قلبِ ما ہیت تھی جو ہماری منتظر تھی۔ کل ہمیں بھی ان جیسا ہو جانا تھا۔
2۔ تہہ میں
آخر کار ایک اور دروازہ کھلا۔ ہم یہاں بند ہیں، برہنہ، منڈے سر اور کھڑے ہوئے، جبکہ ہمارے پاؤں پانی میں ہیں۔ یہ نہانے کا کمرہ ہے۔ ہم تنہا ہیں۔ آہستہ آہستہ حیرت ختم ہو گئی اور باتیں شروع ہوئیں۔ ہر کوئی سوال پوچھتا ہے اور جواب کسی کے پاس نہیں۔ اگر ہم نہانے کے کمرے میں برہنہ کھڑے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم غسل کریں گے۔ نہانے دیا جا رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ابھی ہمیں قتل نہیں کریں گے۔مگر پھر انہوں نے ہمیں کھڑا کیوں کر رکھا ہے اور پینے کو کیوں کچھ نہیں دے رہے جبکہ کوئی بھی کچھ تفصیل نہیں بتا رہا، اور نہ ہی ہمارے پاس کپڑے یا جوتے ہیں مگر برہنہ ننگے پیر پانی میں کھڑے ہیں، ہم نے پانچ روز مسلسل سفر کیا ہے تو کیا بیٹھ بھی نہیں سکتے؟

 

اور ہماری خواتین؟

 

خواتین کے کیمپوں میں ظلم کے نت نئے ہتھکنڈے اپنائے جاتے تھے
خواتین کے کیمپوں میں ظلم کے نت نئے ہتھکنڈے اپنائے جاتے تھے
پاس کھڑا لیوی مجھ سے پوچھتا ہے کہ کیا میرے خیال میں ہماری خواتین بھی اس وقت اسی حال میں ہوں گی، وہ کہاں ہیں،اور کیا ہم انہیں کبھی دیکھ پائیں گے؟ میرا جواب ہاں ہے کیونکہ وہ شادی شدہ ہے اور اس کی ایک بیٹی ہے، یقیناً ہم انہیں دوبارہ دیکھ سکیں گے۔ مگر اب تک مجھے یقین ہے یہ سب ہماری تضحیک اور تحقیر کے لئے رچایا گیا ایک کھیل ہے۔ ظاہر ہے وہ ہمیں قتل کر دیں گے۔ جو بھی سمجھتا ہے کہ وہ زندہ بچ جائے گا وہ دیوانہ ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس نے شکاری کا چارہ نگل لیا ہے مگر میں ایسا نہیں ہوں۔میں سمجھ چکا ہوں کہ یہ سب کچھ جلد ہی ختم ہو جائے گا، شاید اسی کمرے میں، جب وہ ہمیں برہنہ، ایک پاؤں سے دوسرے پر رقصاں، ہر وقت زمین پر بیٹھنے کی کوشش میں دیکھتے دیکھتے اکتا جائیں گے۔ مگر زمین پر تو دو انچ سرد پانی ہے اور بیٹھنا ناممکن۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

فراغت کے بعد ہر کوئی اپنے کونے میں پڑا رہا اور ہمیں ایک دوسرے کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرأت نہ ہوئی۔ یہاں آیئنہ تو نہیں مگر ہمارا ظاہر بیسیوں سرمئی چہروں اور اور بیسیوں خستہ حال غلیظ پُتلیوں میں منعکس ہو تا ہوا ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ہم انہیں بدروحوں کے قالب میں ڈھل چکے ہیں جن کی ایک جھلک ہم نے پچھلے روز دیکھی تھی۔

 

پھر ہم پر یہ پہلی بار آشکار ہوا کہ ہماری زبان میں اس جرم یعنی انہدامِ انسان کو بیان کرنے کی لئے الفاظ ناپید ہیں۔ ایک لمحے میں تقریباً ایک الہامی وجد ان کی طرح ہم پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ ہم تہہ میں پہنچ چکے ہیں۔ اس سے مزید نیچے ڈوبنا ناممکن ہے۔انسان کی اسے زیادہ خستہ حالی کا کوئی وجود نہیں اور نہ ہی اس کا تصور ممکن ہے۔ کوئی شے ہماری نہیں، وہ ہمارے کپڑے، جوتے، یہاں تک کے بال بھی سلب کر چکے ہیں۔ اگر ہم لب کھولیں گے تو وہ ہماری آواز نہیں سنیں گے اور اگر سنیں گے تو سمجھیں گے نہیں۔ وہ ہمارا نام بھی سلب کر لیں گے اور اگر ہم اس سے جڑے رہنا چاہیں تو ہمیں اپنے اندر ایسا کرنے کی قوت تلاش کرنی ہو گی کہ کسی طور اس نام کے پیچھے ہمارا کوئی حصہ اب بھی موجود ہے۔

 

ہم جانتے ہیں کہ اپنی بات سمجھانا مشکل ہوگا اور ایسا ہی ہونا چاہیئے۔ مگر غور کریں ہماری چھوٹی سے چھوٹی روزمرہ عادات میں کیا قیمت یا کیا معانی ملفوف ہیں، ان بیسیوں چیزوں میں جو ایک غریب ترین بھکاری کی ملکیت بھی ہوتی ہیں:ایک رومال، کوئی پرانا خط، کسی محبوب کی تصویر۔ یہ اشیاء ہمارا حصہ ہیں، تقریباً اسی طرح جیسے ہمارے بدن کے اعضاء۔ ہماری دنیا میں ان سے جدا کردیئے جانے کا تصور ممکن نہیں کیوں کہ اس صورت میں ہم فوراً ان کےنئےمتبادل تلاش کر لیں گے، یعنی دوسری اشیاء جو ہماری یادوں بازیاب کرتی مجسم صورتیں بن جاتی ہیں۔

 

اب ایک ایسے انسان کا تصور کریں جو ہرمانوس شخص، اور ساتھ ہی ساتھ اپنے گھر، اپنی عادات، اپنےلباس، مختصراً ہر اس چیز سے جس کا وہ مالک ہے محروم کیا جا چکا ہے:وہ ایک کھوکھلا انسان ہو گا جو عزت اور ضبطِ نفس فراموش کرنے کے بعد اپنی ضروریات اور مصائب تک محدود کیا جا چکا ہے، کیوں کہ ایسااکثر ہوتا ہے کہ سب کچھ کھو دینے والاآخر کار اپنے آپ کو بھی کھو دیتا ہے۔وہ ایک ایسا انسان ہو گا جس کی زندگی اور موت کا فیصلہ انسانی ناطےداری کے احساس کی بجائے خالص افادیت کی بنیاد پر کیا جا سکے گا۔یہ وہ طریقہ ہے جس سے “استیصالی کیمپ” (extermination camp) جیسی اصطلاح کے دوگانہ معانی سمجھے جا سکتے ہیں اور اب یہ ظاہر ہے کہ ہم “تہہ میں پڑے ہونے” کی عبارت سے کیا واضح کرنا چاہتے ہیں

 

ہیفٹلنگ! (قیدی) (1)

 

مجھے معلوم ہوا ہے کہ میں ایک” ہیفٹلنگ” ہوں۔ میرا نمبر 174517 ہے۔ ہمیں بپتسمہ دیا جا چکا ہے۔گودنے کا نشان ہمارے بائیں بازو پر تا حیات رہے گا۔ آپریشن ہلکا سا تکلیف دہ اور غیر معمولی طو رپر تیز رفتار تھا۔ انہوں نے ہمیں ایک قطار میں کھڑا کر دیا اور ایک ایک کر کے ناموں کی ابجدی ترتیب کے ساتھ ہم ایک باہنر اہلکار کے سامنے سے گزرتے رہے جس کے ہاتھ میں ایک پتلی سی سوئی والا نوک دار اوزار تھا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہی اصل اورحقیقی داخلہ لائسنس ہے:صرف “اپنا نمبر دکھا کر” ہی روٹی اور شوربہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔کئی دن اور کافی تھپڑوں مکوں کے بعد ہم چستی کے اس معیار پر پورے اترے کہ روزمرہ کے ضابطے میں کسی خلل کے بغیر اپنا نمبر دکھا کر کھانا حاصل کر سکیں۔ جرمن زبان میں اس کی آواز سمجھنے کے لئے ہفتے اور مہینے درکار تھے۔اور کئی دفعہ جب ایامِ آزادی کی عادا ت مجھے کلائی کی گھڑی کی طرف نظر دوڑانے پر مجبور کرتیں، مجھے طنزاًاپنا نیا نام نظر آ جاتا، کھال کے نیچے نیلے حروف میں گوندھا ہوا اس نام کا نمبر۔ کافی دن بعد آہستہ آہستہ ہم میں سے کچھ کو آشوٹز (Auschwitz)کے نمبروں کی تعزیتی سائنس کے بارے میں کچھ کچھ پتا چلا، جو یورپی یہودیت کے انہدام کے درجات کی علامت ہے۔ کیمپ کے پرانے باسیوں کے نزدیک نمبر سب کچھ بیان کر دیتے ہیں: کیمپ میں داخلے کا عرصہ، وہ قافلہ جس کا فرد حصہ تھا، لہذا قومیت۔ ہر کوئی 30000 سے 80000 تک کے نمبروں کی عزت کرتا ہے :ان میں سے کچھ سو ہی باقی رہ گئے ہیں اور وہ پولینڈ کے یہودی باڑوں سے زندہ بچ جانے والے ہیں۔ کاروباری معاملات میں 116000یا 117000کے سلسلے سے ہوشیار رہیں:اب ان میں سے صرف چالیس ہی باقی بچے ہیں مگر وہ یونانی تسالونیکی (Greeks of Salonica) ہیں، تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی آنکھوں میں دھول جھونک دیں۔ جہاں تک بڑے نمبروں کا سوال ہے تو ان سے ایک ناگزیر تمسخرانہ کیفیت مربوط ہے جیسا کہ عام زندگی میں “نوآموز” (Freshman) یا “بیگار کا سپاہی” (Conscript) جیسے القابات۔ عمومی طور پر بڑا نمبر ایک فربہ، فرمانبردار اور احمق شخص ہے: یہ باور کرواتے ہوئے کہ تمام نازک پیر والوں کو شفاخانے میں چمڑے کے جوتے دیے جا رہے ہیں،اسے اپنےشوربے کی پلیٹ “آپ کی حفاظت” میں رکھوا کراُس جانب بھاگنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔ چاہیں تو آپ روٹی کے تین راشن کے بدلے اسے ایک چمچ بھی بیچ سکتے ہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

تویہ ہے ہماری زندگی۔ ہر دن ایک باضابطہ تسلسل کے ساتھ، صبح کی حاضری پریڈاور شام کی حاضری پریڈ، باہر جانا اور اندر آنا، سونا اور کھانا، بیمار پڑنا، واپس صحت مند ہونا یا مر جانا۔لیکن آخر کب تک؟ پرانے قیدی اس سوال پر مسکراتے ہیں۔ وہ اس سوال سے نواردو ں کو پہچان لیتے ہیں۔ مسکرادیتے ہیں مگر کوئی جواب نہیں دیتے۔ مہینوں اور سالوں میں دور دراز مستقبل کا مسئلہ مدھم پڑ چکا ہے اور اس سے کہیں زیادہ ضروری اور ٹھوس مسائل کے سامنے اپنی شدت کھو چکا ہے:آج میں کتنا کھا سکوں گا؟ اگر آج برفباری ہوئی تو کیا کوئلے کی مال برداری ہو گی؟

 

اگر ہم منطقی ہوتے تو اپنا آپ اس دلیل کے سپرد کر چکے ہوتے کہ ہماری تقدیر انسانی علم سے ماوراء ہے،اور یہ کہ ہر مفروضہ بے طور اور مشاہداتی اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ مگر جب اپنی ہی تقدیر داؤ پر لگی ہو تو انسان کم ہی منطقی ہوتے ہیں، وہ ہر موقع پر انتہا پسندانہ نقطۂ نظر کو ترجیح دیتے ہیں۔ اپنی مخصوص طبیعتوں کے مطابق کچھ تو فوراً مان جاتے ہیں کہ سب کچھ کھو گیا ہے، انسان یہاں نہیں رہ سکتا، اور خاتمہ قریب اور یقینی ہے۔ دوسرے اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حالیہ زندگی کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہو، نجات کا احتمال ہے اور وہ زیادہ دور نہیں ہے، اور اگر ہم میں ایمان اور قوت ہو تو ہم ایک بار پھر اپنے گھربار اور احباب کو ضرور دیکھیں گے۔ قنوطیت اور رجائیت پسندی کی ان دو اقسام کے درمیان تفریق واضح نہیں ہے، مگر اس لئے نہیں کہ بہت سے لوگ لاادرئیت پسند ہیں بلکہ اس لئے کہ کسی یاداشت یا ہم آہنگی کے بغیر اکثریت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان وقت اور انفرادی کیفیت ِ مزاج کے زیر ِ اثر ڈولتی رہتی ہے۔

 

سو اب میں یہاں تہہ میں پڑا ہوں۔ جبر کے زیر اثر انسان جلد ہی سیکھ جاتا ہے کہ ماضی اور مستقبل کو کیسے مٹایا جائے۔ آمد کے پندرہ دن کے اندر اندرمجھ پر مجوزہ بھوک کا حملہ ہوچکا تھا، وہ شدید بھوک جس سے آزاد انسان نا آشنا ہیں، جو رات کو خواب دکھاتی ہے اور تمام انسانی اعضاء میں جڑ پکڑ لیتی ہے۔ میں پہلے ہی جان چکا ہوں کہ اپنے آپ کو لٹنے سے کس طور بچانا ہے، اور اگر مجھے کوئی چمچ گرا ملے، یا دھاگے کا ایک ٹکڑا یا ایک ایسا بٹن جسے میں سزا کے خطرے کے بغیر حاصل کر سکوں تومیں اسے جیب میں منتقل کر لوں گا اور پورے حق کے ساتھ اسے اپنی ملکیت سمجھوں گا۔ میرے پاؤں تلے وہ بے حس چھالے ہیں جو مندمل نہیں ہوں گے۔میں گاڑیاں دھکیلتا ہوں، میں کام کے لئے کدال کا استعمال کرتا ہوں،میں بارش میں گل سڑ جاتاہوں، میں ہوا میں کانپتا ہوں، میرا جسم مزید میرا نہیں ہے، میرا پیٹ سوجا ہوا ہے، میرے اعضاء لاغر ہیں، میرا چہرا صبح میں پھولا ہوااور شام میں کھوکھلا ہوتا ہے، ہم میں سے کچھ کی جلد زرد اور کچھ کی خاکستری ہے۔اگر ہم کچھ دن ایک دوسرے سے نہ ملیں تو مشکل ہی سے پہچان پاتے ہیں۔
3۔ آغاز
مجھے بہت سے سوال پوچھنے ہیں۔ میں بھوکا ہوں تو کیا یہ کل شوربہ بانٹیں گے؟ کیامیں چمچ کے بغیر اسے کھا سکوں گا؟ مجھے چمچ کہاں ملے گا؟ کل مجھے کام کے لئے کہاں بھیجا جائے گا؟ ڈی اینا مجھ سے زیادہ نہیں جانتا اور جواباً مزید سوال داغ دیتا ہے۔ مگر اوپر اور نیچے، قریب اور دور، اندھیرے کمرے کے ہر کونے سے نیند میں بھری غصیلی آوازیں مجھ پر چلا رہی ہیں: “رُوہے، رُوہے۔”(2) میں سمجھتا ہوں کہ یہ مجھے خاموش رہنے کا حکم دے رہی ہیں مگر یہ لفظ میرے لئے نیا ہے۔ چونکہ میں اس کے معنی اور مراد نہیں سمجھتا میرا شور بڑھ جاتا ہے۔

 

زبانوں کا ابہام یہاں کے رہائشی اطوار کا بنیادی عنصر ہے: انسان اپنے آپ کو مسلسل ایک بابل میں محبوس محسوس کرتا ہے جہاں ہر کوئی نامعلوم زبانوں میں احکام اور دھمکیاں اگل رہا ہے اور جو کوئی بھی معنی تک نہ پہنچ سکے وہی ملامت کا حقدار ہے۔ یہاں کسی کے پاس وقت نہیں،کوئی آپ کی نہیں سنتا، ہم نوواردان مار پیٹ کے ڈر سے فطری طور پر دیواروں کے ساتھ لگے کونوں میں دبکے بیٹھے ہیں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

میں کسی جھجک کے بغیر تسلیم کرتا ہوں کہ جیل کے صرف ایک ہفتے بعد ہی مجھ میں صفائی کی جبلت غائب ہو گئی۔ بے مقصد نہانے کے کمرے کے گرد گھوم رہا ہوں کہ مجھے یک لخت اسٹائن لاف مل جاتا ہے، میرا تقریباً پچاس سالہ دوست جو ننگے دھڑ اپنے گردن اور کندھوں کو پوری قوت سے رگڑتے ہوئے بغیر کسی کامیابی (اس کے پاس صابن نہیں ہے) کے صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسٹائن لاف مجھے دیکھتا ہے اور خوش آمدید کہتا ہے۔ پھر بغیر کسی تمہید کے سختی سے پوچھتا ہے کہ میں کیوں نہیں نہاتا۔

 

مجھے کیوں نہانا چاہئے؟ کیامیں اب سے بہتر ہو جاؤں گا؟ کیا میں کسی اور کی خوشی کا باعث ہوں گا؟ کیا میں ایک دن، ایک گھنٹہ زیادہ زندہ رہ پاؤں گا؟ میں شاید کم زندہ رہوں گا کیوں کہ نہانا محنت طلب ہے، طاقت اور حدت کا ضیاع۔ کیا اسٹائن لاف نہیں جانتا کہ کوئلے کی بوریوں کی ساتھ آدھا گھنٹہ گزارنے کے بعد ہم میں ہر امتیاز مٹ جائے گا؟ میں جتنا اس بارے میں سوچتا ہوں، اپنی موجودہ حالت میں اپنا منہ دھونا ایک بےوقوفی محسوس ہوتا ہے بلکہ محض سبک سری:ایک میکانی عادت، یا اس سے بھی بدتر کسی متروک تہوار کا بے کیف تسلسل۔ ہم سب مر جائیں گے، ہم سب قریب المرگ ہیں:اگر یہ مجھے صبح کے بگل اور کام کے درمیان دس منٹ دیں تو میں انہیں کسی اور شے کے لئے وقف کروں گا، اپنے اندر جھانکنے کے لئے، غورو فکر کے لئے، یا محض آسمان کی طرف دیکھنے اور سوچنے کے لئے کہ میں اس کی طرف آخری بار دیکھ رہا ہوں، یا صرف اپنے آپ کو زندہ رکھنے کے لئے، تاکہ اپنے آپ کو ایک غیر مصروف ساعت کا تعیش عطا کر سکوں۔

 

مگر اسٹائن لاف مجھے ٹوک دیتا ہے۔ وہ نہا چکا ہے اور اب اپنے آپ کو اسی کپڑے سے پونچھ رہا ہے جو اس نے پہلے اپنی ٹانگوں پر لپیٹا ہوا تھا او رجو وہ عنقریب پہن لے گا۔بغیر اس عمل میں کسی رکاوٹ کے وہ مجھے ایک مکمل درس دیتا ہے۔

 

مجھے افسوس ہے کہ میں اس کےسادہ صاف گو الفاظ فراموش کر چکا ہوں، آسٹریائی ہنگری فوج کے سارجنٹ اسٹائن لاف کے الفاظ۔ افسوس اس لئے کہ مجھے اس کی ٹوٹی پھوٹی اطالوی اور ایک اچھے سپاہی جیسے خاموش طبع سلیقۂ گفتگو کو اپنے جیسے بے اعتقاد کی زبان میں ڈھالنا ہے۔ مگرکم و بیش لُب لباب یہ تھا:چونکہ قیدی کیمپ ایک ایسی عظیم مشین ہے جس کا مقصد ہمیں درندہ بنا دینا ہے، اس لئے ہمیں درندہ نہیں بننا۔ اور یہ کہ انسان اس جگہ پر بھی زندہ رہ سکتا ہے لہٰذا انسان کو زندہ رہنے کی خواہش رکھنی چاہئے تاکہ کہانی سنا سکے اورگواہی دے سکے۔ زندہ رہنے کے واسطے ہمیں کم از کم اس ڈھانچے، اس مچان، تمدن کی اس شکل کو بچا کے رکھنا ہے۔ ہم ہر حق سے دستبردار، ہر دشنام کے لئے حاضر، ایک یقینی موت کے معتوب کردہ غلام ہیں مگر ہم اب بھی ایک قوت کےمالک ہیں اور ہمیں پوری ہمت کے ساتھ اس کا دفاع کرنا ہے کیوں کہ یہ آخری قوت رضامندی سے انکار ہے۔ لہٰذا ہمیں یقیناً اپنے منہ صابن کے بغیر گندے پانی سے دھونے چاہئیں اور قمیصوں سے اپنے آپ کو پونچھنا چاہئے۔ ہمیں اپنے جوتوں کو پالش کرنا چاہئے، اس لئے نہیں کہ یہ ضابطہ ہے بلکہ عزت اور معقولیت کی خاطر۔ہمیں سیدھا اکڑ کر چلنا چاہئے، اس لئے نہیں کہ یہ جرمن نظم کے مطابق ہے بلکہ زندہ رہنے اور موت کی جانب سفر شروع نہ کرنے کے لئے۔

 

یہ سب کچھ جو ایک اچھی نیت والے انسان اسٹائن لاف نے مجھے بتایا میرے کانوں کے لئے اجنبی تھا اور میں اسے جزوی طور پر ہی سمجھ اور قبول کرسکا، ایک ایسےمزید سہل، سادہ، لچک دار اور معتدل نظریے نے میری خاطر یہ مخصوص نظریہ نرم کر دیا جس نے صدیوں سے کوہِ الپس کے اس پار اپنا ٹھکانہ تلاش کیا ہوا ہے۔اور چیزوں کے علاوہ اس کے مطابق دوسروں کی ملکیت اور کسی اور فلک تلے بیان کردہ نظامِ اخلاق کو ہضم کر لینے سے زیادہ خود نمائی کا مظہر اور کوئی شے نہیں۔نہیں، ہر گز نہیں، اسٹائن لاف کی نیکی اور دانائی جو اس کے لئے یقیناً بہتر ہو گی میرے لئے کافی نہیں۔ اس پیچیدہ دنیا میں دائمی عذاب کےمتعلق میرے تصورات مبہم ہیں۔ کیا ایک نظام کا بیان اور اس کے عملی مظاہر واقعی ناگزیر ہیں؟ یا پھر کیااس سے یہ بہتر نہیں کہ نظام کی غیر موجودگی کو تسلیم کر لیا جائے؟
4۔ شفاخانہ
یہ شاید گرمی ہے یا پیدل چلنے کی تھکن مگر درد دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور ساتھ ہی زخمی پاؤں میں ایک عجیب سی نمی کا احساس۔ میں اپنا جوتا اتارتا ہوں: یہ خون سے بھرا ہوا ہے جو اب ایک سیال کی صورت مٹی اور کپڑوں کے ان چیتھڑوں میں مل رہا ہے جو مجھے ایک ماہ پہلے ملے تھے، اور جنہیں میں ایک دن دائیں اور دوسرے دن بائیں پاؤں کے نیچے رکھنے کے لئے استعمال کرتا ہوں۔

 

آج شام شوربہ کے بعد میں “کا۔بے”(3) جاؤں گا۔ یہ کرنکن باؤ یعنی کہ شفاخانے کا مخفف ہے۔ یہ آٹھ جھونپڑوں پر مشتمل ہے کیمپ کے دوسرے جھونپڑوں کی طرح مگر تاروں کی باڑ کے ذریعے علیٰحدہ۔ یہاں کیمپ کی کل آبادی کا دس فیصد حصہ مستقل رہائش پذیر ہے مگر کچھ یہاں دو ہفتے سے زیادہ رہتے ہیں اور کوئی ایسا نہیں جو یہاں دو ماہ سے اوپر رکے: انہی حدود کے اندر یاتو وہ صحت مند ہو جاتے ہیں یا انہیں مرجانا ہے۔ جن میں صحت کی علامات نمودار ہوتی ہیں ان کا علاج” کا۔بے” میں جاری رہتا ہے اور جن کی صحت رو بہ زوال ہوتی ہے وہ گیس چیمبر کی طرف بھیج دیئے جاتے ہیں۔ یہ سب اس لئے کہ ہمارا شمار خوش قسمتی سے “معاشی طور پر مفید یہودیوں” میں ہوتا ہے۔

 

ساتھ والے تختۂ خواب پر میرے دو پڑوسی ہیں۔ وہ رات دن ایک دوسرے کے ساتھ جسم ملائے، بُرجِ حوت کی مچھلیوں کی طرح ایک دوسرے کے سر کی جانب پیر کئے لیٹے رہتے ہیں۔ ان میں سے ایک والٹر بون ہے، ایک سلجھا ہوا متمدن ولندیزی۔ وہ دیکھتا ہے کہ میرے پاس ڈبل روٹی کاٹنے کے لئے کچھ نہیں تو اپنی چھری مجھے ادھار دے دیتا ہے اور پھر ڈبل روٹی کے آدھے راشن کے عوض بیچنے کی پیشکش کرتا ہے۔میں قیمت پر بحث کرتا ہوں اور پھر اس کی پیشکش مسترد کر دیتا ہوں کیونکہ میرے خیال میں یہاں “کا۔بے” میں مجھے کوئی نہ کوئی ادھار دے ہی دے گا اور باہر اس کی قیمت صرف راشن کا ایک تہائی ہے۔مگر اس وجہ سے والٹر ہر گز اپنی خوش خلقی کم نہیں ہونے دیتا اور دن چڑھے اپنا شوربہ پینے کے بعد اپنے منہ سے چمچ صاف کر کے(جو کہ ادھار دینے سے قبل ایک اچھا اصول ہے تاکہ شوربے کے ذرا سے ذرات بھی ضائع نہ ہوں) ایک دم مجھے پیش کر دیتا ہے۔
“تمہیں کیا مرض ہے، والٹر؟”

 

“اعضاء کا گلنا سڑنا”

 

یعنی وہ بدترین مرض جو ناقابل علاج ہے اور”کا۔بے” (2) میں اس طرح کی تشخیص کے ساتھ داخلہ خطرناک ہے۔اگر اسےپیدل چلنے سے روکنے والی ایڑیوں کی سوجن نہ ہوتی (جو وہ مجھے دکھاتا ہے) تو وہ بیماری کے بارے میں اعلان کرنے میں احیتاط برتتا۔اس خطرے کے بارے میں میرے تصورات اب تک مبہم ہیں۔ ہر کوئی اس کے بارے میں بالواسطہ طور پر اشاروں کنایوں میں با ت کرتاہے او رجب میں کوئی سوال کرتا ہو ں تو میری طرف دیکھ کر خاموش ہو جاتا ہے۔کیاوہ سب کچھ جو چناؤ (selections)، گیس اور لاشیں جلانے کی بھٹیوں (crematorium) کے بارے میں سننے میں آتا ہے سچ ہے؟

 

لاشوں کی بھٹیاں
لاشوں کی بھٹیاں
“لاشوں کی بھٹیاں۔” دوسرا جو والٹر کا پڑوسی ہے چونک کر اٹھ بیٹھتا ہے:”لاشوں کی بھٹیوں کے بارے میں کون بات کر رہا ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا کسی سوتے آدمی کو سکون سے نہیں رہنے دیا جا سکتا؟”یہ پولینڈ کا یہودی ہے، ایک جذامی جس کا لاغر خوش فطرت چہرہ اب مزید جوان نہیں رہا۔ اس کا نام شمولک ہے، یہ ایک لوہار ہے۔والٹر اس کو مختصراً بتاتا ہے۔” تو یہ ’احمق اطالوی‘ چناؤ کو حقیقت نہیں مانتا۔” شمولک جرمن بولنا چاہتا ہے مگر یہودی زبان بولتا ہے۔ میں اس کی بات مشکل سے سمجھتا ہوں کیونکہ وہ اپنی بات سمجھانا چاہتا ہے۔ وہ والٹر کو اشارے سے خاموش کراتا ہے او رمجھے قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے، “مجھے اپنا نمبر دکھاؤ: تم 174517ہو۔ نمبروں کا یہ سلسلہ اٹھارہ ماہ قبل شروع ہو ا تھا اور اس کا اطلاق آشوٹز اور اس کے ماتحت کیمپوں پر ہوتا ہے۔ بونا مونووٹز (Buna-Monowitz)میں اب ہم دس ہزار ہیں، آشوٹز (Auschwitz) اور برکینو (Birkenau)میں شاید تیس ہزار۔ باقی کہاں ہیں؟”

 

“شاید دوسرے کیمپوں میں بھیج دیئے گئے ہوں”، میں ایک ممکنہ جواب پیش کرتا ہوں۔

 

شمولک اپنا سر جھٹک کر والٹر کی طرف مڑتا ہے، “یہ سمجھنا ہی نہیں چاہتا۔”

 

مگر تقدیر کا فیصلہ یہ تھا میں جلد ہی سمجھ جاؤں، اور خودشمولک ہی کے عوض۔ اسی شام جھونپڑے کا دروازہ کھلا، ایک آواز آئی “ہوشیار” اور ہر آواز کی جگہ ایک غمگین سناٹے نے لے لی۔”ایس۔ایس”کے دو سپاہی اندر داخل ہوتے ہیں (ان میں سے ایک نے وردی پر بہت سے عسکری نشان لگا رکھے ہیں، شاید وہ کوئی افسر ہے)۔ ان کے قدموں کی آواز کمرے میں اس طرح سنائی دیتی ہے جیسے وہ خالی ہو۔ وہ چیف ڈاکٹر سے بات چیت کرتے ہیں اور وہ انہیں ایک رجسٹر دکھاتا ہے اور اس میں اِدھر اُدھر اشارہ کرتا ہے۔ افسر اپنی نوٹ بک میں کچھ لکھتا ہے۔ شمولک میرے گھٹنے کو چھوتا ہے، “اپنی آنکھیں کھلی رکھو۔” افسر ڈاکٹر کی معیت میں خاموشی اور سرد مہری سے خوابی تختوں کے بیچ گھومتا ہے، اس کے ہاتھ میں ایک سوئچ ہے جسے وہ اوپر والے تختے کے کمبل کے لٹکے ہوئےسرے کی طرف کر کے دباتا ہے، مریض جلدی سے اسے ٹھیک کرتا ہے۔ ایک کا چہرہ زرد ہے۔ افسر اس کے کمبل کھینچتا ہے، وہ پیچھے ہٹتا ہے، افسر اس کا پیٹ چھوتا ہے اور کہتا ہے “اچھا، اچھا” اور آگے بڑھ جاتا ہے۔

 

اب وہ شمولک کی طرف دیکھ رہا ہے۔وہ کتاب نکالتا ہے، بستر کا نمبر دیکھتا ہے اور پھر کلائی پر گودا ہوا نمبر۔ میں اوپر سے یہ سب کچھ واضح طور پر دیکھ سکتا ہوں:وہ شمولک کے نمبر کے سامنے کراس (X)کا نشان لگاتا ہے۔ پھر وہ آگے بڑھ جاتا ہے۔

 

اب میں شمولک کی طرف دیکھتا ہوں۔ اس کے عقب میں والٹر کی آنکھیں نظر آرہی ہیں، لہٰذا میں کوئی سوالات نہیں پوچھتا۔

 

اگلے دن حسب دستور مریضوں کےصحت یاب گروہ کی جگہ دو مختلف گروہ باہر نکلے۔پہلا جس کا سر اور چہرہ منڈا ہوا تھا اور نہلایا گیا تھا۔دوسرا لمبے بالوں کے ساتھ بغیر نہائے جیسا کہ وہ عام حالت میں تھا۔کسی نے آخرالذکر کو الوداع نہیں کہا، کسی نے صحت مند رفیقوں کے لئے پیغامات نہیں بھجوائے۔

 

شمولک اس گروہ کا حصہ تھا۔

 

اسی محتاط اور پرسکون انداز میں کسی نمائش یا غصے کے بغیر “کا۔بے “کے جھونپڑوں میں روزانہ قتل عام ہوتا ہے۔ جب شمولک گیا تو مجھے اپنا چمچ اور چھری دے گیا۔ والٹر اور میں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے ہچکچاتے رہے اور کافی دیر خاموش رہے۔پھر والٹر نے مجھ سے پوچھا کہ میں اپنا ڈبل روٹی کا راشن اتنی دیر کیسے بچا لیتا ہوں، اور مجھے بتانے لگا کہ کیسے وہ اپنی ڈبل روٹی لمبائی کے رخ کاٹتا ہے تاکہ مکھن آسانی سے لگ سکے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مگر شفاخانے کی زندگی یہ نہیں ہے۔ نہ ہی یہ چناؤ کی نازک ساعتیں ہیں اور نہ ہی پیٹ کی خرابی اور جوؤں کے خلاف اقدامات کے بے ڈھنگے سلسلے، نہ ہی یہ بیماریاں ہیں۔شفاخانہ قید خانہ ہے، بغیر اُس کی جسمانی صعوبتوں کے۔ لہٰذا جس کسی میں بھی شعور کے بیج موجود ہیں وہ اسے زندہ ہوتا محسوس کرتا ہے، اور طویل کھوکھلےایام میں انسان بھوک اور کام کے علاوہ دوسری چیزوں کے بارے میں بات کرتا ہے اور غور کرتا ہے کہ انہوں نے ہمیں کیا بننے پر مجبور کر دیا ہے، کتنا کچھ ہم سے چھین لیا گیا ہے، یہ زندگی کیا ہے؟ اس شفاخانے میں، جو نسبتاً ایک پرسکون ٹھکانہ ہے، ہمیں معلوم ہوا کہ ہماری شخصیت کمزور ہے،یہ بھی کہ یہ ہماری زندگی کی نسبت زیادہ خطرے میں ہے، اور بہت بہتر ہوتا اگر پرانے اربابِ عقل و دانش ہمیں یہ تنبیہ کرنے کے بجائے کہ “یاد رکھو، تمہیں ہر صورت مرنا ہے”ہمیں اس عظیم خطرے سے آگاہ کرتے جو ہمیں درپیش ہے۔ اگر قید خانے کے اندر سے کوئی پیغام باہر کے آزاد انسانوں تک پہنچایا جا سکے تو وہ یہ ہو گا:اپنے گھروں میں اس اذیت کو نہ سہو جو ہم پر یہاں مسلط ہے۔ جب انسان کام کرتا ہے تو وہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے اور سوچنے کا کوئی وقت نہیں:ہمارے گھر ایک یاد سے بھی کم ہیں۔ مگر یہاں وقت ہمارا ہے: تختۂ خواب سے تختۂ خواب تک، ممانعت کے باوجود ہم ایک دوسرے سے ملاقات اور بات چیت کرتے ہیں۔ اذیت ناک انسانیت سے ٹھنسا ہوالکڑی کا جھونپڑا الفاظ، یادوں اور کرب سے لبریز ہے۔ اس کرب کوجرمن “ہائم وے”(4) کہتے ہیں یہ ایک خوبصورت لفظ ہے جس کا مطلب ہے”اپنے گھر کی تمنا “۔

 

ہمیں معلوم ہے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں۔ باہر کی دنیا کی یادیں ہماری نیند اور جاگنے کے اوقات میں یلغار کرتی ہیں، ہمیں تحیر ہے کہ ہم نے کچھ فراموش نہیں کیا، ہر اکساتی یاداشت ہمارے سامنے کرب انگیز طور پر روشن ہوتی ہے۔

 

مگر نہ جانے ہماری منزل کیا ہے؟ کیا ہم اس قابل ہو سکیں گے کہ امراض سے زندہ بچ رہیں اور چناؤ سے فرار ممکن ہو، شاید بیگار اور بھوک جو ہمیں تھکاتی ہے اس کے خلاف ڈٹ سکیں، مگر پھر اس کے بعد کیا؟ یہاں ایک ساعت کے لئے گالیوں اور مار پیٹ سے دور ہم اپنے اندر از سرِنو جھانک سکتے ہیں اور غور و فکر کر سکتے ہیں، اور پھر یہ واضح ہوتا ہے کہ ہم واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔ہم یہاں مقفل ریل گاڑیوں میں آئے تھے، ہم نے اپنی عورتوں اور بچوں کو فنا کی جانب کوچ کرتے دیکھا، ہم نے غلاموں کا روپ دھار لیا، سینکڑوں قدم آگے اور پیچھے اپنی خاموش مشقتوں کی جانب پیش قدمی کی، اپنی بے نام موت سے بہت پہلے اپنی روح کی موت دیکھی۔کسی کو یہاں سے اپنی جلد کا یہ نشان لے کر دنیا میں نہیں جانا چاہئے، انسان کے ایک مفروضے کی وعید نے آشوٹز میں انسان کو کیا بنا دیا۔
5۔ہماری راتیں
انسان کی خود کو محفوظ کرنے،اپنے اندر ایک خفیہ خول بنا لینےاوربظاہر شدید مایوس کُن حالات میں اپنے اردگرد دفاع کی ایک مہین مزاحمتی باڑھ قائم کرنے کی تخلیقی صلاحیت حیران کن اور ایک سنجیدہ مطالعے کا موضوع ہے۔اس کی بنیاد ایک بیش بہا مطابقت پذیری کا عمل ہے، جو جزوی طور پر غیر متحرک اور بےشعور اور جزوی طور پر متحرک ہے:اپنے تختۂ خواب کے اوپر جوتے لٹکانے کےلئے ایک کیل ٹھونک لینا، پڑوسیوں کے ساتھ خاموشی پر اتفاق کرتے ہوئے عدم جارحیت کے کچھ معاہدے قائم کرنا، ایک جھونپڑی یا بلاک کے قوانین اور رواجوں کو سمجھنا اور قبول کر لینا۔یوں کچھ ہفتے کے اندر انسان ایک مخصوص توازن حاصل کر لیتا ہے، کسی بھی غیر متوقع صورت سے ایک مخصوص درجے کی حفاظت، اپنے لئے ایک گھونسلے کی تخلیق، منتقلی کےصدمے کا اختتام۔

 

کیمپوں میں خود کو اپنے خول میں بند کر لینا پڑتا تھا
کیمپوں میں خود کو اپنے خول میں بند کر لینا پڑتا تھا
مگر شفاخانے سے نکلا ایک برہنہ اور تقریباً ہمیشہ ناقص طور پر صحت یاب آدمی، خود کو ایک اندھیرے اور سرد فلکی علاقہ میں چھوڑا گیا محسوس کرتا ہے۔ پتلون نیچے گرتی ہے، جوتے کاٹتے ہیں، قمیص کے بٹن ندارد۔ وہ کسی انسانی لمس کی تلاش میں ہوتا ہے اور اسے اپنی طرف پھیری ہوئی پُشتیں ہی ملتی ہیں۔ ایک نومولود بچے کی طرح لاچار اور غیر محفوظ ہوتا ہے لیکن اگلی ہی صبح اسے کام کے لئے پیش قدمی کرنی ہوتی ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جن میں کافی انتظامی رسومات کے بعد مجھے بلاک نمبر ۴۵ میں بھیجا گیا۔ مگر اچانک ایک خیال مجھے مسرت سے بھر دیتا ہے:میں خوش قسمت ہوں، یہ البرٹو کا بلاک ہے۔

 

البرٹو میرا بہترین دوست ہے۔ اس کی عمر صرف بائیس سال ہے یعنی مجھ سے دو سال کم مگر ہم اطالویوں میں سے کسی نے بھی حالات سےمطابقت اختیار کرنے کی اتنی صلاحیت ظاہر نہیں کی۔البرٹو سر اٹھا کر قیدخانے میں داخل ہوا اور یہاں بغیر کسی اخلاقی بگاڑ اور آنچ کے رہتا ہے۔ وہ ہم سے بہت پہلے یہ سمجھ گیا کہ یہ زندگی ایک جنگ ہے، اس نے کوئی تقاضا نہیں پالا، خود سے اور دوسروں سے شکوہ و شکایت اور ہمدردی کی بجائے آغاز ہی سے لڑائی میں داخل ہو گیا۔ اس کے پاس ذہانت اور وجدان کی صلاحیتیں ہیں، اکثر وہ استدلال نہ کرنے کے باوجودحق پر ہوتا ہے۔ وہ سب کچھ یک دم سمجھ لیتا ہے۔ اسے فرانسیسی کم ہی سمجھ آتی ہے کہ لیکن جوکچھ بھی جرمن اور پولش بتاتے ہیں سمجھ لیتا ہے۔ اطالوی میں اشاروں سے جواب دیتا ہے، اپنی بات سمجھا دیتا ہے اور یک دم ہمدردی کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کی خاطر لڑ مرتے رہنے کے باوجود بھی ہر ایک کا دوست رہتا ہے۔ اسے “معلوم” ہے کہ کس کو گمراہ کرنا ہے، کس سے کنارہ کشی کرنی ہے، کس کے جذبات کو بھڑکانا ہے اور کس کے سامنے مزاحم ہونا ہے۔ پھر بھی (اور یہ وہ خوبی ہے جس وجہ سے اس کی یاد آج بھی میرے دل میں زندہ ہے) وہ خود اخلاقی بگاڑ کا شکار نہیں ہوا۔میں نے اس میں ہمیشہ ایک ایسے امن دوست انسان کو دیکھا اور آج بھی دیکھتا ہوں جس کے خلاف ظلمت کے ہتھیار کند ثابت ہوئے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

میں نہیں جانتا میرا پڑوسی کون ہے۔ مجھے اتنا یقین بھی نہیں کہ آیا یہ ہمیشہ ایک ہی شخص ہوتا ہے یا نہیں کیونکہ میں نےعلی الصبح بگل کے شور میں چند سیکنڈ کے علاوہ کبھی اس کا چہرہ نہیں دیکھا، لہٰذا میں اس کی پشت اور پیروں کو چہرے کی نسبت بہتر طور پر پہچانتا ہوں۔ و ہ میرے بلاک میں کام نہیں کرتا اور کرفیو کے اوقات میں تختۂ خواب پر پہنچتا ہے، خود کو کمبل میں لپیٹتا ہے، اپنےہڈیوں بھرے کولہے سے مجھے ایک طرف دھکا دیتے ہوئے پشت میری جانب کرتا ہے اور ایک دم خراٹے لینا شروع کر دیتا ہے۔ پشت سے پشت ملا کر میں تنکوں کے گدے کا ایک معقول حصہ واپس حاصل کرنے کی جدوجہد کرتا ہوں۔ اپنی پشت سے اس کی پشت پر ایک مسلسل دباؤ ڈالتا ہوں، پھر پیچھے کروٹ لیتا ہوں اور گھٹنوں سے زور لگاتا ہوں، اس کی ایڑیاں پکڑتے ہوئے انہیں کچھ دُور رکھنے کی کوشش کرتا ہوں تاکہ اس کے پیر میرے چہر ے کی بالکل ساتھ نہ چپکیں۔ مگر یہ سب کچھ بے سود ثابت ہوتا ہے کیوں کہ وہ مجھ سے کافی بھاری ہے اور عالمِ خواب میں ایک پتھر کی مانندمحسوس ہوتا ہے۔ پس میں اپنے آپ میں اسی طرح لیٹنے کی طاقت پیدا کرتا ہوں کہ لکڑی کے کنارے پر ساکت نیم درازپڑا رہوں۔تاہم تھکن سے اتنا چور اور چکرایا ہوں کہ میں بھی یک لخت سو جاتا ہوں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ریل کی پٹڑی پر محوِ خواب ہوں۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

سونےوالوں کے سانسوں کی آوازاور خراٹے سنے جا سکتے ہیں، کچھ کراہتے اور باتیں کرتے ہیں۔ کئی اپنے ہونٹ چاٹتے اور جبڑے ہلاتے ہیں۔ وہ خواب میں کچھ کھا رہے ہیں، یہ ایک مشترکہ خواب ہے۔ ایک سنگ دل خواب جو طنطالوس (Tantalus)کی اساطیری کہانی کے خالق کو ضرور معلوم ہو گا۔نہ صرف آپ خوراک دیکھتے ہیں بلکہ اسے ہاتھوں میں محسوس بھی کرتے ہیں، واضح اور ٹھوس، آپ اس کی شیریں اور متاثر کن مہک سے واقف ہوتے ہیں، یہاں تک کےخواب میں کوئی اسے آپ کے ہونٹوں تک پہنچا دیتا ہے، مگرہر بار ایک مختلف حادثہ حائل ہو کر اس عمل کوانجام تک نہیں پہنچنے دیتا۔ پھر خواب اپنے عناصر میں بکھر جا تا ہے، مگر یک دم پھر متشکل ہو کر دوبارہ شروع ہو جاتاہے، اسی طور، پھر بھی مختلف اور ہم سب کے مکمل دورانِ نیند میں ہر رات بلا وقفہ۔

 

اب شاید رات گیارہ بجے سے کچھ اوپر کا وقت ہو گا کیونکہ محافظ کے پاس پڑی بالٹی کے ارد گرد حرکت کافی سرگرم ہے۔ یہ ایک بیہودہ اذیت اور ایک راسخ ندامت ہے:ہر دو سے تین گھنٹے کہ بعد ہمیں پانی کے اس عظیم ذخیرے کا اخراج کرنا ہوتا ہے جو دن میں شوربے کے نام پر بھوک مٹانے کے لئے جذب کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وہی پانی جو شام کے اوقات میں ہماری ایڑیوں کی سوجن اور آنکھوں کے گرد حلقوں کا باعث ہے، جو تمام چہروں کو ایک جیسی بدنمائی دیتا ہے، جس کا اخراج ہمارے گردوں کے لیے ایک نقاہت آمیز جدوجہد ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پس یوں ہماری راتیں گھسٹتی ہیں۔ طنطالوس اور اس کہانی کا خواب آپس میں غیر ممیز عکسوں کی صورت بُنے ہوئے ہیں:دن کے مصائب یعنی بھوک، مارپیٹ، سردی، تھکن، خوف اور اختلاطِ باہمی رات کو ایسے بے شکل خوفناک خوابوں کا روپ دھار لیتے ہیں جن کا تشدد ناشنیدہ ہےاور آزاد زندگی میں وہ صرف ہذیان آمیز بخار کی صورت میں پیش آتے ہیں۔ کسی غصے سے بھرپور آوازکے ناقابل ِفہم زبان میں چلاتے ہوئے حکم کے زیرِ اثرانسان، دہشت سے منجمد، کانپتے اعضاء کے ساتھ، ہر ساعت ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھتا ہے۔بالٹی کی طرف سفر کرتا جلوس اور ننگی ایڑیوں کی لکڑی کے فرش پر آواز ایک اور علامتی جلوس کو تخلیق کرتے ہیں۔یہ ہم ہیں، خاکستری اور یکساں، چیونٹیوں کی طرح ننھے، پھر بھی اتنے جسیم کہ ستاروں تک پہنچ جائیں، ایک دوسرے کے ساتھ جکڑے ہوئے،لاتعداد، تاحدِنظر زمین کو پُر کرتے ہوئے، کبھی ایک واحد مادے میں پگھلتے ہوئے، ایک الم ناک صعوبت میں مقید اوردم پُخت، تو کبھی ایک دائرے میں پیش قدمی کرتے ہوئے، بغیر کسی ابتداء یا انتہا کے، ایک نابینا کر دینے والے چکر اور متلی کے ایک سمندر میں جو چھاتی سے نرخرے کو ابھرتا ہے، یہاں تک کہ بھوک یا سردی یا مثانوں کا بھرا ہونا ہمارے خوابوں کو ان کی رسمی شکلوں میں واپس لے آتا ہے۔

 

camp-misery-laaltain

جب خوفناک خواب یا صعوبتیں ہمیں جگا ڈالیں تو اُن کے حملے کے سامنے اپنی نیند کے دفاع میں مختلف عناصر کو سلجھانے اور انہیں ایک ایک کر کے اپنی حالیہ توجہ کے دائرے سے باہر بھیجنے کی کوشش بلا سود ہے۔لیکن آنکھیں بند کرتے ہی محسوس ہوتا ہے کہ ہمارا دماغ ہمارے قابو سے باہر نکل کر اٹھ بیٹھا ہے، یہ کھٹکھٹاتا اور بھنبھناتا ہے، انتھک آسیب اور بدترین علامات بن کر انہیں کسی سرمئی دھند کی طرح ہمارے خوابوں کے پردے پر منعکس کرتا ہے۔
6۔ کام
کام کی طرف پیش قدمی کے وقت اپنے بڑے بڑے لکڑی کے جوتوں میں منجمد برف پر لنگڑاتے ہوئے ہم نے کچھ بات چیت کی تو مجھے معلوم ہوا کہ ریسنک پولینڈ کا رہنے والا ہے۔ وہ بیس سال پیرس میں رہا مگر کافی بری فرانسیسی بولتا ہے۔ اُس کی عمر تیس سال ہے مگر ہم سب کی طرح سترہ یا پچاس کا گمان ہو سکتا ہے۔اس نے مجھے اپنی کہانی سنائی تھی جسے آج میں بھول چکا ہوں مگر وہ یقینا ایک الم ناک، سنگ دل اور پرتاثر کہانی تھی کیوں کہ ہم سب کی کہانیا ں ایسی ہی ہیں، تمام ایک دوسرے سے مختلف لیکن ایک ہی جیسی دل شکن کیفیت سے بھرپور۔ ہم شام کو یہ کہانیاں ایک دوسرے کو سناتے ہیں۔ یہ ناروے، اٹلی، الجیریا، یوکرائن وغیرہ میں پیش آتی ہیں اور انجیل ِمقدس کی کہانیوں کی طرح سادہ اور ناقابل فہم ہیں۔ مگر کیا یہ خود ایک نئی انجیل ہی کی کہانیاں نہیں ہیں؟
7۔ایک اچھا دن
یہ یقین کہ زندگی کا ایک مقصد ہے انسان کے رگ و پےمیں عمیق بنیادیں رکھتا ہے۔ یہ انسان کے وجود ِ حقیقی کی ایک خصوصیت ہے۔ آزاد انسان اس مقصد کو کئی نام دیتا ہے اور کئی انسان اس کی ماہیت کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں۔ مگر ہمارے لئے سوال نسبتاً سادہ ہے۔

 

آج اس جگہ ہمارا واحد مقصدموسمِ بہار تک پہنچنا ہے۔ اس وقت ہمیں اور کسی شے کی پرواہ نہیں۔اس مقصد کے علاوہ لمحۂ موجود میں اور کوئی مقصدپیش ِنظر نہیں۔ صبح جب ہم حاضری کے میدان میں قطار بنا کرکام پر نکلنے کے لئے لامتناہی انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں، جب ہوا کا ہر جھونکا کپڑوں میں سرایت کر رہا ہوتا ہے اور ہمارے بےکس جسموں میں شدید کپکپی دوڑا دیتا ہے، ہمارے ارد گرد ہر شے خاکستری ہے اور ہم خود بھی۔ صبح جب ہر شے اندھیرے میں ڈوبی ہوتی ہے تو ہم مشرق میں آسمان کی طرف ایک نسبتاً معتدل موسم کے اولین اشارات کی تلاش میں نگاہ دوڑاتے ہیں اور روزانہ سورج کے طلوع ہونے پر بحث کی جاتی ہے: آج کل کی نسبت کچھ جلدی تھا، آج کل کی نسبت کچھ گرم تھا، دو ماہ کے اندر، ایک ماہ کے اندر سردی اپنی طرف سے جنگ بندی کر دے گی اور ہمارا ایک دشمن کم ہو جائے گا۔
آج سورج پہلی بار گرد کے افق سے روشن اور صاف طلوع ہوا۔ یہ پولینڈ کا سفیدسورج ہے جو بہت فاصلے سے صرف جلد کو حدت پہنچاتا ہے۔ جب وہ غروب ہو رہا تھا تو ہمارے بے رنگ جسموں میں ایک سنسناہٹ تھی۔ جب میں نے اس کی نرم حدت اپنے کپڑوں میں محسوس کی تو میں سمجھ گیا کہ انسان سورج کی پوجا کیونکر کر سکتا ہے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

بونا(Buna) کسی شہر جتنا بڑا ہے، مہتممین اور جرمن تکنیکی ماہرین کے علاوہ چالیس ہزار غیر ملکی یہا ں کام کرتے ہیں اور پندرہ سے بیس زبانیں بولی جاتی ہیں۔ تمام غیرملکی بونا کے گرد مختلف قید خانوں میں رہائش پذیر ہیں:برطانوی جنگی قیدیوں کا قیدخانہ، یوکرائنی عورتوں کا قید خانہ، فرانسیسی رضا کاروں کا قید خانہ اور دوسرے جن کے بارے میں ہم نہیں جانتے۔ صرف ہمارا قید خانہ دس ہزار مزدور فراہم کرتا ہے جو یورپ کی تمام اقوام سے تعلق رکھتے ہیں۔ہم غلاموں کے غلام ہیں جنہیں سب حکم دے سکتے ہیں اور ہمارا نام وہ نمبر ہے جسے ہم کلائی پر گندھوائےاور قمیص پر سیے پھرتے ہیں۔

 

بونا کے درمیان سے اٹھتا ہوا کاربائیڈ کا مینار جس کی چوٹی دھند کی وجہ سے بمشکل نظر آتی ہے ہم نے بنایا تھا۔ اس کی اینٹوں کے نام زیگل، بریکیس، ٹیگولا، سیگلی، کامینی، ماتون، ٹیگلاک ہیں اور یہ نفرت کی بھٹی میں پکائی گئی ہیں، نفرت اور عدم اتفاق، جیسا کہ بابل کا مینار اورہم اسے یہی کہتے ہیں:بابل تورم، بوبل تورم۔ اور اس میں ہم اپنے آقاؤں کی شان و شوکت کے دیوانے خوابوں سے نفرت کرتے ہیں، خدا اور انسان کے لئے ان کا کینہ یعنی ہم انسانوں کے لئے۔اور آج بالکل اس قدیم حکایت کی طرح ہم سب محسوس کرتے ہیں اور جرمن خود بھی محسوس کرتے ہیں کہ ایک ماورائی یا الوہی نہیں بلکہ ذاتی اور تاریخی بد دعا کے سائے اس سرکش عمارت کے اوپر منڈلا رہے ہیں جس کی بنیاد زبانوں کے ابہام پر ہے اور جو آسمانوں کے مقابلے میں اس طرح اٹھائی گئی ہے جیسے کوئی پتھر کا حلف۔

 

جیسا کہ بتایا ہی جائے گا، بونا کی فیکٹری جہاں جرمن چار سال مصروف رہے اور جہاں ہم میں سے لاتعداد نے اذیتیں برداشت کیں اور جان دی، ایک پونڈ مصنوعی ربڑ بھی نہیں بنا سکی۔مگر آج وہ دائمی جوہڑ جن میں پٹرول کا ایک قوسِ قزاح جیسا پردہ کانپتا ہے، ایک پرسکون سورج کو منعکس کرتے ہیں۔پائپ، فولادی پٹڑیاں،بوائلر، جو ابھی بھی منجمد رات کے باعث سرد ہیں،بخارات ٹپکا رہے ہیں۔ کھودی ہوئی زمین، کوئلے کے ڈھیر، کنکریٹ کے بلاک بھاپ خارج کر رہے ہیں۔

 

آج کا دن ایک اچھا دن ہے۔ ہم ایسے نابینا لوگوں کی طرح ادھر ادھر نظر دوڑاتے ہیں جنہیں ان کی بینائی ابھی واپس ملی ہو اور ایک دوسرے کی جانب دیکھتے ہیں۔ہم نے کبھی ایک دوسرے کو سورج کی روشنی میں نہیں دیکھا:کوئی مسکراتا ہے۔اگر یہ بھوک کا مسئلہ نہ ہوتا تو!

 

انسانی فطرت ایسی ہے کہ غم اور کرب چاہے وہ ایک ساتھ وارد ہوں ہمارے شعور میں جمع نہیں ہوتے، بلکہ ایک معین قانونِ تناظر کے مطابق شدت میں کم تر دوسرے کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔یہ ہماری خوش قسمتی ہے اور کیمپ میں ہمارے زندہ رہنے کی سبیل۔ یہی وہ سبب ہے جس کے باعث ہم آزاد زندگی میں یہ بار بار سنتے ہیں کہ انسان کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔حقیقتاً یہ انسان کی مطلق سرور کی حالت کو نہ پا سکنے کی صلاحیت کا سوال نہیں بلکہ غم کی پیچیدہ نوعیت کے متعلق ایک دائمی طور پر ناکافی علم ہے، لہٰذا مخلوط اور فوری ضرورت کے تقاضوں کے تحت پیش آنےوالے تمام اسباب کو ایک بنیادی علت کے واحد نام سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔ جب ذہنی دباؤ کی فوری ترین علت خاتمے کے قریب پہنچتی ہے تو آپ یہ دیکھ کر ایک غمگین حیرت کا شکار ہو تے ہیں کہ اس کے پیچھے ایک اور موجود ہے اور حقیقت میں ایک کے بعد ایک علل کا ایک پورا سلسلہ۔

 

لہٰذا جیسے ہی خنکی جو موسم سرما کے دوران ہماری واحد دشمن تصور کی جاتی تھی ختم ہوئی تو ہمیں اپنی بھوک کا احساس ہوا، اور وہی غلطی دہراتے ہوئے ہم اب کہتے ہیں:”اگر یہ بھوک کا مسئلہ نہ ہوتا تو!۔۔۔” مگر انسان بھوکا نہ ہونے کا تصور کیسے کر سکتا ہے؟ قید خانہ بھوک ہے: ہم خود بھوک ہیں،جیتی جاگتی بھوک!
8۔ جو غرق ہوئے اور جو محفوظ رہے
ہم نے اب تک جو کچھ کہا اور کہیں گے وہ قید خانے کی مبہم زندگی کے بارے میں ہے۔ ہمارے دور میں کئی انسان اسی ظالمانہ طور پر زندہ رہے ہیں، تہہ سے چمٹے ہوئے مگر ہر ایک، نسبتاً قلیل وقت کے لئے تاکہ شاید ہم اپنے آپ سے پوچھ سکیں کہ کیا اس غیر معمولی انسانی حالت کی یاد سینے سے لگائے رکھنا واقعی ناگزیر یا سودمند ہے۔

 

a-night-mare-laaltain

ہماری نظر میں اس سوال کا جواب اثبات میں ہے۔ اصل میں ہم اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی انسانی تجربہ بے معنی یا تجزیہ کے حق سے محروم نہیں ہےاور بنیادی اقدار چاہے وہ مثبت نہ بھی ہوں اسی مخصوص دنیا سے اخذ کی جا سکتی ہیں جو ہم بیان کر رہے ہیں۔ یہ قیاس بھی ہمارے پیش نظر ہے کہ قیدخانہ بنیادی طور پر ایک عظیم الجثہ حیاتیاتی اور سماجی تجربہ تھا۔

 

مختلف عمروں، حالات، حسب و نسب، زبان، ثقافت اور رواج سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد ایک تاروں کی باڑ کے اندر محدود ہیں:یہاں یہ ایک باقاعدہ، باضابطہ زندگی گزار رہے ہیں جو ہرایک کے لئے یکساں اور ضروریات کے لئے ناکافی ہے، کسی بھی ایسی تجربہ گاہ سے زیادہ محتاط ہے جو انسانی حیوان کی جدوجہدِ حیات کے مطالعے کے لئے قائم کی گئی ہو۔

 

ہم اس واضح اور سہل ترین استخراج پر اایمان نہیں رکھتے کہ جب ہر مہذب ادارہ منہدم کیا جا چکا ہو تو انسان اپنے عمل میں بنیادی طور پروحشی، خود غرض اور احمق بن جاتا ہے، اور یہ کہ “ہیفٹلنگ” نتیجتاً امتناعات کے بغیر ایک انسان کے سوا کچھ نہیں۔اس کے برعکس ہمار ا یہ ماننا ہے کہ یہی واحد نتیجہ اخذکیا جا سکتا ہے کہ ایک متحرک ناگزیریت اور جسمانی معذوریوں کے سامنے کئی سماجی میلانات اور جبلی تقاضے خاموش ہو جاتے ہیں۔مگر ایک اور واقعہ جو فکر کو دعوت دیتا ہے وہ یہ ہے کہ انسانوں کی دو مخصوص اور منفرد اقسام کی موجودگی ظاہرہوتی ہے یعنی جو محفوظ رہے اور جو غرق ہوئے۔تضادات کے دوسرے جوڑے (اچھا اور برا، عقل مند اور احمق، بزدل اور بہادر، بدقسمت اور خوش قسمت) نسبتاً کم ممیز ہیں، یہ کم ناگزیر محسوس ہوتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ متعدد اور پیچیدہ وسطی درجات کو ممکن بناتے ہیں۔

 

یہ تقسیم عام زندگی میں کہیں زیادہ مبہم ہےکیونکہ وہاں ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو کھوبیٹھے۔انسان عمومی طور پر تنہا نہیں ہوتا اور اس کی کامیابیاں اور ناکامیاں اس کے پڑوسیوں کی قسمت سے جڑی ہوتی ہیں اور کسی کے لئے بھی غیر محدود طاقت کا حصول یا ایک کامل تباہی تک پہنچانے والی ایک مسلسل شکست نہایت غیر معمولی بات ہے۔مزید برآں ہر کوئی عام طور پر ایسے روحانی، جسمانی اور بلکہ معاشی وسائل تک کا مالک ہوتا ہے کہ جہاز غرق ہونے، یعنی زندگی میں مکمل ناکامی کا احتمال نسبتاً کم ہوتا ہے۔اور انسان کو قانون اور ایسے اخلاقی احساسات جو اپنے اندر ایک خودساختہ قانون رکھتے ہیں، ایک واضح سہارا بہم پہنچاتے ہیں، کیوں کہ وہ ملک زیادہ مہذب تصور کیا جاتا ہے جہاں کے قوانین کی دانائی اوراستعداد ایک کمزور انسان کو مزید کمزور ہونے اور ایک طاقتور کو مزید طاقتور ہونے سے روکے۔

 

مگر قید خانے میں حالات مختلف ہیں۔ یہاں زندہ رہنے کی جدوجہد انتھک ہے کیوں کہ ہر کوئی بے جگراور سفاک طور پرتنہا ہے۔اگر کوئی لاغر انسان لڑکھڑاتا ہے تو وہ کسی مددگار ہاتھ کا سہارا نہیں پائے گا، بلکہ اس کے برعکس کوئی نہ کوئی اسے ٹھوکر مار کرراستے سے ہٹا دے گا کیوں کہ کسی کے مفاد میں نہیں کہ ایک اور”موسلمان” (5) (Musselman) ہر روز اپنے آپ کو گھسیٹتا ہوا کام پر جائے۔ پھر اگر ایک وحشی انسان، صبر اور چالاکی کے ساتھ،معجزانہ طور پر، سخت ترین بیگار سے بچنے کا کوئی نیا طریقہ ڈھونڈ لے، ایک نیا فن جو اسے ایک اونس ڈبل روٹی کے حصول میں مدد دے، تو وہ اس طریقے کو خفیہ رکھنے کی کوشش کرے گا اور اس لئے عزت اور توقیر کا مستحق ٹھہرے گا، اور اس سے وہ ایک امتیازی اور ذاتی مفاد اخذ کرے گا، وہ طاقتور ہو جائے گا اور اسی لئے خوف کا باعث ہو گا اور جو بھی باعثِ خوف ہو وہ فی نفسہٖ بقا کا امیدوار ہے۔

 

کیمپوں میں زندہ رہنے کی ان تھک محنت
کیمپوں میں زندہ رہنے کی ان تھک محنت
تاریخ اور زندگی دونوں میں انسان کئی بار ایک ایسے سفاک قانون کی جھلک دیکھتا ہے جس کا قاعدہ یہ ہے:”وہ جس کے پاس ہےاسے دے دیا جائے گا، وہ جس کے پاس نہیں ہے اس سے لے لیا جائے گا۔” قیدخانہ جہاں انسان تنہا ہے اور جہاں زندگی کی جدوجہد اس کی اولین ماہیت تک محدود ہے یہ بےانصاف قانون کھلم کھلا رائج ہے اور سب اسے تسلیم کرتے ہیں۔ مفاد کی امیدمیں قائدین بھی مطابقت پذیر، طاقتور اور زیرک افراد کے ساتھ دانستہ تعلق رکھتے ہیں اور کئی دفعہ دوستانہ تعلقات۔مگر”موسلمان” یعنی وہ افراد جو بربادی کا شکار ہیں، ان سے بات کرنا بھی بے فائدہ ہے کیوں کہ یہ پہلے ہی معلوم ہے کہ وہ گلے شکوے کریں گے اور بتائیں گے کہ وہ گھر میں کیا کھایا کرتے تھے۔اس سے بھی زیادہ بے فائدہ ان سے دوستی ہے کیونکہ کیمپ میں ان کے کوئی معزز شناسا نہیں ہیں، انہیں زیادہ راشن نہیں ملتا، وہ کسی خفیہ بلاک میں کام نہیں کرتے اور انہیں تنظیم کا کوئی خفیہ طریقہ معلوم نہیں۔اور کسی بھی حالت میں یہ معلوم ہے وہ یہاں محض ایک سفر پر ہیں اور کچھ ہی ہفتوں میں کسی نزدیک میدان میں مٹھی بھر راکھ اور ایک رجسٹر میں کٹے ہوئے نمبر کے علاوہ ان کا کچھ نہیں بچے گا۔ گو وہ ایک بھنور میں پھنسے کسی سکون کے بغیر ایک ایسےان گنت ہجوم کے ساتھ بہتے چلے جا رہے ہیں جو انہی جیسا ہے، وہ اذیت برداشت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو ایک شفاف گہری تنہائی میں مقید رکھتے ہیں اور اسی تنہائی میں، کسی یادداشت میں اپنا اثر چھوڑے بغیر وہ غائب ہو جائیں گے یا ان کی موت ہو گی۔

 

فطری چناؤ کا بے رحم طریقہ
فطری چناؤ کا بے رحم طریقہ
قیدخانے کے فطری چناؤ کے اس بے رحم طریقے سے حاصل ہونے والے نتائج کا مطالعہ اس مردم شماری میں کیا جا سکتا ہے۔1944 میں آشوٹز کے پرانے یہودی قیدیوں (یہاں ہم دوسروں کا ذکر نہیں کریں گے کیوں کہ ان کی حالت مختلف تھی) کی کل تعداد 150000 تھی۔ ان میں سے جوچند سو بچے ان میں کوئی ایک بھی ایسا عام “ہیفٹلنگ” نہ تھا جو عام بلاکوں میں نشونما پائے اور روزمرہ کے راشن پر زندہ ہو۔صرف ایسے لوگ بچے جو ڈاکٹر، درزی، موچی، موسیقار، باورچی، جوان خوبصورت ہم جنس پرست، کیمپ کے کسی اہلکار کے دوست یا ہم وطن تھے، یا پھر وہ خاص طور پر بے رحم، پر جوش اور غیرانسانی افراد تھے۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

غرق ہونا آسان ترین معاملہ ہے۔ یہی کافی ہےکہ تمام احکام بجا لائے جائیں، صرف راشن کھایا جائے، بیگار کے قواعد اور کیمپ کے قوانین کی پابندی کی جائے۔ تجربہ یہ کہتا ہے کہ صرف چند غیرمعمولی لوگ ہی اس طرح تین ماہ سے زیادہ زندہ رہ سکتے ہیں۔ان تمام” موسلمانوں” کی یہی کہانی ہے جن کا اختتام گیس چیمبروں میں ہوا یا مزید درست طور پربات کی جائے تو ان کی کوئی بھی کہانی نہیں ہے، وہ ان ندیوں کی طرح جو سمندر میں گرتی ہیں، ڈھلوان پر سفر کرتے ہوئےتہہ تک پہنچے۔ کیمپ میں داخلے کے ساتھ ہی اپنی ناقابلیت، بدقسمتی یا کسی معمولی واقعے کی وجہ سے وہ مغلوب ہو جاتے ہیں، پیشتر اس کے کہ وہ حالات سے مطابقت پیدا کر سکیں، وہ وقت سے مار کھا جاتے ہیں، وہ قوانین اور ممنوعات کی شیطانی گرہ کھولنے کے لئے جرمن زبان سیکھنا شروع بھی نہیں کرتے کہ ان کا جسم پہلے ہی گلنا سڑنا شروع ہو چکا ہوتا ہےاور کوئی قوت انہیں چناؤ یا ضعف کے نتیجے میں موت سے نہیں بچا سکتی۔ان کی زندگی مختصر ہے مگر ان کی تعداد لا انتہاء، یہ “موسلمان”، یہ غرق ہونے والے، کیمپ کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ایک گمنام جمِ غفیر، مسلسل احیا ءپذیر اور ہمیشہ یکساں، غیر انسانی افراد پر مشتمل جو خاموشی میں ڈوبے ہوئے پیش قدمی اور مشقت کرتے ہیں، شعلہء ملکوتی ان میں مردہ ہے، پہلے ہی سےاتنے کھوکھلے کہ حقیقتاً اذیت بھی برداشت نہ کرسکیں۔ انہیں زندہ کہتے ہوئے جھجک ہوتی ہے، ان کی موت کو موت کہتے ہوئے جھجک ہوتی ہے، جس کا سامنا کرتے ہوئے انہیں کوئی خوف نہیں کیوں کہ وہ تھکن کی شدت میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں۔
وہ اپنی بے چہرہ موجودگیوں سے میری یادداشت کو بھر دیتے ہیں اور اگر میں اپنے زمانےکی تمام بدی کو ایک عکس میں مجتمع کر سکوں تو میں یہ عکس چنوں گا جو میرا جانا پہچانا ہے: ایک جھکے سر اور منحنی کندھوں والا لاغر انسان جس کے چہرے اور آنکھوں میں کسی خیال کا کوئی اثر نہیں دیکھا جا سکتا۔

 

اگر غرق ہوجانے والوں کی کوئی داستان نہیں اور بربادی کو جاتا راستہ واحد اور چوڑا ہے تو نجات کی سمت جاتی راہیں متعدد، کٹھن اور بعید ازقیاس ہیں۔
9۔ کیمیائی امتحان
پان وِٹز دراز قد، دبلا پتلا اور بھورے بالوں والا ہے، اس کی آنکھیں، بال اور ناک اسی طرح ہیں جس طرح تمام جرمنوں کے ہونے چاہئیں، وہ بھیانک طور پر ایک پیچیدہ میز کے پیچھے بیٹھا ہے۔ میں ہیفٹلنگ نمبر 174517 اس کے دفتر میں کھڑا ہوں جو کہ ایک حقیقی دفتر ہے، چمکدار، صاف و شفاف، منظم اور مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں جس شے کو بھی چھوؤں گا وہاں ایک غلیظ دھبہ چھوڑ دوں گا۔

 

اس نے لکھنا ختم کیا،نظریں اوپر اٹھائیں، اور میری طرف دیکھا۔
اس دن سے میں نے ڈاکٹر پان وِٹز کے بارے میں کئی بار اور کئی طور سےسوچا۔ میں نے اپنے آپ سے بار بار پوچھا ہے کہ اس نے ایک انسان کی حیثیت سے کس طرح کام کیا، کس طرح اس نے اپنا وقت پولیمرسازی اورہندآلمانی شعور سے باہر گزارا، سب سے بڑھ کر یہ دوبارہ آزاد انسان بننے پر مجھے کسی انتقام کی نیت سے نہیں بلکہ انسانی روح کے بارے میں محض ایک ذاتی تجسس کی تسکین کی خاطراس سے دوبارہ ملنے کی آرزوتھی۔ کیونکہ وہ نگاہ دونوں افراد کے مابین یکساں نہیں تھی، اور اگر میں اس نگاہ کی نوعیت مکمل طور پر بیان کر نے قابل ہوتا، جو کچھ اس طرح تھی جیسے کسی پن گھر کے شیشے کے آر پار دو مختلف دنیاؤں سے تعلق رکھنے والی ہستیوں کے مابین ہو، تو میں نازی جرمنی کی عظیم دیوانگی کی ماہیت بھی واضح کر سکوں گا۔
10۔ اکتوبر 1944
ہم اپنی پوری طاقت کے ساتھ موسم سرما کی آمد کے خلاف برسرپیکار رہے۔ گرم ساعتوں سے مضبوطی سے چمٹے رہے، ہر جھٹ پٹے کے وقت ہم سورج کو آسمان پر کچھ دیر اور روکے رکھنے کی کوشش کرتے رہے، مگر سب بیکار رہا۔ کل شام سورج ناقابل تنسیخ طور پر گدلے بادلوں، چمنیوں کے ڈھیر اور گنجلگ تاروں کے بے ترتیب انتشار کے پیچھے چھپ گیا اور آج موسم سرما کا آغاز ہے۔

 

چونکہ ہم پچھلے موسمِ سرما میں بھی یہیں تھے اس لیے ہم جانتے ہیں کہ اس کے کیا معنی ہیں، اور دوسرے بھی یہ جلد ی ہی جان لیں گے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ اگلے کچھ ماہ یعنی کہ اکتوبر تا اپریل ہم میں سے ہر دس میں سے سات اپنی جان کھو بیٹھیں گے۔جو نہیں مرے گا وہ ہر روز،تمام دن، لمحہ بہ لمحہ اذیت برداشت کرے گا۔ سحر پھوٹنے سے بھی پہلے سے شام شوربہ تقسیم ہونے تک ہمیں اپنے پٹھوں کو تنا ہوا رکھنا ہے، ایک پاؤں سے دوسرے پر رقص کرنا ہے، اپنے بازوؤں کو کندھوں تلے سردی کےبچاؤ میں دبائے رکھنا ہے۔ دستانوں کے حصول کی خاطر ہمیں ڈبل روٹی کو خرچ کرنا ہے، اور سلائی اکھڑنے پر ان کی مرمت کے لئے سونے کے اوقات کی قربانی دینی ہے۔ کیوں کہ کھلے آسمان تلے کھانا اب ناممکن ہو گا، ہمیں جھونپڑے میں کھڑے رہ کر کھانا کھانا ہو گا، ہر ایک کو زمین کا ہاتھ برابر حصہ مختص کر دیا جائے گا کیونکہ خوابی تختوں سے ٹیک لگانے کی ممانعت ہے۔ہر ہاتھ میں زخم کھل جا ئیں گے اور پٹی کروانے کا مطلب ہو گاہر شام گھنٹوں برف اور ہوا میں کھڑے رہ کر انتظار۔

 

بالکل اسی طرح جیسے ہماری بھوک کا معنی خوراک کی طلب کا احساس نہیں، ہمارے سرد ہونے کا احساس بھی ایک نئے لفظ کا متقاضی ہے۔ جب ہم “بھوک”، “تھکن”، “خوف”، “درد”، یا “سرما” بولتے ہیں تو یہ بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ یہ آزاد الفاظ ہیں جو اپنے گھروں کی سکون اور اذیت میں رہنے والےآزاد انسانوں کے تخلیق کردہ ہیں۔اگر یہ نازی قیدخانے زیادہ دیر رہے ہوتے تو ایک نئی، کرخت زبان وجود میں آتی اور صرف وہ زبان یہ بیان کرسکتی کہ تمام دن نقطہء انجماد سے نیچے سرد ہوا میں صرف ایک قمیص، زیرجامہ، کپڑے کی جیکٹ اور پتلون میں ملبوس مشقت کے کیا معنی ہیں، اور اس وقت جب انسان کے جسم میں کمزوری، بھوک اور قریب آتے انجام کے علم کے سوا کچھ نہ ہو۔

 

جیسے کوئی امید ٹوٹ جائے اسی طور آج صبح سردی آ گئی۔ ہمیں تب پتہ چلا جب ہم جھونپڑے سے صفائی ستھرائی کے لئے نکلے:ستارے غائب تھے، سیاہ سرد ہوا میں برف کی بُو تھی۔ علی الصبح اندھیرے میں جب بیگار پر روانہ ہونے سے پہلے ہم حاضری کے میدان میں جمع ہوئے تو سب خاموش تھے۔ جب ہماری نگاہ برف کے پہلے گالوں پر پڑی تو خیال آیا کہ اگر پچھلے سال اسی وقت اِنہوں نے ہمیں بتایا ہوتا کہ ہم اگلے سال کا موسم سرما بھی قیدخانے میں دیکھیں گے تو ہم نے جا کر برقی تاروں کی باڑ کو ہاتھ لگا لیا ہوتا، اور اگر ہم منطقی ہوتے اور وہ آخری غیر معقول ناگزیر بچی کچھی امید نہ ہوتی تو ہمیں آج بھی یہ کر گزرنا چاہئے۔

 

کیونکہ سرما کےایک اورمعنی بھی ہیں۔

 

پچھلی بہار میں جرمنوں نے قید خانے کی ایک کھلی جگہ میں دوکشادہ خیمے تعمیر کئے تھے۔ بہار کا پورا موسم یہ دونوں خیمے ایک ہزار سے زیادہ افرادکے لئے کافی تھے:اب وہ دونوں ڈھائے جا چکے ہیں اور مزید دو ہزار سے زیادہ مہمان ہمارے جھونپڑوں میں جمع ہیں۔ ہم پرانے قیدی جانتے تھے کہ جرمن بےقاعدگیاں پسند نہیں کرتے اور اس تعداد کو کم کرنے کے لئے جلد ہی کچھ نہ کچھ ہو گا۔

 

چناؤ کی آمد محسوس کی جا سکتی ہے۔ “سلیک جا” (6) ایک لاطینی اور پولینڈ کے مآخذ رکھنے والا مختلف النوع لفظ ایک دفعہ، دو دفعہ بلکہ کئی دفعہ غیر ملکی مکالموں میں سنا جا سکتا ہے۔پہلے پہل ہم اس کو شناخت نہیں کر سکتے لیکن پھریہ ہماری توجہ پر حاوی ہوتا ہے اور بالآخر ہمیں ستا کر چھوڑتا ہے۔

 

آج صبح پولینڈ والوں نے”سلیک جا” بولا۔ وہ پہلے ہیں جنہیں یہ خبر ملی اور وہ عمومی طور پر اسے نہ پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں کیوں کہ دوسروں سے پہلےکچھ معلوم ہونا ہمیشہ مفید ہوتا ہے۔ جب تک ہر کسی کو اس بات کا شعور ہو کہ ایک چناؤ ہونے والا ہے، اس سے بچنے کے کچھ ممکنات تک (کسی ڈاکٹر یا اہلکار کو ڈبل روٹی یا تمباکو کے ذریعے آمادہ کرنا، جھونپڑے سے شفاخانے منتقلی یا کسی صحیح وقت پر شفاخانے سے جھونپڑے میں تبادلہ تاکہ چناؤ کمیشن سے ٹکراؤ نہ ہو) ان کی رسائی ہو گی۔

 

آنے والے کچھ دنوں میں قید خانے اور میدان کا ماحول “سلیک جا ” سے بھر چکا ہے:کسی کو قطعی طور پرکچھ نہیں معلوم مگر سب اس کے بارے میں بات کرتے ہیں، پولینڈ والے، اطالوی، فرانسیسی مزدور جنہیں ہم خفیہ طور پر میدان میں دیکھ سکتے ہیں۔پھر بھی نتیجہ دل شکستگی ہر گز نہیں ہے:ہمارا مجموعی حوصلہ اس قدر غیر برجستہ اور زمیں بوس ہے کہ غیر متوازن ہونا ناممکن ہے۔بھوک، سردی اور کام کے خلاف جنگ،سوچ کے لئے شاذ و نادر ہی کوئی جگہ چھوڑتی ہے۔ہر ایک کا رد عمل یکساں ہے مگر شاید ہی کوئی مایوس یا راضی برضا ہو۔ جوبھی کوئی بچاؤ کی راہ ااپنا سکتا ہے وہ اس کی کوشش کرتا ہے مگر ایسے لوگ اقلیت میں ہیں کیوں کہ کسی چناؤ سے بچنا نہایت مشکل ہے۔جرمن ان معاملات میں نہایت مہارت اور محتاط رویہ رکھتے ہیں۔

 

مادی طور پر جو بھی اس کی تیاری کے قابل نہیں وہ اپنا دفاع کہیں اور ڈھونڈتا ہے۔ہم لیٹرینوں، نہانے کے کمروں میں ایک دوسرے کو اپنے سینے، اپنے کولہے، اپنی رانیں دکھاتے ہیں اور ہمارے رفیق ہماری ہمت بندھاتے ہیں:”تم بالکل ٹھیک ہو، اس دفعہ یقیناً تمہاری باری نہیں آئے گی۔۔۔۔ تم” موسلمان” نہیں۔۔۔۔اب کے شاید میری باری ہو”۔اس کے ساتھ ہی وہ اپنی گرہیں کھولتے ہیں اور قمیصیں اوپر کرتے ہیں۔کوئی کسی کے خلوص کونہیں ٹھکراتا۔ کسی کو اپنے بارے میں اتنا یقین نہیں کہ دوسرے کو معتوب ٹھہرا سکے۔ میں نے بڑی بے حیائی سےبوڑھے ورتھیمر سے جھوٹ بولا، میں نے اسے بتایا کہ اگر وہ اس سے پوچھ گچھ کرتے ہیں تو اسے جواب دینا چاہیے کہ اس کی عمر پینتالیس سال ہے اور چاہے اسے ڈبل روٹی کے ایک چوتھائی راشن سے ہاتھ بھی دھونے پڑتے،اسے کل شام داڑھی بنانا نہیں بھولنا چاہیے تھا، اس کے علاوہ اسے کوئی خوف نہیں ہونا چاہئے، اور پھر کسی بھی حالت میں یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ چناؤ گیس چیمبر کے لئے ہے، کیا اس نے بلاک کے قائد کو یہ کہتے نہیں سنا کہ چنے گئے افراد جاوورزنو (Jaworzono)میں افاقہ یاب لوگوں کے کیمپ میں بھیجے جائیں گے؟

 

ورتھیمر کو امید دلانا بے معنی ہے۔عمر ساٹھ کے لگ بھگ ہے، نسیں پھولی ہوئی اور موٹی ہیں، اب تو وہ شاذ ہی بھوک محسوس کرتا ہے۔ مگر اپنے بستر پر غیر مضطرب اور خاموش لیٹ جاتا ہے، اور میرے جیسے کسی اور شخص کو جواب دینے لگتا ہے۔ آج کل یہ کیمپ کے احکامی الفاظ ہیں:میں کاجیم کی بتائی ہوئی تفصیلات سے قطع نظر ان کو دہراتا رہتا ہوں،کاجیم جو تین سال سے قید خانے میں ہے اور مضبوط اور صحت مند ہونے کے باعث پُر یقین ہے۔ میں اس کی بات پر یقین رکھتا ہوں۔

 

انہیں نازک بنیادوں پر میں بھی ناقابل فہم طمانیت کے ساتھ اکتوبر 1944کے چناؤ سے بچ نکلا۔ میں پر سکون تھا کیونکہ میں اپنے آپ سے کافی جھوٹ بول سکتا تھا۔ مجھے نہ چنا جانا خالصتاً اتفاق پر مبنی تھا اور اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میرا ایمان ٹھوس بنیادوں پر قائم تھا۔

 

موسیو پینکرٹ بھی پہلے ہی سے معتوب نظر آتے ہیں:ان کی آنکھوں میں دیکھنا ہی کافی ہے۔وہ مجھے اشارے سے بلاتے ہیں اور ایک خفیہ انداز میں بتاتے ہیں کہ وہ اس خبر کا منبع تو نہیں بتا سکتے مگر انہیں یہ بتایا گیا ہے کہ اس بار حقیقتاً کچھ نیا ہو گا۔ مختصراً یہ کہ وہ ذاتی طور پر مطلقاً ضمانت دیتے ہیں کہ وہ اور میں ہر خطرے سے باہر ہیں۔ جیسا کہ عام طور پر معلوم ہے، ان کا تعلق وارسا میں غیر عسکری فرد کی حیثیت سے بیلجیم کے سفارت خانے سے تھا۔

 

لہٰذا اسی طرز پریہ ایامِ سوگ جن کا بیان کرنا انسانی کرب کی تمام حدود پار کرنے کے برابر ہے، دوسرے دنوں سے کچھ خاص مختلف نہ تھے۔قیدخانے اور بونا میں نظم وضبط میں کوئی کمی نہیں آئی:بیگار، سردی اور بھوک ہر فکری ساعت کو پُر کرنے کے لئے کافی ہیں۔

 

آج کا اتوار کام کا دن ہے۔ ہم دن ایک بجے تک کام کرتے ہیں، پھر نہانے، داڑھی بنانے اور جلدی بیماریوں اور جوؤں وغیرہ کے عمومی حفاظتی اقدامات کے لئے کیمپ آتے ہیں۔ احاطوں میں ہر ایک کو معلوم ہے کہ آج چناؤ کا دن ہے۔

 

ہمیشہ کی طرح یہ خبر متضاد اور مشتبہ تفصیلات کے ہالے میں گھری ہم تک پہنچی:شفاخانے میں آج صبح چناؤ ہوا، شرح پورے کیمپ کا سات فی صد تھی، مریضوں کا پینتیس فی صد۔ برکیناؤ میں شمشان بھٹی دس دن سےدھواں اگل رہی ہے۔ پوزنان کے یہودی باڑے سے آنے والے ایک ضخیم قافلے کے لئے جگہ بنانا مقصود ہے۔ جوان جوانوں سے کہتے ہیں کہ تمام عمر رسیدہ چن لئے جائیں گے۔ صحت مند صحت مندوں سے مخاطب ہیں کہ صرف بیماروں کو چنا جائے گا۔متخصصین مستثنیٰ ہوں گے۔ جرمن یہودی مستثنیٰ ہوں گے۔نمبروں کے قلیل سلسلے مستثنیٰ ہوں گے۔ تمہیں چن لیا جائے گا۔ میں مستثنیٰ ہوں گا۔

 

پورے ایک بجے احاطہ قرینے سے خالی کر لیا گیا اور دو گھنٹےنہ ختم ہونے والی خاکستری فوجی قطاریں ان دو کنٹرول اسٹیشنوں کے سامنے سے گزرتی رہیں جہاں ہر روز ہماری دو بار گنتی ہوتی ہے، اور اس فوجی بینڈ کے سامنے سے جو ہر روز بلا وقفہ بجتا رہتا ہے تاکہ ہم داخلے اور اخراج کے وقت اس سے قدم ملا سکیں۔آج بھی روز کی طرح کا معمول ہے، باورچی خانے کی چمنی سے اسی طرح دھواں نکل رہا ہے، شوربےکی تقسیم بس شروع ہونے کے قریب ہے۔مگر پھر گھنٹی کی آواز سنائی دیتی ہے اور ہمیں سمجھ آتا ہےکہ ہم منزل پر پہنچ گئے ہیں۔

 

کیونکہ یہ گھنٹی جب پو پھٹنے پر سنائی دیتی ہے تو اس کے معنی ہمیشہ حاضری کے بگل کے ہوتے ہیں، مگر اگر یہ آواز دن میں سنائی دے تو اس کا مطلب جھونپڑوں میں بند رہنا ہوتا ہے اور یہ تب ہوتا ہے جب کسی چناؤ سے کسی کو نہ بچ نکلنے دینا مقصود ہو، یا گیس کے لئے چنے گئے قیدیوں کو کوچ کے وقت پیچھے رہ جانے والوں کی نظروں سے اوجھل رکھنا مقصود ہو۔

 

ہمارے بلاک کا قائد اپنا کام جانتا ہے۔ اس نے اطمینان کیا کہ تمام لوگ داخل ہو چکے ہیں، وہ دروازہ بند کر چکا ہے، وہ ہر ایک کو اس کا کارڈ دے چکا ہے جس پر اس کا نمبر، نام، پیشہ، عمر اور قومیت درج ہے۔ اس نے ہر ایک کو جوتوں کے علاوہ مکمل برہنہ ہونے کا حکم دے دیا ہے۔ہم اسی طرح برہنہ، کارڈ اپنے ہاتھوں میں پکڑے، کمیشن کے ہمارے جھونپڑے تک پہنچنے کا انتظار کرتے ہیں۔ ہمارا جھونپڑا نمبر 48 ہے،مگر کوئی نہیں کہ سکتا کہ وہ نمبر ۱ سے آغاز کریں گے یا نمبر 60 سے۔کسی بھی صورت میں ہم کم از کم ایک گھنٹہ خاموشی سے آرام کر سکتے ہیں، اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم تختوں پر موجود کمبلوں میں نہ گھس جائیں اور گرم رہیں۔

 

جب احکامات، اعلانات اور ضربوں کے سیلاب کے ذریعے کمیشن کی متوقع آمد کا اعلان ہوا تو کئی لوگ پہلے ہی سے اونگھ رہے تھے۔قائد اور اس کے مددگار خواب گاہ کی ایک سمت سے شروع ہوئے اور خوف زدہ برہنہ لوگوں کے ہجوم کو ہانکتے ہوئے کوارٹر ماسٹر کے دفتر میں لے گئے۔اس کمرے کا طول و عرض بالترتیب سات اور چار گز ہے۔ ہجوم رکا تو انسانوں کا ایک گرم انبار اس طرح پھنس چکا تھا کہ لکڑی کی دیواریں چٹخ رہی تھیں۔

 

اب ہم سب اس دفتر میں ہیں اور ڈرنے کے لیے وقت نہ ہونے کے علاوہ کوئی ایسی جگہ بھی نہیں جہاں ڈرا جا سکے۔ ہر طرف گرم گوشت کا دباؤ غیر معمولی ضرور ہے مگر نا خوشگوار نہیں۔ انسان کو سانس لینے کے لئے اپنی ناک کو اوپر رکھنا پڑتا ہے، اپنے آپ کو لڑکھڑانے سے بچانا ہے مبادا کہیں کارڈ ہاتھ سے گر جائے۔

 

قائد ساتھ والا دروازہ بند اور دوسرے دوکھول چکا ہے جو خواب گاہ اور دفتر سے باہر کی طرف جاتے ہیں۔یہاں ان دو دروازوں کے درمیان ہماری قسمت کا مختارِ کل یعنی “ایس ایس” کا ایک ماتحت افسرکھڑا ہے۔ اس کے دائیں جانب بلاک کا قائد اور بائیں جانب کوارٹر ماسٹر موجود ہے۔ ہم میں سے ہر کوئی جب برہنہ دفتر سے باہراکتوبر کی سرد ہوا میں آئے گا تو اسے دونوں دروازوں کے درمیان کچھ قدم بھاگنا ہے، اپنا کارڈافسر کے حوالے کرنا ہے اور خواب گاہ کے دروازے سے اندر داخل ہو جانا ہے۔”ایس ایس” کے افسر نے اس دوران سیکنڈ کے کچھ حصے میں کسی کی پشت اور سامنے کی ایک جھلک دیکھ کر اپنا فیصلہ سنا دیناہے، اور کارڈ اپنے دائیں یا بائیں پکڑا دینا ہے اور یہ ہم میں سے ہر ایک کی زندگی یا موت ہے۔تین یا چار منٹ میں دو سو افراد کا ایک جھونپڑا “ختم” ہو جائے گا اور اس طرح ایک دوپہر میں بارہ ہزار افرادکا مکمل کیمپ۔ اسی دفتر میں اپنے اردگرد انسانی دباؤ برداشت کرتے کرتے آخر کار میری باری آ گئی۔ ہر کسی کی طرح میں بھی ایک چست اور لچک دار چال کے ساتھ، اپنا سر اوپر رکھنے، سینہ آگے رکھنے، پٹھے واضح اور تنے رکھنے کی کوشش کرتے ہوئےگزر گیا۔اپنی آنکھ کے کونے سے میں نے اپنے کندھے کے پیچھے دیکھنے کی کوشش کی تو میرا کارڈ مجھے دائیں جانب جاتا محسوس ہوا۔

 

خواب گاہ میں آتے ہی ہمیں کپڑے پہننے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ابھی کوئی حتمی طور پر اپنی قسمت کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتا، سب سے پہلے تو یہ فیصلہ ہونا باقی ہے کہ معتوب کارڈ دائیں جانب والے ہیں یا بائیں جانب والے۔اب چھوٹے چھوٹے توہماتی سہاروں کے ذریعے ایک دوسرے کی ہمت بندھانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہر ایک سب سے زیادہ عمر رسیدہ، سب سے زیادہ لاغر اور سب سے زیادہ “موسلمان” کے گرد جمع ہے۔ اگر ان کے کارڈ بائیں جانب گئے تو پھر یقیناً یہی معتوب ہونے والا رخ ہے۔بلکہ چناؤ سے بھی پہلے ہر کوئی جانتا تھا کہ بائیاں رخ چناؤ کا ہے، بُرا رخ؟ قدرتاً کچھ بے قاعدگیا ں ضرور ہوں گی۔مثلاً رینی جو کہ جوان اور مضبوط ہے بائیں جانب پہنچا، شاید اس کی وجہ اس کی عینک ہو، شاید اس لئے کہ وہ کسی کمزور نظر والے کی طرح جھک کر چلتا ہے، مگر سب سے زیادہ قرین قیاس یہی ہے کہ یہ ایک سادہ سی غلطی تھی۔ رینی مجھ سے پہلے کمیشن کے سامنے سے گزرا اور ہمارے کارڈوں کے ساتھ کوئی گھپلا ہو سکتا تھا۔ میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں، البرٹو سے مشورہ کرتا ہوں، اور ہم اتفاق کرتے ہیں کہ یہ مفروضہ قرین قیاس ہے۔ مجھے نہیں معلوم میں کل اور اس کے بعد کیا سوچوں گا،مگر آج میں کوئی واضح جذبہ نہیں رکھتا۔

 

اسی طرح کی کوئی غلطی شاید سیٹلر کے ساتھ بھی ہوئی، ایک لحیم شحیم ہنگری کا کسان جو صرف دس دن پہلے اپنے گھر میں تھا۔ سیٹلر جرمن زبان نہیں سمجھتا، جو کچھ بھی پیش آیا ہے،وہ نہیں سمجھ سکا اور ایک کونے میں کھڑا اپنی قمیص سینے میں مصروف ہے۔کیامیں اس کے پاس جاؤں اور اسے بتاؤں کہ اس کی قمیص کا مزید کوئی فائدہ نہیں؟

 

ان غلطیوں کے بارے میں کچھ حیران کن نہیں۔امتحان بہت فوری اور اجمالی تھا اور کسی بھی حالت میں قید خانے کے لئے اہم یہ نہیں کہ زیادہ غیر مفید قیدیوں کو تلف کر دیا جائے بلکہ یہ کہ کسی خاص طے شدہ تناسب کے تحت خالی جگہیں تخلیق کی جائیں۔

 

اب ہمارے جھونپڑے میں چناؤ ختم ہو چکا ہے مگر دوسروں میں جاری ہے لہٰذا ہم اب بھی مقفل ہیں۔ مگر چونکہ سُوپ کے پیالے اس دوران آ چکے ہیں لہٰذا ہمارے قائد کا فیصلہ ہے کہ تقسیم فی الفور شروع کی جائے۔چنے ہوؤں کو دوگنا راشن دیا جائے گا۔میں یہ کبھی دریافت نہیں کر سکا کہ یہ قائد کا اپنامضحکہ خیز خیراتی اقدام تھا یا” ایس ایس” کا ایک دو ٹوک ضابطہ، مگرواقعہ یہی تھا کہ چناؤ سے کُوچ کے درمیان دو یا تین دن (کئی بار اس سے بھی زیادہ) مونووٹزز آشوٹز میں موجود شکاروں کو اس رعایت سے فائدہ اٹھانے کاموقع دیا جاتا تھا۔

 

زیگلر اپنا عمومی راشن حاصل کر کے پیالہ اٹھائے انتظار میں کھڑا ہے۔ “تم کیا چاہتے ہو؟” قائد پوچھتا ہے۔ اس کے مطابق زیگلر کسی ضمیمے کا حقدار نہیں ہے سو وہ اس کو دور دھکیل دیتا ہے مگر زیگلر واپس آ جاتا ہے اور عاجزی سے اصرار کرتا ہے۔ وہ بائیں جانب تھا، ہر کسی نے دیکھا ہے، قائد کو کارڈ دیکھ لینے چاہئیں، اسے دوگنے راشن کا حق ہے۔جب اسے یہ دے دیا جاتا ہے تو وہ خاموشی سے اپنے تختے کی طرف کھانے کے لئے چلا جاتا ہے۔

 

اب ہر کوئی چمچ سے اپنے پیالے کی تہہ صاف کر رہا ہے تاکہ آخری ذرات ضائع نہ ہو جائیں، ایک مبہم دھاتی کھڑکھڑاہٹ سنائی دے رہی ہےجو دن کے اختتام کی علامت ہے۔آہستہ آہستہ خاموشی چھا جاتی ہےاور پھر میں اپنے اوپر کی قطار والے تختے سے بوڑھے کوہن کو اپنی ٹوپی پہنے آگے پیچھے زور سے ہلتے ہوئے،اونچی آواز میں دعا مانگتے دیکھتا اور سنتا ہوں۔ کوہن خدا کا شکر ادا کر رہا ہے کہ وہ نہیں چنا گیا۔

 

کوہن اپنی حواس سے باہر ہے۔کیا وہ بیپو یونانی کو اپنے ساتھ والے تختے پر نہیں دیکھ سکتا، وہی بیپو جس کی عمر بیس سال ہے، جسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ پرسوں گیس چیمبر میں جا رہا ہے، اور وہ وہاں روشنی پر آنکھیں جمائے، کچھ کہے سوچے بغیر لیٹا ہے؟ کیا کوہن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اگلی باری اس کی ہو گی؟ کیا کوہن نہیں سمجھتا کہ جو کچھ آج ہوا وہ ایک کراہت آمیز حقیقت ہے جسے کوئی مصالحت آمیز دعا، کوئی توبہ، کسی گناہ گار کا کفارہ، کوئی بھی انسانی طاقت کبھی بھی پاک نہیں کر سکتی؟

 

اگر میں خدا ہوتا تو کوہن کی دعا پر تھوک دیتا۔
11۔ تجربہ گاہ کے تین آدمی
لیبارٹری میں حرارت کا بہترین انتظام ہے۔ تھرمامیٹر 65 ڈگری بتا رہا ہے۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ہم سے شیشے کے آلات دھلوا سکتے ہیں، زمین پر جھاڑو لگوا سکتے ہیں، ہائیڈروجن کی صراحیاں اٹھوا سکتے ہیں، کچھ بھی ایسا جو ہمیں یہاں رہنے دے اور سردی کا مسئلہ حل کر دے۔ پھر اس کے بعد بھوک کا مسئلہ حل کرنا بھی بہت مشکل ثابت نہ ہو گا۔کیا وہ واقعی روزانہ اخراج کے وقت ہماری تلاشی لینا چاہیں گے؟ اور اگر لینا بھی چاہیں، تو کیا وہ ہمیشہ ایسا کریں گے جب بھی ہم لیٹرین جانے کی اجازت طلب کریں؟ ظاہر ہے نہیں۔ اور پھر یہاں صابن، پیٹرول اور الکحل بھی ہے۔ میں اپنی جیکٹ کے اندر ایک خفیہ جیب سی لوں گا اور اس برطانوی آدمی سے تعلق پیدا کروں گا جو مرمت کے احاطے میں کام کرتا ہے اور پیٹرول کی تجارت کرتا ہے۔ہم دیکھیں گے کہ نگرانی کتنی سخت ہے،تاہم میں اب تک قید خانے میں ایک سال گزار چکا ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ اگر کوئی چوری کرنا چاہے، اور سنجیدگی سے اپنا ذہن اس پر مائل کر لے، تو کوئی نگرانی یا تلاشی اس کو نہیں روک سکتی۔

 

3

لہٰذا اب یوں محسوس ہوتا ہے گویا قسمت نے ایک غیر مشتبہ راستے سے یہ انتظام کر دیا ہو کہ ہم تین،جو باقی دس ہزار معتوبین کے لئے قابل رشک ہیں، اس موسم سرما میں سردی اور بھوک کی اذیت سے بچے رہیں۔اس کا مطلب ہےیہ مضبوط احتمال، کہ ہم شدید بیمار ی، انجماد اور چناؤ سے بچے رہیں گے۔ان حالات میں قید خانے کے معاملات کے بارے میں ہم سے کم تجربہ کار لوگ بقا اور آزادی کی امید رکھیں گے۔ مگر ہم ایسے نہیں ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ یہ معاملات کس طرح پیش آتے ہیں، یہ سب کچھ قسمت کا تحفہ ہے تاکہ ایک ہی دفعہ جتنا ممکن ہو اس کا لطف اٹھایا جائے کیونکہ کل کے بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔میرے ہاتھ سے ٹوٹنے والاپہلا شیشہ، پیمائش کی پہلی غلطی، پہلا ایسا واقعہ جب میری توجہ بھٹک جائے، مجھے واپس برف اور ہوا کی بربادی اور باالآخر چمنی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ویسے کہاں کون کیسے جانتا ہے کیا ہو گا جب روسی پہنچ جائیں گے؟

 

چونکہ روسی ضرور پہنچیں گے اس لیے زمین ہمارے پاؤں تلے دن رات کانپتی ہے، ان کے توپ خانے کی دبی دبی بے روح چنگھاڑ اب بُونا کی منفرد خاموشی میں بلاوقفہ چٹختی ہے۔ ہم ایک بے چین اور مضطرب فضا میں سانس لیتے ہیں، ایک پُر استقلال فضا۔پولینڈ والے مزید کام نہیں کرتے، فرانسیسی ایک بار پھر اپنا سر اٹھا کے چل رہے ہیں۔ برطانوی ہمیں آنکھیں جھپکا کر علامتی انداز میں دیکھتے ہیں، نظریں بچا کر جیت کا نشان دکھا کر سلام کرتے ہیں اور کبھی کبھی بھی نظریں نہیں چراتے۔

 

ڈھٹائی اور عمداً جہالت کی ڈھال کے اندر چھپے یہ جرمن بہرے اور اندھے ہیں۔ ایک دفعہ پھر انہوں نے مصنوعی ربڑ کی پیداوار کی شروعات کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے۔ یکم فروری 1945۔ وہ عارضی پناہ گاہیں اور سرنگیں کھودتے ہیں، نقصان کی مرمت کرتے ہیں، تعمیر کرتے ہیں، لڑتے ہیں، حکم دیتے ہیں، منظم ہوتے ہیں اور قتل کرتے ہیں۔اور وہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟ وہ جرمن ہیں۔یہ رویہ دیدہ و دانستہ اور عمداً نہیں ہے بلکہ ان کی فطرت اوراس تقدیر سے پھوٹتا ہے جو انہوں نے اپنے لئے پسندکی ہے۔وہ اس سے مختلف طور پر عمل نہیں کر سکتے۔اگر آپ کسی مرتے ہوئے انسان کے جسم پر زخم لگا دیں تو زخم اس سے قطع نظر بھرنا شروع ہو جائے گا کہ پورا جسم ایک ہی دن کے اندر مر جائے۔
12۔ آخری انسان
دستے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت تک اپنے لکڑی کے جوتوں کی منجمد برف پر ٹھوس کھنکھناہٹ کی آواز کے ساتھ مسلسل واپس آتے رہے۔ جب تمام یونٹ واپس پہنچ گئے تو بینڈ اچانک بند ہو گیا اور گلو گرفتہ جرمن آواز نے خاموشی کا حکم دیا۔ ایک اور جرمن آواز اس اچانک خاموشی میں اٹھی اور دیر تک سیاہ اور معاندانہ فضا میں طیش سے گونجتی رہی۔ آخر کار مجرم کو تیز روشنی کی شعاؤں میں باہر لایا گیا۔

 

نمائش اور سنگدلی سے بھرپور یہ تقریب ہمارے لئے نئی نہیں ہے۔ کیمپ میں آمد کے بعد میں اس سے پہلے تیرہ پھانسیاں دیکھ چکا ہوں، مگر دوسرے موقعوں کی وجہ عمومی جرائم تھے جیسے باورچی خانے سے چوریاں، تخریب کاری، فرار کی کوششیں۔ آج وجہ مختلف ہے۔
پچھلے ماہ برکیناؤ کی ایک شمشان بھٹی دھماکے سے اڑا دی گئی۔ ہم میں سے کوئی نہیں جانتا (اور شاید نہ ہی کبھی کوئی جان سکے گا) کہ یہ معرکہ کیسے پیش آیا۔ ایک مخصوص دستے کی بابت چہ میگویئاں ہیں جو بھٹیوں اور گیس چییمبرو ں سے منسلک تھا، جسے باقی کیمپ سے الگ تھلگ رکھا جاتا تھا اورخود بھی وقتاً فوقتاً مٹا دیا جاتا تھا۔ مگر واقعہ یہی ہے کہ برکیناؤ میں ہم جیسے چند سو بے یارومددگار اور لاغر غلاموں جیسے آدمیوں نے اپنے اندرعمل کی قوت پائی تاکہ نفرت کے پھلوں کو پھلتا پھولتا دیکھ سکیں۔

 

یہ آدمی جوآج ہمارے سامنے اس وقت مرنے والا ہے کسی صورت اس بغاوت کا حصہ تھا۔کہا جا رہا ہے کہ اس کے تعلقات برکیناؤ کے باغیوں کےساتھ تھے اور یہ ہمارے کیمپ میں ہتھیار درآمد کر کے ویسی ہی بغاوت برپا کرنا چاہتا تھا۔اسے آج ہماری نگاہوں کی سامنے مرنا ہے۔شاید جرمن نہیں جانتے کہ یہ تنہا موت، اس انسان کی موت جو اس کے لئے مختص کر کے رکھی گئی ہے،بدنامی کی بجائے عزت و توقیر کا باعث ہو گی۔

 

جرمن کی تقریر کے اختتام پر جو کسی کو سمجھ نہیں آئی، وہی پہلے والی طیش بھری آواز پھر ابھری،”کیا تم سمجھ گئے؟” کس نے جواب دیا “جی ہاں”؟، شاید ہر ایک نے اور کسی نے بھی نہیں۔ یہ اس طرح تھا گویا ہماری ملعون تسلیم و رضا نے جسم کوقابو میں لے لیا ہو، جیسے وہ ہمارے سروں سے اوپر کوئی مجموعی آواز ہو۔ مگر ہر ایک نے بدقسمت شخص کی چیخ سنی، یہ چیخ ہمارے جمود اور اطاعت شعاری کے پرانے اور دبیز پردوں کو پھاڑتی ہوئی گزر گئی، اس نے ہمارے اندر موجود زندہ انسانی قالب پر چوٹ لگائی:”میرے رفیقو، میں آخری انسان ہوں۔”

 

میری خواہش ہے کہ میں کہہ سکتا کہ ہمارے یعنی ایک قابل حقارت ریوڑ کےبیچ سے ایک صدا اٹھی، ایک گونج، ایک توثیقی علامت۔ مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ ہم کھڑے رہے، جھکے ہوئے، اداس، ڈھلکے ہوئے سروں کی ساتھ، اور جب تک جرمنوں نے حکم نہیں دیا ہم نے اس وقت تک اپنے سر ننگے نہیں کئے۔ تہہ خانے کا دروازہ کھلا، جسم دہشت ناک طور سے لہرایا، بینڈ ایک بار پھر بجنا شروع ہو ا اور ہم ایک بار پھر قطار بنا کر مرتے ہوئے آدمی کے کانپتے جسم کے ساتھ سے گزر گئے۔

 

gas-chamber

پھانسی گھاٹ کے دوسرے کونے پر “ایس ایس “کے اہلکار ہمیں لاتعلق نگاہوں سے گزرتے دیکھتے رہے۔ ان کا کام ختم ہو چکا ہے اور اختتام بہت خوب تھا۔روسی اب آ سکتے ہیں۔ہم میں اب کوئی بھی مضبوط آدمی نہیں، آخری انسان اب ہمارے سروں کے اوپر معلق ہے، اور جہاں تک دوسروں کا سوال ہے، کچھ پھندے ہی کافی ہیں۔روسی اب آ سکتے ہیں، وہ یہاں صرف ہمیں پائیں گے، تھکے ہارے غلام، اس غیرمسلح موت کے حق دار جو اب ہماری منتظر ہے۔

 

انسان کو تباہ کرنا کٹھن ہے، تقریباً اتنا ہی دشوار جتنا اسے تخلیق کرنا۔یہ سہل نہ تھا، نہ ہی اتنا فوری، مگر تم جرمن لوگ کامیاب رہے۔ ہم یہاں ہیں، تمہاری ٹکٹکی بندھی نگاہ تلے آمادۂ اطاعت، تمہیں ہماری طرف سے اب مزید کوئی خطرہ نہیں،نہ کوئی شدت پسند ردعمل، نہ کوئی سرکش الفاظ، یہاں تک کہ کوئی قہر بھری نگاہ بھی نہیں۔
13۔ دس دن کی داستان
وقفے وقفے سے روسی توپوں کی دوردراز گولہ باری کی آواز کو کافی ماہ گزر چکے تھے،جب 11 جنوری 1945 کو میں سرخ بخارکا شکار ہو کر ایک بار پھر شفاخانے بھیج دیا گیا۔ اس متعدی بیماری کا مطلب تھا ایک چھوٹا نسبتاً صاف کمرہ جس میں دو درجوں پر دس خوابی تختے نصب تھے، ایک توشہ خانہ، تین اسٹول اور پیشاب اور طہارت کے لئے ایک کرسی اور بالٹی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مجھے تیز بخار تھا۔ خوش قسمت تھا ایک پورا تختہ صرف میرے لئے تھا۔ یہ جانتے ہوئے سکون سے لیٹ گیا کہ میں چالیس دن کی تنہا ئی کا حقدار تھا، لہٰذا آرام کا، جب کہ میں اپنے آپ کو اس حد تک طاقتور تصور کر رہا تھا کہ نہ تو بخار اور نہ ہی چناؤ سے خوفزدہ تھا۔

 

camp-activities-laaltain

کیمپ کے اب تک کے طویل تجربات کے باعث میں اپنا تمام ذاتی سامان ساتھ لا سکا۔برقی تارکی ایک بیلٹ، چمچ اور چاقو، ایک سوئی اور تین دھاگے، پانچ بٹن، اور آخرمیں اٹھارہ سنگِ چقماق جو میں نے لیبارٹری سے چوری کئے تھے۔ان میں سے ہر ایک کو صبر سے تراشنے کے بعد تین ایسے چھوٹے پتھر بنانے ممکن ہوئے جو تقریباً ایک سگریٹ لائٹر جتنے تھے۔ ان کی قیمت چھ یا سات ڈبل روٹیوں کی راشن جتنی تھی۔

 

میں نے چار پُر امن دنوں کا لطف اٹھایا۔ باہر برف پڑ رہی تھی اور کافی سردی تھی مگر کمرہ کافی گرم تھا۔ مجھے سخت دوائیں دی گئی تھیں اور میں بمشکل کچھ کھا سکتا تھا۔ بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔

 

سرخ بخار ہی میں مبتلا دو فرانسیسی کافی خوش گفتار تھے۔ وہ کلیسائی صوبے ووسج سے تعلق رکھتے تھے جو کچھ ہی دن قبل غیر عسکری افراد کے ایک بڑے قافلے کے ساتھ جرمنوں کی لورین سے پسپائی کے دوران خالی کئے گئے ایک کیمپ میں آئے تھے۔بڑے کا نام آرتھر تھا جو کہ ایک چھوٹے قد کا دبلا پتلا کسان تھا۔ دوسرا،اس کا بستر شریک بتیس سالہ چارلس، ایک اسکول میں استاد تھا۔ قمیص کی جگہ اسے ایک گرمیوں میں پہنی جانے والی مضحکہ خیز حد تک چھوٹی بنیان دی گئی تھی۔

 

پانچویں دن نائی آیا۔ وہ سیلونیکا کا یونانی تھا۔ صرف اپنے علاقے کی خوبصورت ہسپانوی بولتا تھا مگر کیمپ میں بولی جانے والی تمام زبانوں کے کچھ نہ کچھ الفاظ سمجھ لیتا تھا۔ نام اسکینازی تھا اور کیمپ میں تقریباً تین سال سے موجودتھا۔مجھے نہیں معلوم اس نے کس طرح شفا خانے کی نائی کا عہدہ حاصل کیا، کیوں کہ نہ تو وہ جرمن اور پولش بول سکتا تھا اور نہ ہی حد سے زیادہ سنگ دل تھا۔اس کے داخل ہونے سے قبل ہی میں نے اسے راہداری میں اپے ایک ہم ملک طبیب سے پرجوش لہجے میں بات کرتے سن لیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات کچھ غیر معمولی تھے، مگر چونکہ لیونٹ کے رہنے والوں کے چہرے کے تاثرات ہم سے کافی مختلف ہوتے ہیں اس لئے میں نہیں دیکھ سکا کہ آیا وہ خوفزدہ یا خوش تھا، یا پھر محض پریشان۔ وہ مجھے جانتا تھا یا کم از کم اتنا جانتا تھا کہ میں اطالوی ہوں۔ جب میری باری آئی تو میں بڑی مشکل سے تختے سے نیچے اترا۔ میں نے اطالوی زبان میں اس سے پوچھا کہ کیا کوئی نئی خبر ہے؟ وہ داڑھی بناتے ہوئے رکا اور ذرا سنجیدہ اور خفیہ انداز میں پلکیں جھپکاتے ہوئے اپنی ٹھوڑی سے کھڑکی کی طرف اشارہ کر دیا۔ پھر اپنے ہاتھ سے مغرب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے اطالوی زبان میں بولا،”کل، ہر کوئی جا رہا ہے۔” پھر ایک لمحے کی لئے پھیلی ہوئی آنکھوں سے میرے جانب دیکھتا رہا جیسے کسی رد عمل کا منتظر ہو اور پھر ہسپانوی زبان میں “ہر کوئی، ہر کوئی” کہتے ہوئے دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہو گیا۔ اسے میرے چقماق کے پتھروں کی بابت علم بھی تھا۔ بس ایک مخصوص نرمی کے ساتھ داڑھی بناتا رہا۔ اس خبر نے میرے اندر کوئی فوری جذبہ پیدا نہیں کیا۔ پہلے ہی کئی ماہ سے مجھے کسی قسم کا کوئی درد، خوشی یا خوف محسوس نہ ہو رہا تھا، علاوہ اس مخصوص غیروابستہ اور مبہم طور پر جو قید خانے کا خاصہ تھا اور کئی عوامل سے مشروط تھا۔میں نے سوچا کہ اگر میں اب بھی اپنی پہلے جیسی حساسیت کا مالک ہوتا تو یہ ایک بے حد پر جوش ساعت ہوتی۔

 

میرے تصورات مکمل طور پر واضح تھے۔ کافی عرصے سے میں اور البرٹو ان خطرات کی پیش بینی کر رہے تھے جو کیمپ کے انخلا اور آزادی کے ساتھ متوقع تھے۔ جہاں تک باقیوں کا سوال ہے، ان کے لئے اسکینازی کی خبر محض ان افواہوں کی توثیق تھی جو کافی روز سے قید خانے میں گردش کر رہی تھیں :یعنی یہی کہ روسی ساٹھ میل شمال کی جانب سینسٹوچوا میں تھے، یا یہ کہ وہ ساٹھ میل جنوب کی جانب زاکوپاکسے میں تھے، یا پھر یہ کہ بونا میں جرمن پہلے ہی سے بارودی سرنگیں نصب کر رہے تھے۔

 

میں نے باری باری اپنے رفیقوں کے چہروں کی طرف نگاہ دوڑائی۔ ان سے اس معاملے پر بات چیت کرنا واضح طور پر لاحاصل تھا۔ ان کا جواب یہی ہوتا کہ “پھر؟” اور یہاں ساری بات ہی ختم ہو جاتی۔ فرانسیسی ان سےمختلف تھے، وہ ابھی بھی تازہ دم تھے۔”کیا تم نے سنا؟”، میں نے ان سے پوچھا۔ “کل وہ کیمپ خالی کر رہے ہیں۔” انہوں نے مجھ پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔ “کس جانب؟ کیا پیدل؟۔۔۔بیمار قیدی بھی؟ وہ بھی جو پیدل نہیں چل سکتے ؟” انہیں معلوم تھا کہ میں ایک پرانا قیدی ہوں اور جرمن زبان سمجھ سکتا ہوں، جس سے انہوں نےیہ نتیجہ اخذ کیا کہ مجھے اس بارے میں اس سے کہیں زیادہ معلوم ہے جتنا میں تسلیم کرنے کو تیار ہوں۔میں نے انہیں یہ بتانے کی کوشش کی کہ میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتا مگر وہ مسلسل سوال پوچھتے رہے۔کتنے احمق تھے وہ ! مگر ظاہر ہے کہ انہیں قید خانے میں آئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا اور ابھی انہوں نے یہ نہیں سیکھا تھا کہ سوال نہیں کرنے۔

 

دوپہر میں یونانی ڈاکٹر آیا۔ اس نے بتایا کہ اُن تمام قیدیوں جو چلنے کے قابل ہیں جوتے اور کپڑے فراہم کئے جائیں گے اور اگلے دن وہ تندرست افراد کے ساتھ بارہ میل کی پیش قدمی کے لئے نکل جائیں گے۔دوسرے شفاخانے میں ہی رہیں گے اور تیمارداری کے لئے انہیں منتخب کیا جائے گا جو سب سے کم بیمار ہیں۔

 

ڈاکٹر غیر معمولی طور پر خوش تھا اور نشے میں لگتا تھا۔میں اسے جانتا تھا۔وہ ایک نفیس اور ذہین آدمی تھا، خودغرض، پیش بین اور ہوشیار۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ ہر کسی کو بلا امتیاز ڈبل روٹی کا تین گنا راشن دیا جائے گیا جس پر مریضوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ہم نے اس سے پوچھا کہ ہمارا کیا ہو گا۔اس نے جواب دیا کہ شاید جرمن ہمیں ہماری تقدیر پر چھوڑ دیں گے اور وہ نہیں سمجھتا کہ وہ ہمیں قتل کر دیں گے۔اس نے یہ تاثر بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ اُس کا خیال اِس کے برعکس ہے۔اس کی مسرت ہی کسی ناگہانی آفت کی خبر دے رہی تھی۔

 

وہ پہلے ہی سے پیش قدمی کے لئے لیس تھا۔ ابھی وہ بمشکل باہر ہی نکلا تھا کہ وونوں ہنگری کے لڑکے ایک دوسرے سے پُرجوش گفتگو کرنے لگے۔ وہ کافی حد تک صحت یاب ہو چکے تھے مگر شدید لاغر تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ مریضوں کے ساتھ رہنے سے خوفزدہ تھے اور صحت مند افراد کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر رہے تھے۔یہ استدلال کا سوال نہیں تھا۔ اگر اتنا کمزور محسوس نہ کررہا ہوتا توشایدمیں بھیڑ چال میں ریوڑ کی جبلت ہی کا تعاقب کرتا، خوف بے حد متعدی ہوتا ہے، اور اس کا فوری رد عمل فرار کی کوشش ہے۔

 

camp-cvacinity-laaltain

جھونپڑے کے باہر کیمپ کی فضا غیرمعمولی طور پر سرگرم تھی۔ہنگری والوں میں سے ایک اٹھ کے باہر نکل گیا اور آدھے گھنٹے بعد چیتھڑوں سے لیس واپس لوٹا جو اس نے شاید جراثیم سے پاک ہونے کے لئے جمع کئے گئے کپڑوں کے گودام سے حاصل کئے تھے۔ وہ اور اس کے رفقاء بے چینی سے ایک کے بعد ایک چیتھڑا زیب تن کرتے رہے۔ دیکھا جا سکتا تھا کہ وہ عجلت سے معاملہ ختم کرنا چاہتے تھے مبادا خوف سے جھجک جائیں۔اس لاغر پن اور خاص طور پر آخری وقت میں حاصل کئے گئے ان ٹوٹے پھوٹے جوتوں کے ساتھ برف میں محض ایک گھنٹہ پیدل چلنے کا خیال بھی دیوانگی تھی۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ جواب دئیے بغیر میری طرف دیکھتے رہے۔ان کی آنکھیں دہشت زدہ بھیڑوں کی طرح تھیں۔

 

ایک لمحے کے لئے میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید وہ ٹھیک ہی ہوں۔ وہ بے ڈھنگے اندازمیں کھڑکی سے چھلانگ لگا کر باہر نکل گئے، میں نے ان بے شکل گٹھڑیوں کو اندھیرے میں لڑکھڑاتے دیکھا۔ان کی واپسی نہیں ہوئی، مجھے کافی عرصے بعد معلوم ہوا کہ نہ چل سکنے کے باعث، پیش قدمی شروع ہونے کے چند گھنٹے بعد”ایس ایس”نے انہیں قتل کر دیا۔

 

ظاہر ہے مجھے بھی جوتوں کے ایک جوڑے کی ضرورت تھی۔ مگر مجھے بیماری، بخار اور جمود کی کی کیفیت پر قابو پانے میں ایک گھنٹہ لگا۔ راہداری میں مجھے ایک جوڑا مل گیا۔(صحت مند قیدیوں نے مریضوں کے جمع کرائے گئے جوتوں پر ہلہ بول دیا اور ان میں سے بہترین ساتھ لے گئے، پھٹے ہوئے تلوں اور کسی جوڑے سے علیٰحدہ بچ جانے والے ہر جگہ بکھرے پڑے تھے)۔ اسی وقت میں السیشیا کے رہنے والےکوسمان سے ملا۔ ایک غیر عسکری فرد کی حیثیت سے وہ کلیرمونٹ فیرینڈ میں رائٹر کی خبر رساں ایجنسی کا نمائندہ تھا، وہ بھی پُر جوش اور بشاش تھا۔ کہنے لگا کہ”اگر تم مجھ سے پہلے واپس پہنچ جاؤ تو میٹز کے مئیر کو لکھنا کہ میں عنقریب واپس آنے ہی والا ہوں۔”

 

کوسمان اہم حلقوں میں اپنے تعلقات کی وجہ سے مشہور تھا لہٰذا اس کا پُرامید ہونا اچھی علامت تھی اور میں نے اپنے جمود کو جواز دینے کے لئے اسے استعمال کیا۔ میں نے جوتے چھپا دئیے اور واپس بستر میں گھس گیا۔

 

رات گئے یونانی ڈاکٹر کاندھوں پر ایک پشتی تھیلا لٹکائے اور ایک اونی ٹوپی پہنے واپس آیا۔ اس نے ایک فرانسیسی ناول میرے بستر پر پھینکا۔ “اسے رکھو، پڑھ لو، اطالوی۔ جب ہم دوبارہ ملیں تو تم یہ مجھے واپس لوٹا سکتے ہو۔”آج بھی ان الفاظ کی وجہ سے میں اس سے نفرت کرتا ہوں۔ وہ بخوبی جانتا تھا کہ ہماری بدقسمتی کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

 

ghosts-of-past-laaltain

اور پھر آخرکا البرٹو امتناع کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہنچ گیا، تاکہ مجھے کھڑکی سے الوداع کہہ سکے۔ہم یک جان دو قالب تھے، “دو اطالویوں” کے طور پر مشہور تھے اور غیرملکی کئی بار ہمارے نام تک غلط سمجھ بیٹھتے تھے۔ چھ ماہ ہم ایک ہی خوابی تختے پر تھے اور خوراک کا ایک ایک ذرہ جو راشن سے زیادہ تھا “ذخیرہ” کرتے رہے۔ مگر اسے بچپن میں سرخ بخار ہو چکا تھا اور میں اسے یہ مرض نہ لگا سکا۔ لہٰذا وہ چلا گیا اور میں پیچھے رہ گیا۔ہم نے ایک دوسرے کو الوداع کہا، زیادہ لفظ درکار نہ تھے، ہم اپنے معاملات کے بارے میں لاتعداد بار کلام کر چکے تھے۔ خیال نہیں تھا کہ ہم بہت زیادہ وقت ایک دوسرے سے جُدا رہیں گے۔اسے اچھی خاصی حالت میں چمڑے کے جوتوں کا ایک مضبوط جوڑا مل گیا تھا۔وہ ان میں سے تھا جو فوراً ضرورت کی چیز ڈھونڈ لیتے ہیں۔

 

باقی تمام کُوچ کرنے والوں کی طرح وہ بھی پُرجوش اور پُر اعتماد تھا۔ یہ سب کچھ قابل فہم تھا:کچھ عظیم اور منفرد رونما ہونے والا تھا، بالآخر ہم اپنے ارد گرد ایک ایسی قوت کو محسوس کر رہے تھے جو جرمنی کی نہیں تھی، ہم اپنی اس نفرت آمیز دنیا کو متوقع طور پر ڈھیر ہوتے دیکھ رہے تھے۔ کسی بھی درجے میں وہ صحت مند لوگ جو اپنی ساری بھوک اور تھکن کے باوجود چلنے کے قابل تھے یہ محسوس کر سکتے تھے۔مگر ظاہر ہے کہ شدید لاغر، برہنہ اور ننگے پاؤں شخص مختلف طرز پر ہی سوچے اور محسوس کرے گا، لہٰذا یہ مفلوج کر دینے والا احساس کہ ہم قسمت کے رحم و کرم پر ہیں ہماری سوچوں پر حاوی تھا۔

 

تمام صحت مند قیدی (ماسوائے کچھ ایسے مصلحت اندیشوں کے جو آخری لمحے میں بے لباس ہو کر ہسپتال کے بستروں میں چھپ گئے) 18 جنوری 1945 کی رات کے دوران کوچ کر گئے۔ مختلف کیمپوں سے تعلق رکھنے والے یہ کم و بیش بیس ہزار افراد تو ضرور ہوں گے۔انخلاء کی پیش قدمی میں یہ تقریباً مکمل طور طور پر غائب ہو گئے۔ البرٹو ان میں ہی تھا۔شاید کسی دن کوئی ان کی داستان رقم کرے۔

 

پس ہم اپنے بستروں میں اپنی بیماری اور اپنے خوف سے زیادہ طاقتور جمود کے ساتھ اکیلے پڑے رہے۔

 

پورے شفاخانے میں ہماری تعداد لگ بھگ آٹھ سو تھی۔ ہمارے کمرے میں ہم گیارہ تھے، ہر ایک اپنے اپنے تختۂ خواب پر، سوائے چارلس اور آرتھر کے جو ایک ہی تختے پر سوتے تھے۔ قید خانے کی عظیم مشین کا آہنگ ماند پڑ چکا تھا۔ ہمارے لئے زمان و مکان سے ماوراء ان آخری دس دنوں کا آغاز ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

1۔ Haftling (Prisoner)
2۔ Ruhe (silence or peace)
3۔ Ka-Be (Krankenbau)
4۔ Heimweh
5۔ یہ لفظ موسلمان نہ جانے کیوں کیمپ کے پرانے باسیوںمیں کمزور ، لاغر و بیکار اور چناؤ کے یقینی سزاواروں کے لئے مستعمل
تھا(مصنف)۔
6 Selekcja

۔

Categories
شاعری

ہمیشہ بدمست رہو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہمیشہ بدمست رہو

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعر: بادلیئر
مترجم: عاصم بخشی

 

ہمیشہ بدمست رہو
اس کے علاوہ اور ہے ہی کیا
واحد راستہ کہ
یہ ہیبت ناک کوہِ زماں کاندھوں کو چٹخ نہ دے،
تمہیں زمین پر چت نہ کر دے
سو تمہیں بے رحم مستیوں میں ڈوب جانا چاہئے
لیکن آخر کس شے کا خمار؟
بادہ و ساغر!
شعر و سخن!
عبادت و ریاضت!
جو نشہ بھی تمہیں راس آئے،
لیکن بدمست رہو
پھر اگر کسی لمحے
تمہاری آنکھ کسی محل کی سیڑھیوں،
اترائیوں میں کسی قطعۂ سبز،
یا اپنے حجرے کی تنہا اداسیوں میں اس طرح کھلے
کہ خمار اتر رہا ہو اور مستی غائب ہو
تو ہوا سے دریافت کرو
لہر سے پوچھو
ستارے، پرندے، گھڑیال،
ہر گامزن شے،
ہر کراہتی شے،
ہر گھومتی، آہیں بھرتی، بولتی شے کا دامن پکڑو
سوال کرو کہ وقت کیا ہوا ہے،
ہوا، لہر، ستارہ، پرندہ، گھڑیال یہی جواب دے گا کہ ’’یہ لمحۂ خمار ہے!
سو وقت کی جنگ میں کام آئے پیادوں میں شمار ہونے کی بجائے ہمیشہ بدمست رہو!
بادہ و ساغر، شعر و سخن، یا عبادت و ریاضت
جو نشہ بھی تمہیں راس آئے۔۔۔‘‘

Image: Jeremy Geddes
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

Insomnia

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

Insomnia

[/vc_column_text][vc_column_text]

اب نہ سو پاؤں گا میں غیبتِ یزداں کی قسم
سجدۂ شوق میں ہر رات
یونہی عادتِ بے قصد سے مجبور
کسی بحرِخموشاں کے چمن زار کنارے پہ اترنے کی دعا کرتا ہوں
سرمئی نیند کی دہلیز کو چھوتے ہی
نظاروں کا فلک بار گجر بجتا ہے
کان پھٹتے ہیں پکاروں سے
حلق خشک،
زباں قطرۂ نمکیں کو ترستی ہے
صداؤں کے تسلسل،
یہ تماشوں کی فصیلیں،
مجھے دہلیزکے اُس پار لپکنے نہیں دیتے
کہ میں آغوشِ مسیحائے سکینت میں اتر جاؤں،
نشیبوں کی،
فرازوں کی نذر ہو جاؤں
میں،
مری تشنہ لبی ،
بینا و نابینا بصیرت،
کسی مبہم سی مثلث میں سمٹ جاتے ہیں
گر کسی ساعتِ بخشش میں
تِرا لمس ستائے
تو یہ بے رنگ تکونا سا مرقع
دمِ تقریبِ فنا،
نقطۂ عرفاں میں سکڑ جاتا ہے
ایک ہی پَل میں کئی سال گزر جاتے ہیں
پار کر لی جو یہ دہلیز تو ڈرتا ہوں
کہ غربالِ زمانہ سے یہ لمحاتِ بلاخیز پھسل جائیں گے
سوچتا ہوں کہ بھلا کیسے میں سو پاؤں گا اب!
روزنِ دید سے کترا کے گزر جائیں گے
آنکھ لگتے ہی مرے خواب بکھر جائیں گے

Image: Tomas Tzen
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

نارسائی کی دسترس

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

نارسائی کی دسترس

[/vc_column_text][vc_column_text]

خیال جیسے کوئی چونّی
پڑی ہو ذہنِ رسا کی پٹڑی پہ
آنکھ میچے

 

دل ایک بچہ سا منتظر
استوائے مقنا کے معجزے کا

 

زمین سے آسمان تک کی مسافتوں کی کسے خبر ہے؟
رسائی ہو جائے تو غنیمت
نہ ہو سکے تو
یہ نارسائی بھی اپنی نظروں میں معتبر ہے

 

سخن نہیں گر تو کیا مرے دل!
خیال تو تیرا ہمسفر ہے

 

سو غم ہی کیا ہے
اگر نہ ابھریں
نظر میں آہن ربا تماشے
سرشت تیری سفر ہی ٹھہری
ترا نصیبا کہ تو انہی نارسائیوں سے سخن تراشے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

عرفان

[blockquote style=”3″]

یہ نظم اس سے قبل اشارات پر شائع ہو چکی ہے، عاصم بخشی کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

عرفان

[/vc_column_text][vc_column_text]

یہ جو ایک منظر تھا
کتنا خوبصورت تھا
آنکھ میں سمندر تھا
کوڑے والی روٹی پر
گدلے موتیوں جیسے
کچھ بچے ہوئے چاول
جن کا مول جذبوں کی
کھیتیوں سے بڑھ کر تھا
انگلیاں پھسلتی تھیں
پانچ ہی تو تھیں آخر
بوتلیں جو خالی تھیں
کوہ سے بھی بھاری تھیں
پھول جیسے ہاتھوں میں
خشک لکڑیاں جیسے
ان کہی سی کچھ نظمیں
منتظر ہوں سینے کی
برف ناک وحشت کو
آگ میں بدلنے کی
اور وہیں کہیں مالک
اس سوال چہرے پر
ان خیال آنکھوں میں
میں نے تجھ کو دیکھا تھا
تو بھی سوچتا ہو گا
کتنا خوبصورت تھا
یہ جو ایک منظر تھا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

یین یانگ

[blockquote style=”3″]

یہ نظم اس سے قبل اشارات پر بھی شائع ہو چکی ہے، عاصم بخشی کی اجازت سے اسے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

یین یانگ

[/vc_column_text][vc_column_text]

ایک ہی
نقطۂ امکاں میں بسے
حرف سے
دو نام
ابھرتے ہیں
کچھ ایسے
کہ نہاں خانۂ افلاک میں
صد رنگ کے طوفان
بپا ہوتے ہیں
ایک ہی حرفِ نگفتہ
جو اُسی نقطۂ امکاں میں
نہاں بھی ہے
عیاں بھی

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اونگھ

[blockquote style=”3″]

عاصم بخشی کی یہ نظم اس سے قبل “اشارات” پر بھی شائع ہو چکی ہے، عاصم بخشی کی اجازت سے یہ نظم لالٹین پر شائع کی جا رہی ہے۔

[/blockquote]
[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اونگھ

[/vc_column_text][vc_column_text]

آنکھ لگ جاتی ہے
نیلا سا دھواں
جوفِ تصور سے نکلتا ہے
کہر بنتا ہے

 

تن وہ خیمہ ہے جو سر ڈھانپے
تو پیروں کو
عیاں کرتا ہے

 

دل وہ خنجر کہ جو
سینے میں ترازو ہے
دھڑکتا ہے
تو دم گھٹتا ہے

 

آنکھ اک ننھا سا بچہ ہے
جو منظر کی دُھلی قاشوں پہ
تیزی سے لپکتا ہے
نگلتا ہے
ہراک لحظہ دہن بھرتا ہے

 

وقت مزدور ہے لاغر سا
جو لمحات کی گٹھڑی لئے
تاریخ کی گلیوں میں
ازل دن سے
پھرا کرتا ہے

 

نطق اک حاملہ بڑھیا ہے
جو صدیوں سے
بس اک لفظِ مکمل ہی کو جننے کی طلب
دل میں لئے
تکیۂ امکاں سے
لگی بیٹھی ہے
اور کوکھ میں
حرفوں کا الاؤ سا سلگتا ہے
بدن جلتا ہے

 

عشق وہ سرحدِ افلاکِ تمنا پہ کھڑا
طائرِ کوتاہ
جو پھیلائے اگر پنکھ
زمانوں میں سما جائے
مگر ڈرتا ہے

 

آنکھ کھل جاتی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]